Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    یکم نومبر انیس سو بیس اپنے عہد کے صاحب طرز ادیب، ڈرامہ نگار اور بانی مدیر ماہنامہ "حکایت” جناب عنایت اللہ کا یوم ولادت ہے۔
    یہ 1970 کے عشرے کے اوائل کی بات ہے۔ جب میں نے انہیں پہلی بار دیکھا تو وہ زین کی خاکی پتلون، کاٹن کی سفید بش شرٹ اور چمڑے کے براؤن سینڈل میں ملبوس نیشنل سنٹر لاہور کے روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے روایتی دھیمے لہجے میں صیہونیت کے مسلم دشمن منصوبے بے نقاب کررہے تھے. یہ یوم القدس سے منسوب کوئی تقریب تھی. جن منصوبوں کا وہ ذکر کر رہے تھے وہ صیہونیت کے بڑوں نے صدیوں پہلے دنیا اور خصوصا” فلسطین اور شرق اوسط پر تسلط قائم کرنے کےلئے پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن کے نام سے تیار کئے تھے.

    اس کے بعد بھی صیہونی اپنے مذموم عزائم پر کاربند رہے اور عنایت اللہ صاحب نے بھی ہار نہیں مانی. انہوں نے اس کے بعد کی ساری زندگی اسلام اور پاکستان کے خلاف ہنود و یہود کی سازشوں بشمول نظریاتی تخریب کاری کو بے نقاب کرتے گذاری. وہ اپنے دور کی ففتھ جنریشن وار اپنے جذبۂ ایمانی کے زور پر تن تنہا لڑ رہے تھے. ان کے ہتھیار ان کی زندگی کی طرح نہایت سادہ تھے، نیوز پرنٹ کاغذ کی سلپیں، ایچ بی کی پنسل، بگلے کا سگریٹ اور دبیز ملائی والی نہایت شیریں چائے کامگ. بعد میں جب بگلے کا سگریٹ نایاب ہوا تو انہوں نے کے-ٹو پینا شروع کردیا اور کچی پنسل کی جگہ بال پوائنٹ نے لے لی.

    میری زندگی کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہوں نے مجھے اپنی فرزندی میں قبول کیا. میں ان سے بہت قریب تھا اور اسی وجہ سے میرا ان سے رشتہ بے تکلفی کا بھی تھا، اتنی بے تکلفی کہ میں ان کے سامنے سگریٹ بھی پی لیا کرتا تھا بلکہ بسا اوقات تو ان کے پیکٹ سے دو سگریٹ سلگاتا، ایک اپنے لئے دوسرا ان کے لئے. حالانکہ میرے لئے وہ والد کی جگہ تھے اور میری ہر مشکل میں ان کا ہاتھ میرے کندھے پر ہوتا تھا. میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا. حب الوطنی کا پہلا باقاعدہ درس میں نے ان سے ہی لیا. نہ صرف یہ بلکہ زندگی گذارنے کے اصول اور دوسرے انسانوں کے ساتھ باہمی تعلقات کا ہنر بھی ان سے سیکھا.

    ان کے ناول اور ٹی وی ڈراموں کے بعد ان کی مقبول ترین تصنیف "داستان ایمان فروشوں کی” پانچ جلدوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے التمش کے قلمی نام سے لکھی. اس فلیگ شپ تصنیف کے قلمی مصنف کے اعزاز میں میں نے ان کے نواسے اور اپنے اکلوتے بیٹے کا نام التمش رکھا جو ہو بہو ان کا ہم شکل ہے.

    ان کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے جس میں ان کے قلمی نام سے لکھی ہوئی کتابیں بھی شامل ہیں. ان کے بہت کم قارئین کو علم ہے کہ احمد یار خان، صابر حسین راجپوت، میم الف اور محبوب عالم بھی ان کے قلمی نام تھے. انہوں نے تاریخ، تفتیش، شکاریات اور نفسیاتی مسائل کے موضوع پر یکساں مہارت سے لکھا. اس سے پہلے وہ دفاعی موضوعات پر بھی اپنی مہارت کا لوہا منوا چکے تھے.

    ناول کے موضوع کے لئے وہ تاریخ کو خصوصی اہمیت دیتے تھے. ان کا خیال تھا کہ نئی نسل کو مطالعہ تاریخ پر راغب کرنے کے لئے ناول کا میڈیم ازحد ضروری ہے. تاریخی ناول تو اور بھی بہت لکھے گئے لیکن عنایت اللہ کی تصانیف کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے لئے وہ تاریخی واقعات کی صحت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے. تاریخی واقعات میں جنگوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور وہ ہر جنگ کی پلاننگ اور میدانِ جنگ کی تصویر کشی پورے پیشہ ورانہ انداز میں کرتے تھے. انہوں نے مجھ سے بھی ٹیپو سلطان کے دور پر تاریخی ناول "آستین کے سانپ” لکھوایا اور ٹیپو کے فن حرب کے بیان اور میدان جنگ کی منظر کشی کو باریک بینی سے دیکھا اور حسب ضرورت تبدیلیاں بھی کروائیں.

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنا پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ایں ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ اپنے ڈائجسٹ ماہنامہ "حکایت” اور اشاعتی ادارے مکتبہ داستان کی تاسیس کے بعد انہوں نے دن میں کم و بیش اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور خاموشی سے اپنے مشن میں لگے رہے. انہیں اور ماہنامہ حکایت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا بہت مشکل ہے. میں اسی لئے انہیں حکایت الّلہ کہا کرتا تھا. ان کی وفات کے بعد لکھے گئے میرے پہلے مضمون کا عنوان بھی حکایت الّلہ تھا.

    تقریبا”انتیس سال تک پاکستان دشمنوں سے لڑتے لڑتے وہ سولہ نومبرانیس سو نناوے کو پھیپھڑوں کے سرطان سے زندگی کی بازی ہار گئے.

  • امرتا  پریتم؛ تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    امرتا پریتم؛ تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    امرتا پریتم

    پنجابی زبان کی معروف ناول نگار ، ادیبہ اور شاعرہ

    تاریخ وفات : 31 اکتوبر 2005ء

    بیسویں صدی کی پنجابی زبان کے ادب میں شہرت پانے والی خواتین میں امرتا پریتم کا نام سب سے نمایاں ہے ۔امرتا پریتم پنجابی زبان کی شاعرہ ناول نگار اور افسانہ نویس تھیں ۔ وہ واحد خاتون شاعرہ ہیں جو پاک و ہند میں یکساں طور پر مقبول ہیں ۔انہوں نے 100 سے زیادہ کتابیں شاعری ۔افسانوں ناول پنجابی فوک گیتوں پر لکھیں ۔ ان کی کتابوں کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ۔

    ان کی پیدائش 31 اگست 1919 کو گوجرانوالا میں ھوئی ۔آپ کا اصل نام امرتا کور تھا آپ کی والدہ کا بچپن میں ھی انتقال ھو گیا اس وقت آپ کی عمر 11 سال تھی ۔آپ اور آپ کے والد اس کے بعد لاھور منتقل ھو گئے ۔جہاں آپ نے پاکستان بننے تک قیام کیا۔ 1947ء کے بعد آپ انڈیا منتقل ھو گئیں ۔ انہوں نے بچپن سے ھی لکھنا شروع کر دیا تھا ۔ ان کی نظموں کی پہلی کتاب امرت لہریں 1936ء میں چھپی جب آپ کی عمر صرف 16 سال تھی ۔ اسی سال آپ کی شادی پریتم سنگھ سے ھو گئی اور یوں آپ امرتا کور سے امرتا پریتم ھو گئیں ۔1936 ء سے 1943ء کے دوران آپ کی نظموں کی بہت سی کتابیں منظر عام پر آئیں ۔ امرتا پریتم کو لاہور میں ساحر لدھیانوی سے محبت ہو گئی تھی جس کی خاطر انہوں نے اپنے سکھ شوہر سے علیحدگی اختیار کی تھی مگر وائے قسمت کہ ان کی اور ساحر کی شادی نہیں ہو سکی تھی حالانکہ یہ دونوں پاکستان سے ہندوستان منتقل ہو گئے تھے ۔

    امرتا نے سیاست میں بھی فعال کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ وہ بھارتی ایوانِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے جن میں پنجابی ادب کے لیے گیان پیتھ ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کا معاشقہ ادبی دنیا کے مشہور معاشقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی تفصیل تھوڑی بہت ان کی کتاب رسیدی ٹکٹ میں موجود ہے۔

    امرتا پریتم کی سب سے شہرہ آفاق نظم ‘اج آکھاں وارث شاہ نوں’ ہے، اس میں انہوں نے تقسیم ہند کے دوران ہوئے مظالم کا مرثیہ پڑھا ہے۔ کچھ اشعار ذیل میں درج ہیں۔

    شاہ مکھی متن:

    اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتوں قبراں وچوں بول
    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول
    اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین
    اَج لَکھاں دھیآں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کَیہن
    اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب
    اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
    کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا
    تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا
    جتھے وجدی پھوک پیار دی او ونجلی گئی گواچ
    رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوس دی جاچ
    دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیّئاں چون
    پریت دیاں شہزادیاں اج وچ مزاراں رون
    اج تے سبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور
    اج کتھوں لیآئیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • 31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    تمہیں جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش

    سارہ شگفتہ کا شمار اردو کی جدید شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ 31؍اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ اردو اور پنجابی میں معتد بہ نظمیں تخلیق کیں۔ نظمیہ شاعری کے لیے انھوں نے نثری نظم کا پیرایہ اختیار کیا۔ غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی مکمل نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں نے انھیں سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ نتیجتاً انھیں دماغی امراض کے اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انھوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔ خود کشی کی یہ کوشش مختلف موقعوں پر چار بار دہرائی گئی۔ ان کی اردو شاعری کے مجموعے ’آنکھیں‘ اور’نیند کا رنگ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔
    04؍جون 1984ء کو انھوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کے مطالعے کو ایک نئی جہت عطا کی۔ وفات کے بعد ان کی شخصیت پر پنجابی کی مشہور شاعرہ اور ناول نگار امرتا پرتیم نے ’ایک تھی سارہ‘ اور انور سن رائے نے ’ذلتوں کے اسیر‘ کے نام سے کتاب تحریر کی اور پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کیا جس کا نام ’آسمان تک دیوار‘ تھا۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    منتخب شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں
    ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی
    اور اپنا اپنا بین ہوئے
    ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے
    میں نے موت کے بال کھولے
    اور جھوٹ پہ دراز ہوئی
    نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی
    شام دوغلے رنگ سہتی رہی
    آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے
    میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں
    جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں
    زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
    سجدوں سے سر اٹھا لو
    موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
    جب میرے سفید بال
    تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا
    میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا
    جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے
    ان کھیتوں میں
    میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی
    بس پہلی بار ڈری بیٹی
    میں کتنی بار ڈری بیٹی
    ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی
    میرا جنم تو ہے بیٹی
    اور تیرا جنم تیری بیٹی
    تجھے نہلانے کی خواہش میں
    میری پوریں خون تھوکتی ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے
    مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو
    خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے
    میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو
    آگ کا ذائقہ چراغ ہے
    اور نیند کا ذائقہ انسان
    مجھے پتھروں جتنا کس دو
    کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو
    میں خدا کی زبان منہ میں رکھے
    کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا
    زنجیروں کی رہائی دو
    کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے
    مجھے تنہا مرنا ہے
    سو یہ آنکھیں یہ دل
    کسی خالی انسان کو دے دینا

  • او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    موسیقار خواجہ خورشید انور

    30 اکتوبر 1984: تاریخ وفات

    باکمال موسیقار خواجہ خورشید انور ساز بجانا نہیں جانتے تھے بلکہ انہوں نے ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
    ایم اے فلسفہ میں اول آئے، گولڈ میڈل ملا مگر لینے گئے ہی نہیں۔
    مقابلے کے امتحان میں پورے ہندوستان میں ٹاپ کیا، لیکن بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں سے روابط کی وجہ سے نااہل قرار پائے۔
    یہ نااہلی ہندوستان کی فلمی موسیقی کیلئے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔

    اس سے فلمی موسیقی کو خواجہ خورشید انور ملے۔ جنہوں نے دل کا دیا جلایا، مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے، رم جھم رم جھم پڑے پھوار، جس دن سے پیا دل لے گئے ، آگئے گھر آگئے بلم پردیسی سجن پردیسی، چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار، آبھی جا آبھی جا، او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاﺅ،۔چھونے چھونے ناچوں گی گونے گونے گاﺅں گی، سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے، کدی آ مل رانجھن وے، زلفان دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا، او ونجھلی والڑیا جیسی دھنیں تخلیق کیں۔
    خواجہ صاحب کے صاحبزادے خواجہ عرفان انور فرماتے ہیں کہ ساز بجانا کلاسیکی موسیقی کیلئے بالکل ضروری نہیں۔ ہماری موسیقی بنیادی طور پر ووکل ہے۔ خورشید انور لاہور ریڈیو اور منتخب محفلوں میں گاتے بھی رہے۔

    خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912 کو میانوالی کے محلہ بلوخیل میں پیدا ہوئے جہاں انکے نانا بطور سول سرجن ضلعی ہسپتال تعینات تھے۔ ان کا تعلق موسیقی کے کسی گھرانے سے نہیں تھا۔ ان کی علامہ اقبال سے بہت نزدیک کی رشتہ داری تھی۔ ان کے نانا خان بہادر عطا محمد شیخ کی بیٹی علامہ کی اہلیہ تھیں۔ ان کی والدہ گجرات میں پیداھوئیں. علامہ اقبال کی پہلی اہلیہ کریم بی بی کی چھوٹی بہن تھیں بلکہ علامہ نے ان کی والدہ فاطمہ بی بی کا رشتہ بصداصرار کروایا. ان کے والد بیرسٹر فیروزالدین لاہور کے ایک کامیاب وکیل تھے۔ انکے چھوٹے بھائی خواجہ سلطان احمد (بیرسٹر خوجہ حارث کے والد) لاہور کے بڑے اور استاد وکلاء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے والد کو صرف ایک شوق تھا اور وہ تھا کلاسیکل اور نیم کلاسیکل موسیقی سننا اور جمع کرنا۔ ان کے گھر میں ہزاروں کی تعداد میں ریکارڈ موجود تھے۔ گھر میں موسیقی کی بڑی بڑی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ جن میں استاد توکل حسین، استاد عبدالوحید خاں ،استاد عاشق علی خاں، استاد غلام علی خاں، موسیقار فیروز نظامی، رفیق غزنوی جیسے اساتذہ شرکت کرتے تھے۔ انہی محفلوں سے خورشید انور کو موسیقی کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے استاد توکل حسین سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔
    خواجہ خورشید انور نے 1935 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں ماسٹرز کیا اور اول آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب تقسیم انعامات کی تقریب میں قصداً نہیں گئے۔ انگریز وائس چانسلر نے جب گولڈ میڈل کے لیے نام پکارا۔ وہ موجود نہ پائے گئے۔ تو اس نے برجستہ کہا کہ جو طالب علم اپنا میڈل لینا بھول گیا ہے وہ حقیقی طور پر ایک فلسفی ہے۔ مگر خورشید انور کی منزل کوئی اور تھی۔ اس کو سُر اور ساز کا بادشاہ بننا تھا۔ عین اسی وقت لاہور میں ایک محفل موسیقی منعقد ہو رہی تھی جس میں ہندوستان بھر کے نامور موسیقار اور گائیک شرکت کر رہے تھے۔ انھیں موسیقاروں میں اس طالب علم کے موسیقی کے استاد خان صاحب توکل حسین خان بھی شامل تھے۔ وہ طالب علم جلسہ تقسیم اسناد اور گولڈ میڈل تو چھوڑ سکتا تھا مگر اس محفل کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

    اس سے اگلے سال 1936 میں خواجہ خورشید انور نے اعلیٰ ملازمتوں ( آئی سی ایس ) کے لئے مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی لیکن انٹرویو میں ناکام قرار دئیے گئے چونکہ وہ انگریز راج کے خلاف تحریک آزادی میں شریک رہے تھے اور انقلابیوں کو کالج لیبارٹری سے پکرک ایسڈ (Picric Acid) فراہم کرنے کے الزام میں قید بھی بھگت چکے تھے۔ بی اے کا امتحان بھی جیل سے دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ خود بھی اپنے مزاج کو سول سروس کے مزاج سے ہم آہنگ نہ پاتے تھے۔ وہ تحریری امتحان میں بھی صرف اپنے گھر والوں کے شدید اصرار کے باعث شریک ہوئے تھے۔
    یہ ناکامی ان کی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
    1939 میں خواجہ خورشید انور نے آل انڈیا ریڈیو دہلی پر میوزک پروڈیوسر کی حیثیت سے نوکری کر لی ۔ وہاں ان کی ملاقات اے۔آر۔ کاردار سے ہوئی۔ کاردار اس زمانے کے سکہ بند فلمساز تھے۔ 1941ء میں خواجہ صاحب نے ان کی پنجابی فلم”کڑمائی” کا میوزک بنایا۔ یہ فلم اتنی کامیاب نہ ہو سکی جتنی توقع کاردار اور خورشید انور کر رہے تھے۔ دو سال کے بعد 1943ء میں “اشارہ” فلم آئی۔ اس میں بھی موسیقی خواجہ صاحب ہی کی تھی۔ اس کے گانے “ثریا بیگم” ـ” گوہر سلطان” اور وستالہ کماٹھیکر نے گائے تھے۔ ان گانوں نے برصغیر کو ایک سحر میں مبتلا کر دیا۔ ہر گلی کوچے میں ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ اس عظیم موسیقار کی پہلی کامیابی تھی۔ اس کے بعد شہرت کا ایک لامتناہی زینہ تھا جس پر یہ نوجوان چڑھتا چلا گیا۔

    1947ء میں سہگل نے خواجہ خورشید انور کی بنائی ہوئی دُھن پر اپنی زندگی کا آخری گانا گایا۔ اس فلم کا نام “پروانہ” تھا۔ اس فلم کے پانچوں گانوں کی موسیقی خواجہ خورشید انور کی تھی۔ گانے ڈی این مدھوک نے لکھے ۔ دو میں نخشب اور تنویر نقوی کا اشتراک تھا۔ 1949ء میں خواجہ صاحب کو موسیقی کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کا نام “کلیئر ایوارڈ” تھا۔موسیقار”روشن” اور “شنکر جے کشن” اس موسیقی کے جادوگر کی دہلیز پر بیٹھنے والوں میں سے تھے۔ “نوشاد” جو خود ایک یکتا موسیقار تھے، خواجہ صاحب کے احترام میں کھڑے رہتے تھے۔

    خواجہ خورشید انور 1952ء میں پاکستان آ گئے۔ یہاں ان کے پائے کے موسیقار نہ ہونے کے برابر تھے۔ نورجہاں جیسی عظیم گائیکہ بھی ایک مشکل دور سے دوچار تھی۔ 1956ء میں خورشید انور نے”انتظار” فلم کی دُھنیں ترتیب کیں۔ اس کے گانے نورجہاں کے لیے ایک نئی فنی زندگی کا ذریعہ بنے۔ یہ اپنے وقت کی مقبول ترین فلم تھی۔ اس کی کامیابی خواجہ صاحب کے بے مثال میوزک کے سبب تھی۔ اس فلم کے بعد تو خواجہ صاحب فن کے آسمان پر چمکنے لگے۔
    مرزا صاحبان، زہرعشق، جھومر، کوئل، ایاز، گھونگھٹ حویلی، چنگاری، سرحد، ہیررانجھا، شیریں فرہاد، مرزاجٹ اور سلام محبت، وہ فلمیں تھیں جنکی کامیابی کا سہرا خواجہ خورشید انور کی جادوئی موسیقی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر18 فلموں کی موسیقی ترتیب دی، 15 اردو اور 3 پنجابی۔ انہوں نے گھونگھٹ، حیدر علی، اور ہمراز سمیت چند فلموں کی ہدایات بھی دیں۔

    فیض احمد فیضؔ اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کی شاعری میں خورشید انور کا جذب موجود ہے۔ فیض صاحب، ان سے بہت متاثر تھے۔ فیض کالج میں خواجہ صاحب سے ایک سال سینئر تھے۔ ن م راشد بھی ان دنوں کالج میں تھے۔

    خواجہ خورشید انور کا ایک بڑا کارنامہ ’’آہنگِ خسروی‘‘ ہے۔ یہ 30 لانگ پلے ریکارڈز پر مشتمل ایک البم ہے جس میں برصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے معروف گھرانوں کے 90 راگ محفوظ کر دئیے۔ یہ لانگ پلے ریکارڈ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم، استاد سلامت علی خان، ذاکر علی خان اور اختر علی خاں، استاد فتح علی خاں (پٹیالہ)، اسد امانت علی خاں اور حامد علی خاں، استاد اسد علی خاں، استاد رمضان خان، استاد امراﺅ بندو خان، استاد غلام حسین شگن، استاد حمید علی خان، استاد فتح علی خان (گوالیار)، ملک زادہ محمد افضل خان اور ملک زادہ محمد حفیظ خان کی آوازوں میں تیار کئے گئے تھے۔ “آہنگ خسروی” اور “راگ مالا” ایسے عظیم کام ہیں جو ان کے بعد بہت کم لوگ کر پائے۔

    خواجہ صاحب کا موسیقی بنانے یا ترتیب دینے کا طریقہ بہت مختلف بلکہ منفرد تھا۔ وہ ماچس کی ڈبیا کو ایک خاص انداز میں بجاتے تھے اور وہیں سے وہ اپنی نایاب دُھن کی بنیاد تشکیل دے دیا کرتے تھے۔ 1980ء میں خواجہ صاحب کو “ستارہ امیتاز” سے نوازا گیا۔ 1982ء میں انھیں بمبئی کی میوزک انڈسٹری کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا نام تھا
    ”Mortal-Men، Immortal-Melodies Award”
    خواجہ صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ریڈیو پاکستان نے ان کی بنائی ہوئی سگنیچر ٹیون سے آغاز کیا ۔
    خواجہ خورشید انور 30 اکتوبر 1984 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    صدف نعیم
    تاریخِ وفات:30 اکتوبر 2022ء

    صدف نعیم خاتون صحافی 1987ء کو پیدا ہوئیں، لاہور پریس کلب کی کونسل ممبر میں بطور رپورٹر طویل عرصہ سے روزنامہ خبریں اور 2009ء سے چینل 5 کے ساتھ وابستہ تھیں اور جرنلسٹ گروپ کی جانب سے ممبر گورننگ باڈی کیلئے الیکشن بھی لڑ چکی تھیں۔ 24 میں سے 16 گھنٹے ڈیوٹی کرتی تھیں، اپنے چینل کے لیے وہ عموماً سیاسی جماعتوں اور سیاسی معاملات کی کوریج کرتی تھیں اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی بھی باقاعدگی سے کور کرتی تھیں۔

    30 اکتوبر 2022ء کو لانگ مارچ (حقیقی آزادی مارچ) میں سادھوکی، (تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ) میں صدف نعیم نے عمران خان کے سست رفتار کنٹینر پر چڑھنے کی کوشش کی جس سے گرنے کے بعد اسی کنٹینر کے نیچے آکر موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ اس سے دو روز قبل صدف نعیم نے عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ ان کی عمر 35 سال تھی۔ اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ نماز جنازہ اچھرہ میں ہوئی۔ شوہر محمد نعیم بھٹی نے کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ وفاقی حکومت نے 50 لاکھ روپے اور پنجاب حکومت نے 25 لاکھ لواحقین کو امداد دینے کا اعلان کیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی تھی،عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،

    صدف نعیم لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

  • جمہوریت کا استحکام ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جمہوریت کا استحکام ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں کسی بھی جمہوری حکومت میں جمہوریت آئیڈیل نہیں رہی۔ اس کا خمیازہ ملک اور قوم نے بھگتا اوربھگت رہے ہیں۔ جمہوریت کی آڑ میں فیوڈلز لوٹتے رہے ۔ عوامی مفاد کا بل کبھی پارلیمنٹ میں منظور نہیں کیا گیا قانون سازی اشرافیہ کو بچانے کے لئے کی جاتی رہیں۔ جن ممالک میں جمہوریت مضبوط ہوتی ہے وہ قومیں اور ملک ترقی کرتے ہیں۔ اگر ملک میںجمہوریت مستحکم نہیں ہوئی تو ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ اسکا ذمہ دار کون ہے ؟ جمہوریت کے وہ کھیل کھیلے گئے کہ جمہوریت خود شرمانے لگی ہے ۔ آج اگر نواز شریف نے کہہ ہی دیا ہے کہ آئو مل کر اس ملک اور قوم کی خدمت کریں تو اس پر تمسخر اڑانے اُڑایا جا رہا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جمہوریت کو مستحکم کرنے اور ماضی کی غلطیوں سے تائب ہو کر ملک وقوم کی خاطر آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ جمہوریت کی بہترین شکل آئین ہے ۔ آئین نے تمام ملکی اداروں کی حدیں مقرر کی ہیں۔ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کیوں نہ اس ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جائے ۔ انتخابات کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتیں ، کیا قوم کو بتائین گی کہ وہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ا دا کریں گے اور پھر اس پر صدق دل سے قائم رہیں گے؟ پارلیمنٹ میں عوام کی بہبود کے لئے قانون سازی کی جائے گی ؟ 1977 ء کے الیکشن اور پھر بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے میں سیاسی جماعتوں کا کردار کیا تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلا وطنی کی زندگی گزارنے میں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا کیا کردار رہا ؟ نواز شریف کوتین بار نہ صرف اقتدار سے الگ کردیا گیا جبکہ جیلیں اور جلا وطنی میں زندگی گزارنے میں سیاستدانوں کا کردار کیا رہا ؟پاک فوج اور جملہ اداروں نے اپنی جانیں قربان کرکے وطن عزیز کی سلامتی کو برقرار رکھا ۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمہوریت کے لفظ کو شرمسار کیا ۔

  • انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات
    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری، اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نمائندگی کرنے والے وکیل علی ظفر کی درخواست سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بیان بازی پر توجہ دینے کے بجائے، درست طور پر نشاندہی کی کہ 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کے تصور کو عملی تجاویزکودیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں۔ بنچ جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل معزز ججوں کی طرف سے کچھ بہت اہم سوالات اٹھائے گئے تھے،
    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آئین میں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری اگر ہو چکی ہے تو انتخابات کب ہونے چاہئیں؟
    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین نے نئی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ہ کیا یہ آئینی شق ہے کہ انتخابات 2017 سے 2021 تک مردم شماری کے بعد ہونے چاہئیں؟ اس سوال پر عابد زبیری نے کہا کہ حالات سے قطع نظر 90 دن کے اندر انتخابات کا مطالبہ ہے۔
    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری مکمل ہونے کے بعد الیکشن کرانے کے لیے آئین میں کیا مقررہ مدت درکار ہے۔
    علی ظفرسے بھی سوال کیا گیا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بروقت مردم شماری کرائی، "مردم شماری کی منظوری میں چار سال کیوں لگے؟ لگتا ہے آپ تاخیر کا الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں،بتائیں کہ مردم شماری میں تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟ اگر 2017 میں مردم شماری کی منظوری دی گئی تھی تو جلد کیوں نہیں کرائی گئی؟ آدھا سچ کیوں پیش کرتے ہیں؟ پچھلی حکومت نے مردم شماری نہیں کروائی اور جب نئی حکومت نے کرائی تو آپ اسے غلط کہتے ہیں۔ آپ نے اس وقت مردم شماری کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟” [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر آئینی طور پر مردم شماری کی ضرورت ہے تو اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں بروقت ادا نہیں کیں وہ اب تاخیر، حلقہ بندیوں، اور متعلقہ مسائل پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔

    نوے دن میں انتخابات کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران یہ اٹھائے گئے چند اہم سوالات ہیں۔ ایک چیز جو ظاہر تھی وہ یہ تھی کہ عدالت کی طرف سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی خواہش تھی ،بیان بازی پر پابندی لگانے کے بجائے "قابل عمل” پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، یہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں تاخیر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

    اندرون خانہ مسائل کو حل کرنے کے بعد حتمی تاریخ دینے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ تاہم، نہ صرف ابھی کے لیے بلکہ مستقبل کی نظیر کے طور پر بھی، قانون کے سوالات کو طے کرنا ہے بلکہ طے کیا جائے گا۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے کو حل کروانے کے لئے اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ،عرب لیگ ، اقوام عالم ،او آئی اسی اور مسلم ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ جب بھی بڑی طاقتوں کے درمیان تنائو بڑھتا ہے تو یہ تمام بین الاقوامی ادارے مفلوج کیوں ہو جاتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ جنگ کسی خطے پر ہو انسانیت کا خون بہتا ہے بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔شہری آبادیاں اُجڑجاتی ہیں مخلوق خدا جائے پناہ تلاش کرتی ہے۔ لیکن کیا کہا جائے دنیا اپنے مفادات ، اپنی طاقت، اپنے اقتدار بچانے کے لئے ایک صدیوں پُرانا لفظ مذمت کرتی ہے اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔

    دنیا کے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور خدا کی مخلوق ہیں ۔ انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انسانیت کا رشتہ بہت بڑا خزانہ ہے اسے لباس ، مذہب یا قومیت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 سے اب تک اسرائیل ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ جس میں 33 ہزار تعداد بچوں کی ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے مقامی و ملکی اور عالمی سطح پر نہ مسلمانوں کی کوئی قیادت ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل اور نہ اتحاد ہے ۔ مسلمان ممالک ہر شعبے ، ہر میدان میں مفلوج نظر آتا ہے ۔تاہم دعائوں اور بدعائوں سے حملہ آور ہے۔

    ملکی سیاست اور جمہوریت پر کیا تبصرہ کیا جائے ہمارے ملک میں جمہوریت کبھی آئیڈیل رہی نہیں۔ پاکستان کی سرحدیں پاک فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی وجہ سے محفوظ ہیں ۔ سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں تاہم جس جمہوریت اور الیکشن آئین اور قانون کی باتیں ہو رہی ہیں پاکستان کو اس وقت ایک ہوشیار ،ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو اپنی منفرد حیثیت سے ملک کے مسائل حل کر سکے۔

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

     

  • نواز شریف کی واپسی

    نواز شریف کی واپسی

    لندن میں چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد نواز شریف کی لاہور واپسی پر جوش و خروش دیکھے میں آیا، نواز شریف کی آمد سے قبل انہیں تین مقدمات میں 24 اکتوبر تک ضمانت دی گئی، زیر بحث پہلا مقدمہ توشہ خانہ کیس تھا، جہاں نواز شریف پر ابھی تک باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی، لیکن قانونی کارروائی جاری تھی۔ دیگر دو مقدمات، یعنی ایون فیلڈ کیس اور العزیزیہ کیس، میں ان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    العزیزیہ کیس میں، نواز شریف نے بیرون ملک علاج کرانے کے لیے ضمانت حاصل کی تھی، لیکن وہ وعدے کے مطابق واپس نہ آئے، ایسی صورتحال جس کے نتیجے میں عام طور پر ایک عام شہری کی فوری گرفتاری ہوتی ہے، جس کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے۔ تاہم نواز شریف کے کیس میں یہ اصول لاگو نہیں کئے گئے،

    اگرچہ نواز شریف کی واپسی جمہوری عمل کے لیے اہمیت کی حامل ہے، لیکن یہ جس انداز میں ہوا اس کے بارے میں اہم خدشات پیدا کرتا ہے، جس سے قانون کی حکمرانی کی ممکنہ بے توقیری کا اشارہ ملتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال عوام میں پولرائیزیشن کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ عوام کا ایک اہم حصہ اب بھی پاکستان تحریک انصاف حکومت کا حامی ہے.

    نواز شریف کی پاکستان واپسی ، پی ٹی آئی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی، پی ٹی آئی کی محاذ آرائی، فوج پر مسلسل تنقید، 9 مئی کا واقعہ اور سائفر کیس جیسے کیسز میں ملوث ہونے کی وجہ سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان دراڑ مزید بڑھ گئی،جس نے ملک کی سفارتی کوششوں پر نقصان دہ اثر ڈالا، یہ جزوی طور پر، پی ٹی آئی کی اپنی غلطی تھی جس نے نواز شریف کے لیے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ داخل ہونے کا راستہ پیدا کیا.

    احتساب کی بجائے معاشی بحالی کو ترجیح، نواز شریف کا بیانیہ تجزیہ کاروں کو یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہاہے کہ کیا وہ انتخابات میں تاخیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عوامی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ یہ اقدام ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور پاکستانی سیاست میں مختلف اداکاروں کی جانب سے استعمال کی جانے والی حکمت عملیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ان دنوں مشرق وسطی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے سنگین خطرہ ہے کہ یہ معرکہ جو بلاشبہ حق و باطل کا معرکہ ہے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ جنگ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر یک وقت 5 ہزار میزائل فائر کرنے سے شروع ہوئی مگر اس بات میں ہرگز دو آراء نہیں کہ حماس کا یہ رد عمل اسرائیل کے ان مظالم کے جواب میں سامنے آیا ہے جو اسرائیل نصف صدی سے فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے تو کیا اقوام متحدہ کا فرض نہیں کہ وہ اس مسئلے کو اپنی ہی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔دوسری مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی اپیلوں یا مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے جارحیت کرنے والے کا ہاتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پکڑنا ضروری ہے ۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا وہ بگڑا بچہ ہے جس نے خطے کا امن دائو پر لگا رکھا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر دنیا خاموش ہے اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ بے اثر رہتی ہے ان حالات میں حماس کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا وہ حالات کے تناظر میں ’’ تنگ آمد جنگ آمد ‘‘ کے مترادف ہے اس پر اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا سیخ پا ہونا کسی طور پر بھی درست نہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ واقعی انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرائیں تاکہ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہ سکے ۔ یہاں یہ حقیقت بھی امریکہ اور برطانیہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب اسرائیل مظالم کے نتیجے میں بہت سے ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہے ۔روس چین اور شمالی کوریا امریکہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

    ایران اور ترکی کا موقف اس حوالے سے پہلے ہی واضح ہے چنانچہ اب جب کہ یہ جنگ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا ’’ شیطان ثلاثہ ‘‘ ہوش کے ناخن لے اور جارح اسرائیل کی حمایت کرنے کے بجائے اسے راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ۔ سعودی عرب جو اس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والا اہم ملک ہے وہ بھی حالیہ تناؤ کے نتیجے میں اسرائیل پر واضح کر چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ چند ماہ قبل یہ خبر زبان زد عام تھی کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں مگر حقائق نے اس خبر کو فیک ثابت کر دیا ہے ۔ اسرائیل کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس نے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ محفوظ خود بھی نہیں رہ سکے گافلسطنینوں کی شہادتوں کے نتیجے میں وہ خود بھی کھنڈر بنے گا ۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو ا نہی حقائق کی روشنی میں جاری جنگ رکوانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہی بات ان کی دھمکیوں کی جو اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو دے رہا ۔۔۔۔تو فلسطینی مسلمان ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلئے کہ جو سرفروش سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا دیا ہے اگر فلسطینی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں تو محفوظ اسرائیل بھی نہیں۔

    البتہ فرق یہ پڑا ہے کہ اب بہت سے انصاف پسند یہودی بھی اسرائیل کی صیہونی لیڈر شپ کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ امریکہ میں ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل کی جارح صیہونی لیڈر شپ کے خلاف جلوس نکالا ۔ مظاہرین واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت میں گھس گئے ۔ مظاہرین ’’ غزہ کو جینے دو کے نعرے لگارہے تھے ‘‘ مظاہرین نے جنگ بندکرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر لڑائی نہ کریں، فلسطینیوں کی نسل کشی بندکریں۔مظاہرین نے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کے لیے استعمال کریں۔ان بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں صیہونی ریاست کی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مکمل تباہی ان کا مقدر بن سکتی ہے ۔

    یہاں ایک سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ نصف درجن کے قریب اہم ممالک کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے باوجود پاکستان کھل کر کیوں نہیں بات کر رہا جبکہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے بلکہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے اسلام دشمن طاقتیں ہماری ایٹمی طاقت کو اسلامی بم کے نام سے تعبیر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور اسلامی ممالک درپیش خطرات کے مواقع پر پاکستان کی طرف دیکھتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مدد کو آئے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس سے جہاں کمزور مسلم مبارک مایوسی کا شکار ہوتے ہیں وہاں اسلام دشمن طاقتیں بھی اظہار مسرت کرتی ہیں ۔ گو یہ حقیقت کے قریب صورتحال ہے مگر حقائق کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اہل پاکستان کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اہل پاکستان ہر مشکل وقت میں اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تو احتجاج ہوہی رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے صرف فلسطین پر مظالم کے خلاف ہی احتجاج نہیں ہو رہا بلکہ امید ہے کہ حکومت بھی اس حوالے سے ۔ اسلئے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان فرمودات کو پیش نظر رکھتا ہے جو وہ فلسطین کو تسلیم نہ کرنے کے پس منظر میں کہہ چکے ہیں۔ قائد اعظم علی جناح نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے موقف کی دوٹوک حمایت کی تھی اور اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی مسلمان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ معاشی مسائل اور سیاسی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو اس حوالے سے چشم کشا رہنا چاہیے کہ امت مسلمہ جسم واحد کی مانند ہے اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے لہذا پاکستان کو اسی تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس حوالے سے کوئی بھی مصلحت وقتی تو ہو سکتی ہے مستقل نہیں ۔ جہاں تک ہمارے ہاں درپردہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بات ہے تو یہ عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان عناصر کو جان لینا چاہئے کہ اگر یہ اپنی مذموم روش سے باز نہ آئے تو انھیں عوام کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطی کے لمحہ بے لمحہ بدلتے حالات عالم اسلام کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ حق و باطل کے اس معرکہ میں متحد ہو جائیں اگر قبلہ اول کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر گزرا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ غزہ کے محصور مسلمان مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غزہ سے اشیائے ضرورت اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں۔ اہل غزہ اس وقت مادی امداد کے ساتھ ساتھ افرادی اور عسکری امداد کے بھی منتظر ہیں ۔ ان حالات میں امت مسلمہ کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا ہوگا جس سے اہل فلسطین کے مصائب کم ہوں اور وہ نسل کشی سے محفوظ رہ سکیں ۔
    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !