Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    سیاست ایک گندا کھیل ہے۔ سیاستدانوں کی کثیر تعداد؛ وہ سمجھ لیتی ہے کہ ہوائیں کس جانب چل رہی ہیں، 9 مئی 2023 عمران خان اور ان کی پارٹی کے لیے موت کا دن تھا۔ سب کچھ خاک ہو گیا۔ سیاسی برفباری کا اثر شروع ہوا اور اب بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ وہ گول پتھر جو خان کی پارٹی کی طرف لپکے تھے، سبز چراگاہوں تک جانے کے راستے کو نشانہ زد کرنے میں تیزی سے کوشاں تھے۔ جیسا کہ کہاوت ہے، ڈوبتے جہاز سے چھلانگ لگا دی! پی ٹی آئی کے کچھ "کٹر” حامی جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ "موت تک بھی ہم الگ نہیں ہوں گے” انہوں نے جہانگیر خان ترین کی استحکم پاکستان پارٹی میں شامل ہونے میں کوئی دیر نہ کی۔ اس کا آغاز بڑے دھوم دھام سے کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے دبئی سے آنے والی خبروں سے معلوم ہوا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی اس نوزائیدہ جماعت کے لئے سیٹوں میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ نئی پارٹی میں شامل ہونے والے پہلے ہی پی پی پی جیسے پرانی جماعتوں میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔ اگرچہ ایسا ہو بھی سکتا ہے ،اور نہیں بھی،

    پاکستانی عوام میں جو سوال پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ نادہندگان, جو پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی سابقہ وفاداری کے نادہندہ ہیں اور ہر طرح کی کرپشن کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ اور بعض نے اس عمل میں بھی اپنا حصہ بھی ڈال دیا ہے جو پاکستان کے اپنے 9/11 پر ہونے والی غداری کا عمل تھا، کیا ان کو وائٹ واش کرنے کی اجازت دی جائے گی، اور اس طرح پی ٹی آئی سے جانے کی بنیاد پر ہر غلط کام سے بری ہو جائیں گے؟

    اگر ایسا ہو جائے تو قابل افسوس بات ہو گی۔ ابھی تک نظریہ یہ ہے کہ نہ صرف 9 مئی کے مجرموں کا، بلکہ تمام بدعنوانیوں کا بھی کڑا احتساب ہوگا۔ تاہم، اگر ان بھگوڑے سیاستدانوں کو ان کی بداعمالیوں سے مستثنیٰ ہونے کی اجازت دی جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ احتساب کا عمل مخصوص ہے نہ کہ جامع۔ اس عمل میں تمام بدعنوان کارروائیوں کا احاطہ ہونا چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو۔ خواہ میڈیا کے اہلکار ہوں یا فوج اور عدلیہ کے،

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ، لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ایک بار اور تبدیلی کے لیے، انصاف کا یہ جملہ، ’’انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا دیکھا بھی جانا چاہیے‘‘۔ [یہ جملہ لارڈ ہیورٹ نے ترتیب دیا تھا، جو اس وقت کے لارڈ چیف جسٹس آف انگلینڈ تھے، ریکس بمقابلہ سسیکس جسٹس، [1924] 1 KB 256۔]”

  • ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    بھارت میں خواتین کی آبادی مردوں سے زیادہ ہے، خواتین کو آبادی کے حساب سے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، زندہ رینے کی تگ و دو کے لئے خواتین نہ صرف گھروں سے نکلتی ہیں بلکہ محنت و مشقت بھی کرتی ہیں، خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کے لئے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے .معاشرے میں خواتین کو گھروں کی دیکھ بھال کرنے والی،ماں ، بہن، بیوی ، بیٹی سمیت دیگر کردار ادا کرنے ہوتے ہیں، بھارت کی ترقی میں خواتین کا کردار بھی نمایاں تا ہم انکے ساتھ صنفی امتیاز برتا جا رہا ہے

    بھارت میں خواتین کو جہاں ایک طرف دیوی کے طور پر جانا جاتا ہے وہیں، جہیز کے لئے خاتون کو جلا دیا جاتا ہے،لڑکیاں شادی کے لئے انتظار کرتے کرتے جوانی کھو دیتی ہیں تا ہم جہیز کی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی، خواتین کے ساتھ جب زیادتی، ریپ ، تشدد کے واقعات ہوں پھر بھی خواتین کو ہی اپنی عزت بچانے کے لئے بھی چپ ہی رہنا پڑتا ہے کیونکہ واویلا کرنے سے اسی کی عزت پر ہی حرف آنا ہے.

    مودی سرکار کی طرف سے بیٹی بڑھاؤ، بیٹی بچاؤ کا نعرہ تو لگایا گیا لیکن صنف نازک کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خواتین کو ایک ’سامان‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے حد تو یہ ہوگئی ہے کہ کسی وقت یا موقع پراگر لڑکی نے کسی کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ جناب فوری یہ تنیجہ آخذ کر لیتے ہیں کہ لڑکی ان پر فدا ہوگئی ہے

    انسان تو پھول، بادل، موسم، اپنے پسندیدہ جانور، چھوٹے بچوں، قوسِ قزح اور کسی بھی چیز کو مسکرا کر دیکھ سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو بالکل نہ ہوا کہ اگر کسی حضرت کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ خاتون یا لڑکی اس پر فریفتہ ہوگئی ہےسماج کو ’ہنسی تو پھنسی‘ والی مضحکہ خیز اور ہتک آمیز سوچ میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو بے وقوف سمجھ کر یا آپ کی سوچ کو ہنس کر ٹالنا چاہتی ہو یا پھر آپ کو ہنس کر نظر انداز کر رہی ہو یا آپ سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہو۔ خواتین کے خلاف ایسے رویے ہمارے معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہی نہیں، بلکہ المیہ ہیں

    تحریر:نواب علی اختر

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل

    دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل

    دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل
    دل اب بھی میرا یاد پرانی سے جڑا ہے

    زیب النساء زیبی

    تاریخ ولادت:03 جولا‎ئی 1958ء
    رہائش: گلشن اقبال کراچی پاکستان
    مادر علمی:وفاقی جامعۂ اردو
    جامعہ کراچی
    تعلیمی اسناد:ایم اے سیاسیات
    ایم اے اجتماعی ابلاغیات
    ادبی حیثیت :شاعرہ، افسانہ نگار

    زبان:اردو

    زیب النساء زیبی صاحبہ ایک نامور پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، مترجم اور ماہر تعلیم ہیں۔ اب تک 60 ادبی تخلیق اور 25 نصابی کتابیں تالیف اور ترجمہ کر چکی ہیں۔ شعری صنف سوالنے متعارف کرائی ہے، جب کہ تروینی میں اردو زبان کا پہلا مجموعہ شائع کیا ہے۔ اب تک تین کلیات شائع ہو چکی ہیں جن میں غزلیات کی کار دوام، ستر شعری اصناف پر مشتمل 23 مجموعے سخن تمام کے عنوان سے اور افسانوں، ناولٹوں اور ناول پر مشتمل عکس زندگی شامل ہیں۔ جب کہ ایک کلیات تحقیق و تنفید، ادبی مضامین اور کالموں کی زیر ترتیب ہے۔
    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء کراچی میں اقبال بیگ اور زہرا خاتون کے ہاں 3 جولائی 1958ء کو پیدا ہوئیں، ان کے دیگر بہن بھائیوں میں 4 بھائی اور 3 بہنیں شامل ہیں۔ ایم اے صحافت، ایم اے سیاسیات کی سند جامعہ کراچی سے حاصل کی۔ محکمہ اطلاعات، حکومت سندھ میں افسر اطلاعات کے عہدے پر خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں۔ زیب النساء کی شادی محمد اقبال شیخ (سابق سرکاری افسر) سے ہوئی، ان کی اولاد میں دو بیٹیاں عنبرین افشاں اور سحرین درخشاں ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سخن تمام، (کلیات)
    اس میں ستر اصناف سخن پر شاعری کے 23 مجموعے شامل ہیں۔
    ۔ (2)کارِ دوام، کراچی، زیبی اینڈ عائزاز پبلی کیشنز، 2014ء، 1744 ص (غزلیات)
    اس میں غزلیات کے اکیس مجموعے شامل ہیں۔
    ۔ (3)عکسِ زندگی، ،کراچی،زیبی اینڈ عائزاز پبلی کیشنز، 2014ء، 1040 ص (کلیات)
    اس میں افسانوں کے اٹھارہ مجموعے،سات ناولٹ اور ایک ناول شامل ہے۔
    حمد و نعت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)حرف حرف بندگی (مجموعہ نعت)
    ۔ (2)بھیگی بھیگی پلکیں (مجموعہ نعت)
    بچوں کا ادب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)چاند ستارے آسمان
    ۔ (2)پھول کلیاں خوشبو
    ۔ (3)کہکشاں در کہکشاں
    فکاہیہ شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یہ عالم شوق کا
    ۔ (3)ایسی تیسی
    ۔ (4)یہ کہانی اور ہے
    سہ مصرعی نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تنہا تنہا چاند
    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مجھے کچھ کہنا ہے
    ۔ (2)کبھی تو ملیں گے
    سوالنے
    ۔۔۔۔۔
    آتی رت کا پھول (ذاتی اختراع)
    تروینی
    ۔۔۔۔۔
    تیرا انتظار ہے (اردو میں دوسرا اور کسی شاعرہ کا پہلا مجموعہ تروینی)
    قطعات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سحر درخشاں
    ۔ (2)عنبر وافشاں
    رباعیات اور دوہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یاد کے موسق
    ۔ (2)مسمط
    ۔ (3)تم سے دور تو نہیں (مثلث، مربع، مخمس، مسبح، مثمن، متسح، معثر، مسمط، تربیج بند، ترکیب بند میں)
    ۔ (4)ہتھیلی پر گلاب (چہار بیت، کہہ مکرنی، لوری، کافی، ڈھولا، گیکت، پہلی، ہیر، خماسی، پنجگانہ، سداسی، ملی نغمہ، قوالی، سہرا رخصتی یا مصری تکونی، ترائیلے)
    ناولٹ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خاموش جنازے
    ۔ (2)جہنم کے فرشتے
    ۔ (3) دلدل
    ۔ (4)کالی زبان
    ۔ (5)شہزادے کا انتظار
    ۔ (6)سیر عدم کی
    ۔ (7)اوروہ ہے اور ہم ہیں دوستو
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    آدھی گواہی

    تاثرات
    ۔۔۔۔۔
    رئیس امروہوی
    ۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی کو قدرت نے فیاضی کے ساتھ فہم و ادراک اور مشاہدات کی قوت سے شناسا کیا ہے۔
    عصمت چغتائی
    ۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی اور ان کی ذہانت و تخلیقی کارکردگی پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیائے ادب ہمیشہ فخر کرتا رہے گا۔
    ڈاکٹر وزیر آغا
    ۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی نے اپنی تحریروں میں زندگی کے تلخ حقائق کو موضوع بنایا ہے۔ ان کے موضوعات میں بہت تنوع ہے اور ان کا فکر و خیال میں بلا کی برق رفتاری ہے۔
    فیض احمد فیض
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زیبی انقلابی جوش و جذبے سے پر ایک حقیقت پسند دردمند دل رکھنے والی تخلیق کار ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریرون میں مظلوموں اور نسائیت کے مسائل کو بہت جرات سے بے نقاب کیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    : محبت کا جہاں میں گر محبت ہی صلہ ہوتا
    نہ آنکھوں سے کسی کی درد کا آنسو گرا ہوتا
    یہ تیری دلنشیں دنیا بھی جنت کی طرح ہوتی
    سرشت آدمی کو بس نہ اتنا شر دیا ہوتا
    – جہنم پیٹ کا رکھا ہے تونے ساتھ انساں کے
    سمندر خواہشوں کا جسم کو کچھ کم دیا ہوتا
    ملا کیا اس کو سچائی کے رستےپر قدم رکھ کر
    کہ ایسی نیک نامی کا یہاں کچھ تو صلہ ہوتا
    جو اتنے امتحاں لینے تھے ہر انسان سے تونے
    تو ہر انسان کو تونے پیمبر ہی کیا ہوتا
    دہے ہیں نا تواں زیبی کو اتنے درد و غم تونے
    دیا اک آس کا دل میں جلا کر رکھ دیا ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کردار ہے اور اپنی کہانی سے جڑا ہے
    انسان تو بس عالم ِ فانی سے جڑا ہے
    میں کیسے کہوں پیاس سے مرتے نہیں پنچھی
    یہ سانس کا رشتہ بھی تو پانی سے جڑا ہے
    دل ا ب بھی تیری آرزو کرتا ہے مسلسل
    دل اب بھی میرا یاد پرانی سے جڑا ہے
    ہر شخص ہی دنیا سے چلا جائے گا اک دن
    ہر شخص ہی جب نقل مکانی سے جڑا ہے
    اس غم کو بھی اب دل میں جگہ دینی پڑے گی
    یہ غم بھی مرے ساتھ جوانی سے جڑا ہے
    یہ درد میری جان کا دشمن بنا زیبی
    اس درد کا رشتہ بھی روانی سے جڑا ہے

