Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    شام کے شہر دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے نے اسرائیل اور ایران کے درمیان دیرینہ تنازعہ بڑھا دیا ہے۔ اس حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور کے دو اعلیٰ کمانڈرز بھی شامل تھے، جو شام میں تعینات تھے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران اور شام میں خفیہ کارروائیوں کے سلسلے میں تازہ ترین حملہ تھا جس میں ایرانی اہلکاروں، جوہری تنصیبات اور پراکسی گروپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل پر خطے میں ایرانی اہداف پر متعدد خفیہ حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس میں ایرانی سائنسدانوں، انجینئروں، اسلامی انقلابی گارڈز کے کمانڈروں کا قتل اور شام میں ایرانی اور حزب اللہ کے اہداف پر حملے شامل ہیں۔

    دمشق میں اسرائیلی حملے کے بعد ایران جوابی کاروائی کی طرف بڑھا اور ایران نے پہلی بار براہ راست اسرائیل پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے۔ یہ تنازعہ میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو پہلے پراکسیز کے ذریعے لڑا گیا تھا، جیسے غزہ میں حماس، جسے ایران سے فنڈنگ اور مدد ملتی ہے۔

    اسرائیل پر ایران کا براہ راست حملہ خطے میں وسیع جنگ کے امکانات کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایران محسوس کرتا ہے کہ اس کا ردعمل کافی ہے تو صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر اسرائیل نے ایران کے حملے کو کامیاب سمجھا، تو اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان ہے جس کے بعدد ممکنہ طور پر پورے خطے میں جنگ پھیل سکتی ہے

    اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازع جاری ہے، جس میں وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے،حماس جیسے فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کے لیے ایران کی حمایت ایک بڑا تنازعہ رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، ایران فلسطینی عسکریت پسند گروپوں بشمول حماس کو تقریباً 100 ملین ڈالر سالانہ فراہم کرتا ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حالیہ حملے میں ایران کی طرف سے داغے گئے 99 فیصد میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا ہے، لیکن براہ راست تصادم اس تنازع میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست ڈرون و میزائل حملوں کے تبادلے سے تنازع کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ایران کے اسرائیل پر براہ راست حملے کے مضمرات بہت دور رس ہیں، جس میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا امکان ہے جس میں متعدد اداکار شامل ہیں۔ امریکہ، جو تاریخی طور پر اسرائیل کا ایک مضبوط اتحادی رہا ہے، اس تنازعے کی طرف بڑھ سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ ایک وسیع تر تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔

  • حکمران قبلہ درست کریں ورنہ۔۔۔۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکمران قبلہ درست کریں ورنہ۔۔۔۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ایک ایسی ریاست جس کے عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں اُس ریاست کے سیاستدانوں سیاسی جماعتوں کے قائدین کو جمہوریت آئین اور قانون کی حکمرانی اُس وقت یاد آتی ہے جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے۔ اپنی شعلہ بیانی کے ذریعے ایسے ایسے شعلے پھینکتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ بلوچستان میں ایک جلسے میں تحفظ آئین کو لے کر ایسے ایسے سیاستدانوں کو آئین پر شعلہ بیانی کرتے دیکھا جو اقتدار میں رہے یہ اپوزیشن ہے اور ملک میں ہونے والے انتخابات سے افسردہ ہیں۔ اپوزیشن نے عمران خان کو فوری جیل سے رہانے کا مطالبہ بھی کیا۔اونچی آواز میں بات کرنا سیاسی گلیاروں میں کوئی نئی بات نہیں۔اصل بات عمل کی ہے کیا دور اقتدار میں آئین پر عمل کیا جمہور کے بنیادی مسائل پر توجہ دی ؟ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا؟ ملکی وسائل پر بھر پورتوجہ دی گئی؟ عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں پھنسے پاکستان کو آزاد کروایا ؟ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے گئے؟ قانون کی حکمرانی کے لئے کردارادا کیا گیا؟ آئین میں لکھے عوام کے حقوق کے بارے میں عمل کیا گیا؟

    موجودہ حکمران طبقے کو بھی اپنے عمل کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ یہ پاکستان اور جمہور کی خدمت پر مامور ہیں بہتر راستہ ایک ہی ہے کہ اپنا قبلہ درست کریں اپنا ٰرُخ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی طرف موڑ دیں۔

    یاد رکھیئے موجودہ دور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے عوام پاگل ، گونگی ، یا نااہل نہیں ہے موجودہ دور پاکستان کا مستقبل نوجوان بچے اور بچیاں ہیں ان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیجئے ۔اہل سیاست ہی نہیں بیورو کریٹ ، بیورو کریسی ، اعلیٰ عہدوں پر فائز بہت سی شخصیات ، عدلیہ ذاتی مفادات سے بلند ہو کر سب سے پہلے پاکستان کے استحکام عوام کی فلاح اور اپنے اداروں کی مضبوطی اور قانون کی بالادستی یقینی بنانا ہوگی ۔ ورنہ تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے یہی ایک واحد راستہ ہے غلط راستوں کا انتخاب احمق لوگ کیا کرتے ہیں۔ تکبر اور غرور کی حدوں کا کراس کرنے ، مسخرے پن سے باہر نکل کر سوچیئے

  • پاک دامن اور بہادر طوائف

    پاک دامن اور بہادر طوائف

    قصے اور کہانیاں /، آغا نیاز مگسی

    اردو شاعری میں سب سے پہلی صاحب دیوان خاتون شاعرہ کا اعزاز جس عورت نے حاصل کیا وہ اپنے دور کی حسین و جمیل طوائف چندا بائی ماہ لقا تھی جس کا تعلق حیدر آباد دکن سے تھا جس طرح کی وہ خوب صورت تھی ایسی ہی اس کی خوب صورت شاعری تھی ۔ اس کا ایک شعر ہے

    کبھی صیاد کا کھٹکا کبھی خوف خزاں
    بلبل اب جان ہتھیلی پہ لئے بیٹھی ہے

    اس خاتون شاعرہ اور مشہور طوائف کے پرستاروں میں بڑے بڑے راجے مہاراجے، نواب، رئیس، امیر کبیر، وزیر مشیر اور سیٹھ وغیرہ شامل تھے اور اس کی دوستی پر فخر کرتے تھے ۔ تعجب اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام عمر تجرد میں گزار دی یعنی شادی نہیں کی ۔ اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی جو اب تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکی ۔ میرے اس مضمون کا عنوان چندا بی بی نہیں بلکہ دیپالی بتول ہے لیکن اس کی کہانی بیان کرنے سے پہلے کسی طوائف کا ایک قول ملاحظہ فرمائیں کہ کسی حضرت نے طوائف سے پوچھا تمہیں کوٹھا چلاتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے تو طوائف نے کہا کہ یہ کوٹھا نہیں بلکہ بڑے بڑے شریفوں کا قبرستان ہے جبکہ سعادت حسن منٹو کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ معاشرہ کسی عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے مگر اسے ٹانگہ چلانے کی اجازت نہیں دیتا ۔

    قیام پاکستان سے پہلے انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں 5 بڑے بازار حسن تھے کلکتہ کا ” سونا گاچی ” اور لاہور کا بازار حسن ” ہیرا منڈی ” جبکہ کراچی میں لی مارکیٹ اور نیپیئر روڈ کے بازار حسن، ملتان کا بازار حسن اور میاں چنوں اور عبدالحکیم کے درمیان تلمبہ کا نہایت خوبصورت بازار حسن شامل تھے ۔ تلمبہ میں اس وقت کے حکمران مہا راجہ رنجیت سنگھ نے 1818 میں بازار حسن قائم کیا تھا ۔ تلمبہ کے تاریخی بازار حسن کو تبلیغ کے ذریعے بند کرنے میں مولانا طارق جمیل کا اہم کردار ہے اور اس بازار حسن کی جگہ پر مولانا طارق جمیل نے ایک خوبصورت مدرسہ حسنین قائم کیا ہے ۔ اس سے پہلے یہ مقام پنجاب کے لوگوں میں” تلمبہ دی کنجری ” کے حوالے سے مشہور تھا ۔ کلکتہ کا بازار حسن سونا گاچی سب سے زیادہ مشہور تھا اور اس میں پدمنی کو ٹھا سب سے زیادہ مہنگا اور بہت اہم تھا ۔ یہاں ہندوستان بھر سے بڑے بڑے راجے مہاراجے، شرفاء اور اعلی سرکاری افسران اپنی ” چھٹیاں ” منانے آتے تھے واپسی پر اپنے گھروں میں اپنی بیگمات سے کسی خاص مصروفیت کا بہانہ گھڑ لیا کرتے تھے ۔ 14 سال کی عمر کی ایک یتیم لیکن خوب صورت دوشیزہ دیپالی کو سلہٹ کے پہاڑوں کے درمیان میں موجود ایک محل نما مندر کی انتظامیہ نے سونا گاچی کے دلالوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔ 1898 میں ہندوستان میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تھی جس سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے اور ہزاروں بچے یتیم ہو گئے تھے ۔ دیپالی بھی ایک یتیم اور بے سہارا بچی تھی۔ طاعون کی وباء میں اس کے والدین فوت ہو گئے تھے اور اس کے رشتہ داروں نے دیپالی کو مندر کے پروہتوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔ بعدازاں مندر کی انتظامیہ نے کلکتہ کے بازار حسن سونا گاچی میں اس کی بولیاں لگائیں خوب صورتی کے باعث اس کی بڑی قیمت لگائی گئی اور اس کو سب سے مہنگے کوٹھے پدمنی میں پہنچایا گیا ۔ کوٹھے کی مالکہ نے اسے سنگھار کر کے ” معزز ” گاہکوں کا دل بہلانے کا حکم جاری کردیا لیکن دیپالی نے انکار کر دیا ۔ اس کو ” راہ راست ” پر لانے کے لئے 2 ماہ تک سمجھایا گیا لیکن دیپالی اپنے انکار پر قائم رہی ۔ ایک روز ایک مشہور شخصیت اور سابق رکن انڈین لے جلسٹو اسمبلی سیٹھ تیج بھان کو خوش کرنے کے لئیے اسے زبردستی کمرے میں دھکیل دیا گیا اور ساتھ میں دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے سیٹھ کو ناراض کیا تو اس کی ہڈی پسلی ایک کر دی جائے گی ۔ آدھی رات کو سیٹھ تیج بھان نے کوٹھے کے بالائی کمرے میں دیپالی سے دست درازی شروع کر دی تو دیپالی نے سیٹھ کی منت سماجت کی مگر وہ باز نہ آیا ۔تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق دیپالی نے پوری قوت کے ساتھ سیٹھ کو کسی بوری کی طرح اٹھا کر کھڑکی سے باہر نیچے روڈ پر پھینک دیا جس سے ایک دھماکہ سا ہوا اور سیٹھ کے پرخچے اڑ گئے ۔ پولیس آئی اور دیپالی کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کر کے لے گئی۔ اگلی صبح ہندوستان بھر میں یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک کوٹھے میں نئی آنے والی طوائف نے سیٹھ تیج بھان کو کوٹھے سے گرا کر قتل کر دیا ہے ۔ سونا گاچی سے کے بازار میں جب بھی کسی معصوم طوائف کے ہاتھوں کوئی قتل ہو جاتا تو متعلقہ پولیس تھانے خوشی کی لہر دوڑ جاتی ۔ تفتیش کے نام پر ایس ایچ او مجبور طوائف کو زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتا اگر طوائف خوب صورتی میں پری پیکر لگتی تو ضلع کا ایس پی صاحب بنفس نفیس تفتیش کے لیے پہنچ جاتا یہاں بھی معاملہ ایسا ہی تھا ۔ ایس پی صاحب رات کے اندھیرے میں پولیس تھانے پہنچ گیا ۔ دیپالی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایک بڑے ہوٹل میں کھانا کھلانے کے بعد کلکتہ کے وہاڑہ بریج کی سیر کرانے لے گیا اور وہاں گاڑی سے اتر کر دیپالی کو بریج کے کنارے گھمانے کے بہانے باتیں کرتے کرتے اپنے مطلب کی بات کر ڈالی دیپالی نے جواب میں ایس پی صاحب کو ایک زور دار دھکہ دیا اور ایس پی نہر میں ڈوب گیا ۔ اب دیپالی پر سیٹھ کے بعد ایس پی کے قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ۔ دیپالی کی بہادری اور پاک دامنی کے چرچے پورے ہندوستان میں ہونے لگے ۔ کلکتہ کے سینٹ جوزف گرلز کالج کی خواتین پروفیسرز اور طالبات نے دیپالی سے جا کر حوالات میں ملاقات کی اور قتل کی وجہ معلوم کی تو دیپالی نے ایک تاریخی جملہ کہا ” کہ میں کوٹھے سے گرفتار ضرور ہوئی ہوں مگر میں کوٹھے والی نہیں ہوں” ۔ یہ لوگ مجھ سے زبردستی میری عزت لوٹنا چاہتے تھے میں نے اپنی عزت بچانے کی خاطر ایسا قدم اٹھایا ۔ کالج کی طالبات نے سونا گاچی بازار اور پولیس کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیپالی کو رہا کیا جائے ۔ خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا نے دیپالی کا مقدمہ مفت میں لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک طرف سیٹھ اور ایس پی کے قتل کیس پر دیپالی کو سزائے موت دلانا چاہتے تھے تو دوسری جانب خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا دیپالی کی باعزت رہائی کے لیے میدان میں اتری تھی ۔

