Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آٹھ فروری،فیصلہ کرے گی عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آٹھ فروری،فیصلہ کرے گی عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    آیئے آپ کا انتظار تھا۔ 8 فروری بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور عوام کے پاس سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ امیدوار دوبارہ ووٹ لینے کی غرض سے حاضر ہوں گے۔ کون کرے گا وزیراعظم ہائوس پر قبضہ، کون سی سیاسی جماعت عام آدمی کے مسائل اور ریاستی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی؟ یہ بات تو طے ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی ۔ موجودہ 8 فروری کے الیکشن صرف الیکشن نہیں ہیں ملکی اور قوم کے لاتعداد مسائل کے ساتھ جمہوری نظام کی بقا کے ساتھ ساتھ عالمی معاملات میں ملکی قیادت کا بھی معاملہ ہے کون کرے گا قیادت؟ یہ فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔ ملکی معیشت کا جو حال ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ملک کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ کس سیاسی جماعت پر بھروسہ کیا جائے جو مسائل میں ڈوبی ریاست کو اندھیروں میں ڈوبی عوام کو روشنیوں کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ملک کی تمام سیاسی جماعتیں 8 فروری کا انتظار کر رہی ہیں اور عوام بھی۔ امید ہے عوام لینڈ مافیا، کرپٹ، جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرنے والے تکبر اور غرور کی حدوں کو کراس کرنے والوں، سیاسی جماعتوں کے فنانسروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ قومی قیادت کس کے سپرد کرنی ہے ایسی قیادت کا فیصلہ نہ کرنا جو دیوان خانوں تک محدود ہو یا اقتدار کی چوکھٹ پر بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹے اور عوام اندھیروں میں ہی ڈوبے رہیں۔ قیادت کے ذریعے ہی تبدیلی ممکن ہوا کرتی ہے اعلیٰ قیادت کا انتخاب ہی تبدیلی لاسکتا ہے باقی سب فریب ہے۔

  • بنگلہ دیش میں انتخابات اور کشیدگی

    بنگلہ دیش میں انتخابات اور کشیدگی

    بنگلہ دیش میں 2024 کے انتخابات کے دوران، دارالحکومت ڈھاکہ سمیت دیگر مقامات پر 14 پولنگ سٹیشن کو آگ لگائی گئی ،جس سے انتخابی عمل بارے خدشات بڑھ گئے ہیں، ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے صرف ایک دن قبل بنگلہ دیش میں ہنگامے پھوٹ پڑے،جس سے کشیدگی اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہوئی،”بی بی سی”

    مقامی میڈیا کی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوب مشرقی شہر چٹاگانگ میں بدھ مت کے ایک مندر کو جان بوجھ کر نذر آتش کیا گیا ،الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں حکمران جماعت عوامی لیگ سے وابستہ ایک مقامی پارٹی کے دفتر پر حملے کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان واقعات کے ردعمل میں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔ عوامی لیگ نے فوری طور پر بی این پی پر انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا.

    بنگلہ دیش میں انتخابات کی وجہ سے تمام نظریں شیخ حسینہ پر ہیں جو پانچویں بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنےکے لئے تیار ہیں،بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کے لیے بھارت کی حمایت کو تسلیم کیا اور اظہار تشکر کیا، خاص طور پر 1971 میں "لبریشن وار” کے دوران بھارت کی مدد کا حوالہ دیا۔تاہم انتخابی عمل کے منصفانہ ہونے کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ بی این پی کو اپنے ارکان کی گرفتاری کی وجہ سے اہم چیلنجز کا سامنا ہے، اور عوامی لیگ نے حکمت عملی کے ساتھ بعض حلقوں میں امیدوار کھڑے نہ کئے، بظاہر ایک ایسا اقدام جس کا مقصد ایک جماعتی پارلیمنٹ کی تشکیل سے بچنا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے کمزور ہونے کی وجہ سے شیخ حسینہ کے پاس فتح کا راستہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔

    بنگلہ دیش کے انتخابات میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ایسے انتخابات کو منصفانہ قرار دیاجا سکتا ہے جن میں برابری کا میدان نہ ہو؟ یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں حکومت کو بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اپوزیشن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے الزامات کا سامنا ہے۔ جیسے جیسے قوم انتخابات کے قریب آتی ہے، انتخابی عمل کی سالمیت کے حوالہ سے خدشات برقرار رہتے ہیں، جو آنے والے انتخابات کی حقیقی جمہوری نوعیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں۔

  • انتخابات اور عالمی منظر نامہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتخابات اور عالمی منظر نامہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔ پوری دنیا کا ووٹر انتخابات کا منتظر ہے جبکہ پوری دنیا کی معیشت پر گزشتہ سال جو اثرات پڑے ہیں ایک کرونا دوسرا روس ہیو کرائن جنگ جبکہ تیسرا اسرائیل غزہ جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ دنیا کا ووٹرز منتظر ہے کہ شاید موجودہ سال کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے سیاستدان معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ دنیا بھر کا ووٹر مہنگائی کی زد میں ہے ۔ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا انتخاب امریکہ کا ہوگا 81 سالہ بائیڈن دوبارہ صدارتی انتخابات کا امیدوار ہے جبکہ روس صدر پوتن بھی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں پوتن مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ ، میکسیکو ، انڈونیشیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس طرح 2024 کو انتخابات کا سال قرار دیا جا سکتا ہے اور سیاست کے ساتھ معیشت مستحکم کرنے کا سال بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے موجودہ انتخابات نہ صرف سیاست بلکہ بین الاقوامی تعلقات عالمی اقتصادی اور مالیاتی منظر نامے کو بھی تبدیل کریں گے۔

    پاکستان کی وزارت عظمی حاصل کرنے کے لئے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی دونوں شامل ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی اور مذہبی جماعتیں بھی اس دوڑ میں شامل تو ہیں مگر 8 فروری کے انتخابات میں عوام جو مہنگائی اور دیگر مسائل میں مبتلا ہیں کس جماعت کو اکثریت میں کامیاب کریں گے۔آصف علی زرداری سیاسی شطرنج کھیلنے کے لئے تو ماہر ہیں مگر پنجاب میں شاید وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ پنجاب میں اب (ن) لیگ ہی نہیں پی ٹی آئی کا ووٹر بھی موجود ہے ۔ بظاہر کوئی بھی سیاسی جماعت ملک بھرمیں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی ۔ مذہبی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔

    تادم تحریر ملک مالیاتی بحران کا شکار ہے دوسرے کئی مسائل کے گرداب میں پھنسا ہے۔کیا بلاول بھٹو یا نواز شریف ان مشکل ترین حالات جن میں پاکستان او رعوام پھنسے ہیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ مسلم لیگ(ن) کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کے انتخابات جیتنے اور وزیراعظم بننے کے امکانات قوی ہیں۔ کیا نواز شریف اندھیروں میں ڈوبے پاکستان اور عوام کو روشنیوں کی جانب لے جانے میں ایک بار پھر کامیاب ہو جائیں گے اگر ایسا ہے توپھر ویلکم ٹو نواز شریف2024

  • سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    اگر آپ کا بچہ سنتا ہے، بولتا نہیں ہے تو گھبرائیے مت، اللہ پر امید رکھیں، دعا کریں، بچے کے ٹیسٹ کروائیں، اور کوکلیئر امپلانٹ کروا لیں، جس سے بچہ نہ صرف سننے لگے گا بلکہ بولنے بھی لگے گا اور عام بچوں کی طرح زندگی بسر کرے گا

    سماعت کا نہ ہونا، ایک معذوری، والدین پریشان ہو جاتے ہیں، چند برس تک اس کا کوئی علاج نہیں تھا، اب سائنس نے ترقی کی تو سماعت کے نہ ہونے کا ایسا علاج آ گیا جو مہنگا تو ہے تا ہم کامیاب ترین علاج ہے،پاکستان میں سینکڑوں بچے علاج کروا چکے اور اب نارمل زندگی گزار رہے ہیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، کراچی میں ایسے کئی ہسپتال ہیں جہاں آپریشن کیا جاتا ہے اور اس کے بعد بچوں کی زندگی نارمل ہو جاتی

    سماعت سے محروم بچوں کا علاج کیسے؟
    سماعت سے محروم بچوں کے علاج کو "کوکلیر امپلانٹ” کہتے ہیں، اگر کسی بچے کی سماعت نہیں ہے تو سب سے پہلے اس کو آلہ سماعت کم از کم تین ماہ تک باقاعدگی سے لگوائے جاتے ہیں، آلہ سماعت سے بچہ نہ سنے تو پھر ڈاکٹر کوکلیر امپلانٹ کا کہتے ہیں، کوکلیر امپلانٹ ایک ایسا آپریشن ہے جس میں بچے کے سر میں کان کے پیچھے ایک ڈیوائس لگائی جاتی ہے، ایک ڈیوائس اس کے اوپر، یعنی باہر والی طرف لگائی جاتی ہے، اس آپریشن کے بعد بچہ سننے لگ جاتا ہے، کوکلیر امپلانٹ کاپاکستان میں خرچہ لاکھوں میں ہے، بلکہ اس وقت 25 سے تیس لاکھ ایک اندازے کے مطابق ایک آپریشن کا خرچ آتا ہے کیونکہ اس آپریشن کے دوران جو ڈیوائس بچے کو لگائی جاتی ہے وہ کافی مہنگی ہے.

    کوکلیر امپلانٹ
    سماعت کے قابل بنانے والے آلے کوکلیئر امپلانٹ کے ذریعے سماعت سے محروم بچے ہر آواز سے روشناس ہو سکتے ہیں اور ایسے بچے جو دونوں کانوں سے سن نہیں سکتے اور ہئیرنگ ایڈز بھی ان کے لیے مؤثر نہیں ہوتے وہ کوکلیئر امپلانٹ کی بدولت نارمل زندگی گزار سکتے ہیں،کوکلیئر امپلانٹ جدید آلہ ہے اور اگر کوئی بالکل بہرا بھی ہو جائے تو اس کی مدد سے وہ سن سکتا ہے، یہ کان کے اندر لگتا ہے اور ایک پیچیدہ آپریشن کے زریعے بچے کو سماعت کے قابل بنایا جاتا ہے۔ یہ آلہ صرف امریکہ، اسٹریلیا اور آسٹریا ہی بنا رہے ہیں

    سپیچ تھراپی
    کوکلیر امپلانٹ آپریشن کے بعد بچے کو سپیچ تھراپسٹ سے سپیچ کروانا پڑتی ہے، سپیچ کے بعد بچہ سننے اور پھر بولنے لگ جاتا ہے، کوکلیر امپلانٹ آپریشن کےبعد سپیچ تھراپی بہت ضروری ہے، اگر آپریشن کے بعد سپیچ نہ کروائی گئی تو یوں سمجھیں آپریشن کا مقصد فوت ہو گیا، سپیچ تھراپی کے ساتھ ساتھ بچے کو والدین کی توجہ کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے، والدین کو بھی چاہئے کہ آپریشن کے بعد بچے سے زیادہ سے زیادہ باتیں کریں.

    بچے کی عمر 5 برس سے کم
    کوکلیر امپلانٹ، پانچ برس سے کم عمر بچوں کا ہوتا ہے، اگر بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو ڈاکٹر آپریشن نہیں کرتے، اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد کا کہنا ہے کہ ” پانچ سال سے بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو آپریشن کامیاب نہیں ہوتا، اس صورت میں زیادہ عمر کے افراد کا آپریشن ہو سکتا ہے اگر سماعت پیدائشی طور پر ہو بعد میں بیماری یا حادثے کی صورت میں سماعت ختم ہوئی ہو”

    بحریہ ٹاؤن نے بھی لاہور کے ہسپتال میں کوکلیر امپلانٹ شروع کئے تھے جو پہلے مفت کئے گئے، پھر والدین سے بھی قیمت وصول کرنا شروع کر دی گئی،اب اگر والدین قیمتا علاج کروانا چاہتے ہیں تو بحریہ ٹاؤن لاہور ہسپتال میں ہو سکتا ہے،

    اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں بھی کوکلیر امپلانٹ کا آپریشن کیا جاتا ہے، ڈاکٹر جواد احمد ایسے بچوں کا آپریشن کرتے ہیں، سی ڈی اے میں حکومت پاکستان کے تعاون سے سینکڑوں بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جا چکے ہیں، نواز شریف کے سابقہ دور حکومت میں سماعت سے محروم بچوں کے لئے حکومت نے فنڈ دینا شروع کیا تھاجو ڈائریکٹ وزیراعظم ہاؤس سے منظور ہوتا تھا تا ہم عمران خان کی حکومت آنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے فنڈز ختم کر دیئے گئے اور یہ پروجیکٹ بیت المال منتقل کر دیا گیا، بیت المال کے تعاون سے آپریشن اب بھی جاری ہیں تا ہم اسکے لئے کافی تگ و د و کرنی پڑتی ہے کیونکہ بچے زیادہ ہیں، اور پیسے کم ہیں.

    لاہور میں گلبر گ میں ڈاکٹر ندیم مختار بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کرتے ہیں، ڈاکٹر ندیم مختار کا کلینگ گلبرگ میں حجاز ہسپتال کے سامنے ہے، قیمتا والدین یہاں سے بھی بچوں کا آپریشن کروا سکتے ہیں.

    لاہور کے گھرکی ہسپتال، چلڈرن ہسپتال سے بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کروایا جا سکتا ہے

    کراچی سے آغا خان ہسپتال، انڈس ہسپتال سے سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کروایا جا سکتا ہے،

    پاک فوج بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کر رہی ہے، اگر بچے کے والدین فورسز میں ہیں تو انہیں اپنے بچے کا پاک فوج کے ہسپتال سے ہی آپریشن کروایا جانا چاہئے جو پنڈی سے ہوتا ہے،پاک فوج کے ہسپتال میں پہلا کوکلیر ایمپلانٹ ایک سپاہی کو 2017 میں نصب کیا گیا تھا اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر اس اہم طبی سہولت کا دائرہ پیدائشی طور پر سماعت سے محروم بچوں تک بڑھایا گیا اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا کہ 200 واں کامیاب کوکلیر ایمپلانٹ آرمی میڈیکل کور کی زبردست کارکردگی ہے،

    سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹرجواد احمد نے خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے ہسپتال پاکستان بھر کا وہ پہلا سرکاری ہسپتال ہے جس میں مستحق افراد کے لیے یہ انتہائی مہنگی سرجری بالکل مفت کی جا رہی ہے، کیپیٹل اسپتال میں آڈیٹری امپلانٹ کا شعبہ 2016 میں قائم ہوا تھا اور اس میں اب تک سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا آپریشن کیا جا چکا ہے،

    ڈاکٹر جواد احمد
    ڈاکٹر جواد احمد

    کوکلیر امپلانٹ، جو کہ مہنگا ترین علاج ہے کے لئے، حکومت کی جانب سے یہ سہولت وفاقی ملازمین یا نادار افراد کے لیے فراہم کی جا رہی ہے جس کے لیے سرجن، ای این ٹی اسپیشلسٹ، سپیچ تھیرپسٹس اور آڈیولوجسٹس پر مشتمل ایک ٹیم مریض کا معائنہ اور ٹیسٹ کرتی ہے جس کے بعد اس کی سرجری کی جاتی ہے،ڈاکٹر جواد نے بتایا کہ پیدائش کے بعد دو سال تک بچے کے دماغ میں اسپیچ سینٹر تیار ہو جاتا ہے اگر بچہ سن نہیں رہا تو اس کا اسپیچ سنٹر تیار نہیں ہو گا، جس کے بعد وہ پوری زندگی نہ تو سن سکے گا اور نہ ہی بول سکے گا، اس لیے پہلے دو سال میں یہ تشخیص کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ آیا بچہ سن رہا ہے یا نہیں۔

    سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنے والے ڈاکٹر جواد احمد کیا کہتے ہیں؟
    ڈاکٹر جواد احمدنے بتایا کہ” بہرے پن کے مریضوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک تو وہ جو پیدائشی طور پر سماعت سے محروم ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی بھی نہ تو سنا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بول سکتے ہیں اگر ایک سے تین سال کی عمر تک یہ تشخیص ہو جائے کہ بچہ سن نہیں رہا اور اس کے سننے کا نظام کام نہیں کر رہا تو اس کے اندرونی کان میں سرجری کے ذریعے کاکلیہ یا وہ الیکٹرانک آلہ امپلانٹ کر دیا جاتا ہے جو کان کے اندرونی پردے سے آواز کو دماغ کے سمعی مرکز تک پہنچاتا ہے، اس کی مدد سے سماعت سے مستقل طور پر محروم افراد سننے کے قابل ہو جاتے ہیں،دوسری قسم ان افراد کی ہے جو پیدائشی طور پر سن تو نہیں سکتے لیکن وہ والدین یا سپیچ تھیرپسٹس کی مدد سے آوازیں نکالنا سیکھ جاتے ہیں، انہیں عام طور پر پندرہ سال سے قبل سرجری کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے،تیسرے گروپ میں وہ افراد آتے ہیں جو نارمل پیدا ہوتے ہیں اور ٹھیک طرح بول اور سن سکتے ہیں، لیکن کسی وجہ سے ان کی سماعت چلی جاتی ہے ایسے لوگوں کو بھی سرجری کے ذریعے دوبارہ سننے کے قابل بنایا جا سکتا ہے اور اس میں عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی، کسی بھی عمر کے مریض کی یہ سر جری کی جا سکتی ہے،وہ ہر عمر کے مریضوں کی سرجری کر چکے ہیں لیکن سرجری کے لیے بہترین عمر تین سال ہوتی ہے”

    سرکاری سطح پر سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کب شروع ہوا
    حکومت پاکستان کی جانب سے کوکلیر امپلانٹ کیسے شروع کیا گیا تھا؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے،گیارہ جنوری2017ء کو اسلام آباد کے سکولوں کو بسیں فراہم کرنے کی تقریب تھی، تقریب میں اسوقت کے وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز بھی موجود تھے، تقریب میں ایک بچی بھی تھی جس کا نام ندا خان تھا،بچی نواز شریف کو ملی، مریم نواز نے بھی بچی کو اٹھایا ،پیار کیا،انکو بتایا گیا کہ بچی سن نہیں سکتی جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس کا علاج میں کرواؤں گا، نواز شریف کے ہی حکم پر اس بچی ندا کا اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں آپریشن کیا گیا جو کامیاب ہوا،بچی کا تعلق مردان سے تھا، کامیاب آپریشن کے بعد نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں بچی ندا خان ،اسکے والدین اور آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد سے ملاقات کی تھی

    nida khan

    بیت المال سے سماعت سے محروم بچوں کے آپریشن
    نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آئی، تحریک انصاف کی حکومت نے کوکلیر امپلانٹ کے فنڈز وزیراعظم ہاؤس سے بند کر دیئے اور بیت المال منتقل کر دیئے، جس کے بعد 22 نومبر 2019 کو بیت المال کے تعاون سے تحریک انصاف کی حکومت میں سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن ہوا.ملتان کے رہائشی 3 سالہ عبداللہ جان اور اسلام آباد کی رہائشی 3 سالہ کشف عمران کو پاکستان بیت المال کی جانب سے کاکلئیر امپلانٹ فراہم کردیئے گئے۔دونوں بچوں کا آپریشن سی ڈی اے ہسپتال میں کیا گیا جس کا مکمل خرچ پاکستان بیت المال نے برداشت کیا۔ اس وقت کے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بچے کے کان میں اذان دے کر کوکلئیر امپلانٹ کا افتتاح کیا۔ 3 سالہ عبداللہ جان اور کشف عمران نے جو اپنی زندگی میں پہلی آواز سنی وہ آذان کی آواز تھی۔

     cochlear implants of two children

    اب بھی بیت المال کے تعاون سے نادار افراد کے بچوں کے آپریشن ہو رہے ہیں تا ہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس کے لئے الگ سے فنڈ مختص کرے، کیونکہ بیت المال کے فنڈز کا انتظا ر کرتے کرتے بچوں کی عمر پانچ برس سے زیادہ ہو جاتی ہے

    مخیر حضرات کو بھی چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں آگے بڑھیں، سماعت سے محروم بچوں کی سماعت کی بحالی کے لئے کردار ادا کریں،

    نوٹ، اگر اس ضمن میں کوئی رائے، تجاویز ہو ں تو 03349755107 پر واٹس ایپ نمبر پر پیغام بھیجا جا سکتا ہے

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

  • تبصرہ کتب، جنوں اور شیطانوں کی دنیا،جادو کی حقیقت

    تبصرہ کتب، جنوں اور شیطانوں کی دنیا،جادو کی حقیقت

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا
    جادوکی حقیقت
    خطرات ،احتیاطی تدابیراورعلاج
    مصنف : غازی عزیز مبارک پوری
    صفحات : 392
    قیمت : 1000روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ،نزد ایکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    دارالسلام کی شائع کردہ پیش نظر کتاب” جنوں اور شیطانوں کی دنیا ، جادوکی حقیقت ، خطرات ، احتیاطی ، تدابیر اور علاج “ ایک انتہائی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ برصغیر میں جادو کا وجود ہمیشہ سے لوگوںکی توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ بنگال کا کالا جادو تو پوری دنیا میں آج بھی اپنا ایک امتیازی مقام رکھتا ہے ۔چونکہ پاکستان بھی ہندوستان کاحصہ رہاہے اس لئے یہاں بھی جادوکی تمام اقسام پائی جاتی ہیں ۔یہ جادو پہلے زیادہ تر غیر مسلم طبقہ تک ہی محدود تھا لیکن آج جادو کی وبا مسلم طبقہ میں بھی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے ۔ ہر روز مسلم گھرانوں میں کوئی نیا واقعہ ہوتا اورسننے میں آتا ہے۔ باہمی رشتے داریاں اعتماد اور قربت کی بجائے نفرت ، بغض اورعداوت میں بدلتی جارہی ہیں ۔ کوئی جادو کے زور پر کسی کا کاروبار بگاڑنے اور باندھنے کے در پے ہے تو کوئی باپ کو بیٹے سے متنفر کرنے کے لیے کوشاں ، کوئی شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافا ت پیدا کرنے کی فکر میں ہے ، تو کوئی خاندانی تنازعات کو بھڑکانے میں مصروف ہے اور ان تمام کاموں کو سر انجام دینے کے لیے شیطان نما عاملوں او رجادو گروں کی خدمات لینے میں قطعاََ کوئی تر دد نہیں کیاجاتا۔ ہمارے ملک میں بے حددکھ بھری اور افسوسناک صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ تہذیب و تمدن اوراخلاقیات سے عاری ننگ دھڑنگ، بے عمل اور بے دین لوگوں نے جگہ جگہ سادہ ، معصوم اور ضعیف العقیدہ لوگوں کو لوٹنے اور ان کے خون پسینے کی کمائی اینٹھنے کے لیے پھندے لگا رکھے ہیں ۔ لوگوں کو ان پھندوں میں پھنساکر نہ صرف ان کی جیبیں مختلف حیلوں بہانوں سے خالی کروائی جاتی ہیں بلکہ ان کی بہو بیٹیوں کی عصمت دری بھی کی جاتی ہے ۔

    ان حالات میں ایسی کتاب کی اشدضرورت تھی جو مسلمان گھرانوں کو جادو گروں، کا ہنوں اور جنات و شیاطین کے شرسے محفوظ فرمائے اورمعصوم لوگوں کو دھوکہ بازوں اور شعبدہ بازوں کے چنگل میں بھی پھنسنے سے بچائے۔زیرنظرکتاب ”جنوں اورشیطانوں کی دنیا،جادوکی حقیقت ،خطرات ،احتیاطی تدابیراورعلاج کتاب وسنت کی روشنی میں “ کے مصنف غازی عزیز مبارک پوری ہیں ان کاتعلق سرزمین ہندوستان سے ہے ۔انہوں نے زیرنظرکتاب عربی زبان میں لکھی تھی ۔کتاب کی عوام و خواص میں مقبولیت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب تقریباََ تمام عرب، بالخصوص خلیجی ، ممالک کے طول و عرض میں بکثرت تقسیم ہوئی اور صرف چار ماہ کی قلیل مدت میں اس کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا ۔عربی زبان میں کتاب کی اشاعت و تقسیم اور پذیر ائی کے بعد سے متعدد حلقوں کی طرف سے مسلسل اصرار تھا کہ اس کتاب کا اردو اورانگریزی زبانوں میں بھی ترجمہ کیاجائے تاکہ اردوداں طبقہ بھی اس سے مستفیدہوسکے ۔

    کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے : پہلا باب جادو کی حقیقت ، اس کا حکم اور اس کے خطرات پر مشتمل ہے ، دوسرا باب : جنوں اور شیاطین کے احوال اور خطرات کے تعارف سے متعلق ہے ، تیسرے باب میں جنوں اور شیطانوں سے مقابلہ کے لیے مومنین کے ہتھیار اور بعض احتیاطی تدابیر بیان کی گئی ہیں ، چوتھا باب جنوں کی آسیب زدگی اور جادو سے خلاصی ، بعض دیگر احتیاطی تدابیر اور ان عوارض کے علاج سے متعلق ہے اور پانچویں باب میں بر صغیر میں رائج جادو وغیرہ سے احتیاط اور علاج کے بعض غیر شرعی طریقوں پر بحث کی گئی ہے ۔کتاب کی تربیت میں واقعات اورحادیث کی صحت کا بھی خصوصی لحاظ رکھا گیا ہے ۔اس قابل قدر کتاب میں مولانا عزیز مبارکپوری نے جادو ‘ کہانت اور علمِ نجوم کی حرمت نیز اسلام میں ایسے افعال کے مرتکبین کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں احکامات پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ ایک مسلمان گھرانہ جنوںکی آسیب زدگی اور جادو کے اثرات سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے ؟ رشتے داریوں کوٹوٹنے بکھرنے سے کیسے بچایاجاسکتاہے ؟فاضل مﺅ لف نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ان تمام مسائل کے حل بتلانے کے ساتھ ساتھ بر صغیر میں رائج جادو اور آسیب وغیرہ سے بچاﺅ اور علاج کے بعض غیر شرعی طریقے بتلا کر نا م نہاد فقیروں پیروں اور شعبدہ بازوں کی حقیقت سے بھی پردہ اٹھایاہے۔

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • انتخابات ،کیا عوام کو ریلیف مل پائے گا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات ،کیا عوام کو ریلیف مل پائے گا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    الیکشن 8 فروری کو ہی ہونگے ۔ الیکشن نہ ہونے کی افو اہیں ،سیاسی جماعتیں اور وہ سیاستدان کرر ہے ہیں جو اس کارکردگی سے مایوس ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کے بعد ملک کی موجودہ شکل صورت تبدیل ہوگی ؟کیا معیشت مستحکم ہوگی ؟ کیا روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ کیا زراعت پربھرپور توجہ د ی جائے گی؟ کیا ملکی وسائل پر توجہ دی جائے گی ؟

    عوام کو بڑی اٰمیدیں ہیں کہ موجودہ الیکشن صحیح معنوں میں اس ملک اور عوام کو درپیش مسائل سے نجات دیگا۔ کیا بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات ملے گی ’ تاہم وہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔جن میں کہا جا رہا تھا کہ الیکشن ملتوی ہو جائیں گے۔مسلم لیگ (ن) ،پیپلزپارٹی، سمیت مذہبی جماعتوں نے الیکشن مہم کا آغاز بھی کردیا ہے بلکہ زوروشور سے جاری ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ملکی معیشت کو پروان چڑھانے کے لئے ٹاسک دے دیا ہے ۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد عام آدمی کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے منصوبے پر غورو فکر کیا جا رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی نے بھی اپنا منشور جاری کردیا ہے جبکہ پی ٹی آئی بھی میدان میں ہے ۔ مذہبی جماعتیں بھی اپنا اپنا منشور مل کر عوام میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    آج کے دور میں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ نظریاتی سیاست کا جنازہ کب کا اُٹھ چکا ہے ۔ اس کا ادراک سیاسی جماعتوں اور عوام کی اکثریت کو بھی ہے ۔ اس وقت عوام کی اکثریت کی نگاہیں اپنے بنیادی مسائل اور8 فروری کے انتخابات پر ہیں ۔ گزشتہ کئی سالوں سے عوام کا سیاست کی سموگ سے دم گھٹ رہا تھا اب انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی سے پنجاب کے بڑے اور چھوٹے شہر گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سموگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لاہور سمیت زہر آلود اشیاء جلانے والی فیکٹریوں کے مالکان ، عالمی مرتبت ،عزت دار ، پرہیز گار اور مخیر حضرات کو اپنی تجوریوں کی تو فکر ہے مگر مخلوق خدا کس کرب میں مبتلا ہے ۔ اس کی فکر نہیں۔ مضر صحت اشیاء کی فروخت ، جعلی ادویات ،جعلی مشرویات ،جعلی دودھ ، یہ وہ کاروبار ہیں جو مخیر حضرات کے حصے میں ہیں جنہیں انسانی جانوں کی پروا نہیں عوام آلودگی اور سموگ کو اپنے پھیپھڑوں کے ذریعے اپنے اندر سمونے پر مجبور ہیں۔زہریلے دھوئیں چھوڑنے والی گاڑیاں سڑکوں پر ٹریفک کے اعلیٰ حکام کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ سیاست اور صحافت کے موضوعات عوام نہیں سیاسی لڑائیاں ہیں۔

  • 2024 کا آغاز اور اہداف کا تعین

    2024 کا آغاز اور اہداف کا تعین

    جیسے ہی ہم پر نیا سال طلوع ہوتا ہے، ہماری خواہشات کے مطابق آنے والے مہینوں کے لیے اہداف طے کرنے کا رواج ہے۔ تاہم، اکثر و بیشتر، زندگی کی تیز رفتار فطرت ہمارے اچھے ارادے کے منصوبوں میں خلل ڈالتی ہے، جس سے ہمارے اہداف حاصل نہیں ہوتے۔مستحکم پیشرفت کو یقینی بنانے کے لیے حقیقت پسندانہ، وقت کے پابند معیارات قائم کرنے میں کلید مضمر ہے۔

    قراردادوں کو توڑنے کے مشترکہ نقصان سے بچنے کے لیے، زندگی کے بہت سے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے، عملی اہداف کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔ مختلف ذمہ داریوں کو متوازن کرنا ایک ساتھ ہوا میں بہت سی گیندوں کو اچھالنے کی طرح محسوس کر سکتا ہے۔ اس چیلنج پر قابو پانے کے لئے ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور انہیں ختم کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا مقصد چینی کی مقدار کو کم کرنا ہے، تو اپنے ماحول سے پرکشش میٹھے کو ختم کریں اور نظروں سے اوجھل رکھیں۔

    باہمی چیلنجوں سے نمٹنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ رشتوں میں ہچکی آسکتی ہے، خواہ وہ دوستوں کے ساتھ ہو یا عزیزوں کے ساتھ۔ الزام لگانے کے بجائے، کھلی بات چیت شروع کرنا زیادہ نتیجہ خیز ہے۔ ایک سادہ فون کال یا ایک نوٹ حیرت انگیز طور پر غلط فہمیوں کو دور کر سکتا ہے، دوست کے غیر ضروری ناراض ہونے سے رو ک سکتا ہے۔ میری نظر میں بات چیت تنازعات کے حل کا ذریعہ ہے.

    آپ کے اہداف کی طرف ہر چھوٹی سی پیش قدمی داد کی مستحق ہے۔ اپنی کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور ان کی تعریف کرنا، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں‌نہ ہو، کامیابی کے احساس کو فروغ دیتا ہے اور آپ کو متحرک رکھتا ہے۔ ہر قدم آگے بڑھ کر آپ کو آپ کی خواہشات کے قریب لاتا ہے، ایک مثبت رفتار پیدا کرتا ہے جو آپ کو آگے بڑھاتا ہے۔

    ہم 2024 کے سفر کا آغاز کررہے ہیں، آئیے قابل حصول اہداف طے کرنے، رکاوٹوں کو توڑنے، رابطوں کو فروغ دینے، اور کامیابی کی طرف ہر قدم کا جشن منانے کا عہد کریں۔ ایسا کرنے سے، ہم عزم کے ساتھ آگے بڑھنے والے چیلنجوں کو نیویگیٹ کر سکتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ایک سال کامیابیوں سے بھرا ہو۔

  • سردار شہروز خان بہتر ہے

    سردار شہروز خان بہتر ہے

    سردار شہروز خان بہتر ہے!
    تحریر :شوکت علی ملک
    ویسے تو ہمارے علاقے کی بدقسمتی ہے کہ یہاں بھی چند خاندان ہی سیاست پہ قابض ہیں مگر ان خاندانوں میں نئے چہرے سامنے آنا بھی گویا ایک اچھی تبدیلی ہے اور راقم بذات خود علاقائی سیاست میں نئے چہروں اور خصوصاً نوجوان قیادت کے آگے آنے کو خوش آئند قرار دیتا ہے، کیونکہ ایک پڑھا لکھا وژنری نوجوان لیڈر ہی علاقے کی تعمیر ترقی کےلیے بہترین کام کرسکتا ہے۔

    اور پھر ایک ایسا شخص جس کی پہچان ہی فلاحی کاموں سے ہو اس کا سیاست میں آنا نیک شگون ہوگا، ہمارا علاقہ ابھی تک بنیادی سہولیات کی فراہمی سے محروم ہے، ایسے میں سردار شہروز خان ٹمن جوکہ ایک نوجوان پڑھے لکھے اور فلاح انسانیت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی شخصیت ہیں۔ انہوں نے ٹمن میں ایک ویلفیئر سوسائٹی کے چیئر پرسن کی حثیت سے کئی ایک اہم ترین فلاحی پروجیکٹس لگائے ہیں جوکہ ان کے فلاح انسانیت کے جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

    گزشتہ دنوں شادی کی ایک تقریب میں جاتے ہوئے راقم کی جب سردار شہروز خان ٹمن سے گفتگو ہوئی اور سیاسی میدان میں قدم رکھنے بارے سوال کیا تو انکا یہی کہنا تھا کہ ہمیشہ سے فلاح انسانیت کے کاموں میں دلچسپی ہے، مگر بدقسمتی سے اتنے زیادہ وسائل نہ ہونے کے باعث یہ کام سر انجام دینا انتہائی مشکل ہے جس کےلیے آپ کے پاس اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں نمائندگی لازمی ہے تب ہی آپ علاقے کی حقیقی معنوں میں خدمت کرسکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں آکر روایتی سیاستدانوں کی طرح پروٹوکول انجوائے کرنا اور مال بنانا ہرگز مقصد نہیں بلکہ علاقائی محرومیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مشکل حالات میں سیاسی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اگر علاقے کی عوام اور خصوصاً نوجوان نسل نے اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے موقع فراہم کیا تو توقعات سے بڑھ کر علاقائی تعمیر و ترقی اور مسائل کے حل کےلیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے، اور تمام تر علاقائی محرومیوں کا خاتمہ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔

    مگر دوسری جانب انتہائی مثبت سوچ کی حامل شخصیت سردار شہروز خان ٹمن کے بازو مظبوط کرنے کی بجائے ان کے اپنے کئی ایک مہربان ان کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف عمل ہیں، اور ن لیگی کی اعلیٰ قیادت بھی ان کو ٹکٹ دینے سے گریزاں ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ ایک پڑھے لکھے وژنری نوجوان لیڈر کو موقع فراہم کیا جاتا کہ وہ اپنی مثبت سوچ کی حامل قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار کاتے ہوئے علاقائی تعمیر و ترقی کےلیے قابلِ قدر خدمات انجام دے سکے۔ مگر بدقسمتی سے ہماری ہاں تو ہمیشہ الٹی گنگا ہی بہتی ہے۔

    تو ایسے میں ماضی کے حالات و واقعات اور سیاسی لیڈران کی کئی دہائیوں پر محیط مایوس کن کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ پرانے پاپیوں اور مردہ سیاسی گھوڑوں کو زندہ کرنے اور ایک بار پھر اپنے اوپر مسلط کرکے خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے کی بجائے ایک نوجوان لیڈر جو کہ ہر لحاظ سے باقی تمام امیدواران سے بہتر ہیں اور فلاح انسانیت کا جذبہ لیے مثبت سوچ کیساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ان کو بھی ایک موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

  • ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    انسان کی زندگی میں کچھ لمحے، کچھ واقعات ایسے یادگار ہوتے ہیں جو اگرچہ لوٹ کر نہیں آتے مگر وہ دل و دماغ پر ایسے نقش ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کے سحر میں تادم مرگ جکڑا رہتا ہے۔ آل پاکستان رائٹز ویلفیئرایسوسی ایشن(اپووا) کے بانی وصدر ایم ایم علی نے مجھے دعوت دی کہ اپووا خواتین ونگ کی گورنر ہاوس میں محترم گورنر محمد بلیغ الرحمان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے تو کیا آپ آسکتی ہیں؟ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ میرے لئے تو بہت اعزاز کی بات تھی۔ میں نے فورا ًاوکے کیا اور دن گننے شروع کردیئے کہ کب وہ دن آئے گا؟ نا سردی کی پرواہ نا ہی بیماری، بچے اور میاں جی ہنس رہے تھے کہ جی اب تو گھٹنے بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔میں ان کی باتوں کو انجوائے کرتی لاہور پہنچ ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئی۔ رات خوشی کے مارے نیند ہی نا آئی، صبح سویرے اٹھ گئی ساتھ ہی بیٹے ڈاکٹر محمد عمر کو بھی اٹھا دیا کہ دو بجے سے پہلے پہنچنا ہے گورنر ہاوس۔قصہ مختصر! دوپہر دو بجے سے بھی پہلے میں گورنر ہاوس لاہور کے گیٹ پر تھی دور جو نظر پڑی تو کچھ خواتین مجھ سے بھی پہلے موجود تھیں اس چمکیلی سی دوپہر میں جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو میری سوچ کی پرواز آج سے 40 سال پہلے پشاور کے گورنر ہاوس میں پہنچ گئی جب میں فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں ضلع پشاور میں ٹاپ کیا تھا اور اس وقت کے گورنر جناب فضل حق (مرحوم) صاحب نے پہلی بار تمام ٹاپرز کو بلوایا اور انعامات سے نوازا (ابھی تک اس تقریب کے سحر میں تھی) یہ 1983 کی بات ہے اور اب دسمبر 2023 میں وہ بچی ٹھیک 40 سال بعد گورنر ہاوس لاہور میں کھڑی تھی اور کبھی سوچا ہی نا تھا حد سے زیادہ خوشی تھی۔پورے دو بجے اپووا صدر ایم ایم علی،صدر خواتین ونگ اپووا ثمینہ بٹ،اورایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول کی قیادت میں ہم سب کانفرنس روم میں پہنچے، وہاں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی،

    punjab

    کچھ دیر بعد محترم جناب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب تشریف لائے اور تمام شرکاء کو بہت عزت و احترام سے، نہایت خوشدلی سے خوش آمدید کہا۔۔صدر خواتین ونگ ثمینہ طاہر نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی پر بریف دیا جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول نے تنظیم کا تفصیلی تعارف پیش کیا اس کے بعد تمام لکھاریوں سے تعارف ہوا جسے بہت دلچسپی سے گورنر صاحب نے سنا اور مجھ ناچیز کو اسپیشل پشاور سے آنے پر بہت سراہا تعارف مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں گورنر ہاوس کی تاریخ کے بارے میں کافی تفصیل سے آگاہ کیا۔ گورنر ہاوس پنجاب کی تاریخ سوا چار سو سال پرانی ہے یہ 700 کنال پر پھیلا ہوا ہے،اکبر بادشاہ نے 1600میں یہاں اپنے کزن (چچا زاد بھائی) قاسم خان کا مقبرہ تعمیر کروایا جو اس کی بیسمینٹ میں آج بھی موجود ہے بعد میں سکھوں اور انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے ہی دور میں اس عمارت کو گورنر ہاوس کا درجہ دیا گیا۔ گورنر پنجاب جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر گورنر ہاوس لاہور میں گایئڈڈ ٹور کا افتتاح کیا اور مزید بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت اور قومی ورثہ ہے اس میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔اس میں قائد، ملکہ وکٹوریہ اور دیگر شخصیات کے کمرے بھی موجود ہیں جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔سکولوں، کالجوں کے طلباء، عام عوام،ملکی و غیر ملکی سیاح سب گایئڈڈٹورز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سب عالمی معیار کا ہوگا اور لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔استاد اللہ بخش کی شاہکار پینٹنگز بھی یہاں موجود تھیں جنہیں گورنر صاحب نے اکٹھی کرکے کمروں میں تزیئن و آرائش کے لئے استعمال کیا استاد اللہ بخش کی تصاویر مصوری کا نایاب شاہکار ہیں ان کا استاد کوء نہیں تھا ان کی ایک پینٹینگ 1 ملین میں فروخت ہوئی نامور مصور چغتائی کے بارے میں بھی بتایا۔

    punjab

    گورنر صاحب نے تمام لکھاریوں، صحافیوں، شعراء کی کاوشوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی نسبت لکھاری زیادہ حساس ہوتا ہے اگر وہ حساس نا ہو تو کبھی لکھ نا پائے لیکن جو بھی لکھیں بغیر تحقیق کے نا لکھیں کبھی بھی سنی سنائی بات کو آگے نا پہنچایئں کہ اس سے معاشرے میں بہت خرابی پھیلتی ہے اور کچھ ہی دیر جھوٹی خبر ایسے پھیلتی ہے کہ وہ سچ لگتی ہے خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس بات کا احساس دلایئں کہ اس سے معاشرے میں خرابی پھیلتی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی قوم کو ناکام کرنا ہو تو اسے مایوس کردو اور آج کل ہماری نوجوان نسل میں بہت مایوسی پھیلائی جارہی ہے آپ جو بھی لکھیں اس سے صرف مایوسی یا پریشانی نا بتائیں بلکہ اس کے پازیٹیو اور نیگیٹو دونوں پہلو لکھیں صرف نیگیٹیو لکھیں گے تو پڑھنے والا مایوس ہوگا ملکی معشیت کے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بارے بھی گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہو کہ ان کو خرابی کی پہچان ہو تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں مایوسی بہت بڑی خرابی ہے اور نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنا ہوگا جو اچھائیاں ہیں ان کی قدر کریں ان پر شکر کریں اور مایوس ہونا چھوڑ دیں۔پھر مادری زبان میں تعلیم،عربی اور ناظرہ کی تعلیم پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے حوالے سے بھی تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم پر گفتگوہوئی اس گفتگو میں، نوجوانوں کے حوالے میں نے بھی ایک عرض پیش کی کہ نوجوان طبقہ ڈپریسڈ ہے بیروزگار ہے اور میری درخواست ہے کہ خاص کر فارن گریجویئٹیس کے لئے کچھ کریں یہ صرف ایک میری آواز نا سمجھیں یہ ان ہزاروں ماوں کی اور ان نوجوان ڈاکٹرز کی آواز سمجھیں جو باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کو جابز نہیں تو کم از کم لائسسنس ایشو کر دیئے جائیں تاکہ گھر کے کسی کمرے میں ہی کلینک بنا لیں کچھ تو کرسکیں اس بارے میں بھی گورنر صاحب کی مشکور ہوں کہ انہوں نے توجہ سے سنااور تمام سوالات کے مفصل جوابات بھی دیئے اور تمام مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کا عہد بھی کیا میٹینگ اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا اور آدھے گھنٹے کی بجائے دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چلا گیا۔

    دل تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر اور جاری رہتی کیونکہ ایسے خوبصورت مواقع، یادگاری لمحے زندگی میں قسمت سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں آخر میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے وفد کے تمام اراکین کو یادگاری سرٹیفیکیٹس سے اور خوبصورت قلم و تحائف سے نوازا، مصنفین نے اپنی کتابوں اور رسائل کا تحفہ گورنر صاحب کو پیش کیا اختتام پر گروپ فوٹو کے بعد گورنر صاحب کے حکم پر وفد کو تاریخی گورنر ہاوس کا تفصیلی ٹور بھی کروایا گیا جو میں بوجہ اپنی صحت نا کرسکی اور دور کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ میں وہ بچی تھی جس نے 83 میں گورنر ہاوس پشاور کا کونا کوناایسے بھاگ بھاگ کر دیکھا تھا اور آج؟ پھر اللہ پاک ہزاروں بار شکر ادا کیا کہ جس نے آج یہ موقع دیا کہ جس عمارت کے اندر چڑی بھی پر نہیں مار سکتی وہاں آکر بیٹھنا، گفتگو کرنا، اتنی عزت افزائی یہ سب کیا کسی نعمت سے کم ہے۔۔؟ سب دوستوں سے اجازت لی اور بیٹے کے ساتھ گھر کو روانہ ہوء بہت سی حسین اور خوشگوار یادوں کے ہمراہ۔۔ ابھی پشاور کو جاتے ہوئے راستے میں اس خوبصورت اور یادگار دن کو قلمبند کررہی ہوں اور آخر میں گورنر جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب کی بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں اتنا وقت، اتنی عزت اتنا مان دیا۔۔ اپووا کی تمام ٹیم کی شکرگزار ہوں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ آمین ثم آمین
    punjab

  • محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،حکومت پنجاب عوام الناس میں خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ، زچہ و بچہ کی صحت،ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم موضوعات پر آگاہی و شعور کے فروغ کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔عوام کو آگاہی اور شعور فراہم کرنے کیلئے روایتی ذرائع ابلاغ جیسا کہ ٹی وی چینلز،ریڈیو اوراخبارات سے استفادہ تو اٹھایا ہی جاتا ہے مگر محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات کو گھر گھر پہنچانے اور مزید آسان طریقہ سے عوام کو خوشحالی اور صحت کا پیغام سمجھانے کیلئے متعدد جدیدطریقہ جات بھی زیر استعمال لائے جا رہے ہیں ۔

    ٹیلی ویژن،عوامی آگاہی کا مستند ذریعہ
    ٹیلی ویژن آج پاکستان کے ہر گھر موجود ہے اور ہر انسان دن میں کئی بار معلومات، انٹرٹینمنٹ وغیرہ کے حصول کیلئے ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ ٹی وی چینلز کو ایک وقت میں لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں پیغامات کی نشریات کیلئے ٹی وی چینلز کو منفرد اور ممتا ز حیثیت حاصل ہے۔ محکمہ بہبود آبادی عوامی سطح پر شعور و آگاہی عام کرنے کیلئے اب تک ہزاروں پیغامات نشر کر چکا ہے اور اس آگاہی مہم کی بدولت نہایت مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں اور محکمہ مزید آگاہی عام کرنے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔

    معلومات کی فراہمی کیلئے پرنٹ میڈیا کا استعمال
    اخبارات کو چونکہ معلومات کا مستند ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور معاشرے میں اخبار بینی کا رواج آج بھی اتنا ہی ہے جتنا دہائیوں پہلے تھا۔ محکمہ بہبود آبادی گزشتہ دوسالوں سے اخبارات میں سینکڑوں پرنٹ ایڈز شائع کر چکا ہے جہاں عوام الناس کو خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیںاور معاشرے میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے دی گئی معلومات کو نا صرف مستند سمجھا جاتا ہے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔عوامی سوچ میں تبدیلی لانے اور خوشحال،روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھانے کیلئے امیدافزاءنتائج موصول ہوئے ہیں۔

    بذریعہ ریڈیو،عوام تک رسائی
    عوامی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر اہم موضوعات پر آگاہی عام کرنے کیلئے ریڈیو اسٹیشنز کی وسیع تعداد زیر استعمال لائی جا رہی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی تمام ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔چونکہ عوام کی ایک کثیر تعداددوران سفر،دفاتر یاگھروں میں ریڈیو سننا پسند کرتے ہیں اور ریڈیوکئی دہائیوں سے معلومات کا مستند ترین ذریعہ سمجھا جارہا ہے اور اسی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ بہبود آبادی اب تک ریڈیو پر سینکڑوں پیغامات نشر کر چکا ہے۔ اور عوامی سطح پر خوب پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔

    ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے آگاہی
    چونکہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آگاہی مہم کا اجراءانتہائی مو ¿ثر طریقہ سمجھا جاتا ہے،افادیت کے پیش نظر پنجاب بھر میں تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر محکمہ بہبود آبادی کے سوشل میڈیا گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیشرفت،سرگرمیوں اورپیغامات کی تشہیر کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی کا مقصد زیادہ سے زیادہ عوام تک پیغام پہنچانے کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق نوجوان طبقہ تک آسان رسائی بھی ممکن بنانا ہے۔ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بنائے گئے ان سوشل میڈیا گروپس کے حوصلہ افزاءنتائج موصول ہوئے ہیں اور نوجوان طبقہ سمیت معاشرے کے ہر طبقہ کی جانب سے محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات پزیزائی مل رہی ہے۔

    صوبائی،ضلعی،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر آگاہی
    عوام الناس اوربالخصوص نوجوان طبقہ میں خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر خدمات سے متعلق آگاہی کیلئے قومی سطح پر سیمینارز، صوبائی سطح پر کانفرنسز اورضلعی و تحصیل کی سطح پر میٹنگز کا انعقاد باقاعدگی سے ممکن بنایا جاتا ہے اور ماہرین کے ساتھ طلباءاور دیگر طبقہ جات کی براہ راست گفتگو سے ان کے ذہنوں میں موجودابہام اور روایتی تصورات کا ازالہ سائنسی اورمنطقی دلائل سے ممکن بنایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یونین کونسل کی سطح پر سکھی گھر اور دیگر چھوٹی کمیٹیوں کے ذریعے خواتین اور مردوں تک خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقہ جات، فوائد اور خوشحالی کے رہنما اصولوں کے بارے آگاہی عام کی جاتی ہے۔

