Baaghi TV

Category: بلاگ

  • روسی صدر کا 2030 تک حکمرانی کا ہدف

    روسی صدر کا 2030 تک حکمرانی کا ہدف

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں آئندہ 2024 کے صدارتی انتخابات لڑنے کا بھی اعلان کیا، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے وہ کم از کم 2030 تک اقتدار میں رہیں گے۔ یہ انتخابات 15 سے 17 مارچ 2024تک ہوں گے، اور ان الیکشن میں تقریباً 110 ملین ووٹرز اپنی رائے دیں گے، تاہم، تاریخی رجحانات کم ٹرن آؤٹ دکھاتے ہیں، 2018 کے انتخابات میں 67.5 فیصد ووٹرز کی شرح ریکارڈ کی گئی۔

    پوتن نے 1999 میں بورس یلسن کی جگہ صدارت سنبھالی تھی اور اس کے بعد وہ جوزف اسٹالن کے بعد روس کے سب سے طویل عرصے تک صدر رہنے والے رہنما بن گئے ہیں۔ مارک گیلیوٹی کی کتاب، "Putin’s Wars” میں 2000 کی دہائی سے اب تک کی روس کی فوجی مصروفیات کا ایک جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ روسی سیاسی اور سلامتی کے امور کے معروف اسکالر Galeotti نے دو چیچن جنگوں، شامی تنازعے میں روسی مداخلت، جارجیا پر حملہ، کریمیا کا الحاق، اور یوکرین میں وسیع تنازعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
    Galeotti کا کام حالیہ تنازعات سے آگے بڑھتا ہے، جو روس کی اعلیٰ ترین اور فرسودہ مسلح افواج کو دوبارہ منظم کرنے میں کامیاب وزراء دفاع کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لے رہے ہیں، پوتن کے پہلے وزیر دفاع، سرگئی ایوانوف (2001–2007) نے فوجی جرنیلوں کی مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر بھرتی کرنے پر ایک کنٹریکٹ آرمی کی وکالت کی۔

    میں قارئین کی توجہ ایک نقطے کی طرف مبذول کرانا چاہوں گی، غزہ میں نسل کشی کی وجہ سے،ارد گردجانے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یوکرین کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے امداد بند ہو رہی ہے۔ حماس نے ایرانی مالی معاونت سے یہ حملہ شروع کیا جو آگ کی طرح پھیل گیا، غزہ کو قبضے میں لے لیا گیا، بالکل اسی وقت جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہونے والا تھا جس سے فلسطینیوں کو زیادہ فائدہ اور یقیناً ایران کو نقصان ہوگا، اس حملے کے بعد آگ پھیل گئی، اسرائیل کی طرف سے ردعمل کو شاید اچھی طرح سمجھا گیا تھا، اس تباہی کے گرد گھومنے کے لئے ابھی بہت کچھ باقی ہے جس نے دنیا کو ٹکرایا، یوکرین کو ذیلی متن میں لے گیا اور آخر کار اسے روس سے لڑنے کے لیے کمزور بنا دیا۔
    آخر سیاست ایک گندا کھیل ہے

  • انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    الیکشن سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم سیاسی نام نہاد رہنماؤں جو ہر ضلع اور ڈویژن کی سطح پر پائے جاتے ہیں اپنی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو گمراہ کر کے اپنی دولت میں تو اضافہ کرتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں اور اپنی قیادت کی بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں سودے بازی میں ملوث ہوتے ہیں یہ وہ نام نہاد رہنما ہیں جو حقیقی اور مخلص کارکنان اور نظریاتی شخصیات کے حقوق پر ڈاکے کے مترادف ہے یہ لوگ سیاسی جماعتوں کی ارتقائی پرورش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ راولپنڈی ضلع اور ڈویژن میں جاری یہ روش مسلم لیگ (ن) کے کئی نام نہاد رہنما اس میں ملوث ہیں۔ میاں محمد نوازشریف جلاوطنی کی ایک طویل رات گزارنے کے بعد ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات کی آمد پر مسلم لیگ (ن) کو مکمل بیداری کے ساتھ ایسے نام نہاد سیاسی رہنمائوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرنا ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں وفادار، اچھی شہرت، رکھنے والی شخصیات کو الیکشن ٹکٹ دینے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کو یہ پرکھ کرنی ہوگی کہ کون لوگ لینڈ مافیا، کرپٹ پولیس افسران اور جرائم پیشہ حلقوں کے ہم نوالہ رہے ہیں اور کون اپنی جان کی بازی لگا کر پارٹی قیادت کے ساتھ مشکل کھڑے رہے پارٹی قیادت کو دیکھنا ہوگا اپنے نیچے امیدواروں کو اس گارنٹی پر ٹکٹ دلوانے پر کوشاں ہیں کہ ان کے الیکشن کے اخراجات بھی ان کے مرہون منت امیدواران برداشت کریں گے ان لٹیروں کی تلاش اور کرپٹ سہاروں کے بل بوتے پر انتخابی دنگل میں اترنے والے پہلوان حقیقی مخلص کارکنوں کو دوسرے پارٹی عہدیداروں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ کئی رہنمائوں نے جیلیں کاٹی مقدمات کا سامنا کیا لیکن ان سزائوں اور مقدمات میں مسلم لیگ (ن) کو یہ جانچنا ہوگا کون اپنے کردہ جرائم کی وجہ سے جیلوں میں گیا اور کون ناکردہ گناہوں کی سزا محض میاں نوازشریف اور پارٹی قیادت سے وفاداری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سیاسی سفر حیات کے نشیب و فراز سے میاں محمد نوازشریف، مریم نواز اور دیگر پارٹی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے۔ شباب کی چوکھٹ پر قیام پذیر افراد کو کیا معلوم جو اپنی معیشت مستحکم کرنے میں مصروف ہیں وہ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں کیا کردار ادا کریں گے؟

  • نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    2024ء کی آمد آمد ہے الیکشن کمیشن نے قومی انتخابات کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ نوازشریف نے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ لندن سے واپسی پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت کان لیگ میں شامل ہونا نوازشریف کی ووٹروں پر مسلسل گرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گرفت کا سہرا ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی سیاست اور مقبولیت کو کم نہیں ہونے دیا پابندیوں کے باوجود وہ اپنے والد کا مقدمہ گلی کوچوں بازاروں میں پہنچاتی رہی۔

    بلاشبہ نواز شریف کے دور حکومتوں میں پاکستان نے حقیقی ترقی کی تھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ موٹرویز، ایرپورٹ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوطی میں بھی نوازشریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    بلاشبہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا دبائو رہتا ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ملکی سلامتی کے ذمہ دار پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو لے کر چاک و چوبند ہیں۔ چین اور امریکہ کے اپنے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے ذمہ داران ریاست کے بھی اس ملک کی سلامتی اور بقا کے مفادات ہیں اس سلسلے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کی قربانیوں کو فراموش میں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاک فوج ملک کو 1971ء کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کی علیحدگی ہوئی۔ افسوس صد افسوس ملک میں رہنے والے بعض دانشور، سیاسی تجزیہ نگار، سوشل میڈیا پر عمران خان کی محبت میں ملکی سلامتی اور بقا کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں مگر وہ ہوش نہیں جوش سے کام لینے والے لیڈر ہیں۔ سیاست میں بردباری اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • بابری مسجد کاانہدام ۔۔۔غیرت ِ مسلم کا امتحان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بابری مسجد کاانہدام ۔۔۔غیرت ِ مسلم کا امتحان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    6دسمبر1992ء …تاریخ کاوہ دلخراش اور افسوسناک دن ہے جب مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی‘مغل بادشاہ وسپہ سالار ظہیرالدین بابرکے عہد(1528ء ) کی بنائی گئی 500 سالہ تاریخی بابری مسجد کوانتہاپسنداور جنونی ہندؤوں نے شہیدکردیا۔ان انتہاپسندہندؤوں کادعویٰ تھا کہ بابری مسجد ان کے خداراما(1500 ق م)کی جائے پیدائش ہے‘ یہاں گیارہویں صدی عیسوی میں مندرتعمیر کیاگیاتھا بعدمیں اسے گراکربابری مسجد بنائی گئی۔ ہندؤوں نے بابری مسجد کواپنے خداراما کی جنم بھومی قراردینے کادعویٰ سب سے پہلے 1855ء میں انگریزوں کے دورمیں کیا ‘گویاہندؤوں کوبابری مسجد بننے کے تقریباً350سال بعد اور راما کی پیدائش کے تین ہزار تین سو پچپن (3355)سال بعدپتہ چلا کہ یہ توان کے راماکی جائے پیدائش ہے۔اسی سے اندازہ ہو جاتاہے کہ ان کی تاریخی اور علمی تحقیق کی کیاحیثیت ہے۔ حالانکہ اگربابری مسجد واقعی ان کے خداکی جائے پیدائش ہوتی تویہ بہت مشہور اور یادگار جگہ ہوتی۔جیسا کہ تاریخ میں سومنات اوردیگر مندروں کاذکر توملتاہے لیکن مسلمانوں کے ہاتھوں راماکی جائے پیدائش والے مندر کے توڑنے اوراسے مسجد بنانے کاکہیں حوالہ نہیں ملتا۔ اگر مسلمانوں کے ہاتھوں سومنات اوریگرمندروں کے توڑنے کاذکر کتابوں میں جابجا موجود اور یقینا موجود ہے توپھرراما کی جائے پیدائش والے مندر کے توڑنے کی شہرت توسب سے زیادہ ہونی چاہئے تھی اور تاریخ کی کتب میں جابجا اس کا ذکر بھی ہونا چاہئے تھا ۔

    یہ طرفہ تماشہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک قوم کے خداکی جائے پیدائش پربناہوامندر ہو اوراس کی شہرت کاذکرتاریخ میں نہ ہونے کے برابر ملے‘اتنی بات ہی ہندؤوں کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے…ویسے ہندؤوں کایہ کیساخدا ہے جوخداہوکربھی اپنی جنم بھومی اورجائے پیدائش کی حفاظت نہ کرسکا اور وہاں اس کے دشمن مسلمان اپنی عبادت گاہ تعمیرکرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

