Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ مسلسل بدل رہا ہے، اس میں کوئی ایک لمحہ دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتا۔ آئیے موجودہ منظر نامے کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں:

    عمران خان زمان پارک سے اپنی تقاریر میں فوج پر تنقید کرتے رہتے ہیں. اسے کریک ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اور اسے جمہوریت پر ایک حملہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے بیانیے میں واحد تبدیلی اس کی کریک ڈاؤن کے خلاف امریکہ سے مدد کی اپیل ہے۔

    کچھ "لبرلز” فوج کے ردعمل پر سوال اٹھا رہے ہیں اور کیپیٹل ہل میں ہونے والے واقعات پر امریکی حکومت کے ردعمل سے اس کا موازنہ بھی کر رہے ہیں۔ جو اس کا علم رکھتے ہیں وہ ایک نکتہ اٹھاتا ہے کہ کیا کیپیٹل ہل ایک فوجی تنصیب تھی اور کیا ٹرمپ کے حامیوں نے کسی فوجی یا فضائیہ کے اڈوں، پینٹاگون، یا کسی جنرل کی رہائش گاہ پر حملہ کیا؟ متعدد شہروں میں 9 مئی کو ہونے والے ہم آہنگ حملے یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی . اس وجہ سے یہ نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں ایک بے مثال واقعہ ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی صرف فوج کو نشانہ نہیں بنایا۔

    9 مئی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی پر عمران خان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔ محاذ آرائی کی سیاست، جو کہ دور اقتدار میں بھی خان کے موقف کی بنیاد اور ان کی پارٹی کا خاصہ رہا ہے. اسی کے نتیجے میں ایک غیر فعال طرز حکمرانی کا عمل منظرعام پہ آیا تھا۔

    بیشک کہ اگر جہانگیر ترین کے خلاف آرٹیکل 62[1][f] کے تحت الیکشن لڑنے پر پابندی برقرار رہے گی، چوںکہ اس کے ہٹائے جانے کے بہت کم امکانات ہیں، کیونکہ نواز شریف کو بھی اسی قانون کے تحت 2017 میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اور ترین کو ریلیف دینے کا مطلب ہے کہ شریف کو بھی دینا پڑے گا۔ بہر حال، ترین کے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اور انہیں پی ٹی آئی سے منحرف ایم این ایز اور ایم پی اے کی کثیر تعداد کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امکانات ہیں کہ وہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

    یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک جلد ہی تشکیل دیا جائے گا اور اس کا اعلان اس تحریر کی اشاعت سے کچھ ہی پہلے ہو سکتا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کے منحرف ہونے کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔نیز چوہدری شجاعت بھی ایک مضبوط سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    انتخابات اس سال کسی وقت، اور ممکنہ طور پر اکتوبر ہی میں ہو سکتے ہیں۔ یہ اب بھی "ممکنہ” ہے۔ تاہم، جب تک پارٹیوں کے بنیادی ڈھانچے کی اندرونی صفائی نہیں ہوتیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی جانب سے ضروری تبدیلیوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، بشمول ‘ان میں سے کوئی نہیں'(NOTA) کے آپشن کو متعارف کرانا، ممکن ہے کہ وہی جانے پہچانے چہرے واپس آجائیں۔ . ضروری اقدامات کے متعلق مزید تفصیلات میرے ویلاگ مورخہ 4 جون 2023 میں بھی بیان ہو چکے ہیں۔

  • پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟

    پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟

    پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟
    ڈاکٹر سبیل اکرام
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے شکنجے میں بری طرح پھنس اور دھنس چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عالمی مالیاتی ادارہ اپنی تمام تر جائزو ناجائز شرائط منوانے کے باوجود اس معاہدے پر دستخط نہیں کر رہا جس کے مدد سے ہمارے حکمران اپنی عوام کو مسلسل باور کروارہے ہیں کہ اس کے بعد پاکستان کی معیشت جو کہ مسلسل بستر مرگ پر پڑی کراہ رہی ہے سنبھل جائے گی اور پاکستان معاشی اعتبار سے خود کفیل ہوسکے گا ۔ آئی ایم ایف کے اس جبر اور پاکستان کے عوام کے صبر پر جس بھی زاویہ نگاہ سے اظہار خیال کیا جائے یہ بات طے ہے کہ یہ ایک ایسا عالمی ایجنڈا ہے جس کا واحد مقصدپاکستان کی معیشت اور معاشرت کو اس حد تک تباہ کرنا ہے کہ ہمارا ملک عالمی ساہوکاروں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ہر وہ بات تسلیم کرلے جو وہ چاہتے ہیں ، اس جبر اور دباﺅ کا سب سے بڑا مقصدیہ ہے کہ ہمیں ایٹمی اثاثوں سے محروم کیا جائے اور بھارت سے ان شرائط پر صلح کروائی جائے جو وہ چاہتا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر جو کہ پاکستان کےلئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے اسے بھارت کی خواہشات کے مطابق حل کیا جاسکے۔
    یہ وہ حقائق ہیں جو زباں زدعام ہیں مگر ہمارے ارباب رفتہ اقتدار واختیار ان مسلمہ حقائق کا علم ہونے کے باوجود ایسے اقدامات سے نہ جانے کیوں گریزاں ہیں ، جو اس عالمی ایجنڈے سے نجات دلا کر ہمیں ایک آزاد اور خود مختار قوم بننے کا درس دے سکتے ہیں ۔ یہ محض خلوص نیت سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف عالمی ایجنڈا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ہے ۔۔۔۔۔ قدرت نے ہمیں زبردست جغرافیائی محل ووقوع دیا ہے کہ کوئی سا بھی طاقت ور ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے تاہم بات صرف قومی غیرت وحمیت کو جگانے، باہمی اتحاد واتفاق اور عوام کی رہنمائی کی ہے ۔ مگر جب رہنماہی خواب غفلت میں ڈوب کر اپنے ذاتی اغراض ومفادت کے اسیر ہو چکے ہوں تو پھر لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے ۔
    دنیا بخوبی جانتی ہے کہ آج اگر پاکستان کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں یہ گزشتہ حکمرانوں کی بنائی گئی ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم عالمی سطح پر ایسے گدا گر بن چکے ہیں جو پوری دنیا میں بھیک مانگتے ہیں ۔۔۔۔ستم بالائے ستم یہ کہ جب کوئی ملک ہماری جھولی میں بھیک ڈالتا ہے تو ہم شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں ۔ ہم ایسے گدا گربن چکے ہیں جو سودی قرضے ملنے پر بھی جشن مناتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ بحیثیت قوم ہماری عزت داﺅ پر لگ رہی اور ہماری ساکھ۔۔۔۔ راکھ بن کر ہمارے ہی سروں پر پڑ رہی ہے ۔

    سوال یہ ہے کہ جب کفایت شعاری کی پالیسی اپنا کر آئی ایم ایف کے ظلم و جبر اور استحصال کا راستہ روکا جاسکتا ہے تو یہ پالیسی خلوص نیت سے کیوں نہیں اپنائی جاتی ۔ ہمارے حکمرانوں کا قرض کی ۔۔۔۔مئے پینے ۔۔۔۔ اور سینہ چوڑا کرکے غیر ملکی دورے کرنے کا نشہ آخر کب۔۔۔ اترے گا ۔۔۔؟ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ عالم اسلام کے قلعہ پاکستان کی نظریاتی سرحدیں بد ترین خطرے میں ڈالی جارہی ہیں، اس کی معاشی بنیادوں میں ڈائنامیٹ بھرا جارہا ہے تاکہ سیکولرازم کی راہ ہموار ہوسکے اور کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک لادینی ریاست بن جائے ۔ ان تمام حالات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی نہ صرف ہمارے حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں بلکہ وطن عزیز کی بربادی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں جن پر پاکستان کو بچانے اور عوام میں اتحاد واتفاق کی فضا پیدا کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔۔۔یہ محض اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کی اولین ترجیح ریاست نہیں اقتدار ہے ، یہ جماعتیں اقتدار چاہتی ہیں چاہے کسی بھی قیمت پر ملے جبکہ پاکستان کی سا لمیت اور تیئس کروڑ عوام کو در پیش مسائل کی کسی کو فکر نہیں ۔ نان ایشوز کو ایشوز بنا کر عوام کو بہکایا اور دھوکے میں رکھا جارہا ہے ۔ نان ایشوز کے ذریعے عوام کے حقیقی مسائل ، غربت، بے روزگاری اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال سے توجہ ہٹائی جارہی ہے۔ حکمرانوں نے عوام کو اس حد تک مایوس کردیا ہے کہ اب عوام میں اعتماد کا فقدان بڑھتا رہا ہے۔ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ حالات بتدریج حتمی تباہی اور بربادی کی طرف جا رہے ہیں اصلاح و حوال پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ ملک میں دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کے باعث غربت، افلاس اور بے روزگاری بڑھ رہی ہیں تمام سہولتیں طبقہ اشرافیہ کے لیے مخصوص ہیں مگر غربت وافلاس کی چکی میں پسنے والے کروڑوں عوام کو بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پرسان حال ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کا قرض ادا کرنے کیلئے عوام کی جیبوں پر مسلسل ڈاکے ڈالے جارہے ہیں مگر حکمران اور اشرافیہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔اگر چہ ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگرہمارا ملک مسائلستان بن چکا ہے ۔ بات بہت سیدھی ہے کہ جب ایک اسلامی نظریاتی ملک کی معیشت کی بنیادیں سود پر رکھی جائیں گی تو معیشت میں سدھارکیسے آ سکتا ہے ؟ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاﺅپالیسیوں نے ملک کو تباہ اور عوام کو بدحال کردیا ہے مگر شعور سے عاری ہماری عوام وڈیروں اور لٹیروں کے لئے ” آوئے ہی آوئے “ کے نعرے بلند کررہے ہیں ۔ کوئی لیڈر اسلام کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے اور کوئی رہنما بنیادی انسانی حقوق کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیل رہا ہے جبکہ دینی جماعتوں کے رہنما جن پر اصلاح احوال کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہوتی تھی ۔۔۔۔وہ بھی قوم کی تقسیم در تقسیم کا سبب بن رہے ہیں ۔ ان حالات میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے جو دور حاضر کے سب سے بڑے مہاجن ہیں پاکستان کی معیشت کو اپنے شکنجے میں نہیں لیں گے۔۔۔۔عوام کاخون نہیں چوسیں گے تو اور کیاہوگا ۔۔۔؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہوں یا اپوزیشن جماعتیں یا دینی جماعتیں سب کے قول وفعل میں تضاد ہے اس تضاد نے ہی قوم اور ملک کو برباد کردیا ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ایم ایف سے نجات کے لیے خود انحصاری اور کفایت شعاری کی پالیسیاں اپنائی جائیں ، قرضے لینے کی بجائے جو کچھ ملک میں میسر ہے اسی پر گزر اوقات کی جائے ۔ مراعات یافتہ طبقے پر نواز شات کی بارش برسانے کے بجائے غریب عوام کے مسائل پر توجہ دی جائے ۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے ملک میں نان اور روٹی سمیت دیگر اشیا خوردونوش کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں مگر ارکان پارلیمنٹ جو کروڑوں اربوں کے اثاثوں کے مالک ہیں ان کےلئے کھانا شرم ناک حد تک کم نرخوں پر دستیاب ہے۔ کم آمدن والے ملازمین کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو محکموں کے سربراہان کو حاصل ہیں ۔ یہ صورت حال اسلام کے احکامات اور تعلیمات سے متصادم ہے۔یہ طبقاتی تفاوت ملک اور قوم کےلئے تباہ کن ہے جو کہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کی فکر کریں ۔اسلئے کہ طبقہ امرا کی تو پہلے ہی پانچوں گھی میں ہیں ، انہیں ہرطرح کی سہولتیں میسر ہیں جبکہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ بحیثیت قو م ہم سادگی اور کفایت شعاری ایسی پالیسیاں اپنا کرآئی ایم ایف سمیت عام عالمی ساہوکاروں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے، سودی نظام کو چھوڑنے اور اسلام کا معاشی نظام اختیار کرنے اور اخلاص نیت سے آگے بڑھنے کی ہے ۔ جب ہم خود سدھر جائیں گے تو یقین کریں دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتی ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات حاصل کرنے کا عہد کریں اور ان سیاستدانوں ، حکمرانوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور ان کو ووٹ بھی نہ دیں جو اپنے غیر ملکی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے ہماری گردنوں سے معاشی غلامی کا ڈالتے اور خود داد عیش دیتے پھرتے ہیں ۔

  • گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    عابدہ تقی ( ادیبہ و شاعرہ)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تعارف و تبصرہ : آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، نقاد، افسانہ نویس اور سفر نامہ نگار سیدہ عابدہ تقی صاحبہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے لیکن ان کی ولادت 11 نومبر 1969 میں ان کے ننہیال کے گھر راولپنڈی میں ہوئی ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید تقی حسین اور والدہ محترمہ کا نام رابعہ خاتون ہے ۔ عابدہ اپنے 7 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ 4 بہنیں اور 3 بھائی ہیں۔ ان کا تعلق سادات نقوی البھاکری اور علمی و ادبی خاندان سے ہے ۔

    عابدہ کے والد نے اردو میں نعت، منقبت اور سلام پر مبنی شاعری کی ہے پیشے کے لحاظ سے وہ پاکستان ایئر فورس کے فلائنگ ونگ سے وابستہ رہے ہیں جبکہ ان کے دادا جان سید باغ حسین شاہ نقوی کربلائی نے فارسی اور پنجابی میں مدحت رسول، سلام اور منقبت پر مبنی شاعری کی ہے۔ عابدہ تقی صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ انہیں اردو اور انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے جبکہ وہ عربی اور فارسی زبانیں بھی جانتی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی و میٹرک اور سیکنڈری تعلیمات کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے Msc Geography کیا ہے۔ عابدہ نے اپنے کالج لائف کے زمانے سے شاعری شروع کی۔

    معروف شاعر نیساں اکبر آبادی شاعری میں ان کے استاد رہے ہیں ۔ عابدہ تقی کی شاعری حمد، نعت، سلام ، منقبت ، غزل اور نظمیہ اصناف پر مبنی ہے ان کی شاعری میں سماجی ، معاشی و معاشرتی مسائل پر نظر ہے اور قلبی واردات بھی شامل ہے ان کو اپنی ذات کا دکھ بھی ہے تو زمانے کا غم بھی ہے ان کی شاعری میں خوف، مایوسی، ہجر و فراق، احساس محرومی، کسی انہونی کا خوف اور شکوہ شامل ہے تو کہیں وہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان کی شاعری میں وصل کا احوال نہیں ملتا، مجموعی طور پر ان کی شاعری متاثر کن اور دلپذیر ہے جو قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

    عابدہ تقی ایک بھرپور اور فعال علمی و ادبی زندگی گزار رہی ہیں ۔ انہیں حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی پہلی خاتون سیکریٹری مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے وہ 2011 سے 2013 تک اس عہدے پر فائز رہی ہیں وہ اسلام آباد ادبی فورم کی بھی 2 سال سیکریٹری رہی ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے ایم فل کی ایک طالبہ مدیحہ فاطمہ نے ” عابدہ تقی کی ادبی خدمات” کے عنوان سے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی میں تھیسس مکمل کیا ہے۔

    پیشے کے لحاظ سے وہ ایک نجی ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے تنقید و افسانہ نگاری کے علاہ ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو کہ ایران ، عراق اور شام کے مقامات مقدسہ کی زیارت و روداد اور مشاہدات پر مبنی ہے۔ عابدہ نے ایران ، عراق اور شام کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور کویت کی بھی سیاحت کی ہے۔ عابدہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دوسرا فرشتہ-2005
    ۔ (2)فصیل خواب سے آگے-2003
    ۔ (3)دستک باب ِعلم پر-2002
    ۔ (4)منبر سلونی کی اذاں-1999

    عابدہ تقی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوئے تھے خوابوں کے معمار بھی اکیلے ہی
    تو اب گرائیں یہ میناربھی اکیلے ہی

    کسی کی پور پہ رکنے کی آس میں آنسو
    ڈھلک گیا سرِ _رخسار بھی اکیلے ہی

    الجھ رہا تھا تلاطم سے کیسے کچا گھڑا
    گواہ تھا کوئی اُس پار بھی اکیلے ہی

    یہ عشق شامل ِ دستورِ قصر ہو کہ نہ ہو
    ہے سرخرو تہہِ دیوار بھی اکیلے ہی

    جب ایک ضرب ہی ٹھہری ہے جیت کی منصف
    تو رن میں جائیں گے اس بار بھی اکیلے ہی

    یہ کہہ کے اٹھ گئے چوپال سے پرانے لوگ
    سنیں گے اب تو سماچاربھی اکیلے ہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا سے خوشبو کا کوئی پیام آیا نہیں
    دیے جلائے مگر خوش خرام آیا نہیں

    اسی کا متن تب و جاں کا کر رہا ہے حصار
    وہ ایک خط جو ابھی میرے نام آیا نہیں

    ابھی چاند کی خاطر دریچے کھولنا کیا
    ابھی تو شام ہے ، ماہِ تمام آیا نہیں

    ہمارے ہاتھ بھی در کھٹکھٹانا چاہتے ہیں
    جو انتخاب ہو دل کا وہ باب آیا نہیں

    دلوں کے سودے میں نقصان ہو بھی سکتا ہے
    شعور تھا تو سہی میرے کام آیا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کی کھوئی رونق پلٹ آئی ہے تو اب
    غم ستانے لگا ہے شہر کی ویرانی کا

    ان دنوں زیست کا اطراف میں ہے ایک ہی ڈھب
    خوف انہونی کا دھڑکا کسی انجانی کا

    ایک خطبے سے بدل آئی ہوں طاقت کا نصاب
    تخت کو جیت کے زندان سے آئی ہوں

    مرا ہم قدم کسی چاندنی کی جلو میں تھا
    اسے کیا خبر کہ میں چل رہی تھی غبار میں

    دشت احساس میں اڑتی ہے اسی درد کی دھول
    جانے والے نے پلٹ کے بھی نہ دیکھا ہم کو

    یک بہ یک رونق کدوں کے درمیاں سے کٹ گئے
    ایک اس سے کٹ کے ہم سارے جہاں سے کٹ گئے

    یاد رکھتا کون ایسے میں کسی عنوان کو
    مرکزی کردار ہی جب داستاں سے کٹ گئے

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

  • شائستہ قیصر کا 71 واں یوم پیدائش

    شائستہ قیصر کا 71 واں یوم پیدائش

    شائستہ قیصر کا 71 واں یوم پیدائش

    شائستہ قیصر پی ٹی وی کی اداکارہ تھیں جو بلیک اینڈ وائٹ دور کے چند ڈراموں میں نظر آئیں۔ 5 جون 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے گجراتی فلم ‘ما تے ماں’ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ جبکہ یہ پاکستان کی پہلی گجراتی فلم تھی۔ پروڈیوسر قدیر خان، ڈائریکٹر اقبال اختر اور مرکزی جوڑی شائستہ قیصر اور آغا سجاد تھے۔

    یہ 1970 میں ریلیز ہوئی۔ 1972 میں وہ 2 فلم اخری ہملہ میں نظر آئیں جس میں ان کے ہیرو کمال اور بدر منیر تھے، اور سپر ہٹ فلم دل ایک آئینا جس میں وہ محمد علی کی بیٹی تھیں اور دوسری کاسٹ میں شاہد اور سنگیتا تھیں۔ 1973 میں وہ مزید 2 فلمیں نظر آئیں۔ جال کے ساتھ وحید مراد اور رنگیلا اور منور ظریف۔ 1974 میں وہ دو اور فلموں شہر اور سے میں نظر آئیں اور دھماکا دونوں فلاپ فلمیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    شہر اور کہے میں ان کے ہیرو آفتاب منگھی تھے اور دھماکا میں وہ جاوید شیخ، شبنم اور رحمان کے ساتھ معاون اداکارہ کے طور پر نظر آئیں۔ پھر 7 سال کے وقفے کے بعد ان کی آخری فلم 1981 میں وحید مراد، شبنم اور روحی بانو کے ساتھ ریلیز ہوئی کرن اور کلی۔ یہ فلم بھی فلاپ ہوگئی۔ اس کے بعد وہ انڈسٹری چھوڑ کر نامعلوم جگہ پر رہنے لگی۔ ان کی فلموں کی فہرست یہ ہیں: ما تے ماں، آخری ہملا، دل ایک آئینا، نیا راستہ، جال، رنگیلا اور منور ظریف، شہر اور سے، دھمکا، اور کرن اور کلی۔

  • جانوروں کی بائیومیٹرک؛ پاکستانی سافٹ ویئر انجنیئرز نے ناممکن کوممکن بنادیا

    جانوروں کی بائیومیٹرک؛ پاکستانی سافٹ ویئر انجنیئرز نے ناممکن کوممکن بنادیا

    کراچی میں اردو یونیورسٹی کے طالب علموں نے ایسا انوکھا سوفٹ ویئر بنایا ہے کہ اب جانوروں کی نہ صرف شناخت ہوگی بلکہ رجسٹریشن بھی ہو سکے گی جبکہ عموماً جانوروں کی شناخت کیلئے بچپن سے انکے کانوں میں سوراخ کر کے ٹیگ لگایا جاتا ہے جو کہ باعثِ تکلیف بھی ہے اور قابل اعتماد بھی نہیں تاہم پاکستانی سافٹ ویئر انجنیئرز کی جانب سے تیارکردہ ایپلیکیشن سے جانوروں کی نہ صرف شناخت بلکہ اس سے جانوروں کی تصدیق اور ڈیٹا بھی جمع کیا جا سکے گا۔

    کراچی سے تعلق رکھنے والے سافٹ وئیرانجینئرسید عمید کہتے ہیں کہ ہم ایسے بلکل ایک پاسپورٹ کی طرز پر تیار کر رہے ہیں کیونکہ جس طرح دنیا میں ہر نفس کی ایک مختلف شناخت ہے اسی طرح ہم ہر جانور کو ایک الگ شناخت دینا چاہتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں سید عمید کا کہنا تھا کہ انسانوں کے فنگرپرنٹ کی طرح جانوروں کی ناک پرنٹ ہوتے ہیں تاہم اس حوالے سے ہم نے پانچ ہزارجانوروں پرتجربہ کیا اور سب کے نتائج سوفیصد حاصل ہوئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    اس غیر معمولی ٹیکنالوجی کے استعمال سے لاپتہ جانوروں کو ڈھونڈنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ اس ریسرچ کے تحت جانوروں کو چوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑی سپورٹ مل جائے تو ملک سے باہرسروس دے کربھی بھاری زرمبادلہ کماسکتے ہیں۔ اس تحقیق کا احاطہ اس قدر وسیع ہے کہ اسے دیگر جانوروں مثلاً گھوڑوں، کتوں اور دیگر جانوروں پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایپلیکیشن کاباقاعدہ افتتاح عید سے 10 دن قبل یعنی چاند نکلنے پر کیا جائے گا جس کے زریعے سستے اور مہنگے جانوروں سے لیکر ہر قسم کے اعلیٰ نسل کے جانوروں کی شناخت کی جا سکتی ہے۔

  • اقتدار و اختیارات کا کھیل، عوام میں مایوسی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    اقتدار و اختیارات کا کھیل، عوام میں مایوسی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    بِقول شاعر: بڑی رونق تھی اس گھر میں ، یہ گھر ایسا نہیں تھا
    گلے شکوے بھی رہتے تھے مگر ایسا نہیں تھا
    جہاں کچھ شیریں باتیں تھیں وہیں کچھ تلخ باتیں تھیں
    مگر ان تلخ باتوں کا اثر ایسا نہیں تھا
    قارئین، ماضی میں بھی سیاسی گلیاروں میں شکوے شکایتیں رہتی تھیں مگر آج کی سیاست اور سیاستدانوں نے وطن عزیز میں جو انتشار پھیلا رکھا ہے ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا۔ نہ ختم ہونے والی تکرار نان ایشوز الزام تراشیوں اور بہانوں کے سوا سیاستدانوں کے پاس کچھ نہیں رہا۔ 24 کروڑ عوام اور ریاست کو درپیش مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ عدلیہ سمیت ریاستی ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے خاشامدی ٹولوں نے حد کراس کردی یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے کونسا ایسا سیاستدان اور سیاسی جماعت بھی ہے جس نے محب وطن اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا؟ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے عوام کی اکثریت نام نہاد جمہوری سیاست کے تماشوں سے بیزار ہوچکے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر بنتا جارہا ہے جمہوریت کا یہ دکھاوا ایک فریب ہے۔ عوام کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ لینڈ مافیا شوگر مافیا ادویات مافیا کالے دھن پر کھڑی سیاست اسے کچلتی رہے گی۔

    عمران خان سمیت بھٹو سے لیکر نواز شریف تک سیاستدانوں نے دغا بازی کی مشکل حالات میں ساتھ چھوڑ گئے کہا جاتا ہے کہ جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے سب سے پہلے چوہے بھاگتے ہیں۔ محرومی مایوسی اور عدم استحکام ملک کے کروڑوں عوام کا حصہ بن چکے ہیں۔ آخرکب تک؟ اب اقتدار کے لئے سیاسی گروپ بن رہے ہیں۔ ملاقاتوں ایک دوسرے کے ساتھ وعدے اقتدار میں حصہ داری نئی جماعت بنانے کی کوشش۔ پرفریب وفاداریاں اور ایک دوسرے کو یقین دہانیاں پنجاب کو فتح کرنے کے لئے آمدہ الیکشن میں ساتھ چلنے کے وعدے۔ اس سارے کھیل میں عوام اور ریاست کو درپیش مسائل نظر نہیں آرہے اقتدار اور اختیارات کے اس کھیل میں عام آدمی کے لئے مایوسی کے سوا کچھ نہیں۔

  • تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ

    تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ

    تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ!

    تحریر:۔ ملک شفقت اللہ

    اٹھائیس مئی کو پاکستان میں یوم تکبیر کا دن منایا جاتا ہے۔ کیونکہ پچیس سال قبل اسی روز پاکستان نے چاغی کے مقام پر بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سات ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک بار پھر سے معتدل کیا تھا۔ اس دن کو نہ صرف پوری پاکستانی قوم بڑے جوش و جذبے سے مناتی ہے بلکہ عالم اسلام بھی ان ایٹمی دھماکوں کو اپنا سمجھ کر کفار کو اسی بھروسے میں للکارتا ہے۔ جس دن پاکستان میں دھماکے ہوئے تھے اسی روز فلسطین کا ایک کم سن بچہ اسرائیلی فوجی کو مکا دکھا رہا تھا کہ پاکستان میں یہ جو ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا گیا ہے وہ تمہاری استعماریت کو لگام ڈالنے اور اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر فرعون کیلئے ایک موسٰی ضرور پیدا کرتا ہے۔ سنہ اڑھتالیس میں اگر اسرائیل وجود میں آیا تو سنہ سینتالیس میں پاکستان معرض وجود میں آ چکا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے کہ ہماری آزادی کیلئے عالمی دنیا میں سفارتکاری اور آواز بننے والا ملک بھی اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ بھارت اور اس کے ساتھیوں کو للکار کر کہہ سکے کشمیر کو آزادی دو، استصواب رائے پر آزادی دو! مگر یہ نوجوان نسلوں کے خواب جنہیں وہ آنکھوں میں سجا کر جوان ہوئے تھے بکھر گئے! امید کی روشنی آنکھوں میں مایوسی کے بادل بن کر برس رہی ہے۔ آج پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، ذہنی ہیجان، اور جہاں دیکھو تقسیم ہی تقسیم ہے۔کوئی جماعت، اشرافیہ، ٹیکنو کریٹ، بیوروکریٹ یا ملک کا ذمہ دار اتحاد کی بات نہیں کر رہا! اور اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے ہمارا روایتی حریف۔ اس نے مقبوضہ کشمیر میں جی – 20 سمٹ منعقد کروائی ہے اور کنٹرول لائن کا علاقہ مائننگ کیلئے اسرائیلی کمپنی کو ٹھیکے پر دیا ہے۔ مگر سمٹ کے بارے میں تو ہمارے وزیر خارجہ نے بہت شور مچایا ہے، جو ظاہری طور پر بے اثر رہا مگر اسرائیلی کمپنی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ کیا وطن عزیز کو چلانے والے حکمران اور مقتدر طبقہ ابلاغ، دانش اور صحیح فیصلوں کی قوت سے عاری ہے جو مستقبل پر نظر نہیں رکھتا کہ کیسی مشکلات ہماری منتظر ہیں! یہ کیسے اسباب پیدا کئے جا رہے ہیں جس میں صرف میں، میرا اور میری کی فکر کی جا رہی ہے؟

    گریٹر اقبال پارک کے دامن میں ملک پاکستان کے بننے سے موجودہ سنگین حالات تک اور پھر یہاں سے آگے امید کی ایک نئی روشنی کے آغاز تک کی ساری تاریخ دفن ہے۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں 1940 میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی جس کے سات سال بعد بر صغیر کے مسلمان ایک الگ آزاد ریاست اسلامی و فلاحی جمہوریہ پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس گریٹر پارک میں یادگار پاکستان یعنی مینار پاکستان بھی قائم ہے جس کی آغوش میں پاکستان کی کئی سیاسی پارٹیوں نے جنم لیا ہے۔ کئی بڑے جلسے ہوئے، وقت کے ساتھ وہ اثر کن بھی ہوئے مگر کبھی پاکستان کی تقدیر نہیں بدل سکے۔

    پاکستان میں اخلاق، ایثار و جذبہ، اتحاد ملی، یگانگت باہمی، ایمان، اتحاد، تنظیم اور یقین و محکم کے علاوہ دانشمندی اور دور اندیشی جیسے عناصر کا خلا کوئی سیاسی و مذہبی جماعت بھر نہ سکی۔28 مئی یوم تکبیر کے موقع پر ایک اور سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اسی گریٹر اقبال پارک کی آغوش میں، اسی مینار پاکستان کے سائے میں تکبیر کانفرنس کروا کر اپنے وجود کا اعلان کیا ہے۔ پہلے ہی جلسے کو پی ایم ایم ایل کی قیادت تاریخی بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اور پہلی ہی کانفرنس سے پی ایم ایم ایل نے تمام مذہبی و سیاسی عمائدین و قائدین کو ایک ہی سٹیج پر اکٹھا کر کے تمام تر تعصبات سے پاک ہو کر مذکورہ بالا سیاسی خلا کو پر کرنے کا عملی ثبوت دیا ہے۔لاہور شہر بھر میں تشہیری مہم، استقبالیہ مسافر خانے اور ان میں کھانوں اور مشروب کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔پورے پنڈال کی سیکیورٹی کیلئے جہاں سرکاری طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی وہیں خود پی ایم ایم ایل کی جانب سے سینکڑوں نوجوانوں نے نظم و ضبط کو قائم رکھنے اور شرکت کرنے والوں کو محفوظ کرنے کیلئے بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دئے ہیں۔داخلی راستوں پر میٹل ڈی ٹیکٹر گیٹ لگائے گئے تھے، اور ساتھ ہی مہانوں کیلئے پانی اور شربت کے سٹالز لگائے گئے تھے جہاں سفر کر کے آنے والے جی بھر سیر ہو رہے تھے اور پیاس بجھا رہے تھے۔

    اسٹیج کے بائیں طرف میڈیا گیلری قائم کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں راقم الحروف میڈیا گیلری میں موجود تھا۔ اس گیلری میں پندرہ سو کرسیاں لگائیں گئیں جہاں پنجاب بھر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے برقی، سماجی اور اشاعتی ابلاغی اداروں کے نمائندگان کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔ انہیں بجلی اور انٹرنیٹ کی بھرپور سہولت بھی فراہم کی گئی۔ اسٹیج کے بائیں طرف کنٹینر لگا کر الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان کو کوریج میں آسانی اور سیکیورٹی دینے کیلئے انتظام کیا گیا تھا۔ مین اسٹریم میڈیا کے نمائندگان نے اس کنٹینر پر کیمرے لگا رکھے تھے اور وقفے وقفے سے پی ایم ایم ایل کی قیادت کا انٹرویو کر رہے تھے اور مختلف اوقات میں اپنے ٹی وی چینلز پر ہیڈ لائنز اور سٹوری کوریج دے رہے تھے۔ اسٹیج کے درمیان میں کرسیوں پر اور کھڑے ہوئے ایسے لوگ موجود تھے جو ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اور پی ایم ایم ایل کا پرچم تھامے ہوئے تھے۔ گریٹر اقبال پارک کی درمیانی سولنگی پٹی آخر تک سبز ہلالی پرچموں میں ڈھکی ہوئی تھی اور تیز ٹھنڈی ہواؤں نے ان پرچموں کو لہرا کر زندہ و جاوید کر دیا۔اسی مرکزی سولنگی پٹی اور پنڈال کے باہر بھی پاکستان کے بانی ممبران کے علاوہ کشمیر حریت راہ نماؤں کے پوسٹرز بھی آویزاں کئے گئے تھے۔ اسٹیج کی بائیں جانب مکمل اور دائیں طرف میڈیا گیلری کے پیچھے پی ایم ایم ایل کے تمام ضلعی عہدیدار اور ان کے ساتھ آئے ساتھی موجود تھے جو ضلعی قیادتوں کے ہمراہ پنجاب کے طول و عرض سے بنا کسی لالچ اور بنا کسی بریانی کے شوق اپنے کرایے پر صرف اور صرف اپنی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس کا وقت پانچ بجے سہہ پہر مقرر کیاگیا تھا۔ لوگ مختلف اضلاع سے پہلے ہی آنا شروع ہو گئے تھے، دن کی روشنی میں ہی پنڈال بھر چکا تھا۔ مغرب کی نماز سے قبل قریب ساڑھے چھ بجے کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ اور مغرب کی اذان کے وقت علماء و عمائدین نے بھرپور عوامی ہجوم کے ساتھ نماز مغرب اور عشاء ادا کی۔ گریٹر اقبال پارک کی تاریخ میں شاید یہ پہلی مرتبہ ہوا ہو کہ کوئی سیاسی قیادت اپنے کارکنان کی نماز کی فکر کر رہی ہو، اور ان کیلئے نماز کی ادائیگی کیلئے اتنے بڑے ہجوم کیلئے وضو کے پانی، طہارت کیلئے بیت الخلاء اور نماز کیلئے قالینوں کا اہتمام کیا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد گریٹر اقبال پارک تکبیر کے نعروں، عمائدین و قائدین کے خطابات اور ملی نغموں سے گونجتا رہا۔ رات گئے تک لوگوں کی شرکت کا سلسلہ چلتا رہا۔ خطابات کی تفصیل تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے ویڈیو کلپس اور تصاویری شکل میں گزشتہ روز ٹویٹر ٹرینڈ میں شیئر کر دی گئی ہے۔ لیکن میں یہاں مقررین کے نام ضرور لکھتا چلوں گا۔

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے مضبوط قدم جما رکھے ہیں

    عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

    اسٹیج پر موجود مقررین میں پی ایم ایم ایل کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ شاہد مسعود سندھو، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، خطیب بادشاہی مسجد عبد الخبیر آزاد، حریت راہ نما غلام محمد صفی، سجادہ نشین میاں میر پیر سید ہارون علی گیلانی، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، چئیرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، قصور سے پی ایم ایم ایل کے امید وار سیف اللہ خالد، خواتین کی نمائندگی جنرل حمید گل مرحوم کی بیٹی عظمیٰ گل، یعقوب شیخ، مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے راہ نما ڈاکٹر عبد الغفور راشد، بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے قبائلی راہنما نواب ظفرا للہ خان شہوانی، نگران عروۃ الوثقیٰ علامہ آغا سید جواد احمد نقوی، امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبد الغفار روپڑی، مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانہ فضل الرحیم اشرفی، سکھ راہ نما سردار بشن سنگھ، علامہ زاہد محمود قاسمی، معروف عالم علامہ ناصر مدنی، انجینئیر حارث ڈار، قبائلی راہ نما میر شاہ جہاں، انور گل زئی، رانا محمد اشفاق، مقتدر اختر شبیر ایڈووکیٹ، احسان اللہ منصور، چئیرمین پیاف شیخ فہیم الرحمٰن، متحدہ جمیعت اہلحدیث کے راہ نما شیخ نعیم بادشاہ، رانا انتظار، احسان چوہدری، انجینئیر عادل خلیق، ڈاکٹر عبد المتین و دیگر نے خطاب کیا۔

    اگر جائزہ لیا جائے تو پورا سٹیج واضح طور پر اتحاد و یگانگت کے مناظر پیش کر رہا تھا۔ اور مقررین کے علاوہ مین اسٹریم کے میڈیا اور اینکرز نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ اس عدم استحکام، ہیجانی کیفیت اور معاشی بحران میں گریٹر اقبال پارک میں لوگوں کا جم غفیر اکٹھا کرنا کسی بھی نومولود سیاسی جماعت کیلئے نا ممکن ہے لیکن پی ایم ایم ایل نے یہ ممکن کر دکھایا ہے۔ مقررین نے پی ایم ایم ایل کی قیادت کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اتحاد کی اس فضا کو قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ اندرونی و بیرونی سازشوں، بھارتی دہشتگردی اور ہرزہ سرائی، ملک میں نفرت و انتقام کی سیاست، ملک میں مہنگائی اور غربت کے خاتمے اور اتحاد باہمی کیلئے ایک سیاسی خلا موجود تھا، جسے پی ایم ایم ایل نے آج اس اتنے بڑے اجتماع کو منعقد کر کے اور تمام سیاسی و مذہبی عمائدین کو ایک اسٹیج پر اکٹھا کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی جماعت اس سیاسی خلا کو پر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تمام مقررین نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔کانفرنس کے دوران پی ایم ایم ایل کے مرکزی راہ نما مزمل ہاشمی نے اعلامیہ پیش کیا جو کچھ یوں ہے:

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    *پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام تکبیر کانفرنس کا اعلامیہ*

    ٭ یوم تکبیر کے تاریخ ساز موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام آج مینار پاکستان کے سائے تلے عظیم الشان تکبیر کانفرنس کے انعقاد پر ہم اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم میں نظریہ پاکستان کاشعور بیدار کر کے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر قوت بنائیں گے۔ ان شاء اللہ

    ٭ آئی ایم ایف یا کسی بھی عالمی قوت کے دباؤ پر ایٹمی پروگرام سے دستبرداری نامنظور ہے۔ پوری قوم ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی۔

    ٭ شہدا پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

    ٭ ملک میں دفاعی اداروں و تنصیبات پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، البتہ جن لوگوں پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

    ٭ وطن عزیز میں شدید مہنگائی، بجلی و پٹرول کی بے انتہا قیمتوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے کاروبار تباہ اور انڈسٹری کا چلنا مشکل ہو چکا ہے۔ حکومت بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں کم کرے، عوام کی معاشی مشکلات کم کرنے اور روزگار کے مواقع میسر کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔

    ٭ شدید مہنگائی سے بچوں کو تعلیم کے حصول میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔حکومت نوجوانوں کی تعلیم کا بوجھ خود اٹھائے،یکساں نظام تعلیم کی طرح تعلیمی اداروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔

    ٭ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں اورسالہا سال گزرنے پر بھی لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔ اتفاق رائے سے ایسا نظام انصاف ترتیب دیا جائے جس سے مختصر وقت میں لوگوں کو انصاف میسر آ سکے۔

    ٭ صحت کی ناکافی سہولیات اور مہنگی ترین ادویات عوام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ حالت کو درست کیا جائے۔ دور دراز دیہاتی علاقوں تک بھی لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    ٭ اگر حکومت وقت عوام کو بنیادی حقوق اور ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فی الفور مستعفی ہو۔

    ٭ مرکزی مسلم لیگ اس بات کا عہد کرتی ہے کہ خدمت خلق کی سیاست کو جاری رکھتے ہوئے حکومتی وسائل کے بغیر ہی عوام پاکستان کی مشکلات حل کرنے کیلئے بھر پور کوشش کرتے رہیں گے۔

    ٭ مقبوضہ کشمیر میں جی 20کے اجلاس اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور بھارت کو شہ دینے کے مترادف ہے۔چین، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی طرف سے جی 20اجلاس کا بائیکاٹ خوش آئند اقدام ہے۔

    ٭ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ مظلوم کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔

    ٭ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فی الفور حل کیا جائے۔

    ٭ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے قائدین جو بھارتی جیلوں میں ناحق قید ہیں، ان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ قائدین تحریک آزادی کشمیر کو عمر قید اور پھانسی کی سزائیں دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، ان سزاؤں کو فی الفور ختم کیا جائے۔

  • وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان

    وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان

    وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان ، تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
    بھارت کی صورت میں ہمیں ایک نہایت ہی گھٹیا اور کم ظرف دشمن کا سامنا ہے ، جس نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ۔ ان حالات میں عسکری اور دفاعی اعتبار سے مستحکم پاکستان بے حد ضروری ہے اور پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ء کی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضائوں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے سرنگوں میں پناہ لینے کی بجائے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کی دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اْسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا میں سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔

    الغرض 1965ء کی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کے جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ’’ سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔ جب دنیا کے عسکری ماہرین نے محاذوں کا دورہ کیا اور پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی جرأت وبہادری کو دیکھا تو بے اختیار یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ میدان کارزار میں پاکستان کی افواج کا مقابلہ کرنا بھارت کیلئے ممکن نہیں ہے ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع اْن کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت اْن کا جذبہ شہادت ہے اور ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں۔ یہ دشمن بھارت سے زیادہ مکار اور خطرناک ہیں یہ اچانک اپنے ہی ہم وطنوں پر حملہ آور ہوتے اور مختلف طریقوں سے تباہی پھیلاتے ہیں۔ یہ دہشت گرد بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں، نام بھی مسلمانوں والے ہیں ، شکل وصورت بھی مسلمانوں والی ہے مگر حقیقت میں اْن کا دین اسلام سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ہماری فوج کے بہادر جوان ان تمام دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جو دیدہ ہیں یا نادیدہ ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ، ملک میں فوج کے کانوائے کو نشانہ بنایا جاتا ہے ، کبھی ان پر خودکش حملے کئے جاتے ہیں ، کبھی راستے میں بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ، ملک دولخت ہوگیا ، بھائی بھائی کا دشمن بن گیا ، پاکستان سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت ہونے کااعزز چھن گیا اور ہمارے 90ہزار فوجی دشمن کے قیدی بن گئے ۔9مئی کے دن پاکستان میں جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا۔۔۔۔۔اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا یا اب بھی کیا جارہا ہے ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بدترین ملک دشمنی ہے ،یہ دانستہ طور پر 1971ء جیسے حالات پیدا کرنے کی سازش ہے ۔ عسکری تنصیبات پر حملے کرنے یا افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے دانستہ یا نادانستہ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ وقت قوم کے باہمی اتحاد اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا ہے۔ ہمیں وطن کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کرنے والے شہیدوں اور غازیوں پر فخر ہے ۔ مضبوط فوج ہی پاکستان کی بقاکی ضامن اور بھارتی عزائم کی راہ میں آہنی دیوار ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار اور ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کیلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرأت نہ ہو ۔

  • فرانز کافکا ،بیسویں صدی کے بہترین ناول نگار

    فرانز کافکا ،بیسویں صدی کے بہترین ناول نگار

    3 جون 1924 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فرانز کافکا کا شمار بیسویں صدی کے بہترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ 3 جولائی 1883 چیک ریپبلکن کے شہر پراگ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیلم سے لے کر قانون کی ڈگری تک پراگ میں ہی تعلیم حاصل کی ۔ وہ یہودی مذہب سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے والد کا نام ہرمن اور والدہ محترمہ کا نام جوئی تھا۔ ان کی مادری زبان عبرانی تھی ۔ ان کا اصل نام امسخل تھا عبرانی زبان میں اس کا معنی ” کوا” ہے جسے چیک زبان میں کافکا اور ہندی زبان میں کاگا کہا جاتا ہے اور وہ فرانز کافکا کے نام سے مشہور ہوئے۔ کوے کو بدنصیبی ،نحوست اور شر کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور اتفاق سے کافکا بھی زندگی بھر بدنصیبی کا شکار رہے جس کی وجہ سے انہوں نے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کی مگر ان کے دوست میکس برڈ نے ان کو خودکشی کرنے سے روک لیا۔

    انہوں نے اپنی زندگی میں 3 بار عشق کیا ان کا پہلا عشق 1912 میں فیرو لین نامی لڑکی سے ہوا 5 سال تک ان کے درمیان جذباتی تعلق قائم رہا جس کے بعد فرولین کی شادی ہو گئی اور کافکا دل تھام کر رہ گیا۔ 1920 میں ان کا دوسرا عشق ملینا نامی ایک لڑکی سے ہو گیا جو کہ شادی شدہ تھی اس لیے اس سے ان کی شادی ممکن نہیں ہو سکی ۔ ملینہ نے بھی کافکا کو ٹوٹ کر چاہا کیوں کہ اسے اپنے شوہر سے محبت نہیں ملی تھی ۔ ایک بار کافکا نے ملین کو خط میں لکھا کہ میں بہت خراب، بیکار اور رشتے نہ نبھانے والا نہیں ہوں جس پر ملینا نے اسے جواب میں لکھا کہ خواہ تم ایک لاش کی طرح ہی کیوں نہ ہو لیکن مجھے پھر بھی تم سے ہی محبت رہے گی۔ 1923 میں ان کا تیسرا عشق ڈورا ڈائمنڈ نامی لڑکی سے ہوا لیکن یہاں پر بھی عشق و محبت میں ناکامی اس کا مقدر بن گئی ڈورا کی شادی بھی کہیں اور ہو گئی جس کے باعث کافکا نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ انہوں نے اپنے ناول اور افسانے وغیرہ جلانے کا ارادہ کیا مگر ان کے دوست میکس برڈ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ میکس برڈ کے ساتھ مل کر انہوں نے صیہونی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 3 جون 1924 میں وہ ٹی بی کے مرض میں ویانا کے ایک سینی ٹوریم ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ کافکا کی وفات کے بعد ان کے دوست میکس برڈ نے ان کی کتابیں شائع کروائیں جن میں ناول”دی ٹرائل ” قلعہ” اور امریکا اور ایک افسانہ A Hunger Artist شامل ہیں ۔ 2017 میں یاست جواد نے کافکا کا کے شاہکار ناول The Triel کا ” مقدمہ” کے نام سے اردو زبان میں ترجمہ کر کے نیشلطبک فائونڈیشن سے شائع کروایا جبکہ محمد عاصم بٹ نے ان کے افسانہ کا ” فاقہ کش فنکار” کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا۔ فرانز کافکا کے ناول” دی ٹرائل ” پر 4 فلمیں بن چکی ہیں ۔

  • "میں تیرا شہر چھوڑ جاوں گا” معروف گلوکار مجیب عالم  کا یوم وفات

    "میں تیرا شہر چھوڑ جاوں گا” معروف گلوکار مجیب عالم کا یوم وفات

    خوب صورت آواز کے مالک پاکستانی گلوکار مجیب عالم 4 ستمبر 1948 میں ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے۔ وہاں حالات سازگار نہ ہونے کے باعث ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پاکستان میں آباد ہوا۔ مجیب عالم کو بچپن سے ہی موسیقی سے دلچسپی تھی اس لیے انہوں نے موسیقار استاد محبوب علی خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور 12 سال کی عمر میں ریڈیو پاکستان کراچی سے گائیکی کا آغاز کیا اس دوران وہ اسٹیج پروگرامز میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا کرتے تھے 1966 میں ایسے ہی ایک اسٹیج شو میں فلمساز حسن لطیف ان کی آواز سن کر متاثر ہوئے اور انہیں فلمی دنیا کی طرف لے آئے اور اپنی فلم ” جلوہ ” کیلئے گوایا۔

    وہ فلم تو ریلیز نہیں ہو سکی مگر مجیب عالم کا گایا ہوا گیت "کہیں آہ بن کر تیرا نام دل پہ آ جائے” بہت مشہور ہوا جس کے بعد ان کے لیے فلمی گانوں کا دروازہ کھل گیا فلم چکوری. کیلئے ان کا گایا ہوا گیت "وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں ”
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    بہت مشہور ہوا جس کے بعد وہ پاکستان کے مقبول ترین گلوکاروں صف میں شامل ہو گئے ۔ انہوں نے اردو کے علاوہ پنجابی ، پشتو اور بنگلہ زبان میں بھی گایا۔ مجموعی طور پر انہوں نے 62 فلموں کیلئے 90 گیت گائے جن میں 10 پنجابی گانے بھی شامل ہیں ۔ 2 جون 2004 میں دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں ان کا انتقال ہوا اور سخی حسن قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے ۔ مجیب عالم کے گائے ہوئے مشہور گیتوں کک طویل فہرست ہے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں

    1 وہ نقاب رخ پلٹ کر ذرا سامنے تو آئیں

    2. یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم

    3. میں تیرے اجنبی شہر میں

    4. یہ سماں پیار کا کارواں

    5. میں تیرا شہر چھوڑ جائوں گا

    6. میں خوشی سے کیوں نہ گاؤں