Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محمد حسين ہيكل   کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان ہیں۔ ایک اعلی پائے کے سیرت نگار؛ جن کی سب سے بہترین تالیف "حیات ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ محمد حسین ہیکل کی پیدائش 20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر میں ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909ء میں گریجویشن مکمل کی 1912ء میں فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔ صحافت میں بھی رہے۔ احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 ء میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ تعلیم رہے۔ جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1940 ء سے 1942ء تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945ء میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔
    محمد حسین ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادى الاول 1376ھ بمطابق 08 دسمبر 1956ء میں ہوئی۔
    تالیفات

    روايۃ زينب۔
    روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914.
    سير حياة شخصيات مصريۃ وغربيۃ – 1929.

    حياتِ محمد – 1933.
    فی منزل الوحى – 1939.
    مذكرات فی السياسۃ المصريہ – 1951 / 1953.
    الصديق ابو بكر۔
    الفاروق عمر – 1944 / 1945.
    عثمان بن عفان – 1968.
    ولدی۔
    يوميات باريس۔
    الامبراطوريہ الإسلاميہ والأماكن المقدسہ – 1964.
    قصص سعوديہ قصيرہ – 1967.
    فی اوقات الفراغ،
    الشرق الجديد

    محمد حسین ہیکل کا نام تاریخ میں سیرت طیبہ کے مولف کی حیثیت سے زندہ و جاوید رہے گا۔ یہ ذکرِ محمد کا اعجاز ہے۔۔ انہوں نے عربی میں شاہکار کتابیں لکھیں۔انہوں نے حیات محمدﷺ کتاب1933ء میں لکھی اور اسی نہج پر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت مبارکہ1944میں لکھی۔ حیات محمد ﷺ کا اردو ترجمہ ابویحیٰ امام خان نے کیا۔ اور اردو میں اس کتاب کو مقبولیت دوام حاصل ہوا۔

    ”حیات محمد ﷺ‘‘ کا اردو ترجمہ ہندوستان میں تاج کمپنی دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں یوں لکھا گیا۔’’ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب دنیا کی مختلف اقوام نے سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ شروع کیا تو تہذیب عالم کی اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں انہیں کافی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مسلمانوں کے ہاں سیرت نگاری کا ایک خاص اسلوب پیدا ہوا۔ جس پر کلامی انداز غالب تھا۔ عہد جدید میں سیرت مبارکہ پر جن تحریروں کو سند کا درجہ دیا جاتا ہے ان میں محمد حسین ہیکل کی ”حیات محمد ﷺ‘‘ صف اول کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔عربی زبان میں یہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ عہد جدید میں سیرت نبوی ﷺ پر حوالے کی اس بنیادی کتاب کا ترجمہ مولانا ابویحی امام خاں نوشہروی نے اس خاص اسلوب میں کیا جس کی پختگی فن ترجمہ میں انہیں ایک بلند حیثیت دیتی ہے۔ عربی اسالیب کی بلاغت پوری صحت کے ساتھ ترجمے میں منتقل کی گئی ہے۔ اور اس اعتبار سے اردو میں سیرت نبوی ﷺ کے ذخیرہ ادب میں ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔(ناشر ”حیات محمد ﷺ‘‘ دہلی)
    کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ جس عقیدت و احترام سے لکھی گئی اس کا اندازہ کتاب کے آغاز میں لکھے گئے مولف کے مقدمہ اول کے ابتدائی جملوں سے ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں:
    ’’ حضرت محمد علیہ الصلوۃ السلام یہ ہے وہ مبارک نام جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتا اور کروڑوں دلوں کو سرور و تازگی سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمارے لب اور ہمارے یہ دل اسی نام سے ساڑھے تیرہ سو برس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لبوں اور دلوں کی بہرہ مندی قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔اذان پنچگانہ میں:ادھر صبح صادق نے رات کی سیاہی پر نور چھڑکا موذن نے الصلوۃ خیر من النوم پکار کر بنی آدم کو اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں سر رکھنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود و سلامتی کے تحفے پیش کئے۔۔ آں حضرت سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں جب بھی آں حضرت کا ذکر آیا دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑا۔ آں حضرت کی ذات کے ساتھ احترام و محبت کے یہ جذبات ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ اور آئیندہ بھی اسی طرح وابستہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام دنیا کے ذرے ذرے پر غالب آجائے‘‘۔ ( ”حیات محمد ﷺ‘‘ محمد ہیکل۔ ص۔ 3 دہلی۔ پہلا ایڈیشن 1988)
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    کتاب کے مقدمے میں محمد ہیکل نے ابتدائے آدم سے زمانہ جاہلیت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا۔ اور پس منظر کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وصلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد مستشرقین کی جانب سے اسلام اور آپ ﷺ سے متعلق پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات اور ان کے ازالے کے لیے مستند کتب سیرت کی ضرورت اجاگر کی۔ اس تصنیف کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے محمد ہیکل لکھتے ہیں:
    ’’علمی زندگی طے کرنے کے بعد میں نے عملی دور میں قدم رکھا ہی تھا کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان مسائل سے متاثر دیکھا جو اسلام اور اس کے بانی کے متعلق پیدا کیے جاچکے تھے۔ کیا اسلامی ممالک اور کیا ان ملکوں کے اندر جہاں مسلمان رعایا کی حیثیت سے زیر نگیں تھے میں ان مسائل کی تحقیق میں ڈوب گیا۔ جن کی غلط بیانی اور فریب دہی کے چکر میں آکر مسلمان اور مشرق دونوں پریشان تھے۔ مغرب کے عیار اہل قلم اور اسلام کے جامد علماء کی اس کج روی سے صرف دین ہی کو خطرہ نہ تھا بلکہ یہ علمی حادثہ تمام عالم کے لیے مصائب کا پیش خیمہ تھا۔ کیوں کہ مسلمان جو صدیوں تک دنیا کے ہر خطے میں علم و تمدن کے نقیب رہے اگر انہی کے عقائد اور ان کے بانی کے اطوار و کردار میں ظلم و جہالت کی تیرگی ثابت ہوجائے تو جن قوموں نے ان کی برکت سے علم و دانش کے خزانے حاصل کیے وہ تہذیب و فنون میں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ تو میں اپنا فرض سمجھ کر ان مسائل کی تحقیق و مطالعے میں منہمک ہوگیا۔حتی کہ کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ کی تدوین پر میری توجہ مرکوز ہوگئی۔( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔ 23)

    مولف کتاب محمد ہیکل نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے دوران قرآان و احادیث کتب اور دیگر حوالوں کو جس انداز میں مطالعہ کیا اور اسے اختیار کیا اس کی تفصیلات اس مقدمے میں دی ہیں۔ مقدمہ ثانی میں انہوں نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ وحی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
    وحی کا تجزیہ موجودہ آلات سے نہیں ہوسکتا:حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نزول وحی کے زمانے میں جو مسلمان موجود تھے جب کوئی آیت قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر نازل ہوتی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا۔ اس دور کے مسلمانوں میں بعض افراد نہایت دیدہ ور اور صاحب فراست بھی تھے۔یہود و نصاری میں سے بھی کچھ ایسے علماء مسلمان ہوچکے تھے جو ایمان لانے سے قبل پیغمبر اسلام کے ساتھ مناظرہ کرتے رہتے۔مگر مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے بھی قرآن کے وحی ہونے سے انکار کا دامن نہیں چھوڑا۔۔ان تمام صورتوں کی موجودگی میں علم گوارا نہیں کرسکتا کہ وحی کو اس کی اصلیت سے ہٹا کر کسی اور نام سے پکارا جائے( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔45)
    مقدمے کے آخر میں محمد حسین ہیکل نے سیرت نبوی ﷺ کی جانچ کا حتمی پیمانہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:’’قرآن مجید کی تعلیم اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ معجزہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا۔ اس کے انداز اور ہمہ گیری سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنے زمانہ نزول سے لے اس وقت تک دنیا میں جلوہ آرا رہے گا۔ جب تک یہ نظام مربوط ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن مجید پر عرض(پیش) کریں اور آپ ﷺ کے متعلقہ روایات میں جو چیز قرآن مجید کے موافق ہو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں۔ مگر قرآن کے سوا دوسرے ذرائع سے جو ایسے امور آنخصرت ﷺ کی سیرت کے متعلق منقول ہوں کہ وہ قرآن کے معیار پر پورتے نہ اتر سکیں ان سے انکار میں انہیں تردد نہ کرنا چاہئے( ص۔68)

    کتاب حیات محمد کے آخر میں اسلامی تمدن اور اسلامی تمدن اور مستشرقین کے عنوان سے آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعددنیا کے حالات پیش کئے۔مجموعی طور پر محمد حسین ہیکل کی کتاب’’ حیات محمد ﷺ‘‘ سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی ہوئی شاہکار کتاب ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی اسی قدر شاہکار ہے۔ اس کتاب کا اسلوب رواں سلیس اور دل کو چھو لینے والاہے ۔ ذکر رسول ﷺ کو انہوں نے ادب و احترام اور واقعات کی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

  • نگران حکومت سے عوام کی توقعات  ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    عام انتخابات سے قبل نگران حکومت کا قیام ایک قانونی تقاضا ہوتا ہے جس کا اہم مقصد ملک میں انتخابی عمل کو صاف اور شفاف انداز میں یقینی بنانا ہوتا ہے اس لیے اس کا باقاعدہ حلف اٹھایا جاتا ہے۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے یہ آٹھویں نگران حکومت ہے ۔نگران حکومت کاایک مقصد شفاف شفاف انتخابات کا انعقاد کروانا ہوتا ہے تاہم بدقسمتی کی بات ہے کہ جب بھی نگران حکومت کی نگرانی میں انتخابات ہوئے اپوزیشن نے کبھی بھی ان کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دھاندلی کا شور ہی مچا ہے ۔ نگران حکومت کی دیگر ذمہ داریاں منتخب حکومت کے قیام تک آئین اور قانون کے تحت مملکت کا انتظام چلانا ہوتا ہے تاکہ نہ صرف یہ کہ جاری ترقیاتی منصوبے وقت مقررہ پر پایا تکمیل تک پہنچ جائیں بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

    جہاں تک نگران حکومت کو درپیش اجتماعی مسائل کا تعلق ہے ان میں امن و امان ، مہنگائی اور بے روزگاری ایسے مسائل سر فہرست ہیں ان مسائل سے نمٹنا بے حد توجہ طلب ہے۔ انتخابات وقت پر کروانے کے بعد دوسری اہم ذمہ داری عوام پر سے مہنگائی کا بوجھ کم کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس لیے کہ عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے بلکہ اب تو صورت حال یہ ہے کہ عوام کے لیے جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا ہے ۔ اس تناظر میں نگران حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو نہ صرف عوام کے مفاد میں ہوں بلکہ آنے والے حکومت کے لیے بھی قابل تقلید ہوں ۔

    اس بات میں کوئی دو آرا ء نہیں کہ اس وقت قوم کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی سودی قرضوں کے لیے جال میں بری طرح جکڑا ہوا ہے سودی معیشت جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ اور بغاوت کے مترادف ہے اس جنگ اور بغاوت نے ہمارا معاشی ، معاشرتی اور قومی حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔حالانکہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا ضروری تھا کہ پاکستان میں سودی نظام کا خاتمہ کرکے اسلامی طرز معاشرت قائم کیا جاتا لیکن یہاں دن بہ دن سودی نظام مضبوط ہورہا ہے ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت عالمی مالیاتی اداروں کے شکجنے اور پنجے میں بری طرح جکڑی جاچکی ہے ۔ ہماری حکمرانوں کی بے حسی کی یہ حالت ہے کہ آئی ایم ایف سے جب بھی بھیک ملتی ہے تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشیاں مناتے ہیں مگر یہ کسی کو بھی احساس نہیں کہ عوام کا دیوالیہ ہو چکا ہے اور مہنگائی کی شرح تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60ہزار روپے تنخواہ لینے والا شخص خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ حکمران ان حالات پہ اس لیے توجہ نہیں دیتے کہ انہیں معاشی مسائل درپیش نہیں ہیں انہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو تو پتہ چلے کہ عوام مالی طور پر حالات کے پل صراط سے کس طرح گزر رہے ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے گھرانے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے قابل ہیں نہ صحت کی سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں۔ نگران ارباب اختیار کو چاہیے کہ وقت ضائع کیے بغیر ان گھمبیر اور سنگین مسائل پر توجہ دیں تاکہ ملک میں بھوک اور افلاس کے باعث خودکشیوں کا رجحان دم توڑ سکے۔اس وقت یہ بات زبان زد عام ہے کہ لوگ مالی مشکلات کے باعث عفت و عصمت ایسے گوہر کو لٹانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے ہماری درج ذیل گزارشات ہیں کہ وہ :
    اپنی کابینہ مختصر رکھیں ، اپنا اور اپنے وزرا کا شاہانہ پروٹوکول ختم کریں ، کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کریں، وفاق اور صوبوں میں ایسی تبدیلیاں لائیں جن سے اشرافیہ کو حاصل مراعات میں کمی ہو، لاکھوں سرکاری گاڑیوں کو روزانہ ہزاروں لیٹر ملنے والا مہنگا پٹرول بند کیا جائے ، خاص طور پر ججوں جرنیلوں اور بیوروکریٹ کو حاصل لامحدود مراعات واپس لی جائیں۔

    دکھ کی بات ہے کہ ایک اسلامی نظریاتی ریاست میں دولت کی تقسیم کا کوئی قابل قبول فارمولا ہی نافذ نہیں تمام مراعات کا رخ طبقہ اشرافیہ اور ان کے اللوں تللوں کی طرف ہے اور غریب لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف نگران وزیر اعظم نے سابق حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے حالانکہ سابق حکومت نے ملک کا اور غریب آدمی کا معاشی طور پر تیاپانچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ سابق حکمرانوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا کہ چار پانچ افراد پر مشتمل گھرانوں کے وہ کفیل جن کی ماہانہ آمدنی 25 سے 30 ہزار روپے تک ہے وہ کن بدترین حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ بجلی کے بلوں نے عام آدمی کو خون کے آنسو رولا دیا ہے۔ کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتاتھا کہ جب بجلی کے نرخوں میں نت نئے ٹیکس کا اضافہ نہ کیا جاتا ہویا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا ہو ۔اب نگران حکومت نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ غریب آدمی کو کچلنے اور مہنگائی کرنے میں سابقہ حکومت کے راستے پر ہی چل رہی ہے ۔حکومت بجلی چوری پر ہی قابو پا لیتی تو بجلی کے بل کم ہو سکتے تھے بجلی کے بلوں میں اضافہ ایسا مسئلہ ہے جو ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے یہ بات ارباب اختیار کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ ظلم کی بھی ایک حد ہوتی ہے بجلی ، سوئی گیس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر ضروریات زندگی کے نرخوں میں ناقابل برداشت اضافوں کے باعث اگر عوام سڑکوں پر آگئی تو حالات کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا قبل اس کے کہ ایسا وقت آئے عوام کی مشکلات کا مداوا ہونا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یا تو مہنگائی پہ کنٹرول کیا جائے یا آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔نگران حکومت کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ ایک تو سرکاری اور پرائیویٹ محکموں میں روزانہ اجرت یا کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو 32 ہزار روپے کی ادائیگی ہو یا دوسرا یہ کہ جس طرح مستقل ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اسی طرح غیر مستقل ملازمین کو بھی آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے معقول تنخواہ دی جائے ۔ معاشی ماہرین کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ارباب اختیار کو مشورہ دیں تاکہ وہ غیر مستقل ملازمین کا بھی خیال رکھیں کیونکہ ضرورتیں تو سبھی لوگوں کی ایک جیسی ہوتی ہیں کسی کی آمدنی کم ہو یا زیادہ مہنگائی کا بوجھ سب پر ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ خوشحال لوگ تو آج بھی مہنگائی کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے مگر غریب آدمی تو ذہنی توازن تک کھوتاجا رہا ہے کہ وہ خود کیا کھائے اور بچوں کو کیا کھلائے۔ ان مسائل پر خلوص نیت سے توجہ نہ دی گئی تو مستقبل قریب میں حالات پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا ۔

  • قمیض تیڈی کالی سھنی پھلیں والی

    قمیض تیڈی کالی سھنی پھلیں والی

    عطاء الله خان نیازی عیسیٰ خیلوی

    تاریخ پیدائش : 19 اگست 1951

    مزدوری، بیرا گیری اور ٹرک کلینری سے گلوگار بننے تک

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی 19 اگست 1951 میں ضلع میانوالی کے قصبہ عیسیٰ خیل کے محلہ بھنبھراں کے ایک متوسط طبقہ کے خاندان احمد خان نیازی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ نیازی پٹھان قوم کا ایک مشہور قبیلہ ہے لیکن یہ لوگ پشتو زبان کی بجائے سرائیکی زبان بولتے ہیں ۔ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کی دو بہن اور دو بھائی ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی کا نام ثناء الله خان ہے ان کی بڑی بہن فوت ہو چکی ہیں چھوٹی بہن گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں ۔ عطاء الله نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ انہیں بچپن سے ہی گانے بجانے سے دلچسپی تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹانے کی بجائے موسیقی سے اپنے شوق کا اظہار کرتے ہوئے گانا سیکھنے کی اجازت مانگی مگر ان کے والد صاحب نے سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گانا بجانا میراثیوں یعنی ڈھول بجانے والوں کا کام ہے ۔ ان کے والد ان کو اعلیٰ تعلیم دلا کر آفیسر بنانے کے خواہش مند تھے مگر عطاء الله 1975 میں گھر سے نکل کر کراچی پہنچ گئے ۔ یہاں 10 روپے ماہانہ کرایہ کے ایک کمرے میں رہائش اختیار کی ۔ دن کو مزدوری کرتے تھے اور رات کو گانا سیکھنے کی کوش کوشش کرتے تھے ۔ 2 سال بعد اپنی بڑی بہن کی وفات کی اطلاع ملنے پر اپنے گاؤں گئے ۔ چند روز رہنے کے بعد والد سے دوبارہ گانا گانے کی اجازت مانگی مگر اب بھی والد نہیں مانے عطاء الله کی ضد دیکھ کر انہوں نے کہا کہ اگر تم گانا ہی چاہتے ہو تو اس گھر میں تمھارے لیے گنجائش نہیں ہے اور گلوکار بننے کی صورت میں اپنا قبیلہ نیازی ظاہر نہیں کرنا جس کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور یہاں وہ دن کو ہوٹلوں میں بیراگیری کرتے اور رات کو موسیقی کی تربیت حاصل کرنے لگے۔ کچھ عرصہ ٹرک کے کلینر بنے اور کچھ عرصہ کرایہ کا رکشہ چلانے لگے۔

    1978 میں عطاء الله کو ریڈیو پاکستان بہاولپور میں گانے کا موقع مل گیا جس کا معاوضہ انہیں 25 روپے کے چیک کی صورت میں دیا گیا۔ 1979 میں ان کے مقدر کا ستارہ چمک اٹھا جب فیصل آباد کے ایک رہائشی چوہدری رحمت علی نے عطاء الله کا اپنے خرچے پر آڈیو کیسٹ کا البم ریکارڈ کروایا جس کی پہلی غزل نے ہی دھوم مچا دی جس کے بول تھے

    ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
    ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی

    اس البم میں عطاء اللہ خان نے اپنے والد کے حکم کے مطابق اپنے نام کے ساتھ نیازی نہیں لکھا بلکہ اپنے قبیلے کی بجائے اپنے گاؤں کی نسبت سے عیسیٰ خیلوی لکھوایا اور یہیں سے وہ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ عطاء الله خان کی شہرت اور مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا یہاں تک وہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ہو گئے۔ وہ اردو، سرائیکی، سندھی ، پنجابی سمیت متعدد زبانوں میں گاتے ہیں لیکن ان کی اصل شہرت اردو اور سرائیکی زبان کی گائیکی میں ہے وہ اب تک 100 سے زائد ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں ۔ 1992 میں لندن میں ملکہ برطانیہ نے ان کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا جبکہ 1994 میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ آڈیو کیسٹ البم ریکارڈ کرانے پر ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ۔ عطاء الله خان نے یکے بعد دیگر 5 شادیاں کیں جن میں سے انہوں نے 3 بیویوں کو طلاق دے دی ہے اور 2 بیویاں ان کے عقد میں ہیں جن میں ایک معروف فلمی اداکارہ بازغہ اور ایک بیوی تونسہ شریف کے ایک اعلیٰ طبقے کے خاندان سے ہے۔ بازغہ اپنے بچوں سمیت انگلینڈ میں مقیم ہے جبکہ عطاء الله خان اپنی دوسری بیوی کے ساتھ لاہور میں مقیم ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی ثناء اللہ خان نیازی راولپنڈی میں مقیم ہیں ۔ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے چار بچوں میں دو بیٹے سانول، بلاول اور دو بیٹیاں لاریب اور فاطمہ ہیں ۔ لاریب ایک بہت بڑی اداکارہ بن چکی ہے جس نے ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے ۔ سانول خان نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فن گائیکی کو اپنا لیا ہے ۔ عطاء الله خان نے کچھ عرصہ فلموں میں اداکاری بھی کی مگر وہ اس شعبے میں کامیابی حاصل نہ کر سکے جس کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر توجہ موسیقی پر دے دی۔ انہوں نے کچھ عرصہ سیاست میں بھی گزارا پہلے پاکستان پیپلز پارٹی میں اور اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں ۔ پی ٹی آئی میں انہوں نے عمران خان نیازی کے بارے میں یہ گیت گایا

    آئے گا عمران ہے سب کی جان
    بنے گا نیا پاکستان

    اس گیت کی وجہ سے عمران خان اور پی ٹی آئی کی مقبولیت میں بڑا اضافہ ہوا لیکن پی پی پی کی طرح وہ پی ٹی آئی سے بھی مایوس ہو کر سیاست سے الگ ہو گئے لیکن پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لہو کو گرمانے کے لیے ان کا گایا ہوا یہ گیت اب بھی اسی طرح مقبول ہے ۔

    عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے گائے ہوئے ہزاروں گیت، غزلوں اور گانوں سے چند گیت اور غزلوں کے بول قارئین کی نذر

    ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی

    قمیض تیڈی کالی تے سہنی پھلیں والی

    عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں کس قدر چوٹ کھائے ہیں

    انج پنڈی تے پشور لگا جاندا عیسیٰ خیل دور تے نئیں سجناں

    ایہہ تھیوا مندری دا تھیوا

    چن کتھاں گزاری ہے رات وے

    بے وفا یوں تیرا مسکرانا بھول جانے قابل نہیں ہے

    ہمیں چھوڑ دیاکس دیس گئے پیا لوٹ کے آنا بھول گئے

    نکی دی گل توں رسدائیں ڈھولا تیڈی کمال اے

    دونوں کو آ سکی نہ نبھانی محبتیں
    اب پڑ رہی ہیں ہم کو بھلانی محبتیں

  • ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    یہ نہیں اسلام کا پیغام، ہم شرمندہ ہیں
    اے نجاشی! لائقِ اکرام، ہم شرمندہ ہیں

    تاجدارِ حبش! فخرِ عیسیٰ و عیسائیت
    خیر خواہِ بانئ اسلام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے دامن میں ملی اسلام کو جائے اماں
    یہ نہیں احسان کا انعام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے ہم مذہب بہت ہیں محترم اپنے لئے
    کیا دیا ہم نے مگر پیغام، ہم شرمندہ ہیں

    درد کا چارہ تھا واجب درد کے ہنگام میں
    ہم ہوئے لیکن سدا ناکام ہم شرمندہ ہیں

    جاں گنوا کر بھی حفاظت چاہئے سب کی مگر
    کر نہ پائے ہم کوئی اقدام، ہم شرمندہ ہیں

    ابنِ مریم بھی رسولِ حق ہیں اپنے دین میں
    کچھ نہیں اس بات میں ابہام، ہم شرمندہ ہیں

    اے خداوندانِ نفرت! اب رہے گا حشر تک
    اپنے سر اس بات کا الزام، ہم شرمندہ ہیں

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

  • لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا

    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا

    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
    داستانوں کے کسی دلچسپ سے اک موڑ پر

    گلزار (سمپورن سنگھ کالرا)

    تاریخ پیدائش : 18 اگست 1936
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ100 کلو میٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ کے کنارے ضلع جہلم کا تاریخی قصبہ دینہ ضلع جہلم میں پیدا ہونے والے گلزارؔ بھارت کے مشہور گیت کار بھی ہیں۔ مشہور اداکارہ راکھی کے شوہر نامدار ہیں اورایک بیٹی میگھنا گلزار کے باپ ہیں۔ ریشم کا یہ شاعر آج بھی اپنی جنم بھومی سے اتنی ہی محبت کرتا ہے، جیسے آج سے پون صدی پہلے کرتا تھا:

    ذکر جہلم کا ہے، بات دینے کی
    چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی
    کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہوئی چاندی
    رات کوشش میں ہے چاند کو سِینے کی

    گلزارؔ 18اگست 1936 ء کو دینہ شہر سے قریباً تین کلومیٹر دوری پر واقع ایک گاؤں کُرلہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں ان کے والد مکھن سنگھ نے دینہ کے مرکزی بازار میں مکان لیا، دکان خریدی اور اپنے خاندان کے ساتھ یہاں منتقل ہو گئے۔ گلزارؔ نے بچپن کا زیادہ وقت دینہ کے اسی گھر میں گزارا تھا۔ یہ گھر اور اس کے آس پاس کی دکانیں آج بھی موجود ہیں، جس جگہ یہ گھر ہے اسے پرانا ڈاک خانہ چوک کہا جاتا تھا،لیکن اب اس کا نام پاکستانی چوک ہے۔ جب گلزار تقسیم کے بعد پہلی بار یہاں آئے، تو اپنے گھر کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
    گلزارؔ کا آبائی گھر اب ایک شیخ خاندان کے پاس ہے۔ اس خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تقسیم سے پہلے وہ کالڑہ خاندان کے کرایہ دار تھے۔ بعد میں یہ گھر انہیں الاٹ کر دیا گیا۔شیخ خاندان کے ایک بزرگ شیخ عبدالقیوم ایڈووکیٹ گلزار کے ہم عمر ہیں۔ وہ گلزارؔ کے پچپن کے ساتھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے اور ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ شیخ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے، تو میں نے ان سے کہا تھا کہ کیا ہم اس گلی کا نام ’’گلزارؔ سٹریٹ‘‘ رکھ دیں، تو گلزارؔ کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہوگی۔

    شیخ عبدالقیوم کے مطابق یہ گلی پچھلے 70 سال سے اسی حالت میں ہے جب کہ کالرہ خاندان کے گھر کا ایک حصہ اب تک اپنی اصل حالت میں ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ یہیں پر گلزارؔ کے والد مکھن سنگھ کی کپڑے کی دکان ہوا کرتی تھی۔گلزارؔ کا یہ گھر قریباً چار فٹ چوڑی گلی میں واقع ہے اور گھر کا پرانا حصہ ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ ان کے گھر کے دوسرے حصے میں نئی عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔ دینہ کے مقامی لوگوں کا کہنا تھاکہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے ،تو کچھ دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس گھر کو خرید کر یہاں لائبریری بنا دی جائے، لیکن بعد میں اس بارے میں کچھ نہ ہو سکا، لیکن گلزار ؔکے دینہ آنے کے بعد اب اس گلی کو گلزار سٹریٹ کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔وہ سکول جہاں گلزارؔ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ کے میاں محلے میں واقع ہے۔ سکول کا وہ حصہ جہاں گلزارؔ کا کلاس روم تھا، اب موجود نہیں ، تاہم اس سکول کے ایک بلاک کا نام ’گلزارؔ کالرہ بلاک‘ رکھ دیا گیا ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ 1921ء میں پرائمری سکول کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1941ء میں اسے مڈل کا درجہ دیا گیا اور اسی دور میں گلزارؔ نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ 1989 ء میں اسے ہائی سکول بنا دیا گیا۔

    شیخ عبدالقیوم بتاتے ہیں جب گلزار ؔکچھ دوستوں کے ساتھ سکول کی طرف جا رہے تھے، تو ان میں بہت جوش دکھائی دے رہا تھا، وہ سب سے آگے آگے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی بچہ خوشی خوشی سکول جا رہا ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ میں نے گلزارؔ سے کہا کہ آپ کوئی چیز ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ گلزار نے پوچھا ؛وہ کیا؟‘۔۔۔ تو میں نے جواب دیا ؛ بستہ، جس پر وہ مسکرا دئیے۔

    گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں اب بہت سے لوگ جانتے ہیں اور یہ بھی کہ دینہ اور ضلع جہلم کی ادبی روایات بہت قدیم ہیں۔جہلم کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے دینہ کے شاعر شہزاد قمر نے بتایا کہ اس خطے نے بہت سے باکمال لکھنے والے پیدا کیے ہیں۔ یہاں کے لکھنے والوں کی خاص بات، ان کی مزاحمتی سوچ ہے۔انقلابی شاعر اور مزدور رہنما درشن سنگھ آوارہ سے لے کر موجودہ دور میں تنویرسپرا، اقبال کوثر اور دوسرے لکھنے والوں کا انداز مزاحمتی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آج بھی دینہ کے بہت سے شاعروں اور ادیبوں کا انداز مزاحمتی پہچان رکھتا ہے۔ دینہ کے ایک اور بزرگ شاعر صدیق سورج سے جب پوچھا گیا کہ دینہ کے لوگ گلزار کو کتنا جانتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ گلزار کے بارے میں تو سبھی جانتے تھے، لیکن گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں زیادہ لوگوں کو گلزار کے یہاں آنے کے بعد ہی علم ہوا۔دینہ میں گلزارؔ کے نام سے گلی اور سکول کے ایک بلاک کا نام گلزارؔ پر رکھنا دینہ کے لوگوں کے دلوں میں گلزار ؔکے لیے محبت کا اظہار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں گلزارؔ کے دوبارہ یہاں آنے کا انتظار ہے: دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے –

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منتخب کلام

    غالب

    بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں
    سامنے ٹال کی نُکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے
    چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے
    اور دُھندلائی ہوئی شام کے بےنُور اندھیرے سائے
    ایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاں
    چُوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسے
    اپنی بُجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے
    اِسی بےنُور اندھیری سی ” گلی قاسم ” سے
    ایک ترتیب چراغوں کی شُروع ہوتی ہے
    ایک قرآنِ سخن کا بھی ورق کُھلتا ہے
    اسد اللہ خاں غالِب کا پتہ ملتا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "دِل ڈھونڈتا ہے”

    دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن
    جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
    آنکھوں پہ کھینچ کر ترے آنچل کے سائے کو
    اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
    یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے
    بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رہیں
    تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
    برفیلے موسموں کی کسی سرد رات میں
    جا کر اسی پہاڑ کے پہلو میں بیٹھ کر
    وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں
    دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے
    جو بول دوں تو زباں جلے ھے
    سلگ نہ جاوے اگر سنے وہ
    جو بات میری زباں تلے ھے

    لگے تو پھر یوں ، کہ روگ لاگے
    نہ سانس آوے نہ سانس جاوے
    یہ عشق ھے نامراد ایسا
    کہ جان لیوے تبھی ٹلے ھے۔

    ھماری حالت پہ کتنا رووے
    آسماں بھی تُو دیکھ لینا
    کہ سرخ ھو جاویں گی اُس کی آنکھیں
    جیسے جیسے , یہ دن ڈھلے ھے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "سکیچ”
    یاد ہے اِک دن
    میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے
    سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے
    چھوٹے سے اِک پودے کا
    ایک سکیچ بنایا تھا
    آ کر دیکھو
    اس پودے پر پھول آیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "اِک نظم”
    یہ راہ بہت آسان نہیں
    جس راہ پہ ہاتھ چھڑا کر تم
    یوں تن تنہا چل نکلی ہو!
    اس خوف سے شاید، راہ بھٹک جاؤ نہ کہیں
    ہو موڑ پہ میں نے نظم کھڑی کر رکھی ہے !
    تھک جاؤ اگر
    اور تم کو ضرورت پڑ جائے
    اک نظم کی اُنگلی تھام کے واپس آ جانا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "رُخصت”
    جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار
    جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے
    ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں
    کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر
    تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں !

    گلزار صاحب کےالفاظ میں تروینی کا تعارف حاضر ہے۔

    "تروینی نہ تو مثلث ہے، نہ ہائیکو، نہ تین مصرعوں میں کہی ایک نظم۔ ان تینوں ‘ فارمز’ میں ایک خیال اور ایک امیج کا تسلسل ملتا ہے۔ لیکن ‘تروینی’ کا فرق اس کے مزاج کا فرق ہے۔ تیسرا مصرعہ پہلے دو مصرعوں کے مفہوم کو کبھی نکھار دیتا ہے، کبھی اضافہ کرتا ہے، یا کبھی ان پر کمینٹ کرتا ہے۔ ‘ تروینی’ نام اس لیے دیا گیا تھا کہ سنگم پر تین ندیاں ملتی ہیں۔ گنگا، جمنا اور سرسوتی۔گنگا اور جمنا کے دھارے سطح پر نظر آتے ہیں ، لیکن سرسوتی جو ٹیکسیلا سے بہہ کر آتی تھی، وہ زمین دور ہو چکی ہے ۔ تروینی کے تیسرے مصرعے کا کام سرسوتی دکھانا ہے جو پہلے دو مصرعوں سے چھپی ہوئی ہے۔”

    **************
    وہ میرے ساتھ ہی تھا دور تک ، مگر اک دن
    جو مڑ کر دیکھا تو وہ دوست میرے ساتھ نہ تھا

    پھٹی ہو جیب تو کچھ سکّے کھو بھی جاتے ہیں
    *************
    کچھ مرے یار تھے رہتے مرے ساتھ ہمیشہ
    کوئی آیا تھا، انھیں لے کے گیا، پھر نہیں لوٹے

    شیلف سے نکلی کتابوں کی جگہ خالی پڑی ہے
    *************
    وہ جس سے سانس کا رشتہ بندھا ہوا تھا مرا
    دبا کے دانت تلے، سانس کاٹ دی اس نے

    کسی پتنگ کا مانجا، محلّے بھر میں لٹا!
    *************
    کوئی صورت بھی مجھے پوری نظر آتی نہیں
    آنکھ کے شیشے مرے چٹخے ہوئے ہیں کب سے

    ٹکروں ٹکروں میں سبھی لوگ ملے مجھ سے
    *************
    تیری صورت جو بھری رہتی ہے آنکھوں میں سدا
    اجنبی لوگ بھی پہچانے سے لگتے ہیں مجھے

    تیرے رشتے میں تو دنیا ہی پرولی میں نے!
    ************
    اک اک یاد اٹھاؤ اور پلکوں سے پونچھ کے واپس رکھ دو
    اشک نہیں یہ آنکھ میں رکھے ، قیمتی قیمتی شیشے ہیں!

    طاق سے گر کے قیمتی چیزیں ٹوٹ بھی جایا کرتی ہیں
    *************
    آؤ سارے پہن لیں آئینے
    سارے دیکھیں گے اپنا ہی چہرہ

    سب کو سارے حسیں لگیں گے یہاں
    ************
    عجیب کپڑا دیا ہے مجھے سلانے کو
    کہ طول کھینچوں اگر،ارض چُھوٹ جاتا ہے

    اُدھرنے سینے ہی میں عمر کٹ گئی ساری
    *************
    جس سے بھی پوچھا ٹھکانہ اس کا
    اک پتہ اور بتا جاتا ہے

    یا وہ بے گھر ہے، یا ہرجائی ہے
    *************
    زمین گھومتی ہے گِرد آفتاب کے
    زمیں کےگِرد گھومتا ہے چاند رات دن

    ہیں تین ہم! ہماری فیملی ہے تین کی
    *************
    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
    داستانوں کے کسی دلچسب سے اک موڑ پر

    یوں ہمیشہ کے لئے بھی کیا پچھڑتا ہے کوئی؟
    *************
    کھڑکیاں بند ہیں، دروازوں پہ بھی تالے ہیں
    کیسے یہ خواب چلے آتے ہیں پھر کمرے میں

  • اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات
    مﺅلف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    صفحات : 304
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات اپنے موضوع پر شاندار ، لاجواب اور خوبصورت کتاب ہے جسے دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد نے بڑی محبت ، محنت اور جانفشانی سے ترتیب دیا ہے ۔کتاب میں اخلاق نبوی کے چیدہ چیدہ 100واقعات جمع کردیے گئے ہیں ۔ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کرنے ، پڑھنے اور سمجھنے کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ بیمثال ہدیہ ہے ۔بات یہ ہے کہ سیرت النبی ﷺ کا اصل پیغام انسانوں کے اخلاق وکردار کی اصلاح ہے ۔سیرت النبی ﷺ کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے ۔ فی زمانہ اس کی ضرورت اس اعتبار سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے کہ معاشرے میں رواداری، تحمل اور برداشت کا فقدان ہے ۔بدتہذیبی اور بداخلاقی حد سے بڑھتی جارہی ہے اس کاحل صرف ایک ہی ہے کہ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کیا جائے ۔ پیش نظر کتاب اس موضوع پر رہنما کتاب کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اخلاق کے معنی بے حد وسیع ہیں ۔ تمام اچھی صفات کے مجموعے کا نام اخلاق ہے ۔ دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلیٰ و ارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تمام خوبیاں اللہ کے رسول ﷺ کی ذات با بر کات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں کیونکہ آپ کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ ﷺ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔ سیرت کے حوالے سے قرآن و حدیث اور کتب سیرت و تاریخ میں بے شمار معلومات اور واقعات ملتے ہیں ۔ ان واقعات میں اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں جن سے ہمیں آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے ۔ سیرت سرور عالم ایک سدا بہار موضوع ہے ۔ ایسا موضوع جس کی خوشبو سے کبھی مسلمان سیر نہیں ہوتے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت مطہرہ پر صدیوں سے لکھا جارہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا ۔ ہر مﺅلف اپنے انداز میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت اور پیار کا اظہارکرتا ہے اور ان کی سیرت پاک کے مختلف پہلو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بلاشبہ سیرت پاک پر مختلف زبانوں پر آج تک ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ہر پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ آپ کی مبارک زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جسے سیرت نگاروں نے بیان نہ کیا ہو ۔

    یاد رکھیے ! کسی بھی شخصیت کے بارے میں جاننا ہوکہ اس کے اخلاق کیسے ہیں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتاﺅ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ، رشتہ داروں ، دوستوں ، گھر والوں ، ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیسا ہے ۔ سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے ۔ جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کا تعلق ہے تو ان کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ ﷺ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔اپنے اخلاق وکردار کو سنوارنے کے لیے زیر تبصرہ کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ “ کے سنہرے واقعات “ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں میں نے پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں کوئی من گھڑت ، موضوع ، ضعیف یا خود ساختہ واقعہ درج نہ ہونے پائے ۔ دارالسلام کی اعلیٰ روایات کے مطابق یہ کتاب دیدہ زیب سرورق اور عمدہ جلد بندی کے ساتھ شائع کی گئی ہے ۔ یہ کتاب ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین ، بچوں اور جوانوں کےلئے لاجواب تحفہ ہے ۔کتاب کی اہمیت کااندازہ کتاب میں دیے گئے موضوعات سے کیا جاسکتا ہے ۔ کتاب میں شامل کئے گئے چند ایک واقعات کے عنوانات درج ذیل ہیں : ” پیارے بچے ! جاﺅ میرا یہ کام تو کر آﺅ ، جاﺅ بہن ! تمہاری خاطر ان مجرموں کو معاف کیا ، دشمن جاں پر مہربانی ونوازش ، پیارے ساتھی تم شادی کیوں نہیں کرلیتے ، جب بیٹا باپ کے سامنے تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا ، انھیں جب بھی دیکھا آنکھیں بے اختیار بہنے لگیں ، بھٹکا ہوا خوش قسمت راہی ، غزوہ احد سے بھی زیادہ مشکل دن ، امام الانبیاءکی پاکیزہ جوانی ، میں تو نبوت کی نشانیاں تلاش کررہا تھا ، بچوں پر شفقت اعلیٰ اخلاق کی علامت ، معمولی چرواہے کے لیے منصب جلیل ، گھر میں آکر گالی دینے والوں کے لیے بھی معافی ، بہن کااکرام واحترام ، وہ جو اللہ کے رسول ﷺ کو قتل کردینا چاہتی تھی ، باوفااہلیہ کی یادیں ، غلاموں ، یتیموں اور مسکینوں کے والی “ ۔ کتاب میں دیے گیے باقی موضوعات بھی اسی طرح دلچسپی کے حامل ہیں ۔ موضوع اور واقعاتی اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور ہرفرد کے لیے اس کا مطالعہ بے حد ضروری ہے ۔
    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

  • گوگل کا جی بورڈ متعارف کرانے کا عندیہ

    گوگل کا جی بورڈ متعارف کرانے کا عندیہ

    گوگل کا جی بورڈ نامی ایک پروف ریڈر متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے جو ہجے اور گرامر کو چیک کرنے کیساتھ تصحیح بھی تجویز کرے گا، جبکہ اکثر انسان کو کسی ایسے شخص کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے لیے مناسب موضوعات کے ساتھ بات چیت کرنا مشکل لگتا ہے اگروہ واقف معلوم ہوتوپھرایک نئے موضوع میں دلچسپی ہو سکتی ہے جس پر گوگل اینڈرائیڈ پر اپنے جی بورڈ کی بورڈ ایپ کے لیے کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ جی بورڈ پر سب سے زیادہ مقبول کی بورڈ ایپس میں سے ایک ہےاور یہ بہت سی خصوصیات پیش کرتا ہے جو ٹائپنگ کو تیز اور آسان بناتا ہے جبکہ ان خصوصیات میں سے ایک پروف ریڈنگ ہےجو آپ کے ہجے اور گرامر کو چیک کرتا ہے اور تصحیح تجویز کرتا ہے۔ یہ فی الحال ترقی کے مراحل میں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ گوگل گفتگو شروع کرنے والوں کی حمایت کے ساتھ اپنے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جیسا کہ GappsMod Flags ٹیلی گرام چینل میں AssembleDebug میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    تاہم گوگل کے نئے فیچر تک رسائی کے لیےآپ کو صرف جی بورڈ میں پروف ریڈ بٹن پر ٹیپ کرنے کی ضرورت ہے جب میسج فیلڈ خالی ہو۔ آپ کو ان عنوانات کی فہرست نظر آئے گی جن کے ذریعے آپ اسکرول کر سکتے ہیں اور ان میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہ عام موضوع کا احاطہ کرتے ہیں جیسے سفر، موسیقی، خبریں، کھیل، فلمیں، کھانا، کافی، سیاست، تعلیم، دستکاری، سائنس ، اور بہت کچھ ہےپھر جی بورڈ ایک متن تیار کرے گا جسے آپ گفتگو شروع کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار
    خیال رہے کہ جیسے اگر آپ سفر کو بطور موضوع منتخب کرتے ہیں تو Gboard کچھ ایسا پوچھ سکتا ہے کہ آپ آگے کہاں جانا چاہیں گے؟ یا آپ کےسفر کا بہترین تجربہ کیا تھا؟ اس کے بعد آپ متن کو اپنے پیغام میں کاپی اور پیسٹ کر کے بھیج سکتے ہیں۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط

    محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب

    آپ چیف جسٹس پاکستان آ رہے ہیں، میں ایک انتہائی اہمیت کے حامل معاملے پر آپکی توجہ چاہتی ہوں،یہ مسئلہ عدالتی حد سے تجاوز کے حوالہ سے ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہوا تھا، "ڈیم فنڈ” کے فصٰلہ بارے نہ صرف فکر مند ہوں بلکہ پاکستان کو اس وقت جو سنگین معاشی مسائل ، چیلنج درپیش ہیں انکے حوالے سے توجہ چاہتی ہوں،

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جولائی 2018 میں ڈیم فنڈ کی تشکیل کی گئی، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، یہ فیصلہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن سمیت چار رکنی بینچ نے سنایا۔ میڈیا میں رپورٹ کئے گئے، عدالتی فیصلہ کے مطابق ، اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی اتھارٹی یا محکمہ ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والی رقم کے ذرائع کی جانچ پڑتال نہ کرے۔ مزید برآں، اس میں یہ بھی کہا گیا کہ فنڈ کا استعمال سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ آڈٹ پر منحصر ہوگا۔

    21 اپریل 2023 کو دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تقریب کے دوران سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بتایا کہ کس طرح ان کا شروع کیا ڈیم فنڈ 10 ارب روپے سے بڑھ کر 17 ارب روپے تک پہنچ گیا ۔ اس اضافے کی وجہ سرکاری ٹی بلز میں سرمایہ کاری تھی۔ غور طلب ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما بھی ڈیم کے لیے فنڈ ریزنگ مہم میں شامل ہوئے۔ بہت سے لوگ ثاقب نثار کے بیرون ملک فنڈ ریزنگ کے دوروں میں ساتھ گئے۔ مبینہ طور پر مختلف ذرائع سے فنڈز اکٹھے کیے گئے جن میں سرکاری ملازمین اور سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے بھی شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے 9 جنوری 2019 کو اطلاع دی کہ ڈیم فنڈ کے لیے 50 سے زائد ممالک سے 9.1 بلین روپے جمع کیے گئے ہیں۔

    اگرچہ ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالنے میں لوگوں کی فراخدلی کو کم نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس میں بہت سے خدشات ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جمع شدہ فنڈز، جن کی رقم 17 ارب روپے ہے، فی الحال ایک اکاؤنٹ میں رکھی گئی ہے۔ تاہم، یہ فنڈز بنیادی طور پر ایگزیکٹو کے وسائل کا حصہ ہیں، اور ان کے مقصد اور استعمال پر پوری طرح غور کیا جا سکتا ہے، پاکستان معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے، جیسا کہ اس کے قرضوں پر انحصار سے ظاہر ہوتا ہے، بشمول آئی ایم ایف کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں، اور صرف مالی سال 2023-24 میں 19 بلین ڈالر کے بیرونی ذخائر۔ ان معاشی دباؤ کی روشنی میں، اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا غیر فعال اکاؤنٹ میں 17 ارب روپے رکھنا ملک کے بہترین مفادات میں ہے یا نہیں ؟

    پاکستان کے آنے والے چیف جسٹس کی حیثیت سے، مجھے انصاف کے لیے آپ کے عزم پر پورا بھروسہ ہے۔ ایک ٹیکس دہندہ اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے، میں آپ سے پر خلوص التجا کرتی ہوں کہ ملک کی اہم ضروریات کے لیے حکومت کو یہ فنڈز جاری کرنے پر غور کریں۔ مجھے پوری امید ہے کہ آپ کا انصاف کا احساس، شفافیت، مالیاتی ذمہ داری اور قومی بہبود کے اصولوں سے رہنمائی لیتے ہوئے، اس معاملے کے مناسب حل کا باعث بنیں گے،

  • رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ اور  معاشی مورخ

    رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ اور معاشی مورخ

    رمیش چندر دت (13 اگست 1848ء –- 30 نومبر 1909ء) ایک ہندوستانی سول سرونٹ، معاشی مورخ، مصنف اور رامائن و مہابھارت کے مترجم تھے۔

    رمیش چندر دت کی پیدائش ایک ممتاز کائستھ بنگالی خاندان میں ہوئی۔ اس خاندان کے افراد اپنے ادبی و علمی اکتسابات کی بنا پر خاصے معروف تھے۔ ان کی والدہ کا نام تھکامنی اور والد کا ایسام چندر دت تھا۔ ان کے والد بنگال میں ڈپٹی کلکٹر تھے اور رمیش اکثر دفتری فرائض میں ان کے ساتھ ہوتے۔ ابتدا میں انھوں نے متعدد بنگالی اسکولوں میں پڑھا، پھر کلکتہ کے ہیئر اسکول میں داخل ہوئے۔ سنہ 1861ء میں ان کے والد مشرقی بنگال میں ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد کی بے وقت موت کے بعد ان کے چچا اور معروف مصنف شوشی چندر دت ان کی کفالت کرنے لگے۔ رمیش انیسویں صدی عیسوی کے بنگال کی انتہائی مشہور شاعرہ تورو دت کے عزیزوں میں تھے۔

    رمیش سنہ 1864ء میں کلکتہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ سنہ 1866ء میں آرٹس کے پہلے امتحان میں دوسرے نمبر سے کامیاب ہوئے اور وظیفہ پایا۔ ابھی وہ بی اے کے طالب علم ہی تھے کہ سنہ 1868ء میں اپنے خاندان کی اجازت کے بغیر اپنے دو دوستوں بہاری لال گپتا اور سریندرناتھ بنرجی کے ساتھ لندن چلے گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    اُس وقت تک محض ایک اور ہندوستانی ستیندر ناتھ ٹیگور ہی انڈین سول سروس کے اہل سمجھے گئے تھے۔ دت نے ان کی ہمسری کا ارادہ کیا۔ یونیورسٹی کالج لندن میں رمیش دت نے برطانوی مصنفین کا مطالعہ جاری رکھا۔ سنہ 1869ء میں وہ انڈین سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوئےاور تیسرا مقام حاصل کیا۔ 06 جون 1871ء کو آنریبل سوسائٹی آف دی مڈل ٹیمپل نے انھیں بار کاؤنسل میں مدعو کیا۔
    ابھی رمیش چندر دت بر سر منصب ہی تھے کہ بڑودا میں 30 نومبر 1909ء کو 61 برس کی عمر میں وفات پائی۔

  • بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان میں نگراں حکومت کے قیام کا معاملہ التوا کا شکار ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات آئندہ چوبیس گھنٹے میں متوقع کی جارہی ہے اور بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ کے قیام پر اپوزیشن کی دونوں جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کے نام پر ڈٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے بی این پی کی جانب سے میر حمل کلمتی اور جے یو آئی کی جانب سے عثمان بادینی اور شبیر مینگل کے نام ظاہر کیئے گئے ہیں تاہم بی اے پی کی جانب سے تین نام سامنے آئے ہیں جن میں کہدہ بابر، اعجاز سنجرانی اور نصیر بزنجو شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ اس حوالے سے فیصلہ کل شام تک متوقع ہے۔ وزیر اعلی کوئٹہ پہنچنے کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرکے نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر حتمی مشاورت کریں گے۔ جبکہ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو اسمبلی تحلیل کی سمری کل ( ہفتے کو) رات تک گورنر کو بھیج دیں گے۔ جس کے بعد گورنر کے سائن/دستخط ہوتے یہ اسمبلی ٹوٹ جائے گی۔