    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    کیسی مہنگائی
    غربت سے تنگ آکر ماں
    بچے بیچ آئی

    ہر گھر روشن ہے
    جانے میرے گھر کا کیوں
    سورج دشمن ہے

    سرسی چھند دوہا
    ۔۔۔۔۔
    باپ ہوا ہے بوڑھا پھر بھی محنت کرنےجائے
    سچ کہتا ہے نہیں تو اس کو روٹی کون کھلائے

    جس کے پاس ہے دولت شہرت ساتھ چلے سنسار /
    سب کے لبوں پر ایسے منش کی دیکھی جےجے کار

    دوہا چھند
    ۔۔۔۔۔
    میں بھی لکھتی ہوں غزل پاس مرے ہیں نیر
    میرے رہبر رہنما غالب مومن میر

    کہہ مکرنی
    ۔۔۔۔۔
    کیسا برگ و بار شجر ہے
    سایہ بھی اس کا گھر گھر ہے

    اس کے بنا جیون ویراں
    اے سکھی رب . نا سکھی ماں
    _
    تروینی
    ۔۔۔۔۔
    دنیا کی دوزخوں میں انسان جل رہا ہے
    جنت کی حسرتوں میں خود کش بھی پل رہا ہے
    تہذیب کا جنازہ شاید نکل رہا ہے

    رباعی
    ۔۔۔۔۔
    ملتا ہے زمانے کو بھی محنت سے کمال
    آتا ہے ہر اک شے پہ زمانے میں زوال
    اک بار ملا کرتی ہے دنیا میں حیات
    رہتا ہی نہیں حسن سراپا یہ جمال

  • قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں 37سالہ عراقی پناہ گزین نے قرآن پاک کی بے حرمتی اور پھر نذر آتش نے مسلم ممالک سمیت یورپی یونین نے بھی شدید الفاظ میں اس شیطانی عمل کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نے اس عمل کو جارحانہ بے عزتی پر مبنی اشتعال انگیزی کا واضع عمل قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق یہ عمل کسی بھی طرح یورپی یونین کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔

    اس شیطانی عمل پر دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ او آئی سی نے بھی ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ روسی صدر نے بھی اسے جرم قرار دے دیا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں کے لئے تمام مذاہب قابل احترام ہیں تمام پیغمبروں اور آسمانی کتابوں پر ایمان لانا لازم ہے۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے لئے اسلام مخالف قوتیں شرپسندوں کو اکساتی ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروع کریں تاکہ فتنہ فساد پھیلے ہنگاموں اور مسلمانوں کے احتججاج کو دہشت گردی کا نام دے کر طاقت کے بل پر انہیں جانی و مالی نقصان پہنچائیں۔ افسوس صد افسوس یہ بات کڑوی ہے اگر آج کے دور کو فتنوں کا دور کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

    زندگی کے تمام معاملات میں برائیاں پنپ رہی ہیں تمام عالم اسلام قرآن پاک کی بے حرمتی غلیظ حرکت پر بھرپور پرامن مظاہرے جاری رکھے اور پاکستان میں خانقاہوں میں موجود پیر اور ان کے گدی نشینوں کو چاہئے کہ اپنی خوابگاہوں اور علماء دین کو بھی اپنی درسگاہوں سے نکل کر اﷲ کے دین اور اﷲ کے کلام کی ناموس کے لئے بھرپور پرامن مظاہرہ کریں۔ مسلمان اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اپنے قول و فعل پر قرآن کریم کی تعلیمات نافذ کرکے ثابت کریں کہ قرآن کریم ہی انسانیت اور امن کا آئین ہے جس پر عمل کرکے انسان اپنی اور معاشرے میں خوبصورت تبدیلی لاسکتا ہے اور خالق کائنات کی حقیقی آگاہی حاصل کرسکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا

    قرآن پاک کی سورۃ یونس میں اﷲ پاک فرماتے ہیں ’’لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اٹھالو پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے‘‘۔

  • محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    اس شہر حوادث میں اگر ٹوٹ بھی جائوں
    اک عکس مرا شہر کے لوگوں میں رہے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    وہ میاں نواز شریف، قاضی حسین احمد، راحت فتح علی خان ،اداکارہ میرا و دیگر نامور شخصیات کے وکیل رہ چکے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گفتگو و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب، شاعر ، مصنف اور نامور قانون دان محمود گیلانی صاحب 12 دسمبر 1964 میں ضلع شیخو پورہ کے گاؤں ” لالکے” میں واقع اپنے نانا محترم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید محمود الحسن گیلانی اور قلمی نام محمود گیلانی ہے ۔ والد صاحب کا نام سید سردار محمد گیلانی جو کہ ایک زمیندار پیشہ تھے 2011 میں ان کی وفات ہوئی ۔ محمود گیلانی کے دادا سید ولایت حسین گیلانی بہت بڑے عالم ، بزرگ و روحانی شخصیت اور حافظ قرآن تھے ضلع جالندھر کے ایک گاؤں کی مسجد کے امام تھے ان کی اہلیہ سیدہ حسن جان بھی قرآن کی حافظہ تھیں اور گاؤں کی بچیوں کو قرآن کی تعلیم دیتی تھیں سید ولایت حسین گیلانی کے حسن اخلاق اور دینی تعلیمات سے متاثر ہو کر ہزاروں غیر مسلم ان کا دست بیعت ہو کر مسلمان ہو گئے ۔ تقسیم ہند کے بعد سید ولایت حسین اپنے خاندان کو ساتھ لے کر ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان منتقل ہو گئے ۔ سید محمود الحسن گیلانی نے پرائمری تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول ڈھلواں ضلع لاہور، میٹرک گورنمنٹ اخوان ہائی اسکول برکی لاہور سے گریجو ایشن وفاقی گورنمنٹ اردو آرٹس کالج کراچی ، ایم اے اردو اور ایل ایل بی جامعہ پنجاب لاہور سے کیا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فوجداری کے مقدمات لڑتے ہیں۔ وکالت کے شعبے میں ان کی مقبولیت اور شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ، جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمد، گلوکار راحت فتح علی خان ، کرکٹر عبدالقادر ، اعجاز احمد، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب اور اداکارہ میرا و دیگر کئی نامور شخصیات کے وکیل رہ چکے ہیں۔ وہ ادارہ ہیومن جسٹس فرنٹ رجسٹرڈ پاکستان اور "بزم سرخیل ادب” کے چیئر مین ہیں ان کے ادارے ” ہیومن جسٙٹس فرنٹ کی جانب سے گزشتہ 20 سال سے اب تک 10 ہزار کے لگ بھگ بے بس ، غریب اور نادار لوگوں کو مفت قانونی امداد فراہم کر کے انصاف دلایا گیا ہے۔ گیلانی صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔

    بڑا بیٹا سید آفتاب سرخیل ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے مینیجر ہیں بیٹی سیدہ نایاب گیلانی صاحبہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں وہ. لندن سے اعلی تعلیم حاصل کر چکی ہیں جبکہ چھوٹا بیٹا سید التمش حسن ایک آرمی پبلک اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ سید محمود گیلانی صاحب ایف ایم 95 ریڈیو سے بھی منسلک ہیں جس میں وہ پچھلے 13 سال سے ” بابے دینے دا ڈیرہ ” کے عنوان سے ایک پروگرام کر رہے ہیں جبکہ وہ لاہور کے لاء کالج اور مختلف یونیورسٹیوں میں قانون پر لیکچرز بھی دیتے رہتے ہیں مختلف ٹی وی چینلز کے سیریلز میں اداکاری کے جوہر بھی دکھا چکے ہیں۔ گیلانی صاحب کا دفتر ٹرنر روڈ لاہور پر واقع ہے۔ محمود گیلانی نے 7 سال کی عمر سے شاعری شروع کی ان کے ایک کلاس فیلو ناصر بھی شاعری کرتے تھے ۔ شاعری میں محمود گیلانی کے استاد علامہ بشیر رزمی ہیں۔ وہ حمد، نعت، غزل اور ہائیکو کی صنف میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔ سید محمود گیلانی صاحب موجودہ اردوادب سےمطمئن نہیں ان کے خیال میں پاکستان میں اردو ادب قلم فروش اور ضمیر فروش نام نہاد ادیبوں کے نرغے میں ہے اس لیے عصری تقاضوں کے مطابق صحیح اور معیاری ادب تخلیق نہیں ہو رہا ہے اصل ادیب اور شعراء اپنے معاشی مسائل میں گھرے رہنے کے باعث گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ الیٹرونک اور پرنٹ میڈیا بھی طوائف کا کردار ادا کرتے ہوئے حکمرانوں کی قصیدہ گوئی کرنے والے ادباء اور شعراء کو پروموٹ کر رہا ہے۔ اصل ادباء کو متحد ہو کر نام نہاد ادیبوں اور شعراء کی اجارہ داری کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ محمود گیلانی کی ” بزم سرخیل ادب ” ادبی نشستوں اور مشاعروں کا انعقاد کرتی رہتی ہے اور کم وسائل اور غریب قلمکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی سرگرم عمل ہے ۔ محمود گیلانی کی اب تک 5 کتابیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں 1 گل نایاب (حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل) 2 ۔ اک اور آسمان ( غزلیہ شاعری ) 3 . کچھ تو کہو (غزلیات شاعری). 4 . تجھے لائوں کہاں سے ( شاعری) 5 . تلوار اور ترازو ( مقدمات کی سچی کہانیاں ) جبکہ ان کی کتاب ” میں نے خود کو مرتے دیکھا” زیر طباعت ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آنسوں کی طرح روز وہ أنکھوں میں رہے گا
    وہ شخص ہمیشہ مرے خوابوں میں رہے گا

    ممکن تو نہیں گر میں اسے بھول بھی جاٶں
    پھر بھی وہ خیالوں مری سوچوں میں رہے گا

    اس بزم میں ہوتا ہے سدا تذکرہ اس کا
    بس تذکرہ اس کا مری باتوں میں رہے گا

    سانسوں میں وہ مچلے گا کبھی جسم کی صورت
    وہ جسم کی صورت کبھی سانسوں میں رہے گا

    اس شہر حوادٹ میں اگر ٹوٹ بھی جاٶں
    اک عکس مرا شہر کے لوگوں میں رہے گا

    اس شخص کی پہچان مری ذات سے ہوگی
    وہ شخص سدا میرے حوالوں میں رہے گا

  • اعظم خان کو سی پی ایل 2023 کیلئے گیانا ایمازون واریئرز نے چن لیا

    اعظم خان کو سی پی ایل 2023 کیلئے گیانا ایمازون واریئرز نے چن لیا

    قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر اعظم خان کا کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) میں پرکشش معاہدہ طے پا گیا، ذرائع کے مطابق 24 سالہ اعظم خان کو سی پی ایل 2023 کیلئے گیانا ایمازون واریئرز نے چن لیا ہے، نوجوان وکٹ کیپر بیٹر کو گیانا کی جانب سے کھیلنے کے ایک لاکھ 20 ہزار ڈالرز ملیں گے جو اس سال کسی بھی پاکستانی کو اس لیگ میں ملنے والا سب سے زیادہ معاوضہ ہے، پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 3 کروڑ 43 لاکھ روپے بنتی ہے۔

    اعظم خان اس قبل سی پی ایل میں بارباڈوس رائلز کا حصہ رہ چکے ہیں، سی پی ایل 2023 کا ایڈیشن 16 اگست سے 24 ستمبر تک ہوگا، جبکہ دوسری جانب بھارتی کرکٹر اور نمبر ٹیسٹ بولر روی چندر ایشون پاکستان کے بولنگ اٹیک کے معترف ہیں۔ بھارتی اسپنر روی چندر ایشون نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ چند میچز غیر معمولی رہے ہیں جب کہ ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور بلاک بسٹر میچ ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قرض پروگرام کےحصول کیلئے وزیر اعظم نےاہم کردارادا کیا. اسحاق ڈار
    نرس کے ساتھ زیادتی،ڈاکٹر نے نازیبا ویڈیو بھی بنا لی
    چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،سری لنکن صدر نے بھی "مدد”کی وزیر اعظم
    بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے واقعات میں اضافہ
    وزیراعظم نے ایف سی اور رینجرز کی تنخواہیں پاک فوج کے برابر کردیں
    ایشون نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کا میچ متوازن ہوگا کیونکہ پاکستان کے پاس ایک کوالٹی پیس اٹیک ہے۔ تاہم واضح رہےکہ ورلڈکپ 2023 کا آغاز5 اکتوبر سے ہوگا جب کہ فائنل 19 نومبر کو کھیلا جائے گا، پہلا میچ دفاعی چیمپئن انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان بھارت کے شہر احمد آباد میں ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈکپ میچ 15 اکتوبر کو احمد آباد میں شیڈولڈ ہے۔

  • کریک ڈاؤن!

    کریک ڈاؤن!

    آتش زنی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ فوج کے اس معاملے میں نرمی کا کبھی موقع نہیں دینا چاہئے۔ پہلی مثال ان کی اپنی صفوں میں سے ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل احمد شریف نے حال ہی میں اپنے خطاب میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں فوج کے "خود احتسابی کے عمل” کے ایک حصے کے طور پر ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین فوجی افسران کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ تین میجر جنرلز اور سات بریگیڈیئرز سمیت افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ (ڈان نیوز 26 جون 2023)

    پیغام بآواز بلند اور واضح ہے۔ نو مئی کے واقعات میں جو بھی ملوث ہیں، کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

    یہ کارروائی رواں برس 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ملوث افراد کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ چاہے انہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے نعروں سے اکسایا گیا ہو کہ "عمران خان ہماری سرخ لکیر ہے” اور "ہم آپ کے "باپ” سے "حقیقی آزادی” لیں گے – آتش زنی کرنے والوں کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی "ماسٹر مائنڈ” کو بخشا جائے گا۔

    آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں کے ذریعے عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ یہ باقاعدہ قانون ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں پر کن حالات میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے، جب کوئی شہری خود کو غداری میں ملوث کرتا ہے، فوجی اہلکاروں، املاک پر حملہ کرتا ہے، یا پھر جاسوسی میں ملوث پایا جاتا ہے۔

    یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ
    1۔ 1973 کا غداری ایکٹ کیا ہے:

    2. سنگین غداری وغیرہ کی سزا۔ جہاں جب ایک شخص جو مجرم پایا جاتا ہے۔

    ا- 23 مارچ 1956 کے بعد سے کسی بھی وقت پاکستان میں نافذ العمل آئین کی تنسیخ یا تخریب کاری کا ارتکاب کرنا
    ب- آئین کے آرٹیکل 6 میں بیان کردہ سنگین غداری کی سزا موت یا عمر قید ہوگی۔

    باٹم لائن:

    3. طریقہ کار۔ کوئی عدالت اس ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم کا نوٹس نہیں لے گی، ماسوائے اس سلسلے میں کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اختیار کردہ کسی شخص کی تحریری شکایت پر۔

    میرا معصومانہ سوال یہ ہے کہ پھر عدالت نے فوجی ٹرائیبیونلز کے ذریعے شہریوں کے مقدمات کو روکنے کی درخواستوں کی سماعت کیوں شروع کی؟

    دوسری صورت حال وہ ہے جب پاکستان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ اور ایمرجنسی کے اعلان کا سامنا ہو۔

    کریک ڈاؤن یہاں ہے۔ کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ جو لوگ اس پر خاموش ہیں، انہیں سمجھنا ہوگا کہ کھیل ختم ہوچکا ہے۔ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا قابل قبول نہیں!

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔  سعادت کی زندگی سعادت کی موت

    محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔ سعادت کی زندگی سعادت کی موت

    محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔ سعادت کی زندگی سعادت کی موت
    ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
    انسان کی زندگی خواہ کتنی ہی لمبی ہی کیوں نہ ہو وہ ختم ہونے والی اور زوال پذیر ہے، بقاءوہمیشگی اللہ کی ذات کو ہے اور آخرت کی زندگی کو ہے جو ابدی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: البتہ آخرت کے گھر کی زندگانی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے۔رسول اللہ ﷺ نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حالت اور اس کی کمتری کو بیان کرتے ہوئے بتایاکہ وہ مسافر کی طرح ہے جس نے تھوڑی دیر کے لیے آرام کیاپھر کچھ دیردرخت کے سایہ کے نیچے سو گیا پھر وہاں سے کوچ کیا اور اس جگہ کو چھوڑدیا۔البتہ بہترین زندگی وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں گزرے اور بہترین موت وہ ہے جو اسلام کی حالت میں آئے جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا وقت ِ آخرت ہے وہ اپنی ساری آل اولاد کو جمع کرتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد تم کس کی عبادت کرو گے تو سب نے ( بالاتفاق ) جواب دیا کہ ہم اس کی عبادت کریں گے کہ جس کی آپ اور آپ کے بزرگ ابراہیم واسماعیل واسحاق عبادت کرتے آئے ہیں یعنی وہی معبود برحق جو وحدہ لاشریک ہے اور ہم اس کی ( اطاعت ) پر قائم رہیں گے ۔ اپنے بیٹے کو دین اسلام پر قائم رہنے اور اعمال صالحہ کی تلقین حضرت لقمان علیہ السلام نے بھی کی تھی بلکہ سورة لقمان اس لحاظ سے پورے قرآن مجید میں ممتاز ہے کہ اس میں درمند والد کانمونہ ہے جو اپنے بیٹے کو دین وایمان پر قائم رہنے کی تاکید کرتا ہے اور اس کو دین کے اہم اصول بتاتا ہے کہ اس پر چل کر وہ اپنی دینی اور دنیوی دونوں قسم کی زندگی سنوار سکتا ہے ۔

    ہمارے بہت ہی پیارے عزیز از دل وجان دوست اور بھائی جناب عبدالمجید غازی بھی اپنی ذاتی زندگی اور اولاد کے معاملے میں ایک ایسے ہی انسان تھے۔ انھوں نے ساری زندگی شریعت کی پاسداری اور دین کی علمبرداری میں گزاری۔ وہ حقیقی معنوں میں علماکے خادم تھے ۔بہت ہی نیک ، صالح اور بے لوث انسان تھے ،ان کا دل مساجد اور علما کے ساتھ ایسے تھا جیسے شمع کے ساتھ پروانہ اور پھول کے ساتھ خوشبو ہوتی ہے ۔ انھیں مملکت سعودی عرب کے ساتھ بھی جنون کی حد تک محبت تھی۔ وہ 1992 ءسے یعنی عرصہ 30 سال سے جامع الامیر فیصل بن فہد الریاض سعودی عرب کے خطیب فضیلة الشخ عبدالسلام کے ہاں مشرف العمال کے طور پر مصروف عمل تھے۔غازی عبدالمجید دین کے رشتے اور تعلق کی بنا پر مملکت سعودی عرب سے بے لوث محبت کرتے اور اسے اپنا اصلی گھر قرار دیتے تھے ، وہ آرزو مندتھے کہ زندگی کی آخری سانس تک مملکت سعودی عرب کا ساتھ نہ چھوٹے۔

    عبدالمجید غازی چند ماہ قبل اولاد کے شدید اصرار پر پاکستان تشریف لائے تو یہاں ان کی طبیعت ناساز ہوگئی فوراََ واپسی کی خواہش کا اظہار کیا اولاد، دوست احباب کے شدید اصرار کے باوجود بھی پاکستان میں رکنے پر رضامند نہ ہوئے۔ فرمایا کرتے تھے سعودی عرب کلمہ طیبہ کا ملک ہے ، اس کے پر چم پر بھی کلمہ طیبہ جگمگا رہا ہے، میں اسی پاک سر زمین پر زندگی کے آخری ایام گزار کر دفن ہونا پسند کروں گا ۔غازی عبدالمجید کی سعودی عرب کے ساتھ درحقیقت دین کی وجہ سے تھی ۔ مجھ سمیت تمام دوست احباب نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح علاج معالجہ کے لیے ہی چند دن پاکستان رک جائیں لیکن مصر رہے کہ میں نے ہر صورت واپس جانا ہے۔اولاد اور دوست واحباب کے شدید اصرار کے باوجود بھی رکنے پر آمادہ نہ ہوئے واپس کی ٹکٹ کنفرم کروائی اور سعودی عرب تشریف لے گئے ۔

    رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جناب عرفان غازی جو کہ ہمارے عزیز از جان دوست عبدلمجید غازی کے فرزند ارجمند ہیں اس اعتبار سے وہ ہمارے بھتیجے بھی لگتے ہیں اور ہمارے ساتھ ہمیشہ محبت واحترام سے پیش آتے ہیں ۔۔۔اپنے دوستوں جناب غلام محمد، جناب ڈاکٹر عبید الرحمان اور جناب نصیر احمد ناصر میری خصوصی دعوت پر بہاولپور سے خانیوال افطاری کے لیے تشریف لائے تو عرفان غازی کو ہم نے بہت افسردہ ، رنجیدہ اور نمدیدہ سا پایا۔ استفسارپر فرمانے لگے کہ والد گرامی ریاض میں شدید علیل ہیں اور میں فوری طور پر سعودی عرب جانا چاتاہوں۔ ہم نے پوچھا کب رخت ِ سفر کاارادہ ہے ؟ فرمانے لگے کہ اگر آج ہی ویزہ لگ جائے تو میں ابھی ہی روانہ ہونا چاہتا ہوں۔اسلئے کہ والد گرامی کی بیماری کے بعد ایک پل بھی ان سے دور رہنا میرے لئے ممکن نہیں ہے ۔بلاشبہ سعادت مند اولاد کی اپنے ماں باپ سے ایسی ہی محبت کرتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ ان شاءاللہ العزیز پہلی فرصت میں ویزہ لگوانے کی کوشش کرتا ہوں چنانچہ تین چار دن کے اندر اندر ویزہ لگوایا اور پہلی میسر فلائیٹ کی ٹکٹ اوکے کرواکر غازی صاحب کو اطلاع دی کہ سفر کی تیاری کریں آپ کا ویزہ اور ٹکٹ اوکے ہے۔

    25 اپریل کوعرفان غازی والد گرامی کی عیادت اور خدمت کے لیے الریاض سعودی عرب تشریف لے گئے۔اس کے کچھ ہی دن بعدہمارے دوست جناب غلام محمد اور جناب ڈاکٹر عبید الرحمان نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ عرفان غازی صاحب کے والد گرامی سعودی عرب میں بقضائے الہی وفات پاگئے ہیں۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔۔خبر سنتے ہی دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش کسی طرح اڑ کر الریاض پہنچ جاو¿ں اور مشکل وقت میں میں پیارے بھائی عرفان غازی کا غم بانٹ سکوں انہیں دلاسہ دے سکوں اور انکی معاونت کرسکوں۔ لیکن ویزہ اور سیٹ کی مشکلات کی وجہ سے یہ خواہش دل میں ہی دفن ہوگئی۔۔تاہم میں اپنے بھائی اپنے دوست کو کہنا چاہوں گا کہ اگر چہ آپ کے والد گرامی کی جدائی کے وقت ہم کوسوں دور بیٹھے تھے لیکن ہم تینوں دوست (راقم الحروف حافظ مسعود اظہر ، جناب غلام محمد صاحب ، جناب ڈاکٹر عبیدالرحمان صاحب) دلی طور پر آپکے ساتھ ہی تھے ۔۔آ پ کایہ۔۔۔۔ غم ہم سب کا غم ہے۔آپ ہمیشہ ہماری دعاوں میں شامل رہتے ہیں او ر اب بھی خصوصی طور پر شامل ہیں۔ بس ہمیں ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔

    عرفان غازی چونکہ زندگی میں پہلی مرتبہ الریاض سعودی عرب تشریف لے گئے تھے ۔ وہ عربی زبان سے بھی زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے پہلی بار بیرون ملک سفر درپیش ہو اور زبان سے بھی زیادہ واقفیت نہ ہو تو مشکلات کااحتمال ہوتا ہے ۔۔ چنانچہ میں نے اس موقع پر سعودی عرب میں مقیم اپنے دوست احباب بالخصوص مادر علمی جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامیہ الریاض کے محترم طلبہ سے گزارش کی کہ عرفان غازی صاحب کیساتھ رابطہ کرکے ان کے والد گرامی کی تدفین اور دیگر معاملات میں ان کی معاونت کریں، حوصلہ دیں اور نماز جنازہ میں شرکت کریں۔۔۔تاکہ۔۔۔دیار غیر میں انہیں اجنبیت کا احساس بھی نہ ہو۔ویسے الحمد للہ عرفان غازی صاحب کے چچا جان اور ان کے کزن بھی الریاض میں موجود ہیں۔۔ لہذا وہ بھی لمحہ بلمحہ عرفان غازی کے ساتھ ساتھ رہے اور سارے معاملات دیکھ رہے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی جناب عبدالمجید غازی (رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعة) کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کی قبر کو منور فرمائے، جنت کے باغیچوں میں سے باغیچہ بنائے، ان کے لواحقین بالخصوص ہمارے عزیز از دل وجان دوست بھائی اور محسن جناب عرفان غازی کو صبر جمیل عطا فرمائے

    مجھے بار بار جناب عرفان غازی جیسے بیٹے پر رشک آرہا ہے،کتنی محبت کرتے تھے اپنے والد گرامی کے ساتھ ، بچوں کی طرح ان کا خیال رکھتے تھے جونہی والد گرامی کی علالت کی خبر ملی تو فرمانبردار اور باپ سے بے لوث محبت کرنے والے بیٹے عرفان غازی سے صبر نہ ہوسکا ۔۔۔تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یونیورسٹی سے ایک ماہ کی چھٹی لیکر فوراََ سے پہلے اپنے والد محترم کی خدمت ،انکی عیادت اور جنت کمانے کے لیے الریاض روانہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرمانبردار بیٹے کو چند دن باپ کی خدمت کی سعادت بھی عطا فرمادی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام والدین کو جناب عرفان غازی صاحب جیسی نیک ، صالح ، والدین سے محبت اور انکی خدمت کے جذ بات سے سرشار اولاد نصیب فرمائے۔۔۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

  • مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!

    مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!

    مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران، دہلی اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدے کیے گئے۔ پرائیویٹ سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کو بھی اجاگر کیا گیا جس نے اسے خاصا فروغ دیا۔

    اس دورے کے دوران مودی نے بھارت کے لیے جو بھی اچھی چیزیں حاصل کیں، ان کا اثر بائیڈن کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا، "بھارت اور امریکہ نے سرحد پار دہشت گردی کی "سخت مذمت” کی نیز پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ دے۔ مشترکہ بیان میں دہشت گرد حملوں کے خلاف جس میں دونوں ممالک کو "دنیا کے قریبی دوستوں میں سے” قرار دیا گیا۔

    پاکستان کے متعلق مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور بھارت "عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں، اور دہشت گردی کی تمام اشکال کی واضح مذمت کرتے ہیں”۔ [دی انڈیپنڈنٹ، جون 2023]۔

    یہ مزاحیہ تھا! نہ صرف مودی کی طرف سے بیان جو اب بھی "گجرات کے قصاب” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے. جسے امریکی ویزا سے انکار کر دیا گیا تھا، اور "مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں” کی بنیاد پر تقریبا ایک دہائی تک امریکی خلا میں داخل نہیں ہو سکا۔ وہ امریکی سرزمین پر رہتے ہوئے یہ بیان دے رہے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ مودی کی نگرانی میں بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر رہا ہے۔ "گزشتہ ہفتے، ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ مودی-بائیڈن سربراہی اجلاس کے "مرکز” میں انسانی حقوق کے خدشات کو مد نظررکھے۔” {CNN نیوز}

    صورتحال کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے، امریکہ بھارت کو عالمی سطح پر چین کے عروج کے لیے سپیڈ بریکر کے طور پر دیکھتا ہے۔ ممکن نہیں کیونکہ ہندوستان ترقی کے اعتبار سے چین سے بہت زیادہ پیچھے ہے۔ پاکستان کی چین سے قربت ہے۔ واشنگٹن اور چین دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام آباد چاہے بھی تو وہ خود کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں کرسکتا. اس کی وجہ وہ سیاسی، عدالتی اور اقتصادی جاری بحران جس سے وہ کافی عرصے سے دوچار ہے۔
    اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنی پالیسیوں کو خارجی اور داخلی دونوں طرح سے غلط طریقے سے استعمال کیا ہے۔ خود کو بین الاقوامی سطح پر غیر متعلقہ بنانے کے لیے یہ کافی ہے۔

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    پلوامہ کے بعد گیلوان میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کا ذمہ دار کون؟ بھارتی صحافی نے سیاسی قیادت پر بڑا سوال اٹھا دیا

    بھارت کی پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں پاکستان کےخلاف سازش بے نقاب،بھارت نے جسکو مردہ کہا وہ پاکستان میں زندہ نکلا

  • آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    ہم روز مرہ زندگی میں متعدد واٹس ایپ گروپوں میں ایڈ کئے جاتے ہیں۔ جو واٹس ایپ گروپ غیر متعلقہ لگتا ہے اسے فوراً لیفٹ کر دیتے ہیں۔ تاہم بعض دفعہ ہم ایڈ کرنے والی ہستی کو بھی دیکھ لیا کرتے ہیں کہ کس نے گروپ میں شامل کیا ہے۔ ان میں سے بعض ایڈ کرنے والے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کا نام دیکھ کر ہم بوجوہ گروپ چھوڑنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بڑے نام نے مجھے گذشتہ دنوں ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کیا۔ وہ معروف ڈرامہ رائٹر اور ادبی حلقہ میں نمایاں مقام کی حامل شخصیت ہیں۔ اس نام کی وجہ سے میں چاہتے ہوئے بھی گروپ سے خود کو خارج نہ کر پایا۔ بعد ازاں گروپ میں ہونے والے سرگرمیاں میرے نظر سے گزری، تو نہ صرف گروپ کی اہمیت کا اندازہ ہوا بلکہ گروپ نہ چھوڑنے کا اپنا فیصلہ بھی درست معلوم ہوا۔

    یہ گروپ سفید پوش ادبی شخصیات کیلئے ایک ”آسرا“ تھا۔ جس کا بنیادی مقصد ادبی برادری کو ان کا پردہ رکھتے ہوئے معاشی کرائسز میں سہارا دینا تھا۔ معروف ڈرامہ رائٹر و شاعرہ سدرہ سحر عمران نے اپنی سماجی ترقی کیلئے متحرک دوست مومنہ وحید کے ساتھ مل کر ایک چیلنج قبول کیا۔ جب انہیں معلوم ہو اکہ ایک ان کے حلقہ احباب میں موجود ایک ادبی شخصیت قرض کا بوجھ لئے دنیا سے رخصت ہو گئی اور اس کے لواحقین کو اس قرض کی ادائیگی میں اپنی آمدن کا واحد سہارا بھی فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ سدرہ اور مومنہ نے ادبی و سماجی حلقوں پر مشتمل اہم افراد کو ایک واٹس ایپ گروپ میں اکٹھا کر کے ان کے ساتھ مذکورہ خاندان کی پریشانی کا اظہار کیا، جس پر تمام افراد نے اپنا اپنا کردار ادا کر کے اس خاندان کے واحد ذریعہ آمدن کو بچایا۔

    سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کا موقف تھا کہ ”ہمارے ادیب،شاعر،فنکار اپنے اپنے فن سے ”ریٹائرمنٹ“ کے بعد جس اذیت،افلاس،بیماری، غربت اور گمنامی کا شکار ہوکر مرتے ہیں ہمیں اس کی خبر ہی نہیں ہوپاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ شہرت اور پیسے کے عروج کے اوقات میں لوگوں کو اپنا مشکل وقت بھی یاد رکھنا چاہئے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کا فعل ہے۔ بوقت ضرورت ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہمارا ظرف ہے“۔
    معاشرے کے مختلف ضرورت مند طبقات کیلئے تو بہت سے ادارے اور لوگ اپنی اپنی حد تک کوششیں کر رہے ہیں لیکن ادبی برادری بالکل نظر انداز ہے۔ ایک خاص وقت میں اس طبقے کو درپیش کرائسز سے نکالنے کیلئے انفرادی و اجتماعی کوششیں بہت ضروری ہیں۔ یہی سوچ لے کر سدرہ عمران اور مومنہ وحید نے سفید پوش آرٹسٹوں کا ”آسرا“ بن کر پہلا قدم اٹھایا ہے۔ محض گنتی کے چند گروپ ممبران کی مدد سے انہوں نے مذکورہ ادبی شخصیت کے خاندان کو لاکھوں روپے قرض کے بوجھ سے نکالا۔ مجھے ایک خاص بات یہ لگی کہ جیسے ہی مطلوبہ ٹارگٹ مکمل ہوا، مومنہ وحید اور سدرہ سحر کی جانب اعلان کیا گیا کہ گروپ ممبران مزید کوشش نہ کریں۔ وگرنہ میں نے ایسے افراد بھی دیکھے ہیں جو مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے بعد بھی لوگوں کو مزید امداد بھیجنے سے منع نہیں کرتے۔ یہی ”آسرا“ کی خاصیت تھی۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ ادبی برادری کیلئے اس اقدام کا آغاز سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید نے انفرادی طور پر شروع کیا ہے اور وہ اسے انفرادی ہی رکھنے کے قائل ہیں، اسے باقاعدہ کسی این جی وغیرہ کی شکل نہیں دینا چاہتے۔

    ہمارے ارد گرد کئی سفید پوش ایسے ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مشکل سے خود نبٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ملک کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، یہاں سے واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے میں عام آدمی کے کرائسز میں اضافہ ہونا یقینی امر ہے۔ ہمیں اپنے اپنے ادبی سرکل میں بے شمار ایسے افراد ملیں گے جو حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہونے کے باوجود اپنی خود داری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے گریزاں ہیں۔ گذشتہ دنوں کئی دہائیاں ٹی وی سکرین پر راج کرنے والے معروف اداکار راشد محمود فالج اور دل کے عارضے کی وجہ سے مشکل حالات سے گزرے۔ نظر انداز کرنے کے حوالے سے راشد محمود کا شکوہ سوشل میڈیا پر آیا تو زمانے کو ان کے معاشی حالات کا علم ہوا۔ ذرائع ابلاغ وقتاً فوقتاً ایسی کتنی ہی کہانیاں ہمارے علم میں لاتے ہیں جن میں اپنے اپنے ادوار کی نامی گرامی شخصیات کسمپرسی سے گزر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے حالات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ان میں کھیل، ادب، صحافت، شوبز میں نمایاں رہنے والے انمول ہیرے شامل ہیں۔
    کہتے ہیں کہ جب کوئی معاشرہ اپنے مجبور و بے کس لوگوں کو خودانحصار بنانے کی جانب توجہ دے، تو یہ اس کے مہذب ہونے کی دلیل ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے ساتھ ساتھ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والے سفید پوش لوگوں کی زندگی بہتر کرنے کیلئے ہر فرد کا انفرادی سطح پر کردار ہی قوم میں یکجہتی اور عروج لائے گا۔ حالات ایسے ہی تبدیل ہوتے ہیں، حقیقی تبدیلی بھی یونہی آتی ہے ……ضرورت صرف ذمہ داری محسوس کرنے کی ہے، وگرنہ احساس تو ہم خوب رکھتے ہیں۔ اس احساس کو خود میں سے مرنے مت دیں۔

    میں سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ ادبی برادری کا درد محسوس کرتے ہوئے ان کیلئے ”آسرا“ بنی۔ مجھے یقین ہے کہ ان دونوں نے مل کر جو ذمہ داری اٹھائی ہے، وہ اس پر ثابت قدم رہیں گی اور ہماری گمنام اور سفید پوش ادبی برادری کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑیں گی، بلکہ اخلاقی و معاشی طور پر صحیح معنوں میں ان کیلئے ”آسر“ا ثابت ہوں گی۔ اور اس میں درد مند دل رکھنے والی ادبی و سماجی شخصیات کا بھرپور ساتھ انہیں حاصل رہے گا۔
    پلکیں ہیں بھیگی کسی کی، رخسار ہے نم کسی کا
    گر ہوسکے تو مداوا، کیوں نہ کریں ہم کسی کا