آرتھر ملر بیسویں صدی کے چند مشہور ترین امریکی مصنفین میں سے تھے جو اپنی تحریروں کے ذریعے امریکی اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرتے تھے، آرتھر ملر17 اکتوبر 1915ء میں نیو یارک میں پیدا ہوئے اور ان کے والد اگرچہ ایک کپڑوں کی فیکٹری کے مالک تھے لیکن 1929 میں امریکی معیشت میں آنے والی بدحالی سے متاثر ہوئے۔
آغا نیاز مگسی
آرتھر ملر نے ذاتی محنت سے صحافت کے شعبے میں اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے اور وہ ایک ریڈیکل مصنف کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ وہ اپنے لبرل خیالات کی وجہ سے جلد ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ملک میں شروع کی جانے والی کمیونسٹ مخالف مہم میں زیر اعتاب آئے لیکن تفتیش کے دوران اپنے کمیونسٹ دوستوں کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
محمد بن سلمان کا سعودی عرب،پہلی بار ہو رہا”ریاض فیشن ویک”
حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،فیصلہ محفوظ
ان کی شہرت کی ایک اور وجہ 1956 میں مشہور امریکی اداکارہ مارلن منرو سے ان کی شادی بھی تھی۔ ایک سنجیدہ دانشور اور مصنف کے ایک فلمسٹار کے ساتھ اس ملاپ پر کئی لوگوں کو بہت حیرانی بھی ہوئی تھی، آرتھر ملر کو 1949 میں تینتیس برس کی عمر میں ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ لکھنے پر ادب کا پلٹزر انعام ملا تھا، آرتھر ملر کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’ اے ویو فرام اے برج‘ اور ’دی لاسٹ یانکی‘ شامل ہیں۔
10فروری 2005 کو ان کا انتقال ہوا۔ آرتھر ملر کی اسسٹنٹ جولیا بولس کے مطابق ان کا انتقال کنکٹیکٹ میں ان کی رہائشگاہ پر ہوا۔ ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی۔
Category: بلاگ
-

بیسویں صدی کے مشہور ترین امریکی مصنف آرتھر ملر کا یوم ولادت
-

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری
امت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عوامی بیانیٔے کی پیروی اور فلسطینیوں کی حالت زار کو بیان کرنا چاہئے جنہیں بلاشبہ سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ منظر نامےکو دیکھتے ہوئے پاکستان کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو ہر چیز سے بالاتر رکھنے کی ضرورت ہے۔
ایک جامع نقطہ نظر حاصل کرنے کے لیٔے،ماضی کی طرف جاتے ہیں اور وسیع تر سیاق و سباق پر غور کرتے ہیں۔ 2016-17 میں، مصر نے سینائی کے علاقہ میں اسلامک اسٹیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیٔے، حماس کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا، جو تنظیم کے متعلق، اس کے پچھلے موقف میں اہم تبدیلی تھی۔ اس نقطہ نظر کی وجہ سے مصر نے 2018 سے منتخب تجارتی سامان کو صلاح الدین بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دی۔ 2021 سے، خبروں کے مطابق، حماس غزہ میں مصری درآمدات پر ٹیکس کی مد میں ہر ماہ ایک اندازے کے مطابق 12 ملین ڈالر جمع کر رہی ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق، ایران حماس کے ایک اہم فنانسر کے طور پر سامنے آیا ہے، جو حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عسکری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ٹائمز میگزین کے مطابقہ امریکی کانگریس نے حماس کے خلاف کوششوں کو تقویت دینے کے لیے تقریباً 2 بلین ڈالر کا امدادی پیکج تجویز کیا ہے۔
حماس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی اہم فنڈنگ حاصل کی ہے، اسرائیلی حکام نے 2020 اور 2023 کے درمیان تقریباً 41 ملین ڈالر ضبط کیٔے، اسکو وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے۔ مزید 94 ملین ڈالر مبینہ طور پر متعلقہ ادارہ فلسطینی اسلامی جہاد کے پاس ہیں۔
دشمنیوں میں حالیہ اضافہ، طویل عرصہ سے جاری کشیدگی جو کئی مہینوں سے بڑھ رہی تھی۔ جس کی وجہ سے معصوم جانوں کا المناک نقصان ہوا۔ اس تنازعے کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور کہانیاں دنیا کو چونکاتی رہتی ہیں۔
اس پیش رفت کو جاری سفارتی مذاکرات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل تین طرفہ مذاکرات میں مصروف ہیں، واشنگٹن نے یروشلم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ریاض کو یقین دہانیاں کروائی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اسرائیل تجارتی معاہدوں کی تلاش کر رہا ہے، جس میں یورپ کو گیس کی ممکنہ برآمدات، اور ترکی جیسی مختلف ریاستوں کے ساتھ تجارتی راہداری شامل ہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت میں مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ تاہم، اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ یہ الزامات کہ ایران نے حالیہ حملے میں مرکزی کردار ادا کیا، جیسا کہ اسرائیل کے حامی دھڑوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے، معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس تقریباً ایران کے لیے ایک پراکسی ہے۔ الجزیرہ نے 15 اکتوبر 2023 کی رپورٹ میں کہا کہ ایران نے اسرائیل کو علاقائی کشیدگی سے خبردار کیا ہے اگر اسرائیلی فوج غزہ میں زمینی حملے کے لیے داخل ہوتی ہے تو ایران بھی اس جنگ میں کود پڑے گا.
تازہ ترین خبروں کے مطابق، سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو موقوف کر دیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے، کیونکہ ریاض خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ امریکہ اس معاہدے میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔
اس پیچیدہ سفارتی منظر نامے کے پیش نظر پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے، اور فریقین کا موقف اپنالینے سے گریز کرنا چاہیے۔ عوامی بیانیہ کے آگے جھکنے کے بجائے، اسے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور اس پیچیدہ بین الاقوامی منظر نامے پر احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟
اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی
بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ
اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟
اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی
حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر
اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش
-

اساتذہ کااحتجاج،غریب طلباء کاتاریک ہوتامستقبل
اساتذہ کااحتجاج،غریب طلباء کاتاریک ہوتامستقبل
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی لیوانکیشمنٹ پالیسی میں ترمیم اور سکولوں کی نجکاری کیخلاف پنجاب بھر میں اساتذہ اور دوسرے تمام صوبائی محکموں کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ کئی شہروں میں تدریسی عمل معطل ہوچکا ہے جبکہ پولیس نے متعدد ٹیچرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو گرفتار کررکھا ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل گذشتہ کئی روز سے معطل ہے اور اساتذہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ اساتذہ نے اپنے مئوقف میں کہا ہے کہ ان کے مطالبات کو فوری منظور کیا جائے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔ پنجاب حکومت لیوانکیشمنٹ، سکولوں کی نجکاری کا فیصلہ فوری واپس لے۔
اس قسم کی روزانہ خبریں سوشل میڈیا اور مین سٹریم ،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر پڑھنے اور دیکھنے کو مل رہی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر میڈیا کوریج کیلئے بھی ان حتجاجی ریلیوں میں جانا پڑتا ہے اور حالات وواقعات کو قریب سے دیکھنے اور ملازمین کا مئوقف بخوبی جاننے کاموقع ملا ،جن کے مطالبات جائزہیں اور ایسی صوبائی حکومت جو مانگے کی ہے جس کے پاس کوئی مینڈیڈیٹ بھی نہیں وہ اس قسم کے ظالمانہ فیصلے زبردستی مسلط کرنے لگی ہے
ان جابرانہ اقدامات کوواپس لینے کیلئے تمام صوبائی سرکاری ملازمین بشمول اساتذہ کا احتجاج جاری ہے ،پنجاب کی صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکارہوگئی اورگھبرا کر پنجاب پولیس کے ذریعے لاہور میں جاری اساتذہ کے دھرنے پر رات دو بجے دھاوا بول دیا، دھرنے میں شریک ایک سو دو سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیاگیا، انکا ذاتی سامان اور دھرنے کا سارا سامان قبضہ میں کر لیاگیا، ان کے خلاف دو ایف آئی آرز درج کر دی گئیں ایک میں 53 اور دوسری میں 49 کے نام درج ہیں۔پولیس تشدد کی اطلاع ملتے ہی تمام سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بند کردی گئیں ، اساتذہ نے احتجاج شروع کردیا، جنوبی پنجاب میں اساتذہ نے مکمل تدریسی بائیکاٹ کیا،اساتذہ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت ظالمانہ ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، اس لئے اپنے کسی مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، یہ گرفتاریاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں ، دھرناجاری رکھنے کیلئے اساتذہ کے دوسری کھیپ لاہور پہنچ گئی ہے۔
سوشل میڈیا خاص طور فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جو کہ بھارتی ویڈیو ہے جس میں ٹیچر بلیک بورڈپر لکھ بتا رہی ہے کہ سرکارنے اخبار میں اشتہار دیا ہے ،جس میں گورنمنٹ نے کہا ہے کہ ہریانہ میں جس کی آمدنی ایک لاکھ اسی ہزار سے کم ہے ،ان کے بچے اگر گورنمنٹ سکول میں جاتے ہیں تو انہیں 500روپے ماہانہ فیس دینا ہوگی اور اگر انہیں والدین کے بچے پرائیویٹ سکول میں جاتے ہیں توانہیں سرکار 1100روپے دیگی،اب بات یہ ہے کہ جس کا بچہ سرکاری سکول میں جائے گا وہ 500روپے فیس دے گا،اگراس کابچہ پرائیویٹ سکول میں جائے گا تو اسے سرکار سے 1100روپے ملیں گے ،تو صاف ظاہر ہے وہ اپنے گھر سے پیسے کیوں دے گا ایک سرکاری اور اوپر سے فیس کے پیسے بھی جیب سے دینے پڑیں توعام آدمی اپنے بچے کو سرکاری سکول کے بجائے پرائیویٹ سکول میں ہی بھیجے گا کیونکہ وہاں بھیجنے سے سرکار پیسے دے گی
کبھی کسی نے سوچا ہے کہ سرکار کیا چال چل رہی ہے، آپ کے بچے کی فیس ہم دیں گے ،آپ کو چنتا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، آپ سوچیں گے اگرسرکاری میں پڑھایا تو 500روپے دینے پڑیں گے، اگرآپ کے دو بچے سکول پڑھتے ہیں توآپ سوچیں گے چلو 1000روپے تو بچتے ہیں اس سے تو بہتر ہے کہ پرائیویٹ سکول بھیجوں اور ان کی فیس بھی سرکار دے گی،ایک دوسال بعدکیا ہوگا سرکاری سکول خالی ہوجائیں اور ختم ہوجائیں گے ،بلڈنگ خالی ،ایڈمشن زیرو،ایک سال ،دوسال پھرپانچ سال تک ایڈمشن زیرو زیرو،پھر سرکار دکھائے گی یہ سرکاری سکول تو گھاٹے کاسودا ہے ،سرکاری سکول بند پڑے ہیں ،ہم مفت میں ٹیچرزکوتنخواہیں دے رہے ہیں ،چپڑاسی رکھے ہوئے ہیں ،باقی ملازمین ہیں ،اب ان سکولوں میں کوئی بچہ پڑھنے کیلئے بھی نہیں آتا ہے تو اب اس پراپرٹی کو بیچنا شروع کردو،
سرکاری پراپرٹی ہے ہرگاؤں میں ہرشہر میں سرکاری سکول موجود ہیں ،آپ سوچ رہے ہوں گے کتنے سرکاری سکول ہوں گے،تمام سرکاری سکول کی قیمت لگائی جائے گی ،اب جو پراپرٹی مہنگی ہوگی وہ کوئی عام آدمی تو نہیں خرید سکے گا،اب پورے ملک کے سکولوں کوکون خریدے گا،جس کے پاس اتنا پیسہ ہوگا تو وہ ہیں دو امیر ترین شخص مکیش امبانی اور گوتم اڈانی،یہ سرکار سے سکول لے لیں گے اور کہیں گے کہ اتنے کروڑ روپے آپ کودے دیتے ہیں ہم ان سکولوں کو ڈیویلپ کرلیں گے
پھر سرکارایک دوسال بعد کہے گی کہ ہم بہت خسارے میں جارہے ہیں ہمارے پاس آپ کے بچے کی فیس 1100روپے دینے کے پیسے نہیں ہیں ،اب یہاں پر غریب آدمی پھنس گیا کیونکہ اس کا بچہ تو ساتویں کلاس میں پہنچ چکا ہوگا،سرکارنے 5،6 سال پیسہ دیا ،اب انکار کردیا گیااورکہا کہ ہم نے پیسے نہیں دینے، پڑھانا ہے تو پڑھا لو ،نہیں پڑھانا تو ان پڑھ رہنے دو،اگروہ بندہ واپس سرکاری سکول کی طرف جاتا ہے وہاں تو پہلے ہی تالا لگا ہوتا ہے اور بورڈبھی بدلا ہواہے ،بورڈ کس کا ہے مکیش امبانی یا گوتم اڈانی کا ہے کیونکہ وہ اب سرکاری سکول نہیں رہا وہ امبانی ،ایڈانی پرائیویٹ سکول ہے
جب فیس کا پتہ کرے گا تو وہ کہے گا میں تو اتنی فیس نہیں دے سکتا ،اب ہوا کیا سرکاری سکول بھی ختم اور پرائیویٹ کی اوقات نہیں ہے ،اب سکول میں بچے صرف ان کے لوگوں کے پڑھیں گے جن کے پاس پیسے ہوں گے،اس طرح حکومت عوام کودی جانیوالی تمام سہولتیں واپس لے لیگی اور سب کچھ پرائیویٹ کردیا جائے گا جب تک عوام کی آنکھ کھلے گی اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی-
اب دیکھتے ہیں پاکستان اور خاص طور پنجاب میں سرکاری سکولوں کو کیسے ناکام کیا گیا اور سکول بند کیوں ہونے لگے ،پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کا قیام 1991 میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے ہوا تھا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے ذریعہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے، تکنیکی اور مالی مدد کے ذریعے نجی شعبے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت کریں اور غریبوں کو سستی لاگت پر وسیع تر تعلیمی مواقع دے کر ترقی کریں۔ فاؤنڈیشن کے وژن، مشن اور مقاصد کو بی او ڈی نے منظور کرلیا۔ پی ای ایف نے حیرت انگیز اقدامات متعارف کروائے اور انہیں چوہدری پرویز الٰہی نے بطور وزیر اعلی پنجاب اور مسٹر سلمان صدیق چیف سیکرٹری پنجاب کی مکمل حمایت حاصل رہی
جس خدشے کااظہارانڈین مووی میں کیا جارہا ہے وہ خدشہ پاکستان میں حقیقت بن کر اژدھا کی طرح پھن پھیلائے سامنے آن کھڑا ہے ،سب سے پہلے پرائیویٹ سکولوں کو خود رو جھاڑیوں کی طرح اُگایا گیا۔ پہلے تو بہت ہی خوبصور ت نظم وضبط دکھایا گیا مگرآج تک ان سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تعلیمی قابلیت کو دیکھا بھی نہیں گیا جہاں مڈل اور میٹرک پاس اساتذہ غریب والدین کے بچوں کامستقبل تاریک کرنے میں سب سے آگے ہیں ،ان خود روPEFپارٹنر سکولوں کے کھلنے کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں داخلہ اور بچوں کی تعداد کم ہونے لگی ،
سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے 1991 میں دئے گئے تحفے PEF کے نتائج کھل کر سامنے آچکے ہیں ،سرکاری سکول بند ہوچکے ہیں وہی انڈین مووی والافارمولا اپلائی کردیا گیا ہے ،سرکاری سکولوں میں حاضری زیرو،طلباء کے نئے داخلے زیرو،اب کہا یہ جانے لگا کہ جب یہ اساتذہ سکولوں میں پڑھاتے نہیں ہیں تو ہم نے اس فوج ظفرموج کاکیا کرنا ہے ،ہم ان کو مفت تنخواہیں کیوں دیں ،اور سکولوں کی عمارتیں اور پراپرٹی بیکارپڑی ہیں جن کی دیکھ بھال کیلئے بھی کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے
کچھ سال قبل پنجاب کے سرکاری سکولوں کو پیف پارٹنرکے نام پر بیچا گیا تھا، اس وقت سب خواب خرگوش میں مگن رہے تب کسی نے کوئی آواز نہ اٹھائی ،اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے گورنمنٹ نے سب سے پہلے لیو انکیشمنٹ کے خاتمہ کااعلان کیا جس پر پنجاب بھر کے ملازمین نے احتجاج کیا ،جھوٹے وعدوں کے ذریعے اس احتجاج کوختم کرایاگیاتھالیکن اس قانون کی واپسی کانوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا جس پر ملازمین پھر سڑکوں پر آگئے اوراس دوران تمام سرکاری سکولوں کوبیچنے کااعلان کردیاگیا،اس اعلان کے ساتھ ہی اساتذہ کوجھٹکا لگاتواساتذہ بھی پنجاب کے دیگرملازمین کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوگئے اور اعلان کیا ہے کہ سرکاری سکولوں کو کسی صورت نیلام نہیں ہونے دیں گے۔
اب اگرغورکیاجائے تو اس سارے فساد کی جڑ چوہدری پرویزالٰہی ہیں جو 1991میں وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور ر مسٹر سلمان صدیق چیف سیکرٹری پنجاب کی طرف لگایا PEFسکولوں کاپودا کتناخطرناک درخت بن چکا ہے جو تمام سرکاری سکولوں کو کھا گیا اور باقی بچ جانے والے سکولوں تباہ وبرباد کردیا ہے ،سرکاری سکولوں کی تباہی و بربادی کرنے کے بعد پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اپنےPEFپارٹنرسکولوں کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں اور ان کے فنڈزبند کرنا شروع کردئے ہیں ،سرکاری سکول توپہلے ہی غریب کے بچوں کیلئے بند ہوچکے ہیں اور اب PEF سکولوں میں بھی غریب کے بچوں کیلئے مفت تعلیم کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کئے جارہے ہیں ۔
اب پاکستان میں بھی مکیش امبانی یا گوتم اڈانی کاکوئی بھائی ملک ریاض یاکوئی یا کسی اور بندے کے روپ میں ان سرکاری سکولوں پرقبضہ جمانے کیلئے تیار بیٹھاہے ،اگرتمام سرکاری سکول فروخت ہوگئے تو غریب والدین کے بچوں کیلئے تعلیم کے دروزے ہمیشہ کیلئے بند ہوجائیں گے ۔اب عوام کو بھی چاہئے اساتذہ کے دست بازوبنیں تاکہ حکومت پنجاب سرکاری سکول بیچنے سے باز رہے اورغریب والدین کے بچے بھی تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل روشن کرسکیں ،اگراب بھی عوام کی آنکھیں نہ کھلیں توان کے بچوں کے تاریک ہوتے مستقبل کوکوئی روک نہیں پائے گا۔

-

پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی،نیلما ناہید درانی
گو دیکھنے کے واسطے لاکھوں تھے خوبرو
ہم نے تو ایک چہرے کو معیار کر لیانیلما ناہید درانی
ادیبہ، شاعرہ ، سفرنامہ نگار
پاکستان کی پہلی خاتون SSP
15 اکتوبر : یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعارف و گفتگو: آغا نیاز مگسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی شہرت یافتہ 4 زبان پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، سفر نامہ نگار اور پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی محترمہ نیلما ناہید درانی صاحبہ 15 اکتوبر 1955 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام آغا اعجاز حسین درانی ، والدہ محترمہ کا نام آفتاب بیگم اور دادا محترم کا نام آغا نعمت اللہ جان درانی ہے۔ دادا مذہبی اسکالر اور مصنف تھے جن کا تخلص احقر امرتسری تھا۔ والد صاحب شاعری اور مصوری کرتے تھے ۔ نیلما صاحبہ کا تعلق پٹھانوں کے مشہور درانی قبیلے ( سدوزئی ) سے ہے ان کی مادری زبان اردو، پدری زبان فارسی اور پیدائشی زبان لاہوری پنجابی ہے۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں ان کے دو بھائی ہیں اور دونوں لکھاری ہیں۔ ایک بھائی آغا مدثر پنجابی کہانی نویس ہیں اور دوسرے بھائی آغا مزمل اردو اور پنجابی میں شاعری کرتے ہیں ۔ نیلما درانی کے 3 بچے ہیں بڑا بیٹا سوفٹ ویئر انجنیئر ہے بیٹی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے اور چھوٹا بیٹا لندن یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کا طالب علم ہے اور نیلما صاحبہ اس وقت لندن میں ان کے ہاں قیام پذیر ہیں ۔ نیلما ناہید درانی اردو ، انگریزی ، پنجابی اور فارسی زبان میں شاعری کرتی ہیں اس کے علاوہ وہ ایک بہت بڑی لکھاری بھی ہیں وہ سفرنامہ نگار اور کالم نویس بھی ہیں ان کے لکھنے کا انداز بہت متاثرکن ہے اس لیے ان کے قارئین کی تعداد کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ نیلما کی پہلی کہانی ماہنامہ ہدایت لاہور میں شائع ہوا جس کے ایڈیٹر نظرزیدی تھے۔ انہوں نے 1965 سے یعنی 10 سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ نیلما نے اسلامیہ گرلز ہائی سکول لاہورسے میٹرک ، لاہور کالج برائے خواتین لاہور سے بی اے اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی ، پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور سے صحافت میں ایم اے کیا۔ اور 2000 میں ایم اے پنجابی کیا ۔ایم اے صحافت کے دوران ہی پی ٹی وی پر انائونسر کی جاب مل گئی ۔ ریڈیو پاکستان کیلئے بچوں کی کہانیاں بھی لکھتی رہیں جب وہ ایف اے کی طالبہ تھیں ۔
پاکستان ٹیلی ویژن میں 4 ماہ کی سروس کے بعد انہیں محکمہ پولیس میں انسپکٹر کی جاب مل گئی۔ ۔۔اور وہ دونوں ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔صبح کو پولیس کی ڈیوٹی سر انجام دیتیں ۔۔شام کو پی ٹی وی سے اناونسمنٹ کرتیں۔۔۔
جب رائل ٹی وی کا آغاز ہوا تو اس کے ایک گھنٹہ دورانیہ کے ٹاک شو پروگرام ۔۔ستاروں کے ساتھ۔۔۔کی دو برس تک کمپیرنگ کی
ایف ایم ریڈیو 101۔۔کے غزل ٹائم کی کمپئرنگ کی۔
ریڈیو پاکستان لاہور کے مقبول ادبی پروگرام ۔۔تخلیق کی کپمئیرنگ کی اور بہت سے شاعروں ادیبوں کے انٹرویوز ریکارڈ کروائے
وہ اپنی محنت ۔ ذہانت اور بہتر کارکردگی کی بدولت ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی کا منفرد اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ جبکہ وہ مختلف پولیس ٹریننگ اسکولز کی پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔ وہ اقوام متحدہ کےامن مشن میں افریقہ میں بھی تعینات رہی ہیں ۔ 2010 میں انہیں ان کی انگریزی نظم پر یونائٹڈ نیشن افریقن یونین UNAMID کی جانب سے World Aids day کے حوالے سے پہلا انعام دیا گیا ۔ 2004 میں گورنر پنجاب خالد مقبول نے انہیں بہترین شاعری اور پولیس کارکردگی پر فاطمہ جناح میڈل دیا جبکہ 2005 وزیر اعظم شوکت عزیز نے انہیں بھی اعلی کارکردگی کی بنا پر گولڈ میڈل کا انعام دیا ۔ 1989 میں شالیمار ریکارڈنگ کمپنی نے نیلما کی شاعری پر مشتمل ” انتظار” کے عنوان سے کیسٹ جاری کیا جس میں ان کی تمام غزلیں حامد علی خان نے گائی ہیں۔ نیلما صاحبہ حمد، نعت، غزل ، نظم ، سلام، منقبت اور مرثیہ کی اصناف میں طبع آزمائی کر چکی ہیں۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ۔۔جب تک آنکھیں زندہ ہیں۔۔۔جو 1986 میں چھپی تھی کی پہلی غزل کو بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی ہے جس کا مطلعہ ہےاداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
سفید لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھےنیلما ناہید درانی صاحبہ کی اب تک 16 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ان کی اردو اور پنجابی شاعری ، سفرنامے اور افسانے شامل ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
1 جب تک آنکھیں زندہ ہیں 2 جب نہر کنارے شام ڈھلی 3 تمھارا شہر کیسا ہے 4 واپسی کا سفر 5 قطرہ قطرہ عشق 6 جنگل ، جھیل اور میں 7 نیلما کی غزلیں 8 اداس لوگوں سے پیار کرنا 9 راستے میں گلاب رکھے ہیں 10 چانن کتھے ہویا 11 دکھ سبھا ایہ جگ 12 چاند ، چاندنی چندی گڑھ 13 چڑھدے سورج دی دھرتی 14 ٹھنڈی عورت 15 بیلجم میں 20 دن 16۔تیز ہوا کا شہرچند منتخب اشعار قارئین کی نذر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوں خوف زدہ چہرے لیے پھرتے ہیں سارے
لوگوں کو کسی نے تو ڈرایا ہے کوئی ہےاب اونچی فصیلیں ہیں یہاں آہنی در ہیں
یوں موت کو پہرے پہ بٹھایا ہے کوئی ہےمجھے جہاں کے یزیدوں سے ڈر نہیں لگتا
کہ میرے گھر پہ مرے پنجتن کا سایہ ہےجو بھی قریب آیا اسے پیار کر لیا
اپنی نظر کو یونہی گنہ گار کر لیاگو دیکھنے کے واسطے لاکھوں تھے خوبرو
ہم نے تو ایک چہرے کو معیار کر لیاظلم ہے اور کوئی روتا نہیں
ظلم ہے سب کو دکھائی بھی تو دےکوئی تو خزاں میں پتے اگانے والا
گلوں کی خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھےشہر میں بستے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے
مجھ کو ایسے انسانوں سے ڈر لگتا ہےمسجد کے حجرے میں بچے مر جاتے ہیں
تیرے گھر کے دربانوں سے ڈر لگتا ہےبچھڑتے وقت اس نے جو کہا تھا
اسی اقرار نے چونکا دیا تھانیلما ناہید درانی
-

اداکارہ و گلوکارہ مسرت نذیر کا یوم پیدائش
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
مسرت نذیر کا پورا نام مسرت نذیر خواجہ 13 اکتوبر 1940 کو لاہور میں پیدا ہوئی آجکل کینیڈا میں مقیم پاکستانی گلوکارہ اور فلمی اداکارہ ہیں، جنہوں نے بہت ساری اردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کی۔ مسرت نذیر کے شادی بیاہ کے پنجابی نغمات لوک گیت زبان زدعام ہیں۔ مسرت نذیر کے والدین کشمیری نژاد پنجابی تھے۔ ان کے والد خواجہ نذیر احمد، لاہور میونسپل کارپوریشن میں رجسٹرڈ ٹھیکیدار کے طور پر کام کرتے تھے۔
مسرت نذیر کی زندگی کے اوائل میں، ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بنیں، اور انھیں بہترین تعلیم فراہم کی جس کی ۔ مسرت نے میٹرک کا امتحان (دسویں جماعت) امتیازی کے نمبروں ساتھ پاس کیا اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان (بارہویں جماعت) لاہور کے کنیئرڈ کالج سے پاس کیا۔ان کی شادی ڈاکٹرارشد مجید سے ہوئی ہے اور وہ 1965 ء سے کینیڈا میں مقیم ہے مسرت نذیر کے تین بچے ہیں۔ مسرت نذیر نے اپنا فلمی کیریئر کو اپنے شوہر کے لئے ترک کردیا جو اس وقت ان کا کیریئر عروج پر تھا اور اس کے ساتھ کینیڈا جانے پر راضی ہوگئیں ۔
مسرت نذیر اور ارشد مجید 1970 ءکی دہائی کے آخر میں پاکستان واپس آکر لاہور میں آباد ہونا چاہتے تھے۔ بمطابق 2005ء، ارشد مجید لاہور میں ایک اسپتال قائم کرنا چاہتے تھے اور وہ اس مقصد کے لئے وہاں ایک مکان خرید چکے تھے جو ان کے پاس ہے اور وہ ابھی تک برقرار رکھا ہے۔ بہت پیسہ خرچ کرنے، مہینوں کی جدوجہد کے بعد، ارشد مجید نے ہار مانی۔ایک مختصر عرصہ میں سپرسٹار ہیروئن کا درجہ پانے اور اپنے عین عروج کے دور میں فلمی دنیا کی چکا چوند روشنیوں کو خیرآباد کہہ دینے والی مسرت نذیر ، ایک ناقابل فراموش اداکارہ تھی۔۔!
مسرت نذیر کو گائیکی کا شوق تھا لیکن فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا نے اسے فلم قاتل (1955) میں وقت کی مقبول ترین اداکارہ صبیحہ خانم کے مقابل سائیڈ ہیروئن کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ نیرسلطانہ ، اسلم پرویز اور گلوکار سلیم رضا کی بھی یہ پہلی پہلی فلم تھی جو اپنی جملہ خوبیوں کے علاوہ اقبال بانو کی مشہور زمانہ غزل "الفت کی نئی منزل کو چلا۔۔” کی وجہ سے یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔اپنی دوسری ہی فلم
پتن (1955) میں مسرت نذیر کو بریک تھرو مل گیا تھا۔ یہ ایک سپرہٹ پنجابی فلم تھی جس میں مسرت نذیر کی جوڑی پاکستانی فلموں کے دوسرے سپرسٹار ہیرو سنتوش کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں زبیدہ خانم کا یہ گیت "چھڈ جاویں نہ چناں بانہہ پھڑ کے۔۔” پہلا سپرہٹ گیت تھا جو مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔ اسی فلم میں بابا چشتی کے کمپوز کئے ہوئے دو بڑے اعلیٰ پائے کے دوگانے بھی تھے جنہیں زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی نے گایا تھا اور وہ مسرت نذیر اور سنتوش پر فلمائے گئے تھے "ساڈا سجرا پیار ، کوے بار بار ، کیتے ہوئے قرار بھل جاویں نہ۔۔” اور "بیڑی دتی کھیل اوئے ، محبتاں دا میل اوئے ، رب نے ملایا ساڈا پتناں تے میل اوئے۔۔”
اسی سال مسرت نذیر نے مشہورزمانہ فلم پاٹے خان (1955) میں میڈم نورجہاں اور زبیدہ خانم کے ساتھ ایک معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا اور اس پنجابی فلم میں اردو بولی تھی۔ میڈم نورجہاں کے گائے ہوئے دو اردو گیت "جان بہار ، آیا تیرے آنے سے رت پہ نکھار۔۔” اور "دوراہی رستہ بھول گئے ، رنگ بدل گیا افسانے کا۔۔” مسرت نذیر پر فلمائے گئے تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
1956ء میں اپنے دوسرے ہی سال میں مسرت نذیر ، ایک چوٹی کی اداکارہ بن چکی تھی۔ اس سال اس کی چھ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ پنجابی فلم ماہی منڈا (1956) میں مسرت نذیر نے پہلی بار ٹائٹل رول کیا جس میں ہیرو ، پاکستان کے پہلے سپرسٹار اور سب سے کامیاب اور مقبول ترین فلمی ہیرو سدھیر تھے۔ یہ فلم عنایت حسین بھٹی کے مشہور زمانہ گیت "رناں والیاں دے پکن پرونٹھے۔۔” کی وجہ سے مشہور تھی جو اداکار ظریف پر فلمایا گیا تھا۔ مسرت نذیر پر فلمایا گیا زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "وے میں نار پٹولے ورگی ، مینوں اکھ دی پٹاری وچ رکھ وے۔۔” سدھیر ہی کے ساتھ مسرت نذیر نے فلم مرزا صاحباں (1956) میں ٹائٹل رولز کئے تھے لیکن یہ ایک ناکام فلم تھی۔اسی سال کی ایک اور کامیاب فلم قسمت (1956) میں مسرت نذیر کے ہیرو سنتوش تھے لیکن سال کی سب سے بڑی گولڈن جوبلی اردو فلم باغی (1956) تھی جس نے سدھیر کو پاکستان کا پہلا ایکشن ہیرو بھی بنا دیا تھا۔ مسرت نذیر کی ایک اور اوسط درجہ کی فلم پینگاں (1956) میں بابا چشتی ہی کی دھن میں کوثرپروین کا گایا ہوا سب سے مقبول پنجابی گیت فلمایا گیا تھا "تینوں بھل گیاں ساڈیاں چاہواں تے اساں تینوں کی آکھناں۔۔” اس فلم میں ہیرو اسلم پرویز تھے جو اپنے دوسرے ہی سال میں سدھیر اور سنتوش کے بعد تیسرے مقبول ترین ہیرو بن گئے تھے۔
اس سال کی ایک اور یادگار فلم گڈی گڈا (1956) بھی تھی جو اپنی منفرد کہانی کی وجہ سے یادگار تھی۔ بچیوں کے کھیل میں گڑیوں کی شادی ہوتی ہے لیکن اصل نکاح ہیرو ہیروئن سے پڑھوا لیا جاتا ہے جس پر باقی فلم کی کہانی چلتی ہے۔ یہی کہانی معروف ناول نگار رضیہ بٹ کے ایک ناول ‘گڑیا’ کی بھی تھی۔ اس فلم میں بھی بابا چشتی کی دھن میں منورسلطانہ کا یہ گیت بڑا پسند کیا گیا تھا "او دلا کچیا ، قراراں دیا پکیا ، کسے دے نال گل نہ کریں۔۔” اس فلم کے دو اور گیت "نئیں ریساں شہر لہور دیاں۔۔” اور "بابل دا ویہڑا چھڈ کے ، ہوکے مجبور چلی ، گڈیاں پٹولے چھڈ کے ویراں توں دور چلی۔۔” بھی بڑے مقبول ہوئے تھے۔1957ء میں مسرت نذیر کی کل سات فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ سال کی سب سے بڑی فلم یکے والی (1957) تھی جس کا بزنس ریکارڈ آج تک نہیں ٹوٹ سکا۔ معروف صحافی علی سفیان آفاقی کے مطابق اس فلم پر اس دور کا ایک لاکھ روپیہ لاگت آئی تھی اور کمائی 45 لاکھ روپے ہوئی تھی یعنی منافع کا تناسب پینتالیس گنا تھا جو آج تک کسی بھی فلم کے بزنس کا ایک ناقابل شکست ریکارڈ ہے۔ اسوقت ایک ڈالر تین سے چار روپے کا ہوتا تھا اور ایک روپیہ بہت بڑا سکہ ہوتا تھا۔ بات پیسوں اور آنوں میں ہوتی تھی اور ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔ اس فلم کی کمائی سے باری سٹوڈیو بنا تھا جو 92 کنال اراضی پر محیط تھا۔ آج تک کسی فلم کی کمائی سے اتنی بڑا سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ اس فلم میں مسرت نذیر یکہ یا تانگہ چلاتی ہے اور نیلو اسے لڑکا سمجھ کر عاشق ہو جاتی ہے۔ روایتی ہیرو ، سدھیر تھے۔ بابا چشتی کا جادو سر چڑھ کر بولا تھا اور بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے جن میں "کلی سوای بھئی ، بھاٹی لوہاری بھئی۔۔” ، تیرے در تے آکے سجناں وے ، اسیں جھولی خالی لے چلے۔۔” ، ” ریشم دا لاچہ لک اوئے ، نالے بلیاں تے سجرا سک اوئے۔۔” ، "ہان دیا منڈیا وے اکھیاں چوں غنڈیا۔۔” قابل ذکر ہیں۔ یہ سبھی گیت پچاس کے عشرہ کی سب سے مقبول و مصروف گلوکارہ زبیدہ خانم نے گائے تھے۔
اسی سال کی فلم آنکھ کا نشہ (1957) میں مسرت نذیر نے عین شباب کے دور میں ینگ ٹو اولڈ رول کیا تھا اور اس فلم میں اپنی حریف اداکارہ صبیحہ خانم کی ماں کا رول کیا تھا۔ سدھیر ، ہیرو کے علاوہ فلمساز بھی تھے۔ فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا کے والد حکیم احمدشجاع کے ناول باپ کا گناہ (1957) کو اسی نام سے فلمایا گیا تھا۔ اس فلم میں درپن ، پہلی بار مسرت نذیر کے ہیرو بنے تھے۔ فلم ٹھنڈی سڑک (1957) میں پہلی بار کمال متعارف ہوئے تھے جن کی پہلی ہیروئن بھی مسرت نذیر ہی تھی۔ فلم سہتی (1957) میں مسرت نذیر کا ٹائٹل رول تھا اور پہلی بار ہیرو اکمل تھے جنہوں نے مراد کا رول کیا تھا۔ پیر وارث شاہؒ کی کہانی پر بنائی گئی اس فلم میں ہیر کا رول نیلو اور رانجھے کا عنایت حسین بھٹی نے کیا تھا۔ دیگر دو فلمیں سیستان اور پلکاں (1957) میں مسرت نذیر کی پانچ فلمیں منظرعام پر آئیں۔ سال کی یادگار فلم جٹی (1958) تھی جسے ‘چٹی’ کے نام سے ریلیز کیا گیا تھا کیونکہ جٹ برادری نے فلم کے نام پر اعتراض کیا تھا۔ یہ بھی فلم یکے والی (1957) کی طرز پر بنائی گئی تھی جس میں زبیدہ خانم کا گایا ہوا شاہکار گیت "میری چنی دیاں ریشمی تنداں۔۔” فلم کا حاصل تھا۔
اداکار رنگیلا کو پہلی بار اس فلم میں مکالمے بولنے کا موقع ملا تھا۔ فلم زہرعشق 1958 بھی اپنے نغمات کی وجہ سے یادگار تھی جس میں حبیب ہیرو تھے۔ مسرت نذیر پر ناہید نیازی اور کوثرپروین کے یہ دو مقبول گیت فلمائے گئے تھے "موہے پیا کو ملن کو جانے دے بیرنیا۔۔” اور "پل پل جھوموں ، جھوم کے گاؤں۔۔” خواجہ خورشیدانور کی موسیقی تھی۔ فلم جان بہار (1958) پہلی فلم تھی جس کے ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فلم میں پہلے میڈم نورجہاں ہیروئن کا رول کر رہی تھیں لیکن طلاق کی وجہ سے ان کی جگہ مسرت نذیر کو کاسٹ کیا گیا تھا۔ یہ غالباً واحد فلم تھی جس کے ایک گیت میں سدھیر اور سنتوش کو ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس سال کی دیگر دو فلمیں نیا زمانہ اور رخسانہ (1958) تھیں۔
1959ء میں مسرت نذیر ، نو فلموں کے ساتھ چوٹی کی ہیروئن تھی۔ اس سال کی سب سے بڑی فلم کرتارسنگھ (1959) تھی جو اپنی کہانی ، ادکاری اور نغمات کی وجہ سے ایک شاہکار فلم تھی۔ اس فلم میں نسیم بیگم کا یہ گیت "دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا ، ویر میرا گھوڑی چڑھیا۔۔” ایک فوک گیت کا درجہ اختیار کر گیا تھا۔ مسرت نذیر پر فلمایا ہوا زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "گوری گوری چاننی دی ، ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں نی ، دل کرے چن دا میں منہ چم لاں نی۔۔” فلم جھومر (1959) میں ناہید نیازی کا یہ سپرہٹ گیت "چلی رے چلی رے ، میں تو دیس پیا کے چلی رے۔۔” بھی مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔ فلم راز (1958) میں مسرت نذیر پر زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا۔۔” اس فلم میں پہلی بار اعجاز کے ساتھ جوڑی بنی تھی۔ فلم سولہ آنے (1959) میں بھی زبیدہ خانم کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا "روتے ہیں چھم چھم نین ، بچھڑ گیا چین رے۔۔” فلم سوسائٹی (1959) ایک بولڈ موضوع پر بنائی گئی فلم تھی۔ دیگر فلموں میں یاربیلی ، سہارا ، لکن میٹی اور جائیداد (1959) تھیں۔1960ء کا سال مسرت نذیر کے لئے سات فلمیں لے کر آیا۔ اس سال کی خاص بات یہ تھی کہ فلم سٹریٹ 77 (1960) میں مسرت نذیر نے اپنا بنیادی شوق پورا کیا تھا یعنی بطور گلوکارہ اپنا اکلوتا گیت گایا تھا "یوں چپکے چپکے آنکھوں میں تصویر تیری لہرائی ہے۔۔” نیم آرٹ فلم کلرک (1960) میں مسرت کی جوڑی فلم کے ہدایتکار خلیل قیصر کے ساتھ تھی جن کی یہ بطور ہیرو واحد فلم تھی۔ اس سال کی دیگر فلمیں گلبدن ، نوکری ، وطن ، دل نادان کے علاوہ فلم ڈاکو کی لڑکی (1960) بھی تھی جس میں ساٹھ کے عشرہ کی سب سے مقبول و مصروف گلوکارہ مالا نے موسیقار رشید عطرے کی دھن میں اپنا پہلا گیت "اے میرے دل بتا ، کیسے بتا دوں بھلا۔۔” گایا تھا جو مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔
1961ء میں مسرت نذیر کے کریڈٹ پر پانچ فلمیں تھیں۔ سال کی سب سے بڑی فلم گلفام (1961) تھی جس کے ہیرو درپن تھے۔
اس فلم میں نسیم بیگم کا یہ خوبصورت گیت مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا "حضور دیکھئے ، ضرور دیکھئے ، شباب ہے نشے میں چور چور دیکھئے۔۔” موسیقار رشید عطرے کی کمال کی دھن تھی۔ فلم مفت بر (1961) میں مسرت نذیر نے وہی رول کیا تھا جو فلم بے قصور (1970) میں دیبا یا فلم انمول (1973) میں شبنم نے کیا تھا ، ان دونوں فلموں کی کہانی اسی فلم سے ماخوذ تھی۔ اس سال کی دیگر فلموں میں چھوٹے سرکار ، سنہرے سپنے اور منگول (1961) تھیں۔1962ء میں مسرت نذیر کی صرف دو فلمیں سامنے آئیں۔ غالباً اس عرصہ میں وہ شادی کر چکی تھی اور باقی ماندہ فلمیں مکمل کروا رہی تھی۔ ایک منزل دو راہیں (1962) تو عام سی فلم تھی لیکن شہید (1962) ایک شاہکار فلم تھی۔ کردارنگاری میں یہ مسرت نذیر کی سب سے بڑی فلم تھی۔ اس پر فلمایا ہوا نسیم بیگم کا یہ سدابہار گیت "اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو ، اشک رواں کی نہر ہے ، اور ہم ہیں دوستو۔۔” کیا کمال کا گیت تھا۔ منیر نیازی کی شاعری ، رشیدعطرے کی دھن ، نسیم بیگم کی آواز اور اس پر مسرت نذیر کی لاجواب ادکاری ، بلاشبہ ہدایتکار خلیل قیصر کی یہ شاہکار فلم بین الاقوامی میعار کی تھی۔ اعجاز روایتی ہیرو تھے لیکن طالش نے ایک انگریز کے روپ میں عالمی میعار کی اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا۔ علاؤالدین نے بھی ایک عرب شیخ کے کردار میں لاجواب کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
(1967)مسرت نذیر نے فلم عشق پر زور نہیں (1963) میں مہمان اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا۔ اس کی آخری ریلیز شدہ فلم بہادر ، چار سال تک تکمیل کے مراحل طے کرتی رہی اور بالآخر 1967ء میں جا کر ریلیز ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ شادی کر کے بیرون ملک چلی گئی تھی لیکن فلمساز بضد تھا کہ فلم لازمی مکمل کرے گا اور مسرت نذیر ہی کے ساتھ کرے گا ، سو اس نے انتظار کیا اور فلم مکمل کروا کے ہی دم لیا تھا۔ یہ فلم جب ریلیز ہوئی تھی تو فلم کے ہیرو درپن کا دور گزر چکا تھا اور ولن محمدعلی ، چوٹی کے ہیرو بن چکے تھے۔ یہی واحد فلم تھی جس میں مسعودرانا کا کوئی گیت مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا "اے جان غزل ، لہرا کے نہ چل ، دلبر میرا دل تڑپا کے نہ چل۔۔” مسعودرانا کا اپنے ابتدائی دور میں آئرین پروین کے ساتھ گایا ہوا یہ دلکش رومانٹک دوگانا درپن اور مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا جس کی دھن دیبو بھٹاچاریہ نے بنائی تھی۔
مسرت نذیر نے صرف سات برسوں میں 46 فلموں میں کام کیا تھا جن میں 32 اردو اور صرف 14 پنجابی فلمیں تھیں۔ سدھیر اور اسلم پرویز کے ساتھ بارہ بارہ فلموں میں کام کیا تھا۔ سنتوش کے ساتھ چھ جبکہ درپن اور اعجاز کے ساتھ سات سات فلموں میں کام کیا تھا۔ مسرت نذیر پر سو سے زائد گیت فلمائے گئے تھے جن میں سے آدھے گیت صرف زبیدہ خانم نے گائے تھے۔سیالکوٹ کے ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھنے والی مسرت نذیر نے کینیڈا کے ایک پاکستانی ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی تھی۔ دو عشروں تک پاکستان سے باہر رہی لیکن 1980 کے عشرہ میں ایک منجھی ہوئی گلوکارہ کے طور پر دھماکہ خیز انداز میں واپس آئی۔ اس کا گایا ہوا لوک گیت "میرا لونگ گواچہ۔۔” ایک سٹریٹ سانگ ثابت ہوا جو فلمی دنیا میں کسی بھونچال سے کم نہ تھا۔ موسیقار ایم اشرف نے مسرت نذیر کے اس گیت کو فلم دلاری (1987) میں شامل کیا تھا۔ میڈم نورجہاں کو جب یہ خبر ملی تو انہوں نے فلمساز اور ایم اشرف کو حکم دیا کہ یہی گیت ، اسی دھن اور بولوں کے ساتھ ان سے بھی گوا کر فلم میں شامل کیا جائے اور فلم پہلے ریلیز بھی کی جائے ، ایسا ہی ہوا۔ میڈم کا گایا ہوا گیت فلم اللہ راکھا (1987) میں شامل کیا گیا تھا لیکن نقل ، اصل سے بہتر نہ تھی۔ اللہ راکھا (1987) کراچی میں سوا مہینے جبکہ دلاری (1987) سوا پانچ مہینے تک چلتی رہی تھی۔ بظاہر ‘لونگ گواچہ’ کی یہ سرد جنگ مسرت نذیر نے جیت لی تھی۔ مسرت نذیر نے اس دور میں بڑی تعداد میں پرائیویٹ البم ریلیز کئے تھے جن میں مقبول عام گیت ، غزلیں ، شادی و بیاہ کے لازوال پنجابی لوک گیت بھی تھے۔ مسرت نذیر کی گائی ہوئی ایک غزل کیا کمال کی تھی "چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر ، آہستہ آہستہ۔۔!”
اعزازات
1958ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم زہر عشق کے لئے۔
1959ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم جھومر کے لئے۔
1962ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم شہید کے لئے۔ میں مسرت نذیر کو صدر پاکستان کی طرف سے1989
میں تمغہء حسن کارکردگی عطاء کیا گیا۔
۔……۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکی پیڈیا سے ماخوذترتیب و پیشکش آغا نیاز مگسی
-

چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام
چین کا قومی دن ہر سال یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ طویل خانہ جنگی سے چھٹکارے کے بعد 21ستمبر 1949ءکو چین کے عظیم راہنما ماﺅزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی جبکہ یکم اکتوبر چین کا قومی دن قراردیا گیا ۔ ہر سال یکم اکتوبر سے سنہری ہفتہ کا آغاز ہوتا ہے، جسے پوری قوم کی طرف سے زبردست تیاریوں کے ساتھ مناتی ہے۔ بیجنگ، شن جن، ہاربین، ہانگ جو اور شیامن سمیت وسیع وعریض ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی اس مناسب سے تقریبات کااہتمام کیا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو چین کی دوستی پر فخر ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان لازوال دوستی کا سلسلہ گزشتہ 74برسوں سے جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ 1951 ءمیں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں سے پاکستان اور چین کے مابین باہمی تعلقات کا آغاز ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ترہوتے چلے گئے د±نیا اور خطے میں سیاسی تغیرو تبدل سے بالا تر دونوں ملکوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی جو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی سطح پر چین کی حمایت کی ہے تائیوان، تبت ودیگر مسائل پر ہمیشہ چین کے اصولی موقف کی تائید کی۔ چین نے بھی پاکستان کی علاقائی سلامتی، آزادی اور حفاظت کے لیے کھلے دل کے ساتھ ہمیشہ مددو حمایت کی ہے ۔
چین کی عظمت اور ابھرتے ہوئے عالمی کردار کو شاعر مشرق مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے بہت پہلے جان لیا تھا ۔1930ءکی دہائی میں چین میں جب مازﺅتنگ نے اپنی انقلابی تحریک کاآغازکیا اسی وقت شاعرمشرق علامہ محمداقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم ” ساقی نامہ “ لکھی تھی جس کے آخری دوشعریہ ہیں
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
30ءکی دہائی میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے چینی قوم کے بارے میں جوکچھ کہاتھا آج پوری دنیااسے حرف بحرف درست ثابت ہوتادیکھ رہی ہے۔چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن چکا ہے اوریہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چند سالوں میں چین امریکہ کے مقابلے کی طاقت بن جائے گا یا پھر امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔اس وقت چین جس جگہ کھڑاہے وہاں جنگ عظیم اول اوردوم کے وقت امریکہ کھڑاتھا۔اس وقت امریکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن رہاتھاجبکہ آج چین امریکہ کی جگہ لے رہاہے۔فرق یہ ہے کہ امریکہ کے عالمی طاقت بننے میں جنگ عظیم اول اور دوئم کابنیادی کردار ہے ۔یہ دونوںجنگیں امریکہ کے ساحلوں اورسرحدوں سے دوڑ لڑی گئی تھیں۔تمام متحارب ممالک میدان جنگ بن چکے تھے،ان کی فیکڑیاں اورکارخانے تباہ ہوچکے تھے ایسے وقت میں امریکہ کے ساہوکاروں نے اسلحہ بنابنا کربیچا اوراپنی تجوریاں دولت سے خوب بھریں۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگرجنگ عظیم اول اوردوم برپانہ ہوتیں توامریکہ عالمی طاقت کبھی بھی نہ بنتا۔جب امریکہ عالمی طاقت یاسپرطاقت بن گیاتواس کے بعدبھی اب تک اس کا رویہ دنیاکو لڑاﺅ۔۔۔۔اپنااسلحہ بیچو۔۔۔ اوراپنی تجوریاں بھرووالاہے۔امریکہ اس وقت ایسے خونخواردرندے کاروپ دھارچکاہے کہ جس کے منہ کوخون لگ جاتاہے اوروہ خون کی پیاس بجھانے کے لئے ہروقت شکارکی تلاش میں رہتاہے۔امریکہ کے دامن پرلاکھوں کروڑں انسانوں کاخون ہے ، حکومتوں کو گرانے اور بنانے کے گھناﺅنے الزامات ہیں، دنیا کے مختلف ممالک کے حکمرانوں کو قتل کروانے ، پھانسیوں پر لٹکوانے، جلاوطن کروانے کے بدنما داغ ہیں۔الغرض امریکہ کا رویہ خدائی خدمت گار اور تھانیدار والا رہا ہے، ہر ایک کے کام میں ٹانگ اڑانا ، ہر جگہ پنگے لینا ، بدمعاشی کرنا ، قتل وغارت کروانا، ڈاکے ڈالنااور اپنی تجوریاں بھرنا امریکہ کا وطیرہ رہا ہے۔اس کے برعکس چین کارویہ دنیاکے ساتھ مفاہمانہ،دوستانہ ،جیواورجینے دووالا ہے۔ چین دوسرے ملکوں کوروندنے اورپامال کرنے کی بجائے تجارت،معیشت اورصنعت پریقین رکھتاہے۔ چینی قوم ایک طرف صنعت،تجارت،حرفت میں ترقی کررہی ہے تودوسری طرف اپنی زبان کی ترویج کے لئے بھی بھرپورکوشش کررہی ہے اس لئے کہ انسانی تاریخ کی کسی بھی عالمی قوت کی طرح چین کو بھی ا س بات کا ادراک ہے کہ جب تک دنیا چینی زبان نہ سیکھے گی تب تک اس کا امریکہ کے مقابلے میں اپنی جگہ بنانا ناممکن ہے۔ اسی لئے چینی حکومت دنیا کو چینی زبان سکھانے کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک تو اپنی ضرورت کے تحت اب بچوں کو چینی زبان سکھانے کی طرف توجہ دے رہے ہیں لیکن بہت سے ملکوں میںچینی حکومت خوداپنی زبان کی ترویج واشاعت کے لئے کوشاں ہے اس مد میںچین اربوں یوآن سالانہ خرچ رہا ہے۔ بہت سے افریقی ممالک جہاں چین نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے ان میں ہر سال سینکڑوں چینی استاد بھیجے جاتے ہیں جو وہاں جا کر چینی زبان کے مقامی استاد تیار کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ چینی حکومت بہت سے ملکوں کے طلباءکیلئے وظائف مہیا کرتی ہے کہ وہ چین جائیں اور چینی زبان سیکھیں۔ ایسے تمام طلباءجو چین میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے جاتے ہیں انکے لئے سال چھ مہینے کا چینی زبان کا نصاب لازمی ہوتا ہے۔الغرض چین کی طرف سے اس ضمن میں نہایت سنجیدہ اور کامیاب کوششیں جاری ہیں۔پاکستان اورچین کے تعلقات بہت گہرے اورمضبوط ہیں وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط ترہوتے چلے جارہے ہیں خاص کرسی پیک کے بعدتعلقات کی مضبوطی اورگرم جوشی میں کئی گنااضافہ ہوچکا ہے۔سی پیک کے منصوبوں کے اجرا کے بعد پاکستان میں چینی زبان سیکھنے کا وفاق سمیت چاروں صوبوں میںرجحان بہت بڑھ چکا ہے ۔ چین کی مادی ترقی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے لیکن دنیا میں شائد چینی ہی ہیں جن کی انگریزی سب سے کمزور ہوگی۔ انگریزی زبان میں سب سے زیادہ مہارت رکھنے پر فخر کرنے والے بھارت کی ترقی چین کے مقابلے میں ناقابلِ یقین حد تک کم ہے۔ وجہ سیدھی سی ہے چین نے اپنی زبان پر فخر کرنا سیکھا اور اس کو فروغ دیا۔ کئی عشروں تک فروغ کا عمل اندرونی حد تک محدود رہا۔ شائد ہی دنیا کی کسی زبان کی کوئی قابلِ ذکر کتاب ہو جو چینی زبان میں ترجمہ ہو کر ایک عام چینی کی دسترس میں نہ لائی گئی ہو۔ انٹر نیٹ کا زمانہ آیا تو ہر طرح کی ویب سائٹس کو چینی زبان میں متعارف کروایا گیا اور آج گوگل جیسی تحقیقی ویب سائٹ سے لیکروکی پیڈیا جیسی معلوماتی ویب سائٹ تک اور فیس بک جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے لیکر یاہو اور جی میل جیسی ذاتی رابطے کی ویب سائٹ تک ، ہر طرح کی انٹر نیٹ کی سہولتیں ایک عام چینی کو اپنی زبان میں میسر کی گئی ہیں اور پھر یہ تمام سہولتیں چین کے اپنے دائرہ اختیار میں ہیں ، کوئی دوسرا ملک جب چاہے اس سے یہ سہولتیں واپس نہیں لے سکتا یا ان ویب سائٹس میں موجود معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا(جیسا کہ ہمارے معاملے میں ہے)عرض صرف اتنی ہے کہ ہمیں چینی زبان سیکھنے کے معاملے میں وہ غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں جو ہم نے انگریزی کے معاملے میں کی ہیں اور کرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں چینی زبان کے ساتھ ساتھ فرانسیسی، جرمن، روسی، جاپانی اور دوسری اہم زبانیں بھی اپنے بچوں کو سکھانی چاہئیں لیکن ایک بامقصد اور وضع شدہ پروگرام کے ساتھ اور صر ف اپنے قومی مفاد میں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی قومی زبان اردو کو بھی اس کااصل مقام دیں ۔آخری بات یہ ہے کہ ہم اپنے ہمسائے اور قابل فخردوست چین سے سیکھیں کہ کیسے انھوں نے معاشی ترقی کی اور اپنے ملک کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جو کامیابی اور عزت کا راستہ ہے ۔ چین کی لیڈر شپ نے اپنے ملک کو جس راستے پر ڈالا اسے دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ۔۔۔۔اب چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بننے جارہا ہے ۔ اس کامیابی پر ہم چین کی لیڈر شپ اور چینی عوام کو خراج تحسین اور مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔
-

اداکارہ، ماڈل و گلوکارہ عائشہ عمر کا تعارف
معروف پاکستانی اداکارہ ، گلوکارہ اور ماڈل عائشہ عمر 12 اکتوبر 1981 میں لاہور میں پیدا ہوئیں انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور گرائمر اسکول اور اس کے بعد نیشنل کالج آف آرٹس بیکن ہاؤس سے تعلیم حاصل کی ۔ 1999 میں انہوں نے اداکاری اور گلوکاری و ماڈلنگ کا آغاز کیا بطور اداکارہ، ماڈل، گلوکارہ وہ بلبلے میں خوبصورت، لیڈیز پارک میں نتاشا، زندگی گلزار ہے میں سارہ، تنائی میں آرزو اور دل اپنا اور پریت پرائی میں علینا کے کردار میں مشہور ہوئیں ۔
انہوں نے بھرپور محنت کی بدولت خود کو پاکستان کی مقبول ترین اداکاراؤں میں سے ایک کے طور پر منوایا ہے۔ وہ پاکستانی ٹیلی ویژن کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں کی صف میں شامل ہو چکی ہیں اور وہ پاکستان میں اسٹائل آئیکون کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔ 2019 میں، وارثی انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی طرف سے انہیں تمغہ فخر پاکستان (پرائیڈ آف پاکستان) سے نوازا گیا۔ 2012 میں، اس نے اپنا پہلا سنگل "چلتے چلتے” اور "خاموشی” ریلیز کیا، جو کہ تجارتی طور پر کامیاب رہا۔ پاکستان کو ناقدین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
بریکنگ؛ اسلام آباد؛ ریڈ زون میں وزارت خارجہ بلڈنگ میں آتشزدگی
ورلڈکپ ؛ انڈیا چھوڑنے والی زینب نے وجہ بتادی
دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
عائشہ عمر نے بہترین البم کا لکس اسٹائل ایوارڈ جیتا۔ انہوں نے 2015 میں کامیاب رومانٹک کامیڈی کراچی سے لاہور کے ساتھ مرکزی کردار میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، اس کے بعد جنگی فلم یلغار (2017) اور ڈرامہ کاف کنگنا (2019) میں معاون کردار ادا کیا۔ عائشہ عمر نے تاحال شادی نہیں کی ہے تاہم وہ اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد کم از کم 4سال تک کوئی پرفارمنس نہیں کریں گی ۔ -

افغان مہاجرین کی گھر واپسی
حالیہ پیش رفت میں، پاکستانی حکومت نے تمام غیر قانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو یکم نومبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کیا ہے، جس کی تعمیل کرنے میں ناکام رہنے والوں کے لیے ممکنہ گرفتاریوں اور جبری ملک بدری کا انتباہ دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں، کابل میں طالبان انتظامیہ کے ترجمان نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کو پاکستان کے سیکیورٹی مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔
اس فیصلے کے پیچھے محرک عوامل میں سے ایک پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہے۔ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا تھا کہ رواں برس بڑی تعداد میں خودکش بم حملے ہوئے جن میں "24 میں سے 14” افغان شہریوں کی جانب سے کیے گئے۔
اس صورت حال کے قانونی تناظر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان مہاجرین کی حیثیت سے متعلق 1951 کے کنونشن یا مہاجرین کی حیثیت سے متعلق 1967 کے پروٹوکول کا فریق نہیں ہے۔ نتیجتاً، پاکستان ان افراد کو غیر معینہ مدت تک پناہ دینے کا پابند نہیں ہے۔ تاہم، خیر سگالی اور ہمسائیگی کی حمایت کی علامت کے طور پر، پاکستان نے ابتدائی طور پر افغان مہاجرین کو پناہ گزینوں کا درجہ دیا [UNHCR، ‘افغانستان کی واپسی 2002’ پر 5؛ UNHCR، ‘حل کی تلاش؛ UNHCR کے 25 سال – افغان مہاجرین پر پاکستان کا تعاون، جون 2005 میں 17]۔
اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ پناہ گزینوں کی یہ صورتحال ہمیشہ عارضی نوعیت کی رہی ہے کہ ان کے گھریلو حالات بہتر ہونے پر اسے واپس لیا جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، UNHCR اور پاکستان کے درمیان مسلسل معاہدوں کے نتیجے میں ان کے قیام کی مدت میں توسیع ہوئی ہے، لیکن کسی بھی موقع پر ان کی موجودگی کو مستقل کرنے کا نہیں کہا گیا
مقامی رپورٹس کے مطابق پاکستان کا اس اقدام کا مقصد تمام افغانوں بشمول قانونی حیثیت اور پاکستانی رہائشی کارڈ کے حامل افراد کو ملک چھوڑنا ہے [BBC News]۔ اس اقدام کو پاکستان کے اندر سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیوں کہ بعض مہاجرین نے مبینہ طور پر دہشتگرد افراد کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔
یہ واضح ہے کہ پاکستان نے ابتدائی طور پر افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی، لیکن اب سیکورٹی کے بدلتے ہوئے منظر نامے نے صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا ۔ یہ ضروری ہے کہ افغان مہاجرین کی روانگی منظم طریقے سے ہونی چاہئے، اس عمل کے دوران ان کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنایا جائے۔
جب ہم ان چیلنجوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو حضرت علی علیہ السلام کے ان الفاظ کو یاد رکھنا ضروری ہے: "جس کے ساتھ نیکی کرو اس کے شر سے بچو۔” تحفظ کے ساتھ صنفی توازن ایک پیچیدہ کام ہے، لیکن اس صورتحال میں ملوث تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔
-

ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتےشان الحق حقی
شاعر ابن شاعر، ماہر لسانیات، محقق و مترجم11 اکتوبر : یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
60 سے زائد کتابوں کے مصنف ، ماہر لسانیات ، نقاد ، شاعر اور مترجم شان الحق حقی 15 ستمبر 1917 میں دہلی میں معروف شاعر اور مترجم مولانا احتشام الحق حقی المعروف ناداں دہلوی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے خانوادے کی تیرہویں پیڑھی سے تھے اور ڈپٹی نذیر احمد کے پڑ نواسے تھے۔ ان کے والد ایک عالم ، و شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے دیوان حافظ شیرازی اور رباعیات عمر خیام کا فارسی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ شان الحق حقی اڑھائی سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا چناں چہ انہیں ان کی پھوپھی کے پاس پشاور بھیج دیا گیا مڈل تک انہوں نے پشاور میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد واپس دہلی لائے گئے ۔ دہلی اور علی گڑھ سے اعلی تعلیم حاصل کی ۔ لندن میں ذرائع ابلاغ کا کورس بھی مکمل کیا۔ قیام پاکستان کے فوری بعد اگست 1947 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی سے کراچی منتقل ہو گئے ۔ وہ کراچی سے شائع ہونے والے ” ماہ نو” کے دو سال تک چیف ایڈیٹر رہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ، فلمسازی اور یونائٹڈ اشتہارات کراچی کے ڈائریکٹر اور آرٹس کونسل کی مجلس انتظامیہ کے رکن و دیگر کئی سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سب سے اہم علمی کام آکسفرڈ ڈکشنری کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جو کہ 22 جلدوں پر مشتمل ہے جس کی اب تک 25 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ ان کی دیگر تصانیف میں ، انتخاب کلام ظفر، انجان راہی (امریکی ناول گار جیک شیفر کے ناول SHANE کا ترجمہ) تار پیرہن(منظومات) دل کی زبان، پھول کھلے ہیں ، نکتہ راز، افسانہ در افسانہ(خود نوشت / سوانح حیات ) حرف دل رس (غزلوں کا مجموعہ)، شاخسانے، نقد و نگارش، ، آئینہ افکار غالب، درپن درپن(مختلف زبانوں کی شاعری کا ترجمہ)، لسانی مسائل و لطائف ، نوک جھونک ،سہانے ترانے، حافظ ایک مطالعہ، لسان الغیب، تیسری دنیا، صور اسرافیل(بنگالی شاعر قاضی نذرالسلام کی نظموں کا ترجمہ) ن، نوائے ساز شکن (ان کی شاعری کا آخری مجموعہ) و دیگر کتب شامل ہیں ۔ وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی ، ہندی ، سنسکرت ، ترکی اور فرانسیسی زبان پر عبور رکھتے تھے ۔
حکومت پاکستان کی جانب سے شان الحق حقی صاحب کو ان کی اعلی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز اور قائد اعظم ایوارڈ ایوارڈ دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں ایک سڑک ” شان الحق حقی روڈ” کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ 11 اکتوبر 2005 میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ایک ہسپتال میں داخل پھیپڑوں کے سرطان کے دوران علاج ان کا انتقال ہوا اس موقع پر ان کی اہلیہ سلمی Salma اور بیٹا شایان حقی وہاں پر موجود تھے ۔نمونہ کلام (جسے ناہید اختر نے خوب صورت آواز میں گایا ہے)
غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتےدل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتےکم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتےکاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم
میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتےہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتےلذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتےہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا
گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتےدی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتےشان الحق حقی
-

” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز
اس نے کہا تھا جو بھی ، مانا اسی کو سب نے
اس کی وجہ سے اب تو شہرت بدل گئی ہےمسرت ناز
” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری
اردو ، پنجابی اور انگریزی کی معروف ادیبہ و شاعرہ مسرت ناز صاحبہ کا تعلق گجرانوالہ پنجاب (پاکستان)سے ہے ۔ ان کے والد محترم کا نام عطا محمد، والدہ محترمہ کا نام صفیہ نور اور خاوند محترم کا نام بابر محمود ہے ۔ وہ 6 بہن بھائی ہیں جن میں وہ چوتھے نمبر پر ہیں ۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ ایف اے تک تعلیم حاصل کی ہے اور شادی کے بعد امور خانہ داری میں مصروف ہو گئیں ۔
ماشاء اللہ ایک بیٹی کی ماں ہیں ۔ ان کے خاندان میں عورت کے شعر و شاعری کو معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیئے انہوں نے اپنے گھر والوں سے چھپ کر لکھنا شروع کیا۔ لکھنے کا عمل انہوں نے 13 سال کی عمر سے کیا۔شاعری میں انہوں نے پہلے علامہ ماجد الباقری صاحب اور بعد میں جان کاشمیری صاحب سے بھی اصلاح لی ۔ مسرت ناز صاحبہ حمد ، نعت، گیت، غزل، ملے نغمے ، افسانے اور بچوں کی کہانیاں لکھتی ہیں۔
ان کے یہاں 20 کتابوں کا مواد موجود ہے جن میں سے اب تک ان کی 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 روحانی دعائیں (اسماء الحسنی پر مشتمل)2 ۔ میری سوچ (اقوال زریں پر مشتمل)3 . من کی راکھ (شعری مجموعہ)4 . عطائے نور(نعتیہ کلام پر مشتمل) 5 ۔ گلدستہ(بچوں کی کہانیوں پر مشتمل) شامل ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی خاتون لکھاری ہیں کہ جن کی 10 کتابیں ” ون لائن” کے تحت لکھی گئی ہیں اور گیارہویں لکھ رہی ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی بقیہ 15 کتابوں کے مسودے تیار ہیں اور ان شاء اللہ جلد شائع ہو کر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔ مسرت ناز بھی دیگر اکثر ادباء اور شعراء و شاعرات کی طرح پاکستان کے سرکاری ادبی اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں ۔ وہ مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اس کی وجہ شاید گھریلو مصروفیات اور کتابیں لکھنے کا عمل ہے۔
غزل
غم کھا گئے ہیں دل کو صورت بدل گئی ہے
دیوار پر لگی جو مورت بدل گئی ہےچڑیوں کے گیت سن کر گانے لگے تھے ہم بھی
سوچا یہی تھا شاید قسمت بدل گئی ہےاس نے کہا تھا جو بھی مانا اسی کو سب نے
اس کی وجہ سے اب تو شہرت بدل گئی ہےزخم جگر کو سی کر کرنا ہمیں کیا اب ہے
دن رات اپنی کیسے حاجت بدل گئی ہےاس کو سنوار کر ہم ٹوٹے ہیں اپنے ہاتھوں
اس کی ہماری پل میں حالت بدل گئی ہےہیں انتظار کرتیں اب بھی حوائیں مل لو
کہتے ہیں لوگ اب تو عورت بدل گئی ہےنظروں میں ہم تھے اس کی دنیا ہمیں سے روشن
جو بھی جڑی تھی ہم سے راحت بدل گئی ہےچپ چاپ مدتوں تک نفرت چھپا کے پھرنا
وہ تو نہیں ہیں بدلے چاہت بدل گئی ہےبستے ہیں پتلیوں میں اب بھی وہی جو کل تھے
الزام دے رہے ہیں نیت بدل گئی ہےلالی جو چھا رہی ہے آنکھوں کے آسماں پر
پھولوں کی جیسے ساری رنگت بدل گئی ہےوہ بے وفا ہے لیکن یہ مانتے نہیں وہ
نسبت ملی جو ان کی تہمت بدل گئی ہےرزق حلال دیتا ہے ان کو جو نہ مانے
خالق نہیں ہے بدلا خلقت بدل گئی ہےاشکوں سے دوستی کی اپنی سزا ہے نازی
بچھڑے وہ جب کے ہم سے وقعت بدل گئی ہےمسرت ناز