Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مسجد جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کا افتتاح

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مسجد جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کا افتتاح

    ارشاداحمد ارشد

    مسجد ایک ایسا مقام عالی شان ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔اسی محبت کا ثمر ہے کہ مسلمان انفرادی سطح پر بھی مساجد تعمیر کرتے ہیں اوراجتماعی طور پر بھی مساجد تعمیر کرتے ہیں۔اسی طرح وہ مسلمان ممالک جہاں صحیح معنوں میں اسلامی حکومتیں قائم ہیں وہ بھی سرکاری سطح پر مساجدکی تعمیر اور آبادکاری کااہتمام کرتی ہیں۔ اس وقت اسلامی دنیا میں مساجد کی تعمیر اور آباد کاری کے معاملے میں مملکت سعودی عرب اور سعودی این جی اوز یا سعودی جامعات سے فیض یافتگان سر فہرست ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کاقیام حقیقی معنوں میں کلمہ توحید کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا ہے۔ سعودی حکمرانوں نے جس طرح سے حرمین الشریفین کی خدمت وتوسیع اور تزئین کو اپنا شعار بنا رکھا ہے اس پر وہ بجا طور پر ’’ خادم الحرمین الشریفین ‘‘ کے لقب کے مستحق ہیں۔اس کے علاوہ بھی دنیا کے ہر ملک میں آل سعود نے مساجد تعمیر کروائی ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی اذان کی آواز بلند ہورہی ہے ان میں سے بیشتر مقامات ایسے ہیں جہاں سعودی حکومت کے تعاون سے مساجد بنائی گئی ہیں۔ پاکستان کے ہر صوبے اور شہر میں بلا تفریق مسلک سعودی عرب کے تعاون سے تعمیر کی گئی مساجد سے پانچ وقت اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ اب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بھی سعودی عرب کے مختلف موسسات (این جی اوز ) کے تعاون سے 8 مساجد کی تعمیر کا پروگرام بن چکا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی کاشمار پاکستان کی اہم ترین جامعات میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیادریاست بہاولپور کے مسلمان عباسی حکمرانوں نے اسلامی نقطہ نظر سے رکھی تھی۔اس کی ابتدا ’’مدرسہ صدر علومِ دینیات ‘‘ کے نام سے کی گئی۔ بعد ازاں 1925ء اس کانام جامعہ عباسیہ رکھا گیا۔ریاست بہاولپور کے نواب اسے جامعہ الازہر مصر کے پائے کاایک علمی ادارہ بنانا چاہتے تھے۔ 1950ء میں والئی ریاست ہز ہائنس سر صادق محمد خان عباسی پنجم کے حکم پر صادق ایجرٹن کالج سے متصل ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کی گئی اس طرح سے جامعہ عباسیہ کا مرکزی کیمپس وجود میں آیاجو اس یونیورسٹی کی پہچان ہے۔ 1963ء میں صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے جامعہ عباسیہ کا دورہ کیا اور اسے جامعہ اسلامیہ کے نام سے موسوم کیاگیا ۔ 1975ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طور پر پنجاب اسمبلی سے چارٹر قرار پائی۔جہاں تک شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کا تعلق ہے وہ امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم ہیں اور مثالی منتظم ہیں۔وہ ہمہ وقت یونیورسٹی کا علمی وتحقیقی معیار بلند کرنے اور اسے اسم بامسمیٰ بنانے کیلئے مصروف عمل رہتے ہیں۔وہ اس بات کے خواہشمند ہیں کہ یونیورسٹی کے ہر کیمپس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام کی صدا گونجے اور ہر کیمپس میں مساجد تعمیر کی جائیں۔

    چنانچہ بارش کے پہلے قطرے کے طور پر اسلامیہ یونیورسٹی کے عباسیہ کیمپس شعبہ امتحانات میں پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب اور سعودی سفارت خانہ کے اسلامی شعبہ ’’الملحق الدینی،، کے نمائندہ خصوصی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر ڈائریکٹر پاکستان اسلامک کونسل وایڈیشنل ڈائریکٹر انٹرنیشنل لنکجز اسلامیہ یونیورسٹی و ڈائریکٹر جامعہ سعیدیہ سلفیہ خانیوال نے اپنے دست مبارک سے ستمبر 2022 ء میں جامع مسجد امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا اس ایمان افروزتقریب میں اہل علم اور معززین علاقہ نے بڑی تعداد شرکت کی تھی۔سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد یہ مسجد صرف پانچ ماہ کے قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل کوپہنچی ہے۔تکمیل کے بعدپروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے فضیلۃ الشیخ قاری صہیب احمد میر محمدی رئیس کلیۃ القرآن والتربیۃ الاسلامیہ اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر کے ہمراہ مسجد کا افتتاح کیا۔افتتاح کے بعد گھوٹوی ہال عباسیہ کیمپس میں ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔

    افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر انجینئر ڈاکٹر اطہر محبوب نے کہا ہماری کوشش ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی کو ایک اسم بامسمیٰ تعلیمی ادارہ بنایا جائے۔یہ ادارہ اسم بامسمیٰ اسی وقت بنے گا جب اس میں کثرت سے مساجد تعمیر ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی۔ آج ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کہ اس سلسلہ کی پہلی عالی شان مسجد بنام’’جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اس موقع پر حاضرین مجلس کو یہ خوش خبری بھی سنائی کہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر کی کوششوں سے بہت جلد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایک بڑی مرکزی جامع مسجد اور فیکلٹی آف اسلامک لرننگ اینڈ عریبک کی تعمیر بھی ہونے جارہی ہے یہ مسجد حقیقتاََ مسجد قوت الاسلام ہو گی۔

    تقریب ِ افتتاح کے ایک اہم ترین مہمان قاری صہیب احمد میر محمدی تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت کرنے والے انسان ہیں۔ ان کے دور میں اسلامیہ یونیورسٹی نے تعمیر وترقی اور علمی مدارج کی تاریخی مزلیں طے کی ہیں نجیب الطرفین فضیلۃالشیخ ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر بھی وطن عزیز کی نامور شخصیت ہیں اور تن تنہا دین حنیف اور تعلیم و تربیت کا کام کام سر انجام دے رہے ہیں، آپ امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض سعودی عرب سے عقیدہ، قرآن، فقہ میں سپسلائزیشن کے ڈگر ھولڈر ہیں جبکہ ماسٹر، ایم فل ، پی ایچ ڈی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے عربی زبان وادب میں مکمل کی ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ ٫٫لجنة الافتاء والبحث العلمي٫٫ جو پاکستان کے کبار علماپر مشتمل فتوی کی کمیٹی ہے اس کے بھی رکن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جامع الامام ابن کثیر اسلامی فن تعمیر کا شاہکار اور خوبصورتی ووسعت میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کا مینار مسجد نبوی کے مینار کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے اس کی تعمیر پر تقریباََ دو کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔ بہت جلد اسی طرز پر مزید مساجد بغداد الجدید کیمپس اور بہاولنگر کیمپس میں بھی تعمیر کی جائیں گی۔ انھوں نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جامع الامام ابن کثیر معروف عالمی سکالرقاری المقری قاری صہیب احمد میر محمدی کے زیر سایہ چلنے والے ادارہ کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیہ پھولنگراور،،المجلس الاسلامی باکستان ، یعنی پاکستان اسلامک کونسل کے باہمی اشتراک سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جس میں 1000نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس سے پہلے صرف 300نمازی اس چھوٹی سی بوسیدہ اور قدیم مسجد میں نماز ادا کر سکتے تھے۔ اس مسجد کی تعمیر سے عباسیہ کیمپس کے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ شعبہ قانون، شعبہ امتحانات اور ابوبکر ہال کے رہائشی طالب علم مستفید ہوں گے۔انھوں نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ سعودی موسسات اور سعودی سفارت خانہ کے تعاون سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں مساجد اور فیکلٹیز کے قیام سے جہاں ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور ملازمین مستفید ہوں گے وہاں دوسری طرف فرقہ واریت سے بالا تر خالصتا قرآن وسنت پر مبنی دینی تعلیمات کی نشرواشاعت کے مزید مواقع بھی میسر آئیں گے جس سے عمومی معاشرہ اور بالخصوص طلبہ علم میں برداشت ، رواداری ، تحمل اور مسلکی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔انہوں نے اپنی گفتگو میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ، خزانہ دار جناب ابوبکر صاحب ، بہاولپور پریس کلب کے سابق صدر جناب نصیر ناصر, چیئرپرسن شعبہ عربی ڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی، ایڈیشنل کنٹرولر شعبہ امتحانات جناب عرفان غازی، سابق ایڈیشنل کنٹرولرشعبہ امتحانات غلام محمد ، ڈاکٹر عبیدالرحمان لیکچرار پوسٹ گریجویٹ کالج بہاولپور کا مسجد کے تعمیری کاموں کی نگرانی اور دیکھ بھال پر خصوصی شکریہ ادا کیا

    ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی شعبہ عربی کی چئیرپرسن ڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انھوں کہا اللہ کا کرم ہے کہ آج ہم مسجد کے افتتاح کی تقریب میں جمع ہیں۔اس مسجد کی تعمیر وترقی کے لیے ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے دن رات ایک کئے رکھا۔کبھی بھی سفری مشکلات کی پرواہ نہ کی بلکہ وہ مسجد کی تعمیر کیلئے خانیوال اور بہاولپور کے درمیان مسلسل اس طرح سفر کرتے رہے جیسے ہم اولڈ کیمپس سے نیو کیمپس آتے جاتے ہیں۔دعاہے کہ ڈاکٹر مسعود اظہر نے کاوشوں کو قبول فرمائے۔

    تقریب کے ایک انتہائی اہم مقررپروفیسر ڈاکٹر اکرم چوھدری بھی تھے۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری سرگودہا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر اکرم نے کہا وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے یونیورسٹی کی تعمیر وترقی کے لیے جو اقدامات کئے ہیں تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے ان تاریخ ساز اقدامات کا میں ذاتی طور پر گواہ ہوں میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی پنجاب کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ میں موجود تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ گورنر پنجاب تمام وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ سب اپنا روڈ میپ اسی طرح سے بنائیں جس طرح کہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کابنا رکھا ہے۔ بعد ازاں وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کی طرف سے مہمانان گرامی پروفیسر ڈاکٹر اکرم چوھدری ، ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر ، اور قاری صہیب احمد میر محمدی کی خدمت میں یادگاری شیلڈ پیش کی گئیں۔تقریب کے بعد مہمان گرامی کے اعزاز میں وائس چانسلر کی طرف سے پر تکلف ظہرانہ دیا گیا۔ اس طرح سے یہ روحانی وایمانی اور خوبصورت تقریب بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔

  • روشن پاکستان  گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    روشن پاکستان گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    گرین پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے زرعی انقلاب کی بات کی ہے بلاشبہ اس وقت ملک کو ترقی کی طرف اگر لے کر جانا ہے تو زرعی انقلاب لانا ہوگا۔ اگر صدق دل سے حکومت اور بیورو کریسی سمیت انتظامیہ ، بورڈ آف ریونیو ،زراعت پر توجہ دے تو آنے والے سالوں میں پاکستان نہ صرف ترقی کر سکتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض نہیں رہے گا۔ ایسے ایجنڈے سر فہرست رکھ کر ایک روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ گرین پاکستان پر عمل کرکے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا بھی ایک ذریعہ ہے ۔ گرین انیشیٹوجسے سعودی عرب نے 2021 ء میں شروع کیا تھا سعودی حکام پر خطے کے لئے دو رس اقتصادی مواقع پیدا کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جنگ میں اثر کو بڑھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ گرین انیشیٹو پر اگر عمل کیا جائے تو پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ چین اور یورپی ممالک بھی مدد کریں گے۔ سبز معیشت میں چین کی منصوبی بندی سرمایہ کاری حیران کن ہے جسے یورپی یونین تسلیم کرتی ہے ۔

    خلیجی ممالک ۔ چین ، یورپی ممالک میںک و ئی لینڈ مافیا نہیں راولپنڈی سمیت پنجاب گوجرانوالہ ، شیخوپورہ ، لاہور اور اسی طرح دیگر شہروں میں ہائوسنگ سوسائٹی والوں نے زرعی زمینوں اورسرکاری زمینوں پر محکمہ جنگلات کی زمینوں پر قبضے کرکے پاکستان کے حسن کو تباہ کردیا ہے ۔ پٹواریوں ، تحصیلداروں گرداروں اور ضلعی اور تحصیل کی انتظامیہ کی ملی بھگت نے پاکستان کو بطور ریاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور پہنچا رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کی رپورٹ کے مطابق صرف گوجر خان میں 384 کنال سرکاری رقبہ ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے جس میں جنگلات بھی شامل ہیں۔ آرڈی اے راولپنڈی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری زمینوں جس کی مالیت کروڑوں ہی وہ ان ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے اور اکثریت غیر قانونی بھی ہیں۔ آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان کا خواب روشن پاکستان گرین پاکستان پورا ہو سکتا ہے اگر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر ان قبضہ مافیا جنہوں نے سرکاری زمینوں پر قبضے کئے ،زرعی زمینوں اور جنگلات کو برباد کیا ۔ اس کا آغاز راولپنڈی ڈویژن سے لے کر پنجاب ، کے پی کے اور صوبہ سندھ تک بڑھایا جائے ۔ اربوں کی سرکاری زرعی زمینوں کو واگزار کرایا جائے ۔ روشن پاکستان اور گرین پاکستان کی سب سے بڑی رکاوٹ قبضہ مافیا ہے۔ قبضہ مافیا ملک میں ایک طاقت بن چکا ہے ۔ جس کے قبضے میں ملک کے کئی بااثر لوگ ہیں جو اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ا ن کے کاموں میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی اربوں مالیت کی اراضی جس میں زرعی زمین سمیت محکمہ جنگلات کی زمینیں ہیں قبضہ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ا ن قبضہ مافیا ا ور ملک کے بااثر افراد نے ملک اور ریاست کے سسٹم کو یرغمال بنارکھا ہے۔

  • گیند آئی ایم ایف کی کورٹ میں

    گیند آئی ایم ایف کی کورٹ میں

    12 جولائی کو آئی ایم ایف کے بورڈ کی میٹنگ ہو گی جس میں اس امر کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کو نو ماہ کا نیا قرض پروگرام دیا جائے یا نہیں‌ ؟ حضور ،نوماہ؟ پیسہ لینے کے لئے تبدیلیاں کریں، ایک ایسی چھپی ہوئی اصطلاح کے لئے جسے ابھی تک آئی ایم ایف نے عوام کے لئے ظاہر نہیں کیا، اور اس برس 77 بلین ڈالر کے قابل واپسی کو واپس کریں
    قابل واپسی؟
    نہیں!
    قابل عمل؟
    نہیں!

    یہ معاملہ یہاں تک کہ اگر یو اے ای اور سعودی عرب آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کے بعد مجموعی طور پر 46 بلین ڈالر کی سرمایہ کریں،اگر اور کب ؟ دونوں صورتوں میں یہ فنڈنگ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہو گی،پاکستان نے 2022-23 کے ابتدائی معاہدے کے تحت آئی ایم ایف کے زیادہ تر مطالبات پر عمل درآمد کیا تھا جب آئی ایم ایف نے دستبرداری اختیار کی تھی۔ تو اس معجزاتی شام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کن شرائط پر منظوری دی تھی کہ اس کے بعد نو ماہ کا معاہدہ ہوا ؟

    پاکستان کو صرف قرضوں کی ادائیگی کو پورا کرنے کے لیے 77 بلین ڈالر کی ضرورت ہے اور اس میں یکم جولائی 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں بین الاقوامی قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ‘ایس بی پی کے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر 5,270.9 ملین ڈالر تھے۔ . اس طرح، 23 جون 2023 تک پاکستان کے پاس موجود کل مائع غیر ملکی ذخائر 9,340.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔‘‘ (پاکستان آبزرور)

    کیا کوئی سیاسی نظام معاشی بحران سے نمٹ سکتا ہے؟ نہیں، سینئر تجزیہ کار شہاب جعفری نے کچھ دن پہلے وی لاگ یاسمین کی بیٹھک میں بات کی،معاشی ماہر شہاب جعفری کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی سیٹ اپ کے لیے ووٹوں، وعدوں، مراعات کی ضرورت ہوتی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سخت قدم اٹھانے کی صورت میں اڑان بھرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں صورتوں میں، یہ عام آدمی کے لیے مشکل صورتحال ہو گی، مہنگائی بڑھے گی، پیٹرول ،ڈیزل بڑھے گا
    کوئی حل؟
    ہم ان دنوں میں ایک دن جاگیں گے اور حقائق کا سامنا کریں گے،

  • شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست

    شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)تین روزہ شندور پولو فیسٹیول رنگا رنگ تقریبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ آخری روز سکول کے بچوں نے ٹیبلو پیش کیے، جبکہ فرنٹیئر کور اور گلگت بلتستان کے بینڈز نے قومی نغموں کی دھنیں پیش کیں۔

    شندور پولو فیسٹول کے فائنل میچ میں چترال نے زبردست مقابلے کے بعد گلگت بلتستان کو 5 کے مقابلہ میں 7 گول سے شکست دی۔اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی کور کمانڈر پشاور تھے۔ مہمان خصوصی نے بہترین کارگردگی دکھانے والے کھلاڑیوں، رنراپ اور جیتنے والی ٹیموں کو ٹرافیاں اور نقد انعامات دیئے۔شندور پولو فیسٹول کے فروغ ، سابقہ پولو کھلاڑیوں کی بہبود اور عالمی سطح پر اس فیسٹول کی پذیرائی کے لئے ایک فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔مقامی فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیرستانی، چترالی، خٹک اور کیلاشی رقص پیش کیا۔

    تقریب میں پیرا گلائیڈرز اور پاکستان آرمی ایس ایس جی کمانڈوز نے پیراٹروپنگ کے ذریعہ حاضرین سے خصوصی داد وصول کی۔فیسٹول کے آخری روز بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح پولو میچ سے لطف اندوز ہوئے۔ اعلی سول اور ملٹری حکام، بڑی تعداد میں علاقے کی عوام اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔

  • سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتیں ان دنوں الیکشن کے بارے گفتگو کر رہی ہیں۔ اس وقت یہی دعا کی جا سکتی ہے ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں۔ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔ آئین پر عمل کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ زبانی جمع خرچ سے باہر نکلیں بھڑکیں نہ ماریں ۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ حیرت ہے بعض سیاستدانوں پر آئین میں صاف لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے پھر بھی کہیں سے آواز آتی ہے کوئی حتمی نہیں الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں ۔

    پنجاب میں آج بھی نگران حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ نگران کب تک رہیں گے ۔ آئین میں سب کچھ لکھا ہے ۔ کیا اب وفاقی نگران حکومت جو بنے جا رہی ہے اُ س کی معیاد بھی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی طرح بڑھائی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسا آئین ؟ سیاسی گلیاروں میں پیپلزپارٹی جو رونق جیالے لگاتے ہیں وہ رونق پی ٹی آئی والے بھی لگانا سیکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ، قیلولہ میں چلی گئی سیاسی جلسوں میں رونق مریم نواز اور نواز شریف ہی لگا سکتے ہیں مگر(ن) لیگ کی قانونی ٹیم کہاں تک پہنچی ہے نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اس کا جواب تو شہباز شریف ہی دے سکتے ہیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سیاست ، جمہوریت اورمعیشت کا ہے ۔

    ان مسائل سے نکلنے کے لئے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔الیکشن جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں ۔(ن) لیگ کا الیکشن مریم نواز اور بالخصوص نواز شریف کے بغیر ادھورا ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ریڈ لائن سے گرین لائن تک پہنچ چکی ہے ۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ آئندہ ملک کے وزیراعظم بلاول بھٹو بنیں اس سلسلے میں وہ اپنے تیر نشآن کو لے کر بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا تک چلا رہے ہیں۔ نئی سیاسی جماعت بھی پیپلزپارٹی کے لئے غنیمت ثابت ہو ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
    بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
    محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
    آصف علی زرداری سیاسی چال چلتے ضرور ہیں مگر وہ قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی نظریات وغیرہ دفن ہو چکے ہیں۔ آئین پر عمل بھی ایک خوا ب لگتا ہے۔ عوام کی اکثریت رو رہی ہے اور سیاسی تماشے بھی دیکھ رہی ہے۔ سیاست اور سیاستدان عام انسانوں کے لئے بیزاری بنتے جا رہے ہیں۔

  • میں سمجھ بیٹھی جسے  اپنی محبت کا خدا

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا
    وہ فرشتہ ہے نہ انسان ، خدا خیر کرے

    8 جولائی 1955

    مینو بخشی کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے
    دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے

    رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں
    ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے

    وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے
    یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے

    یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا
    دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے

    اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا
    مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے

    جس کی فطرت ہے جفا اور ستم ہے شیوہ
    ہے وہی دل کا نگہبان خدا خیر کرے

    اٹھ گئے پاؤں اسی راہ میں اب تو مرے
    جس میں نیں جی کا ہے نقصان خدا خیر کرے

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا
    وہ فرشتہ ہے نہ انسان خدا خیر کرے

    ایسی ماضی کے سمندر نے قیامت ڈھائی
    دل کی بستی ہوئی ویران خدا خیر کرے
    ….
    پیدائش : 08 Jul 1955

    مینو بخشی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اسپینش زبان کی پروفیسر ہیں لیکن شاعری ان کا شوق ہے۔ مادری زبان پنجابی ہونے کے باوجود شاعری میں لطیف جذبات کے اظہار کے لئے انہوں نے اردو جیسی خوبصورت اور دلکش زبان کا انتخاب کیا ہے۔ کلاسیکل موسیقی میں تربیت یافتہ مینو نے اردو کے سلیس مترنم الفاظ اپنی غزلوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ موسیقی کے سترنگی سروں میں باندھ کر ادب نواز ناظرین کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ دہلی ، لکھنو اور پٹنہ میں منعقد معیاری مشاعروں میں شرکت کی ہے اور ملک و ملک سے باہر محفل موسیقی میں مینو نے اپنی مترنم آواز سے سامعین کو محظوظ کیا ہے۔برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’ہائوس آف لارڈس ‘ میں بھی وہ اپنی شاعری اور غزل گائیکی پیش کرچکی ہیں۔ مینو لندن فلم فیسٹول کی چیئر پرسن ہیں۔

    کلاسیکل موسیقی کی تعلیم کے بعد مینو نے گائیکی کی شروعات صوفیانہ کلام سے کی۔لفظوں نے جب دل کی راہ پکڑلی تو اندر چھپی شاعرہ نے دستک دی اور اس طرح مینو بخشی کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’ تشنگی ‘‘ روپا پبلکیکشنز انڈیا نے شائع کیا۔ شاعری کے قدردانوں نے ان کی تخلیقی صلاحیت کی دل کھول کر تعریف کی۔ 2014 میں حسن آرا ٹرسٹ نے امیر خسرو اعزاز اور بہار اردو اکادمی نے جمیل مظہری ایوارڈ سے نواز کر مینو کی شاعرانہ صلاحیت کا اعتراف کیا۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’ موج سراب ‘‘ بھی روپا پبلیکشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔حکومت ہند کے لئے اسپینش ترجمان کا اہم کام بھی پروفیسر مینوبخشی بخوبی نبھاتی آرہی ہیں۔ وہ کئی زبانوں کے درمیان ایک مضبوط کڑی ہیں۔اس کی بہترین مثال اردو میں شاعری ، یونیورسٹی میں اسپینش، سماجی حلقوں میں ہندی اور انگریزی ہے۔ حال ہی میں انہیں اسپین اور اسپین کی ثقافت کو پروموٹ کرنے کی سمت میں اہم رول ادا کرنے کے لئے Order of Isabella la Catolica ایوراڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ اسپین کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ہے جو اسپین کے بادشاہ کے ہاتھوں کسی غیر اسپینش شخصیت کو دیا جاتاہے۔ شادی کے موقع پر گائے جانے والے روایتی پنجابی گیتوں کا البم مینو کی آواز میں بے حد مقبول ہے۔

  • 6 جولائی صحافی و کالم نگار مظہر عباس  کا یوم پیدائش

    6 جولائی صحافی و کالم نگار مظہر عباس کا یوم پیدائش

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی ، کالم نویس ، تجزیہ و تبصرہ نگار مظہر عباس 6 جولائی 1958 میں حیدر آباد سندھ میں پیدا ہوئے انہوں نے حیدر آباد اور کراچی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا جس کی ابتدا انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سے کی اس کے بعد کراچی کے ایک مشہور ایوننگ اخبار دی اسٹار میں کام شروع کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1982 میں باضابطہ طور پر صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا وہ 6 سال کراچی میں A F P کے بیورو چیف 2 سال ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر افیئرز رہے ۔

    مظہر عباس کافی عرصہ ڈان گروپ میں کالم اورآرٹیکل لکھتے رہے انہوں نے دی نیوز ، ایکسپریس اردو، ایکسپریس ٹریبون، ہم ٹی وی، پی ٹی وی ،دی فرائیڈے ٹائمز ، ہارلڈ نیوز لائن ، خلیج ٹائمز اور انڈیا کے آئوٹ لک میں بھی کام کیا۔ وہ 2013 سے جنگ اور جیو سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ وہ مختلف نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیئے پیش کرتے رہتے ہیں ۔

    2002 میں انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے سائوتھ ایشیا کے بیورو چیف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کی خبر سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔ مظہر عباس کو 2007 میں بہترین صحافت کی خدمات کے عوض انٹر نیشنل پریس فار فریڈم کے انعام سےنوازا گیا یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح کے 5 صحافیوں کو دیا گیا جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے حملوں ،اغوا،دھمکیوں اور قید و بند کا سامنا کیا ۔2009 میں انہیں Missouri, Medal of Honer کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وہاب ریاض نے سوشل میڈیا پر اپنی وائرل ویڈیو پر ہونے والی تنقید پر ردعمل کا اظہار کیا ہے
    عالمگیر ترین کی نماز جنازہ کب ہو گی؟ اعلان ہو گیا
    نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،مریم اورنگزیب
    اپنی 40 سالہ صحافت میں انہوں نے 5000 سے زائد کالم اور مضامین وغیرہ لکھے ہیں جبکہ 400 سے زائد ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔ مظہر عباس کے 3 بھائی ہیں ظفر عباس ڈان کے مدیر ہیں اطہر عباس سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اظہر عباس جیو نیوز سے وابستہ ہیں ۔ مظہر عباس کی اہلیہ محترمہ ارم عباس کا 24 دسمبر 2020 میں کراچی میں انتقال ہوا ۔اولاد میں انہیں 2 بیٹیاں ہیں ۔ مظہر عباس اس وقت اسلام آباد میں مقیم ہیں ۔

  • میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں،تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں،تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں

    حیدرعلی صدّیقی

    یہ نالہ و فریاد ہے امت مسلمہ کی بیٹی عافیہ کی، اس عافیہ کی جو ایک جرم ناکرده کی پاداش میں امریکی جہنم نما جیل میں 86 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ عافیہ صدیقی نے حفظ قرآن کے بعد امریکہ کی صف اول کی یونیورسٹی (MIT) سے ڈگری حاصل کی۔ نائن الیون کے بعد وہ پاکستان واپس آکر اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگی۔
    عافیہ کیس کا مطالعہ کرنے سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ عافیہ بالکل بھی امریکی شہری نہیں ہے جیسا کہ کچھ مغرب زدہ افراد نے سمجھ رکھا ہے۔ اور نہ ہی اس نے ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن کے الزامات امریکہ نے لگائے اور ہمارے سیدھے سادہ لوگوں نے بغیر تحقیق کے قبول بھی کیے ہیں۔ بات یہ ہے کہ 30 مارچ 2003ء کو عافیہ اپنے بچوں سمیت کراچی سے راولپنڈی جارہی تھی کہ راستے میں وہ اغوا ہوئی اور پھر پانچ سال تک عافیہ کا کچھ پتہ چلا اور نہ اس کی بچوں کا۔ یہ پانچ سال وہ کہاں اور کس کے قبضے میں تھی؟ یہ وہ سوال ہے جو اس کہانی کا محور ہے اور جو امریکی فریب اور ناٹک کے وجہ سے آنکھوں سے مخفی رہا ہے۔ در حقیقت یہ پانچ سال بھی عافیہ امریکی FBI کے قبضے میں تھی اور بگرام ائیر بیس میں قیدی نمبر 650 کے نام سے بند تھی۔ اس راز کا انکشاف برطانوی خاتون صحافی مریم یوآن ریڈلے نے اسلام آباد میں 6 جولائی 2008ء کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ جب اس انکشاف کے ساتھ امریکہ کا مکروہ چہرہ واضح ہوا تو امریکہ نے جو چپ باندھی تھی وہ کھل گئی اور بالاخر امریکہ کے پاس اس اقرار کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ عافیہ کو انھوں نے گرفتار تو کیا ہے لیکن 2008ء میں اور افغانستان سے۔

    امریکہ کا یہ مؤقف کوئی سلیم العقل فرد تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ جہاں تک امریکہ کا یہ مؤقف حقائق اور واقعاتی شہادتوں کے خلاف ہے، اگر بالفرض اس کو مان بھی لیا جائے تو پھر عافیہ کو گرفتار کیوں کیا؟ اس بارے امریکہ کا ایک مؤقف نہیں بلکہ عافیہ کے گرفتاری کے بارے میں امریکہ کا مؤقف متزلزل اور تضادات کا شکار رہا ہے۔ کبھی کہا گیا کہ عافیہ پر غزنی کے ایک دکاندار کو شک گزرا تو گرفتار ہوئی، تو کبھی کہا گیا کہ وہ مسجد میں خودکش حملہ کرنے آئی تھی اور لوگوں نے پولیس کو بلا لیا، تو کبھی کہا گیا کہ وہ ایک مسجد کے سامنے نقشہ پھیلائی بیٹھی تھی، وہاں کی زبان نہیں جانتی تھی، اور اس پر لوگوں کو شک ہوا اور یہ گرفتار ہوئی۔ حتی کہ مسجد کے سامنے سے گرفتار ہونے کے دعوے میں بھی متضاد اقوال سامنے آئے ہیں، جتنا منہ اتنی بات۔
    جس الزام کے تحت امریکہ نے عافیہ کو گرفتار کیا تھا وہ یہ تھا کہ عافیہ القاعدہ کے مرکزی قیادت کے ساتھ وابستہ القاعدہ لیڈی ہے، اس کے قبضے سے دو پونڈ مہلک زہر برآمد ہوا، کچھ ڈاکومنٹس اور نوٹس دستیاب ہوئے ہیں جن میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کے طریقے لکھے گئے ہیں۔ گرفتاری کے بعد امریکہ کا مؤقف تھا کہ عافیہ کی گرفتاری امریکہ کے لیے ایک اہم حیثیت رکھتی تھی، اور وہ سات خطرناک ترین دہشتگردوں میں تھی، ان کو گرفتار کرکے امریکہ نے گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکہ کا یہ مؤقف سمجھ سے بالاتر ہے، بالفرض اگر عافیہ القاعدہ کے ساتھی تھی تو کیا وہ اتنے سادہ تھے کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ عورت کو اس طرح حملہ کےلیے (بقول امریکہ) کے بھیجے جس پر ایک دکاندار کو بھی شک گزرے؟

    لیکن امریکہ کے تضادات کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رکتا، گرفتاری کے بعد جب عافیہ کو 5 اگست 2008ء کو نیویارک کے وفاقی عدالت میں پیش کیا تو وہاں القاعدہ لیڈی، خودکش حملہ آور، القاعدہ کے ماتا ہری، القاعدہ کے لیے دھماکہ خیز اور مہلک وائرس بنانے والی وغیرہ جیسے الزامات کا بالکل ذکر بھی نہیں تھا۔ بلکہ وہاں امریکہ نے ایک الگ دعویٰ کیا کہ بگرام ائیر بیس میں عافیہ کے تفتیش کے لیے آئے امریکی فوجی اہلکار سے عافیہ نے اس کا رائفل چھین کر اس پر فائر کیا، اس نے امریکی شہری کو قتل کرنے کی کوشش کی جس سے وہ بچ گیا، اور گولی دیوار پر لگی جہاں سوراخ اب بھی نظر آرہا ہے، جواباً امریکی فوجی نے پستول سے دو گولیاں چلائے جو عافیہ کے پیٹ میں لگے۔
    جب عدالت کا مقدمہ اس دعوے کے تحت چلا تو پھر امریکہ کا جھوٹ واضح ہوگیا، کہ وہ رائفل تو سرے سے چلا ہی نہیں ہے، اس کے بیرل میں گولی اور بارود کا کوئی سراغ نہیں، نہ اس پر عافیہ کا فنگر پرنٹ ہے۔ اور دیوار میں جو سوراخ دکھتا ہے وہ ایک ویڈیو کے ذریعے جھوٹا ثابت ہوا کہ وہ تو اس واقعے سے بہت پہلے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ اور ساتھ میں افغان پولیس اور غزنی کے گورنر نے بھی اس مؤقف کی تردید کردی۔ سوال یہ ہے کہ ایک نہتی اور کمزور خاتون اتنی طاقتور کیسے ہوئی کہ وہ باقاعدہ ایک تربیت یافتہ فوجی کا رائفل چھین کر اس پر فائر کرے! اور رائفل بھی وہ جس کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ قید و بند کے تشدد زدہ کمزور خاتون سے اس کا اٹھایا جانا، اور پھر لاک کھول کر نشانے پر لگانا اور فائر کرنا عقل سلیم کے لیے ماننا کم از کم ممکن نہیں۔ جب عافیہ امریکہ کو القاعدہ کی حمایت کی جرم میں مطلوب تھی تو مقدمہ کے وقت ان الزامات کا ذکر کیوں نہیں تھا؟ جب ماہرین نے رائفل کے الزام کو جھوٹا ثابت کیا تو امریکہ نے اسے جھوٹا تسلیم کیوں نہیں کیا؟
    لیکن یہاں تو امریکہ کو صرف اپنی فوجی اہلکار پر یقین ہے، ساری شواہد و ماہرین اگر چہ رائفل کے کہانی کو جھوٹی ثابت کرچکے ہیں لیکن امریکی فوجی کہتا ہے تو عافیہ نے ضرور گولی چلائی ہوگی!
    امریکی ماہرین نے بھی اس کیس کو مبنی برظلم قرار دیا تھا کہ عافیہ مظلوم اور بے گناہ ہے۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک کہتا ہے کہ ”عافیہ صدیقی کا کیس میرے مشاہدے کے مطابق اب تک کا بدترین کیس ہے“۔ اسی طرح امریکی صحافی پیٹرا بارتوشےویچ کا کہنا ہے کہ ”میں نے امریکی مؤقف کی تفصیل پڑھتے ہی جان لیا تھا کہ عافیہ صدیقی بے گناہ ہے۔ امریکن شہریوں کے اس اقرار کے باوجود امریکہ نے ان کو بھی نظر انداز کیا۔
    امریکی قانون ہے کہ کسی بھی خاتون کی برہنہ تلاشی (سٹرپ سرچ) نہیں لی جاسکتی، لیکن بایں ہمہ کہ عافیہ پہلے سے ان کے ساتھ قید میں موجود تھی اور بار بار انھیں تلاشی اور جسمانی و ذہنی تشدد سے گزارا گیا تھا لیکن وکیل سے ملنے کے لیے باقی تکالیف کے علاوہ اسے اس اذیت ناک عمل (سٹرپ سرچ) سے بھی گزارا جاتا تھا۔ اس وقت مغرب کا انسانی ہمدردی اور حقوق نسواں کے قوانین شاید وائٹ ہاؤس کا چکر لگا رہے تھے!

    امریکہ نے سارے حقائق و شواہد، انسانی حقوق اور مساوات کے اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے انتہائی چالاکی، تعصب، نفرت اور نسل پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عافیہ پر فرد جرم عائد کیا اور اسے 86 سال قید کی سزا سنائی۔ دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے امریکہ کا انسانی حقوق و ہمدردی کا قانون صرف اتنا ہے کہ ایک امریکی کو قتل کرنے کی کوشش پر 86 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے لیکن ایک غیر امریکی خاتون کو شک یا جھوٹ کی بنیاد پر گولی سے بھی داغا جاسکتا ہے، اور اس پر مستزاد اس پر قید و بند کی صعوبتیں، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد بھی روا رکھا جاسکتا ہے۔ عافیہ اگر مجرم تھی تو حقائق و شواہد امریکہ پیش کیوں نہیں کرتا! امریکی قانون دان ایلین شارپ ویٹفیلڈ کہتا ہے کہ ”یہ سب جھوٹ ہے، عافیہ صدیقی کے خلاف اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں“ (Put up or shut up)۔ شواہد و حقائق کے تحت ان کے ساتھ قانون کے تحت عادلانہ کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ لیکن یہ سارے الزامات ہیں جو امریکہ نے لگائے، اور ساری دنیا نے قبول کیے اور عافیہ پر ہونے والے امریکی مظالم پر خاموش تماشائی بنی، کیونکہ عافیہ امریکی اور مغربی شہری نہیں ہے ورنہ دنیا نے ایک کہرام مچانا تھا۔ در حقیقت عافیہ کی مظلومیت پر خاموش صرف دو افراد ہی رہ سکتے ہیں: ایک وہ جو اس کیس سے بالکل واقف ہی نہ ہو اور وہ عافیہ کو دہشتگرد سمجھتا رہے۔ دوم وہ جو اس کیس کی تفصیلات و جزئیات سے باخبر تو ہو لیکن بددیانتی کرتا ہو۔

    اب امریکہ کا جھوٹ ساری دنیا کے سامنے واضح ہوچکا ہے، لہذا اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کے تنظیموں اور دنیا کے تمام انسانوں کو امریکہ کے اس ظلم کے خلاف آگے آنا چاہیے اور اس جھوٹ پر لب کھولنا چاہیے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے اپنے پاکستان کی کارگردگی بھی صفر ہے، دنیا بھر کی انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی تنظیمیں خاموش ہیں، کیونکہ عافیہ کوئی لبرل خاتون نہیں ہے نا! ورنہ کب سے دنیا نے ایک شور برپا کرنا تھا۔ اب وقت ہوا چاہتا ہے کہ پاکستانی عوام، حکومت اور ادارے کھل کر امریکہ کے مظالم کی مخالفت کرے اور عافیہ کی رہائی کا سنجیدہ مطالبہ کرے، ورنہ ہم سب مجرم ہونگے۔

  • کیا امتیازی سلوک صرف پولیس کے نظام سے بالا، فرانسیسی نفسیات میں سرایت کرتا ہے؟

    کیا امتیازی سلوک صرف پولیس کے نظام سے بالا، فرانسیسی نفسیات میں سرایت کرتا ہے؟

    حالیہ واقعات میں، فرانسیسی پولیس کی طرف سے ایک 17 سالہ لڑکے کو گولی مار نے کے واقعے نے فرانس میں جاری تشدد کو ہوا دی ہے۔ جس سے فرانس کی پولیس میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی گہری جڑوں کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ متاثرہ شخص شمالی افریقی نژاد تھا، جو بنیادی رویوں اور تعصبات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ 2023 میں پولیس اسٹاپ کے دوران فائرنگ کا تیسرا واقعہ ہے۔ پچھلے سال اسی طرح کے تیرہ واقعات ہوئے جن میں سے تین 2021 میں اور دو 2022 میں ہوئے۔ ان تمام واقعات میں متاثر لوگ یا تو عرب ورنہ افریقی تھے۔

    فرانسیسی پولیس فورس کے اندر نسلی امتیاز کے اس بار بار ہونے والے نمونے کو اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل، کونسل آف یورپ، اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اجاگر کیا ہے۔ ان کی رپورٹیں اور نتائج ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں کہ مسئلہ ان الگ تھلگ واقعات سے زیادہ گہرا ہے۔

    مزید برآں، یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ مسئلہ پولیس سسٹم کے علاوہ بھی موجود ہے۔ فرانس کو بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی اجتماعی نفسیات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس کی ایک مثال 2021 کے "اینٹی علیحدگی پسندی” بل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جہاں ایک ترمیم کی منظوری دی گئی تھی، جس میں نابالغ بچوں کے پہننے والے نمایاں مذہبی نشانات، اور خواتین کی محکومیت کی علامت ہونے والے لباس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ ترمیم مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی گہری غلط فہمی کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ فرانس میں تقریباً 50 لاکھ مسلمان ہیں، لیکن ان میں سے صرف ایک حصہ یعنی تقریباً 2000 ، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے چہروں کو مکمل طور پر نقاب سے ڈھانپتے ہیں۔ لہٰذا، یہ قیاس آرائیاں کہ اس طرح کے لباس پوری مسلم آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، غلط بھی ہے اور امتیازی بھی۔ اسلام میں ہر عورت پردہ نہیں کرتی۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ یقیناً اسلامی روایت کی پیروی کرتے ہیں جیسا کہ ان کا حق ہے۔

    فرانس کو نہ صرف اپنے ناقص پولیس سسٹم کی اصلاح کرنی چاہئے، بلکہ اس میں موجود وسیع تر سماجی مسائل کو بھی حل کرنا چاہیے۔ پولیس افسران فرانسیسی معاشرے کے رکن ہیں۔ جب امتیازی سلوک کو کسی بھی چیز یا کسی سے مختلف کے لیے اجتماعی رویہ کے طور پر قبول کیا جائے، تو اس نوعیت کے واقعات کا رونما ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوئی ادارہ تنہائی میں موجود نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس معاشرے سے تشکیل پاتے ہیں جس کا وہ حصہ ہیں۔

    آخر میں، فرانس کو اپنی صفوں کے اندر نسلی امتیاز کو دور کرتے ہوئے، اپنے پولیس انتظامیہ کی ایک جامع تحقیقات کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی قوم کو اپنے وسیع تر معاشرتی رویوں اور تعصبات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے، فرانس ایک زیادہ جامع اور انصاف پسند معاشرے کی تعمیر کے لیے کام کر سکتا ہے، جدھر امتیازی سلوک کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔

  • لوٹوں اور نوٹوں کی گونج،سفارش نہیں بلکہ میرٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    لوٹوں اور نوٹوں کی گونج،سفارش نہیں بلکہ میرٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان وجود میں آچکی ہے ۔اس کے مستقبل کے بارے میں لکھا اور بولا جا رہا ہے ۔ اس طرح کی جماعتیں ملکی سیاسی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ۔ اس جماعت میں شامل لوگوں کی اکثریت نے سیاست اور جمہوریت کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔ اس کا خمیازہ بھٹو، نوازشریف ، محترمہ بینظیر بھٹو اور اب عمران خان بھگت رہے ہیں۔ ملکی سیاست میں ان کا اور ان جیسے لوگوں کا مستقبل روشن ہی ہوتا ہے ۔حیرانگی اس پر ہے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا ان کو سیاسی ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے ۔

    سیاستدان اور سیاسی جماعتیں بددلی سے ان کو قبول بھی کرتی ہیں۔ لوٹوں اور نوٹوں کی گونج نے جمہوریت کو کبھی مستحکم نہیں ہونے دیا۔ سیاست میں نظریاتی دور ختم ہو چکا ہے۔ نظریات اور جمہوریت نفع بخش سیاست کے چنگل میں پھنس گئی ہے۔ جدید جمہوریت کا بحران بہت سنگین اور گہرا ہو گیا ہے۔ آزاد انتخابات، آزاد صحافت اور ایک آزاد عدلیہ کے معنی بہت سکڑ گئے ہیں۔ اس سیاسی کھلواڑ میں عوام کو باور کرایا گیا کہ سیاستدان صادق اور امین بھی ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا بیان سامنے آیا کہ انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہئیں ملکی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ ایسی نگران حکومت ہو جو اصلاحات کو آگے لے کر چکے۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    قارئین اسحاق ڈار نے درست کہا مگر کیا کہا جائے جس ملک میں سفارشی نگران وزیراعظم لگایا جائے وہ کیا اصلاحات کرے گا نگران وزیراعظم جو خود سفارشی ہوگا وہ کس طرح صاف و شفاف انتخابات کروائے گا؟ سفارشوں کی ایک لمبی لائن لگی ہے نہ صرف وزارت عظمیٰ کے لئے بلکہ نگران کیبنٹ کے لئے بھی۔ ذمہ داران ریاست ملکی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشی نہیں بلکہ ملک و قوم کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے میرٹ پر نگران وزیراعظم کا فیصلہ کریں۔ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کروائے جائیں تاکہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات کے بعد انگلی نہ اٹھائے بین الاقوامی سطح پر بھی انتخابات پر انگلی نہ اٹھائی جائے۔ ملک کا اس وقت اصل مسئلہ معیشت ہے۔ نگران وزیراعظم بناتے وقت اہلیت اور میرٹ کا قتل نہ کیا جائے۔