Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے پہلے مرثیہ گو شاعر سیدآل رضا

    پاکستان کے پہلے مرثیہ گو شاعر سیدآل رضا

    تم رضا بن کے مسلمان جو کافر رہے
    تم سے بہتر ہے وہ کافر جو مسلماں نہ ہوا

    اردو کے نامور شاعر سید آل رضا 10 جون 1896ء کو قصبہ نبوتنی ضلع انائو (یو، پی) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد سید محمد رضا 1928ء میں اودھ چیف کورٹ کے اولین پانچ ججوں میں شامل تھے ۔

    سید آل رضا نے 1916ء میں کنگ کالج (لکھنؤ) سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور 1920ء میں الٰہ آباد سے ایل ایل بی پاس کرکے لکھنؤ میں وکالت شروع کی۔ 1921ء میں وہ پرتاب گڑھ چلے گئے جہاں 1927ء تک پریکٹس کرتے رہے۔ 1927ء کے بعد دوبارہ لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔ تقسیم کے بعد پاکستان تشریف لے آئے اور پھر ساری عمر اسی شہر میں گزاری۔

    سید آل رضا کی شاعری کا آغاز پرتاب گڑھ کے قیام کے دوران ہوا۔ 1922ء میں باقاعدہ غزل گوئی شروع کی اور آرزو لکھنوی سے بذریعہ خط کتابت تلمذ حاصل کیا۔ 1929ء میں آل رضا کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’نوائے رضا‘‘ لکھنؤ سے اور 1959ء میں دوسرا مجموعہ ’’غزل معلی‘‘ کراچی سے شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے بہت کم غزلیں کہیں اور تمام ترصلاحیتیں نوحہ و مرثیہ کے لئے وقف کردیں۔

    1939ء میں انہوں نے پہلا مرثیہ کہا جس کا عنوان تھا ’’شہادت سے پہلے‘‘ دوسرا مرثیہ 1942ء میں جس کا عنوان تھا ’’شہادت کے بعد‘‘ یہ دونوں مرثیے 1944ء میں لکھنؤ سے ایک ساتھ شائع ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد نور باغ کراچی میں سید آل رضا نے اپنا پہلا مرثیہ ’’شہادت سے پہلے‘‘ پڑھا اور اس طرح وہ پاکستان کے پہلے مرثیہ گو قرار پائے۔

    کراچی کی مجالس مرثیہ خوانی کے قیام میں سید آل رضا کی سعی کو بہت زیادہ دخل ہے۔ یکم مارچ 1978ء کو سید آل رضا وفات پاگئے۔ کراچی میں علی باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • نامور مصنف، مترجم، سیاستدان چنگیز اعتما توف کا یوم وفات

    نامور مصنف، مترجم، سیاستدان چنگیز اعتما توف کا یوم وفات

    پیدائش:12 دسمبر 1928ء
    وفات:10 جون 2008ء
    نورنبرگ
    وجۂ وفات:نمونیا، گردے فیل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    کرغیزستان
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    مادر علمی:گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب
    مادری زبان:کرغیز زبان
    پیشہ ورانہ زبان:فرانسیسی، روسی، کرغیز
    اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اعزاز اکتوبر انقلاب (1988)
    آرڈر آف لینن (1971)

    چنگیز اعتماتوف سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول ”جمیلہ“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار پرودا کے لیے بطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں 1963ء سے حاصل ہوئی۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں دشوار راستہ 1958ء، روبرو 1957ء، جمیلہ 1958ء، پہلا استاد 1967ء، سفید دخانی کشتی 1970ء شامل ہیں۔
    سیاست و سفارت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول و افسانے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1956ء – دشوار راستہ
    ۔۔۔ 1957ء – روبرو
    ۔۔۔ 1958ء – جمیلہ
    ۔۔۔ 1962ء – پہلا استاد
    ۔۔۔ 1963ء – پہاڑوں اور
    ۔۔۔ مرغزاروں کی کہانیاں
    ۔۔۔ 1970ء – سفید دخانی کشتی
    ۔۔۔ 1977ء – سمندرکے کنارے
    ۔۔۔ دوڑتا ہوا چتکبری کتا
    ۔۔۔ 1986ء – تختۂ دارا
    ۔۔۔ 1986ء – جب پہاڑ گرتے ہیں
    انگریزی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1964ء
    ۔۔۔ Short Novels
    ۔۔۔ 1970ء
    ۔۔۔ Farewell Gul’sary
    ۔۔۔ 1972ء
    ۔۔۔ White Steamship
    ۔۔۔ 1972ء
    ۔۔۔ The White Ship
    ۔۔۔ 1973ء
    ۔۔۔ Tales of the Mountains
    ۔۔۔ and the Steppes
    ۔۔۔ 1975ء
    ۔۔۔ Ascent of Mount Fuji
    ۔۔۔ 1983ء
    ۔۔۔ Cranes Fly Early
    ۔۔۔ 1988ء
    ۔۔۔ The Day Lasts More
    ۔۔۔ Than a Hundred Years
    ۔۔۔ 1989ء
    ۔۔۔ The Place of the Skull
    ۔۔۔ 1989ء
    ۔۔۔ Time to Speak
    ۔۔۔ 1988ء
    ۔۔۔ he time to speak out
    ۔۔۔ 1990ء ۔۔۔ other Earth and
    ۔۔۔ Other Stories
    ۔۔۔ 2008ء
    ۔۔۔ Jamila
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1963ء – لینن انعام، روس
    ۔۔۔ 1968ء 1977ء 1983ء
    ۔۔۔ سوویت ریاستی انعام، روس
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1966ء – رکن اعلیٰ سوویت
    ۔۔۔ برائے سوویت یونین
    ۔۔۔ 1967ء – رکن اگزیکٹیو بورڈ
    ۔۔۔ برائے سوویت انجمن مصنفین
    ۔۔۔ مشیر برائے صدر سوویت یونین
    ۔۔۔ میخائل گورباچوف
    ۔۔۔ سوویت سفیر برائے لکسمبرگ
    ۔۔۔ 1990ء -سفیر کرغیزستان
    ۔۔۔ برائے یورپی یونین
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون 2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔

  • قوم کو نئی جماعت مبارک،تجزیہ، شہزاد قریشی

    قوم کو نئی جماعت مبارک،تجزیہ، شہزاد قریشی

    قوم کو مبارک ہو نئی جماعت استحکام پاکستان وجود میں آچکی ہے۔ اس نئی جماعت میں وہی پرانے سیاستدان ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں سے سفر طے کرکے اب ایک نئی جماعت استحکام پاکستان میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں سیاسی مخبروں کے مطابق پنجاب میں استحکام پاکستان ، ق لیگ اور پی پی پی پنجاب میں حکمرانی کے لئے نیا سیاسی اتحاد بنانے جا رہے ہیں اس اتحاد کے ساتھ پنجاب کی عام یعنی ووٹر ووٹ دیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے تاہم عوام کو نیا اتحاد مبارک ہو ۔ بھٹو کے بعد پنجاب نوازشریف کا تھا ۔ پھر پی ٹی آئی کا تھا یہ نیا اتحاد مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی پنجاب میں مقبولیت کو شاید نظر انداز کررہا ہے پنجاب میں ووٹر آج بھی نواز شریف اور پی ٹی آئی کا ہے۔ تاہم یہ سیاسی کھیل اتنا بے سبب بھی نہیں عوام مسائل اور محرومیوں کو وقتی طورپر فراموش کر دیں بس ان کی آنیاں جانیاں دیکھتے رہیں۔

    وطن عزیز کی سلامتی مضبوط ترین ہاتھوں میں ہے قوم کسی سیاستدان اورسیاسی جماعت کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ قومی سلامتی کےاداروں بشمول عدلیہ پر چڑھ دوڑے ۔ پاک فوج اوراس سے جڑے جملہ ادارے ملک کے وجود کا وہ حصہ ہیں جو پاکستان کو ہر خطرات سے بچانے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ کسی سیاستدان اور کسی بھی سیاسی جماعت کویہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ وطن عزیز کے اس اہم وجود کو نقصان پہنچائے ۔ تاہم پی ڈی ایم اور پی پی پی کی جمہوریت اک دھاگے سے جھول رہی ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔ صف علی زرداری اپنی زندگی میں بلاول کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں مخبروں کے مطابق کچھ سیاستدانوں کی خواہش ہے کہ نواز شریف وطن واپس نہ آئیں مسلم لیگ(ن) کا روشن مستقبل نواز شریف سے جڑا ہوا ہے نواز شریف کی وطن واپسی سیاسی گلیاروں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔

  • ضمنی انتخابات؛ تنویر الیاس کی نشست پر پی ٹی آئی ہار گئی

    ضمنی انتخابات؛ تنویر الیاس کی نشست پر پی ٹی آئی ہار گئی

    آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم تنویر الیاس کی نشست پر ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ آزادجموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 15 باغ ٹو میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک جاری رہی ہے۔

    تاہم 189 میں سے 72 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں جس میں پیپلز پارٹی کے ضیاء القمر 9 ہزار 660 ووٹ لے کر سب سے آگے ہیں۔ جبکہ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق دوسرے نمبر پر مسلم لیگ نواز کے امیدوار مشتاق منہاس ہیں جو اب تک 7 ہزار 917 ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    پی ٹی آئی کےکرنل ضمیر خان دور دور تک نظر نہیں آئے ، دو سال پہلے اس نشست پر پی ٹی آئی نے ساڑھے 5 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم واضح رہے کہ یہ نشست سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی نا اہلی پر خالی ہوئی تھی۔

    اس خبر کو مزید اپڈیٹ کیا جارہا

  • پھول۔۔۔۔۔احساس محبت۔۔۔۔اور اللہ کی قدرت

    پھول۔۔۔۔۔احساس محبت۔۔۔۔اور اللہ کی قدرت

    ایک پھول کی کلی ہے ،وہ ہر وقت پھولوں سے لگی رہتی ہے ،کھبی تو بس گہری سوچ میں انہیں تکتی رہتی ہے اور پھر تکتی ہی رہ جاتی ہے،اور کھبی خوشبو لے لے کر سکون پاتی رہتی ہے اور کھبی نرم نرم ہاتھوں سے پھولوں کی نرمی محسوس کرتی رہتی ہے اور بے اختیار اس کا دل کہہ جاتا ہے
    "سبحان اللہ بقدرتہ ”

    اور ایک اور مزے کی بات پھر ان پیارے پیارے پھولوں کو دیکھ کر ایک دم خیال اللہ کے کچھ خوبصورت ،مقرب بندوں کی طرف چلا جاتا ہے
    (ہمممم !!!سوچ رہی ہوں بتا دوں وہ کون ہیں چلیں بتا دیتی ہوں میرے استاد، میرے والدین ،میرے شیخ اور نیک ساتھی ہیں اور میری اکثر پوسٹ انہیں کے لیے ہوتی)
    اور پھر اس واقعہ کی طرف ذہن جاتا ہے جو خوبصورت مکالمہ اللہ اور حضرت موسی علیہ السلام کے درمیان ہوا تھا اور وہ واقعہ جب عاجزہ ایف ایس سی کے بعد جامعہ گئی تھی اور اسے کالج کے ماحول کے بعد مدرسہ کے پاکیزہ ماحول میں سیٹ ہونا مشکل لگتا تھا اور ظاہر ہے پاکیزہ ماحول اور گندہ ضمیر دل لگتا بھی کیسے ۔۔!!
    خیر اس وقت میرا دل لگانے میں جہاں کچھ کردار سا تھیوں کا
    تھا ،کچھ جامعہ میں لگی فریم
    "” احساس کر اللہ تجھے پیار سےدیکھ رہا ہے””
    کا تھا اور کچھ کردار با اخلاق ، با کمال ،با کردار ،صاحب بصیرت اساتذہ اکرام کا تھااور ادارے کی پرنسیپل ان کے لیے تو میرے پاس الفاظ نہیں جنہوں نےہمیشہ ،ہر وقت بڑی خندہ پیشانی سے مجھے گائیڈ کیا ،حتی کہ بسا اوقات اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلایا ۔۔۔ میں یہ پاکیزہ تعلیمی سفر فقط اللہ سویٹ کے کرم ، امی جی کے شوق، ابو جی کی انتھک محنت ، حضرت جی کی دعاؤں اور اساتذہ کی لگن و توجہ سے کر پائی ،اللہ آپ سب کو دارین میں بھلائیاں عطا فرمائیں آمین

    خیر میں واقعہ کی سند بیان کر رہی تھی تو وہ ایک میری معلمہ جنہوں نے عالیہ ثانی میں مشکوۃ شریف پڑھائی محترمہ استانی صاحبہ ام پاکیزہ نے سنایا تھا اور اس کا ایسا اثر بھی میری ذات پر ہوا تھا کہ میں نے جامعہ پڑھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا
    انہوں نے بتایا تھا "” اللہ یہ ماحول ہر ایک کو نہیں دیا کرتے اللہ اس پاکیزہ پڑھائی کے لیے ہر ایک کو نہیں چنا کرتے بات وہی ہے” ایک دفعہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سویٹ سے پوچھا تھا
    اللہ! سارے بندے نیک نہیں ہوتے آپ اس کام کے لیے کسی کسی کو کیوں چنتے ہیں ؟
    تو اللہ رب العزت نے فرمایا:
    موسی فلاں باغ سے میرے لیے پھولوں کا گلدستہ لاؤ
    جب موسی علیہ السلام گئے تو باغ میں پھول تو بہت زیادہ تھے اللہ پاک جانتے بھی تھے لیکن موسی علیہ السلام چند ہی پھولوں کو اتار کر ان کا گلدستہ بنا کر لے گئے
    اللہ سویٹ نے دریافت فرمایا : موسیٰ پھول تو اور بھی تھے آپ یہی کیوں لائے
    موسی علیہ السلام نے فرمایا:اللہ یہ پھول مجھے زیادہ اچھے لگے تھے اس لیے پہی لایا
    تو اللہ سویٹ نے فرمایا: موسی میں بھی اسی کو دین کے لیے چنتا ہوں اسے اس کام کے لیے منتخب کرتا ہوں جو مجھے پسند آئے”””

    اللہ اکبر۔۔اللہ تیری شان واہ واہ

    اور میری معلمہ جنہوں نے مجھے ہدایہ شریف پڑھائی محترمہ استانی صاحبہ ام محمد اکثر فرمایا کرتی تھیں” اللہ رب العزت ستر بار محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو دین کے لیے کسی کو چنتے ہیں”
    تو پھر میں نے بھی کہا کہ وردہ ذرا سوچو تو سہی کس کی محبت کی نظر تم پر پڑی؟ ایک تو محبت کی نظر جو تمہیں ویسے بھی اچھی لگتی دوسرا محبت کی نظر بھی کس کی ۔۔؟ اللہ کی ؟ اللہ سویٹ کی بس اب تو تم پڑھو گی

    پھر الحمدللہ آج وہ وقت ہے اللہ نے وہ لقب عطا فرمایا کہ جس کی نسبت اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف جاتی ہے اس کے محبوبﷺ کی طرف جاتی ہے
    اللہ ﷻان نسبتوں کی لاج رکھنے کی توفیق فرمائے اللہ قبول فر ما لیں اللہ سویٹ دارین میں بھلائیاں عطا فرمائیں حقیقی معنوں میں والدین، استاد اور شیوخ کے لیے صدقہ جاریہ بنائیں اور رب اندرونی و بیرونی ملک میں احسن طریقے سے دین کا کام لیں رب اتنا قابل بنائے کہ دین سے نفرت کرنے والے دیکھ کر محبت کرنے لگ جائیں, اللهﷻ سنت مصطفیٰﷺ کا شیدائی بنا دیں اور آخرت میں آپﷺ کے ہاتھوں حوض کوثر سے پانی پینا نصیب ہو آمین ثم آمین
    والسلام
    بنت قاضی سخاؤالدین

  • بالی جٹی کا یوم وفات

    بالی جٹی کا یوم وفات

    بالی جٹی کا یوم وفات

    8 جون 1996: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ چھلانگ لگا کر سٹیج پر آتیں تو تھیٹر کا پنڈال بڑھکوں، نعروں ، تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھتا ۔ تھیٹر کے ناظرین نے انہیں ببر شیرنی کا خطاب دیا تھا۔
    یہ تھیں بالی جٹی جن کا اصل نام عنایت بی بی تھا۔ وہ 1937ء میں ساہیوال میں پیدا ہوئیں۔ 1958ء میں انہوں نے پنجاب کے لوک تھیٹروں سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا جو میلوں ٹھیلوں پر شو کرتے تھے ۔ انہوں نے ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، پیر مرادیا، ویر جودھ ، سلطانہ ڈاکو، قتل تمیزن اور نور اسلام وغیرہ متعدد ڈراموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان ڈراموں میں وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کرتی تھیں۔ ان کے گائے ہوئے کئی گانے لوک گیتوں کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
    انہوں نے عالم لوہار، عنایت بھٹی جیسے فن کاروں کے مقابل پرفارم کیا۔ ان کا گایا ایک ڈوئیٹ بہت مشہور ہوا جو انہوں نے اپنے تھیٹر کے فنکار امین کے ساتھ گایا تھا۔ جس کے بول تھے
    "آ لے کنجیاں رکھ لے سرہانے، چلی ہاں میں پیکیاں نوں”۔
    مختلف تھیٹروں سے وابستہ رہنے کے بعد انہوں نے اپنا ذاتی ’’شمع تھیٹر‘‘ بھی بنایا تھا جو بارہ سال چلا ، پھر کئی مسائل کی وجہ سے بند کرنا پڑا۔

    1967ء میں ریلیز ہونے والی ایک پنجابی فلم منگیتر میں بھی انہوں نے منور ظریف کے ساتھ اداکاری کی تھی۔

    بالی جٹی کی آواز بہت گرج دار اور بلند تھی جو تھیٹر کی دنیا میں ان کی مقبولیت کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔ وہ مرزا صاحباں گانے میں کمال رکھتی تھیں۔
    کسی زمانے میں معاشرتی قیود کی وجہ سے زنانہ کردار بھی مرد کرتے تھے لیکن یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ بالی جٹی حسب ضرورت مردانہ کردار بھی کرتی رہیں۔

    بالی جٹی کا 8 جون 1996ء کو انتقال ہوا اور سبزہ زار لاہور کے قبرستان میں سپردِ خاک کی گئیں۔

    گلوکارہ ریحانہ اختر بالی جٹی کی بہو تھیں اور گلوکارہ صائمہ اختر پوتی ہیں جو ان کی گائیکی کا انداز زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
    ان کا کوئی بیٹا گلوکاری کی طرف نہیں آیا لیکن کچھ گلوکار خود کو ان کا بیٹا بتا کر روزی کما رہے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    پاکستان کو اس وقت اہم معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں خستہ حال معیشت، غیر ملکی ذخائر کی کمی، اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران شامل ہیں۔ تاہم، ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ بارٹر تجارتی معاہدے کرنے کا حالیہ فیصلہ ذہانت کا ایک نمونہ ہے اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غیررسمی حکمت عملی واقعی قابل ذکر ہے۔
    بارٹر ٹریڈ پاکستان کو غیر ملکی ذخائر کی ضرورت کے بغیر مختلف مصنوعات کا تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس سے غیر ملکی کرنسی کے کم ہوتے ذخائر پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ تبادلے کے لیے دستیاب مصنوعات میں قدرتی گیس، پیٹرولیم، پھل، گری دار میوہ، چاول، دودھ، سبزیاں، مٹھائیاں، کھیلوں کے سامان، بجلی کی اشیاء، ٹیکسٹائل، دواسازی اور چمڑا شامل ہیں۔

    بارٹر ٹریڈ میں دواسازی کی اشیاء کی شمولیت سے مقامی شعبے دوائیں بنانے کے لیے بااختیار ہو جائیں گے، خاص طور پر زندگی بچانے والی، اور دیگر عام دوائیں جن کی سپلائی یا تو کم ہے یا اجزاء کی کمی کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔ سرکاری اور نجی ملکیت والے دونوں ادارے کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد بارٹر پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کے پاس خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ماہ سے بھی کم مالیت کا زرمبادلہ موجود ہے۔

    ایران اور افغانستان سے اسمگلنگ ہماری معیشت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اگرچہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، مگر بارٹر ٹریڈ سے اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں کمی آنی چاہیے اور غیر ملکی ذخائر کو بچانے میں بھی مدد ہونی چاہیے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین اقتصادیات، اور وزارت تجارت کے اعلیٰ عہدیداروں کی ایک ٹیم کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعے کے مطابق، ملک میں سمگل کی جانے والی اعلیٰ اشیاء سالانہ (25 نومبر 2020) 3.3 بلین ڈالر کماتی ہیں۔ ان سمگل شدہ مصنوعات میں سیل فون، ٹائر، انجن آئل اور کھانے کی اشیاء شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، سگریٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے، جو پہلے 200 روپے کے مقابلہ میں اب 500 روپے فی پیکٹ فروخت ہوتے ہیں، افغان سگریٹ کو پاکستان میں ایک منافع بخش مارکیٹ ملی ہے، جو اچھی کوالٹی کا سگریٹ 130 روپے فی پیکٹ سے بھی کم میں مل جاتا ہے

    لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو صرف 11 اشیا کی سمگلنگ (12 جنوری 2023) کی وجہ سے سالانہ 2.63 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

    بارٹر ٹریڈ کے علاوہ، ہمیں دیگر اہم مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ میری تین تجاویز ہیں:

    سب سے پہلے ہمیں سازگار حالات بنا کر آئی ٹی جیسی صنعتوں پر پانچ سال کے لیے ٹیکس ختم کردینا چاہیے۔ ہم ان کی ترقی اور توسیع کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ اس سے ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور صارفین کی قوت خرید میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    دوسرا، ہمیں گرے اکانومی سے پیسے کی خاطر خواہ آمد کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں، جو کہ غیر سرکاری ذرائع سے چلتی ہے۔ یہ دس سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دے کر اور بعد کے سالوں میں ٹیکس چھوٹ دے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، ہمارے ماہرین اقتصادیات کو 21ویں صدی کے حقائق کو قبول کرنے اور کریپٹو کرنسی کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے قانونی شکل دینا اور منظم کرنا ضروری ہے۔ ہمیں باصلاحیت نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں جو اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تاکہ ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل ہو سکے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان 21ویں صدی میں قدم رکھے اور ایسی اختراعی حکمت عملی کو اپنائے جو معاشی مشکلات پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے۔

  • حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    ایک اکانومی عمرہ فقط 3 سے 4 لاکھ روپے میں ہو جاتا ہے۔ جبکہ حج کیلئے اس سے کم از کم 5 گنا زیادہ (ابتدائی) بجٹ درکار ہوتا ہے۔ حج میں عمرہ کی نسبت چند اضافی عبادات شامل ہوتی ہیں، جن میں منیٰ، عرفات (وقوف عرفہ) اور قربانی شامل ہیں۔ مزدلفہ کا قیام، رمی بھی عمرہ سے اضافی عبادات ہیں جو حج کا حصہ ہیں۔ مسجد الحرام سے فرض کی تکمیل کے بعد مذکورہ اسفار و قیام بھی حج کے دیگر اراکین میں شامل ہیں۔

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان ”اضافی“ عوامل کی مد میں حاجیوں کو لاکھوں روپے اضافی دینا پڑتے ہیں۔ مذکورہ ارکان کے بغیر ہونے والا عمل یعنی، عمرہ، جس میں رہائش، ائیرپورٹ سے آنے اور واپس جانے کا سفر، مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے واپس مکہ کا سفر وی آئی پی پیکج کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ سے اوپر نہیں جاتا۔ اگر آپ نارمل (اکانومی) عمرہ پیکج کا انتخاب کریں گے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ ساڑھے 3 لاکھ سے 4 لاکھ تک ہوگا، اس سے زیادہ نہیں۔

    اگر حج کو دیکھا جائے تو اضافی عوامل کے ساتھ یہ بھی اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہئے جتنا اسے کر دیا گیا ہے۔ شارٹ اور لانگ حج پیکجز کے ٹکٹ سے لے کر منیٰ، عرفات، مزدلفہ، مدینہ کے اسفار، رہائشی اخراجات اور دیگر سہولیات کا اصل ریٹس پر بریک اپ بنائیں تو یہ رقم زیادہ سے زیادہ بھی 9 لاکھ روپے سے اوپر نہیں جائے گی۔ وی آئی پی حج بھی ہو، تو زیادہ سے زیادہ 11لاکھ روپے تک بآسانی ہو جانا چاہئے۔ موجودہ حج ریٹس مکمل پیکج کے ساتھ 14 لاکھ سے شروع ہو کر 30 لاکھ تک جا رہے ہیں۔ گو، کہ عالمی مہنگائی کے باعث رہائش، مکاتب و مشائر اور دیگر کے اخراجات بڑھے ہیں۔ لیکن مختلف مدات میں ٹیکسز کے اضافے نے حج کی خواہش رکھنے والوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کی نسبت فی حاجی 1 لاکھ روپے خرچہ بڑھا ہے۔ رہائشی اخراجات میں 80 فیصد، طعام میں 100 فیصد، ہوائی سفر کے کرایہ جات کی مد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی ڈبل ہوئے ہیں جبکہ ویزہ فیس اور دیگر سہولیات کا خرچ بھی بڑھا ہے۔ یوں حج عام آدمی کی پہنچ سے مسلسل دور ہو رہا ہے۔

    حج کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ کے تناظر میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ ایک طرف، لیکن سعودی عرب میں ٹیکسوں میں اضافہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ 2021 ء میں کورونا کی وجہ سے جب حج کو صرف سعودی باشندوں کیلئے محدود کر دیا گیا تھا، تب بھی عمومی حج حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی حساب سے تقریباً 9 لاکھ روپے کا تھا۔ جبکہ اس سے محض ایک سال قبل تک یعنی 2020ء میں حج کی پاکستانی قیمت 5 سے 6 لاکھ روپے تھی۔ بعد ازاں 2 سالوں میں اب یہ کم از کم 15 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ گو، کہ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت پاکستان ہر سال حجاج کی سہولت کیلئے زر مبادلہ کا انتظام کرتی ہے۔ حاجیوں کو پیکج میں اچھی خاصی سبسڈی بھی دیتی آئی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدات کی وجہ سے بھی کافی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ حجاج کو محدود بجٹ میں حج کا موقع دیا جائے۔ لیکن پاکستانی حکومت بھی آخر کتنی کوشش کر سکتی ہے، جب تک دوسرے ملک کی حکومت زائرین کیلئے ٹیکس فری انتظامات کے سلسلے میں تعاون نہ کرے۔
    یہ کس قدر بدقسمتی ہے کہ پاکستان کو اس مرتبہ حج کا کوٹہ واپس کرنا پڑا؟۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مقامی ہوٹلز کو کنٹرول کرنے کیلئے وہاں کی حکومت کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکتی؟ …… ہوٹلز کو سارا سال کمانے کا موقع ملتا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کیلئے پوری دنیا سے لاکھوں لوگ 24/7 بلا کسی تعطل کے اور مسلسل جا رہے ہیں۔ اکثر ایسا وقت بھی آتا ہے جب ہوٹلوں میں عمرہ زائرین کیلئے رہائشی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ وہاں کے کاروباری معاملات بھی ہر وقت رننگ میں رہتے ہیں۔ یعنی وہاں کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اچھا خاصہ کما بھی رہے ہیں اور منافع بھی لے رہے ہیں۔ اگر ان مخصوص دنوں (حج کے ایام) میں انتظامی اور دیگر متفرق اخراجات حکومتی سطح پر کم بھی کر دئیے جائیں تو اس قدر منافع ہو جاتا ہے کہ اہلیان سعودیہ کئی سال آرام سے بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔ لہذا اگر حج کیلئے بھی عمرہ کے دنوں والے ریٹ قائم رکھے جائیں، تو رہائش گاہوں کے ”مالی استحکام“ میں فرق نہیں آئے گا، نہ ہی کاروباری سرگرمیوں میں کمی یا عدم استحکام پیدا ہو گا …… لیکن نجانے کیوں حج اور عمرہ کو سیاحت سے منسوب کرتے ہوئے اسے منافع بخش کاروبار کے طور پر لیا جانے لگا ہے۔ دنیا میں کوئی ایک ملک، کوئی ایک مقام، کوئی ایک سفر تو ایسا ہونا چاہئے جو غیر منافع بخش اور ٹیکس فری ہو، بالخصوص اس مقدس اور مبارک سفر کو تو آسان اور قابل رسائی ہونا چاہئے۔ متعلقہ ملک کے ارباب اختیار کو اس پر سوچنا اور مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔

    noorulhuda
    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز (محمد نورالہدیٰ)
  • اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    پہلے اک عرض تمنا پہ بچھے جاتے تھے
    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    عشرت معین سیما

    6 جون : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام عشرت ظہیر ہے قلمی نام عشرت معین سیماہے۔ والد کا نام معین الدین اور والدہ کا نام زبیدہ معین ہے۔ ان کے والدین نے ہندوستان کے صوبے بہار سے کراچی ہجرت کی تھی۔ وہ 6 جون 1968 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے جامعہ کراچی سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر جرمنی میں برلن یونیورسٹی سے دوسرا ماسٹر انڈولجی اور ابلاغیات میں کیا اور دو ہزار چودہ میں پی ایچ ڈی لسانیات/ ابلاغیات میں کیا۔ پہلے فری یونیورسٹی میں بطور اردو ہندی لیکچرار رہیں بعد ازاں جرمنی کے وزارت داخلہ میں مترجم اور ماہر لسانیات کے طور پر کام کر رہی ہیں ۔

    اب تک ان کی 9 اردو میں مختلف اصناف پر کتابیں آچکی ہیں۔ جن میں تین شعری مجموعے
    ۱-جنگل میں قندیل
    ۲- آئینہ مشکل میں ہے
    ۳۔ با اہتمامِ جنوں
    دو افسانوں کے مجموعے
    ۴- گرداب اور کنارے
    ۵- دیوار ہجر کے سائے
    ایک تحقیقی مضامین
    ۶-جرمنی میں اردو
    ایک سفر نامہ
    ۷-اٹلی کی جانب گامزن
    ۸- اداریہ نویسی اور پاکبان کے اداریے
    ۹- دیس دیس کے ملا جی ( ملا نصرالدین کی کہانیاں) تصوف اور مزاح کے تناظر میں

    اس کے علاوہ ایک سفر نامہ “اردو کی محبت میں” ہندوستان اور پاکستان کے اخبار میں ہفتہ وار شائع ہوا ہے۔ وہ بچوں کے ادب پر بھی کام کر رہی ہیں
    ۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی بین القوامی انعامات و اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ جن میں بزم صدف نئی نسل ایوارڈ دو ہزار سترہ اور سینٹر آف ماڈرن اورینٹ برسلز کا اردو تدریس و صحافت کے حوالے سے ایوارڈ قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ترکی پاکستان ہندوستان برطانیہ اور یورپ کی کئی جامعات اور ادبی و علمی تنظیموں نے فروغ اردو زبان و ادب کے حوالے سے متعدد سند و شیلڈ سے نوازا ہے۔
    جرمن ادب و ادیب کے تعارف اور فن کلام کےاردو ترجمے سے متعلق بھی ایک کتاب جلد منظر عام پہ آنے والی ہے۔
    برلن میں پہلا ادبی جریدہ “ نئی کاوش “ جاری کیا اور پہلا ادبی ریڈیو “ آواز ادب گذشتہ دنوں شروع کیا جو نہایت کامیابی سے چل رہا ہے جس کے تحت پہلی یورپیئن اردو رائٹرز کانفرنس منعقد کروائی ۔
    عشرت معین سیما کو کئی بین القوامی جامعات اور تنظیموں و اداروں سے اعزازات اردو کی ترویج کے حوالے سے مل چکے ہیں۔

    اشعار

    کسی نے ہاتھ ملایا تھا سیما چاہت سے
    ہتھیلیوں میں ہماری ساد رہی خوشبو

    پہلے اک عرض تمنا پہ بچھے جاتے تھے
    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    قفس میں بیٹھ کے کرتی ہوں سیما ذکر چمن
    خزاں میں گوشہ محو بہار ہوں کب سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • ساغرؔ خیامی

    ساغرؔ خیامی

    ساغرؔ خیامی

    7 جون 1936: یوم پیدائش

    اصل نام :رشیدالحسن
    تخلص : ساغرؔ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساغرؔ خیامی کا شمار طنزومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی پیدائش ۷ جون ۱۹۴۶ کو لکھنؤ کے ایک علمی اور تہذٰبی گھرانے میں ہوئی ۔ پرانے لکھنؤ کا یہ گھرانہ اپنی تہذیبی پاسداریوں اور اپنی ادبی اور عملی سرگرمیوں کے لئے معروف تھا ۔ ساغر خیامی کے دادا ان کے والد اور ان کے بھائی سب شاعری کرتے تھے ۔ ساغر نے ابتدا میں غزل کی روایتی قسم کی شاعری کی لیکن اپنے بھائی ناظر خیامی (جو طنز ومزاح کے ایک اچھے شاعر تھے) کے اثر سے طنز ومزاح کی شاعری کی طرف آگئے ۔
    ساغر کی ابتدائی تعلیم عربی و فارسی سے ہوئی اس کے بعد انہوں نے انگریزی کی تعلیم حاصل کی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے سے وابستہ ہوگئے ۔

    ساغر کے شعری مجموعے ’انڈر کریز‘ اور ’پس روشنی‘ ’ قہقہوں کی بارات ‘ ’ کچھ وہاں کیلئے‘ بہت مقبول ہوئے ۔ ساغر کی نظموں میں طنز ومزاح دنوں ایک ساتھ گھل مل گئے ہیں ان کی نظموں میں ایسی صورتحال بنتی ہے کہ پڑھنے اور سننے والا ہنستے ہنستے اداس ہونے لگتا ہے اور اپنے آس کی بظاہر سہی سالم نظر آنے والی دنیا کو ایک بہت بدلی ہوئی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے ۔ ساغر ہمارے اس مہذب معاشرے کی منافقتوں کو بہت چالاکی سے طنز کا نشانہ بناتے ہیں ۔ غالب کو مرکز میں رکھ کر کہی گئیں ساغر کی نظمیں بہت مقبول ہوئیں ۔’ غالب اپارٹمینٹ ‘ ’ غالب دلی میں ‘ آج بھی بہت دلچسپی سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں ۔ ساغر مشاعروں میں بھی اپی ہی ایک لے میں کلام پڑھتے تھے ۔ ۱۹ جون ۲۰۰۸ کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا
    …..

    ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے
    جیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آ گئے

    جب بھی کہیں سے پیار ملا یا خوشی ملی
    دنیا کے درد و رنج الم یاد آ گئے

    دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاں
    کتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے

    لکھا تھا تم نے خط میں کہ تم نے بھلا دیا
    کیا حادثہ ہوا ہے کہ ہم یاد آ گئے

    پردیس میں جو آئی نظر نرگسی نگاہ
    اک با وفا کے دیدۂ نم یاد آ گئے

    مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے
    دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے

    سلجھائیں جب بھی زیست کی ساغرؔ نے گتھیاں
    ناگاہ تیری زلف کے خم یاد آ گئے