Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم مزار بنائیں گے

    ہم مزار بنائیں گے

    24 سال قبل کراچی سے اٹھائی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورورتھ کی جیل ایف ایم سی کارس ول کے ویٹینگ روم میں بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔۔جہاں اسکی چھوٹی بہن پچھلے 13 سال سے قید تھی۔اس کیساتھ پاکستانی سیاست کا ایک درویش صفت کردار سینٹر مشتاق احمد اور امریکی وکیل کلایئو اسٹافورڈ اسمتھ بھی اس انتظار گاہ میں موجود تھے۔۔
    خاتون قیدی کہ بڑی بہن فوزیہ صدیقی سوچ رہی تھی کہ آج 24 برس بعد میں جب چھوٹی بہن کو دیکھوں گی۔۔تو کیا اس کا سامنا کر پاوں گی۔۔اس کے سوالات کا جواب دے پاوں گی۔۔وہ نجانے مجھ سے کیا کیا پوچھے۔۔مجھے اپنے بارے کیا کچھ بتائے تو کیا میں یہ سب سن پاوں گی۔۔جبکہ ہمارا نہ تو باپ ہے اور نہ بھائی۔۔
    انہی سوچوں کے عمیق سمندر کی بے ترتیب لہروں میں اس وقت دل دہلا دینے والا ارتعاش آیا جب جیل کی سیکورٹی پہ مامور عملے نے ڈاکٹر فوزیہ کو اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔

    زمین و آسمان ساکت تھے۔۔جیل کی اس نیم تاریک گیلری میں صرف قدموں کی چاپ تھی۔۔۔ٹک ٹک ٹک۔۔مگر یہ ٹک ٹک ڈاکٹر فوزیہ کے دل و دماغ پہ ہتھورے برسا رہی تھی۔۔کیونکہ وہ آج اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن سے وطن سے ہزاروں میل دور پورے 24 برس بعد خاندان کا پہلا فرد تھیں جو چند لمحوں میں ملنے جا رہی تھیں۔۔انہیں گلے لگانے۔۔۔دبی دبی چیخوں، آہوں اور سسکیوں کے درمیان صبر و استقامت کا سبق دینے۔۔نئے عزم، ہمت، جرآت اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا پیغام لائی تھیں جو انہیں گلے لگا کے۔۔بہت سا پیار کر کے۔۔کمر تھپتھپا کے دینا تھا۔۔۔اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر اسکو تسلی دینی تھی۔۔۔
    مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا۔۔

    اور یوں 24 برس کے سارے ارمان اس وقت کرچی کرچی بن کر بکھر گئے جب ڈاکٹر فوزیہ کو دیوار کے اس طرف بٹھا کر انتظار کرنے کا کہا گیا اور بتایا گیا کہ ابھی کچھ دیر بعد اس موٹے شیشے کے دوسری طرف جو بوڑھی، لاغر، کمزور و ناتواں، لڑکھڑاتی چال کیساتھ، ٹوٹے دانت لیئے، سفید سکارف اور جیل کا خاکی لباس زیب تن کیئے عورت آئے گی تو پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی ہو گی۔۔اور ہاں وہ اونچا سنتی ہے۔۔آپ کو اونچا بول کر اسکو بات سمجھانا پڑے گی۔۔مگر یاد رکھنا کہ تم اسکو بچوں کی تصاویر تک نہیں دکھا سکتیں۔۔کیونکہ ہم دنیا بھر کے انسانی حقوق کے وہ علمبردار ہیں جہاں یہ سب باتیں بے معنی ہوا کرتی ہیں۔۔۔یہ سب اصول، قانون اور ضابطے ہم نے تیسری دنیا کیلئے بنا رکھے ہیں۔۔۔

    پھر وہ وقت بھی آن پہنچا۔جب پورے 24 برس بعد ہزاروں میل دور دنیا کے اس کونے میں قید اس مظلوم و محکوم عورت کی پہلی ملاقات آئی۔۔عافیہ بنا کسی ہیجانی کیفیت کے پروقار انداز میں چلتی ہوئی آئی۔۔۔بڑی بہن کے سامنے بیٹھی۔۔۔اور اڑھائی گھنٹوں کی اس ملاقات میں ایک گھنٹہ اپنے اوپر گزرنے والی قیامتوں کا مختصر سا احوال بتایا۔۔پھر بتایا کہ مجھے میری ماں بہت یاد آتی ہے۔۔۔اسکو کیوں نہیں لایا گیا۔۔۔اب کون اسکو بتاتا کہ جس ماں کو تو یاد کر رہی ہے وہ ماں تجھے یاد کرتے کرتے اپنے رب کے حضور واپس پہنچ چکی ہے۔۔۔پھر بچوں کا پوچھا۔۔۔کیس کا ڈسکس ہوا۔۔اور یوں ملاقات کا وقت تمام ہوا۔۔وہ پروقار انداز میں اٹھی۔۔۔واپس مڑی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اپنی بڑی بہن جو اس سے ملنے پاکستان سے آئی تھی اسکی طرف پیٹھ کر کے اپنے مخصوص سیل میں چلی گئی۔۔ایسے جیسے وہ اس ماحول کی پوری عادی ہو چکی ہو۔۔۔جیسے اسکا دل کہہ رہا ہو کہ وہ یہاں سے کبھی بھی نہیں نکل پائے گی۔۔۔۔جیسے وہ اپنی قید سے اس قدر مانوس ہو چکی ہو کہ اسکو اب آزادی سے خوف آ رہا ہو۔۔۔

    قیامت کب آیئگی۔۔۔ماسوائے رب کے کوئی نہیں جانتا۔۔مگر یہ منظر قیامت سے کچھ کم نہ تھا۔۔۔۔دنیا بھر کی کتنی آنکھیں ہیں جو اس وقت پرنم ہیں۔۔۔کتنے لب ہیں جو دعائیہ انداز میں لرز رہے ہیں۔۔کتنے ہاتھ ہیں جو بارگاہ خداوندی میں اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔
    رابطہ بحال ہو گیا۔۔جلد یا بدیر جیل یا زندگی کی یہ قید ختم ہو ہی جایئگی۔۔مگر ایک روز محشر کا میدان بھی سجنا ہے۔۔اور کچھ لوگ وہاں پہنچ چکے ہیں۔۔بش سے مشرف تک۔۔۔ایک ایک کردار وہاں کھڑا ہو گا۔۔اور ان سے ایک ایک مظلوم کا حساب ہو گا۔۔۔
    باقی ہم جو ابھی تک زندہ ہیں۔۔ہم مزار بنا دیں گے۔۔۔عافیہ بی بی۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپکا جنازہ پاکستانی تاریخ کا بڑا جنازہ ہو گا۔۔ ہم بعد از مرگ تیرے لیئے جتنا ممکن ہو سکا آواز اٹھایئں گے۔۔۔مگر ابھی نہیں۔۔۔
    کیونکہ ابھی ہم سب مریم نواز، آصفہ بھٹو اور بشری بی بی کی جنگ میں مصروف ہیں۔۔فی الوقت ہم سیاسی اناوں کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے محاذوں پہ مصروف ہیں۔۔۔ابھی ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ہم آپ کیلئے کسی بھی فورم پہ آواز اٹھا سکیں۔۔کیونکہ ہم قوم کو بتانے میں لگے ہیں کہ مریم فرائی پان سے جیل میں کپڑے پریس کیا کرتی تھی۔۔ہم سر میں خاک ڈال رہے ہیں کہ سلیمان شاہ کی بیٹی گرفتار ہو گئی ہے۔۔۔ہمیں یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ کہیں بشری بی بی کا تقدس پامال نہ ہو جائے۔۔۔۔
    جب آپ سسک سسک کر مر جاو گی۔۔۔تب ہم سب باہر نکلیں گے۔۔۔۔اور پوری قوت سے نکلیں گے۔۔
    تب تک۔۔۔تم جانو۔۔۔تمہارا خاندان جانے۔۔۔چند ایک مخلصین جانیں۔۔۔اور تمہارا خدا جانے۔۔۔ہم آپکا عالیشان مزار بنایئں گے۔۔۔اگر تمہاری باقیات کو کسی سمندر میں نہ بہا دیا گیا تو۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں ہے،سینیٹر مشتاق

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

  • سوڈان میں انسانی بحران: عوامل اور علاقائی تناظر کا ایک پیچیدہ جال

    سوڈان میں انسانی بحران: عوامل اور علاقائی تناظر کا ایک پیچیدہ جال

    سوڈان میں انسانی بحران عبوری حکومت کے فوج کے ہاتھوں قبضے سے بڑھ گیا ہے. اس کے نتیجے میں ملک بھر میں مظاہرے اور مسلّح جھڑپیں ہورہی ہیں۔ اس سنگین صورتحال کی وجہ سے 1.1 ملین سے زیادہ پناہ گزینوں کی نقل مکانی ہوچکی ہے، بالخصوص اریٹیریا اور جنوبی سوڈان سے، جو اس وقت مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔ ان بے گھر افراد کی سب سے بڑی تعداد وائٹ نیل ریاست اور خرطوم میں مقیم ہیں۔

    مسلّح جھڑپیں اور اس کے نتائج:
    سوڈان کی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی کی وجہ سے خاصا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور معاشی سرگرمیاں اس کی وجہ سے مکمل طور پر رک گئی ہیں. جس کے نتیجے میں اشیاء ضرورت، ادویات، آکسیجن اور جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، بین الاقوامی امدادی اداروں نے بھی اپنی امداد معطل کر دی ہے. اس سے پہلے سے ہی سنگین حالات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    علاقائی تناظر اوراس کے اثرات:
    امریکہ جنگ زدہ علاقوں میں کشیدگی سے بھاگنے والے شہریوں کے لیے محفوظ راہداریوں کے قیام پر توجہ دے رہا ہے۔ پڑوسی ممالک پر منفی اثرات کو روکنے کے لیے نقصان پر قابو پانا ضروری ہے۔ سوڈان کے اندر بھی 2003 سے جاری دارفور میں جاری تنازعہ کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ سوڈان کی تباہی کے مزید پھیلنے اور پڑوسی ممالک پر اثر انداز ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. خاص طور پر جب سوڈان کی جغرافیائی اور سیاسی مقام پر غور کرتے ہیں۔
    SudaneseCrisis

    جغرافیائی اور سیاسی اہمیت:
    خطے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سوڈان کے مقام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تیل کی پائپ لائنیں اور دریائے نیل جو جنوبی سوڈان میں یونٹی آئل فیلڈ کو پورٹ سوڈان سے ملاتا ہے، پڑوسی ممالک کی قسمت سوڈان کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ سوڈان میں جاری لڑائی ممکنہ طور پر چاڈ کو بھی غیر مستحکم کر سکتی ہے. حکومت نواز سوڈانی عرب ملیشیا، جنجاوید کے نام سے مشہور ہیں. ان کے اور چاڈ کے درمیان جھڑپیں ایک معمول کا مسئلہ ہے۔ ایتھوپیا کو دو طرفہ تشویش کا سامنا ہے، ایک سرحدی تنازعہ کو حل کرنا اوردوسرا گرینڈ ایتھوپیا رینیسانس ڈیم میں اپنا دعویٰ منوانا، جو کہ تکمیل کے بلکل قریب ہے اور ملک کی پانی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    وسطی افریقی جمہوریہ اور لیبیا کے تناظر اوراس کے اثرات:
    وسطی افریقی جمہوریہ ریاست سوڈان کے جنوب مغرب میں واقع ہے.یہ فرقہ وارانہ فسادات اور بدانتظامی کی ایک مثال ہے۔ اسے پہلے ہی خوراک کے ذرائع کی قلّت کا سامنا ہے، اور سوڈان کے حالیہ بحران نے خطے میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں سوڈانی پناہ گزین لیبیا کا رخ کر سکتے ہیں. اس سے موجودہ کمزور معاشی وسائل پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔
    SudaneseCrisi

    بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ:
    سوڈان میں موجود انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کلیدی نمائندہ گروہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے متحد ہو کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ سوڈان کے تمام متحارب دھڑوں کے ساتھ ایک جامع بات چیت کا آغاز ہونا چاہیے. تاکہ ایک ایسا حل تلاش کیا جا سکے جو دوستانہ، جامع ہو اور اس میں شامل تمام افراد کی فلاح و بہبود کو مددنظر رکھا جائے،

    نتیجہ: سوڈان میں انسانی بحران ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو متعدد عوامل کا ملغوبہ ہے، بشمول اندرونی تنازعات، جغرافیائی اور سیاسی تحفظات، اور علاقائی تناظر اور اثرات ۔ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ یکجا ہو کر تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں اور ایک پائیدار حل کے لیے کام کریں. ایسا حل جو سوڈان کی عوام کے مصائب کو کم کرے اور خطے میں مزید عدم استحکام کو روکے۔

  • ہمارے سیاستدانوں کے عزائم، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ہمارے سیاستدانوں کے عزائم، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    ترکی کے انتخابات کو بین الاقوامی میڈیا نے بہت زیادہ کوریج دی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردگان سلطنت عثمانیہ کی شان کو زندہ رکھنے کے عزائم رکھتے ہیں۔ وہ اس میں کا میاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ ملکی وطن عزیز کے سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کے کیا عزائم ہیں۔ اس کا اندازہ 9 مئی اور اسکے بعد سپریم کورٹ کے باہر ڈنڈا بردار فورس جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں نے کی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے کیا عزائم ہیں۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی سلطنت سمجھ لیا ہے اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے کسی بھی وقت اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے ہر حد کراس کر سکتے ہیں۔ بوقت ضرورت آئین کو پامال کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دے سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں سیاست کا بازار گرم ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے اندازوں کے ذریعے کہانیاں مل رہی ہیں قوم بھی مصروف ہے سیاستدان بھی مصروف ہیں کاروبار مفلوج ہے۔ عمران خان نے اپنا سیاسی نقصان بہت کیا ہے سیاسی کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔

    آنے والا وقت کس سیاستدان کا ہوگا یہ بھی کہنا قبل از وقت ہے پلوں کے نیچے سے نہیں اوپر سے بھی پانی بہہ رہا ہے بلکہ سیلاب بہہ رہا ہے۔ وطن کی افواج اور اسکے نہایت ہی بلند ہمت سابقہ اور موجودہ جرنیلوں نے ملک کو نہ صرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا اس کی مثال عالمی دنیا دے رہی ہے ضرب عضب اور رد الفساد کی مثالیں قوم اور بالخصوص نوجوان طبقہ کے کے علم میں ہیں اس کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ بھی سر انجام دیا جا رہا ہے۔ سیاستدان اپنی جماعتوں میں موجود ایسی لابیوں کو باہر نکال پھینکیں جو ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں سیاسی جماعتوں کی صفوں میں ایسی لابیاں موجود ہیں یہ ملک دشمن قوتیں ہیں جو سیاسی جماعتوں کی صفوں میں رہ کر ہماری قومی سلامتی پر وار کرتی ہیں۔ قوم اور بالخصوص نوجوان طبقے کو اپنے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ ملک کی عزت وقار اور سلامتی کے لئے اپنے قومی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

  • اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر :تحریر : الیاس حامد
    کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے وقت رخصت پر انسان تو انسان شجر و حجر بھی اشکبار ہوتے ہوں گے۔ انسان کا کسی کے ساتھ جتنا گہرا اور مبنی بر اخلاص تعلق ہو اس کے ہجر و فراق اور وصل و الصاق پر غم اور خوشی کا اثر بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔ شاذ ونادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ خونی رشتہ بھی نہیں ہے اور داغ مفارقت پر اس قدر رنجیدہ اور غمناک ہوا جائے۔
    لاریب، یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ استاد محترم حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللہ کی رحلت دور حاضر کے عظیم واقعات میں سے ایک ہے ۔ ان کی وفات کی خبر ان کے چاہنے والوں اور الفت و عقیدت کا دم بھرنے والوں پر قیامت صغریٰ بن کر گزری، مجھ پربھی ان کی وفات کی خبر نے یہی اثر چھوڑا۔ جونہی نماز عصر کے بعد ان کی رحلت کی خبر ملی تو یوں لگا جیسے سب کچھ ہی اجڑگیا ہو۔ اس درد و الم سے لبریز خبر نے گویا چند لمحوں کے لیے سکتہ طاری کر دیا یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک مشفق و مربی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیاہے ۔اب کیا ہوگا۔ ہماری تو دنیا ہی اجڑ گئی، اس سانحے پر کیسے سروائیو کریں گے۔ اب ہمیں ہماری لغزشوں اور سستیوں پر کون متنبہ کرے گا اور اصلاح کا بیڑا اٹھائے گا۔ بس انہی خیالات میں گم کئی لمحات گزر گئے اورپاس ہونے والے حالات و واقعات کی سدھ بدھ ہی نہ رہی۔

    حافظ صاحب کا تعلق اور رشتہ بلا شبہ ہزاروں افراد سے تھا جن میں ان کے طلبا،اساتذہ کرام، جماعتی احباب، معاصرین بزرگ،رشتہ دارو دیگر افراد شامل ہیں اور ہر کسی کو ان سے جتنی بھی نسبت تھی وہ اس پر نازاں ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان سے کم سےکم قربت بھی بہت بڑے اعزاز والی بات ہے۔ اسی طرح ان کی رحلت کے بعد ہر کوئی چاہے گا کہ اس کے ساتھ جو ان کا حسن سلوک اور ہمدردی تھی اس کا اظہار کیا جائے ۔ ان کا ذکر خیر کرنا اب ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے۔
    یوں تو استاد محترم حضرت حافظ صاحب سب کے ساتھ ہی محبت واپنائیت اور خیر خواہی کا معاملہ کرتے تھے مگر جب ان کو ان کے پرانے شاگرد خصوصا جنہوں نے جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ کے ابتدائی بیجز میں فراغت حاصل کی ملتے تو حافظ صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی ۔ اپنی مصروفیت ترک کرکے وقت نکالتے ، محبت اور اپنائیت کے ساتھ پاس بٹھاتےاور اپنے ہاتھ سے ضیافت اور مہمان نوازی کرتے اس پر اگر شاگرد از راہ ادب و احترام حائل ہوتے کہ استاد محترم آپ تکلیف نہ کریں ہم خود اشیائے اکل و شرب لے لیتے ہیں تو ایسا جواب دیتے کہ جس کے بعد مزید اسرار کی سکت نہ رہتی ۔

    حافظ صاحب کے ساتھ میری آخری ملاقات پیارے بھائی اور کلاس فیلو حافظ محمد ابراھیم صاحب کے ہمراہ ہوئی۔ حافظ صاحب تب بخاری کی شرح لکھنے میں اپنے ریسرچ روم میں ہوا کرتے تھے اور ملاقات وغیر بھی وہاں ہی ہوتی تھی، جب باہر والے گیٹ سے اندر پیغام پہچایا گیا کہ آپ کے طالب علم اور روحانی بیٹے آپ سے شرف ملاقات چاہتے ہیں تو نہ صرف اجازت دی بلکہ ہمیں لینے کے لیے باہر والے گیٹ پرخود آگئے دور ہی سے بلند آواز سے پکارنے لگے:”السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔۔۔ واہ واہ مولانا صاحبان اھلا و سھلا اور ساتھ ہی گلے لگا لیا پر تپاک انداز سے معانقہ کیا۔ ہم نے عرض کی استاد جی آپ نے تکلیف کیوں کی ہم خود حاضر ہو رہے تھے تو کہنے لگے بیٹا ایسی بات مجھے اچھی نہیں لگتی جب میں آپ جیسے اپنے شاگردوں کو دیکھتا ہوں تو میرا خون بڑھ جاتا ہے دین کے طلاب اور علما کے لیے یہ تکریم تو باعث اجر ہے۔

    کمرے میں بیٹھنے کے بعد کمرے میں موجود فریج سے ضیافت کے لیے اشیا دیکھنے لگے تو ہم نے کہا استاد جی آپ تشریف رکھیں ہم خود لے لیتے ہیں۔ آپ بتادیں تو فرمانے لگے ” میری چیزیں کہاں پڑی ہیں آپ زیادہ جانتے ہیں یا میں خود ؟” اس جواب پر ہمیں مبہوت و مسکوت ہونا پڑا۔ پھر فریج میں سے فروٹ نکال کر اپنے ہاتھوں سے پیش کرنے لگے یہ سب مناظر ہمارے لیے ایسے تھے کہ جیسے ہم بے ادبی اور عدم تکریم کے مرتکب ہو رہے ہوں لیکن استاد محترم کا سختی سے حکم تھا کہ مولوی صاحب تشریف رکھیں اٹھنا نہیں ہے۔ ان کی یہ ضیافت کی ادا ہمارے لیے اب حکم استاذ تھی جسے اب حکم عدولی کرنے کی گنجائش نہ تھی ۔اس کے بعد استاد محترم ہم دونوں سے فردا فردا گھر کے افراد کی خیریت پوچھتے رہے جیسے ایک باپ اپنے بچوں کو دیر بعد ملا ہو تو ان سے سب بچوں بارے دریافت کرے ہم حیران تھے کہ فراغت کو دو دھائیاں بیت چکی ہیں۔ استاد محترم ہمارے نجی رشتوں کو اب بھی جانتے ہیں اورخیریت دریافت کر رہے ہیں۔ پھر مصروفیت کا پوچھنے لگے کہ کیا کر رہے ہیں اور ان سب میں سے ان کا اہم سوال تھا کہ جمعہ پڑھا رہے ، درس و تدریس کا کام کر رہے ، دین کے لیے کیا کر رہے ؟ ۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔ یعنی ہمارے جانے کے بعد بھی ان کو ہمارے دین اور آخرت کی اتنی فکر تھی ۔۔ فجزاہ اللہ لذالک

    حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کی جہاں بہت سی خوبیاں تھی وہاں یہ بھی ایک خوبی تھی کہ وہ خود سے چھوٹے افراد اور اپنے شاگردوں کو بھی ‘آپ، تسیں’ صیغیہ جمع برائے ادب سے مخاطب کرتے تھے ، یا بھائی کہہ کر پکارتے تھے ۔
    حافظ صاحب مجھے فرمانے لگے الیاس بیٹاآپ کا وہ واقعہ میں اپنے درس اور تقاریر میں اکثر و بیشتر بیان کرتا ہوں جب آپ کالج چھوڑ کر گھر سے بھاگ کر مدرسے آئے تھے اور آپ کے والد صاحب جو کہ پولیس میں تھے واپس لینے مدرسے پہنچ گئے تھے ۔پھر آپ ساتھ نہیں گئے بلکہ چھپ گئے ۔ دینی تعلیم مکمل کر کے ہی گئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے والد صاحب کو بھی اللہ نے سمجھ دے دی۔ وہ کیسے سمجھے اس کے درمیان ایک واقعہ ہے جو مجھے ابھی اچھی طرح مستحضر نہیں ہے اپنا قصہ دوبارہ سنائیں تاکہ میں بہتر انداز سے اس کو بطورتحریض اور موٹیویشن بیان کروں کہ سکول و کالج کے بچوں کے لیے ایک ترغیب ہو۔

    میں نے اختصار سے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اپنا جامعہ میں آنے تعلیم حاصل کرنے کا واقعہ سنایا، اس میں ٹرننگ پوائنٹ یہ تھا کہ میری تعلیم کے دوران والدہ صاحب رحمہ اللہ کا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیاتھا جس کے بعد اللہ نے انکی خدمت کرنے کا موقع دیا جس میں راتوں کو بھی جاگنا ہوتا تھا۔ اس پر اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا اور دین کی محبت دل میں ڈال دی۔
    مجھ سے میری بات سننے کے بعد حافظ صاحب فرمانے لگے میں تو اب سامعین کو کہتا ہوتا ہوں دیکھو اب وہ طالب علم اپنی تحریر و تقریر سے دین کا کام کرتا ہے لاکھوں لوگ اس کی تحریر پڑھتے ہیں، حافظ صاحب کا اشارہ جماعت کے میگزین اور جریدے کی طرف تھا کہ جس کی ادارت ایک عرصہ تک میرے ذمہ رہی۔ میرے جیسے ناچیز کے لیے اس سے بڑھ کر متاع حیات کیا ہوسکتی تھی کہ استاد محترم اپنی تقریر میں مجھے مثال کے طور پر بیان کریں، اس موقع پر دینی و ملکی مسائل بھی زیر بحث رہے جس پر استاد محترم نے ہماری ذہنی سازی کی اور دل میں موجود موہومات کو دور کرنے کا سامان پیدا کیا ، پھر ہم نے جب ان سے رخصت کی اجازت چاہی تو محترم حافظ صاحب علیہ الرحمہ ہمارے روکنے کے باوجود پھر سے ہمیں الوداع کرنے باہر والے گیٹ تک چل کر آئے اور جاتے ہوئے گلے لگا کر ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت کیا۔
    آہ ۔۔۔ آج وہ استاذ ، وہ مربی ، وہ خیرخواہ ، وہ ہمدرد ، وہ روحانی باپ ہم میں نہیں ہے۔ ان میں علمی ، تدریسی ، تالیفی ، دعوتی، ابلاغی خوبیاں تو بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ وہ کس قدر علم کے سمندر اور حکمت و ادب کے پہاڑ تھے ، وہ اس دور کے ابن حجر تھے ایسی اور دیگر کئی خوبیاں جن کا شائد ہمیں ادراک ہی نہ ہوان سب کا حظ وافر اللہ نے انہیں ودیعت کیا تھا۔ لیکن ایک پہلو جسے میں نے محسوس کیا اور مشاہدے کی بنا پر بیان کیا ایسی خوبیاں سینکڑوں افراد نے حافظ صاحب کی ذات میں نوٹ کی ہوں گی۔ دعا ہے کہ اللہ ان کی بشری لغزشوں سے اعراض فرما کر ان کی اسلام کے لیے کاوشوں کو قبول فرما کر اعلیٰ جنتوں میں جگہ دے ہمیں اپنے استاد محترم کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔ ان کی دینی وراثت جو ہم تک پہنچی ہے اس کو آگے لے کر چلیں اللہ ان کے مشن پر چلنے کی توفیق دے۔

  • اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاؤ گے

    اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاؤ گے

    اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاو گے
    مجھے سرباز دیکھو گے مجھے جانباز پاو گے

    یوسف عزیز مگسی

    ترقی پسند بلوچ سردار، شاعر، ،،سیاست دان اور صحافی

    31 مئی 1935: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عظیم بلوچ رہنما، صحافی ، شاعر اور دانشور نواب یوسف عزیز مگسی کی تعریف کرتے ہوئے مولانا ظفر علی خان نے اپنی ایک نظم میں کہا ہے کہ

    تم کو خفی عزیز ہے ہم کو جلی عزیز
    عارض کا گل تمھیں، ہمیں دل کی کلی عزیز
    لفظ بلوچ مہرو وفا کا کلام ہے
    معنی ہیں اس کلام کے یوسف علی عزیز

    جبکہ شاعر مشرق اور مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال نے انہی یوسف عزیز مگسی کی شخصیت اور جدوجہد سے متاثر ہو کر ” بڈھے بلوچ کی بیٹے کو نصیحت ” کے عنوان سے انتہائی خوب صورت نظم لکھی ۔ نواب یوسف عزیز مگسی حیرت انگیز خواہ سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے کہ ان سے جو بھی ملتا تھا وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا جس کا واضح ثبوت علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان جیسی عظیم شخصیات کا ان کی انگریز سرکار اور بلوچ معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف جدوجہد اور جذبے سے متاثر ہو کر اس کے اعتراف میں اپنی شاعری میں اس کا اظہار کرنا ہے ۔ یوسف عزیز مگسی کمال کی شخصیت تھے اور ایسی شخصیات بقول علامہ اقبال ہزاروں سال بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ یوسف عزیز بہ یک وقت سیاست دان، صحافی، شاعر اور خلق خدا و محروم اور مظلوم طبقات کے خدمت گار تھے ۔ وہ ایک روایت شکن ، ترقی پسند اور انقلابی قبائلی سردار تھے ۔

    یوسف عزیز مگسی 1908 میں جھل مگسی بلوچستان میں پیدا ہوئے وہ ایک بہت بڑے قبائلی سردار نواب قیصر خان مگسی کے فرزند تھے ۔ نواب قیصر خان مگسی کے 3 بیٹے تھے جن میں باالترتیب گل محمد خان، یوسف علی خان اور محبوب علی خان تھے ۔ بلوچ اور سندھی معاشرے میں محاورے کے طور پر اگر کسی کی طاقت اور شخصیت کو چیلنج کرنا ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ ” کون سے نواب قیصر خان کے بیٹے ہو یا یہ کہ کون سا تم کانبھو خان کے بیٹے ہو” ۔ تو یہ یہ یوسف عزیز اسی نواب قیصر خان کے بیٹے تھے جبکہ سندھ کے سابق وزیر اعلی جام صادق علی، کانبھو خان کے بیٹے تھے ۔ نواب قیصر خان مگسی، بلوچستان پر برطانوی راج اور اس کے گماشتوں کے سخت مخالف تھے اس وجہ سے وہ بلوچ قوم میں بہت مقبول اور برطانوی سرکار اور ان کے حمایت یافتہ بلوچ حکمرانوں کی نظر میں باغی اور مجرم ٹھہرے جس کی وجہ سے ان کو بلوچستان سے جلاوطن کر کے ملتان بھیج دیا گیا اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔ نواب قیصر خان مگسی کی جلاوطنی کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے گل محمد خان کو مگسی قبیلے کا نواب مقرر کیا گیا ۔ نواب گل محمد خان ایک درویش صفت شاعر تھے زیب تخلص استعمال کرتے تھے وہ 10 زبانوں میں شاعری کرتے تھے جن میں فارسی زبان بھی شامل تھی اور ان کا شمار فارسی زبان کے بڑے شعراء میں ہوتا ہے ۔ نواب گل محمد خان زیب مگسی ایک غیر فعال سردار ثابت ہوئے جس کی بناء پر ان کے چھوٹے بھائی یوسف علی خان مگسی کو نواب منتخب کیا گیا ۔ یوسف علی خان مگسی بھی شاعر تھے یہ اردو اور فارسی زبان میں شاعری کرتے تھے اور ” عزیز ” تخلص استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ ” یوسف عزیز مگسی” کے نام سے مشہور ہوئے ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی 22 سال کی عمر میں مگسی قبیلے کے سربراہ یعنی نواب مقرر ہوئے تھے ۔ یوسف عزیز بہت باشعور، حساس، بہادر اور رحم دل قسم کی شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے بحیثیت بلوچ سردار کے دیکھا اور محسوس کیا کہ ان کی سرزمین پر برطانوی سامراج کا تسلط ہے اور ان کے حمایت یافتہ خان آف قلات میر محمود خان اور ان کے وزیر اعظم شاہ شمس اپنی ہی بلوچ قوم کا نہ صرف بدترین استحصال کر رہے ہیں بلکہ ظلم اور جبر کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے ۔ خان آف قلات میر محمود خان ظلم اور جبر کا استعارہ بن گئے تھے ان کے دور میں خان آف قلات کی کٹھ پتلی حکومت اور برطانوی سرکار کے خلاف لکھنا اور بولنا یا احتجاج کرنا سنگین ترین جرم سمجھا جاتا تھا ۔ بلوچستان میں آج بھی اگر کوئی شخص کسی بھی قسم کی جرئت یا طاقت کا استعمال اور اظہار کرے تو یہ محاورہ استعمال کیا جاتاہے کہ ” مر گیا محمود خان ” یعنی محمود خان نہیں ہے اس لیئے فلاں بندہ خود کو طرم خان یا 30 مار خان سمجھ رہا ہے ۔ ایسے ظلم ، جبر ، گھٹن اور خوف و دہشت کے ماحول میں نواب یوسف عزیز مگسی، برطانوی سرکار اور حکومت قلات کے خلاف شیر کی طرح سینہ سپر ہو کر سامنے آ گئے ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی نے بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین پر بسنے والے عوام میں شعور بیدار کرنے برطانوی راج اور قلات گورنمنٹ کے ظلم اور جبر کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے صحافت اور شاعری کا استعمال شروع کر دیا ۔ انہوں نے اپنی ایک نظم میں بلوچ قوم سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ

    کرم بے تیغ بقدر وسعت جسے ہو ذوق تماشا کفن بدوش آئے

    اب آگے مرحلہ آتا ہے سخت کوشی کا
    ہمارے ساتھ نہ اب کوئی عیش کوش آئے

    یوسف عزیز نے کراچی سے البلوچ کے نام سے اخبار جاری کیا جس میں بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین پر برطانوی سرکار اور ان کی حمایت یافتہ حکومت قلات کی زیادتیوں، ناانصافیوں، ظلم اور جبر کے خلاف خبریں اور تبصرے اور اداریہ لکھا جاتا تھا حکومت نے ان کے اخبار کو بند کر دیا اس کے بعد یوسف عزیز نے مختلف ناموں سے اخبارات جاری کیے جن میں ترجمان بلوچستان، بلوچستان جدید اور ینگ بلوچ وغیرہ شامل تھے حکومت نے ان سب اخبارات پر پابندی عائد کر کے بند کر دیا ۔ یوسف عزیز نے بلوچ قوم کے مسائل پر 2 مرتبہ جیکب آباد میں سالانہ آل انڈیا بلوچ کانفرنس کا انعقاد کر کے بلوچ سرداران اور اکابرین کو تحریک آزادی کی جدوجہد میں شامل کرنے پر آمادہ کرنے کی تاریخی کوشش کی ۔ یوسف عزیز نے ” بلوچستان کی فریاد ” کے عنوان سے لاہور سے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں خان آف قلات کے وزیر اعظم شاہ شمس کے ظلم اور جبرو استبداد کو عوام کے سامنے لایا گیا جس کے جرم میں یوسف عزیز کو ایک سال زندان میں ڈالا گیا اور بھاری جرمانہ بھی کیا گیا ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی پہلے بلوچ سردار تھے جنہوں نے خواتین کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کی اور بلوچ قوم کے بیٹوں سمیت بلوچ بیٹیوں کی تعلیم پر بھی زور دیا ۔ یوسف عزیز نے جھل مگسی میں جامعہ یوسفیہ قائم کیا جس میں طلبہ کو مفت تعلیم دی جاتی اور باہر کے طلبہ کے لیے طعام اور قیام کا بھی بندوبست کیا گیا جبکہ بچیوں کے لیے اسلامی اور جدید علوم کی غرض سے جھل مگسی کے علاقے میں اسکول اور مدرسے قائم کیے۔ انہوں اپنی زرعی آمدن کی 10 فیصد رقم تعلیم کے فروغ کے لیے مختص کر دیا تھا جبک مریضوں کے علاج کے لیے اپنی ذاتی رقم سے شفا خانے قائم کیے اور پانی کی قلت کے پیش نظر انہوں نے اپنےذاتی خرچ پر” کیر تھر نہر” قائم کر کے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی ملکہ زبیدہ کی جانب سے قائم کردہ "نہر زبیدہ ” کی یاد تازہ کر دی ۔ بلوچ قوم کے یہ عظیم محسن، قائد اور دانشور صرف 27 سال کی عمر میں 31 مئی 1935 میں کوئٹہ کے ہولناک زلزلے میں جانبحق ہو گئے ۔ بلوچ قوم کے دلوں میں آج بھی ان کی ناگہانی موت کا سوگ اور غم تازہ ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نواب یوسف عزیز مگسی کا نہ تو مقبرہ بنایا گیا ہے اور نہ ہی ان کی شاعری اور مضامین اور افکار کو محفوظ کر کے کتابی شکل دی گئی ہے ۔ چوں کہ نواب یوسف عزیز مگسی دن رات قومی جدوجہد میں مصروف تھے اس لیئے وہ کم سنی میں شادی نہیں کر سکے تو ان کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بھائی محبوب علی خان مگسی کو، مگسی قبیلے کا نواب مقرر کیا گیا ۔ مگسی قبیلے کے موجودہ نواب، بلوچستان کے سابق گورنر اور سابق وزیر اعلی ذوالفقار علی خان مگسی، نواب محبوب علی خان مگسی کے پوتے اور نواب سیف اللہ خان مگسی کے صاحبزادے ہیں ۔

  • سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    گذشتہ دنوں مجھے سفرِ حجاز کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران بے شمار مشاہدات ہوئے۔ بہت سے زائرین سے ملاقات اور ان کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ زائرین کی پریشانیوں اور ان پریشانیوں کی وجہ بننے والے عناصر کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہونے سمیت کافی تلخ حقائق بھی نظر سے گزرے۔

    میرے مشاہدے میں آیا کہ حرمین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی) میں نمازیوں کی خدمت پر مامور عملہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے۔ شاید سعودی نجی ادارہ اس کام کیلئے کسی اور ملک کے لوگ رکھتا ہی نہیں۔ ان لوگوں کی ڈیوٹی حرمین کے عربی ملازمین سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ معمولی تنخواہ کے عوض یہاں کام کر رہے ہیں۔ واٹرز کولرز کی بھرائی، حرمین کی بار بار فرشی اور واش رومز کی صفائی کرتے رہنے سمیت دیگر فرائض ہر گزرتے منٹ مسلسل ادا کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ تمام ڈیوٹی کے دوران مسلسل کھڑے رہنا ان پر جیسے فرض کر دیا گیا ہے۔ سخت دھوپ میں بھی انہیں اپنے امور مسلسل نبھاتے رہنا ہے۔ اس دوران انہیں بیٹھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی سستانے کی۔ یہ خادمین بظاہر خوش باش دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے یہ خالی ہیں۔ میں نے ان کے چہروں پر بے بسی کے واضح آثار دیکھے ہیں۔

    حرمین کے واٹر کولرز (زمزم) پر ذمہ داری ادا کرنے والے ایک ہندوستانی خادم سے میں نے کہا کہ تم فارغ ہی کھڑے ہو۔ پانی کا کولر بھی بھرا ہوا ہے اور پینے والوں کا رش بھی نہیں ہے۔ فالتو کھڑے رہنے کی بجائے تھوڑی دیر بیٹھ کیوں نہیں جاتے؟۔ جواب ملا کہ چاہے پانی پینے والا کوئی نہ ہو، واٹر کولر بھی بیشک بھرا ہو، ہمیں اپنی ڈیوٹی کے دوران بیٹھنے، آرام کی اجازت نہیں ہے…… صفائی کے فرائض سر انجام دینے والے ایک بنگلہ دیشی لڑکے نے بتایا کہ تنخواہ محدود ہے اور ڈیوٹی سخت، مگر جو ملتا ہے صبر و شکر کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    دورانِ سفر میں نے بارہا ہوٹلوں میں زائرین کو رہائش، آمد و رفت اور ٹریولنگ ایجنسیوں سے متعلقہ دیگر امور پر خوار ہوتے دیکھا۔ انہیں اپنے الاٹ شدہ مقامی ایجنٹوں سے رابطہ میں شدید مشکل اور پریشانی کا سامنے کرتے پایا۔ کیونکہ یہاں آنے کے بعد وہ قدم قدم اُس کمپنی کے ایجنٹ کے محتاج ہوتے ہیں جس کے ذریعے وہ ویزہ لگوا کر یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ مگر ایجنٹ حضرات کی جانب سے مناسب رسپانس نہ ملنے پر وہ سخت خاصی کوفت کا شکار رہتے ہیں۔

    میرے پاس قلمبند کرنے کو کئی داستانیں موجود ہیں۔زیادہ تر داستانیں پہلی بار حجاز مقدس جانے والوں کی پریشانیوں پر مشتمل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زائرین اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کی سہولت کیلئے وزارت حج و عمرہ موجود ہے، جہاں وہ اپنے مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایجنٹ حضرات اس لاعلمی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے مشاہدے کی غرض سے کئی ہوٹل وزٹ کئے۔ مجھے مذکورہ صورتحال سے مختلف دکھائی نہیں دی۔ صرف 3 فیصد لوگ اپنے ایجنٹوں سے مطمئن دکھائی دیئے۔ باقی 97فیصد لوگوں سے مجھے ان ٹریول سروسز اور ایجنٹس کے خلاف بددعائیں ہی سننے کو ملیں۔

    کئی پاکستانی زائرین سے گفتگو کے دوران مجھے ایک اور مشاہدہ بھی ہوا کہ حج، عمرہ کی سروسز فراہم کرنے والی اکثر کمپنیاں (ٹریولنگ ایجنٹ) غلط بیانی کر کے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔ جو لوگ گروپ کی صورت میں جانا چاہتے تھے، انہیں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ آپ چلے جائیں، گروپ وہیں جا کر بنے گا۔ وہاں پہنچ کر کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون کس کمپنی یا ٹریول ایجنٹ کی طرف سے آیا ہے۔ لہذا انفرادی طور پر آنے والے زائرین کو اکیلے ہی اپنی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ آنے والوں کو تیاری کر کے آنے کے باوجود فرائض کی انجام دہی میں قدم قدم مشکل پیش آتی ہے۔

    اس کے برعکس میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ گروپس کی صورت میں آتے ہیں اور اجتماعی عبادات کرتے ہیں جس سے نہ صرف اک دوسرے کو ترویج و تحریک ملتی ہے بلکہ اس اجتماعی عمل سے دیگر افراد بھی استفادہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پہلی مرتبہ آنے والوں کو مشترکہ سرگرمیوں کی وجہ سے کافی سہولت رہتی ہے۔ انہیں گائیڈ بھی میسر ہوتا ہے جس کی راہنمائی میں وہ عبادات میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سفر کا فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    میں نے یہ عمل ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، عراق، اور چند دیگر ممالک سے آنے والوں میں دیکھا۔ جو ہوٹل سے لے کر تمام عبادات اور واپسی تک اجتماعی عوامل سر انجام دے کر اک دوسرے کی راہنمائی کرتے اور قدم قدم پر مشترکہ عمل کرتے ہیں۔ جبکہ گروپس کی یہ سہولت صرف پاکستان کے چند ہی شہروں سے آنے والے زائرین کی صورت میں دکھائی دی۔ شاید پاکستان کے ٹریولنگ ایجنٹس کو یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ سالانہ کتنے زائرین بھجوا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں کتنی کمائی ہو رہی ہے۔ زائرین کی پریشانیوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

    دوسری جانب حرمین کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مجھے بیشتر امور پر رائے دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں سعودی حکام اور بالخصوص وزارت حج و عمرہ کو اس پر چند تجاویز ارسال کرنے کا متمنی ہوں، کیونکہ ان امور پر ہنگامی اقدامات وقت کا تقاضہ ہیں۔ اپنی ارسال کردہ تجاویز اور آراء میں سعودی وزارت حج و عمرہ سے یہ بھی درخواست کروں گاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو ویزہ جاری کرتے ہوئے عدم تعاون کے حامل مقامی ایجنٹوں کی شکایت کیلئے سہولت کا کوئی نمبر بھی جاری کیا جائے …… زائرین کی آسانی کیلئے نہ صرف ہوٹلوں میں شکایت کاؤنٹر بنائے جائیں، بلکہ ایک فعال آن لائن کمپلینٹ پورٹل بھی بنایا جائے تا کہ زائرین اپنی شکایت رجسٹرڈ کروا سکیں اور ان کی مشکل کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے …… حج کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ بیان کردہ صورتحال کی مانیٹرنگ اور یقینی ازالے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، نیز اگر اپنے ویژن 2030ء میں مذکورہ امور بھی شامل کرلے تو زائرین کی سہولت اور آسانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

  • کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    ایران اور افغانستان کے درمیان 1973 میں دو طرفہ پانی کے مطلق معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم، ایران میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے داخلی نقل مکانی کی بڑی وجہ پانی کی قلت اور بڑھتا ہوا گرم موسم کہا جاتا ہے۔ 2021 میں، تقریباً 41,000 ایرانی بوجہ جنگلات کی کٹائی، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کی وجہ سے اپنے قدرتی رہائش گاہوں سے بے گھر ہوئے۔ایرانی اور افغان کی افواج کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ، ایران دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان کم پانی چھوڑ رہا ہے جو کہ دوطرفہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایران کا جنوب مشرقی علاقہ جو خشک سالی سے شدید متاثر ہے، افغانستان سے آنے والے پانی پر کثیر انحصار کرتا ہے۔

    افغانستان کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیم کھلنے کے باوجود بھی پانی ایران میں نہیں جائے گا۔ دو طرفہ آبی معاہدے کے مطابق افغانستان دریائے ہلمند سے سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی ایران کو فراہم کرنے کا پابند ہے۔
    ایران کا دعویٰ ہے کہ جب سے طالبان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، اس نے معاہدے کے تحت طے شدہ پانی میں سے صرف 4 فیصد پانی حاصل کیا ہے (حسن کاظمی قومی، ا ایرانی خصوصی نمائندہ براے افغاستان : RFE/RFL ریڈیو فاردا، 19 مئی، 2023)۔

    پانی کی قلت کی کے بڑھنے سے ایران کو اپنی عوام کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کے برعکس افغانستان میں جاری خشک سالی، جو 2021 سے 2022-2023 تک برقرار رہی، اس نے پانی کے بحران کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ 20 نومبر 2022 کی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق، "79 فیصد گھرانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پینے، کھانا پکانے، نہانے یا طہارت جیسی اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے پانی ناقافی ہے۔ خوراک کی قلّت اور گھرداری پر تباہ کن اثر۔”

    افغانستان کے کم پانی رکھنے کے دعوے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، بلخصوص کمال خان ڈیم کی 2022 میں تکمیل کے مدنظر۔ افغان صدر غنی نے ایران کو مفت پانی کی فراہمی بند کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا تھا، اور ایران کے ساتھ پانی کے بدلے تیل کے تبادلے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس سے افغانستان کی پانی کی قلّت کے دعووں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
    کیا کمال خان ڈیم اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے باوجود بھی افغانستان میں سابقہ خشک سالی برقرار ہے یا نہیں، اس کا اندازہ صرف آزاد ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ ان سے معاملات کی جانچ اور ایک فیصلہ تک پہنچنا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہونا چاہئے۔

  • اوول کے ہیرو   فضل محمود  کا یوم وفات

    اوول کے ہیرو فضل محمود کا یوم وفات


    ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ایوا گارڈنر 50 کی دہائی میں فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ کی شوٹنگ کے لیے لاہور آئی تھی ، ایک کلب میں اس نے فضل محمود کو دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی اور پھر خواہش ظاہر کی کہ فضل اس کے ساتھہ رقص کرے 1954ء کے دورۂ انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ملکہ برطانیہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملکہ الزبتھہ نے فضل محمود کو دیکھہ کر فوراً کہا کہ آپ پاکستانی نہیں لگتے، آپ کی آنکھیں نیلی کیوں ہیں؟

    پاکستان نے فضل محمود کی 12 وکٹوں کی بدولت اوول ٹیسٹ جیتا تو اگلے دن برطانوی اخبار نے سرخی لگائی
    ENGLAND FAZZALED OUT
    اس کے بعد فضل محمود ’’ اوول کے ہیرو‘‘ کہلاتے رہے۔
    1955میں وزڈن نے انہیں سال کے 5 بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا ۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے۔

    ان دنوں صرف فلمی اداکارائیں اشتہارات میں اپنے حسن کا راز بتایا کرتی تھیں۔ پھر جب اس نوجوان کرکٹر کی شہرت کے ساتھہ اس کے حسن وجمال کا چرچا شروع ہوا۔ گورا چٹا نیلی آنکھوں والا فضل محمود لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ تواشتہاری کمپنیوں نے بھی فضل محمود کی شہرت سے فائدہ اٹھانا چاہا اور یوں فضل محمود برل کریم کے اشتہار میں آکر پاکستان کے پہلے کھلاڑی ماڈل بن گئے۔

    فضل محمود 18 فروری 1927 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج سے گریجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے1943 سے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ دس ٹیسٹوں میں کپتانی بھی کی. پاکستان کو 1952ء میں ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ ملا اور پاکستان نے پہلا مقابلہ ہندوستان کے خلاف دہلی میں کھیلا جہاں اسے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کے کھلاڑی بوجھل دل کے ساتھہ میدان سے لوٹ رہے تھے کہ باؤنڈری لائن پر کھڑی ایک لڑکی نے کہا
    "اچھا کھیلے، لیکن ہندوستان سے جیت نہیں سکتے!”۔
    یہ لڑکی تھی اس وقت کے وزیراعظم ہندوستان جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی ، جو بعد میں خود بھی وزیراعظم بنیں اور اس جملے کے مخاطب تھے پاکستان کے نائب کپتان فضل محمود ، جنہوں نے اپنی آپ بیتی”From Dusk to Dawn” میں اس کا ذکر کیا ہے۔

    فضل نے اس طعنے کا جواب لکھنؤ میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ میں دیا، پہلی اننگز میں 5 اور دوسری اننگزمیں 7 یعنی کل 12 وکٹیں لے کر، جس کی بدولت پاکستان نے ایک اننگز اور 43 رنز کے بڑے مارجن سے مقابلہ جیت لیا ۔
    پھر فروری 1959 میں کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں گیری سوبرز کو آؤٹ کرکے فضل محمود ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔

    شاعر تک فضل محمود کی شہرت اور مقبولیت سے متاثر ہوئے۔ مجید امجد کی 1955 کی نظم ’’ آٹو گراف ‘‘ کی یہ سطریں فضل محمود کے بارے میں ہی ہیں۔۔۔

    وہ باؤلر ایک ، مہ وشوں کے جمگٹھوں میں گھر گیا
    وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
    حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
    ۔
    فضل محمود نے کیرئر میں 34 ٹیسٹ کھیلے اور 139 وکٹیں حاصل کیں ۔
    فضل محمود پولیس میں ملازم ہوئے اور ڈی آئی جی کے عہدے تک پہنچے۔
    ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک منہاج القران میں شامل ہوگئے۔ اس کے سیاسی بازو پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے الیکشن بھی لڑا۔

    آخری عمر میں جانے کیا جی میں آئی کہ بیوی کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد عشأ سے فجر تک کا وقت داتا دربار پر گزارتے رہے۔ اپنے محلے کی مسجد میں اذان بھی دیتے تھے۔
    فضل محمود کا 30 مئی 2005 کو لاہور میں انتقال ہوا، اور قبرستان مسافر خانہ، گڑھی شاہو میں سپردخاک ہوئے۔

  • پھلتا پھولتا ضلع تلہ گنگ آخر کہاں کھو گیا۔؟

    پھلتا پھولتا ضلع تلہ گنگ آخر کہاں کھو گیا۔؟

    دوسری قسط
    تحریر: شوکت علی ملک
    ضلع تلہ گنگ کیساتھ جو کھلواڑ اور شہیدوں اور غازیوں کی اس دھرتی کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا اس کے مجرم حکومتِ وقت کے مقامی نمائندگان ہیں، تلہ گنگ و لاوہ میں اس وقت حکمران جماعت کے کم و بیش سات نامی گرامی نمائندے موجود ہیں، جوکہ ضلع تلہ گنگ کے وجود پر مارے جانے والے شب خون کو روک سکتے تھے، مگر انہوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرکے اس دھرتی ماں اور تلہ گنگ و لاوہ کی عوام کیساتھ بہت بڑی زیادتی کی ہے، جس کا ازالہ بھی اب شاید ممکن نہ ہو، تلہ گنگ ضلع کے قیام کے بعد ذاتی عناد پہ ن لیگ کے سینئر رہنما سردار منصور حیات ٹمن نے تلہ گنگ ضلع کے ڈی نوٹی فائی کی پیشن گوئی کی تھی، جوکہ کسی کی خواہش بھی ہوسکتی ہے، بَہَرحَال دلوں کے بھید تو اللّٰہ جانتا ہے، انہوں نے یہ بات آخر کیوں اور کس پراسپیکٹو میں کی تھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، اور سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر کسی کو تلہ گنگ کے ضلع بننے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا تو اقتدار کے منصب پہ بیٹھے حکمرانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا ان کا فرض نہیں بنتا تھا کہ اس معاملے کو اعلیٰ سطح پہ اٹھایا جاتا؟ مگر شاید انہوں نے اس پہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے کو ہی غنیمت سمجھا، کورٹ آرڈر کے باوجود تلہ گنگ کو اپنی کھوئی ہوئی شناخت نہ مل سکی، انتظامی افسران تعینات نہ ہوسکے، ضلع تلہ گنگ میں 18 محکموں کے دفاتر ان کے آفیسرز اور سٹاف تعینات کیا گیا تھا مگر بدقسمتی سے ایک ایک کرکے نہ صرف افسران اور سٹاف کی ٹرانسفرز کردئےگئے بلکہ ضلعی دفاتر کےلیے پنجاب حکومت کی جانب سے مختص کی گئی زمین کا اتا پتا بھی نہیں اور ظلم و بربریت کی انتہاء اب تو ضلعی دفاتر کے باہر لگے سائن بورڈز تک اکھیڑ دئیے گئے، مگر بھرے شہر سے کسی ایک شخص کا ضمیر بھی نہیں جاگا اور پوچھنا تک گوارہ نہیں کیا کہ آخر اس دھرتی سے کس چیز کا انتقام لیا جارہا ہے۔؟
    جاری ہے

  • خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے لازوال اوربے مثال قربانیوں بے نظیر جرات ا ور استقلال سے دنیا کی سپُر پاورز کی افواج کو حیران کردیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے وہ جھنڈے گاڑے عسکری تاریخ میں قابل تقلید باب رقم کردئیے وطن عزیز قائم ودائم ہے بھارت کی جرات نہیں کہ وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے بھی دیکھے ۔ تاہم بھارت سمیت کچھ طاقتیں وطن عزیز میں اندرونی انتشار پھیلا کر ملک کو معاشی طورپر کمزورکرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم اپنے سیاسی مستقبل کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان ان سیاسی جماعتوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لئے نہیں اپنے آنے والے کل پر توجہ دیں

    وطن عزیز کے بہتر مستبل کے لئے تعلیم پر توجہ دیں ان جماعتوں کی اکثریت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے انہیں آئین اور قانون کی حکمرانی سے کوئی غرض نہیں یہ عمر کے آخری حصے میں اپنے بچوں کے بہتر سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے ۔ پی ڈی ایم رہے نہ رہے پی ٹی آئی رہے یا نہ رہے وطن عزیز قائم ہے اور قائم رہے گا۔ امریکہ اور چین کے اپنے مفادات ہیں ۔ روس کے اپنے مفادات ہین ۔ سعودی عرب سمیت دیگر مسلمان ممالک کے اپنے مفادات ہیں خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی چین خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے امریکہ نہیں چاہتا کہ چین کا اثرورسوخ اس خطے میں ہو۔ چین نے کشمیر میں ہونے والی جی 20 کانفرنس میں جانے سے انکارکردیا ۔ یہ ا س خطے میں سیاسی تبدیلی ہے جو اس خطے میں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کا ثالثی کردا ر ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ ،روس اور یو کرائن کی جنگ کو ختم کرانے کی چین کی کوشش یہ سب تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں

    ذمہ داران ریاست کو چاہیئے کہ وہ وطن عزیز کے اور24 کروڑ عوام کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا ہے ملکی سیاسی جماعتیں جو کھیل کھیلنے میں لگی ہیں اس کھیل میں 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان نہیں ہیں ان کے اپنے اور اپنی اولادوں کا سیاسی مستقبل ہے۔ نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں،ان سیاسی جماعتوں کی خاطر ملک میں جلاؤ گھیرائو اور ہنگاموں سے دور رہیں