Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سول نافرمانی اور لوٹ مارکاخدشہ

    سول نافرمانی اور لوٹ مارکاخدشہ

      سول نافرمانی اور لوٹ مارکاخدشہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    انٹرنیشنل نیوزایجنسی رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق جنوبی امریکی ملک ارجنٹائن میں بدترین معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ستائے لوگوں نے دکانوں میں لوٹ مار شروع کر دی ہے ،مقامی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں پورے ملک میں لوٹ مار کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے، لوٹ مار کے خوف سے کچھ دکانداروں نے دکانیں بند کردیں اور کچھ دکانداروں نے حفاظت کے لیے ہتھیار رکھ لیے ہیں،واضح رہے کہ ارجنٹائن میں آئی ایم ایف کے معاشی پروگرام سے کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی نے اشیائے ضروریہ کو مزید مہنگا کر دیا ہے جس کے باعث ارجنٹائن کے عوام ان دنوں معاشی بحران اور سو فیصد سے زیادہ مہنگائی اوربے روزگاری کاشکارہیں اوران کی قوت خرید ختم ہوگئی ہے ،جس سے ارجنٹائن میں لوٹ مار،چھیناجھپٹی عروج پر پہنچ گئی ،جسے وہاں کی پولیس کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے،

    پاکستان میں بھی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے ساتھ ہی مہنگائی سے متعلق خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت سے متعلق فورکاسٹ رپورٹ جاری کر دی، رپورٹ میں آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 25.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔مالی سال 2023 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 29.6 فی صد رہی، مالی سال 2022 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 12.1 فی صد تھی، آئندہ مالی سال میں پاکستان کی معیشت پست شرح نمو کا شکار رہے گی۔فورکاسٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 2023میں 8-5فیصدرہی ہے جبکہ گذشتہ سال 2022میں بے روزگاری کی شرح 6.2 فی صد تھی۔

    اس وقت پاکستان میں اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے بہت دورجاچکی ہیں،آٹا،گھی ،چینی ،دالیں اور پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں بدستور ہوشربااضافہ،سبزیاں اور پھل بھی عوام کی قوت خرید سے باہرہوگئے ہیں،عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں نگران حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے،مارکیٹ ریٹ کے برعکس آفیسران ائرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر فرضی ریٹ لسٹیں بناکراپنے ایجنٹوں کے ذریعے 10سے20روپے فی کاپی کے حساب سے مارکیٹ میں دکانداروں کوفروخت کرتے ہیں ،مارکیٹ کمیٹی کی جاری کردہ ریٹ لسٹ اورمارکیٹ میں اشیاء کے نرخوں میں زمین وآسمان کافرق ہوتا ہے ۔زندگی بچانے والی ادویات اتنامہنگی ہوگئی ہیں کہ غریب عوام تڑپ تڑپ کرموت کے منہ میں جارہے ہیں،اشرافیہ ہے کہ ان کے جسم پرجوں تک نہیں رینگتی،وہ عوام کی تکالیف سے بے نیاز ہوکرادویات اور دوسری ضروریات زندگی کی قیمتوں میں من چاہااضافہ کردیتے ہیں اورجب جی کرے تمام اہم چیزیں بلیک میں فروخت کرنے کیلئے مارکیٹ سے غائب کرکے ذخیرہ اندوزی کرلیتے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی شرائظ پورے کرنے کیلئے حکومت پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیاجس سے عوام کی کمرٹوٹ گئی، پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ سے اشیاء کی قیمتوں میں بڑااضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔دوسری طرف نگران حکومت نے آئی ایم ایف کوراضی کرنے کیلئے عوام پر بجلی کاایٹم بم گرادیا ہے ،بجلی کے بل اتنا زیادہ بڑھائے گئے کہ کئی شہریوں نے بھاری بل دیکھ کرخودکشیاں کرلیں،اس وقت ناجائز بجلی بلوں کے خلاف پورے پاکستان میں عوام سراپا احتجاج ہیں لیکن غیرمنتخب ارباب اختیار و نگران حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ،اس سے قطع نظرنگران حکومت عوام کو بجلی کے نرخوں میں ریلیف دیتی ہے یا نہیں

    سوشل میڈیا پرمختلف پوسٹیں اوراعداد وشماردیکھنے کومل رہے ہیں ایک پوسٹ کے مطابق واپڈا کے 48 ہزار آفیسران 1 لاکھ 5 ہزار ملازمین سالانہ 39 کروڑ 10 لاکھ فری یونٹ اور 5 ارب 25 کروڑ روپے کی سالانہ مفت بجلی استعمال کرتے ہیں،جس کاخمیازہ عوام کوبھاری بلوں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے ۔پاکستان کی تمام کچہریوں میں وکلاء چیمبرز،عدالتیں ،ججز اورکچہری کاپوراسسٹم مفت کی بجلی پر چلتا ہے ہاں کچہری میں کچھ ایسے وکلاء بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنے چیمبرکیلئے بجلی کے میٹرلگوائے ہوئے ہیں جوماہانہ بل بھی جمع کراتے جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابرہے ،

    بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ کی جانب سے 2021 میں شائع ہونے والی ایک مشترکہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ کیسے پاکستان کے امرا، جاگیردار، سیاسی قائدین اور فوج کو ملنے والے معاشی مراعات پاکستان کی معیشت میں 17 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافی خرچے کا باعث بنتے ہیں۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس(پائیڈ) اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے مختلف اداروں کے افسران کو اکثر ماہانہ تنخواہ کے ساتھ کئی مراعات ملتی ہیں جن میں مفت بجلی بھی شامل ہیں
    رپورٹ کے مطابق عدلیہ کے ایک ہائی کورٹ کے جج کو اپنی ملازمت کے دوران مفت گھر ملتا ہے، جس کا کرایہ حکومت دیتی ہے جبکہ بجلی کا بِل اور سرکاری گاڑی بھی حکومتی کھاتے میں آتے ہیں۔پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق اگر جج اپنے گھر میں رہتے ہیں تو ان کے گھر کا اضافی خرچہ، جو دستاویزات میں تقریبا 65 ہزار روپے ماہانہ رقم بتائی جاتی ہے، مختص کردی جاتی ہے۔اور اس کے علاوہ دیگر اخراجات بھی اسی کھاتے میں اضافی کے نام سے شامل کر دیے جاتے ہیں جو حکومت بھرتی ہے

    پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق اسی طرح بجلی کے اداروں میں کام کرنے والے اعلی افسران کو مفت بجلی دی جاتی ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ مفت ٹیلیفون، مفت پٹرول اور مفت گھر بھی دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ مارچ کے مہینے میں پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کی ایک اجلاس میں پاور ڈویژن کو 16 سے 22 گریڈ کے سرکاری افسران کو مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کمیٹی چیئرمین نور عالم خان نے کہا تھا کہ اس اقدام سے سالانہ نو ارب روپے کی بچت ہو گی تاہم اس تجویز پر عمل نہیں ہو سکا۔

    اب سوشل میڈیا پرمسلسل سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ ایک سکول ٹیچراپنی سواری،بجلی کے بل کے ساتھ اپنے گھرکے تمام اخراجات ملنے والی اپنی تنخواہ سے کرت اہے تو پھر پاکستان کے بڑے اداروں کے افسران کو ملنے والی بجلی اور دیگرآسائشیں مفت کیوں؟

    عوام مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ تمام گورنمنٹ ملازمین اور بشمول واپڈا ملازمین ،کچہریوں ،عدالتوں کودی جانے والی مفت بجلی بند کی جائے اور 500 یونٹ کاٹیرف 10 روپے یونٹ رکھا جائے اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا فراڈ ختم کیا جائے ۔

    اگر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے عوام میں پائی جانے والی بے چینی،احتجاج اوران کی آہ وزاری پرتوجہ نہ دی تو پاکستان کی اشرافیہ اورایلیٹ کلاس اپنے گھروں میں سکون سے نہیں رہ پائیں گے، مقتدرحلقوں کو سری لنکا کے حالات کو بھی مدنظررکھنا چاہئے،جب کی وہاں عوام ظالم حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پرنکلی تو پوری دنیا نے دیکھا کہ وہاں کے حکمرانوں کے خلاف عوام کاغیض وغضب کیساتھا۔

    ارجنٹائن نے بھی آئی ایم ایف قرض پروگرام پر عملدرآمد کرنے کیلئے بے جا ٹیکس لگائے جس سے مہنگا ئی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا اور عوام کی قوت خرید ختم ہوگئی تو پھر ارجنٹائن میں بدترین معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ستائے لوگوں نے دکانوں میں لوٹ مار شروع کر دی ۔

    آخرمیں ارباب اختیار سے عرض ہے کہ پاکستان کو سری لنکایا پھرارجنٹائن نہ بننے دیں ،عوام کے مطالبات جائز ہیں ان پر کان دھریں ایلیٹ کلاس یا اشرافیہ کی عوام کی سسکتی زندگی کی قیمت پر عیاشیاں بند کی جائیں ،مفت بجلی سمیت تمام اضافی مراعات واپس لی جائیں کیونکہ اس وقت پاکستان کسی بھی قسم کے ایڈونچریاکسی افراتفری کامتحمل نہیں ہوسکتا،اگراقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے طاقتور لوگوں نے عوام کی بے چینی کافوری ادراک نہ کیا توملک دشمن عناصر بھی تاک میں بیٹھے ہیں وہ ان حالات کا بھرپو رفائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ،خدانخواستہ اگرعوام نے سول نافرمانی شروع کردی اور لوٹ مارافراتفری پیدا ہوگئی تو عوام کے غصے سے اشرافیہ نہیں بچ پائے گی،اب بھی وقت ہے کہ عوام کی آواز سنیں اوران کے مسائل حل کریں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر دیرہوجائے۔

  • جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہوئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ماچس لکھنوی

    اصلی نام:مرزا محمد اقبال
    سن ولادت:1918ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تاریخ وفات:26 اگست 1970ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تصنیفات:انتخابِ کلام ماچس لکھنوی-2004ء
    (مرتبہ:رئیس آغا)

    ماچسؔ لکھنوی نامور مزاحیہ شاعر حضرت ماچس لکھنوی کا اسم گرامی مرزا محمد اقبال تھا۔ ماچسؔ لکھنوی کے نام سے مشہور ہیں۔ 1918 میں اپنے آبائی مکان متصل کاظمین لکھنؤ گیٹ میں پیدا ہوئے اور 26 اگست 1970 کو مختصر علالت کے بعد بعارضۂ کینسر وفات پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تذکرۂ معاصرین جلد اول مصنف مالک رام کے مطابق سنولادت 1911ء ہے۔

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے
    پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے
    جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند
    میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے
    کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالبؔ کے کماؤ
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    چارہ گر کہتے ہیں بس موت کی باقی ہے کسر
    اور ہر طرح سے بیمار کا حال اچھا ہے
    نہیں معلوم اگر سانپ کا منتر تو نہ پھنس
    ہاتھ اس سانپ کی بانبی میں نہ ڈال اچھا ہے
    جو بھی ہارے گا وہی گالیاں دے گا اس کو
    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    ڈھونڈئیے خیر سے جا کر کوئی موٹی سسرال
    ہاتھ جو مفت میں آئے تو وہ مال اچھا ہے
    بین ہی بین گزرتے رہو اس وادی سے
    نہ حرام اچھا ہے بالکل نہ حلال اچھا ہے
    ایک ہم تھے جو سیاست میں کما پائے نہ کچھ
    ورنہ ماضی کے فقیروں کا بھی حال اچھا ہے
    جتنے ہیں دہر میں ہاتھوں کی صفائی کے کمال
    سب سے اے دوست گرہ کٹ کا کمال اچھا ہے
    جس کی بچپن ہی میں شادی ہو وہ کیا جانے غریب
    عشق میں ہجر ہے بہتر کہ وصال اچھا ہے
    اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچسؔ لیکن
    آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد
    جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
    کچھ ہوتا رہے گا یوں ہی ہر سال ندارد
    تبت کبھی غائب کبھی نیپال ندارد
    رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد
    اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد
    تحقیق کیا ان کا جو شجرہ تو یہ پایا
    کچھ یوں ہی سی ننھیال ہے ددھیال ندارد
    ہے اس بت کافر کا شباب اپنا بڑھاپا
    ماضی ہے ادھر گول ادھر حال ندارد
    تعداد میں ہیں عورتیں مردوں سے زیادہ
    قوالیاں موجود ہیں قوال ندارد
    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہو گئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے
    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    دعوت کی تری بزم میں کیوں دھوم مچی ہے
    کیا بات ہے کیا کوئی نئی جیب کٹی ہے
    واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا
    ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھوٹ رہی ہے
    کیا ہے جو نہیں یہ اثر ربط محبت
    روئے تو ہیں وہ اور مری آواز پڑی ہے
    سائے کی تمنا میں جہاں بیٹھ گیا ہوں
    چندیا پہ وہیں تاک کے دیوار گری ہے
    چھوٹے نہیں چھٹتی ہے ترے وصل کی حسرت
    یہ جونک مرے دل کا لہو چوس رہی ہے
    وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی
    یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے
    پھر کیا ہے جو ماچسؔ نہیں یہ سوز محبت
    اک برق سی رگ رگ میں مرے کوند رہی ہے

  • نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک  یادگار نشست کا احوال

    نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک یادگار نشست کا احوال

    آغا نیاز مگسی

    ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی منفرد شخصیت کے مالک ، بلوچستان کے سابق گورنر ، سابق وزیر اعلیٰ سابق وفاقی وزیر اور بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب محمد اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 میں بارکھان بلوچستان میں اپنے ننھیال کھیتران قبیلہ کے گھر میں پیدا ہوئے اور26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں ایک سانحے کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی یہ پراسرار موت بھی بہت سی دیگر نامور شخصیات کی طرح آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ مجھے ان کی نمازہ جنازہ کا منظر دیکھنے اور رپورٹنگ کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے جس میں اندرون بلوچستان سے شریک ہونے والا میں واحد صحافی تھا بلکہ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں ان کا صحیح موقف پیش کرنے کا اعتماد حاصل کرنے کے باعث تقریباً 9 سال تک ٹیلی فون پر ان کی خبریں میں پیش کرتا رہا ۔ یہی وجہ تھی کہ کوئٹہ کے بہت سے نامور صحافی کسی موضوع یا کسی اہم مسئلے پر ان کا موقف جاننے کیلئے مجھ سے رابطہ کر کے نواب صاحب کا موقف معلوم کرتے تھے اور اسی تعلق اور اعتماد کے تناظر میں 2005 میں نصیر آباد اور جعفر آباد کے سینیئر صحافی دوستوں عبدالستار ترین ، دھنی بخش مگسی ، شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری نے مجھے حکم دیا کہ میں نواب صاحب سے رابطہ کر کے ان سے ملاقات کیلئے وقت لے لوں ۔ میں نے نواب صاحب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جنہوں نے از راہ شفقت فرمایا کہ آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنے صحافی دوستوں کو میرے پاس لے آئیں ۔ میں نے دوستوں سے رابطہ کر کے نواب صاحب کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے ڈیرہ الله یار کے اپنے قبیلے کے ایک بااعتماد نوجوان دریحان بگٹی کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دیں ۔ ہم لوگ 12 دسمبر 2005 کو ڈیرہ الله یار سے ڈیرہ بگٹی کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے عبدالستار ترین کو زبردستی دو پہر کو کھانا کھلانے کیلئے روکا جس کی وجہ سے ہمیں کافی تاخیر ہو گئی۔ جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو ایک دو جگہ پر ہم کسی ضرورت کے تحت گاڑی سے نیچے اترے تو لوگ ہمیں کہتے کہ آپ نواب صاحب کے مہمان ہیں ؟ ہم نے حیرت سے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولے کہ نواب صاحب بہت دیر تک اپنی ” کچہری ” یعنی محفل میں آپ لوگوں کا انتظار کرتے رہے ۔ ہم پہلے نواب صاحب کے مہمان خانے گئے جہاں ہمارے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہمیں ان کی خلوت گاہ پہنچا دیا گیا ۔

    ہم جیسے ہی ان کی آرام گاہ میں داخل ہوئے انہوں نے از راہ مذاق کہا کہ میں تو اس انتظار میں تھا کہ بی بی سی ریڈیو سے کب خبر چلتی ہے کہ نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کیلئے ڈیرہ بگٹی جانے والے نصیر آباد اور جعفر آباد کے صحافی اغوا کر لیے گئے ہیں ۔ ان سے ملاقات میں ، میں نے اپنے صحافی دوستوں کا ان کے شہر اور صحافتی ادارے کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے تعارف کرایا جس کے بعد انہوں نے بلوچی رسم کے مطابق ہم سے بلوچی ” حال” لینا چاہا چناں چہ میں نے انہیں ” حال ” دیا اور ان سے ” حال” لیا جس کے بعد ان سے باقاعدہ انٹرویو / گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ۔ میرے دوستوں نے ان سے حالات حاضرہ کے مطابق سیاسی سوالات کئے جبکہ میں نے ان سے ذاتی نوعیت کے غیر سیاسی سوالات کئے جن میں ان کے رومان، مذہبی و فکری رجحان ، پسندیدہ شخصیات ، سیر وسیاحت اور خود کو ڈیرہ بگٹی تک محدود رکھنے کے متعلق سوالات شامل تھے جن کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں عشق بھی کیا، دنیا کے کئی ممالک کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر مرکوز ہیں اس لئے میں ڈیرہ بگٹی سے باہر نہیں نکلتا جبکہ 18 سال سے گوشت نہ کھانے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ مذہبی لحاظ سے بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہیں اس لئے ان کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے گوشت کھانا ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ شخصیات میں رابندر ناتھ ٹیگور اور ہٹلر کا نام لیا۔ دسمبر کی یخ بستہ رات میں ان کے ساتھ ہونے والی ہماری نشست رات 9 بجے سے صبح 3 بجے تک یعنی 6 گھنٹوں پر محیط تھی ۔ اس گفتگو کے دوران ایک بار ہمارے ایک دوست نے ان سے یہ سوال کیا کہ نواب صاحب آپ کبھی حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودیہ بھی گئے یا نہیں تو اس کے جواب میں خلاف توقع نواب صاحب نے ہمارے صحافی دوست سے تلخ لہجے میں سوال کیا کہ ابھی جو مگسی صاحب (میری جانب اشارہ) نے میرے بیرونی ممالک کے دوروں کی فہرست میں جن ممالک کے نام لکھے ہیں تو کیا ان میں سعودی عرب کا نام شامل ہے ؟ اس غیر متوقع سوال اور جواب سے محفل کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا لیکن تقریباً نصف گھنٹے سکوت اور خاموشی کے بعد پھر سے محفل خوشگوار ہو گئی۔ اس طویل اور یادگار نشست کا اختام خود نواب اکبر خان بگٹی نے یہ کہہ کر ، کر دیا کہ اب آپ لوگوں پر نیند کا غلبہ طاری ہو رہا ہے اس لئے جا کر آرام کریں اس طرح ان کے ساتھ ہونے والی یادگار نشست اختتام پذیر ہو گئی جس کی یادیں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔

    نوٹ : 2018 سے میں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں صحافت کے شعبے سے قطع تعلق کر لیا ہے جس کے بعد میرا کسی بھی صحافتی ادارے سے تعلق نہیں ہے ۔ (آغا نیاز مگسی )

  • اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
    ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

    احمد فراز

    یوم پیدائش : 12 جنوری 1931
    یوم وفات : 25 اگست 2008
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رومان کی علامت اور مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والے سید احمد شاہ علی المعروف احمد فراز 12 جنوری 1931ء میں کوہاٹ خیبر پختونخواہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ہندکو ، سید خاندان سے تھا۔ ان کی مادری زبان ہندکو اور پشتو تھی مگر انہوں نے اردو کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ وہ شاعر ابن شاعر تھے۔ شاعری انہیں اپنے والد سے وراثت میں ملی اُن کے والد سید محمد شاہ برق فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ وہ پہلے احمد شاہ کوہاٹی کے نام سے مشہور تھے مگر فیض احمد فیض کے مشورے سے انہوں نے اپنا نام احمد فراز رکھ دیا۔ طالبعلمی کے دوران ہی ان کا پہلا شعری مجموعہ ” تنہا تنہا” شائع ہوا۔ وہ اس دوران ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک تھے مگر تعلیم کی تکمیل کے بعد محکمہ تعلیم میں لیکچرر تعینات ہو گئے ۔ 1976 میں احمد فراز کو ” اکادمی ادبیات پاکستان ” کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا لیکن 1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کی مخالفت کی بناء پر انہیں کچھ عرصہ جلاوطن ہونا پڑا۔ حالات سازگار ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ” لوک ورثہ” اور ” نیشنل بک فائونڈیشن” کے سربراہ مقرر ہوئے ۔

    احمد فراز بیک وقت رومان کی علامتوں سے لے کر، مزاحمت کے استعاروں تک، ہجر کے مراحل سے وطن پرستی کی فکری اساس تک کی معنویت کے شاعر تھے، اُنہیں حروف اور موضوعات کی کوئی قلت نہ تھی، وہ اپنی شعری روایت اور تاثیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
    فراز کی شاعری میں سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن ، ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّوع کی آلائشوں سے پاک جذبات کا اظہار ملتا ہے۔

    فراز کا یہی وہ شاعرانہ امتیاز ہے جس کی بدولت وہ نہ صر ف اس دور میں بلکہ آنے والے تمام ادوار میں بھی یا د کیے جائیں گے اور ان کا نام تاریخ کے باب میں ہمیشہ جلی اور روشن رہے گا۔ فراز کے ایک درجن سے زائد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، تنہا تہنا، جاناں جاناں اور فرقت شب و دیگر شامل ہیں ۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    میرا قلم عدالت میرے ضمیر کی ہے

    اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
    جبھی تو لوچ کماں کا زباں تیر کی ہے

    دور ہے تو، تو تری آج پرستش کر لیں
    ہم جسے چھو نہ سکیں، اس کو خدا کہتے ہیں

    کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
    کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

    سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
    ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے

    اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
    یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

    گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
    مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
    پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
    اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
    جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے

  • موسیقار  کلیان جی؛ سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    موسیقار کلیان جی؛ سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    تیری راہوں میں کھڑے ہیں دل تھام کے

    سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    برصغیر کے ممتاز موسیقار کلیان جی 30 جون 1928 میں گجرات ہندوستان میں پیدا ہوئے کلیان جی اور آنند جی یہ دونوں بھائی تھے اور دونوں موسیقار تھے یہ ایک ہندو تاجر ویر شاہ کے بیٹے تھے ۔ ہندوستان کی فلمی صنعت میں ان موسیقار بھائیوں کی جوڑی کلیان جی آنند جی کے نام سے مشہور ہے ۔

    انہوں نے بہت خوب صورت موسیقی دی ہے یہی وجہ ہے کہ محمد رفیع ، لتا منگیشکر ، مکیش ، کشور کمار و دیگر گلوکاروں نے ان کی موسیقی میں گانا بہت پسند کیا ہے رفیع صاحب سے ان بھائیوں کو بہت پیار تھا رفیع کی وفات کے بعد یہ لوگ ان کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے ۔

    محمد رفیع نے 188 گیت کلیان جی آنند کی موسیقی میں گائے ہیں ۔ گلوکارہ الکا یاگنک ، ادت نارائن ، ، سیندھی چوہان اور شریا گوشال کو متعارف کرانے والے یہی موسیقار جوڑی تھی انہوں نے مجموعی طور پر 250 سے زائد فلمی گیت ان کی موسیقی میں گائے گئے ہیں ۔ 24 اگست 2000 کو ممبئی میں کلیان جی کا انتقال ہوا۔ ان کے 5 بیٹے وجو شاہ، رمیش شاہ، راجیش شاہ، دنیش شاہ اور چندر کانت شاہ ہیں وجو شاہ بھی میوزک ڈائریکٹر ہیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    ہمبنٹوٹا،پاکستان نے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ اپنے نام کر دی
    کلیان جی آنند جی کی موسیقی میں گائے گئے چند مشہو گیت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تیری راہوں میں کھڑے ہیں دل تھام کے

    پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

    سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    تیرا ساتھ ہے کتنا پیارا کم لگتا ہے جیون سارا

    مجھ کو اس رات کی تنہائی میں آواز نہ دو

    زباں پہ درد بھری داستاں چلی آئی

    یونہی تم مجھ سے پیار کرتی ہو

    زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر

    میں پیاسا تم ساون میں دل تم میری دھڑکن

  • بلندی سے جانیں بچانے کا ڈرامائی ریسکیو آپریشن

    بلندی سے جانیں بچانے کا ڈرامائی ریسکیو آپریشن

    سولہ گھنٹے کا طویل ترین ریسکیو آپریشن، ہر لمحے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھی، پتہ نہیں کیا ہو گا؟ تا ہم چھ بچوں سمیت آٹھ افراد کو کامیابی کے ساتھ بچا لیا گیا، یہ آٹھ افراد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے بٹگرام کے پہاڑی علاقے میں ایک کھائی کے تقریبا 900 فٹ اوپر چیئر لفٹ، ڈولی میں پھنس گئے تھے

    خیبر پختونخواہ کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانے کے لئے چیئر لفٹ کا ہی سہارا لیا جاتا ہے، بٹگرام میں بھی اسی طرح کی کہانی ہے،چیئر لفٹ میں پھنسنے والے بچے روزانہ ہی سکول جانے کے لئے اسی چیئر لفٹ پر سفر کرتے تھے،کیونکہ انکے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں تھا، انفراسٹرکچر کی کمی ہے، یہ صورتحال دو اہم کوتاہیوں کو سامنے لاتی ہے، دودراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبا کو یہ سفر کرنا پڑتا ہے اور اس سفر کے لئے انہیں چیئر لفٹ کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے اگر وہ پیدل جانے کا سوچیں تو انہیں دو گھنٹے لگیں ،یہی چیئر لفٹ وہی دو گھنٹوں کو پیدل سفر چار منٹ میں طے کروا دیتی ہے

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، محبت شاہ نامی ایک مقامی رہائشی نے محدود سفری آپشنز پر زور دیا۔ ڈولی پر سواری کی لاگت 10 روپے فی مسافر یک طرفہ ہے، جبکہ اسی مقام پرپہنچنے کے لیے ٹیکسی کا کرایہ تقریبا 2000 ہو جاتا ہے،ڈولی سسٹم کے لیے پہل مقامی باشندوں نے کی، جنہوں نے شہر کے معاملات کی نگرانی کرنے والے متعلقہ حکام سے اجازت طلب کی۔ ڈولی جانگری اور بٹنگی گاؤں کے درمیان سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے، جہاں اسکول واقع ہے۔ ڈولی یا چیئر لفٹ،پک اپ ٹرک اور موٹر سائیکلوں کے اجزا سے بنائی گئی ہے،

    مقامی شہریوں کو چیئر لفٹ ، ڈولی کی اجازت سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کو یکساں ضروری خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہے وہیں، ایسی سہولیات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کس پر بنتی ہے؟ اگر کوئی ذمہ دار ادارہ ہوتا تو ڈولی کے کمزور پوائنٹس کی نشاندہی ہوتی اور اس واقعہ کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا تھا

    خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت اس واقعہ کی جوابدہ ہے، کے پی کے کئی علاقوں میں تعلیمی اداروں کا نہ ہونا یہ بھی وضاحت طلب ہے، تحریک انصاف کی گزشتہ برسوں کے پی میں حکومت رہی، کے پی کے اکثر علاقوں میں نقل و حمل کے لیے چیئر لفٹ کا استعمال کیا جاتا ہے اور شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ ڈولی لگائی ہوتی ہیں،ان علاقوں میں نقل و حمل کے لئے متبادل سرمایہ کاری کی کمی خدشات کو جنم دیتی ہے،باقاعدہ دیکھ بھال اور مرمت ، اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے،کیا خیبر پختونخواہ کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو ان مسائل کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے؟

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    صوبہ بھر کی چئیر لفٹس کے معائنہ کی ہدایت

    آرمی ریسکیو ہیلی کاپٹر کے لفٹ کے قریب پہنچتے ہی ڈولی نے ہلنا شروع کر دیا 

  • جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے شکوہ
    وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے
    اقربا میرے کریں قاتل کا دعویٰ کس پر

    قومی انتخابات کو لے کر پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پیپلزپارٹی روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیتی ہیں کہ الیکشن وقت پر اور آئین کے مطابق کروائے جائیں ان کے بیانات سن کر اور پڑھ کر جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے اس کی بنیادی وجہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے جاتے جاتے مشترکہ مفادا ت کونسل کے ذریعے مردم شماری کا شوشہ چھوڑ کر بروقت الیکشن کے انعقاد کو ٹالنے کی ایسی راہ ہموار کر دی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن ضابطہ کی روشنی میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پابند ہے۔

    ویسے بھی پنجاب میں نگران حکومت اور کے پی کے میں نگران حکومت آئین کی حدوں کو کراس کر چکی ہیں دونوں صوبوں میں مقررہ وقت پر الیکشن نہیں کروائے گئے اس طرح الیکشن مقررہ وقت کے بیانات پچیس کروڑ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس کے ذمہ دار خود سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں۔ ملک میں پہلے ہی جمہوریت غیر مستحکم ہے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اس غیر مستحکم جمہوریت کو مستحکم کرنے کے بجائے مزید لاغر کردیا ہے۔ قومی انتخابات جس کو جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے پی ڈی ایم نے خود اس کی روح نکال دی ہے اور دفن کر دیا ہے۔ قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بیانات میں حقیقت نہیں صرف افسانے ہیں۔ افسانے افسانے ہی ہوتے ہیں حقیقت نہیں عوام کی اکثریت باشعور ہیں بے وقوف نہیں۔

  • غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    شاہد نور کو 24 اگست 1980ء کو سیوان (بہار) میں پیدا ہوئے ان کی والدہ کا نام آسیہ خاتون،والد کا نام مشتاق احمد ہے بی کام (آنرس) کیا اور چیرمین نور آٹوپروفائل گروپ، مینیجنگ ڈائرکٹر ایم جی کنسٹرکشن اورسٹی ڈیولپر گروپ کے نام سے کاروبار شروع کیا تصانیف:میٹھا نیم-2012ء (شعری مجموعہ)

    ایواردڈ و اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)توفیق فاروقی ایوارڈ
    ۔ منجانب ادارہ خاتونِ مشرق، دہلی
    ۔ (2)کامنا کلا سنگم ایوارڈ

    غزل
    ۔۔۔۔
    مجھے آنکھوں نے جل تھل کردیا ہے
    مری مٹی کو دلدل کردیا ہے
    مرے خوابوں کو آنکھوں میں سجاکر
    کسی لڑکی نے کاجل کردیا ہے
    میں اپنی ذات میں اک گلستاں تھا
    تری فرقت نے جنگل کردیا ہے
    کئی دریائوں نے آپس میں مل کر
    سمندر کو مکمل کردیا ہے
    مری بچی کی ننھی سے ہنسی نے
    مرے آنسو کو صندل کردیا ہے
    وہ جب گمنام تھا اچھا بھلا تھا
    اُسے شہرت نے پاگل کردیا ہے
    فرائض کے تقاضوں نے ہی شاہد
    مرے چھالوں کو مخمل کردیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    لہولہان جب اک شیر جھاڑ سے نکلا
    ہرن کا درد بھی اُس کی دہاڑ سے نکلا
    سنا تھا جھیل کے اُس پار بھوت رہتے ہیں
    مگر ڈکیت کا کنبہ پہاڑ سے نکلا
    اندھیری رات میں اک اجنبی نے دستک دی
    تو چاند اوڑھ کے آنچل ، کواڑ سے نکلا
    سکھا گیا ہے زمانے کا دائو پیچ مجھے
    وہ ایک سانپ جو ہاتھوں کی آڑ سے نکلا
    مرا حسین سا بچپن وہ گائوں کا البم
    کٹورے میں رکھا چاول کے ماڑ سے نکلا
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    زمین پھٹ گئی خود اپنے کرب سے شاہد
    پھر اُس کی آہ کا شعلہ دراڑ سے نکلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو ہر بات پہ کہتا ہے ترا سب کچھ ہے
    تجھ کو معلوم نہیں ہے کہ خدا سب کچھ ہے
    اس کی آنکھوں کی یہ تعریف مکمل ہوگی
    اس کی آنکھوں میں محبت کے سوا سب کچھ ہے
    اس کے بارے میں غلط بات نہیں سن سکتا
    تم کو معلوم ہے وہ شخص مرا سب کچھ ہے
    کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی اس کی
    میرے محبوب کے چہرے پہ لکھا سب کچھ ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    ہمارے دل سے یہی اک کسک نہیں جاتی
    تم اتنا کام جو کرتی ہو تھک نہیں جاتی
    تم ہی بتاؤ کہ اب کیا بتاؤں دنیا کو
    مرے بدن سے تمھاری مہک نہیں جاتی
    میں حادثے میں کسی طور بچ گیا ہوں مگر
    مرے دماغ سے اس کی دھمک نہیں جاتی
    جسے وہ دیکھ لے وہ پھول کھلنے لگتا ہے
    جسے وہ چوم لے اس کی چمک نہیں جاتی
    عجیب آپ کی بھی قوتِ سماعت ہے
    ہماری بات کبھی آپ تک نہیں جاتی

  • رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    سول جج کے گھر میں کمسن 14 سالہ ملازمہ رضوانہ کے دلخراش کیس نے قوم کو صدمے میں ڈال دیا۔ اس تکلیف دہ واقعے نے جج کی اہلیہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کی وجہ سے عوام کی توجہ حاصل کر لی، سول جج کی اہلیہ کی شناخت مرکزی مجرم کے طور پر کی گئی ۔ رضوانہ کو دوران ملازمت ڈنڈوں سے بے تحاشا مارنے کے ساتھ ساتھ جج کی بیوی کی طرف سے لاتیں اور تھپڑ بھی مارے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر، تشدد میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا اور وہ کئی دنوں تک ایک کمرے میں بند رہتی تھی، اسے بھوکا رکھا جاتا تھا، اور کمرے سے باہر کسی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ رضوانہ نے یہاں تک انکشاف کیا کہ ملازمت کے دوران اسے اپنے والدین سے ملنے کا حق نہیں دیا گیا اور اس کے زخموں کا علاج نہیں کیا گیا۔

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے بعد تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کی گئی۔ رضوانہ کو ملازم رکھنے والے سول جج کو سوالات کے جوابات دینے کے لیے بلایا گیا، لیکن وہ جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے۔ اس حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ قانونی نظام میں موجود افراد بھی قانون کا احترام نہیں کرتے۔ ان کی اہلیہ، صومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا گیا لیکن 100,000 روپے کے ضمانتی مچلکے دینے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس نے رضوانہ پر تشدد اور ناروا سلوک کے تمام الزامات کی تردید کی، جبکہ معجزانہ طور پر رضوانہ اس خوفناک آزمائش سے بچنے میں کامیاب ہو گئی۔

    افسوسناک بات یہ ہے کہ رانی پور سے تعلق رکھنے والی 9 سالہ فاطمہ کی کہانی بھی اسی طرح کی اور ایک تاریک داستان بیان کرتی ہے، فاطمہ کو ایک امیر مقامی مذہبی رہنما کے گھر میں ایک وحشیانہ انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں اسے نہ صرف انتہائی جسمانی تشدد بلکہ جنسی زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے عصمت دری کے بھی ثبوت ملے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اسے پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی دفن کر دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اس کی لاش کو نکالا گیا۔ میڈیکل رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے جسم سے ڈی این اے ٹیسٹ اور سیرولوجی کے لیے نمونے جمع کیے گئے تھے، جن میں حویلی میں رہنے والے ممکنہ مجرموں بشمول مالک، پیر اسد شاہ کی شناخت کی گئی تھی،

    رضوانہ اور فاطمہ کے کیس اس پریشان کن حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انصاف کے نظام مستقل طور پر انصاف کے وعدے کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ مقدمات بچوں کے حقوق اور بہبود کے تحفظ کے لیے نظام عدل کے اندر جامع اصلاحات کی فوری ضرورت کی واضح یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ گھناؤنے کاموں کے ذمہ داروں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بعض بیرونی ممالک بالخصوص بھارت بلوچستان کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا دہشت گردوں کو باقاعدہ وسائل فراہم کرتا رہا۔وسائل سے مالا مال یہ خط پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ اس صوبے کو نظر بد سے بچانے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 1997 میں اپنی جماعت کی مدد سے اختر مینگل کو مخلوط حکومت کا وزیراعلیٰ بنایا ۔ 2013 میں ڈاکٹر عبدالمالک کو بھی(ن) لیگ کی حمایت رہی۔ اختر مینگل کا تعلق اور ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق دو مختلف جماعتوں سے تھا دونوں سیاسی پارٹیوں کی مدد سے بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے کے قریب لایا گیا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی پرچم لہرانے لگا۔آج ایک بار پھر نگران حکومت کی تشکیل میں پاکستان مخالف ممالک اور بالخصوص بھارت کو جواب دیا گیاہے۔ جو بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرتا رہا۔

    ملکی سلامتی کے پیش نظر فیصلوں کی حمایت ہی نہیں بھرپور حمائت کرنا چاہیئے ۔ سالوں کے بعد یعنی 75 سال کے بعد بحیثیت قوم ایک نہ ختم ہونے والی ہیجانی کیفیت سے گزر رہے ہیں ہم حقائق جانے بغیر اپنی رائے قائم کردیتے ہیں ہم اندر ونی خلفشار کا شکار ہیں ۔یہ اندرونی خلفشار نظام کو لپیٹنے کا آغاز ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے طے شدہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا ۔ اس ملکی سلامتی اور عام آدمی کے مفادات کے لیے اپنے مفادات کو پس پشت ڈالنا ہو گا ۔ معاشی بحران بھی ایسا نہیں جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ اس وقت ملک کے حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جائیں ۔ پاکستان کو باکردار لوگوں کی ضرورت ہے۔