Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹوئٹر میں انکرپٹڈ میسجز فیچر اب ویریفائیڈ صارفین کیلئے دستیاب

    ٹوئٹر میں انکرپٹڈ میسجز فیچر اب ویریفائیڈ صارفین کیلئے دستیاب

    ٹوئٹر میں انکرپٹڈ میسجز فیچر اب ویریفائیڈ صارفین کیلئے دستیاب

    ٹوئٹر نے ڈائریکٹ میسجز کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے فیچر کا ابتدائی ورژن متعارف کرا دیا ہے۔ مگر یہ فیچر تمام صارفین کو دستیاب نہیں ہوگا بلکہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ویریفائیڈ اکاؤنٹس (یعنی ٹوئٹر بلیو کے صارفین) ہی اسے استعمال کر سکیں گے۔ یعنی ایلون مسک کے زیر ملکیت پلیٹ فارم کو ماہانہ فیس ادا کیے بغیر انکرپٹڈ پیغامات کو بھیجنا ممکن نہیں ہوگا۔

    اسی طرح یہ فیچر گروپ میسجز پر کام نہیں کرے گا۔ ٹوئٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ فیچر اسی وقت کام کرے گا جب آپ میسج بھیجنے والے کو فالو کریں گے یا اس وقت بھی میسجز انکرپٹڈ ہوں گے، جب آپ پہلے ہی کسی صارف سے چیٹ کر چکے ہوں یا اس کی ڈائریکٹ میسج کی درخواست قبول کریں۔

    اگر صارفین اس فیچر کو استعمال کرنے اہل ہوئے (یعنی ٹوئٹر بلیو کے صارف ہوئے) تو میسج بھیجنے والے کو انکرپشن ٹرن آن کرنے کا آپشن نئی چیٹ اسکرین پر نظر آئے گا۔ اگر ماضی میں کسی فرد سے ٹوئٹر ڈائریکٹ میسجز پر چیٹ کر چکے ہیں تو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے آپشن پر کلک کرنا ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    انکرپٹڈ چیٹ دیکھنے میں معمول کی چیٹس سے مختلف نظر آئے گی اور صارف کی پروفائل فوٹو پر تالا بنا نظر آئے گا۔ جبکہ کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ میڈیا فائلز جیسے تصاویر کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ کمپنی کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس فیچر کے لیے کونسا اسٹینڈرڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔ جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ اس فیچر کا ابتدائی ورژن ہے تو ممکنہ طور پر وقت گزرنے کے ساتھ اسے مزید بہتر بنایا جائے گا اور خامیوں کو دور کیا جائے گا۔

  • مسلح حملوں کا ارتکاب قابل مذمت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مسلح حملوں کا ارتکاب قابل مذمت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    قومی سلامتی اور رفاعی اداروں پر حملے جلائو گھیرائو کی روش نہ تو سیاست ہے نہ ہی قوم کی خدمت ۔ اعلیٰ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی خواہش میں پارلیمنٹ ہائوس میں عدلیہ پر تابڑ توڑ حملے کو بھی درست قرار نہیں دیاجا سکتا ۔ آج پاکستان کے دشمن ملک کا ہرایک ٹی وی چینل ملک کے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہونے والے کھلواڑ کو بڑھا چڑھا کر دکھا رہا ہے جس پر ہر محب وطن کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔پاکستان نے ہر سیاستدان کو عزت دی اور انہیں اعلیٰ ترین عہدوں سے نوازا افسوس صد افسوس ہر کوئی اقتدار اور اختیارات کے مزے لے کر پاک فوج اور جملہ اداروں کو بُرا بھلا کہنا اپنے سیاسی قد میں اضافے کا باعث کیوں سمجھتا ہے ؟

    ملک کے 24 کروڑ عوام نام نہاد سیاسی گماشتوں کے جھوٹے اور کھوکھلے بیانیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ماضی قریب میں ملک کی ہر ایک سیاسی جماعت نے ان اداروں کو زیر لب یا سرعام ان پر زبان درازیاں کیں اور اپنا اپنا جھوٹا بیانیہ بنایا اور ان اداروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ جبکہ محب وطن کے اداروں نے انہیں اقتدار سے ہٹتے ہی جس بے حسی اور بے صبری سے ان اداروں کو نشانہ بنایا وہ قابل مذمت ہے اور جس طرح ان اداروں پر مسلح حملوں کا ارتکاب کیا گیا قابل صدمذمت ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر غور کرنا چاہیئے اور ایسے عناصر کو نشان عبرت بنا کر ایک مثال قائم کرنا چاہیئے تاکہ آئندہ کسی بھی سیاسی شخصیت جماعت یا فرد کو ایسی مذموم حرکت نہیں کرنی چاہیئے ۔ ملکی سیاستدانوں کو کھلے دل سے اپنی لغزشوں غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے ۔24 کروڑ عوام کی خدمت دفاع پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں رہنا چاہیئے۔ ہماری افواج داخلی ،سلامتی اور امن وامان کے لئے دن رات ایک ہوتے ہیں ۔سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورت حال سے پی ڈی ایم حکومت ڈانوں ڈول دکھائی دیتی ہے۔ عالمی قوتیں اور ہمارا ازلی دشمن بھارت ملک کی موجودہ صورت حال پر طنز کے تیر چلا رہا ہے ہمیں جواب میں پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگانا چاہیئے

  • عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری
    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عدالت پیشی کے دوران گرفتار کر لیا گیا، عمران خان پر انکی حکومت کے عرصے کے دوران 2018 سے 2022 تک سرکاری تحائف کی فروخت کرنے کا الزام تھا، عمران خان کی گرفتاری غیر متوقع نہیں تھی تا ہم اسکے بعد تباہی دیکھنے کو ملی، تحریک انصاف کے کارکنان اور حامی سڑکوں پر نکلے ، دو چیزیں سامنے آئیں، ایک ، تحریک انصاف کی اول درجے اور دوم درجے کی قیادت اور رہنما عمران خان کی گرفتاری کے بعد سڑکوں پر احتجاج میں نظر نہیں آئے تھے، دوم،نام نہاد برگر کراؤڈ بھی اس احتجاج میں نظر نہیں آیا، عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو احتجاج ہوا اس میں جوش و جزبہ بھی دیکھنے میں نہیں آیا،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے کئی شہروں میں ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت نے موبائل فون نیٹ ورک کو بند کر دیا تا کہ رابطے نہ ہو سکیں، کئی شہروں میں ٹی وی کی نشریات بھی معطل کی گئیں، اسکے بعد آڈیو لیکس سامنے آنا شروع ہو گئیں، آڈیو لیکس میں ہونیوالی گفتگو سن کر یہ طے کرنا مشکل نہیں کہ اس ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی کون ہدایات دیتا رہا، آڈیو لیک کی گفتگو میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف بڑھنے کی ہدایات دی گئیں، تحریک انصاف کے رہنما، سینیٹر اعجاز چودھری اور انکے بیٹے علی چودھری کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز منہاس کی بھی آڈیو لیک ہوئی، دو اور بھی آڈیوز سامنے آئیں، جن میں ملک کے مفادات کے خلاف منصوبہ بندی کے ثبوت ملے،

    اختلافات سیاست کا فطری حصہ ہیں تا ہم اختلافات کو ختم کرنے اور آگے بڑھنے کا واحد حل بات چیت، مزاکرات ہیں ، لیکن بدقسمتی سے عمران خان کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے کو تیار نہیں تھے، اداروں، افراد اور حتیٰ کہ اقوام (جیسے امریکہ) پر الزام لگانے کا ان کا رجحان اس بات کی مثال ہے کہ سیاست میں کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ڈپلومیسی ایک فن ہے، اور اگر کوئی پارٹی رہنما اپنی پارٹی اور اپنی قوم کے مفادات کو ملکی سطح پر محفوظ رکھنے کے لیے سفارت کاری کا استعمال نہیں کر سکتا تو عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت کے حوالہ سے ان پر کوئی بھی سوال اٹھا سکتا ہے

    دنیا بھر کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں اکثر قید یا طویل مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اپنے کارکنان کو عوامی املاک کو تباہ کرنے یا ریاست کے ساتھ تنازعات میں ملوث ہونے پر اکساتے نہیں قیادت خود ایسے واقعات سے دور رہتی ہے ،عمران خان نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر ہیں، انکے ریمانڈ میں توسیع ہو سکتی ہے یا انہیں جوڈیشل ریمانڈ میں جیل بھجوایا جا سکتا ہے، جس کے بعد انکئ ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جا سکتی ہے، تحریک انصاف کے رہنما فواد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، مزید کئی گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں،ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کے اندر اقتدار کی کشمکش ناگزیر ہو جاتی ہے ،کیونکہ پارٹی طے کرتی ہے کہ اب پارٹی قیادت کون کرے گا، اب حساب کا وقت آ گیا ہے

  • انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    پنجاب اور کے پی کے الیکشن قبل ازوقت کروانے کے آئینی عمل نے اس نام نہاد جمہوری سسٹم کا پول کھول دیا ہے۔ جہاں حکومت محض ذاتی مفادات کے خاطر الیکشن نہ کروا کر آئین اور عدلیہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر عدلیہ مخالف تقریریں اور حکم عدولی کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے 90روز کے اندر الیکشن کروانے کی بجائے سپریم کورٹ سے درخواست کررہا ہے کہ الیکشن کے عمل میں آپ مداخلت نہ کرے الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمیں ہی کرنے دیں اور جو صورتحال نظر آرہی ہے اگر اسی طرح سسٹم رہا پھر تو حکومت اگر چاہے تو قیامت تک الیکشن نہ کروائے اور یہی کہتی رہی کہ فنڈز نہیں دینے، سیکورٹی نہیں دینی۔سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں تو اپنی جگہ پر مگر اب اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑاکرنے سے نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا ہورہا ہے جن کی مہنگائی کی چکی میں پیسا جارہا ہے جن کے لیے زندگی محال ہورہی ہے، جن کے دکھ درد میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور لاقانونیت کی وجہ سے اضافہ کیا جارہا۔ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہورہی ہے۔ چوری، ڈکیتی کی وارداتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مگر ریاست کے بااختیار، طاقتور اور اربوں کھربوں پتی سیاستدانوں کو ان مسائل سے کیا انہوں نے تو ہر دور میں ہر طرح سے عوام کا خون چوسنا ہے اور چوس رہے ہیں، ان کے کاروبار، جائیدادیں، بال بچے سب کچھ تو بیرون ملک ہے یہاں تو وہ صرف حق حکمرانی کے لیے آتے ہیں۔یہاں کتنے ججز اور بیوروکریٹس ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کی آخری سانسیں پاکستان میں لیتے ہوں؟

    انتخابات کے معاملے پر نہ صرف سیاستدانوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے بلکہ ریاستی اداروں میں بھی ماحول کشیدہ ہوچکا ہے۔ زیرک سیاستدان، صحافی، تجزیہ نگار، دانشور تو کئی دہائیوں سے اس سسٹم کو ناکارہ قرار دیتے آئے ہیں اور اسے طاقتوروں، لٹیروں اور مافیاز کا سہولت کار سمجھتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں طاقتوروں کے لیے الگ قانون اور غریب لوگوں کے لیے الگ قانون نظر آتا ہے، امیر لوگ پیسے کے ذریعے اس سسٹم سے ہر جرائم کے بعد ایسے بچ کر نکل جاتے ہیں جیسے مکھن سے بال اور غریب بے چارہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کئی کئی سال کال کوٹھڑیوں میں بند رہنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس دولت نہیں کہ وہ سسٹم کے تحت اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرسکے۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت شروع سے ہی برائے نام ہی رہی ہے، جو کوئی جمہوری ادوار گزرے ہیں انہیں بھی کٹھ پتلی حکمران ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ جس وزیر اعظم نے بھی آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی، عوامی ریلیف کے لیے کوئی کام کرنے کی کوشش کی تو اس کا دھڑن تختہ کردیا گیا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں موروثیت کا شکار ہونے کی وجہ سے ہی حقیقی جمہوریت پنپ ہی نہیں سکی۔ حق بات کہنے والے پارٹی لیڈر کو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے، پارٹیوں سے نکالنے کے لیے کوئی قاعدہ قانون، شوکاز نوٹس یا پھر کسی قسم کی کارروائی کے بغیر ہی میڈیا پر اعلان کردیا جاتا ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر فارغ کردیا گیا ہے، حالانکہ جمہوری معاشروں میں پارٹی پالیسیاں بھی پارٹی بناتی ہیں مگر یہاں لیڈر جو سوچ لیتا ہے وہی پارٹی پالیسی بن جاتی ہے۔

    معاشرے انصاف کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں، جہاں عدل کا توازن بگڑ جائے وہاں زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، بدقسمتی سے اشرافیہ نے پاکستان کا وہ حال کردیا ہے کہ جہاں سچ بولنا جرم بن جاتا ہے، لوگ اپنی بے بسی کا نوحہ بھی نہیں پڑھ سکتے، اگر حکومت ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو پھر باقی اداروں اور عام لوگوں میں عدلیہ کے فیصلوں کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟ اور جب عدالتیں لوگوں کو انصاف ہی فراہم نہ کرسکیں تو پھر یہ انسانوں کی نہیں بلکہ حیوانوں کی بستی بن جائے گی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون بن جائے گا۔ مہذب معاشروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، جس میں ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھنا ریاست کے ذمہ ہوتا ہے مگر پاکستان میں ریاست لوگوں کو انصاف فراہم کررہی ہے نہ ہی ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران منتخب کرنے کا حق دے رہی ہے تو پھر لوگ کیا کریں، ریاست کے ذمہ داران کو ابھی بھی سرجوڑ کربیٹھ جانے کی ضرورت ہے اور سیاسی کشیدگی کو کم کروائیں، فوری انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار منتخب لوگوں کے حوالے کر کے تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملکی ترقی، سلامنی، امن و امان اور خوشحالی کے لیے کام کریں صرف اسی صورت پاکستان دنیا میں ترقی کرسکتا ہے۔

    سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک معاشی طور پر بھی عدم استحکام کا شکار ہوا۔ لوگوں کا معیارزندگی پست ہوگیا۔ ملک میں ایک ہیجانی کیفیت برپا ہے کوئی سمجھ نہیں کہ اگلے لمحہ کیا فیصلہ ہونے والا ہے، کیا رد عمل آئے گا۔ ایک ایٹمی ملک کا اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہونا ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوجانا بھی لمحہ فکریہ ہے، ریاست کے ذمہ داران نے کبھی اس معاملے پر غور کیا کہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم پر انجام کیا ہوگا؟ کیا ہمارا آج کا طرز حکمرانی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ہے؟ کیا ہم ملک میں افراتفری یا پھر انارکی چاہتے ہیں؟ پاکستان میں جس طرح سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اداروں کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے اس سے خدانخواستہ تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے اگر کوئی جامع حکمت عملی تیار نہ کی گئی تو پھر اس کے نتائج بھی بھیانک ہونگے۔

  • بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    حالیہ دنوں بھارت کے شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کو پاکستان میں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ مخالفین کے مطابق بلاول کو بھارت جاکر شرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔

    تاہم واضح رہے کہ جن لوگوں نے بلاول کی اس شرکت کو منفی رنگ دیا یا اس پر اعتراض کیا وہ یا تو مخالفت میں اندھے ہوچکے یا پھر حقائق سے نابلد ہیں کیونکہ وزیر خارجہ کا بھارت جاکر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے کا مقصد انڈیا کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کرنا نہیں تھا بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں اور اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    خیال رہے کہ اس اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات پر بلاول بھٹو زرداری اور جے شنکر کے درمیان کوئی دو طرفہ بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسی کسی قسم کی کوئی ملاقات ہوئی ، بھارت نہ چاہتا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس فورم میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت، سی پیک اور دہشت گردی کے بارے میں بات چیت ہو یا وہ اس میں شامل ہوں۔

    لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس فورم میں شرکت کرکے ان تمام مسائل کی طرف شرکاء کی ناصرف توجہ مبذول کروائی بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ اور ان مسائل کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اجاگر کرکے بلاول نے بہت اچھا کیا ہے جس پر انہیں سراہا جارہا ہے۔

    جنوبی ایشیائی امور کے ماہر امریکی صحافی مائیکل کوگلمین کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری نے وہ کام سرانجام دیا جو اسلام آباد چاہتا تھا، بھارت کے علاوہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کے علاوہ ایس سی او کے تمام ارکان کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں جو انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور یہ اس خطہ کے امن کیلئے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک یعنی بھارت اور پاکستان اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں جبکہ بھارت اس خطے میں اپنا سب سے بڑا حریف چین کو سمجھتا ہے ناکہ پاکستان کو لہذا وہ اب پاکستان کے ساتھ اب گٹھ جوڑ کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے لیئے سب بڑا خطرہ پاکستان کے بجائے چین کو سمجھتا ہے۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان بھی اندرونی طور پر مختلف مسائل سے نمٹ رہا ہے جیسے حالیہ آئینی بحران سمیت معاشی بحران جبکہ مہنگائی اور سیاسی انتشار اور نفرت عروج پر ہے ،

    حقانی نے ایک بیان میں درست نکتہ اٹھایا کہ گوا میں ہونے والے اجلاس سے یہ امید نظر آتی ہے کہ اس سے مثبت بات چیت کی طرف راہ ہموار ہوگی۔

    یاد رہے کہ علاقائی استحکام کے حصول کے لیے پاکستان کو بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ دونوں فریقین کو آگے بڑھ پہل کرکے اپنے تمام تر شکوک و شبہات اور خدشات کو دور کرنے کیلئے میز پر بیٹھنا چاہئے اور اس کیلئے کمیٹیاں بنانی چاہئے جو ایک میز پر بیٹھ کر دونوں طرف کے خدشات دور کریں۔

    ای اے بکیانیری نے کہا تھا کہ مسائل ایک دروازہ کی طرح ہوتے ہیں لہذا آپ کو اس کے اندر سے گزرنا پڑے گا لیکن اگر آپ آگے نہیں بڑھتے تو پھر دیوار کے ساتھ ٹکرانے کیلئے تیار ہوجائیں۔

  • سمت درست ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سمت درست ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے سوال ہے کہ کیا ملک سے آئین ، قانون اور اخلاقیات ،اصول ختم ہونے جا رہے ہیں۔کیا ہر سیاسی جماعت کے قائدین کو اپنے اوراپنی جماعت کے ذاتی مفادات عزیز ہیں ؟ پاکستان بطور ریاست اور24 کروڑ عوام کے مفادات کو دفن کرکے کس جمہوریت کی خدمات سرانجام دی جار ہی ہے۔ ؟اور کس جمہور کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ آج عوام کی معاشی حالات بدسے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ بے روزگار نوجوان سڑکوں پر دھکے کھا رہاہے ۔ بے روزگاری سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اخلاقیات کا تو جنازہ نکال دیاگیا ہے ۔ آڈیو اور ویڈیو کے گندے کھیل نے معاشرے کی نوجوان نسل کو برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہماری پرانی نسل کے کامیاب سیاسی رہنما چاہے ان کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رہا ہو وہ اپنی ایمانداری اخلاق کی بدولت عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں آج بھی دلوں پر راج کررہے ہیں ۔خدارا عوام شیخی باز اور مغرور اور متکبر بداخلاق سیاستدانوں سے دور رہیں اور بالخصوص وطن عزیز کے نوجوان اپنے آپ کو ان سے دوری اختیار کریں۔ دورحاضر کے سیاستدانوں کو پرانی نسل کے سیاسی قدرآور لیڈران جیسا کردار اد ا کرنا چاہیئے ۔

    اس ملک اور نوجوان نسل کو مسخر ے سیاستدانوں کی ضرورت نہیں۔ نرم دل و نرم گفتار شخصیت کے حامل سیاسی رہنمائوں کی ضرورت ہے۔ حیرت ہے آئین کو توڑنے آئین شکنی پر سیاستدانوں کو ہیرو قرار دیا جار ہا ہے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے ، عدلیہ کو متنازعہ بنانے والوں کو قومی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے ۔ صد افسوس ریاستی اداروں کو بین الاقوامی سطح پر متنازعہ بنا کر ہم کون سا قومی فریضہ ادا کررہے ہیں؟ آج بھی وقت ہے سیاستدان ملک و قوم کی خاطر درست سمت کا تعین کرلیں ورنہ تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی انسان دنیا سے چلا جاتا ہے اُس کا کردار زندہ رہتا ہے۔

  • یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    ناسا کی جانب سے ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ان کے مرکز اور برفیلے خول کے درمیان ممکنہ طور پر پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی جانب سے کی جانے والی تحقیق، ایسی پہلی تحقیق ہے جس میں یورینس کے پانچوں بڑے چاندوں (ایریئل، امبریئل، ٹائٹینیا، اوبیرون اور مِیرانڈا) کے سانچے اور اندرونی تشکیل کے ارتقاء کے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے تحقیق کے مطابق چار چاندوں میں سمندر موجود ہیں جو ممکنہ طور پر میلوں گہرے ہوسکتے ہیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے


    ناسا کے وائجر خلائی جہاز کے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ، نئے کمپیوٹر ماڈلنگ کے ساتھ، ناسا کے سائنسدانوں کو اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یورینس کے سب سے بڑے چاندوں میں سے چار ممکنہ طور پر اپنے کور اور برفیلی پرتوں کے درمیان ایک سمندری تہہ پر مشتمل ہیں-

    مجموعی طور پر، کم از کم 27 چاند یورینس کے گرد چکر لگاتے ہیں، جس میں چار سب سے بڑے ایریئل سے لے کر، 720 میل (1,160 کلومیٹر) کے اس پار، ٹائٹینیا تک ہیں، جو 980 میل (1،580 کلومیٹر) تک ہیں سائنسدانوں نے طویل عرصے سےٹائٹینیا کےسائز کو دیکھتے ہوئےسوچا ہے کہ اندرونی حرارت کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ امکان ہے، جو تابکار کشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    دوسرے چاند کو پہلے بڑے پیمانے پر بہت چھوٹا سمجھا جاتا تھا کہ وہ اندرونی سمندر کو جمنے سےبچانے کے لیے ضروری حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت چھوٹا سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر اس لیے کہ یورینس کی کشش ثقل کی وجہ سے پیدا ہونے والی حرارت گرمی کا صرف ایک معمولی ذریعہ ہے۔

    نیشنل اکیڈمیز کے 2023 پلانیٹری سائنس اینڈ ایسٹروبائیولوجی ڈیکاڈل سروے نےیورینس کی تلاش کو ترجیح دی۔ ایسے مشن کی تیاری میں، سیاروں کے سائنس دان پراسرار یورینس نظام کے بارے میں اپنے علم کو بڑھانے کے لیے برف کےپہاڑوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

    جنوبی کیلی فورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے لیڈ مصنف جولی کاسٹیلوروگیز نے کہا کہ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ میں شائع ہوا، نیا کام یہ بتا سکتا ہے کہ مستقبل کا مشن چاندوں کی تحقیقات کیسے کر سکتا ہےلیکن اس مقالے میں ایسے مضمرات بھی ہیں جو یورینس سے آگے بڑھتے ہیں-

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کی جولی کاسٹیلو روگیزنےایک بیان میں کہا کہ جب چھوٹےاجرامِ فلکی کی بات آتی ہےتوماضی میں سیاروی سائنس دانوں کو متعدد غیر متوقع جگہوں پر سمندروں کے شواہد ملے ہیں۔ ان جگہوں میں بونے سیارے سِیریز اور پلوٹو اور سیارے زحل کا چاند مِیماس شامل ہیں۔لہٰذا ان جگہوں پر کچھ ایسے نظام ہیں جن کو ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ یہ دریافت وائجر اسپیس کرافٹ سے حاصل ہونے والے اصل ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ وائجر نے یہ تفصیلی معلومات 1980 کی دہائی میں یورینس کے قریب سے دو بار گزرنے کے دوران اکٹھا کی تھیں۔

    ڈیٹا کے استعمال کے ساتھ ناسا سائنس دانوں نے روایتی ٹیلی اسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے سیاروں کے کمپیوٹر ماڈل بنائے جن میں ناسا کے گیلیلیو، کیسینی، ڈان اور نیو ہورائزنز سے حاصل ہونے والی معلومات بھی شامل تھیں۔

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ …

  • تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    امریکی ماہرین نے تنہائی کو ایک دن میں 15 سگریٹ پینے سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یو ایس سرجن جنرل نے منگل کو صحت عامہ کی تازہ ترین وبا کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ کورونا کے دور میں تنہائی کے گہرے احساس نے لاکھوں امریکیوں کو متاثر کیا انہوں نے کہا کہ امریکہ میں وسیع پیمانے پر تنہائی صحت کو اتنا ہی خطرناک بناتی ہے جتنا کہ روزانہ 15 سگریٹ پینا، جس سے صحت کی صنعت کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

    قبول نہیں کرتے کہ سعودی عرب کو ہمارا دشمن سمجھا جائے،ایران

    ڈاکٹر وویک مورتھی نے اپنے دفتر سے 81 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا کہ تقریباً نصف امریکی بالغوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تنہائی کا تجربہ کیا ہے۔

    مورتھی نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ تنہائی ایک عام احساس ہے جس کا بہت سے لوگ تجربہ کرتے ہیں۔ یہ بھوک یا پیاس کی طرح ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جب جسم ہمیں اس وقت بھیجتا ہے جب ہمیں بقا کے لیے کوئی چیز درکار ہوتی ہےامریکہ میں لاکھوں جدوجہد کر رہے ہیں، اور یہ درست نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے یہ ایڈوائزری جاری کی تاکہ اس جدوجہد سے پردہ ہٹایا جا سکے جس کا بہت زیادہ لوگ تجربہ کر رہے ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق امریکا میں تقریباً 50 فیصد لوگوں کو تنہائی کے متاثرین سمجھا جاتا ہے، اس لیے امریکی صحت کے حکام سماجی تنہائی کا منشیات کے استعمال یا موٹاپے کی طرح سنجیدگی سےعلاج کرنے پر زور دے رہے ہیں ماہرین کے مطابق تنہائی سگریٹ پینے سے زیادہ خطرناک ہونےکے علاوہ قبل ازوقت موت کی وجہ بھی بنتی ہے۔

    سرجن جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں نے کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ میل جول ختم کیا امریکیوں نے 2020 میں دوستوں کے ساتھ روزانہ تقریباً 20 منٹ گزارے، جو تقریباً دو دہائیوں پہلے روزانہ 60 منٹ سے کم تھے تنہائی خاص طور پر 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کیلئے نافذ عالمی ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان کردیا

    ، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنہائی قبل از وقت موت کے خطرے کو تقریباً 30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے کمزور سماجی تعلقات رکھنے والوں میں بھی فالج اور دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہےتحقیق کےمطابق تنہائی کسی شخص کے ڈپریشن، اضطراب اورڈیمنشیا کا سامنا کرنے کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ مورتی نے کوئی ایسا ڈیٹا فراہم نہیں کیا جس سے یہ واضح ہو کہ کتنے لوگ تنہائی یا تنہائی سے براہ راست مرتے ہیں۔

    سرجن جنرل کام کی جگہوں، اسکولوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، کمیونٹی تنظیموں، والدین اور دیگر لوگوں سے ایسی تبدیلیاں کرنے کی اپیل کر رہے ہیں جس سے روابط کو فروغ ملے۔ وہ لوگوں کو کمیونٹی گروپس میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہے اور جب وہ دوستوں سے ملاقات کر رہے ہوتے ہیں تو اپنے فون استعمال نہ کریں –

    سگریٹ نوشی چھوڑنے کیلئے تُرک شہری نے اپنا سر پنجرے میں بند کر لیا

    ٹیکنالوجی نے تنہائی کے مسئلے کو تیزی سے بڑھا دیا ہے، رپورٹ میں ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تک سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان میں سماجی طور پر الگ تھلگ محسوس کرنے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے جو اس طرح کی ایپس پر ایک دن میں 30 منٹس کم وقت استعمال کرتے تھے۔

    مورتھی نے کہا کہ سوشل میڈیا خاص طور پر تنہائی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بچوں کے لیے خاص طور پر ان کے سوشل میڈیا رویے کے ارد گرد تحفظات تیار کرتی ہیں۔

    12 سال بعد کوئی ملک غریب نہیں ہوگا. بل گیٹس کا دعویٰ

    مورتھی نے کہا کہ "اندرونی بات چیت کا واقعی کوئی متبادل نہیں ہے۔ "جیسا کہ ہم اپنی بات چیت کے لیے ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی طرف منتقل ہوئے، ہم نے ذاتی طور پر اس بات چیت سے بہت کچھ کھو دیا۔ ہم ایسی ٹیکنالوجی کو کیسے ڈیزائن کرتے ہیں جو ہمارے تعلقات کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرتی ہے؟اس کہانی کو یہ ظاہر کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے کہ سرجن جنرل نے کہا کہ تنہائی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ روزانہ 15 سگریٹ پینا-

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

  • واٹس ایپ صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف

    واٹس ایپ صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف کروا ئے ہیں-

    باغی ٹی وی: کمپنی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ پر نئے فیچرز شامل کیے جارہے ہیں جس سے ہمیں امید ہے کہ صارفین کو چیٹ کرنے کے دوران سہولت میسر ہوگی-

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    نومبر 2022 میں واٹس ایپ نے پولنگ کا نیا فیچر متعارف کیا تھا، اب رواں ماہ اسے مزید اپڈیٹ کیا گیا ہے، اس فیچر کے تحت آپ واٹس ایپ پولز میں کسی فرد کو محض ایک ووٹ دینے تک محدود کرسکتے ہیں اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے پول کو پوسٹ کرنے سے قبل آپ کو ملٹی پل آنسرز ( ’allow multiple answers‘ ) کے آپشن کو ڈس ایبل(disable) کرنا ہوگا۔

    اس کے علاوہ جب دیگر لوگ آپ کے پوسٹ کیے گئے پول پر ووٹ دیں گے تو آپ کو ایک نوٹیفیکشن موصول ہوگا، اس نوٹیفیکشن میں یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ کتنے لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔

    میٹا کی واٹس ایپ میں گوگل ڈرائیو کی متبادل ٹرانسفر کی آزمائش

    دوسری جانب واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے اور نامعلوم نمبر سے کال آنے پر پریشانی سے بچنے کے لیے ایک نیا ٹول پیش کیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ کی جانب سے اس نئے آپشن کا اسکرین شاٹ بھی شئیر کیا گیا جس میں دکھایا گیا کہ آپ واٹس ایپ سیٹنگز میں پرائیویسی پر کلک کرکے اس آپشن کا استعمال کرسکتے ہیں نامعلوم افراد کی جانب سے آنے والی کال کے فون نمبر کو آپ silence unknown calls پر کلک کرکے ان کی کالز کو mute کرسکتے ہیں تاہم یہ نمبرز آپ کی کالز لسٹ یا نوٹیفیکشن پر دکھائی دیں گے۔

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں …

  • انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال اور ڈیمینشیا

    انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال اور ڈیمینشیا

    نیو یارک: ایک نئی تحقیق میں میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال ڈیمینشیا کے خطرات میں کمی لاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل آف دی امیریکن گیریاٹرکس سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتایا گیا ہے کہ وہ بوڑھے افراد جو باقاعدگی کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ان کے ڈیمینشیا میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں تحقیق میں نیویارک یونیورسٹی کے محققین نے 50 سے 65 سال کے درمیان 18،154 افراد کو تقریباً آٹھ سال تک زیر معائنہ رکھا۔

    اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    ان افراد سے تحقیق کی ابتداء میں اور ہر دو سال کے وقفے سے ای میل بھیجنے، خریداری کرنے یا وقت صرف کرنے کے لیے انٹرنیٹ کے مسلسل استعمال کے متعلق پوچھا گیا وہ افراد جنہوں نے ہاں میں جواب دیا تھا ان میں نہ کہنے والوں کی نسبت تحقیق کے آخر تک کسی بھی قسم کے ڈیمینشیا کی تشخیص ہونے کے امکانات 50 فی صد تک کم تھے ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کی وجہ ممکنہ طور پر یہ ہوسکتی ہے کہ انٹرنیٹ دماغ کو پہنچے والے نقصان کے خلاف محرک کرتا ہے-

    تحقیق کے شروع میں کوئی فرد بھی ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں تھا لیکن تحقیق کے آخر تک 1 ہزار 183 افراد (تقریباً پانچ فی صد) ڈیمینشیا مبتلا ہو چکے تھےانٹرنیٹ استعمال کرنے والے گروپ میں 10،333 افراد میں سے 224 افراد (1.5 فی صد افراد) ڈیمینشیا میں مبتلا ہوئے جبکہ دوسرے گروپ میں 7،821 افراد میں 959 افراد (10.45 فئی صد)اس بیماری میں مبتلا ہوئے۔

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    تحقیق میں شریک ہر فرد سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ای میل بیغامات بھیجنےیاموصول کرنے یا خریداری یا کسی دیگر غرض سے مستقل بنیادوں پر انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ جن افراد کا جواب ہاں تھا ان کو مستقل صارف جبکہ جن کا جواب نہ تھا ان کو غیر مستقل صارف قرار دیا گیا۔

    قبل ازیں ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ ایچ آئی وی کے لیے استعمال کی جانے والی دوا ڈیمینشیا میں بننے والے خطرناک پروٹین سے بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج کے سائنس دانوں کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہنٹنگٹنز بیماری اور ڈیمینشیا کی دیگر اقسام میں دماغ کی زہریلے پروٹین ختم کرنے کی صلاحیت خراب ہوجاتی ہے چوہوں پر کی جانے والی اس نئی تحقیق میں میراوائرک نامی ایچ آئی وی کی دوا استعمال کی گئی۔ تجربے میں دیکھا گیا کہ یہ دوا دماغ کے مذکورہ بالا عمل کو فعال کرنے کے قابل تھی جس سے خطرناک پروٹین کے جمع ہونے اور آہستہ آہستہ بیماری میں مبتلا ہونے سے بچنے میں مدد ملی۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    یونیورسٹی آف کیمبرج میں قائم یو کے ڈیمنشیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سینئر مصنف پروفیسر ڈیوڈ رُوبِنسٹائن کا کہنا تھا کہ محققین کے لیے یہ دریافت اس لیے دلچسپ ہے کیوں کہ انہوں نے صرف ہمارے اعصابی نظام کو تیزی سے ختم کرنے والا نیا مکینزم دریافت نہیں کیا ہے بلکہ انہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کو ممکنہ طور پر پہلے سے موجود محفوظ علاج کی مدد سے روکا بھی جاسکتا ہےشاید میراوائرک خود جادوئی دوا نہ ہو لیکن یہ ایک ممکنہ راستہ ضرور دِکھاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوا کے بطور ایچ آئی وی کے علاج بننے کے دوران، متعدد ادویات ایچ آئی وی کے خلاف مؤثر نہ ہونے کے باعث ناکام ہوئی تھیں۔ شاید محققین ان میں سے کوئی دوا انسانوں کو اعصابی بیماری سے بچانے میں مؤثر پائیں۔

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا