Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شاہد خاقان عباسی  مریم نواز سے اختلافات کے باعث مستعفی

    شاہد خاقان عباسی مریم نواز سے اختلافات کے باعث مستعفی

    پاکستان مسلم لیگ ن کی اہم شخصیت شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کے سینئر نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ شاہد خاقا عباسی نے اپنے فیصلے کا اظہارن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے لیے "کھلا میدان” فراہم کرنے کے اقدام کے طور پر کیا ہے۔ اپنےعہدے سے سبکدوش ہونے کے باوجود، شاہد خاقان عباسی نے Reimagining Pakistan کے پلیٹ فارم کے ذریعے ملک کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    جیسا کہ یکم فروری 2023 کو دی نیوز نے رپورٹ کیا، شاہد خاقان عباسی نے تقریباً تین سال قبل کہا تھا کہ اگر مریم نواز پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر چلی جاتی ہیں تو ان کے لیے اپنی وابستگی جاری رکھنا ناقابل برداشت ہو گا۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ Reimagining فورم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، انہوں نے ناقدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے مقاصد کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کے بجائے فورم کے ساتھ تعاون کریں۔شاہد خاقان عباسی نے قوم کو درپیش پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے کہا، "ہم لوگوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے راستہ تلاش کریں۔”

    سماء نیوز کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے تصدیق کی کہ مریم کی تقرری کے وقت انہوں نے اپنا استعفیٰ اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کر دیا تھا۔ انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا کہ پارٹی نے باضابطہ اعلان نہیں کیا جیسا کہ ان کی توقع تھی۔

    نواز شریف کی ممکنہ وارث مریم نواز کو سیاسی اسپاٹ لائٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اپنی قابل ذکر صلاحیتوں کے باوجود، وہ فی الحال پارٹی کے اندر کچھ حلقوں کی طرف سے سیاسی نظریات میں اختلافات کی وجہ سے شکوک و شبہات کا سامنا کر رہی ہیں، مبینہ طور پر حمزہ شہباز کا مسلم لیگ ن کی سیاست میں مستقبل میں کوئی کردار نہ ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

    جہاں مریم نواز نے پانامہ کیس کے دوران لچک کا مظاہرہ کیا، جو نواز شریف کے لیے ایک کڑا امتحان تھا، وہ وقتاً فوقتاً ان لوگوں پر غصہ ظاہر کرتی رہی ہیں جنہیں وہ اپنے والد کی حالت کے لیے ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی کے اندر مریم کے اوپر جانے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ تمام اراکین ان کی سیاست کی حمایت نہیں کرتے۔

  • پاکستان میں کھاد کی عدم دستیابی کے چیلنجز, زراعت کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش

    پاکستان میں کھاد کی عدم دستیابی کے چیلنجز, زراعت کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش

                         پاکستان میں کھاد کی عدم دستیابی کے چیلنجز, زراعت کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش
    تحریر:میاں عدیل اشرف
    پاکستان ایک زرعی معیشت ہے جس کا اپنے زرعی شعبے پر بہت زیادہ انحصار ہے، ایک ایسے نازک مسئلے کا سامنا کر رہا ہے جس سے اس کی خوراک کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی کو خطرہ لاحق ہے یعنی کھادوں کی کنٹرول ریٹس پر عدم دستیابی۔ اس تشویشناک صورتحال کے اثرات نہ صرف کسانوں کے لیے بلکہ ملک کی مجموعی غذائی تحفظ کے لیے بھی ہیں۔

    پاکستان میں کھاد کی کمی کی وجہ کئی عوامل ہیں جن میں سٹاکسٹ مصنوعی بحران پیدا کرنے والے,سپلائی چین میں خلل، تقسیم کا غیر موثر طریقہ کار اور معاشی چیلنجز شامل ہیں۔ کسان، جو زمین کی زرخیزی اور فصل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے کھادوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، خود کو ایک ایسی قلت سے دوچار ہوتے ہیں جو بڑھتی ہوئی آبادی کے مطالبات کو پورا کرنے کی ان کی صلاحیت کو روکتی ہے۔ کھاد کی سپلائی چین میں رکاوٹ کو درآمدات میں تاخیر، ناکافی پیداواری صلاحیت اور لاجسٹک رکاوٹوں اور مصنوعی بحران جیسے مسائل سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ ان چیلنجوں کا ایک بڑا اثر ہوتا ہے، کیونکہ کسان صحیح وقت پر ضروری آدانوں تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں فصل کی سب سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

    اس کے نتیجے میں ان لاکھوں افراد کی روزی روٹی متاثر ہوتی ہے جو اپنے رزق کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومتی مداخلتیں اور پالیسیاں کھاد کی عدم دستیابی کے بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پالیسی سازوں کو گھریلو پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے، درآمدی عمل کو ہموار کرنے اور تقسیم کے چینلز کو جدید بنانے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے اور مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کیخلاف بھی سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ مزید برآں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سبسڈی اور مالی مدد کی اشد ضرورت ہے کہ کسان اپنی فصلوں کے لیے ضروری کھادیں برداشت کر سکیں۔

    کھاد کی عدم دستیابی کے نتائج فوری معاشی خدشات سے آگے بڑھتے ہیں۔ زرعی پیداوار میں کمی خوراک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے، جس سے ممکنہ طور پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں، غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور خوراک کی قلت ہوتی ہے۔ حکومت، نجی شعبے اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے اس بحران کا پائیدار حل تلاش کرنے میں تعاون کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آخر میں پاکستان میں کھادوں کی عدم دستیابی ایک کثیر جہتی چیلنج ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ حکومت کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کو دور کرنے، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے اور کسانوں اور زرعی شعبے دونوں کو سپورٹ کرنے والی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے فعال اقدامات کرنا چاہیے۔

    صرف باہمی تعاون کے ذریعے ہی پاکستان اس بحران پر قابو پانے اور اپنے زرعی منظرنامے کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کی امید کر سکتا ہے۔

  • جذباتی سیاست نہیں معیشت مستحکم چاہیے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جذباتی سیاست نہیں معیشت مستحکم چاہیے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    دنیا 2023ء کو الوداع کہنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 2024ء میں دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں صدارتی نظام ہے وہاں بھی الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور ان ممالک میں بھی جہاں پارلیمانی نظام ہے وہاں بھی۔ پاکستان میں 2024ء الیکشن کا سال ہے۔ دنیا کے ممالک کی توجہ معیشت پر ہے امریکہ سمیت دنیا کی توجہ اپنے شہریوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنا ہے عوام اور ریاستی مسائل کے خاتمہ پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے

    ملک میں انتخابی شیڈول کے ساتھ ہی سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچتی جا رہی ہے پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی سمیت مذہبی جماعتیں بھی الیکشن میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں وزارت عظمیٰ کی دعویدار تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ہیں۔ اس بار نوزائیدہ سیاسی جماعتیں بھی میدان میں ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ کر اپنی سیاسی جماعتیں بنالی ہیں ان نوزائیدہ سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی میں رہ کر اقتدار کے مزے لئے اور اب سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر دوبارہ مزے لوٹنے کے لئے پرتول رہی ہیں۔ عوامی خدمت کی دعویدار تمام سیاسی جماعتیں ہیں مگر خدمت کا عالم یہ ہے کہ عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے بیزار ہیں موسم گرما میں بجلی اور موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ یہ عوامی خدمت کا پہلا تحفہ عوام سالوں سے بھگت رہے ہیں یہ بات تو طے ہے کہ کسی سیاست جماعت کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہوگی ایک مخلوط حکومت کے لئے عوام تیار رہیں۔ تاہم نوازشریف نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے آواز بلند کی ہے نوازشریف معیشت کو ملکی اثاثہ قرار دے رہے ہیں۔ عوام کو الیکشن سے قبل معیشت کو مستحکم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کریں کہ وہ معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے کسی بھی ملک کی مضبوط معیشت ملازمتوں کی تخلیق مہنگائی میں کمی کا باعث بنتی ہے بلاول بھٹو نے پشاور میں دوبارہ روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا ہے ان کے پاس معیشت کو مستحکم کرنے کا کیا پلان ہے ملک میں پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار ہیں۔ عوام بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور ہیں ملکی معیشت کو اس وقت انقلابی اصلاحات اور قیادت کی ضرورت ہے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملکی وسائل پر بھرپور توجہ دے پوری دنیا میں اقتصادی ترقی کی دوڑ لگی ہے جذباتی اور نعرہ بازی کی سیاست سے نکل کر معیشت کے حوالے سے عملی اقدامات کئے جائیں۔

  • تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

    تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات
    مولف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 255۔۔۔4کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 3250روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور
    رسالت ماٰ ب ﷺ بچوں کے بھی رسول ہیں ۔ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ بے انتہا محبت فرمایا کرتے تھے ۔ جبکہ بچے بھی نبی رحمت ﷺ سے محبت کرتے اور آپ ﷺ پرجان قربان کرنے کےلئے تیار رہتے تھے ۔ معوذ ومعاذ دو ننھے منے بچوں کی رسالت ماٰ ب کے ساتھ محبت اور جانثاری تاریخ اسلام کاایک روشن باب اور ہمارے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔ آج ہم پر بھی بطور والدین فرض ہے کہ اپنے بچوں کے دل ودماغ میں نبی رحمت ،رسول معظم ﷺ کی اس طرح کی محبت وعقیدت راسخ کریں جو محبت معوذ ومعاذ رضی اللہ عنھما کے والدین نے اپنے بچوں کے دلوں میں پیدا کی تھی ۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ بچوں کو رسول پاک ﷺ کے واقعات سنائے جائیں اور ایسی کتابیں پڑھنے کےلئے دی جائیں جن میں نبی مکرم رسول رحمت ﷺ کی سیرت بیان کی گئی ہو ۔ زیر نظر کتاب ” بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات “ اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔

    کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔ دارالسلام انٹرنیشنل بچوں کےلئے اسلامی ، اصلاحی ، تربیتی کتابیں شائع کرنے میں عالمی شہرت کاحامل ہے جبکہ عبدالمالک مجاہدسیرت النبی ﷺ پر بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں ان میں بہت سی کتابیں ایسی ہیں جو بطور خاص بچوں کےلئے لکھی گئی ہیں ۔” بچوں کے لیے سنہری سیرت کے منتخب واقعا ت “ میں دلچسپ اور دیدہ زیب پیرائے میں سیرت النبی ﷺ بیان کی گئی ہے تاکہ بچے بچیاں نبی ﷺ کی پاکیزہ سیرت سے آگاہ ہوکر اسلامی اخلاق و کردار اپنا سکیں اور مروجہ لٹریچر کی آلودگی اور قباحتوں سے بچے رہیں جو انھیں افسانوی اور دیومالائی کہانیوں کی لت میں مبتلا کرکے اسلامی اخلاق سے آراستہ نہیں ہونے دیتا ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب شائع کی گئی ہے۔ اس پاکیزہ مجموعے کو شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے چہار رنگ تصویروں اور خاکوں سے مزین کیا گیا ہے تاکہ بچے تصاویر کے ذریعے سے واقعات کو سمجھیں اور اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے واقف ہو سکیں ۔تاہم کتاب میں اللہ کے نبی ﷺ یا کسی صحابی کو تصویر یا خاکے میں نہیں دکھایاگیا ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ خوبصورت اور دیدہ زیب کتاب بچوں بچیوں کو بے حد پسند آئے گی اوراس کے مطالعہ سے ہمارے بچوں کےلئے سیرت مقدسہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔یہ کتاب 81عنوانات پر مشتمل ہے اس کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ آسان فہم کےلئے ہر عنوان کے آخر میں سوال و جواب بھی دیے گیے ہیں تاکہ بچے غور سے پڑھیں اور سوالات کے ذریعے ان واقعات کو یاد رکھ سکیں ۔ آرٹ پیپر پر شائع کردہ یہ کتاب مضمون کے اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے طباعت کے اعتبار سے بھی بہت دلکش اور دیدہ زیب ہے ۔

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

  • میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    نصرت زہرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ اور صحافی نصرت حسین زہرا کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے ان کے والدین کا تعلق امرتسر سے ہے جو کہ تقسیم ہند سے چند ماہ قبل ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔ ان کے والد صاحب کا نام امانت علی اور والدہ محترمہ کا نام فہمیدہ بانو ہے ان کے 3بھائی اور 5 بہنیں ہیں ۔نصرت زہرا نے کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا ہے ۔وہ ایشیا کے پہلے پنجابی نیوز چینل اپنا ٹی وی میں بحیثیت نیوز اینکر فرائض انجام دے چکی ہیں وہ دنیائے ادب کے مقبول ترین ادبی پروگرام” بزمِ شاعری” میں بحثیت میزبان ایک برس تک بخوبی فرائض انجام دیے انہوں نے پاکستان کی مقبول ترین شاعرہ پروین شاکر کی شاعری اور شخصیت سے متاثر ہو کر شاعری شروع کی اور وہ پروین شاکر کو ہی شاعری میں اپنا استاد مانتی ہیں ۔انہوں نے پروین شاکر کی سوانح حیات ” پارہ پارہ” کے نام سے تحریر کی ہے ۔نصرت زہرا کی شاعری کا مجموعہ” الفراق ” ترتیب و اشاعت کے مرحلے میں ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوک ہر خار پر جو خوں ٹھہرا
    مری ہستی میں تو جنوں ٹھہرا

    تری راہوں کو چن لیا دل نے
    پھر مرے خواب کا زبوں ٹھہرا

    جانے کس دھن میں چل رہی تھی ہوا
    خطۂ یاس میں سکوں ٹھہرا

    رنگ بدلے کئی زمانوں نے
    دل کی حالت کہ جوں کا توں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی
    وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    کیا کہا تو نے دل گرفتہ سے
    پرچم آس سرنگوں ٹھہرا

    مضمحل تھا کوئی بہت کل رات
    پھر طلسمات کا فسوں ٹھہرا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے طوفان اس سفر میں ہیں
    جیسے کچھ حادثے نظر میں ہیں

    میرے بھی دل میں راکھ اڑتی ہے
    تیرے بھی خواب اس اثر میں ہیں

    وہ گھنا پیڑ ہو کہ سایہ طلب
    آخرش سب ہی چشم تر میں ہیں

    پیاس سے دم مرا بھی گھٹتا ہے
    شب کے سناٹے بھی خبر میں ہیں

    خواہش بے نوا ہے جب سے سوا
    تیرے افسانے ہر نگر میں ہیں

  • گوجرانوالہ میں قرآن وسنہ موومنٹ کاعظیم الشان جلسہ عام

    گوجرانوالہ میں قرآن وسنہ موومنٹ کاعظیم الشان جلسہ عام

    تحریر:ارشاد احمد ارشد
    شاعر مشرق ، حکیم الامت ، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے کہا تھا
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    وہ افراد جن کو علامہ محمد اقبال نے ملت کا ستارہ قراردیا تھا ان میں سے ایک علامہ ابتسام الہی ظہر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر جواں سال ، جواں عزم اور جواں ہمت ہیں ۔ وہ شہید ملت علامہ احسان الہیٰ ظہیر کے فرزند ہیں اس اعتبار سے وہ قائد ابن قائد ہیں ۔ اپنے والد گرامی کی طرح علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کے لہجہ میں بھی وہی گھن گرج ، کلمہ حق کہنے کی وہی لگن ، اسلام کی سربلندی کی وہی تڑپ ، باطل کو للکارنے اور طوفانوں سے ٹکرا جانے کی وہی شدت وحدت اور امت کو بیدار کرنے کی وہی فکر موجزن ہے ۔ انھوں نے اپنی زندگی کلمہ حق کی سربلندی کےلئے وقف کررکھی ہے ۔ وہ اس وقت پاکستان کی سیاست کی ایک موثر اور توانا آواز ہیں ۔ تمام مذہبوں جماعتوں کے سٹیج کی رونق ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ، بات کرنے کا طریقہ اور سلیقہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔وہ
    نرم دم ِ گفتگو ، گرم دم جستجو
    رزم ہو یا بزم ہو پاک دل وپاکباز
    کی عملی تصویر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیراعلیٰ پائے کے خطیب ، ادیب ، مدبر ، سیاستدان اور قرآن وسنہ موومنٹ کے چئیرمین ہیں ۔ قرآن وسنہ موومنٹ کا قیام اگر چہ کچھ ہی عرصہ قبل عمل میں لایا گیا تھا لیکن علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کی متحرک اور فعال شخصیت کے بدولت یہ اس وقت ایک ملک گیر جماعت بن چکی ہے ۔ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں قرآن وسنہ موومنٹ نے کامیاب اور شاندار جلسے کرکے خود کو منوالیا ہے ۔ ایسا ہی ایک جلسہ گذشتہ دنوں پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں بعنوان” نفاذ اسلام واستحکام پاکستان“ منعقد کیا گیا ۔

    علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر خود بھی نوجوان ہیں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ نوجوان ان کے گرویدہ اور ہراول دستہ ہیں ۔ قرآن وسنہ کے ملک میں جہاں بھی پروگرام ہوں اس میں نوجوان پیش پیش ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ کے جلسہ کو کامیاب کروانے اور اس کے انتظامات میں نوجوان پیش پیش تھے ۔ گوجرانوالہ کا منی سٹیڈیم تنگ داماں کا شکوہ کررہا تھا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، جن کے جذبات آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے ۔جلسہ سے کلیدی خطاب علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا تھا جو کہ بہت فکر انگیز اور ملک کو درپیش تمام مسائل کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ انھوں نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا پاکستان کے حصول کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔قیام پاکستان کے لیے نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین نے تاریخ ساز قربانیاں دیں، اپنے گھروں کو، آبائی مکانات کو خیر باد کہا اور پاکستان آکر آباد ہوئے۔ان قربانیوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایک ایسی ریاست حاصل کی جائے جس میں اسلامی قوانین کے علمبرداری ہواور اسلام کا پرچم سربلند ہو ، جس کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اسلام کا بول بالا ہو ۔یہ خواب تھے جو پاکستان بنانے والوں نے دیکھے تھے لیکن بدقسمتی اور بد نصیبی کی بات ہے کہ بانیان پاکستان کے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے ۔اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں ہر طرف فواحش ومنکرات کا دور درہ ہے ، شراب، جوئے، قمار بازی اور بدکاری کے اڈے کھلے ہوئے ہیں، بینکوں میں سودی لین دین کے کاونٹرزجاری و ساری ہیں۔ ان منکرات کے خاتمے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے لیکن حکومت ان کے خاتمہ کی بجائے ٹرانس جینڈر بل اور اس قسم کی دیگر خرافات کو پھیلانے میں مصروف ہے۔گذشتہ کچھ سالوں سے ملک میں” عورت مارچ “ کا انعقاد بھی شروع ہوچکا ہے جس سے ملک کے اسلامی ، تہذیبی، نظریاتی اور فکری ڈھانچے کو شدید قسم کے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔” عورت مارچ “ جیسی خرافات کا نتیجہ ہے کہ ملک میں مختلف مقامات پر جنسی جرائم کے واقعات تشویشناک اور خوفناک حد تک بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ایک عرصہ پہلے قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزائے موت تجویز کی گی تھی لیکن تاحال اس پہ عمل نہیں ہو سکایہ اس لئے کہ حکومتوں کی ترجیحات میں برائی ، بے حیائی اور جنسی جرائم کا خاتمہ نہیں ہے ۔

    علامہ ابتسام الہی ظہیر نے مزید کہا کہ ملکی معیشت بھی ایک عرصے سے دھچکوں اور تنزلی کا شکار ہے۔جس کا نتیجہ ہے کہ غریب اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس گیا ہے ۔ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان سے سودی نظام ختم کرنا ہو گا۔ اسی طرح ملک میں برآمدات اورصنعت کاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت تجارتی اعتبار سے تاجروں کو ریلیف دے ،ملک میں کاروبار کے ذرائع اور مواقع بڑھائے جائیں تا کہ ملک میں مقیم لوگ بیرون ملک جانے کی بجائے پاکستان ہی میں اچھا روزگار تلاش کریں۔ ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے تاکہ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔پاکستان کے دفاعی اثاثوں کا تحفظ کرنا جہاں عسکری اداروں کی ذمہ داری ہے وہیں دفاعی اثاثوں کی حفاظت کے لیے عوام کو بھی ہوشیار ،چوکنا اور بیدار رہنے کی بھی ضرورت ہے۔پاکستان کو بین الاقوامی تنازعات کے اندر بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ جہاں جہاں مسلمان مظلوم ہیں ان کی حمایت کیلئے بھرپور طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے۔ پاکستان کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مساوی بنیادوں پر تعلقات رکھنے چاہئیں اور اپنی معیشت کو فروغ دینے لیے قرضوں کی بجائے خود داری کے راستوں پر چلنا چاہیے۔ پاکستان کی بقاءاور استحکام کے لیے اسلام اور آئین کی سربلندی انتہائی ضروری ہے۔

    پاکستان کا آئین۔۔۔۔ کتاب و سنت کی عملداری، پابندی اور سرفرازی کی ضمانت دیتا ہے لیکن بد نصیبی سے عرصہ دراز سے اس بات پر صحیح طریقے سے عمل نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے ملک میںنظریاتی اعتبار سے کشمکش کی کیفیت نظر آتی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی اسلامی قوانین کی افادیت کو اہمیت نہیں دی۔ان حالات میں ملک کی تمام دینی جماعتوں کو ایک پیج پر آکر اللہ تبارک وتعالیٰ کی دین کی سربلندی کے لیے یکسوئی سے اپنا کردار ادا کرناہوگا۔سامعین سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ قیم الہیٰ ظہیر ڈپٹی سیکرٹری جنرل قرآن وسنہ موومنٹ نے کہا کہ پاکستان کے نظریاتی استحکام ہی سے ملک ایمان و استحکام کے راستے پہ چلے گا۔نوجوانوں کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا اگر نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں گے تو اس صورت میں ہی پاکستان مستحکم ریاست کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا اسرائیل وفلسطین تنازعے کے حل کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور مظلوم فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے۔
    gujrawala
    جلسہ عام سے پروفیسر سیف الرحمن بٹ نائب صدر ، الشیخ عبدالرزاق اظہر چئیرمین قرآن وسنہ موومنٹ گوجرانولہ ، محمد نوریز ملک ناظم تعلقات عامہ قرآن وسنہ موومنٹ ، ڈاکٹر صلاح الدین چئیرمین قرآن وسنہ موومنٹ لاہور اور دیگر رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔جلسہ میں درج ذیل قراردادیں بھی منظور کی گئیں کہ ناموس صحابہ بل پاس کیا جائے اور اس حوالے سے تمام دینی طبقات یکسو اور متحد رہیں۔ انتخابات کو ملتوی یا موخر کرنے کی بجائے ان کا بروقت انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔ انتخابی دھاندلیوں کو روکنے کے لیے مضبوط اور ٹھوس منصوبہ بندی اختیار کی جائے۔ملک میں تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔ایک قراردا کے ذریعے اسرائیلی مظالم کی بھرپور انداز سے مذمت کی گئی آخر میں فلسطینی بھائیوں کے لیے اظہار ِ یکجہتی کیا گیا اور نہایت ہی پر سوز طریقے سے فلسطین کے لیے دعا بھی کی گئی۔

  • روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات

    روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات

    روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات
    روسی صدر ولادی میر پوتن نے حال ہی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی۔ اسرائیل ٹائمز کے مطابق ان کی ملاقات کے دوران، پوتن نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے لئے ‘نیک خواہشات’ کا پیغام پہنچایا، اورگزشتہ سال کے دوران کی جانے والی حمایت پر شکریہ ادا کیا،

    دونوں رہنماؤں کے مابین جن اہم موضوعات پر بحث کی گئی ان میں سے ایک حماس اسرائیل تنازعہ تھا، جو غزہ میں شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ روسی صدر نے مشرق وسطیٰ کے ایک غیر معمولی دورے کے دوران اس جاری جنگ اور اس میں دوسرے ممالک کو شامل کرنے کی صلاحیت پر بات کی جس سے اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین پر روس کے بڑے حملے کے باوجود، وہ غزہ کے تنازعے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں، جس سے غزہ میں مبینہ نسل کشی کے لیے اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے خلاف مہم میں اس کی شمولیت کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا روس، جو اس وقت یوکرین پر مغربی بلاک کے ساتھ جنگ میں ہے، متضاد موقف اپنا رہا ہے؟

    2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے، وہ ایران کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، دونوں ممالک کو مغرب کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے

    مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کا کردار انتہائی کم قرار دیتے ہوئے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار کے دفتر (یو این ایس سی او) کے حکام نے صورتحال کو حل کرنے کی کوشش میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا ہے تاہم، ان کوششوں کی تاثیر پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے، کیونکہ تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، اور اقوام متحدہ کے کردار کو روک تھام سے زیادہ رد عمل کا حامل قرار دیا ہے۔

    یوکرین اور مشرق وسطی کے تنازعات میں روس کی دوہری مصروفیت کے ساتھ، مشرق وسطی کی صورت حال پیچیدہ ہے، اس کے محرکات اور اتحاد کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کوششیں جو اگرچہ موجودہ ہیں تا ہم کچھ لوگوں کے نزدیک خطے میں دیرینہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔

  • 12 دسمبر، تاریخی دن، تجزیہ، شہزاد قریشی

    12 دسمبر، تاریخی دن، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزا قریشی)
    اگر کوئی پاکستان کی تاریخ لکھ رہا ہے تو اٰسے 12 دسمبر2023 کے دن کو تاریخی دن قرار دے کر لکھنا چاہیئے ۔ آج ایک بین الاقوامی قد آور سیاسی شخصیت سابق وزیرعظم ذوالفقار بھٹو کا کیس یعنی صدارتی ریفرنس عدالت میں زیر سماعت تھا جب کہ ایک سابقہ وزیراعظم جو اس ملک کے تین بار وزارت عظمیٰ پر رہے میاں محمد نواز شریف کا کیس بھی زیر سماعت تھا جبکہ ایک سابقہ وزیراعظم عمران خان کا بھی آج ہی کیس زیر سماعت تھا ۔ اس طرح آج ملک کے تین وزرائے اعظم جن میں ایک اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور دو وزرائے اعظم حیات ہیں۔ا ن کے کیس زیر سماعت ہیں۔ بھٹو خاندان مظلوم خاندان ہے ۔ سیاسی سفیر حیات ہیں بھٹو خاندان نے بہت زخم کھائے ، زخم کھاتے کھاتے پورا خاندان منوں مٹی تلے دفن ہو گیا ۔ لیکن آج کی سیاسی گلیاروں میں اقتدار ، اختیارات ، عہدے اور وہ سیاستدان جن کے آبائو اجداد نے 8 ستاروں پر مشتمل قومی اتحاد تشکیل دیا جس کو پی این اے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ سیاسی گلیاروں میں سیاست کرنے والی سیاسی اور مذہبی جماعتیں تاریخ کے اوراق پلٹیں اور دیکھیں کے ان کے آبائو اجداد نے بھٹو جیسے عظیم لیڈر کے خلاف کس کے کہنے پر اور کس بین الاقوامی طاقت کے کہنے پر تحریک شروع کی تھی ؟

    ملکی سیاست کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے وہ گل کھلائے جس سے جمہوریت بھی پناہ مانگتی نظر آئے گی۔ آج کی سیاست پر کالی و سفید دولت کا غلبہ ہے ۔ آڈیو ، ویڈیو اور سوشل میڈیا پر جو گندگی پھیلائی جا رہی ہے کیا اس سے ملک کی معیشت مستحکم ہو گی ؟ دنیا کہاں پہنچ رہی ہے ا ور کہاں پہنچ گئی ہے ۔ ایک دوسرے پر الزام در الزام کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔سیاستدانوں بالخصوص سیاسی جماعتوں کے عمائدین کو کون سمجھائے عروج اور زوال کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ اگر کوئی تاریخ سے سبق حاصل نہ کرئے تو کیا کہا جا سکا ہے ۔ آج کی سیاست کا دارو مدار ، ایک دوسرے کی مخبری ، اقربا پروری ، مفاد پرستی ، حصول اقتدار ، جاہ و جلال تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ تاہم آج کی ملکی سیاسی جماعتیں کبھی کبھی سینہ کوبی کرتی نظر آتی ہیں کہ ہمیں سچا پیار نہیں ملا ۔ بھٹو بننے کے لئے بقول اقبال ۔
    ہو صداقت کے لئے جس کے دل میں مرنے کی تڑپ
    پہلے اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرئے

  • ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    رنج دکھ آلام سب دور سے ٹلتے رہے
    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    رانا خالد محمود قیصر

    12 دسمبر : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رانا خالد محمود قیصر
    تاریخ پیدائش : 12 دسمبر1961
    جائے پیدائش۔۔پڈعیدن ضلع نوشہرو فیروز۔۔سندھ
    تعلیم۔۔۔ایم اے (اردو۔۔۔تاریخ_ عمومی) ایم بی اے فنانس ۔۔ایل ایل بی(ایس ایم لاء کالج۔۔کراچی) ایم فل اردو۔۔کراچی یونیورسٹی( حسن حمیدی احوال و آثار بحوالہ ترقی پسند شاعر) ریسرچ اسکالر۔ پی ایچ ڈی ۔کراچی یونیورسٹی۔۔موضوع۔۔سندھ میں اردو غزل۔ادبی و سیاسی رجحانات

    ملازمت۔۔۔پاکستان اسٹیل ملز 1981تا جون 1987۔ الائیڈ بنک۔۔ 1987 تاریخ 2021۔۔ریٹائرڈ بطور ریجنل ہیڈ آپریشنز/ بزنس

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اذفر کون ہے۔۔۔اذفر زیدی اور تلامذہ کا تزکرہ
    گلشن عقیدت۔۔۔اذفر زیدی کا تقدیسی کلام۔۔مرتب
    ہندسوں کے درمیان۔۔غزلیں
    ادبی جمالیات مضامین
    امید سہارا دیتی ہے غزلیں
    ارباب قرطاس و قلم مضامین
    آگہی۔۔مضامین
    مقالہ۔ایم فل۔۔حسن حمیدی احوال و آثار بحوالہ ترقی پسند شاعر
    ہجر_ ناتمام غزلیں
    مری جستجو مدینہ ۔۔حمد و نعت سلام و منقبت۔
    تخلیق_ حمد و نعت کی تعمیری تنقید
    نگاہ_ صداقت۔ غزلیں
    پرکار۔۔غزلیں
    عصری ادب اور تنقیدی روئیے
    عکس_ اذہان

    کراچی اور پڈ عیدن ضلع نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ادیب، شاعر، مصنف ، محقق اور بینکار رانا خالد محمود قیصر صاحب کا خاندان تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے 1947 میں پڈ عیدن سندھ میں آباد ہوا۔ رانا خالد محمود قیصر صاحب 7 بھائی اور ان کی 4 بہنیں ہیں ۔ رانا خالد ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں کراچی منتقل ہو گئے مگر اپنے پیدائشی شہر پڈ عیدن میں اب بھی ان کا گھر موجود ہے وہاں سے ان کا تعلق نہیں ٹوٹا ۔ رانا صاحب نے 1974 سے شاعری شروع کر دی ، 1987 میں نوابشاہ میں شادی کی ۔ اولاد میں انہیں 3 بیٹیاں منزہ خالد، ڈاکٹر مائدہ خالد اور ماہ رخ جبکہ دو بیٹے رانا عبدالمنان کمپیوٹر انجنیئر اور رانا عبدالحنان سائٹ ویئر انجنیئر فاسٹ یونیورسٹی کراچی ہیں ۔

    رانا خالد محمود قیصر کی شاعری سے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔

    میکدے ہوں گے مگر ایسے کہاں ہیں قیصر
    ایک ساغر سے ہزاروں کو پلانے والے

    ریت الفت میں یہ ڈالی جائے
    راہ آپس میں نکالی جائے

    روز کے لڑنے سے تو بہتر ہے
    ایک دیور اٹھا لی جائے

    رنج دکھ آلام سب دور سے ٹلتے رہے
    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    اپنا بنا کے ہم نے رکھا دل نہ رہ سکا
    تم نے نظر ملائی تھی کہ اپنا دل گیا

    مسکراتی ہے مجھے دیکھ کر اب ان کی نظر
    آج بدلی ہوئی تقدیر نظر آتی ہے

    ٹھنڈک رہے گی آنکھوں میں قیصر مری سدا
    اے جان تیرے حسن کے منظر سمیٹ لوں

  • ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    کیسے کیسے لوگ / آغا نیاز مگسی

    گزشتہ شب واٹس ایپ پر خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ صاحبہ کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں کے متعلق تعارفی سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ میرا تعلق ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان پنجاب میں ہے یا سندھ صوبے میں ؟ مجھے ان کے اس غیر متوقع بلکہ معصومانہ سوال پر ایک لمحے کیلئے تھوڑا سا غصہ آیا لیکن جلد ہی میں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے وضاحت کی کہ محترمہ بلوچستان نہ تو پنجاب میں ہے اور نہ ہی سندھ میں واقع ہے بلکہ یہ بھی پاکستان کا ایک صوبہ ہے تاہم ، میں ان کو اس وقت یہ بتانا بھول گیا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور معدنیات و دیگر قدرتی وسائل کے لحاظ سے شاید دنیا کا سب سے امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود غربت اور پسماندگی میں بھی بلوچستان ایک عالمی ریکارڈ رکھتا ہے۔

    کراچی کی ایک سینیئر شاعرہ جو کہ بیرون دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کر چکی ہیں وہ گزشتہ 4 ماہ سے مجھ سے پوچھتی رہتی ہیں کہ آغا صاحب آپ کس شہر سے ہیں ؟ اور میرا ہر بار وہی جواب ہوتا ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہوں ان سے بھی سینیئر ترین شاعرہ جرمنی کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ مذہبی اسکالر بھی ہیں وہ گزشتہ 5 سال سے سال میں ایک یا دو بار مجھ سے رابطہ کر کے پوچھتی ہیں کہ آغا صاحب وہ جو آپ نے میرا تعارف لکھا تھا اگر آپ کے پاس اس کی کاپی ہے تو پلیز مجھے سینڈ کریں مجھ سے کسی اخبار یا میگزین والے نے مانگا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میں واٹس ایپ پر انہی کی ڈی پی سے کاپی پیسٹ کر کے انہیں دوبارہ ارسال کر کے ان کی ڈھیر ساری دعائیں سمیٹ لیتا ہوں ایسا معاملہ صرف خواتین تک محدود نہیں ہے۔

    نصیر آباد میں ایک ڈپٹی کمشنر صاحب کافی عرصہ پہلے تعینات تھے میں جب بھی ان سے کسی سلسلے میں ملاقات کیلئے جاتا تو مجھے بڑے اخلاق سے کہتے کہ ” جی جناب حکم فرمائیں آپ کس ڈپارٹمنٹ سے ہیں ” ۔؟