    بابری مسجد کی شہادت کو آج 31برس مکمل ہوچکے ہیں ۔ یہ مسجد جو کعبہ کی بیٹی تھی ، کبھی ایستادہ تھی ،عالی شان تھی ، اس کی مضبوط بنیادیں تھیں ، موٹی دیواریں تھیں ، گنبد تھے لیکن آج اس کانام ونشان بھی مٹ چکا ہے ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے،دل لرزتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گائو ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو مسجد چیختی رہی ، کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ہندو مجھ پر ہتھوڑے برساتا رہا ، بزدل بنیا مجھ پر لاٹھیاں مارتا رہا ، میرے ان گنبدوں پر چڑھ گیا جن میں کبھی قرآن مجید کی تلاوت اور احادیث کی آوازیں گونجا کرتی تھیں ۔ بابری مسجد چلاتی رہی کہ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گائو ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔ صد حیف مجھے بچانے کیلئے کوئی بھی نہ پہنچا ۔ جس دن بابری مسجد کو شہید کیا گیا اس دن اترپردیش میں کرفیو لگا دیا گیا ۔ اس کے باوجود بھارت کے مسلمان اپنی طاقت ، وسائل اور استعداد کے مطابق جو احتجاج کرسکتے تھے کیا ۔۔۔۔۔۔لیکن 57اسلامی ممالک کے سربراہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے ۔آخر مٹی اور پتھر سے بنے دیوی اور دیوتائوں کے پجاری مسجد کے سینے پر چڑھ گئے۔

    حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ’’ ہندو توا ‘‘ کا عفریت برہنہ ناچ رہا ہے ۔ بھارت کی اکثریتی ہندو آبادی کی رگ رگ میں مسلم دشمنی سرایت کرچکی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت کے 25 کروڑ مسلمان بھی بے بس ہوگئے جو احتجاج کیلئے نکلے ان پر ہندو بلوائی ٹوٹ پڑے بابری مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں مسلمان شہید کردیے گئے ۔ جنونی ہندو 75 برس سے مسلسل مسلمانوں کو ذلیل کر رہے اور ان پر حملے کررہے ہیں مگر بھارتی مسلمان اس حد تک کمزور اور بے بس ہوچکے ہیں کہ وہ کسی حملے کا جواب دینے کی ہمت بھی نہیں کرسکتے ۔ ۔ بیچارے بھارتی مسلمانوں سے کیا شکوہ یہاں تو آزاد پاکستان کے مسلمان حکمران بھی اپنے کلمہ گو بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے ہیں ۔ان حالات میں بابری مسجد کہتی ہے کہ میں اپنی شہادت کی شکایت کروں تو کس سے کروں ۔۔۔۔۔۔؟ کیا مجال ہے جو تم نے جواب دینے کا سوچا ہو اور میرے لئے آواز اٹھائی ہو ۔ بابری مسجد کہتی ہے اے پاکستان کے مسلمانوں ! ذرا تم بھی تو بتلاؤ تم کیوں چپ سادھے بیٹھے رہے؟ ۔کیا تم نہیں جانتے کہ میں 1828 ء میں اس وقت بنی تھی جب بابر نے ایودیا کو فتح یاب کیا تھا تب بابر نے مجھے فتح کی یاد میں بنایا تھا۔ اس کا مطلب ہے میں اس وقت کی یادگار ہوں جب ہندوستان کے مسلمان مرد ِ میدان تھے مجاہدتھے اور موحد تھے ۔ بابری مسجد کے گرائے جانے کا یہ مطلب ہے کہ آج کے مسلمان مرد ِ میدان نہیں رہے اور ان میں سے جہادی روح ختم ہو گئی ہے ۔میں تو 1949 ء سے انتظار کر رہی ہوں اس وقت سے میرے در و دیوار نمازیوں کے رکوع وسجود اور قرآن کی تلاوت کو ترس گئے ہیں اب تو مجھے شہید ہوئے بھی 31برس ہونے کو آئے ہیں ۔تین عشرے گزرنے کے بعد بھی جب کوئی مسلمان میری مدد کو نہ آیا تو بتوں کے پجاریوں نے جان لیا کہ اب یہ قوم غزنوی اور بابر کی قوم نہیں یہ تو لتا کے گانے سننے والی قوم ہے۔ یہ ہماری معاشرتی رسموں مہندی ، تلک اور بسنت کی رسیا قوم ہے۔ یہ قراردادیں پیش کرنے ، اقوام متحدہ میں جانے ، جلوس نکالنے ، ٹائر جلانے اور نعرے لگانے والی قوم ہے۔ بھلا ایسی قوم سے خائف ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔؟
    ان حالات میں مسلمانوں کے پاس آخری چارہ کار کے طور پر عدلیہ کا دروازہ تھا چنانچہ مسلمانوں نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔ دلائل ، شواہد ، حقائق مسلمانوں کے حق میں تھے ۔ تاریخی کاغذات اور دستاویزات یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں مذکورہ جگہ کبھی مندر نہیں رہا بلکہ ابتدا ہی سے یہاں مسجد ہی تھی ۔اسلئے مسلمانوں کو یقین تھا کہ عدلیہ ان کے حق میں فیصلہ کرے گی ۔ لیکن مسلمان بھول گئے تھے کہ بھارتی عدلیہ انصاف کی بالادستی نہیں بلکہ ہندوتوا کی بالادستی چاہتی تھی ۔ اسی لئے بھارتی سپریم کورٹ نے ٹھوس حقائق ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مودی حکومت کے حوصلے مزید بڑھ گئے اس کے بعد مندر کی تعمیر کے مذموم پروگرام پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ۔

