Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ملکی وقار  اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی فضائوں میں ایک طرف الیکشن اور دوسری طرف کسی قومی حکومت کی بھی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ اس قومی حکومت میں شمولیت کے لئے سبھی جماعتیں تیار یں۔ یعنی نیا دام لائے پرانے شکاری ۔ لیکن افسوس کہ اب پرانے شکاریوں کے پاس نہ کوئی نیا دام ہے نہ پرانا دام ہے سب دام تار تار ہو چکے ہیں عوام سب داموں کو خوب جان چکے ہیں اب ان کے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے جال کو خوب پہچان چکے ہیں ۔ آج کل پارلیمنٹ ہائوس میں پارلیمان والے نوحہ کناں ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑی تنخواہیں ہیں ہماری تنخواہیں آج کے مہنگائی کے دور مین بہت کم ہیں۔ کیا پارلیمنٹ ہائوس تک اور پھر وزارتیں ریاستی پروٹوکول اختیارات دلوانے والے عوام کا کبھی خیال آیا جن کی تنخواہیں 15 ہزار یا 20 ہزار ان کی گذر اوقات کیسے ہوتی ہوگی ؟ بے بس عوام جو ووٹر ہے زندگی کاکوئی راستہ نہ پاکر خودکشیاں بھی کرتے ہیں۔ تاہم موجود سیاسی ماحول نے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی قانون کی حکمرانی کانعرہ لگانے والوں کے قلب وروح کو زخمی کردیا ہے ۔ ملکی سیاست ایک معمہ بن چکی ہے ۔ حالات کب کون سا رُ خ اور رنگ اختیار کرلیں کب سیاسی بساط پر مہرے تبدیل ہوجائیں اور کب جیتی بازی ہار میں تبدیل ہوجائے یہ کوئی نہیں جانتا اور کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کب ہونی انہونی اور انہونی ہونی بن جائے ۔

    بے چینی بے یقینی اور عدم استحکام کے سائے گہرے سے گہرے ہوتے چلے جار ہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ، پاک فوج کے جملہ اداروں کے خلاف سلیکٹڈ کا نعرہ لگانے والے اور پھر امپورٹڈ کا نعرہ لگانے والوں نے جو زبان استعمال کی اُسے کسی طرح درست قرار نہیں دیاجا سکتا اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے آخر ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے خدارا ہوش کریں۔

  • اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    ویب سائیٹ ٹیک کرنچ کی خبر کے مطابق ابھی تک سوشل میڈیا نیٹ ورکس جیسے ٹوئٹر یا فیس بک کے اکاؤنٹس پر بلیو ٹِک دیا جاتا تھا۔ مگر گوگل کی جانب سے ای میل سروس جی میل کے اکاؤنٹس کے لیے بھی بلیو ٹِک کا فیچر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس فیچر کا مقصد صارفین کو یہ یقین دلانا ہے کہ کسی اکاؤنٹ کی جانب سے بھیجی جانے والی ای میل مستند ہے،کوئی فراڈ نہیں۔

    جی میل میں بلیو چیک مارک کا اضافہ گوگل کی Brand Indicators for Message Identification (بی آئی ایم آئی) ٹیکنالوجی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ گوگل کی جانب سے جی میل میں اس ٹیکنالوجی کی آزمائش 2020 میں شروع کی گئی تھی۔ جبکہ کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر کمپنیوں کے جی میل اکاؤنٹس پر بلیو ٹِک کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ ای میل اکاؤنٹ کے مستند ہونے کا عندیہ مل سکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جب اس ای میل کے اوپر ماؤس کرسر کو رکھا جائے گا تو صارف کے مستند ہونے کی یقین دہانی کا ایک میسج نظر آئے گا جس میں مزید تفصیلات کے ایک لنک بھی موجود ہوگا۔ گوگل کا کہنا تھا کہ ای میل اکاؤنٹ کے مستند ہونے کی تصدیق سے صارفین کو مدد ملے گی جبکہ ای میل سکیورٹی سسٹمز کے لیے اسپام میلز کو شناخت کرنا آسان ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ فیچر آئندہ چند دنوں میں تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے اور ورک اسپیس ایڈمنز اس کے ذریعے اپنی کمپنی کی ای میل اکاؤنٹ پر بلیو ٹِک حاصل کر سکیں گے۔

  • قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد  کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    ابراہم لنکن نے کہا تھا "انتخابات کا تعلق عوام سے اور یہ ان کا فیصلہ ہے، اور اگر وہ آج کسی غلط انسان کا انتخاب کرتے ہیں تو کل کو انہیں ہی سب کچھ بھگتنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے یہ فیصلہ خود کیا تھا.” انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو عملی طور پر شفاف رکھنا ہوگا۔ جبکہ ریاست میں انتخابات سے قبل وفاقی اور صوبائی دونوں میں نگران حکومتوں کے قیام کیلئے آئین میں دفعات موجود ہیں تاکہ انتخابات کو یقینی طور پر شفاف بنایا جا سکے اگر دو جگہوں پر الیکشن ہو گئے اور پھر اگلی قسط میں د ونگران حکومتوں کے دور میں ہوئے اور وفاقی حکومت میں، تو پھر صوبائی حکومتیں وفاقی الیکشن میں سرکاری مشنری کا غلط استعمال کر سکتی ہیں

    اگر عمران خان کی خواہش کے مطابق پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں الیکشن ہوتے ہیں تو وفاقی حکومت تو اپنی جگہ پر قائم رہے گی دو صوبوں میں نگران حکومتیں ہیں الیکشن ہوں گے اور پھر شکست کھانے والی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے گا اور الزام تراشی ہوگی جبکہ بعدازاں یہ بھی الزام عائد ہونے کا خطرہ ہے کہ حکومتی مشینری کو حکمران جماعت کے حق میں استعمال کیا گیا ہے.

    تاہم خیال رہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 224 اور 224-A سے بھی متصادم ہوگا جو اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں نگراں حکومتوں کی تقرری کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ لہذا آئین کو ایک کھلونا نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر نظرانداز کردیا جائے. لہذا میری رائے میں مناسب یہ ہوگا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کروائے جائیں تاکہ بار بار انتخابات یعنی ڈبل الیکشن یا علیحدہ علیحدہ انتخابات پر وسائل کا ضیاع نہ ہو. اور تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر الیکشن کے میدان میں اترنے کا موقع دیا جائے جبکہ سیاسی وفاقی حکومت کے صوبہ میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کے امکانات یعنی ریاستی مشینری کے استعمال کے امکانات کو بھی دور کیا جاسکتا ہے.

  • وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی اداروں کا وقار اور عدلیہ کا اعتماد کسی قوم کو طاقت بخشتا ہے آج بھی اقوام عالم میں جو قومیں انصاف اور عدل کے مضبوط نظام پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی طاقت ور قومیں ہیں اوراسلامی تاریخ بھی کئی اعلیٰ مثآلوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ سے لیکر عدل جہانگیری تک انصاف کا بول بالا رہا اسی انصاف سے عوام کی فلاح ،فرد اور ملت کا رشتہ مضبوط رہا۔ ملک اور قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یہاں آئین سے کھلواڑ ہوتا رہا اور اس کھلواڑ میں سیاسی جماعتیں شامل رہیں۔ سیاستدان تو جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت کے قول و فعل میں تضاد ہے نہ جمہوریت کی فکر، نہ عوام کی فکر، اقتدار کس طرح حاصل کرنا ہے کی فکر میں تمام حدوں کو کراس کرجاتے ہیں۔

    اپنے آپ کو اپنی ذات کو مرکز ثقل گرداننا وہ کیڑا ہے جو شہنشاہیت کے دور میں فرانس کے شہنشاہوں میں بدرجہ اتم تھا ریاست کیا ہے وہ میں ہوں میری ذات ہے باقی سب میرے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ملک و قوم کن حالات سے گزر رہی ہے کسی بھی سیاستدان کو اس کی پروا نہیں۔ آڈیو اور ویڈیو کا گندا کھیل اور سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر اس کا پرچار سینہ تان کر کیا جاتا ہے ٹی وی چینلز اس مکروہ اور گندے کھیل کو اپنے ٹی وی چینل کی بقا سمجھ رہے ہیں ملک کی ترقی اور 24 کروڑ عوام کی فلاح کا اس گندے کھیل سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام کی اکثریت روٹی کی محتاج ہے عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ریاست کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے آدھے سے زیادہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں موجودہ جنگ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کی جنگ میں ملک و قوم کی جنگ بنا دیا گیا ہے۔

    اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کیا آڈیو ویڈیو کی داستانیں اور قصے ہمارے اداروں کے وقار کو مجروح نہیں کررہے کیا خود سیاستدانوں کی عزت و وقار مجروح نہیں ہو رہے؟ ضرور ہورہے ہیں اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر کیا مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کے اثرات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور عزت پر نہیں پڑ رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہان وکلاء تنظیموں اور سیاسی اکابرین کو بیٹھ کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک اور قومی اداروں کے وقار کو بحال کرنے کی جستجو کرنی چاہئے پسند اور ناپسند سے بالاتر سوچ کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد کے لئے آگے ہو کر کردار ادا کریں۔

  • پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان کو اس وقت شدیدترین ماحولیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ جنگلات کی کٹائی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی اور زمینی آلودگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ جبکہ جنگلات کی کٹائی نہ صرف گلوبل وارمنگ کیلئے اہم کردار ہے بلکہ یہ کٹاؤ ساحلی سیلاب کا باعث بھی بنتتا ہے جس سے نہ صرف پودوں کو ختم کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ چرند، پرند اور جانوروں کے گھر بھی تباہ ہوتے ہیں.

    اگر ہم صحت کے حوالے سے اس کا جائزہ لیں تو درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اورآکسیجن فراہم کرتے ہیں جبکہ دوران سیلاب تیز پانی کے بہاؤ کو بھی روکتے ہیں علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک میں تو درختوں کا ہونا اس لئے بھی انتہائی ضروری ہے کہ موسمی حالات کے بدلتے وقت جیسے سردیوں میں لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا وغیرہ پکانے یعنی آگ کیلئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بڑے شہروں کے علاوہ گیس کی سہولت میسر نہیں ہے.

    دوسری جانب ہمارے ملک میں آبی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ بہت سارا کیمیائی فضلہ (کچرا) پانی میں پھینکا جاتا ہے جس سے زہریلے مادے بھی پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے جبکہ اس میں کارخانوں میں استعمال کے بعد پیدا ہونے والا کچرا، اور ناقص سیوریج سسٹم بھی آبی آلودگی کا باعث بنتے ہیں،

    صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ لاہور جو بہت بڑا شہر ہے اور سردیوں کے موسم میں اسے سموگ کا سامنا رہتا ہے ، اس سے علم ہوتا ہے کہ یہاں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے، علاوہ ازیں گاڑیوں میں اضافہ کے سبب دھواں، ایندھن نیز کارخانوں اور کاروں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں ،تاہم واضح رہے کہ زمین کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے غلط نظام کے سبب زمین کے کھلے پلاٹوں میں کچرا پڑا رہتا ہے جس سے نہ صرف ناگوار بدبو، بیماریاں اور آلودگی پھیلتی ہے بلکہ ماحول بھی گندہ ہوتا ہے اور حکومت کا صرف پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کوئی جامع حکمت عملی بنانی ہوگی.

    اس موسمیاتی تبدیلی نے تباہ کن سیلاب بھی لائے جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں ، سیلاب زمینیوں سمیت زرعی کھیتوں کو تباہ کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل نینو سمندری رجحان کی وجہ سے زیادہ بارشوں کے خطرے سے دوچار 20 ممالک میں شامل ہے۔ (ڈان نیوز)

    پاکستان کو ان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع پالیسیاں اور قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ افراد، کارپوریشنز اوراداروں کو انکی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے،حکومت کو ان مسائل کو حل کرنے موثر پالیسیاں بنانے اور ان پرعمل درآمد کرنے میں آگے بڑھنا چاہئے تا کہ پاکستان کا مستقبل پائیدار ہو.

  • آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    تحریر۔ محمد انور بھٹی

    بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا۔ یعنی ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا میں نے بچپن میں اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ لیکن آج یہ محاورہ پھر سے میرے ذہن میں آیا تو میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔تو مجھے اس کا اطلاق ریلوے کے ضعیف العمر پینشنرز،بیواؤں اور یتیم بچوں پر ہوتا نظر آیا۔کیونکہ ریلوے کے یہ ریٹائرڈملازمین آج کل کچھ اسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آرہےہیں۔پاکستان ریلوے ملازمین دورانِ سروس جن مشکلات،دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں شاید ہی کسی اور سرکاری ادارے کے ملازمین کو ایسی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔یہ اپنے پیاروں سے سینکڑوں میل دور جنگلوں، تپتے صحراؤں ،ٹھٹھرتے ہوئے میدانوں اور سنگلاخ چیٹانوں کے درمیان اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں ۔یہاں دورانِ سروس انہیں جن دکھوں ،تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام پریشانیوں اور تکالیف کے باوجود بھی یہ ملازمین اپنی ڈیوٹیاں خندہ پیشانی، عزم ،حوصلہ اور ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔دوران سروس ہر ایک ملازم کی دو اہم ترجیحات ہوتی ہیں ۔ایک تو یہ اپنے ادارے کی ساکھ کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیتے ہیں دوسرا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا خاندان معاشرے میں اچھے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ اور جب یہ اپنی سروس مکمل کر چکیں تو یہ اس معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ باقی مانندہ زندگی برابری کی سطع پر گزار سکیں۔ریٹائرڈ منٹ کے بعدان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اِن کے اہل خانہ کے سر پر بھی اپنی چھت ہوگی۔ یہ بھی اپنے جواں سال بیٹوں کے سروں پر سہرے سجائیں گے۔ اپنی بیٹیوں کے ماتھے پر جھومر سجاکرانکےہاتھوں پر مہندی رچاکر انکی ڈولیوں کو سجا کر اپنے گھروں کو باعزت طریقےسے روانہ کریں گے۔

    مگر انتہائی قابل افسوس امر بات ہے کہ جن محنت کشوں نے بڑی جاں فِشانی کے ساتھ اپنی زندگی کےتیس سے (30) سے چالیس (40) سال اپنے ادارے اور ملک وقوم کی خدمت میں قربان کئےاور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج ان محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ادارے اور ریاست کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی انسانی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اور دوران سروس وفات پاجانے والے ملازمین کے خاندانوں کوریاست کی جانب سے ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ ضعیف العمرریٹائرڈ ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے معاشی اور معاشرتی طور پر انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ معاشی بدحالی کے سبب ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوکر یہ محنت کش مختلف قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکرمعذوری کا شکار ہوکر ویل چیئر اور چارپائیوں پر آچکے ہیں اکثیریت بیماریوں کی تاب نہ لاکر اپنی آنکھوں میں اپنے جواں سال بچوں کے ماتھے پر سہرے سجانے ،بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانے اور اپنے بچوں کے سروں پر اپنی چھت ہونےکے خواب سجائےہوئے بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس دارِ فانی سے کوچ فرماچکے ہیں۔باقی ماندہ اپنے حقوق کے حصول کی مد میں ارباب اختیار کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔مگر ان کی داد وفریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ جبکہ یہ ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ ہے کہ وہ ان محنت کشوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اعلٰی خدمات اور قربانیوں کے صلے میں ان کےحقوق کی ادائیگی بڑی خندہ پیشانی اور جذبہ ایثار کےساتھ ادا کرتی۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    زیاں اور خسارہ بلا شبہ ناکامی کی علامت ہے لیکن زیاں سے بھی بڑھ کرالمیہ یہ ہے کہ فرد یا ملت کے دل ودماغ سے (احساس زیاں)بھی جاتا رہے۔ چِہ جائےکہِ ریاست کی جانب سے اِ ن محنت کشوں کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جاتی۔مگر ان کو ان کے حقوق حاصل کرنے کی مد میں اس قدر پیچیدگیاں پریشانیا ں اور مشکلات کھڑی کردی گئی ہیں ۔کہ ان محنت کشوں کو اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ ان قانونی پیچیدگیوں اور بھول بھلیوں کے سبب ان کی عزت نفس بھی مجروح ہونے سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہے۔ باقی تمام واجبات کی ادائیگیاں تو اپنی جگہ بے حسی، لا قانونیت اور مردہ ضمیری کی یہ حد ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضع ہدایات کے باوجود ان کو انکی ماہانہ پینشن کی ادائیگی بھی بروقت نہیں کی جارہی ہے ۔

    عمر کے اس حصے میں ان ضعیف العمر پینشنرز ، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگی گزارنے کا تمام تر دارمدار اس پینشن کی مد میں ملنے والی رقم پر ہے۔اس کے علاوہ ان کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اس معاشرے میں جن گھمبیر صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ ادارے ،ریاست اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان ریلوے کے پینشنرز کی ادائیگی کو اتنا طویل اور بوجھل بنادیا گیا ہے کہ پینشن کی ادائیگی پچھلے ایک سال سے مسلسل تاخیر کاشکار ہورہی ہے ۔وزارت ریلوے کی مالیاتی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ کیلئے ہر ماہ کی 22 تاریخ کو وزارت خزانہ کو درخواست بھیجی جاتی ہے۔التجا کی جاتی ہے ۔کہ پینشنرز کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیئے فنڈ جلد مہیا کئے جائیں تاکہ ان کی پینشن کی بروقت ادائیگی کردی جائے۔ وزارت خزانہ آفس اس درخواست پر عمل درآمد کرکے اس درخواست کو ایک ہفتہ میں نمٹا دے تو اس کو پینشنرز کے لیے خوش بختی کی علامت سمجھاجائے وگرنہ دوسرا ہفتہ بھی اسی کاروائی میں گزرجاتا ہے۔ اس کے بعد اے جی پی آر کی اپنی بھول بھلیوں والا کھیل شروع ہوجاتا ہےاس کھیل کو کھیلنے کے لیئے انہیں بھی دو سے تین روز درکار ہوتے ہیں ۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جاکراس پینشن کی مد میں درکار فنڈ کو اسٹیٹ بینک کی رونق بننانصیب ہوتاہے ۔اسٹیٹ بینک کی راہداریوں سے ہوتا ہوا یہ فنڈ اب پاکستان میں موجود مختلف کمرشل بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہانپر یہ مثال صادر آتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔ پاکستان کے کمرشل بینکوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہوئی ہیں ۔کیونکہ ان کو پینشنرز کی ترجیحات کے مقابلے میں اپنی ترجیحا ت انتہائی عزیز ہیں ۔ بظاہر تو یہ رقم پینشنرز کی امانت ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے یکسر مختلف ہے۔یہی وجہ ہے یہ پینشنرز کی پینشن اپنی سہولت کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں ۔شنید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کئی قانون اور قائدے بنائے گئے ہیں جن کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ پینشنرز کو اولین ترجیح دیکر اُن کی پینشن کی رقم اُن کے اکاؤنٹ میں بروقت منتقل کرنے کے پابند ہونگے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ احکامات لگتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں یہ احکامات صرف کاغذ کے ٹکڑے کی زینت بننےتک محدود ہیں۔ ضعیف، لاغر ،بیمار اور معاشی حالات کےستائے ہوئے یہ پینشنرز جب اپنی پینشن کی حصولی کے لیئے بینکوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں بینک انتظامیہ کی جانب سے جس بے توقیری اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کی کسی بھی انسانی معاشرے میں مثال نہیں ملتی ہے۔کمر شل بینکوں کے برتاؤ اور سخت گیر رویوں سے یوں ظاہر ہوتاہے کہ ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا وجود ان کمرشل بینکوں پر ایک وزن کم نہیں ہے۔جبکہ کریڈٹ کارڈ سروس ، ایس ایم ایس اور باقی دوسری سہولیات کی مد میں ان کمرشل بینکوں کو پینشنرز سے لاکھوں روپے وصول ہوتے ہیں اس کے باوجوداسٹیٹ بینک سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ ان بینکوں کو منتقل ہوجانے کے بعد کمرشل بینک اس رقم کو دو تین روز تک اپنے پاس رکھنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں ۔ یہ پینشنرز کے ساتھ جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام چلاتے ہیں ۔ پینشنرز کی پینشن کے فنڈ ان کےپاس موجود ہونے کے باوجود یہ مختلف حیلے اور بہانے تراش کر اُن کی پینشن کی رقم کبھی بھی بروقت ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان مجبور ولاچار پینشنرز کو بیماری کی حالت میں بار بار بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں ذہنی تناؤ کے ساتھ ساتھ جسمانی تکالیف اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی خواہشات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاس ملک وقوم کی خدمت اور ادارے کے وقار کی بحالی کو فوقیت دی۔ و ہ لوگ آج بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی داد رسی کرنے والا آج کوئی نہیں ہے انکی بیوائیں اور یتیم بچے جس طرح کسمپرسی اور بد حالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں آج ان کے لیئے سوموٹو لینے والا کوئی نہیں ہےان بہتری اور فلاح کے لیئے کوئی قانون سازی کرنے والا نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ جوتھوڑی بہت قانونی مراعات اِن کوتفویض کی گئی ہیں ان پر بھی عمل درآمد کرنے کی کسی میں سکت نہیں ہے۔آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے ۔اورماں بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔میری اس ریاست کے مطلق اختیار رکھنے والوں سے بدستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا یہ ضعیف العمر پینشنرز اس ملک اور قوم کے لیئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس ملک اور قوم کے لیئےاپنی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ خداراانکی قدر کیجئے یہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر دو سال سے ادھر اُدھر مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو انکے حقوق لوٹائے جائیں۔ وہ بیوائیں اور یتیم بچے جن کو انکے ڈیوز کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آج بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انکو ان کے رکے ہوئے ڈیوز کی فوری طورپر ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔ آخر میں میری گورنر اسٹیٹ بینک سے التجا ہے کہ آپ کی طرف سے پینشنرز کی سہولیات کی مد میں کمرشل بینکوں کے لئے جو قانون/ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان پر کمرشل بینکوں کو سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے۔تاکہ یہ ضعیف العمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم بچے بھی اس معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

    خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر

    نہ ھو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

    کسی کے مصیبت گزر جاۓ سر پر

    پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

    کرو مہربانی تم اہل زمین پر

    خدا مہربان ھو گا عرش بریں پر

  • اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    آغا حشر کاشمیری

    پیدائش:03اپریل 1879ء
    بنارس، ہندستان
    وفات:28اپریل 1935
    لاہور، پاکستان

    آغا حشر کا اصل نام آغا محمد شاہ تھا۔ ان کے والد غنی شاہ بسلسلہ تجارت کشمیر سے بنارس آئے تھے اور وہیں آباد ہو گئے تھے۔ بنارس ہی کے محلہ گوبند کلاں، ناریل بازار میں03 اپریل 1879کو آغاحشر کا جنم ہوا۔
    آغا نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور قرآن مجید کے سولہ پارے بھی حفظ کیے۔ اس کے بعد ایک مشنری اسکلول جے نارائن میں داخل کرائے گئے۔ مگر نصابی کتابوں میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے تعلیم نا مکمل رہ گئی۔
    بچپن سے ہی ڈرامہ اور شاعری سے دل چسپی تھی۔ سترہ سال کی عمر سے ہی شاعری شروع کر دی اور 18 سال کی عمر میں آفتاب ِ محبت کے نام سے ڈرامہ لکھا جسے اس وقت کے مشہور ڈرامہ نگاروں میں مہدی احسن لکھنوی کو دکھایا تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ نگاری بچوں کا کھیل نہیں ہے۔
    منشی احسن لکھنوی کی اس بات کو آغا حشر کاشمیری نے بطور چیلنچ قبول کیا اور اپنی تخلیقی قوت، اور ریاضت سے اس طنز کا ایسا مثبت جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہی نہیں ہو سکتی، انہیں جو شہرت، مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہے، وہ ان کے بہت سے پیش رؤوں اور معاصرین کو نصیب نہیں ہے۔
    مختلف تھیٹر کمپنیوں سے آغا حشر کاشمیری کی وابستگی رہی، اور ہر کمپنی نے ان کی صلاحیت اور لیاقت کا لوہا مانا۔ الفریڈ تھیٹریکل کمپنی کےلئے آغا حشر کو ڈرامے لکھنے کا موقع ملا، اس کمپنی کے لیے آغا حشر نے جو ڈرامے لکھے، وہ بہت مقبول ہوئے۔ اخبارات نے بھی بڑی ستائش کی۔ آغا حشر کی تنخواہوں میں اضافے بھی ہوتے رہے۔
    آغا حشر کاشمیری نے اردو، ہندی اور بنگلہ زبان میں ڈرامے لکھے جس میں کچھ طبع زاد ہیں اور کچھ وہی ہیں جن کے پلاٹ مغربی ڈراموں سے ماخوذ ہیں۔
    آغا حشر کاشمیری نے شکسپیر کے جن ڈراموں کو اردو کا قالب عطا کیا ہے ، ان میں شہیدناز، صید ہوس، سفید خون، خواب ہستی بہت اہم ہیں۔
    آغا حشر کاشمیری نے رامائن اور مہابھارت کے دیومالائی قصوں پر مبنی ڈرامے بھی تحریر کیے ہیں ، جو اس وقت میں بہت مقبول ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
    بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
    ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
    اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
    او وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ
    بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں
    آرزوؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
    جب بہار آئے گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
    حشرؔ میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
    اپنا غم دل کی زباں میں دل کو سمجھاتا ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    وہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی
    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    یہ بجا کلی نے کھل کر کیا گلستاں معطر
    اگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی
    یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے
    مرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی
    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک
    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
    ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

    سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی
    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک
    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

  • قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    کیسے کیسے لوگ/ آغا نیاز مگسی

    دنیا میں ایسی بہت سی نامور شخصیات گزری ہیں اور کچھ اس وقت بھی موجود ہیں جن کی شہرت اور پہچان کسی ایک وجہ سے ہوتی ہے مگر وہ اپنی اس شہرت کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی خصوصی مہارت رکھتی ہیں ایسی شخصیات میں حضرت امیر خسرو اور شکیلہ بانو بھوپالی سب سے نمایاں اور واضح مثال ہیں ۔ امیر خسرو کی شہرت اردو، ہندی اور فارسی کے ایک بہت بڑے شاعر کی تھی لیکن وہ شاعر کے علاوہ ایک بہت بڑے گائیک، قوال اور موسیقار بھی تھے اور اسی طرح ماضی قریب میں شکیلہ بانو بھوپالی اردو کی پہلی خاتون قوال اور موسیقار کی حیثیت سے مشہور تھیں مگر وہ اردو کی پہلی خاتون صاحب دیوان شاعرہ بھی تھیں بالکل اسی طرح اردو کی ممتاز ادیبہ قرت العین حیدر کی پہچان ایک افسانہ نگار اور ناول نگار کی تھی مگر وہ اس کے علاوہ ایک بہترین موسیقار بھی تھیں مگر اس حوالے سے ان کی شہرت اور پہچان نہیں ہو سکی۔ قرت العین حیدر ہارمونیم اور ستار سمیت موسیقی کے دیگر سازندے بھی بڑی مہارت سے بجاتی تھیں اس سلسلے میں انہوں نے سورج بخش سری واستو، راج کمار شیوپوری اور گیانوٹی بھٹناگر سے موسیقی کی خصوصی تربیت حاصل کی تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک ماہر موسیقار کی حیثیت سے نہ صرف موسیقی کے موضوع پر مختلف جرائد و رسائل میں کئی خصوصی مضامین لکھے بلکہ برصغیر کے ممتاز کلاسیکل فنکار استاد بڑے غلام علی خان کے فن گائیکی اور موسیقی پر ایک کتاب بھی لکھی۔

  • تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر

    تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر

    تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر
    بدھ وار بھی ہوگا اتوار مری جان

    انیسہ صابری

    والد کا نام:محمد اسحاق انصاری (مرحوم)
    والدہ کا نام:کلثوم النساء (مرحؤمہ)
    شوہر کا نام: محمد صابر انصاری

    تاریخ ولادت:27 اپریل 1977ء
    جائے پیدائش :انصار نگر، گواہ چوک
    ویشالی، بہار

    موجودہ پتہ :4 بنواری لال رائےروڈ
    پیل خانہ، ہوڑہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف: آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔

    انیسہ صابری کا اصل نام انیسہ انصاری ہے مگر 11 مئی 1994 میں محمد صابر انصاری سے شادی ہونے کےبعد اپنے شوہر کے نام کی نسبت سے انیسہ صابری کا نام اختیار کیا۔ انہوں نے 2015 سے شاعری کی ابتدا کی اور فیروز اختر سے شاعری میں اصلاح لی ۔ انیسہ کے شوہر ہندی زبان کے معروف شاعر اور صحافی ہیں۔ انیسہ اور محمد صابر انصاری کو اللہ تعالی نے 3 بچوں فاطمہ صابری محمد شارق انصاری اور سلیمہ صابری کی اولاد کی نعمت سے نوازا مگر 4 مئی 2007 کو ان کا 5 سالہ اکلوتا بیٹا شارق انصاری اپنے محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اچانک غائب ہو گیا جس کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔ اس عظیم سانحے اور صدمے نے ان دونوں کو نڈھال کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ محض زندہ لاش بنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ دنیاوی امور خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بجھتے ہوئے دیئے کو جلایا ہے آپ نے
    دل میں مرے خوشی کو جگایا ہے آپ نے
    ایسے نظر کا تیر چلایا ہے آپ نے
    دل کو مرے دیوانہ بنایا ہے آپ نے
    غم آپ نے دیئے تو مرا حوصلہ بڑھا
    کیسے کہوں کہ دل کو دکھایا ہے آپ نے
    ہیں کس کے انتظار میں آنکھیں بچھی ہوئیں
    کس کے لیے یہ گھر کو سجایا ہے آپ نے
    لوگوں نے خوب داد بھی دی ، تالیاں بجیں
    محفل میں جو بھی شعر سنایا ہے آپ نے
    دنیا کی چشم آپ پہ اس وقت ہے اٹھی
    جب بارِ غم انیسہ اٹھایا ہے آپ نے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    زخم طعنوں سے بھر رہی ہوں میں
    اور تجھے یاد کر رہی ہوں میں
    دل کو ہے یہ گماں ، تُو آئے گا
    تیری خاطر سنور رہی ہوں میں
    آرزو تم سے ملنے کی ہے مگر
    پر زمانے سے ڈر رہی ہوں میں
    مجھ کو یاد آتا ہے سدا وہ پل
    جب تری ہم سفر رہی ہوں میں
    جس پہ چلتی تھی ساتھ میں تیرے
    اس سے اب بھی گزر رہی ہوں میں
    میں انیسہ کسی کی ہو نہ سکی
    آج بھی اس پہ مر رہی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    انکار کرو یا کرو اقرار مری جان
    الفت نہیں جاتی کبھی بیکار مری جان
    زحمت تو ذرا ہوگی مگر دیکھ لے اس کو
    بیمار ترا ہے پسِ دیوار مری جان
    ظالم ہے کوئی اور کوئی مظلوم جہاں میں
    ہے سب کا الگ دہر میں کردار مری جان
    گر ساتھ ترا ہو تو نہیں غم کوئی مجھ کو
    ہر دن ہے مرے واسطے تہوار
    تم آؤ انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر
    بدھوار بھی ہو جائے گا اتوار مری جان

  • روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    پاکستان کو جلد ہی روس سے ملاوٹ شدہ تیل کی پہلی کھیپ موصول ہونے والی ہے جو اس کی توانائی کی ضروریات کو جزوی طور پر پورا کرے گی۔ کیونکہ پاکستان کے پاس خام تیل کو ملاوٹ شدہ تیل میں ریفائن کرنے کی ٹیکنالوجی کا فقدان ہے، اور روس نے تیل برآمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روس نے چینی یوآن، یو اے ای درہم اور روسی روبل میں ادائیگی قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی جو کہ امریکی ڈالر کے معمول کے لین دین سے ہٹ کر ہے.

    تاہم واضح رہے کہ یہ درآمدگی مستقبل میں کم نرخوں پر خریداری کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے وسیع البنیاد نقطہ نظر کے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو امریکی ڈالر کے علاوہ کرنسی استعمال کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے جو کہ پاکستان کی نقدی کی تنگی کی صورتحال کے پیش نظر ایک راحت کی سانس ہے۔ ادائیگی کے ماڈیول سے الگ ہونے والا یہ واحد قدم پاکستان کے لیے لائف لائن ہے۔ اور پھر امریکہ کی طرف سے کوئی اعتراض کرنے کا امکان بھی نہیں ہے.

    حالانکہ بڑی حد تک اس حقیقت کی وجہ سے کہہ بہت سے ممالک نے روس پر امریکی سپانسر شدہ پابندیوں سے خود کو دور کر لیا ہےاور یہ سمجھتے ہوئے کہ مستقبل قریب میں انہیں بھی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماسکو پر انحصار کرنا پڑے گا. اور پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی عجلت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

    2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بجلی کی طلب گرمیوں میں 28,000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جس سے سپلائی کا فرق 4,000 سے 6,000 میگاواٹ رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں طلب اور رسد کا فرق 8,000 میگاواٹ ہوتا ہے۔ لہذا اسی لیے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف پیٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات پر انحصار طویل مدت میں غیر پائیدار ہے۔

    مزید برآں پٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جس کے نتیجہ میں تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور پھر اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت خود کی ذمہ داری سے بچنے کیلئے خود کوہی شکست دینے والا طریقہ ہے اختیار کرتی ہے۔ لہذا پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ تیل کی درآمدات پر ملک کا انحصار کم ہو اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج