Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گوہر جان ،منفرد گلوکارہ  رقاصہ اور شاعرہ

    گوہر جان ،منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ

    تاریخ پیدائش 26 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔ گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • 25 جون، موسیقار مدن موہن کا یوم پیدائش

    25 جون، موسیقار مدن موہن کا یوم پیدائش

    مدن موہن ہندی فلموں کے مشہور و مقبول اور معزز موسیقاروں میں سے ایک تھے۔ وہ سب سے زیادہ پسند کیے جانے والوں میں سے ایک تھے – 25 سال پر محیط کیریئر میں، انہوں نے صرف 100 سے زیادہ فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، جن میں سے صرف 25 باکس آفس پر ہٹ ہوئیں۔ اس کی وجہ ان کی انتہائی پرہیزگار طبیعت تھی اور اس نے اپنی فلموں کے لیے جتنی دھنیں بنائی وہ آج بھی موسیقار حلقوں میں شاہکار تصور کی جاتی ہیں۔ مدن کوہلی 25 جون 1924 میں پیدا ہوئے، وہ راج بہادر چونی لال کے بیٹے تھے.

    جنہوں نے بامبے ٹاکیز اور فلمستان جیسے مشہور اسٹوڈیوز میں کام کیا۔ بچپن سے ہی وہ موسیقی کی طرف مائل اور باصلاحیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ درحقیقت، اپنی زندگی کے دوران، انہوں نے کمپوزیشن کا ایک حیرت انگیز ریکارڈ قائم کیا، جن میں سے زیادہ تر یا تو مناسب فلموں کی کمی کی وجہ سے استعمال نہیں کی گئیں یا ان کی فلموں کے لیے متبادل دھنیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بالی ووڈ میں میوزک ڈائریکٹر سی رام چندر کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا، اور اپنی پہلی بڑی فلم دی آئیز (1950) کے ساتھ ملی جو کہ ایک محبت کا مثلث ہے۔ فلم کامیاب رہی۔ اس کے بعد موہن کے پاس کافی کام آیا۔ ان کی پہلی فلموں میں ان کے بچپن کے دوست راج کپور کے ساتھ فلموں کی تریی تھی – آشیانہ (1952)،دھون (1952) اور پاپی (1953)۔

    جبکہ بدقسمتی سے موہن کے لیے، انھوں نے جن فلموں کے لیے کمپوزنگ کرنے کا انتخاب کیا، انھوں نے زیادہ اثر پیدا نہیں کیا، اور یہ صرف بھائی بھائی (1956) کے ساتھ تھا، جس میں لیجنڈری کمار بھائیوں، اشوک کمار اور کشور کمار نے کام کیا تھا، کہ انھیں کچھ کامیابی ملی۔ لیکن اس کے بعد سے، چیزیں کھردری ہو گئیں۔ ریلوے پلیٹ فارم (1955)، گیٹ وے آف انڈیا (1957)، جبکہ بہترین موسیقی کے ساتھ، زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اور معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے، تمام سرکردہ ستاروں نے کام کرنے کے لیے پہلے ہی ایک خاص موسیقار کا انتخاب کر لیا تھا (مثلاً نوشاد،) جس نے ڈیبیوٹنٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی، چاہے وہ باصلاحیت ہو۔

    پھر، 1950 کی دہائی کے آخر اور 1960 کی دہائی میں، چیزیں بہتر کے لیے بدل گئیں۔ دیکھ کبیرا رویا (1957) اور عدالت (1958) کے لیے ان کے اسکور نے یہ ظاہر کیا۔ اور 1960 کی دہائی میں، وہ واقعی انپدھ (1962) کے ساتھ نظر آنے لگے، ان کے گانوں نے پورے ہندوستان میں دھوم مچا دی۔ اس فلم کے ساتھ ہی وہ غزل کے بادشاہ کے طور پر جانے جانے لگے، حالانکہ وہ عدالت (1958) کے ساتھ پہلے ہی گوسامر دھنوں کے لیے اپنی شہرت قائم کر چکے تھے۔ انہوں نے راج کھوسلہ کی دو فلموں – وہ کون تھی (1964) اور میرا سایا (1966) کے ساتھ مزید تجارتی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فلمساز چیتن آنند کے ساتھ بھی کام کرنا شروع کیا، جس کے لیے انہوں نے ایک جنگی فلم حقیقت (1964) میں اپنا سب سے شاندار اسکور بنایا۔

    اگرچہ انہوں نے اپنے گلوکاروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن لتا منگیشکر کے ساتھ ان کے کام کا خاص تذکرہ کیا جانا چاہیے، جس نے ان دونوں کو اپنی بہترین کارکردگی دکھائی۔ یہ افسانوی مجموعہ 1951 میں اداا (1951) کے ساتھ قائم ہوا اور ان کی موت تک (اور بعد میں) جاری رہا۔ موہن کے پاس لتا کی آواز میں بہترین آواز لانے کا یہ خاص ہنر تھا – وہ سنجوگ (1961) میں، نیلا آکاش (1965) میں جاونٹی اور میرا سایا (1966) میں پرکشش آواز دے سکتی تھی۔ تاہم، یہ جذباتی گانوں میں تھا کہ وہ اپنے بہترین تھے۔ 1970 کی دہائی میں، جب ہرے راما ہرے کرشنا (1971) جیسی فلموں کے مغربی گانے، موہن نے تب بھی شاعرانہ دھنیں ترتیب دیں۔

    ان کی سخت جمالیاتی حس کی وجہ سے وہ اگر تجارتی طور پر کامیاب فلم ساز نہیں تو حساس فلم سازوں کے ساتھ بہت زیادہ مانگ میں تھے، اور انہوں نے ہرشیکیش مکھرجی، سمپورن سنگھ گلزار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے معزز ناموں کے ساتھ تعاون کیا، بیدی کے ساتھ ان کا تعاون خاص طور پر نمایاں رہا جیسا کہ دستک کے ساتھ تھا۔ 1970) کہ انہیں بہترین میوزک ڈائریکٹر کا نیشنل ایوارڈ ملا – یہ وہ واحد بڑا ایوارڈ تھا جسے ان کی زندگی میں ملا 1975 میں، 51 سال کی عمر میں، موہن کا جگر کے سیروسس سے انتقال ہو گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد دو فلمیں ریلیز ہوئیں – موسم (1975) اور لیلا مجنوں (1975) – موسیقی کی شاندار کامیابیاں بنیں۔ تاہم، تین دہائیوں کے بعد، دو فلموں نے موہن کو خراج تحسین پیش کیا۔

    ایک اب تمہارے ہولے وطن ساتھیو (2004) تھی، ایک جنگی فلم جس نے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا عنوان حقیت (1964) کے ان کے ایک گانے سے لیا گیا تھا۔ تاہم یہ فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ دوسری فلم، ویر زارا (2004) نامی رومانوی نے ایک موسیقار کے لیے زیادہ موزوں خراج تحسین پیش کیا – ہدایت کار، یش چوپڑا نے ان کی کچھ غیر استعمال شدہ کمپوزیشنز لیں اور انہیں فلم میں استعمال کیا۔ ویر زارا (2004) کی شاندار کامیابی، خاص طور پر اس کے ساؤنڈ ٹریک (75 سالہ لتا منگیشکر کے ساتھ جو اب بھی ہمیشہ کی طرح سریلی ہے) نے مدن موہن کو اب تک کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا.

  • بوجھ پھولوں کا اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں

    بوجھ پھولوں کا اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں

    کتنے نازک ہیں نئے دور کے شہزادے بھیٌٌٌٌٌ
    سمیرا عزیز

    اردو ، عربی اور انگریزی کی معروف ادیبہ، شاعرہ ، صحافی اور کالم نگار

    یوم پیدائش: 24 جون 1976
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام سمیرہ عزیز
    ولدیت: عزیز الر حمٰن (مرحوم)
    والدہ محترمہ: مہر افروز (مرحومہ )
    مقامِ پیدائش: الخبر۔ سعودی عرب(AlKhober, Saudi Arabia)

    موجودہ سکونت: جدہ، سعودی عرب
    قومیت: سعودی
    تعلیم: پی ایچ ڈی زیرِ تحقیق، ماسٹرز بین اااقوامی تعلقات، ماسٹرز جرنلزم، ماسٹرز ماس میڈیا (تخصص فلم سازی)
    پیشہ: سعودی میڈیا و بزنس وومن (چئیر پرسن سمیرہ عزیز گروپ آف کمپنیز)

    لکھنے کی ابتداء؟ نو برس کی عمر سے بچوں کے معروف رسالوں میں لکھنا شروع کیا

    طبع آزمائی: ناول نگاری،افسانہ نگاری،مضمون نگاری، شاعری، فلمی اسکرین پلے،،نیوز رائٹر،اداریہ، سماجی و سیاسی کالم نگاری، تحقیقی مقالے، گانوں کے بول، اسٹیج شو وغیرہ

    تصانیف و تالیف (نام و سن): بچوں کی بے شمار کہانیاں ((1985-1991،افسانہ نگاری (1991سے جاری ہے مثلاَ اجنبی میرے آنگن کا وغیرہ)، ناول ”رشتے بدل بھی جاتے ہیں“(سال 2000)،کالم و نیوز(سال 2000 سے جاری ہے)،دیوان ’کاغذ کی زمین‘)سال(2016، ڈیجیٹل البم ’موم کی گڑیا‘ (زیر نظرسال (2018، ’لفظوں کی کائنات‘(سال (2020، بالی ووڈ فلم اسکرپٹ، فلم ریم، فلم جر ات۔ڈئیر ٹو لو، فلم فرمان، سعودی فلم اسکرپٹ خلینی اطیر(مجھے اڑنے دو)،سعودی فلم اسکرپٹ ’منو‘
    ۔۔۔ کن زبانوں میں طبع آزمائی کرتی ہیں؟ اردو،انگریزی، عربی

    اعزازات (ادبی/غیر ادبی): سعودی عرب کی پہلی اردو ناول نگار خاتون، جی سی سی رائٹرز ایوارڈ،گریٹ وومن ایوارڈ دوبئی، جرنلزم ایوارڈ انڈیا، بزنس ایوارڈ ریاض، سعودی کلچرل ایوارڈبرائے سو میڈیاافراد وغیرہ
    ۔۔۔ مضامین یا منظومات جن رسائل میں شائع ہوئے یا ہوتے ہیں؟ ہمدرد، بچوں کی دنیا، نونہال، دوشیزہ، پاکیزہ، اردو نیوز، اردو میگزین،آواز (سعودی عرب)، سعودی گزٹ وغیرہ
    ۔۔۔
    دیگر معلومات: سمیرہ عزیز نے نو برس کی عمر سے بچوں کی کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ حکیم محمد سعید (مرحوم) کے ننھے لکھاریوں میں وہ بھی ایک تھیں اور ہمدرد رسالے میں ان کی پہلی کہانی ’ماں‘ شائع ہوئی تھی۔ وہ ساتھ ساتھ نظمیں بھی لکھتیں تھیں۔ وہ سعودی عرب کی پہلی’اردو ناول نگار‘ہیں۔انہوں نے میڈیا میں باقاعدہ 1999ء میں قدم رکھا اور ان کی تربیت سعودی وزارت برائے ثقافت و اطلاعات کے زیر نگرانی ہوئی۔ اس کے بعد ان کو امیر احمد بن سلمان (مرحوم) کی سرکردگی میں سعودی ریسرچ و مارکیٹنگ گروپ کے غیر ملکی زبان کے روزنامے و ہفتہ روزہ مجلے اردو نیوز اور اردو میگزین میں تعینات کیا گیا۔ سمیرہ عزیز نے وہاں اپنی محنت، قابلیت او ر جراتمندانہ رپورٹوں سے قدم جمائے۔وہ خفیہ’اسٹنگ آپریشن‘ بھی کرتیں اور حقائق سے پردہ اٹھاتیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صحافت میں سعودی عرب میں خواتین کا ہونا ایک اچھوتی بات تھی۔سات برس بعد سمیرہ عزیز کوانگریزی روزنامے سعودی گزٹ کی سینئیر انٹرنیشنل ایڈیٹر بنا کر بھیج دیا گیا جو کہ ملک کی بڑی کمپنی عکاظ کے زیر اہتمام شائع کیا جاتا تھا۔ سمیرہ عزیز نے وہاں بھی محنت و خوش دلی سے فرائض منصبی ادا کئے۔ سمیرہ عزیز نے اس ادارے سے اردو ہفت روزہ ’آواز‘ کا بھی اجراء کیا۔آٹھ سال وہاں خدمات انجام دینے بعد سمیرہ عزیز مزید اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرونِ ملک چلی گئیں۔انہوں نے انٹر نیشنل ریلشن، صحافت،ماس کمیونیکیشن اور فلمسازی میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ ان کو تعلیم حاصل کرنے کا جنون کی حد تک شوق رہا ہے۔سمیرہ عزیز نے جدہ میں اپنے کاروبار’سمیرہ عزیز گروپ‘کی بنیاد ڈالی۔وہ ذاتی طور پرکئی کمپنیوں مثلاََ فلم کمپنی، اشتہاری ایجنسی (ایڈ ایجنسی)، غذائی کمپنی،امپورٹ ایکسپورٹ، ٹرانسپورٹ اور ایونٹ کمپنی اورشاپنگ اسٹور کی مالکہ ہیں۔ سمیرہ عزیز کی شادی اس وقت ہوئی تھی جب وہ محض 16برس کی تھیں۔ انہوں نے تعلیمی سلسلہ شادی کے بعد جاری رکھا اور محنت،ہمت و عزم کا طویل سفر طے کیا۔سعودی شہریت یافتہ ہوئے بھی اردو کا دامن انہوں نے نہ چھوڑا۔ میڈیا،ثقافت اور ادبی میدانوں میں اردو اور ا نگریزی زبانوں کا مثبت استعمال کرکے انہوں نے اپنے وطن سعودی عرب کو دنیا کے سامنے حقیقی طریقے سے روشناس کروانے کا ذریعہ حاصل کیا۔ ان کی شاعری میں ان کی اپنے وطنِ عزیز سعودی عرب سے محبت کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں بنیادی طور پرایک صحافی ہوں اور رپورٹنگ کرنا میرا کام ہوا کرتا تھا۔ اسلئے معاشرے میں رونما ہونے والی ہر روداد میری شاعری میں جھلکتی ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی درد اور جذبوں کی عکاسی ملتی ہے۔وہ فر ضی واردات نہیں لکھتیں، چاہے وہ شاعری ہو یا فلم اسکرپٹ، وہ وہی کچھ لکھتی ہیں، جو اپنے ارد گرد دیکھ چکی ہوتی ہیں۔

    اپنی شاعری معاشرے کی نذر کرتے ہوئے وہ اہم بات کہتی ہیں کہ ”اگر سعودی عرب کے صحراء سے اردو شعر و نثر کے گلاب لے کر مَیں نہ نکلی تو کہیں یہ پھول مرجھا نہ جائے۔ مجھے اپنی اردو اور اس سے منسوب اپنی ذاتی کاوشوں پر فخر ہے۔اس وقت بطور سعودی شہری میں آگے نہ آئی تو اردو کا علَم اٹھا کر اس صحراء سے کون دنیا میں نکلے گا؟ صحراء میں عظیم زبان اردو کے پھول کھلتے ہیں، یہ کو ن بتائے گا؟تاریخ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ میرا کو ئی بھی شعر میری ذات سے منصوب نہ کیجئے گا، بلکہ یہ دیکھئے گا کہ میں نے کسی دوسرے انسان کا درد و مسرت کتنی اپنائیت سے پیش کئے ہیں، اور کتنی سچائی و صاف گوئی سے دوسرے کے دکھ سکھ اپنا کر شعر کی صورت میں ڈھالے ہیں۔جس لمحے میرے شعر میں پوشیدہ ٹِیس و چبھن آپ کومحسوس ہوں، بس وہی میری کامیابی کا لمحہ ہے۔ آپ اگر اپنے ارد گرد اس طرح کے درد کو محسوس کریں تو اس کا مداوہ کرنے کیلئے اور کچھ نہیں کر سکتے ہوں تو ’صرف ایک مسکراہٹ‘ کسی کوہدیہ کرکے بھی دکھی انسانیت کو پیار کا پیغام دے سکتے ہیں۔ میرا پیغام ہے

    یونہی نہیں سخن کا اثاثہ ملا مجھے
    گزری ہے میری عمر کتابوں کے درمیاں

  • یوم پیدائش،عنبریں حسیں عنبر،23 جون 1981

    یوم پیدائش،عنبریں حسیں عنبر،23 جون 1981

    قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
    تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ عنبرین انصاری المعروف عنبرین حسیں عنبر 23 جون 1981 میں کراچی میں پیدا ہوئیں وہ اردو کے ممتاز شاعر ا ماہر تعلیم پروفیسر سحر انصاری کی صاحبزادی ہیں۔ عنبرین حسیں عنبر کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں ۔ ان کے اب تک دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں وہ کراچی سمیت ملک بھر کے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں اور مشاعروں کی مقبول ترین شاعرات کی فہرست میں شامل ہیں۔

    شعری مجموعے

    ۔ (1)دل کے اُفق پر-2012ء
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (2)تم بھی ناں-2020ء
    ۔ (شعری مجموعہ)

    عنبریں حسیں عنبر کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی
    ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا

    فیصلہ بچھڑنے کا کر لیا ہے جب تم نے
    پھر مری تمنا کیا پھر مری اجازت کیوں

    تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا
    کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں

    مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی
    میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو

    اب کے ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب
    ہونٹ خاموش رہے آنکھ نے بارش نہیں کی

    تم نے کس کیفیت میں مخاطب کیا
    کیف دیتا رہا لفظ تو دیر تک

    اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں
    انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے

    عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت
    خلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے

    اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے
    ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے

    ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ
    تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی

    دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں
    مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں

    بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو
    اشکوں میں بھی تم بہتے ہو تم بھی ناں

    بھول جوتے ہیں مسافر رستہ
    لوگ کہتے ہیں کہانی پھر بھی

    دل جن کو ڈھونڈھتا ہے نہ جانے کہاں گئے
    خواب و خیال سے وہ زمانے کہاں گئے

    محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے
    در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا

    کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل
    میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی

    زندگی میں کبھی کسی کو بھی
    میں نے چاہا نہیں مگر تم کو

    وہ جنگ جس میں مقابل رہے ضمیر مرا
    مجھے وہ جیت بھی عنبرؔ نہ ہوگی ہار سے کم

    جو تم ہو تو یہ کیسے مان لوں میں
    کہ جو کچھ ہے یہاں بس اک گماں ہے

    کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی
    ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے

    عیاں دونوں سے تکمیل جہاں ہے
    زمیں گم ہو تو پھر کیا آسماں ہے

    ترے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے
    نہ کچھ خمار سے بڑھ کر نہ کچھ خمار سے کم

    اک حسیں خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں
    ایک وحشت ہے کہ تعبیر ہوئی جاتی ہے

    لفظ کی حرمت مقدم ہے دل و جاں سے مجھے
    سچ تعارف ہے مرے ہر شعر ہر تحریر کا

    تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی
    سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی

    اے آسماں کس لیے اس درجہ برہمی
    ہم نے تو تری سمت اشارا نہیں کیا

    مانوس بام و در سے نظر پوچھتی رہی
    ان میں بسے وہ لوگ پرانے کہاں گئے

    پیروی سے ممکن ہے کب رسائی منزل تک
    نقش پا مٹانے کو گرد راہ کافی ہے

    قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
    تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں

  • انسانی سمگلنگ سے موت

    انسانی سمگلنگ سے موت

    پاکستان میں انسانی اسمگلنگ ایک مشہورو معروف مسئلہ ہے. بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی جبری شادیوں سے متعلق جنہیں ملک سے باہر لے جا کر جنسی مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اسمگلنگ کے وسیع جال کے پریشان کن معاملات سامنے آئے تھے۔ بڑھتا ہوا مسئلہ نوجوان پاکستانی خواتین اور چینی شہریوں کے درمیان جعلی شادیوں کی وجہ سے تھا۔ یہ چینی شہری پاکستانی خواتین کو دھوکہ دیتے ہیں، جس سے وہ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ قانون کے پاسدار، اور مالی طور پر مستحکم افراد ہیں۔ تاہم، چین پہنچتے ہی، بہت سی خواتین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے "شوہروں” نے انہیں بطور جنسی غلام استحصال اور فروخت کی نیت سے خریدا ہے [ماخذ: پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا مقابلہ]۔ https://borgenproject.org/human-trafficking-in-pakistan/

    اس معاملے کو بڑھتا ہوا دیکھ کر پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے 52 چینی سمگلروں کو گرفتار کرکے ان پر فرد جرم عائد کی [ماخذ: بروکنگز انسٹی ٹیوٹ: مدیحہ افضل، مارچ 2022]۔ تاہم، مسئلہ ان گرفتار افراد سے آگے بڑھ گیا ہے۔

    طلبا کی بھی پریشان کن کہانیاں ہیں جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں لیکن مطلوبہ تعلیمی نتائج اور وسائل کی کمی کے باعث، ایسے طلبہ کو داخلے دلانے والی ایجنسیوں کے بھیس میں انسانی اسمگلنگ کی اسکیموں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ کمزور افراد اس استحصال کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

    اس انسانی سمگلنگ کے بحران کی بنیادی وجوہات مستقبل کے ناامید امکانات، بے روزگاری کی بڑھتی شرح، اور کام کے غیر مساوی مواقع کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ عوامل ایسے ماحول میں ہوتے ہیں جہاں افراد ہیرا پھیری اور جبر کا آسان نشانہ بنتے ہیں۔
    boat hadsa

    ابھی حال ہی میں یونان کے جنوبی ساحل پہ ایک المناک واقعہ پیش آیا. جہاں ایک کشتی ڈوب گئی جس میں بشمول درجنوں پاکستانی، دیگر قومیتوں کے افراد مثلا شامی، افغان، مصری اور فلسطینی بھی شامل تھے۔ مقامی میڈیا رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ 298 تصدیق شدہ ہلاکتیں پاکستانوں کی تھیں۔

    اگرچہ پاکستانی ایجنسیاں 10 مبینہ انسانی سمگلروں کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئیں، لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس مسئلے کا دائرہ، حکام کے تسلیم شدہ، اور فراہم کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

    انسانی سمگلنگ کا مسئلہ ایک بہت بڑا المیہ ہے، جسے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ یونان کے ساحل پر رونما ہونے والا المیہ اس بڑے مسئلے کی محض ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا ساتوں اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہوا

    شہری ڈوب چکے، کئی کی لاشیں ملیں تو کئی ابھی تک لاپتہ ہیں،

    کشتی واقعے کے ذمہ داران کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت

  • آزاد جموں و کشمیر میں بھی مالی سال 24-2023  کا بجٹ پیش

    آزاد جموں و کشمیر میں بھی مالی سال 24-2023 کا بجٹ پیش

    سینئر موسٹ وزیر و وزیرخزانہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کرنل (ر)وقار احمد نورنے مالی سال 24-2023 کے لیے 2کھرب 32 ارب،4کروڑ70لاکھ روپے حجم کا تاریخی ٹیکس فری عوام دوست بجٹ ایوان میں پیش کر دیا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 42 ارب روپے کی تاریخی رقم مختص کی گئی ہے۔جبکہ نظر ثانی میزانیہ مالی سال 23-2022، 1کھرب،56ارب94کروڑ 70لاکھ روپے بھی منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہ وپینشن میں کیے جانے والے اضافہ کے مطابق حکومت آزادکشمیر بھی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوے اضافہ پر غور کرے گی۔ مالی سال 2023-24کا بجٹ آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے سینئر موسٹ وزیر ووزیر خزانہ کرنل (ر) وقار احمد نورنے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں غیر ترقیاتی اخراجات کا کل تخمینہ 1کھرب 90 ارب 4کروڑ 70لاکھ روپے لگایا گیا ہے جس میں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے لیے 7ارب 56کروڑ 69لاکھ روپے، بورڈ آف ریونیو کے لیے 1ارب 67کروڑ 20لاکھ روپے، سٹیمپس 4کروڑ 40لاکھ روپے، لینڈ ریکارڈ اینڈ سیٹلمنٹ 5کروڑ 13لاکھ روپے، ریلیف و بحالیات 1ارب 99کروڑ 22لاکھ روپے، پنشن کے لیے 35ارب، تعلقات عامہ کے لیے 37کروڑ 93لاکھ، عدلیہ کے لیے 3ارب1کروڑ 14لاکھ روپے، داخلہ (پولیس) کے لیے 8ارب 13کروڑ 72لاکھ روپے، جیلخانہ جات 32کروڑ 69لاکھ روپے، شہری دفاع 39کروڑ 86لاکھ روپے،