    جس جگہ کسی وقت میں مسجد تھی وہاں 70 ایکڑ کا رقبہ کمپلیکس کیلئے مختص کردیا گیا اور اس کمپلیکس کے اندر 2.67 ایکڑ کی جگہ پر نریندر مودی نے عین اس دن مندر کا سنگ بنیاد رکھا جس دن مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تھی ۔اس طرح سے مودی حکومت نے یہ پیغام دیا کہ بھارت ہو یا مقبوضہ جموں کشمیر ہر دو جگہ مسلمان ہی اس کا ٹارگٹ ہیں ۔ اس کے بعد تیزی سے مندر کی تعمیر کاکام شروع کردیا گیا ۔سو 15ارب روپے کی خطیر رقم کی لاگت سے مندر کی پہلی منزل مکمل ہوچکی ہے جسے جنوری 2024ء میں پوجا پاٹ کیلئے کھول دیا جائے گا جبکہ مندر کی تعمیر کا دوسرا اور آخری مرحلہ دسمبر 2025 میں مکمل ہو گا ۔

    بابری مسجد کی شہادت اور مندر کی تعمیر بی جے پی کے انتخابی ایجنڈے اور وعدے میں شامل تھی ۔ بی جے پی نے جووعدہ کیا پورا کیا جو چاہا حاصل کرلیا اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنا لیا ۔۔۔۔ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔ ۔پاکستان کے حکمران کیا کررہے ہیں ، وہ پاکستان جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا جس کے قیام میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے ۔ جس کے بانیان نے بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں اور مساجد کی حفاظت کے وعدے کئے تھے ۔ بابری مسجد اور دیگر شہید کی جانے والی مساجد کے منبر ومحراب اور مینار ہم سے سوال کرتے ہیں کہ اے پاکستان کے مسلمانوں ، حکمرانوں تم نے ہماری مدد اور حفاظت کے جو وعدے کئے تھے ۔۔۔۔وہ وعدے کب پورے کرو گے !

  • بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارت میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں،مدھیہ پردیش، راجستھان، اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگریس کودھچکا پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا بلاک کے اندر اقتدار کی تقسیم کی حرکیات کا از سر نو جائزہ لیا گیا ۔ ان ریاستوں کے نتائج نے نہ صرف کانگریس کو مایوس کیا بلکہ اس کے اتحادی شراکت داروں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں،جو خود کو نظر انداز کر رہے ہیں

    کانگریس کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے تعاون نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کانگریس کو ناکامی ہوئی،بھارت میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے شراکت داروں نے انتخابات میں جیت کی صورت میں اقتدار کی تقسیم کے حوالہ سے قبل از وقت مکالمے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم کانگریس کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا،کانگریس وقت سے قبل سودے بازی نہیں کر رہی تھی،بلکہ انکی توجہ انتخابات کے نتائج پر تھی،اتحادیوں کی جانب سے عدم اطمینان اور اقتدار کی تقسیم کو لے کر کانگریس کو انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا

    انتخابات کےبعد اتحادیوں نے کانگریس کی اہمیت پر سوال اٹھانے کا اشارہ کیا، کانگریس کو حزب اختلاف کی سب سے کمزور کڑی کے طور پر دیکھاجاتا ہے،قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے تین ریاستوں کرناٹک،ہماچل پردیش اور تلنگانہ میں کامیابی حاصل کی، کانگریس کی یہ کامیابی بعض علاقوں میں پارٹی کی موجودگی کوظاہر کرتی ہے

    دوسری جانب بھارت میں اس وقت کی حکمران جماعت بی جے پی نے راجھستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، بی جے پی نے 114 اسمبلی حلقے اور تقریباً 42 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں،میواڑ، برج، مارواڑ اور ہراوتی جیسے علاقوں میں بی جے پی کی کامیابی نے پارٹی کی تنظیمی طاقت کو نمایاں کیا ہے۔مروجہ رائے یہ ہے کہ راجستھان میں اشوک گہلوت کی زیرقیادت حکومت کے خلاف کوئی بری رائے سامنے نہیں آئے گی، کانگریس کو امید تھی کہ وزیراعلی گہلوت کی مقبولیت، انکی فلاحی سکیمز کی وجہ سے انتخابات میں کامیابی ملے گی تا ہم اس کے برعکس نتائج آئے،ووٹرزامن و امان کی صورتحال، کرپشن، خواتین پر مظالم سمیت دیگر اہم مسائل کو دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے کانگریس کو نتائج توقع کے برعکس ملے،وزیراعلیٰ گہلوت نے انتخابی نتائج کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ کہا کہ شکست کے اسباب پر غور کیا جائے گا،ہمارے منصوبے اچھے تھے اور پورے بھارت میں انکا تذکرہ تھا تاہم کامیابی نہیں ملی.

