Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    ہم بحیثیت قوم بیمار اور جنونی ہو چکے ہیں اور وہ ایسے کہ سیاست دان کیا کہتے ہیں یا کرتے ہیں جبکہ میڈیا ہمیں کیا فیڈ کرتا ہے، اور ہمیں کیا قبول کرنے کی شرط لگائی گئی ہے لہذا ہم اس میں اتنے پھنس چکے ہیں کہ باقی تمام معاملات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس طرف ہمارا دھیان بھی نہیں.

    میڈیا ہمیں وہی فیڈ کرتا ہے جو ہم چاہتے ہیں، اور جو ہم چاہتے ہیں وہ زیادہ تر گندگی اور گھٹیا ہوتا ہے۔ ہم اسے اپنے روزانہ کے مینو کے طور پر قبول کرتے ہیں جبکہ کوئی ٹھوس خبر نہ ہونے پر بھی میڈیا نان ایشوز کو ایشوز بنا دیتا ہے۔اور ہم اس سب کو ناصرف قبول کرتے بلکہ ہضم بھی کرتے ہیں.

    ہم جیسے تالاب میں مینڈک کی طرح مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اس گندے تالاب میں کودتے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور وہاں کی وسیع دنیا کو دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اور بھی بہت ساری دکھ بھری داستانیں ہیں جو ہمیں پکار رہی ہیں.

    جیسے کہ مثال کے طور پر پچھلے سیلاب میں، 10 ملین لوگ تباہ ہوئے اور یہ لوگ اب بھی خوراک، کپڑوں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کے بعد پھر سیلاب آیا۔ ابتدائی ردعمل کے بعد ضرورت مندوں تک پہنچنے کے لیے رائے عامہ کتنی متحرک ہوئی ہے؟ ہم اپنے ہی لوگوں کو بھول چکے ہیں تو پھر یہ شکایت کیوں کریں کہ عالمی برادری نے اب تک صرف 50 فیصد امداد کا وعدہ کیا ہے؟

    دوسری جانب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک دن میں دو وقت کا کھانا تک کھانے کی اوقات نہیں رکھتے۔ جبکہ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے جسے اب لوگوں نے اسے اپنے روزانہ یا ہفتہ وار کھانے کے حصے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ حالانکہ وہ پریشان حال ہیں اور نامید ہیں.

    شاہد ستار نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں 75 فیصد پاکستانی موسم اور موسمیاتی آفات سے متاثر ہوئے ہیں جس کا تخمینہ 29 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بنتا ہے (ورلڈ بینک گروپ 2022)۔ ہم نے مرکزی ذرائع ابلاغ یا کی بورڈ جنگجوؤں کے ذریعے اس پر بحث کیوں نہیں کی؟ لہذا ہمیں ذیلی متن میں شامل مسائل کو حل کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ یہی اصل مسائل ہیں۔ اور ہمیں اپنا وقت فضول میں ضیاع کرنے سے بہتر ہے کہ ان مسائل پر توجہ دیں.

    آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور سیاست سے بالاتر ہوکر اپنی قوم کو متاثر کرنے والے حقیقی مسائل کو حل کرنا ہوگا لہذا آئیے ہم ایک بیمار اور جنونی قوم نہ بنیں بلکہ ایک ایسی قوم بنیں جو اپنے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے کو تیار ہو۔

  • کیا آئین معطل ہو چکا، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    کیا آئین معطل ہو چکا، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    معروف آئینی اور قانونی ماہر سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں اس وقت غیر آئینی نگرانی حکومتیں ہیں۔ آئین کے مطابق ان کی معیاد پوری ہوچکی ہے۔ قارئین آئین کے مطابق پنجاب اور کے پی کے کی نگران حکومتیں ماہرین کے مطابق غیر آئینی ہیں تو پھر کس حیثیت سے یہ ریاستی امور سرانجام دے رہی ہیں؟ کیا ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ختم ہوچکی ہے؟ کیا آئین معطل ہوچکا ہے؟ حیرت ہے ایک طرف ملک میں جمہوریت کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری طرف پنجاب اور کے پی کے میں غیر ائینی حکو متیں ریاستی امور سرانجام دے رہی ہیں۔ پاکستان بطور ریاست اور اس کی عوام مہنگائی کے شعلوں میں جل رہی ہے۔ معاشی بحران نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چند شخصیات نے اس ریاست کو اپنی ذاتی سلطنت میں تبدیل کردیا ہے

    ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے آئین کو روندا جارہا ہے ووٹ کی بجائے طاقت کے ذریعے حکومت کی جارہی ہے۔ آئین پر عمل کرنے کی بجائے ڈکٹیٹر ذہنیت کے حامل افراد اس وقت ملک کی باگ ڈور ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں۔ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنمائوں کو ملک اور 23کروڑ عوام کی کوئی پرواہ نہیں قانون اور آئین کی کوئی حکمرانی نہیں خواہشات کی تکمیل کے لئے قانون کی حکمرانی آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو دفن کردیا گیا۔ بظاہر مارشل لاء تو نہیں لیکن جمہوریت کے لبادے میں آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کا اصل بھیانک روپ عوام کے سامنے آچکا ہے۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں‘ مقتدر قوتیں ملک و قوم کو بند گلی سے نکالنے کے لئے فوری مذاکرات کریں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں ذاتی خواہشات کو دفن کریں۔ انتقامی کاروائی سیاست میں تشدد ہٹلر اور چنگیز خان کا مذہب ہے اسے دفن کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ آڈیو اور ویڈیو جیسی گندی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی۔ دنیا ہمارے سیاستدانوں کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ عوام کی کھانے تک رسائی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے۔ آئین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی بجائے آئین پر عمل کریں عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کا احترام کیا جائے۔

  • کتابیں ساتھ دیتی ہیں،ازقلم:حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں،ازقلم:حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

    (عالمی یوم کتاب کے حوالے سے)

    حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں
    کتابیں روشنی ہیں، دوست ہیں اور رہنما بھی ہیں
    کسی منزل پہ جانا ہو
    کسی رستے پہ چلنا ہو
    کتابیں مشعلیں بن کر
    اندھیرے راستوں کو جگمگاتی ہیں
    کتابیں ہاتھ تھامے منزلوں تک لے کے جاتی ہیں
    کتابوں میں دفینے ہیں، جواہر ہیں، خزانے ہیں
    دفینے علم و حکمت کے، جواہر عشق و مستی کے
    خزانے شاعری کے اور ہر اس حسن و خوبی کے
    جنہیں اپنا کے ملتی ہے کچھ ایسی سروری جس سے
    خدا انسان کی تخلیق پہ خود ناز کرتا ہے
    کتابیں جس بھی صورت میں ملیں
    تہذیب کا اک خوبصورت استعارہ ہیں
    نشانِ منزلِ مقصود ہیں اپنی
    سو تم دیکھو اگر کچھ قافلے ایسے
    جو اپنی منزلوں سے دور بھٹکے پھر رہے ہوں
    اور ایسے راستوں پہ گامزن ہوں
    جو فقط تاریکیوں کی سمت جاتے ہیں
    تو ان کا ہاتھ تھامو اور
    ان کا رخ کتابوں کی طرف موڑو
    کتابیں ان کو ان کی منزل مقصود تک پہنچا کے آئیں گی
    قیامت تک رفیقِ خاص بن کر دوستی کا مان رکھیں گی
    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

  • اتحاد امت ….تحریر: ملک شفقت اللہ

    اتحاد امت ….تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے مضبوط قدم جما رکھے ہیں۔ فنون لطیفہ،حالات حاضرہ,قومی و بین الاقوامی,بین البر اعظمی,سیاسی,معاشرتی,سماجی,معاشی اور مذہبی امور,بین الکائناتی ابلاغ میں جس قدر وسعت الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے ہوئی ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اسی قدر تمام پیرایوں میں انسانیت اور کائنات کی تذلیل کی بھی مثال نہیں ملتی۔ آزادی ء اظہارِ رائے اور ذریعہ ابلاغ ہونے کی آڑ میں صرف اور صرف کاروبار کیاجا رہا ہے جس نے تمام انسانی و اخلاقی پہلوؤں کو پچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ تماشا کرنا اور تماشا لگانا جانتے ہیں انہیں برقی ذرائع ابلاغ میں بھرپور پذیرائی حاصل ہے۔ اس کے بر عکس معاشرے کو سدھارنے والے,انسانیت کا سینے میں درد رکھنے والے اور توازن قائم رکھنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیا ہی حیف ناک امر واقع ہوا ہے کہ دین بھی اسی کاروبار کی زد میں ہے۔ اور بیچنے والے یہی کلمہ گو مسلمان بلکہ علامہ اور مفتی کی ڈگریاں لینے والے لوگ ہیں۔
    خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    پروفیسر حمیداللہ ہاشمی علامہ اقبال کے اس شعر کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: علامہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان زبان سے کلمہ توحید پڑھ بھی لے اور خدا کو الٰہ مان بھی لے تو اس سے اس وقت تک کچھ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دل سے بھی اس کا اقرار نہ کیا جائے۔ اقرار دل سے مسلمان کی نگاہ میں بھی فرق پڑ جاتا ہے اور یہی مقصود مسلمانی ہے۔ آج کا مسلمان زبان سے تو کلمہ پڑھتا ہے لیکن اس کا دل اور اس کی نگاہ اس کلمے کے مطابق نہیں ہے۔
    پاکستان میں آغازی نشریات میں جب بہت کم نجی برقی ادارے ہوتے تھے تو اس وقت تماش بین بھی شاذ و نادر ہی میسر تھے۔ یا شاید آپ یوں کہہ لیں کہ ان اداروں کو چلانے والوں کے دلوں میں ایمان باقی تھا۔ اس وقت زیادہ تر پروگرام اسلامی,فلاحی اور تربیتی ہوا کرتے تھے۔ رمضان شریف میں قیام الیل کے وقت مسجد نبوی اور حرم میں ہونے والی عبادت کی ریکارڈنگز کو چلایا جاتا تھا۔یا قرآن کی تلاوت چلا دی جاتی تھی جو سحر تک چلتی تھی۔ اذانوں کے وقت اذانیں ہوا کرتی تھیں جہاں سے سن کر بہت سے لوگوں نے یاد کی اور اس جیسی صداکاری بھی سیکھی۔ لیکن اب ٹی وی چینلز بھی بڑھ چکے ہیں۔ تماش بین بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان کی قابلیت یا علم کا معیار کچھ معنی نہیں رکھتا۔ سوشل میڈیا پر انہیں سننے والوں کی تعداد حجم رکھتی ہے۔ یہ شاید ساتواں رمضان المبارک ہے جس میں سحر و افطار کے وقت پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جس کا میزبان بڑا تماشا اور مہمان اس سے بھی بڑے ایکٹرہیں۔

