Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مسنگ پرسن اور واویلا،سب بے نقاب ہو گیا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسنگ پرسن اور واویلا،سب بے نقاب ہو گیا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    پاکستان کی 25 کروڑ عوام کو ایران سے یہ توقع نہیں تھی جو ایران نے کیا ۔ ایک طرف بھارت دوسری طرف احسان فراموش افغانستان، مسلح چھیڑ چھاڑ اس ماحول میں اب پاکستان کو بطور اسلامی ایٹمی پاور ریاست دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا ،پاک فوج کا اس موقع پر کردار قابل تحسین ہے ۔ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔مسنگ پرسن کو لے کر جو واویلا کیا جا رہا تھا اور پاک فوج اور جملہ اداروں پر الزامات لگائے جا رہے تھے وہ بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ۔ افسوس یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت پر مامور افواج اور جملہ اداروں کو ناحق تنقید کا نشانہ بنا کر اپنی سرزمین کے دشمنوں کو موقع فراہم کررہے ہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اب مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

    اب اس جنگی ماحول میں انتخابات کیسے ہوں گے یہ ایک سوال ہے ،فوج پرائمری سکولوں میں انتخابات کی ڈیوٹی دے یا سرحدوں کی حفاظت کرے ۔ ؟ سیاسی جماعتوں کے قائدین آہستہ آہستہ انتخابی ماحول بنا رہے ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز نے جلسوں کا آغاز خود کردیا ہے مسلم لیگی رہنما اور نواز شریف کے قریبی ساتھی پرویز رشید نے بتایا کہ مزید جلسوں میں میاں نواز شریف خود شرکت کریں گے جبکہ بلاول بھٹو ، امیر جماعت اسلامی اور دیگر بھی جلسے کر رہے ہیں۔ تاہم یہ خبر نگران حکومت میں ملی ہے کہ آئی ایم ایف نے 70 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو دی ہے جبکہ یو اے ای نے قرض رول اوور کردیا ۔ اس وقت مہنگائی کو لے کر عام آدمی کی حالت قابل رحم ہے ۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بھاری بلوں نے عام آدمی کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے ۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔یہ عام آدمی وہ ہیں جو ملک کے حالات سے باخبر ہیں اور وطن عزیز کے ساتھ مخلص بھی ہیں اس وقت بُر ے حالات سے گزر رہے ہیں۔ ملک میں عد ل و انصاف قائم ہونا چاہیئے ۔ انصاف کا حصول ہر شہری کو بلا تفریق ہونا چاہیئے ۔

    ملکی سیاست میں دو سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں ایک جماعت نواز شریف کو لاڈلہ قرار دے رہی ہے یعنی عمران خان اور اُن کی جماعت ۔ کیا عمران نے جنرل مشرف( مرحوم) سے 70 سیٹیں نہیں مانگی تھی؟ کیا عمران خان کو جنرل ضیاء الحق نے بیٹا نہیں کہا تھا؟ کیا لاڈلہ بننے کی کوشش نہیں کی ؟ ۔ آپ کے 2018 ء میں ملاح کون تھے؟ جس کشتی میں سوار ہو کر وزارت عظمیٰ تک پہنچے ۔ اُس کشتی کے ملاح کون تھے ؟ بلاشبہ پی ٹی آئی مقبول جماعت اس پورے ملک میں مگر دوسروں پر الزام تراشی درست نہیں ، نواز شریف کو جواب میں بقول شاعر جواب دینا چاہیئے
    سورج کو لگے دھبہ قدرت کے کرشمے ہیں
    بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

  • موسمیاتی تبدیلی کے دور رس نتائج

    موسمیاتی تبدیلی کے دور رس نتائج

    موسمیاتی تبدیلیوں کے ہمارے سیارے پر بڑے پیمانے پر نقصان دہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے اثرات شدید موسمی واقعات سے لے کر آرکٹک سمندر کی برف میں خطرناک حد تک کمی تک ہیں۔ یہ اثرات مختلف ڈگریوں کے باوجود پوری دنیا میں قابل مشاہدہ ہیں۔

    شدید موسمی واقعات، شدید گرمی اور سردی کی لہروں کی خصوصیت تیزی سے عام ہو گئے ہیں۔ طویل اور زیادہ شدید گرمی کی لہریں مٹی کو خشک کر کے،پانی کی فراہم پر اضافی دباؤ ڈال کر، خشک سالی کو بڑھاتی ہیں ، یہ مشرقی افریقہ جیسے خطوں میں واضح ہے، جہاں چالیس برسوں سے بدترین خشک سالی جاری ہے۔ انسانی سرگرمیاں خاص طور پر گرم موسم کے دوران پانی کے لیے زرعی مطالبات، پانی کے وسائل پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (IPCC) اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جنگل کی آگ کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کر رہی ہے۔ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، زمین اور پودوں کی نمی ختم ہو جاتی ہے، جس سے جنگل کی آگ کے اگنیشن اور تیزی سے پھیلنے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔

    سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی شدید بارش سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا باعث بنتی ہے، مویشیوں کو متاثر کرتی ہے۔ فصلوں کے کھیتوں میں پانی بھر جانے کے نتیجے میں فصلوں میں نمایاں نقصان ہوتا ہے

    آرکٹک، خاص طور پر، سمندری برف میں زبردست کمی ہو رہی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے تو پیشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ آرکٹک 2040 تک برف سے پاک ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے منظر نامے سے عالمی سطح پر گرمی کی لہروں میں شدت آتی ہے، جس سے خوراک کی قلت پیدا ہوتی ہے،ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ آرکٹک برف اور پرما فراسٹ کے پگھلنے سے بڑی مقدار میں میتھین خارج ہوتی ہے، جو ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے، جس سے عالمی حدت کی شرح کو تباہ کن فیڈ بیک لوپ میں بڑھایا جاتا ہے۔

    سمندر کی گرمی گلوبل وارمنگ کا واضح اشارہ ہے، جو سمندر کی سطح میں اضافے اور برف کے پگھلنے میں تیزی لانے میں معاون ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، نتیجے کے اثرات میں آب و ہوا سے متعلق خطرات کا بڑھ جانا اور 2050 تک کئی سو ملین لوگوں کے لیے غربت میں اضافہ شامل ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی سے لاحق کثیر جہتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومتوں، تنظیموں اور افراد کو پائیدار طریقوں کو ترجیح دینی چاہیے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، اور ایسی پالیسیوں کو نافذ کرنا چاہیے جو بدلتی ہوئی آب و ہوا میں تخفیف اور موافقت پذیر ہوں۔ بے عملی کے نتائج سنگین ہیں، اور یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار اور لچکدار مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بامعنی اقدامات کریں۔

  • بھارتی وزیر خارجہ کے ایران دورے کے موقع پر ایران کا پاکستان پر حملہ،مقاصد کیا

    بھارتی وزیر خارجہ کے ایران دورے کے موقع پر ایران کا پاکستان پر حملہ،مقاصد کیا

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ایران نے عین اس وقت تین اسلامی ممالک کے شہروں کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا بہانہ بنا کر حملہ کیا جب بھارتی وزیر خارجہ ایران کے دورے پر تھے۔ کیا ایران آیت اللہ خامنئی (مرحوم) کی پالیسی پر گامزن ہے یا بھارت کی خارجہ پالیسی پر؟ آیت اللہ خامنہ عالم اسلام کو ایک جگہ اکٹھا دیکھنا چاہتے تھے اسلامی ممالک کے شہروں پر حملہ ان کی پالیسی ہو ہی نہیں سکتی ،

    ایک طرف غزہ لہولہان ہے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں دوسری طرف ایران کی طرف سے پاکستان جو ایران کا ہمسایہ ملک بھی ہے اور اسلامی ریاست بھی بلوچستان پر راکٹ کے حملے نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردوں اور انتہاپسندی کا صفایا کر دیا ہے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن میں پاک فوج اور جملہ اداروں اور عوام نے جو قربانیاں دیں ایک عالم گواہ ہے آج بھی کبھی افغانستان کے ذریعے دہشت گردوں کو بھارت پاکستان میں داخل کر رہا ہے پاکستان ایک پرامن ملک ہے خطے میں امن چاہتا ہے پاکستان ایران سمیت افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک سے دوستی اور امن چاہتا ہے۔

    وزارت خارجہ نے اس واقعہ پر ایران سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا تاہم ایران کو بھی اپنی اس پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ تاکہ آئندہ کے لئے کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو جس سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے نائن الیون کے بعد بڑی قربانیوں کے بعد ملک میں امن بحال ہوا۔ دہشت گردوں نے پاکستان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا تھا۔ جانی اور مالی نقصان کی دنیا گواہ ہے۔

  • پاکستان کونازک موڑ پر پہنچانے والے کون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کونازک موڑ پر پہنچانے والے کون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    اہل سیاست اہل دانشور، یو ٹیوبر ، وی لاگر ، عام آدمی کو جو پہلے ہی ان گنت مسائل میں مبتلا ہے بتا رہے ہیں پاکستان نازک موڑ سے گذررہا ہے تاہم یہ نہیں بتا رہے کہ پاکستان کو نازک موڑ پر پہنچانے والے کون ہیں ؟ مظلوم اور معصوم عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے اپنے فالورز بڑھانے کے لئے ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکانے سے گریز کرنا ہو گا۔ امریکہ ایک بڑا مضبوط جمہوری ملک ہے وہاں پر بھی ایک چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے۔ اسی طرح چائینہ سمیت مختلف ممالک میں چیک اینڈ بیلنس کے نظام موجود ہیں ۔ مصر میں جمہوریت آئی مگر صدر مرسی نے اختیارات کو اپنے گردجمع کرنا شروع کردیا پھر مصر میں مارشل لاء لگا اور مصر دوبارہ صدر حسنی مبارک کے زمانے کی طرف لوٹ گیا ۔ ترکی میں طویل مارشل لا گزرے پھر جمہوریت آئی۔ آج طیب اردوان کی شکل میں صدارتی نظام متعارف کرا دیا گیا ۔

    پاکستان کے آئین نے جمہوری حکومت اور ملک کے تمام اداروں کی حدیں مقرر کردی ہیں اگر آئین پرعمل کیا جائے تو پاکستان اور عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں صدقے دل سے وطن عزیز اور عوام کو مسائل سے نکالنے کے لئے اپنے منشور پر جو الیکشن میں دیا جائے اُس پر عمل کریں۔ ملک میں سیاسی رونقیں لگی ہیں۔ لاہور، کراچی اور ملک کے دیگر بڑے بڑے شہروں میں رونقیں یخ بستہ سردی کے موسم میں عوام کو گرمایا جا رہا ہے کہیں بلاول بھٹو ، کہیں جماعت اسلامی کے امیر ووٹروں کو گرما رہے ہیں۔ کہیں مریم نواز شریف اپنے مخصوص انداز میں ایک ماہر وکیل کی طرح عوامی عدالت میں ملک میں جمہوریت اور معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کررہی ہیں۔

