Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نواز شریف دوبارہ ن لیگ کے صدر ؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    نواز شریف دوبارہ ن لیگ کے صدر ؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    اسلام آباد (تجزیہ شہزاد قریشی) سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے قرارداد میں پارٹی کی صدارت سنبھالنے کی دعوت ایک راست اقدام ہے۔ میاں نوازشریف نے پنجاب کی دومرتبہ وزارت اعلیٰ اور وطن عزیز کی تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے دوران ثابت کر دکھایا کہ انہیں اپنے وطن کے عوام، غریب، کسانوں، تاجروں ، صنعتکاروں، محنت کشوں ، طالب علموں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں سے ایک عشق ہے انہیں پاکستان کے عوام اور پاکستان کے قریہ قریہ کو ترقی کے ثمرات سے چمکانے کی لگن تھی اور لگن ہے۔ پاکستان بھر میں موٹرویز کا جال بچھا کر نوازشریف پاکستان کی ٹرانسپورٹ اور مواصلات کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔

    نوازشریف نے تعلیم کے میدان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں میرٹ پر ملازمتیں دیں اور سکولوں میں بھی ایم فل،پی ایچ ڈی اساتذہ فراہم کئے اس سے قبل میں نوازشریف نے بیروزگار نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے جاری کر کے اور پیلی ٹیکسی اور صنعتی و کاروباری قرضے دے کر مائیکرو اکنامک ترقی کو گراس روٹ سطح پر متحرک کیا جس کے ثمرات میں غربت اور بیروزگاری میں کمی ہوئی تھی اور پاکستان کی جی ڈی پی اور شرح نمومیں اضافہ ہوا تھا سی پیک اور گوادر پورٹ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا ایک عملی قدم تھا۔

    سی پیک منصوبے پاکستان کی عوام میں ایک امید پیدا کی تھی اور پاکستان کو بیرونی قرضوں کی چنگل سے نجات اور بیرونی امداد کے کشکول کو توڑنے کا ایک عملی ثبوت تھا اور پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت بن کر سامنے آرہا تھا اور چین ،یورپ اور مڈل ایسٹ سمیت ایشیائی و افریقی ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے لپک رہے تھے آج بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے پاکستان کی ترقی اور پاکستان کو درپیش چیلنج کے تناظر میں ایک احسن قدم اٹھایا ہے اور میاں نوازشریف کو پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت سنبھالنے کی دعوت دی ہے اور میاں نوازشریف کو چھ سال قبل ایک منصوبے کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا اور حتیٰ کہ پارٹی قیادت سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔

    اب میں نوازشریف کو پارٹی قیادت اور صدارت سنبھالنے سے مسلم لیگ ن پر عوام کے اعتماد، محرومیوں کے شکار صوبوں میں امید کی کرن اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے وقار میں اضافے کا رجحان پیدا ہوگا۔ بیشک میاں نوازشریف عوام اور پاکستان کی فلاح و ترقی کی نبض پر دست شفا رکھ سکتے ہیں اور عوام میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافے اور فعال کردار سے جمہوری استحکام پیدا ہوگا۔

  • تبصرہ کتب،مختار النحو( قرآنی  مثالوں سے مزین عربی گرامر )

    تبصرہ کتب،مختار النحو( قرآنی مثالوں سے مزین عربی گرامر )

    تالیف : مولانا مختار احمد سلفی
    صفحات : 270
    قیمت :920روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 024-37324034

    قرآ ن و سنت کو سمجھنے کے لیے عربی علوم میں ’’فن نحو کو ‘‘ بنیادی مقام حاصل ہے ۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ کو کماحقہ سمجھنا ممکن نہیں ۔ قرآ ن و سنت کو سمجھنے کے لیے نحو کا علم بنیاد ہے ۔ا س کے متعلق مشہور زمانہ مقولہ ہے’’ نحو کی کلام میں وہی حیثیت ہے جو کھانے میں نمک کی ہے ‘‘ الغرض ’’ نحو ‘‘ ایک نہایت اہم علم ہے۔ اسی کے پیش نظر مدارس اسلامیہ میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں علمائے اسلام نے اس فن کے متعلق کتابیں لکھی ہیں اور اسے آ سان سے آ سان تر بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ زیر نظر کتاب مختار النحو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔یہ اپنے موضوع پر نہایت ہی لاجواب اور آسان کتاب ہے۔ اس میں قرآنی مثالوں کے ذریعے علم النحو کو آسان فہم انداز میں سمجھانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔کتاب کی عبارت عام فہم ہے ۔ عربی زبان کے تمام بنیادی قواعد کو عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے۔ ہر قانون کی توضیح مثالوں کے ذریعے کی گئی ہے ۔ کتاب ایک مقدمہ تین ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے ۔ پوری کتاب کو 70 اسباق پر تقسیم کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں نحو کی بنیادی باتیں ذکر کی گئی ہیں۔

    پہلا باب اسم، دوسرا باب فاعل اور تیسرا باب حرف کے بیان میں ہے۔ اسباق کے آ خر میں مشقی سوالات اور قران و حدیث کی مثالوں سے مزین تمرینات دی گئی ہیں۔تمام مثالیں قرآ ن و حدیث اور احادیث نبویہ سے ماخوذ ہیں۔ کوشش یہی کی گئی ہے کہ ہر مثال آ سانی سے سمجھ میں آ نے والی ہو ۔ کتاب کے آ خر میں نحو کے قوانین کو عربی عبارت پر لاگو کرنے کے لیے اجرا اور مطالعہ کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ۔ اسی طرح ہر سبق کی ایک مثال کی ترکیب کر دی گئی ہے تاکہ اس کو سامنے رکھتے ہوئے باقی مثالوں کی ترکیب کرنا آسان ہو جائے ۔ کتاب کے اسلوب کو نحو کی دوسری کتابوں کے مطابق ہی رکھا گیا ہے تاکہ قارئین کی ذہنی استعداد میں باآسانی اضافہ ہو ۔ جو قارئین محنت اور کوشش سے اس کتاب کو پوری طرح سمجھ کر پڑھیں گے وہ کافی حد تک فن نحو کے ابتدائی قواعد میں ماہر ہو جائیں گیاور عربی زبان کو صحیح طرح سے پڑھنے ، سمجھنے ، لکھنے اور بولنے پر قادر ہوجائیں گے ان شاء اللہ ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • پاک ایران بیان میں کشمیر کا ذکر اور بھارت کا ردعمل

    پاک ایران بیان میں کشمیر کا ذکر اور بھارت کا ردعمل

    پاک ایران بیان میں کشمیر کا ذکر اور بھارت کا ردعمل
    ایک حالیہ مشترکہ بیان میں پاکستان اور ایران نے مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق پرامن طریقوں سے اس کے حل پر زور دیا، یہ اعلان ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے پاکستان کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔ تاہم، بھارت نے اس پیش رفت پر فوری رد عمل کا اظہار کیا بھارتی وزرات خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ نےایرانی حکام سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے خدشات سامنے رکھے،

    بیان میں ابھرتی ہوئی علاقائی اور عالمی حرکیات کو تسلیم کیا گیا، مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ تاہم، بھارت کا ردعمل مسئلہ کشمیر سے جڑی پیچیدگیوں اور کشمیریوں کے حقوق کو مساوات سے نکال کر علاقائی استحکام پر اس کے وسیع تر مضمرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
    بھارت کی پالیسیوں، دفعہ 370 کی منسوخی اور 2019 میں شہریت ترمیمی قانون سی اے اے کے نفاذ، نے ملکی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی بحثوں کو ہوا دی ۔ سی اے اے مذہبی اقلیتوں کو خاص طور پر مسلمانوں کو چھوڑ کر بھارتی شہریت کی پیشکش کرتا ہے، اور اس نے بھارت کے آئین میں درج سیکولرازم اور شمولیت کے اصولوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    ناقدین کا استدلال ہے کہ سی اے اے، جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ایودھیا کے فیصلے کے ساتھ، بھارتی حکمرانی میں ہندو قوم پرستی کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ہندوستان کے سیکولر تانے بانے کو کمزور کرتے ہیں اور اس کی مسلم آبادی کو پسماندہ کرتے ہیں، ان پالیسیوں کا مجموعی اثر، جسے ہندو قوم پرستی کی عینک سے دیکھا جاتا ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی سمت کے بارے میں تشویش پیدا کرتا ہے۔ ان پیشرفتوں کے ارد گرد بیانیہ خصوصیت پسند نظریات کی طرف ایک تبدیلی کی تجویز کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے اور ہندوستان کی سیکولر اخلاقیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
    خلاصہ یہ کہ پاکستان اور ایران کے مشترکہ بیان میں کشمیر کے تذکرے پر بھارت کا ردعمل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی اور اس کے اندر "شہریت” کی اصطلاح کی تشریح کو نظر انداز کرتا ہے۔

    یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی کوئی بھی مہذب قوم مذہب کی بنیاد پر شہریت کی اجازت دیتی ہے؟ اس بنیادی سوال کے جواب کے لیے ’شہری‘ کی تعریف کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔
    "شہری – ایک آزاد شہر کا ایک رکن… تمام حقوق کا حامل ہے جو اس کے آئین کے تحت کوئی بھی فرد حاصل کرسکتا ہے۔”
    آرٹیکل 370 اور 35-A کو ختم کرنے سے اصل شہریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کی روشنی میں بھارتی حکومت متنازعہ علاقے میں ہندوؤں کو آباد کر رہی ہے۔

  • جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      آغا نیاز مگسی

    جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا نیاز مگسی

    دنیا میں ایسا کوئی شخص وہ مرد ہو خواہ عورت بوڑھا ہو یا بچہ غریب ہو یا امیر جوتوں کی خواہش سب کو ہوتی ہے اور یہ سب کی ضرورت ہے موت اور زندگی کی طرح جوتے بھی ہر اس انسان کے لیے ضروری ہوتے ہیں جس کے پاں سلامت ہوں اگر ایک پیر والا ہے وہ بھی اپنے لیئے ایک جوتا رکھتا ہے اگر خدانخواستہ کوئی دونوں پاؤں سے معذور یے تو پھر اسے جوتوں کی ضرورت اور خواہش نہیں ہوتی۔

    جوتے سستے بھی اور انتہائی مہنگے بھی ہوتے ہیں کس کے نصیب میں کیسے جوتے ہوتے ہیں یہ ہر ایک کے مقدر کی بات ہوتی ہے ،جس کو جوتوں کا شوق ہو تو پھر پتہ نہیں وہ کیسے جوتے حاصل کر لیتے ہیں ہمارے یہاں عام طور پر ملٹی نیشنل کمپنی باٹا اور سروس کے اور مقامی لیول پہ پشاور کے پشاوری چپل کوئٹہ کے نوروزی اور سعادت اور ملتان کے ملتانی کھسے بہت مشہور ہیں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اگر کسی غریب کو جوتے لینے یا خریدنے کی سکت نہ ہو تو وہ جوتے چرانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کے معاشرے میں جوتے چرانے کی آسان ترین جگہ مساجد اور اولیائے کرام کے مزارات و درگاہیں اور شادی بیاہ اور دعوت ولیمہ جیسی تقریبات ہوتی ہیں نمازی حضرات کے جوتے جتنے مہنگے اور قیمتی ہوتے ہیں مسجد میں نماز پڑھتے وقت اس کی توجہ جوتوں کی طرف بھی ہوتی ہے کہیں چوری نہ ہو جائیں ۔

    متحدہ ہندوستان میں ریاست بہار کی رانی اندرا دیوی بہت قابل اور ذہین اور با صلاحیت حکمران عورت تھی اس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ برصغیر کی پہلی عورت تھی جس نے یوگا کی تربیت حاصل کی تھی اور بعدمیں استاد کی حیثیت سے اپنے شاہی خاندان کے افراد کو بھی سکھاتی تھی لیکن اس کو جوتوں کا جنون کی حد تک شوق تھا اس دور میں اٹلی میں جوتے بنانے کا ایک ماہر سیلیٹور فریگامو کے جوتے دنیا بھر میں مشہور تھے اس کی خواہش نے بھی انگڑائی لی اور شاہی فرمان جاری کر دیا کہ اس کو میرے دربار میں لایا جائے چناچہ اس کو اٹلی سے لایا گیا اندرا دیوی نے اس سے کہا کہ مجھے ایسے جوتے چاہیئے جو آج تک دنیا بھر میں کسی عورت نے نہ پہنے ہوں فریگامو سوچ میں پڑ گیا اور اس نتیجے پرپہنچا کہ آج تک کسی عورت نے ہیرے اور جواہرات سے جڑے جوتے نہیں پہنے ہیں جس پر رانی نے خوش ہو کر اس کو اپنے لیئے ایسے 600 جوتے تیار کرنے کا حکم دیا اور وہ سارے جوتے ہیروں جواہرات سونے اور نایاب پتھروں سے بنائے گئے ایسے مہنگے اور قیمتی جوتوں کا سن کر ملکہ برطانیہ حسرت سے آہ بھر کر رہ گئی کیونکہ وہ ایسے جوتے نہیں خرید سکتی تھی ان کے ملک میں احتساب کا خوف ہے