    حکومت اور اپر کلاس کے دباؤ کے نتیجے میں عدالت کمزور پڑ گئی تھی قتل کے عدم ثبوت کے باوجود سیشن کورٹ کے جج نے دیپالی کو 2 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنا دیا ۔ اس کی عمر کے لحاظ سے بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی اس کی عمر 14 سال سے کچھ ماہ اوپر تھی ۔ سزائے موت کے فیصلے کے بعد اس کو جیل بھیج دیا گیا ۔ جیل کے وارڈن کی بھی نیت خراب ہو گئی ۔ جیل کی پہلی رات ہی وارڈن نے اس کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہوئے دعوت کے بہانے دیپالی کو اپنے بنگلے چلنے پر مجبور کیا ۔ رات کو جیل وارڈن نے دیپالی سے دل لگی کی باتیں شروع کر دیں ۔ جوں ہی دیپالی کے قریب آنے کی کوشش کی تو دیپالی نے وارڈن کو گرن سے پکڑ کر دبوچ لیا یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی ۔ دیپالی کے خلاف قتل کا ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا ۔ پورے ہندوستان میں دیپالی کی بہادری اور پاک دامنی کی شہرت ہو گئی ۔ اس نئے قتل کی تفتیش کے دوران جیلر نے دیپالی کو زیر کرنے کا پختہ ارداہ کر لیا ۔ ایک رات دیر سے جیلر نے آ کر دیپالی کو بارہ دری چلنے کا حکم دیا یہ اس جیل کے ایک مخصوص ٹارچر سیل کا نام تھا جس کا نام سن کر قیدی تھر تھر کانپنے لگتے تھے مگر دیپالی کے چہرے پر کسی بھی قسم کی پریشانی کے تاثرات نظر نہیں آئے ۔ جیلر دیپالی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ٹارچر سیل کی بجائے اپنے بنگلے پر لے گیا ۔ دیپالی کو اپنے سامنے بٹھا کر وہی خباثت کی باتیں کرنے لگا ۔ دیپالی نے بھی مشتعل ہونے میں دیر نہیں کی پوری قوت کے ساتھ جیلر کی گردن دبا کر موت کی وادی میں دھکیل دیا ۔ 3 قتل کے بعد اب چوتھے قتل کا مقدمہ بھی دیپالی کے خلاف درج کیا گیا ۔ ہندوستان کے عوام دیپالی کی بہادری اور پولیس کی بے شرمی پر حیران ہو رہے تھے ۔ جیلر کے قتل کے بعد دیپالی نے جیل انتظامیہ کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید خواتین کو اگر کسی نے بھی بری نظر سے دیکھا تو وہ جیلر کے انجام کو اپنے ذہن میں ضرور رکھے ۔ اس وارننگ کے بعد وہ کلکتہ کی جیل کے اندر آزادنہ گھوم رہی تھی اور خواتین قیدیوں کی ہر ممکن مدد اور خدمت کر رہی تھی ۔ نئے تعینات ہونے والے جیلر کا رویہ دیپالی کےساتھ مشفقانہ تھا اور اس نے اس سے کہا کہ بیٹی میری دعا ہے تم جلد رہا ہو جائے گی ۔ دیپالی نے کہا کہ بابا ایسی دعا مت کریں جیل کے باہر میرا کون ہے جس کے پاس میں جاوں گی ۔ خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا دیپالی کا مقدمہ مفت میں بڑی محنت کے ساتھ لڑ رہی تھی باالآخر ایک روز ناری سنستھا تنظیم کی نمائندہ وکیل مریم بی بی جو ایک مسلمان تھی دیپالی کو آ کر رہائی کی خوشخبری دی اور اپنے ساتھ گھر چلنے کا کہا ۔ دیپالی کے پاس کوئی سامان اور کپڑے وغیرہ تو تھے نہیں ۔ ایک لیڈی کینسٹیبل نے اس کو اپنے کپڑوں کا ایک جوڑا دیا ۔ قیدیوں کا لباس اتار کر لیڈی کینسٹیبل کے کپڑے پہن کر مریم بی بی کے ساتھ اس کے گھر گئی ۔ مریم کے گھر میں مذہبی ماحول تھا دیپالی کے ساتھ سب کا بہت اچھا رویہ تھا ۔ جس سے متاثر ہو کر اس نے مریم کی ماں کے ہاتھوں مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا ۔ مسلمان ہونے کے بعد دیپالی کا نام دیپالی بتول رکھا گیا ۔ مریم کے گھر میں قرآن مجید پڑھنے اور نماز سیکھنے کے بعد مریم کی ماں نے دیپالی کی رضامندی سے اس کی شادی آسام کے گولا گائوں کے ایک حافظ قرآن سے نکاح کرا دیا شادی کے بعد وہ اپنے سسرال منتقل ہو گئی ۔ دیپالی کی کہانی سے ہمیں ایک بار پھر یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی عورت یا لڑکی اپنی رضا خوشی سے نہ طوائف بنتی ہے اور نہ ہی بازار حسن میں کوٹھے والی بننا پسند کرتی ہے یہ معاشرہ ان کو مجبور کرتا ہے ۔ بہت سی خواتین اور لڑکیاں خود کو کمزور اور مجبور پا کر حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہیں اور بہت ہی ایسی کم لڑکیاں اور خواتین دیپالی بتول کی طرح اپنی عزت و عصمت بچانے کے لیے مرنے اور مارنے پر تیار ہوتی ہیں ۔

  • اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    ڈاکٹر فریاد آذر

    وفات : 12؍اپریل 2024

    معروف شاعر ڈاکٹر فریاد آذر کا اصل نام سید فریاد علی ہت10؍جولائی 1956ء کو اترپردیش کے بنارس شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر عنوان چشتی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی تھی اور ان کے شعری آہنگ سے بہت متاثر تھے۔
    انھوں نے دہلی کے کئی اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے دو شعری مجموعے "خزاں میرا موسم” (اشاعت 1994ء) اور قسطوں میں گزرتی زندگی” (اشاعت 2005ء) شائع ہوئے۔آج بروز جمعہ 12؍اپریل 2024ء کو لمبی بیماری کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ کئی دنوں سے دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔

    ڈاکٹر فریاد آذرؔ کے منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
    میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

    نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو
    بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا

    معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر
    مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا

    بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی
    وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو گیا

    بس اک نگاہ ڈال کر میں چھپ گیا خلاؤں میں
    پھر اس کے بعد برف کا جمود ختم ہو گیا

    مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر
    کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے
    اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    زندگی عمر کے اس موڑ پہ پہنچی ہے جہاں
    سود ناپید ہے احساس زیاں باقی ہے

    ڈھونڈھتی رہتی ہے ہر لمحہ نگاہ دہشت
    اور کس شہر محبت میں اماں باقی ہے

    میں کبھی سود کا قائل بھی نہیں تھا لیکن
    زندگی اور بتا کتنا زیاں باقی ہے

    مار کر بھی مرے قاتل کو تسلی نہ ہوئی
    میں ہوا ختم تو کیوں نام و نشاں باقی ہے

    ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید
    ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

    لاکھ آذرؔ رہیں تجدید غزل سے لپٹے
    آج بھی میرؔ کا انداز بیاں باقی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے
    یہ کون چھپ گیا صحراؤں میں بلا کے مجھے

    میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھول جاتا مگر
    وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے

    اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا
    مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے

    جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا
    قریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے

    میں اپنی قبر میں محو عذاب تھا لیکن
    زمانہ خوش ہوا دیواروں پر سجا کے مجھے

    یہاں کسی کو کوئی پوچھتا نہیں آزرؔ
    کہاں پہ لائی ہے اندھی ہوا اڑا کے مجھے

  • عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

    عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلا شبہ عمران خان ایک مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ اور عوام میں مقبول ہیں لیکن کیا ان کے دور حکومت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں؟ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان سے ایسے فیصلے کروائے گئے یا انہوں نے خود کئے جس کا خمیازہ آج پاکستان بطور ریاست بھگت رہی ہے،نائن 11 کے بعد جو کچھ پاکستان میں ہوا ایک عالم گواہ ہے پھر نواز شریف کا دور حکومت آیا ، پاک فوج اور جملہ اداروں نے ضرب عضب کےنام سے آپریشن کا آغاز کیا ،ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہوا اس آپریشن میں پاک فوج، پولیس اور دیگر اداروں نے حصہ لیا،کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان کو جانی و مالی نقصان پہنچایا، پاکستان کو قیمتی جانوں کے ساتھ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،پھر عمران خان کا دور حکومت وجود میں آیا تو انہوں نے اسی ٹی ٹی پی سے معاہدہ کیا اور ان کو پاکستان واپس آنے کی دعوت دی کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یہ عمران خان کی بہت ہی بڑی غلطی تھی اس ایک غلطی کی سزا آج پاکستان اور قوم بھگت رہی ہے، ٹی ٹی پی نے دوبارہ حملے شروع کردیئے فوج اور پولیس نہ جانے کتنے ہی جوان آج تک شہید ہورہے ہیں، بالآخر فوج نے تنگ آکر افغانستان نہیں بلکہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا تھا،

    سمجھ سے بالاتر ہے ایک اسلام کی دعویدار حکومت اپنے ملک میں دہشت گردوں کو پناہ کیوں دے رہی ہے اور ایک ہمسایہ اسلامی ملک میں مسلمانوں کو ہی شہید کیوں کروارہی ہے، یہ افغانستان حکومت سے ایک سوال ہے ، آخر دہشت گردوں کو افغانستان ہی کیوں پناہ دیتا ہے؟ اس وقت پاکستان کی مضبوط معیشت سب سے اہم ضرورت ہے فوج اور دیگر اداروں میں جذبہ ایمانی موجود ہے شہادت کی آرزو بھی ہے فوج وہ کامیاب ہوتی ہے جسے اس کے عوام اور سیاستدانوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے، ہمارے حالات یہ ہیں عوام تو ہر حال میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن ہمارے کم عقل سیاستدان اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں، آج کل سوتنوں کی طرح تو طعنے دیئے جارہے ہیں، پاک فوج کےنیچے سے زمین کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں، نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کیا جارہا ہے یاد رکھیے فوج اور جملہ ادارے سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں جبکہ شہروں میں پولیس ڈاکوئوں‘ اجرتی قاتلوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالنے پر مامور ہے جمہوریت کے علمبردار جمہوری تقاضے پورے کریں۔

  • پاکستان میں بھارتی دہشتگردی اور ہماری پالیسی۔ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان میں بھارتی دہشتگردی اور ہماری پالیسی۔ تجزیہ :شہزاد قریشی

    دہشت گردی کے ناسور کا قلع قمع کرنے کے لئے عسکری قیادت برسرپیکار ہے سیاسی جماعتوں کو مخالفت برائے مخالفت سے بالاتر ہو کر انتہائی بردباری ،سیاسی تدبر کا مظاہرہ اورجمہوریت کے شجر کو مضبوط کرنا چاہیے،سب کوملکی ترقی میں اپناکردارا دا کرنا ہوگا،بلاشبہ سوشل میڈیا کا دور ہے ،میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ذاتی مفادات کے لئے ملک و ملت کے مفادات کو دائو پر لگانے سے گریز کرنا ہوگا،بھارت پاکستان میں خونی کارروائیوں میں ملوث ہے ، بھارت خطے میں درندوں کی پشت پناہی کرنے والا ملک ہے ،عالمی برادری کو بھارت کے مکروہ کردار پر نظر رکھنا ہوگی، عالمی سازشوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور معاشی صورت حال کے پیش نظر ارض وطن تقاصا کرتا ہے کہ یہ وقت ایک دوسرے کے گریبان تار تار کرنے کا نہیں ہے

    بہت ہو چکا ملکی تمام ادارے آئین کے مطابق اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ملکی استحکام اور بہتر معاشی نظام کے لئے عملی کاوشیں بروئے کار لائیں،پاک فوج اور جملہ ادارے ارض وطن کا ایک باوقار ادارہ ہے جو ملک وقوم کا نگہبان ہے اتنی تضحیک تودشمن بھی نہیں کرتے جتنی آج کل ملک میں ہو رہی ہے، کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بیرونی سازش ہمارے اداروں کے خلاف نہ صرف سازش کررہی ہے بلکہ ہمارے اداروں میں ٹکرائو کی بھی کوشش کررہی ہے۔ یاد رکھیے ہمارا دشمن بھارت ہی نہیں بہت سے عالمی سیاسی کھلاڑی بھی ہیں سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں یہ ہماری سیاست ہے یا ناکامی، ہم ایک مضبوط ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کی صف میں کھڑے ہیں، ہماری قومی پالیسیاں کیا ہیں، قومی استحکام کی پالیسیاں کیا ہیں، ہمارا دشمن بیدار اور چالاک ہے ہمارے سیاسی رہنمائوں کوکچھ تو ہوش کرنی چاہیے، ملک وقوم کی خاطر معیشت مستحکم کریں اپنا اپنا کردار اداکریں ملکی وسائل اور زراعت پر خصوصی پر توجہ د یں ،مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے۔

  • سیاست میں سفارتی سمجھ بوجھ کا فقدان،عمران خان کا نقصان

    سیاست میں سفارتی سمجھ بوجھ کا فقدان،عمران خان کا نقصان

    سیاست میں سفارتی سمجھ بوجھ کا فقدان،عمران خان کا نقصان
    سفارتکاری ملکی یا بین الاقوامی معاملات میں ہو۔ عصری چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکمرانی کے دائرے میں تیار رہنا چاہئے مناسب، شفاف، اور فرتیلا رہنے کے لیے موافق، سفارت کاری کے پیچیدہ کاموں کو متعدد باہم جڑے ہوئے عوامل سے تشکیل دیا جاتا ہے۔
    سول سوسائٹی کے مختلف طبقات ، پرائیویٹ سیکٹر، مذہبی دھڑے، تارکین وطن، میڈیا ، حکومتی فیصلہ سازی میں شمولیت خاص طور پر خارجہ پالیسی کے لیے شور مچاتے ہیں، ان کے مطالبات بلا روک ٹوک سفر، مضبوط بین الاقوامی تجارت اور متنوع ثقافتی تبادلوں کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔ معاشی سفارت کاری آہستہ آہستہ روایتی سیاست پر مبنی نقطہ نظر کو زیر کرتی ہے۔ اس ماحول میں جدید سفارت کار کو کثیر جہتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
    سفارتی ذہانت کی ایک اہم جہت کسی ملک کی داخلی حرکیات کو متحرک کرنے میں مضمر ہے۔ ہر سیاست دان کو اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، اور سائنسی شعبوں میں قومی مفادات کا بھرپور طریقے سے تحفظ اور آگے بڑھنے کے لیے سفارتی مہارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
    عمران خان کی خاطر خواہ عوامی حمایت کے باوجود، مقبولیت پسندانہ بیان بازی کے لیے ان کا رجحان، اکثر اسٹریٹجک مقاصد کی قیمت پر، سفارت کاری میں واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ موثر حکمرانی کے حصول کے لیے عوامی مینڈیٹ کا فائدہ اٹھانا اسٹیک ہولڈر تعلقات کے نازک توازن کا تقاضا کرتا ہے۔
    افسوس کے ساتھ، عمران خان کا مسلسل محاذ آرائی کا موقف نہ صرف ان کے اور ان کی پارٹی کے لیے بلکہ، سب سے اہم، ان کی قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ حالیہ واقعات، جیسے القادر ٹرسٹ کیس کے بعد ان کے بیانات، ڈان نیوز کی جانب سے اس تلخ حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔
    عمران خان نے کہا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے جو لوگ ان پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں وہ پارٹی کو ‘تباہ’ کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ (خان کا اپنی شریک حیات بشریٰ بی بی کا دفاع، سمجھے جانے والے ٹارگٹ کے خلاف، پارٹی کے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔)
    ہفتہ کو اپنی میڈیا ٹاک میں، سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سابق صدر عارف علوی کے ذریعے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کو ایک پیغام بھی پہنچایا تھا کہ وہ لندن کے نام نہاد پلان کے بارے میں جانتے ہیں۔ (مطلب ‘لندن پلان’ کے بارے میں ان کے دعوے اور ‘مائنس 1’ فارمولے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیاسی چالبازیوں کی طرف سفارتی چالاکی کو چھپانے کی اطلاع دی گئی ہے)
    موجودہ حکومت کے بارے میں، عمران خان نے دعوی کیا کہ "بادشاہ پیچھے بیٹھا ہے اور وزیر داخلہ محسن نقوی اس کے وائسرائے کے طور پر سب سے آگے ہیں”۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ (موجودہ حکومت پر ان کی تنقید، اس کی ساکھ کو مزید کم کرتی ہے۔)

