Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پیپلز پارٹی کو ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    پیپلز پارٹی کو ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    بینظیر بھٹو سے آصف زرداری کو پیپلز پارٹی کی قیادت کی منتقلی کے بعد، پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے نقطہ نظر میں ایک تبدیلی کی،پیپلز پارٹی نچلی سطح کے رابطوں سے ہٹ کر سیاست کے زیادہ لین دین کے انداز کی طرف بڑھی۔ اس طرز سیاست نے پیپلز پارٹی کو قومی سیاسی منظر نامے میں جہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں مدد کی، وہیں اس نے پارٹی کی طویل مدتی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں.

    پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت میں شامل ہونے کے دوران آصف زرداری نے ہوشیاری کے ساتھ بلاول زرداری کو وفاقی وزیرخارجہ بنوا دیا تا ہم مسلم لیگ ن کی مالیاتی پالیسیوں کو مکمل قبول کرنے سے دور رکھا، اس دانستہ طرز عمل نے ایک خاص عملیت پسندی کو ظاہر کیا لیکن ایک مربوط پارٹی حکمت عملی کی ممکنہ کمی کو اجاگر کیا۔

    پیپلز پارٹی کا اب ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، الیکشن کمیشن نے الیکشن کا اعلان کر دیا ہے اور الیکشن سے قبل سیاسی جوڑ توڑ میں پیپلز پارٹی جو توقع رکھ رہی تھی اس سے کوسوں دور ہے، اب اہم شخصیات نے یا اپنی پارٹی بنا لی یا پھر جہانگیر ترین کی پارٹی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے یا اتحاد کر چکے ، سیاسی افراد کا دوسری پارٹیوں میں جانے کا یہ رجحان اہم کھلاڑیوں کو راغب کرنے اور وسیع البنیاد اتحاد بنانے کی پیپلز پارٹی کی صلاحیت پر سوال اٹھاتا ہے۔دوسری جانب بلوچستان میں پیپلز پارٹی مضبوط ہے تا ہم پنجاب میں اسکی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے ابھی تک پنجاب میں کسی بھی جلسے کا اعلان نہیں کیا ،متوقع طور پر صرف جنوبی پنجاب میں جلسہ کیا جا سکتا ہے، پنجاب روایتی طور پر سیاسی میدان میں اہم ہے ،پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حمایت میں کمی ایک تزویراتی نظر ثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے،

    وہیں آصف زرداری اور بلاول کے درمیان اختلافات کی باتیں بھی چل رہی ہیں،آصف زرداری نے ایک حالیہ انٹرویو میں بلاول کی سرعام سرزنش کی۔ انتخابات سے چند ماہ قبل سامنے آنے والی پیپلز پارٹی کی یہ اندرونی کشیدگی پارٹی کی قیادت میں ممکنہ ٹوٹ پھوٹ کا اشارہ دیتی ہے۔

    سندھ میں پیپلز پارٹی کی حمایت کافی ہے تا ہم ایم کیو ایم اور ن لیگ یا ایم کیو اور تحریک انصاف میں سے کسی ایک کا اتحاد اگر ہو گیا تو یہ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے،ایسے میں پیپلز پارٹی کا اثرورسوخ سندھ میں بھی مزید کم ہو سکتا ہے

    موجودہ سیاسی صورتحال کی نزاکت کو تسلیم کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے 56ویں یوم تاسیس کے موقع پر کوئٹہ میں ایک عظیم الشان جلسے میں شریک ہوں گے، یہ تقریب پیپلز پارٹی کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی سیاسی قوت کو دوبارہ ظاہر کرے اور مختلف صوبوں میں اسے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئے وژن کو بیان کرے۔

    جیسے جیسے سیاسی منظر نامہ تیار ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی کو ایک واضح اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہو گی جو کہ مختصر مدتی چالوں سے بالاتر ہو۔ عصر حاضر کی پاکستانی سیاست کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے پارٹی کی اپنی قیادت کو ڈھالنے، متحد کرنے اور ووٹرز سے جڑنے کی صلاحیت بہت اہم ہوگی۔

  • یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    نور جہاں ثروت ،اردو صحافت کی خاتون اول

    28 نومبر 1949: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی نامور شاعرہ اور صحافی نورجہاں ثروت 28 نومبر 1949ء کو دہلی میں پیدا ہوئیں انہوں نے دہلی کالج سے گریجویشن کیا جبکہ 1971 میں دہلی یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ جواہر لال یونیورسٹی دہلی میں لیکچرر مقرر ہوئیں اس کے بعد ڈاکٹر ذاکر حسین کالج میں بھی تعینات ہوئیں۔ بعد ازاں صحافت سے دلچسپی کے باعث شعبہ صحافت سے وابستہ ہو گئیں۔ ان کے صحافتی کیریئر کا آغاز 1986 ء میں روزنامہ قومی اخبار سے رپورٹر کی حیثیت سے ہوا انہیں کسی بھی اردو اخبار کی پہلی خاتون رپورٹر کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ 1988 میں وہ روزنامہ انقلاب دہلی کی ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئیں جو کہ اردو صحافت میں پہلی خاتون ایڈیٹر کا منفرد اعزاز ہے ۔ اور اسی لیے انہیں اردو صحافت کی ’خاتون اول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انھیں کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں لالہ جگت نرائن صحافت ایوارڈ (1985ء)‘ راجدھانی سوتنتر لیکھک ایوارڈ (1986ء)‘ نشانِ اردو برائے ادبی خدمات (1989ء)‘ نئی آواز برائے صحافت ایوارڈ (1994ء)‘ میر تقی میر ایوارڈ (1995ء)‘ انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف فار ایجوکیشن فار ورلڈ برائے صحافت (1999ء)‘ قومی تحفظ و بیداری ایشین اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایوارڈ (2000ء)‘ میڈیا انٹر نیشنل ایوارڈ (2002ء) اور اردو اکادمی دہلی ایوارڈ (2010ء) شامل ہیں۔ جبکہ 2009 میں انہیں 50 ہزار روپے پر مشتمل بہترین شاعرہ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ نور جہاں دہلی کی ٹکسالی اردو بولتی تھیں ۔ انہوں نے شادی نہیں کی ۔ 7 اپریل 2010 میں دہلی کی ایک نواحی بستی نوین شاہدرہ میں تنہائی کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔ 1995 میں ان کا شعری مجموعہ ” بے نام شجر” کے نام سے شائع ہوا۔ وہ ایک منفرد کالم نگار بھی تھیں جن کے کالم کی سرخی کسی شعری مصرع پر مبنی ہوتی تھی ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
    وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے

    اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر
    خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے

    عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی
    میرا ماضی مگر آئینہ دکھاتا ہے مجھے

    وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
    پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے

    اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
    کیا کوئی شہر نگاراں سے بلاتا ہے مجھے

    کسی رت میں بھی مری آس نہ ٹوٹی ثروتؔ
    ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا

    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا

    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا

    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا
    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا

    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے
    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں
    ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں

    وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا
    اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں

    وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے
    سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں

    ایک مدت میں یہ ہوا معلوم
    میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں

    ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ
    ہے مگر اتنا تند خو بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر بھر دیکھا ہوا وہ آرزو کا خواب تھا
    کہ آسودہ ہوئی ہوں اپنے ہی انکار سے

  • تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    میں دیکھتا ہوں انہیں روز گزر جاتا ہوں
    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    الیاس بابر اعوان،شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد، محقق، کالم نگار

    پیدائش:28 نومبر 1976ء

    تعلیم:ایم اے (اردو)
    پی ایچ ڈی
    مادر علمی:جامعہ پنجاب
    اصناف:شاعری، تنقید، افسانہ
    ناول، تحقیق، ترجمہ
    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خواب دگر
    ۔ (2)نووارد
    ۔ (3)ایک ادھوری سرگزشت
    ۔ (4)معاصر متن کی دریافت
    ۔ (5)جدید تنقیدی تصورات
    ۔ (6)منحرف
    مستقل پتا:ایچ۔141، آبادی نمبر2
    دیم اسٹریٹ،ٹنچ بھاٹہ، راولپنڈی

    الیاس بابر اعوان راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر اور افسانہ نگار ہیں۔
    ولادت
    ۔۔۔۔۔
    الیاس بابر اعوان کی پیدائش 28 نومبر 1976ء، راولپنڈی، صوبہ پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد افضل اعوان ہے۔
    مادرِ علمی
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیڈرل گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول
    ۔ نمبر ا صدر لاہور
    ۔ (2)فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج
    ۔ لاہور کینٹ
    ۔ (3)گورنمنٹ شالیمار ڈگری کالج
    ۔ باغبانپورہ لاہور
    ۔ (4)نیشنل یونیورسٹی آف مارڈرن لینگوئجز
    ۔ اسلام آباد
    ۔ (5)رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی
    ۔ اسلام آباد
    ۔ (6)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی
    ۔ اسلام آباد
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پی ایچ ڈی اسکالر
    ۔ (انگریزی ادب)
    ۔ (2)پی جی ڈی
    ۔ ( پروفیشنل ایتھکس اینڈ ٹیچنگ میتھڈولجیز)
    ۔ (3)ایم فل (انگریزی ادب)
    ۔ (4)ایم اے انگریزی ادب و لسانیات
    ۔ (5)ایم اے اردو ادب و لسانیات
    ۔ (6)ایم ایڈ
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شعر و ادب کی دنیا میں وارد ہوئے۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز میں انگریزی ادب کے لیکچرر ہیں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ حلقہ ارباب ِ ذوق راولپنڈی کے چار سال تک سیکرٹری رہے اور جدیدادبی تنقیدی فورم کے بانی ہیں۔ اردو میں تنقید، نظم، غزل اور افسانے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں شاعری اور افسانے بھی لکھتے ہیں۔
    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خوابِ دِگر (شعری مجموعہ)-2012ء
    ۔ پبلشر: رمیل پبلیشرز راولپنڈی
    ۔ (2)نووارد ( نظمیہ مجموعہ)- 2016ء
    ۔ سانجھ پبلشرز لاہور نے شائع کیا
    زیر طباعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)معاصر متن کی دریافت:
    ۔ (تنقیدی مضامین)
    ۔ پبلشر: کتاب محل لاہور
    ۔ (2)جدید تنقیدی تصورات
    ۔ مترجم: الیاس بابر اعوان
    ۔ پبلشر: کتاب محل لاہور
    ۔ (3)منحرف۔ نظموں کا مجموعہ
    ۔ (زیر ـ اشاعت)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    صرف آزار اٹھانے سے کہاں بنتا ہے
    مجھ سا اسلوب زمانے سے کہاں بنتا ہے
    آنکھ کو کاٹ کے کچھ نوک پلک سیدھی کی
    زاویہ سیدھ میں آنے سے کہاں بنتا ہے
    کچھ نہ کچھ اس میں حقیقت بھی چھپی ہوتی ہے
    واقعہ بات بنانے سے کہاں بنتا ہے
    حسن یوسف سی کوئی جنس بھی رکھو اس میں
    ورنہ بازار سجانے سے کہاں بنتا ہے
    اس میں کچھ وحشت دل بھی تو رکھی جاتی ہے
    باغ بس پھول اگانے سے کہاں بنتا ہے
    راستہ بنتا ہے تشکیل نظر سے بابرؔ
    خاک کی خاک اڑانے سے کہاں بنتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھ کھلے گی بات ادھوری رہ جائے گی
    ورنہ آج مری مزدوری رہ جائے گی
    جی بھر جائے گا بس اُس کو تکتے تکتے
    کچی لسی میٹھی چُوری رہ جائے گی
    اُس سے ملنے مجھ کو پھر سے جانا ہوگا
    دیکھنا پھر سے بات ضروری رہ جائے گی
    تھوڑی دیر میں خواب پرندہ بن جائے گا
    میرے ہاتھوں پر کستوری رہ جائے گی
    تم تصویر کے ساتھ مکمل ہو جاؤ گے
    لیکن میری عمر ادھوری رہ جائے گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی
    ڈرون گرے گا امن کی باتیں رہ جائیں گی
    لڑنے والے روشن صبحیں لے جائیں گے
    میری خاطر اندھی شامیں رہ جائیں گی
    سچ لکھنے والے سب ہجرت کر جائیں گے
    بازاروں میں قلم دواتیں رہ جائیں گی
    یوں لگتا ہے رستے میں سب لٹ جائے گا
    گھر پہنچوں گا تو کچھ سانسیں رہ جائیں گی
    امیدوں پر برف کا موسم آ جائے گا
    دیواروں پر دیپ اور آنکھیں رہ جائیں گی
    ہم دروازے میں ہی روتے رہ جائیں گے
    جانے والوں کی بس باتیں رہ جائیں گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں
    ہمارے شہر میں سچ کا نظام ہے ہی نہیں
    یہ لوگ جلد ہی پتھر میں ڈھلنے والے ہیں
    یہاں کسی سے کوئی ہم کلام ہے ہی نہیں
    میں دیکھتا ہوں انہیں اور گزرتا جاتا ہوں
    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہے ہی نہیں
    تمہاری مرضی ہے رکھ لو ہمیں یا ٹھکرا دو
    ہمارے پاس محبت کا دام ہے ہی نہیں
    یہ لوگ اسے تری تصویر ہی سمجھتے ہیں
    پر اس کے جیسا کوئی خوش کلام ہے ہی نہیں
    وہاں پہ خوابوں کو خیرات کر کے چلتے بنو
    جہاں شعور حلال و حرام ہے ہی نہیں
    ذرا سی لہجے کی نرمی سے مان جائیں گے
    کہ بگڑے لوگوں کا کوئی امام ہے ہی نہیں

    منقول

  • حماس اسرائیل جنگ بندی ، چیلنجز

    حماس اسرائیل جنگ بندی ، چیلنجز

    حماس اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ بندی کو چار دن ہو گئے ہیں، جنگ بندی کے دوران یرغمالیوں کی رہائی کا تبادلہ ہو رہا ہے، حماس نے اب تک 58 یرغمالی رہا کیے ہیں، جس کے کے بدلے میں اسرائیل نے117 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، اس اقدام کو دیکھ کر جنگ بندی کی ممکنہ توسیع کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے،جس کی حمایت نہ صرف قطر بلکہ دیگر اہم ممالک نے بھی کی ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے نازک صورتحال پر بین الاقوامی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع پر زور دیا

    جنگ بندی کو بڑھانے کی کوشش کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہے، خاص طور پر فلسطینی آبادی کے لیے کیونکہ جنگ بندی کی وجہ سے انسانی امداد غزہ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ امداد غزہ میں رونما ہونے والے تباہ کن واقعات سے متاثر ہونے والوں کے لیے اہم ہے۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جنگ بندی تباہ حال معاشرے کو مدد کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    تاہم، حماس کے مینڈیٹ کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ تنظیم جس چیز کو ایک منصفانہ فلسطینی کاز کے طور پر دیکھتی ہے اس کی چیمپئن ہے، لیکن حماس دو ریاستی نظریہ پر مبنی سیاسی حل کی توثیق نہیں کرتی ۔ یہ نظریاتی موقف بہت سے فلسطینیوں کی امنگوں سے ہٹ جاتا ہے جو دو ریاستی قرارداد کے خواہاں ہیں۔حماس کی حمایت کو وسیع تر فلسطینی کاز کی حمایت سے ممتاز کیا جانا چاہیے۔ حماس کا دو ریاستی قومی نظریہ کی توثیق کے بجائے اسرائیل کے ساتھ تصادم کی طرف جھکاؤ صورتحال کی پیچیدگی کو واضح کرتا ہے۔ اسرائیل،حماس تنازعہ میں ملوث اداکاروں، تنظیموں اور اقوام کی جامع تفہیم کے خواہاں افراد کے لیے کئی معلوماتی لنکس فراہم کیے گئے ہیں۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے زور دے کر کہا ہے کہ جنگ بندی عارضی ہے اور اس کے اختتام کے بعد دوبارہ حملے شروع کئے جائیں گے، تاہم، تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جنگوں کے خاتمے اور طول، دونوں میں جنگ بندی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ میں کہا کہ پچھلی صدی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جو جنگ بندی کے مختلف نتائج کو واضح کرتی ہیں۔

    جنگ کے خاتمے کی اہمیت کو زیادہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ جنگ بندی سفارتی کوششوں، انسانی امداد، اور زیادہ دیرپا حل کی طرف ممکنہ تبدیلی کے لیے موقع فراہم کرتی ہے۔ اہم ممالک کی شمولیت اور حمایت، بین الاقوامی توجہ کے ساتھ، صورت حال کی پیچیدگی اور خطے میں موجود نازک توازن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

  • ایم پی اے  کا خواب

    ایم پی اے کا خواب

    دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جن پر کوئی بھی حکمران پابندی نہیں لگا سکتا ایک خواب دیکھنا اور دوسری خواہش رکھنا۔ اس لیے دنیا کا غریب سے غریب تر اور کمزور ترین شخص بھی کوئی بھی خواب دیکھ سکتا ہے اور کوئی بھی خواہش رکھ سکتا ہے یہ اور بات ہے کہ کسی کسی کی خواہش پوری ہوتی ہے اور اکثریت کی خواہش پوری نہیں ہوتی بقول غالب

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

    اب جبکہ فروری 2024 میں پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کا امکان ہے تو اس کے لیے چھوٹے خواہ بڑے معروف خواہ گمنام اور مقبول خواہ بدنام سیاستدانوں نے بھی خواب دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کی صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں اور ان دو نشستوں پر دو درجن سے زائد افراد ایم پی اے M P A بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں خواب دیکھنے والے افراد میں سابق ایم پی اے صاحبان بھی ہیں جنہوں نے غربت اور تنگدستی میں سیاست کا سفر شروع کیا بقول نواب اسلم خان رئیسانی

    سیاستدان بنو وزیر بنو گے یا فقیر بنو گے

    اور حقیقت بھی یہی ہے یہاں سیاست میں آ کر کئی لوگ اپنے باپ دادا کی جائیداد بیچ کر فقیر ہو گئے مگر ایم پی اے نہیں بن سکے اور غریب لوگ ایم پی اے منتخب ہونے کے بعد وزیر بن کر ارب پتی بن گئے جن کو اب اپنی جائداد اور مال و دولت کا صحیح اندازہ بھی نہیں ہے۔ جو لوگ پہلے ایم پی اے بنے ہیں وہ دوبارہ ایم پی اے بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے بھی مستقبل میں ایم پی اے اور وزیر بنیں جبکہ نئے لوگ بھی ایم پی اے بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور وہ بھی منتخب ہو کر وزیر اور ارب پتی بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ یہ اب مقدر کی بات ہے کہ کون کون ایم پی اے بننے والے ہیں ۔

    غالب امکان یہی ہے کہ سابق ایم پی اے ہی دوبارہ ایم پی اے بنیں گے یا پھر ان کی جگہ امیر لوگ ہی یعنی کروڑ پتی اور ارب پتی لوگ ہی ایم پی اے بن سکیں گے کیوں کہ ہمارے فرسودہ نظام میں غریب یا متوسط طبقہ کے لوگ الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیوں کہ اس کیلئے کروڑوں روپے کے اخراجات اور طاقتور افراد کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بہرحال ایم پی اے کوئی بھی بنے لیکن غریبوں کا خواب یہ ہے کہ ان کے حلقہ انتخاب سے کوئی ایسا شخص ایم پی اے بنے جو کہ غریبوں کو تعلیم، صحت ،روزگار ، سڑک، پانی، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرے ۔

  • ورزش..ایک بہترین علاج

    ورزش..ایک بہترین علاج

    ورزش چاہے کسی بھی شکل میں ہو، ڈپریشن کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تناؤ کو دور کرنے، اضطراب کو کم کرنے اور دماغ میں اہم کیمیائی تبدیلیاں شروع کرنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ورزش کے دوران نیورو ٹرانسمیٹر جیسے تناؤ کے ہارمونز اور اینڈورفنز پر اثرات زیادہ مثبت ذہنی حالت میں معاون ہوتے ہیں۔ ورزش نئے تجربات میں مشغول ہونے کے مواقع پیش کرتے ہوئے منفی خیالات سےبھی بچاتی ہے.

    بہت سے افراد مختلف قسم کی ورزشوں یوگا، مراقبہ، جم،واکنگ کے ذریعے افسردگی سے نجات پاتے ہیں،ورزش کے ہر طریقے کے اپنے فائدے ہیں، ذاتی طور پر، مجھے ہمیشہ پیدل چلنا پسند تھا۔ تازہ ہوا، فطرت سے قربت، بدلتے موسموں کے رنگوں کو دیکھتے ہوئے ، زمین پر بکھرے پتے، بہار میں پھولوں کا کھلنا، رنگوں کی قسمیں جو قدرت کی طرف سے ہیں، ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈی ہوا آپ کے گال کو چھو رہی ہو اور جب آپ احساس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنا چہرہ اٹھا رہے ہیں تو گرم ہوا آپ کے گالوں کو چوم رہی ہے۔ دھواں، ٹریک کے معیاری پانچ چکر کے بعد، پارک میں ایک پرسکون جگہ،امن، خاموشی دنیا کو جاتے دیکھ رہے ہیں۔

    مراقبہ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اپنے پیروں کے نیچے تازہ گھاس کھرچتے ہوئے ایک چٹائی نکالنا، ایک درخت کے نیچے بیٹھا، تمام خیالات سے خالی دماغ، صرف ہلکی ہوا کے جھونکے کی آواز اور باغ کی ہلکی ہلکی جھنکار! پرندے پھڑا پھڑا رہے ہیں، ویسے آنکھیں بند کر لیں، سانس لیں، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ہتھیلیاں اوپر کریں اور آہستہ آہستہ دوبارہ کریں،مکمل سکون کا احساس آپ کو چُرا لیتا ہے۔ اتنا مکمل کہ آنکھوں میں آنسو آجائیں،

    ان طریقوں کو اپنے معمولات میں شامل کرکے، ہم ذہنی تندرستی کو فروغ دے سکتے ہیں اور اندرونی سکون کا گہرا احساس پیدا کرنے کے لیے ورزش کی علاج کی طاقت کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • آرزو کی لاش جس میں ہے دبی، میرے ماضی کا کھنڈر ہے اور میں

    آرزو کی لاش جس میں ہے دبی، میرے ماضی کا کھنڈر ہے اور میں

    تمھاری بات میں ہونے لگیں جب تلخیاں شامل
    تو میں بھی اپنی وہ شیریں بیانی بھول بیٹھی ہوں

    نسیمہ بیگم ارم

    اڈیشا میں خواتین قلمکاروں کی تعداد فی زمانہ کم رہی ہے جن خواتین نے تھوڑی بہت لوح و قلم کی پرورش کی ہے ان کا رجحان ِطبع زیادہ تر شعر وشاعری کی طرف رہا ہے۔ ڈاکٹر نسیمہ بیگم ہی وہ واحد قلمکار ہیں جنھوں نے نثر ونظم میں اپنی تخلیقی بصیرت کے عمدہ نقوش مرتب کیے ہیں۔ا س کے علاوہ کوئی ایسی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے کہ نثر نگاری میں بھی کسی خاتون نے نام پیدا کیا ہو۔ڈاکٹر نسیمہ بیگم شاعرہ کم اور افسانہ نگارزیادہ تھیں۔اردو اور اڑیا زبانوں پر یکساں دسترس حاصل تھی۔وہ ایک کامیاب ترجمہ نگار بھی تھیں۔اڑیا کے متعدد افسانوں کو انھوں اردو جامہ عطا کرکے اردو ادب میں گرانقدر اضافہ کیا ہے۔

    جب شعر وشاعری کی طرف توجہ مبذول کی تو ارمؔ تخلص رکھا۔غزل کے علاوہ انھوں نے بہت سی آزاد اور نظمِ معرا بھی لکھی ہیں۔چونکہ افسانہ نگاری ان کی اولین ترجیح تھی اس لیے شعری اثاثہ بہت کم ہے۔ان کی غزلوں میں جہاں روایتی موضوعات مل جاتے ہیں وہیں عہدِ حاضر کے انہدام پذیر معاشرے کی جھلکیاں بھی نظر کش ہوتی ہیں۔ان کی غزلوں کا نمایاں پہلو نسوانی لہجے کی ریشمی سراسراہٹ ہے جو قاری کو ایک انوکھے ذائقے سے آشنا کراتی ہے۔

    کٹک کے محلہ ہاتھی تالاب کے ایک علمی خانوادے میں ان کی ولادت ۵؍جون ۱۹۵۰ ء کو ہوئی۔اردو میں ایم۔اے کرنے کے بعد پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔کٹک کے روانشا یونیورسٹی میں ریڈر کے فرائض انجام دیئے۔ سبکدوشی کے بعد حالانکہ فراغت کے لمحے میسر ہوئے مگر امورِ خانہ داری کی مصروفیا ت نے انھیں تخلیقی کارنامہ انجام دینے کا زیادہ موقع نہ دیا ۔پھر بھی انھوں نے اپنے ان افسانوں کو جو مختلف رسائل کی زینت بن چکے تھے‘یکجا کرکے کتابی شکل دی جو’’رنگ بدلتے چہرے ‘‘ کے نام سے شائع ہوکر اہلِ ادب سے پذیرائی حاصل کرچکا ہے۔ ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۳ ء کو ان کی ناگہانی موت نے اڈیشا کی ادبی فضا میں جو خلا پیدا کیا ہے و ہ آسانی سے پر نہیں کیا جاسکتا۔
    ٭٭٭
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (ماخوذ از اڈیشا میں اردو شاعری- مصنف سعید رحمانی)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میں دل کے زخم کی ہراک کہانی بھول بیٹھی ہوں
    خوشی پانے کی خاطر زندگانی بھول بیٹھی ہوں

    تمہاری یاد میرے دل میںپھر سے آ نہیں سکتی
    مجھے تم نے جو دی تھی وہ نشانی بھول بیٹھی ہوں

    تمہاری بے رخی نے میری حالت ہی بدل ڈالی
    کبھی کی تھی جو تم نے مہربانی بھول بیٹھی ہوں

    تمہاری بات میں ہونے لگیں جب تلخیاں شامل
    تو میں بھی اپنی وہ شیریں بیانی بھول بیٹھی ہوں

    مجھے حالات جب دینے لگے پسپائیاں پیہم
    ملی تھی پہلے جو بھی کامرانی بھول بیٹھی ہوں

    ارمؔ الجھن کے نرغے میں ہوئی محصور جب سے میں
    وہ پہلی مسکراتی زندگانی بھول بیٹھی ہوں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کھٹے میٹھے تجربوں کا ذائقہ رکھتی ہوں میں
    مشکلوں میں زندگی کا حوصلہ رکھتی ہوں میں

    درد کے موسم میں بھی آنکھیں نہیں ہوتی ہیں نم
    چوٹ کھا کر مسکرانے کی ادا رکھتی ہوں میں

    اپنے بچوں کو تمازت سے بچانے کے لیے
    مامتا کی چھاؤں میں ان کو سدا رکھتی ہوں میں

    زندگی کی جنگ میں بچے ہوں میرے کامیاب
    ہونٹ کی محراب پر حرفِ دعا رکھتی ہوں میں

    شاعری میں اپنے دل کی ترجمانی کے لیے
    گونگے لفظوں کی زباں پر بھی صدا رکھتی ہوں میں

    ہے مرے پیشِ نظر محشر کا منظر اے ارمؔ
    اپنے دل میں اس لیے خوفِ خدا رکھتی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دھند میں روپوش گھر ہے اور میں
    کالے پانی کا سفر ہے اور میں

    سر پہ میرے دھوپ کا ہے سائباں
    ایک تپتی رہگزر ہے اور میں

    روز و شب جس کے مہکتے ہیں سدا
    تیری یادوں کا نگر ہے اور میں

    آرزو کی لاش جس میں ہے دبی
    میرے ماضی کا کھنڈر ہے اور میں

    دھوپ کی یلغار سے چاروں طرف
    پیڑ بے برگ و ثمر ہے اور میں

    زندگی سے اور کیا چاہوں ارمؔ
    شاعری کا اک ہنر ہے اور میں

  • پاکستان کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نمک حلال اور نمک حرام یہ دو وہ الفاظ ہیں جو کثرت سے بولے جاتے ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بالخصوص آجکل میاں محمد نواز شریف کو اپنے کچن سے آیوڈین ملا تبدیل کرکے کھیوڑا کا گلابی نمک استعمال کرنا چاہئے کہا جاتا ہے کہ یہ نمک کرداربناتا ہے ۔ تاکہ کردار والے افراد اس ملک و قوم کی خدمت کریں۔ اگر واقعی آپ کو چوتھی بار اقتدار ملنے والا ہے تو بغاوت سونگھنے والی اور نگزیبی حس بھی رکھیں کیونکہ بنگال کے سراج الدولہ اس لیے ناکام رہے اُن کے پاس اورنگزیبی توپ تو تھی اورنگ زیب والی بغاوت سونگھنے والی حس نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی وزیر میر جعفر کی بغاوت سونگھ نہ سکے ۔

    آج کل سیاسی گلیاروں میں جس رفتار میں دشنام طرازیاں اور حرف عتاب کی عذاب ذدہ بارشیں ایک دوسرے پر سیاسی افراد ، سوشل میڈیا پر بغیر کسی تعطل جاری رکھتے ہوئے ہیں خدا کی پناہ معاشرہ اخلاقی طورپر دیوالیہ پن کا شکار ہو رہا ہے ۔ حیرت ہے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے ۔ بالخصوص ہم نوجوان نسل کی کیا تربیت کررہے ہیں ۔ نہ جانے مغرب پر فحاشی اور عریانیت کے فتوے لگانے والے علماء کہاں ہیں انہیں بیہودہ انٹرویو ، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی مائوں ،بیٹیوں کی عزت مجروع ہوتی نظر کیوں نہیں آتی ؟ مقام افسوس ہے کہ ایک اسلامی مملکت کے دعویدار ہونے کے باوجود ہم امداد حاصل کرنے کے لئے جادوٹونے کا سہارا لیتے ہیں جو کہ بالکل ہی غلط ہے ۔ قرآن پاک جیسی عظیم تر کتاب جس پر ہمارایمان اس طرح کی حرکتوں سے منع کرتا ہے پھر سامری جادوگر کا قصہ بھی موجود ہے۔ علم حاصل کرنے کی بجائے ہم جادو ٹونے اور نجومیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں پاکستان کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھ کر ( رب زدنی علما ) پر عمل کرنا ہوگا۔ ملک کو 21 صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی ، مواصلاتی ، سی پیک کی تجارت علم وہنر کا فروغ چاہیئے نہ کہ دقیانوسی ٹچکلوں پر وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنے والے رہنما اگر پاکستان کو عصر حاضرکے مطابق چلنا ہے تو اس وقت ملک کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت ہے۔

  • بیچارہ استاد

    بیچارہ استاد

    بیچارہ استاد

    خانپور میں آج ایک استاد کو بچے کو مارنے پہ لاک اپ میں بند کر دیا گیا۔ کیا باپ اپنے بچوں کو غلطی پہ سزا نہیں دیتا۔میں بچوں کو سخت سزا دینے کا قائل نہیں مگر جب سے انگریزوں کے قوانین کو فالو کیا گیا ہے تعلیم کا کباڑہ ہو گیا ہے اسلام میں جزا سزا کا تصور موجود ہے ایک حدیث کے مطابق جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز پڑھنے کا کہا جائے اور جب دس سال کا ہو جائے اور پھر بھی نماز نہ پڑھے تو اسے مارا جائے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معلم سے فرمایا : ’’إیّاک أن تضرب فوق الثلاث فإنک إذا ضربتَ فوق الثالث اقتص اللّٰہُ منک۔
    تین ضرب سے زیادہ مت مارو، اگر تم تین ضرب سے زیادہ ماروگے تو اللہ تعالیٰ تم سے قصاص لے گا۔

    امام غزالی رح نے بھی شاگرد کو ہلکی سی سزا دینے کی حمایت کی ہے ان کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ استاد بچے کی غلطی پہ اسکی سرزنش کر سکتا ہے اور چھڑی کا استعمال کر کے ہلکی سزا دے سکتا ہے اُنھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ کس جگہ پہ مارنا ہے اور کتنا مارنا ہے آج سے پندرہ بیس سال پیچھے جائیں تو استاد کو بچے کی بہتر تربیت کرنے کے لیے تمام اختیارات حاصل تھے اور ان دنوں تعلیمی معیار بھی بہت اعلیٰ تھا حالانکہ ان دنوں معروضی سوالات نہیں ہوتے تھے پڑھائی کافی مشکل تھی مگر پھر بھی معیار تعلیم بہت اعلیٰ تھا جب سے مار نہیں پیار کا سلوگن آیا ہے تعلیم کا زوال شروع ہو گیا ہے یہ سب ایک دم نہیں ہوا بلکہ اس میں بہت سے عوامل کا عمل دخل ہے۔ جس میں سب سے اہم مار نہیں پیار کا سلوگن ہے۔ ایک بچہ مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے پڑھے گا۔

    1.اگر اسے پڑھائی کا شوق ہوگا۔
    2. اگر فیل کا خوف ہوگا۔
    3. اگر مار کا خوف ہوگا۔
    4. اگر والدین بچوں پہ توجہ دیں تو۔

    دیہاتی سکولوں میں والدین کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے اور شہروں میں جو والدین بچوں پہ توجہ دیتے ہیں وہ بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں بھیجتے ہیں۔

    آپ بتائیں اگر بچہ غلطی کرے ساتھیوں کے ساتھ لڑائی کرے اور بار بار سمجھانے کے باوجود بھی نتیجہ وہی رہے تو استاد بیچارہ کیا کرے۔ جب بچے کو پتہ ہو گا کہ مجھے فیل نہیں کیا جائے گا تو وہ کیوں پڑھے گابچے کو نہ فیل کا خوف ہوگا نہ مار کا ڈر ہو گا تو وہ کیوں پڑھے گا اوپر سے اساتذہ کے ہاتھ باندھ کر انھیں تیرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے یہاں تک کہ استاد بچے کو غصے سے گھور بھی نہیں سکتاجب ایک استاد اتنا مجبور ہے تو بچے کے رزلٹ پہ استاد کو سزا کیوں؟-

    میرا مقصد سزا کی حمایت نہیں ہے بلاشبہ سزا سے بچے کی پوشیدہ صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں مگر اس صورتحال کا آخر حل کیا ہے؟

    ازقلم: مجیب الرحمٰن بھٹو

  • خاموشی توڑنا: خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن

    خاموشی توڑنا: خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن

    خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن، ہر سال 25 نومبر کو منایا جاتا ہے، دنیا بھر میں انسانی اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کے لیے عالمی بیداری کے طور پر کام کرتا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کے خطرناک پھیلاؤ، اور اس گہری جڑوں والے مسائل کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے۔خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن عالمی یکجہتی کا ثبوت ہے۔ دنیا بھر کی کمیونٹیز نہ صرف بیداری بڑھانے بلکہ اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینے کے لیے اکھٹی ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیمیں، جیسے کہ اقوام متحدہ اور یو این ویمن، کوششوں کو مربوط کرنے، وسائل کی تقسیم، اور بین الثقافتی مکالمے کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں،

    اورنج ربن کی علامت زنجیر کو توڑنا، ایک محفوظ دنیا کی تعمیر
    ہر سال، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن صنفی بنیاد پر تشدد کے مختلف پہلوؤں کو حل کرنے کے لیے ایک مخصوص تھیم اپناتا ہے۔ سب سے بڑا مقصد خاموشی کے سلسلے کو توڑنا اور خواتین کے لیے ایک محفوظ دنیا کی تعمیر کو ممکن بنانا ہے، یہ تھیم خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام، تحفظ اور بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اقدامات اور وکالت کی کوششوں کی رہنمائی کرتی ہے .اس دن سے وابستہ ایک طاقتور علامت نارنجی ربن ہے۔ نارنجی رنگ کا ربن پہننا خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف متحد موقف کی نمائندگی کرتا ہے، جو یکجہتی کے واضح اظہار، بیداری کے لیے کال، اور صنفی بنیاد پر تشدد سے پاک مستقبل کے لیے امید کی علامت ہے۔ ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اور نشانات عالمی سطح پر اس متحرک رنگت میں روشن ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل دائرہ بھی نارنجی رنگ میں ڈوبا ہوا ہے،

    صنفی بنیاد پر تشدد کا عالمی پیمانہ: وہ اعدادوشمار جو کارروائی کا مطالبہ
    جب ہم خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے قریب پہنچ رہے ہیں، تو حیران کن اعدادوشمار کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر، ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہے۔ یہ اعدادوشمار فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، جس سے بین الاقوامی تنظیموں، حکومتوں اور کمیونٹیز کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کو ترجیح دینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
    قومی کوششیں: پالیسیاں، قوانین، اور وکالت
    دنیا بھر کی حکومتیں اور تنظیمیں صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ سخت قوانین بنانے سے لے کر جامع پالیسیاں بنانے تک، ممالک اس مسئلے کی عجلت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن حکومتوں کو اپنی وابستگی ظاہر کرنے، پیش رفت کا جائزہ لینے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ مختلف خطوں میں خواتین کو درپیش چیلنجز کو تسلیم کرنا ضروری ہیں ۔ اگرچہ یہ دن عالمگیر اہمیت رکھتا ہے، اس کا اثر اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب اقدامات مخصوص علاقائی باریکیوں کو حل کرتے ہیں۔ مقامی تنظیمیں اکثر اپنی برادریوں کے ثقافتی اور سماجی سیاق و سباق کے مطابق مہمات چلاتی ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جنگ جامع اور متعلقہ دونوں طرح کی ہو۔


    بیداری اور مدد میں ٹیکنالوجی کا کردار
    ڈیجیٹل دور میں، ٹیکنالوجی بیداری بڑھانے اور مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز زندہ بچ جانے والوں کو اپنی کہانیاں شیئر کرنے کے لیے جگہیں فراہم کرتے ہیں، خاموشی کو توڑتے ہوئے اور کمیونٹی کے احساس کو فروغ دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا مہمات کارکنوں کی آواز کو بڑھاتی ہیں، عالمی سامعین تک پہنچتی ہیں اور اس مقصد کے لیے حمایت حاصل کرتی ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے پر سوشل میڈیا کے اثرات کی ایک قابل ذکر مثال #MeToo تحریک ہے۔ ہیش ٹیگ نے زندہ بچ جانے والوں کو اپنے تجربات کا اشتراک کرنے کے لیے ایک جگہ فراہم کی، یکجہتی کے احساس کو فروغ دیا اور ہراساں کیے جانے اور حملے کے پھیلاؤ کے بارے میں عالمی سطح پر بات چیت کا آغاز کیا۔ ہیش ٹیگز کی کمیونٹیز کو متحرک کرنے اور مباحثوں کو تیز کرنے کی صلاحیت سوشل میڈیا کی مثبت تبدیلی کے لیےایک سیڑھی کا کام کرتی ہے،

    آگے کی تلاش: تشدد سے پاک مستقبل کا راستہ
    جب ہم خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کی یاد مناتے ہیں، تو آگے دیکھنا ضروری ہے۔ تشدد سے پاک مستقبل کے راستے کے لیے مسلسل کوششوں، تعلیم اور نقصان کو برقرار رکھنے والے اصولوں کو چیلنج کرنے کے عزم کی ضرورت ہے۔ کھلے مکالمے کو فروغ دے کر، زندہ بچ جانے والوں کی حمایت، اور نظامی تبدیلی کی وکالت کرتے ہوئے، ہم ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں جہاں ہر عورت خوف سے آزاد رہ سکے۔ اگرچہ آگاہی ایک اہم پہلا قدم ہے، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن بھی ٹھوس اقدام کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ بیان بازی سے ہٹ کر، کوششوں کو بااختیار بنانے اور لچک پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اس میں قابل رسائی سپورٹ نیٹ ورکس بنانا، خواتین کے لیے معاشی مواقع کو یقینی بنانا، اور خود کفالت کے مواقع کو فروغ دینا شامل ہے۔ بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور وسائل فراہم کرنے سے، کمیونٹیز ایسا ماحول بنا سکتی ہیں جہاں خواتین پروان چڑھیں۔

    آخر میں: مساوات کی طرف ایک مسلسل سفر
    خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا بین الاقوامی دن ایک پُرجوش یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے جو ابھی ہونا باقی ہے۔ 25 نومبر کے بعد بھی، کال ٹو ایکشن برقرار ہے۔ باخبر رہنے، وکالت میں مشغول رہنے، اور تبدیلی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی حمایت کرکے، ہم خاموشی کو توڑنے اور ہر جگہ خواتین کے لیے ایک محفوظ، زیادہ مساوی دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔جیسا کہ ہم خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کی اہمیت پر غور کرتے ہیں، یہ واضح ہے کہ مساوات کی طرف سفر جاری ہے۔ یہ دن عمل کے لیے ایک سرگرمی کے طور پر کام کرتا ہے، لیکن لڑائی کیلنڈر پر ایک تاریخ سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ عالمی یکجہتی کو فروغ دے کر، علاقائی تناظر کو تسلیم کرتے ہوئے، کامیابی کی کہانیاں منا کر، تخلیقی طریقوں کو اپنانے، تعلیم کو ترجیح دینے، اور مردوں کو بطور اتحادی شامل کرکے، ہم ایک ایسی دنیا کے قریب جا سکتے ہے جہاں خواتین کے خلاف تشدد کی نہ صرف مذمت کی جاتی ہے بلکہ اسے ختم کیا جا سکتا ہے ۔ آگے کا راستہ مشکل ہو سکتا ہے، لیکن خواتین کے لیے ایک محفوظ، زیادہ مساوی دنیا بنانے کا اجتماعی عزم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ ترقی جاری رہے۔