    ایک بار پھر پنجاب کا شہر اوکاڑہ نواز شریف وزیراعظم کے نعروں سے گونج اٹھا۔ مریم نواز (ن) لیگ کا مقدمہ لڑنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی وہ (ن) لیگ اور نواز شریف کا مقدمہ عوامی عدالت میں لڑتی رہی ہیں۔ کراچی اور دیگر شہروں میں سیاسی قائدین کے سیاسی ڈیروں پر رونق لگی لاہور میں کسی زمانے میں بابائے سیاست نواب زادہ نصر اللہ مرحوم کے سیاسی ڈیرے آباد تھے آج کل لاہور میں نواز شریف لوٹ آئے ان کا سیاسی ڈیرہ مقبول ترین ہے اس طرح سیاست کا مرکز لاہور ہے۔ دیکھا جا رہا ہے کہ نواز شریف حالات پر نظرکس طرح رکھتے ہیں؟ موجودہ حالات کو وہ کس طرح اپنے حق میں ڈھالتے ہیں ۔اندھیرے مین ڈوبے پاکستان اور عوام کو روشنیوں کی طرف لے جانے میں کس طرح کامیاب ہوں گے۔

  • بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے پیچھے محرکات

    بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے پیچھے محرکات

    حالیہ مہینوں میں، حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے، حوثیوں نے اسرائیل جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا، ان حملوں کے پیچھے بنیادی محرک حوثیوں کی حماس کے لیے حمایت نظر آتی ہے، کیونکہ حوثیوں نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ اسرائیل کی طرف جانے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا، سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر ایک شدید حملے کے بعداسرائیل نے فلسطین پر حملہ کیا اور وہاں سے شروع ہونےوالی دشمنی اب بھی جاری ہے

    حوثیوں نے اپنی ابتدائی کوشش میں نومبر میں اسرائیل کے لیے ایک مال بردار جہاز پر قبضہ کیا،اس کے بعد کارگو جہازوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے حملےکئے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں میں نومبر اور دسمبر کے درمیان 500 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے کئی بڑی تجارتی کمپنیوں نے خطے میں کارگو کی ترسیل روک دی۔ جس کی وجہ سے دسمبر سے کارگو کی قیمتوں میں دس گنا اضافہ ہوا ،

    حوثیوں کی کاروائیوں کو دیکھا جائے تو انہیں ایران کی بھی حمایت حاصل ہے، تاکہ عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا جا سکے، ایک زیادہ قابل فہم مقصد ملکی حمایت حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ خود کو اسرائیل کو چیلنج کرنے والی ایک مضبوط قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے، حوثیوں کا مقصد یمنیوں کو متحد کرنا اور حریف گروپوں کو بے اثر کرنا ہے۔ یہ حکمت عملی خاص طور پر اہم ہو جاتی ہے کیونکہ دیگر عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف مضبوط موقف اختیار نہیں کیا ، جس سے حوثیوں کی علاقائی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت ،جارح حوثی موقف سعودی عرب کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔حوثیوں کے حملوں کے وسیع جغرافیائی سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو بڑھا کر اسرائیل کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ حملے مختلف پراکسیوں کا فائدہ اٹھا کر تہران کے جوہری پروگرام سمیت علاقائی تنازعات پر ایران کی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

    اختتامی نوٹ: بحیرہ احمر کے بحری جہازوں پر حوثی حملوں کے پیچیدہ محرکات ہیں، جن میں حماس کی حمایت شامل ہے، ملکی سیاسی تحفظات ہیں اور ایران اور اسرائیل دونوں کے لیے ممکنہ جغرافیائی سیاسی فوائد ہیں۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ان حرکیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے

  • تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    نام کتاب : بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا
    مصنف : العربی بن رزوق
    صفحات : 382فور کلر آرٹ پیپر
    قیمت :2625روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کے مقابلے میں مسلمان والدین اپنے بچوں کی تربیت اس احساس فرض کی وجہ سے کرتے ہیں کہ نئی نسل کی تربیت کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس قدر اہم ہے کہ یہ فرض ادا کرنے والا شخص اپنے رب کے ہاں کبھی نہ ختم ہونے والے اجر و انعام پاتا ہے نئی نسل کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے کے لیے ان میں دینی تعلیمات سے لگاؤ پیدا کیا جائے اس مقصد کے لیے بچوں کی ابتدا عمر ہی سے اچھی تربیت کی کوشش ضروری ہے کیونکہ عام اصول یہی ہے کہ بلند و بالا پکی عمارت بنانے کے لیے سب سے پہلے بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اسی احساس کے پیش نظر دارسلام نے بچوں کے لیے ابتدائی عمر ہی سے دینی و اخلاقی لٹریچر کی تیاری کا بھیڑا اٹھایا ہے اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں اردو اور انگریزی زبان میں تو بات اشاعت کے بین ال بین الاقوامی معیار کے مطابق مختلف عمر کے بچوں کے لیے دلچسپ بامقصد اور دیدہ زیب لٹریچر تیار کیا جاتا ہے اسلامی تعلیمات پر مبنی دل نشین کہانیوں کی کتابوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ نصابی اور دیگر مفید و معین کتب کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے بچوں کی ذہنی و نفسیاتی کیفیات کا ادراک رکھنے والے دینی سوچ کے حامل ماہرین تعلیم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا اسی سلسلے کی نہایت اہم پیشکش ہے جسے ادارے کو پہلے انگریزی میں اور بات اذاں اردو میں تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے اس میں حروف تہجی کے اعتبار سے بنیادی دینی تعلیمات اور اصطلاحات کو بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق نہایت اسان اور عام فہم انداز میں تحریر کیا گیا ہے