    اس پیش رفت کی روشنی میں کوئی یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ کیا عمران خان کو سفارت کاری کا فن سیکھنے میں بہت دیر ہو چکی ہے یا ان کا زوال ناگزیر ہے؟

  • چھ ججوں کے خط کا معاملہ،ہو نا کیا چاہئے؟

    چھ ججوں کے خط کا معاملہ،ہو نا کیا چاہئے؟

    چھ ججوں کے خط کا معاملہ،ہو نا کیا چاہئے؟
    پچھلے ہفتے باغی ٹی وی کے لیے اپنے وی لاگ "یاسمین کی بیٹھک” میں، میں نے واضح طور پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ازخود نوٹس کی پیش گوئی کی تھی اس وقت تک تحقیقاتی کمیشن بھی نہیں بن پایا تھا۔

    یہ توقع سے پہلے ہوا ، کچھ متعلقہ سوالات حل طلب ہیں،
    • کیا ان الزامات کو حقائق سے ثابت کیا جا سکتا ہے؟
    • کیا ملزمان، سابق عدلیہ کے اراکین، اور فائدہ اٹھانے والوں سمیت حقائق کا پتہ لگانے کے لیے ملوث تمام فریقین کو عدالت میں طلب کیا جائے گا؟
    کیا یہ معاملہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک اور تصادم کی طرف بڑھے گا؟
    • کیا قانونی پیچیدگیوں سے ناواقف افراد کو قیاس آرائیوں کے لیے مواد فراہم کرتے ہوئے کارروائی براہ راست نشر کی جائے گی؟
    یہ سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں، یہ واضح ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل شکایت کو حل کرنے کے لیے مناسب فورم نہیں تھا۔ میں پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 209[5] کا حوالہ دیتی ہوں، "(5) اگر، کسی ذریعہ سے معلومات پرکونسل یا صدر کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا کوئی جج (a) جسمانی یا ذہنی معذوری کی وجہ سے اپنے عہدے کے فرائض کو صحیح طریقے سے انجام دینے سے قاصر ہے۔ یا (b) بدتمیزی کے مرتکب ہو سکتے ہیں، صدر کونسل کو ہدایت دے گا، یا کونسل، اپنی تحریک پر، اس معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے۔”
    سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ کار اوپر بیان کردہ دفعات تک محدود ہے۔
    معزز ججز توہین عدالت سے نمٹنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 204 کو استعمال کر سکتے تھے۔ آرٹیکل 204 عدالت کو کسی بھی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار دیتا ہے جو عدالت کے عمل میں مداخلت کرتا ہے یا اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

    یہاں ہمارے معزز ججوں کے حلف کا حوالہ دینا مناسب ہے جس میں ان کے سوال کا جواب موجود ہے۔ حلف کے اندر کلیدی لائن یہ ہے:
    "یہ کہ، ہر حال میں میں ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ، قانون کے مطابق، بلا خوف و خطر،انصاف کروں گا۔”
    مزید برآں، سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے پہلے سے ہی ایک ضابطہ اخلاق موجود ہے۔
    اہم بات یہ ہے کہ کیس کے ٹی او آرز کی اچھی طرح وضاحت کی جائے اور لائیو ٹرانسمیشن سے گریز کیا جائے تاکہ وکلاء گیلری اور بعض حلقوں میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اس کا استعمال نہ کریں۔
    سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ملوث تمام فریقوں کا یکساں احتساب ہونا چاہیے۔

  • 02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    748ء شارلیمین، فرانکیا اور روم کے قدیم بادشاہ (وفات : 814ء)

    1614ء شاہزادی جہاں آرا بیگم صاحب، مغل سلطان شاہ جہاں اور ممتاز محل کی دختر، اورنگ زیب کی بڑی بہن۔ (وفات : 1681ء)

    1647ء ماریہ سبیالا مریان، جرمن نژاد ڈچ خاتون، اپنے دور کی عظیم نقاش و عقلیت پسند خاتون۔ جنہیں حشرات و نباتات پر ماہرانہ تحقیق کی وجہ سے دنیائے سائنس میں خاص مقام حاصل ہے (وفات : 1717ء)

    1743ء۔۔ٹامس جیفرسن۔۔امریکہ کا تیسرا صدر۔ اعلان آزادی کو قلمبند کرنے کا اعزاز اسی کو حاصل ہوا۔ 1784ء میں فرانس میں وزیر با اختیار مقرر ہوا۔ 1801ء سے 1807ء تک جمہوریہ متحدہ امریکا کا صدر رہا۔ اس کی صدارت کے دوران میں لوئی زیانا کی ریاست خریدی گئی اور امریکا میں بردہ فروشی خلاف قانون قرار دی گئی۔

    1805ء۔۔ہینز کرسچن اینڈرسن ڈنمارک کا ادیب جس نے بچوں کے لیے جن پریوں کی کہانیاں لکھیں چودہ سال کی عمر میں حصول روزگار کی خاطرکوپن ہیگن پہنچا۔ ابتدا میں اوپرا میں کام کیا مگر ناکام رہا۔ پھر شاعری اور افسانہ نویسی شروع کی۔ 1835ء سے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے لگا۔ جو بچوں سے زیادہ بڑوں میں مقبول ہوئیں۔ کہانیوں کا پہلا مجموعہ 1835ء میں چھپا۔

    1840ء۔۔ایملی زولا پیرس فرانس میں 2 اپریل 1840ء کو پیدا ہوا۔اس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی کے کچھ سال ایکس۔این کے صوبے میں گزرے جو اس کے ناولوں میں Plassans کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1858ء میں ایملی زولا پیرس آیا۔ اس کا باپ اٹلی کا اور ماں فرانس کی تھی۔ 1862ء تک اس نے فرانس کی شہریت نہ لی تھی۔ زولا کا ابتدائی زمانہ بہت غربت میں گزرا۔ بہت سے محکموں میں کلرکی کی۔ آخر کار Therese Raquin نامی اخبار سے منسلک ہو گیا جس سے اسے پیسہ بھی ملا اور شہریت بھی۔ اسی عرصے میں اسے A.G Melley مل گئی جس سے اس نے 1870ء میں شادی کر لی۔ یہ شادی اچھی ثابت نہ ہوئی۔ زولا نے نیچرلسٹ تحریک کی سربراہی کی اور اپنی کہانیاں موپساں اور دوسرے دو لکھنے والوں کے ساتھ مل کر چھپوائیں اور مسلسل اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا رہا۔ زولا 1902ء میں فوت ہوا۔ اس کی موت ایک مستری کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی۔ مستری اس کے بیڈروم کی چمنی ٹھیک کرنے آیا۔ چمنی درست کی لیکن اس کے بند پائپ کو صاف کرنا بھول گیا۔ کوئلوں کی ساری گیس کمرے میں بھر گئی اور زولا صبح تک دم گھٹنے سے مر گیا۔ زولا کی زندگی کا ایک سنسنی خیز واقعہ 1898ء میں ہوا جو اس کی تخلیقی زندگی پر بہت اثر انداز ہوا۔ یہ فرانس کے صدر کے نام ایک کھلا خط تھا جو L.Aurore نامی اخبار کے پہلے صفحے پر چھپا۔ یہ فرانس کی فوجی انتظامیہ کی کرپشن کی نشان دہی تھی۔ اس خط نے فرانسیسیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا، دنیا میں بدنامی الگ ہوئی۔ حکومت نے زولا کے اس خط کا سختی سے نوٹس لیا اور اس پر مقدمہ قائم کر دیا۔ عدالت نے زولا کو ایک سال کی سزا سنا دی۔ زولا انگلستان بھاگ گیا اور وہاں جا کر سیاسی پناہ لے لی۔ یہ سارا ہنگامہ ایک یہودی کیپٹن Drey Fus کے بارے میں تھا جسے ایک سازشی جال میں پھنسایا گیا تھا اور زولا نے اس کی مدد کی تھی۔ سال کے بعد جب کیپٹن کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا اور اسے پورے اعزازات سمیت بری کر دیا گیا تو زولا واپس پیرس آ گیا اور اپنی 20 ناولوں کی سیریز پوری کرنے لگا۔ 20 ناولوں کی سیریز The Rougon Maequqrt کا نام ہے۔ ان ناولوں میں ابھرنے والے کردار ایک ہی خاندان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ناولوں میں کبھی کم اور کبھی دیر تک سامنے رہتے ہیں یا کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی کردار کی زندگی کے واقعات ناول کا حصہ بنا لیے گئے ہیں۔ زولا نے ہمیشہ سچائی اور انصاف کے حق میں آواز اٹھائی اور مخالف قوتوں سے مقابلہ کیا۔ زولا کہا کرتا تھا کہ ’’ میں نے ہمیشہ سچ اور انصاف کا ساتھ دیا ہے۔ میری صرف ایک ہی آرزو اور خواہش ہے کہ جو لوگ اندھیرے میں جی رہے ہیں انہیں روشنی میں لایا جائے۔ جو دکھ میں سانس لے رہے ہیں انہیں خوشی دلائی جائے۔ یہ میری روح کی آواز ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو دن کی روشنی میں میرے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔‘‘ فرانس کی حکومت کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اس پر مقدمہ چلا لیکن جب سچائی سامنے آئی تو حکومت کو ہار ماننا پڑی۔ حکومت نے اندر ہی اندر زولا کو سزا دی۔ اس سزا کا انکشاف دس سال بعد ہوا۔ دس سال بعد زولا کے گھر کی چمنی ٹھیک کرنے والے مستری نے اس راز سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ سیاسی وجوہات پر میں نے ہی زولا کے گھر کی چمنی کو بند کیا تھا جس سے گیس زولا کے کمرے میں بھر گئی تھی اور زولا کی موت واقع ہوئی تھی۔زولا کی موت 29 ستمبر 1902 کو ہوئی تھی۔

    1902ء بڑے غلام علی خان، پٹیالا گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کلاسیکی گلوکار (وفات : 1968ء)

    1942ء۔۔ولفریڈ جیرالڈ ریبمبس (وفات- 9 مارچ 2010ء) ایک منگلورائی گلوکار اور گیت کار تھے جو وِلِفی رِبِمس کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔ ولفی ریبمس اپنی کوکنی اور تولو زبانوں کے نغمہ ساز کے لیے مشہور تھے۔ وہ مقبول طور پر کوکن کوگل کے نام سے مشہور ہیں جس کے معنی کوکن کی کوئل ہے

    1949ء پامیلا ریڈ، امریکی فلمی اداکارہ

    1969ء اجے دیوگن، بھارتی اداکار

    1969ء۔۔۔انجینئر شوکت اللہ خان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سابقہ گورنر ہیں جنہیں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے راجا پرویز اشرف کی ہدایت پر 11 فروری 2013ء کو تعینات کیا

    1981ء مائیکل کلارک، آسٹریلوی کرکٹر

    1981 ء ۔۔کپل شرما ایک بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین ،اداکار، ٹی وی میزبان، پروڈیوسر اور موسیقار ہیں۔ کپل شرما کا ایک شو ہے جس کا نام دہ کپل شرما شو ہے یہ شو ہر ہفتہ اتوار کو سونی ٹی وی چینل پر آتا ہے جس میں بہت سے فلمی اداکار اور بہت سے سیلیبریٹ شرکت کرتے ہیں

    1986ء ابراهیم آفیلای، ڈچ پیشہ ور فوٹبالر جو بطور اٹیکینگ مڈفیلڈر ایف سی بارسلونا کے لیے کھیلتا ہے۔

    1990ء گریما چودھری، بھارتی جوڈوکا، اس نے بھارت کو ملک کی واحد جوڈوکا کے طور پر 2012ء گرمائی اولمپکس میں خواتین کے 63 کیلو زمرے میں نمائندگی کی۔

    1969ء آغا نیاز مگسی اردو، سندھی، بلوچی اور براہوی زبان کے ادیب، شاعر ، محقق اور کالم نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 02 اپریل   تاریخ کے آئینے میں

    02 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    02 اپریل تاریخ کے آئینے میں.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1669ء مغل حکمراں اکبر نے جذیہ ختم کیا۔

    1745ء آسٹریا اور باویریا کے درمیان امن معاہدہ طے ہوا۔

    1801ء کوپن ہیگن میں برطانوی بیڑے نے ڈینمارک کے بیڑے کو برباد کر دیا۔

    1905ء مصر کی راجدھانی قاہرہ اور جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاون کے درمیان ریل چلنی شروع ہوئی۔

    1921ء البرٹ آئنسٹائن نے اپنے نئے نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) پر نیویارک شہر میں لیکچر دیا۔

    1930ء ہیل سلیسی حبشہ کے شہنشاہ بن گئے۔

    1942ء کانگریس نے کرپس مشن کی تجویز کو خارج کیا۔

    1945ء سوویت یونین اور برازیل کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔

    1971ء۔۔سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کلثوم نواز سے پسند کی شادی کی۔

    1978ء۔۔۔پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ جیتا ٭مارچ 1978ء میں ہاکی کا چوتھا عالمی کپ ٹورنامنٹ ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں منعقد ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں 14 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاکستانی ٹیم کی قیادت اصلاح الدین نے کی جبکہ نائب کپتان شہناز شیخ اور منیجر عبدالوحید تھے۔ پاکستان پول بی کے تمام ممالک کو شکست دے کر بآسانی سیمی فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ مغربی جرمنی سے ہوا۔ میچ کا فیصلہ فاضل وقت میں ہوا، جب میچ کے 83 ویں منٹ میں اصلاح الدین نے میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول اسکور کیا۔ فائنل میں، جو 2 اپریل 1978ء کو کھیلا گیا، پاکستان کے مدمقابل ہالینڈ کی ٹیم تھی۔ پہلے ہاف کے اختتام تک میچ 1-1 سے برابر تھا۔ دوسرے ہاف میں ہالینڈ ایک اور پاکستان دو گول کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یوں پاکستان نے 7 برس بعد، ہاکی کا عالمی کپ دوسری مرتبہ جیت لیا۔ پاکستان کی جانب سے اصلاح الدین، اختر رسول اور احسان اللہ نے گول بنائے جبکہ ہالینڈ کی طرف سے ٹائیز کروزے اور پال لٹجن گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی بہت شاندار رہی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان نے 35 گول اسکور کئے تھے جبکہ اس کے خلاف صرف 4 گول اسکور کیے جاسکے تھے۔

    1982ء آرجنٹین نے فاکلینڈز آئلینڈز پر حملہ کر دیا۔

    1992ء پیئیر بیریگووی فرانس کے وزیراعظم بن گئے۔

    1997ء سمیتا سینا نے اپنے جسم پر سے 3200؍کلو گرام وزنی ٹرک کو گذار کر ریکارڈ قائم کیا۔

    2 اپریل 2005ء کو پاکستان کے قدیم تربیتی ادارے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ کے قیام کی سوویں سالگرہ منائی گئی۔ یہ کالج یکم اپریل 1905ء کو بمبئی کے نزدیک دیولائی کے مقام پر قائم ہوا تھا اور 1907ء میں اسے کوئٹہ منتقل کردیا گیاتھا۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پانچ روپیہ مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر قدیم اور جدید دونوں عمارتوں کی منظر کشی کی گئی تھی اور 1905 2005 100 YEARS OF EXCELLENCE COMMAND & STAFF COLLEGE QUETTA کے الفاظ تحریر تھے ۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ نے فراہم کیا تھا۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔”””””””””””””””””

    بچوں کی کتابوں کا عالمی دن

    1970ء قطر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی