یوسف ادریس مصر کے ممتاز و معروف ڈراما نویس، صحافی، افسانہ و ناول نگا رتھے۔
یوسف ادریس 19 مئی، 1927ء کو البیرم، مصر میں پیدا ہوئے۔ صوبائی دار الحکومت میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ 1945ء میں طب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے قاہرہ چلے گئے اور وہیں اُس دہائی کی آخری برسوں میں اُن کی کہانیاں المصری نامی اخبار میں شائع ہونی شروع ہوئیں۔
وفد پارٹی کے حامی اس اخبار پر بعد میں جمال عبدالناصر کے حکم سے پابندی لگا دی گئی۔ 1951ء میں طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یوسف ادریس نے چند سال پریکٹس بھی کی، مگر 1965ء کے لگ بھگ طب کو خیر باد کہہ کر کل وقتی ادیب اور صحافی کا پیشہ اختیار کر لیا۔ یوسف ادریس کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ 1945ء میں شائع ہوا تھا اور اس کے بعد بہت سے مجموعے، ڈرامے اور ناول شائع ہوئے۔
میٹا نے کینیڈا میں صارفین کی فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ عالمی ادارے کے مطابق اس بارے میں میٹا نے پہلے آگاہ کیا تھا کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ رواں سال جون میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے کینیڈا کے صارفین کی فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
کینیڈا میں میٹا کی پبلک پالیسی کی سربراہ ریچل کرن نے کہا ہے کہ نیوز آؤٹ لیٹس رضاکارانہ طور پر فیس بک اور انسٹاگرام پر مواد شیئر کرتے ہیں تاکہ اپنے سامعین کو بڑھا سکیں اور ان کی نچلی لائن میں مدد کریں، اس کے برعکس ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پلیٹ فارم استعمال کرنے والے لوگ ہمارے پاس خبروں کے لیے نہیں آتے ہیں۔
واٹس ایپ نے آڈیو کی طرح اب 60 سکینڈ تک ویڈیو میسج بھیجنے کا فیچر بھی متعارف کرا دیا ہے جس میں اگر آپ چیٹ کرتے ہوئے اچانک 60 سیکنڈ کی ویڈیو بھیجنا چاہتے تو وہ ظاہر ہوجائے گی اور خاموشی سے چلنے لگے گی اور جیسے ہی آپ ٹچ کریں گے اس کی آواز بھی کھل جائے گی۔
مذکورہ عمل کو عین وائس ریکارڈنگ کی طرح آسان اور عام انداز میں بنایا گیا ہے اور وائس میسج آئیکون دبا کر رکھئے اور اس سے قبل فون پر ایپ کو ویڈیو موڈ میں لے جائیں تو ویڈیو ریکارڈ ہونے لگے گی۔ لہذا یوں وائس کی طرح اسے بھی لاک کیا جاسکتا ہے تاکہ ہاتھوں کو استعمال نہ کرنا پڑے اور یوں ہینڈزفری ویڈیو میسج ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ پرائیویٹ میسجنگ اور کالنگ کی مدد سے آپ اپنی شخصیت کا اظہار کر سکتے ہیں، بلا تکلف باتیں کر سکتے ہیں اور اپنے لیے اہم لوگوں سے قریب ہونے کا احساس محسوس کر سکتے ہیں خواہ وہ کہیں بھی رہتے ہوں۔ لہذا اب واٹس ایپ دن بدن نئی چیزیں لا رہا ہے کہ تاکہ وہ اپنے صارفین کو
درد ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی حسی اور جذباتی تجربہ ہے جو جسم کے لیے ایک وارننگ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ایک ناخوشگوار احساس ہے جو عام طور پر ٹشو کو پہنچنے والے نقصان یا ممکنہ چوٹ سے منسلک ہوتا ہے، یہ انسان کو نقصان سے بچانے کے لیے کارروائی کرنے پر اکساتا ہے۔ درد مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ، جیسے ہلکی تکلیف سے لے کر شدید اذیت تک، ہو سکتا ہے۔درد انسانی تجربے کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ اپنی پوری زندگی میں، ہمیں درد کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ جسمانی ہو، جذباتی یا نفسیاتی ۔ اگرچہ درد سے بچنے کے طریقے تلاش کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ درد ایک طاقتور استاد بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے درد تکلیف یا ناکامی کو قبول کرنا اور اس سے سیکھنا ذاتی ترقی، خود اعتمادی یا اپنے اور دوسروں کے بارے میں مزید جاننے کا باعث بن سکتا ہے، درد سے سیکھنے کا پہلا قدم ہماری زندگی میں اس کی موجودگی کو تسلیم کرنا ہے۔ درد ایسی چیز نہیں ہے جسے ایک طرف رکھ کر نظر انداز کیا جا سکے، لہذا اسے انسانی تجربے کے ایک درست اور ضروری پہلو کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کیو نکہ درد یا ناکامی سے انکار، یا اسے دبانا جذباتی جبر اور حل نہ ہونے والے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
درد کو زندگی کے ایک فطری حصے کے طور پر قبول کرنا ہمیں ہمت اور عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی قوت عطا ہوتی ہے، درد کی جانچ کرنا اپنے آپ اور ہمارے حالات کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرتا ہے۔ درد مختلف ذرائع سے ہوسکتا ہے، جیسے ماضی کے صدمات، ناکام تعلقات، مایوسی، یا جسمانی بیماریاں۔ بنیادی وجوہات کو سمجھنے سے، ہم یہ واضح کرسکتے ہیں کہ بعض واقعات یا حالات ہم پر کس طرح گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جو سمجھ بوجھ اور ترقی کے دروازے کھولتا ہے، درد سے سیکھنا لچک کو فروغ دیتا ہے – جیسے مشکلات اور ناکامیوں سے واپس مقابلہ کی صلاحیت۔ جیسا کہ ہم درد کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس پر قابو پاتے ہیں، ہم طاقت اور موافقت پیدا کرتے ہیں۔ لچک ہمیں زیادہ اعتماد اور عزم کے ساتھ مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ درد پر قابو پانے کا ہر تجربہ ہماری زندگیوں کے لیے ایک لچکدار بنیاد بناتے ہوئے ایک عمارت کا حصہ بن جاتا ہے۔ درد کا تجربہ ہمارے اندر ہمدردی پیدا کر سکتا ہے۔ جب ہم خود درد کو جان لیتے ہیں نا تو ہم دوسروں کے دکھوں سے بھی زیادہ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ ہمدردی کا یہ بلند احساس ہمیں لوگوں کے ساتھ گہری سطح پر جڑنے کے قابل بناتا ہے، اور دوسروں کی مدد اور سمجھ بوجھ کی پیشکش کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ ہمارے درد کے تجربات ایک پل بن جاتے ہیں جو ہمیں مشترکہ انسانیت کے وسیع تر احساس سے جوڑتا ہے۔
درد ذاتی ترقی کے لیے ایک طاقتور دوا کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر دھکیلتا ہے اور ہمیں اپنے عقائد، انتخاب اور ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ جب ہم درد سے گزرتے ہیں، تو ہم خود سے آگاہی اور خود شناسی کا ایک نیا احساس پیدا کرتے ہیں۔ درد کے ساتھ ہر تصادم سیکھنے اور ذاتی ارتقاء کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ناکامی یا درد سے سیکھا ہوا سبق ہمیں اپنی زندگیوں اور دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ درد ہمیں مقصد یا جذبے کے گہرے احساس کو دریافت کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے، جو ہمیں معاشرے میں بامعنی شراکت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اپنے درد کو مقصد میں بدل کر، ہم اپنی جدوجہد میں معنی تلاش کرتے ہیں اور اپنے ارد گرد کی دنیا پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں،
درد مشکل اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایک طاقتور استاد بھی ہے۔ درد کا ہر تجربہ خود کی عکاسی اور ذاتی تبدیلی کا ایک موقع ہے۔ اپنے درد کو تسلیم کرنے اور اس سے سیکھنے سے، ہم مشکلات کو طاقت میں بدل سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں مقصد کے نئے مواقعوں کو تلاش کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، درد سے جو سبق ہم سیکھتے ہیں وہ بالآخر ہمیں ایک مزید خود کو پہچاننے اور اپنی شخصیت کو مزید نکھارنے اور نہ ختم ہونے والی کا میابیوں کی طرف گامزن کر سکتا ہیں،
یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟
اقوام متحدہ کی ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ کے مطابق، بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے نتیجے میں 136 بچے ہلاک ہوئے۔ یوکرین اپنے اختیار میں ہر چیز کے ساتھ لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس انسانی تباہی کا واحد نتیجہ مزاکرات سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، میدان جنگ میں نہیں۔
روس کے ساتھ جاری تنازعہ کے دوران شہریوں کی جانوں، اور بنیادی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ یوکرین کی صورت حال بلا شبہ افسوسناک ہے۔ جدہ میں ہونے والےمزاکرات امن کے قیام اور جنگ کا حل تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ بھارت اس میں حصہ لینے والا ہے. جیسا کہ امریکہ میں بھارت کی سابق سفیر نروپما راؤ نے CNBC کو واضح طور پر کہا کہ، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ نئی دہلی روس کی دفاعی صنعت کے ساتھ اپنے تعلقات ترک کرے، کیونکہ کریملن یوکرین میں اپنا مسلح تنازعہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
جدہ میں ہونے والی آئندہ سمٹ میں جہاں مختلف ممالک کی شمولیت، مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادگی کا اشارہ دیتی ہے، وہیں مذاکرات کے اس دور میں روس کی عدم شرکت کی بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔
روس کے ان مخصوص مذاکرات کا حصہ نہ بننے کی دو ممکنہ وجوہات معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے، اتحاد کا یہ ماننا ہو سکتا ہے کہ روس کو شروع سے شامل کرنا پرامن حل کے لیے حکمت عملی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ دوسرا، وہ روس کو اس وقت شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے جب کچھ اتفاق رائے ہو جائے اور ایک امن منصوبہ پیش کیا جا سکے۔
جنگیں ختم کرنے کے لیے مذاکرات درحقیقت ایک بنیادی ذریعہ ہیں. لیکن ان کی تاثیر کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں فریق ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں، اور زیر بحث مسائل پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔ روس کے خدشات کو نظر انداز کرنا کسی بھی امن عمل کی کامیابی کو ممکنہ طور پر خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ مذاکرات کی پچھلی کوششیں، جیسے کہ 2014 میں منسک معاہدے، ناکام ہو گئے کیونکہ انہوں نے کریملن کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو مناسب طریقے سے حل نہیں کیا۔
روس یوکرین کو اپنی سلطنت کا حصہ سمجھتا ہے اور وہ اپنے دعوے کو آسانی سے ترک نہیں کرے گا۔ تاہم، برسوں کی جنگ اور کیف کی حمایت کے بعد، یوکرین کے حامیوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ تنازعہ کا پرامن حل تلاش کریں۔ امن عمل کی کامیابی کا بہت زیادہ انحصار مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور یوکرین اور روس دونوں کے بنیادی خدشات کو دور کرنے پر ہوگا۔
یوکرائن کا منظم امن عمل، نتائج دے سکتا ہے اگر وہ تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا انتظام کرے، اور تنازعہ کو ہوا دینے والے بنیادی مسائل کو حل کرے۔ یہ ایک مشکل کام ہو گا، لیکن جنگ کی وجہ سے انسانی مصائب اور تباہی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کے ذریعے امن کا حصول بہت ضروری ہے۔
دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے نئی پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیفشل اینٹیلجنس سے بنائے گئے ریویوز گوگل کی پالیسیوں کے خلاف ہیں لہذا انکی اجازت نہیں ہے اور ان کو اسپیم تصور کیا جائے گا۔ جبکہ گوگل کے مطابق صارفین ایسا کونٹینٹ دیکھیں تواپنی فیڈ میں موجود is_spam نامی فیچر کی مدد سے اس کی نشان دہی بطور اسپیم کریں۔
اتحادی حکومت نے بوقت رخصت بہت سے ترمیمی بل منظور کئے ہیں ۔ ان ترامیم میں کچھ کے ساتھ یقینا اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے لیکن آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔۔ایک ایسا بل ہے جو پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے ۔اس بل کے ذریعے صرف فوج کے ڈسپلن کو ہی بہتر نہیں بنایا گیا بلکہ پاک فوج کے وقار اور احترام کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔اس بل کی چند اہم ترامیم یہ ہیں :
کسی بھی دوہری شہریت والے کو فوج میں کمیشن نہیں ملے گا۔ پاکستان اور افواج کی سیکیورٹی اور مفاد سے متعلق معلومات افشا کرنے پر 5 سال قید ہوگی۔راز افشا کرنے والے شخص سے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ، برطرفی یا استعفے پر فوجی افسر 2 سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔حساس اداروں سے ریٹائرڈ افسران 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی شق کی خلاف ورزی پر 2 سال تک قید کی سزا ہوگی۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی افسر بغیر اجازت پاک فوج کے مفادات سے ٹکراﺅ کرنے والے ادارے میں ملازمت نہیں کرسکے گا ۔ کوئی حاضر سروس یا سابق فوجی الیکڑانک، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا پر پاک فوج کو اسکینڈلائز نہیں کرے گا،اسکینڈلائز کرنے پرآرمی ایکٹ کے تحت کارروائی اور پیکا قوانین کے تحت سزا ہوگی۔پاک فوج کو بدنام کرنے، نفرت ابھارنے یا نیچا دکھانے پر 2 سال تک سزا، جرمانہ یا دونوں ہو سکیں گے۔
امر واقعی یہ ہے کہ یہ تمام ترامیم بے حد اہمیت کی حامل ہیں اور ہر محب وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہیں ۔ خاص کر موجودہ حالات میں جبکہ کچھ عناصر ایک منظم طریقے سے پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ۔۔۔۔لہذا ایسے ملک دشمن افراد کے خلاف قانون کا شکنجہ کسنا بے حد ضروری تھا ۔ اسلئے کہ پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ءکی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضاﺅں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کو دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔
الغرض 1965ءکی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کو دندان شکن جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ” سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع ان کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت ان کا جذبہ شہادت ہے اور ”جہاد فی سبیل اللہ“کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں ۔اس وقت بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد پھر سراٹھا رہے ہیں ۔ بہادر افواج کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کررہے ہیں ۔ جب ہم رات کے وقت اپنے گھروں میں اور اپنے بستروں آرام کی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے وطن کے جیالے پاسبان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ۔
9مئی کے دن جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام واقعات 1970ءمیں ملک کے خلاف کی جانے والی دشمنی کا ہی تسلسل ہے ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار وں، ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کےلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرات نہ ہو ۔
(تجزیہ شہزاد قریشی)
میاں محمد نواز شریف نہایت ہی زیرک مدبراور سیاسی دائو پیچ کے ماہر سیاستدان ہیں۔ نواز شریف کے زمانہ وزارت عظمٰی کے دوران نجی شعبہ کے تعاون سے ملکی صنعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی۔ غازی بروتھا اور گوادر بندرگاہ جیسے منصوبے شروع کیے گئے۔ سندھ کے بے زمین ہاریوں میں زمینیں تقسیم کی گئیں۔ وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات مستحکم کئے گئے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی دی گئی ۔ لیکن بدقسمتی سے اُن کی حکومت کو ہر بار کسی نہ کسی بہانے گرا دیا گیا۔ عوام کے منتخب وزیراعظم کو کبھی خاندان سمیت جلا وطن کردیا گیاکبھی اٹک قلعہ میں بند کردیا گیا۔ کبھی راولپنڈی سے لاہور جیلوں میں بند کردیا گیا ۔ جواں سال بیٹی کو بھی والد کے ساتھ جیل میں بند کردیا گیا۔ نواز شریف اور مریم نواز شریف کو کون سمجھائے سیاست کے معیار بدل گئے ۔سیاست کے آداب بدل گئے۔ مسلم لیگ(ن) سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت نہ جانے کن لوگوں کے پاس چلی گئی ۔ قوم ایک ہنگامے کا نام بنتی جا رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے اندر سے نئی سیاسی جماعتیں وجود میں آنے لگیں۔ نواز شریف کے دور اقتدار کی حکومتی پالیسیوں سے اتفاق یا اختلاف الگ بات ہے تاہم نواز شریف شرم وحیا والے حکمران تھے آج بھی نواز شریف کے حسن سلوک کا اعتراف کیا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی گلیاروں میں ہنگامے کی ایک وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے اور اس فقدان کا سامنا مسلم لیگ(ن) کو بھی ہے۔ معاشی بحران اتنا بھی بے قابو نہیں جسے حل نہیں کیا جا سکتا ۔ نواز شریف کے نامزد کردہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کیا پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہیں بچایا؟
لیکن نواز شریف کی ہی جماعت کے کچھ لوگوں نے اسحاق ڈار کو نشانے پر رکھا۔ جس طرح پورے ملک میں خوراک ملاوٹ شدہ دستیاب ہے اسی طرح سیاست میں بھی ملاوٹ ہو چکی ہے ۔ ملاوٹی سیاستدانوں نے عوام کی زندگیوں میں زہر گھول دیا ہے ۔ پنجاب میں یکے بعد دیگرے واقعات نے ہلا کر رکھ دیا ہے بہاولپور یونیورسٹی اور دوسرا گھریلو معصوم بچی پر وحشیانہ تشدد، یونیورسٹی کی بچیاں اور گھریلو ملازمہ گلشن وطن کا سرمایہ ہیں ۔ ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو اس طرح کے واقعات نہ ہوتے مگر افسوس 75 سال ہو گئے ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ انسانیت سوز وحشیانہ پن کے سدباب کے قانون پر سختی سے عمل کیا جائے۔
دوستو آپ نے انڈین فلم کا ایک گانا تو ضرور سُنا ہوگا ”
پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا بیٹا ہمارا ایسا کام کرے گا” اور اسی گانے کو چھانگا مانگا چوکی کوڑے سیال پیٹرولنگ پوسٹ کی کانسٹیبل سمیرا صدیق نے سچ کر دیکھایا سمیرا صدیق نے پاکستان کی تاریخ میں فرض شناسی کی انوکھی مثال قائم کردی۔
خبر کے مطابق پنجاب ہائی وے پیٹرول پولیس کی ہیڈ کانسٹیبل سمیرا صدیق ناکے پر کھڑی چیکنگ کررہی تھیں کہ اسی دوران اچانک ان کے والد صاحب موٹر سائیکل پر رونما ہوئے سمیرا نے دیکھا کہ والد صاحب نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تو اُس کے دماغ میں پاسنگ آوٹ پریڈ پر اُٹھایا حلف گونج اُٹھا کہ "قانون کی راہ میں سگا باپ بھی آجائے تو اُسے معاف نہیں کرنا "چناچہ سمیرا نے فرض کی راہ میں سگے باپ کو قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا اُس نے ساتھ کھڑی ساتھی کانسٹیبل کو کہا ویڈیو بناو میں زرا ابا جی کا چالان کر لوں اور پھر ہیلمٹ نہ پہننے کی پاداشت میں سمیرا نے اپنے والد کا چالان کردیا اس پر بھی سمیرا کا دل نہ بھرا ساتھ جرمانہ کی رقم مبلغ دو سو روپے بھی اباجی سے وصول کرلی جو صدیق والد سمیرا نے ہنسی خوشی بیٹی کو ادا کردی
سمیرا صدیق کے والد نے کہا کہ میری بیٹی نے میرا چالان کیا اور 200 روپے بھی وصول کیے، مجھے خوشی ہوئی ہے میری بیٹی نے ایسا کیا قانون کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ باپ ہو یا ماما ہو سب کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے میں آئندہ میں رات کو بھی ہیلمٹ پہن کر سوں گا اور قانون کبھی نہیں توڑوں گا
لیڈی کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ اگر میرے گھر والے بھی قانون پرعمل درآمد نہیں کریں گے توان کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔
میں لیڈی کانسٹیبل سمیرا کی فرض شناسی اور قانون پر عملدرامد کے اس جزبہ کی قدر کرتا ہوں اور ایک مشورہ بھی دیتا ہوں بیٹا یہ غریب تو آپ کا اپنا ابا تھا جس نے خاموشی سے چالان کروایا اور جرمانہ بھی ادا کردیا لیکن اگر تُم نے اسی طرح کی فرض شناسی میں کبھی کسی مریم نواز کے ابا،بلاول کے ابا،قاسم کے ابا،مولانا مسعود کے ابا یا اُنکی پارٹی کے دیگر اباوں کا چالان کرنے کی کوشش بھی کی تو نہ یہ چالان بک رہے گی اور نہ چالان کرنے والی سمیرا صدیق
قارئین کرام! جب پانچ ہزار طلب علموں کو ڈیجیٹل ہنر سکھانے والے اور لاکھوں ڈالرز کا زرمبادلہ پاکستان لانے والے استاد پر اپنے ہی ملک کی زمین تنگ کر دی جائیں۔ اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ "ہم اپنا ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں”۔ تو پھر لگتا ہے کہ جالب نے ٹھیک کہا تھا کہ
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
تنویر نانڈلہ نامی نوجوان جو ملتان کے ایک گاؤں میں انتہائی متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔مگر مالی وسائل کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا۔ مگر ہمت نہ ہاری۔ دیکھتے دیکھتے اس نوجوان نے آئی ٹی کی دنیا میں دھوم مچا دی۔ اپنی انتھک محنت کے باعث پاکستان کا نمبر ون بلاگر بنا، اور پھر اسے حکومت پاکستان نے "پرائڈ آف پاکستان” سے بھی نوازا۔ مگر مٹی سے محبت کرنے والے اس نوجوان کو، اب اپنے ہی ملک میں رہنے نہیں دیا جارہا۔ ملتان کے ایک مقامی ایم پی اے کی پشت پناہی رکھنے والا ایک قبضہ مافیا گروپ پچھلے کئے برسوں سے تنویر نانڈلہ اور ان کے خاندان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کررہا ہے۔ کچھ برس پہلے بھی تنویر نانڈلہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا،مگر خوش قسمتی سے پاکستان کا یہ قیمتی آساثہ بچ نکلا۔ گزشتہ روز تنویر نانڈلہ نے فیس بک پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی۔ جس میں انکا کہنا تھا کہ میرے بھائی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔مگر جب گولی انھیں نہ لگی تو تشدد کرکے ان کا سر پھاڑ دیا گیا۔اس ویڈیو میں تنویر نانڈلہ نے مزید کہا کہ پولیس بھی انہیں قانونی مدد فراہم نہیں کر رہی۔اور نہ ہی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ تنویر جیسے ذہین نوجوان کی اس ملک میں حالت دیکھیے اور ماتم کیجیے کہ یہ وہ نوجوان ہے، جسے اس ملک کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال نے شاہین کہا تھا۔ اقبال نے ایسے ہی نوجوانوں کے لیے کہا تھا کہ:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
یہ نوجوان تنویر نانڈلہ بھی اقبال کے شاہین کی طرح اپنی منزل کےلیے محنت کرتا رہا۔اور اس نے نہ صرف اپنی منزل پر پہنچ کر اپنا نام روشن کیا، بلکہ دنیا بھر میں ملک پاکستان کے نام کے جھنڈے بھی گاڑے۔ مگر افسوس۔۔۔۔۔
گزشتہ برس بھی ان پر قاتلانہ حملہ ہوا،مگر ایک طالب علم کی وجہ سے تنویر نانڈلہ اس حملے سے بچ گئے۔ ان کے خاندان کے لوگوں پر کئی جھوٹے مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں۔ادارے تو اس نوجوان کو انصاف دینے میں تاحال ناکام ہیں۔مگر پاکستانی عوام نے اپنا حق ادا کر دیا۔ تنویر نانڈلہ کے سوشل میڈیا پر ویڈیو اپلوڈ کرنے کے بعد چند گھنٹوں میں ٹوئٹر پر JusticeForTanveerNandla ٹاپ ٹرینڈ کرنے لگا۔ ورلڈ بینک سے نمبر ون بلاگر کا ایوارڈ لینے کے ساتھ ساتھ 23 مارچ کو آئی ٹی کے شعبے میں بے شمار خدمات پر حکومت پاکستان اور پاکستان آرمی کی جانب سے اسی تنویر نانڈلہ کو "پرائڈ آف پاکستان” کا اعزاز بھی دیا گیا۔ تنویر نانڈلہ پانچ ہزار سے زائد نوجوان کو ڈیجیٹل روزگار فراہم کرچکے ہیں۔اور یہ نوجوان اب تک ایک سو پانچ ملین ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ پاکستان میں لا چکے ہیں۔ مگر اس نوجوان کے ساتھ سیاسی طاقتوں کی زیادتیاں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہمیں اپنے ہیروں کی قدر ہی نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے والا نوجوان انصاف مان رہا ہے۔مگر اسی کی محافظ پولیس اس کو تحفظ فراہم نہیں کرپارہی۔ جھوٹے مقدمات اور قاتلانہ حملوں کے باوجود یہ نوجوان آج بھی پاکستان میں ہے۔کیونکہ اسے پاکستان سے محبت ہے۔ "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے”۔ پلیز ان کی قدر کیجیے۔