    مقامی زبانوں میں آسان پیغام
    مقامی لوگوں کوخاندانی منصوبہ بندی کی افادیت کے بارے آگاہی فراہم کرنے کیلئے مقامی زبانوں جیساکہ پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری وغیرہ میں پیغامات کی تشہیر ممکن بنائی جاتی ہے جس کیلئے ٹی وی، ریڈیو سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز زیر استعمال لائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی سچی کہانیاں،انہی کی زبانی،مقامی زبان میں دیگر لوگوں کو بتائی جاتی ہیں تا کہ عوام الناس غلط فہمیوں کی بجائے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے خوشحال مستقبل کے بارے 100فیصددرست فیصلہ ممکن بنا سکیں۔

    بذریعہ پتلی تماشہ عوامی سطح پر آگاہی
    محکمہ بہبود آبادی، عوام الناس کو شعور فراہم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پتلی تماشوں کا انعقاد ممکن بنا رہا ہے جس میں بچوں کی کم تعداد،ان کی تعلیم تربیت اور ان کے روشن مستقبل کیلئے والدین کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے اس کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ،زچہ و بچہ کی صحت اور دیگر اہم سماجی معاملات سے متعلق کردار ڈرامہ کی صورت میں شعور عام کر رہے ہیں اور عوامی سطح پر پتلی تماشوں کی نمائش کو بھرپور پزیرائی مل رہی ہے اور عوام ان کرداروں سے سیکھ کر عملی زندگی میں متوازن خاندان اور صحت معاشرے کے ساتھ ساتھ خوشحال پاکستان کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔

    اِن ہاو س سٹوڈیو کاآغاز
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے اِن ہاوس سٹوڈیو کا بھی آغاز کیا گیا ہے جہاں ماہرین خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے عوام کو اہم معلومات فراہم کرتے ہیں جس کو بعدازاں ڈیجیٹل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جاتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک محکمہ کا پیغام پہنچا کر خوشحال کل اور صحت مند آج کے خواب کو عملی تعبیر فراہم کی جا سکے۔

    ورکرز بھی متوازن سوچ کے فروغ کیلئے مصروف عمل
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے ہر میدان میں رائے عامہ ہموارکی جا رہی ہے جہاں محکمہ بہبود آبادی کے ہر ورکرکی تربیت اس انداز میں ممکن بنائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے دوست احباب، رشتے داروں اور اپنی کمیونٹی میں خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کیلئے آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ ورکرزخاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرے میں قائم فرسودہ خیالات اور غلط فہمیوں کا سائنسی اور منطقی انداز میں ازالہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کو نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں بلکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے قابل بھروسہ اور جدید طریقہ جات تک بھی عوامی رسائی ممکن بنا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں نئی سوچ کے فروغ سے ایک خوشحال پاکستان کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔یہ ورکرز کی محنت کے ہی نتائج ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کو اپنانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام الناس زیادہ بچوں، بیٹوں کی خواہش سمیت دیگرفرسودہ خیالات ترک کررہے ہیں۔ آگاہی کے اشتہارات سے محکمہ،لوگوں کی ذہن سازی اس انداز سے کر رہا ہے کہ وہ اب والدین بچوں کی تعداد کا تعین کرتے وقت زیادہ تعداد کی بجائے ان کی بہتر تعلیم تربیت اور اچھی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔

    عوامی سوچ اور رویوں میں واضح تبدیلی
    محکمہ بہبود آبادی لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔محکمہ،عوام الناس کے سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے قومی ذرائع ابلاغ جیسا کہ الیکٹرانک،پرنٹ،سوشل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کامیابی سے آگاہی مہم کو فروغ دے رہا ہے۔محکمہ اپنی آگاہی مہم میں بیٹیوں کی تعلیم تربیت اور ان کے مساوی حقوق کے بارے عوام الناس میں شعور اجاگرکر رہا ہے۔ بچوں کی زیادہ تعداد کی بجائے،ان کی بہتر تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا جا رہاہے۔ عوامی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے خواتین کی خود مختاری اور انہیں تعلیم تربیت کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا گیا ہے جہاں فرسودہ روایات و پرانی سوچ کی بجائے اپنوں کے روشن کل کی بات عوام تک پہنچائی گئی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی جدید اور محفوظ سہولیات چھوٹے خاندان کے روشن کل کی مضبوط بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ عوامی سطح پر بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور بچوں کی کم تعداد یقینی بناکر ان کے روشن مستقبل کی تشکیل کیلئے بھی رائے عامہ بنائی گئی ہے۔آئیں!خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر چھوٹے خاندان کو خوشیوں اور صحت کی مضبوط بنیاد فراہم کریں اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے اپنا کردارادا کریں کیونکہ سوچ میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے متوازن خاندان، خوشحال پاکستان

    saba

    ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاک پنجاب کیلئے پر عزم
    محکمہ بہبود آبادی،عوام الناس کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے مضر اثرات سے بچاوءکیلئے بھی آگاہی عام کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جنگلات کارقبہ تیزی سے کم ہورہاہے، آتش زدگی اوردیگرقدرتی وانسانی عوامل سے جنگلات کیلئے خدشات اورخطرات بڑھ رہے ہیں،اس صورتحال کے تناظرمیں انسانی صحت اورغذائی سلامتی کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ ماحولیات اورایکونظام کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے عالمی معاہدوں پرعمل درآمد کیاجائے۔اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کی 40 فیصدآبادی کو خطرات لاحق ہیں اس تناظرمیں ایکونظام کی بحالی کیلئے تمام ممالک کواپنامشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنا پڑے گا۔عالمی ماحولیاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک کے خشک رقبے کا 25فیصد جنگلات پہ مشتمل ہونا نہایت مناسب اورانسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 3.3فیصد جنگلات موجود ہیں جو کہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    متوازن غذا اور نفسیاتی صحت،سب سے پہلے
    محکمہ بہبود آبادی کے زیر نگرانی کوالیفائیڈ نیوٹریشنسٹ اورسائیکالوجسٹ ضلعی سطح پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں جو متوازن غذا کی افادیت، غذائی مسائل سے نجات،حاملہ خواتین کیلئے ضروری غذائی اجزاءکے علاوہ ذہنی،جسمانی اور جنسی صحت کے تحفظ کے حوالے سے اہم خدمات سر انجام دہے رہے ہیں۔ عوام الناس بالخصوص خواتین کو نفسیاتی مسائل کے آسان حل بتائے جاتے ہیں،ورزش سمیت دیگر معمولات میں ہم آہنگی اور ذہنی سکون کے حوالے سے اہم نکات پر زور دیا جاتا ہے۔

    عوامی صحت،ہماری اولین ترجیح
    محکمہ بہبود آبادی،صحت عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ڈینگی، نمونیا، وبائی امراض سے متعلق ویکسینیشن،متوازن غذا،ماں بچہ کی صحت سے متعلق اہم معلومات اور ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم مسائل سے متعلق بھی معلومات ڈیجیٹل اور قومی میڈیا کے ذریعے آگاہی عام کر رہا ہے۔ جس کا مقصد عوام الناس کو صحت کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کر کے نہ صرف خوشحال بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنانا ہے.

    saba farooq