Baaghi TV

Category: بلاگ

  • غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا کمال ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں ہیں اور حبا ابو ندا 1991 میں سعودی عرب میں مقیم بیت جرجا کے ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔


    ان کا خاندان 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران صیہونیوں کی جانب سے جبری طور پر بےگھر کیا گیا تھا۔ حبا نے غزہ یونیورسٹی سے کلینیکل نیوٹریشن میں ماسٹر کیا تھا اور یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں بھی ماسٹر ڈگری لی تھی انہوں نے اب تک شادی نہیں کی تھی ۔
    32 سالہ حبا ابو ندا نے” آکسیجن از ناٹ فار دا ڈیڈ” نامی ناول لکھا تھا۔ حبا ابو ندا نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ اگر ہم مرجائیں تو جان لیں کہ ہم ثابت قدم ہیں اور ہم سچے ہیں۔

    هبة أبو ندى کی آخری فیس بک پوسٹ
    سپریم کورٹ نے ملک ریاض نوٹس جاری کر دی
    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان
    پارلیمنٹ 2سے 3ماہ میں وجود میں آ جائے گی. خواجہ محمد آصف
    نحنُ في غزة عند الله بين شهيد وشاهد على التحرير وكلنا ننتظر أين سنكون.
    كلنا ننتظر اللهم وعدك الحق.
    جبکہ 2 روز قبل انگریزی میں پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم نہ چیخ اور چلا سکتے ہیں ہم اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں سے نہ مل سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں اور ہم موت کے دہانے پر کھڑے ہیں اور کسی بھی وقت مر سکتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نواز شریف کا نئے سیاسی سفر کا آغاز ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نواز شریف کا نئے سیاسی سفر کا آغاز ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے ملکی سیاست سے ذاتی انتقام، ذاتی چپقلش اور ہنگامہ آرائی کو دفن کر کے ایک نئے سیاسی اور جمہوری اور معاشی سفر کی طرف ملک کو گامزن کرنے اور مستحکم پاکستان کی منزل کے حصول کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔ دہائیوں سے ڈگمگاتی جمہوریت، ہچکولے کھاتی معیشت عوام میں بے یقینی کی کیفیت اور مہنگائی کا طوفان بلاشبہ سیاسی انتقام اور ذاتی پسند اور ناپسند کے تجربات ہی کے ثمرات ہیں جن کا خمیازہ نہ صرف عوام پاکستان اور سیاستدان بھگت رہے ہیں قوم کو ایک نئے آغاز کی ضرورت تھی ایک نئے عزم حوصلے کی ضرورت تھی نوازشریف نے وطن واپسی پر لاہور میں اپنے خطاب میں قوم کو ایک نئی منزل دکھائی۔ نوازشریف نے ملک کی سیاسی تاریخ میں اپنے ادوار میں موٹرویز ، میٹرو بس سروس، سی پیک اور دیگر ایسے میگا پراجیکٹ متعارف کروائے جن سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑے اور ملکی معیشت اس وقت دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت گردانی جاتی تھی۔ ایشین ٹائیگر بننے کا خواب اپنی تعبیر کے قریب تھا نوازشریف نے اپنے خطاب میں عوام کی ضروریات اور قومی ترقی کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت اور تدبیر کے ساتھ بھانپتے ہوئے جس پاکستان کا خواب دیکھا ہے اس میں ملک کے ہر فرد پر نوجوان مرد و زن کو اس کی تکمیل کے لئے حصہ ڈالنا ہوگا وقت آ پہنچا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ سے باز رہنا چاہئے۔ سب سے پہلے پاکستان اور اپنا پاکستان مضبوط کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ بلاشبہ نوازشریف نے قید و بند کی اذیتیں اپنے اور خاندان اپنے عزیز ترین رشتوں کی جدائی کے کے غم اور ستم سہے اس کے باوجود نوازشریف اپنے خطاب میں قوم کو برداشت ، تحمل، بردباری ، صبر اور شکر کی تلقین کر گئے۔ جو قابل تعریف ہے۔

  • نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد آج پاکستان پہنچ گئے ہیں، جیل میں بیمار ہونے والے نواز شریف لندن گئے توپھر چار سال تک پاکستان نہ آئے، بھائی شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیڑھ برس حکومت کی، نواز شریف واپس نہ آئے، عمران خان جیل گئے اور نگران حکومت بنی تو نواز شریف کا واپسی کی تاریخ کا اعلان ہوا، غیر یقینی کیفیت تھی ، عدالت میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر ہوئیں تو عدالت نے مجرم کو ضمانتیں دے دیں،اسکے بعد نواز شریف آج پہلے اسلام آباد پہنچے وہاں سے لاہور آئے اور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کیا

    نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو مریم نواز آبدیدہ ہوئیں، نواز شریف بھی رو پڑے،شہباز شریف نے مختصر خطاب کیا اسکے بعد نواز شریف نے 58 منٹ خطاب کر کے ن لیگ کا نیا بیانیہ قوم کے سامنے رکھا، مینار پاکستان گراؤنڈ میں آج سٹیج سیکرٹری کے فرائض مریم نواز نے سنبھالے رکھے نواز شریف ایئر پورٹ آئے، شاہی قلعہ میں ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ ہوئی مگر مریم اپنے والد نواز شریف کو ملنے نہ گئی بلکہ سٹیج پر ہی انتظار کیا، مریم نواز شرکا کے جذبات کو گرماتی رہیں، لال سوٹ پہنے مریم کے آنکھوں سے آنسو آئے تو ساتھ کھڑی مریم اورنگزیب بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں،نواز شریف نے اپنے خطاب میں قوم کو جو بیانیہ دیا اس میں بھارت سے دوستی، انتقام کے راستے بند، ملکی ترقی، آئین پر عملداری، اور متحد ہو کر چلنے کا ہے، نواز شریف آج اپنی تقریر کے آخر میں مولانا بن کر کارکنان کو نصیحتیں بھی کرتے رہے کہ درود شریف پڑھیں، تہجد پڑھیں اور رب سے مانگیں، نواز شریف نے اپنے خطاب میں عمران خان کا نام نہیں لیا لیکن عمران خان پر تنقید کرتے رہے، نواز شریف نے ایک بار اپنے خطاب میں خؤاتین کے بارے پوچھا کہ جلسہ گاہ میں کہاں ہیں، جب نواز شریف کو بتایا گیاکہ خواتین کا پنڈال اس طرف ہیں تو نواز شریف نے کہا کہ ہمارے جلسے میں خواتین آرام سے جلسہ سن رہی ہیں،کوئی ڈھول،ناچ گانا نہیں ہو رہا،

    نواز شریف جب اقتدار سے نکالے گئے تھے تو اس وقت نواز شریف نے نعرہ لگایا تھا کہ مجھے کیوں نکالا؟ وہ نعرہ آج بھی نواز شریف لگاتے نظر آئے، نواز شریف نے شرکاء سے روٹی، پٹرول،ڈالر کی قیمت پوچھی اور اپنے دور کی قیمتیں بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے اس لئے نکالا گیا کہ میرے دور میں روٹی سستی تھی، پٹرول سستا تھا، بجلی سستی تھی، لوڈشیڈنگ نہیں تھی،نواز شریف عوامی ہمدردی ھاصل کرنے کے لئے بجلی کا بل بھی ساتھ لائے اور اپنے دور کے بلوں کے ساتھ موازنہ کیا ،نواز شریف نے اپنے دور کی کارکردگی بتائی موٹرویز گنوائیں، تو وہیں شہباز شریف دور کی صفائیاں پیش کرتے رہے کہ جب وہ وزیراعظم تھے قیمتیں اس سے پہلے کی بڑھنا شروع ہو گئی تھیں،

    نواز شریف نے گرفتاری کے دنوں میں ہونے والے واقعات کا بھی تذکرہ کیا ،اہلیہ کی موت کی خبر کیسے ملی، مریم نواز کو کیسے بتایا، جیل سے نواز شریف کی آنکھوں کے سامنے سے مریم نواز کو کیسے گرفتار کیا، سب بتایا اور ساتھ اللہ سے دعا مانگی کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا،نواز شریف نے عمران خان کے دور حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کوئی منصوبہ، کوئی کارنامہ انکا ہے تو سامنے لاؤ، نواز شریف نےاپنے کارکنان کو یہ بھی نصیحت کی گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، نواز شریف نے آج جلسے کے شرکا سے عہد لیا کہ ملک کی تعمیر نو کریں گے اور پاکستان کو ایک بار پھر جنت بنائیں گے،

    نواز شریف نے اپنے خطاب میں الیکشن کا ذکر نہیں کیا نہ ہی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں الیکشن کروائے جائیں، پاکستان میں نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ جنوری کے آخر میں الیکشن کروائیں گے تا ہم ابھی تک واضح نہیں کہ الیکشن کب ہوں گے، نواز شریف اپنے 58 منٹ کے خطاب میں انتخابات کے حوالہ سے بالکل خاموش رہے،

    نواز شریف کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے مریم نواز نے لندن سے واپس آ‌کر ن لیگ کو متحرک کیا، اجلاس کئے اور ضلعی رہنماؤں کو پابند کیا گیاکہ وہ جلسے میں بندے لائیں گے، ایک فارم جاری کیا گیا جسمیں ہرگاڑی میں سوار افراد کی تعداد لکھنی تھی اور وہ تعداد مانیٹرنگ ٹیم نے چیک کی، ایک ایپ بھی ن لیگ نے بنائی تھی جس کے ذریعے ن لیگ یہ مانیٹر کرتی رہی کہ جلسہ گاہ میں‌جو لوگ آئے ان میں سے باہر کوئی نہ جائے،

    نواز شریف کے جلسے میں لاہوریوں نےکتنی شرکت کی؟ مینار پاکستان گراؤنڈ بھرا ہوا تھا تا ہم اس میں لاہوریوں کی تعدا د نہ ہونےکے برابر تھی، ن لیگ نے لاہور میں محنت کی، تاہم عوام کو نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکی، لاہوری گھروں میں رہے، سارا لاہور کھلا رہا، مارکیٹس بند نہیں ہوئیں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا،لاہور جسے ن لیگ کا گڑھ کہا جاتا تھا اس نے آج کے جلسے سے یہ ثابت کر دیا کہ گڑھ نہیں بلکہ گڑھا ثابت ہوا ہے، جلسہ گاہ میں بیرون لاہور سے آئے افراد تو موجود تھے لیکن لاہوریوں کی تعداد انتہائی کم تھی،اگر لاہوری جلسے میں جاتے تو پھر منظر ہی کچھ اور ہونا تھا تا ہم شہباز شریف دور حکومت کی مہنگائی ،بجلی کے اضافی بل، آٹے کی قیمت میں اضافہ، چینی کے بڑھتے نرخوں نے لاہوریوں کو گھروں پر ہی رہنے کو مجبور کیا.ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد بتائی جا رہی ہے، جس طرح استقبال کی مہم چلائی گئی، وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ڈی سی گاڑیاں بک کروا کر دیتے رہے،ہر ضلعے سے باقاعدہ حاضری لگوائی ،ٹکٹ ہولڈر کو پابند کیا گیا کہ بندے نہ آئے تو ٹکٹ نہیں،ایسے میں ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد ن لیگ کی ایک طرف سے کامیابی بھی ہے اور ناکامی بھی کیونکہ یہ وہ بندے تھے جو ازخود نہیں آئے بلکہ زبردستی کہہ کہہ کر لائے گئے،

    نواز شریف کا نیا بیانیہ؟ کیا قوم اس سے متاثر ہو پائے گی؟ کبھی بھی نہیں، نواز شریف نے جلسے میں کوئی نئی بات نہیں کی ،بیانیے میں انتقام نہ لینے کی بات نئی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو گا کیونکہ ن لیگ جتنا انتقام لیتی ہے شاید اس سے زیادہ کوئی اور لیتا ہو، ماضی کھنگال کر دیکھ لیں، بینظیر کے بارے نواز شریف کیا کہتے تھے؟ خواتین کے بارے میں ن لیگی رہنما کیا کہتے رہے؟ کبھی ٹیکسی، تو کبھی ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا رہا،ایسے میں قوم کیسے یقین کرے کہ نواز شریف بدل گئے ہیں؟ نواز شریف متحد ہونے کی بات تو کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار تو ن لیگ بھی متحد نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی جو چند دن قبل لندن میں نواز شریف کو مل کر آئے وہ آج جلسے میں نظر نہ آئے، مفتاح اسماعیل پارٹی چھوڑ چکے، نواز شریف مریم کو آگے لانا چاہتے ہیں لیکن ن لیگ کے متعدد رہنما مریم نواز کو پسند نہیں کرتے ، جب ن لیگ گھر میں متحد نہیں تو وہ سیاسی جماعتوں کو، کیسے متحد کرے گی؟

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • آل راونڈر عماد وسیم نے بابر اعظم پر شدید تنقید کا اظہار کیا ہے

    آل راونڈر عماد وسیم نے بابر اعظم پر شدید تنقید کا اظہار کیا ہے

    آل راؤنڈر عماد وسیم نے ایم چناسوامی اسٹیڈیم، بنگلورو میں جمعہ کو آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 میں آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے بعد بابر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔بابر کی قیادت والی ٹیم آسٹریلیا کی طرف سے دیے گئے 368 رنز کے ہدف کے تعاقب کی کوشش میں 62 رنز سے پیچھے رہ گئی، پاکستانی کپتان کی انفرادی کارکردگی 14 گیندوں میں صرف 18 رنز بنا کر آؤٹ ہونے کے بعد جانچ پڑتال کے تحت تھی۔ ایک مقامی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے، وسیم نے نشاندہی کی کہ اعظم نے 2019 سے کسی بڑی ٹیم کے خلاف پاکستان کے لیے فتح حاصل نہیں کی۔ عماد وسیم نے کہا کہ عالمی سطح پر دباؤ ہوتا ہے لیکن یہ وہ جگہ بھی ہے جہاں آپ اپنی قابلیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ میرے خیال میں بابر نے آخری بار کسی بڑے میچ میں 2019 ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف پرفارم کیا تھا، جب اس نے سنچری بنائی تھی۔ لیکن اس کے بعد وہ ابھی تک پاکستان کے لیے کوئی بڑا میچ نہیں جیت پائے ہیں۔ یہ تنقید نہیں بلکہ حقیقت ہے،وسیم نے مزید روشنی ڈالی کہ، ون ڈے میں نمبر ون بلے باز کے طور پر اعظم کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے، ٹیم کو فتوحات تک پہنچانا ان پر موروثی ذمہ داری ہے۔ ون ڈے میں نمبر ون بلے باز ہونے کے ناطے، میچ جیتنا بابر کی ذمہ داری ہے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو سوالات اٹھیں گے۔ اسے ٹیم کی ضرورت کے مطابق بیٹنگ کرنی ہوگی۔ اس کے پاس باؤلرز پر غلبہ حاصل کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ ورلڈ کپ ایسا کرنے کی جگہ ہے۔

  • میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    سوچتی ہوں کہ ملے حلم میں گوندھا ہوا شخص
    علم اوتار سا اور لہجہ پیمبر جیسا

    شہلا شہناز

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی ایک خوب صورت پاکستانی شاعرہ اور ماہر تعلیم پروفیسر شہلا شہناز صاحبہ کا تعلق فیصل آباد پنجاب سے ہے وہ 7 اپریل 1976 میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد یونس اور والدہ محترمہ کا نام صفیہ ہے۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں شہلا سب سے بڑی ہیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم اپنے پیدائشی شہر فیصل آباد میں حاصل کی جبکہ ماسٹرز پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے کیا۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے اس کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اسکول کے زمانے سے ہی شاعری شروع کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ محکمہ تعلیم پنجاب میں لیکچرر مقرر ہو گئیں اوراس وقت اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ 7 اگست 2014 میں ان کی شادی ہوئی اور ماشاء اللہ وہ ایک ہونہار بیٹے کی ماں ہیں۔ شہلا شہناز صاحبہ بہت خوب صورت شاعری کرتی ہیں لیکن درس و تدریس اور گھریلو مصروفیات کے باعث مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اور اب تک انہوں نے اپنی شاعری کی کوئی کتاب بھی شائع نہیں کی ہے ۔ علامہ اقبال، میر تقی میر، پروین شاکر ، یاسمین حمید اور مجید امجد ان کے پسندیدہ شعراء میں شامل ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تری قربت کہ سطر ِ خوشنما لکھنے لگی
    تُو پلٹ آیا تو میں کتنا نیا لکھنے لگی

    ایک ٹھوکر تک ہے یہ انبار ِخشت و سنگ سب
    راہ کی دیوار کو میں راستہ لکھنے لگی

    تم مجھے اس آنکھ کی پُتلی میں دیکھو گے تمام
    یہ جو میں حرف ِ ہنر کو آٸنہ لکھنے لگی

    دن کو خط بھیجا تو اُس میں چھاٶں تہہ کر کے رکھی
    رات کو مکتوب لکھا تو دیا لکھنے لگی

    کور آنکھوں کے لیے میں نے تراشے تھے نجوم
    گونگے ہونٹوں کے لٸے حرف ِ صدا لکھنے لگی

    لہر کو دریا کی مٹھی میں پڑا رہنے دیا
    اور صحراٶں کی قسمت میں گھٹا لکھنے لگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھا کوئی شخص مرے دل میں سمندر جیسا
    اب تو سناٹا ہے ہر سو میرے اندر جیسا

    ہجر لذت سے تہی وصل بھی پھیکا پھیکا
    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    شہلا شہناز

  • نرملا دیش پانڈے؛  عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کی چمپئین

    نرملا دیش پانڈے؛ عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کی چمپئین

    پیدائش:19 اکتوبر 1929ء
    ناگپور
    وفات:01 مئی 2008ء
    نئی دہلی
    رہائش:ناگپور
    شہریت:بھارت
    برطانوی ہند
    مادر علمی:ساورتی بائی پھالے پونہ یونیورسٹی
    اعزازات:
    ستارۂ امتیاز
    پدم وبھوشن

    تحریک آزادی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نرملا دیش پانڈے بہت کم عمری میں جنگ آزادی کی تحریک سے جڑ گئی تھیں اور تیئس برس کی عمر ميں جنگ آزادی کے عظیم مجاہد ونوبھا بھاوے کی ’ بھودان تحریک‘ (رضاکارانہ طور زمین عطیہ کرنے کی تحریک) سے منسلک ہوئی ہيں اور ملک کے مختلف حصوں میں چالیس ہزار کلومیٹر کا مارچ کیا۔
    عدم تشدد کا فروغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پانڈے نے تاعمر امن، عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کو فروغ دیا، پورے جنوبی ایشیاء میں اس کی تشہیر کی اور جنوب ایشیائی ممالک کے درمیان باہمی دوستی کو قائم کرنے کے لیے کام کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باہمی رشتوں میں تلخی کو کم کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ غیر شادی شدہ رہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    کئی کتابوں کی مصنفہ نرملا دیش پانڈے نے ناول، ڈرامے اور سفر نامے بھی لکھے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    انہيں تین یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔ نرملا کو پہلے 1997ء اور پھر 2004ء میں دوسری مرتبہ راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا اور اعلٰی شہری اعزاز ’پدم وبھوشن‘ اور راجیو گاندھی سدبھاؤنا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ یکم مئی 2008 کو 79 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ پاکستانی حکومت نے بھی ان کو اعلیٰ شہری اعزاز نشان امتیاز سے نوازا۔

  • اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ نرجس افروز زیدی کا جنم دن

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ نرجس افروز زیدی کا جنم دن

    ہزار نام محبت میں رکھ دیے تو نے
    میں چاہتی ہوں مرے نام سے پکار مجھے

    نرجس افروز زیدی

    19 اکتوبر : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف: آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ نرجس افروز زیدی صاحبہ 19 اکتوبر 1964 میں پشاور میں پیدا ہوئیں۔ مادری زبان اردو ہے ۔ وہ 6 بہنیں ہیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام مزمل حسین زیدی والدہ محترمہ کا نام حاجرہ بی بی اور خاوند محترم کا نام محمد علی ارشد ہے۔ والد صاحب محکمہ ٹیلیفون میں ملازم تھے اور شوہر محکمہ سول ایوی ایشن میں ملازم ہیں وہ خود گھریلو خاتون ہیں ۔

    انہوں نے پشاور سے کامرس گریجویشن کیا ہے۔ شاعری انہوں نے اسکول کے زمانے سے شروع کی ۔ 1984 میں شادی ہوئی جس کے بعد وہ کراچی شفٹ ہو گئیں۔ ماشاء اللہ ان کے 3 بچے ہیں جبکہ ان کے 3 شعری مجموعے 1 ۔ نازش 2۔ ابریشم 3 . محبت آسماں ہے ” شائع ہو چکے ہیں۔ وہ حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی متحرک اور فعال رکن ہیں اورآجکل کراچی میں سکونت پذیر ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترے خیال، ترے خواب، تیرے نام کے ساتھ
    بنی ہے خاک مری کتنے اہتمام کے ساتھ

    بہت سے پھول تھے اور سارے اچھے رنگوں کے
    صبا نے بھیجے تھے جو کل ترے پیام کے ساتھ

    نظر ٹھہرتی نہ تھی اس پہ اور خود پر بھی
    میں آئینے میں تھی کل ایک لالہ فام کے ساتھ

    ترے خیال سے روشن ہے سر زمین سخن
    کہ جیسے زینت شب ہو مہ تمام کے ساتھ

    پھر آ گئی ہے مرے در پہ کیا وہی دنیا؟
    میں کر کے آئی تھی رخصت جسے سلام کے ساتھ

    سنا ہے پھول جھڑے تھے جہاں ترے لب سے
    وہاں بہار اترتی ہے روز شام کے ساتھ

    خوشی کے واسطے کب کوئی دن مقرر تھا
    مگر یہ دل میں رکی ہے ترے خرام کے ساتھ

  • حماس تحریک فلسطین پر قابض؟

    حماس تحریک فلسطین پر قابض؟

    دہشت گردی کی نئی لہر میں اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی تباہی اور بربادی کے حملے میں کوئی دو رائے نہیں ،اس کا آغاز غزہ کے عسکریت پسندوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں کی طرف ہزاروں راکٹ فائر کرنے کے ساتھ، تاروں کی بھاری باڑ کو توڑ کر اسرائیلی بستیوں میں اپنی فوج بھیجنے سےکیا

    حماس کے مینڈیٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ محسوس کیا جا سکے کہ ایک انتہائی منصفانہ فلسطینی تحریک کو ‘مطلق پسند’ نقطہ نظر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ حماس دو ریاستی نظریہ کے سیاسی حل کی حمایت نہیں کرتی۔ بنیادی طور پر فلسطینی ایسا چاہتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل اور سعودی عرب کا معاہدہ جو اس وقت مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے تھا، یہ اب تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔ اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔

    حماس اسرائیل کو ایک غیر قانونی ریاست سمجھتی ہے اور اس نے ہمیشہ اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، ایسے نان سٹیٹ ایکٹرز یا تو بنائے جاتے ہیں یا بین الاقوامی میدان میں دوسرے اسٹیک ہولڈرز ان کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران نے حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عکسری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون دیا ۔ سعودی عرب اور اسرائیل امن معاہدے کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ہے۔ "اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، تو ایران یہ سمجھے گا کہ ریاض اسرائیلی فوج کو ایران کے خلاف تیز حملے کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گا، چاہے سعودی قیادت کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔” [فارن پالیسی اگست 30، 2023]

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صرف سعودی عرب ہی نہیں، بلکہ اگر کوئی اور خلیجی ملک اسرائیل کے ساتھ زیادہ نرمی اختیار کرتا ہے تو ایران کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آئے گا۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ طے پانے والا معاہدہ ایران کے مفاد میں نہیں ، جس کا مقصد غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنا ہے، یہ معاہدہ حماس کے خلاف ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے وجود کو قبول نہیں کرتا۔ اس مقام پر حملہ فلسطینیوں کے طویل المدتی مفاد میں نہیں.

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر ” مونا”

    جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر ” مونا”

    جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر ” مونا”
    میٹھی باتوں نے ہی شیشے میں اتارا ہے بہت

    ایلزبتھ کورین مونا

    اصل نام : ایلزبتھ
    تخلص: مونا
    تاریخ پیدائش :18 اکتوبر 1949ء
    جائے ولادت:حیدر آباد، تلنگانہ
    پتا:93, Methodist Colony
    ۔ Opp.Kunwar Rani Flats
    ۔ Begumpet,Hyderabad-500016

    مونا کی مادری زبان ملیا لم ہے۔ ہندی، اردو، تیلگو اورانگریزی پر عبور ہے۔ انگریزی اوراردو میں شاعری کرتی ہیں اور نثر بھی لکھتی ہیں۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے فاصلاتی کورس کے ذریعہ اردو لکھنا اور پڑھنا سیکھی۔ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی حیدر آباد سے تحسین غزل کا کورس کیا۔ غزل کہنے کی بنیادی تعلیم کمل پرساد کمل سے لی۔ علم عروض بمبئ میں آرپی شرما مہرش سے سیکھا۔ انھوں نے 2019 میں بہ زبان انگریزی غزل کی تفہیم اورعروض سے متعلق ایک کتاب شائع کی۔ ”The Art and Science of Ghazal“ جس کا اجراء جشن ریختہ میں ہوا تھا اور جشن کے خواتین کے مشاعرے میں بھی مونا شامل تھیں۔

    اردو مطبوعات: کہکشاں، غزل انتھالوجی (یوپی اور آندھرا پردیس اردو اکادمی سے انعام یافتہ)۔ محبت کے سائے (تلنگانہ اردو اکادمی سے انعام یافتہ)۔ ذوق جستجو اور قوس قزح۔ دیگر زبانوں کی مطبوعات : Beyond Images(انگریزی شاعری)۔ سپنے مروشتل میں (ہندی شاعری)۔ حسن غزل (منتخب غزلیں دیوناگری اور رومن خط میں بمع انگریزی ترجمہ) اور ایک کتاب ملیالم زبان میں ہے۔

    مونا نے اردو اور ہندی سے انگریزی میں کچھ شاعروں کے تراجم بھی کیے ہیں۔ مریم غزالہ کی ہندی اور اردو نظموں کا ترجمہ”mirror of soul“ ڈاکٹر رام برایا کی ہندی نظمیں ”Termor“۔ نصرت محی الدین کی نظمیں”waiting a new season“اور ڈاکٹر اہلیہ مسرا کی نظمیں’ شوس سے شبد تک‘۔
    ان کی انگریزی نظموں کی کتاب کا فرنچ زبان میں ترجمہ سپرتک سین نے اور تامل میں این وی سبرامنیم نے کیا ہے اور اس کتاب میں پن اور انک سے اسکیچز کھٹمنڈو نیپال کے سوشیل تھاپا نے بنائے ہیں۔ ملیالم کے مصنف آر کے پراکاداو کے افسانچوں کا اردو ترجمہ اور کرامت علی کرامت کی اردو شاعری کا انگریزی ترجمہ زیر ترتیب ہے۔
    مونا نے ریزرو بینک آف انڈیا، بمبئ کی منیجر کی ملازمت سے قبل از وقت ریٹائر منٹ لے کر خود کو علم و ادب کے لیے وقف کردیا ہے۔ حیدر آباد میں سکونت پذیر ہیں۔ ان کی شاعری اور مضامین رسائل اور الٹرونک میڈیا میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مختلف زباانوں کی ادبی انجمنوں میں سرگرم رہتی ہیں۔ ادبی فیسٹیولز اور مشاعروں میں حصہ لیتی ہیں۔ ملٹی لینگول ادبی گروپ ساہتیہ سنگم انٹرنیشنل کی سکریڑی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت
    رات تاریک سہی ایک ستارا ہے بہت
    درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح
    تب تری یادوں کے دامن کا کنارہ ہے بہت
    ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف
    ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت
    راہ دشوار ہے پگ پگ پہ ہیں کانٹے لیکن
    راہ رو کے لئے منزل کا اشارہ ہے بہت
    اس کو پانے کی تمنا ہی رہی جیون بھر
    دور سے ہم نے مسرت کو نہارا ہے بہت
    فاصلے بڑھتے گئے عمر بھی ڈھلتی ہی گئی
    وصل کا خواب لئے وقت گزارا ہے بہت
    ہونٹ خاموش تھے اک آہ بھی ہم بھر نہ سکے
    بارہا دل نے مگر تم کو پکارا ہے بہت
    جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر موناؔ
    میٹھی باتوں نے ہی شیشے میں اتارا ہے بہت

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے
    درد الفت سے واسطہ کیا ہے
    رہنے دو ان حسین وعدوں کو
    جھوٹے وعدے ہیں سب نیا کیا ہے
    جام و مینا کو چھوڑ کر دیکھو
    چشم ساقی کا یہ نشہ کیا ہے
    شعلۂ غم کو اور بھڑکائے
    کون سمجھے کہ یہ ہوا کیا ہے
    چھن گیا ہے سکون بھی میرا
    عاشقی نے مجھے دیا کیا ہے
    چارہ گر کوئی بھی نہ جان سکا
    موت اور عشق کی دوا کیا ہے
    کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
    جانے تقدیر میں لکھا کیا ہے
    چشم پر نم مگر لبوں پہ ہنسی
    دل میں موناؔ ترے چھپا کیا ہے

  • جنت کی بشارت اورجہنم کی وعیدیں،دینی و اخلاقی بحران کی انتہا

    جنت کی بشارت اورجہنم کی وعیدیں،دینی و اخلاقی بحران کی انتہا

    ‏ہمارے دینی اور اخلاقی بحران کی انتہاء یہ ہو چکی ہے کہ سیاسی جلسوں اور جلوسوں میں جانے پر کچھ لوگ جنت کی بشارتیں اور کچھ لوگ جہنم کی وعیدیں سنا رہے ہیں !!

    ‏دونوں طرف کے لوگوں سے درخواست ہے کہ ایسی فتوے بازی سے گریز کریں۔ ایسے بیانات اللہ کے دین سے مذاق کے مترادف ہیں۔

    ‏حدیث : "من مشى مع ظالم ليعينه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام”

    ‏اوس بن شرحبیل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے تا کہ وہ اس کو تقویت پہنچائے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے ، ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ البہقی فی شعبِ الایمان۔

    ‏کسی بھی لیڈر کی غیر مشروط معاونت اور اطاعت ہلاکت کا باعث ہوتی ہے۔ صرف خیر میں معاونت ہونی چاہیئے اور شر میں ایسے لیڈر کو روکنا اور اسکی مخالفت عین ایمان کا تقاضا ہے۔
    ‏اللہ ہمیں شعور اور دین اسلام کے ساتھ اخلاص عطا کرے۔ آمین

    واضح رہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے سابق لیگی ایم این اے اسد الرحمن کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے ہیں، ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ میں تفصیل میں نہیں چاہتا،میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں‌کو حکم دیا کہ یہاں جتنے لوگ اکٹھے ہیں سب لاہور میں ہوں گے، اللہ نے فرشتوں کو کہاہے کہ یہان جتنے لوگ ہیں سب کے نام لکھ دو بغیر حساب کے سب جنت میں جائیں گے،جتنے آپ آ گئے وہ جنتی ہیں،میں سرٹفکیٹ دیتا ہوں کہ جو یہاں آئے وہ بھی جنتی اور جو لاہو ر جائیں گے وہ بھی جنتی، میں لکھ کر دیتا ہوں، میں ٹکٹ کی خاطر اس لئے نہیں کہہ رہا ، اسوقت ن لیگ سے بہتر کوئی قیادت نہیں، یہ فرشتے ہیں.

    نواز شریف نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا. ماہر قانون کا دعویٰ

    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف

    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کی وطن واپسی، قانونی ٹیم نے حکمت عملی تیار کرلی