    علاوہ ازیں آرمڈ سروسز بورڈ کے لیے 10کرو ڑ8لاکھ روپے، مواصلات و تعمیرات عامہ کے لیے 6ارب 20کروڑ 67لاکھ روپے، تعلیم کے لیے 40ارب 13کروڑ 30لاکھ روپے، صحت عامہ کے لیے 17ارب 52کروڑ 60لاکھ روپے، سپورٹس،یوتھ اینڈ کلچر و ٹرانسپورٹ کے لیے 18کروڑ 32 لاکھ روپے، مذہبی امور کے لیے 26کروڑ 62لاکھ روپے، سماجی بہبود و امور نسواں کے لیے74کروڑ 66لاکھ روپے، زراعت کے لیے 1ارب 6کروڑ 16لاکھ روپے، لائیو سٹاک و ڈیر ڈویلپمنٹ کے لیے 96کروڑ 46لاکھ روپے، خوراک 37کروڑ 24لاکھ روپے، سٹیٹ ٹریڈنگ 14ارب53کروڑ 40لاکھ19ہزار روپے، جنگلات، وائلڈ لائف وفشریز کے لیے 1ارب 78کروڑ 56لاکھ روپے، کوآپریٹیو 2کروڑ 55لاکھ روپے، توانائی و آبی وسائل 10ارب64کروڑ 29لاکھ، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے لیے 81کروڑ 74لاکھ، صنعت،لیبر ومعدنی وسائل 27کروڑ 82لاکھ روپے، پرنٹنگ پریس 15کروڑ 60لاکھ، ابریشم 14کروڑ 2لاکھ، سیاحت 17کروڑ 69لاکھ، متفرق 31ارب 34کروڑ 93لاکھ81ہزارروپے ،Capital Expenditureکے لیے 4ارب روپے شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاپتہ افراد ،جرائم پیشہ نکلے،جیلوں میں موجود، عدالت نے درخواست نمٹا دی
    خطبہ حج کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی کتنی زبانوں میں براہ راست نشر کیا جائے گا؟
    خدیجہ شاہ سمیت گرفتار 180 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ موخر
    لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف
    صابر شاکر کے گھر سے کلاشنکوف اور گولیاں برآمد،مقدمہ درج
    بلوچستان کے 35 اضلاع کےڈسٹرکٹ کونسلزز کی مخصوص نشستوں پر پولنگ کل ہو گی
    آئندہ مالی سال 2023-24کے لیے آمدن کا کل تخمینہ1کھرب 66ارب45کروڑروپے ہے جس میں ان لینڈ ریونیو 44ارب روپے،لینڈ ریکارڈ اینڈ سٹیلمنٹ 15کروڑ روپے، سٹیمپس 40کروڑروپے، آزادجموں وکشمیر ٹرانسپورٹ اتھارٹی 6کروڑ 50لاکھ روپے، آرمڈ سروسز بورڈ 4کروڑروپے، لا اینڈ آرڈر 14کروڑ 50لاکھ روپے، داخلہ (پولیس) 24کروڑ روپے، جیل خانہ جات 8 لاکھ روپے، موصلات و تعمیرات عامہ 65کروڑروپے، تعلیم 28کروڑ روپے، صحت 16کروڑروپے، خوراک 40کروڑروپے، زراعت 1کروڑ 10لاکھ روپے، وائلڈ لائف و فشریز 7کروڑ 50لاکھ روپے، لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ 4کروڑروپے، جنگلات 1ارب 20کروڑ روپے، برقیات 25ارب روپے، پرنٹنگ پریس 10کروڑروپے، صنعت 4کروڑ 50لاکھ روپے، لیبر 50لاکھ روپے، ابریشم 50لاکھ روپے، معدنیات 10کروڑ روپے،سیاحت 1کروڑ 20لاکھ روپے، سماجی بہبود 2لاکھ روپے، مذہبی امور 7کروڑ روپے، متفرق 65کروڑ 60لاکھ روپے، فیڈرل ویر ایبل گرانٹ 90ارب روپے،واٹر یوزج چارجز 1ارب 70کروڑ روپے، لون ایڈوانسز اینڈ ایڈ جسٹمنٹ آف اوور ڈرافٹ 90کروڑ روپے، ترقیاتی بجٹ جن شعبوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے ان میں زراعت و لائیو سٹاک کے لیے 90کروڑ، سول ڈیفنس /SDMAکے لیے 15کروڑ روپے، ترقیاتی ادارہ جات کے لیے 34کروڑ 50لاکھ، تعلیم کے لیے 4ارب 30کروڑ، ماحولیات کے لیے 15کروڑ،جنگلات /واٹر شیڈ کے لیے 80کروڑ روپے، وائلڈ لائف و فشریز کے لیے 7کروڑ 50لاکھ روپے، صحت عامہ کے لیے 3ارب روپے، صنعت و معدنیات کے لیے 52کروڑ روپے، آزادجموں وکشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے لیے 28کروڑ روپے، گورننس /متفرق کے لیے 1ارب 35کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 3کروڑ روپے، انفامیشن اینڈ میڈیا ڈویلپمنٹ کے لیے 20کروڑ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 80کروڑ روپے، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے لیے 3ارب 70کروڑ روپے، فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے لیے 2ارب 46کروڑ 50لاکھ روپے، توانائی و آبی وسائل کے لیے 4ارب 30کروڑ روپے، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 2ارب 40کروڑ روپے، لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ کے لیے 55کروڑ روپے، سماجی بہبود وترقی نسواں کے لیے 30کروڑ روپے، سپورٹس اینڈ یوتھ اینڈ کلچر کے لیے 50کروڑ روپے، سیاحت کے لیے70کروڑ روپے، جبکہ موصلات و تعمیرات کے لیے 14ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  • عام شہری ،بنیادی سہولیات اور احسان میاں کا دکھ

    عام شہری ،بنیادی سہولیات اور احسان میاں کا دکھ

    عام شہری ،بنیادی سہولیات اور احسان میاں کا دکھ
    تحریر : ملک ظفراقبال
    صحت کی سہولیات کی فراہمی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ایک صحت مند انسان ہی ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے ہمارے صحت کے ادارے ، وزراء اور اداروں کے اعلیٰ افسران سیمنار صحت آگاہی مہم اور صحت کے حوالہ سے مختلف واک کا اہتمام کرتے رہتے ہیں تاکہ عوام الناس کو مختلف بیماریوں کے حوالہ سے آگاہی ہو اور بروقت علاج ممکن ہوسکے اور میڈیا پر بڑے دھوم دھام سے تقریریں سنائی جاتی ہیں صحت کے حوالے سے پورا یقین دلاتے ہیں کہ ان کا بنیادی حق ہے اور واقعی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ایک صحت مند انسان ہی ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے مگر وطن عزیز میں بنیادی سہولیات کا فقدان تھا اور اس وقت بھی ہے شاید مستقبل میں کوئی حل نظر آئے مایوس نہیں ہونا چاہیے پاکستان جس سمت میں جا رہا ہے امید ہے کہ آنے والا کل شاہد اچھا ہو صحت کی بنیادی سہولیات کے حوالہ سے داڑھ کے ایک مریض احسان میاں کی زبانی سنیے جو ایک داڑھ درد کے مریض ہیں حقائق سے آگاہ کرتے ہیں کس طرح بنیادی سہولیات مجھ جیسے ایک عام شہری کو میسر ہیں ایک دوست نے واقعہ سنایا ایک مریض لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں داڑھ کے درد کے حوالے سے دوائی اور چیک کروانے کے لیے سرکاری ہسپتال کا رخ کرتا ہے احسان میاں ایک کاؤنٹر سے پرچی بنواتا ہے اور کمرے میں داخل ہوتا جہاں پر ڈاکٹر صاحب ان کو کسی دوسرے کمرے میں جا نے کے لئے اس پرچی پر کمرہ نمبر 107 لکھ کر بھیج دیتے ہیں ان کا کہنا تھا جب میں وہاں پر گیا تو وہاں پر موجود عملہ نے مجھے ایک اور کمرے کا نمبر بتایا آپ وہاں پر جائیں وہاں پر ڈاکٹر صاحب آپ کو اچھی طرح چیک کریں گے میں اس کمرے کی طرف آیا اس دوران داڑھ میں درد شدت اختیار کر چکاتھا کمرے کے باہر کاؤنٹر والے شخص نے مجھے اشارہ کیا اور میری پرچی پر کچھ لکھا اور مجھے پرچی واپس کردی ۔کچھ دیر تو میں نے انتطار کیا اپنی باری کا۔ مگر جیسے ہی میں نے پرچی پڑھی۔ تو پرچی پر ڈیٹ غلط لکھی ہوئی تھی ۔دوبارہ میں کاؤنٹر والے کے پاس گیا اور ان کو بتایا بھائی آپ نے تاریخ غلط لکھ دی ہے جون کی 20 تاریخ ہے اور اپ نے 22 اگست لکھ دی ہے اس کو درست کریں کاؤنٹر والے دوست نے پہلے تو مجھے غور سے دیکھا اور مسکرایا پھر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے کہا احسان میاں آپ کو داڑھ کے درد کی دوائی لینے کے لیے تین ماہ کے بعد آنا ہے میں یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا آپ اندازہ کریں کہ داڑھ میں درد ہو رہا ہے اور دوائی چیک اپ کے لیے ٹائم دیا جا رہا ہے وہ بھی تین ماہ کا ۔یہ ہے عام شہری کو ملنے والی بنیادی سہولتوں میں سے ایک سہولت ۔ان وجوہات کی بنیاد پر لوگ دیار غیر کا رخ کرتے ہیں ورنہ آپ اپنے ماں باپ ،بیوی بچے اور اپنا ملک چھوڑ کر کیوں جاتے ۔

  • سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    اصل کی طرف نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے
    "کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے”
    مزے کی بات یہ کہ کوئی اسے رو کر پہچانتا ہے ،کوئی ہنس کر پہچانتا ہے اور کوئی پہلے تو اس کا ہوتا ہے مگر پھر بھٹک جاتا ہے مگر پھر دوبارہ لوٹ آتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن چل پھر کر دوبارہ آ ہی جا تا ہے۔۔۔۔۔

    سوال پیدا ہوتا ہے کس کی طرف آتا ہے ؟؟؟

    مخلوق کے رب کی طرف وہ جسے اللہ کہتے ہیں ،وہ جسے دو دن کا بچہ بھی جانتا ہے وہ جسے سو سال کا بوڑھا بھی جا نتا ہے۔

    دنیا میں انسانوں کے دلوں کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ٹھوکریں کھایا ہوا دل صحیح سالم دل سے دیکھنے میں اگرچہ بہت اچھا ہے ،مگر بہت سستا ہے کیونکہ ایسا دل جسے ضربیں بہت لگی ہوں اللہ کے بڑے قریب ہوتا ہے اور جس دل میں اللہ ہے وہی تو اصل میں دل ہے

    میرے پیارے جامعہ "سودۃ بنت ذمعہ رضی اللہ عنہا” کے بانی و مہتمم ہمارے استاد حضرت اقدس مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی دامت برکاتہم العالیہ فرمایا کرتے ہیں

    "جس دل میں دل کا دل یعنی اللہ نہیں وہ دل دل نہیں فقط سل ہے”

    اس لیے یوں کہنا کہ ((ٹھوکریں اور ناکامیاں اچھی بلکہ بہت اچھی ہوا کرتی ہیں تو غلط نہیں سو فیصد صحیح ہے))
    کیونکہ یہی رب سے باتیں کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں ،انہیں سے بندہ رب کو پہچانتا ہے اس لیے ٹوٹا دل بڑا قیمتی ہے ہاں اگر کوئی بغیر ٹھوکریں کھائیں بھی اللہ کے قریب ہے تو یہ رب کا بندے پر سراپا انعام ہے پھر بندے کو اس نعمت کے زائل ہو جانے سے ڈرنا چائیے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چائیے اور دعا بھی کرنی چائیے کہیں اس ٹھیک راستے سے پھسل نا جائے

    میرے ابو جان محترم جناب پروفیسر قاضی سخاؤالدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ایک موقع پر مجھے ایک عربی کہاوت یاد کروائی تھی
    "ما کل ما یتمنی المرء یدرکہ
    لان الریاح تجری بما لا تشتھی السفن”
    ہر وہ چیز جس کی بندہ تمنا کرے اسکو پا نہیں سکتا اس لیے کہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں
    میں نے مانا ہوائیں کشتیوں
    کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں لیکن ان ہواؤں کو جو کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں انہیں دل کی داستان سنائے کون اور کیسے ،درد کی شدت بتائے کون اور کیسے خیر اسی کشمکش میں کوئی رب کو پہچان گیا گویا وہ منزل کو پا گیا

    سوچنےکی بات ہے؟ یہ تمنا کیا چیز ہے جس کے لیے بندہ کیا کچھ نہیں کرتا ؟یہی وہ چیز ہے جس کے لیے بندہ اللہ سے مانگتا ہے،کوشش کرتا ہے،اور کچھ نیک لوگوں سے بھی یہ کہتا ہے
    "میرے لیے دعا کرنا”

    دیکھیں بات یہ ہے کہ دعائیں بندے کو ضرورت ہوتی ہیں ۔۔۔۔
    ایسا ہے ناں؟
    ضرورت ہوتی ہیں ناں؟
    مجھے تو ہوتی ہے اور دعائیں کرانے کے لیے سب سے بہترین اور قبولیت کی گارنٹی والا زریعہ والدین ہیں مگر والدین ایسی چیز ہیں جنہیں ہم کچھ پریشانی والی بات بتائیں تو وہ دکھی ہوتے ہیں ،پریشان ہوتے ہیں،اگر صرف دعا ہی کا کہہ دیں پھر بھی وہ سوچتے ہیں بچے کو کیا ہوا پھر دعا تو کروانی ہے ۔۔۔۔۔
    اب والدین کے بعد جو دوسری سہولت اگر موجود ہے تو وہ بہن بھائی ہیں جنہیں درد تو ضرور ہو گا مگر والدین والی فکر اور درد نہیں اور بعض تو وہ ہیں جن کے بہن بھائی بھی نہیں ۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔رکیں ۔۔۔۔۔ہر نعمت کا نعم البدل ہوتا ہے اگر بہن بھائی نہیں تو رکیں۔۔۔۔انتظار کریں۔۔۔۔آپ کے ساتھ احساس و محبت کرنے والے اور بہت ہیں۔۔۔

    اس لیے اگر اللہ نے آپ کو ایسے مخلص رشتے جن کو آپ دعاؤں کا کہتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں ان کی قدر کریں ، اور وہ رشتے بعد از والدین آپ کے شیخ ہیں جو آپ کو ان سیڑھیوں کو عبور کرنا سکھاتے ہیں جن تک ہر ایک کی رسائی نہیں بلکہ ان کی عقل و شعور کے مطابق وہ سیڑ ھیاں ِسِرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ پھر استاد جیسا عظیم رشتہ ہے جس نے آپ کو انسان بنایا جس نے آپ کو یہ سکھایاکہ دعائیں کروائی جاتی ہیں دعائیں اپنے بڑوں کا دل خوش کر کے لی جاتی ہیں

    اور اس کے بعد شاید آپ کے ساتھی ایسے ہوں جو آپ کے لیے اچھا سوچتے ہیں جو آپ کے لیے اچھا مانگتے ہیں ۔
    ویسے بات یہ ہے ہم جیسے جیسے اللہ کی مانتے جاتے ہیں اتنا ہی ہمیں سکون آتا جاتا ہے اتنا ہی ہمارا دل مطمئن ہوتا جاتا ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی پریشانی،کوئی مشکل باقی نہیں رہتی بلکہ وہ مشکلیں اور پریشانیاں ساتھ ہوتے ہیں مگر پھر بھی آپ مطمئن ہوتے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ہونے کا احساس آپکے دل کو سکون میں رکھتا ہے ,ماحول کی آزمائشیں ،مشکلیں بھی آپکے دل کا سکون نہیں چھین سکتی اگر ایک وقت میں آپ ہمت ہارتے ہیں مگر دوسرے وقت میں آپ کو ایسے لگتا ہے کہ دنیا میں آپ جیسا بہادر انسان نہیں۔ یہ احساس اور خیال نصیب ہو جانا بڑی نعمت ہے اس نعمت کو تلاش کریں اس نعمت کے ملنے کی دعا کریں اور کوشش کریں اللہ عزوجل آپ سے راضی رہیں،اللہ جس بھی حال میں رکھے آپ مطمئن ہوں اور یہ بھی یقین ہو کہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے

    اللہ کی ذات بڑی مہربان ذات ہے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ عزوجل آپ کی ہر بات مانیں تو آپ کو بھی اللہ کی ہر بات ماننی پڑے گی ۔اگر ماننے کے باوجود بھی کھبی آپ کسی بات سے دکھی ہوتے ہیں ،آپ کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی تو تسلی رکھیں آپ کا شمار اللہ کے ان بندوں میں ہے جن کامانگنا ربِ کعبہ کو پسند ہے ،آپ کا شمار ان برگزیدہ بندوں میں ہے کہ جن کے بارے میں وہ چاہتا ہے یہ ہاتھ مجھ سے بار بار مانگیں عنقریب آپ کو آپ کی دعاؤں کی قبولیت (اجراًعظیما ) کی صورت میں آخرت میں مل جائے گی( انشاءاللہ )وہ اس لیے کہ اللہ دعاؤن کو رد تو نہیں فرماتے وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے
    اور پھر اسی مانگنے کے بعد جب آپ کسی چھوٹی یا بڑی بات سے چکنا چور ہوتے ہیں کیونکہ آپ نے معاملے کا حق بھی ادا کیا ہوتا ہے ،آپ نے دعائیں بھی کی ہوتی ہیں ،آپ نے سب کا دل بھی خوش کیا ہوتا ہے تو آپ کے اس ٹوٹے دل میں آپ سے بہت پیار کرنے والی ذات اچھلتی گیند کی طرح ذور ذور سے اپنی طرف آنے کے لیے بلا رہی ہوتی ہے اور اسی بلانے پر انسان اللہ کے پاس چلا بھی آتا ہے گویا دل اس کی طرف جانے کے لیے اچھلتا گیند بنا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے

    "احساس کر اللہ تمہیں پیار سے دیکھ رہا ہے”

    اسی ساری داستان اور سفر کے متعلق ایک دفعہ ابو جان نے حضرت علی رضی اللہ کا ایک قول بیان کیا :
    "عرفت ربی بفسخ العزائم”
    "میں نے اللہ کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ”

    خیر حقیقت میں کامیابی آخرت کی کامیابی ہے بس۔۔۔۔۔اللہ رب العزت دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائےیقین جانئیے اگر اللہ راضی ہو تو پرواہ نہیں ہے۔بس وہ آخرت کے امتحان میں کامیاب کر دے ہم تو سراپا محتاج ہے وہ عطا کرنے کا خزانہ ، وہ جسے چاہے عزت دے، وہ گدا کو بادشاہ بنا دینے پر قادر ،بادشاہ کو گدا بنانے پر قادر اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔
    خیر ۔۔۔۔۔

    بات ہو رہی تھی اللہ تک کے سفر کی تو اللہ سے دعا ہے
    "اللھم کن لی وجعلنی لک ”
    اے اللہ آپ میرے ہو جائیں مجھے اپنا بنا لیں آمین

    والسلام
    بنت قاضی سخاؤالدین

  • پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا  وہ شخص

    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

    پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشید
    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

    رشید قیصرانی ،21 جون : یوم وفات

    اردو کے ممتاز شاعر و ادیب رشید قیصرانی 13 دسمبر 1930 میں اپنے والد سردار شیر بہادر خان کی بسائی ہوئی بستی شیر گڑھ میں پیدا ہوئے رشید قیصرانی کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے مشہور بلوچ قبیلے قیصرانی کے سردار گھرانے سے تھا۔ آپ نے شاعری کالج کے زمانہ سے ہی شروع کی۔ آپ نہ صرف اردو غزل میں ملک کے صف اوّل کے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ آپ کا نام اردو ادب کا بھی ایک مقبول نام ہے۔ مشہور نقّاد ڈاکٹر عابد حسین نے 1955ء میں اردو ادب کی تاریخ لکھتے ہوئے رشید قیصرانی صاحب کو پاکستان کی غزل کی آواز قراردیا ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر اختر ارینوی نے، ڈاکٹر انور سدید نے تاریخ ادب اردو میں خاص طور پر ان کا نام مرقوم کیا اور ان کی خدماتِ ادب کو سراہا ہے۔ اسی طرح ملک کے دیگر نامور ادیبوں اور شاعروں نے ان کے فن اور شخصیت پر مضامین لکھے ہیں، جن کوخالد اقبال یاسر اور جلیل حیدر لاشاری نے یکجا کر کے ’’رشید قیصرانی فن اور شخصیت‘‘کے نام سے ایک کتاب کی صورت میں شائع کروایا۔

    رشید قیصرانی کے پانچ شعری مجموعے شائع ہوئے: ’فصیل لب‘، ’صدیوں کا سفر تھا‘، ’نین جزیرے‘، ’سجدے‘ اور ’کنار زمین تک‘۔ پھر ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی صورتحال پر آپ کی کتاب Thought of the dayبھی شائع ہوئی جسے بڑی پذیرائی ملی۔ آپ کے اخباری کالم اور مضامین پر مشتمل ایک کتاب ’’یہ کیا ہے، یہ کیوں ہے‘‘ کے نام سے بھی شائع شدہ ہے۔

    آپ کا انتقال 21 جون ملتان میں ہوا آپ عرصے سےعارضہ قلب کے شکار تھے۔

    منتخب کلام بطور خراجِ تحسین:-

    میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص
    سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص

    میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ
    اترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص

    سوچوں بھی اب اسے تو تخیل کے پر جلیں
    مجھ سے جدا ہوا تو خدا ہو گیا وہ شخص

    سب اشک پی گیا مرے اندر کا آدمی
    میں خشک ہو گیا ہوں ہرا ہو گیا وہ شخص

    میں اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً
    سمٹا سمٹ کے رنگ حنا ہو گیا وہ شخص

    یوں بھی نہیں کہ پاس ہے میرے وہ ہم نفس
    یہ بھی غلط کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص

    پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشید
    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

    ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

    ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
    ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    21 جون یوم پیدائش شہید بےنظیر بھٹو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. .

    ہر وہ شخص جو پیدا ہوا موت اس کا مقدر ہے مگر عظیم لوگ مر کر بھی نہیں مرتے بلکہ جس دن وہ دفن ہوتے ہیں اس دن سے ان کی حیات نو کا آغاز ہو جاتا ہے

    شہیدبےنظیر بھٹو بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھیں۔21 جون 1953 کوجب وہ پیدا ہوئیں تب ذوالفقارعلی بھٹو محض25 برس کے ایک خوبرو اور تعلیم یافتہ جوان تھے لیکن آنے والے وقتوں میں انہیں جو شخصی اور سیاسی عروج ملاشائد اس میں ان کی باسعادت بیٹی کےمقدرکےستارےکی چمک بھی شامل تھی۔بھٹوز کےبارےمیں کہاجاتا ہےکہ ان کی عمریں طویل نہیں ہوتیں جو تاریخی اعتبار سےدرست بھی ثابت ہوتا رہا۔ان کے والدذوالفقارعلی بھٹو51برس کی عمر میں مصلوب کردیےگئےاوروہ خود 54 برس کی عمرمیں پنڈی کے مقتل پہ وار دی گئیں۔یہی حادثاتی اموات ان کے بھائیوں کو بھی جواں عمری میں ان سے چھین کر لے گئیں

    شہیدبےنظیربھٹواپنی تاریخ پیدائش کےاعتبارسے gemeni تھیں جو کریم النفس مہمان نواز جلد روٹھنے اور جلد ماننے والے نیز معاف کردینے والے ہنس مکھ ملنسار رمز شناس اور رومانوی مزاج کے ہوتے ہیں۔وہ بھی انہی خصوصیات کی حامل تھیں۔زمانہ طالب علمی میں وہ ہہلے ہاروڈ یونیورسٹی امریکا اوربعدازاں آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ کی طلبہ یونین کی صدر رہیں۔اس دوران انہیں پہلے امریکا اورپھر انڈیا میں اپنے والد کے ساتھ سفارتی کام کا تجربہ بھی ہوا

    1977 میں اپنے والد کی حکومت کے خاتمے ان کی گرفتاری مقدمے اور بالآخر ان کی پھانسی کے بعد تک وہ ابتدا 4 برس قیداورنظربند اور4 ہی برس جلاوطن رہیں۔10 اپریل 1986 کوملک واپسی پرلاہور میں ان کا استقبال برصغیرکی اب تک کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا جس نے وقت کےجابر آمرکےاقتدار کی چولیں ہلادیں۔تب وزیراعظم جونیجو نےضیا سےاختلاف کرکےشہیدبی بی کوسیاست میں حصہ لینےکا موقع دیا اور گول میز کانفرنس میں انہیں بلا کر سیاسی تاریخ کا نیا رخ متعین کیا۔ضیا کی حادثاتی موت کےبعدمنعقدہ انتخابات میں کامیابی کےبعدوہ پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں جو جبریہ نظام کے خلاف ان کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔ان کی دوسری بڑی کامیابی اپنے سب سے بڑےسیاسی مخالف میاں محمدنواز شریف کوپہلےپارلیمان کش آٹھویں ترمیم کے خاتمے اور بالآخر میثاق جمہوریت کے ذریعےانہیں پارلیمان اورجمہوریت کےمحافظ کاکردارسونپنااورطالع آزماوں کے راستےمسدودکرنا تھا۔

    شہید محترمہ کے فلسفہ سیاست میں نئے عمرانی معاہدے مفاہمت،جمہوریت بہترین انتقام ہے،اور پرامن جہد مسلسل کو دنیا بھر کی جامعات میں میں جدیدسیاسی فکر کےطور پر پڑھایا جاتا ہے
    آج کے دن ہم ان کی طویل جدوجہد سیاسی بصیرت اور ہرحال میں کامیابی کی امید اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جو پاکستان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کےلیے مشعل راہ ہیں۔۔۔بقول فیض

    گھر رہیے تو ویرانی دل کھانے کو آوے
    رہ چلیے تو ہرگام پہ غوغائے سگاں ہے
    ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
    اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

    عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    آصفہ زرداری کس صورت میں الیکشن لڑیں گی؟ بڑا اعلان ہو گئا

    وزیرخارجہ بلاول زرداری سے متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کا ٹیلیفونک رابطہ

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

     انسانی حقوق کے متعلق ہمارا عزم غیر متزلزل ہے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ سینیٹر فاروق حامد نائیک نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے

    ایسا لگ رہا ہے جیسے بلاول بھٹو کے روپ میں بھٹو واپس آیا ہے