Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اک زوال عروج سے ہو کر،  میں عروج زوال تک پہنچا

    اک زوال عروج سے ہو کر، میں عروج زوال تک پہنچا

    اک زوال عروج سے ہو کر
    میں عروج زوال تک پہنچا

    شارق جمال

    22 جولائی 2023 تاریخ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ممتاز بااصول پولیس آفیسر ڈی آئی جی شارق جمال 22 جولائی 2023 کی علی الصبح ڈفینس سوسائٹی لاہور میں اپنے ایک دوست کے فلیٹ میں وفات کر گئے ۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق شارق جمال صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ کے درمیاں کافی عرصہ سے ناراضگی چلی آ رہی تھی ان کی اہلیہ ایک عرصہ سے اپنی اکلوتی بیٹی کے ہمراہ امریکہ میں مقیم تھیں ۔ شارق جمال ایک بہت باصلاحیت ، بہادر اور بااصول پولیس آفیسر کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے شاعر اور کالم نگار بھی تھے ۔ شارق جمال کو اس وقت بہت شہرت ملی جب انہوں نے مشہور زمانہ موٹروے جنسی زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو 3 ماہ کی طویل جدوجہد کے بعدچ گرفتار کر لیا تھا جسے عدالت سے اس جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی ملزم نے عابد ملہی نے موٹر وے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ پنجاب میں اکثر مشکل کیسز شارق جمال کو دیئے جاتے تھے اور وہ ان کی توقعات پر پورے اترتے تھے۔ شارق جمال 7 دسمبر 1967 کو مقبول روڈ اچھرہ لاہور میں پیدا ہوئے تھے ۔ وفات کے بعد انہیں ان کے آبائی قبرستان اچھرہ لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔ شارق جمال ایس پی ، ایس ایس پی ، ڈی پی او اور ڈی آئی جی پولیس کے اہم عہدوں پر فائز رہے وہ 20 گریڈ کے آفیسر تھے اور اب اگست 2024 میں وہ 21 گریڈ پر ترقی پانے والے تھے وہ اس کیلئے تربیتی کورس بھی مکلم کر چکے تھے اور وہ فروری 2023 سے او ایس ڈی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن لاہور میں تعینات تھے ۔ شارق جمال کے اب تک دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ” آتش زیر پا ” اور” فسانہ کون و مکاں ” شامل ہیں ۔

    شارق جمال صاحب کی شاعری سے ایک خوب صورت غزل اور چند اشعار قارئین کی بصارتوں کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تیرے حسن و جمال تک پہنچا
    میں بھی کتنے کمال تک پہنچا

    بعد مدت کے ذہن آشفتہ
    ایک نازک خیال تک پہنچا

    اے مرے شوق بے مثال مجھے
    آج اس بے مثال تک پہنچا

    اک زوال عروج سے ہو کر
    میں عروج زوال تک پہنچا

    ذہن آزاد ہو گیا میرا
    جب یقیں احتمال تک پہنچا

    تذکرہ حسن کے تناسب کا
    پھر ترے خد و خال تک پہنچا

    اک معمہ تھا میرا مستقبل
    کتنی مشکل سے حال تک پہنچا

    اس طرح میں ترے قریب آیا
    جیسے ممکن محال تک پہنچا

    یہ ہوس بھی کمال تک پہنچی
    وہ بدن بھی کمال تک پہنچا

    اک گلہ زندگی کے ہونے کا
    ہوتے ہوتے ملال تک پہنچا

    اک خلش سی رہی کہیں دل میں
    ہجر جب بھی وصال تک پہنچا

    تھا ازل سے سوال کے اندر
    جو جواب اب سوال تک پہنچا

    شارقؔ اس عشق کے وسیلے سے
    میں جلال و جمال تک پہنچا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود پہ الزام دھر گیا ہوں میں
    کام مشکل تھا کر گیا ہوں میں

    کل بھی کچھ درد کم نہ تھا لیکن
    آج تو جیسے مر گیا ہوں میں

    وہی تنہائی کا عالم وہی صیاد کا خوف
    اپنا زندان ہوں تو آزاد نہ کر لوں خود کو

  • کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہو گا؟اس آنیوالی تباہی کے پیچھے محرکات کافی زیادہ ہیں،پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں،ایک اندازے کے مطابق موجودہ آبادی 220 ملین سے زیادہ ہے۔ ایشین لائٹ کی رپورٹ کے مطابق پانی کی طلب 191 ملین ایکڑ فٹ کے مقابلے میں 274 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

    دوسری وجہ گنے، کپاس، چاول اور گندم جیسی پانی زیادہ لینے والی فصلوں کی پیداوار ہے۔ وہ موجودہ پانی کی فراہمی کا 95% استعمال کرتے ہیں جبکہ جی ڈی پی میں 5% سے بھی کم حصہ ڈالتے ہیں۔پانی صارفین تک پہنچانے میں ضائع ہو رہا ہے۔ نہروں میں شگاف کے ساتھ پانی کی بچت کا بنیادی نظام بھی پرانا ہے۔ پاکستان اپنی فصلوں کے لیے بارش پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ برسات میں ہونے والی تبدیلیاں، اور درجہ حرارت میں اضافہ، زرعی شعبے کے لیے کافی چیلنجز لا رہا ہے. خاص طور پر شمالی پاکستان، جہاں موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ پہلے ہی زیادہ ہے۔

    پانی کی قلت کے بحران کے اثرات 2023 کے وسط میں پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں جبکہ تقریباً 30 ملین آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ پاکستان کے 24 بڑے شہروں میں رہنے والے 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔پانی اکثر آلودہ ہوتا ہے، جس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے بہت سے شہروں میں زمینی پانی کی فراہمی ہی بنیادی ذریعہ ہے۔ "اس میں مختلف پیتھوجینز شامل ہیں جن میں بہت سے وائرل، بیکٹیریل، اور پروٹوزوئن ایجنٹس شامل ہیں، جس سے ہر سال اسہال کی بیماری پھیلتی اور اس سے 2.5 ملین اموات کا باعث بنتے ہیں۔” [ایم. کوسیک، سی. برن، اور آر ایل جیرنٹ، "اسہال کی بیماری کا عالمی بوجھ، جیسا کہ 1992 اور 2000 کے درمیان شائع ہونے والے مطالعات سے اندازہ لگایا گیا ہے” عالمی ادارہ صحت کا بلیٹن، جلد۔ 81، نمبر 3، صفحہ 197-204، 2003۔]

    پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ میونسپل سیوریج اور صنعتی گندے پانی کا مختلف مقامات پر جاری واٹر سپلائی میں شامل ہونا ہے۔ ٹریٹمنٹ پلانٹس میں پانی کی جراثیم کشی، اور پانی کے معیار کی جانچ کے موثر نظام میں بھی ناکامی ہے۔

    اگر ان مسائل کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کیا گیا تو یہ قابل فہم ہے کہ پاکستان کو 2025 تک پانی کی شدید قلت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پانی کے بحران کو کم کرنے کے لیے، پاکستان کو پانی کے تحفظ، بنیادی نظام کی ترقی، زراعت، اور پانی کی صفائی میں نمایاں کوششیں کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پانی کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ان اقدامات کے لیے حکومت، بین الاقوامی تنظیموں، اور عام شہریوں سے مربوط کارروائی کی ضرورت ہوگی۔

    پالیسی ساز اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے پانی کی کمی اور اس کے منفی اثرات کے ممکنہ مستقبل کے منظر نامے کو روکنے کے لیے ان چیلنجوں کو فوری طور پر ترجیح دینا، اور ان سے نمٹنا بہت ضروری ہے۔ تاہم، اس طرح کے اقدامات کا نفاذ، اور کامیابی کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے. جن میں سیاسی رجحان، مالی وسائل، تکنیکی ترقی، اور سماجی تعاون بھی شامل ہیں۔.

  • 19 جولائی  ساغر صدیقی کا یوم وفات

    19 جولائی ساغر صدیقی کا یوم وفات

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    ساغر صدیقی

    19 جولائی 1974: یوم وفات

    محمد اختر المعروف ساغر صدیقی جدید اردو ادب کے شاعر تھے،نئے زمانے کی شاعری کرتے تھے ،جس زمانے میں ساغر صدیقی نے شاعری شروع کی ،اس وقت جدید اور ترقی پسند ادب و شاعری کی جڑیں بہت گہری ہو چکی تھیں ،اس لئے ساغر کی شاعری میں جدیدت اور ترقی پسندیت نظر آتی ہے۔ساغر 1928 میں مشرقی پنجاب کے علاقے انبالہ میں پیدا ہوئے ،،ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ،ماں کا تعلق دلی اور باپ کا پٹیالہ سے تھا۔غریب گھرانے سے تعلق تھا ،اس لئے بچپن میں چند درجے ہی تعلیم حاصل کر سکے ۔

    اس زمانے میں ان کے پڑوس میں ایک انسان رہا کرتے تھے جن کا نام حبیب حسن تھا ،عالم و فاضل انسان تھے ،اس لئے ساغر ان سے تعلیم و تربیت لیتے،کہا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر سات سے دس برس کے درمیان تھی ،اس وقت سے ہی انہوں نے مشاعروں میں شاعری پڑھنا شروع کردی ۔انبالہ میں غربت سے تنگ آگئے تو پندرہ برس کی عمر میں محنت و مزدوری کے لئے امرتسر چلے گئے ۔اب محنت مزدوری کرتے ،جہاں کام ملتا ،وہ سوجاتے ،لیکن شعر بدستور کہتے رہے ،اب چند غریب دوست تھے ،انہیں شعر سناتے ،اپنا تخلص ناصر حجازی رکھ لیا ،بعد میں تخلص بدلا اور ساغر صدیقی ہو گئے ۔

    سولہ سال کی عمر میں انیس سو چوالیس میں امرتسر میں اس بچے نے ایک مشاعرے میں اپنی غزل پڑھی اور پھر کیا تھا ہر طرف سے بھرپور داد ملی ۔سمجھ لیں ساغر نے مشاعرہ لوٹ لیا ۔یہی سے دنیائے ادب میں ان کی پہچان بننا شروع ہوئی ۔اب فنی سفر کا آغاز ہو چکا تھا ،مزدوری چھوڑ دی ،باقاعدہ شعر و شاعری شروع کردی ۔لطیف انور گرداسپوری سے شاعری کے حوالے سے تربیت حاصل کی ۔1947 میں ہندوستان تقسیم ہو گیا ،پاکستان کی تخلیق ہوگئی ،ساغر اب امرتسر سے لاہور آگئے ۔اب ان کی عمر 19 سال تھی ۔داتا کی نگری میں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ان کا کلام اخبارات اور رسالوں میں شائع ہونے لگا۔وہ مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت بن گئے تھے ۔اب ساغر بیس سال کا تھا ،خوبصورت نوجوان ،جس کے لمبے سنہرے گھنگریالے بال تھے ،لمبا قد ،حسین آنکھیں ،کھلتا رنگ ،خوبصورت باتیں ،حسن و جوانی ،ناز و انداز ،یہ تھے ساغر صدیقی جنہیں جنہیں اردو شاعری کا شہزادہ کہا جاتا تھا ،وہ دنیائے ادب کے شہزادے بن گئے تھے ۔اب وہ بھارت اور پاکستان کے فلم سازوں کی فلموں کے لئے گانے لکھ رہے تھے ،وہ نغمے مشہور بھی ہورہے تھے ۔پچاس کی دہائی کے اوائل میں محمد رفیع نے ایک گانا گایا تھا جو بہت مقبول ہوا،گانا تھا ،میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی ،مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا ۔یہ ساغر کی عزت اور شہرت کا زمانہ تھا ۔1947 سے 1952 تک کا زمانہ ساغر صدیقی کا سنہری دور تھا ۔یہ زمانے انہیں کامیابی ،شہرت ،اور دولت کی بلندیوں پر لے جانے والا تھا ۔کاش ایسا ہوتا ،لاابالی طبعیت تھی ،لاہور میں رہنے کے لئے ایک گھر تک نہ بنایا انہوں نے شادی بھی نہیں کی ،انہیں کہا گیا کہ متروکہ جائیداد کا دعوی کرکے مفت گھر حاصل کر لیں ،کہا کہ وہ جائیدار ترک کرکے نہیں آئے تھے ،اس لئے گھر نہیں لیں گے ۔سسٹی ہوٹلوں میں رہتے تھے ،کرائے کے کمروں میں رہائش اختیار کرتے ،کھانا بازار سے کہیں بھی مل جاتا ،کھا لیتے ،اپنا خیال کبھی نہ رکھا ۔پھر بھی زندگی اچھی گزر رہی تھی ،لیکن پھر حالات بدلنے لگے ،کہا جاتا ہے 1952 میں ایک ادبی مہانامے کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ شدید سردرد ہوا،درد سے نجات کے لئے معرفین کا کسی نے انجیکشن لگادیا ۔

    سردرد تو ختم ہو گیا ،لیکن نشے سے آشنا ہو گئے ۔اوپر سے بدقسمتی دیکھیں کہ جس دوست فوٹو گرافر کے ساتھ کرائے کے کمرے میں رہتے تھے ،وہ ہر قسم کا نشہ کرتا تھا ۔شراب ،افیون ،چرس ،بھنگ وہ سب نشے کرتا تھا ،ساغر بھی اسی راستے پر چل نکلے ۔ا سلئے ساغر شکستہ کھنڈر بنتے چلے گئے ۔اب ہوش و حواس میں شاعری کررہے تھے ،لیکن زمانے کی ستم ظریفیاں ان کا مقدر بن گئیں تھی۔دوستوں نے آنکھیں پھیر لی ،دوستوں کے ظلم وستم سہہ رہے تھے ۔انہیں محسوس کررہے تھے ،لیکن خاموش تھے ۔کبھی شکوہ نہیں کیا ۔اب ان کی شاعری دکھ کی آواز بن گئی تھی ۔ان کے کلام میں بہت نغمگی تھی ،اس لئے ان کے کلام کو جس نے بھی گایا وہ مشہور ہو گیا اور خوب دولت سمیٹی ،لیکن ساغر کی حالت بدترین تھی ۔عزیر میاں قوال کی گائی گئی مشہور قوالی،کون بشر ہے اللہ جانے ،ان کی تحریر کردہ ہے ۔اسی طرح نصرت فتح علی خان کی آواز میں یہ غزل تو سب نے سن رکھی ہوگی ،میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا ،یہ بھی ساغر صدیقی کی غزل ہے ۔استاد غلام علی نے تو ساغر صدیقی کے غزلوں کی مکمل کیسٹ ریلیز کی ۔

    ان تمام گلوکاروں کو معاوضے ملتے ،لیکن ساغر کو کوئی پیسہ نہ ملا ۔ریڈیو پر ساغر کے لکھے گانے چل رہے ہوتے اور ساغر لاہور کی سڑکوں پر بھیک مانگ رہا ہوتا ،یہ تھا وہ کرب جس کا وہ شکار تھے ۔اب وہ داستان عبرت بن گئے تھے ۔اب ساغر صدیقی نشے کی علت پوری کرنے کے لئے بلیک میل ہورہا تھا ،لوگ ان سے غزل اور نظم لکھواتے ،اور نشہ لیکر دیتے ،فلمساز ان کے گانوں سے پیسہ کمارہے تھے ،لیکن ساغر لاہور کی سڑکوں پر بدحال تھا ۔لوگ ان کے کلام کو جمع کرکے چھپوا رہے تھے اور پیسے بٹور رہے تھے ۔ساغر نظم اور غزل کا عظیم شاعر ہے ،جس نے کبھی بھی اپنی شاعری میں کسی فلسفے کی تبلیغ نہیں ،غم پسندی ،حسن و عشق ،ان کی شاعری کے موضوعات ہیں ۔ساغر نے وطن سے محبت کی خاطر غیر سرکاری قومی ترانہ بھی لکھا تھا ،وہ قومی ترانہ ایک زمانے میں سینما گھروں میں دیکھایا اور سنایا جاتا تھا ،بیس سال تک لوگ ساغر کو ایک ملنگ ،درویش ،مجذوب اور پاگل کہتے رہے ،لیکن ان کا کلام کہیں سے بھی کسی دیوانے کا کلام نہیں لگتا ۔بھاٹی،لوہاری،داتا دربار،میکلوڈ روڈ گوال منڈی میں وہ خون تھوک رہا تھا ،وہ جس نے عظیم گیت لکھے ،وہ اب مررہا تھا ،جانے کیسا سفر ہے میرا ،جہاں ہے منزل وہی لٹیرا ۔اب پڑھے لکھے لوگ ساغر کو نشے کی پوریا ،بھنگ ،چرس اور شراب اس شرط پر دیتے کہ وہ انہیں نظم یا غزل لکھ کردیں گے ،ساغر انہیں لکھ کر دیتا اور وہ اپنے نام پر چھپواتے ۔

    سب نے آنکھیں پھیر لی تھی ۔ساغر اب مکمل طور پر نشے کی پناہ میں تھا ۔وہ نوجوان جو حسین و جمیل تھا ،اب اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔جسم پر میلے کچیلے بدبودار کپڑے تھے ۔میلی سی چادر میں لپٹا یہ شاعر ننگے پاوں لاہور کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں گھوم رہا تھا ۔اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھے ۔اور زمانے پر وہ مسکرارہا تھا ۔کہتے ہیں اسی زمانے میں ایک کتا بھی ان کا رفیق بن گیا تھا ،اب وہ جہاں جاتے ،وہ کتا بھی ان کے ساتھ ہوتا ۔ایک حسین اور حساس شاعر اس دنیا میں ایک کتے کے ساتھ رہ رہا تھا ۔عمر اب 46 برس تھی ،دن تھا 19 جولائی سال تھا 1974 جب صبح لوگوں نے دیکھا کہ لاہور کی ایک سڑک کے کنارے پر ساغر کی لاش پڑی ہے ۔زمانے کے ظلم نے عظیم شاعر کو برباد کردیا ،وہ جو اپنی شاعری ترنم سے پڑھتا تھا ،وہ جو ہر دور کا شاعر ہے ،وہ جو خوش پوش نوجوان تھا ،وہ جو بوسکی کے ملبوسات پہنتا تھا ،وہ جو دلچسپ باتیں کرتا تھا ،اس کی لاش سڑک کنارے ملی ،یہ ہے ہمارا سماج جس پر ہم فخر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اشر ف المخلوقات سمجھتے ہیں ۔وہ جس کا سینا امنگوں اور حوصلوں سے بھرا تھا ،اس سماج نے اسے سڑک کے کنارے جانور سے بھی بدترین موت دیدی ۔اس سماج نے ہی اسے اس مقام تک پہنچایا تھا ۔وہ اپنی زات میں سمٹتا چلا گیا اور دور ہو تا چلا گیا ،یہاں تک کے ایک آوارہ کتے نے اسے اپنا دوست بنا لیا تھا ۔کتے کو بھی انسانیت کی شناخت تھی ،لیکن انسانوں نے اسے کتے کی موت دی ۔سوال یہ ہے کہ وہ تو اپنی زات کو تسخیر کر گیا ،لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ان کی ایک نظم ملاحظہ ہو ،

    بات پھولوں کی سنا کرتے تھے ،
    ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے ،

    مشعلیں لے کے تمہارے غم کی ،
    ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے ،

    اب کہاں ایسی طبعیت والے ،
    چوٹ کہا کر جو دعا کرتے تھے ،

    بکھری بکھری زلفوں والے
    قافلے روک لیا کرتے تھے ،

    آج گلشن میں شگوفے ساغر ،
    شکوے باد صبا کرتے تھے ۔

    میلی چادر ،نحیف جسم ،چپل سے محروم ،روٹی سے محروم ،دن رات سڑکوں کی خاک،نشے کی لعنت میں غرق،ہم نے ایسے کیسے ہونے دیا ؟کیا کبھی سوچا کہ ہم کتنے ظالم ہیں ؟جس کے شعر سینوں میں سنسنہاہٹ اور دلوں کو گداز بخشتے تھے ،وہ کتے سے بھی بدترین موت کا شکار ہو گیا ؟ساغر کا ایک شعر ہے کہ ۔۔

    چشم تحقیر سے نہ دیکھ ہمیں ،
    دامنوں کا فراغ ہیں ہم لوگ ۔۔۔۔

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ،
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    تحریر ‘ نامعلوم
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • نگران حکومت، الیکشن اور خواہشات، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نگران حکومت، الیکشن اور خواہشات، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    اگلے ماہ حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے۔ انتخابات کب ہوں گے یہ ایک بڑا سوال ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے آئین میں صاف لکھا ہے کہ انتخابات کب ہونے چاہیں پھر بھی اگر یہ سوال سر اٹھا رہا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب حکومت تین ماہ اور کے پی کے کی حکومت تین ماہ تک تھی مگر آئین کی حد کو کراس کرگئیں اور نگران حکومتیں ہی بدستور کام کررہی ہیں۔ کیا مرکز میں بھی ایسا ہونے جارہا ہے۔ کیا شہباز شریف کی حکومت کو ہی آگے چلایا جائے گا؟ کیا نگران حکومت جو مرکز میں ہوگی اسے لمبا کرکے عبوری حکومت میں تبدیل کردیا جائے گا؟ اور عبوری حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف ہی ہوں گے؟ اس طرح کی خبروں اور اطلاعات سے انتخابی عمل ایک معمہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم یہ خواہشات ہیں۔ سب کی خواہشیں اندازے ہیں ان خواہشوں کے آگے بند باندھنے کے لئے بھی تو کوئی کھڑا ہے۔ عوام کی اکثریت پریشانی کے دور سے گزر رہے ہیں بازاروں میں لوٹ مار مچی ہے امن او مان کا مسئلہ ڈاکو دن دیہا ڑ لوٹ رہے ہیں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ بے روزگاری اور مہنگا ئی ہے۔ میڈیا نگران حکومت اور آمدہ قومی انتخابات کو لے کر روزانہ نئے تبصرے کر رہا ہے۔ تاہم الیکشن کو لے کر معاملہ کافی پیچیدہ ہو رہا ہے۔

    سیاسی جماعتیں ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ الیکشن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ تاہم کراچی سے پنجاب اور اسطرح ملک بھر میں جرائم میں اضافہ سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس وقت انتظامیہ اور پولیس نام کی کوئی شے ملک میں موجود نہیں سیاستدانوں نے اپنی سیاسی دوکان قائم رکھنے کے لئے پولیس اور انتظامیہ کو تقسیم کر دیا ہے۔ پسند ناپسند کی بنیاد پر پولیس افسران اور انتظامی افسران کا تقرر کیا جا رہا ہے۔ سینئر افسران کو کھڈے لائن لگا کر جونیئر افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے جس کے نتائج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ کراچی سے پنجاب اور دوسرے صوبوں میں اغواء‘ ڈکیتی‘ چوریاں ‘ منشیات ‘ قمار بازی کے اڈے دیگر بڑھتے ہوئے جرائم کا کوئی اور ذمہ دار نہیں ہمارے با اختیار حکمران ہیں جو اس وطن عزیز کے خود ساختہ مالک ہیں انکے فیصلوںسے عوام کی اکثریت دکھی ہے ۔

  • یوکرین روس جنگ، فائدہ کس کو؟

    یوکرین روس جنگ، فائدہ کس کو؟

    مشرقی محاذ پہ روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جاری تنازعہ نے یوکرین کے لیے خاصی تباہ کاری اور معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ روسی حملوں میں خارکیف سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے،جیسا کہ نائب وزیر دفاع حنا ملیار نے ٹیلی گرام [الجزیرہ] پر مطلع کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے جوابی کارروائی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

    2022 میں، یوکرین پر روسی حملہ کے بعد، ملک کو شدید معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرین کی جی ڈی پی میں 29.1 فیصد کمی ہوئی، اور اس کی سٹیل کی پیداوار میں 71 فیصد کمی ہوئی کیونکہ روسی افواج نے یا تو سٹیل پلانٹس کا کنٹرول سنبھال لیا، یا اسے تباہ کر دیا۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے برآمدات کی سطح میں 35 فیصد کمی ہوئی، جس سے افراط زراور قرضوں میں اضافہ ہوا۔ اس تنازعے نے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کوئلے کی کان کنی، اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف صنعتوں پر بھی نقصان دہ اثر ڈالا ہے. کیونکہ یہ شعبے کام کرنے والے بنیادی نظام جیسے بجلی اور انٹرنیٹ تک رسائی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ امریکی ٹیک فرمیں روس-یوکرین تنازعہ سے نمایاں منافع کما رہی ہیں۔ نیشنل ڈیفنس میگزین کے مارچ میں شائع ہونے والے "یوکرین: اے لیونگ لیب فار اے آئی وارفیئر” کے عنوان سے مضمون نے اس تنازعے کو نیٹ ورک اور اے آئی پر مبنی میدان جنگ کی سمت میں بطور اہم پیش رفت کے بیان کیا گیا ہے۔ یوکرین نئی AI ٹیکنالوجی اور مصنوعات کا ایک تجربہ گاہ بن گیا ہے. جو مغربی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے تیزی سے منافع پیدا کرنے کا منفرد موقع ہے.
    ukarin1

    اگرچہ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ آلات کا مقصد روس کے خلاف استعمال ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ یوکرین کا تنازعہ نادانستہ طور پر تکنیکی ترقی کے حوالہ سے تجربہ کرنے کا ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں فعال طور پر تصفیہ اور امن کی تلاش کے بجائے، ملک کو ترقی پذیر ٹیکنالوجیز کی جانچ کے لیے ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
    بالاخر یوکرین-روس جنگ کے نتیجے میں یوکرین کے لیے شدید اقتصادی مشکلات پیدا ہوئیں. روس نے بنیادی نظام اور صنعتوں کو وسیع پیمانے پر تباہ کیا۔ دریں اثنا، کچھ امریکی ٹیک کمپنیاں تنازعات کا فائدہ اٹھا رہی ہیں. اور یوکرین کو اپنی AI ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کے لیے تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ یہ تنازعات کے دوران کیے گئے اقدامات کے پیچھے حقیقی ارادوں، اور امن کی کوششوں پر تکنیکی ترقی کو ترجیح دینے کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔

    ukarin2

  • معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    انسان کا جسم اس کے دماغ کے تابع ہے جبکہ دماغ رہنمائی لیتا ہے قوت بصارت اور قوت سماعت سے یعنی کانوں اور آنکھوں سے ۔ انسان جو کچھ کانوں سے سنتا ہے اور آنکھوں سے جو د کچھ دیکھتا ہے دماغ اس کااثر قبول کرتا ہے ۔جبکہ دماغ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا میڈیا ہے ، چاہے وہ الیکڑانک ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ امر واقعی یہ ہے کہ میڈیامعلومات فراہم کرنے اور ذہنوں کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ترین ہتھیا ر بن چکا ہے ۔اسی لیے میڈیا کو ریاست کے پانچویں ستون کا درجہ قرار دیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ریاست کا ایک یہ ستون نہ صرف دیگر اداروں اور ان کی پالیسیوں پر مسلسل نظر انداز ہورہا ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا چشمہ ہے جو تمام دیگر اداروں کو اپنی رو میں بہا لے جارہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ریاست کے دیگر ستونوں میں حکومت مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں تاہم اپنی اثر انگیزی کی بنا پر میڈیا ان کے درمیان اپنی حیثیت کو منوا چکا ہے ۔ آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ میڈیا کس حد تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہا ہے اور اس کا ضابطہ اخلاق کیا ہے ؟ یا پھر یہ کہ میڈیا طاقت کے اندھے گھوڑے پر سوار سب کو روندے جا رہا ہے ۔ اس کی چکا چوند ہرچھوٹے بڑے ، مرد عورت کو متاثر کررہی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا معاشرتی نظریاتی اصلاح اس کے پیش نظر ہے یا نہیں ؟ اور خصوصاََ نوجوانوں کے کردار پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔

    پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کی اساس اسلام کے وہ سنہرے اصول ہیں جو زندگی کو متوازن بناتے ہیں اور افراد کی تربیت کا ایسا نظام مہیا کرتے ہیں جو نہ صرف معاشرے بلکہ تمام اداروں کے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ سر انجام دہتے ہیں تاکہ زندگی کا حقیقی حسن برقرار رہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر چینلز دین کے نام پر ایسے پروگرام کررہے ہیں جو دین کی تعلیمات اور روایات سے بالکل متصادم ہیں ۔ پروگرام میں شریک خواتین کا لباس بھی پروگرام کی روح کے منافی ہوتا ہے ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی پروگرامز میں ایسے علماءکو بلایاجائے اور ایسے اینکرز کا انتخاب کیا جائے جو خود بھی دین کو سمجھتے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کردار کے حامل بھی ہوں ۔ کیونکہ اسلام سب سے زیادہ کردار کی اصلاح پر زور دیتا ہے کردار میں تبدیلی در حقیقت معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے اس لئے کہ انسان اپنے کردار سے ہی پہچانا جاتا ہے ۔

    اسی طرح چینلز پر دکھائے جانے والے ڈرامے نوجوانوں کے اخلاق وکردار کو تباہ کررہے ہیں، نام نہاد ماڈرن ازم کے چکر میں نئی نسل کو اپنی دینی اور معاشرتی روایات کا باغی بنا رہے ہیں نوجوان نسل کو سست اور آرام طلب بنا رہے ہیں ۔ ہمیں اس سیلاب کے آگے بند باندھنے ہونگے بصورت دیگر حالات بے قابو ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ جرائم سے بھرے ہوئے معاشرے میں میڈیا ایسے پروگرام پیش کررہا ہے جن میں تشدد اور جرائم میں ملوث افراد کو جرم کرنے کے نئے نئے انداز مل جاتے ہیںاور وہ اپنے حالات اور مواقع کے مطابق ان کا استعمال بھی کرتے ہیں جس سے جرائم میں اضافہ ہورہاہے ۔ اکثر مجرم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم فلموں کو دیکھ کر کیے ہیں ۔ کیونکہ ان پروگراموں میں اکثر یہ دکھایا جاتا ہے کہ مجرم یا تو فرار ہوگئے یا انصاف نہیں ملا ۔ ان حالات میں یہ جاننا مشکل نہیں کہ جرم کی تشہیر کوئی مثبت نتائج نہیں دیتی ہے ۔ یہ پروگرام بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی برے اثر ات ڈالتے ہیں جس سے بچے عدم تحفظ ، بے اعتمادی اور خوف کا شکا ر ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں جو قوم میں کنفیوژن پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے ایک چینل پر پروگرام دیکھا گیا کہ پاکستان کا قومی ترانہ وہ نہیں جو قائد اعظم نے پاس کیا تھا ۔ ظاہر بات ہے کہ اب اس طرح کے ایشو اٹھانے اور ان پر بحث کرنے سے کنفیوژن ہی پیدا ہوگی ۔

    اس میں شک نہیں کہ میڈیا کی اپنی ترجیحات اور مقاصد ہیں ۔ کاروباری دنیا میں سرمایہ کار صرف اپنے منافع کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے ۔ نقصان اسے کسی طور پر برداشت نہیں ۔سرمایہ کار چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنایا جائے اس کےلئے چاہے انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے ۔ ریٹنگ کے لئے ایک بری خبریں بار با ر پیش کرکے سنسنی پھیلائی جاتی ہے تاکہ لوگ ان کے چینلز کو دیکھیں اور ان کی ریٹنگ بڑھے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس عمل سے چینلز کی ریٹنگ بڑھتی ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے معاشرے میں جرائم بڑھ رہے ہیں، نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں ، جنسی بے راہ روی ، تشدد ، ڈکیتی ، چوری ، مستقبل کا خوف ، بے اعتمادی ، نافرمانی ا ور بے صبری و خوف و ہراس جیسے نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں جو کسی طور خوش آئند نہیں ۔ بلکہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہمارا مستقبل ایسے ہی ضائع ہوگا ؟ اس کے تدارک اور اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک بنایا جائے جس میں میڈیا کے اہم سر کردہ لوگ ، دانشور ، صحافی ، سکالرز ، ججز ، حکومتی نمائندے ، والدین ، چینلز کے مالکان اور اساتذہ شامل ہوں ۔۔۔جو میڈیا کےلئے کی تر جیحات اور ضابطہ اخلا ق طے کرے ۔آخر میں ہم میڈیا مالکان سے پھر یہ کہنا چاہئیں گے کہ خدا ۔۔۔را اپنے چینلز پر ایسے پروگرام پیش کریں جو نظریہ پاکستان اور ہماری اخلاقی روایات واقدار سے ہم آہنگ ہوںجن میں نوجوانوں کو محنت اور لگن کاسبق ملے ۔ اپنی ثقافت کو پروان چڑھایاجائے تاکہ اپنی مذہبی و معاشرتی روایات ، ثقافت کو بچایاجاسکے اور پاکستانی ہونے پر فخر کیا جا سکے ۔ ۔ کھیلوں کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے اور ان پروگرام میں نوجوانوں کو شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔ بچوں کے پروگرام پیش کیے جائیں ۔ اخلاقیات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے پیغامات مختصر وقفوں میں پیش کئے جائیں تاکہ بچوں کی تربیت کی جاسکے ۔ ہر چینل کے لیے لازمی ہوکہ وہ اس طرح کے پیغامات لازمی نشر کرےں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا عمل شروع ہوسکے ۔ ہمارا میڈیا تنقید تو کرتا ہے لیکن تربیت کا اہتمام نہیں کرتا لہذا ضروری ہے کہ تربیتی پرگروام پیش کئے جائیں ۔ تعلیمی پروگراموں کو اپنی نشریات کا مستقل حصہ بنایا جائے ۔ اسلامی ممالک کا تعارف ، ثقافت و کلچر پیش کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کا تصور راسخ کیا جاسکے ۔ انٹرنیشنل ایشوز پر پروگرام کئے جائیں اور ڈاکومنٹریز پیش کی جائےں تاکہ انٹرنیشنل افئیر ز سے لوگ آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت ہمارا ملک بہت سے مسائل کا شکار ہے جن میں سے ایک اہم ترین مسئلہ معاشرتی تفریق اور خیلج ہے ۔ ان حالات میں میڈیا کو اداروں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ، یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور ہمارا قومی مفاد بھی ہے ۔ میڈیا کو اپنا مثبت رول ادا کرنے کے لئے اپنا لائحہ عمل ضرور ترتیب دینا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کاا مستقبل محفوظ ہوسکے ۔

  • عمران خان کا دوہرا معیار، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    عمران خان کا دوہرا معیار، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی خدمت میں بقول شاعر: اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے۔ اکیلے پھر رہے ہو یوسف کاررواں ہو کر ۔ گفتگو انسان کی پہچان کی وہ واحد سیڑھی ہے جس کے چڑھنے سے ہی انسان کی وسعت ظرف اور اخلاق کی مسافت معلوم ہو جاتی ہے۔ اخلاق و آداب کا گھونٹ پیا بھی ہے یا علم کے سمندر میں صرف غوطہ زن ہو کر عملی میدان میں نکل پڑا کامیاب شخص وہی کہلاتا ہے جو اپنی حدود میں رہتا ہے ہر وہ شخص خسارے میں رہتا ہے جو اپنی حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا نعرہ قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین اور جمہوریت دوست مگر اپنے دور حکمرانی کیا انہوں نے اس ضمن میں کچھ کیا؟ جس کشتی میں سوار ہو کر اقتدار میں آئے تھے ملاحوں نے ساتھ کیوں چھوڑا؟ سچ تو یہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی سیاست میں سسپنس ، بڑھکیں، لڑائی مارکٹائی، سازشیں، امید نا امیدی کے ساتھ غداری، یہودی ایجنٹ، بھارتی ایجنٹ، سکیورٹی رسک، وغیرہ ہماری سیاست میں بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے مہذب معاشروں اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں کسی کو بغیر ثبوت اس نوعیت کے الزامات سے نہیں نوازا جاتا ایک دوسرے کا احترام جمہوریت کی لازمی شرط ہے۔

    الیکٹرانک میڈیا پر بحث جاری ہے کہ نوازشریف کب وطن واپس آئیں گے وہ آئیں گے بھی یا نہیں کیا کسی نے اس بحث میں سوال کیا ایک منتخب وزیراعظم کو تین بار اقتدار سے ہی نہیں اٹک قلعہ، اڈیالہ جیل، کورٹ لکھپت جیل، جلاوطن، ہوائی جہاز کی سیٹ کے ساتھ کیوں باندھا گیا؟ منتخب وزیراعظم کو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی کیوں؟ ملک کے تین بار وزیراعظم کو تاحیات نااہل کر دیا گیا کیوں؟ ہمارے سیاستدانوں، ذمہ داران ریاست سے گزارش ہے کہ عالمی دنیا معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں سعودی عرب کی پوری قوم سعودی وژن 2030 پروگرام کے تحت معاشی اور سماجی اصلاحات پر مل کر کام کر رہی ہے حالیہ جاپانی وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ جبکہ یوری یونین اور جاپان ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر رہے ہیں واحد ایجنڈا معیشت ہے۔ بھارت افانستان کے راستے ہماری ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششوں میں مصروف ہے بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہماری فوج سینہ سپر ہے تاہم ملکی سیاستدانوں کو ملکی ترقی عوام کی خوشحالی مستحکم معیشت کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    میری یاد میں تم نہ آنسوں بہانا
    وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    موسیقار : مدن موہن

    14 جولائی 1975: یوم وفات

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کے نامور موسیقار اور میوزک ڈائریکٹر مدن موہن اردو اور ہندی فلموں کے مشہور و مقبول و معزز اور سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے موسیقاروں میں سے ایک تھے – 25 سال پر محیط کیریئر میں، انہوں نے صرف 100 سے کچھ زیادہ فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، جن میں سے صرف 25 باکس آفس پر ہٹ ہوئیں۔ اس کی وجہ ان کی انتہائی پرہیزگار طبیعت تھی اور اس نے اپنی فلموں کے لیے جتنی دھنیں بنائیں وہ آج بھی موسیقار حلقوں میں شاہکار تصور کی جاتی ہیں۔ مدن موہن 25 جون 1924 کردستان میں پیدا ہوئے،. 1932 میں ان کا خاندان چکوال اس کے بعد جہلم اور کچھ عرصہ لاہور میں آباد ہوا 1951 میں ان کا خاندان بمبئی ہندوستان منتقل ہو گیا وہ راج بہادر چونی لال کے بیٹے تھے، جنہوں نے بامبے ٹاکیز اور فلمستان جیسے مشہور اسٹوڈیوز میں کام کیا۔ بچپن سے ہی وہ موسیقی کی طرف مائل اور باصلاحیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ درحقیقت، اپنی زندگی کے دوران، انہوں نے کمپوزیشن کا ایک حیرت انگیز ریکارڈ قائم کیا، جن میں سے زیادہ تر یا تو مناسب فلموں کی کمی کی وجہ سے استعمال نہیں کی گئیں یا ان کی فلموں کے لیے متبادل دھنیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بالی ووڈ میں میوزک ڈائریکٹر سی رام چندر کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا، اور اپنی پہلی بڑی فلم دی آئیز (1950) کے ساتھ ملی جو کہ ایک محبت کا مثلث ہے۔ فلم کامیاب رہی۔ اس کے بعد موہن کے پاس کافی کام آیا۔ ان کی پہلی فلموں میں ان کے بچپن کے دوست راج کپور کے ساتھ فلموں کی تریی تھی – آشیانہ (1952)،دھون (1952) اور پاپی (1953)۔ بدقسمتی سے موہن کے لیے، انھوں نے جن فلموں کے لیے کمپوزنگ کرنے کا انتخاب کیا، انھوں نے زیادہ اثر پیدا نہیں کیا، اور یہ صرف بھائی بھائی (1956) کے ساتھ تھا، جس میں لیجنڈری کمار بھائیوں، اشوک کمار اور کشور کمار نے کام کیا تھا، کہ انھیں کچھ کامیابی ملی۔ لیکن اس کے بعد سے، چیزیں کھردری ہو گئیں۔ ریلوے پلیٹ فارم (1955)، گیٹ وے آف انڈیا (1957)، جبکہ بہترین موسیقی کے ساتھ، زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اور معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے، تمام سرکردہ ستاروں نے کام کرنے کے لیے پہلے ہی ایک خاص موسیقار کا انتخاب کر لیا تھا (مثلاً نوشاد،) جس نے ڈیبیوٹنٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی، چاہے وہ باصلاحیت ہو۔

    پھر، 1950 کی دہائی کے آخر اور 1960 کی دہائی میں، چیزیں بہتر کے لیے بدل گئیں۔ دیکھ کبیرا رویا (1957) اور عدالت (1958) کے لیے ان کے اسکور نے یہ ظاہر کیا۔ اور 1960 کی دہائی میں، وہ واقعی انپدھ (1962) کے ساتھ نظر آنے لگے، ان کے گانوں نے پورے ہندوستان میں دھوم مچا دی۔ اس فلم کے ساتھ ہی وہ غزل کے بادشاہ کے طور پر جانے جانے لگے، حالانکہ وہ عدالت (1958) کے ساتھ پہلے ہی گوسامر دھنوں کے لیے اپنی شہرت قائم کر چکے تھے۔ انہوں نے راج کھوسلہ کی دو فلموں – وہ کون تھی (1964) اور میرا سایا (1966) کے ساتھ مزید تجارتی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فلمساز چیتن آنند کے ساتھ بھی کام کرنا شروع کیا، جس کے لیے انہوں نے ایک جنگی فلم حقیقت (1964) میں اپنا سب سے شاندار اسکور بنایا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے گلوکاروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن لتا منگیشکر کے ساتھ ان کے کام کا خاص تذکرہ کیا جانا چاہیے، جس نے ان دونوں کو اپنی بہترین کارکردگی دکھائی۔ یہ افسانوی مجموعہ 1951 میں اداا (1951) کے ساتھ قائم ہوا اور ان کی موت تک (اور بعد میں) جاری رہا۔ موہن کے پاس لتا کی آواز میں بہترین آواز لانے کا یہ خاص ہنر تھا – وہ سنجوگ (1961) میں، نیلا آکاش (1965) میں جاونٹی اور میرا سایا (1966) میں پرکشش آواز دے سکتی تھی۔ تاہم، یہ جذباتی گانوں میں تھا کہ وہ اپنے بہترین تھے۔ 1970 کی دہائی میں، جب ہرے راما ہرے کرشنا (1971) جیسی فلموں کے مغربی گانے، موہن نے تب بھی شاعرانہ دھنیں ترتیب دیں۔ ان کی سخت جمالیاتی حس کی وجہ سے وہ اگر تجارتی طور پر کامیاب فلم ساز نہیں تو حساس فلم سازوں کے ساتھ بہت زیادہ مانگ میں تھے، اور انہوں نے ہرشیکیش مکھرجی، سمپورن سنگھ گلزار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے معزز ناموں کے ساتھ تعاون کیا، بیدی کے ساتھ ان کا تعاون خاص طور پر نمایاں رہا جیسا کہ دستک کے ساتھ تھا۔ 1970) کہ انہیں بہترین میوزک ڈائریکٹر کا نیشنل ایوارڈ ملا – یہ وہ واحد بڑا ایوارڈ تھا جسے ان کی زندگی میں ملا۔14 جولائی 1975 میں، 51 سال کی عمر میں، موہن کا جگر کے سیروسس سے انتقال ہو گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد دو فلمیں ریلیز ہوئیں – موسم (1975) اور لیلا مجنوں (1975) – موسیقی کی شاندار کامیابیاں بنیں۔ تاہم، تین دہائیوں کے بعد، دو فلموں نے موہن کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک اب تمہارے ہولے وطن ساتھیو (2004) تھی، ایک جنگی فلم جس نے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا عنوان حقیت (1964) کے ان کے ایک گانے سے لیا گیا تھا۔ تاہم یہ فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ دوسری فلم، ویر زارا (2004) نامی رومانوی نے ایک موسیقار کے لیے زیادہ موزوں خراج تحسین پیش کیا – ہدایت کار، یش چوپڑا نے ان کی کچھ غیر استعمال شدہ کمپوزیشنز لیں اور انہیں فلم میں استعمال کیا۔ ویر زارا (2004) کی شاندار کامیابی، خاص طور پر اس کے ساؤنڈ ٹریک نے مدن موہن کو اب تک کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا.

    مدن موہن کی موسیقی میں گائے ہوئے مشہور گیتوں میں سے کچھ گیتوں کے بول درج ذیل ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے

    تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں کیا رکھا ہے

    دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

    تیرے پاس آ کے میرا وقت گزرتا ہے

    میری یاد میں تم نہ آنسوں بہانا

    میں تو تم سنگ نین ملا کے ہار گئی سجناں

    ہم سے آیا نہ گیا تمسے بلایا نہ گیا

    وہ دیکھو جلا گھر کسی کا

  • دُکھی ڈاکٹروں کی خدمت

    دُکھی ڈاکٹروں کی خدمت

    دُکھی ڈاکٹروں کی خدمت
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    میرے لڑکپن کے دور میں ذرائع ابلاغ ریڈیو،اخبارات اورٹی وی جوکہ صرف پی ٹی وی ہی تھاپرمشتمل تھا،اس وقت ٹی وی صرف امیرگھرانوں میں ہوتا تھا،عام عوام کیلئے صرف ریڈیو ہی واحد ذریعہ تھا جس سے خبریں ،حالات حاضرہ پر تبصرے اور انٹرٹینمنٹ کے پروگرام نشر ہوتے تھے ،ہمارے گھر میں بھی اس وقت ریڈیو ہوا کرتا تھا جوکہ میرے والدمحترم کے پاس ہوتا تھاجسے ہاتھ لگانے کی ہمیں اجازت نہیں تھی ،ریڈیو پاکستان ملتان سے روزانہ نشرہونے والا پروگرام جو شمشیرحیدریاشمی اور ملک عزیزالرحمٰن کی میزبانی میں نشرہوتا تھااس پروگرام کانام تھا’جمہور دی آواز’ لیکن وہ پروگرام ملک مہر کے نام سے زیادہ مشہور تھا جسے چھوٹے بڑے بہت شوق سے سنتے تھے ،جب یہ پروگرام سردیوں کی شام تقریباََ 7بجے آن ائیرہوتا تو گھرمیں ایک پنڈال سج جاتا تھاچھوٹے بڑے اس پروگرام کوبڑے انہماک سے سنتے تھے ،اس پروگرام میں ڈرامہ چاچاڈیرے دار، قصے اور ملک ، مہرکی شاندار کمپیئرنگ اپنی مثال آپ تھی ۔

    خبروں ،حالات حاضرہ کے دیگرپروگرامز کیلئے سب سے معتبرذریعہ بی بی سی اردو ہی سمجھاجاتا تھا،اس وقت بی بی سی اردو میں رضارعلی عابدی،ثریا شہاب ،مدثرہ منظر،شفیع نقی جامعی ودیگرکی آوازیں ہواکی لہروں کے ذریعے ریڈیو پر سنائی دیتی تھی،بی بی سی اردو پر خبریں ،حالات حاضرہ کاپروگرام سیربین ،کھیل کے میدان سے شفیع نقی جامعی کا شاندارپروگرام قابل ذکر ہیں ،بی بی سی اردو اپنے سامعین کیلئے ایک تفریحی پروگرام سویرے سویرے بھی نشرکرتا تھا،جس میں مداری اور جمہورے کاکھیل پیش کیا جاتاتھا،اس کے پروگرام میں مداری جمہورے بچے سے پوچھتا ہے کہ کچھ دنوں سے تم غائب تھے ،کہاں گئے تھے ؟ تو جمہورابچہ اس کاجواب دیتا ہے کہ میں پڑھنے کیلئے سکول گیا تھا،اس کے جواب پر مداری پھر پوچھتا ہے کہ تم پڑھ لکھ کر کیا بنوگے ؟ تو جمہورابچہ اسے جواب دیتا ہے کہ میں پڑھ لکھ کر ایک مریض بنوں گا،مداری پھر سوال کرتا ہے کہ تم انجینئر،ڈاکٹر،فوجی یا بیورکریٹ کی بجائے مریض کیوں بنوگے؟اس پر جمہورابچہ جواب دیتا ہے کہ میں مریض اس لئے بنوں گا تاکہ "دکھی ڈاکٹروں” کی خدمت کرسکوں۔

    اُس وقت اُس جمہورے کی بات سمجھ سے بالاتر تھی لیکن وہ بات آج تک ذہن میں نقش ہوگئی ،آج اگر وطن عزیزمیں ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹروں کودیکھنے کے بعد سمجھ آئی کہ اس وقت جمہورے نے یہ کیوں کہا تھا کہ میں پڑھ لکھ کرایک مریض بنوں گا اور تاکہ دکھی ڈاکٹروں کی خدمت کرسکوں ۔ پہلی بات تویہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں کوئی ڈاکٹرڈیوٹی کرتا ہی نہیں ہے اگر کوئی ڈاکٹربھولے سے ہسپتال میں آجائے، مریض دیکھنے کی بجائے اسے مشورہ دیاجاتا ہے تم فلاں ہسپتال میں چلے جاؤ وہاں پرسرکاری ہسپتال کی نسبت علاج کی زیادہ بہتر سہولتیں ہیں، جب مریض بتائے گئے ہسپتال پہنچتا ہے تو سب سے پہلے اس سے بھاری بھر رقم فیس کے نام پر بٹوری جاتی ہے ،پھر لیبارٹری ٹیسٹ ،مریض اپنی مرضی سے کسی لیب سے ٹیسٹ نہیں کراسکتا چاہے اس لیب کامعیار انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کا ہی کیوں نہ ہواس کی رپورٹ ریجیکٹ کردی جاتی ہے اور کہاجاتا ہے کہ یہ رپورٹ غلط ہے آپ فلاں لیب سے ہی ٹیسٹ کراکر آؤکیونکہ وہ لیب ڈاکٹرکو بھاری کمیشن دے رہی ہوتی ہے اس لیب کارزلٹ چاہے جوبھی ہواس کی رپورٹ ڈاکٹرکوقبول ہوتی ہے اور ڈاکٹرزایسے ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں جن کامریض کی بیماری سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا،ایکسرے ،الٹراساؤنڈ،سی ٹی سکین بھی ڈیل کئے ہوئے سنٹرسے کرائے جاتے ہیں، جہاں سے باوثوق ذرائع کے مطابق ڈاکٹرکو50فیصد سے بھی زیادہ کمیشن ملتا ہے ،تقریباََ ہرپرائیویٹ ہسپتال میں اٹیچ فارمیسی ہوتی ہے جہاں پر کٹ ریٹ اور ناقص و دونمبرادویات مریضوں کودی جاتی ہیں یہ ایسی ادویات ہوتی ہیں جو باہر کے کسی بھی میڈیکل سٹورپر دستیاب نہیں ہوتیں۔ہمارے ڈاکٹرکمپنیوں کی سپانسرپر غیرممالک کے سیرسپاٹے کرتے ہیںاورفارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ڈاکٹرزبھاری کمیشن لیتے ہیں جس سے ہمارے ڈاکٹرزمسیحاکی بجائے کمیشن ایجنٹس بن چکے ہیں،انہیں صرف اپنے کمیشن سے غرض ہوتی ہے ،مریض کی بیماری سے کوئی لینادینا نہیں ہوتا،مریض ان دونمبرادویات اور غلط رپورٹوں کی وجہ سے مرتا ہے تومرجائے یا زندگی بھر کیلئے معذور ہوجائے۔

    شہروں میں قدم قدم پر قائم پرائیوٹ ہسپتال اور میٹرنٹی ہومزمیں جب ایک حاملہ خاتون نارمل چیک اپ کرانے کیلئے آتی ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ آپ کابچہ کمزور ہے اور الٹا ہے ،آپ کے بچے کی نارمل ڈلیوری نہیں ہوسکے گی ،بچہ پیداکرنے کیلئے آپریشن ہی ہوگا، ان کلینکس میں عام طور پر ایک سیزیرین سیکشن پر ایک لاکھ سے ایک ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کئے جاتے ہیں،حالانکہ سی سیکشن اس وقت ضروری ہوجاتا ہے جب ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہولیکن یہاں تو ہردوسری تیسری نوجوان ماں کا پیٹ کاٹ دیا جاتا ہے ،یہ نہیں سوچاجاتا کہ اس نوجوان ماں کو آگے چل کر کن مسائل کاسامنا کرنا پڑے گا،جب پیٹ کاٹ دیا جاتا ہے تو اس میں انفیکشن ہو سکتا ہے زخم جلدی نہیں بھرتا، کبھی خون نہیں رکتا اور کبھی پیٹ میں مستقل درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ پہلی اولاد آپریشن سے ہونے کے باعث امکان بڑھ جاتا ہے کہ ہر بار آپریشن ہی کرنا پڑے گا جس سے ان کی صحت پر انتہائی نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی سیکشن کے عمل میں بچے اور ماں کی صحت کو تین گنا زیادہ رسک ہوتا ہے۔ماں کے ان مسائل سے ڈاکٹرزکو کوئی سروکارنہیں ہے انہیں تو بس دولت سے دلچسپی ہوتی ہے، انسانیت کی خدمت اب صرف کتابوں کے محاوروں میں استعمال ہونے کیلئے رہ گیا ہے۔

    پاکستان میں ڈاکٹروں کی فیس ،ضرورت کے بغیرسی سیکشن کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لانے اور ڈاکٹروں کی علاج کے نام پر کرپشن کی روک تھام کیلئے کوئی قانون ہے ہی نہیں ،امیرلوگ اور حکمران طبقہ تواپنا علاج کرانے کیلئے مغربی ممالک کوترجیح دیتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑرہا ہے کہ آج سے 35 ،40سال قبل جمہورے بچے کی کہی بات اس طرح سچ ثابت ہوچکی ہے کہ آج ہرپاکستانی پڑھ لکھ بھی علاج کے نام پر دکھی ڈاکٹروں کی خدمت کرنے میں مصروف ہے اور نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا،اور کب تک عوام علاج کے نام پر لٹتی ،کٹتی اور مرتی رہے گی ؟

  • میڈیا سے اجتناب کرنا

    میڈیا سے اجتناب کرنا


    ہمارے اردگرد بہت شورشرابہ ہے۔ ٹی وی، یو ٹیوب چینلز، متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اور تو اور، تمام نسلوں کو میسجنگ کا نشہ ڈالنے والا موبائل فون، کثیر جہتی موضوعات پر واٹس ایپ گروپس – چوبیسس گھنٹے توجہ لیتے ہیں۔

    نوجوان نسل خاص طور پر، حقیقی زندگی میں دوستوں سے میل کے بجائے ورچوئل دوستوں، اور آن لائن تعلقات پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اوپر سے سوشل میڈیا کی ستم ظریفی کہ جہاں اس کا مقصد لوگوں کو اکٹھا کرنا ہے، وہیں یہ افراد اور ان کے ماحول کے درمیان ایک اہم خلا بھی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ عجب ستم ظریفی ہے۔ سوشل میڈیا لوگوں کو جوڑتا ہے لیکن دوسری طرف یہ صارفین کی حقیقی زندگی میں لوگوں کے ساتھ تعلق کے درمیان حائل ہوتا ہے۔

    ان کو FOMO کاخطرہ لاحق ہوجاتا ہے، یعنی ایسے احساس کہ ان کے بغیر کچھ ہو نہ جائے۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ وہ ماحول کے”اندر” نہیں ہیں اور پارٹیوں میں مدعو نہیں کیے جا رہے ہیں اور انہیں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک کمرے میں بیٹھا خاندان اکثر اپنے آپ کو اپنے موبائل میں مشغول اور ایک دوسرے کے ساتھ کم ہی پائے گا۔

    مزید برآں، سوشل میڈیا کی لت اکثر صحت مند سرگرمیوں سے غفلت کا باعث بنتی ہے. مثلاً کھیل، ورزش، اور باہر وقت گزارنے سے۔ اس کاہلی والے طرز زندگی کے نتیجے میں صحت کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    ایک دوست نے مجھے ایک اقتباس بھیجا، مصنف نامعلوم، "آج سٹاربکس میں ایک آدمی کو دیکھا۔ نہ آئی فون، نہ ٹیبلیٹ، نہ لیپ ٹاپ۔ وہ بس وہیں بیٹھا تھا۔ کافی پی رہا تھا۔ بلکل جیسے کوئی نفسیاتی مریض ہو۔” اس بات نے مجھے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔ کیا ہم نے سادہ خوشیوں کی لذت نہیں کھو دی؟ گھر والوں کا ایک ساتھ ناشتہ کرنا؟

    خط لکھنے اور وصول کرنے کی خوشی؟ پوسٹ کارڈز؟ اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی زندگی کے قصے کہانیاں سننا؟ ہماری یادداشت میں ہمیشہ کے لیے رہنے والی تصویر کی خواہش،بزرگوں سے عیدی ملنے کی خوشی، زیادہ بڑی رقم نہیں بلکہ وہ رقم جو احساس کے اعتبار سے معنی خیز تھی؟ تمام خاندان کا ایک گھر میں کھانے پر آنا؟ بچوں، نوجوانوں، اور بزرگوں سے بھرے ہوۓ کمرے؟ عید کی روایتی سوغات۔ چاندی کے ورق والی میٹھی سویاں، حلوے کے میٹھے ٹکڑے، کھٹی اور مسالے دار چاٹ، مختلف اقسام کے سموسے، کباب، شیرمال اور نان کے ساتھ نہاری، شیرہ ٹپکتی ہوئی گھریلو گلابی جامن۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    غم کے مواقع پر، مثلاً موت، یا بیماری کے وقت، متاثرہ گھر والوں کو خاندان کے دیگر افراد نے ایسے جیسے گھیر لیا ہو، کوئی کھانا لے کر آرہا ہو گا، یا ہسپتال میں مریض کے ساتھ رہنے آیا ہو گا، یا صرف سہارا دینے کے لیے وہاں موجود ہو گا۔

    مشکل اوقات میں برادری اور تعلق کا یہ احساس بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے. کیونکہ خاندان علیحدہ ہوتے جارہے ہیں اور لوگ ورچوئل دنیا میں مجذوب ہوتے جارہے ہیں۔