Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز

    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز

    اس نے کہا تھا جو بھی ، مانا اسی کو سب نے
    اس کی وجہ سے اب تو شہرت بدل گئی ہے

    مسرت ناز

    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری

    اردو ، پنجابی اور انگریزی کی معروف ادیبہ و شاعرہ مسرت ناز صاحبہ کا تعلق گجرانوالہ پنجاب (پاکستان)سے ہے ۔ ان کے والد محترم کا نام عطا محمد، والدہ محترمہ کا نام صفیہ نور اور خاوند محترم کا نام بابر محمود ہے ۔ وہ 6 بہن بھائی ہیں جن میں وہ چوتھے نمبر پر ہیں ۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ ایف اے تک تعلیم حاصل کی ہے اور شادی کے بعد امور خانہ داری میں مصروف ہو گئیں ۔

    ماشاء اللہ ایک بیٹی کی ماں ہیں ۔ ان کے خاندان میں عورت کے شعر و شاعری کو معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیئے انہوں نے اپنے گھر والوں سے چھپ کر لکھنا شروع کیا۔ لکھنے کا عمل انہوں نے 13 سال کی عمر سے کیا۔شاعری میں انہوں نے پہلے علامہ ماجد الباقری صاحب اور بعد میں جان کاشمیری صاحب سے بھی اصلاح لی ۔ مسرت ناز صاحبہ حمد ، نعت، گیت، غزل، ملے نغمے ، افسانے اور بچوں کی کہانیاں لکھتی ہیں۔

    ان کے یہاں 20 کتابوں کا مواد موجود ہے جن میں سے اب تک ان کی 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 روحانی دعائیں (اسماء الحسنی پر مشتمل)2 ۔ میری سوچ (اقوال زریں پر مشتمل)3 . من کی راکھ (شعری مجموعہ)4 . عطائے نور(نعتیہ کلام پر مشتمل) 5 ۔ گلدستہ(بچوں کی کہانیوں پر مشتمل) شامل ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی خاتون لکھاری ہیں کہ جن کی 10 کتابیں ” ون لائن” کے تحت لکھی گئی ہیں اور گیارہویں لکھ رہی ہیں ۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی بقیہ 15 کتابوں کے مسودے تیار ہیں اور ان شاء اللہ جلد شائع ہو کر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔ مسرت ناز بھی دیگر اکثر ادباء اور شعراء و شاعرات کی طرح پاکستان کے سرکاری ادبی اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں ۔ وہ مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اس کی وجہ شاید گھریلو مصروفیات اور کتابیں لکھنے کا عمل ہے۔

    غزل

    غم کھا گئے ہیں دل کو صورت بدل گئی ہے
    دیوار پر لگی جو مورت بدل گئی ہے

    چڑیوں کے گیت سن کر گانے لگے تھے ہم بھی
    سوچا یہی تھا شاید قسمت بدل گئی ہے

    اس نے کہا تھا جو بھی مانا اسی کو سب نے
    اس کی وجہ سے اب تو شہرت بدل گئی ہے

    زخم جگر کو سی کر کرنا ہمیں کیا اب ہے
    دن رات اپنی کیسے حاجت بدل گئی ہے

    اس کو سنوار کر ہم ٹوٹے ہیں اپنے ہاتھوں
    اس کی ہماری پل میں حالت بدل گئی ہے

    ہیں انتظار کرتیں اب بھی حوائیں مل لو
    کہتے ہیں لوگ اب تو عورت بدل گئی ہے

    نظروں میں ہم تھے اس کی دنیا ہمیں سے روشن
    جو بھی جڑی تھی ہم سے راحت بدل گئی ہے

    چپ چاپ مدتوں تک نفرت چھپا کے پھرنا
    وہ تو نہیں ہیں بدلے چاہت بدل گئی ہے

    بستے ہیں پتلیوں میں اب بھی وہی جو کل تھے
    الزام دے رہے ہیں نیت بدل گئی ہے

    لالی جو چھا رہی ہے آنکھوں کے آسماں پر
    پھولوں کی جیسے ساری رنگت بدل گئی ہے

    وہ بے وفا ہے لیکن یہ مانتے نہیں وہ
    نسبت ملی جو ان کی تہمت بدل گئی ہے

    رزق حلال دیتا ہے ان کو جو نہ مانے
    خالق نہیں ہے بدلا خلقت بدل گئی ہے

    اشکوں سے دوستی کی اپنی سزا ہے نازی
    بچھڑے وہ جب کے ہم سے وقعت بدل گئی ہے

    مسرت ناز

  • پاکستان میں بنیاد پرستی کا ارتقاء

    پاکستان میں بنیاد پرستی کا ارتقاء

    انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے درمیان واضح فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیاد پرستی انتہا پسندی کا پیش خیمہ ہے۔ بہرحال یہ ممکن ہے کہ کوئی بنیاد پرست ہو لیکن انتہا پسند نہ ہو۔ لیکن ایک انتہا پسند کا بیک وقت انتہا پسند اور بنیاد پرست دونوں ہونا ضروری ہے۔ ایک بنیاد پرست فرد یا بنیاد پرست لوگوں کا گروہ انتہائی مذہبی، سیاسی اور سماجی عقیدہ تیار کرتا ہے۔ تاہم، پرتشدد انتہا پسندی بنیاد پرست لوگوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو دھمکیوں، خوف اور دہشت گردی کا استعمال کرکے تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

    اگر ہم اسے وسیع تر معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بنیاد پرستی کو ایسے لوگوں کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جو بہت مختلف عقائد پر یقین رکھتے ہیں لیکن "دوسروں” کی قیمت پر نظام کو تبدیل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ یہ ایسا کرنے کے لیے پرتشدد انتہا پسندانہ طریقوں کی تلاش نہیں کرتے، دوسری طرف انتہا پسندی اپنے سیاسی ایجنڈے کو دوسروں کی قیمت پر نافذ کی جاتی ہے،

    ہم اکثر دونوں اصطلاحات کو مترادف استعمال کرتے ہیں۔ لیکن واضح طور پر، وہ ایسے نہیں ہیں.

    پاکستان میں بنیاد پرستی کی بنیاد بڑے پیمانے پر رکھی گئی تھی، [میں لفظ "بڑے پیمانے پر” استعمال کرتی ہوں] اس ایک عمل سے: پاکستان کے آئین 1973 میں قرارداد مقاصد کو شامل کرنے سے قانونی الجھنیں پیدا کرنے میں ایک سنگ میل کے طور پر کام کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں منفی سماجی اثرات مرتب ہوئے۔

    ملک کا نام جمہوریہ پاکستان سے تبدیل کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کر دیا گیا۔ قلم کی ضرب سے قوم کے کردار میں ڈرامائی تبدیلی آ گئی۔ بحث چھڑ گئی کہ پاکستان کیسا ملک ہونا چاہیے۔ نئے فریم ورک میں فٹ ہونے کے لیے سمجھوتے کیے گئے۔

    اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا (آرٹیکل 2)۔ ریاست اور مذہبی کے درمیان تعلق ایک پرانی بحث ہے۔ تاہم، کسی بھی قانونی دستاویز میں دو عناصر جنہیں ایک دوسرے کے متوازن رکھنا چاہیے وہ مساوات اور مذہب کی آزادی کے اصول ہیں

    بدقسمتی سے، ریاست اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسلام کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے مختلف مذہبی تنظیموں اور مختلف فرقوں کے علماء کی حمایت کی گئی۔ ان قانونی الجھنوں اور پھیلاؤ کے اثرات نے پاکستان کو ایک جدید فعال ریاست کے طور پر کام کرنے کے لیے سخت آزمائش میں ڈالا ہے۔

    ان الجھی ہوئی گرہوں کو کھولنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے کثیر داخلی اور خارجی عوامل کی تردید نہیں کرتا، جو پیچیدہ معاملات رکھتے ہیں لیکن یہ ایک نئے دن کے لئے ایک نئی بحث ہے۔

  • جدید اردو نظم کے بانی؛  نون میم راشد کا تعارف

    جدید اردو نظم کے بانی؛ نون میم راشد کا تعارف

    کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
    سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا
    ن م راشد

    جدید اردو نظم کے بانی اور آزاد نظم کے پہلے شعری مجموعے ” ماورا” کے خالق نذر محمد جنجوعہ المعروف ن م راشد یکم اگست 1910 میں ضلع گجرانوالہ کے قصبہ علی پور چٹھہ کے اکال گڑھ کے ایک زمیندار اور ڈپٹی انسپکٹر اسکولز راجہ فضل الاہی چشتی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و میٹرک اکال گڑھ میں بقیہ تعلیم لائل پور اور لاہور میں حاصل کی۔ 1935 میں اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کی جس کا 1961 میں انتقال ہوا جس کے بعد انہوں نے 1963 میں ایک برطانوی خاتون شیلا انجیلی سے شادی کی ۔

    ن م راشد نے تعلیم سے فراغت کے بعد کمشنر آفس ملتان میں ملازمت کی۔ اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ وہ ریڈیو لکھنو اور پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر رہے ۔ کچھ عرصہ فوج میں ملامت کی جس کے بعد آئی ایس پی آر میں ملازمت کی اس دوران ایران، عراق، مصر اور سری لنکا میں تعینات رہے۔ کچھ عرصہ بعد اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات میں ملازم رہے اس دوران نیو یارک، کراچی اور جکارتہ میں تعیناتی رہی ۔

    گھڑ سواری ، تیراکی اور کشتی رانی کے شوقین رہے۔ ن م راشد نے 7سال کی عمر میں ” انسپکٹر اور مکھیاں” کے عنوان سے پہلی نظم کہی جبکہ باقاعدہ شاعری کا آغاز انہوں حمدیہ اور نعتیہ شاعری سے کیا۔ 1942 میں ان کی آزاد نظموں کا شعری مجموعہ” ماورا” شائع ہوا جو کہ اردو میں آزاد نظموں کی پہلی کتاب ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں ” لا_انسان” ایران میں اجنبی اور ” گمان کا ممکن” شامل ہیں۔ 9 اکتوبر 1975 میں لندن میں ان کا انتقال ہوا وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں مذہب بیزار ہو چکے تھے چناں چہ انہوں نے اپنی نعش کو جلانے کی وصیت کر دی تھی اس لیے ان کی اہلیہ شیلا نے ان کے جسد خاکی کو نذر آتش کرا دیا تھا جبکہ ن م راشد کے بیٹے اپنے والد کی لاش کو جلانے کے حق میں نہیں تھے لیکن ان کی ماں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے آنے سے پہلے ہی اپنے شوہر کی وصیت پر عمل درآمد کر دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حماس حملے؛ ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 800 سے بھی تجاوز کرگئی
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی
    تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
    دل میں ترے وہ ذوقِ محبت نہیں رہا

    پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے
    تو ہی حریفِ ذوقِ سماعت نہیں رہا

    آئیں کہاں سے آنکھ میں آتشِ چکانیاں
    دل آشنائے سوزِ محبت نہیں رہا

    گل ہائے حسنِ یار میں دامنِ کشِ نظر
    میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

    شاید جنوں ہے مائلِ فرزانگی مرا
    میں وہ نہیں وہ عالمِ وحشت نہیں رہا

    ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگِ ناگہاں
    میں اب اسیر گردشِ قسمت نہیں رہا

    جلوہ گہہِ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج
    لو میں رہین زحمتِ خلوت نہیں رہا

    کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
    سر میں اگر وہ شوقِ شہادت نہیں رہا

    ن م راشد

  • کو ن تنازعات  کو حل کروائے گا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کو ن تنازعات کو حل کروائے گا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ سمیت عالمی طاقتوں ، اقوام متحدہ ،او آئی سی ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے صدیوں سے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔لاکھوں انسان موت کی آغوش میں چلے گئے۔ جنگ کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان تازہ ترین جنگ میں عام لوگ ہی اس کی زد میں ہیں۔ مخلوق خدا کا خون سڑکوں ، گلیوں ، محلوں میں بہہ رہا ہے ۔ عورتوں اور بچوں کا بھی خون اور لاشیں سڑکوں پر نظر آرہی ہیں۔

    فلسطین اوراسرائیل کا تنازعہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اگر امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اور دیگر عالمی ادارے صدیوں پر مشتمل یہ تنازعات حل نہیں کروا سکے تو پھر کو ن تنازعات کو حل کروائے گا؟ ۔ عراق ، افغانستان ، شام ، لیبیا ، فلسلین ، کوسوو ، بو سنیا اور میانمار لاکھوں مکانوں کو شہید کردیا گیا موجودہ دور کو تاریخ کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے ۔ ان ممالک میں سب کچھ عالمی دنیا اور عالمی اداروں اور امیر ترین مسلم ممالک کے سامنے ہو ا۔ مسلمان ممالک کی اکثریت کو یہ اُمید ہوتی ہے کہ امیر ترین عرب ممالک ان کی مدد کریں گے۔ مگر آج عرب ممالک خود اپنی پالیسیوں کی بدولت مال و دولت کے باوجود مصیبت زدہ ہیں۔ دنیا بھر کے مسلم ممالک غور کریں مسلمان ممالک دنیا کی کمزور ترین قوم کیوں ہیں؟ علم سے دوری بیشتر ممالک ، دوسری قوتوں کے رحم وکرم پر ہیں۔

    جذباتی تقریر یں نہیں عمل کی ضرورت ہے۔ علماء کرام کا عالم یہ ہے جو اپنے مائیک کی تار ٹھیک نہیں کر سکتا وہ اغیار کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں ۔ دنیا پر غالب آنے کی بات کرتے ہیں۔ مسلمان ابھی تک استنجا خانے صاف رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ رَبِ زِدنِی علماکو چھوڑ دیا ۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کو چھوڑ دیا۔ جہاں تک تازہ ترین فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعات طول پکڑ رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی تو عالمی دنیا کو سمجھنا چاہیئے کہ اگر غزہ میں زندگی جہنم ہو تو اسرائیل کبھی جنت نہیں ہوگا اور یہی کچھ بھارت کے لئے بھی ہے۔

  • ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا م کو  بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل

    ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا م کو بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل

    ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا کا شمار روس کی ممتاز شعراء میں ہوتا ہے ان کے کام کو بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے‎۔
    مارینا ایوانوونا تسوتایوا نے 1917 کی روسی انقلاب اور روسی خواتین کے حقوق کے بارے میں نظمیں لکھی ہیں 1919ء میں انہوں نے اپنی بچی آریادنا عفرن کو قحط سے بچانے کی غرض سے ان کو سرکاری یتیم خانے میں داخل کروایا جہاں وہ بھوک کی وجہ سے مرگئی اور صدمے کے باعث اور قحط سے بچنے کے لیے 1922ء میں اپنے خاندان کے ساتھ تسوتایوا نے روس سے پیرس کا رخ کیا اور کچھ عرصہ برلن میں بھی رہائش اختیار کی اور 1929ء میں واپس ماسکو آ گئے۔ ان کے شوہر سرگئی عفرن اور اس کی بیٹی آریادنا عفرن(عالیہ) کو 1941ء میں گرفتار کر لیا گیا اور ان کے شوہر کو پھانسی دی گئی اسی صدمے کی وجہ سے تسوتایوا نے 1941ء میں خود کشی کرلی۔ ان کی خوبصورت شاعری آج بھی ان کی یاد دلا رہی ہے۔

    مارینا ایوانوونا تسوتایوا ماسکو، روس میں پیدا ہوئیں، آپ جامعہ ماسکو میں فائن آرٹس کی پروفیسر ایون ولادمیرووچ تسویتایوف کی بیٹی ہیں جس نے بعد میں الگزینڈر سوم میوزیم کی بنیاد رکھی، تسوتایوا کی ماں ماریہ الگزینڈرونا میئن (ایون کی دوسری بیوی) جو ایک مشہور پیانو نواز تھی اور اسے جرمن اور پولش زبان پر عبور حاصل تھا۔

    تسوتایوا کی سوتیلی بیٹیوں میں والیریا اور اندریئی بھی تھیں جو ہروقت آپس میں لڑتی تھیں جس کی وجہ سے تسوتایوا کی ماں اور واوارا (ایون کی پہلی بیوی) میں ہمیشہ ان بن رہتی تھی آپ کے والد نہایت نرم خو اور نرم دل تھے، شادی سے پہلے ماریا تسوتایوا کو کسی سے عشق ہو گیا تھا اور انہوں نے اپنے عاشق کے بارے میں بے شمار رومانوِی اشعار لکھے جو بہت پسند کیے گئے۔

    ماریا تسوتایوا نے بجائے اپنی بیٹی کو شاعرہ بنانے کے پیانو نواز بنانے کی ٹھان لی اور اس فن میں انہوں نے مہارت حاصل کی۔
    1902ء میں ماریا تسوتایوا کی والدہ ٹی بی کے مہلک بیماری کے باعث بیمار ہوگئیں تو ڈاکٹروں نے انہیں کسی صحت افزا مقام پر منتقل کرنے کا مشورہ دیا تو ان کے خاندان نے کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک چلے گئے جہاں 1906ء میں ان کی والدہ کا بھی انتقال ہو گیا والدہ کے انتقال کے وقت ان کی عمر 14 سال تھی۔

    یہ جون 1904 کی بات ہے کہ جب ماریا تسوتایوا لاوسانی نامیاسکول میں داخل کروایا گیا رہائش کی تبدیلی نے بھی ماریا تسوتایوا کی زندگی پر بہت گہرے نقوش چھوڑے اور اس سفر کے دوران میں انہوں نے اٹالین، فرنچ اور جرمن زبانوں میں عبور حاصل کیا انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ ”مجھے اپنی ماں کی طرح شاعرہ بننے کا شوق تھا“۔

    1908ء میں جب ان کی عمر 16 سال تھی تو انہوں نے جامعہ پیرس، سوربون میں ادبی تاریخ کا تفصیلی مطالعہ شروع کیا اس زمانے میں روسی شاعری میں ایک انقلابی تبدیلی رونما ہو رہی تھی۔ انہوں نے چھ ڈرامے اور بے شمار اشعار تخلیق کی ہیں 1917 اور 1922 کے درمیاں انہوں نے امن کے حق میں اور جنگ کے خلاف اپنے مخصوص انداز میں اشعار لکھے جن کو بہت پسند کیا گیا۔ مئی 1922ء میں ماریہ اور اریادنا نے سویت یونین سے برلن میں عفرن کے پاس چلی گئیں بعد میں بولشیوک نے عفرن کو قتل کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری کا پہلا مجموعہ علیحدگی کے عنوان سے شائع کروایا جسے کافی پذیرائی حاصل ہوئی‎۔

    1925ء میں ان کا خاندان پیرس چلا گیا جہاں انہوں نے 14 سال گزارے‎۔ جہاں ان کو ٹی بی کی بیماری لگ گئی اور چیک حکومت نے ان کے لیے معمولی سا اعزازیہ جاری کیا جو ادیبوں اور دانشوروں کے لیے چیک حکومت کی طرف سے ایک معمولی سا اعزازیہ تھا‎۔ ‎‎ ان کے بیٹے جیوفری نے دوسری جنگ عظیم میں شرکت کی اور 1944ء میں دوران میں جنگ مارا گیا۔ اس کی بیٹی اریادنا 16 سال تک روس میں قیدو بند کی صعوبیتیں برداشت کرتی رہی اور 1955ء کو ان رہا کر دیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کا انٹیلی جنس ماہرین بھرتی کرنے کا فیصلہ
    سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
    آسٹریلیا کی بھارت کے خلاف بیٹنگ جاری،8 کھلاڑی آؤٹ
    یلابوگا نامی شہر میں اب ماریا تسوتایوا کے گھر کو حکومت نے ان کی یاد میں عجائب گھر بنا دیا ہے اور ان کی لازوال شاعری کو روسی حکومت نے 19٦1ء میں دوبارہ شائع کروایا ۔ 1990 ‎میں غدنیا، پولینڈ میں روسی سائنس اکیڈمی نے ایک یادگاری جہاز بناکر ان کے اعزاز میں جاری کیا۔‎

  • میرپورخاص:مسٹر و جونیئر مسٹر باڈی بلڈنگ چیمپین شپ 2023 منعقد ہوئی

    میرپورخاص:مسٹر و جونیئر مسٹر باڈی بلڈنگ چیمپین شپ 2023 منعقد ہوئی

    میرپورخاص،باغی ٹی وی (نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ )گولڈز جیم فٹنس کلب کی جانب سے دوسرا شاہ مراد بلوچ مرحوم اوپن ڈویژن میرپورخاص باڈی بلڈنگ چیمپین شپ 2023 مسٹر سینئر و جونیئر میرپورخاص ڈویژن باڈی بلڈنگ کونٹیسٹ2021-22 مقابلے اجرک کلب میرپورخاص میں منعقد ہوئے جس میں مختلف اضلاع کے45 تن سازوں نے حصہ لیا پروگرام میں چیئرمین یونین کونسل حاجی محمدعلی راجپوت، سردار ذیشان وسان،فیصل وسان نے شرکت کی ججنگ کے فرائض عمران ناگوری اور رمیزابراہیم خان، آفاق احمدانی اورشعیب جیلانی نے انجام دئیے

    پروگرام میں جنرل سیکریٹری میرپورخاص و سندھ جمال بلوچ،ڈویژنل صدر آفتاب بلوچ، ضلعی سیکریٹری عبدالسلام بلوچ،غفار خان اور دیگر تن سازوں نے بھی شرکت کی، تن سازی کے جونیئرکلاس اے مقابلے میں پہلی پوزیشن گولڈ جیم کےاسد علی، دوسری گولڈ جیم کے یاسر،تیسری گولڈ جیم کے دانیال،چوتھی علی خان جیم کے فضیل،پانچویں زیڈ ایم جیم کے مکرم خان اورچھٹی پوزیشن آرم اسٹرونگ جیم جھڈو کے محمد رضا نے حاصل کی مسٹر جونیئر میرپورخاص ڈویژن 2021 گولڈجیم کے اسد بلوچ، مسٹر جونیئر میرپورخاص ڈویژن 2022 ایم ایچ جیم کے سیف الرحمان،مسٹر سینئر میرپورخاص ڈویژن 2021گولڈ جیم کے غلام مصطفی،مسٹرسینئر میرپورخاص ڈویژن 2022زین بن منصور، مسٹر جونیئر ماڈل فزکس میرپورخاص ڈویژن 2023 ایم ایچ جیم کے سیف الرحمان، مسٹر سینئر ماڈل فزکس میرپورخاص ڈویژن 2023 ایم ایچ جیم کے زید بن منصورنے حاصل کیا،سینئر کلاس
    بی میں پہلی پوزیشن گولڈ جیم کے حسام بلوچ، دوسری گولڈ جیم کے غلام مصطفی، تیسری گولڈ جیم کے دلاور، چوتھی گولڈ جیم کے مکیش نے حاصل کی

    سینئر کلاس اے میں پہلی پوزیشن ایم ایچ جیم کے زید بن منصور، دوسری گولڈجیم کے اویس قریشی، تیسری گولڈ جیم کے فہیم بلوچ نے حاصل کی۔ اس موقع پرچیئر مین محمد علی سردار زیشان وسان فیصل وسان غفار خان آفتاب بلوچ علی بلوچ جمال بلوچ سلام بلوچ نے پوزیشن حاصل کرنے والے تن سازوں میں ٹرافیاں تقسیم کیں۔

  • ایلزا بیتھ  بشپ کا یوم وفات

    ایلزا بیتھ بشپ کا یوم وفات

    ایلزا بیتھ بشپ (امریکی شاعرہ و کہانی نویس)
    یوم وفات : 6 اکتوبر 1979
    بیسویں صدی کی انگریزی کی معروف امریکی شاعرہ اور کہانی نویس ایلزا بیتھ بشپ 8 فروی 1911 میں وارسٹر میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والدین کے نام گرٹڈ مے بلمر اور ولیم تھامس تھا۔ انہوں نے وارسر کالج نیو یارک سے گریجویشن کیا ۔ وہ ایک روشن خیال ادیبہ اور شاعرہ تھیں ۔ ان کی ادبی نگار شات اور شاعری کی اشاعت کا آغاز امریکہ کے ایک معروف ادبی رسالے Trile Balanc میں چھپنے سے ہوا۔

    ایلزا بیتھ بشپ کی کہانیوں اور شاعری میں خواتین کے حقوق اور ان حسن و جمال کی اہمیت کا تذکرہ زیادہ تھا جس کی وجہ سے کچھ حلقوں کی جانب سے ایلزابیتھ پر ہم جنس پرستی کے الزامات بھی لگائے گئے لیکن ایلزابیتھ بشپ کی جانب سے ان الزامات کے متعلق کسی بھی قسم کی وضاحت یا تصدیق و تردید نہیں کی گئی شاید انہوں نے اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی یا مناسب نہیں سمجھا۔ ایلزابیتھ نے خواتین کے حقوق کے لیے فعال کردار ادا کیا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارتی فوجی میجر نے اپنے ہی افسران پر فائر کھول دیئے
    انڈیا میں‌پاکستانی فنکاروں کی بہت قدر کی جاتی ہے روبی انعم
    ایلزا بیتھ بشپ کا یوم وفات
    ان کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں جو کہ کہانیوں اور شاعری پر مشتمل ہیں ۔ ایلزابیتھ بشپ کی اہمیت اور حیثیت کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک معروف امریکی فلمساز بابرا ہوکر نے ان کی شخصیت پر This House on Elzabeth Bishop کے نام سے ایک فلم بنائی ۔انہیں متعدد ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا خاص طور پر 1976 میں عالمی ادبی ایوارڈ دیا گیا جبکہ وہ واشنگٹن میں شعر و ادب کے شعبے کی سرکاری مشیر کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔ امریکہ کی اس خوب صورت کہانی نویس اور شاعرہ ایلزابیتھ بشپ کا انتقال 6 اکتوبر 1979کو واشنگٹن میں ہوا۔

  • 2019 کرکٹ ورلڈ کپ کے ہیروز کی شاندار کارکردگی کے یاد میں

    2019 کرکٹ ورلڈ کپ کے ہیروز کی شاندار کارکردگی کے یاد میں

    2019 کا کرکٹ ورلڈ کپ ہمیشہ کے لیے کرکٹ کی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش لمحات اور شاندار پرفارمنس سے بھرا ٹورنامنٹ کے طور پر لکھا جائے گا۔ انگلینڈ اور ویلز میں منعقد ہونے والے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے 12ویں ایڈیشن میں کرکٹ کے ہیروز کو اس موقع پر ابھرتے ہوئے دیکھا گیا، جس نے شاندار لمحات پیش کیے جس نے شائقین کو حیرت میں ڈال دیا۔ آئیے ان ہیروز پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو اس باوقار تقریب میں چمکے تھے۔

    کین ولیمسن – دی کیوی کپتان کول
    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کین ولیمسن 2019 ورلڈ کپ کے شاندار کارکردگی دکھانے والوں میں سے ایک کے طور پر ابھرے۔ دباؤ میں اس کا پر سکون انداز دیکھنے والا تھا۔ 80 سے زیادہ بلے بازی کی اوسط کے ساتھ، انہوں نے بلے کے ساتھ سامنے سے قیادت کی، اپنی ٹیم کے لیے اہم رنز بنائے۔ ولیمسن کی قیادت اور اسپورٹس مینشپ کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا، اور اس کی ٹیم ٹورنامنٹ جیتنے کے قریب پہنچی، ایک ڈرامائی فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا۔
    <img src="https://login.baaghitv.com/wp-content
    بین اسٹوکس –
    نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل میں بین اسٹوکس کی کارکردگی دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی یادوں میں ہمیشہ کے لیے نقش رہے گی۔ فائنل میں ان کی شاندار سنچری اور سپر اوور میں ان کے اہم کردار نے اس بات کو یقینی بنایا کہ انگلینڈ نے اپنی پہلی کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کی۔ سٹوکس کی ناقابل تسخیر جذبے اور ہمہ جہت صلاحیتوں نے انہیں ٹورنامنٹ کا حقیقی ہیرو بنا دیا۔

    روہت شرما – رن مشین
    ہندوستانی اوپنر روہت شرما 2019 ورلڈ کپ کے دوران رن اسکور کرنے والی مشین تھے۔ انہوں نے ایک ہی ٹورنامنٹ میں ریکارڈ توڑ پانچ سنچریاں اسکور کیں، حیران کن 648 رنز بنائے۔ سیمی فائنل تک ہندوستان کے سفر میں روہت کی خوبصورتی اور ترتیب کے اوپری حصے میں مستقل مزاجی نے اہم کردار ادا کیا۔

    مچل سٹارک – دی سپیڈسٹر
    آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں سے ایک کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرتے رہے۔ 27 وکٹوں کے ساتھ، اسٹارک ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر کے طور پر ختم ہوئے۔ ان کی مہلک رفتار، سوئنگ، اور اننگز میں ابتدائی اور دیر سے حملہ کرنے کی صلاحیت نے انہیں آسٹریلیا کے سیمی فائنل تک مارچ میں اہم شخصیت بنا دیا۔

    شکیب الحسن – بنگلہ دیشی سنسنیشن
    بنگلہ دیش کے سٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن کے پاس یاد رکھنے والا ٹورنامنٹ تھا۔ انہوں نے بلے اور گیند دونوں سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے 600 سے زائد رنز بنائے اور 11 وکٹیں حاصل کیں۔ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی شاندار کارکردگی میں شکیب کی شراکت اہم تھی۔

    جوفرا آرچر – انگلینڈ کا ابھرتا ہوا ستارہ
    بارباڈوس میں پیدا ہونے والے فاسٹ باؤلر جوفرا آرچر نے 2019 کے ورلڈ کپ کے دوران عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی۔ اس کی تیز رفتاری اور دباؤ میں ڈیلیور کرنے کی صلاحیت نے اسے انگلینڈ کے لیے ایک اہم اثاثہ بنا دیا۔ آرچر نے فائنل میں سپر اوور کرایا اور انگلینڈ کی تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔

    محمد عامر – پاکستان کے Ace
    بائیں ہاتھ کے پاکستانی فاسٹ باؤلر محمد عامر نے پورے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی مہارت اور کنٹرول کا مظاہرہ کیا۔ ان کی اہم وکٹوں اور مسلسل کارکردگی نے پاکستان کے دیر سے اضافے میں اہم کردار ادا کیا، وہ سیمی فائنل میں آسانی سے باہر ہو گئے۔

    لاستھ ملنگا – سری لنکا کے سلنگر
    سری لنکا کے فاسٹ باؤلر لاستھ ملنگا نے اپنی چالاک تغیرات کے ساتھ عمر اور توقعات کی خلاف ورزی جاری رکھی۔ گیند کے ساتھ ملنگا کے میچ جیتنے والے اسپیلز نے ان کی پائیدار کلاس کا مظاہرہ کیا اور انہیں سری لنکا کے لیے ایک اہم اثاثہ بنا دیا۔


    2019 کا کرکٹ ورلڈ کپ کرکٹ کی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ تھا، جس میں مختلف ٹیموں اور پس منظر سے آنے والے ہیروز تھے۔ ان کھلاڑیوں نے کھیل کے جذبے کی مثال دی، جب یہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا تو قابل ذکر مہارت، ہمت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ چاہے وہ کین ولیمسن کی قیادت ہو، بین اسٹوکس کی بہادری، روہت شرما کی رن اسکورنگ کی مہم، یا مچل اسٹارک کی جان لیوا باؤلنگ، ہر کھلاڑی نے ٹورنامنٹ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔
    دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کرکٹ ورلڈ کپ کے اگلے ایڈیشن کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، اس امید میں کہ وہ مزید شاندار پرفارمنس اور ناقابل فراموش لمحات کا مشاہدہ کریں گے جو اس خوبصورت کھیل کے جوہر کی وضاحت کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم 2019 ورلڈ کپ کے ہیروز کا جشن منا رہے ہیں، ہم کرکٹ کے مسلسل ارتقاء اور آنے والے سالوں میں نئے ستاروں کے ابھرنے کے منتظر ہیں۔

  • بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)

    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)

    پاکستان میں ہر سال اکتوبر کا مہینہ بریسٹ کینسر سے آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ مہینہ شروع ہوتا ہے تو میری نظر میں کئی ایسے قریبی رشتہ دار اور دوست احباب گھومنے لگتے ہیں جو بریسٹ کینسر کا شکار ہوئے اور آج ہم میں موجود نہیں۔ تب معاشرے میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے زیادہ آگاہی موجود نہیں تھی۔ گو کہ علم ہونے پر علاج کیلئے بہت بھاگ دوڑ ہوئی۔ کوئی ہسپتال، پیر، فقیر نہیں چھوڑا گیا۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر علاج کی ہر کوشش کی گئی۔ مگر بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ بریسٹ کینسر سے آگاہی کا مہینہ میرے اندر مذکورہ تمام متاثرین اور لواحقین کے دُکھ تازہ کر دیتا ہے۔
    مختلف بیماریوں سے نہ صرف آگاہی رکھنا، بلکہ ان کے علاج کی کوشش ہر فرد کا حق ہے۔ اس کا خود کو اس حق سے محروم رکھنا اپنے ساتھ ایک ایسی زیادتی ہے جس کا ازالہ سالوں بھگتنا پڑتا ہے۔ خواتین میں چھاتی کے بڑھتے سرطان کی ایک بڑی وجہ جھجک ہے۔ ”لوگ کیا کہیں گے“ یا، معمولی مسئلہ سمجھ کر پہلے ایسی بیماری کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا پھر دیسی ٹوٹکوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب بات بگڑ جاتی ہے تو علاج کیلئے یہاں وہاں بھاگا جاتا ہے، مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ حالانکہ ماہرین کا موقف ہے کہ بریسٹ کینسر ایسی بیماری ہے جس کو ابتدائی طور پر ہی پکڑا جا ئے تو بچنے کے چانسز 95 فیصد سے زائد ہوتے ہیں۔ تاہم دنیا کے بدلتے مزاج اور ترجیحات کے ساتھ ساتھ اب صورتحال مختلف ہوچکی ہے۔ جس معاشرے میں پہلے مذکورہ حوالے سے بات کرنے میں جھجک آڑے رہتی تھی، وہاں اب ”پنک ربن“ نامی ایک پلیٹ فارم کی وجہ سے خواتین میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ سے آگاہی اور مختلف ہدایات دینے کے ضمن میں منظم آگاہی مہم بھرپور انداز میں چلائی جاتی ہے اور علاج میں کوتاہی نہ برتنے بارے انہیں خبردار کیا جاتا ہے۔
    پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح پورے ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر 9 میں سے 1 خاتون کو بریسٹ کینسر ہونے کا رسک ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد خواتین بریسٹ کینسر کے رسک پر ہیں۔ پاکستان تھرڈ ورلڈ ممالک سے تعلق رکھنا والا وہ ملک ہے جہاں 60 فیصد سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں لوگ مہنگے علاج کے خوف سے بھی ہسپتالوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر تشخیص کی مناسب فیس بھی وصول کرے تو ادویات ہی اس قدر مہنگی ہوتی ہیں کہ انہیں ریگولر بنیادوں پر لیتے رہنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے آغاز میں چھاتی میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو معمولی گردانا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں جو 18 میموگرام مشینیں انسٹال کی ہیں، ان سے استفادہ کرنے والی خواتین کی تعداد بے حد مایوس کن ہے۔تحقیق بتاتی ہے کہ اسی رویے کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد خواتین اُس وقت ہسپتال میں علاج شروع کرواتی ہیں جب وہ انجانے میں بریسٹ کینسر کی تیسری اسٹیج پر پہنچ چکی ہوتی ہیں اور یوں پاکستان میں ہر سال 40 ہزار سے زائد خواتین موت کے منہ میں جا رہی ہیں۔ اگر وہ تیسری اسٹیج کی بجائے ابتداء میں ہی مستند جگہوں سے اپنا چیک اپ کروانا شروع کر دیں تو نہ صرف علاج کے اخراجات کنٹرول میں رہیں گے بلکہ ان کا شمار صحتیاب ہو کر اس مرض سے چھٹکارہ پانے والی 95 فیصد خواتین میں ہوگا۔

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    ”پنک ربن“ کے مطابق پاکستان میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے 90 ہزار نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ اس صورتحال میں خواتین میں جھجک کا عنصر ختم کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔ آگاہی کا فقدان دور کرنے اور اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کیلئے آگاہی مہم کا دائرہ کار مساجد میں خطبوں، تعلیمی اداروں میں سیمینارز، ہسپتالوں اور کاروباری پوائنٹس پر تشہیری ذرائع کے استعمال حتیٰ کہ گھروں تک آگاہی پمفلٹس پہنچانے کی صورت میں بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں لائف لانگ میسج سرایت کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہر زون کی سطح پر فری ڈائیگناسٹک سروسز مہیا کی جائیں۔ جبکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جن ہسپتالوں میں یہ سروسز موجود ہیں وہاں خواتین کو ٹیسٹوں اور علاج کیلئے شارٹ سے شارٹ ٹائم دیا جائے تاکہ ان کی تیز ترین ریکوری ممکن ہو سکے۔ خواتین میں چھاتی کے سرطان کی بڑھتی شرح دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اب ”لوگ کیا کہیں گے“ سے آگے نکلنا ہوگا۔ اس ضمن میں یہ امر بھی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ جو خواتین چھاتی کے سرطان کی تیسری اور چوتھی اسٹیج پر پہنچ چکی ہیں ان کیلئے علاج کی سہولیات کم لاگت کی جائیں تاکہ ان کے گھر والے بآسانی ان کا علاج کروا سکیں …… وگرنہ 20 لاکھ روپے کے قریب ہونے والا علاج ہر خاتون کیلئے کروانا ممکن نہیں

  • کینیڈا اور بھارت کے درمیان بڑھتے تنازعات

    کینیڈا اور بھارت کے درمیان بڑھتے تنازعات

    کینیڈا اور بھارت کے درمیان تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، بھارت نے تقریباً 40 کینیڈین سفارتی عملہ کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، اور متنبہ کیا ہے کہ جو لوگ 10 اکتوبر کے بعد رہیں گے ان کا سفارتی استثنیٰ ختم ہو جائے گا

    یہ لڑائی تب شروع ہوئی جب کینیڈا نے خدشات کا اظہار کیا کہ کینیڈا کی سرزمین پر سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارت ملوث ہو سکتا ہے۔ بھارت نے سختی کے ساتھ قتل میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی، کینیڈا نے بھارتی حکومت کو اس افسوسناک واقعے کے پیچھے سچائی سے پردہ اٹھانے کے لیے تحقیقات میں تعاون کرنے کی پیشکش کی۔ لیکن افسوس کے ساتھ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے اس پیشکش کو ٹھکرایا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود، کینیڈا اپنی سرحدوں کے اندر بھارتی شہریوں کو قونصلر خدمات فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

    کینیڈا میں بھارتی تارکین وطن کی کافی آبادی ہے، جس میں تقریباً 20 لاکھ بھارتی شہری مقیم ہیں۔ جاری سفارتی تنازعہ کے درمیان اس آبادیاتی گروپ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے

    مونٹریال کی یونیورسٹی آف کیوبیک میں اسٹریٹجک اور سفارتی مطالعات کے پروفیسر چارلس-فلپ ڈیوڈ کہتے ہیں، "اوٹاوا کو اپنی سرزمین پر غیر ملکی مداخلت کے بارے میں "طویل عرصے سے” وارننگ سگنل مل رہے ہیں۔ [مونٹریال AFP بذریعہ FRANCE24 dtd 09/21/2023]

    اگر ڈیوڈ کے مشاہدات درست ثابت ہوتے ہیں تو، نجار کے قتل کے معاملے میں پہلے کینیڈا کو فعال اقدامات کرنے سے بہتر طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ آخر کار نجار کو کس نے قتل کیا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہی نہیں، بلکہ اس مقام سے آگے بڑھنے کے لیے دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر، دونوں ممالک بھارت اور کینیڈا کے آپسی مسائل کے حل کی کوششوں کو تیز کرنا اور مزید پیچیدگیوں سے بچنا ہی سمجھداری کا کام ہے۔ کیوں نہ بہانے چھوڑیں اور منزل پر پہنچیں اور سب کو کثیر پریشانی سے بچائیں؟