Baaghi TV

Category: بلاگ

  • غیر ملکی سرمایہ کاری کیلیے امن ضروری، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    غیر ملکی سرمایہ کاری کیلیے امن ضروری، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    آئی ایم ایف قرض دے گا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ پیش کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔ بلاشبہ وطن عزیز کو معاشی بحران کا سامنا ہے اس معاشی بحران میں بہت سے عوامل شامل ہیں۔ سیاسی بُحران ، سیاسی انتشار نے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے گئے ہیں۔ تاہم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا ہے۔

    انتہائی مشکل حالات مین اسے ایک اچھا بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ریاستی اداروں کو یہ بات ذہین نشین کرلینی چاہیئے جب تک ملک میں عدم استحکام رہے گا ملک میں سرمایہ لگانے والے ہچکچاتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے ملک میں امن ہو ۔ ریاستی ادارے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ عمران خان سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس ملک اوراس کی عوام کی خاطر ضد، انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کریں۔کون سی سیاسی جماعت آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوگی۔

    کس جماعت کا وزیراعظم ہوگا۔ یہ بعد کے مسئلے ہین سب سے اہم عوام ہوتے ہیں۔ ان کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ملک میں امن و امان سب سے اہم ہوتا ہے ۔ سیاستدانوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ ملک کا مستقبل معاشیات سے ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دی جائے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی معیشت کو پس پشت ڈال کر افوا سازی پر زور دیا پانامے سے لے کر اقامے تک پروپیگنڈہ کیا وقت ضائع کیا ۔ اور آج انجام عوام کے سامنے ہے ۔

    پاکستان آئی ایم ایف پروگرام بارے پرعزم
    سوشل میڈیا پر گردش کرتی 10 ہزار روپے نوٹ کی جعلی تصویر
    میرے ساتھ کچھ نہیں ہوا،موٹروے انسپکٹر پر زیادتی کا الزام لگانیوالی خاتون کا بیان
    سری لنکن کر کٹ ٹیم کے سابق کپتان سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے پرستار نکلے
    خیبر پختونخوا کے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
    نو اور دس مئی کو ایف سی چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث ملز مان کی 14 روزہ جودیشل ریمانڈ منظور
    موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں کو اس بات کا بھی ادراک ہے کہ بعض بین الاقوامی ادارے معاشی امداد کو انتخابات سے مشروط کر رہے ہیں۔ چین کیا کرنے جا رہاہے امریکہ کیا کر رہا ہے ہمیں اپنے وطن عزیز کی معاشی صورت حال کو مستحکم کرنا ہے وطن عزیز کی خاطر ان راستوں کا انتخاب کرنا ہے جو پاکستان کو ترقی کی طرفے لے جائیں عوام خوشحال ہو نوجوان جدید سائنس اورٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں۔

  • نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    کینیڈین مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن (سی ایم ایچ اے) کے مطابق: "نوجوانوں کی بامعنی شرکت کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کی قوت، دلچسپی اور صلاحیت کو پہچاننا اور ان صفات کی پرورش کرنا شامل ہے تاکہ انہیں انفرادی اور نظمی سطح پر اثرانداز ہونے والے فیصلوں میں شامل ہونے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ”

    پاکستان میں گورننس کے مختلف شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے۔ وہ تخلیقی صلاحیتیں، انوکھی سوچ، اور ملک کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    بدقسمتی سے، پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں انہی منصوبہ بندی کرنے والوں پر انحصار کرتی رہی ہیں، جو معاشی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی لانے، اور پیچیدہ سماجی مسائل کا حل کرنے کے لیے ناکام رہے۔ نتیجتاً، پاکستان تیزی سے برین ڈرین کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو دیگر ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے. جبکہ وہ اپنی معیشتوں کو ترقی دینے کے لیے اپنے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں۔
    پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر والی ہے، البتہ نوجوانوں میں بے روزگاری بدستور زیادہ ہے۔ معیشت کی ترقی کے لیے ان کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کو ضروری ہنر مندی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان دونوں شعبوں میں نمایاں کمی ہے۔

    برین ڈرین کا مقابلہ کرنے اور ترقی کرنے کے لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی اور علمی نوعیت کی مصنوعات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ شعبوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے، جس میں خصوصی توجہ خصوصی مہارتوں اور ویلیو ایڈڈ نظریات کو تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    اس عمل میں سب سے اہم قدم نوجوانوں کا مختلف شعبوں سے متعلق پالیسی سازی کے فیصلوں میں شمولیت ہے۔ نوجوان افراد کو ان فرسودہ پالیسی سازوں کی جگہ دینی چاہیے جو کئی دہائیوں سے براجمان ہیں اور 1990 کی دہائی کے بعد بدلتے وقت کے مطابق ڈھالنے میں ناکام ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنج فرسودہ ذہنیت سے دور ہونے کا ہے، جو اداروں کو ترقی پسند انداز میں ترقی دلانے سے قاصر رہے ہیں۔ جانبداری کا رواج، اور ایسے افراد کی سربراہان اور اسائنمنٹس کے عہدہ پہ تعیناتی جن کے پاس متعلقہ موضوع کا بہت کم علم ہو، اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے۔

    اب وقت ہے کہ ملکی حکمرانی میں نوجوانوں کی شمولیت کرا کے پاکستان اور اس کے مستقبل کو ترجیح دی جائے۔ ایسا کرنے سے پاکستان اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہو سکتا ہے، اپنی اہم مشکلات سے نمٹ سکتا ہے، اور ایک پائیدار ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔

  • صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    کیسے کیسے لوگ /آغا نیاز مگسی

    میرا خیال ہے کہ ایک انسان وہ مرد ہو خواہ عورت زندگی میں جتنی بار بھی عشق کرتا ہے وہ اس کے پہلے عشق کی تجدید یا تسلسل ہوتا ہے اسے ہر نئے محبوب یا محبوبہ میں اپنا پہلا پیار یا پہلی محبت نظر آتی ہے پاکستان کی خوب صورت اداکارہ صبیحہ خانم کا دوسرا عشق بھی اس کی ” پہلی سی محبت ” کا تسلسل ہی معلوم ہوتا ہے ۔ صبیحہ خانم جن کا اصل نام مختار بیگم ان کے والد کا نام محمد علی عرف ماہیا اور والدہ کا نام اقبال بیگم عرف بالو ہے۔ صبیحہ خانم 16 اکتوبر 1935 میں گجرات میں پیدا ہوئیں۔ 1948 میں انہوں نے اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کا آغاز کیا ۔ ڈرامہ رائٹر اور شاعر نفیس خلیلی نے انہیں اپنے اسٹیج ڈرامہ ” بت شکن ” میں متعارف کرایا اور انہوں نے ہی مختار بیگم کو صبیحہ خانم کا نام دیا۔ نفیس خلیلی ہی کی سفارش پر فلم ہدایتکار مسعود پرویز نے صبیحہ کو اپنی پہلی فلم ” بیلی” میں شامل کیا یہ فلم 1950 میں ریلیز ہوئی صبیحہ خانم کی بطور اداکارہ یہ پہلی فلم تھی اور مسعود پرویز کی بطور ہدایت کار بھی یہ پہلی فلم تھی۔ فلمی دنیا میں داخل ہونے کے بعد صبیحہ اس وقت کے مشہور فلمی اداکاروں لالہ سدھیر، سنتوش کمار اور درپن کے ساتھ اپنا فلمی کیریئر جاری رکھے ہوئے تھی ۔ اسی میل ملاپ اور قربت کے باعث صبیحہ کو اپنے دور کے ایک مشہور اور خوب صورت فلمی ہیرو سید عشرت عباس المعروف درپن سے عشق ہو گیا اور دونوں نے زندگی بھر ساتھ رہنے اور نبھانے کی غرض سے شادی کا فیصلہ کیا لیکن درپن کے والدین اور بڑے بھائی مشہور فلمی ہیرو سید موسیٰ رضا المعروف سنتوش کمار نے ان کی شادی کو اپنے خاندانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے مخالفت کی جس کی وجہ سے صبیحہ خانم کی پہلی محبت ادھوری رہ گئی پھر عجیب بات یہ ہوئی کہ صبیحہ خانم کو فلموں میں ایک ساتھ کام کرتے کرتے سنتوش کمار سے محبت ہو گئی اور ان دونوں نے یکم اکتوبر 1958 میں خاندانی وقار کو خاطر میں لائے بغیر شادی کر لی۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ سنتوش کمار پہلے سے شادی شدہ تھے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی درپن اس وقت غیر شادی شدہ تھے لیکن وہ صبیحہ خانم کو حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔

    صبیحہ خانم کو بہت سے منفرد اور قابل فخر بلکہ تاریخی اہمیت کے حامل اعزازات حاصل رہے ہیں ان کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ انہیں روس کے شہر تاشقند میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹیول میں بہترین غیر ملکی اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا ان کا دوسرا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سلور جوبلی فلم ” دو آنسوں” کی ہیروئن تھیں ان کا تیسرا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ انہیں پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی فلم” سسی” کی ہیروئن کا بھی اعزاز حاصل ہوا ۔ صبیحہ خانم کی یادگار فلموں میں ، اک گناہ اور سہی، سسی، دو آنسوں، عشق لیلیٰ ، دلا بھٹی، وعدہ، پاسبان، شیخ چلی اور سات لاکھ وغیرہ شامل ہیں ۔ وہ 1999 میں اپنی بیٹی فریحہ کے پاس امریکہ منتقل ہو گئیں اور 13 جون 2020 ریاست ورجینیا میں ان کا انتقال ہوا۔ صبیحہ کی دوسری بیٹی کا نام عافیہ اور اکلوتے بیٹے کا نام احسن رضا ہے وہ بھی امریکہ میں مقیم ہے۔ صبیحہ خانم کی 3 نواسیاں ہیں جن میں مہوش ، مہرین اور سحرش خان ہیں یہ تینوں بھی امریکہ میں مقیم ہیں ۔ سحرش خان کو امریکہ میں پاکستانی طلبہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر رہنے کا اعزاز حاصل ہے وہ ایک وکیل بھی ہیں اور فلمی اداکارہ بھی ۔ صبیحہ خانم کی تدفین امریکی ریاست ورجینیا کے شہر اسٹرلنگ کے قبرستان میں کی گئی ہے۔

  • یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    مصطفے جان رحمت پہ لاکھوں سلام
    یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    1856 یوم پیدائش

    امام احمد رضا خان کی وجہ شہرت میں اہم آپ کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزا رہا فتاوی کا ضخیم علمی مجموعہ جو 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ کے نام سے موسوم ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بریلوی کہلاتے ہیں۔

    امام احمد رضا خان 14 جون 1856 بمطابق 10 شوال المکرم 1272 ھجری کو بریلی میں پیدا ہوئے ۔

    رسم بسم اللہ خوانی کے بعد ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ قرآن مجید ناظرہ ختم کرنے اور اردو فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد مرزا غلام قادر بیگ سے میزان منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ نے اپنے والد نقی علی خان سے مندرجہ ذیل اکیس علوم پڑھے : علم قرآن، علم تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، کتب فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی و مالکی و حنبلی، اصول فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام، علم نجوم، علم صرف، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ، علم فلسفہ مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب تا جمع، تفریق، ضرب، تقسیم، ابتدائی علم ہندسہ۔

    تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر میں 14 شعبان 1286 ھ مطابق 19 نومبر 1869ء کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے۔ اسی دن مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی لکھ کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا۔ جواب بالکل صحیح تھا۔ والد ماجد نے ذہن نقاد و طبع وقاد دیکھ کر اسی وقت سے فتوی نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کے سپرد کردی۔ آپ نے تعلیم طریقت سید آل رسول مارہروی سے حاصل کی۔ مرشد کے وصال کے بعد بعض تعلیم طریقت نیز ابتدائی علم تکسیر و ابتدائی علم جفر و غیر ہ سید ابو الحسین احمد نوری مارہروی سے حاصل فرمایا۔ شرح چغمینی کا بعض حصہ عبد العلی رامپوری سے پڑھا۔

    فاضل بریلوی 1294ھ،1877ء میں اپنے والد نقی علی خان کے ہمراہ حضرت شاہ آل (م 1878ء ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے۔

    یوں تو آپ نے1286ھ سے 1340ھ تک ہزاروں فتوے لکھے۔ لیکن سب کو نقل نہ کیا جاسکا، جو نقل کر لیے گئے تھے ان کا نام العطایا النبویہ فی الفتاوی رضویہ رکھا گیا۔ فتاویٰ رضویہ جدید کی 33 جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 22 ہزار سے زیادہ کل سوالات مع جوابات 6847 اور کل رسائل 206 ہیں۔

    آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا۔ آپ کے ترجمہ کا نام "کنز الایمان” ہے۔ جس پر آپ کے خلیفہ سید نعیم الدین مراد آبادی نے حاشیہ لکھا ہے۔ اس ترجمہ کو اب تک انگریزی (میں تین بار)، ہندی، سندھی، گجراتی، ڈچ، بنگلہ وغیرہ میں ڈھالا جا چکا ہے۔

    25 صفر 1340ھ مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو جمعہ کے دن ہندوستانی کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ پر عین اذان کے وقت ادھر موذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزار بریلی میں ہے

  • اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا

    اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا

    14 جون 1957 یوم پیدائش

    اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی معروف اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا 14 جون 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام سید طیب حسین رضوی والدہ محترمہ کا نام سیدہ مہتاب رضوی ہے ۔ سنگیتا کا اصل نام سیدہ پروین رضوی ہے ۔ ان کی دو بہنیں نسرین رضوی اور حنا رضوی جبکہ ایک بھائی رضا علی رضوی ہیں ۔ ان کی بہن نسرین رضوی بھی اداکارہ ہیں جو کہ کویتا کے نام سے مشہور ہیں ۔ سنگیتا اور کویتا کی والدہ محترمہ مہتاب رضوی کا تعلق بھی فلمی دنیا سے رہا ہے۔ سنگیتا نے 1966 سے چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے 12 سال کی عمر میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور 1971 میں وہ کراچی سے لاہور منتقل ہو گئیں ۔ سنگیتا صاحبہ نے دو شادیاں کی ہیں ۔ پہلی شادی اپنے ایک ساتھی اداکار ہمایوں قریشی سے کی جس سے انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی لیکن یہ شادی ناکام ہوئی جس کی وجہ سے ان کے درمیان علیحدگی ہو گئیں انہوں نے دوسری شادی ایک کاروباری شخصیت نوید اکبر بٹ صاحب سے کی اور ماشاء الله ان کی خوشگوار ازدواجی زندگی گزر رہی ہے ۔

  • ڈاچی والیا موڑ  مہار وے

    ڈاچی والیا موڑ مہار وے

    ڈاچی والیا موڑ مہار وے

    سریندر کور

    بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ

    14 جون 2006: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلبل پنجاب کے نام سے شہرت پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ سریندر کور 25 نومبر 1929 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ وہ پنجابی لوک گیت کی صنف میں اپنی شراکت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے نے کئی مشہور اشعار گائے ہیں جن میں نند لال نورپوری، موہن سنگھ، امریتا پریتم اور دیگر نے لکھا ہےجبکہ کئی گیت اور اشعار خود ان کے اپنے لکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے بلھے شاہ کے پنجابی صوفی کافیاں بھی گائیں اور خوب پذیرائی حاصل کی۔ ان کے چند مقبول گانوں میں ‘جتی قصوری ۔پڑیاں نہ غریبی’، ‘گھمن دی رات لمی ہے جان میرے گیت لمے نے’، ‘اہنا آکھیاں’ ‘چ پون کیون کالرا’، ‘ماونتے دھیان’، ‘لٹھے دی چادر’، ‘کالا’ شامل ہیں۔ ڈوریا اور بہت کچھ۔ وہ اپنی بڑی بہن پرکاش کور کے ساتھ جوڑی کے ساتھ ملک بھر میں مشہور ہوگئیں۔ انہوں نے آسا سنگھ مستانہ، رنگیلا جٹ، کرنیل گل، دیدار سندھو اور یہاں تک کہ اپنی بیٹی ڈولی گلیریا اور پوتی سنائی کے ساتھ گایا ہے۔ چھ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1943 میں لاہور ریڈیو اسٹیشن سے کیا جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے 2,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے۔ سال 1984 میں، انہیں پنجابی لوک موسیقی کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں 2006 میں حکومت ہند کی طرف سے چوتھا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم شری بھی ملا۔ انہیں ملینیم پنجابی سنگر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں 2002 میں گرو نانک دیو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ سریندر کور کا انتقال 14 جون 2006 کو 77 سال کی عمر میں نیو جرسی، امریکہ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سریندر کور کو ان کی وفات کے بعد بلبل پنجاب کا خطاب دیا۔

    سریندر کور تقسیم ہند کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ غازی پور ہندوستان منتقل ہو گئیں ۔ 1948 میں ان کی شادی دہلی یونیورسٹی کے پنجابی شعبہ کے سربراہ پروفیسر جوگندر سنگھ سوڈھی سے ہوئی تھی، جنہوں نے بعد میں ہندی فلم انڈسٹری میں ان کا کیریئر بنانے میں بہت بڑی مدد کی۔ یہ جوڑے پنجاب میں انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے۔ 2006 میں دور درشن پر ان کی زندگی اور شراکت پر ایک دستاویزی فلم، ’پنجاب دی کوئل‘۔ نشر کی گئی ان کی بہن پرکاش کور اور بڑی بیٹی ڈولی گلیریا بھی گلوکارہ ہیں۔ سریندر کور کی 3 بیٹیاں ہیں ۔ بڑی بیٹی ڈولی گلیریا پنجکولہ امریکہ میں رہتی ہیں جبکہ نندینی سنگھ اور پرمودنی نیو جرسی امریکہ میں آباد ہیں ۔

  • کیا عمران خان کے پاس مذاکرات کیلئے کوئی پتا باقی ہے؟

    کیا عمران خان کے پاس مذاکرات کیلئے کوئی پتا باقی ہے؟

    12 جون کو عمران خان کے قوم سے ایک اور خطاب میں، خان کے بے ترتیب خیالات کا خلاصہ یہ تھا کہ کوئی بھی ان سے "بات نہیں” کر رہا ہے {یعنی آرمی چیف }۔ سوال یہ ہے کہ؛ کیا ان کے پاس میز پر رکھنے کے لیے کچھ ہے بھی کہ نہیں؟

    اب یہ بات سب کو کھلے عام معلوم ہے کہ پی ٹی آئی نے "امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات، اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ” پارٹی کے نظریات کی حمایت کے لیے واشنگٹن میں قائم ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں۔ غیر ملکی ایجنٹوں کے رجسٹریشن ایکٹ کے تحت امریکی محکمہ انصاف کے پاس دائر دستاویزات کے مطابق، معاہدہ 21 فروری کو چھ ماہ کی مدت کے لیے طے پایا تھا۔‘‘ (23 مارچ 2023)۔

    بلنکن کو خط لکھنا، کانگریسیوں کا اکٹھا کرنا، اور حالیہ سجاد برکی کا ایک ٹویٹ۔ وہ مبینہ طور پر امریکہ میں عمران خان کے نمائندہ ہیں اور پی ٹی آئی امریکہ کے سابق صدر بھی تھے۔ ٹویٹ میں کہتے ہیں ،”کانگریس مین گریگ کیسر کی میزبانی کے لیے مسٹر طارق مجید کا شکریہ۔ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی حمایت کا وعدہ کیا۔ وہ ملٹری ایڈ کو ملک میں انسانی حقوق کے حالات سے جوڑنے کے لیے ایک بل کی معاونت کر رہے ہیں۔
    @PTIofficial @ptuusaofficial @MoeedNj

    آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق، گزشتہ دو دن جی ایچ کیو میں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر نے کہا، "جو لوگ بگاڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کی جعلی خلاف ورزیوں کا ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ ”
    یہ پیغام باآوازبلند اور بالکل واضح ہے! جب پی ٹی آئی نے 9 مئی کو سول اور ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ جمہوری ڈھانچے سے نکل کر ایسی کارروائیوں میں مشغول ہوگئے جو دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں۔ اگر آج اس خطرناک حرکت کو نہیں روکا گیا تو مستقبل میں ٹی ٹی پی یا کسی دوسری سیاسی جماعت کو بھی معاشرے میں ایسے ناقابل قبول حملے کرنے سے کون روک سکتا ہے ؟
    فوج کی پیٹھ دیوار سے لگا دی گئی ہے۔
    کیپیٹل ہل ایک فوجی تنصیب نہیں تھی، مگر پھر بھی سٹیورٹ رہوڈز کو حملے کے ماسٹر مائنڈ کے الزام میں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بہتر ہے کہ کپتان یاد رکھے کہ وہ وکٹ کے دونوں طرف نہیں کھیل سکتا۔

  • استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    مدینہ منورہ کی گلی میں ایک بدقماش یہودی نے اپنی ہی ہم مذہب خاتون کے سر سے دوپٹہ چھینا اور اس کے دامن عصمت کو تار تار کرنا چاہا تو وہ باآواز بلند بے اختیار پکار اٹھی ’’ ہائے محمد( ﷺ ) !تیرے شہر میں میری آبرو لٹ گئی ! ‘‘ ۔مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس یہودی خاتون کی فریادنبی مکرم رحمت عالم ﷺ کے مبارک کانوں میں پڑی تب آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، لقمہ ہاتھ میں تھا لیکن اسے منہ میں نہیں ڈالا بلکہ واپس رکھ دیا اورتاجدار مدینہ اس حال میں برہنہ پائوں گھر سے دوڑے کہ چادر مبارک پائوں میں گھسٹ رہی تھی وہ چادر جس کی پاکیزگی اورعظمت کی قسم آسمان والے نے اپنے قرآن میں اٹھائی ہے جبکہ زبان ِ مبارک پر یہ الفاظ تھے ’’ اے میری بیٹی تیری حفاظت کیلئے میں آرہا ہوں ‘‘ ۔ یہ بیٹی مسلمان نہیں تھی یہودی تھی محمد عربی ﷺ کاکلمہ پڑھنے والی نہیں تھی کافرہ تھی اس کے باوجود تاجدار مدینہ ﷺ اس کی عصمت وعفت بچانے کیلئے گھر سے نکل کر دوڑ پڑے تھے ۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کردیا تھا کہ بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے وہ کافر کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو ۔

    محمد بن قاسم کی ہندوستان میں آمد اور سندھ کی فتح کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی۔ اسی طرح فتح اندلس کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اندلس کی ایک ریاست کے سربراہ کاونٹ جولین جو کہ بڑا بہادر اور خوددار سالار تھااس کی بیٹی فلورنڈا اندلس کے بادشاہ راڈرک کے محل میں رہتی تھی۔ راڈرک نے ایک رات فلورنڈا کے دامن عصمت کو تار تار کردیا ۔ بیٹی نے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع اپنے والد کو بھیجی توبیٹی تو وہ تڑپ اٹھا اور فی الفور دار الحکومت پہنچا۔ اس نے اپنے جذبات کو بادشاہ پر ظاہر نہ ہونے دیا اور صرف یہ درخواست کی کہ فلورنڈا کی ماں بستر مرگ پر ہے اس لیے اسے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔راڈرک نے باپ اور بیٹی کو اجازت دے دی تاہم بوقت رخصت اس نے کا ونٹ جولین سے فرمائش کی کہ شکار کے لیے عمدہ بازمیرے پاس بھیجے جائیں جو لین نے جواب میں کہا’’ اس مرتبہ میں ایسے باز بھیجوں گا کہ آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد کاونٹ جولین موسی بن نصیر کے پاس حاضر ہوا اپنے بادشاہ کے ہاتھوں بیٹی کے لٹنے کا دلخراش واقعہ بیان کرتے ہوئے انصاف کیلئے مدد چاہی ۔ موسی بن نصیر نے سارا واقعہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کو لکھ بھیجا ۔ خلیفہ نے فوراََ ہی موسی بن نصیر کو اندلس پر حملے کاحکم دے دیا ۔ چنانچہ موسی بن نصیر نے 7 ہزار مجاہدوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت اپنے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کے حوالے کی۔ یہ لشکر 9 جولائی 711ء کو اس جگہ پر پہنچا جسے آج جبل الطارق کہا جاتا ہے۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ چند ہزار کا لشکر لاکھوں دشمنوں پر فتح یاب ہوتا چلا گیا اور سرزمین اندلس پر اسلام کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ جو آٹھ صدیوں تک لہراتے رہے ۔

    یہ تو ہمارا تابناک اور روشن ماضی تھا کہ ہم صرف اپنی ہم مذہب ہی نہیں بلکہ کافروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وعصمت کی حفاظت بھی کیا کرتے تھے ۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام کی بیٹی اور ہماری بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جیل میں سسک رہی اور ہماری بے حسی پر گریہ وزاری کررہی ہے ۔ دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی درندوں کے حوالے کرنے والے غیرت وحمیت سے تہی ہمارے اپنے ہی حکمران ہیں ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 8سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں (.Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔
    2002ء میں پاکستان واپس آئیں مگرکچھ عرصہ بعد پھر امریکہ واپس چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کی اور 2003ء میں کراچی واپس آ گئیں۔یہ وہ موقعہ تھا جب بغیر کسی ثبوت اور سبب کے امریکی اداروں کے اہلکار شکاری کتوں کی طرح پاکستانیوں پر حملہ آور ہورہے اور انھیں اغواکررہے تھے جبکہ امریکی میڈیا مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہا تھا، دوسری طرٖف جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈالروں کے حصول کیلئے اپنے ہی ملک کے شہری پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں بیچ رہے تھے ۔ اسی اثنا میں امریکی ذرائع ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ خوف زدہ ہوگئیں اور کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئیں۔ 30 مارچ، 2003ء کو وہ اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ایر پورٹ کی طرف جارہی تھیں کہ راستے سے غائب ہو گیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکی اداروں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت عافیہ صدیقی کی عمر 30 سال تھی، بڑے بچے کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر ایک ماہ تھی ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کے اغوا کی خبریں شائع ہوئیں مگر بعد میں حکومتی سطح پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ خاموش رہیں ۔

    اسی دوران اچانک ہی یہ خبر عیاں ہوئی کہ عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 کی حیثیت سے قید ہیں اور یہ بھی بتایا گہ عافیہ صدیقی کی حالت بے حد بری ہے۔ چنانچہ ان خبروں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ اخبارات میں شور برپاہونے کے بعد امریکی حکومت نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کامقدمہ چلایا جا سکے۔ چنانچہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پاداش میں عافیہ صدیقی پر مقدمہ چلاگیا 23 ستمبر2010ء میں عدالت نے انھیں 86 سال قید کی سزا سنادی ۔
    اس فیصلے کو20برس ہوچلے ہیں اس وقت سے ہماری بہن عافیہ امریکہ کی جیل میں ہیں ۔ 20برس کے اس طویل عرصہ میں پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کو نہیں بھولی ہے کسی نہ کسی صورت ان کے لئے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے اگرچہ یہ آواز اتنی توانا نہیں رہی کہ جو ہمارے حکمرانوں پر اثر انداز ہوسکے ۔ ان حالات میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کیلئے مسلسل کوشاں رہے وہ سینیٹ کے اندر بھی اور عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہے آخر ان کی کوششیں اس حد تک رنگ لائیں کہ امریکی حکومت نے ملاقات کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور وکیل کلائیو اسٹافورڈاسمتھ کے ہمراہ ملاقات کیلئے امریکہ جاپہنچے ۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں کے درمیان 20 سال بعد امریکی جیل میں ملاقات ہوئی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔دونوں بہنوں کو گلے ملنے اور ہاتھ ملانے کی اجازت نہ تھی جبکہ ڈاکٹر فوزیہ کو یہ بھی اجازت نہ دی گئی کہ وہ عافیہ صدیقی کو ان کے بچوں کی تصاویر دکھا سکیں۔ملاقات جیل کے ایک کمرے میں ہوئی جس کے درمیان میں موٹا شیشہ لگا ہوا تھا جس کے آرپار سے دونوں بہنوں کی ملاقات کرائی گئی۔ عافیہ صدیقی نے سفید رنگ کا اسکارف اور جیل کا خاکی لباس پہنا ہوا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے روزانہ اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات بتائیں جبکہ انہیں اپنی والدہ کی وفات کا بھی علم نہیں تھا جن کے بارے میں وہ پوچھتی رہیں۔ عافیہ صدیقی نے اپنے بچوں سے متعلق بھی دریافت کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے سامنے کے دانت جیل میں تشدد کے باعث گر چکے ہیں اور انہیں سر میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم عافیہ صدیقی کیلئے آواز اٹھائیں اور اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکہ پر اخلاقی سفارتی دبائو ڈال کر عافیہ صدیقی کو رہا کروائیں ۔

  • مشکل حالات، عوام دوست بجٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مشکل حالات، عوام دوست بجٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    بجٹ اعدادو شمار کا ایک کھیل ہوتا ہے میرے خیال میں عام آدمی ہی نہیں بہت سوں کے سر سے گزر جاتا ہے۔ بجٹ کے اعداد و شمار کیا ہوتے ہیں عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتے۔ بجٹ پیش ہوتے تقریریں سنتے عمر گزر گئی اور گزر رہی ہے تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے معاشی بحران اور آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ پیش کرکے ثابت کر دیا کہ وہ ان مشکل میں ہی نہیں مشکل ترین حالات میں کسان دوست‘ سرکاری ملازمین دوست‘ نوجوان دوست بجٹ پیش کر سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں بھی وزیر خزانہ رہے اور ایک تجربے کار وزیر خزانہ ہیں۔ سب سے خوشی کہ آئند وزیر خزانہ نے وطن عزیز کو ڈیفالٹ سے بھی بچا لیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی تماشوں کی رونق ماند نہیں پڑ رہی روزایک نیا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال سے بے خبر سیاستدان روزانہ سیاسی تماشے لگا رہے ہیں تاہم یہ تماشے پرانے ہیں۔ قومیں متحد رہ کرہی ترقی کرتی ہیں انتشار تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔

    خطے کی صورت حال تبدیل ہو رہی ہے ۔ سعودی عرب‘ چین‘ ایران اور دیگر ممالک کے در میان فروغ پانے دوالے رشتوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ غالباً پڑ بھی چکے ہیں۔ ایران‘ سعودی عرب‘ عرب امارات‘ عمان اور دیگر خلیجی ممالک نے مشترکہ بحریہ کے قیام کا فیصلہ کیا ان کی رہنمائی چین کررہا ہے۔ بلاشبہ سعودی عرب ایران تعلقات امریکہ کیلئے بڑا دھچکہ ہے امریکہ جانتا ہے کہ عرب ممالک اتحاد کے پیچھے چین ہے ان حالات کو دیکھ کہ امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب پہنچے ہیں۔ چین امریکہ مقابلہ کیا رنگ لاتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے پاکستان کو اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ خطہ کی بدلتی ہوئی صورت کو مدنظر رکھ کر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔اس بدلتی ہوئی صورت حال میں حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا۔

  • موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

    موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

    سول: سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ آرکٹک پر موجود برف اندازہ لگائے گئے وقت سے 10 سال پہلے ہی مکمل طور پر پگھل سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ آنےوالی دہائیوں میں ستمبر کے مہینے سے شروع ہونے والے موسمِ گرما میں آرکٹک سمندر کی برف مکمل طور پرپگھل سکتی ہےاگر دنیا آج سے ہی زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کو بڑے پیمانے پر کم کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت 2050 کی دہائی تک جا سکتا ہے۔

    روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    محققین نے 1979 سے 2019 تک اس خطے میں برف میں آنے والی تبدیلی کا جائزہ لیا اور مختلف سیٹلائیٹ ڈیٹا اور کلائیمٹ ماڈلز کا موازنہ کیاتاکہ آرکٹک سمندر کی برف میں آنےوالی تبدیلی کا معائنہ کیا جائزے میں ان کو معلوم ہوا کہ سمندری برف کےکم ہونےکی بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں جبکہ ماضی کے ماڈلز نے برف کے پگھلنے کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔

    ماہرین نے طویل عرصے سے 2050 تک آرکٹک کی برف کے تیرنے کے کم از کم ،کم سےکم سطح تک کم ہونےکاخدشہ ظاہر کیا ہے، جس کا خطرہ زیادہ ہے کیونکہ انسان زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتے ہیں۔ نئی تحقیق اگرچہ، یہ بتاتی ہے کہ کافی کم اخراج والے منظر نامے میں بھی جو کرہ ارض کی گرمی کو 2 ڈگری سیلسیس سے کم رکھتا ہے، 2050 کی دہائی میں موسم گرما میں آرکٹک سمندری برف کے بغیر باقاعدہ سال ہو سکتے ہیں۔

    ایمازون کے جنگلات میں طیارہ حادثہ،4 بچے معجزاتی طور پر 40 دنوں بعد زندہ مل …

    اخراج کی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی یہ رجحان بدتر ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بدترین صورت حال میں، اس بات کا امکان ہے کہ آرکٹک میں 2030 کی دہائی کے ساتھ ہی ستمبر میں برف نہ ہو، پچھلی تحقیق سے ایک دہائی پہلے اشارہ کیا گیا تھا۔

    جنوبی کوریا کی پوہینگ یونیورسٹی کے پروفیسر اور تحقیق کے سربراہ مصنف سی انگ-کی مِن کے مطابق سائنس دان یہ جان کر حیران تھے کہ موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا باوجود اس کے کہ (کاربن) اخراج میں کمی کے لیے کتنی ہی کوشش کر لی جائے۔

    آرکٹک کی برف موسمِ سرما میں بڑھتی ہے اور پھر موسمِ گرما میں پگھل جاتی ہے اور یہ سائیکل دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ستمبر میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ جاتی ہے۔

    پچاس کلو چاندی لوٹنے کے واقعہ میں پولیس ہی ملوث نکلی

    سی انگ-کی مِن کا کہنا تھا کہ ایک بار آرکٹک کی برف موسمِ گرما میں مکمل طور پر پگھل جائے، سمندری برف کا سردی کے موسم میں دوبارہ بڑھنا مزید سست ہوجائے گا۔ جتنی زیادہ گرمی بڑھے گی، یہ خطہ اتنا زیادہ موسمِ سرما میں بغیر برف کے رہے گا۔