چترال،باغی ٹی وی(گل حماد فاروقی کی رپورٹ) کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چلم جوش جو مقامی زبان میں جوشی بھی کہلاتا ہے وہ اپنے تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ وادی بمبوریت میں اختتام پذیر ہوا تاہم یہ تہوار کیلاش وادی بریر میں جاری ہے۔موسم بہار کے اس تہوار میں کیلاش مرد ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ کیلاش خواتین گول دائرے میں کندھے سے کندھا ملاکر مذہبی گیت گاتی ہوئی رقص کرتی ہیں۔
کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جو قاضی کہلاتے ہیں وہ اس محفل کے درمیان میں کھڑے ہوکر دعائیں مانگتے ہیں جبکہ ان کے اہل و عیال ان کے ٹوپی کو سو، پانچ سو، ہزار روپے کے نوٹوں سے سجاتے ہیں۔ یہ ان کی ان کیلئے عزت اور اکرام کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ دوپہر تک کیلاش خواتین اور بچے مختلف دیہات سے گیت گاتی ہوئی ڈھولک کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے ٹولیوں کی شکل میں چرسو یعنی رقص گاہ جمع ہوتے ہیں۔دوپہر کے بعد کیلاش لوگ ہاتھوں میں اخروٹ کی ٹہنی اور پتے پکڑ کر ان کو لہرا لہرا کر مرکزی رقص گاہ یعنی چرسو کی طرف دھیرے دھیرے گامزن ہوتے ہیں اس دوران کسی مسلمان یا دیگر مذہب کے لوگوں کو اس جلوس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ جب چرسو پہنچ جاتے ہیں تو وہاں خوب جی بھر کر رقص کرتے ہیں

عصر کے بعدکیلاش کے مذہبی رہنماء یعنی قاضی حضرات گندم کے فصل میں دودھ چھڑکاتے ہیں جو برکت کیلئے ایسا کیا جاتا ہے جبکہ مرد لوگ چرسو سے دور جاکر اپنے ہاتھوں میں اخروٹ کے ٹہنی، پتے یا پھول پکڑ کو اپنی زبان میں اونچی آواز میں دعا یا مذہبی گیت گاتے ہوئے آہستہ آہستہ رقص گاہ کی طرف آتے ہیں۔ مگر ان کے سامنے کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کو آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چرسو میں خواتین بھی ہاتھوں میں ٹہنیاں اور پتے پکڑ کر انہیں لہرا لہرا کر گیت گاتی ہیں اور مردوں کا انتظار کرتی ہیں۔

جب مرد حضرات اپنے قاضیوں کے قیادت میں رقص گاہ یعنی چرسو پہنچ جاتے ہیں تو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پتے اور ٹہنیاں ان خواتین پر نچاور کرتے ہوئے سب گھل مل جاتے ہیں اور اکٹھے رقص پیش کرتے ہیں۔ اس تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آئے ہوئے تھے۔ تاہم راستوں کی خرابی اور سیاحوں کیلئے بیٹھنے کی جگہہ اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کو چند مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ چترال ٹریول بیورو کے دعوت پر فن لینڈ سے درجن بھر سیاح پہلی بار وادی کیلاش آئے تھے۔ ان سیاحوں سے جب اس تہوار کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جو سرکاری اور غیر سرکاری ادارے سیاحت کو ترقی دینے کیلئے کام کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ سیاحت پہ مزید توجہ دے اور اسے فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھاتے ہوئے ان پر مزید کام کریں تاکہ سیاحوں کو آنے جانے میں مشکلات کا بھی سامنا نہ ہو اور یہاں زیادہ سے زیادہ سیاح آنے سے اس علاقے کے لوگوں کی معاشی زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔

چترال ٹریول بیورو مسؤل، مستحکم، احیائی اور تبدیلی پذیر ٹورزم کے فروغ کے لئے ویژن کو پیش کرنے پر مصروف ہے، خاص طور پر فطرت پر مبنی ٹورزم کے اس حوالے سے۔ کلاش ویلی میں ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے، چیف ایگزیکٹو آفیسر سید حریر شاہ نے مقامات، آپریشنز اور واقعات کی انتظامیہ میں مقامی عوام کی شمولیت کا اہم کردار پر زور دیا تاکہ ٹورزم کے منفی اثرات کو کم کیا جائے اور اس کے فوائد کو بڑھایا جائے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ غیر محرمانہ یا زیادہ تعداد میں ٹورزم کے اثرات مستحکم پہاڑی ٹورزم کے اہداف کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں، جیسے کہ ہندوکش، کاراکورم اور ہمالیہ جیسے خصوصیات کے میدان میں۔ ان علاقوں کو آب و ہوا کی تبدیلی، گلیشر کے پگھلنے اور ماحولیاتی خرابی کی حساسیت سے کام کرنا پڑتا ہے، جس سے ٹورزم صنعت کی بقائیت اور مجموعی استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بعض سیاحوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ چترال میں محتلف تہوار، میلے یا ٹورنمنٹ منانے کے نا م پر قومی خزانے سے جو خطیر رقم نکلتی ہیں انہیں اگر افسر شاہی کو وی آئی پی پروٹوکول دینے یا چند افسرا ن اور ان کے اہل خانہ خوش کرنے کی بجائے اگر ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور مزید انتظامات بہتر کرنے پر خرچ کی جائیں تو اس سے بڑا فائدہ ہوگا۔ اس سے ایک طرف سیاحوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا تو دوسری طرف سیاحت کو ترقی دینے سے یہ علاقہ بھی ترقی کرسکے گا اور یہاں سے غربت کاخاتمہ ممکن ہوسکے گا۔



Category: بلاگ
-

کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چلم جوش اختتام پذیر، کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی وادی کیلاش آئے
-

پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی
اہل نظر کا چشمہ ملکی سیاست اور جمہوریت کا مستقبل کہاں تک دیکھ رہا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں ملک اور24کروڑ عوام اور جمہوریت کا مستقبل روشن نظر نہیں آرہا۔ قومی مفاد کیا ہے قوم کے مسائل کیا ہیں ریاست کو درپیش مسائل سے آنکھیں چرا کر اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ایک بات طے ہے کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوریت اور آئین پر عمل نہیں کررہی اور نہ ہی جمہور کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ ملکی سیاست گالی گلوچ تک محدود ہوگئی ہے جس طرح جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر جمہوریت اور آئین کا جنازہ نکالا جارہا ہے جمہوریت بھی ان سے پناہ مانگتی نظر آرہی ہے۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس وطن عزیز کو اپنی سلطنت بنا لیا ہے جمہوریت کی آڑ میں ملک میں انتشار پھیلانا اسلحہ اور ڈنڈا بردار سمیت سڑکوں پر بیٹھ جانا عدلیہ اور پاک فوج اور جملہ اداروں پر لب کشائی کرنا الزامات لگانا یہ انداز جمہوریت نہیں بلکہ انتشار کی آخری حد ہے۔
عوام کی اکثریت کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد اٹھتا جارہا ہے کیا ماضی اور کیا حال ان سیاسی جماعتوں نے ملکی سلامتی اور عدلیہ کو نشانے پر رکھا دنیا کے کسی بھی ملک کے یہ دو انتہائی اہم ادارے ہوتے ہیں جنہوں نے ہر حال میں ملکی سلامتی اور امن کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ افسوس ہمارے سیاسی قائدین نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا تو ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ یاد رکھیے چین کے اپنے مفادات ہیں امریکہ کے اپنے مفادات ہیں عرب ممالک کے بھی اپنے مفادات ہیں ہمیں اپنے وطن عزیز کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ملکی مفادات آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی اور امن جبکہ اعلیٰ عدلیہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار جاری رکھیں اور عوام اپنے ان اداروں کے ساتھ کھڑے رہیں ان اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کریں۔
-

لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت
لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت
تحریر : وحید گلپاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے لاپتہ افراد سے متعلق خبروں کی وجہ سے شہ سرخیوں کی زینت بنا رہا ہے۔ لوگوں کا لاپتہ ہونا یا اُن کی جبری گمشدگیوں کے کیسز کا سامنے آنا ، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ برسوں بعد بھی یہ معاملہ آج بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر حل طلب ہی نظر آتا ہے۔ نیشنل کرائم انفارمیشن سنٹر (NCIC) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 2021 میں 521,705 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی اسی طرح دی سنڈے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے میں 88 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہوتے ہیں ہر روز 2,130 اور ہر ماہ 64,851 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ گو کہ یہ تعداد پاکستان میں موجود اعداد و شمار کی نسبت بہت بڑی ہے لیکن ہماری آج کی بحث پاکستان سے متعلق ہے

2013ء میں ماما قدیر نامی ایک بلوچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے چند بلوچوں کے ہمراہ (جن میں عورتیں بھی شامل تھیں) بلوچستان سے اسلام آباد تک 2,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا۔ علاوہ ازیں آئے دن نیوز چینلز پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق خبریں گردش میں رہیں۔ کچھ عرصہ بعد جب کھوج لگائی گئی تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔ پاکستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد بھی جبری گمشدگیوں کے کھاتے میں ڈال دی گئی تھی۔ حالانکہ یہ افراد خالصتاً رضاکارانہ جذبے کے تحت غیر قانونی طور پر مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بلوچستان جا پہنچتے تھے، تاکہ وہاں دشمن ممالک کے قائم کردہ خفیہ کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر سکیں۔ آفتاب یوسف کی اگر مثال لی جائے جو ماما قدیر کی کے ہر دھرنے میں پایا جاتا تھا اور گمشدہ لوگوں کیلئے آواز بلند کرتا تھا دراصل وہ خود بی ایل اے کیلئے کام کرتا تھا اور سینکڑوں سیکیور اہلکاروں کو شہید کرنے میں ملوث تھا جو جون 2021میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا جسکی تصدیق خود دہشتگرد تنظیم بی ایل نے کی۔

چونکہ پاک افغان سرحد کی مجموعی لمبائی 2611 کلومیٹر ہے(جس میں خیبرپختونخوا کے ساتھ متصل افغان سرحد کی طوالت 1229کلومیٹر ہے) لہٰذا اُس وقت در اندازی کو روکنے والی باڑ نہ ہونے کے باعث لوگوں کا غیر قانونی پر پر آنا جانا کچھ خاص مشکل نہ تھا۔ یوں بھی یہاں سے آنے جانے والےافراد زیادہ تر یا تو جرائم پیشہ ہوتے تھے یا پھر جہالت، ذہنی پسماندگی اور دیگرمحرومیوں کے باعث شرپسند عناصر افراد کا آسان ہدف بن کر کالعدم تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لیتے تھے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد کے معاملے میں ایکٹو اکاؤنٹس کوسپورٹ کہیں اور سے نہیں بلکہ زیادہ تر ہمسایہ ملک ہندوستان سے مل رہی ہوتی ہے۔
ایک عام آدمی کے پاس بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے رقم ہوتی ہے جبکہ لاپتہ افراد کے لیے تگ و دو کرنے والے یہ لوگ شہروں شہروں نہیں بلکہ ملکوں ملکوں سفر کرتے ہیں، وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ میڈیا جسے رتی بھر بھی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میں کیا کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ ان افراد کو بنا کچھ لیے دئیے کوریج دے رہا ہے۔ سوالات تو بہت ہیں لیکں جواب ایک بھی نہیں۔۔۔
پاکستان میں برسوں یہی پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ جبری گمشدگی کے باعث لاکھوں افراد غائب ہیں تاہم جب بھی ان کی تفصیلات طلب کی گئیں تو پہلے بہانے سے تفصیلات کی فراہمی سے گریز کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں محض چند سو افراد کی لسٹ سامنے لائی گئی جس کے بعد متعدد افراد بازیاب بھی ہوئے لیکن باقی مبینہ گمشدہ افراد کی تفصیلات کہاں ہیں، کچھ معلوم نہیں۔
آخر لاپتہ افراد سے متعلق آواز اٹھانے والوں سے جب سوالات کیے جاتے ہیں تو وہ جواب دینے سے کنی کیوں کترا جاتے ہیں؟ لاپتہ افراد سے متعلق ایک عالمی رپورٹ (مطبوعہ 31 دسمبر 2021) کے مطابق امریکا میں لاپتہ افراد کے 93718 فعال کیسزرپورٹ ہوئے، برطانیہ میں 241064 کیسز، جرمنی میں 11000 کیسز، ہندوستان میں 347524 کیسزجبکہ نیپال میں 10418 اور پاکستان میں 2210 کیسز تھے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد ایک عالمی مسئلہ (Global Phenomenon) ہے اور پاکستان بھی اس مسئلے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تاہم گمشدہ افراد کی تعداد سے متعلق حد درجہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے۔ ColoED کے ساتھ رجسٹرڈ کیسز میں 9035 لاپتہ افراد کے اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں سے بھی 70 فیصد سے زیادہ کیسز حل ہو چکے ہیں اور 25 فیصد عنقریب نمٹ جانے کو ہیں۔
یہاں یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو لوگ گھریلو مسائل، ذاتی لڑائیوں یا اپنا کوئی مطالبہ منوانے کی خاطر گھر والوں کو دباؤ میں لانے کو، اپنی مرضی سے گھر سے جاتے ہیں، ان کے لاپتہ ہونے کو جبری گمشدگی سے نتھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی گمشدگی صرف اسی صورت میں "جبری گمشدگی” کہلائے گی جب ریاست نے اِن افراد کو اُٹھایا ہو مگر اُن کی گرفتاری کا اعلان نہ کر کے اسے مخفی رکھا گیا ہو۔
پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس
برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ
برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر
برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی
عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔
-

آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟
آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟
پاکستان میں نو مئی کو رونما ہونیوالے واقعات ایک سیاہ دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،پاکستانی قوم نے دیکھا کہ سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کیا گیا، دس قیمتی جانیں گئیں، یہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جانے والا حملہ تھا جس کا مقصد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا اور بنایا گیا، بدقسمتی سے حملہ آور، شرپسند جو چاہتے تھے وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئے،جن مقامات پر شرپسندوں نے حملہ کیا ان میں جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور، آئی ایس آئی دفتر فیصل آباد شامل ہیں، ایم ایم عالم نے 1965 کی جنگ میں چھ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اس کے مشہور طیارے کو بھی آگ لگا دی گئی، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں بھارت آج تک کامیاب نہیں ہو سکا لیکن پاکستان میں موجود گمراہ کن پاکستانی شرپسندوں نے اپنے رہنما کی عقیدت میں آ کرسب کچھ تباہ کر دیا،
نو مئی کو پاکستان میں ہونیوالے تباہی کی کاروائیوں کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرپسند افراد اور جو بھی اس میں ملوث ہیں انکے خلاف 1952 کے آرمی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی، آرمی کی تنصیبات پر حملوں کے مقدمے ہوں گے، اس حوالہ سے ایمنسٹی انٹرنینشل کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر دنوشیکا ڈسانائیکے کا کہنا ہے کہ "یہ دہشت زدہ کرنے کا ایک طریقہ ہے اوراس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اختلاف کرنے والوں میں ایک ایسے ادارے کیلئے خوف پیدا کیا جائے جس ادارے کا آئینی حدود سے تجاوز کرنے پر کبھی بھی احتساب نہیں کیا گیا ،پاکستان کی طاقتور فوج کا حوالہ دیتے ہوئے ،آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ کیوں؟ "وائس آف امریکا
بیرون ممالک کے لوگ اور یہ ایجنسیاں اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہیں کہ ان کے معاشرے کی روایات ہم سے الگ ہیں، کیا وہ لوگ تشدد کرتے ہیں، جب انکا کوئی رہنما گرفتار ہوتا ہے تو اپنے ہی وطن کو آگ لگاتے ہیں؟ کیا وہ شہریوں پر تشدد کرتے ہیں اور سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کرتے ہیں؟ پاکستان میں حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا اسکے بعد اب جو لوگ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل اور مقدمے کو سخت اور غلط کہہ رہے ہیں انہوں نے ان واقعات کی مزمت بھی نہیں کہ بلکہ وہ اسوقت خاموش رہے جب سپریم کورٹ سے عمران خان جو ایک ملزم تھا اور اسکے کیس کی سماعت تھی اس کو گاڑی بھیجی گئی،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل پر اعتراض کرنیوالوں نے کیا انصاف کے غیر مساوی ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا؟ عمران خان کو اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے سے قبل سول لائنز پولیس کے گیسٹ ہاؤس میں بطور مہمان رکھا گیا، کیا عدالتوں سے عمران خان کو ملنے والے اس ریلیف پر عدم اطمینان کا کوئی واویلا کیا گیا؟
لیکن جب فوجی عدالتیں پی ٹی آئی کے حمایتی اور شرپسند عناصر کے خلاف مقدمے چلائیں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شور کیوں؟ اب وقت آ گیا ہے کہ باہر کے لوگ اور ایسی ایجنسیز پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہیں،واضح ہے کہ ریاست اب پیچھے نہیں ہٹے گی اور کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں ہو گی،کیونکہ انصاف کو برقرار رکھنے کا عزم اور امن کی بحالی غیر متزلزل ہے،
عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔
ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا
نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی،
قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش
-

فیس بک نےازخود دوستی کی درخواست بھیجے جانےکا مسئلہ حل کردیا
فیس بک نےازخود دوستی کی درخواست بھیجے جانےکا مسئلہ حل کردیا
میٹا کمپنی نے اپنی دنیا کی معروف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بعض صارفین کی جانب سے گزشتہ دنوں کی جانے والی شکایات کا ازالہ کردیا ہے ، جن میں کہا گیا تھاکہ ہم نے جن افراد کی فیس بک پروفائل وزٹ کی ،ان کوہماری طرف سے ازخود فرینڈ ریکویسٹ چلی گئی ۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک صارفین کی جانب سے ٹوئٹر پراس حوالے سے کئی ٹوئٹس بھی سامنے آئی تھیں، جس میں اسکرین شاٹس اورویڈیوز شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ان کے اکاؤنٹس سے ازخود ان اکاؤنٹس پرفرینڈ ریکویسٹ چلی گئی ہے، جنہیں انہوں نے حال ہی میں وزٹ کیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان شکایات کے بعد میٹا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خرابی پر معذرت خواہ ہے، کمپنی نے فوری طور پر اس خرابی کا نوٹس لیا اور اب اس خرابی کو ٹھیک کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فیس بک صارفین اس مسئلے کے سبب اپنی پرائیویسی سے متعلق فکر مند تھے،اصل میں یہ ایک بگ تھا ،اوربگ کی شکایت پاکستان ، بنگلا دیش، فلپائن اورسری لنکا کے صارفین نے دی تھی۔ -

پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی قدر کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی
(تجزیہ شہزادقریشی)
ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں بیان کرناچاہیں تو ان کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ لیکن یہ کیسی پارلیمانی جمہوریت ہے ۔ یہ کیسے سیاستدان ہیں ملکی تاریخ میں کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس نے فوج پر تنقید نہ کی ہو ، کسی نے اینٹ سے اینٹ بجانے کسی نے حساب دینا پڑے گا صدائیں لگائیں۔ لیکن 9 مئی کے واقعات نے تو ہلا کر رکھ دیا ۔ عدلیہ ، فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کو عالمی دنیا میں متنازعہ بنا کر رکھ دیا گیا۔میرا اپنا تعلق پوٹھوہار سے ہے ہر دوسرے گھر کاایک نہ ایک سپوت پاک افواج کاحصہ ہوتا ہے ۔ ان دیہی علاقوں میں نیٹ بھی صحیح کام نہیں کرتا جہاں فوجی جوان تعینات ہیں وہاں موبائل کے سگنل بھی ایک مسئلہ ہے۔ میرے علاقے کے سینکڑوں قبرستانوں میں شہداء کے مقبرے بنے ہیں جنہوں نے اپنے وطن کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ آج بھی پاک فوج کے انتہائی اعلیٰ عہدوں پر فائز فوجی افسران خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ فوجی یا تو ڈھول سپاہی ہوتا ہے یا پھر فوجی بھائی ان بے رحم سیاستدانوں کو ان فوجی بھائیوں اور فوجی افسران کا احترام کرنا چاہیئے۔زلزلوں ،سیلاب قحط زدہ علاقوں کی مدد کرنا ۔ گرمی میں گرم وردی میں لمبے چمڑے کے بوٹوں میں تپتی بندوقیں ہاتھ میں لئے چوکس کھڑے ہوتے ہیں حالت جنگ میں فوجی جب اگلے مورچوں پر ہوتے ہیں تو ان کے گھروں میں جو بے خواب راتیں گزرتی ہیں ان کے لئے کیا کبھی کسی اہل دل نے سوچا؟ ۔ ان کی شہید میتیں ان کے گھروں میں جب پہنچائی جاتی ہیں ۔ ان کی مائوں ،بہنوں ، بیویوں پر کیا گزرتی ہے کیا کسی نے کبھی سوچا ؟ اس قوم کا پاک فوج سے محبت کاایک کلچر بن چکا ہے اوریہ نہ ختم ہونے والا کلچر ہے یہ فوجی جوان لینڈ سلائیڈ بپھری ہوئی موجوں ، وبائی امراض، حشرات الارض ، خدمت کے لئے فوری پہنچ جاتے ہیں۔ ملکی سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ پاک فوج کی لازوال قربانیوں اورخدمات کے معترف ہیں اور انہیں اپنے اپنے اقتدار کی سیڑھی نہ بنائیں اور اپنے سیاسی جھگڑے آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔
-

پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟
پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالے واقعات میں عوام میں احساس کی نمایاں کمی دیکھی گئی، احتجاج میں شریک افراد نے انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، سرکاری عمارتوں، ایمبولینس گاڑیوں، پولیس کی گاڑیوں اور نجی و سرکاری املاک کو تباہ کیا گیا جن کی ویڈیو بھی سامنے آ رہی ہیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ کے ساتھ لوٹ مار بھی کی گئی
پرامن احتجاج کا حق سب کو حاصل اور کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ عام شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہیں ہونے چاہئے، بدقسمتی سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالے احتجاج میں بہت تباہی ہوئی، پولیس کی 26 گاڑیاں، سات سرکاری عمارتیں ، 10 نجی املاک میں توڑ پھوڑ کی گئی، پاکستان کی مسلح افواج کی املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا، کور کمانڈر ہاؤس لاہور جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ تھی اور اسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے کو بھی نشانہ بنایا، راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا، لاہور کی تحصیل ماڈل ٹاؤن میں عسکری ٹاور کو نقصان پہنچایا گیا، اس ہنگامہ آرائی ے دوران دس اموات بھی ہوئیں جوکہ افسوسناک امر ہے
اسی احتجاج کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ ہوا، تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرین نے میانوالی ایئر بیس پر "دی لٹل ڈریگن” طیارے کو آگ لگائی، یہ طیارہ ایئر کموڈور ایم ایم عالم کا تھا، جنہوں نے 1965 کی جنگ میں ایک منٹ میں چھ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اور اس پر انہیں ستارہ جرات دیا گیا تھا، مظاہرین کی جانب سے ایسا کرنے پر ہمارے قومی ورثے کو نہ صرف داغدار کیا گیا بلکہ فوج کے خلاف نفرت کو بھی ہوا دی گئی
مظاہرین نے لاہور میں جو کچھ کیا، اگر خدانخواستہ اسکے جواب میں کور کمانڈر لاہور مظاہرین کی جانب سے کئے حملے کا جواب دینے کا حکم دیتے تو اسکے تباہ کن نتائج ہو سکتے تھے جو ممکنہ طور پر 1971 کی یاد تازہ کر دیتے، اس سے ہمارے رہنماؤں کی سوچ بارے سوال اٹھتا ہے
دوسری طرف لوگوں کو صرف اس لئے گرفتار کرنا کہ انکا تحریک انصاف کے ساتھ تعلق ہے یہ ان لوگوں کو جواز دے دے گا جو اس قسم کی تخریب کاری میں شامل ہوتے ہیں یا حمایت کرتے ہیں،
ہم میں سے ہر ایک کو پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لینا چاہئے، تباہی پھیلانا اور نقصان کرنا یہ صرف ایک ایسے معاشرے کو دکھا رہا ہے جو جنگل کے قانون کی حمایت اور پیروی کرتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں بد نام زمانہ کردار گلو بٹ جیسے افراد کا اثر ہوتا جا رہا ہے،
آخر کار ،ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم زمہ داری کے ساتھ چلیں گے یا اسے نظر انداز کر دیں گے ،ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ قانون کی پاسداری کریں اور آپس کے معاملات میں تہزیب کے دائرے میں رہیں یا ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس کے برعکس کریں
-

ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
گال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کیضمیر جعفری
پیدائش:01 جنوری 1916ء
جہلم، پاکستان
وفات:12 مئی 1999ء
نیو یارک، ریاستہائے متحدہ امریکہسید ضمیر حسین شاہ نام اور ضمیر تخلص تھا۔ 01 جنوری 1916ء کو پیدا ہوئے۔ آبائی وطن چک عبدالخالق ، ضلع جہلم تھا۔ اسلامیہ کالج، لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ فوج میں ملازم رہے اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ راول پنڈی سے ایک اخبار’’بادشمال‘‘ کے نام سے نکالا۔ کچھ عرصہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سے منسلک رہے۔ پاکستان نیشنل سنٹرسے بھی وابستہ رہے۔ ضمیر جعفری دراصل طنزومزاح کے شاعرتھے۔کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے سنجیدہ اشعار بھی کہہ لیتے تھے۔ یہ نظم ونثر کی متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ 12؍ مئی1999ء کو نیویارک میں انتقال کرگئے۔ تدفین ان کے آبائی گاؤں چک عبدالخالق میں ہوئی۔ ان کی مطبوعہ تصانیف کے نام یہ ہیں:’’کارزار‘‘، ’’لہو ترنگ‘‘، ’’جزیروں کے گیت‘‘، ’’من کے تار‘‘ ’’مافی الضمیر‘‘، ’’ولایتی زعفران‘‘، ’’قریۂ جاں‘‘، ’’آگ‘‘، ’’اکتارہ‘‘، ’’ضمیر یات‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:50
غزل
۔۔۔۔۔
ہم زمانے سے فقط حسن گماں رکھتے ہیں
ہم زمانے سے توقع ہی کہاں رکھتے ہیں
ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں
کچھ ہمارے بھی ستارے ترے دامن پہ رہیں
ہم بھی کچھ خواب جہان گزراں رکھتے ہیں
چند آنسو ہیں کہ ہستی کی چمک ہے جن سے
کچھ حوادث ہیں کہ دنیا کو جواں رکھتے ہیں
جان و دل نذر ہیں لیکن نگہ لطف کی نذر
مفت بکتے ہیں قیامت بھی گراں رکھتے ہیں
اپنے حصے کی مسرت بھی اذیت ہے ضمیرؔ
ہر نفس پاس غم ہم نفساں رکھتے ہیںغزل
۔۔۔۔۔
اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھے
اک شخص تھا کہ مل نہ سکا عمر بھر مجھے
شعلوں کی گفتگو میں صبا کے خرام میں
آواز دے رہا ہے کوئی ہم سفر مجھے
شاید انہیں کا عجز مرے کام آ گیا
جن دوستوں نے چھوڑ دیا وقت پر مجھے
شب کو تو ایک قافلۂ گل تھا ساتھ ساتھ
یا رب یہ کس مقام پہ آئی سحر مجھے
ہنستے رہے فلک پہ ستارے زمیں پہ پھول
اچھا ہوا کہ عمر ملی مختصر مجھے
مدت کے بعد اس نے سر انجمن ضمیرؔ
دیکھا نگاہ عام سے اور خاص کر مجھےاشعار
۔۔۔۔۔
بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
وفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہےاب اک رومال میرے ساتھ کا ہے
جو میری والدہ کے ہاتھ کا ہےہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
گال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کیہنس مگر ہنسنے سے پہلے سوچ لے
یہ نہ ہو پھر عمر بھر رونا پڑےایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیںان کا دروازہ تھا مجھ سے بھی سوا مشتاق دید
میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھلادرد میں لذت بہت اشکوں میں رعنائی بہت
اے غم ہستی ہمیں دنیا پسند آئی بہت -

الیکساندرفادیئیف
پیدائش:11 دسمبر 1901ء
وفات:13 مئی 1956ء
وجۂ وفات:شوٹ
طرز وفات:خودکشی
شہریت: سلطنت روس
جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد (1918ء)
پیشہ:مصنف، سیاست داں، صحافی، مشہور شخصیت
مادری زبان:روسی
پیشہ ورانہ زبان:روسی
اعزازات
آرڈر آف لیننالیکساندرالیکساندرووچ فادیئیف سوویت روسی ناول نگار، شریک بانی انجمنِ سوویت مصنفین ہیں۔
پیدائش
۔۔۔۔۔۔
الیکساندرفادیئیف روسی سلطنت کے صوبے توور کے کمری نامی قصبے میں 24 دسمبر 1901ء کو پیدا ہوئے۔
تخلیقی دور
۔۔۔۔۔۔
الیکساندرفادیئیف کا شمار سوویت ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ میکسم گورکی کی موت کے بعد انھوں نے بہت برسوں تک ”سوویت ادیبوں کی انجمن“ کی رہنمائی کی۔ روپوش چھاپہ ماروں اور خانہ جنگی کی زندگی سے زبردست سبق حاصل کرکے انھوں نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں لکھنا شروع کیا۔ فادیئیف کے ناولوں ”شکست“، ”قافلہ شہیدوں کا“ اور ”اودے گے قوم کا آخری آدمی“ کو سوویت ادب کے بیش بہا خزانے میں جگہ ملی۔
تخلیقات
۔۔۔۔۔۔
ناول
۔۔۔۔۔
شکست
قافلہ شہیدوں کا (1945ء)
اودے گے قوم کا آخری آدمی
اعزازات
۔۔۔۔۔۔
الیکساندرفادیئیف کو 1946ء میں ناول ”قافلہ شہیدوں کا“ پر سوویت ریاست ”اسٹالن انعام“ دیا گیا۔
وفات
۔۔۔۔۔
الیکساندرفادیئیف نے 54 سال کی عمر میں 13 مئی 1956ء میں ماسکو اوبلاست، سویت یونین میں خودکشی کی۔ -

لینڈا یاکارینو کو ٹوئٹر کی نئی سی ای او مقرر کردیا گیا
ایلون مسک نے سی ای او کے عہدے سے علیحدگی کے اعلان کے بعد لینڈا یاکارینو کو ٹوئٹر کی نئی سی ای او مقرر کردیا گیا ہے جبکہ ایلون مسک نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لکھا کہ میں لینڈا یاکارینو کو ٹوئٹر کے نئی سی ای او کے طور پر خوش آمدید کہنے کیلئے بہت پرجوش ہوں۔ اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ نئی سی ای او بنیادی طور پر کاروباری معاملات پر توجہ مرکوز رکھیں گی جبکہ پراڈکٹ ڈیزائن اور نئی ٹیکنالوجی کے معاملات میں خود دیکھوں گا۔
I am excited to welcome Linda Yaccarino as the new CEO of Twitter!
@LindaYacc will focus primarily on business operations, while I focus on product design & new technology.
Looking forward to working with Linda to transform this platform into X, the everything app. https://t.co/TiSJtTWuky
— Elon Musk (@elonmusk) May 12, 2023
جبکہ اس سے قبل یاکارینو این بی سی یونیورسل میں گلوبل ایڈورٹائزنگ اور پارٹنرشپس میں بطور چیئرمین خدمات سرانجام دے رہی تھی۔ واضح رہے کہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کے سی ای او کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ وہ اپنی جگہ ایک خاتون کو سی ای او بنا رہے ہیں، جو اپنی ذمہ داریاں 6 ہفتوں میں سنبھال لیں گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک نے اکتوبر 2022 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو 44 ارب ڈالرز میں خریدا تھا اور اس کے بعد سے سی ای او کے طور پر کام کر رہے ہیں۔