    کسی بھی قوم کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری اپنی نئی نسل کی تربیت ہے امت مسلمہ کے لیے یہ کام اور بھی زیادہ اہم ہے جو قومیں مادہ پرستانہ نقطہ نظر رکھتی ہیں ان کے لیے نئی نسلوں کی تربیت نسبتا اسان ہے انہیں صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ مادی ضرورتوں کو پورا کرنے یا مادی اسائشوں کے حصول کی جو خواہش ہر انسان میں پائی جاتی ہے اس کو بنیاد بنا کر وہ علوم سکھانے کا انتظام کر دیں جو اس مقصد کے لیے معاون ہو سکتے ہیں ان کے برعکس اللہ تعالی نے امت مسلمہ کو یہ حکم دیا ہے کہ یہ دنیا محض ایک عارضی مرحلہ ہے ان کا اصل کام اپنی زندگی اور اپنی ساری صلاحیتوں کو چند روزہ تعینات کے حصول کے لیے ضائع کر دینا نہیں دنیا کی خوشحالی ان کی اصل جدوجہد کے ضمن میں خود بخود حاصل ہو جائے گی دنیاوی زندگی کے دوران میں ان کا اصل کام سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ہے کہ اس ساری کائنات میں اصل اختیار کس کا ہے اس کو کس نے بنایا اور کس مقصد کے لیے بنایا ہے یہ سمجھنے کے بعد اس مختار مطلق کی مرضی کے مطابق اپنی دنیا کو نیکیوں بہلائیوں امن اور سلامتی سے معمور کر دینا ہے ہر صورت میں انہیں اپنا کردار بھلائیوں کی تقسیم کے حوالے سے ادا کرنا ہے دوسروں کی قیمت پر اپنا فائدہ ظلم نا انصافی وغیرہ ان قوتوں کے ایماں پر کی جاتی ہیں جو نبی بنی نوع انسان کے دشمن ہیں

    بازار بچوں کے لیے طرح طرح کی خوبصورت اور جاذب نظر کتابوں سے بھرے پڑے ہیں عام معلومات میں اضافے کی کتابوں سے لے کر مختلف علوم و فنون کے لیے انسائکلو پیریا تک اور سائنس سے لے کر قوموں اور نسلوں کی برتری کے پرچار سے بھرے ہوئے بچوں کے ناولوں تک لاکھوں کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں ہر گلی کی ہر گلی کی کتابوں کی دکانوں میں ان کے ڈھیر لگے ہیں اگر دشوار ہے تو ایسی کتابوں کا ڈھونڈنا جو بچوں کو انسانیت کی سلامتی امن اور ہم اہنگی کہ ابدی ابدی اصولوں سے روشناس کرا سکیں جو انسانیت کی بھلائی کے ضامن دین کے بارے میں بچوں کو معلومات دے سکیں اللہ کا شکر ہے کہ دارالسلام اس مید ان میں بھی اپنے حصے کا کام کیے جا رہا ہے بچوں کے لیے انتہائی دیدہ زیب پاکیزہ اور دلچسپ کتابوں کی ایک سیریز ہے جن میں سے ہر بچے کی لائبریری سج جاتی ہے الحمدللہ یہ کتابیں ہماری نئی نسل کو محض روایتی مسلمان کی بجائے باشعور صحیح معلومات سے مزین پرعظم پرجوش اور انسانی خدمت اور بہرائی کا مخلصانہ احساس رکھنے والے نوجوانوں کی حیثیت سے پروان چردھانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں

    یہ کتاب مسلمان بچوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات اور تصورات سے اگاہ کرنے کی ایک عمدہ کوشش ہے یہ حوالے کی ایک کتاب ہے جو بنیادی طور پر 10 سال اور اس سے کچھ زائد عمر کے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے اس میں شامل موضوعات نہایت اسان اور سلیس زبان میں حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں یہ معلومات حوالہ درحوالہ کے طور پر اس طرح درج کی گئی ہیں کہ پڑھنے والے کو ایک متن سے دوسرے متن کی طرف جانے کی ترغیب ملتی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان میں سے بہت سی بنیادی باتوں کو بھول چکی ہے اور یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ کچھ غیر مسلموں نے ان میں سے بعض تصورات کی غلط تاریخ پیش کر کے ان کے بارے میں الجھاؤ پیدا کیا ہے یہ کتاب نہ صرف توحید شرک ایمان اور احسان جیسی اصطلاحات کی تشریح کرتی ہے بلکہ مشہور و نام اور نامور انبیاء￿ و رسل کے حالات زندگی پر بھی روشنی ڈالتی ہے اس کے علاوہ اہم تقریبات مثلا عیدین وغیرہ ان کے منائے جانے کے فوائد نیز خلفائے راشدین کی مختصر سوانح حیات بھی اس کتاب میں شامل ہے جنہوں نے امت مسلمہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں یہ کتاب اگرچہ مسلمان بچوں کے لیے مرتب کی گئی ہے لیکن بڑی عمر کے طلبہ و طالبات اور دیگر عقائد و مذاہب سے تعلق رکھنے والے شائقین مطالعہ بھی اس کے ذریعے سے اسلام کے بارے میں مستند معلومات حاصل کر سکتے ہیں اس سے ان کے ذخیرہ علم مزید اضافہ ہوگا اس کتاب میں پیش کردہ معلومات زیادہ تر قران مجید کی ایات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مستند احادیث پر مبنی ہیں جب قران مجید کی کسی سورت کا حوالہ دیا گیا ہے تو اس میں سور? کا نام سور? نمبر اور ایت کا نمبر شمار بھی درج کیا گیا ہے

  • تھانہ کلچر کی تبدیلی اور آئی جی پنجاب کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    تھانہ کلچر کی تبدیلی اور آئی جی پنجاب کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سالوں پہلے ہر ضلع میں ایک ڈی آئی جی ،ایک ایس ایس پی ،ایک ایس پی ہیڈ کوارٹرز ہوا کرتے تھے آبادی کم تھی جرائم کم ہوا کرتے تھے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر ضلع میں پولیس افسران کی تعداد میں اضافہ ہو گیا جرائم بڑھ گئے ۔ منشیات فروش ،جگہ جگہ جوئے کے اڈے ،لینڈ مافیا کی اکثریت اپنے آپ کو مخیر حضرات کہلوانے لگی ۔ منشیات فروش اور جوئے کے اڈوں کی پشت پناہی نام نہاد سیاسی اور بعض پولیس کے افسران کرنے لگے ۔ افغان جہاد کے بدلے پاکستان میں کلاشنکوف بڑے بڑے شہروں میں پھیلائی گئی ہیروئن کا زہر نوجوانوں میں پھیلنے لگا۔دیکھتے ہی د یکھتے کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ مخیر حضرات ، سیاسی رہنمائوں ، دولت مندوں اور دیگر افراد نے اپنے ساتھ بڑی گاڑیاں اور مسلح افراد رکھنا شروع کردئیے ۔ شادی ،جنازوں میں اپنے ساتھ مسلح کلاشنکوف رکھنا ایک کلچر کا روپ اختیار کرگیا ۔حکومتوں کی لاپرواہی اور مہنگائی بے روزگاری نے چوریوں اور ڈکیتیوں میں اضافہ کردیا ۔ پولیس افسران سفارش پر تعینات ہونے لگے ۔ عام آدمی کی شنوائی نہ سرکار میں رہی اور نہ ہی دربار میں رہی ۔

    راولپنڈی سمیت پنجاب میں ایسے ایسے افسران گزرے جنہوں نے عام آدمی کی فریاد سننے کے لئے اپنے دفاتر کھلے رکھے ۔ ایسے بھی گزرے جنہوں نے عام آدمی سے ملنا گوارہ نہیں کیا ۔راولپنڈی میں رائو محمد اقبال ریٹائر ڈی آئی جی ۔ ناصر خان درانی (مرحوم) فخر سلطان راجہ موجودہ ایڈیشنل آئی جی کے پی کے ۔ احسن یونس موجودہ انچارج سیف سٹی پنجاب پولیس لاہور۔ اسرار عباسی موجودہ ڈی آئی جی ایف آئی اے ۔ جو راولپنڈی میں عام آدمی کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں تھے ۔۔ اسی طرح بہت سے دوسرے افسران ایسے ایسے راولپنڈی میں تعینات رہے جو عام آدمی کی فریاد خود سنتے تھے ۔اسی طرح پنجاب میں ایسے ایسے آئی جی تعینات رہے جنہوں نے پولیس ملازمین کے ساتھ ساتھ تھانہ کلچر تبدیل کیا .

    آج موجودہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس شہداء ، غازی اور نچلے درجے کے ملازمین کے ساتھ تھانہ کلچر تبدیل کردیا۔ تھانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آراستہ کیا ۔ آئی جی پنجاب نے ملاقات میں بتایا تھا کہ آج جو کچھ پنجاب پولیس شہداء ، غازیوں ،نچلے درجے کے ملازمین کے جو کچھ کر رہا ہوں اس کے لئے میری ٹیم کا کردار تو ہے ہی لیکن سب سے بڑا کردار احسن یونس ہیں ۔ راولپنڈی میں تعینات موجودہ سی پی او اور آر پی او کو آئی جی پنجاب نے نئے تھانے جدید آلات ، جدید ٹیکنالوجی فراہم کردی ہے۔ عام آدمی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھیں ۔ سالوں سے تعینات ایسے پولیس افسران جو بار بار راولپنڈی میں ہی سفارشی تعینات ہونے میں اپنی بقا سمجھتے ہیں اُن پر نظر رکھیں ۔ اہل اقتدار سفارشی تعیناتی سے باز رہیں ۔ پولیس افسران سیاسی آقائوں کی خدمت داری حکم بجا آوری میں ہمہ تن مصروف نہ رہیں ۔ عام آدمی کا سٹیٹ پر اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کریں۔ راولپنڈی حساس ترین شہر ہے یہاں ہمارے قومی سلامتی کے ادارے موجود ہیں ۔ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی فریضہ ادا کریں ۔ جہاں عوام الناس کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے وہاں پر جرائم سے پاک معاشرہ قائم رہتا ہے۔

  • عام انتخابات،موروثی سیاست،اپنے ہی امیدوار

    عام انتخابات،موروثی سیاست،اپنے ہی امیدوار

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا، باپ بیٹا امیدوار،تو کہیں دو دو بھائی امیدوار، کئی پارٹیوں نے کارکنان کی بجائے اپنے ہی خاندان میں ٹکٹ بانٹ دیئے،

    مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف، موروثی سیاست سبھی میں دیکھنے میں آئی ہے، موروثی سیاست یا قیادت پاکستان کے بڑے خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے نچلے طبقوں میں بھی موجود ہے، ایک طرف پارٹی میں موروثی سیاست ، تو وہیں ایوان میں جانے کے لئے بھی پارٹی لیڈروں کو اپنی ہی اولاد اور رشتے دار یاد آتے ہیں،وزارتیں چاہئے ہوں،تو بھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنوں کو ہی نوازیں، مذہبی جماعتیں بھی موروثی سیاست میں کسی سے پیچھے نہیں، حالیہ الیکشن جو 8 فروری کو ہو رہے ہیں اس میں ایسے کئی ٹکٹ تقسیم ہوئے اور امیدوار سامنے آئے جس پر پاکستان میں موروثی سیاست پر مہر ثبت ہو گئی.

    الیکشن میں بڑے سیاسی رہنماؤں نے اپنی اولاد،اور رشتے داروں‌کو میدان میں اتارا ہے، مسلم لیگ ن کی مثال لیں تو نواز شریف الیکشن لڑ رہے ہیں تو وہیں مریم نواز بھی میدان میں ہیں، شہباز شریف الیکشن لڑ رہے ہیں تو حمزہ شہباز بھی امیدوار ہیں، وزیراعظم بنے نواز شریف تو شہباز شریف وزیراعلیٰ بن گئے، شہباز شریف وزیراعظم بنے تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بن گئے، اب الیکشن میں بھی یہی صورتحال ہے، پیپلز پارٹی کو دیکھ لیں، آصف زرداری امیدوار ہیں تو بلاول بھی لاڑکانہ لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں، البتہ آصفہ کو ابھی تک آصف زرداری نےانتخابی سیاست سے دور رکھا ہے،یوسف رضا گیلانی امیدوار ہیں تو انکے بیٹے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں، تحریک انصاف کی مثال لیں تو عمران خان سزا کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑ سکے تاہم شاہ محمود قریشی نے بیٹے اور بیٹی کو امیدوار بنایا، پرویز الہیٰ نے اہلیہ اور بیٹے مونس الہیٰ کو امیدوار بنا دیااگرچہ انکے کاغذات مسترد ہو چکے ہیں،جے یو آئی کو دیکھ لیں، مولانا فضل الرحمان امیدوار ہیں تو وہیں انکے بیٹے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں جو پی ڈی ایم حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کو لے لیں تو ایک ہی گھر سے تین امیدوار سامنے ہیں، حافظ محمد مسعود قومی اسمبلی سے الیکشن لڑ رہے ہیں تو وہیں حافظ طلحہ سعید بھی امیدوار ہیں، حافظ خالد ولید بھی لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹوں‌پر امیدوار ہیں، پاکستان میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی ایسی جماعتیں ہیں جن میں موروثیت دیکھنے میں نہیں آئی، اسکے علاوہ باقی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں میں یہ اثر دیکھنے میں آیا، تحریک لبیک کو دیکھ لیں علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد بیٹے حافظ سعد رضوی امیر بن گئے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صحافی ماجد نظامی کہتے ہیں کہ "پنجاب میں مسلم لیگ ن نے عام انتخابات میں جن نوجوانوں کو پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا ہے۔ ان سب کا پرانے سیاسی گھرانوں سے تعلق ہے اور موروثی سیاست کی وجہ سے انہیں ٹکٹس دی گئی ہیں۔ اگر اس قدم کو یوتھ ایمپاورمنٹ کا نام دیا جائے گا تو سخت نا انصافی ہو گی:
    راجہ اسامہ سرور: سابق وزیر راجہ اشفاق سرور کے بیٹے
    رانا احمد عتیق: سابق ایم این اے رانا افضال کے بیٹے
    عمار لغاری: سابق وزیر اویس لغاری کے بیٹے
    عثمان اویسی: سابق ایم این اے نجیب اویسی کے بیٹے
    شہر بانو بخاری: سابق ایم این اے باسط بخاری کی بیٹی

    ن لیگ کے رہنما، سابق وفاقی وزیر جاوید لطیف بھی موروثی سیاست کو فروغ دینے لگے،لگے ہاتھوں صوبائی اسمبلی کے لیے اپنا بھائی امیدوار بنا لیا، امجد لطیف کو ن لیگ نے ٹکٹ جاری کر دیا،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

  • فنڈ ریزنگ اسکینڈل اور جاپان کا سیاسی منظر نامہ

    فنڈ ریزنگ اسکینڈل اور جاپان کا سیاسی منظر نامہ

    جاپان کے سیاسی منظر نامے کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب استغاثہ نے تحقیقات شروع کیں کہ آیا متعدد قانون سازوں کو چندہ جمع کرنے میں‌ غیر ظاہر شدہ فنڈز موصول ہوئے ہیں جن کی رقم لاکھوں ڈالر ہے جو کہ پارٹی کے سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں ، جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدہ اس کے اثرات سے دوچار ہیں جسے ان کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو دہائیوں میں نشانہ بنانے کے لیے سب سے اہم مالیاتی سکینڈلز میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔

    اس اسکینڈل کی وجہ سے پہلے ہی کابینہ کے کئی وزراء مستعفی ہو چکے ہیں، جس سے جاپانی وزیراعظم کی انتظامیہ کے لیے عوامی حمایت میں زبردست کمی آئی ہے، جو اب 20% کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اکتوبر 2021 میں جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدہ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یہ حمایت کی سب سے نچلی سطح ہے، جس نے ان کی قیادت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور ان کی حکومت کو انتشار میں ڈال دیا ہے،

    میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ تقریباً 500 ملین ین ($3.52 ملین) غائب فنڈز پچھلے پانچ سالوں میں کئی درجن قانون سازوں کو منتقل کیے گئے، جن میں اعلیٰ عہدے دار بھی شامل ہیں۔ یہ الزامات پہلی بار ایک سال قبل حزب اختلاف کی جاپانی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ ایک اخبار کی رپورٹ میں سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد، ایک ماہر تعلیم نے اس رپورٹ کی بنیاد پر ٹوکیو ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز آفس میں متعدد مجرمانہ شکایات درج کرائیں۔ [رائٹرز]

    جاپان میں سیاسی اسکینڈل حکمران جماعت کے منظر نامے کو نئی شکل دینے کے لیے تیار ہے، خاص طور پر اس دھڑے کو متاثر کرتا ہے جس نے تاریخی طور پر کافی مالیاتی محرک کی حمایت کی ہے۔ یہ پیشرفت بینک آف جاپان کے لیے کئی دہائیوں کی انتہائی کم شرح سود سے باہر نکلنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

    بحران کا جواب دیتے ہوئے، جاپانی وزیر اعظم کشیدا نے اپنی کابینہ کو از سر نو بنانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا، جس کا مقصد فنڈ ریزنگ اسکینڈل سے ہونے والے نقصان کو کم کرنا اور اپنی پریشان انتظامیہ کے لیے عوامی حمایت کو بحال کرنا ہے۔ جاپان میں جاری بحران جاپانی وزیراعظم کے پالیسی ایجنڈے کے لیے بھی خطرہ ہے، جو ووٹروں کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے بنائے گئے اقدامات کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے دفاعی توسیع کے منصوبوں میں رکاوٹ ہے۔

    اہم سوال اب باقی ہے: کیا فومیو کیشیدا اس بحران کا مقابلہ کر سکیں گے، یا بڑھتا ہوا دباؤ انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دے گا، قوم کو نئی قیادت کی تلاش میں چھوڑ دے گا؟ سامنے آنے والے واقعات بلاشبہ جاپان کے سیاسی منظر نامے کے مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے

  • تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : خواتین کے امتیازی مسائل
    نام مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    صفحات : 241
    قیمت : 1075روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    زیر نظر کتاب” خواتین کے امتیازی مسائل “یہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے ۔اپنے مضامین کے اعتبار سے یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ اسلئے کہ معاشرے کی تعمیر اور اصلاح میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے ۔ خواتین کی تربیت صحیح ہوگی تو فرد اور معاشرہ درست بنیادوں پر استوار ہوگا ۔اسلام نے خواتین کی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں ہماری ہر پہلو سے رہنمائی کی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات سے بے بہرہ ہوچکے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گذشتہ تین چار سالوں سے ” عورت مارچ “ کے نام پر طوفان بدتمیزی برپاکیا جارہا ہے ۔ اس موقع پر ایسے ایسے نعرے لگائے جاتے اور پوسٹر لہرائے جاتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ان حالات میں ” دارالسلام “انٹرنیشنل نے اسلام کی عفت ماٰ ب ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کےلئے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ ” خواتین کے امتیازی مسائل “ کا دوسرا ایڈیشن شائع کیاجائے ۔یہ کتاب معروف عالم دین ، مفسر قرآن اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق ممبر حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تالیف ہے ۔ یہ کتاب حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کے خواتین کے مسائل کے متعلق مختلف اوقات میں تحریر کیے گئے علمی اور تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے ہر مضمون کی اپنی اہمیت ہے جو کہ لائق مطالعہ ہے ۔ مثلاََ ”عورت کی سربراہی کا مسئلہ “ یہ مضامین اس وقت تحریر کئے گئے تھے جب بے نظیر پہلی دفعہ پاکستان کی وزیراعظم بنیں ۔اسی طرح جنرل ضیاءالحق کے دور میں جب حدود و قصاص کا آرڈیننس نافذ کیا گیا جس میں شریعت کے عین مطابق عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی کے مقابلے میں نصف قرار دیا گیا تو مغرب زدہ طبقے نے اس کے خلاف بہت شور مچایا اور اسے عورت کی توہین قرار دیا یہاں تک کہ اس آرڈیننس کو شرعی عدالت میں چیلنج کر دیاگیا ۔ اس وقت شرعی عدالت کی درخواست پر محترم حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے ایک مفصل مقالہ تحریر کیاتھا اس کا ایک حصہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ 1976 ءمیں مسٹر بھٹو کے دور حکومت میں قائم کردہ ایک خواتین کمیشن کی تجاویز پر تبصرہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ اسی طرح پرویز مشرف کے دور میں حدود آرڈیننس کا تیاپانچہ کر کے جو تحفظ حقوق نسواں ایکٹ نافذ کیا گیا اس کی حقیقت بھی کتاب میں واضح کی گئی ہے۔ امریکہ میں وقوع پذیر ہونے والے فتنہ امامت ِ زن پر بھی تبصرہ ہے جو اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ مغربی استعمار کی سازشوں کے نتیجے میں ظہور میں آیا ہے۔

