Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ

    پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ

    زنیرہ ماہم کی حالیہ ویڈیو نے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ ہولناک زیادتی کا پردہ فاش کیا ہے،
    زنیرہ ماہم کی جانب سے شیئر کی گئی ایک حالیہ ویڈیو نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر ایک سول جج کی سربراہی میں ایک خاندان کے ہاتھوں 14 سالہ لڑکی پر وحشیانہ تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔ ویڈیو میں کم از کم 15 مختلف مقامات پر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے پریشان کن مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ تشدد اس کے جنسی اعضاء تک بھی کیا گیا ہے،۔ لڑکی کے سر پر ایک کھلا زخم بتایا جاتا ہے، جس کے اندر کیڑے رینگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد میں اسے تشدد کرنے والوں نے ایک بس سٹاپ پر چھوڑ دیا اور بالآخر اس کے والدین اسے سرگودھا کے ایک ہسپتال لے گئے، وہاں پر اسکا علاج نہ ہونے کی وجہ سے اسے مزید علاج کے لیے لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حکام نے لڑکی کے لیے روزگار تلاش کرنے کے ذمہ دار فرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باوجود، پولیس کی جانب سے جج اور ان کی اہلیہ سے تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ جج نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ متاثرہ لڑکی کو خاندان نے چھ ماہ سے ملازم رکھا تھا۔

    لنک: https://www.youtube.com/watch?v=rcRsOJ2hfz0

    اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی عدم مساوات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جہاں بااثر افراد اکثر اپنے اعمال کے لیے جوابدہی سے بچ سکتے ہیں۔ جب کہ عام عوام کو معمولی جرائم کے لیے بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بدعنوانی اقتدار میں رہنے والوں کے لئے ڈھال بنتی ہے، انہیں انصاف سے بچاتی ہے، اور یہاں تک کہ اگر وہ چاہیں تو ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ واضح تضاد ملک کے تمام صوبوں میں قیدیوں کی خطرناک تعداد میں ظاہر ہوتا ہے، جن کو سزا نہیں دی گئی۔ جس کا تناسب سندھ میں 70%، کے پی میں 71%، بلوچستان میں 59%، اور پنجاب میں 55% تک پہنچ گیا ہے – بااثر مجرم سزا سے بچتے رہتے ہیں، اور اکثر بیرون ملک چلے جاتے ہیں

    کسی کی سماجی حیثیت سے قطع نظر، معاشرے میں انصاف اور مساوات کی بالادستی ہونی چاہیے۔ یہ واقعہ ملک میں بدعنوانی، استثنیٰ، اور عام آدمی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کے مروجہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ان مشکلات کو تسلیم کرنے اور ان سے نمٹنے کے ذریعے ہی، پاکستان ایک منصفانہ اور ہمدرد معاشرہ بن سکتا ہے۔ جو اپنے سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کرتا ہے۔

  • سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات کے علاقوں بحرین، مدین، کالام جانے کا اتفاق ہوا، دوستوں کے ہمراہ لاہور سے جمعہ کی شب تین بجے روانگی ہوئی، ناشتہ اسلام آباد میں کرنے کے بعد تالاش پہنچے وہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد کالام تک کا سفر کرنا تھا، راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کی جانب سے ظہرانے کے بعد سفر کا نئے سرے سے آغاز ہوا،محترم عابد بخاری صاحب "ہمسفر” تھے جن کا ہر تھوڑی دیر بعد "خطبہ” ہوتا تھا جس میں وہ سوات کی خوبصورت وادی کا تعارف کرواتے تھے اور علاقے کے عوام کو درپیش مسائل، کے ساتھ ساتھ خطبہ میں سیاسی تڑکا بھی لگاتے تھے، سیدو شریف ایئر پورٹ سے گزرے ،منزل کالام تھی، اورجب ہمیں بخاری صاحب نے بتایا کہ روڈ سیلاب کی وجہ سے خراب ہے مزید تین سے چار گھنٹے لگیں گے، یہ سن کر اپنے تو ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ رات تین بجے کے لاہور سے نکلے ہوئے تھے، کیا کرتے،بامر مجبوری، سیٹ پر بیٹھے، شیشے کے ساتھ سر لگایا اور سونے کی ناکام کوشش کی ، البتہ میری ساتھ والی سیٹ پر موجود بٹ صاحب نے تو شاید ایک ہفتے کی نیند ہی دوران سفر میں پوری کر لی

    گزشتہ برس شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے سوات بپھر گیا تھا، کالام میں معروف ہنی مون ہوٹل مکمل طور پر دریا میں بہہ گیا تھا تو اسکے علاوہ بھی املاک کو نقصان پہنچا تھا، اگست 2022 میں سیلاب آیا تھا اور نقصان ہوا تھا، اب تقریبا ایک برس بعد اس علاقے کی طرف گئے تو انتہائی المناک مناظر دیکھے، دریا کنارے ہوٹل،دکانیں، عمارتیں، سب کے نیچے سے پانی بہہ رہا، مکین چھوڑ چکے، سیلاب کے بعد سڑک کو کم ا ز کم دس فٹ اونچا کرنا پڑا، بحرین میں صورتحال یہ ہے کہ عمارتیں تباہ ہو چکیں، کسی بھی وقت گر سکتی ہیں ، ہوٹل ویران پڑے ہیں، سڑک کی حالت ایسی کہ بقول بخاری صاحب کے اگر سڑک صحیح ہوتی تو ہم دو گھنٹے میں پہنچ جاتے لیکن سڑک صحیح نہ ہونے کی وجہ سے چار گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا.

    سیلاب نے تو گزشتہ برس تباہی مچائی ہی مچائی، لیکن سڑک کی تباہی اور مرمت نہ ہونے میں کچھ سیاسی وڈیروں کا بھی ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو اونچا نیچا دکھانے کے لئے عوام کو ریلیف دلوانے کی بجائے پریشان کرتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں فوتگی ہوتے ہی جنازے پر پہنچ جاتے اور الیکشن ہو جائے تو اسکے بعد انکا باپ بھی مر جائے تو اسکے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوتے،بحرین، مدین سے کالام تک سڑک اگرچہ سیلاب سے بھی تباہ ہوئی تا ہم کچھ ایسے مقامات ہیں جہاں سیاسی چپقلش نے پل نہیں بننے دیئے، اگر ان مقامات پر پل بن جاتے تو راستے مزید آسان ہو جاتے، تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید جو حالیہ دنوں میں روپوش اور سیکورٹی اداروں کو مطلوب ہیں اور ن لیگی امیر مقام کے مابین سیاسی چپقلش سوات کے باسیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے تو وہیں آنیوالے سیاحوں کے لئے بھی کسی اذیت سے کم نہیں، اگر پل بنوانے کا کام امیر مقام کرواتے تو مراد سعید رکوا دیتے اور اگر مراد سعید کرواتے تو امیر مقام رکوا دیتے، کے پی میں اگرچہ تحریک انصاف کی نو برس حکومت رہی، مراد سعید وفاقی وزیر بھی رہے صوبے میں حکومت تحریک انصاف کی تھی لیکن مقامی بیوروکریسی میں زیادہ اثرورسوخ امیر مقام کا ہونے کی وجہ سے کام رکے رہے، یوں دونوں بڑی جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں،سیاح آتے تو ہیں لیکن ایک بار کالام تک سڑک پر سفر کر کے شاید دوبارہ نہ آنے کا دل میں ارادہ کرتے ہوں گے، سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو سہولیات دی جائیں انکی مشکلات میں اضافے کی بجائے کمی کی جائے، ایک بار چترال جاتے ہوئے ٹنل سے گزرے جو پرویز مشرف نے بنائی تھی اور پھر اسی وجہ سے وہ چترال سے الیکشن جیتے تھے کیونکہ انہوں نے وہاں‌کے مکینوں کی ایک بڑی مشکل حل کر دی تھی، سوات کے باسیوں کو بھی چاہئے کہ جو بھی عوامی مفادات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو انکو الیکشن میں سبق سکھانا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دس برس بھی سوات کے باسی اسی ایک سڑک کو روتے رہیں گے ،ابھی تک بھلا ہو پاک فوج کا، جو سیلاب کی تباہی کے بعد سڑک کی مرمت پر کام کر رہی ہے، دس پندرہ فٹ سطح زمین سے ،پچھلی سڑک سے مزید سڑک کو اونچا کیا گیا مٹی ڈالی گئی تب جا کر سڑک استعمال کے قابل ہوئی تا ہم ابھی بہت کام ہونا ہے اور یوں لگ رہا ہے آنیوالے ایک دو برس اس کی تکمیل کو لگ جائیں گے، افواج پاکستان کے جوان جہاں ملکی سرحدوں پر چوکس ہیں وہیں قدرتی آفات میں ہنگامی امداد ، ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف کا کام بھی کرتے ہیں، اب سڑک کی تعمیر و مرمت کیا یہ سول حکومت کا کام نہیں؟ بحرین سے کالام تک 34 کلومیٹر سڑک ہے مگر موجودہ حالت میں یہ سفر دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا تو اگلے دو سے تین برس مشکلات ہی رہتی ہیں ، سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہو جاتی اور کئی مقامات پر تو ایسے لگتا کہ شاید ابھی گاڑی گئی ،ایک طرف دریا ،اور انتہائی خطرناک سڑک، ایسے میں اس سفر میں سیاح لطف اندوز ہونے کی بجائے موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں

    دریا کے دوسری طرف کے باسیوں کی بحرین و دیگر علاقوں میں آمدورفت کے لئے چیئر لفٹ لگی ہوئی ہیں جو بہہ گئیں، جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ایک مقام پر عارضی پل بنایا تھا، اسی مقام پر پل بناتے ہوئے دو رضاکار دریائے سوات میں گر گئے اور انکی موت ہو گئی تھی،سیلاب نے خوبصورت وادی کی حالت ایسی کر دی کہ وہاں کے مکین بھی اب وہ علاقہ چھوڑ رہے کیونکہ جب بھی بارشیں ہوں "گٹے گٹے پانی” کی بجائے سیلاب ہی آتا اور ابھی پچھلی بحالی ہوئی نہیں ہوتی اور نئی تباہی پھر نئے سرے سے،

    گزشتہ برس سیلاب سے دکانیں، ہوٹل، مکان گرے، ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد مکانات، 50 کے قریب ہوٹلز تباہ ہوئے تھے ، اور ابھی تک وہ تباہ حال ہی ہیں، مکین علاقہ چھوڑ چکے، لاہور پریس کلب کے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد بھی ٹور میں ہمراہ تھے، انہوں نے جب سوات میں تباہی کے مناظر دیکھے تو کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ "یہ عذاب الہیٰ ہے” عابد بخاری چند منٹ کے وقفے سے مسلسل خطبہ دیئے جاتے رہے اور ہم سنتے رہے،امجد بخاری بھی عابد بخاری کا ساتھ دیتے رہے لیکن زیادہ نہیں، کالام میں ہنی مون ہوٹل دریائے سوات میں بہہ گیا تھا، کالام سے واپسی پر دن کی روشنی میں تباہی کے مناظر نظر آئے، ایک رپورٹ کے مطابق جب سیلاب آیا تو کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت تھی،اور تحریک انصاف کے ان حلقوں سے منتخب نمائندے ان ایام میں اپنے علاقوں میں ہونے کی بجائے بیرون ملک سیر کر رہے تھے جس کی وجہ سے مقامی لوگ نالاں نظر آئے، سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان تھے، جس میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے تھا، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود نہیں تھے دونوں غیر ملکی دورے پر تھے،میاں شرافت جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر لندن میں تھے، ۔سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، نہ تو سیلاب متاثرین کو ملے اور نہ ہی انکی مدد و ریلیف کے لئے کوئی اقدام اٹھایا تھا،یہی وجہ ہے کہ اب بھی سوات کے باسیوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھے جذبات نہیں ہیں،گزشتہ قسط میں سوات میں موجودہ حالات پر عوام کی رائے،،،تحریر کر چکا ہوں

    نوٹ، اگلی قسط "ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے،” ہو گی

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1683823400559726594

     

  • تھریڈز انسٹاگرام ایپ میں فالوونگ فیڈ فیچر متحرک کردیا گیا

    تھریڈز انسٹاگرام ایپ میں فالوونگ فیڈ فیچر متحرک کردیا گیا

    میٹا نے تھریڈز ایپ کے لیے وہ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کا صارفین کی جانب سے سب سے زیادہ مطالبہ کیا جا رہا تھا جبکہ میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے اعلان کیا ہے کہ تھریڈز میں فالوونگ فیڈ کے فیچر کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس فیڈ میں صرف ان افراد کی پوسٹس نظر آئیں گی جن کو صارف فالو کر رہے ہوں گے۔

    اس تبدیلی کے بعد اب تھریڈز میں ٹوئٹر کی طرح 2 فیڈز فار یو اور فالوونگ نظر آئیں گی۔ فار یو فیڈ میں الگورتھم سسٹم صارف کی ممکنہ دلچسپیوں کو مدنظر رکھ کر مواد دکھانے کا کام کرے گا۔ کمپنی کے مطابق صارفین فار یو اور فالوونگ فیڈز کو تھریڈز آئیکون پر کلک کرکے ہائیڈ بھی کر سکتے ہیں۔

    آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کی تھریڈز ایپ میں یہ اضافہ بتدریج کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ مزید چند فیچرز بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ تھریڈز میں ٹرانسلیشنز فیچر کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جس کے ذریعے مختلف زبانوں کی پوسٹس کا ترجمہ دیکھنا ممکن ہوگا۔ تاہم خیال رہے کہ تھریڈز کو 5 جولائی کو متعارف کرایا گیا تھا اور 5 دن میں اس کے صارفین کی تعداد 10 کروڑ تک پہنچ گئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ اسکریبل چیمپئن شپ: پاکستان کے عنایت اللہ نے لیٹ برڈ ٹورنامنٹ جیت لیا
    بحیرہ روم کے نو ممالک میں آگ بھڑک اٹھی
    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور
    پشاور،محرم الحرام کے موقع پر تمام ہسپتالوں میں طبی عملہ چوکس
    مگر ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹوئٹر کے مقابلے پر پیش کی جانے والی اس ایپ میں لوگوں کی دلچسپی میں کمی آرہی ہے۔ گزشتہ دنوں تھریڈز کو روزانہ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو 7 جولائی کے مقابلے میں 70 فیصد کم ہے۔

  • ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    پیش نظر کتاب”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“ محض بیان سیرت نہیں بلکہ امت کوبیدارکرنے اور ہمیں خانوادہ بنوت کے مہکتے پھولوں سے محبت کرنا سیکھاتی ہے۔ وہ مہکتے پھول جن کی تربیت رسول ﷺنے خود کی تھی۔یہ دونوں روضہ¿ نبوت کے خوشنما پھول ہیں جن کی مسحور کن خوشبو سے نبوی آنگن مہکتا تھا۔ اس کتاب کے ذریعے اسلام کی ان دو معتبر شخصیات سے شرفِ ملاقات کی جاسکتی ہے ۔سبط رسول جناب حسن و حسین رضی اللہ عنھما کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان شہزادوں کو اللہ کے رسول ﷺ چوما کرتے تھے۔ ہم تک اسلام کی نعمت اس معزز گھرانے کی بدولت ہی پہنچی ہے۔ اس عظیم گھرانے نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جناب سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکے حالات زندگی پڑھناسعادت اوراہل ایمان کے لئے حلاوت ہے ۔ پیش نظر کتاب” سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“ اپنے موضوع پرنہایت ہی عمدہ کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف سیدحسن حسینی ہیں ۔ وہ سید سادات میں سے ہیں۔ مملکت بحرین کے نامورسکالرہیں۔ وہاں کے دینی، عملی ،ادبی حلقوں میں نہایت ہی قدرومنزلت اورمحبت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ فاضل مولف سیدحسن حسینی عرصہ دراز سے سیرت حسن و حسین بیان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انھوں نے برس ہا برس اس موضوع پر تحقیق کی ہے، وہ تاریخ اور سیرت سے خوب واقف ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب روایتی انداز میں نہیں لکھی بلکہ اس کتاب کو لکھ کر انھوں نے صدیوں کا قرض چکایا ہے۔ زیر نظر کتاب میں سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھما کی سیرت سے متعلقہ واقعات و حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے۔سید حسن حسینی کہتے ہیں ”یہ کتاب میرے برسوں کے مطالعہ سیرت و تاریخ کا نچوڑ ہے جسے میں اپنی بساط کے مطابق خوبصورت طریقے سے عوام الناس کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔

    اس گرانقدرکتاب کوشائع کرنے کی سعادت دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ”دارالسلام “ کوحاصل ہوئی ہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جہاں تک اس کتاب کے علمی مواد کا تعلق ہے تو قارئین اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی اس کا اندازہ کر سکیں گے۔ تاہم میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس موضوع پر لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں سے یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کا انداز بڑا آسان اور عام فہم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قارئین ہماری دیگر مطبوعات کی طرح اس کتاب کو بھی پسند کریں گے۔ان شاءاللہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے اہل ایمان کی ہاشمی خاندان سے محبت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کتاب کو شائع کرتے ہوئے مجھے بڑا سکون اور روحانی مسرت ہو رہی ہے ۔ میں ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مجھے جناب سیدناحسن اورجناب سیدناحسین رضی اللہ عنھما کے گھرانے کے ساتھ محبت کرنے والوں میں شمار کرے۔“

    حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب پڑھنے والے کوخاندان اہل بیت اور سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکی زندگی کے تمام گوشوں سے متعارف کراتی ہے۔ اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ دارالسلام انٹرنیشنل نے اسے اس موضوع کے مروجہ سٹائل سے ہٹ کر نئی طرز پر تیار کیا ہے۔ کتاب کی ظاہری خوشنمائی کی طرح اس کے باطن کی ثقاہت کا بھی بھرپور اہتمام کیا ہے۔ افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے راہِ اعتدال کو اختیار کیاگیا ہے۔ یوں اپنے موضوع پر یہ مستند دستاویز ہے جو یقینااہل ایمان کو پسند آئے گی۔کتاب چودہ ابواب پرمشتمل ہے ۔ جن میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منگنی ، حق مہر ،جہیز ، شادی کی تقریب ، تقریب ِ ولیمہ ، سیدہ فاطمہ کی رخصتی ، سیدہ فاطمہ کاگھر، سیدین حسنین کریمین کی ولادت باسعادت ، سیدین حسنین کے نانا ،دادا ،نانی دادی ، والد،والدہ، سیدین حسنین کریمین کے سگے اورسوتیلے بہن بھائی، سیدین کی بیویاں اوراولاد،سیدین کے اوصاف واخلاق،معاشرتی زندگی،اساتذہ وتلامذہ،فضائل سیدین حسنین کریمین،حادثہ کربلااورشہادت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔کتاب کی قیمت 890روپے ہے ۔نہایت ہی خوبصورت سرورق،مضبوط جلدبندی کے ساتھ عمدہ پیپرپرشائع کردہ یہ کتاب ہرگھر ، ہر مسجد ،لائبریریز اورتعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال لاہور نزدسیکرٹریٹ سٹاپ ، کراچی ،اسلام آبادمیں دارالسلام کے شورومز یاملک بھرمیں دارالسلام کے سٹاکٹس سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر04237324034پررابطہ کیاجاسکتاہے ۔

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

  • امید سحر، چائلڈ لیبر سے سکول جانے تک کا سفر

    امید سحر، چائلڈ لیبر سے سکول جانے تک کا سفر

    چائلڈ لیبر ہمارے معاشرے کی بدترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاشرے کے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔بچے کائنات کے وہ پھول ہیں جس سے کائنات کا حسن قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پھول گلیوں، سڑکوں کی دھول بن گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر نے ان معصوم پھولوں کو روند دیا ہے بچے بلاشبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ملک کا مستقبل موجودہ بچوں پر منحصر ہے۔ اگر بچوں کو صحیح طریقے سے تیار نہیں کیا گیا تو ملک کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ یہ بچے سکول جانے اور کھیلنے کی عمر میں اپنے خاندانوں کی بقاء اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کوشش و کاوش جاری ہے، پاک فوج کی جانب سے کام کرنیوالے کمسن بچوں کو نہ صرف تعلیم دلوائی جا رہی ہے بلکہ انکی رہائش اور خوراک کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے، ایسے ہی دو بچوں کی کہانی ویڈیو میں بیان کی گئی ہے،

    میرا نام محمد ریحان ہے میں پالش کا کام کرتا ہوں، صبح جلدی اٹھتا ہوں، صبح بڑے لوگ جلدی دفتر جاتے ہیں اور سکول کے بچے بھی، کبھی مزدوری ملتی ہے کبھی نہیں،ہم دن میں جتنا کماتے اتنا آٹا خرید لیتے، اتوار کو لوگ دفتر نہیں جاتے تو روزہ رکھتے ہیں،امی کہتی ہیں کہ جب ہم جنت میں جائیں گے تو تین ٹائم کا کھانا کھائیں گے، جوتے بھی پالش نہیں کرنے پڑیںگے، اور ابو کو بھی مزدوری نہیں کرنی پڑے گی، سکول کے بچوں سے پیسے نہیں لیتا، میں بڑا ہو کر سائنسدان بننا چاہتا ہوں اور جوتے پالش کرنے کی مشین بنانا چاہتا ہوں،میرا دوسرا بڑا بھائی ہے وہ بھی جوتے پالش کرتا ہے،دوسرے بچے کی بھی یہی کہانی ہے،

    پاک فوج کے جوانوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے محنت مزدوری کرنیوالے کمسن بچوں کو نہ صرف تعلیم دلوانے کا بیڑا اٹھایا بلکہ ہوسٹل میں انکی رہائش کا بھی انتظام کیا، کم عمری میں محنت کرنیوالے بچے اب نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ انکو انکا مستقبل بھی اچھا نظر آ رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے پاک فوج کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عملی اقدامات کئے جائیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سرگودھا میں ایک غریب گھریلو ملازمہ بچی کو معاشرے کے پڑھے لکھے اور عوام کو انصاف فراہم کرنے والوں نے جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا اس پر لکھیں توکیا لکھیں؟ انسان تو انسان چرند و پرند بھی شرمندہ ہیں۔ کیا لکھا جائے اور کتنا لکھا جائے۔ دست قلم لرز رہا ہے۔ عقل و دماغ مائوف، ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے۔ بھلا ہو پولیس کا،جنہوں نے تشدد کرنے والی ایک سول جج کی بیگم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پنجاب پولیس میں ڈی پی او سرگودھا جیسے ایماندار فرض شناس آفیسر موجود ہیں بھلا ہو ہمارے سیاستدانوں کا جنہوں نے اس محکمہ میں مداخلت اتنی کی کہ یہ اپنی آزادی سے کام نہیں کر سکتے۔ تاہم اسلام آباد میں درج ہونے والے مقدمے سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس میں قانون کی حکمرانی کی رٹ کو قائم کرنے والے افسران موجود ہیں۔

    عرب نیوزمیں ڈاکٹر علی عواد اسیری جو پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر رہ چکے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف ایک مشکل لیکن نتیجہ خیز مدت کے اختتام کے قریب ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات جس میں اہم پالیسی فیصلے کئے گئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں جی سی سی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما سمجھتے ہیں کہ سرمایہ کاری بحران سے دوچار معیشت کو جی سی سی پائیدار ترقی کی جانب مستحکم راستے پر ڈالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ڈاکٹر علی عواد اسیری لکھتے ہیں شہبازشریف کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا مالیاتی ڈیفالٹ کے دہانے پر موجود ملک کو وراثت میں ملا تاہم پاکستان اتنا مستحکم ہے کہ نگران سیٹ اپ کی طرف آسانی سے منتقل ہو سکے۔ نومبر میں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف کے عہدے پر تقرری کے بعد سے سیاسی انتشار کم ہو گیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ عملے کی سطح کا ایک نیا معاہدہ جون میں اختتام پذیر ہوا۔ چائنا پاکستان کو ریڈور بحال ہو گیا۔ جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات دوبارہ پٹڑی پر آگئے۔ سب سے بڑی قابل ذکر بات سول ملٹری تعاون نے جی سی سی اقتصادی میدان میں توسیع کی ہے جس سے سرکردہ معیشتوں کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما غیر ملکی قرضوں پر انحصار کے خطرے کو سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کر کے ایک مضبوط اقتصادی بنیاد ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں شہبازشریف نے پاکستان میں معاشی بحالی کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اچھا کام کیا ہے امید ہے مستقبل کی سیاسی قیادت اقتصادی پالیسیوں میں موجودہ رفتار کو برقرار رکھے گی خاص طور پر ترقی پذیر جی سی سی شراکت داری کے حوالے سے، قارئین ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کے بیورو کریٹ سول انتظامیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے۔

  • سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں نوبرس حکومت کی، عمران خان کو 2013 میں پہلی بار کے پی میں ہی حکومت ملی تھی اور دوسری بار بھی 2018 میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی، اب خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات، خصوصا مراد سعید جو ان دنوں روپوش ہیں اور نو مئی کے واقعات میں سیکورٹی اداروں کو مطلوب بھی ہیں کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں دیں؟ نو برسوں میں پی ٹی آئی نے کیا کیا؟ ہمیں تو اب سمجھ لگ رہی ،پٹھانوں کو دیر سے سمجھ لگتی لیکن جب لگ جائے تو پھر اگلے کو گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں،عمران خان نے حکومت جانے کے بعد پختونوں کا استعمال کیا، اور ملک دشمنی کی تمام حدیں عبور کر لیں، ریڈ لائن عمران خان نہیں بلکہ پاکستان ہے اور سوات کے لوگ پاکستانی ہیں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک شہری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا مراد سعید کا حلقہ دیکھ لو، پی ٹی آئی کتنی غیر مقبول ہو چکی کہ یہاں کی عوام نے تحریک انصاف کے جھنڈے تک اتار دیئے ہیں، کوئی اکا دکا گھرانہ ایسا نظر آتا ہے جہاں تحریک انصاف کا جھنڈا لگا نظرآئے ، مراد سعید کی روپوشی کے بارے شہریوں کا کہنا تھا کہ لیڈر کبھی چھپتا نہیں بلکہ حالات کا مقابلہ کرتا ہے، نو مئی والے دن بہکاوے میں آئے لوگ اب تک جیلوں میں ہیں ، ان کی زندگیاں تباہ ہو چکیں اور عمران خان زمان پارک میں اور مراد سعید کا پتہ ہی نہیں ، ایسے لیڈر کا کیا فائدہ جو مشکل انے پر کارکنان کو ڈھال بنا کر خود بھاگ نکلے

    مراد سعید کے شہر ،حلقہ انتخاب میں رکشہ ڈرائیور، کریانہ سٹور کے مالک، سکول ٹیچر سمیت کئی شہریوں سے بات ہوئی،سوائے ایک کے سب کا یہی کہنا تھا کہ تحریک انصاف بائے بائے، ایک شہری جس نے نام بتانے سے گریز کیا کہا کہ ایک ماہ قبل دبئی سے آیا ہوں، میرا ووٹ عمران کا ہے اور اسی کو ووٹ دیں گے جب اس سے پوچھا گیا کہ تحریک انصاف کہاں ہے، کہیں کوئی پرچم نہیں ، نام و نشان تک نظر نہیں آ رہا کہ تحریک انصاف یہاں ہے بھی یا نہیں جس پر اس کا کہنا تھا کہ یہاں کا موسم ایسا ہے، بارشیں آتی ہیں، ہوائیں چلتی ہیں جھنڈے کپڑے کے ہوتے اور وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکتے پھٹ جاتے ہیں، ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ جھنڈا لگانے پر جیل جانے کا ڈر بھی ہوتا ہے اس وجہ سے بھی لوگ جھنڈے نہیں لگا رہے

    سوات پرامن ہے اور اس امن کے لئے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عوام نے قربانیاں دیں، ہم ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے
    چند ماہ قبل مراد سعید اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ طالبان سوات آ گئے ہیں اور انہوں نے کئی مقامات پر قبضہ کر لیا ہے، مراد سعید نے تحریک انصاف کے ورکرز کے ساتھ جلوس بھی نکالا تھا ،اس حوالے سے جب کبل کے مقامی شہریوں سے بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ کونسے طالبان؟ کیسے طالبان؟ شہریوں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ پختونخوا متاثر ہے ، اسکا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان دشمن آ جائیں اور ہم بیٹھے رہیں، مراد سعید کا تومشن ہی کچھ اور تھا وہ چاہتا تھا کہ یہاں کی عوام کو سیکورٹی اداروں کے خلاف کھڑا کیا جائے اور ہمدردیاں حاصل کی جائیں ،افواج پاکستان یہاں‌ موجود ہیں اور یہاًں کی عوام کی حفاظت کر رہی ہیں،ملک دشمنوں کے لئے یہاں‌کوئی جگہ نہیں، سوات پرامن ہے اور اس امن کے لئے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عوام نے قربانیاں دیں، ہم ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے اگر کوئی بھی ملک دشمن اس علاقے میں آیا اور امن کو خراب کرنے کی کوشش کی تو ایسی صورت میں ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ بلکہ اگلی صفوں میں ہوں گے،

    سوات کے مقامی شہری جو بات کرتے ہوئے تھوڑا گھبرا بھی رہے تھے، تاہم جب انہیں تسلی دی گئی کہ نہ تو آپ کی تصویر بنا رہے نہ ہی ویڈیو ریکارڈ کر رہے اور نہ ہی نام نشر ہو گا تو وہ کھل کر بولے اور کہا "پی ٹی آئی نے ہمیشہ اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا، یہاں سوات میں چند ماہ قبل ذاتی دشمنی کی بنا پر ایک سکول وین پر حملہ ہوا تھا جس میں دو طالبات زخمی ہوئی تھیں، تحریک انصاف کی مقامی قیادت نے اس حملے کو بھی طالبان سے جوڑ دیا، اگرچہ دہشت گردی مسئلہ ہے اور دہشت گرد کہیں بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،سکول وین پر فائرنگ والا واقعہ ذاتی لڑائی تھی تاہم پروپیگنڈہ کیا گیا، حقیقت سامنے آنے کے بعد بھی پروپیگنڈہ کرنیوالوں کو شرمندگی نہیں ہوتی”،جس مقام پر شہریوں سے بات ہو رہی تھی بالکل اس کے دائیں جانب آڑو کا باغ تھا، شہری نے باغ گھمانے کی دعوت دی اور کہا کہ باغ گھوم لیں لیکن اب اسوقت آڑو نہیں لگے ہوئے ،ختم ہو چکے، اگر سوات کے آڑو کھانے ہیں تو بازار جا کر کھلا سکتے ہیں، شہری کا شکریہ ادا کیا، بات آگے بڑھی تو شہری کا کہنا تھا کہ سوات کے پہاڑ کلئئر ہیں کہیں کوئی دہشت گرد نہیں، اگر کوئی دوسرے علاقے سے آ جائے تو بھی اسے چھپنے کا موقع نہیں دیں گے، سیکورٹی فورسز الرٹ ہوتی ہیں اور یہاں کے شہری اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں، تحریک انصاف نے جو اداروں کے خلاف عوام کو کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی وہ ناکام ہوئی اور محب وطن پختونخواہ گھڑی چور کی بجائے اپنے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ ہیں،

    سوات کے باسیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں ،عوام کو خواب دکھاتی ہیں اور پھر انکے خوابوں کی تعبیر کی تکمیل نہیں ہونے دیتیں، عمران خان کو پختونوں نے مسیحا سمجھا، دو بار حکومت دی لیکن وہ تو اللہ معاف کرے، دوران عدت ہی نکاح کر بیٹھا، ایسے شخص پر کیسے یقین کریں جو پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست بنانا چاہتا ہے تا ہم اسکا اپنا کردار اسکے برعکس ہے،پختونخواہ کے شہری جو اپنی خواتین کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیتے ،اس معاملے میں سخت گیر ہیں، اسی حوالہ سے بات کرتے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ عمران خان پر اعتماد کر کے ہم نے گناہ کبیرہ کیا، زمان پارک میں کیا کچھ ہوتا رہا؟ کیا عمران خان کی بیوی بھی کبھی دھرنے میں باہر بیٹھی تھی؟ کوئی ایک ویڈیو یا تصویر، دوسروں کی بیویوں ، بیٹیوں کو ڈھال بنانے والا عمران خان ،اسکے لئے حریم شاہ جیسے کردار ہی ٹھیک ہیں، جب شہری سے سوال کیا گیا کہ حریم شاہ کو جانتے ہو؟ جس پر شہری کا کہنا تھا کہ حریم شاہ …نام ہی ایسا ہے، اور اسکو کون نہیں جانتا، ایسی خواتین ہی عمران خان کی پسندیدہ ہیں، عورت کا لفظی معنی کیا ہے وہ عمران خان جانتا ہی نہیں، اگر جان لیتا تو کم از کم زمان پارک کو زنان پارک نہ بناتا

    آنیوالے الیکشن میں کس کو ووٹ دیں گے؟ اس سوال پر شہری کا کہنا تھا کہ جو بھی بہتر ہو گا اسکو ووٹ دیں گے، جماعت اسلامی ، والے اچھے لوگ ہیں، کام بھی اچھے کرتے ہیں ووٹ کے حقدار اس طرح کے لوگ ہیں لیکن الیکشن آئیں گے تو دیکھیں گے کہ کس کو ووٹ دینا ہے. اس بار کم از کم پی ٹی آئی کو تو ووٹ نہیں دیں گے، وہ کام جو ہمارا پڑوسی ملک بھارت کئی برسوں میں نہیں کر سکا وہ پی ٹی آئی نے ایک دن میں کر دیا، بھلا وہ کیسا پاکستانی ہے جو فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنائے، وہ کیسا پاکستانی ہے جو شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرے، عمران خان کی بیوی کو اگر کوئی پنکی کہے تو عمران خان کو دکھ ہوتا تو انکو کس نے یہ حق دیا تھا کہ افواج پاکستان کی تنصیبات پر حملے کرو، پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا، نیازی نے جہاں جھوٹوں کے ریکارڈ بنائے وہیں ملک دشمنی کے بھی ریکارڈ بنائے اور اس کے یہ کارنامے تاریخ میں سنہری حروف نہیں بلکہ سیاہ حروف میں لکھے جائیں گے.

    نوٹ….قسط اول.
    اگلی قسط میں گزشتہ برس کالام میں سیلاب سے ہونیوالی تباہی کے مناظر پر مشتمل ہو گی

  • کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    سینیٹر اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہ صرف بچایا بلکہ مایوسی کا شکار ہونے والی بزنس کمیونٹی کو معاشی اعتماددیا اور بیرون ملک سرمایہ کاروں کو اس مشکل گھڑی میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب بھی کیا ۔ جس کی ملک وقوم کو شدید ضرورت تھی۔ وزارت خزانہ کے اختیارات سنبھالتے ہی ملکی معیشت کو بے یقینی کے منجدھار سے نکالنے کے لئے ایک انتھک ملاح کیط رح وطن عزیز کو ڈیفالٹ ہونے سے بچالیا۔ ڈیفالٹ ڈیفالٹ کی صدائوں کے شور میں اسحاق ڈار ایک چٹان کی طرح ڈٹے رہے ۔ ایک ہی جوا ب تھا اللہ کی مدد سے پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔ اب اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں تو اُس کے پیچھے بھی ملکی معیشت کا مستقبل ہے ۔ اسحاق ڈار موجودہ اور مستقبل کے معاشی درپیش چیلنجز سے مکمل باخبر ہیں موجودہ وطن عزیز کی معاشی پالیسیوں کو بلا تعطل جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بحث جاری ہے ۔ الیکشن کب ہوں گے اگر ہوں گے تو وزیراعظم کون ہوگا مسلم لیگ(ن) اورپیپلزپارٹی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں مذاکرات کررہی ہیں تاہم ابھی تک اس موضوع پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت محمد نواز شریف کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتی ہے جبکہ آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔تاہم کرسی ایک اور اُمیدوار دو ہیں۔ا لیکشن ان سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھی جماعتیں موجود ہیں جو الیکشن میں حصہ لیں گی ۔ اس سلسلے میں پنجاب فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ غیر جانبدار سروے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ ہو گاتاہم کچھ حلقوں میں پیپلزپارٹی اور مذہبی جماعتیں بھی سیٹیں حاصل کریں گے۔ آمدہ قومی انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی ۔ انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنے گی وہ پی ڈی ایم طرز کی ہی حکومت ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی اور افواہ سازی سے کام نہ لیا جائے صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے صاف اور شفاف الیکشن اپنے مقررہ وقت پر کرائے جائیں۔

  • مافیاز کی پشت پناہی کرنیوالا کون؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    مافیاز کی پشت پناہی کرنیوالا کون؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سیاست میں نظریات‘ ضمیر‘ اصول بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ملکی سیاست نظریہ ضرورت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ملکی سیاست کا دارومدار ایک دوسرے کی مخبری‘اقربا پروری‘ مفاد پرستی‘حصول اقتدار‘جاہ و جلال تک محدود ہو کر رہ گئی۔ سیاستدانوں کی اکثریت عوام سے بے پرواہ ہو کر تماشوں تک محدود ہوگئی ہے۔ انتظامیہ اور بڑے بڑے بیوروکریٹس تو موجود ہیں جو نظر آتا ہے وہ محض نظر کا دھوکہ ہے۔

    انتظامیہ اشرافیہ کی حفاظت اور ان کے مفادات کی نگہبان ہے۔ صوبہ سندھ سے لیکر خیبر تک ایک منڈی کا راج ہے جس منڈی کا نام لینڈ مافیا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبضے، محکمہ جنگلات کی زمینوں پر قبضے‘ ریلوے کی زمینوں پر قبضے‘ شوگر مافیا‘ آٹامافیا‘ ادویات مافیا کا اس ریاست پر قبضہ ہے۔ ان مافیاز کی پشت پناہی آخر کون کر رہا ہے؟ سماج سسک رہا ہے ‘ تکلیف ہے‘ غربت‘ بے روزگاری‘ بیماری اور افلاس کے عذابوں میں گرے عوام ناامیدی کی کھائی میں گرتے جارہے ہیں۔

    پورے ملک میں معصوم بچوں کو ملاوٹ شدہ دودھ پلایا جارہا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے کبھی اس ملاوٹ پر آواز بلند نہیں کی جو مذہبی جماعتیں آپؐ کی ایک حدیث مبارکہ پر عمل نہیں کروا سکیں ان کا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو جماعتیں لکھوائیں؟ تاہم ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو یہ اعزاز ضرور حاصل ہے کہ وہ ہر معاملے میں فوج کو گھسیٹ کر اسے متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں ایک فوج ہی تو ہے جس پر اس ملک کے عوام کا اعتماد ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    حکومت کی آئینی مدت پوری ہو رہی ہے۔ آخری ڈیڈلائن 8 اگست دی جا رہی ہے۔ نگران حکومت کا وزیر اعظم آئی ایم ایف کا ہوگا یا کوئی سینئر سیاستدان، الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا ملتوی ہوں گے؟ اس کا جواب نہیں مل رہا۔ نگران حکومت جو بھی ہوایسی ہو جن پر سب کا اتفاق ہو جو ملک میں صاف و شفاف انتخابات کرواسکے۔ ویسے دنیا میں جہاں پارلیمانی نظام ہے کئی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں نگران حکومت کا تصور نہیں لیکن کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جہاں نگران حکومت بنتی ہیں تاہم ان ممالک میں الیکشن کمیشن غیر متنازعہ ہوتا ہے اور الیکشن کمیشن کی نگرانی انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ تاہم ملکی سیاسی گلیاروں میں کون بنے گا وزیر اعظم کا کھیل جاری ہے۔

  • انڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی ایپ تیار

    انڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی ایپ تیار

    انڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی ایپ تیار

    دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہےکہ آئی فون کے بعد انڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی ایپ اگلے ہفتے سے لانچ کی جارہی ہے۔ جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پرایک پیغام میں کمپنی کی جانب سےچیٹ جی پی ٹی ایپ کی لانچنگ کی اطلاع دیتے ہوئے کہا گیاکہ یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر موجود ہے ،لیکن ابھی اسے ڈاؤن لوڈ نہیں کیا جاسکتا ۔
    اوپن اے آئی نے بتایا کہ ایپ کے نیچے پری رجسٹر بٹن کو دبا کر آپ اپنی دلچسپی ظاہر کی جاسکتی جس کے بعد اس کے دستیاب ہونے پر آپ کو الرٹ مل جائے گا۔ کمپنی کے مطابق ایپ سے متعلق تفصیلات اس وقت مختلف کے مراحل میں ہیں لیکن ایپ کے اسکرین شاٹس اور تفصیل سے یہ اصل سافٹ ویئر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار
    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار
    تحفے میں ملنے والے جوتوں کی رقم سے زیادہ ٹیکس
    باربی فلم کی پنجاب میں پابندی کی خبروں کی تردید

    تاہم آپ ایپ کو مفت یا ادائیگی کرکے پلس چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹس کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب انسانی اندازوں سے زیادہ خطرناک سمجھی جانے والی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے جس سے متعلق ہزار سے زائد ٹیکنالوجی کے ماہرین مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

    یہاں تک کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اداروں سے کہا ہےکہ وہ زیادہ جدید اے آئی سسٹمز کی تیاری کو عارضی طور پر روک دیں۔ ایلون مسک نے یہ مطالبہ ایک کھلے خط میں کیا جو ان کے ساتھ ساتھ اے آئی ٹیکنالوجی کے ماہرین اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے افراد نے تحریر کیا۔

    خط میں کہا گیا کہ انسانی ذہانت کا مقابلہ کرنے والے اے آئی سسٹمز معاشرے اور انسانیت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں کینیڈین فلم ڈائریکٹر جیمز کیمرون کی، جنہوں نے مقبول فلم ‘دی ٹرمینیٹر’ 1984 (39 سال قبل) میں بنائی تھی، جس میں معروف اداکار آرنلڈ شوارتزنگر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔

    اب جیمز نے مصنوعی ذہانت کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ‘ٹرمینیٹر’ بنا کر آپ لوگوں کو تنبیہ کی تھی لیکن کسی نے دھیان نہ دیا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں جیمز کیمرون نے کہا کہ 1984 میں سائنس فکشن فلم ‘ٹرمینیٹر’ بنائی تھی اسے وارننگ کے طور پر لینا چاہیے تھا لیکن آپ لوگوں نے سنا نہیں،اگر مصنوعی ذہانت پر مشتمل ہتھیار بنائے گئے تو اس کے تباہ کن نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہم اسی طرح کی جنگ میں ہوں گے جیسے کہ آج کل جوہری ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے، اگر ہم مصنوعی ذہانت پر تخلیق روک دیں گے تو دوسرے لوگ اسے ضرور تخلیق کریں گے لہٰذا اب اس دوڑ میں اضافہ ہی ہوگا۔

    جیمز کیمرون کا کہنا تھا کہ جنگ کے میدان میں مصنوعی ذہانت اس قدر برق رفتاری سے کام کرے گی کہ انسان مداخلت کرنے کے لائق ہی نہیں رہیں گے جس سے کسی بھی قسم کے امن مذاکرات اور جنگ بندی کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر نے طنزیہ کہا کہ آئیے 20 سال انتظار کرتے ہیں اور اگر کوئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس بہترین اسکرین پلے کا آسکر جیتتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ تب ہم اسے سنجیدگی سے لیں گے۔ تاہم یاد رہے کہ فلم دی ٹرمینیٹر ایک ایسے سائبر قاتل پر بنائی گئی تھی جسے کمپیوٹر نے تیار کیا تھا ۔