    بھارت میں ان انتخابات کے بعد کانگریس کو ایک مشکل دور کا سامنا ہے، اس لیے اس کی سیاسی حکمت عملی کے از سر نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔کانگریس کو ووٹر کے خدشات کو دور کرنا چاہئے اور انکی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے، ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر ،کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تازہ نقطہ نظر اور تخلیقی حل ناگزیر ہیں۔ کانگریس پارٹی کی انتخابی ناکامیوں نے انڈیا بلاک کے اندر اس کے کردار پر نظر ثانی کرنے پر تحریک دی ہے۔ جیسا کہ اتحادی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور کانگریس پر سوال اٹھاتے ہیں،اب کانگریس پارٹی کو خود کا جائزہ لینا چاہیے، اپنے نقطہ نظر کو اپنانا چاہیے، اور اتحاد کے مقاصد میں بامعنی حصہ ڈالنے کے لیے اپنی سیاسی حیثیت کی تعمیر نو کے لیے فعال طور پر کام کرنا چاہیے۔

  • جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    وہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    مظفر علی سید

    6 دسمبر 1929: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے معروف نقاد ، محقق اور شاعر مظفر علی سید 6 دسمبر 1929ء کو امرتسر پنجاب (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر میں اور مزید تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ 15 اگست 1947 میں ہندوستان کی تقسیم و آزادی کے بعد مظفر علی سید اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان منتقل ہو گئے ۔مظفر علی سید کی تصانیف میں "تنقید کی آزادی”، "فکشن، فن اور فلسفہ” اور "پاک فضائیہ کی تاریخ” شامل ہیں۔ انھوں نے اردو شاعری میں کلاسیکل غزل گوئی کو ترجیح دی اور چند بہترین غزلیں لکھی ہیں اس کے علاوہ انھوں نے نامور ادیب مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے "خامہ بگوش کے قلم سے” ، "سخن در سخن” اور "سخن ہائے گفتنی” کے نام سے بھی مرتب کئے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں۔
    1. تنقید کی آزادی (تنقید)
    2. پاک فضائیہ کی تاریخ (تاریخ)
    3. یادوں کی سرگم (خاکے)
    4. احمد ندیم قاسمی کے بہترین افسانے (ترتیب)
    5. خامہ بگوش کے قلم سے (ترتیب)
    6. سخن در سخن (ترتیب)
    7. سخن ہائے گفتنی (ترتیب)
    8. سخن اور اہل سخن
    9. 1001سوال جواب(معلومات عامہ) طبع فیروز سنز
    فکشن ، فن اور فلسفہ ( ڈی ایچ لارنس کے تنقیدی مضامین کے تراجم)
    10. لسانی و عرضی مقالات ( مجموعہ مضامین)
    11. "تنقید ادبیات اردو”( از سید عابد علی عابد) کاتنقیدی جائزہ

    مظفر علی سیدؔ نے 28؍جنوری 2000ء کو لاہور میں وفات پائی اور لاہور کے کیولری گراؤنڈ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے ۔

    مظفر علی سید کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو
    نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو

    دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول
    مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو

    نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ
    یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو

    نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے
    جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو

    اگر یہ تختۂ گل زہر ہے نظر کے لیے
    تو پھر ملازمت گلستاں بدل ڈالو

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    تمہارا کیا ہے مصیبت ہے لکھنے والوں کی
    جو دے چکے ہو وہ سارے بیاں بدل ڈالو

    مجھے بتایا ہے سیدؔ نے نسخۂ آساں
    جو تنگ ہو تو زمیں آسماں بدل ڈالو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل
    ترے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل

    نہیں ہے آپ ہی مقصود اپنا جوہر ذات
    کہ آفتاب نہیں آفتاب کی منزل

    کچھ ایسا رنج دیا بچپنے کی الفت نے
    پھر اس کے بعد نہ آئی شباب کی منزل

    مسافروں کو برابر نہیں زمان و مکاں
    ہوا کا ایک قدم اور حباب کی منزل

    محبتوں کے یہ لمحے دریغ کیوں کیجے
    بھگت ہی لیں گے جو آئی حساب کی منزل

    ملے گی بادہ گساروں کو شیخ کیا جانے
    گنہ کی راہ سے ہو کر ثواب کی منزل

    مسام ناچ رہے ہیں معاملت کے لیے
    گزر گئی ہے سوال و جواب کی منزل

    ملی جو آس تو سب مرحلے ہوئے آساں
    نہیں ہے کوئی بھی منزل سراب کی منزل

    مزاج درد کو آسودگی سے راس کرو
    کہاں ملے گی تمہیں اضطراب کی منزل

    رہ جنوں میں طلب کے سوا نہیں سیدؔ
    اگرچہ طے ہو خدا کی کتاب کی منزل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیدؔ تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں
    ہو بھی خبر کسی کو تو سمجھو خبر نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مضمون کی تیاری میں ویکیپیڈیا سے بھی مدد لی گئی

    موجود ہو تو کس لیے مفقود ہو گئے
    کن جنگلوں میں جا کے بسے ہو خبر نہیں

    اتنی خبر ہے پھول سے خوشبو جدا ہوئی
    اس کو کہیں سے ڈھونڈھ کے لاؤ خبر نہیں

    دل میں ابل رہے ہیں وہ طوفاں کہ الاماں
    چہرے پہ وہ سکون ہے مانو خبر نہیں

    دیکھو تو ہر بغل میں ہے دفتر دبا ہوا
    اخبار میں جو چھاپنا چاہو خبر نہیں

    نوک زباں ہیں تم کو شرابوں کے نام سب
    لیکن نشے کی بادہ پرستو خبر نہیں

    کاغذ زمین شور قلم شاخ بے ثمر
    کس آرزو پہ عمر گزارو خبر نہیں

    سیدؔ کوئی تو خواب بھی تصنیف کیجیے
    ہر بار تم یہی نہ سناؤ خبر نہیں

  • سوشل میڈیا پر بیہودہ الفاظ کی پذیرائی کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سوشل میڈیا پر بیہودہ الفاظ کی پذیرائی کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    کیا عجب تماشا ہے ۔پوری قوم پی ٹی آئی کے ایک سینئر عہدیدار کے ایک بولے گئے بیہودہ الفاظ کو اپنا تکیہ کلام بنا چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان بیہودہ الفاظ کو پذیرائی مل رہی ہے ۔افسوس صد افسوس کیا کسی مذہب معاشرے میں اس کی اجازت دی جا سکتی ہے ؟ الفاظ بولنے والے شخص کو قومی ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر ہمارا معیار یہ ہے تو پھر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں۔ کچھ سیاستدان پاک فوج اور جملہ اداروں کو سرعام سوشل میڈیا پر اور کچھ پردہ اسکرین کے پیچھے حملہ آور ہیں افسوس جس فوج نے ملکی سلامتی کی خاطر قربانیاں دیں کل ہی کی بات ہے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن کر کے اس ملک کو دہشت گردی اور انتہاپسندی سے آزاد کروایا ایک عالم ان واقعات سے آگاہ ہے پاک فوج کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ملک کی نوجوان نسل کی ہم کیا تربیت کر رہے ہیں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی ریاست کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

    ملکی سیاستدانوں کی رنگین داستانیں، معاشقوں کی کہانیاں، واہیات کتابیں پھر اس قوم اور ملک پر ظلم یہ ہے کہ واہیات کتابیں لکھنے والوں کے انٹرویو ، خدا کی پناہ سستی شہرت حاصل کرنے والوں کو موت یاد نہیں پھر موت کے بعد زندہ ہو کر خدا کی عدالت میں پیش ہونا یاد نہیں کیا ان کے گھروں میں مائیں، بیٹیاں اور بچے نہیں؟ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے خوف کھائیں اپنا طرز زندگی بدل ڈالیں۔ انسانیت کی فلاح کے لئے کام کریں۔ اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں ذرا سوچئے! آج ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے ملک کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت ہے جو وڈیروں اور جاگیرداروں کے قبضے میں ہے اور وہی حکومتیں چلاتے ہیں ٹیکس بھی نہیں دیتے بڑے بڑے کاروباری بنکوں سے قرض لیتے ہیں اور قرضے معاف کرواتے ہیں۔ جن سیاستدانوں نے طرح طرح کے نعرے لگا کر عوام سے ووٹ لئے وہ پارلیمنٹ ہائوس میں جا کر جمہور کے مسائل کو نظر انداز کر کے اپنے ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائے۔ کوئی اصلاحات نہیں کیں۔ بچوں کو کوالٹی تعلیم، نہ ہی صحت کے لئے بنیادی سہولتیں۔ نوجوانوں کو فنی اور ہنر مندی کی تعلیم دینے میں ناکام اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں ناکام۔ ملک اور عوام کے مسائل دیکھیں کیا دنیا کی قومیں اسی طرز سے حکومتیں چلاتے ہیں؟

  • افواہوں  کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افواہوں کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو عدت ، طلاق، کون بنے گا وزیراعظم ؟ افواہوں اور ا نتشار زدہ سیاسی ماحول میں قوم کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن جو یورپین یونین کے اہم ترین ملک ہالینڈ کے شہر دی ھیگ میں ہوا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ سی ایس پی کی چیئر کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ 193 ممبران پر مشتمل کانفرنس نے ایک سال کے لئے پاکستان کو منتخب کیا ہے۔ ایشیائی گروپ نے ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر سلجوق منتصر تارڑ کو نامزد کیا وہ پاکستان کی طرف سے ایک سال کے لیے اس بین الاقوامی تنظیم کے چیئرمین ہوں گے۔

    8 فروری 2024 کا انتظار کریں عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت میں قبول اور منظورکیا جاتا ہے ۔ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ عام انتخابات میں میں کامیابی حاصل کریں گے اور ایک مخلوط حکومت بنائیں گے جس کے وزیراعظم بلاول بھٹو ہوں گے جبکہ(ن) لیگ کا دعویٰ ہے ہماری حکومت ہوگی نواز شریف وزیراعظم ہوں گے جبکہ پنجاب میں اصل مقابلہ (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کا نظر آرہا ہے ۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبہ سندھ اور کراچی کے شہری علاقوں میں کامیابی حاصل کریں گے اور (ن) لیگ سمیت صوبہ سندھ میں حکومت بنائیں گے۔ میرے خیال میں کراچی کے شہری حلقوں میں جماعت اسلامی کا غلبہ ہے اس لئے جماعت اسلامی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی نہیں جماعت اسلامی ایک حقیقت ہے افسانہ نہیں۔ تاہم تمام سیاسی جماعتوں کے دعوے اپنی جگہ درست یہ سب عوامی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ عوام پر فرض ہے کہ وہ پاکستان کے بہتر مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ تاہم(ن) لیگ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے ،غربت کے خاتمے کے لئے بے روزگاری کے خاتمے ، اپنے ملکی وسائل پر بھرپور توجہ دینے کے لئے منشور کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ تاہم فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے کہ آئندہ وزیراعظم کون ہوگا کیونکہ ووٹوں سے منتخب ہونے والی سیاسی جماعت وزیراعظم کی حقدار ہوگی 2024 میں نئے نویلے وزیراعظم کون ہوں گے آنے والے نئے وزیراعظم کیا ان ناگفتہ بہ حالت میں کیا کچھ کر پائیں گے انتظار کیجئے ۔

  • ہنزہ سٹیل مل، صنعتی دنیا میں ایک اہم پیشرفت

    ہنزہ سٹیل مل، صنعتی دنیا میں ایک اہم پیشرفت

    ہنزہ گروپ آف کمپنیر، کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان میں جب معیشت کمزور، ہر آدمی پریشان، ڈالر کی اونچی اڑان، مہنگائی کا طوفان، ایسے میں ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے ٹریڈنگ کمپنی سے سٹیل مل تک کا اپنا سفر مکمل کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو خوشخبری سنائی، 1975 سے ایک ٹریڈنگ کمپنی سے شروع ہونے والاہنزہ گروپ آف کمپنیر کا سفر جاری و ساری ہے،2002 میں ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے پاکستان میں پہلی شوگر مل قائم کی، اس کے بعد 2010 میں دوسری شوگر مل بھی بنائی، ہنزہ گروپ آف کمپنیز کے پاس چینی بنانے کے وسیع یونٹس ہیں ،گھی اور آئل بھی ہنزہ گروپ آف کمپنیز تیار کر رہی ہے،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی دو شوگر ملیں پنجاب کے اضلاع جھنگ اور فیصل آباد میں ہیں،جبکہ گھی کی مل ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ میں ہے،
    Hunza Steel falls under the remarkable Hunza Group one of Pakistan’s Leading Industry group that embarked its journey of passion, commitment, and devotion in 1975 by forming Swera Traders. Since then there is no stopping in this journey and the group has expanded its business in various industries.

    ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے اب پاکستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی پر حامل سٹیل مل بھی بنا لی ہے ، سٹیل میں جدید ترین مشینری استعمال کی جا رہی ہیں وہیں سکریپ منگوا کر سریا بھی خود ہی بنایا جاتا ہے اور سٹیل بھی بنائی جا رہی ہے،ہنزہ گروپ آف کمپنیر کی مصنوعات انتہائی معیاری ہیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ کامیابی کی سیڑھیاں مسلسل چڑھ رہے ہیں،شوگر، گھی کی ملوں کے بعد سٹیل مل کا قیام،اس امر کا ثبوت ہے کہ ہنزہ گروپ آف کمپنیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار کر رہا ہے، نہ صرف شہریوں‌کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی و پلانٹ پر بنی سٹیل بھی بآسانی میسر ہو گی،معیار پر سمجھوتا نہ کرنا ہنزہ گروپ آف کمپنیز کا وہ راز ہے جو اس کی کامیابی کا مقدر بن رہا ہے

    Hunza Steel falls under the remarkable Hunza Group one of Pakistan’s Leading Industry group that embarked its journey of passion, commitment, and devotion in 1975 by forming Swera Traders. Since then there is no stopping in this journey and the group has expanded its business in various industries.

    پاکستان کی قومی سٹیل مل، یعنی پاکستان سٹیل مل کراچی میں کب سے بند پڑی،وزیر نجکاری کہتے ہیں کہ پی آئی اے کی تو نجکاری کر رہے ہیں تا ہم سٹیل مل کی نہیں کر رہے کیونکہ سٹیل مل لینے کو کوئی تیار ہی نہیں، حالانکہ وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لئے ایک بڑی سٹیل مل کی ضرورت تھی جو پاکستان کی ضروریات کو پورا کرتی تا ہم قومی مل کو عرصہ دراز سے خسارے کا نام دے کر بند کیا گیا،اب ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی سٹیل مل پاکستان میں سٹیل کی مقامی ضروریات کو نہ صرف پورا کرے گی بلکہ کئی خاندانوں کو روزگار کے مواقع بھی دے گی.
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.

    ہنزہ سٹیل میل کے پاس جدید ترین مینو فیکچرنگ پلانٹس ہیں،اعلیٰ ترین معیاری مصنوعات ہنزہ گروپ آف کمپنیز صارفین کو فراہم کر رہی ہے.ہنزہ سٹیل مل کی مصنوعات صارفین کی توقعات کے عین مطابق ہیں،تیاری کے مرحلے میں کوالٹی کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جاتا،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی جانب سے اعلی درجے کی اسٹیل مصنوعات کا ملک کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بننا، انکی انتھک محنت،لگن کا واضح ثبوت ہے
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.

    ہنزہ گروپ آف کمپنیز اپنے صارفین کی ترجیحات پر پورا اترنے میں ہمیشہ کامیاب رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ صارفین ہنزہ گروپ آف کمپنیز پر اعتماد کرتے ہیں،اسی اعتماد کے بدولت ٹریڈنگ گروپ سے گروپ آف کمپنیر تک کا سفر طے ہوا،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کا پاکستان کا معروف صنعتی گروپ بننے اور خوشحال پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا ویژن رکھتاہے.
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.

  • تبصرہ کتب،نام کتاب : توحید کی آواز

    تبصرہ کتب،نام کتاب : توحید کی آواز

    نام کتاب : توحید کی آواز
    مصنف : مولانا عثمان منیب ، حافظ محمد اقبال
    صفحات : 328
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    انسان کی تخلیق فطرت توحید پر ہوئی ہے اس لیے اسے سمجھنا ہر انسان کے لیے نہایت ضروری اور آسان ہے لیکن افسوس کہ توحید کی دعوت جس قدر عام فہم اور عقل و شعور رکھنے والوں کو اپیل کرتی ہے کچھ لوگوں نے آج اسے اتنا ہی مشکل بنا دیا ہے ۔ جس توحید کے تصور کو نمایاں کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتھک محنت کی اور قران مجید کی سینکڑوں آیات اور امثال کے ذریعے اس کے درست مفہوم کو سمجھانے کی کوشش کی وہ تصور آج فلاسفہ کی موشگافیوں کی نظر ہوچکا ہے یعنی توحید کی صاف ستھری دعوت کو چھوڑ کر ہم ا نہی پہلیوں میں سرگرداں ہو گئے ہیں جن سے نکالنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔ توحید کے حقیقی تصور کو اجاگر کرنے کے لیے دارالسلام نے ایک جامع کتاب ” توحید کی آواز “ ترتیب دی ہے جو درج ذیل خصوصیات کی حامل ہے :

    اس کی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔ علمی مباحث کو عوام الناس کے لیے آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ ذات باری تعالی کے حوالے سے مذاہب عالم کے تصورات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان میں پائے جانے والے توحید کے تصور کی حقیقت آشکارا کی گئی ہے ۔ توحید کی اقسام بیان کر کے ان میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وضاحت کی گئی ہے ۔ شرک اور اس کے مظاہر کا مدلل رد کیا گیا ہے نیز دور حاضر کے حساس مسئلے یعنی مسئلہ تکفیر کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے اس کے اصول و ضوابط پر روشنی ڈالی گئی ہے یوں ان اہم اور مفید مباحث پر مشتمل یہ کتاب علماءطلباءاور عوام کے لیے توشہ علم اور رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے ۔

    کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نزول قرآن کے وقت ذات باری تعالی کے بارے میں اس وقت کے مذاہب اور اقوام میں کیا تصور پایا جاتا تھا مثلاََ چینی تہذیب میں ذات باری تعالیٰ کا کیا تصورتھا ۔ اسی طرح ہندوستانی ، شمنی ، ایرانی مجوسی ، یہودی، عیسائی ، یونانی ، مشرکین مکہ اور اہل عرب کے ہاں ذات باری تعالیٰ کے بارے میں کیا تصور پایا جاتا تھا ۔ یہ تمام تصورات بیان کرنے کے بعد بتایا گیا ہے کہ قران مجید نے توحید کا کیا تصور اور سبق دیا ہے ۔ کتاب میں معرفت باری تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے گئے ہیں جو دل کو چھوتے اور عقل کو جھنجھوڑتے ہیں ۔ توحید کے لغوی و اصطلاحی معنی ، توحید کی حقیقت واہمیت توحید کی فضیلت ، توحید کی اقسام ، صفات باری تعالیٰ کے بارے میں ائمہ اسلاف کے اقوال کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ توحید باری تعالی ہی تمام عبادات کی بنیاد ہے توحید اور مسئلہ تکفیر پر بھی بحث کی گئی ہے صحیح عقیدہ توحید کے حصول کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ۔ قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں شرعی اور غیر شرعی وسیلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔مسلمانوں پر مختلف تہذیبوں کے اثرات کو زیر بحث لاتے ہوئے فلسفہ وحدت الوجود ، وحدت الشہود اور حلول کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ تقدیر ایک اہم ترین اور حساس مسئلہ ہے اس کی بھول بھلیوں میں بڑے بڑے دانشور اور اہل علم الجھ کر رہ گئے اور صراط مسقتیم سے بھٹک گئے ہیں لہذا تقدیر کے مسئلہ کی حقیقت اور ماہیت کو بھی سمجھنا ضروری ہے اس ضمن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیا ہر چیز تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور کیا دعا سے تقدیر بدل سکتی ہے ؟ ان تمام سولات کے جوابات تفصیل سے دیے گئے ہیں جنھیں پڑھ کر انسان کےلئے مسئلہ تقدیر کو سمجھنا نہایت آسان ہوجاتا ہے ۔ جادو کی بعض اقسام ، قرآنی تعویذ ، غیر قرآنی تعویذ ، علم نجوم کی شرعی حیثیت، بدفالی اور بدشگونی کی حقیقت جیسے اہم موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ یوں یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ توحید کے موضوع پر پیش نظر کتاب ایک منفرد کاوش ہے ۔اس کتاب کی اہم ترین خوبی یہ ہے کہ اس میں علمی باریکیوں کی بجائے عام فہم اسلوب اختیار کیا گیا ہے ۔یوں یہ کتاب اہل علم کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کےلئے بھی بے حد مفید ہے ۔

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“