Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مشہور زمانہ نعت اور گمنام شاعر

    مشہور زمانہ نعت اور گمنام شاعر

    پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

    ولی صاحب

    تاریخ پیدائش : 10 اگست 1908

    شاعری کی دنیا میں کچھ افسوسناک پہلو بھی واقع ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کافی ایسے شعرا گزرے ہیں جن کی شاعری یا ان کا کلام قومی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور ہوتے ہیں کہ وہ زبان زد خاص و عام ہوتے ہیں مگر شاعر کا نام کسی کو معلوم نہیں ہوتا یا پھر وہ شاعری کسی اور شاعر کے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہو جاتی ہے ایسے ہی شعراء کی فہرست میں برصغیر کے گیت نگار اور فلم پروڈیوسر و ڈائریکٹر ولی محمد خان المعروف ولی صاحب ہیں جن کا نعتیہ کلام دنیا بھر میں مشہور ہوا جس کا بول ہے

    پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
    ایا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

    اس نعتیہ کلام کو سب سے پہلے گانے کی سعادت 1937 میں گلوکارہ شمشاد بیگم کو حاصل ہوئی جس کی دھن مشہور موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے تیار کی تھی اس کے بعد نیرہ نور سمیت بہت سے گلوکاروں اور نعت خوانوں نے گایا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ میں نے فیس بک اور گوگل پر بہت سرچ کیا مگر شاعر کا نام کہیں بھی اس کلام کے ساتھ لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔ ولی صاحب نے 36 اردو فلموں کیلئے 200 کے لگ بھگ گیت لکھے ہیں ۔ ولی صاحب 10 اگست 1908 میں پونا ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1956 میں وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان میں آباد ہوئے مشہور شاعر ناظم پانی پتی ان کے بھائی تھے۔ ولی صاحب نے معروف اداکارہ ممتاز شانتی سے شادی کی۔ 1997 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
    چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے
    ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
    گیسٹ ہاؤس کی آڑ میں قحبہ خانہ،5 خواتین سمیت 11 ملزمان گرفتار
    نئے چئیرمین نیپرا نے چارج سنبھال لیا
    پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت
    انجرڈ پرسنز میڈیکل بل؛ مریض کو پوچھا تک نہیں جاتا. سینیٹر مہر تاج
    مشہور زمانہ نعت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنّت کی جوانی
    سنتا نہیں زاہد سے میں حوروں کی کہانی

    عاشق ہوں مجھے عشق ہے دیوار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    واللہ رازدار ہیں طیبہٰ کے باب کے
    بکھرے ہوئے ورق مری دل کی کتاب کے
    مجھ کو سنبھالیئے مجھے اپنی جناب سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    ہر آہ گئی عرش پہ یہ آہ کی قسمت
    ہر اشک پہ اک خُلد ہے ہراشک کی قیمت
    تحفہ یہ ملا ہے مجھے دربار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    حاضر گدائے در ہے شہنشاہ ! السلام
    مولا سلام سرورِذی جاہ ! السلام
    دونوں جہاں کے قبلہ ء حاجات ! السلام

    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے
    پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

  • آنے والی نگراں انتظامیہ کو درپیش کٹھن چیلنجز

    آنے والی نگراں انتظامیہ کو درپیش کٹھن چیلنجز

    قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی، نیا نگران سیٹ اپ آنیوالا ہے، نگران وزیراعظم کو عہدہ سنبھالنے کے بعد کافی چیلنجز انکے انتظار میں ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کرانے کی اہمیت پر زور دیا ہے، یہ عمل طویل ہونے کا امکان ہے۔ اس کام کی پیچیدگی کے پیش نظر، اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ انتخابات 2023 میں نہیں ہو سکتے۔ تاہم،پاکستان کے جو مسائل ہیں انکو حل کرنے کی ضرورت ہے، اور حل کرنا چاہئے، الیکشن کے انعقاد کا انتظار نہیں کرنا چاہئے،

    سیکشن 230(2) میں منظور شدہ ترمیم کے ذریعے کچھ معاملات کی عجلت کو تسلیم کیا گیا ہے: "سب سیکشنز (1) اور (2) کے باوجود، یہ دفعات ان صورتوں میں لاگو نہیں ہوں گی، جہاں نگران حکومت کی ضرورت ہے۔ موجودہ دوطرفہ یا کثیرالطرفہ معاہدوں، یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ایکٹ، 2017 (VIII of 2017)، انٹر گورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشنز ایکٹ، 2022 (XXX of 2022) کے تحت پہلے ہی شروع کیے گئے منصوبوں کے بارے میں اقدامات یا فیصلے کرنا۔ نجکاری کمیشن آرڈیننس، 2000 (LII of 2000)۔” نیز "فوری” معاملات سے نمٹنا۔

    مزید برآں، افغانستان سے بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات نے مشکلات کو مزید بڑھادیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں،حالیہ واقعات حالات کی نزاکت کو اجاگر کرتے ہیں۔ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر حملے میں چار فوجیوں کے شہادت اور تین حملہ آوروں کی ہلاکت سرحد پار سے آنے والے مسلسل سیکورٹی خطرات کی ایک واضح یاد دہانی کے طور پر کام دیتی ہے۔

    نگران حکومت کو سیلاب کا چیلنج بھی درپیش ہو سکتا ہے،روزانہ کی رپورٹیں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح پر زور دیتی ہیں، پچھلے سال بھی پاکستان میں سیلاب آیا تا، جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تھا، گزشتہ برس کا سیلاب ابھی تک بہت سے لوگوں کے ذہوں میں تازہ ہے اور ابھی تک متاثرین مشکلات سے دوچار ہیں ،سیلاب کی سالانہ متواتر آمد ملک بھر کی کمیونٹیز کو درپیش مشکلات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

    تیسرا اہم مسئلہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کے انعقاد میں لاجسٹک پیچیدگی ہے۔ یہ پیچیدہ عمل انتخابی نظام کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے وقت، درستگی اور محتاط منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کام کی پیچیدہ نوعیت کے لیے ایک ایسے نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو جامع اور تفصیلی ہو۔

    ان مشکلات کے درمیان، نگراں انتظامیہ کو آئی ایم ایف پروگرام کی نگرانی کی اہم ذمہ داری بھی اٹھانی ہوگی۔ مالی استحکام اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے سخت معیار کی پابندی ضروری ہے۔ خالی بیٹھنے اور الیکشن کا انتظار کرنے کی بجائے،نگران حکومت کو کچھ کرنا ہو گا، آنے والے نگران وزیر اعظم کو چیلنجوں کے ایک پیچیدہ جال کا سامنا ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے، پرعزم اقدامات کے ذریعے ہی ان مشکلات سے نمٹا جا سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک مستحکم اور ترقی پسند مستقبل کو یقینی بناتا ہے۔

  • مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    میں کہ خاموش پڑھنے لگتی ہوں
    کچھ نہ کچھ جیسے بولتے ہیں ورق

    ترنم ریاض

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نسائی ادب کی فہرست کے صف اول میں شامل ارود کی نامور ادیبہ، شاعرہ ، کہانی و افسانہ نویس اور ناول نگار ترنم ریاض 9 اگست 1960 میں سری نگر جموں و کشمیر میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام فریدہ ترنم ہے لیکن معروف ادیب پروفیسر ریاض پنجابی سے شادی کے بعد ترنم ریاض کا قلمی نام اختیار کیا۔ اردو کےجدید افسانہ نگاروں میں ان کا بہت بڑا نام اور مقام ہےافسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے ناول نگاری ، کہانی نویسی اور شاعری میں بھی خوب جوہر دکھایا ہے۔

    افسانہ نگاری ان کی پہلی پہچان ہے لیکن ان کی شہرت کا آغاز ان کی کہانی” شہر” سے ہوا بعد میں ان کے افسانے مشہور ہوتے گئے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ” ابابیلیں لوٹ آئیں گی” 2000 میں شائع ہوا۔ حقانی القاسمی نے ترنم ریاض کو Sweet Temper افسانہ نگار کا خطاب دیا ہے۔ ترنم ریاض کی تحریروں اور شاعری میں کشمیری معاشرے کا بھرپور عکس ملتا ہے اور احتجاج کی توانا آواز بھی ایک حساس تخلیق کار کی حیثیت سے ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ دکھ ، درد ، کرب اور مختلف احساسات اور کیفیت میں گزرا ہے۔

    انہوں نے اپنے تخلیقی احساسات کے بارے میں لکھا ہےکہ افسانہ” آدھے چاند کا عکس ” لکھتے وقت وہ ماں کی ممتا کے جذبے سے سرشار رہی کہانی ” باپ” لکھتے وقت وہ شدید ذہنی تناو کا شکاررہی افسانے ” ایجاد کی ماں” اور”میرا پیارا گھر” لکھتےوقت اسے بہت بڑا روحانی سکون میسر ہوا جبکہ افسانہ” مٹی” لکھتے وقت وہ سخت اذیت، کرب اوررنجیدہ احساس و کیفیت سے دوچاررہی ان کی تحریروں میں عورت کی مظلومیت اور محرومی کے تاثرات زیادہ ہیں وہ عورت کو حالات سے مقابلہ کرنے اور صبر کی تلقین بھی کرتی رہیں ۔ نسائی ادب کے اس نمایاں نام ترنم ریاض کی وفات 20 مئی 2021 میں ہوئی ۔

    ترنم ریاض کی تصانیف

    یہ تنگ زمین(1998)، ابابیلیں لوٹ آئیں گی (2000)، یمبرزل (2004)، مورتی (2004)، چشم نقش قدم (2005)، پرانی کتابوں کی خوشبو (2006)، مرا رخت سفر(2008)، فریب خطۂ گل (2009)، برف آشنا پرندے (2009)، اجنبی جزیروں میں (2015)، بھادوں کے چاند تلے (2015)، زیر سبزہ محو خواب (2015) جیسی کتابیں اُن کی شعری و نثری تصانیف ہیں جب کہ بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب (2004)اُن کی ترتیب کردہ کتاب ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق
    ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    میں کہ خاموش پڑھنے لگتی ہوں
    کچھ نہ کچھ جیسے بولتے ہیں ورق

    ہو چکا ہے جو علم اب نایاب
    اور جو پھیلے گا جانتے ہیں ورق

    سوچتا ہے یہ ذہن کیا کیا کچھ
    بے سبب ہم الٹ رہے ہیں ورق

    ہوشمندی سے ڈائری لکھنا
    دونوں جانب سے دیکھتے ہیں ورق

    روح کو دو جہاں کی راحت دیں
    رحل پر راہبر رکھیں ہیں ورق

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑی گتھیاں ہیں بڑے مسئلے ہیں
    کہیں کس سے ہم کس قدر مرحلے ہیں

    کوئی دن کی باتیں ہیں کچھ اور سانسیں
    بہت مختصر روح کے سلسلے ہیں

    گلستان ہی زد میں ہے بجلیوں کی
    لیے چار تنکے کدھر ہم چلے ہیں

    کڑی دھوپ گم گشتہ راہیں بے منزل
    شکستہ نظر ہے بلند حوصلے ہیں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    عیاشی
    ۔۔۔۔۔
    محبوب کی مانند اٹھلائے
    معشوق کی صورت شرمائے
    ہریالی کا آنچل اوڑھے
    ہر شاخ ہوا میں رقصاں ہے
    میں پیار بھری نظروں سے انہیں
    مسکاتی دیکھے جاتی ہوں
    شاموں میں پیڑوں کو تکنا
    ہے میری نظر کی عیاشی

  • پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    ہمارے پیارے ملک کانام ’’ پاکستان ‘‘ ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور غیر دانشمدانہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ’’ مسائلستان ‘‘ بن چکا ہے ۔اس وقت ہمارے ملک کو بیشمار اور لاتعداد مسائل درپیش ہیں جن میں سے اہم ترین مسئلہ پانی کی قلت اور کثرت کا ہے ۔ موسم گرما میں جب ہمیں پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے بھارت ہمارے دریائوں کا پانی روک لیتا ہے اور موسم برسات میں جب بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں پاکستان کی ندیاں نالے اور دریا پانی سے بھر جاتے ہیں تو بھارت اپنی طرف کا پانی ہماری طرف چھوڑ دیتا ہے جس سے پاکستان میں شدید سیلاب آجاتا ہے اور ہرسال لاکھوں ایکڑزرعی اراضی بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہوجاتی ہے ۔اس وقت بھی یہی صورت حال درپیش ہے جس وجہ سے بے پناہ جانی مالی نقصان ہورہا ہے اس پر مستزاد یہ کہ بھارت نے اپنی طرف کا پانی ہماری طرف آنے والے دریائوں چھوڑ دیا ہے ۔

    اس کے علاوہ کئی سالوں سے ہمارا ملک لوڈشیڈنگ کے شدید بحران کا شکار ہے۔ روزانہ کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے دوسری جانب ہماری حکومتیں لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہیں ۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے صنعتی پہیہ تیز تر گھمانے کے لیے سستی بجلی کی پیدوار کا بڑھایا جانا از حد ضروری ہے۔

    سستی بجلی بنانے کا اہم ترین ذریعہ پانی ہے ۔ پانی نعمت خداوندی ہے ۔ پانی سے زندگی ہے ، جہاں پانی ہے وہاں زندگی ہے جہاں پانی نہیں وہاں موت ہے ۔ ماضی میں پانی کی خاطر خون ریز جنگیں ہوئیں۔ مستقبل میں عالمی افق پرجنگوں کے خطرات کے جواسباب منڈلا رہے ہیں، ان میں ایک بڑاسبب پانی ہوگا۔ جنوبی ایشیا۔۔۔ جہاں دنیا کی نصف آباد رہائش پذیر ہے اور پاکستان بھی اسی جنوبی ایشیا میں واقع ہے، یہاں موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں تیزی سے اضافے کے سبب پانی کے ذخائر خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں جتنے بھی ممالک واقع ہیں ان میں سے سب سے سنگین صورت حال پاکستان کو درپیش ہے اس کی بنیادی وجہ بھارت کی پاکستان سے ابدی دشمنی ہے۔ بھارتی نیتاؤں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ پاکستان کو صومالیہ کی طرح بنجر بنا دیں گے۔ بھارت نے اس مقصد کے لئے 50ملین ڈالر Rotating fund مختص کر رکھا ہے۔ اس سے مراد ایسا فنڈ ہے کہ مجموعی رقم سے اگر دس پندرہ ارب ڈالر نکال بھی لئے جائیں تو اسی وقت حکومت کی طرف سے اس میں اتنے ڈالر جمع کروا دیئے جا تے ہیں۔ بھارت یہ رقم عرصہ دراز سے خرچ کر رہا ہے، مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑے آبی ذخائر نہ بن سکیں ۔

    سندھ طاس معاہدہ ایوب خان کے دورمیں ہوا تھا اس معاہدے کی شقیں طے کر نے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستان سے جس بیوروکریٹ کو ذمہ داری سونپی گئی ا س کا نام جی معین الدین تھا چونکہ ورلڈ بینک اس معاہدے کا ضامن تھا، لہٰذا جی معین الدین دو اڑھائی سال امریکہ میں رہے۔ اسی دوران بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کی ملی بھگت سے ایک خوبرو امریکی دوشیزہ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ان کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔جی معین الدین امریکی دوشیزہ کی زلف گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ بڑھاپے میں اس سے بیاہ رچا لیاا س طرح جی معین الدین کے تمام کام کی دیکھ بھال اس خاتون نے سنبھال لی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف اپنی مرضی کی شقیں داخل کروالیںبلکہ ان شقوں پرجی معین الدین سے دستخط بھی کروالئے جن میں ایک شق یہ بھی تھی کہ بھارت سندھ، جہلم اور چناب میں سے پینے کا پانی، آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے بدلے میں چاہئے تو یہ تھا کہ جی معین الدین بھارت سے یہ شقیں بھی منواتے کہ پاکستان کو بھی ستلج، بیاس اور راوی سے پینے کے لئے ،آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی ملے گالیکن امریکن خاتون کاسحر اور Rotating Fundاپنا کام کرگیا۔ آج بھارت انہی شقوں کی بنا پر آبی دہشت گردی کرتے ہوئے ہمارا پانی روک رہا ہے اور ہمارے حصے کے دریاوں پر ڈیم بنارہا ہے۔اس معاہدے سے قبل پانی کی صورت حال کچھ اس طرح سے تھی کہ راوی میں سارا سال پانی بہتا تھااس کی وجہ سے لاہور میں زیر زمین پانی دس فٹ پر دستیاب ہو جاتا تھا، اب راوی میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح انتہائی تشویشناک گر چکی ہے۔ لاہور میں واسا کے جتنے بھی ٹیوب ویل لگے ہیں وہ کم وبیش 800فٹ گہرائی سے پانی کھینچ رہے ہیں۔

    ہمارے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے کہ بھارت نے کشن گنگا کا کیس جیتا اور وہاں ڈیم بنا لیا۔ بھارت نے عالمی عدالت میں ہمارے دریاؤں پر حق جتانے کے لئے یہ جواز پیش کیا ہے کہ پاکستان تو ڈیم بنانا ہی نہیں چاہتااور پاکستان کی ڈیموں کی تعمیر میں عدم دلچسپی کی وجہ سے لاکھوں بلین گیلن پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ دوسری طرف یہ صورت حال ہے کہ پاکستان میں جو ڈیم موجود ہیںا ن میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے، یعنی ان ڈیموں میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ بھارت کے پاس 120 دن تک کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ پاکستان کی نسبت جاپان کا رقبہ پاکستان کے مجموعی رقبے سے آدھا ہے اور آبادی بھی بارہ کروڑ ہے۔ جاپان میں ایک اندازے کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ ان ڈیموں کے ذریعے نہ صرف سیلابی پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے بلکہ سستی بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ جاپان اس وقت ہائیڈرو پاور سے بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پانی سے پیدا کی جارہی ہے۔ ہم اپنے حکمرانوں سے کہنا چاہئیں گے کہ خدارا اب تو بیدار ہو جاؤ مجرمانہ غفلت اور منافقت ترک کرکے اس ملک کی بقا کا سوچو۔ ڈیموں پر سیاست کی بجائے کچھ عملی اقدامات کرو سب سے اہم ترین کالاباغ ڈیم ہے۔ اس ڈیم میں 6.1 ملین فٹ پانی سٹور کیا جاسکے گا اور یہ پورے ملک کے 50 لاکھ ایکڑ بنجر رقبے کو سیراب کرے گا۔ 5000 میگاواٹ تک بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ جب ضیاء الحق کے دور میں ڈیم کی مشینری کالا باغ پہنچا دی گئی تو پھر بھارت کا Rotating Fundحرکت میں آگیا۔ چند لوگوں نے واویلا شروع کر دیا کہ کالا باغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا، چنانچہ ڈیزائن میں تبدیلی کرکے ڈیم کی اونچائی 925 سے 915 فٹ کر دی گئی۔ میانوالی جہاں یہ ڈیم بننا ہے، سطح سمندر سے 668 فٹ بلند ہے اور نوشہرہ کی سطح سمندر سے بلندی 889 فٹ ہے۔کچھ قوم پرستوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ پنجاب سندھ کا پانی ڈکار جائے گا اور سندھ بوند بوند کو ترسے گا۔ کاش انہیں یہ بات اب بھی سمجھ آ جائے کہ اگر بھارت نے سندھو دریا کا رخ بھی موڑ دیا تو پھر سندھ کہاں سے پانی لے گا، اس تباہ کن صورت حال سے بچنے کا حل کالا باغ ڈیم، بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم سمیت سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہے۔ بدقسمتی سے کالا باغ ڈیم کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اب کوئی بڑاڈیم تعمیرنہ ہوسکے۔ اس طرح دشمن بغیرجنگ کے پاکستان کو ناکام ریاست بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ہمارے ملک کا مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے نئے ڈیموں کی تعمیر ۔۔۔۔پاکستان کی قومی سلامتی اور سالمیت کا مسئلہ ہے ضروری ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر کیلئے ہمارے تمام سیاستدان اور سٹیک ہولڈر یک دل ویک جان ہوجائیں اور کالاباغ ڈیم سمیت جہاں جہاں بھی ڈیم بنائے جاسکتے ہیں بنائے جائیں ۔

  • سیاسی میدان سکڑ رہا ہے

    سیاسی میدان سکڑ رہا ہے

    سیاسی میدان سکڑ رہا ہے
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم کا بل کامیابی سے منظور کر لیا گیا ہے۔ تاہم، مجوزہ ترمیم جو ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ کے افراد کو گرفتار کرنے یا احاطے کی تلاشی لینے کی اجازت دیتی تھی اسے بل سے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا ہے، کیونکہ اس طرح کے نکات ممکنہ طور پر ریاست پاکستان کو پولیس ریاست میں تبدیل کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہوتی، جو شخصی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، ماسواے قانونی کاروائی کے ذریعہ۔

    یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ترمیم شروع میں کیوں تجویز کی گئی تھی۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام عمران خان کی محاذ آرائی والی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر بڑے ہجوم کو جمع کرنے کی اجازت۔ اس کا مقصد ظاہر ہے کہ پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنا تھا،

    بڑھتی ہوئی محاذ آرائی 9 مئی کے المناک واقعات پر اپنے انجام کو پہنچی، اس دن ریاست پر حملہ بلاشبہ جنگی کارروائی تھی۔ یہاں تک کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے معاملے میں، انہیں انتخابی سرٹیفیکیشن میں تاخیر کے لیے قانون سازوں کو متاثر کر کے کیپیٹل تشدد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی تناظر میں، واقعات میں سرکاری املاک کو خاصا نقصان پہنچا، بشمول جناح ہاوس کے، جو ایک کھنڈر بن کر رہ گیا ہے۔ وہ لاہور میں کور کمانڈر کی سرکاری رہائش گاہ تھی۔ فوجی تنصیبات اور یادگاروں، بشمول جی ایچ کیو پر بھی حملے کئے گئے،

    اس دن کے واقعات نے واضح طور پر ایک سرخ لکیر کو عبور کیا۔ یہ واضح ہے کہ جمہوریت کو آزادی اظہار کے غلط استعمال کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول پوری دنیا میں درست ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کے ان اقدامات کے طویل مدتی نتائج انتہائی نقصان دہ رہے ہیں۔ اس نے سیاسی میدان کو نمایاں طور پر سکیڑ دیا ہے،سیاستدانوں، عام شہریوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھروسہ اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کئی دہائیوں میں محنت سے کمائی گئی ترقی کو ایک فرد کے اقدامات نے نقصان پہنچایا اور وہ ہے عمران خان

  • وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    شگفتہ شفیق

    8 اگست 1969: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی معروف ادیبہ ، شاعرہ اور افسانہ نگار شگفتہ شفیق 8 اگست 1969 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حمد، نعت ، غزل اور نظم کی اصناف میں شاعری کی ہے جبکہ نثر میں انہوں نے کہانیاں اور افسانے بھی لکھے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئی تھیں مگر اللہ کے فضل سے تندرست ہو کر اس سے چھٹکارہ پا چکی ہیں۔ شفگتہ شفیق گلستان جوہر کراچی میں مستقل سکونت پذیر ہیں ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔
    1 , میرا دل کہتا ہے
    2 , یاد آتی ہے
    3 , جاگتی آنکھوں کے خواب
    4 , شگفتہ نامہ
    5 , مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے تو گھر میں رہتے ہیں موسم کمال کے
    اللہ کرے نہ آئیں کبھی دن زوال کے

    اتنا بڑا کیا ہے اسی نے تو پال کے
    آنے نہ دے جو پاس مرے دن ملال کے

    اک یاد تیری ساتھ تھی اب وہ بھی ڈھل گئی
    قصے پرانے ہو گئے میرے گلال کے

    دل کو بہت سکون اسے دیکھ کے ملا
    خوش باش ہیں وہ خوب مجھے بھول بھال کے

    دنیا کی بات چھوڑیئے قصہ یہ گھر کا ہے
    دن جا چکے ہیں لوٹ کے رنج و ملال کے

    آنسو بہا کے باپ نے بیٹے سے یہ کہا
    کیا مل گیا تجھے مری پگڑی اچھال کے

    میں سوچتی ہوں کیسی شگفتہؔ یہ بات ہے
    اب تو پہاڑ بن گیا غم پال پال کے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی ہے سلسلہ الزام کا
    یہ وطیرہ ہے مرے گلفام کا

    روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
    اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا

    خوبصورت دل ربا سی شاعری
    سلسلہ ہے روح تک الہام کا

    چاہتوں کی بارشیں کرتا ہے وہ
    خوب واقف ہے وہ اپنے کام کا

    دل میں اپنے سوچتی ہوں میں کبھی
    وقت آئے گا مرے آرام کا

    وہ جنوں خیزی تو کب کی مٹ چکی
    اب شگفتہؔ واسطہ ہے نام کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
    خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی

    گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
    ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی

    ابھی مل گئے ہم کبھی یہ بھی ہوگا
    کہ رسم جدائی نبھانی پڑے گی

    تجھے کھو کے جینا بھی کیا زندگی ہے
    مگر زندگی یوں بتانی پڑے گی

    تیرا شیوہ چلتی ہواؤں سے لڑنا
    ہر اک بات تجھ سے چھپانی پڑے گی

    تیرے تیکھے تیور بتاتے ہیں مجھ کو
    کہ ہستی تو اپنی مٹانی پڑے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طلب عشق ساری مٹا دی ہم نے
    اس کو روکا نہ صدا دی ہم نے

    خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے راکھ راہوں میں اڑا دی ہم نے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

  • ہماری سیاست انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ختم ہوتی، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ہماری سیاست انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ختم ہوتی، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    عمران خان کی سزا کو لے کر قوم کے کچھ دانشور اس کو مکافات عمل قرار دے رہے ہیں اگر یہی سچ ہے کہ ہر ایک کے زوال کو اس کیلئے مکافات عمل کا نام دیا جائے تو عرض ہے کہ اس کا اطلاق محض ہٹلر‘ مسولینی اور چنگیز خان پر ہی نہیں ہوا بلکہ اچھے سے اچھے تاجدار بھی ایک وقت میں اپنے اقتدار سے الگ ہوئے مثلاً اورنگزیب عالمگیر اور عمر بن عبدالعزیز تو کیا ان کے لئے تخت شاہی سے علیحدہ ہوجانا کسی مکافات عمل کا نتیجہ تھا؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک پراسیس ہے کہ اس دنیائے فانی سے ہر ایک کو رخصت ہونا ہے اور اس کی جگہ کسی دوسرے نے لینی ہے لہذا اس پراسیس کو مکافات عمل دینا ہرگز مناسب نہیں۔
    بقول شاعر
    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے
    میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے

    بھٹو سے قبل اور بھٹو کے بعد نواز شریف سے لیکر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید تک جتنے بھی وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے وہ عبرت کا نشان بنے۔ ہماری سیاسی اور جمہوری تاریخ بڑی دردناک ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی جامعتوں میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے ہماری سیاست اور جمہوریت انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ہی ختم ہوتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ سیاست میں جمہوریت آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے نہیں ہیں لیکن ان کی آوازیں دب چکی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ریلوے کیرج فیکٹری کو آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ
    ایلون مسک کا ایک بار پھر مارک زکربرگ کیساتھ ایم ایم اے فائٹ کا عندیہ
    طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی
    پی آئی اے کی لینڈنگ کی وجہ سے سالانہ 71 ارب کا نقصان ہو رہا ہے،اسحاق ڈار
    ہمارے دو تین دن رہ گئے، ڈر تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے اور ایسا ہی ہوا،سعد رفیق

    سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری اور مفاد پرست طبقے کی اکثریت ہے۔ موقع پرست مفاد پرست سیاستدانوں کا تجربہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ کو ہے بالخصوص نواز شریف کو بہت زیادہ ہے اور اب عمران خان بھی اس تجربے سے گزر رہے ہیں۔ کسی زمانے میں سیاست نظریے کے گرد گھومتی تھی نظریاتی صحافی تھے اور شاعر بھی تھے آج ریاست اور عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا آج کی سیاست اقتدار اور صرف اقتدار کے گرد گھومتی ہے ۔ ملکی سیاسی جما عتوں کو بالخصوص لیڈر شپ کو دوبارہ نظریاتی سیاست کی پٹڑی پر جانا ہوگا یا اسی میں ملکی مسائل کا حل ہے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کا میں ایک راستہ ہے باقی تمام راستے غلط ہیں مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے۔ سیاست کے اندر اور سیاسی جماعتوں کو سینہ کوبی کرنے کی بجائے کاروباری سیاست اور مفاداتی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست کا دروازہ بند کر نا ہوگا ہے۔

  • ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    پاکستان ،ان دنوں کئی مسائل کا شکار ہے، ایک طرف دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر ہے تو دوسری جانب مہنگائی، بے روزگاری نے غریب عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے، عوم سے غربت کے خاتمے کے وعدے کر کے حکومتیں کرنے والے عوام کے ساتھ ہر پانچ سال بعد وعدے ہی کرتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی توفیق نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے کسی بھی حکومت میں مسائل حل نہ ہوئے اور نہ ہی غربت، بے روزگاری میں کمی آ سکی،ایسے میں فلاح و رفاہی ادارے ، این جی اوز جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں انکی خدمات لائق تحسین ہیں،

    ہیلپنگ ہینڈ کا معذور افراد کی بحالی کا پروگرام
    گزشتہ دنوں لاہور سے محترم سید امجد بخاری کی قیادت میں لاہور کے صحافیوں کے ہمراہ سوات کا دورہ کیا، دورے کے دوران جہاں وادی سوات کو دیکھنے کا موقع ملا وہیں ایک فلاحی تنظیم "ہیلپنگ ہینڈ” کے کام کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ، تین روزہ دورے میں ہیلپنگ ہینڈ کے تین مختلف پروگراموں میں شرکت کی، سب سے پہلے تالاش میں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر کا دورہ کیا،معذوری رب کی طرف سے آزمائش،لیکن ہمارے معاشرے میں معذوری کو عیب سمجھا جاتا ہے ایسا ہر گز نہیں، میں خود دو ڈس ایبل بچوں کا والد ہوں، بڑے بیٹے نے سپیشل ایجوکیشن میں میٹرک کا امتحان رواں برس اے گریڈ میں پاس کیا ہے،چھوٹا بیٹا بھی زیر تعلیم ہے، سپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے تو وہ معاشرے کے کارآمد شہری ثابت ہوتے ہیں،ہیلپنگ ہینڈ بھی معذور بچوں کی فلاح کے لئے کام کر رہی ہے،تالاش میں وسیع و عریض مقام پر معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر میں نہ صرف بچوں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے بلکہ انکی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کیا گیا ہے،سنٹر میں موجود ڈاکٹر طاہر نے اس موقع پر صحافیوں کو انتہائی مختصر بریفنگ دی اور سنٹر کا وزٹ کروایا، ڈاکڑوں کی ٹیم کیسے معذور بچوں کا علاج معالجہ دیکھ بھال کرتی ہے؟ اسکا بھی معائنہ کروایا گیا، ڈاکٹر طاہر نے بریفنگ میں بتایا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام پاکستان کے سات شہروں میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں، سماعت سے متاثرہ بچوں کا بھی علاج معالجہ کروایا جاتا ہے تو وہیں ذہنی معذور،چل نہ سکنے والے بچوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے، تالاش،شہید بینطیر آباد، کراچی، کوئٹہ ، مانسہرہ ، لکی مروت بنوں، بہاولپور اور چکوال، مظفر آباد میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں جبکہ گلگت میں اگلے سال سنٹر بنانے کا پروگرام ہے جو جلد ہی کام شروع کر دے گا، ہیلپنگ ہینڈ کن علاقوں میں سنٹر بنا رہی ہے اس حوالہ سے ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ ہم نے وہ علاقے منتخب کیے جہاں معذوری کی ریشو ہائی ہے۔ کے پی میں لوئر دیر میں معذوری کی ریشو زیادہ تھی اسلیے یہاں سنٹر بنایا،انہوں نے شکوہ کیا کہ معذور افراد کو وہ سہولیات معاشرے میں نہیں دی جاتیں جو انہیں ملنی چاہیے،معذور بچوں کے ب فارم تو بن جاتے ہیں لیکن انکا معذوری سرتفکیٹ نہیں بنوایا جاتا، معذور بچوں کا نارمل بچوں کی طرح خیال نہیں رکھا جاتا ، جو انکا حق ہے، ڈاکٹر طاہر نے تالاش میں سنٹر بارے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 1650 بچے معذور ہمارے پاس رجسٹرڈ ہیں ہمارے پاس ڈاکٹر ہیں جو بچوں کے علاج انکی ضروریات کا خیال کرتے ہیں بچوں کو واکر، ہیئرنگ ایڈ، وہیل چیئر فراہم کرتے ہیں، تھراپی بھی کروائی جاتی ہے،برتھ سرٹفکیٹ اور شناختی کارڈ بھی بنواتے ہیں ہمارے پاس جو 1650 بچے تھے ان میں سے 10 فیصد کے پاس کارڈ تھے،ہم نے باقیوں کے بھی بنوائے اب سب بچوں کے پاس ڈس ایبل کارڈ ہیں،جو بچے پڑھ سکتے ہیں انکو فری پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتے ہیں یونیفارم بھی دیتے ہیں، کوالیفائیڈ میڈیکل ڈاکٹر موجود ہیں جو ان بچوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں،تالاش کے سنٹر میں 200 بچے ہیں، تمام سہولیات دیتے ہیں جو انکی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر طاہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں رہتے ہوئے اخروی زندگی بہتر کریں۔ ہیلپنگ ہینڈ اگر محدود وسائل کے ساتھ کام کر سکتا ہے تو حکومت کو بھی سوچنا چاہئے اور معذور افراد کی زندگی بہتر بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے، معذوری کیوں ؟ اس پر ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ معذوری کی ریشو مختلف ہیں کزن میرج بھی کہا جاتا ہے پانی کے ایشوز بھی ہو سکتے ہیں اس پر تحقیق کی ضرورت ہے،فیملی ان بچوں کو چھپا کر رکھتی ہے پڑھے لکھے لوگوں نے بچوں کو چھپا کر رکھا کیونکہ لوگ طعنے دیتے ہیں، جو بچے پڑھتے ہیں انکو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ،سکل کے ساتھ ٹول بھی دیتے ہیں کمپیوٹر کی سکل، الیکٹریشن ، سیلز مین جو بچہ جو کام کر سکتا ہے اسکو کروایا جاتا ہے،تالاش کے سنٹر میں بریفنگ کے بعد ڈاکٹر معذور بچوں کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ انکی تھراپی کیسے کی جاتی ہے؟ سب عملی طور پر صحافیوں کے سامنے کیا، سنٹر میں بچوں کے لئے تھراپی کے لئے مشینیں موجود ہیں ، ایکسرسائز بھی کروائی جاتی ہے، سماعت سے متاثرہ بچوں کو سپیچ تھراپی بھی کروائی جاتی ہے، سنٹر میں ایمبولینس بھی موجود ہے جو بچوں کو گھر سے سنٹر لانے اور واپس چھوڑنے کے لئے ہے، غرض معذور بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ مثالی کام کر رہی ہے

    جماعت اسلامی کے رہنما بھی ہیلپنگ ہینڈ کی خدمات کے معترف
    تالاش سے نکلے تو راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما ،سابق صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے ظہرانہ دیا اور وہ بھی ہیلپنگ ہینڈ کے کاموں کی تعریف کئے بنا نہ رہ سکے، جماعت اسلامی کی اگرچہ الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں کام کر رہی ہے تا ہم عنایت اللہ خان ہیلپنگ ہینڈ کے بھی مداح نظر آئے اور انکے کام کو سراہا، عنایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہیلپنگ ہینڈ اس علاقے میں بہت اچھا کام کر رہی ہے پانی کے منصوبوں پر کام جاری ہے ، انکا کام پھیلتا جا رہا ہے ، ہیلپنگ ہینڈ کے کوالٹی کے کام ہیں جن میں وسعت آ رہی ہے اس طرح کی آرگنائزیشن کو علاقے میں ویلکم کرتا ہوں ریاست ہر کام نہیں کر سکتی کچھ چیزیں کمیونٹی کو کرنی پڑتی ہیں پبلک ہیلتھ کی بڑی بڑی سکیمیں ہیں لیکن وہ فنکشنل نہیں۔ ہیلپنگ ہینڈ اور دیگر این جی اوز کے کام عوامی مدد سے ہوتے ہیں

    ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن پروگرام،شائننگ سٹارز
    ہیلپنگ ہینڈ یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کام کر رہی ہے،کالام سے واپسی پر مدین میں دریا کنارے قیام کیا ، وہاں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یتیم بچوں کے اعزاز میں مینگو پارٹی تھی، جس میں صحافی بھی شریک ہوئے، جب پارٹی میں پہنچے تو ہال میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں، اور معصوم بچے جن میں لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل تھیں،وہ کرسیوں پر ایک ترتیب سے بیٹھے تھے ،کوئی شور شرابا نہیں تھا، کوئی ہنگامہ نہیں تھا یہ ہیلپنگ ہینڈ کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ بچوں نے صحافیوں کے پہنچنے پر انکا پرجوش استقبال کیا اور پھر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے،اس موقع پر محترم سید عابد بخاری نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آج کی اس پارٹی میں موجود بچے صرف مدین کی ایک یونین کونسل سے آئے ہیں، مدین سے 200 یتیم بچوں کی کفالت ہیلپنگ ہینڈ کر رہی ہے، انکو شائننگ سٹار کہتے ہیں اور تین کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایج گروپ کے تحت انکی ایکٹوٹیز کی جاتی ہیں،بڑے بچوں کو سکل سکھاتے ہیں کورسز کرواتے ہیں وہ یونیورسٹی لیول پر جائیں تو بہتر سکل انکے پاس ہو،کچھ بچے حفظ بھی کر رہے ہیں دس ہزار چار سو بچوں کو پورے پاکستان میں سپانسر کر رہے ہیں ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن کا پروجیکٹ 50 سے زائد شہروں میں چل رہا ہے، بچوں کی تعلیم، خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے، یتیم بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ انکے گھر والوں کی مالی اعانت کرتی ہے اور انکی کفالت کرتی ہے،

    یتیم بچوں کی کفالت بلاشبہ نیک کام ہے اور اس نیک کام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے ہیپلنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،ہیلپنگ ہینڈ پاکستان میں قدرتی آفات میں بھی ریلیف و بحالی کے کام کر رہی ہے، بلوچستان سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر جاری ہے تو وہیں واٹر پروجیکٹ کے حوالے سے بھی منصوبے مکمل ہوئے ہیں، سوات میں بھی پانی کے منصوبے مکمل کئے گئے جس کی عنایت اللہ خان نے بھی تعریف کی،پاکستان کے دیگر دور دراز علاقوں جہاں شہریوں کو پانی کے مسائل ہیں وہان واٹر پروجیکٹ پر کام جاری ہے،

    ہیلپنگ ہینڈ کا غریب عوام کے لئے مفت بازار
    ہیلپنگ ہینڈ سفید پوش اور غریب عوام کے لئے ایک مال آف ہیومنٹی پروگرام بھی کرتی ہے، ایک ایسا بازار جہاں گاہک تو آتے ہیں خریدار تو ہوتے ہیں لیکن پیسے لینے والا کوئی نہیں ہوتا، سوات میں ہی ایک ایسا ہی بازار دیکھنے کو ملا، ایک سکول میں مہنگے کپڑے، جوتے، کھلونے موجود تھے، میزوں پر سامان موجود تھا ، بچوں کے لئے کھلونے بھی موجود تھے،اس بازار میں خواتین اور بچے آئے انہوں نے اپنی ضرورت کے مطابق کپڑے، جوتے، کھلونے لئے اور جاتے رہے، کوئی روکنے والا، کوئی پیسے لینے والا نہیں تھا بلکہ جو بھی آتا اپنی ضرورت کی چیز اٹھاتا اور ہیلپنگ ہینڈ کو دعائیں دیتا نکل جاتا، ٹوپی والے برقع میں آئی خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی مگر اس مفت کے بازار میں کوئی دھکم پیل نظر نہیں آئی، اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یہ بازار کئی شہروں میں لگایا جاتا ہے اور اسکے لئے علاقے میں سروے کیا جاتا ہے، مستحق خاندانوں کو سروے کے بعد ایک ٹوکن دیا جاتا ہے اور پھر انہیں بازار لگنے کی اطلاع دی جاتی ہے، شہری آتے ہیں اور ضرورت کی چیزیں لے کر چلے جاتے ہیں، لاہور کے بازاروں میں جو سوٹ،چھ سات ہزار کا مل رہا ہے وہ مفت بازار میں ہیلپنگ ہینڈ مفت دے رہی تھی

    ہیلپنگ ہینڈ کے رفاہی کام وسیع تر ہیں اور انکا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے، ہیلپنگ ہینڈ کے پاکستان میں میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ "ہیلپنگ ہینڈ خدمت کے جذبے کے تحت کام کر رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ غریب عوام کو خوشیاں دے سکیں انکے چہروں پرمسکراہٹ لا سکیں. ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام،یتیم بچّوں کی کفالت کا پروگرام، معذور افراد کی جامع بحالی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ایمر جینسی ریلیف، تعلیمی معاونت، معذور بچّوں کا علاج،اسکلز ڈویلپمنٹ اورہیلتھ کیئر پروگرامز،منصوبے جاری ہیں،”

    آئیے، ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کریں
    مہنگائی اور نفسا نفسی کے اس دور میں خدمت خلق کرنے والوں کو جہاں رب کریم اجر دے گا وہیں دنیا میں انہیں غریب عوام کی دعائیں بھی مل رہی ہیں ، حکومتیں تو صرف دعوے کرتی ہیں لیکن ہیلپنگ ہینڈ جیسی این جی اوز اپنی استطاعت اور عوام کے تعاون سے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، اس میں انکا کوئی ذاتی مفادنہیں نہ ہی انہیں ووٹ یا کرسی کا لالچ ہوتا ہے بلکہ صرف رضائے الہی مقصود ہوتی ہے،بلا شبہ ہیلپنگ ہینڈ کے رضاکار ملک و قوم کی خدمت کر کے اللہ رب العزت کے ہاں سرخرو ہو رہے ہیں ۔خدمت کے اس عظیم کام کو جاری رکھنے کے لئے پاکستانی قو م کو چاہئے کہ خدمت کے اس کام کو مزید وسیع تر کرنے کے لئے ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرے۔اہل پاکستان کو نیکی کے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہو گا،تا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے جو منصوبہ جات جاری ہیں انکو پورا کیا جا سکے۔

  • باجوڑ واقعہ،دشمن کی سازش، تجزیہ: شہزاد قریشی

    باجوڑ واقعہ،دشمن کی سازش، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک میں ویسے تو ضرب عضب سے لے کر ردالفساد تک اور دہشت گردی اور انتہا پسندی تک پاک فوج اور اس کے جملہ اداروں نے اور پولیس نے جس طرح قربانیاں دی ہیں اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا ہے اس کی مثال نہیں ،امریکہ سمیت عالمی دنیا بھی اس کی تعریف کرتی ہے۔ حال ہی میں محرم کے دوران پاک فوج، پولیس نے قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا عاشورہ بخیر و عافیت سے گزرا۔ لیکن باجوڑ کے دلخراش واقعہ نے ہلاکر رکھ دیا ہے ملک میں حالیہ دہشت گردی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو کبھی ڈوبتا ہے اور کبھی ابھرتا ہے۔ چینی نائب صدر کے دورہ پاکستان کے عین وقت پر باجوڑ میں دہشت گردی کا واقعہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دشمن نے کروایا ہے۔ اسلام آباد کو افغانستان کی حکومت سے احتجاج کرنے کے بجائے امریکہ کی توجہ اس جانب مبذول کرانی چاہئے دو برس قبل دوجہ معاہدے میں طالبان نے ضمانت دی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد امریکہ کی ذمہ داری ہے۔

    پاکستان نے افغانستان کے قیام امن کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں ایک عالم گواہ ہے کہ پاکستان نے جانی اور مالی قربانیاں دے کر اس خطے میں قیام امن کے لئے کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈر شپ کا چونکہ فقدان ہے اس سلسلے میں وہی پاک فوج اور جملہ ادارے اپنا کردار ادا کریں جنہوں نے لازوال قربانیاں دے کر ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا، ملک کی موجودہ سیاسی جماعتوں میں لیڈر شپ نہیں ہے پیپلزپارٹی میں نہ بھٹو ہے اور نہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید۔ مسلم لیگ (ن) میں نوازشریف نہیں اسی طرح باقی سیاسی جماعتوں کا بھی یہی حال ہے ملک کی سیاسی فضا الیکشن کو لے کر شکوک و شبہات کے غبار سے آلودہ ہیں۔ الیکشن ہوں گے وقت مقررہ پر ہوں گے یا نہیں ہوں گے کی بحث میں لگے ہیں جن سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کو آئین میں لکھا صاف نظر نہیں آتا انہیں بین الاقوامی سیاسی اتار چڑھائو کیسے نظر آئیں گے ملک میں الیکشن 2023ء میں ہوں یا 2024ء میں امریکہ میں سابق صدر ٹرمپ، پاکستان میں عمران خان اور بھارت میں راہول گاندھی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ عوام کریں ٹرمپ ،راہول گاندھی اور عمران خان کی مشکلا ت میں اضافہ ہو گا یا کم یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ تاہم امریکہ بھارتی وزیراعظم مودی کو پہچان گیا ہے مودی چین کی دشمنی میں کبھی امریکہ اور کبھی روس دوڑتے ہیں مودی دوست نہیں دوست نمادشمن ہے۔

  • بھارت کی چاول کی برآمد پر پابندی، عالمی سطح پر اناج کی سپلائی پر دباؤ

    بھارت کی چاول کی برآمد پر پابندی، عالمی سطح پر اناج کی سپلائی پر دباؤ

    بھارت کا غیر سفید باسمتی چاول کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر عالمی غذائی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ پابندی چاول کی گھریلو قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم کرنے کے لیے لگائی گئی تھی، شدید بارشوں سے فصلوں کو نقصان پہنچا اس اقدام سے بھارت سے چاول کی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کم ہو جائے گا، جو عام طور پر عالمی اناج کی تجارت کا 40 فیصد ہوتا ہے۔

    بھارتی چاول کے اہم خریدار نائجیریا، چین اور فلپائن ہیں. جبکہ دیگر ممالک ضرورت پڑنے پر اپنی گھریلو پیداوار کو پورا کرنے کے لیے بھارتی چاول کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے تجزیے کے مطابق، پابندی کے نفاذ کے ساتھ، اناج کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    صورتحال اس وجہ سے ابتر ہے کہ نئی فصل مزید تین ماہ تک دستیاب نہیں ہوگی۔ پاکستان جو چاول کا ایک اور بڑا برآمد کنندہ ہے میں بارشیں اور سیلاب ہے، بھارت میں بھی مون سون کی بارشیں، چاول کی پیداوار کے لیے اضافی مشکلات کا باعث ہیں۔ بھارت، دنیا کے دوسرے سب سے بڑے چاول پیدا کرنے والے ملک ہونے کی حیثیت سے، اس بات کا خدشہ ہے کہ غیر معمولی بارشیں چاول کی فصلوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے،
    rice02

    مزید یہ کہ درآمد کنندگان کو کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے پہلے ہی زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔ بھارتی چاول کی برآمدات پر پابندی سے سپلائی کرنے والے ممالک پر اس نازک دور میں چاول کی مانگ پوری کرنے کے لیے مزید دباؤ بڑھ جاتا ہے۔اس پابندی کا وقت خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ بھارت آنے والے مہینوں میں اہم ریاستی انتخابات، اور اگلے سال عام انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ مودی کی زیر قیادت ہندوستانی حکومت اس حساس سیاسی وقت کے دوران اشیائے خوردونوش کی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بے چین ہے۔

    پابندی بحیرہ اسود کے اقدام کی تجدید نہ ہونے، اور گندم کی سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ موافق ہے. بھارت کے چاول کی برآمدات روکنے کے فیصلے سے عالمی اناج کی سپلائی میں مزید تناؤ آنے کی توقع ہے۔تاہم، بھارت نے پابندی کو نافذ کرنے میں حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے. کیونکہ اس نے کئی افریقی ممالک کوچاولوں کی کچھ اقسام برآمد کیے، اور ایک قسم کو بنیادی طور پر بنگلہ دیش کو برآمد کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت اور دیگر افریقی ممالک کے درمیان کسی بھی منفی سفارتی اثرات سے بچنا ہے، جن کے ساتھ بھارت مثبت تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے

    rice04