    علاوہ ازیں کتاب میں درج ذیل موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے : اسلام میں عورت کا مقام ، عورت کے شرف وتحفظ کےلئے اسلام کی تعلیمات ،شادی سے قبل اور شادی کے بعد عورت کا مقام ومرتبہ ، عورت اور مرد کا دائرہ کار ، معاشی کفالت کا ذمہ دار کون ۔۔۔۔مرد یا عورت ؟ عورت کےلئے پردے کا حکم ، وراثت میں عورت کا حصہ ، مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت کیوں ۔۔۔۔؟ مرد کا حق ِ طلاق اور اس کی حکمتیں ، مسئلہ شہادت ِ نسواں ، عورت خانگی امور اور پرورش ِ اولاد کی ذمہ دار ، تربیت اولاد میں عورت کا کردار ، عورت کےلئے پردے کے احکام وآداب ، بے پردگی کی مختلف شکلیں ، شادی بیاہ میں ویڈیو اور حسن وجمال کی نمائش کی وبا ، کن کن لوگوں سے پردہ ضروری ہے ۔۔۔۔؟ مثالی مسلمان عورت کی صفات ، عورت کےلئے کرنے والے اہم کام ، وہ کام جن سے اجتناب کرنا عورت کےلئے ضروری ہے ، عورت اور تعلیم ، لاکھوں بے روزگار مردوں کی موجودگی میں عورت کی ملازمت کا کوئی جواز نہیں ہے ، خاوند کی ناشکری ایک بڑاجرم اور اس کا نبوی حل ، رہن سہن میں نازونعمت کی بجائے تواضع اور سادگی پسندیدہ عمل ہے ۔۔۔۔” قوم کی نصف آبادی بیکار “ کا نعرہ ۔۔۔۔افسانہ ہے یا حقیقت ۔۔۔۔۔؟ عورت اور سیاست ، مسلمان خواتین کے حل طلب ضروری مسائل کی ایک فہرست ، اسلام میں عورت کی سربراہی کا تصور ، جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کردار سے عورت کی سربراہی کا استدلال ۔۔۔۔! قرآن کریم میں ملکہ بلقیس کے ذکر سے استدلال ، قرآن کریم میں عورت کی سربراہی کے عدم جواز کے دلائل ، بعض مسلمان عورتوں کی حکمرانی کی حقیقت ، غزوات میں عورتوں کی سربراہی کی حقیقت ! عورت اقبال کی نظر میں ، عورت کی عفت وپاکیزگی کا مفہوم ، عورت اور مسئلہ ولایت ِ نکاح ، مرد کےلئے تعدد ازدواج اور اس کی حکمتیں ، عورت بیک وقت ایک سے زیادہ نکاح کیوں نہیں کرسکتی ۔۔۔۔؟ عورت کو اللہ تعالیٰ نے طلاق کا حق کیوں نہیں دیا ۔۔۔۔؟ عورت کا حق خلع اور اس کے مسائل ، عورت کا مسئلہ شہادت ، مرد کے مقابلے میں عورت کا نصف حصہ ِ وراثت کیوں ۔۔۔۔۔؟ مرد اور عورت کی نماز کا فرق ، مطلقہ کےلئے نان ونفقہ ۔۔۔۔؟ تربیت اطفال کے ادارے ،عورت کے حقوق کا تحفظ اسلامی تعلیمات کے ذریعے ہی ممکن ہے ، قانون الہیٰ سے انحراف سراسر تباہی کا راستہ ہے ، خاندانی نظام کی تباہی ، بن بیاہی ( کنواری ماﺅں ) کا طوفان ۔۔۔۔ ان جیسے دیگر موضوعات کو کتاب میں زیر بحث بناگیا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اپنے موضوع پر یہ نہایت ہی شاندار اور لاجواب کتاب ہے ۔یہ کتاب ہر گھراور ہرفرد کی ضرورت ہے ۔۔۔ہماری ہر قابل احترام ماں ، بہن یا بیٹی سب کےلئے اشد ضروری ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔ جو بہن بیٹی اس کتاب کا مطالعہ کرلے وہ زندگی کے کسی درجے کسی مرحلے اور عمر کی کسی بھی سطح پر کسی بھی معاشی یا معاشرتی پریشانی کا شکار نہیں ہوگی ان شاءاللہ ۔

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات