پھلتا پھولتا ضلع تلہ گنگ آخر کہاں کھو گیا۔۔۔؟؟؟
پہلی قسط
تحریر:شوکت علی ملک
تلہ گنگ ضلع بناؤ تحریک جوکہ برسوں سے چلتی آرہی تھی، جس کو عوامی مطالبات و خواہشات کے عین مطابق سابق صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر نے شبانہ روز محنتوں اور کاوشوں سے عملی جامہ پہناتے ہوئے تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دلوا کر غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین کو ایک منفرد شناخت سے نوازا، مگر بدقسمتی سے تلہ گنگ و لاوہ کے عوام اپنے اس قیمتی اثاثے ضلع تلہ گنگ کا بھی دفاع نہ کرسکے، سابقہ دور حکومت ختم ہوتے ہی موجودہ ن لیگ کی منظورِ نظر پنجاب حکومت نے نامعلوم کرداروں کی ایماء پر آتے ہی ضلع تلہ گنگ کی بکھیاں ادھیڑنا شروع کردی، جس کی پہلی باضابطہ کاروائی تلہ گنگ میں نوتعینات ضلعی افسران کی ٹرانسفرز کرکے کی گئی، جس کے بعد الیکشن کمیشن کے احکامات کی آڑ لیتے ہوئے تلہ گنگ ضلع کو ڈی نوٹی فائی کرکے تلہ گنگ و لاوہ کی عوام پر ظلم و بربریت کی انتہاء کردی گئی، مگر کسی کا کیا قصور جب کسی قوم یا قبیلے کے لوگ بےحس ہو جائیں وہ اپنے حقوق کے حصول کی بجائے خاموشی اختیار کیے رکھیں اور مفاد پرستی کو ترجیح دیں تو وہ ایسے ہی برتاؤ کے مستحق ٹھہرتے ہیں، ہم سب اس سیاہ دور کی اوچھی کارروائی پر خاموش تماشائی بنے رہے، جس کا خمیازہ شاید ہمارے آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی، اس دوران ضلع تلہ گنگ کی بنیاد رکھنے والے اور اس کو عملی جامہ پہنانے والے کچھ غیور، باشعور اور دھرتی کے وفادار بیٹوں نے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس پر معزز عدالت نے تلہ گنگ ضلع بحالی کے احکامات صادر فرمائے، مگر موجودہ قانون و آئین سے بالاتر نگران حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی اور یوں تلہ گنگ اب بھی اپنی کھوئی ہوئی شناخت پانے کےلیے کسی مسیحا اور دھرتی کے وفادار بیٹے کا بڑی شدت سے انتظار کررہا ہے۔
جاری ہے۔۔

Category: بلاگ
-

پھلتا پھولتا ضلع تلہ گنگ آخر کہاں کھو گیا۔؟
-

یوم وفات،زیب النساء،فارسی کی شاعرہ
گرچہ من لیلی اساسم، دل چو مجنون دونواست
سر بہ صحرا می زنم لیکن حیا زنجیر پا استزیب النساء
یدائش:15 فروری 1638ء
دولت آباد
وفات:26 مئی 1702ء
دہلی
مدفن:لاہور
رہائش:آگرہ
والد:اورنگ زیب عالمگیر
والدہ:دلرس بانو بیگم
بہن/بھائی:زبدۃ النساء،
بدر النساء
زینت النساء
مہر النساء
سلطان محمد اکبر
بہادر شاہ اول
محمد اعظم شاہ
محمد کام بخش
مغل محمد سلطان
خاندان:مغلیہ سلطنت
زبان:فارسی
شعبۂ عمل:شاعریہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب کی بیٹی عالمہ، فاضلہ، عارفہ اور فارسی زبان کی شاعرہ تھی۔ زیب النساء نے تین سال کے عرصے میں قرآن مجید حفظ کیا۔ فارسی، عربی اور اردو زبان سے کافی واقفیت پیدا کرلی۔ ہیت، فلسفہ اور ادبیات میں بھی کافی درک حاصل کرلی۔ دانشمند، ادب دوست اور شاعر پرور تھی۔ ان کی حمایت کرتی یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ کتابیں، رسالے اور دیوان اس کے نام لکھے گئے ہیں۔ ان کے والد ہر کام میں اس سے مشورہ کرتے تھے۔ شادی نہیں کی۔ 65سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ زیب المنشات اور زیب التفاسیر کتابیں ان کے آثار ہیں۔
پیدائش
۔۔۔۔۔
زیب النساء (خواتین کی زینت)، شہزادہ محی الدین(مستقبل کے شہنشاہ اورنگ زیب) کی سب سے بڑی صاحبزادی، شادی کے ٹھیک نو ماہ بعد 15 فروری 1638 کو دکن کے شہر دولت آباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ دلرس بانو بیگم اورنگزیب کی پہلی بیوی اور چیف ساتھی تھیں اور صفویڈ ایران(فارس) کی حکمران سلطنت کے ممتاز خاندان کی شہزادی تھیں۔ زیب النساء اپنے والد کی چہیتی بیٹی تھی۔
تعلیم اور کارنامے
۔۔۔۔۔
اورنگ زیب نے دربار کی ایک خاتون حفیظہ مریم پر زیب النساء کی تعلیم کی ذمہ داری ڈالی۔ ایسا لگتا ہے کہ زیب النسا کو اپنے والد کی ذہانت اور ادبی ذوق ورثہ میں ملی تھی کیونکہ زیب النساء نے فقط تین سال میں قرآن حفظ کیا اور سات سال کی عمر میں حافظہ بن گئیں۔ اس موقع پر ان کے والد نے ایک زبردست دعوت اور عوامی تعطیل منایا۔ شہزادی کو اس کے خوش و خرم والد نے 30000 سونے کے سکے کا انعام بھی دیا۔ اورنگ زیب نے اپنی شہزادی بیٹی کو اچھی طرح تعلیم دینے کے لیے استانی بی کو بھی بطور انعام سونے کے30000 سکے دئے۔
تب زیب النساء نے اس وقت کے علوم کو محمد سعید اشرف مازندرانی سے سیکھا ، جو فارسی کے عظیم شاعر بھی تھے۔ وہ فلسفہ ، ریاضی ، فلکیات،ادب سیکھتی تھیں اور فارسی ، عربی اور اردو کی ماہر تھیں۔ خطاطی میں بھی ان کی اچھی شہرت تھی۔
اس کی لائبریری نے دوسرے تمام لوگوں کے نجی ذخیرے کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس نے اس کے حکم کے مطابق ادبی کام پیش کرنے یا اس کے لیے مخطوطات نقل کرنے کے لیے بہت سارے علما کو آزادانہ تنخواہوں پر ملازمت دی اس کی لائبریری میں قانون ، ادب ، تاریخ اور الٰہیات جیسے ہر موضوع پر کام ہوا۔
زیب النساء ایک نیک دل خاتون تھیں اور ہمیشہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتی تھیں۔ اس نے بیوہ خواتین اور یتیموں کی مدد کی۔ اس نے نہ صرف لوگوں کی مدد کی بلکہ ہر سال وہ حجاج کو مکہ اور مدینہ بھیجتیں۔ انہوں نے موسیقی میں بھی دلچسپی لی۔
اورنگزیب کا انضمام
۔۔۔۔۔
جب شاہجہان کے بعد اورنگ زیب شہنشاہ ہوا تو زیب النساء 21 سال کی تھی۔ جب اورنگ زیب کو اپنی بیٹی کی صلاحیت اور قابلیت کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ اس سے اپنی سلطنت کے سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرنا شروع کیا اور اس کے مشورے سنتا۔ کچھ کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ جب جب زیب النساء دربار میں حاضر ہوتیں اس کے استقبال کے لیے ہر بار اورنگزیب تمام شاہی شہزادوں کو بھیجتا۔ زیب النساء کی چار دیگر چھوٹی بہنیں تھیں: زینت النساء ، زبدۃ النساء ، بدر النساء اور مہر النساء۔نمونہ کلام
۔۔۔۔۔
گرچہ من لیلیٰ اساسم، دل چو مجنون دونواست
سر بہ صحرا می زنم لیکن حیا زنجیرِ پا استدخترِ شاہم ولیکن رو بہ فقر آوردہ ام
‘زیب’ و ‘زینت’ بس ہمینم نامِ من زیب النساء استتاریخ پاک و ہند میں اس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ زیب النساء نے عربی اور فارسی کی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کیا۔ شعروشاعری میں اپنے استاد ملا محمد سعید اشرف ماژندارانی سے اصلاح لی، علما اور اہل فن کی بھر پور سرپرستی کی اور ان کے لیے ایک اعلٰی پائے کا کتب خانہ قائم کیا۔
اشعار کا نمونہ ملاحظہ ہو:۔
بشکند دستی کہ خم در گردنِ یاری نشد
کور بہ چشمی کہ لذت گیر دیداری نشد
صد بہار آخر شد و ہر گل بہ خرقی جا گرفت
غنچۂ باغِ دلِ ما زیب دستاری نشد -

کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟
کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟
ہاں وہ کر سکتے ہیں. اطلاعات کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے ایک سفارت کار نے اشارہ دیا ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکہ ریاض کے جوہری پروگرام کے حصول پر رضامند ہو جائے اس شرط پہ کہ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں ۔ تاہم، یہ مطالبہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے، اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں امریکہ اس کی تعمیل کرے گا۔ ریاض نے معاہدے پر دستخط کرنے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے جب تک کہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی دفاعی تعاون نہ ہو ۔
سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ہی مختلف حوالہ سے امریکہ کے لیے اہم اتحادی ہیں. حالیہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے، اور ایران اور شام کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم، امریکہ جمال خاشقجی کے قتل کو نہیں بھولا. اس کے ساتھ ساتھ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے سعودی عرب کے عزم نے تعلقات کو متاثر کیا ہوا ہے۔اسی دوران، واشنگٹن میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سعودی عرب اسرائیل سے سنجیدہ سفارتی کوششوں کی بھی توقع رکھتا ہے. بالخصوص تجارت کے لیے فلسطینی کرنسی کے استعمال کے حوالے سے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ ریاض ابراہم معاہدے میں شامل نہیں ہوا۔
اگر دونوں ملک ان مشکلات سے نمٹیں اور سفارتی تعلقات قائم کر لیں تو کافی مثبت نتائج نمودار ہوسکتے ہیں۔ اولین طور پہ، یہ مشرق وسطیٰ میں پختہ امن و استحکام کے قیام کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی مفاہمت کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی تنازعات کو حل کیا جائے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ دوم، یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ بیشتر عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ تیسرے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا انحصار اس چیز پہ ہے کہ اس وقت اقتدار میں بادشاہ کا طرز عمل کیا ہے۔ بالاخر، یہ بات قابل غور ہے کہ اگرچہ اسرائیل اور سعودی عرب کے علاقائی مفادات بعض مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ واشنگٹن کے مفادات سے بھی ہم آہنگ ہوں۔
اس کے باوجود بھی، اگر آخرکار تل ابیب اور ریاض کے مابین کوئی معاہدہ طے پاتا ہے، تو یہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے
متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک
حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل
عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم
-

پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے
پہلے تو ایک عمر گزاری نشاط میں
پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئےحرا قاسمی
پیدائش: 26 مئی 2001
تعلیم: ایم اے انگریزی
آغاز شاعری: 2016
پتہ : ہندوستان صوبہ اترپردیش ضلع اٹاوہغزل
۔۔۔۔۔
دکھ کی دیوار گرانے سے رہی
یعنی میں خود کو بچانے سے رہی
چھوڑ جائے گی یہ ریزہ کر کے
زندگی ساتھ نبھانے سے رہی
دل نے سوچا ہے تری وحشت کو
سو مجھے نیند تو آنے سے رہی
درد ہوتے ہی چھلک جائیں گے
اشک آنکھوں میں چھپانے سے رہی
خود ہی احوال سمجھ لے میرا
میں تجھے دل تو دکھانے سے رہی
دور ہو جائیں اندھیرے مجھ سے
ایسی قندیل جلانے سے رہی
اب یہاں اہل ستم رہتے ہیں
اب میں زنجیر ہلانے سے رہی
لوگ محروم سماعت ہیں حراؔ
حال غم ان کو سنانے سے رہیغزل
۔۔۔۔۔
وحشتوں کے نگر میں رہتے ہیں
یعنی ظلم و ضرر میں رہتے ہیں
بار سر پر اٹھائے نفرت کا
لوگ شہر خطر میں رہتے ہیں
منزلوں کی تلاش میں ہم لوگ
رات دن بس سفر میں رہتے ہیں
مسند دل پہ جن کا قبضہ ہو
کب وہ زیر و زبر میں رہتے ہیں
وہ جو رہتے تھے دل کی دنیا میں
اب دکھوں کے کھنڈر میں رہتے ہیں
ہم وہ جدت پسند ہیں جو حراؔ
کرگسوں کے نگر میں رہتے ہیںغزل
۔۔۔۔۔
دامن چھڑا کہ دشت سے ہالے میں آ گئے
ہم جیسے بد نصیب بھی گھاٹے میں آ گئے
روداد سن کے اُس کی کیا یوں تو ضبط پر
کچھ اشک میری آنکھ کے پیالے میں آ گئے
پہلے تو ایک عمر گزاری نشاط میں
پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے
تنہائیوں کا درد سمجھنے لگے ہیں ہم
اے ہجر! جب سے تیرے گھرانے میں آ گئے
دن بھر سجائی شوق سے بزمِ طرب حرا
آئی جو شب تو دکھ کے احاطے میں آ گئے -

مسرت شاہین ،کامیاب اداکارہ ناکام سیاستدان ،
اردو ، پشتو اور پنجابی فلموں کی مشہور پاکستانی اداکارہ اور رقاصہ مسرت شاہین 23 مئی 1954 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون اداکارہاور ڈانسر ہیں جنہوں نے اسلامک کلچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مسرت شاہین کی وجہ شہرت پشتو فلموں میں مخصوص قسم کا رقص کرنا ہے جن کے ڈانس کی وجہ سے ان کے چاہنے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ وہ سینما کی اسکرین پر جب بھی ڈانس کرتے ہوئے جلوہ گر ہوتی تھیں تو سینماؤں میں موجود تماشبین دیوانہ وار سیٹیاں بجاتے ہوئے جھومنے لگ جاتے تھے جیسے ان پر سحر یا وجد طاری ہو گیا ہو۔ مسرت شاہین نے مجموعی طور پر 216 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں پشتو کی 120 فلمیں ، پنجابی کی 58 اردو کی 33 اور 5 ڈبل ورژن فلمیں شامل ہیں ۔
ان کی مشہور فلموں میں حسینہ ایٹم بم، آوارہ اور دھمکی ، زلزلہ ، دلہن ایک رات کی، وغیرہ شامل ہیں ۔ مسرت شاہین نے 2000عیسوی سن میں پاکستان تحریک مساوات (P T M) کے نام سے اپنی ایک سیاسی جماعت قائم کی اور 2002 کے عام انتخابات میں ڈیرہ اسماعیل خان سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ۔ مولانا اور اداکارہ ، رقاصہ اور سیاست دان کے درمیان مقابلہ بڑا دلچسپ رہتا تھا ۔ مسرت شاہین کہتی تھیں کہ میں ڈیرہ اسماعیل خان کی اصل باشندہ ہوں مولانا صاحب پنیالہ کے ہیں اس لیے ووٹ کی اصل حقدار میں ہوں ساتھ میں وہ رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہتیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب قابل احترام بزرگ شخصیت اور میرے بھائیوں جیسے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ہر بار مولانا سے الیکشن میں شکست سے دوچار ہوتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود سیاست سے مایوس یا دل برداشتہ نہیں ہوئیں اور مستقبل میں کامیابی کیلئے اب بھی پرامید دکھائی دیتی ہیں ۔
-

چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟
چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟
چین اور بھارت کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعہ، جو 3,440 کلومیٹر (2,100 میل) پر پھیلا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے سرحدی علاقے میں ایک بلند و بالا فضائی اڈے کی حالیہ تعمیر نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تقریباً 20 سال کی تعمیر کے بعد 2019 میں لداخ میں دربک-شیوک-دولت بیگ اولڈی (DSDBO) سڑک کی تکمیل کے بعد، تنازع کی صورت میں وسائل اور عملے دونوں کو متحرک کرنے کی ہندوستانی صلاحیت نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ 2022 کے آخر میں، ریاست اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں پہلی بار دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی۔
2021 میں چین نے ہندوستان پر اپنے فوجیوں پر فائرنگ کا الزام لگایا تھا جس کی ہندوستان نے زوردار تردید کی تھی۔ اگر درست ہے، تو یہ واقعہ 1996 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پہلی خلاف ورزی ہو گی. اس معاہدہ کا مقصد سرحد کے قریب ہتھیاروں کے استعمال کو روکنا تھا۔سری نگر میں 2023 میں طے شدہ G20 سربراہی اجلاس تنازعات میں گھرا ہوا ہے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ چین اور سعودی عرب نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی اور 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے حاصل ہونے والے مثبت نتائج کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، جیسا کہ ڈی شان اسٹوکس نے اشارہ کیا، "ناحق حاصل شدہ مراعات کے حامل افراد اکثر چیزوں کو ‘سیاسی درستگی’ کے طور پر گھماتے ہیں، ظلم کرنا چاہتے ہیں۔”
چین، جو پاکستان کا قریبی اتحادی ہے، اس اجلاس میں شرکت نہیں کرنا چاہتا، جسے وہ کشمیر پر بھارت کے "غیر قانونی قبضے” کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب متنازعہ علاقہ پر منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے ہر تنازع سے بچنے کو ترجیح دیتا ہے۔ترکی، جو کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے پہچانا جاتا ہے، اجلاس میں شرکت نہ کرنے میں چین، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ شامل ہے۔ مصر نے بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارت کی جانب سے متنازعہ خطے میں اجلاس کی میزبانی کے فیصلے کوایسے دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کے ان سفارت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش. جو اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ چین، پاکستان اور ترکی خطے پر قبضہ کے خلاف ہیں۔ کشمیر پر عوامی موقف کی بنا پر شرکت کا کوئی امکان نہیں۔
-

سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی
ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی سیاسی عدم استحکام معاشی بدحالی انتظامی ،اداروں کے درمیان اور اداروں کے اندر کشمکش حکومتوں کے چل چلاؤ کی بے یقینی جیسے ان گنت مسائل کے گرداب میں عام آدمی کے متعلقہ معاملات دب کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ہر محب وطن غمزہ اور اشکبار ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد 24 کروڑ عوام کو بلاشبہ عمران خان اس وقت عوام میں مقبول ہیں لیکن وہ یہ تسلیم کریں ان میں وہ سیاسی تجربہ نہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف میں ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے نواز شریف کو ڈان اور سیلسین مافیا قرار دیا گیا کیا یہ کسی قوم یا ملک کی بدنصیبی نہیں کہ قوم کے لیڈروں کو غدار، ور اب موجودہ سرکار دہشت گرد قرار دے رہی ہے ؟ اس سے بڑا اس قوم کے ساتھ ظلم کیا ہو گا؟ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں آج بھی اگر وہ پاکستان موجود ہوتے توسیاسی انتسار کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ملک وقوم کے لیے وہ عمران کو بھی گلے لگاتے اور اس کی مثال موجود ہے ، نواز شریف کو الیکشن مہم کے دوران خبرملی کہ عمران خان لاہور میں جلسہ گاہ سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تو نواز شریف نے اپنا جلسہ لیاقت باغ ملتوی کیا اور شہباز شریف اور پرویز رشید کو عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال بھیجا جبکہ اسلام آباد بنی گالہ بھی چل کر گئے۔ اُس کے بدلے عمران خان کی جماعت نے نواز شریف کو بین الاقوامی چور اورڈاکو کے الفاظ سے یاد کیا۔ آج سیاسی لیڈر شپ نہ ہونے کا خمیازہ ملک اور قوم بھگت رہے ہیں ۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے سیاسی معاملات کو سیاسی اور آئینی پیچیدگیوں کو آئین اور قانونی بردباری سے حل کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے مذاکرات کیے جائیں۔ اس ملک و قوم کی خاطر ضد ،انا ،ہٹ دھرمی میں نہ مانوں کا خاتمہ کیا جائے سیاستدان مل کر جمہوریت اور ملک کی بقا اور سلامتی ،عوام کی خاطر جو اس وقت بند گلی میں کھڑی ہے مذاکرات کریں۔
-

اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ مسلم لیگ ن اور ق کے امیدواران کو کیونکر ووٹ دیں گے.؟
اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ مسلم لیگ ن اور ق کے امیدواران کو کیونکر ووٹ دیں گے.؟
تحریر: شوکت ملک
وہ تلہ گنگ جس کو عوامی مطالبات اور خواہشات کے عین مطابق حافظ عمار یاسر کی دن رات کاوشوں سے ضلع کا درجہ دلوایا گیا، ن لیگ کی منظورِ نظر نگران پنجاب حکومت نے آتے ہی نہ صرف افسران کی ٹرانسفرز کردی، بلکہ تلہ گنگ کو بطور ضلع ڈی نوٹیفائی بھی کردیا گیا اس کا قصور وار کون ہے۔؟
لاہور ہائیکورٹ اور راولپنڈی بینچ کے تلہ گنگ ضلع بحالی کے فیصلے کے باوجود آج تک تلہ گنگ میں ضلعی افسران کی تعیناتیاں کیوں نہ ہوسکیں اس کے لیے چوہدری سالک سمیت ن لیگی مقامی قیادت نے اقتدار کے ایوانوں میں کتنی بار آواز اٹھائی۔؟
تلہ گنگ ضلع کی بحالی اور افسران کی تعیناتیوں کےلیے ن لیگی مقامی قیادت، ق کے منتخب ایم این اے اور حلقے میں ان کی نمائندگی کرنے والے پردھان منتری جوکہ اپنے خاص الخاص لوگوں کی شادی بیاہ کی تقریبات اور علامتی ریلیوں میں شرکت کےلیے تو پہنچ جاتے ہیں انہوں نے کتنی احتجاجی تحریکیں چلائیں۔؟
نگران پنجاب حکومت جوکہ وفاقی حکومت کے احکامات پر ہر جائز و ناجائز کام جوکہ اس کے اختیارات میں ہی نہیں آتے کر گزرتی ہے، چوہدری سالک جوکہ وفاقی وزیر اور بطور اتحادی موجودہ حکومت کا حصہ بھی ہیں، ابھی تک ضلع تلہ گنگ کی بحالی اور افسران کی تعیناتیاں کیونکر نہیں کروا سکے۔؟
سردار منصور حیات ٹمن جوکہ ن لیگی اعلیٰ قیادت کے انتہائی قریبی سمجھے اور جانے جاتے ہیں، اور مبینہ طور پر وہ ن لیگی معاشی ٹیم کا اہم ترین حصہ بھی ہیں، ابھی تک علاقے کی تعمیر و ترقی کےلیے کتنے میگا پراجیکٹس لا چکے ہیں۔؟
سابقہ حکومت میں تلہ گنگ میں انڈسٹریل زون کے قیام کےلیے جہاں پنجاب حکومت کی جانب سے جگہ کی ایلوکیشن کےلیے تمام ورک مکمل تھا، تاہم جلد وفاقی حکومت کے اشتراک سے تلہ گنگ میں انڈسٹریل زون کا قیام عمل میں لایا جانا تھا اس کےلیے ن لیگی مقامی قیادت کی جانب سے اب تک کتنی کوشش کی گئی۔؟
سابقہ حکومت میں تلہ گنگ و لاوہ کےلیے جو اربوں روپے کے پراجیکٹس لائے جارہے تھے، جن میں بجلی، گیس، روڈز کی فراہمی، سکولز، کالجز، ہسپتالوں کے قیام اور اپگریڈیشن سمیت کئی ایک میگا پراجیکٹس شامل تھے، جوکہ چوہدری سالک کے ہی مرہون منت سمجھے جاتے رہے، اس کا سلسلہ اب کیونکر رک گیا ہے۔؟
شہریار اعوان جس کے نانا ملک سلیم اقبال شہباز شریف کے قریبی ترین رفقاء میں شمار کیے جاتے ہیں، سردار عباس گروپ جوکہ سیاسی میدان میں ایک منفرد اہمیت کا حامل گروپ ہے، سردار اسد محمود کوٹگلہ جوکہ مسلم لیگ ق کے نامزد امیدوار بھی ہیں ان تمام احباب کی حالیہ دور میں علاقے کی تعمیر و ترقی کےلیے کیا کردار ادا کیا۔؟
مندرجہ بالا تمام حقائق کی روشنی میں تلہ گنگ و لاوہ کے باشعور و غیور عوام کیونکر مسلم لیگ ن اور ق لیگ کے امیدواران کو ووٹ دے کر اپنے بنیادی حقوق اپنے بچوں کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے دشمن بنیں گے؟ اپنے ضمیر کی آواز پر اب ووٹ کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

-

گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد
حکیم لقمان سے ان کے آقا نے کہا ایک بکری ذبح کرکے اس کے بہترین حصے کا گوشت لے آئو‘ وہ ذبح کرکے ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے آئے۔ پھر کہا ایک اور بکری ذبح کرکے اس کا بدترین گوشت لے آئو وہ دوبارہ ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے کر آگئے۔ مطلب یہ تھا کہ یہ حصے جتنے اچھے ہیں ہماری لاپروائی سے اتنے ہی بُرے بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ’’زبان‘‘ جسم کا نازک ترین عضو ہے لیکن گوشت کے اس چھوٹے سے لوتھڑے نے دنیا میں جو قیامتیں ڈھائیں ہیں اور انقلاباتِ زمانہ کو جنم دیا ہے اس کی تاریخ بہت طویل اور حیران کن ہے۔
زبان قوت گویائی کا وسیلہ ہے اور یہی چیز اسے ایک اشرف عضو کا درجہ دیتی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم اپنے خیالات و احساسات دوسروں تک پہنچاتے ہیں‘ ذائقوں کا مزہ اُٹھاتے ہیں‘ یہی زبان ہمیں موت کا پیغام بھی دیتی ہے اور زندگی کی نوید بھی سناتی ہے ہمیں زخمی بھی کرتی ہے اور ہمارے زخموں کا مداوا بھی کرتی ہے۔ زبان سے آپ اچھی باتیں کر کے کسی کا دل جیت سکتے ہیں اور کسی کو گالم گلوچ اور دل دکھانے والی باتیں کرکے دل آزاری بھی کرتے ہیں۔ یہی زبان آپ کو امید دلاتی ہے اور آپ کی امیدوں کو خاک میں بھی ملاتی ہے۔زبان کے کرشمے اتنے گونا گوں اور وسیع ہیں کہ انہیں زندگی کے ہر ہر مرحلے پر اور ہر شعبے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ زبان کے گھائو جو تلوار کے زخم سے بھی زیادہ گہرے ہیں اور جن سے ہمارے معاشرے میں کروڑوں انسان مختلف مسائل کا شکار ہیں آپ بھی اگر کسی ’’زبان‘‘ کے زخم خوردہ ہیں تو کبھی کبھی رات کی تنہائیوں میں اس کا درد ضرور محسوس کرتے ہوں گے‘ ہماری زبان کے یہ وار معاشرے کے کئی دلچسپ پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں زبان انسان کی بہترین دوست ہے لیکن کبھی کبھی بدترین دشمن ثابت ہوتی ہے۔ بزرگوں کا قول ہے ‘ پرانے وقت کے بزرگوں کا قول ہے :جب تک زبان آپ کے قابو میں ہے یوں سمجھیں کہ تلوار نیام میں ہے‘ جونہی آپ نے کوئی لفظ بولا یہ تلوار دوسرے کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے‘ معذرت سے آج کل کے 90 فیصد بزرگ بھی اپنی زبان کا غلط استعمال کر رہے ہیں‘ چند بزرگ تو اپنے بیٹے‘ بیٹیوں کا گھر برباد کرنے میں بہت معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
حضرت امام غزالیؒ نے ’’منہاج العابدین‘‘ میں زبان کی آفات کے باب میں ایک حدیث کا خلاصہ نقل کیا ہے ’’جب انسان صبح کرتا ہے تو بدن کے تمام اعضاء (ایک طرح گویا ہاتھ جوڑ کر) زبان سے عرض کرتے ہیں کہ تُو ہمارے معاملے میں خیال رکھیو ہمارا صحیح استعمال تیرے صحیح استعمال پر موقوف ہو گا‘‘۔ میرا علم ناقص ہے لیکن ’’علماء کرام‘‘ بہتر جانتے ہیں۔ میرا تو مقصد صرف معاشرے کی اصلاح کرنا ہے جانے انجانے میں غلط بات بھی لکھ سکتا ہوں اپنے قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے مضامین پر عمل ضرور کیا کریں اور ’’نماز‘‘ کے پابند ہو جائیں میں نہیں چاہتا کہ میرے قارئین دنیا تو سنوار لیں اور آخرت میں پھنس جائیں کیونکہ نماز کی معافی نہیں ہے۔ اس لئے سب بھائی‘ بہنوں اور خاص طور پر بزرگوں سے گزارش ہے کہ نماز کی پابندی کریں اور دل سے میرے لئے دعا کیا کریں‘قارئین سے کہنا چاہوں گا آپ اس اخبار کو باقاعدگی سے خریدا کریں اس اخبار نے مجھے لکھنے کیلئے معقول جگہ دی ہے انشاء اللہ یہ اخبار آپ کی اصلاح کا باعث بنے گا۔بات چل رہی تھی زبان کی تو میں یہاں زبان کی طاقت کیا ہے؟ اس کی ایک مثال سے وضاحت کرتا ہوں ’’میاں بیوی کے درمیان نکاح ہوتا ہے ‘میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے جائز ہو جاتے ہیں جیسے ہی شوہر اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق‘ طلاق‘ طلاق کہہ دیتا ہے تو یہ میاں بیوی چاہے برسوں سے ساتھ تھے ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں‘‘۔ ہم جانے انجانے میں روزانہ اپنی زبان سے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں‘ غیبت کرتے ہیں‘ دفاتر میں بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آج کل کی نوجوان نسل شادی کے بے جا رسم و رواج کیلئے پیسہ جمع نہیں کر پاتی تو وہ پھر کیا کرتے ہیں؟ فون کا غلط استعمال کرتے ہیں نوجوان لڑکے لڑکیاں آج کل فون پر جیسی زبان استعمال کر رہے ہیں ایسی زبان تو میاں بیوی کے درمیان کرنا بھی شاید جائز نہیں۔ بات فون سے حقیقت میں ملنے تک بھی آجاتی ہے اور یہ سب زبان کا غلط استعمال ہے جس سے جسم کے دوسرے اعضاء بھی گنہگار ہو جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ زبان کی طاقت صرف ’’طلاق‘‘ تک محدود نہیں باقی سب (جھوٹ ‘ غیبت‘ بات بات پر گالم گلوچ‘ فون پر غلط بات وغیرہ وغیرہ) ان سے بھی روکا گیا ہے اور جو گناہ ان چیزوں کے بارے بتائے گئے ہیں مل کر رہیں گے۔
آج کے برق رفتار دور میں زبان کا جتنا غلط استعمال ہو رہا ہے شاید ہی کسی اور چیز کا غلط استعمال ہو رہا ہو۔ گھریلو ناچاقیاں کیا ہوتی ہے؟ یہ زبان کی وجہ سے ہی پیدا ہوا کرتی ہیں‘ ساس‘ بہو‘ نند‘ بھابی‘ دیورانی‘ جیٹھانی یا گھر میں جو بھی مرد موجود ہیں آپس میں حالات کب خراب ہوتے ہیں؟ جب انسان اپنے گھر میں غلط بات کرتا ہے یہاں سے گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اور جن گھروں میں گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اُن گھروں میں خود کشیاں یا موت کا بازار گرم رہتا ہے ‘ ہاں جب گھریلو ناچاقیوں کے باعث بہت سے لوگ خودکشیاں کر لیتے ہیں تو ان کے پیچھے جو موجود لوگ ہوتے ہیں جن کی ’’زبان‘‘ سے نکلی بات کی وجہ سے یہ خودکشی ہوتی ہے وہ ضرور پچھتاتا ہے اور کہتا ہے ’’کاش میں نے اپنی زبان‘‘ کو کنٹرول میں رکھا ہوتا تو آج یہ زندہ ہوتا۔تو بھئی! کاش کو اپنی زندگیوں سے نکال باہر پھینکوں اپنی زندگیوں کو بدلوں اپنی ’’زبان‘‘ پر کنٹرول رکھو یہ زبان ہی آپ کے گھروں کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔
طلاقوں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ زبان کے غلط استعمال کی وجہ ہے۔ ساس کو بہو نہیں بھاتی بہو کو ساس نہیں بھاتی‘ دیورانی کو جیٹھانی نہیں بھاتی ’مرد‘‘ بیچارا سارا دن لوگوں کی باتیں سن سن کر برداشت کرکے روزی روٹی کما کر گھر آئے تو آگے گھر کی خواتین اُس مرد کو ایک دوسرے کی شکایتیں لگاتی ہیں‘ ماں بیٹے کو کہتی ہے ’’تیری بیوی تو سارا دن سوتی ہے کوئی کام نہیں کرتی‘ اسے تو تیری بوڑھی ماں کی بھی فکر نہیں‘‘ بیوی شوہر کو الگ سے پورے گھر والوں کی شکایتیں لگاتی ہیں تو ایک مرد کہاں جائے؟ مرد کی کون سنتا ہے؟ عورت کو تو اقوام متحدہ تک سپورٹ حاصل ہے۔ مرد کی جب کوئی سننے والا ہے ہی نہیں نہ کوئی ایسا ادارہ قائم ہے جو اس بے چارے کی سنے آخر کار پھر مرد کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ان سب فسادات کی جڑ ’’زبان‘‘ ہے اپنے گھروں ‘بازاروں‘ دفاتر میں زبان پر قابو رکھیں کسی کا دل مت دکھائیں۔
-

کوئٹہ: 34ویں نیشنل گیمز کا بلوچستان میں انعقاد،سپورٹس بورڈبڑی کامیابی ہے، ھدہ سپورٹس
کوئٹہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار زبیرآکاخیل)34ویں نیشنل گیمز کا بلوچستان میں ہونا صوبائی حکومت اور خاص کر بلوچستان سپورٹس بورڈ کی بہت بڑی کامیابی ہے، ھدہ سپورٹس ایکشن کمیٹی
ھدہ سپورٹس ایکشن کمیٹی کے ممبران منیر مینگل، محمد عمر شہی، محمد اکرم بلوچ، ، صادق لانگو، حاجی نادر لانگو نے آپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ نیشنل گیمز کا کوئٹہ میں انعقادِ ہونا محکمہ کھیل کی بہت بڑی کامیابی ہے، 34وین نیشنل گیمز بلوچستان میں کروانے اور کامیابی میں منسٹر سپورٹس عبدلخالق ہزارہ، سیکرٹری کھیل اسحاق جمالی، ڈی جی کھیل درا بلوچ، ڈائریکٹر کھیل آصف لانگو، محمد آصف فاروقی نے اہم قردار ادا کیا ہے، ان سب کی شب و روز محنت سے آج پورے پاکستان کے کھلاڑی بلوچستان میں موجود ہیں، نیشنل گیمز سے بلوچستان کا بہت سا ٹیلنٹ سامنے ائے گا، بلوچستان کے کھلاڑی نیشنل کے ساتھ انٹرنیشنل ایونٹ میں بھی کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور پوری دنیا میں بلوچستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کا نام روشن کر چکے ہیں، امید ہے نیشنل گیمز کا اختتام بھی اچھا ہوگا، آخر میں ھدہ سپورٹس ایکشن کمیٹی نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا کہ پورے ملک سے آئے کھلاڑی بلوچستان کی مہمان نوازی سے خوش ہونگے