    جب جوتوں کی بات چل ہی نکلی ہے تو جدید دور کی موجودہ اکیسویں صدی میں مشہور شخصیات اور حکمرانوں پر نفرت کے اظہار کے طور پر جوتے پھینکنے کا خطرناک رواج چل نکلا ہے جس کی ابتداء عراق کے ایک صحافی المنتظری نے دنیا کے طاقتور ترین حکمران سپر پاور امریکہ کے صدر جونیئر بش پر یکے بعد دیگرے دو جوتے پھینک کر کی اور پھر یہ سلسلہ دنیا بھر میں چل نکلا ہے اور یہ جوتے پاکستان کے حکمرانوں تک بھی پہنچ گئے،جوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا رواج خواتین نے شروع کیا ، ہمارے ملک کے نیوز چینلز پر آئے دن ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں خرانٹ قسم کی بہادر اور باہمت خواتین اور لڑکیاں آوارہ اوباش اور لفنگے اور چھیڑ چھاڑ کرنے والے مرد اور لڑکوں کو جوتوں سے ٹھکائی کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں ، نفرت کے طور پر کسی معتوب شخص کو جوتوں کے گلے میں ہار بھی پہنائے جاتے ہیں تو کسی کے سر پر برسائے جاتے ہیں چنانچہ جوتوں کے شوق اور استعمال میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے خاص طور پر حکمران اور اونچے طبقہ کے لوگ آجکل جوتوں کے خوف میں مبتلاء نظر آتے ہیں کہ کہیں سے کوئی لہراتا ہوا جوتا نہ آجائے اس لیئے جوتے وہی اچھے جو پاؤں میں پہنے یا پہنائے جائیں لیکن گلے میں اور سر پر جوتے پڑنے سے اللہ پاک سب کو محفوظ رکھے تاہم اس سے بچنے کے لیے بہتر کردار کی ضرورت ہے ۔

  • سیلفی سیاست سے نکل کر عملی اقدامات  کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیلفی سیاست سے نکل کر عملی اقدامات کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عمران خان کو کون سمجھائے اُن کو بین الاقوامی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیئے جن راستوں کا انہوں نے انتخاب کیا یا کروایا جا رہاہے اور پھر اُن کی جماعت، کیا سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کو جیل سے رہائی دلوا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، جیل سے رہائی پانے کا واحد راستہ قانونی ہے۔ رہا سوال ملک کی سیاسی تاریخ تو اُن کو بھٹو خاندان کی تاریخ اور بھٹو پر کیا گزری ان کی اپنی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔ بڑے بڑے سیاسی قد آور سیاسی شخصیات نے بھٹو کا ساتھ چھوڑد یا تھا۔ نیلسن منڈیالا تقریبا 27 سال پابند سلاسل رہے جب وہ رہا ہوئے تو انہوں نے پُر تشدد تحریک خیر آباد کہہ کر مذاکرات کار استہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سید علی گیلانی کشمیر کی آزادی کا خواب لئے ا س جہاں سے چل بسے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں مفاد پرست ٹولہ ہوتا ہے یہ وہ ٹولہ ہوتا ہے جو اپنے ہی جماعت کے قائدین کا مخبربھی ہوتا ہے ہو سکتاہے کہ پی ٹی آئی میں بعض مفاد پرست اور مخبروں کا ٹولہ موجود ہو اگر یقین نہیں تو میاں محمد نواز شریف اس کی زندہ مثال ہیں۔

    بلاشبہ عمران خان ملک کے ہیرو قرار پائے، کرکٹ کا ورلڈکپ سب پاکستانیوں کو یاد ہے تاہم یہ بھی پاکستانیوں کو یاد ہے کہ آپ وزارت عظمٰی تک کیسے پہنچے، وہ ملاح بھی سب کو یاد نہیں جو آپ کی کشتی کے ملاح تھے۔ نیلسن منڈیلا جب کیپ ٹائون میں وکٹر ورسٹر جیل سے رہا ہو کر باہر نکلے تو ایک بڑے جلسے سے عاجزی سے خطاب کیا انہوں نے ایک پُرتشدد تحریک کو ختم کیا اور نئی زندگی کا آغاز کیا۔

    اہل موبائل اور سوشل میڈیا کے دیوانوں نے ملکی سلامتی کو پس پست ڈال دیا ہے، اصل الفاظ کی چاشنی گم ہو چکی ہے کوئی مر رہا ہے تو ویڈیو ۔کوئی مار رہا ہے تو ویڈیو ۔ کیا کھایا کیا پہنا کہاں گھومیں۔ کس سے ملے ۔ ہر لمحہ سیلفی کی فکر میں، پھر کتنے لائق کتنے کمنٹس کتنے شیئر ، ایک محتاط انداز ے کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ 93 بلین سلفیاں لی جاتی ہیں۔ اب تو بھارت کی بھی سوشل میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے ۔اب تو مرنے والوں کے ساتھ سیلفی ،جنازوں کی سیلفی ،بیماریوں کی سیلفی ،کسی کو خوراک دیتے وقت سیلفی ، زکوة دیتے وقت سیلفی ، ملکی سیاسی جماعتوں اور ان کے ہمنوائوں کو سیلفی سیاست سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ ایسے راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس سے ملکی ترقی اورخوشحالی کے سفر میں شامل ہو کر ضرور سیلفی بنائیں تاکہ دنیا اور قوم آپ پر فخرکریں۔

  • سعودی عرب کی پاکستان میں  مجوزہ سرمایہ کاری

    سعودی عرب کی پاکستان میں مجوزہ سرمایہ کاری

    پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں، بیرک گولڈ کارپویشن کے زیر کنٹرول ریکوڈک پراجیکٹ میں اہم حصہ حاصل کرنے میں سعودی عرب کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ اس حوالہ سے باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ منارا منرلز انویسٹمنٹ کمپنی، جسے سعودی خودمختار دولت فنڈ کی حمایت حاصل ہے، ریکوڈک تانبے اور سونے کی کان کنی کی کوشش میں کم از کم 1 بلین ڈالر کی رقم لگانے کے لیے تیار ہے۔

    اس ضمن میں ممکنہ ڈیل چل رہی ہے، توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں لین دین کی شرائط پر ایک ابتدائی معاہدہ ہو جائے گا، پاکستان کے وسائل سے مالا مال زمین کی تزئین میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری ایک اہم سنگ میل ہوگا۔یہ اقدام سٹریٹجک سرمایہ کاری پر توجہ دینے کے ساتھ ،پاکستان کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی سعودی عرب کی وسیع حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ ے اس اقدام کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو پاکستان کی مارکیٹ میں نسبتاً زیادہ خطرے اور زیادہ مستعدی کی حد کے ساتھ مواقع تلاش کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔جو چیز اس امکان کو سعودی عرب کے لیے خاص طور پر پرکشش بناتی ہے وہ پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی سازگار شرائط ہیں، جس نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں ایک عملی نقطہ نظر کا مظاہرہ کیا ہے،سعودی عرب کے 25 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے کے مکمل ہونے کا امکان غیر یقینی ہے، معدنیات کے شعبے میں منافع بخش سودوں کی رغبت آنے والے مہینوں میں ٹھوس سرمایہ کاری میں معاون ثابت ہو گی تاہم، ان ممکنہ معاہدوں کے پیچھے محرک قوت پاکستان کی فوری ضرورت ہے کہ معاہدوں کے عمل کو تیز ،فوری کی جائے اور ملک کی معیشت کو بحال کیا جائے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی رغبت اور باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کے وعدے نے پاکستان کو سعودی عرب جیسے سرمایہ کاروں کو فعال طور سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کیا ، جو بے حد مطالبات کے بغیر قابل اعتماد تجارتی مواقع تلاش کرتے ہیں۔

    خلاصہ یہ کہ ریکوڈک پروجیکٹ اور دیگر ممکنہ منصوبوں میں سعودی عرب کی دلچسپی ایک علامتی تعلقات کی نمائندگی کرتی ہے جہاں دونوں فریق اسٹریٹجک تعاون سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک ہو چکے ہیں، سعودی عرب اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو متنوع بنانے اور قیمتی معدنی وسائل تک محفوظ رسائی کی کوشش کرتا ہے، پاکستان کا مقصد اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بیرونی سرمائے سے فائدہ اٹھانا ہے۔جیسے جیسے مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے اور معاہدوں کی شکل اختیار کر لی جاتی ہے، کان کنی کی سرمایہ کاری کے دائرے میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ابھرتی ہوئی شراکت داری دونوں ممالک کے لیے باہمی خوشحالی اور اقتصادی ترقی کا باعث بنے گی۔تاہم سودے پاکستان پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں کہ وہ سودے کے خاتمے پر کسی بھی طرح سے ڈیفالٹ سے بچنے کی حمایت نہیں کرتا جو کہ ایک اور مسئلہ ہے!

  • معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بقول شاعر:
    ریت پر تھک کے گرا ہوںتوہوا پوچھتی ہے
    آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
    معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نئے وزیر خزانہ کے لئے یہ شعر ہے لیکن کیا کہا جائے ڈاکٹر کو چھوڑ کر نرس سے آپریشن کروایا جائے گاتو مریض صحت یاب نہیں ہوگا۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے تجربہ کار اسحاق ڈار کو چھوڑ کر ،ایک بینکر کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ معیشت کو مستحکم کریںگے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ پاکستان کوئی تجربہ گاہ نہیں ایک 25 کروڑ عوام کا ملک ہے ،یہ کوئی میونسپل کمیٹی نہیں۔

    اسرائیل اور ایران کو لے کر دنیا میں جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ چین اور تائیوان ، روس ، امریکہ کے بعد مڈل ایسٹ والے ممالک بلاک بنانا چاہتے ہیں بلاشبہ پاکستان اس وقت مڈل ایسٹ اور امریکہ کے لئے بہت اہم ہے اس پورے خطے میں مگر قرض کا بوجھ اتنا ہے کہ ایک بینکر کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان کو معیشت مستحکم کرنے کے لئے سرمایہ کاروں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اپنے وسائل پر توجہ د ینے کی ضرورت ہے ۔ آخر میں ہم کب تک فقیروں کی طرح مانگ کر شہنشائیوں کی طرح اُڑاتے رہیں گے۔ معیشت کی مکمل بہتری کے لئے لازمی اقدامات انتہائی ناگزیر ہیں۔ رہا سوال فلسطین ،اسرائیل جنگ اور اب ایران اسرائیل بڑھتے ہوئے جنگی ماحول اورکشمیر ،جو عالمی ادارے بنا ئے گئے تھے۔ اُن کا کردار نہ ہونے کے برار ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر ،انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اقوا م متحدہ کا نسل کشی کنونشن اور جنیوا کنونشن جنگ ان کے لکھے جانے کی ان دستاویزات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن نے روانڈا میں نسل کشی کو نہیں روکا ۔ جنیوا کنونشن ویت نامیوں کو امریکی جنگی قیدیوں کو اذیت د ینے سے نہیں روکا۔ روس ا ور یو کرائن کی جنگ کو نہیں روکا۔ جن ممالک نے ان دستاویزات پر دستخط کئے انہوں نے خود پاسداری نہیں کی۔ ان عالمی اداروںں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے آج کے دور میں اسرائیل ،فلسطین ، کشمیر، مسلمانوں کا خون سڑکوں پر بہہ رہاہے تمام اسلامی ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ تاہم پاکستان کو اپنی سرحدوں پرمزیداورشہر میں سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔

  • پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ؟

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ؟

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ؟

    ایران اور پاکستان کو ملانے والا گیس پائپ لائن منصوبہ، جسے عام طور پر پیس پائپ لائن یا آئی پی گیس کہا جاتا ہے، ایک کثیر جہتی کوشش ہے جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اقتصادی حرکیات اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے متاثرہوا ہے، یہ منصوبہ ایران سے پاکستان تک قدرتی گیس کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، اس اہم منصوبےکوابتدا سے لے کر اب تک متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    مارچ 2013 میں،پاکستانی اور ایرانی صدر آصف زرداری اور احمدی نژاد نے رسمی طور پر ایران کی چابہار بندرگاہ کے قریب اس منصوبے کا آغاز کیا، تاہم، ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس منصوبے پیش رفت رک گئی، باوجود اس کے کہ ایران نے پائپ لائن کے اپنے حصے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔

    پاکستان نے ممکنہ سزاؤں کو کم کرنے کے لیے مختلف قانونی اور سفارتی راستے اختیار کیے ہیں اور اس منصوبے سے متعلق امریکا سے رعایت مانگی۔ پائپ لائن منصوبے کی تکمیل پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت کے لیے اہمیت رکھتی ہے، اس طرح دونوں ممالک پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا۔ اس پائپ لائن کا مقصد ایران سے پاکستان تک قدرتی گیس کی نقل و حمل کو آسان بنانا ہے، دو طرفہ تجارتی خواہشات کے مطابق جو اگست 2023 میں دستخط کیے گئے پانچ سالہ منصوبے میں بیان کی گئی تھی، جس کا ہدف 5 بلین ڈالر کا تجارتی حجم ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ درآمدات اور برآمدات کا فائدہ اٹھانا اکثر زیادہ سرمایہ کاری کا مؤثر حل ہے،

    مارچ 2024 میں رائٹرز کی حالیہ رپورٹوں میں تہران کے ساتھ کاروبار کرنے سے متعلق خطرات کے بارے میں خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے جاری رہنے کی امریکہ کی مخالفت کا اشارہ دیا گیا تھا۔ یہ موقف 2019 میں اسی طرح کے پروجیکٹ کے لیے پڑوسی ملک کو دی گئی چھوٹ سے متصادم ہے۔ایران کے توانائی کے مسائل کے حل اور بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے تک اس منصوبے کا نقطہ نظر غیر یقینی ہے۔ گھریلو قلت اور بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود ایران کا گیس کی برآمدات پر انحصار اقتصادی چیلنجز اور اندرونی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ ایران کے توانائی کے بحران سے نمٹنا اور پابندیوں میں نرمی پائپ لائن کی عملداری اور تکمیل کے لیے اہم شرائط ہیں۔

    پراجیکٹ مینجمنٹ اور سفارتی ذرائع سے مسلسل کوششوں کے باوجود اس منصوبے کی تکمیل کےلئے رکاوٹیں برقرار ہیں۔ اگرچہ پائپ لائن کی تکمیل پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنا کر دونوں ممالک کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس کی پیشرفت کا انحصار ایران کی توانائی کی صورتحال کے حل اور پابندیوں کے خاتمے پر ہے۔
    یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے 18 بلین ڈالر کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ ایران نے پائپ لائن کا اپنا حصہ مکمل کر لیا ہے، پاکستان نے ابھی تک طے شدہ وقت کے اندر اپنا حصہ مکمل کرنا ہے۔

    متضاد مفادات کے درمیان سفر کرتے ہوئے پاکستان ایک چیلنجنگ پوزیشن میں ہے۔ کیا پاکستان امریکہ کو معافی دینے پر آمادہ کر سکتا ہے؟ اس طرح کے مذاکرات میں عام طور پر دونوں طرف سے رعایتیں حاصل ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو امریکی مفادات کے مطابق رعایتیں دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
    پاکستان امریکہ کے ساتھ سیکورٹی تعاون، بشمول انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی تعاون، یا علاقائی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد بڑھانے کی پیشکش کر سکتا ہے،اس ضمن میں دوسرے راستے بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

  • محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس معاشرے کا ایک بنیادی جزو ہے یہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی نشانی بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں سیاسی مداخلت نے پولیس نظام کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ پولیس نے پاک فوج کے ساتھ مل کر اس ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کردارا دا کیا ،ان گنت قربانیاں بھی دیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکا ۔ کیا وجہ ہے کہ ہم آج کے جدید دور میں پولیس اصلاحات پر وہ کچھ نہیں کر سکے جو قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔ ملکی تاریخ گواہ ہے۔ نواب آف کالا باغ کے دور سے پولیس میں سیاسی مداخلت کا آغاز ہوا اوریہ مداخلت بڑھتی گئی، سیاستدانوں نے پولیس کے نظام کو اپنے اقتدار کے کھیل کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ جبکہ بہت سے پولیس افسران اور اُن کے ماتحت افسران نے اس سیاسی مداخلت سے فائدہ اٹھایا اچھی جگہ تبادلے کے لئے حکمرانوں کی اور مقامی سیاستدانوں کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر اپنے ہی محکمے کو برباد کرنے میں بھی کردارادا کیا۔ سیاسی حکومتوں اور فوجی حکمرانی کے دور میں بھی اس محکمے کو استعمال کیا ۔

    پولیس کے افسران کو زیادہ سے زیادہ دولتمند بننے کے نشے نے اس قدر مدہوش کیا کہ وہ ملک میں لینڈ مافیا ،ڈرگز مافیا ، قبضے گروپوں کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ بن گئے جبکہ بڑھتی آبادی کے ساتھ جرائم میں اضافہ ہوتا گیا اور پولیس افسران اور اُن کے ماتحت غفلت اور لاپرواہی کی حدوں کو کراس کر گئے۔ جرائم کو کٹرول کرنے اور تجربہ کار پولیس افسران کو کھڈے لائن جبکہ سیاسی غلامی برداشت کرنے والے اور ناتجربے کار افسران کو فیلڈ میں لگا دیا گیاجس کا خمیازہ ملک اور عوام دونوں بھگت رہے ہیں۔

    حیرانگی کی حد تک آج پنجاب کے بہت سے افسران اپنی من پسند تعیناتی کے پیچھے پاک فوج کے اعلیٰ افسران کا نام لے کر اس ادارے جو سرحدوں کا محافظ ادارہ ہے ملکی سلامتی کے ادارے کو بدنام کررہے ہیں۔جسے کسی بھی زوائیے سے درست قرار نہیں د یا جا سکتا ۔ یہ پولیس افسران عوام کو گمراہ کررہے ہیں ذمہ داران ریاست کو پنجاب کے ان پولیس افسران سے باز پرس کرنا ہوگی جو اس عظیم ادارے کو بدنام کررہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب جو ایک بڑے صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں انہیں پولیس نظام میں تبدیلی لانی ہوگی آئی جی پنجاب کو فری ہینڈ دے کر سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرنا ہوگا جب آئی جی پنجاب اپنی مرضی سے صوبے میں پولیس افسران تعینات کریں گے تو پھر حکومت اور عوام کو جوابدہ بھی ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کو سیاسی مصلحتوں سے باہرنکل کر بڑا فیصلہ کرنا ہوگا اگر ایسانہیں تو پھر سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

  • مسئلہ فلسطین،کشمیر کا حل امریکاکے پاس، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین،کشمیر کا حل امریکاکے پاس، تجزیہ: شہزاد قریشی

    راکٹوں اور ڈورنز کی رات، امریکہ نے اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ امریکہ غزہ میں نیتن یاہو کے طرز عمل پر تنقید کر سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اسرائیل کو اکیلا چھوڑ دیگا یا جو بھی اسرائیل کی سلامتی کو نشانہ بنائے گا اسکے ساتھ نرمی برتی جائے گی ،امریکہ واحد طاقت نہیں تھی جس نے ایرانی راکٹوں اور ڈورنز کو گرایا اس میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل تھے، راکٹوں اور ڈورنز کی رات نے ایک پیغام بھی دیا جس نے ایران کی فوجی ٹیکنالوجی پر مغربی اور اسرائیل کی تکنیکی برتری کو واضح کیا ، سیاسی اورسفارتی سطح پر ظاہر کیا کہ اسرائیل کو ان چیلنجز کے ساتھ مضبوط مغربی تحفظ حاصل ہے جو اُسے نشانہ بنا سکتے ہیں، بلاشبہ امریکہ نے ایرانی حملے کے تناظر میں نتین یاہو کی حمایت کی لیکن اس نے فوری طور پر یہ واضع کیا کہ وہ اسرائیلی ردعمل کی حمایت نہیں کرتا اور اگر ایسا ہوا تو وہ اس میں حصہ نہیں لے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نتین یاہو امریکی مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ایرانی حملے کا جواب نہیں دیں گے؟ تاہم ایران نے اسرائیل اور دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر براہ راست حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،

    مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹوں اور ڈورنز کی رات اسرائیل کو ایک بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں راکٹوں اور ڈرونز کی رات کے بعد بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں، امریکہ اور مغربی ممالک کو اسرائیل اور فلسطین کے معاملے کو حل کرنا چاہیے،صدیوں سے جاری اس مسئلے کا واحد حل امریکہ کے پاس ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی امریکہ کے پاس ہے وہ ان مسائل کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے ، فلسطین اورکشمیر میں خون کی ندیاں بہہ چکی ہیں بے گناہ انسانوں سے قبرستان بھرچکے ہیں،تنازعات کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا جائے۔