Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 2024  اور پاکستان کا معاشی بحران

    2024 اور پاکستان کا معاشی بحران

    2024 اور پاکستان کا معاشی بحران

    نئے سال 2024 کا آغاز ہو گیا،پاکستان کو 2024 میں ایک زبردست چیلنج کا سامنا ہے – ایک وجودی معاشی بحران کا خطرہ، پاکستان کی معیشت بے شمار مسائل سے دوچار ہے، برآمدات میں کمی سے لے کر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قرضوں کے کمزور بوجھ تک، رجعت پسند مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتا ہوا یہ معاشی بحران پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔

    معاشی بدحالی
    پاکستان کی معاشی بحران کی جڑ اس کی مناسب پیداوار پیدا کرنے میں ناکامی ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط، سبسڈی کا خاتمہ، معاشی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتا ہے، بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ کر دیا، صارفین کی قوت خرید میں کمی ہو چکی ہے،متعدد پیداواری ادارے بند ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہو رہی ہے

    بڑھتا ہوا قرض
    دسمبر 2022 تک، پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات حیرت انگیز طور پر 126.3 بلین ڈالر پر کھڑے ہیں۔ اس قرض کا ایک اہم حصہ، تقریباً 97.5 بلین ڈالر، براہ راست حکومت کے ہیں، ایک اضافی $7.9 بلین حکومت کے زیر کنٹرول پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی طرف سے کثیر الجہتی قرض دہندگان کو واجب الادا ہے، جس سے مالیاتی ذمہ داریوں کا ایک پیچیدہ جال بنتا ہے

    قرض دہندگان کی درجہ بندی
    پاکستان کے قرض دہندگان چار اہم زمروں میں آتے ہیں، کثیر جہتی قرض، پیرس کلب قرض، نجی اور تجارتی قرضے، اور چینی قرض، جیسا کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے 6 اپریل 2023 کو رپورٹ کیا

    ادائیگی میں چیلنجز
    خود مختار ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے، پاکستان برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، اور غیر ملکی کارکنوں سے ترسیلات زر پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ تاہم، تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رقوم درآمدی بل اور بڑھتے ہوئے قرض کی ادائیگی کے دباؤ سے مماثل نہیں ہوں گی۔

    محدود مالیاتی اختیارات
    پاکستان کے اقتصادی منتظمین کے پاس بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے محدود اختیارات ہیں۔ پہلا آپشن تازہ قرضوں کے رول اوور کی تلاش ہے۔ تاہم، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے کمی کی وجہ سے، ملک کی خودمختار مالیاتی مارکیٹ تک رسائی محدود ہے۔ نتیجتاً، پاکستان کو نہ صرف قرضوں کی ادائیگی بلکہ ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے نئے قرضے حاصل کرنے کے لیے بھی مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں اور چین پر انحصار کرنا چاہیے،

    قرض کی مسلسل ادائیگی کے نتائج
    قرضوں کی ادائیگی پر مسلسل توجہ ملکی ترقی کے منصوبوں کے لیے ایک اہم خطرہ ہے، جس سے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کی بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔ یہ منظر نامہ جدوجہد کرنے والی صنعتوں کے لیے کوئی مراعات پیش نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں مزید پیداواری یونٹس بند ہو جاتے ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔

    نتیجہ
    پاکستان 2024 میں ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، ایک وجودی معاشی بحران کا سامنا ہے ، قوم کو قرضوں کے پیچیدہ جال سے نکلنے کے لئے فنانسنگ کے متبادل ذرائع کو تلاش کرنا چاہیے، ممکنہ معاشی تباہی سے بچنے کے لیے جامع اقتصادی اصلاحات کو نافذ کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون، خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور چین ، اقتصادی چیلنجوں کو کم کرنے اور آگے بڑھنے کے پائیدار راستے کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • ہماری بربادی کے اسباب

    ہماری بربادی کے اسباب

    ہماری بربادی کے اسباب
    از قلم غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے ہمیں اشرف المخلوقات تو پیدا فرمایا ہی ہے مگر اس کیساتھ ہمیں اشرف الاخلاق،اشرف الجذبات بھی بنایا ہے تاکہ ہم پورے کے پورے دین اسلام کے پیروکار بنیں دیکھا جائے تو آج ہمارے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود ہے حتی کہ آپ گاؤں دیہات میں نظر دوڑائیں تو دنیا کی تمام نعمتیں گاؤں دیہات تک پہنچی ہوئی ہے اگر آپ برگر پیزہ بھی گاؤں دیہات سے کھانا چاہے تو مشکل نہیں بہت سے گاؤں دیہات میں وہ بھی ملے گا اگر آپ مہنگی گاڑیاں اور مہنگے ترین مکانات بھی دیکھیں تو بھی یہ سب گاؤں دیہات میں موجود ہے جبکہ اس برعکس شہروں کی عکاسی آپ خود بخوبی کر سکتے ہیں-

    آج پیسہ اور علم عام ہے مگر اس کے باوجود ہر انسان پریشان ہے باجود پیسے کے برکت کم ہے اور باوجود علم کے عمل کم ہے اس بارے کبھی ہم نے سوچا کہ آخر ایسا کیوں ہے ہمارے ساتھ ؟اس کی سب سے بڑی وجہ ناشکری اور ناقدری ہے آج جہاں ہمارے ہاں ناشکری ہے وہاں نعمتوں کی ناقدری بھی بہت ہے خاص کر علماء کرام کی ناقدری اور ان کی ناشکری ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا
    لَايَشْكُرُ اللہَ مَنْ لَايَشْكُرُ النَّاس
    جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا

    واضح رہے کہ اسلام میں فرقہ پرستی نہیں ہے اس لئے ہمیں فرقہ پرستی سے بچ کر قرآن و حدیث کا ہی پیروکار بننا چائیے اور ہر مسلک کے علماء کرام کی عزت و تکریم کرنی چائیےچاہے عالم دین کسی بھی مسلک سے ہو اس کی بات اچھی لگے یاں بری اس کی عزت و تکریم عام انسان سے بڑھ کر ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق کسی کو کسی پہ فوقیت حاصل نہیں ماسوائے تقوی کے جس کا تقوی اور رب سے تعلق زیادہ ہو گا اس کی عزت و تکریم بھی زیادہ ہو گی

    علمائے کرام کی تضحیک کرنا بہت بڑا گناہ ہے مُسند احمد و طبرانی کی کتب احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے، ہمارے بچوں پر رحم نہ کرے اور آگے الفاظ ہیں کہ وَیَعْرِفُ لِعَالِمِنَا حَقَّہ یعنی جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری اُمت میں سے نہیں ہےحدیث پہ غور کریں تو احساس ہو گا آج ہم کس قدر اہل علم لوگوں بےقدری کر رہے ہیں خاص کر اپنے محلے کی مسجد کے امام صاحب کو ہر دکھ اذیت دینا ہم اپنا حق سمجھتے ہیں-

    ہمارے معاشرے میں اپنی ذاتی خوشیوں کی خاطر ایک متوسط اور غریب شحض بھی ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتا ہے مگر خوشنودی اسلام اور محبت دین میں علماء پہ چند سو روپیہ بھی لگانے سے کتراتا ہےمیں نے اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دیکھا کہ چند دن قبل گاؤں کی مسجد کا ایک امام صاحب مسجد کے صدر کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا کہ حضور مجھے مت نکالئے مسجد سے میرے بچے بھوکے مر جائیں گے مہنگائی بہت ہے میں کہاں جاؤں گا انہیں لے کر لہٰذہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آج سے نماز سے پہلے مسجد میں آ جایا کرونگا اور چھٹی نہیں کرونگا-

    جی ہاں قسم رب کی یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھااس امام صاحب کی ایک چھوٹی سی غلطی پہ مسجد کے صدر صاحب چیخ رہے تھے کہ جو اس جیسی سینکڑوں غلطیاں اس میں اور اس کی اولاد میں موجود ہیں مگر یہ کہ یہ امام مسجد اس کا محتاج بنا بیٹھا اور اس امام مسجد کے پاس اپنی طاقت نہیں کہ وہ اچھا سا کام کاروبار کرتا اور پھر اپنی مرضی سے مسجد میں آتا جاتا تاکہ نمازی اس کے انتظار میں رہتے-

    ہمارے ہاں امام مساجد کی تخواہیں بہت کم ہیں شہروں میں پھر بھی 25 سے 40 ہزار تک ماہوار امام صاحبان کو ملتا ہے تاہم اس دور جدید میں بھی گاؤں دیہات میں امام مسجد صاحبان کو 15 سے 25 ہزار ماہوار دیا جاتا ہے اور اسے پابند بنایا جاتا ہے کہ آپ نے مسجد کی صفائی ستھرائی کیساتھ پانچ وقت کی اذان اور امامت کرنے کیساتھ خطبہ جمعہ و خطبات عیدین بھی فرمانے ہیں اس مہنگائی کی صورتحال میں یہ پیسے بہت کم ہیں اوپر سے ستم ضریفی یہ کہ گاؤں دیہات کے امام صاحبان کو فصلوں کے پکنے پہ فصل یاں پیسے دیئے جاتے ہیں باقی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی کہ باقی دنوں وہ بیچارہ کہاں سے کھائے گا اوپر سے جس شحض کا کہیں بس نہیں چلتا اس کا رعب مسجد کے مولوی پہ چلتا ہے-

    صاحبان اللہ کے نبی کی حدیث کی حدیث ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور یہ علماء وہ ہیں کہ اللہ کے بعد جن کے وعظ و نصیحت سے نمازی،حاجی،مجاھد، مبلغ پروان چڑھتے ہیں سو اللہ کی رضا کی خاطر ان پہ رحم کریں ان کے کھانے پینے اور ان کی رہائش کا خاص اہتمام کریں کیونکہ نبیوں کے ان وارثان سے محبت کرکے ہم رب کی زیادہ خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں-

    ہمارے ہاں کچھ علماء کرام بڑے صاحب حیثیت بھی ہوتے ہیں خدارا ان کو دیکھ کر مالی طور پہ کمزور علماءکو نظر انداز نا کیجئے کیونکہ معاشرے کا یہ واحد طبقہ ہے جو اپنے ساتھ ہوتی ناانصافی پہ احتجاج نہیں کرتا اور نا ہی اپنے فرائض سے بائیکاٹ کرتا ہے وگرنہ دیکھ لیجئے ہر شعبہ زندگی کے چھوٹے سے بڑے لوگوں نے اپنی یونین بنائی ہوئی ہے اور اپنے مطالبے کی خاطر اپنے شعبے کا بائیکاٹ کرکے اپنی بات منوا لیتے ہیں مگر شاید ہی آپ نے کبھی سنا ہو گا کہ کسی عالم دین نے احتجاج کرتے ہوئے نماز پڑھانے سے انکار کر دیا ہے

  • فوج، عدلیہ ریاست کے حتمی ستون،تنقید کیونکر؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج، عدلیہ ریاست کے حتمی ستون،تنقید کیونکر؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    فوج اور عدلیہ ریاست کے حتمی ستون ہوتے ہیں۔ پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان دونوں اداروں کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا ،ٹاک شوز ،سیاسی پریس کانفرنسوں، سیاسی جلسے جلوسوں، میں ان دو اہم ریاستی اداروں کو موضوع بحث بنا لیا گیا ہے۔ ملکی سلامتی و بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان دو اداروں کو ہر معاملے میں گھسیٹنا کیا سیاسی جماعتوں کی مجبوری بن چکا ہے؟ یہ عمل ملک و قوم کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے ملک کی جمہوریت ایک لاغر کا درجہ رکھتی ہے سیاستدان بھی جسمانی ، دماغی اور دیگر معاملات میں لاغر ہی ہو چکے ہیں۔ کوئی ہوشمند اپنے ان دو ادارں پر اس طرح کھلے عام تنقید نہیں کرتا۔ ان دو اہم ریاستی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر موضوع بحث بنا کر ہم دنیا کو اپنے ملک کا کیسا نقشہ پیش کر رہےہیں۔ اپنی ریٹنگ کے چکر میں سنسنی پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔

    یاد رکھئے اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا ہے۔ اقتدار، اختیارات، پروٹوکول، ہوس زر نے کیا ہمارا ذہنی توازن اس قدر کر دیا ہے کہ ہم ایسی چنگاریاں پھیلا رہے ہیں جس سے شعلے بھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہے۔ جو شعلے بھڑکا رہے ہیں وہ پورے نظام کو راکھ دیں گے۔ پاکستان کی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے پاک فوج اور جملہ ادارے اس ملک کی سلامتی و بقا کی خاطر سرحدوں کی حفاظت پر مامور بھی ہیں اور اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی جو سر اٹھا رہی ہے اس سازش کو بھی بے نقاب کرنے کے ساتھ دہشت گردوں کا صفایا بھی کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ایسے دانشوروں پر جو ہماری سیدھی سادہ عوام کو بنگلہ دیش کیوں علیحدہ ہوا کی مثالیں دے کر ڈرا رہے ہیں۔ بھارت بلوچستان میں اور بلوچستان کے ذریعے دہشت گردی کا ذمہ دار ہے جس کی مثال کلبھوشن ہے افسوس، اقتدار، حوس زر، اختیارات ، لالچ کی ایک اندھی دوڑ لگی ہوئی ہے ہر کوئی دوسرے کو روند کر زچ کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہے بلاوجہ ایک کہرام مچا ہے ایک ایسا کہرام جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔

  • سردار غلام عباس کیوں قبول نہیں۔۔۔!

    سردار غلام عباس کیوں قبول نہیں۔۔۔!

    سردار غلام عباس کیوں قبول نہیں۔۔۔!!!

    تحریر :شوکت علی ملک
    اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سردار غلام عباس خان چکوال کی سیاست میں ایک بڑا نام ہے اور ان کا چکوال کی سیاست میں ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے، مگر آمدہ عام انتخابات میں ن لیگ کی جانب سے سردار غلام عباس خان کو این اے 59 سے ٹکٹ جاری کرنے کا متوقع فیصلہ این اے 59 کی عوام قبول کرنے کو تیار نہیں، اس کی کئی ایک وجوہات میں سے سب سے اہم وجہ سردار غلام عباس خان کا مختلف مواقع پر ضلع تلہ گنگ کی مخالفت کرنا ہے، جس کا کئی ایک پلیٹ فارم پر سردار غلام عباس خان برملا اظہار بھی کرچکے ہیں، اسی طرح ایک موقع پر مقامی صحافی کی جانب سے ضلع تلہ گنگ کی بحالی بارے سوال کو بھی سردار صاحب نے غیر ضروری قرار دے کر جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا جوکہ تلہ گنگ کی ضلعی حیثیت بارے ان کی ناپسندیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے،

    یہی وجہ ہے کہ این اے 59 اور خصوصاً تلہ گنگ اور لاوہ کی عوام کو سردار غلام عباس خان کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں، اس کی ایک اور وجہ گزشتہ کئی ادوار میں موصوف کی جانب سے ترقیاتی کاموں اور دیگر حوالوں سے تلہ گنگ و لاوہ کو نظر انداز کرکے چکوال کو ترجیح دینا بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ تلہ گنگ و لاوہ کی باشعور عوام اب کسی بھی متعصبانہ سوچ کے حامل امیدوار کو ہرگز قبول کرنے کےلیے تیار نہیں ہے، جس کا بعض عوامی حلقوں کی جانب سے برملا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

    تاہم دوسری جانب تلہ گنگ و لاوہ کے کئی ایک مقامی لیگی رہنما اور کئی ایک اہم ترین ن لیگی دھڑے بھی سردار غلام عباس خان کو این اے 59 سے بطور امیدوار نامزد کرنے کے پارٹی فیصلے کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں، جس سے ن لیگ کا ووٹ بینک بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے،

    جبکہ ادھر سردار غلام عباس خان کو این اے 59 سے پارٹی ٹکٹ جاری ہونے پر سابق ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن گروپ جن کا حلقے میں بھاری ووٹ بینک ہونے کیساتھ ساتھ ایک تگڑا دھڑا موجود ہے، وہ بھی پارٹی فیصلے سے دلبرداشتہ ہوکر آزاد حیثیت میں انتخابی میدان میں اتر سکتا ہے جس کے قوی امکانات پائے جارہے ہیں اور سلسلے میں متبادل حکمت عملی اپنانے کےلیے سردار ممتاز گروپ کی جانب سے اندرون خانہ مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت گراؤنڈ ریئیلٹیز کو پرکھے بغیر اور حلقے کی عوام کی سوچ اور نظریے کے عین برعکس این اے 59 سے سردار غلام عباس خان کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے پر تلی ہوئی ہے، جس کا خمیازہ پارٹی کو آنے والے انتخابات میں سیٹ گنوانے کی صورت میں بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

  • پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ملک کی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز پرامید ہیں کہ ان کی جماعتوں کے قائد وزیراعظم بنیں گے۔ انتخابات سے قبل بے لگام قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو صرف وزیراعظم نہیں بلکہ ایسا وزیراعظم اور اس کے ساتھ ایسی ٹیم چاہئے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کی عوام کی نمائندگی کر سکے۔ جو ملک کو درپیش مسائل کا خاتمہ کر سکے بالخصوص ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کر سکے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت تادم تحریر بتانے سے قاصر ہے کہ وہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف سے کیسے نجات دلائے گی۔

    پاکستان بطور ریاست اور عوام معیشت کی وجہ سے مشکلات میں گھری ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے اندھا دھند بیانات سامنے آرہے ہیں۔ بہت ہو چکا ماضی کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اسکولوں میں پانچویں جماعت سے ہی طلبا کو کمپیوٹر پر تعلیم دی جائے بچوں کو اسلام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے زراعت پر بھرپور توجہ دی جائے۔ ملکی وسائل پر صدق دل سے توجہ دی جائے۔ حدیث نبوی ؐ ہے لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ ہم من حیث القوم اپنے لوگوں کے ساتھ دو نمبری کرتے ہیں دنیا کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟ انسانوں کی جان بچانے والی ادویات میں ملاوٹ، خوراک میں ملاوٹ، جعلی ڈاکٹرز، جعلی حکیم، ملک کے مستقبل بچوں کو جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ، غیب کا علم صرف خدا پاک کو ہے ہمارے معاشرے میں غیب کا علم گلی محلوں اور گلیوں میں بتانے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سامری جادوگر کا قصہ قرآن پاک میں موجود ہے ہمارے ہاں کئی سامری جادوگر پائے جاتے ہیں۔ جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    دنیا میں رہ کر اگر ترقی کرنی ہے تو یہ فطرت کا قانون ہے کوئی بھی فرد، قوم یا ملک جو قانون کی پابندی نہیں کرتا وہ زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتا جن کو ہم صبح و شام گالیاں اور بددعائیں دیتے ہیں انہوں نے رب زدنی علما پر عمل کر کے ہمیں موبائل فون، کمپیوٹر، کیمرا، ایٹمی ہتھیار، ادویات، گوگل، فیس بک اور نہ جانے کیا کیا دیا ۔ سوچئے ہم نے رب زدنی علما پر عمل کیا؟ تعلیمی نظام میں انقلاب لانے کے لئے ماہرین تعلیم کو سیکرٹری اور وزیرتعلیم لگانا ہوگا محکمہ صحت کو جدید اور عوام کے درد شناس بنانے کے لئے اعلیٰ کارکردگی کے حامل ماہرین صحت کو وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی ذمہ داریاں دینا ہوں گی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ اقوام کی روش پر چلنے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی ہی کے ماہرین پر محکمانہ قیادت قائم کرنا ہوگی ورنہ ہم ترقی کے سفر میں پے در پے پستی کا شکار ہوتے رہیں گے۔

  • ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    2024 انتخابات کا سال ہے۔ انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین کی شدید دھند اور شدیدسردی میں گرجدار آوازیں سنائی دیر ہی ہیں۔ ا پنے ووٹروں کو شدید سردی کے موسم میں گرمارہی ہیں۔ عوام کے مقدرمیں سردیوں میں گیس نایاب ہے ۔ اس لئے اپنی آوازوں سے ان کو گرما رہے ہیں۔ گونگی اور بہری عوام ان سے سوال کرنے سے قاصر ہے کہ سردی میں گیس اور گرمی میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے اور اس کا ذمہ دارن کون ہے ؟ملکی سیاسی جماعتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے ۔ نئی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ہمنوا اقتدار ، اختیارات کے مزے لوٹ چکے ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں پھیلے گدی نشین اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کے لئے اپنے مریدوں کو ووٹ دینے کی تاکید رہے ہیں۔ ان گدی نشین افراد کو کون سمجھائے کے ان کے آباو اجداد نے خدا اور رسول کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی تبلیغ کی تھی نہ کے سیاسی پنڈتوں کے ساتھ چل کر سیاسی تبلیغ ،

    آج ان گدی نشینوں کے سامنے ملاوٹ شدہ خوراک ۔ ملاوٹ شدہ ادویات جس کے بارے میں آپﷺ کا فرمان ہے جوملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں کاش یہ موجودہ گدی نشین اس ایک حدیث مبارکہ پر عمل کرواتے ۔

    بلاول بھٹو پیپلزپارٹی میں نئی رو ح پھونکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جبکہ میاں محمد نواز شریف زیرک مدبر اور سیاسی دائو پیچ کے ماہرسیاستدان ہیں۔پی ٹی آئی کے قائد اس وقت جیل میں ہیں وہ کب تک جیل میں رہیں گے یہ قانونی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ماضی کو یاد کرکے وقت ضائع نہ کریں ۔ پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیں ۔ عوام کو محض الزام تراشیوں کی سیاست اور نرگسی جھانسوں سے تسلی دینے کی بجائے حقیقی تعمیراتی سیاست کریں ۔ ملک بنیادی طورپر ایک مقروض ملک ہے اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہے ایسی پالیسیاں بنائیں ملک معاشی مستحکم ہو۔ بلوچستان کی محرومی کا رونا ہر دور میں رویا گیا ۔ اب ترقی کی جانب بلوچستان گامزن ہے غور طلب بات ہے کہ اس ترقی کو روکنے والے کونسے عناصر ہیں؟ چین اکنامک کو ریڈور کے راستے میں کون رکاوٹ بن رہا ہے یہ بلوچی بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا۔ شرپسند عناصر سے ڈرانے کی فرصت نہیں کچھ شرپسند بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ ہوس زر اور ہو س اقتدار کے سرکش گھوڑے پر سواروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

  • آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    چھبیس نومبر 1994 کی وہ صبح مجھے اور میرے سرکاری معاصرین کو اب بھی یاد ہوگی جب ایک ناقابل یقین اطلاع ملی کہ ہماری بیچ میٹ پروین شاکر ٹریفک کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ وہ صبح کے وقت دفتر جارہی تھیں۔ گاڑی کے ڈرائیور کے بارے میں بھی اطلاع کچھ اچھی نہیں تھی لیکن پروین کے بارے میں سب لوگ پُرامید تھے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔ زخم جلد مندمل ہوں گے اور وہ اپنی زندگی میں واپس آ جائے گی۔ اس زمانے میں موبائل فون عام نہیں تھے اس لئے لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ نہیں مل سکتی تھی۔ بہت سے لوگ ہسپتال میں جمع تھے اور کچھ مجھ جیسے کاہل الوجود دفتر میں بیٹھے فون کر کر کے ادھر ادھر سے خبر حاصل کر رہے تھے۔

    بالآخر خبر آ گئی لیکن یہ وہ خبر نہیں جس کے لئے دعائیں کی جارہی تھیں۔ قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ پروین شاکر اپنی بھری جوانی میں اپنے سول سروس کے کیرئر کے آغاز اور شاعرانہ کیرئر کے عروج پر پہنچ کر دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس کی عمر گو کہ صرف بیالیس برس تھی لیکن وہ اتنی کم عمری میں ناصر کاظمی کی طرح شعر و ادب کی دنیا میں ایسا مقام و مرتبہ حاصل کر چکی تھی جو بہت کم شعراء کو نصیب ہوا۔ شاید کاتبِ تقدیر کی مشیت میں اس کی آمد کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ اس شہرت اور مقام و مرتبے کا لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس زمانے کا اسلام آباد ایک خاموش اور پُرسکون شہر ہوا کرتا تھا۔ اس کی المناک موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ اس کے جاننے والوں کو پرسہ دینے لگے۔
    parveen

    وہیں دفتر میں بیٹھے بیٹھے مجھے صرف دس دن پہلے کی بات یاد آ رہی تھی۔ مجھے اسلام آباد میں تعینات ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اور مجھے کسٹمز سروس کے کسی صاحب اختیار کا رابطہ نمبر درکار تھا۔ میں نے اپنے رفیقِ کار سرور زیدی سے کہا کہ کسٹم کے کسی بھی دفتر میں فون کر کے متعلقہ افسر کا فون نمبر پوچھ لیں۔ سرور نے تھوڑی دیر بعد ہی گھبرائے ہوئے لہجے میں بتایا کہ فون کسی میڈم نے براہ راست ہی اٹھا لیا جو آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں اور آپ کو پہلے ہی بتا دوں کہ وہ آپ کا نام سننے کے بعد غصے میں لگتی ہیں۔

    "ثاقب!” فون ملتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی، "اسلام آباد کب آئے؟” مجھے آواز پہچاننے کے لئے ذرا مہلت چاہئے تھی اس لئے آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو پھر آواز آئی کہ اب کیا مجھے اپنا تعارف کرانا پڑے گا۔ میں نے ڈانٹ ڈپٹ کے ڈر سے فورا” جھوٹ گھڑ کر کہا کہ کچھ ہی ہفتے ہوئے ہیں۔ میں آواز پہچان گیا تھا کیونکہ یہ سگنیچر ڈانٹ ڈپٹ صرف پروین شاکر کی ہی ہو سکتی تھی۔

    "آتے ہی فون کیوں نہیں کیا؟ ملنے کیوں نہیں آئے؟”

    میں نے فوراً وعدہ کیا کہ جلد حاضر ہوں گا۔ ابھی یہ وعدہ پورا کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ دن آن پہنچا۔ صرف دس دن پہلے کی بات تھی کہ وہ زندہ سلامت نہ صرف ہمارے درمیان موجود تھی بلکہ ڈانٹ ڈپٹ اور شکوہ شکایت بھی کر رہی تھی۔

    پروین شاکر سول سروس میں ہماری ہمعصر تھی جسے ہماری زبان میں بیچ میٹ کہتے ہیں۔ اس کا ہمعصر ہونا ایک اعزاز تھا۔۔اگرچہ وہ اپنے منفرد شاعرانہ لب و لہجے اور اپنی ناموری کی وجہ سے ہم میں بہت ممتاز حیثیت رکھتی تھی پھر بھی اس کے ساتھ معاصرانہ چشمک اور یکطرفہ ڈانٹ ڈپٹ بھی چلتی رہتی تھی۔

    انہی دنوں اردو کے صاحب اسلوب شاعر جناب محبوب خزاں کراچی سے اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ وہ اکثر ملاقات کے لئے تشریف لاتے۔ اس دن آئے تو نہایت غمزدہ تھے۔ میں اپنے مربی اور مرشد جناب اطہر زیدی صاحب کی خدمت میں حاضر تھا۔ ان کے ساتھ اس المناک سانحہ پر بات ہو رہی تھی کہ خزاں صاحب تشریف لائے اور کہنے لگے کہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کس کے ساتھ پروین شاکر کی موت کی تعزیت کروں۔ تم مل گئے ہو تو دلی تعزیت قبول کرو۔ آخر بیچ میٹ بھی تو فیملی سے کم نہیں ہوتے۔
    pavren

    اس دن اطہر زیدی صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر ہم نے پروین شاکر کے لئے ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جس میں ہم تینوں ہی شریک تھے۔ محبوب خزاں صاحب نے پروین کی شاعری پر بڑی خوبصورت گفتگو کی۔ اس نے اپنے شعر کے ذریعے معاشرے کے استحصالی رویوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا تھا۔ اس کی بغاوت میں بھی حسن تھا، شعریت تھی اور صنف نازک کے ان جذبوں کی ترجمانی تھی جو بوجوہ سامنے نہیں لائے جا سکتے۔ محبوب خزاں صاحب نے ایک شعر سنایا جو پروین کے منفرد نسائی لب و لہجے کا عکاس تھا۔

    تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں
    الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

    پروین نے 1981 میں مقابلے کا امتحان دیا۔ ذرا اس کے شاعرانہ مرتبے کا تصور کریں کہ اس امتحان کے اردو کے پرچے میں خود اس کی شاعری کے بارے میں بھی سوال پوچھا گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر صرف انتیس برس تھی۔ اگلے برس جب نتیجہ سامنے آیا تو اس میں پروین شاکر کی پوزیشن دوسری تھی اور اسے فارن سروس کے لئے چنا گیا تھا۔ ہمارا یہ بیچ سول سروس کی عصری ترتیب میں دسواں کامن کہلاتا ہے۔ میرٹ میں اس سے اگلا نمبر ایک اور لائق فائق خاتون رعنا مسعود کا تھا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ کورس کے اختتام پر پروین کو بہترین پروبیشنر اور رعنا کو بہترین آل راؤنڈر کا اعزاز ملا۔
    parveen

    اکیڈمی میں پروین شاکر کی وجہ سے ادبی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ وہ خود تو نجی وجوہات کی بناء پر لو پروفائل پر رہنا چاہ رہی تھی لیکن ان سرگرمیوں کے لئے اس کا نام ہی بہت تھا۔ اسی کی وجہ سے ہم نے اکیڈمی میں ایک عظیم الشان مشاعرہ برپا کیا جس کی صدارت احمد ندیم قاسمی صاحب نے کی۔ سید جاوید (شاہ جی) ہمارے بیچ میٹ اور خوبصورت شاعر ہیں۔ وہ اور میں بھاگ دوڑ کرکے شاعروں کو دعوت دینے جاتے۔ پروین کا نام سن کر کسی شاعر نے اپنا روایتی نخرہ نہیں دکھایا اور بغیر کوئی مشکل پیدا کئے مشاعرے میں شرکت کی حامی بھری۔ خیال رہے کہ شعراء کرام کو کسی قسم کا اعزازیہ پیش نہیں کیا گیا تھا۔ صرف لانے لے جانے کی سہولت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود ہر شاعر نے مشاعرے میں شرکت کی اور اسے کامیاب بنایا۔ (جاری ہے)

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    hussain saqib

  • آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی اہم،تجزیہ، شہزاد قریشی

    آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی اہم،تجزیہ، شہزاد قریشی

    امریکہ سمیت چین، عرب ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہیں ۔پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کو حمایت اس وقت حاصل نہیں ہے ۔بالخصوص لاڈلے کا الزام لگانے والوں کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ میاں محمد نوازشریف کو بھی نہ ہی امریکہ اور نہ ہی کسی دوسری عالمی طاقت کی حمایت ہے اس کو سیاسی پروپیگنڈہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ عوام کے لئے عرض ہے کہ دنیا میں اس وقت جنگی بادل چھائے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ اسرائیل اور حماس کی جنگ غزہ جل رہا ہے۔ روس اور یوکرائن جنگ کے اثرات یورپی معیشت پر پڑے ہیں۔ امریکہ اس وقت خود کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے۔

    چین کا بڑھتا اثر و رسوخ روس کے صدر کا عرب ممالک کا دورہ اور دیگر عالمی سیاسی اتار چڑھاؤ۔ اس جنگی ماحول میں عالمی دنیا کی توجہ معیشت پر ہے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پاک فوج ملکی سلامتی کے ساتھ معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ ملک کی دو طاقتور شخصیات چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا دورہ امریکہ انتہائی اہم قرار دیا جاسکتاہے، مسئلہ کشمیر اور غزہ جنگ پر بات چیت سمیت معاشی حالت کو مستحکم کرنے کے لئے دونوں شخصیات نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس سے قبل خلیجی ممالک نے بھی آرمی چیف کی اکنامک ڈپلومیسی کی وجہ سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے کا یقین دلایا۔

    امریکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور پھر آئی ایم ایف سے کاروباری تعلقات میں پاکستان کو امریکہ کے تعاون کی ضرورت بھی رہتی ہے تاہم آرمی چیف کی ان کوششوں سے پاکستان معاشی گرداب سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان سے تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر بات چیت کی ہے سچ تو یہ ہے اس وقت پاکستان کی عزت پاک فوج نے ہی بچا کر رکھی ہے عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو بحال کرنے میں پاک فوج کا کردار صاف نظر آتا ہے سیاسی جماعتوں کے کردار صبح شام ایک دوسرے کو غدار، افواہ سازی ، اقتدار اختیارات کے کھیل نے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیا ہے۔ جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔
    shehad qureshi

  • اسلامی قانون میں خلع اور متعلقہ قوانین

    اسلامی قانون میں خلع اور متعلقہ قوانین

    اسلامی قانون میں خلع اور متعلقہ قوانین

    تعارف:
    شادی کو کنٹرول کرنے والے اسلامی قانون کی پیچیدگیوں میں خلع کا تصور بہت اہمیت رکھتا ہے، جسے اکثر نکاح نامے میں نہیں لکھا جاتا، یہ شق بیوی کو شوہر سے علیحدگی کا اختیار دیتی ہے،خلع بہت سے لوگوں کے علم میں نہیں،شادی کی تقریب کے دوران، ذمہ دار مذہبی شخصیت، جسے اکثر مولوی کہا جاتا ہے، عام طور پر اس شق کو چھوڑدیتے ہیں، خلع کی شق بظاہر نظر انداز ہوتی ہے تا ہم یہ خواتین کے لیے تحفظ کا کام کرتی ہے، شادی کی تحلیل کے لیے قانونی ذرائع کا سہارا لینے کی ضرورت کو ختم کیا جاتا ہے، جسے عام طور پر خلع کہا جاتا ہے۔

    خلع کی کارروائی میں چیلنجز:
    قانونی یقین دہانیوں کے باوجود کہ تین عدالتی تاریخوں کے بعد شوہر کی غیر موجودگی میں بھی طلاق دی جا سکتی ہے، عملی رکاوٹیں اکثر خلع کے مقدمات کے فوری حل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ مخالف وکلاء کی جانب سے تاخیری حربوں کی وجہ سے ان کیسز میں طوالت ہوتی ہے، جس سے یہ عمل مزید پیچیدہ بن جاتا ہے.

    مالیاتی اثر:
    شادی کے معاہدے میں بیان کردہ 25% اثاثوں کی واپسی خلع کے معاملات میں لازمی تھی۔ تاہم، حالیہ ترامیم شوہر کو 100% اثاثوں کی مکمل واپسی کا حکم دیتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شادی کے دوران بیوی کو دیے گئے کوئی بھی تحائف، ان کی نوعیت سے قطع نظر، قانونی طور پر ناقابل واپسی ہیں، جو مالی تحفظ کا ایک پیمانہ پیش کرتے ہیں۔

    حق مہر اور عدالتی مداخلت:
    حق مہر شادی کا تحفہ جو قرآن مجید کی سورۃ النساء میں بیان کیا گیا ہے،اصولی طور پرشادی کی تکمیل سے پہلے بیوی کو پیش کیا جانا چاہئے، حالانکہ اس شرط پر عمل بہت کم ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین کو انکا جائز حق، حق مہر نہیں دیا جاتا،سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلہ کے مطابق چھ برس تک بیویوں کو اگر حق مہر نہیں دیا جاتا تو ازالے کے لیے حق مہر جو واجب الادا ہے ،اسکے ساتھ شوہر کو ایک لاکھ جرمانے کی ادائیگی کے ساتھ ایک موقع فراہم کیا جاتا ہے، حق مہر شرعی تقاضا ہے اسے حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے ادا کرنا چاہئے.

    قانونی مخمصے اور سماجی دباؤ:
    پاکستانی دیوانی مقدمات ،نہ حل ہونے والے، کئی دہائیوں پر محیط ،چلتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں، قانونی کاروائی کے دوران بیوی کو اس کے ازدواجی گھر سے نکالے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ قانونی فریم ورک کے اندر ایک شق ایک عورت کو اجازت دیتی ہے کہ وہ شادی کے بعد کسی بھی وقت متفقہ رقم یا تحفہ کی درخواست کر سکتی ہے، جو مالی وسائل کے لیے متبادل راستہ پیش کرتی ہے۔ تاہم، زیادہ تر اس پر توجہ نہیں دی جاتی،

    نتیجہ:
    مساوی ،منصفانہ ازدواجی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اسلامی قانون میں خلع کی پیچیدگیوں اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامی فقہ کے دائرہ کار میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بیداری اور وکالت کی اشد ضرورت ہے۔

    خلع کے مزید جاننے کےلئے یاسمین آفتاب علی کا وی لاگ ضرور سنیے

  • آٹھ فروری، پاکستانی قوم کا بھی امتحان، تجزیہ، شہزاد قریشی

    آٹھ فروری، پاکستانی قوم کا بھی امتحان، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    الیکشن سے قبل بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ملک کا مسئلہ اس وقت یہ نہیں ہے کہ کون بنے گا وزیراعظم؟ ملک کے بہت سے مسائل میں بڑا مسئلہ معیشت اور خارجہ پالیسی کا ہے۔ معیشت مستحکم ہوگی تو ملک اور عوام کے بنیادی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔ معیشت مستحکم ہوگی تو ملک اور عوام کے بنیادی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔ سیاست کے شطرنج کی بساط بچھ چکی ہے سیاست کوئی تفریحی کھیل نہیں ہے۔ آج کی دنیا ترقی کی منازل طے کر رہی ہے آج ملک جس دہانے پر آکر کھڑا ہو گیا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ معیشت ہماری مستحکم نہیں خارجہ پالیسی کی کیا سمت ہے اس کی ہمیں خبر نہیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملک اور عوام کی تقدیر بدلنے کانعرہ لگا رہی ہیں۔
    بقول شاعر
    بدلنا ہے تو رندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں
    ساقی بدلا دینے سے میخانہ نہ بدلے گ
    ا
    جمہوریت کے گلیاروں میں جاری ہلڑ بازی اور افراتفری، جاگیرداری ، سرمایہ کاری، گدی نشینوں کی پیداوار، سیاستدانوں کے کردار اور تفسیات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ نودولتیوں اور نوزائیدہ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی حقیقت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ان کی گفتگو اور حرکات و سکنات سب کچھ عیاں کر رہی ہے بلکہ انسانوں کو تعفن زدہ کر رہی ہے اس ماحول اور اس تعفن زدہ سیاست میں ملک و قوم کیونکر ترقی کرے اور کیسے کرے؟ نوراکشتیوں کا بازار گرم ہے جس ملک کی سیاست فنانسروں کی تابع ہو جائے وہ سیاستدان اپنے آپ کو بھی اور ملک و قوم کو بھی دھوکا دے رہا ہے۔ عوام پر 8 فروری ووٹ کے دن فرض ہے کہ وہ ایسی قیادت اور ایسی سیاسی جماعت کا چنائو کریں جو ملکی اور قومی مفادات کو اولیت دے۔ یاد رکھیئے ! پاکستان کی شناخت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے مزید اس کی گنجائش نہیں ہے۔ عوام ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو ملکی اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دے۔ نہ لینڈ مافیا سے ،ان کی ہائوسنگ سوسائٹیوں سے اپنے محلات فارم ہائوس تعمیر کروائے اور ٹھیکیداروں سے کمیشن وصول کرے ۔ملک کو اس وقت اپنی معیشت مستحکم اور تعمیر و مضبوطی کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ بیرونی ممالک کی سرمایہ کاری اور دوست ممالک اور دیگر خیرخواہوں کے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام بخوبی آگاہ ہیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں ترقی کے سفر کو پورا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