اسلام آباد،باغی ٹی وی (ویب نیوز) پاکستانی سائنسدان سب سے لمبے چاولوں کی نئی قسم سونا سپر باسمتی پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، نئی قسم کے چاول کے دانے کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے۔
رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کالا شاہ کاکو کے سائنسدانوں نے یہ کامیابی حاصل کر کے اپنے ہی ادارے کے تیار کردہ رائس ورائٹی PK 2021 کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جس کا دانہ 8.26 ملی میٹر لمبا تھا۔چیف سائنسداں سید سلطان علی اور ڈاکٹر مخدوم صابر کے مطابق رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کالا شاہ کاکو کی تیار کردہ چاولوں کی دو اقسام کو PARC میں منعقدہ ورائٹی ایویلیوایشن کمیٹی میں عام کاشت کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر مخدوم صابر کے مطابق چاولوں کی ایک قسم سونا سپر باسمتی ہے جو کہ اب تک کا سب سے لمبا باسمتی اناج ہے جس کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے جب کہ اسی ادارے کی تیار کردہ دوسری ورائٹی وائٹل سپر باسمتی کہلاتی ہے جو آئرن اور زنک کی زیادہ مقدار کی حامل ملک کی پہلی مضبوط ورائٹی ہے۔
علاوہ ازیں RRI کالا شاہ کاکو نے موٹے چاولوں کی ملک میں پہلی نئی ہائبرڈ قسم KSK 2023 بھی متعارف کرائی ہے جس کی فی ایکڑ پیداوار 110 من حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاولوں کی یہ ہائبرڈ قسم 109 دن میں تیار ہوجاتی ہے۔
Category: بلاگ
-

پاکستانی سائنسدانوں نےلمبے چاولوں کی نئی قسم پیدا کرلی
-

بے روزگاری اور سینیٹ میں مراعات کا بل، تجزیہ، شہزاد قریشی
(تجزیہ: شہزاد قریشی)
بقول شاعر
اب گوشت کو ناخن سے جلا دیکھ رہا ہوں۔
ہر سمت نفرت کی ہوا دیکھ رہا ہوں ۔
سناٹا ہے احساس کی وادی کا قیامت۔
سناٹے میں ایک حشر بپا دیکھ رہا ہوں۔
دل چیر گئیں ڈوبنے والوں کی صدائیں۔
مجبور ہوں ساحل پر کھڑا دیکھ رہا ہوں۔
میں اس وقت جب پاکستان کا مستقبل اور ملک کا اثاثہ دیار غیر کے سمندروں میں ڈوب رہا تھا غربت بے روزگاری سے تنگ ملک سے باہر جاکر روز گار کی تلاش میں ادھر عین اس وقت سینٹ کے چیئرمین کی مراعات میں اضافے کا بل پاس ہو رہا تھا۔ اس پر جتنی سینہ کوبی کی جائے وہ کم ہے۔ پی ڈی ایم سمیت اس بل کی منظوری میں پی ٹی آئی کے ممبران بھی شامل تھے۔ اس پرائیویٹ بل کی حمایت ہمارے ملک کی ممتاز مذہبی جماعت جے یو آئی(ف) گروپ بھی شامل ہے ۔ افسوس صد افسوس ملک میں پہلے ہی قانون کی حکمرانی تک نہیں آئین کی حکمرانی نہیں ۔ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ بے روز گاری‘ جرائم میں اضافہ دن دھاڑے چوریاں ڈکیتیاں‘ قتل و غارت‘ مہنگائی۔ سیاستدان کی اکثریت ہلاکو خان اور چنگیز خان کے نقش قدم پر چل پڑی سیاست میں تشدد ہلاکو خان کا مذہب ہے۔ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کاروائیاں‘ پولیس کے ذریعے جھوٹے مقدمات کا اندراج کیا یہ جمہوریت ہے؟ جو ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے۔ کونسی ایسی جماعت ہے جس نے پاک فوج اور جملہ اداروں پر حملہ نہیں کیا۔ عدلیہ پر حملے‘ کیا یہ جمہوریت ہے؟ ان سیاسی جماعتوں نے ملک کو اپنی سلطنت بنا لیا ہے ۔ 24 کروڑ عوام کے بنیادی مسائل سے بے خبر سیاستدان اب وزارت عظمیٰ کی جنگ میں مصروف ہیں کون بنے گا آئندہ وزیر اعظم کا کھیل جاری ہے۔ عوام کی اکثریت اس وقت تک مسائل کے دلدل میں پھنسے رہیں گے جب تک ووٹ دیتے وقت ملک کو نہیں دیکھیں گے۔ ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے سے اگر فرصت ملے ملک وقوم کے مسائل پر توجہ دی جائے ورنہ یقین مانئیے جن حالات سے پاکستان اور قوم گزر رہی ہے جمہوریت کا جعلی لبادہ جو اوڑھ رکھا ہے اب وہ لبادھ بھی سرکتا ہوا نظر آرہا ہے۔
-

باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟
باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟
آذربائیجان اگلے ماہ پاکستان کو ایل این جی کی سپلائی شروع کرنے والا ہے، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ "سستی” قیمت پر ہوگی تاہم، "سستے” کی اصطلاح گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پالیسی ساز ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی طرف آ رہے ہیں
صاف ستھرے اور زیادہ سستی توانائی کے ذرائع کے لیے "پل فیول” کے طور پر اپنی شہرت کے باوجود، ایل این جی نے نادانستہ طور پر پاکستان کو زیادہ گندے اور زیادہ آلودگی پھیلانے والے ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جب قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ مثال کے طور پر، قیمتوں میں اضافے کے دوران، پاکستان میں سیمنٹ فیکٹریوں نے افغانستان سے کوئلہ خریدنے کا سہارا لیا، جس سے آلودگی کی سطح بڑھ گئی (بلومبرگ، 2022)۔
ایل این جی پر بڑھتا ہوا انحصار نہ صرف ایندھن کی قیمت میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بھی دبا رہا ہے۔ ایل این جی درآمد کرنے سے پہلے گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کی بیلنس شیٹس قابل انتظام تھیں۔ تاہم، ایل این جی کا بڑھتا ہوا استعمال، جو نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اہم لائن لاسز کا باعث بھی بنتا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے لیے بے حساب (UFG) کی وجہ سے کافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، پاکستان کو "سستے” نرخوں پر درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنے کی بجائے گھریلو گیس کی پیداوار کو ترجیح دینی چاہیے۔ بنیادی مسئلہ پیداوار میں ہے، اور ایک مہنگا متبادل درآمد کرنے سے بیلنس شیٹ میں مزید تناؤ آئے گا، جس سے توانائی کا شعبہ غیر پائیدار ہو جائے گا۔
کیا ایل این جی پر زیادہ انحصار کم کرنا ممکن ہے؟ ہاں، توانائی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع جیسے ہائیڈروجن اور بائیو گیس کو تلاش کریں۔ دوسرا، توانائی کی طلب کا تجزیہ کریں اور مختلف شعبوں کے لیے مناسب سپلائی کا تعین کریں۔ ایسی ٹرانسمیشن لائنوں میں ایل این جی کا استعمال کریں جو لائن لاسز کا کم سے کم شکار ہوں۔ تیسرا، نقصانات کو کم کرنے کے لیے تقسیم کے نظام میں اصلاحات کریں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پورے نظام کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔
اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ
عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا
گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا
پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔
-

بندیا؛ ایک اداکارہ، گلوکارہ اور نیوز ریڈر
بندیا ایک پاکستانی فلم اور ٹی وی اداکارہ ، گلوکارہ اور نیوز ریڈر و انائونسر ہے جس نے 80 کی دہائی کے اوائل میں اپنے اداکاری کے کیریئر کا آغاز کیا۔ یہ خاتون اپنی بے باکی اور اداکاری کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہیں۔ اس نے 1980 کی دہائی میں اور 90 کی دہائی میں فلمی صنعت اور شائقین کے دلوں پر خوب راج کیا۔
وہ ایک قدامت پسند خاندانی پس منظر سے تعلق رکھتی تھی، اور اس کے خاندان کے افراد شوبز انڈسٹری کے لیے مخالفانہ جذبات رکھتے تھے ، باوجود اس کے کہ وہ اپنے کیرئیر کے عروج پر پہنچ گئی اور پھر پراسرار طور پر غائب ہو گئی۔
1960 میں پیدا ہونے والی بندیا کا تعلق ایک بااثر گھرانے سے ہے۔ ان کے بھائی جنرل ضیاء الحق کی حکومت میں اہم حکومتی عہدے پر تھے۔جبکہ ان کی بھانجی ونیزہ احمد پاکستان کی معروف ماڈل ہیں۔ بندیا کا اصل نام روبینہ ہے، انہوں نے 70 کی دہائی کے آخر میں پی ٹی وی اسلام آباد سے انگریزی نیوز کاسٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد میں اس نے فلموں، ٹی وی ڈراموں اور اسٹیج میں اداکاری کی اور گلوکاری بھی کی۔ 90 کی دہائی کے اوائل میں بندیا نے شوبز سے وقفہ لیا اور امریکہ چلی گئیں۔ تقریباً 15 سال کے وقفے کے بعد وہ پاکستان واپس آئیں اور جیو ٹی وی پر "میری بہن مایا” جیسے ڈراموں میں نظر آئیں۔
بندیا نے دو شادیاں کی ہیں۔ ان کا پہلا شوہر اردن سے پائلٹ تھا اور دوسری شادی ایک امریکی پاکستانی ڈاکٹر سے ہوئی لیکن ڈیڑھ سال بعد دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ یہ دلکش عورت اب 63 سال کی ہے اور اب بھی اپنے لیے صحیح روح کے ساتھی کی تلاش میں ہے۔ بندیا شوہر کی تلاش کے لیے ٹی وی پر ایک پروگرام کا حصہ بھی رہ چکی ہیں۔ یہ بندیا کی تیسری شادی ہوگی۔
پہلی شادی سے ان کا ایک بیٹا جہانزیب الخمیش ہے جو اس کے پہلے شوہر سے ہے اور اس کے تین پوتے بھی ہیں۔ جبکہ ایک اطلاع ہے کہ بندیا نے تیسری شادی کر لی ہے اور اس کے نئے شوہر نے اسے شوبز میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے بیٹے نے بھی اس فیصلے میں اس کی پوری طرح مدد کی۔ انہوں نے 26 فلموں میں کام کیا جن میں سے 21 اردو، 4 پنجابی اور 1 پشتو فلم۔ وہ مندرجہ ذیل فلموں میں نظر آئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
مرتضیٰ وہاب کی میئر کراچی کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفیکیشن چیلنجویڈیو بیان میں کوئی اشتعال نہیں پھیلایا ،معلوم ہی نہیں کہ لوگ کہاں سے آئے،عمران خان
عمران خان کا بیانیہ غیر ملکی میڈیا کے سامنے بھی غیر مقبول
سیکرٹری دفاع کا دفاعی وفد کے ہمراہ ایران کا دورہ
بیگم جان، یادوں کی بارات، نذرانہ، آواز، شعلہ، بہن بھائی، وعدے کی زنجیر، ترانہ، پاکیزہ، مسٹر رانجھا، آپ کی خاطر، چھوٹے نواب، ساتھی، بڑا ادمی، مسٹر افلاطون، رستم، تانگے والی، سنگدل۔ آہٹ، ایک دن بہو کا، آنگن، مقدر کا سکندر، خان بلوچ، دیوانے دو، جورا، میرا انصاف اور یادوں دولے (پشتو) شامل ہیں ۔ -

19 جون؛ ارشد غازی کا یوم پیدائش
وہ خود سری ہے زباں تک سے التجا نہ ہوئی
کہ ہم سے رسم جہاں آج تک ادا نہ ہوئیارشد غازی کا وطن انبیہٹہ پیرزادگان سہارنپور یوپی ہے۔پیدائش اور تمام ممبئ میں 19 جون 1958 کو ہوئی ۔نجیب الطرفین ارشد غازی کی ننھیال دیوبند اور دادھیال انبیہٹہ کی ہے ۔مولانا انصاری مدار المہام،وزیراعظم ریاست گوالیار سے وہ پانچویں پشت میں ہیں ۔بہت سلسلہ روزگار طویل عرصہ ملک سے باہر رہے۔دار العلوم دیوبند،مظاہر العلوم سہارنپور اور ندوتہ العلماء کی تاسیس میں ان کے اجداد بنیادی اراکین بلکہ اصل محرک رہے انگریزوں کے خلاف ان کے اسلاف نے دو بار جہاد کے فتوی پر دستخط کئے ۔ان کے والد مولانا حامد الانصاری غازی جو کتاب ‘ اسلام کا نظام حکومت ‘کے مولف ہیں ۔والدہ مشہور زمانہ مصنفہ ہاجرہ نازلی ہیں ۔یہی سبب ہے کہ ارشد غازی کی تحریروں اور اشعار میں اس فکر کی جھلک ملتی ہے۔
ارشد غازی تعلیمی و ثقافتی ادارے اکیڈمی آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز(اساس )کے چیئرمین ہیں جو انہوں نے ستمبر 1999 میں اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر علی گڑھ میں قائم کیا ۔اساس ایک غیر سیاسی، غیرجانبدار علمی، تحقیقی و تعلیمی ادارہ ہے جس کا تعلیمی پروگرام بر صغیر میں مدرسہ جدید کاری سے متعلق اس کی عالمی تحریک کا حصہ ہے ۔
: ارشد غازی کا بنیادی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے برصغیر کے مدارس اسلامیہ کے لئے سو سے زیادہ جدید درسی کتابیں تیار کیں۔جس میں ملک کے نامی گرامی ماہر تعلیم کا انہیں تعاون حاصل رہا ۔انہوں نے متعدد غیر ملکی اسفارکئے،تین سال قبل حسن روحانی صدر ایران کی دعوت پر ایران گئے جہاں ان کے 12 لیکچر وحدت اسلامی اور ایران و ہند تعلقات پر ہوئے۔
ان کا شعری مجموعہ ‘نصاب آگہی’ کے نام سے 2015 میں منظر عام پر آیا۔گزشتہ ماہ دوسری کتاب ‘” صحیفہ فکر ” کا اجراء عمل میں آیا جو 360 مطالعوں پر مشتمل ہے ۔شاعری میں باضابطہ ان کا کوئی استاد نہیں رہا۔البتہ بی اے میں اردو کی ایک سندھی پروفیسر مادھوری اکثر ان کے شعر درست کردیا کرتی تھیں ۔ دیگر کتابوں میں افکار سید حامد، حیات وخدمات مولانا حامد الانصاری غازی و مولانا عبداللہ انصاری و مولانا منصور انصاری اور علمائے ہند ہیں۔
فی الحال وہ مع اہل وعیال علی گڑھ میں مقیم ہیں
ارشد غازی کا مشہور مقولہ ہے۔۔
محبت ! خیال رکھنے کا نام ہےمعروف شاعر ،ماہر تعلیم اور اساس کے چئیرمین ارشد غازی کے یوم ولادت پر ان کا کلام بطور خراج عقیدت پیش خدمت ہے
: حصار کون و مکاں سے نکلوں تو آگہی کا نصاب لکھوں
قلم پہ لفظوں کی بندشیں ہیں وگرنہ اس پر کتاب لکھوں
___
ادب میں شجرہ غالب کی یاد گار ہوں میں
وہ کاروان سخن تھا پس غبار ہوں میں
فصیل شہر میں شہرت ہے کج کلاہی کی
کہ تخت مملکت دل کا تاجدار ہوں میں
___
وہ خود سری ہے زباں تک سے التجا نہ ہوئی
کہ ہم سے رسم جہاں آج تک ادا نہ ہوئی
__
نہیں اوصاف کچھ رہبر کے لیکن
کئے ہیں کام پیغمبر کے لیکن
___
ُفصیل شہر سے باہر مکان ہے میرا
کہیں نہ ٹھہرو مرے گھر کا جب ارادہ کرو
_
مجھ سے یوں کہتا ہوا گزرا ہے دیوانہ کوئی
کیوں نہیں لکھوالیا قسمت میں ویرانہ کوئی
__
آگہی کے شوق میں دیکھا نصاب آگہی
اب میری نس نس کو ڈستا ہے عذاب آگہی
یا مجھے دیوانہ کر یا ایک چلمن اور ڈال
کوئی گستاخی نہ کر دے اضطراب آگہی
__
سحر ملی نہ ملی رات سے نکل آئے
خدا کا شکر غم ذات سے نکل آئے
_
آگیا ان کا پھر خیال ہمیں
اے غم عشق تو سنبھال ہمیں
بے خودی میں یہ ہوش ہی نہ رہا
کسی سے کرنا تھا عرض حال ہمیں -

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا ،تحریر: سعد جامی
نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا، اس مصرع کو اگر دوبارہ ترتیب دیا جائے تو آج کا شاعر، بلکہ میں خود اس کو یوں ترتیب دیتا
نہ گنواؤ اپنی محبت، دل خستہ حال بس بیچ دیا،
آج کل ہر جوان لڑکا لڑکی جو میری جیسی جسامت اور قد رکھتے ہیں وہ اس مرض کا شکار ہیں اور وجہ ہزاروں ہوں، اک وجہ ہم خود لکھاری ہیں جو ان کو اپنی ٹوٹی پھوٹی کہانیاں سناتے ہیں.
خیر یہ مسئلہ ایسا ہے جس میں ہر بندہ اپنا خود کا فلسفہ رکھتا ہے –ملک کے حالات بڑے خراب ہیں، یہ بات مجھے کسی ٹی وی، اخبار یا سیاسی بندے سے نہیں ملی بلکہ محلے کی اک چھوٹی بچی جو مجھ سے کھانے کے پیسے مانگتی تھی اس سے پتا چلی کیونکہ اس نے اب مانگنا چھوڑ دیا اور گھر سے نکلنا بند کر دیا. وجہ پوچھی تو بتایا ملک میں چوروں کا ٹولہ آیا ہوا جو ہر گھر تک رسائی رکھتا ہے –
میں خود لکھنا چھوڑا ہوا کیونکہ مایوسی گناہ ہے اور میں جب لکھتا ہوں منحوس ہی لکھتا ہوں. دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم ابھی stellar Nursery پر ہیں
جہاں ابھی ہماری ترقی کا سیارہ بن رہا ہے، چلو اچھے کی امید تو ہے!
اک شہری ہونے کے ناطے ہمیں ایسا کیا کرنا جس سے ملک ترقی کرے؟ مجھ سے کسی نے سوال کیا جواباً میرے منہ سے نکل گیا "خودکشی
جس پر وہ غصے میں آگے اور پھر مجھ سے کوئی سوال نہ کیا گیا –باقاعدہ اردو ادب سے محبت رکھنے کی وجہ سے مجھے بہت مواقع دیے گے – چار سالوں میں تیسری بار سٹیج پر آنے کا موقع ملا اور یوں عمر کے حساب سے چھ سات اور مواقع مل سکتے..
پاکستان میں Adveritisment کا بول بالا بھی عام لوگ تک پہنچ چکا – اب اس بات کا اندازہ تب ہوا جب میں اک دور کھڑے رکشہ دیکھا، ڈرائیور بار بار کہہ رہ کے اک سواری اک سواری میں ڈورتا چلا گیا جب وہاں بیٹھا تو ساتھ والا اٹھ کھڑا ہوا اور ڈرائیور دوبارہ صدا دینے لگا اک سواری اک سواری –
وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں فیض احمد فیض کے غزل کے دو اشعار پیش کروں گانہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا
-

پاکستانی نوجوانوں کی دیار غیر کے سمندروں میں لاشیں، ذمہ دار کون، تجزیہ، شہزاد قریشی
(تجزیہ شہزاد قریشی)
نئے عالمی مالیاتی معاہدے کے لئے ایک انتہائی سربراہی اجلاس 22 اور23 جون کو پیرس میں ہوگا۔اجلاس میں متعدد سربراہان مملکت سمیت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلیمان بھی شرکت کریں گے ۔ یہ اجلاس غریب ترین اور سب سے زیادہ کمزور ممالک کی مدد کے لئے جدید طریقوں اور آلات کو فروغ دینے کے لیے بہت اہم ہے ۔ اُمید ہے اس اہم اجلاس میں معاشی سطح پر کمزور ممالک کے لئے فیصلے کیے جائیں گے۔ بلاشبہ چین پاکستان کا دیرینہ د وست ہے چین نے ملکی معیشت کے پیش نظر مدد بھی کی تاہم آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو بھی پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔دوسری جانب ہمارے سیاستدانوں کے کیا کہنے بلاول بھٹو کی بجٹ پر تنقید اور بجٹ منظوری روکنے کے بیان نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے ۔ کیا پیپلزپارٹی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والی ہے؟ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم میں پہلے ہی شامل نہیں ۔ عمران خان ۔ بلاول بھٹو ۔ شہباز شریف اور دیگر حکومت میں شامل جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ پاکستان کا نوجوان طبقہ ملک کا مستقبل ہے ۔ عمران خان سمیت ہر جماعت نے ان نوجوانوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا آج یہ پاکستانی نوجوانوں کی لاشیں دیار غیر کے سمندروں میں تیر رہی ہیں۔ بے روزگاری سے تنگ یہ نوجوان بیرون ملک اپنے بہتر مستقبل کے لئے انسانی اسمگلروں کے ذریعے بیرون ملک جاتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ان پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ قومی اسمبلی نے نوٹس لیا اگر یہی قومی اسمبلی ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا نوٹس لیتی تو آج آزادکشمیر ، گجرات اور دیگر شہریوں کے گھروں میں صف ماتم نہ ہوتا۔ افسوس ہم اپنی نوجوان نسل کو باعزت روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کا اعتراف ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیئے۔ اقتدار کی جنگ میں مشغول سیاستدانوں کو اس سانحہ کا جواب دینا ہوگا۔ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار ملک کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ی سے تنگ آکر دل برداشتہ ہو کر ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ کیا ان کا کوئی حق نہیں کہ انہیں باعزت روزگار فراہم کیا جائے ؟ یہ نوجوان اس وطن عزیز کا مستقبل بھی ہیں اور اثاثہ بھی۔
-

پہلے کیا آیا مرغی یا انڈہ؟ماہرین نے نئی تحقیق میں جواب جان لیا
ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ موجودہ عہد کے رینگے والے جانور (چھپکلی، سانپ اور دیگر)، پرندے اور ممالیہ جانداروں کے آباؤ اجداد انڈے دینے کی بجائے بچے کو جنم دیتے تھے۔
باغی ٹی وی :دی گارڈین کے مطابق انڈا پہلے آیا یا مرغی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے یونانیوں کے بعد سے فلسفیوں کو پریشان کیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ہمارے پاس اس آسان سوال کا جواب ہے،یہ اطمینان بخش نتیجہ ایک ماہر پینل کیجانب سے کی گئی تحقیق تھی جس میں ایک فلسفی، ماہر جینیات اور چکن فارمر شامل تھے۔
جرنل نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع بلاگ کے مطابق سائنسدانوں نے یہ جواب ایمفیبین (خشکی اور پانی میں رہنے والے جاندار جیسے مینڈک) اور lizards پر کی جانے والی ایک تحقیق میں دریافت کیاجس میں بتایا گیا کہ موجودہ عہد کے رینگے والے جانور (چھپکلی، سانپ اور دیگر)، پرندے اور ممالیہ جانداروں کے آباؤ اجداد انڈے دینے کی بجائے بچے کو جنم دیتے تھے۔
پاکستان کےخودکار چیک کلیئرنگ سسٹم نِفٹ پر سائبر حملہ
کنگز کالج لندن میں پینل کے رکن اور سائنس کے فلسفی ڈیوڈ پاپیناؤ نے کہا، "چکن کے انڈے مرغیوں سے پہلے تھے، یہ مرغی کے انڈوں کی نوعیت پر منحصر ہے میں بحث کروں گا کہ یہ مرغی کا انڈا ہے اگر اس میں مرغی ہے۔ اگر کینگرو ایک انڈا دے جس سے شتر مرغ نکلے تو وہ یقیناً شتر مرغ کا انڈا ہوگا، کینگرو کا انڈا نہیں اس استدلال سپہلا چکن واقعی مرغی کے انڈے سے آیا تھاحالانکہ وہ انڈا مرغیوں سے نہیں آیا تھا۔
51 قدیم جانداروں اور 29 زندہ جانوروں پر تحقیق میں بتایا گیا کہ ممالیہ اور رینگے والے جانوروں کے ساتھ ساتھ پرندوں کے اجداد بھی بچوں کو اپنے بطن میں زیادہ وقت تک رکھتے تھے اب پرندے اور رینگنے والے جاندار انڈے دیتے ہیں مگر زمانہ قدیم میں ان کے ہاں بچوں کی پیدائش ممالیہ جانوروں کی طرح ہی ہوتی تھی۔
طویل عرصے تک سائنسدان سخت چھلکوں والے انڈوں کو ارتقا کی ایک بہترین مثال تصور کرتے رہے ہیں مگر اس نئی تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ طویل عرصے تک بچوں کو بطن میں رکھنے والے جانوروں کو زیادہ تحفظ ملتا تھا۔
محققین نے بتایا کہ لگ بھگ 32 کروڑ سال پہلے ایسے جانور ابھرنا شروع ہوئے جن کی جِلد واٹر پروف تھی اور وہ موسم کے مطابق خود کو ڈھالنے لگے اور پھر ان کے بچے انڈوں کے ذریعے پیدا ہونے لگے۔
سعودی وزیر خارجہ کی تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات
زمانہ قدیم کے فوسلز کے تجزیے سے انکشاف ہوا کہ اب انڈے دینے والے جاندار اس زمانے میں بچوں کو جنم دیتے تھے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ بتدریج انڈے دینے لگے تھے محققین کے مطابق بتدریج ان جانداروں کے تولیدی نظام میں تبدیلی آئی تاکہ وہ اپنے بچوں کو ماحول سے تحفظ فراہم کر سکیں۔
تو اگر آپ سے پوچھا جائے کہ پہلے مرغی آئی یا انڈہ، تو اس نئی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے مرغی زیادہ بہتر انتخاب ہے۔
واضح رہے کہ بچگانہ معمہ کا سب سے قدیم ریکارڈ شدہ حوالہ یونانی مورخ میسٹریس پلوٹارکس کے مضامین اور مباحثوں کے مجموعے سے ملتا ہے، جو 46AD میں پیدا ہوا تھا۔ مرغی یا انڈا پہلے آیا کے عنوان سے ایک حصے میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ یہ سوال پہلے سے ہی قائم ہے: "انڈے اور مرغی کے بارے میں مسئلہ، ان میں سے کون پہلے آیا، اس پہیلی کو عام بھی استعمال کیا جانے لگا-
آیا پینل نے اس بحث کو حل کیا ہے، یہ واضح نہیں ہے، لیکن وہ چکن/انڈے کے درست آرڈر پر متفق تھےجان بروک فیلڈ، نوٹنگھم یونیورسٹی کے ایک ارتقائی جینیاتی ماہر نے کہا کہ اس حل میں قیاس آرائی کے واقعہ کو ایک ساتھ جوڑنا شامل ہےجس میں مرغیوں نےپہلی بار ارتقاء کیا تھا۔
اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ،بچوں سمیت 40 افراد ہلاک
وہ تصور کرتے ہیں کہ دو غیر مرغی کے والدین اکٹھے ہو رہے ہیں اور جینیاتی تغیر کی وجہ سے ایک نئی نسل کے پہلے فرد کو جنم دے رہے ہیں۔ پروفیسر بروک فیلڈ نے کہا کہ "پہلا مرغ اپنے والدین سے کسی جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے مختلف ہوا ہو گا، شاید یہ ایک بہت ہی لطیف تھا، لیکن ایک ایسا پرندہ جس کی وجہ سے یہ پرندہ واقعی مرغی ہونے کے لیے ہمارے معیار پر پورا اترنے والا پہلا تھا-
انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح انڈے کے چھلکے کے اندر رہنے والے جاندار کا ڈی این اے وہی ہوتا جو مرغی میں ہوتا ہے، اور اس طرح وہ خود مرغی کی نسل کا ایک رکن بن جاتا ہے-
-

اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے
محرم جاں کوئی دیوار نہ در لگتا ہے
اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہےآفاق احمد صدیقی
پیدائش:04 مئی 1928ء
فرخ آباد، وبرطانوی ہندوفات:17 جون 2012ء
کراچی، پاکستانمدفن:سخی حسن، کراچی
مادر علمی:جامعہ علی گڑھ
زبان:اردو، سندھیاعزازات:
تمغائے حسن کارکردگی
آفاق صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور سندھی زبان کے نامور شاعر، نقاد، مترجم اور پروفیسر تھے۔
حالات زندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفاق صدیقی 04 مئی، 1928ء کو فرخ آباد، اترپردیش، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام محمد آفاق احمد صدیقی تھا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ سکھر میں آباد ہوئے اور انہوں نے تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ادبی خدمات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفاق صدیقی کی مادری زبان اگرچہ اردو تھی لیکن انہیں فارسی، ہندی اور سندھی زبانوں پر بھی دسترس حاصل تھی۔ شاید اسی بنا پر انہیں تحقیق اور ترجمے سے بھی رغبت تھی اور ان کے قریبی دوستوں کے مطابق انہوں نے چالیس کے لگ بھگ تصانیف چھوڑی ہیں جن میں اٹھارہ تصانیف سندھی زبان میں ہیں۔ ان کے تحقیقی کام اور تراجم کو اردو اور سندھی ادب کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ ان کی ان خدمات کی بنا پر انہیں سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان ایک پل بھی قرار دیا جاتا تھا۔ 1951ء میں انہوں نے رسالہ کوہ کن نکالا۔ 1953ء میں سندھی ادبی سرکل قائم کیا۔آفاق صدیقی نے مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس نے سکھر اور شہر کے نواح میں چودہ ایسے اسکول قائم کیے جن میں کم اور اوسط آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ تدریسی فرائض سے ریٹائر کیے جانے کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور اردو سندھی ادبی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد ایسے ادیبوں کی کتابیں شائع کرانا تھا جو اپنی کتابیں خود شائع کرانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
آفاق صدیقی کی تصانیف میں پاکستان ہمارا ہے، کوثر و تسنیم، قلب سراپا، ریزہ جاں، تاثرات، عکس لطیف، شاعر حق نوا، پیام لطیف، اقوال سچل، بساط ادب، بابائے اردو وادی مہران میں، ادب جھروکے ، گلڈ کہانی، ادب گوشے، ریگزار کے موتی، ماروی کے دیس میں اور جدید سندھی ادب کے اردو تراجم شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری صبح کرنا شام کا کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔
تصانیف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارمغان عقیدت
ادب زاویے (مضامین)
شاہ لطیف اور عصر حاضر (لطیفیات)
سندھی ادب کے اُردو تراجم (ترجمہ)
جدید سندھی ادب (تنقید)
ریگزار کے موتی (شمالی سندھ کے شعرا)
بابائے اُردو وادیٔ مہران میں
بوئے گل و نالۂ دل (شیخ ایاز کا اُردو کلام) (ترتیب)
ادب جھروکے (مضامین)
شخصیت ساز (مضامین)
احوال سچل()انتخاب کلام سچل سائیں
پیام لطیف (شاہ لطیف کا پیام و کلام)
شاعر حق نما (سچل سرمت کی شاعری اور شخصیت)
تاثرات (تنقیدی مضامین)
پاکستان ہمارا ہے (ملی نغمے)
بڑھائے جا قدم ابھی
صبح کرنا شام کرنا (خود نوشت سوانح عمری)
سُر لطیف(گیت)
کوثر و تسنیم (حمد،نعت و منقبت)
عکس ِلطیف (لطیفیات)
ریزہ جاں (شاعری)
قلب سراپا (شاعری)
محمد عثمان ڈیپلائی : شخصیت اور فن
اعزازات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت پاکستان نے آفاق صدیقی کی خدمات کے صلے میں صدارتی اعزاز برائےحسن کارکردگی سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لطیف ایکسیلینس ایوارڈ بھی حاصل کیا۔غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا زمیں کیا آسماں کچھ بھی نہیں
ہم نہ ہوں تو یہ جہاں کچھ بھی نہیں
دیدہ و دل کی رفاقت کے بغیر
فصل گل ہو یا خزاں کچھ بھی نہیں
پتھروں میں ہم بھی پتھر ہو گئے
اب غم سود و زیاں کچھ بھی نہیں
کیا قیامت ہے کہ اپنے دیس میں
اعتبار جسم و جاں کچھ بھی نہیں
کیسے کیسے سر کشیدہ لوگ تھے
جن کا اب نام و نشاں کچھ بھی نہیں
ایک احساس محبت کے سوا
حاصل عمر رواں کچھ بھی نہیں
کوئی موضوع سخن ہی جب نہ ہو
صرف انداز بیاں کچھ بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محرم جاں کوئی دیوار نہ در لگتا ہے
اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہےہم بھی دیکھیں تو کہیں جنس وفا کی صورت
کوئی بتلائے وہ بازار کدھر لگتا ہے -

یوم وفات، طارق عزیز
تاریخ پیدائش:28 اپریل 1936ء
ساہیوال
تاریخ وفات:17 جون 2020ءاداکار، ٹی وی میزبان، شاعر اور سیاستدان
وجہِ شہرت:بزم طارق عزیز ٹی وی شو
ٹیلی ویژن:نیلام گھر ٹی وی سوال جواب کا شو
اعزازات
۔۔۔۔۔۔
تمغا حسن کارکردگی 1992ء میںطارق عزیز (28 اپریل 1936ء) پاکستان کے نامور صداکار، اداکار اور شاعر تھے۔
حالات زندگی
۔۔۔۔۔۔
طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جالندھر کی آرائیں گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد میاں عبد العزیز 1947 میں پاکستان چلے گئے۔ انھوں نے اپنا بچپن ساہیوال 142/9L میں گزارا۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔ تاہم 1975 میں شروع کیے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔
طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انھوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967 ) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔
انھیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے تمغے سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور 1997 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
تصنیفات
۔۔۔۔۔۔
طارق عزیز ایک علم دوست شخصیت ہونے کے حوالے سے خود بھی قلم کو اپنے اطہار کا ذریعہ بناتے رہے ہیں۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ’’داستان‘‘ کے نام سے اورپنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ اپنی مادری زبان پنجابی میں بھی شاعری کی ہے۔
پنجابی غزل
۔۔۔۔۔۔
گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے
ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے
میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی
ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے
جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا
تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
ایہہ سارے دھوکے یقین دے نے
نئیں تے شاخ گلاب کیہ اے
ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
تے حکم عالی جناب کیہ اےآزاد نظم سے اقتباس
۔۔۔۔۔۔
دوست یہ تو کی ہے تو نے بچوں کی سی بات
جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبوؤں کے بھید
اس میں دل پر گہرے درد کا بھالا کھانا پڑتا ہے
ہنستے بستے گھر کو چھوڑ کے بن میں جانا پڑتا ہے
تنہائی میں عفریتوں سے خود کو بچانا پڑتا ہے
خوشبوگھر کے دروازوں پر کالے راس رچاتے ہیں
جو بھی واں سے گزرے اس کو اپنے پاس بلاتے ہیں
زہر بھری پھنکار سے اس کے جی کو خوب ڈراتے ہیں
جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھیدتنقید و آراء
۔۔۔۔۔۔
پی ٹی وی کراچی کے سابق جی ایم قاسم جلالی نے طارق عزیز کی بحیثیت پروگرام کمپئیر فنی صلاحیتوں کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
”ان دنوں جبکہ پروگرام ریکارڈ کرنے کی بجائے براہ راست چلائے جاتے تھے، طارق عزیز کو سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔پروگرام شروع کرنے کے بعد کسی اداکار یا کردار نے آنا ہوتا تھا اور اسے آنے میں تاخیر ہوجاتی تو طارق عزیز دیکھنے والوں کو اپنی ایسی باتوں میں لگا لیتے کہ تاخیر محسوس ہی نہیں ہوتی تھی ، یوں تاخیر کا عرصہ کمال خوبی سے ازخود نکل جاتا تھا۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیپیڈیا سے ماخوذ