Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں افغان مہاجرین کے خطرے کا از سر نو جائزہ

    پاکستان میں افغان مہاجرین کے خطرے کا از سر نو جائزہ

    2007 میں، پاکستان نے اپنی سرحدوں کے اندر افغان مہاجرین کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا، رجسٹریشن کا ثبوت (POR) کارڈ جاری کیا۔ ان کارڈز میں عارضی قانونی حیثیت، نقل و حرکت کی آزادی، اور فارنرز ایکٹ 1946 سے استثنیٰ کی پیشکش کی گئی تھی۔ اصل میں یہ 2017 تک جاری رہنے کا ارادہ تھا، افغانستان میں جاری عدم استحکام کی وجہ سے اس انتظام کو بڑھایا گیا تھا۔ اس کے بعد، کسی بھی نئے افغان پناہ گزین کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے ذریعے کیے گئے مہاجرین کی حیثیت کے تعین کے طریقہ کار سے گزرنا پڑا۔

    یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کو مستقل رہائش کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک پر جو پہلے ہی معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں، مہاجرین کی آمد سے مزید بوجھ نہیں بڑھ سکتا۔ مہاجرین کی آڑ میں پاکستان میں داخل ہونے والے افرادسے معاشی دباؤ میں اضافہ ہواجو ممکنہ طور پر اضافی مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

    اس پروگرام کا بنیادی مقصد افغانوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا تھا جنہیں امریکہ کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے طالبان کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو اسپیشل امیگریشن ویزا (ایس آئی وی) پروگرام کے لیے اہل نہیں ہیں، جس میں مترجموں اور دیگر لوگوں کو شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے امریکہ کی حکومت کے لیے کام کیا

    اکتوبر 2020 کی UNHCR کی رپورٹ کے مطابق، تقریباً 50 لاکھ افغان اپنے آبائی ملک سے باہر بے گھر ہوئے، جن میں سے 90 فیصد کی میزبانی پاکستان اور ایران نے کی۔ (ماخذ: UNHCR. CITATON: "ایران میں پناہ گزین،” https://www.unhcr.org/ir/refugees-in-iran/

    تاہم افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والے سیکورٹی خطرات ایک سنگین تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔

    مزید افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا اسمگلروں نے فائدہ اٹھایا۔ اس غلط استعمال میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اہم عنصر پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اکتوبر 2022 میں کراچی کی بندرگاہوں اور پورٹ قاسم پر "ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان” کے طور پر سامان کی مہر لگانے کو روکنے کا فیصلہ تھا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق، اس معطلی نے ایک خامی پیدا کر دی ہے، جس سے افغانستان کے لیے تیار کردہ مصنوعات پر ٹیکس اور کسٹم فیس بغیر ادائیگی کی جا سکتی ہے جب انہیں پاکستان واپس کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں افغان مہاجرین کی صورتحال پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہے۔ جہاں ایک انسانی پہلو پر غور کرنا ہے، وہیں سیکورٹی اور اقتصادی خدشات کو بھی دور کرنا ہوگا۔ پاکستان کو پناہ گزینوں کی اس آبادی کو سنبھالنے میں اہم چیلنجز کا سامنا ہے، اور ایک متوازن اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے UNHCR جیسی بین الاقوامی تنظیموں کی مشاورت سے صورتحال کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے۔

  • اردو کے عظیم کہانی نویس، الیاس سیتا پوری کا تعارف

    اردو کے عظیم کہانی نویس، الیاس سیتا پوری کا تعارف

    الیاس سیتا پوری ، اردو کے عظیم کہانی نویس کی کہانی

    اردو کے عظیم کہانی نویس محمد الیاس خان المعروف الیاس سیتاپوری 30 اکتوبر 1934 کو لکھنؤ (اترپردیش) ہندوستان کے ضلع سیتاپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق فارسی، پشتو اور داری بولنے والے پٹھان یوسف زئی قبیلے سے تھا جو کابل (افغانستان) سے ہجرت کر کے شاہجہاں پور (اترپردیش) میں آباد ہوئے تھے۔ الیاس سیتاپوری نے اپنی ابتدائی تعلیم سیتاپور میں حاصل کی اور لڑکپن ہی سے کہانیاں لکھنا شروع کر دیں۔ ان کی پہلی تاریخی کہانی جس نے شہرت و قبولیت عامہ حاصل کی وہ ”خانِ اعظم کا تحفہ“ تھی جو ماہنامہ "سب رنگ” ڈائجسٹ کے 1971 کے ایک شمارے میں شائع ہوئی تھی۔

    حرم سرا، راگ کا بدن، اندر کا آدمی، چاند کا خدا، بالاخانے کی دلہن، پارسائی کا خمار، آوارہ گرد بادشاہ ۔۔۔ ان کی مقبول ترین کہانیاں باور کی جاتی ہیں جو پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں شمع بکڈپو (نئی دہلی) نے شائع کیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایم کیو ایم پاکستان نے بھی سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی درخواست واپس لینےکا فیصلہ کرلیا
    ایم کیو ایم پورے شہر سے الیکشن لڑے گی. مصطفی کمال
    گرفتار ملزم نے اب تک 328 گردوں کے آپریشن کئے ہیں. نگران وزیراعلی پنجاب
    نواز شریف کا استقبال؛ زیادہ بندے لانے پر ہونڈا 125 بائیک مگر پٹرول اپنا
    پرینکسٹر یوٹیوبر کو گولی مارنے والے کو عدالت نے رہا کردیا
    انقرہ میں دھماکہ کی تحقیقات شروع
    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کا فیصلہ
    کہا جاتا ہے کہ الیاس سیتاپوری نے اپنی اہلیہ ضیا تسنیم بلگرامی کے نام سے مذہبی شخصیات اور پیشواؤں کے واقعات بھی تحریر کیے چاہے وہ انبیائے کرام کے حالات زندگی ہوں یا صحابہ کرام کی تبلیغ، مجدّدین کی جدوجہد یا اولیائے کرام اور مجاہدین کے کارنامے۔
    یکم اکتوبر 2003 کو الیاس سیتاپوری کراچی (پاکستان) میں انتقال کر گئے۔ ان کی اولاد میں بیٹا کاشف اور بیٹیوں زنوبیا اور آسنا کے نام سے میں واقف ہوں۔

  • بجلی چور کون ؟

    بجلی چور کون ؟

    بجلی چور کون ؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    نگران حکومت نے بجلی چوروں کیخلاف کارروائی اور ڈیفالٹرسے بل وصولی کے لیے آپریشن کا آغاز کیا ہے،اس اپریشن کا عوام کوفائدہ ملے نہ ملے لیکن واپڈا ملازمین کیلئے کرپشن کرنے کاایک نیا دروازہ ضرورکھل گیا ہے جوشہری بجلی چور ی میں ملوث ہی نہیں ہے اگراس شہری کابل کم ہے تواسے کہا جاتا ہے کہ تمہارابل کیوں کم ہے ،لازمی بات ہے کہ تم بجلی چوری کرتے ہو،یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس شہری نے کتنی رقم خرچ کرکے سولرسسٹم لگایا ہے یا اس کے گھرمیں ایک پنکھا یا بلب کے علاوہ کوئی اورالیکٹرونکس اشیاء موجود ہے یا نہیں،اس کے برعکس شہری سے بھاری رشوت کاتقاضاکیا جاتا ہے،اگرشہری ان واپڈا ملازمین کی ڈیمانڈ پوری نہ کرے تو بھاری ڈٹیکشن بل کے ساتھ بجلی چوری کی ایف آئی آراس شہری کامقدربن جاتی ہے ،بجلی چوری کے علاقوں میں جہاں ان واپڈاملازمین کی خدمت کی جاتی ہے وہاں کارروائی سے قبل واپڈااہلکارفون کردیتے ہیں ،اس طرح جو اصل بجلی چورہیں وہ بچ جاتے ہیں ،پکڑاانہیں جارہا ہے جوپہلے ہی مہنگی بجلی کے بھاری بل ادا کررہے ہیں ۔بجلی چورکل بھی محفوظ تھے اور آج بھی اسی طرح سکون سے بجلی چوری کررہے ہیں ،جب تک کئی عرصے سے ایک ہی جگہ تعینات ایل ایس یا لائن مینوں کے دوردرازتبادلے نہیں ہوں گے اس وقت تک متعلقہ سب ڈویژن کے ایس ڈی او زکا بجلی چوری پر قابوپاناممکن ہے۔

    ایک خبرکے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کے چیئرمین سیف اللہ ابڑو نے چیئرمین نیپرا وسیم مختار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیپرا پورے پاکستان کو نچاتا ہے اور آئے روز عوام پر تین، تین چار، چار روپے کے ٹیکے لگاتا ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال کیا کہ چیئرمین نیپرا کمیٹی میں آکر سامنا کیوں نہیں کرتے؟کسی فورم پر آتے ہوئے نیپرا کی ٹانگیں کانپتی ہیں،انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین نیپرا جب ایڈیشنل سیکرٹری پاور تھے تب انہوں نے کوٹ ادو پاور پلانٹ کو غیر قانونی توسیع دی۔انہوں نے کہا کہ اس غیر قانونی توسیع کے باعث ملکی خزانے پر 151 ارب روپے کا بوجھ پڑا،چیئرمین قائمہ کمیٹی نے داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن کے ٹھیکے کی انکوائری بند کرنے کیلئے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کی طرف سے سینیٹ پر دباؤ ڈالنے کا بھی الزام لگایا۔

    دوسری طرف ایک انگریزی اخبار نے سٹوری شائع کی ہے جس کے مطابق توانائی کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ سامنے آیاہے پاورڈویژن کے مطابق پاکستان میں بجلی کی کل پیداوار 48000 میگاواٹ ہے جبکہ اس کی ترسیل 26000 میگاواٹ سے زیادہ نہیں ہے لیکن اس نے صارفین کا لوڈ 175247 میگاواٹ ظاہر کیا ہے اور ان سے دھوکہ دہی سے بھاری رقوم وصول کی ہیں۔

    اس فراڈ کاانکشاف کراچی سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ انجینئر(الیکٹریکل)انیل ممتاز نے اپنی دستاویزکے ذریعے کیا ہے جواس نے18 ستمبر 2023 کو چیئرمین نیپرا اوراس کے ارکان، وفاقی سیکرٹری توانائی و پاور ڈویژن اسلام آبادکے علاوہ مختلف اداروں کو بھیجیں، جن میں اس نے حکومت کے پاور سیکٹر حکام کے جرم کو بے نقاب کیا ۔

    ملک بھر میں بجلی بلوں میں ہوشربا اضافے کے بعد سے عوام کا احتجاج جاری ہے اور مختلف مقامات میں اجتماعی طور پر بجلی بلوں کو جلایا بھی گیا ہے اور مظاہرین کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واپڈا ملازمین اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کو مفت ملنے والی بجلی کا سلسلہ بندکیا جائے کیوں کہ عوام اب اس بوجھ کوبرداشت نہیں کر سکتے۔

    ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وزیراعظم، صدر، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز، وفاقی وزرا، چیئرمین نیب ، گورنر اسٹیٹ بینک، سینئر بیوروکریٹ اور سرکاری عہدوں پر فائز اعلی افسران کو ماہانہ بجلی مفت دی جاتی ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے صدر مملکت کی تنخواہ اور دیگر مراعات سے متعلق ایکٹ Presidents Salary, Allowances and Privileges Act 1975 کے مطابق صدر کو لامحدود بجلی یونٹس فراہم کیے جائیں گے جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی صدر ماہانہ 2000 یونٹس مفت استعمال کرسکیں گے۔صدر کے انتقال کے بعد صدر کی زوجہ کو بھی بجلی کے 2000 یونٹس مفت فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کو بھی لامحدود مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کو دوران ملازمت 2000 بجلی یونٹ استعمال کرنے کا اختیار ہے جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان ججز کو 2000 یونٹس بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو بھی ماہانہ 800 بجلی یونٹ مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔چیئرمین نیب کو بھی سپریم کورٹ کے ججز کے مساوی بجلی یونٹس مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ دیگر اداروں کی طرح گورنر اسٹیٹ بینک کو لامحدود بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے اور اس کی رقم اسٹیٹ بینک ادا کرتا ہے۔ سرکاری اداروں کے افسران کو بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے تاہم ادارہ اس بل کی رقم واپڈا کو ادا کر دیتا ہے۔

    واپڈا ملازمین اور بجلی پیدا کرنے اور ترسیل کا کام کرنے والوں کو بھاری یونٹس مفت میں فراہم کیے جاتے ہیں،وزارت توانائی کی جانب سے سینیٹ کمیٹی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق ایک لاکھ 89 ہزار واپڈا ملازمین کو ایک سال میں 34 کروڑ بجلی کے یونٹ مفت فراہم کیے گئے، اس طرح انہوں نے 8 ارب روپے کی بجلی مفت استعمال کی۔واپڈاکے 16سکیل والے افسر کو ماہانہ 300 یونٹ، 17سکیل والے کو ماہانہ 450 یونٹ، 18 سکیل والے کو 600 یونٹ، 19سکیل والے کو ماہانہ 880 یونٹ، 20سکیل والے کو 1100 یونٹ جبکہ 21 اور 22سکیل والے واپڈا افسر کو ماہانہ 1300 بجلی یونٹ مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ تمام افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پہلے کی طرح ملنے والے یونٹس مفت فراہم کئے جاتے ہیں۔

    ایک اوررپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمین کی جانب سے سالانہ 34 کروڑ یونٹ مفت بجلی استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے، پاور ڈویژن نے گریڈ 17 سے 21 تک کے سرکاری افسران کی مفت بجلی کے خاتمہ کی تجویز کا جھانسہ دے کر بڑی واردات چھپا لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 ہزار ملازمین کی مفت بجلی ختم کرنے سے بڑا فرق نہیں پڑے گا بلکہ ٹیرف میں بڑے فرق کے لیے تمام ملازمین کی مفت بجلی سہولت ختم کرنا ضروری ہے۔دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ گریڈ 17 سے 21 کے 15 ہزار 971 ملازمین ماہانہ 70 لاکھ یونٹس مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسکے مقابلے میں گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین 33 کروڑیونٹ ماہانہ مفت بجلی استعمال کررہے ہیں جن کی تعداد 1 لاکھ 73 ہزار200 ہے، یہ سرکاری ملازمین سالانہ 10 ارب کی مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔دستاویز کے مطابق گریڈ 17 تا 21 کے ملازمین سالانہ 1 ارب 25 کروڑکی بجلی مفت استعمال کر رہے ہیں جبکہ گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین ماہانہ 76 کروڑ 43 لاکھ روپے کی مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔

    اس وقت عوام میں بہت زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے،عوام کا کہنا ہے کہ جو حکومتی ادارے بل ادا نہیں کرتے ان کیخلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جائے،عوامی حلقوں کی طرف مسلسل سوال اٹھایاجارہا ہے کہ عام شہری کی بجلی چوری توواپڈااوردوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کودکھائی دیتی ہے اُن کے خلاف بھرپورطاقت سے کارروائیاں جاری ہیں لیکن ضلع کچہریوں میں جہاں ڈائریکٹ کنڈے لگے ہوئے ہیں وہ اعلیٰ آفیسران اور قانون نافذکرنے والے اداروں کو کیوں دکھائی نہیں دیتے ،وہاں ایکشن کیوں نہیں لیاجاتا۔

    حکومت کے ارباب اختیارسے دردمندانہ اپیل ہے کہ عام صارفین کو ریلیف دیں تاکہ وہ بل ادا کرسکیں ،کنڈا لگانے والوں سے زیادہ سرکاری ملازمین بجلی چوری کرتے ہیںان کے خلاف بھی بھرپورکارروائی عمل میں لائی جائے، اگریکطرفہ غریبوںکے خلاف کریک ڈائون ہوگا تو وہ جرائم کی طرف جائیں گے جس سے انتشار پھیلے گا۔

  • نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    نام کتاب : نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت
    مولف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 416
    قیمت : 990روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، نزد لوئر مال لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” نوجوان نسل کےلئے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ عبدالمالک مجاہد کی نئی تالیف ہے ۔یہ کتاب کتب ِ سیرت میں ایک خوبصورت موتی کی طرح گرانقدراضافہ ہے ۔ موضوع جس قدر عظیم ہے عبدالمالک مجاہد نے اسی قدر بہتر طریقے سے اسے لکھنے کاحق ادا کیا ہے ۔ کتاب میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جو بغیر سند کے مذکور ہویاجس کی صحت مشکوک ہو ۔ یہ کتاب آپ ﷺ کی حیات مبارک کو مختصر طور پر پڑھنے کی خواہشمند نوجوان نسل کے لئے لاجواب اور بےمثال تحفہ ہے ۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود سیرت النبی کے تمام پہلوﺅں کا مکمل احاطہ کرتی ہے اس میں نبی ﷺ کی مبارک زندگی کے تمام گوشے خوبصورت طریقے سے بیان کئے گئے ہیں ۔کتاب کااسلوب نہایت دلچسپ اورعام فہم ہے جوکہ بطور خاص نوجوان نسل کالجوں ، یونیورسٹیز اوردینی اداروں کے طلبہ وطالبات کے لئے نہایت مفید ہے۔ انداز بیاں میں سادگی اورروانی ہے تاکہ نوجوان نسل اسے دلچسپی سے پڑھے ۔ اس لئے کہ یہ محبوب الہیٰ کا تذکرہ ہے، جن کی تعریف وتوصیف خود آسمانے والے نے اپنی کتاب مقدس میں فرمائی ہے ، جو محبوب ملائکہ ہیں ، جو ایک لاکھ چوبیس ہزار کے امام و پیشوا ہیں ، جو ساقی کوثر ہیں ، جو سرداران جنت حسن وحسین کے نانا ہیں ،جو عفیفہ کائنات سیدہ عائشہ طاہرہ مطاہرہ کے شوہر ہیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باپ ہیں ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے دنیا میں بسایا اس کے بعد بیشمار ادوار گزرتے چلے گئے تاآنکہ انسانی جذبات واحساسات نے تحریرکی شکل اختیار کی اول اول انسان نے پتھروں پر لکھنا شروع کیا تب سے اب تک اس دنیا میں جتنے ادور بھی گزرے، ان میں سے رسول ﷺ واحد ہستی ہیں کہ جن کی مبار ک زندگی پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے ۔ ادوار گزرے چلے جائیں گے، لکھنے والے لکھتے رہیں گے ، ان کے قلم ٹوٹ جائیں گے، سیاہیاں خشک ہوجائیں گی لیکن رسالت ماٰ ب ﷺ کی سیرت طیبہ کو لکھنے کا حق ادا نہیں کیا جاسکے گا ۔ سیرت طیبہ کے ہدی خوانوں میں عبدالمالک مجاہد بھی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ”پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ میں تمام واقعات مستند اور صحیح ہیں ۔ یہ واقعات سیرت کی قابل اعتماد کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔ قرآنی آیات ، احادیث اور دیگر عربی عبارات کے ترجمے کو لفظی ترجمے کی بجائے آسان ترین اوربامحاورہ ترجمے کی صورت میں لکھا گیاہے ۔کتاب اللہ کے نبی ﷺ کی روشن زندگی کے روشن اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے جس کے مطالعہ سے ہم دین ودنیا کی کامیابیاں سمیٹ سکتے اوردنیا کو بھی انسانیت، امن ، سلامتی کاایک امیدافزا پیغام دے سکتے ہیں ۔
    ارشاد احمد ارشد
     نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

  • محسن بھوپالی  کا جنم دن

    محسن بھوپالی کا جنم دن

    چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
    لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری

    اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی ک 29 ستمبر 1932ء میں بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عبدالرحمان تھا۔ 1947ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے اور لاڑکانہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے۔

    اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی 1993ء تک جاری رہی۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ء سے ہوا۔ ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن شامل ہیں۔

    محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری نے انجام دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔

    محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔ تلقین صبر و ضبط وہ فرما رہے ہیں آج راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
    17 جنوری 2007ء کو محسن بھوپالی دنیا سے رخصت ہوئے اورکراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
    پھر اس کے بعد مرا شہ سوار ابھرے گا
    سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہے
    مجھے یقیں ہے پھر ایک بار ابھرے گا
    پڑی بھی رہنے دو ماضی پہ مصلحت کی راکھ
    کریدنے سے فقط انتشار ابھرے گا
    ہمارے عہد میں شرط شناوری ہے یہی
    ہے ڈوبنے پہ جسے اختیار ابھرے گا
    شب سیہ کا مقدر شکست ہے محسنؔ
    در افق سے پھر انجم شکار ابھرے گا
    (محسن بھوپالی)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
    لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری
    میں نے دل کی بات رکھی اور تو نے دنیا والوں کی
    میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری
    روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
    کچی مٹی تو مہکے گی ہے مٹی کی مجبوری
    ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہر بلب
    جبر وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری
    جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
    وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری
    اک آوارہ بادل سے کیوں میں نے سایہ مانگا تھا
    میری بھی یہ نادانی تھی اس کی بھی تھی مجبوری
    مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسنؔ
    ہم نے ساری عمر نباہی اپنی پہلی مجبوری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
    وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا
    ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن
    کسے بتاؤں کہ میں بھی امین رکھتا تھا
    اتر گیا ہے رگوں میں مرے لہو بن کر
    وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا
    گزرنے والے نہ یوں سرسری گزر دل سے
    مکاں شکستہ سہی پر مکین رکھتا تھا
    وہ جوہری نہ رہا اب اسے کہاں ڈھونڈیں
    جو لفظ لفظ میں در ثمین رکھتا تھا
    وہ عقل کل تھا بھلا کس کی مانتا محسنؔ
    خیال خام پہ پختہ یقین رکھتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ضبط کر اے دلِ مَجرُوح کہ اِس دُنیا میں
    کون سا دل ہدفِ گردشِ ایّام نہیں
    غمِ محبوب و غمِ دَہر و غمِ جاں کی قسم
    ایسے غم بھی ہیں یہاں جن کا کوئی نام نہیں

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ کے لئے کمینٹیٹرز کے پینل کا اعلان
    سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی,محسن نقوی
    آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

  • سرگودھا۔وزیر اعظم یوتھ پروگرام، سکواش ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ سپورٹس لیگ کے ٹرائل

    سرگودھا۔وزیر اعظم یوتھ پروگرام، سکواش ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ سپورٹس لیگ کے ٹرائل

    سرگودھا،باغی ٹی وی( نامہ نگارملک شاہنواز جالپ )وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت سکواش ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ سپورٹس لیگ کے ٹرائل سکواش کمپلیکس سرگودھا میں منعقد ہوئے جس میں ریجن بھر کے 149کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ٹرائلز میں 60 مرداور 89 خواتین کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

    اس موقع پر چیف سلیکٹر ڈائریکٹر سپورٹس بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میڈم عابدہ خان نے کہا کہ مذکورہ کھلاڑیوں میں سے منتخب ہونیوالے کھلاڑی ملتان میں منعقد ہونے والی سکواش ہنٹ یوتھ سپورٹس لیگ میں حصہ لیں سکیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لیگ کا مقصد پاکستان بھر سے سکواش کے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو ابھار کر سامنے لانا ہے۔

    ٹرائلزکے موقع پر سپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن سرگودھاکے صدر ملک طارق اعوان،ڈائریکٹر سپورٹس سرگودھا یونیورسٹی ملک احمد خان کھرل اور میڈم شازیہ بھی موجود تھیں۔

    اس موقع پر شرکاء کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگرام زیادہ سے زیادہ ہونے چاہیئے تاکہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل سکے۔

  • کینیڈا اوربھارت، نئے دشمن؟

    کینیڈا اوربھارت، نئے دشمن؟

    سرے میں سکھ مندر کے باہر ایک سرکردہ رہنما، نجار کو گولیاں ماری گئین، اس واقعہ کے بعد بھارت اور کینیڈا دونوں کے لئے ضروری ہے کہ اس حساس معاملے کو سمجھداری سے دیکھیں،کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈوکی جانب سے الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ اس افسوسناک واقعہ میں بھارتی ایجنٹ مبینہ طور پر ملوث ہیں،ان الزامات کا جواب دینا اور تحقیقات ضروری ہیں،

    کینڈین وزیراعظم کی جانب سے قتل کے بعد بھارت پر لگائے گئے الزامات کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین سفارتی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بھارت نے واضح طور پر کسی بھی قسم کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ تاہم، صورتحال سے نمٹنے کے لیے سفارت کاری کو بروئے کار لانے کے بجائے بھارت نے کینیڈا پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسے "سکھ انتہا پسندی” اور بھارت مخالف پروپیگنڈے کو روکنے میں ناکام رہا ۔ بھارت کے لیے یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ پڑوسی ممالک جیسے کہ پاکستان کے ساتھ استعمال کی جانے والی حکمت عملی، منفی مداخلت کو ہٹانے کے لیے جارحانہ انداز میں، کینیڈا جیسے مغربی ممالک کے ساتھ مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔

    گرو نانک سکھ گردوارہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دینے کی وجہ سے نجار کا کینیڈین سکھ برادری میں ایک قابل احترام مقام تھا۔ وہ خالصتان کے قیام کے حامی بھی تھے۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کینیڈا میں بھارت کے بعد سکھوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ یعنی کینیڈا سکھوں کا دوسرا گھر ہے، کینیڈا کی حکومت کی طرف سے وہاں مقیم موجود سکھوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے پیش نظر نجار کے قتل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،

    ان پیش رفت کے تناظر میں، بھارت اور کینیڈا دونوں نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کی بے دخلی کی ہے۔ بھارت نے کینیڈا کے شہریوں کے لیے ویزا پروسیسنگ معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان ایڈم جان کربی نے مکمل تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، "یہ یقینی طور پر سنگین الزامات ہیں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی ساکھ کا تعین کرنے کے لیے ایک جامع تحقیقات کی ضرورت ہے۔” جب کہ ریاستہائے متحدہ بنیادی اصولوں پر اپنے مؤقف میں واضح رہا ہے، فائیو آئیز اتحاد کے دیگر اراکین نے بھی ایسا انداز اپنایا جو بظاہر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشمکش میں نہیں آنا چاہتے،

    کینڈین وزیر اعظم ٹروڈو نے بھارتی حکومت کو تحقیقات میں حصہ لینے اور اس افسوسناک واقعے کے پیچھے کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لیے کینیڈا کے ساتھ تعاون کرنے کی پیشکش کی ہے۔ بھارت کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ایسے اشارے ہوسکتے ہیں جن کی وجہ سے کینیڈین وزیر اعظم نے یہ الزامات لگائے ہیں۔ بھارت کو ان الزامات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے ، تعاون پر مبنی نقطہ نظر نہ صرف شفافیت کے لیے بھارت کی وابستگی کو ظاہر کرے گا بلکہ یہ بھی یقینی بنائے گا کہ الزامات بے بنیاد ثابت ہونے پر اس کا دامن صاف رہے گا،دونوں ممالک کو تعمیری بات چیت میں مشغول ہونا چاہیے، سفارت کاری کو ترجیح دینا چاہیے، اور سچائی سے پردہ اٹھانے کے لیے مکمل تحقیقات کرنی چاہیے۔ اس معاملے کی حساسیت اور کینیڈا میں مقیم سکھوں اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کے لیے ممکنہ اثرات کو دیکھنا ضروری ہے۔

  • معروف شاعر ظفر اقبال کا جنم دن

    معروف شاعر ظفر اقبال کا جنم دن

    یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
    کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

    ظفر اقبال

    27 ستمبر 1933: تاریخ پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر ،ادیب و کالم نگار ظفر اقبال 27 ستمبر 1933 میں بہاول نگر کے ایک نواحی گائوں میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاول نگر سے میٹرک اوکاڑہ سے ، سیکنڈ ایئر گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایل ایل بی لاء کالج اور پنجاب یونیورسٹ سے کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اوکاڑہ میں وکالت کی پریکٹس اور صحافت شروع کر دی وہ ایک بار اوکاڑہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور دو بار اوکاڑہ پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے ۔ ظفر اقبال کا پہلا شعری مجموعہ کلام ’’آب رواں‘‘ 1962ء میں شائع ہوا جس کے شائع ہوتے ہی ظفر اقبال اردو کے صف اول کے شعرأ میں شامل ہو گئے ۔ جس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے،ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔ ظفر اقبال اردو سائنس بورڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ہے ۔ معروف کالم نگار و اینکر پرسن آفتاب اقبال ان کے فرزند اور عائشہ نور ان کی پوتی ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا
    کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا

    چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھی
    گزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا

    گزر نہ جا یوں ہی رخ پھیر کر سلام تو لے
    ہمیں تو دیر سے دعوی ہے روشناسی کا

    خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا
    کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

    گرے پڑے ہوئے پتوں میں شہر ڈھونڈتا ہے
    عجیب طور ہے اس جنگلوں کے باسی کا
    ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل
    کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھا
    کیا ہوا تھی جس ہوا کے ہاتھ پر پیغام تھا

    اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں
    رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا

    لینے والا ہی کوئی باقی نہیں تھا شہر میں
    ورنہ تو اس شام کوئی در بدر پیغام تھا

    منتظر تھی جیسے خود ہی تنکا تنکا آرزو
    خار و خس کے واسطے گویا شرر پیغام تھا

    کیا مسافر تھے کہ تھے رنج سفر سے بے نیاز
    آنے جانے کے لیے اک رہگزر پیغام تھا

    کوئی کاغذ ایک میلے سے لفافے میں تھا بند
    کھول کر دیکھا تو اس میں سر بہ سر پیغام تھا

    ہر قدم پر راستوں کے رنگ تھے بکھرے ہوئے
    چلنے والوں کے لیے اپنا سفر پیغام تھا

    کچھ صفت اس میں پرندوں اور پتوں کی بھی تھی
    کتنی شادابی تھی اور کیسا شجر پیغام تھا

    اور تو لایا نہ تھا پیغام ساتھ اپنے ظفرؔ
    جو بھی تھا اس کا یہی عیب و ہنر پیغام تھا

  • کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیاء کہتے ہیں

    اہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے

    نوابزادہ نصر اللہ خان

    شاعر۔ سیاست دان۔ دانشور

    یوم پیدائش 13 نومبر 1916 خان گڑھ
    یوم وفات 27 ستمبر 2003 اسلام آباد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوابزادہ نصراللہ خان 13 نومبر 1916کو مظفر گڑھ پنجاب کے ایک نواحی گاؤں خان گڑھ میں ایک پٹھان نورزئی قبیلے کےط سردار نواب سیف اللہ خان کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ 1933ء میں انہوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز مجلس احرار سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 1950ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور پھرپاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بھی قائم کی۔ 1964ء میں انہوں نے کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور اس برس منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اتحادوں کے قیام میں فعال حصہ لیا جن میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ، جمہوری مجلس عمل، یو ڈی ایف، پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، آل پارٹیز کانفرنس، این ڈی اے اور اے آر ڈی کے نام سرفہرست تھے۔ انہیں ’’بابائے جمہوریت‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ وہ شائستہ گفتگو اور نرم لہجے کے مالک تھے ۔ انہوں نے اردو میں شاعری بھی کی ” ناصر” تخلص استعمال کرتے تھے ۔ 27 ستمبر 2003 میں اسلام آباد واقع اپنی رہائش گاہ میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کے فرزند نوابزادہ افتخار احمد خان 2018 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

    غزل

    نوابزادہ نصر اللہ خان ناصر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

    جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
    میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں

    غم نہیں گر لبِ اظہار پر پابندی ہے
    خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں

    کُشتگانِ ستم و جور کو بھی دیکھ تو لیں
    اہلِ دانش جو جفاؤں کو وفا کہتے ہیں

    کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی
    آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں

    یوں تو محفل سے تری اُٹھ گئے سب دل والے
    ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں

    یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
    چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں

    بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا
    دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں

    آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
    میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں

    اُن کے ہاتھوں پہ اگر خون کے چھینٹے دیکھیں
    مصلحت کیش اسے رنگِ حنا کہتے ہیں

    میری فریاد کو اِس عہد ہوس میں ناصر
    ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب شور سلاسل میں سرور ازلی ہے
    پھر پیش نظر سنت سجاد ولی ہے

    کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
    اور کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

    دو حق و صداقت کی شہادت سر مقتل
    اٹھو کہ یہ وقت کا فرمان چلی ہے

    غارت گر یہ اہل ستم بھی کوئی دیکھے
    گلشن میں کوئی پھول نہ غنچہ نہ کلی ہے

    ہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس، حاصل کیا ؟

    اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس، حاصل کیا ؟

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اکثر بحث کے لیے ایک پلیٹ فارم کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس اصطلاح سے بہت دور ہے۔ بحث و مباحثے کے بجائے، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی خصوصیت احتیاط سے تیار کی گئی تقاریر سے ہوتی ہے، جو ہر رکن ریاست کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل مسائل کو حل کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ جبکہ ان تقاریر کی وجہ سے دوسری قوموں کی طرف سے ردعمل بھی آ سکتا ہے،

    2023 میں،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا تھیم "اعتماد کی تعمیر نو اور عالمی یکجہتی کی بحالی،2030 کے ایجنڈے پر عمل کو تیز کرنا اور اس کے پائیدار ترقی کے اہداف سب کے لیے امن، خوشحالی، ترقی اور پائیداری” تھا۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے حوالے سے دو الگ الگ نقطہ نظر ہیں، ایک جو اسے رکن ممالک کے لیے اپنے مسائل کو سامنے لانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے، اور دوسرا جو اسے سیاسی تھیٹر کے لیے ایک اسٹیج کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں تقریریں اکثر گھریلو مسائل کے لیے کی جاتی ہیں۔

    مؤخر الذکر نقطہ نظر 23 ستمبر 2023 کو صبح 11:42 بجے، ہائی کورٹ کے وکیل منیب قادر کی ایک ٹویٹ میں نظر آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ "اسرائیل ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ 100٪ درست ہیں۔ ایران نے فلسطین میں اسرائیل کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی اور وہ 100% درست ہیں۔ پاکستان بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ 100 فیصد درست ہیں۔ بھارت نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی اور وہ 100 فیصد درست ہیں۔ تاہم، یہ سب اپنے ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جائزوں میں 100% غلط ہیں۔ مختصراً، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی محض ایک سیاسی پوائنٹ اسکورنگ فورم ہے جہاں انسانی حقوق کو ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ان کے اپنے متعلقہ ممالک،علاقوں میں جس پر وہ کنٹرول کرتے ہیں اسے برقرار رکھنے کے لیے مثالی نہیں سمجھا جاتا۔

    2022 میں، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کی بحالی اور ان کے جاری اثرات کو کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کرنے کا عہد کیا تھا۔ بدقسمتی سے، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی جانب سے ایک قرارداد کی منظوری اور پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے عطیہ دینے والے ممالک اور اداروں سے وسیع تعاون کے مطالبے کے باوجود، سیلاب کے اثرات آج تک برقرار ہیں۔

    اگرچہ اقوام متحدہ جرنل اسمبلی اجلاس کے دوران عملے کی نچلی سطح پر ضمنی ملاقاتیں اور بات چیت ہوتی ہے، لیکن سربراہان مملکت کے درمیان زیادہ توجہ مرکوز کرنے اور بامعنی بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی شاندار تقاریر اور سیاسی انداز سے آگے بڑھ کر ایسے ٹھوس اقدامات کی طرف بڑھے جو 2023 کے لیے اس کے تھیم میں بیان کیے گئے اہم عالمی مسائل کو حل کر سکیں۔ صرف حقیقی تعاون کے ذریعے ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی امن، خوشحالی، ترقی کو فروغ دینے کے اپنے مشن کو پورا کر سکتی ہے