    یہ تو شکر ہے کہ یہ پروگرام عدالت عالیہ نے ان تماش بین عورتوں سے واپس لئے ہیں جن کے سامنے اللہ کا حکم پردہ اور پاکبازی کے بارے میں سنایا جا رہا ہوتا تھا اور وہ اس حکم کو بھی کاؤنٹر کر رہی ہوتیں تھیں۔لاحولا ولاقوۃ! اور پچھلے سال ان پروگراموں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا عدالتی حکم نامہ جاری ہوا تھا۔ اس رمضان المبارک میں بھی تمام قومی چینلز پر ایسے پروگرامز منعقد ہو رہے ہیں۔ افسوس کہ ان میں شمولیت کرنے والے لوگوں کا حال علامہ اقبال کے شعر سے ہٹ کر کچھ نہیں۔ کاش یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوتے اور غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوتے کم از کم ان کے دلوں کے حالوں بارے کسی گمان یا تجسس کی گنجائش باقی نہ رہتی۔
    حال ہی میں ایک قومی ٹی وی چینل کے پروگرام میں موضوع دیا گیا کہ فرقہ واریت کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے!مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہر مکتبہ فکر اور مسلک کے عالم لوگ بیٹھے تھے اور انہوں نے موضوع کی بجائے اپنی بین سنانی شروع کر رکھی تھی۔ یہ بھی دور جاہلیت کی ایک قسم سمجھیں جس میں ایمان حلق سے نیچے اترتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی نے یہ بات نہیں کی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی فرقہ یامسلک کے ساتھ منسلک ہونے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے قرآن سے اللہ کا حکم نہیں سنایا کہ ابراہیم و موسی،عیسی و مریم، ذکریا و داؤد، یعقوب و یوسف،و آدم و اسماعیل، یونس و دانیال علیہم السلام الغرض کہ دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے اور نبی اکرم محمد رسول اللہ و خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان تھے۔ان کے ماننے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے بھی مسلمان ہیں۔ اور اس پر بات کرنی چاہئے کہ اللہ کے نذدیک صرف ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے۔ اور اسلام کے ماننے والے مسلمان ہیں۔ قرآن کا یہ حکم کیوں نہیں سنایا گیا کہ فرقوں میں مت پڑو اللہ کی رسی یعنی قرآن کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ جو تفرقہ کرتا ہے یا فتنہ پھیلاتا ہے اس سے اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی تعلق نہیں۔یہ کونسے عالم ہیں کہاں کے عالم ہیں جو اپنی ناقص عقل کی تاویلیں پیش کرتے ہیں مگر اللہ کا حکم پیش نہیں کرتے۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جن آئمہ کی پیروکاری کا یہ دعوی کرتے ہیں انہوں نے کبھی نہیں کہا ہوگا کہ تم فرقوں میں بٹ جاؤ۔ ایسا کونسا عالم ہو سکتاہے جو ایسی بات لکھے یا ایسا فتوی جاری کرے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ساتھ ٹکرا جائے۔ اگر نہیں تو پھر انہیں شرم کرنی چاہئے,حیا کرنی چاہئے!!۔

    ایک اور نجی قومی ٹی وی چینل پر ایساہی پروگرام ہوتا ہے جس میں مختلف فروحی موضوعات پر بحث کروائی جاتی ہے۔ تمام مسالک کے علماء سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے فقہ کا کیا مؤقف ہے اور دوسرے کے فقہ کا کیا مؤقف ہے۔ یہ کہاں سے آگیا بھائی۔ سوال تو یہ بنتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موضوع کے بارے میں کیا حکم ہے۔ کیا ان علماء کے فقہی دلائل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بڑھ کر ہیں؟؟ اور یہی حال باقی تمام چینلز کے پروگراموں کا بھی ہے۔ یہ کونسا طریق ہے جس سے امت متحد ہو سکتی ہے؟ یہ تو تقسیم کرنے کا عمل ہے۔
    اگر ٹی وی چینلز ان مذہبی موضوعات کو متنوع سمجھتے ہیں اور ان مسلکی تقسیم کرنے والوں سے ڈرتے ہیں تو انہیں ایسے پروگرامز بند کر دینے چاہئیں کیونکہ وہ پہلے ہی ثواب یا نیکی کی نیت سے نہیں بلکہ پیسوں کیلئے کر رہے ہیں۔ اور اگر ہمت کرنی ہی ہے تو صرف قرآن و حدیث کے درس تک محدود رہنا چاہئے جو صرف مستند عالم ہی دے سکتا ہے۔ عوام اور مقتدر حلقہ اس بارے میں سوچے! پاکستان کی عوام بہت زیادہ تقسیم کا شکار ہے۔ اس تقسیم کو اب روکا جانا چاہئے

  • داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
    لوگ اپنے دیے جلانے لگے

    اقبال بانو

    یوم وفات: 21 اپریل 2009

    پاکستان کی معروف غزل گائیک و گلوکارہ اقبال بانو کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس بیت گئے‘ ان کی آواز میں گایا فیض احمد فیض کا کلام ’ہم دیکھیں گے‘ آج بھی برصغیر کے عوام دلوں کی آواز ہے۔اقبال بانو کو بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤتھا جسے پروان چڑھانے میں ان کے والد نے اہم کردارادا کیا، انتھک محنت اور باقاعدہ تربیت کے بعد موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے والی اقبال بانو نے جو گایا کمال کردیا۔

    انھوں نے فلم گمنام ، قاتل ، انتقام، سرفروش، عشق لیلی اور ناگن جیسی سپرہٹ فلموں میں گیت گائے ۔فلم قاتل میں ان کی آواز میں گایا ہواگیت پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے، تولاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے نے انھیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا.
    اقبال بانو کوغزل گائیکی کے ساتھ ساتھ کلاسیکل، نیم کلاسیکل، ٹھمری اوردادھرہ میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ وہ اردو، پنجابی ، فارسی زبانوں پر مکمل عبور رکھتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مختلف زبانوں میں حاصل ہونے والی خصوصی مہارت سے دنیائے موسیقی میں نمایاں مقام حاصل بنایا۔

    انہیں 1990 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اقبال بانو 21اپریل 2009 کو 74 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد جہان فانی سے کوچ کرگئی تھیں۔

  • حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر
    لیکن اب سوچ ذرا تری اوقات کیا رہ گئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    21 اپریل 1934

    ادیب، شاعر،صحافی اور سیاستدان مولانا کوثر نیازی کا یومِ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔………..
    پاکستان کے ممتاز ادیب ، شاعر ،سیاستدان،صحافی، مقرر اور دانشور مولانا کوثر نیازی 21 اپریل 1934 میں ضلع میانوالی کے ایک گاوں موسی خیل میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صاحب کا نام فتح محمد خان نیازی ہے جبکہ مولانا کوثر نیازی کا اصل نام محمد حیات خان ہے۔ مولانا کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقہ کی بااثر شخصیات میں شامل تھے ۔ مولانا کوثر نیازی پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ، سابق صدر اور سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں شامل تھے۔ بھٹو کی کابینہ میں پہلے وفاقی وزیر مذہبی اموراور بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات مقرر کیے گئے محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئر مین مقرر کیا تھا۔ مولانا کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ان کی ایک کتاب ” اور لائن کٹ گئی” کو بہت شہرت اور پذیرائی ملی۔ ” دیدہ ور” بھی ان کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے لاہور سے ایک ہفت روزہ ” شہاب” کا بھی اجرا کیا تھا۔ مولانا صاحب کی 19 مارچ 1994 میں اسلام آباد میں وفات ہوئی۔

    مولانا کوثر نیازی صاحب
    ۔۔۔۔۔۔
    چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی
    پھر نہ وہ تو نہ وہ میں اور نہ وہ رات رہی

    تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے بھولنے والے
    کسی کو یاد تیری بار بار آئی ہے
    وہ مل نہ سکے یاد تو ہے ان کی سلامت
    اس یاد سے بھی ہم نے بہت کام لیا ہے

    اپنے وحشت زدہ کمرے کی اک الماری میں
    تیری تصویر عقیدت سے سجا رکھی ہے

    اے مسیحا کبھی تو بھی تو اسے دیکھنے آ
    تیرے بیمار کو سنتے ہیں کہ آرام نہیں

    اس نے اخلاص کے مارے ہوئے دیوانے کو
    ایک آوارہ و بد نام سا شاعر جانا

    بے سبب آج آنکھ پر نم ہے
    جانے کس بات کا مجھے غم ہے

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثرؔ
    لیکن اب سوچ ذرا کیا تری اوقات رہی

    ضرور تیری گلی سے گزر ہوا ہوگا
    کہ آج باد صبا بے قرار آئی ہے
    یہ درد کہ ہے تیری محبت کی امانت
    مر جائیں گے اس درد کا درماں نہ کریں گے

    پرکھنے والے مجھے دیکھ اس طرح بھی ذرا
    اگر ہے کھوٹ تو کیسے چمک رہا ہوں میں

    تباہی کی گھڑی شاید زمانے پر نہیں آئی
    ابھی اپنے کئے پر آدمی شرما ہی جاتا ہے

    میں نے ہر گام اسے اول و آخر جانا
    لیکن اس نے مجھے لمحوں کا مسافر جانا

    جذبات میں آ کر مرنا تو مشکل سی کوئی مشکل ہی نہیں
    اے جان جہاں ہم تیرے لیے جینا بھی گوارا کرتے ہیں

    ہر مرحلۂ غم میں ملی اس سے تسلی
    ہر موڑ پہ گھبرا کے ترا نام لیا ہے

    منجدھار میں ناؤ ڈوب گئی تو موجوں سے آواز آئی
    دریائے محبت سے کوثرؔ یوں پار اتارا کرتے ہیں

    بر سر عام اقرار اگر نا ممکن ہے تو یوں ہی سہی
    کم از کم ادراک تو کر لے گن بے شک مت مان مرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی جو نکہت زلف نگار آئی ہے
    فضائے مردۂ دل میں بہار آئی ہے

    ضرور تیری گلی سے گزر ہوا ہوگا
    کہ آج باد صبا بے قرار آئی ہے

    کوئی دماغ تصور بھی جن کا کر نہ سکے
    یہ جان زار وہ لمحے گزار آئی ہے

    تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے بھولنے والے
    کسی کو یاد تیری بار بار آئی ہے

    خدا گواہ کہ ان کے فراق میں کوثرؔ
    جو سانس آئی ہے وہ سوگوار آئی ہے

  • نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ

    یوم وفات: 21 اپریل 1938

    مختصر تعارف

    نام محمد اقبال، ڈاکٹر ،سر، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔

    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۱۹۲۲ء میں ان کی اعلا قابلیت کے صلے میں حکومت برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب عطا کیا ۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے جو خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا علامہ اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت بھی تلمذ رہا۔علامہ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ ہائے کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘ علامہ اقبال ۲۱؍اپریل، ۱۹۳۸ بمطابق ۲۰، صفر المصفر ۱۳۵۷ء کو فجر کے وقت اپنے گھر جاوید منزل میں طویل علالت کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا.

    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
    کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
    تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
    ۔۔۔۔۔۔۔
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
    نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
    جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
    وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
    میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

    اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
    خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کر
    وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
    اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
    جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
    کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو بتاؤ مسلمان بھی ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
    تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
    مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
    مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
    ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
    کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
    میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
    کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
    لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
    تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
    کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبال اپنے آپ کو
    آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

  • کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’طالبان نے مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کا تختہ الٹ کر ’’غلامی کا طوق‘‘ توڑ دیا ہے۔ (13 جنوری 2022 ریڈیو فری یورپ) تاہم پاکستان کے لیے اس واقعے کے اثرات زیادہ تر لوگوں کو پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آ پائے۔

    مشرق وسطی میں نئی ​​پیش رفت یہ ہوئی کہ سب سے پہلے سعودی عرب کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ بشکریہ چین اور پھر ان کا شام کے ساتھ دوبارہ روابط بشکریہ روس ہوا لہذا دونوں مفاہمتی معاہدے ایک گیم چینجر ہیں۔ اگرچہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی تعلقات کی بحالی کا بالواسطہ فائدہ اٹھانے والا ہے لیکن یہ دونوں پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا منفی اثر لے کر آئی جسے زیادہ تر تجزیہ نگار سمجھنے سے قاصر رہے.

    خیال رہے کہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر آچکا جس کا پاکستان کے لیے مطلب ہے کہ مشرقی محور اب موجود نہیں ہے۔ پاکستان کو جغرافیائی طور پر تزویراتی طور پر رکھا جا سکتا ہے تاہم ریکارڈ رفتار سے ہونے والی زبردست پیش رفت نے اقوام کی ترجیحات اور مفادات کو تبدیل کر دیا ہے۔

    تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بڑی نوعیت کے مسائل کی طرف بڑھ گئی ہے لہذا مشرقی محور کو مشرق وسطیٰ کے محور نے پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان اب دنیا کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہے۔ پاکستان کو اس بات کو سمجھنے اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب ہم نے ان کا اسٹریٹجک مفاد کھو دیا ہے۔

    اب موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں جو چیز محض مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے وہ پی ٹی آئی کی بنیادی زمینی حقائق کے سے لاعلمی یا لاتعلقی ہے کیونکہ انہوں‌نے ایک PR فرم کو $25,000 فی ماہ پر ہائیر کرنا اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ اپنے الگ تھلگ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا کچھ بھی ڈلیور نہیں کرے گا. ادھر بریڈ شرمین نے سیکرٹری آف اسٹیٹ بلنکن کو ایک خط لکھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ "سیاسی نشانہ بنانے کے عمل” سے متعلق کہا گیا.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    یہ بھی واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی ہائیر کردہ پی آر فرم صرف اتنا کر سکتی ہے بین الاقوامی توجہ یعنی ایک قوم کی حکمت عملی، دوسرے ملک کی حرکات بارے میں ان کی سمجھ، پارٹیوں اور رہنماؤںسمیت دیگر کام میں تبدیل کرنا اور امریکہ میں پاکستان مخالف لوبینگ کرنا ہے جبکہ میرا زاتی خیال ہے کہ وہ اس وقت یا مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے خاص طور پر عمران خان کے معاملے میں جنہوں نے ماضی قریب میں یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ واشنگٹن ان کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث تھا لیکن یہ یاد رکھیں کہ امریکہ اس وقت تک بالکل مداخلت نہیں کرے گا جب تک کہ ان کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں۔

  • 27 رمضان المبارک اورپاکستان

    27 رمضان المبارک اورپاکستان

    27 رمضان المبارک اورپاکستان
    تحریر: سید سخاوت الوری
    جب نزولِ قرآن کی پرنور ساعتیں تھیں، اللہ کے نیک بندے عبادت میں مصروف تھے۔رب العالمین کی رحمت کے طلبگار تھے۔ آسمان سے نور کی بارش ہورہی تھی۔فرشتے عبادت گزار بندوں پر رحمتیں نچھاور کررہے تھے۔تہجد گزار سجدے میں جھکے، سبحان ربی الاعلی کا صدق دل سے اظہار کررہے تھے۔سجدوں سے سر اٹھے توآنکھوں سے آنسو رواں تھے۔دعا صادق دل سے نکلی۔ اے ہمارے رب، دکھیاروں کے پالن ہار، بے سہاروں کے سہارے، ہم گناہ گاروں کو، سیاہ کاروں کو، اپنے پیارے حبیب ۖکے صدقے ایک ایسی زمین، ایک ایسا ملک عنایت فرما، جہاں ہم آزادی سے تیری عبادت کرسکیں، تیرا دیا ہوا قانون نافذ کرسکیں۔ ایک قوم کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔ جہاں کسی کو کسی پر برتری نا ہو، سوائے تقویٰ کے ۔
    جہاں تیرے دئیے ہوئے رزق سے کوئی محروم نہ رہے۔
    کوئی بھوکا نہ سوئے، ہر شخص کو اس کا حق ملے، بزرگوں کا احترام ہو، بچوں سے پیار ہو، جان و مال، عزت و آبرو محفوظ ہو۔
    مسلمانوں نے بلاتعصب، رنگ و نسل، ایک قوم ہوکر، رو رو کر، گڑگڑاکر دعا کی۔
    ستر(70) ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والے اللہ تعالی سے اپنے بندوں کی آہ و زاری دیکھی ناگئی۔رحمت خداوندی جوش میں آئی، فرشتوں کو حکم دیا ”کن” فرشتوں نے جواب دیا ”فی کن” اللہ کے نیک بندوں کے دلوں سے آواز نکلی۔ تیرا انعام پاکستان۔۔۔۔۔۔!
    تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے، تکرار کی زندہ تعبیر، 20لاکھ شہدا کے خون، لاکھوں ماؤں، بہنوں، اور بیٹیوں کی عزت و آبرو کا صدقہ، پاکستان عالم وجود میں آگیالیکن یہ کیا؟
    ہم اللہ سے کئے گئے وعدے بھول گئے؟
    اس کی تعلیم بھول گئے؟
    اس کے حبیب ۖ کا واسطہ بھول گئے؟
    نفسانفسی اور خودغرضی کے سمندر میں غرق ہوگئے، غریبوں کا حق مارنے لگے، حرام، حلال کی پہچان بھول گئے۔
    جائز و ناجائز کی شناخت کھودی۔ ماں، بہن اور بیٹی کا احترام بھول گئے۔
    بچوں سے پیار اور بزرگوں کا مقام بھول گئے اور جان، مال، عزت و آبرو کے لٹیرے بن گئے۔
    گویا، اپنا کام سیدھا، بھاڑ میں جائے عیداکی زندہ تصویر بن گئے۔
    تاریخ گواہ ہے۔۔۔۔۔۔!
    نافرمان قومیں تباہ و برباد ہوگئیں۔
    دریا برد ہوگئیں۔
    اور کیا تم بھول گئے؟
    ابھی کل کی بات ہے۔2005 ء کا زلزلہ، اللہ کی ناراضگی کا معمولی سا اظہار، انسان، لاچار، شہر ویران، بستیاں تباہ حال، ایک لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ پھر بھی سبق نہیں سیکھا۔پھر رحمتوں اور برکتوں کے مہینے رمضان المبارک میں شہر کراچی میں آگ کی بارش بھول گئے۔تقریبا ڈھائی ہزار افراد شدت گرمی سے جھلس گئے۔ سڑکیں لاشوں سے اٹ گئیں، مردے اٹھانے والے کم پڑ گئے۔ قبریں کم پڑگئیں۔ سرد خانوں میں لاشیں سڑنے لگیں۔ تم اب بھی استغفار کیلئے آمادہ نہیں۔
    نفرتوں میں تقسیم، سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر میں فخر محسوس کررہے ہو، تم نے ایک قوم بن کر پاکستان حاصل کیا تھا۔ اب تم کدھر جارہے ہو؟میرے آفاقی ساتھیو! آ، اٹھو، کمر کسو، اور اللہ کی دی گئی نعمت پاکستان کے حصول کیلئے اپنے بزرگوں کے عزمِ عالیشان کو عملی جامہ پہنائیں۔ تاکہ آنے والی نسلیں بھی کہیں : اے نگارِ وطن تو سلامت رہے۔۔۔۔۔۔!

  • سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور عمران خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کرکے سیاسی درجہ حرارت کو ٹھنڈا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ ملک کی موجودہ صورتحال کے عین مطابق ہے جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس عید کے بعد بلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق موجودہ سیاسی ہنگامے میں جو کردار ادا کرنے جا رہے ہیں مجھے نواب زادہ نصراللہ مرحوم کی یاد آ رہی ہے نوابزادہ جمہوریت کے دیوانے تھے وہ جمہوریت کا علاج جمہوری مزاج رکھنے والے سیاست ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے ۔ وہ جمہوریت میں اپوزیشن کے موجود کو لازم سمجھتے تھے نواب زادہ نصراللہ کی قیادت میں کئی تحریکوں کا آغاز ہوا او ر وہ کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئی آج کی سیاسی جماعتوں میں میں دوغلے پن سیاستدانوں کی اکثریت موجودہے مگراسکے ساتھ چور راستوں کا انتخاب کرنا بھی بھی آج کی سیاست کا ایک مشغلہ ہے۔ ان کے نزدیک قانون کی حکمرانی – آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کوئی معنی نہیں رکھتی سیاست کو ذاتی دشمنی کا رنگ دے دیا گیا ۔ مولانا سراج الحق بلا شبہ ایک در توثیق انسان ہے جماعت اسلامی والے درویشی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے آج کی ٹونٹی سیاست واٹس اپ سیاست آڈیو اور ویڈیو جیسے گندے کھیل کی سیاست میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا آگے آکر کر دار ادا کرنا اور کامیاب ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔

    کیاسیاسی جماعتیں جماعت اسلامی کی تجویز کو قبول کریں گی اس وقت جو سیاسی ہنگامہ برپاہے شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے میں جماعت اسلامی کا میاب ہو جائے گی ؟ موجودہ دور کے سیا ستدانوں سے اور سیاسی دوغلے پن رکھنے والے سیاستدانوں نے جمہوریت کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اس جمہوریت کا پردہ چاک ہو کر عوام کے سامنے آچکا ہے عوام کی اکثریت کو لاتعداد مسائل میں الجھا دیا لگا ہے۔ سیاسی اختلاف رائے کو دشمنی اور انتقام میں بدل دیاگیاہے ، جماعت اسلامی کے امیر عجزو انکساری والے ایک دوریش انسان ہیں امید ہے سیاسی جماعتیں تاریخ سے سبق سیکھیں گی اور جماعت اسلامی کی تجویز پر عمل کرکے ملک وقوم کو مسائل سے نکالنے میں کردار ادا کریں گے گی۔