Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہوئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ماچس لکھنوی

    اصلی نام:مرزا محمد اقبال
    سن ولادت:1918ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تاریخ وفات:26 اگست 1970ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تصنیفات:انتخابِ کلام ماچس لکھنوی-2004ء
    (مرتبہ:رئیس آغا)

    ماچسؔ لکھنوی نامور مزاحیہ شاعر حضرت ماچس لکھنوی کا اسم گرامی مرزا محمد اقبال تھا۔ ماچسؔ لکھنوی کے نام سے مشہور ہیں۔ 1918 میں اپنے آبائی مکان متصل کاظمین لکھنؤ گیٹ میں پیدا ہوئے اور 26 اگست 1970 کو مختصر علالت کے بعد بعارضۂ کینسر وفات پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تذکرۂ معاصرین جلد اول مصنف مالک رام کے مطابق سنولادت 1911ء ہے۔

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے
    پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے
    جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند
    میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے
    کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالبؔ کے کماؤ
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    چارہ گر کہتے ہیں بس موت کی باقی ہے کسر
    اور ہر طرح سے بیمار کا حال اچھا ہے
    نہیں معلوم اگر سانپ کا منتر تو نہ پھنس
    ہاتھ اس سانپ کی بانبی میں نہ ڈال اچھا ہے
    جو بھی ہارے گا وہی گالیاں دے گا اس کو
    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    ڈھونڈئیے خیر سے جا کر کوئی موٹی سسرال
    ہاتھ جو مفت میں آئے تو وہ مال اچھا ہے
    بین ہی بین گزرتے رہو اس وادی سے
    نہ حرام اچھا ہے بالکل نہ حلال اچھا ہے
    ایک ہم تھے جو سیاست میں کما پائے نہ کچھ
    ورنہ ماضی کے فقیروں کا بھی حال اچھا ہے
    جتنے ہیں دہر میں ہاتھوں کی صفائی کے کمال
    سب سے اے دوست گرہ کٹ کا کمال اچھا ہے
    جس کی بچپن ہی میں شادی ہو وہ کیا جانے غریب
    عشق میں ہجر ہے بہتر کہ وصال اچھا ہے
    اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچسؔ لیکن
    آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد
    جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
    کچھ ہوتا رہے گا یوں ہی ہر سال ندارد
    تبت کبھی غائب کبھی نیپال ندارد
    رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد
    اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد
    تحقیق کیا ان کا جو شجرہ تو یہ پایا
    کچھ یوں ہی سی ننھیال ہے ددھیال ندارد
    ہے اس بت کافر کا شباب اپنا بڑھاپا
    ماضی ہے ادھر گول ادھر حال ندارد
    تعداد میں ہیں عورتیں مردوں سے زیادہ
    قوالیاں موجود ہیں قوال ندارد
    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہو گئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے
    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    دعوت کی تری بزم میں کیوں دھوم مچی ہے
    کیا بات ہے کیا کوئی نئی جیب کٹی ہے
    واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا
    ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھوٹ رہی ہے
    کیا ہے جو نہیں یہ اثر ربط محبت
    روئے تو ہیں وہ اور مری آواز پڑی ہے
    سائے کی تمنا میں جہاں بیٹھ گیا ہوں
    چندیا پہ وہیں تاک کے دیوار گری ہے
    چھوٹے نہیں چھٹتی ہے ترے وصل کی حسرت
    یہ جونک مرے دل کا لہو چوس رہی ہے
    وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی
    یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے
    پھر کیا ہے جو ماچسؔ نہیں یہ سوز محبت
    اک برق سی رگ رگ میں مرے کوند رہی ہے

  • نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک  یادگار نشست کا احوال

    نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک یادگار نشست کا احوال

    آغا نیاز مگسی

    ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی منفرد شخصیت کے مالک ، بلوچستان کے سابق گورنر ، سابق وزیر اعلیٰ سابق وفاقی وزیر اور بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب محمد اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 میں بارکھان بلوچستان میں اپنے ننھیال کھیتران قبیلہ کے گھر میں پیدا ہوئے اور26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں ایک سانحے کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی یہ پراسرار موت بھی بہت سی دیگر نامور شخصیات کی طرح آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ مجھے ان کی نمازہ جنازہ کا منظر دیکھنے اور رپورٹنگ کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے جس میں اندرون بلوچستان سے شریک ہونے والا میں واحد صحافی تھا بلکہ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں ان کا صحیح موقف پیش کرنے کا اعتماد حاصل کرنے کے باعث تقریباً 9 سال تک ٹیلی فون پر ان کی خبریں میں پیش کرتا رہا ۔ یہی وجہ تھی کہ کوئٹہ کے بہت سے نامور صحافی کسی موضوع یا کسی اہم مسئلے پر ان کا موقف جاننے کیلئے مجھ سے رابطہ کر کے نواب صاحب کا موقف معلوم کرتے تھے اور اسی تعلق اور اعتماد کے تناظر میں 2005 میں نصیر آباد اور جعفر آباد کے سینیئر صحافی دوستوں عبدالستار ترین ، دھنی بخش مگسی ، شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری نے مجھے حکم دیا کہ میں نواب صاحب سے رابطہ کر کے ان سے ملاقات کیلئے وقت لے لوں ۔ میں نے نواب صاحب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جنہوں نے از راہ شفقت فرمایا کہ آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنے صحافی دوستوں کو میرے پاس لے آئیں ۔ میں نے دوستوں سے رابطہ کر کے نواب صاحب کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے ڈیرہ الله یار کے اپنے قبیلے کے ایک بااعتماد نوجوان دریحان بگٹی کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دیں ۔ ہم لوگ 12 دسمبر 2005 کو ڈیرہ الله یار سے ڈیرہ بگٹی کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے عبدالستار ترین کو زبردستی دو پہر کو کھانا کھلانے کیلئے روکا جس کی وجہ سے ہمیں کافی تاخیر ہو گئی۔ جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو ایک دو جگہ پر ہم کسی ضرورت کے تحت گاڑی سے نیچے اترے تو لوگ ہمیں کہتے کہ آپ نواب صاحب کے مہمان ہیں ؟ ہم نے حیرت سے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولے کہ نواب صاحب بہت دیر تک اپنی ” کچہری ” یعنی محفل میں آپ لوگوں کا انتظار کرتے رہے ۔ ہم پہلے نواب صاحب کے مہمان خانے گئے جہاں ہمارے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہمیں ان کی خلوت گاہ پہنچا دیا گیا ۔

    ہم جیسے ہی ان کی آرام گاہ میں داخل ہوئے انہوں نے از راہ مذاق کہا کہ میں تو اس انتظار میں تھا کہ بی بی سی ریڈیو سے کب خبر چلتی ہے کہ نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کیلئے ڈیرہ بگٹی جانے والے نصیر آباد اور جعفر آباد کے صحافی اغوا کر لیے گئے ہیں ۔ ان سے ملاقات میں ، میں نے اپنے صحافی دوستوں کا ان کے شہر اور صحافتی ادارے کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے تعارف کرایا جس کے بعد انہوں نے بلوچی رسم کے مطابق ہم سے بلوچی ” حال” لینا چاہا چناں چہ میں نے انہیں ” حال ” دیا اور ان سے ” حال” لیا جس کے بعد ان سے باقاعدہ انٹرویو / گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ۔ میرے دوستوں نے ان سے حالات حاضرہ کے مطابق سیاسی سوالات کئے جبکہ میں نے ان سے ذاتی نوعیت کے غیر سیاسی سوالات کئے جن میں ان کے رومان، مذہبی و فکری رجحان ، پسندیدہ شخصیات ، سیر وسیاحت اور خود کو ڈیرہ بگٹی تک محدود رکھنے کے متعلق سوالات شامل تھے جن کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں عشق بھی کیا، دنیا کے کئی ممالک کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر مرکوز ہیں اس لئے میں ڈیرہ بگٹی سے باہر نہیں نکلتا جبکہ 18 سال سے گوشت نہ کھانے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ مذہبی لحاظ سے بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہیں اس لئے ان کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے گوشت کھانا ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ شخصیات میں رابندر ناتھ ٹیگور اور ہٹلر کا نام لیا۔ دسمبر کی یخ بستہ رات میں ان کے ساتھ ہونے والی ہماری نشست رات 9 بجے سے صبح 3 بجے تک یعنی 6 گھنٹوں پر محیط تھی ۔ اس گفتگو کے دوران ایک بار ہمارے ایک دوست نے ان سے یہ سوال کیا کہ نواب صاحب آپ کبھی حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودیہ بھی گئے یا نہیں تو اس کے جواب میں خلاف توقع نواب صاحب نے ہمارے صحافی دوست سے تلخ لہجے میں سوال کیا کہ ابھی جو مگسی صاحب (میری جانب اشارہ) نے میرے بیرونی ممالک کے دوروں کی فہرست میں جن ممالک کے نام لکھے ہیں تو کیا ان میں سعودی عرب کا نام شامل ہے ؟ اس غیر متوقع سوال اور جواب سے محفل کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا لیکن تقریباً نصف گھنٹے سکوت اور خاموشی کے بعد پھر سے محفل خوشگوار ہو گئی۔ اس طویل اور یادگار نشست کا اختام خود نواب اکبر خان بگٹی نے یہ کہہ کر ، کر دیا کہ اب آپ لوگوں پر نیند کا غلبہ طاری ہو رہا ہے اس لئے جا کر آرام کریں اس طرح ان کے ساتھ ہونے والی یادگار نشست اختتام پذیر ہو گئی جس کی یادیں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔

    نوٹ : 2018 سے میں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں صحافت کے شعبے سے قطع تعلق کر لیا ہے جس کے بعد میرا کسی بھی صحافتی ادارے سے تعلق نہیں ہے ۔ (آغا نیاز مگسی )

  • اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
    ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

    احمد فراز

    یوم پیدائش : 12 جنوری 1931
    یوم وفات : 25 اگست 2008
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رومان کی علامت اور مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والے سید احمد شاہ علی المعروف احمد فراز 12 جنوری 1931ء میں کوہاٹ خیبر پختونخواہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ہندکو ، سید خاندان سے تھا۔ ان کی مادری زبان ہندکو اور پشتو تھی مگر انہوں نے اردو کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ وہ شاعر ابن شاعر تھے۔ شاعری انہیں اپنے والد سے وراثت میں ملی اُن کے والد سید محمد شاہ برق فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ وہ پہلے احمد شاہ کوہاٹی کے نام سے مشہور تھے مگر فیض احمد فیض کے مشورے سے انہوں نے اپنا نام احمد فراز رکھ دیا۔ طالبعلمی کے دوران ہی ان کا پہلا شعری مجموعہ ” تنہا تنہا” شائع ہوا۔ وہ اس دوران ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک تھے مگر تعلیم کی تکمیل کے بعد محکمہ تعلیم میں لیکچرر تعینات ہو گئے ۔ 1976 میں احمد فراز کو ” اکادمی ادبیات پاکستان ” کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا لیکن 1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کی مخالفت کی بناء پر انہیں کچھ عرصہ جلاوطن ہونا پڑا۔ حالات سازگار ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ” لوک ورثہ” اور ” نیشنل بک فائونڈیشن” کے سربراہ مقرر ہوئے ۔

    احمد فراز بیک وقت رومان کی علامتوں سے لے کر، مزاحمت کے استعاروں تک، ہجر کے مراحل سے وطن پرستی کی فکری اساس تک کی معنویت کے شاعر تھے، اُنہیں حروف اور موضوعات کی کوئی قلت نہ تھی، وہ اپنی شعری روایت اور تاثیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
    فراز کی شاعری میں سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن ، ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّوع کی آلائشوں سے پاک جذبات کا اظہار ملتا ہے۔

    فراز کا یہی وہ شاعرانہ امتیاز ہے جس کی بدولت وہ نہ صر ف اس دور میں بلکہ آنے والے تمام ادوار میں بھی یا د کیے جائیں گے اور ان کا نام تاریخ کے باب میں ہمیشہ جلی اور روشن رہے گا۔ فراز کے ایک درجن سے زائد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، تنہا تہنا، جاناں جاناں اور فرقت شب و دیگر شامل ہیں ۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    میرا قلم عدالت میرے ضمیر کی ہے

    اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
    جبھی تو لوچ کماں کا زباں تیر کی ہے

    دور ہے تو، تو تری آج پرستش کر لیں
    ہم جسے چھو نہ سکیں، اس کو خدا کہتے ہیں

    کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
    کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

    سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
    ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے

    اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
    یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

    گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
    مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
    پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
    اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
    جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے

  • موسیقار  کلیان جی؛ سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    موسیقار کلیان جی؛ سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    تیری راہوں میں کھڑے ہیں دل تھام کے

    سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    برصغیر کے ممتاز موسیقار کلیان جی 30 جون 1928 میں گجرات ہندوستان میں پیدا ہوئے کلیان جی اور آنند جی یہ دونوں بھائی تھے اور دونوں موسیقار تھے یہ ایک ہندو تاجر ویر شاہ کے بیٹے تھے ۔ ہندوستان کی فلمی صنعت میں ان موسیقار بھائیوں کی جوڑی کلیان جی آنند جی کے نام سے مشہور ہے ۔

    انہوں نے بہت خوب صورت موسیقی دی ہے یہی وجہ ہے کہ محمد رفیع ، لتا منگیشکر ، مکیش ، کشور کمار و دیگر گلوکاروں نے ان کی موسیقی میں گانا بہت پسند کیا ہے رفیع صاحب سے ان بھائیوں کو بہت پیار تھا رفیع کی وفات کے بعد یہ لوگ ان کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے ۔

    محمد رفیع نے 188 گیت کلیان جی آنند کی موسیقی میں گائے ہیں ۔ گلوکارہ الکا یاگنک ، ادت نارائن ، ، سیندھی چوہان اور شریا گوشال کو متعارف کرانے والے یہی موسیقار جوڑی تھی انہوں نے مجموعی طور پر 250 سے زائد فلمی گیت ان کی موسیقی میں گائے گئے ہیں ۔ 24 اگست 2000 کو ممبئی میں کلیان جی کا انتقال ہوا۔ ان کے 5 بیٹے وجو شاہ، رمیش شاہ، راجیش شاہ، دنیش شاہ اور چندر کانت شاہ ہیں وجو شاہ بھی میوزک ڈائریکٹر ہیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    ہمبنٹوٹا،پاکستان نے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ اپنے نام کر دی
    کلیان جی آنند جی کی موسیقی میں گائے گئے چند مشہو گیت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تیری راہوں میں کھڑے ہیں دل تھام کے

    پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

    سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی

    تیرا ساتھ ہے کتنا پیارا کم لگتا ہے جیون سارا

    مجھ کو اس رات کی تنہائی میں آواز نہ دو

    زباں پہ درد بھری داستاں چلی آئی

    یونہی تم مجھ سے پیار کرتی ہو

    زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر

    میں پیاسا تم ساون میں دل تم میری دھڑکن

  • بلندی سے جانیں بچانے کا ڈرامائی ریسکیو آپریشن

    بلندی سے جانیں بچانے کا ڈرامائی ریسکیو آپریشن

    سولہ گھنٹے کا طویل ترین ریسکیو آپریشن، ہر لمحے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھی، پتہ نہیں کیا ہو گا؟ تا ہم چھ بچوں سمیت آٹھ افراد کو کامیابی کے ساتھ بچا لیا گیا، یہ آٹھ افراد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے بٹگرام کے پہاڑی علاقے میں ایک کھائی کے تقریبا 900 فٹ اوپر چیئر لفٹ، ڈولی میں پھنس گئے تھے

    خیبر پختونخواہ کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانے کے لئے چیئر لفٹ کا ہی سہارا لیا جاتا ہے، بٹگرام میں بھی اسی طرح کی کہانی ہے،چیئر لفٹ میں پھنسنے والے بچے روزانہ ہی سکول جانے کے لئے اسی چیئر لفٹ پر سفر کرتے تھے،کیونکہ انکے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں تھا، انفراسٹرکچر کی کمی ہے، یہ صورتحال دو اہم کوتاہیوں کو سامنے لاتی ہے، دودراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبا کو یہ سفر کرنا پڑتا ہے اور اس سفر کے لئے انہیں چیئر لفٹ کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے اگر وہ پیدل جانے کا سوچیں تو انہیں دو گھنٹے لگیں ،یہی چیئر لفٹ وہی دو گھنٹوں کو پیدل سفر چار منٹ میں طے کروا دیتی ہے

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، محبت شاہ نامی ایک مقامی رہائشی نے محدود سفری آپشنز پر زور دیا۔ ڈولی پر سواری کی لاگت 10 روپے فی مسافر یک طرفہ ہے، جبکہ اسی مقام پرپہنچنے کے لیے ٹیکسی کا کرایہ تقریبا 2000 ہو جاتا ہے،ڈولی سسٹم کے لیے پہل مقامی باشندوں نے کی، جنہوں نے شہر کے معاملات کی نگرانی کرنے والے متعلقہ حکام سے اجازت طلب کی۔ ڈولی جانگری اور بٹنگی گاؤں کے درمیان سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے، جہاں اسکول واقع ہے۔ ڈولی یا چیئر لفٹ،پک اپ ٹرک اور موٹر سائیکلوں کے اجزا سے بنائی گئی ہے،

    مقامی شہریوں کو چیئر لفٹ ، ڈولی کی اجازت سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کو یکساں ضروری خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہے وہیں، ایسی سہولیات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کس پر بنتی ہے؟ اگر کوئی ذمہ دار ادارہ ہوتا تو ڈولی کے کمزور پوائنٹس کی نشاندہی ہوتی اور اس واقعہ کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا تھا

    خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت اس واقعہ کی جوابدہ ہے، کے پی کے کئی علاقوں میں تعلیمی اداروں کا نہ ہونا یہ بھی وضاحت طلب ہے، تحریک انصاف کی گزشتہ برسوں کے پی میں حکومت رہی، کے پی کے اکثر علاقوں میں نقل و حمل کے لیے چیئر لفٹ کا استعمال کیا جاتا ہے اور شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ ڈولی لگائی ہوتی ہیں،ان علاقوں میں نقل و حمل کے لئے متبادل سرمایہ کاری کی کمی خدشات کو جنم دیتی ہے،باقاعدہ دیکھ بھال اور مرمت ، اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے،کیا خیبر پختونخواہ کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو ان مسائل کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے؟

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    صوبہ بھر کی چئیر لفٹس کے معائنہ کی ہدایت

    آرمی ریسکیو ہیلی کاپٹر کے لفٹ کے قریب پہنچتے ہی ڈولی نے ہلنا شروع کر دیا 

  • جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے شکوہ
    وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے
    اقربا میرے کریں قاتل کا دعویٰ کس پر

    قومی انتخابات کو لے کر پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پیپلزپارٹی روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیتی ہیں کہ الیکشن وقت پر اور آئین کے مطابق کروائے جائیں ان کے بیانات سن کر اور پڑھ کر جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے اس کی بنیادی وجہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے جاتے جاتے مشترکہ مفادا ت کونسل کے ذریعے مردم شماری کا شوشہ چھوڑ کر بروقت الیکشن کے انعقاد کو ٹالنے کی ایسی راہ ہموار کر دی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن ضابطہ کی روشنی میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پابند ہے۔

    ویسے بھی پنجاب میں نگران حکومت اور کے پی کے میں نگران حکومت آئین کی حدوں کو کراس کر چکی ہیں دونوں صوبوں میں مقررہ وقت پر الیکشن نہیں کروائے گئے اس طرح الیکشن مقررہ وقت کے بیانات پچیس کروڑ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس کے ذمہ دار خود سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں۔ ملک میں پہلے ہی جمہوریت غیر مستحکم ہے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اس غیر مستحکم جمہوریت کو مستحکم کرنے کے بجائے مزید لاغر کردیا ہے۔ قومی انتخابات جس کو جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے پی ڈی ایم نے خود اس کی روح نکال دی ہے اور دفن کر دیا ہے۔ قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بیانات میں حقیقت نہیں صرف افسانے ہیں۔ افسانے افسانے ہی ہوتے ہیں حقیقت نہیں عوام کی اکثریت باشعور ہیں بے وقوف نہیں۔

  • غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    شاہد نور کو 24 اگست 1980ء کو سیوان (بہار) میں پیدا ہوئے ان کی والدہ کا نام آسیہ خاتون،والد کا نام مشتاق احمد ہے بی کام (آنرس) کیا اور چیرمین نور آٹوپروفائل گروپ، مینیجنگ ڈائرکٹر ایم جی کنسٹرکشن اورسٹی ڈیولپر گروپ کے نام سے کاروبار شروع کیا تصانیف:میٹھا نیم-2012ء (شعری مجموعہ)

    ایواردڈ و اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)توفیق فاروقی ایوارڈ
    ۔ منجانب ادارہ خاتونِ مشرق، دہلی
    ۔ (2)کامنا کلا سنگم ایوارڈ

    غزل
    ۔۔۔۔
    مجھے آنکھوں نے جل تھل کردیا ہے
    مری مٹی کو دلدل کردیا ہے
    مرے خوابوں کو آنکھوں میں سجاکر
    کسی لڑکی نے کاجل کردیا ہے
    میں اپنی ذات میں اک گلستاں تھا
    تری فرقت نے جنگل کردیا ہے
    کئی دریائوں نے آپس میں مل کر
    سمندر کو مکمل کردیا ہے
    مری بچی کی ننھی سے ہنسی نے
    مرے آنسو کو صندل کردیا ہے
    وہ جب گمنام تھا اچھا بھلا تھا
    اُسے شہرت نے پاگل کردیا ہے
    فرائض کے تقاضوں نے ہی شاہد
    مرے چھالوں کو مخمل کردیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    لہولہان جب اک شیر جھاڑ سے نکلا
    ہرن کا درد بھی اُس کی دہاڑ سے نکلا
    سنا تھا جھیل کے اُس پار بھوت رہتے ہیں
    مگر ڈکیت کا کنبہ پہاڑ سے نکلا
    اندھیری رات میں اک اجنبی نے دستک دی
    تو چاند اوڑھ کے آنچل ، کواڑ سے نکلا
    سکھا گیا ہے زمانے کا دائو پیچ مجھے
    وہ ایک سانپ جو ہاتھوں کی آڑ سے نکلا
    مرا حسین سا بچپن وہ گائوں کا البم
    کٹورے میں رکھا چاول کے ماڑ سے نکلا
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    زمین پھٹ گئی خود اپنے کرب سے شاہد
    پھر اُس کی آہ کا شعلہ دراڑ سے نکلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو ہر بات پہ کہتا ہے ترا سب کچھ ہے
    تجھ کو معلوم نہیں ہے کہ خدا سب کچھ ہے
    اس کی آنکھوں کی یہ تعریف مکمل ہوگی
    اس کی آنکھوں میں محبت کے سوا سب کچھ ہے
    اس کے بارے میں غلط بات نہیں سن سکتا
    تم کو معلوم ہے وہ شخص مرا سب کچھ ہے
    کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی اس کی
    میرے محبوب کے چہرے پہ لکھا سب کچھ ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    ہمارے دل سے یہی اک کسک نہیں جاتی
    تم اتنا کام جو کرتی ہو تھک نہیں جاتی
    تم ہی بتاؤ کہ اب کیا بتاؤں دنیا کو
    مرے بدن سے تمھاری مہک نہیں جاتی
    میں حادثے میں کسی طور بچ گیا ہوں مگر
    مرے دماغ سے اس کی دھمک نہیں جاتی
    جسے وہ دیکھ لے وہ پھول کھلنے لگتا ہے
    جسے وہ چوم لے اس کی چمک نہیں جاتی
    عجیب آپ کی بھی قوتِ سماعت ہے
    ہماری بات کبھی آپ تک نہیں جاتی

  • رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    سول جج کے گھر میں کمسن 14 سالہ ملازمہ رضوانہ کے دلخراش کیس نے قوم کو صدمے میں ڈال دیا۔ اس تکلیف دہ واقعے نے جج کی اہلیہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کی وجہ سے عوام کی توجہ حاصل کر لی، سول جج کی اہلیہ کی شناخت مرکزی مجرم کے طور پر کی گئی ۔ رضوانہ کو دوران ملازمت ڈنڈوں سے بے تحاشا مارنے کے ساتھ ساتھ جج کی بیوی کی طرف سے لاتیں اور تھپڑ بھی مارے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر، تشدد میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا اور وہ کئی دنوں تک ایک کمرے میں بند رہتی تھی، اسے بھوکا رکھا جاتا تھا، اور کمرے سے باہر کسی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ رضوانہ نے یہاں تک انکشاف کیا کہ ملازمت کے دوران اسے اپنے والدین سے ملنے کا حق نہیں دیا گیا اور اس کے زخموں کا علاج نہیں کیا گیا۔

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے بعد تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کی گئی۔ رضوانہ کو ملازم رکھنے والے سول جج کو سوالات کے جوابات دینے کے لیے بلایا گیا، لیکن وہ جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے۔ اس حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ قانونی نظام میں موجود افراد بھی قانون کا احترام نہیں کرتے۔ ان کی اہلیہ، صومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا گیا لیکن 100,000 روپے کے ضمانتی مچلکے دینے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس نے رضوانہ پر تشدد اور ناروا سلوک کے تمام الزامات کی تردید کی، جبکہ معجزانہ طور پر رضوانہ اس خوفناک آزمائش سے بچنے میں کامیاب ہو گئی۔

    افسوسناک بات یہ ہے کہ رانی پور سے تعلق رکھنے والی 9 سالہ فاطمہ کی کہانی بھی اسی طرح کی اور ایک تاریک داستان بیان کرتی ہے، فاطمہ کو ایک امیر مقامی مذہبی رہنما کے گھر میں ایک وحشیانہ انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں اسے نہ صرف انتہائی جسمانی تشدد بلکہ جنسی زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے عصمت دری کے بھی ثبوت ملے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اسے پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی دفن کر دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اس کی لاش کو نکالا گیا۔ میڈیکل رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے جسم سے ڈی این اے ٹیسٹ اور سیرولوجی کے لیے نمونے جمع کیے گئے تھے، جن میں حویلی میں رہنے والے ممکنہ مجرموں بشمول مالک، پیر اسد شاہ کی شناخت کی گئی تھی،

    رضوانہ اور فاطمہ کے کیس اس پریشان کن حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انصاف کے نظام مستقل طور پر انصاف کے وعدے کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ مقدمات بچوں کے حقوق اور بہبود کے تحفظ کے لیے نظام عدل کے اندر جامع اصلاحات کی فوری ضرورت کی واضح یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ گھناؤنے کاموں کے ذمہ داروں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بعض بیرونی ممالک بالخصوص بھارت بلوچستان کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا دہشت گردوں کو باقاعدہ وسائل فراہم کرتا رہا۔وسائل سے مالا مال یہ خط پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ اس صوبے کو نظر بد سے بچانے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 1997 میں اپنی جماعت کی مدد سے اختر مینگل کو مخلوط حکومت کا وزیراعلیٰ بنایا ۔ 2013 میں ڈاکٹر عبدالمالک کو بھی(ن) لیگ کی حمایت رہی۔ اختر مینگل کا تعلق اور ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق دو مختلف جماعتوں سے تھا دونوں سیاسی پارٹیوں کی مدد سے بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے کے قریب لایا گیا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی پرچم لہرانے لگا۔آج ایک بار پھر نگران حکومت کی تشکیل میں پاکستان مخالف ممالک اور بالخصوص بھارت کو جواب دیا گیاہے۔ جو بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرتا رہا۔

    ملکی سلامتی کے پیش نظر فیصلوں کی حمایت ہی نہیں بھرپور حمائت کرنا چاہیئے ۔ سالوں کے بعد یعنی 75 سال کے بعد بحیثیت قوم ایک نہ ختم ہونے والی ہیجانی کیفیت سے گزر رہے ہیں ہم حقائق جانے بغیر اپنی رائے قائم کردیتے ہیں ہم اندر ونی خلفشار کا شکار ہیں ۔یہ اندرونی خلفشار نظام کو لپیٹنے کا آغاز ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے طے شدہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا ۔ اس ملکی سلامتی اور عام آدمی کے مفادات کے لیے اپنے مفادات کو پس پشت ڈالنا ہو گا ۔ معاشی بحران بھی ایسا نہیں جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ اس وقت ملک کے حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جائیں ۔ پاکستان کو باکردار لوگوں کی ضرورت ہے۔

  • محمد حسين ہيكل   کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان ہیں۔ ایک اعلی پائے کے سیرت نگار؛ جن کی سب سے بہترین تالیف "حیات ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ محمد حسین ہیکل کی پیدائش 20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر میں ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909ء میں گریجویشن مکمل کی 1912ء میں فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔ صحافت میں بھی رہے۔ احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 ء میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ تعلیم رہے۔ جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1940 ء سے 1942ء تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945ء میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔
    محمد حسین ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادى الاول 1376ھ بمطابق 08 دسمبر 1956ء میں ہوئی۔
    تالیفات

    روايۃ زينب۔
    روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914.
    سير حياة شخصيات مصريۃ وغربيۃ – 1929.

    حياتِ محمد – 1933.
    فی منزل الوحى – 1939.
    مذكرات فی السياسۃ المصريہ – 1951 / 1953.
    الصديق ابو بكر۔
    الفاروق عمر – 1944 / 1945.
    عثمان بن عفان – 1968.
    ولدی۔
    يوميات باريس۔
    الامبراطوريہ الإسلاميہ والأماكن المقدسہ – 1964.
    قصص سعوديہ قصيرہ – 1967.
    فی اوقات الفراغ،
    الشرق الجديد

    محمد حسین ہیکل کا نام تاریخ میں سیرت طیبہ کے مولف کی حیثیت سے زندہ و جاوید رہے گا۔ یہ ذکرِ محمد کا اعجاز ہے۔۔ انہوں نے عربی میں شاہکار کتابیں لکھیں۔انہوں نے حیات محمدﷺ کتاب1933ء میں لکھی اور اسی نہج پر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت مبارکہ1944میں لکھی۔ حیات محمد ﷺ کا اردو ترجمہ ابویحیٰ امام خان نے کیا۔ اور اردو میں اس کتاب کو مقبولیت دوام حاصل ہوا۔

    ”حیات محمد ﷺ‘‘ کا اردو ترجمہ ہندوستان میں تاج کمپنی دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں یوں لکھا گیا۔’’ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب دنیا کی مختلف اقوام نے سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ شروع کیا تو تہذیب عالم کی اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں انہیں کافی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مسلمانوں کے ہاں سیرت نگاری کا ایک خاص اسلوب پیدا ہوا۔ جس پر کلامی انداز غالب تھا۔ عہد جدید میں سیرت مبارکہ پر جن تحریروں کو سند کا درجہ دیا جاتا ہے ان میں محمد حسین ہیکل کی ”حیات محمد ﷺ‘‘ صف اول کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔عربی زبان میں یہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ عہد جدید میں سیرت نبوی ﷺ پر حوالے کی اس بنیادی کتاب کا ترجمہ مولانا ابویحی امام خاں نوشہروی نے اس خاص اسلوب میں کیا جس کی پختگی فن ترجمہ میں انہیں ایک بلند حیثیت دیتی ہے۔ عربی اسالیب کی بلاغت پوری صحت کے ساتھ ترجمے میں منتقل کی گئی ہے۔ اور اس اعتبار سے اردو میں سیرت نبوی ﷺ کے ذخیرہ ادب میں ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔(ناشر ”حیات محمد ﷺ‘‘ دہلی)
    کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ جس عقیدت و احترام سے لکھی گئی اس کا اندازہ کتاب کے آغاز میں لکھے گئے مولف کے مقدمہ اول کے ابتدائی جملوں سے ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں:
    ’’ حضرت محمد علیہ الصلوۃ السلام یہ ہے وہ مبارک نام جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتا اور کروڑوں دلوں کو سرور و تازگی سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمارے لب اور ہمارے یہ دل اسی نام سے ساڑھے تیرہ سو برس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لبوں اور دلوں کی بہرہ مندی قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔اذان پنچگانہ میں:ادھر صبح صادق نے رات کی سیاہی پر نور چھڑکا موذن نے الصلوۃ خیر من النوم پکار کر بنی آدم کو اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں سر رکھنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود و سلامتی کے تحفے پیش کئے۔۔ آں حضرت سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں جب بھی آں حضرت کا ذکر آیا دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑا۔ آں حضرت کی ذات کے ساتھ احترام و محبت کے یہ جذبات ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ اور آئیندہ بھی اسی طرح وابستہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام دنیا کے ذرے ذرے پر غالب آجائے‘‘۔ ( ”حیات محمد ﷺ‘‘ محمد ہیکل۔ ص۔ 3 دہلی۔ پہلا ایڈیشن 1988)
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    کتاب کے مقدمے میں محمد ہیکل نے ابتدائے آدم سے زمانہ جاہلیت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا۔ اور پس منظر کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وصلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد مستشرقین کی جانب سے اسلام اور آپ ﷺ سے متعلق پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات اور ان کے ازالے کے لیے مستند کتب سیرت کی ضرورت اجاگر کی۔ اس تصنیف کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے محمد ہیکل لکھتے ہیں:
    ’’علمی زندگی طے کرنے کے بعد میں نے عملی دور میں قدم رکھا ہی تھا کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان مسائل سے متاثر دیکھا جو اسلام اور اس کے بانی کے متعلق پیدا کیے جاچکے تھے۔ کیا اسلامی ممالک اور کیا ان ملکوں کے اندر جہاں مسلمان رعایا کی حیثیت سے زیر نگیں تھے میں ان مسائل کی تحقیق میں ڈوب گیا۔ جن کی غلط بیانی اور فریب دہی کے چکر میں آکر مسلمان اور مشرق دونوں پریشان تھے۔ مغرب کے عیار اہل قلم اور اسلام کے جامد علماء کی اس کج روی سے صرف دین ہی کو خطرہ نہ تھا بلکہ یہ علمی حادثہ تمام عالم کے لیے مصائب کا پیش خیمہ تھا۔ کیوں کہ مسلمان جو صدیوں تک دنیا کے ہر خطے میں علم و تمدن کے نقیب رہے اگر انہی کے عقائد اور ان کے بانی کے اطوار و کردار میں ظلم و جہالت کی تیرگی ثابت ہوجائے تو جن قوموں نے ان کی برکت سے علم و دانش کے خزانے حاصل کیے وہ تہذیب و فنون میں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ تو میں اپنا فرض سمجھ کر ان مسائل کی تحقیق و مطالعے میں منہمک ہوگیا۔حتی کہ کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ کی تدوین پر میری توجہ مرکوز ہوگئی۔( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔ 23)

    مولف کتاب محمد ہیکل نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے دوران قرآان و احادیث کتب اور دیگر حوالوں کو جس انداز میں مطالعہ کیا اور اسے اختیار کیا اس کی تفصیلات اس مقدمے میں دی ہیں۔ مقدمہ ثانی میں انہوں نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ وحی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
    وحی کا تجزیہ موجودہ آلات سے نہیں ہوسکتا:حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نزول وحی کے زمانے میں جو مسلمان موجود تھے جب کوئی آیت قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر نازل ہوتی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا۔ اس دور کے مسلمانوں میں بعض افراد نہایت دیدہ ور اور صاحب فراست بھی تھے۔یہود و نصاری میں سے بھی کچھ ایسے علماء مسلمان ہوچکے تھے جو ایمان لانے سے قبل پیغمبر اسلام کے ساتھ مناظرہ کرتے رہتے۔مگر مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے بھی قرآن کے وحی ہونے سے انکار کا دامن نہیں چھوڑا۔۔ان تمام صورتوں کی موجودگی میں علم گوارا نہیں کرسکتا کہ وحی کو اس کی اصلیت سے ہٹا کر کسی اور نام سے پکارا جائے( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔45)
    مقدمے کے آخر میں محمد حسین ہیکل نے سیرت نبوی ﷺ کی جانچ کا حتمی پیمانہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:’’قرآن مجید کی تعلیم اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ معجزہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا۔ اس کے انداز اور ہمہ گیری سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنے زمانہ نزول سے لے اس وقت تک دنیا میں جلوہ آرا رہے گا۔ جب تک یہ نظام مربوط ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن مجید پر عرض(پیش) کریں اور آپ ﷺ کے متعلقہ روایات میں جو چیز قرآن مجید کے موافق ہو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں۔ مگر قرآن کے سوا دوسرے ذرائع سے جو ایسے امور آنخصرت ﷺ کی سیرت کے متعلق منقول ہوں کہ وہ قرآن کے معیار پر پورتے نہ اتر سکیں ان سے انکار میں انہیں تردد نہ کرنا چاہئے( ص۔68)

    کتاب حیات محمد کے آخر میں اسلامی تمدن اور اسلامی تمدن اور مستشرقین کے عنوان سے آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعددنیا کے حالات پیش کئے۔مجموعی طور پر محمد حسین ہیکل کی کتاب’’ حیات محمد ﷺ‘‘ سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی ہوئی شاہکار کتاب ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی اسی قدر شاہکار ہے۔ اس کتاب کا اسلوب رواں سلیس اور دل کو چھو لینے والاہے ۔ ذکر رسول ﷺ کو انہوں نے ادب و احترام اور واقعات کی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