Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    ہمارے ملک کی جمہوری سیاست بھی عجیب کھیل ہے، بالکل کوکلا چھپاکی کی طرح۔ اس میں بھی ہر کھیلنے والا صرف اسی کا حکم مانتا ہے جس کے ہاتھ میں کپڑے کا کوڑا ہو۔ اس کوڑے کے خوف سے سب کھیلنے والے سر جھکا کر دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی کسی کردہ یا ناکردہ خطا کی پاداش میں کمر پر کوڑا پڑنے کا انتظار کرتے ہیں۔

    کہنے کو تو جمہوریت آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق دیتی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں میں عملی طور پر یہ حق صرف پارٹی سربراہ یا اس کے منظور نظر اہل خانہ کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ باقی سب میاں مٹھو کی طرح وہی راگ الاپتے ہیں جو انہیں پڑھایا جاتا ہے اور جس سے سر مو بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کو پارٹی لائن کہتے ہیں۔ ایک سٹیج آرٹسٹ تو سکرپٹ سے ہٹ کر بھی لائن بول سکتا ہے لیکن سیاسی آرٹسٹ کو ایسے مذاق کی اجازت نہیں۔

    کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام میں وفاق صوبوں کی اور پارٹی سربراہ اپنے ارکان اسمبلی کی خوشنودی کا محتاج ہوتا ہے اور اگر ارکان اپنے سربراہ کی پالیسیوں سے اختلاف کریں تو سربراہ کو پارٹی کا، یا اگر وہ برسراقتدار ہو تو حکومتی عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہماری جمہوریت میں ایسا مذاق ناپسندیدہ شرعی عیب سمجھا جاتا ہے۔ اس پارلیمانی عیب کا علاج بھی چودھویں اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کر دیا گیا ہے۔

    آج سے لگ بھگ پینتالیس سال پہلے جب اخبار میں کام شروع کیا تو "پارٹی لائن” کا نام سنا۔ پہلے سوچا شائد یہ بھی ریلوے لائن کی طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ جب حقیقت میں واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ اس لائن پر چلنے والے بھی ریلوے انجن کی طرح کانٹا بدلنے والے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پارٹی لیڈر جب چاہے کانٹا بدل کر اپنی پارٹی کی لائن بدل سکتا ہے۔ وہ عوامی حکومت کا دور تھا اور ارکان اسمبلی پارٹی چئیرمین کے جنبش ابرو پر لائن اپ ہو جاتے تھے۔ اور تو اور اتنا ڈسپلن تھا کہ پارٹی کے سب کہہ و مہ ایک طرح کی یونیفارم پہنتے جس میں تمیز و تخصیص کے لئے مختلف رنگوں کی پٹیاں اور ربن لگائے جاتے۔

    میرے بزرگوں کے جاننے والے ایک صاحب رکن اسمبلی تھے اور پارلیمانی سیکرٹری بن چکے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے فرمائش کی کہ گاہے گاہے ان کے نام سے مروجہ پارٹی لائن کے مطابق بیان شائع کردیا کروں کیونکہ ان کے محکمے کا پی آر او اپنی ساری توجہ وزیر صاحب پر مرکوز رکھتا تھا۔ اس سے پہلے پارٹی لائن کا لفظ میرے لئے اجنبی تھا۔ میں نے اپنے سینیئر رفقائے کار سے پوچھا تو انہوں نے نہ صرف برسراقتدار جماعت کی مروجہ پارٹی لائن کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ کیا بلکہ ملکی سیاست کے دیگر دلچسپ مگر ہوش ربا اسرار و رموز بھی گوش گزار کئے۔

    عوامی حکومت کے عہد میں ہر وزیر مشیر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے یا بہانے کی نوید دیا کرتا۔ ان میں ایک مشیر ایسا بھی تھا جسے باخبر حلقوں کے مطابق اس کے حاسدین "مشیر بوسیلہ ہمشیر” کہا کرتے تھے۔ ایک پارٹی لائن "عوامی” تھی جس کے تحت ہر چھوٹا بڑا لیڈر ایک ہی بات چنگھاڑتا سنائی دیتا تھا کہ ملک میں عوامی انقلاب آ گیا ہے، عوامی طوفان آنے والا ہے جو سب شکست خوردہ عناصر کو بہا لے جائے گا۔ پھر جال بچھانے کی باری آئی جس کے مطابق سڑکوں کے جال بچھا دیں گے، سکولوں کے جال بچھا دیں گے۔ ایک صوبائی وزیر جیل خانہ جات کو اور کچھ نہ ملا تو یہاں تک کہہ گئے کہ ہم ملک میں جیلوں کا جال بچھا دیں گے۔ جب عوامی حکومت کا دم واپسیں آیا تو پھر پارٹی لائن اس طرح تھی کہ قائد عوام کی ولولہ انگیز قیادت میں ملک دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا پے۔ اس وقت پارٹی لائن صرف تقریروں میں نہیں، سرکاری اشتہاروں میں بھی جھلکتی تھی۔

    میں نے خود ایسے اشتہارات بھی ڈرافٹ کئے جو وزیر اعظم کے انتخابی جلسے کے موقع پرخصوصی ضمیمہ کے لئے کاروباری طبقے کی طرف سے دیے گئے۔ بعد میں ہمارا ایک نمائیندہ اشتہاروں کا بل وصول کرنے کامونکی کی آڑھت منڈی میں گیا تو اس کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔ ان اشتہاروں کی قابل اعتراض لائن جو فرمائشی طور پر لگائی گئی وہ یوں تھی کہ آپ آئے تو بہاریں آئیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پارٹی لائن کا واحد مقصد کسی قومی ادارے کی توہین کرنا ہو تو اس کی سزا نچلے درجے کے "لیڈروں” کی بجائے حقیقی لیڈروں کو دی جائے۔ یہ بچارے تو میاں مٹھو، حکم کے غلام اور پارٹی لائن کے تابع ہوتے ہیں.

  • اب  کھائی جانے والی بیٹری سائنسدانوں نے ایجاد کرلی

    اب کھائی جانے والی بیٹری سائنسدانوں نے ایجاد کرلی

    روم(انٹرنیشنل ویب ڈیسک) اطالوی سائنسدانوں نے ایسی بیٹری کا پروٹوٹائپ (اولین نمونہ) بنایا ہے جسے کھایا بھی جاسکتا ہے۔
    اٹالیئن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے ڈاکٹر ماریو کیرونی نے عین انسانی جسم اور خلیات میں جاری حیاتی کیمیائی ردِ عمل (ریڈوکس ری ایکشن) پر کام کرنے والی بیٹری تیار کی ہے۔
    اس بیٹری کےاینوڈ وٹامن بی ٹو یا رائبوفلے وِن پرمشتمل ہیں جبکہ کیتھوڈ کیورسیٹن سے بنا ہے۔ یہ دونوں اجزا کئی پھلوں اور پودوں میں پائے جاتے ہیں۔ پھر اس میں بجلی کے بہاؤ (کنڈکٹوٹی) کو بہتر بنانے کے لیے چارکول ملایا گیا ہے۔
    اس کے برقیرے (الیکٹرولائٹ) پانی پر مشتمل ہیں اور الگ کرنے والا سیپریٹر اینوڈ اور کیتھوڈ کے درمیان ایک نفوذ پذیر جھلی کا کام کرتا ہے۔ لیکن برقیرے درحقیقت سمندری گھاس پرمشتمل ہے جو سوشی ڈش میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے بعد سونے کے باریک ورق پر شہد کی مکھی کا موم جمایا گیا ہے۔
    تجرباتی بیٹری 0.65 وولٹ کی بنائی گئ ہے اور چارج ہونے پر اس نے 12 منٹ تک 48 مائیکروایمپیئر بجلی خارج کی۔ اگرچہ یہ بہت زیادہ توانائی نہیں لیکن چھوٹے سینسر اور ایل ای ڈی وغیرہ کو اس سے چلایا جاسکتا ہے۔
    ڈاکٹر ماریو کے مطابق کھائے جانے والے سرکٹ اور بیٹریوں کو صحت اور کھانے کے گوداموں کی نگرانی میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور یوں ماحولیاتی نقصان بھی کم کم ہوتا ہے۔ اس طرح یہ بیٹریاں بہتر انسان دوست اور تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں بچوں کے کھلونوں میں بھی انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اکثر بچے کھلونوں کی چھوٹی بیٹریوں اور بٹن کو نگل لیتے ہیں جو کئی مرتبہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

  • احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار

    احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار

    احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار
    ثوبان ارشد
    رمضان المبارک کے بے شمار اور لاتعداد فضائل ہیں۔انہی فضائل کی وجہ سے اس مہینے میں لوگوں میں نیکی کا جذبہ بڑھ جا تا ہے،مساجد کی رونقیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں ،جگہ جگہ دروس قرآن اور ترجمہ قرآن کلاسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔رمضان المبارک کی بڑی فضلیت ہے۔اس سلسلہ میں بہت سی احادیث مذکور ہیں۔روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔حدیث رسول ﷺ ہے اللہ کہتے ہیں روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر ہوں۔ایک اور حدیث ہے کہ روزہ جہنم سے بچائو کے لئے ڈھال ہے۔بلاشبہ روزہ رکھنے کا اجر عظیم ہے ۔ لیکن جس اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کا تحفہ دیا وہ اس سے بھی عظیم تر ہے روزہ رکھنے سے جہاں انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں وہاں انسان جسمانی طور پر بھی صحتمند رہتا ہے ۔ رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی مسلمان روزہ افطار کرواتا ہے تو جتنا اجر روزہ رکھنے کوملتا ہے اتنا ہی اجر روزہ افطار کروانے والے کو بھی ملتا ہے۔چنانچہ ماہ رمضان میںلوگ بڑے ذوق و شوق سے سحر وافطار کا اہتمام کرتے اور کرواتے ہیں اجتماعی افطاریوں کا اہتمام بھی کیا جا تا ہے۔یہ ایک روایت ہے جو مسلمانوں میں ساڑھے چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے۔یہ خوبصورت روایت اسلام کا حسن ہے ۔رمضان کے مہینے میں عالمگیر سطح پر افطاریوں کا اہتمام صرف اسلام کا خاصہ ہے دنیا کا کوئی دوسرا مذہب اس طرح کی رواداری اورایثار کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔

    رمضان البارک اور قرآن مجید کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں مسلمانوں کا قرآن مجید فرقان حمید کے ساتھ بھی تعلق ، ربط اور شغف بڑھ جاتا ہے وہ بڑے شوق سے قرآن مجید پڑھتے ، سنتے اور سناتے ہیں ۔دعا ہے کہ اللہ اس ماہ مبارک کی رونقوں سے ہمیں زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ قرآن مجید میں مومن کے صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مومن وہ ہیں جو بھوکوں کو کھانے کھلاتے اور ضرورتمندوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اس کا عملی جذبہ رمضان المبارک کے میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب ہر مسلمان اپنے وسائل کے مطابق اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے سحر وافطار کااہتمام کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

    امسال رمضان المبارک میں شعبہ صحافت سے وابستہ احباب وافراد کیلئے ایک شاندار افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف اخبارات اور جرائد میں کام کرنے والے احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس پروگرام کے میزبان ڈ اکٹر سبیل اکرام تھے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام ہمہ جہت صفات کے حامل ہیں ، وہ جوا ں سال ، جواں عزم اور جواں ہمت ہیں ۔ان کی شخصیت کا ہر پہلو قابل ذکر ہے ۔وہ شہید ملت علامہ احسان الہیٰ ظہیر کے نواسے ہیں ، مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ لاہور میں امام تراویح ہیں ،جبکہ اس مرکزکے خطیب علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید کے فرزند علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر بھی اپنے باپ کی طرح شعلہ نوا مقرر اور خطیب بے بدل ہیں۔ مرکز قرآن وسنہ کی بنیاد ڈاکٹر سبیل اکرام کے نانا علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید نے رکھی تھی ۔اگر آج اس مرکز کا شمار لاہور کے چند اہم ترین بڑے دینی مراکز میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خانوادہ علامہ احسان الہیٰ ظہیر کو دین کے ساتھ محبت اور دین کی خدمت کا جذبہ ورثے میں ملاہے ۔ اس خاندان کی خوبی یہ ہے کہ ہر فرد قرآن مجید کاحافظ ہے ، جیسا کہ ڈاکٹر سبیل اکرام ہیں ان کے سینے میں بھی اللہ نے اپنی مقدس ترین کتاب محفوظ کردی ہے بلاشبہ اس خاندان پر اللہ کا یہ خاص فضل وکرم ہے ۔یوں اس خاندان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ایں ہمہ خانہ آفتاب است ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام معروف کاروباری شخصیت اور سیاسی وسماجی رہنما ہیں، مردم شناس ہیں، مہمان نواز اور بندہ پرور ہیں ۔ ملک کے حالات پر ان کی گہری نظر ہے ، کسی بھی معاملے میں ان کی رائے بہت جچی تلی ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام کی طرف سے دی جانے والی افطار پارٹی ایک بہت ہی خوبصورت پروگرام تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سبیل اکرام نے صحافیوں اور جرنلسٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ اللہ کاخاص فضل وکرم ہے کہ اس نے ہمیں حق بات کرنے کی توفیق دی ہے ، حق کا علم سربلند کرنے کی یہ خوبی مجھے اپنے نانا علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید اور میرے ماموں علامہ ابتسام الہی ظہیر کی طرف سے وراثت میں ملی ہے ۔ حق کی سربلندی ۔۔۔۔یہ ایک عظیم وراثت ہے جس پر بجا طور پر مجھے فخر ہے اس اعتبار سے ایک ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح ، ملک کی تعمیر وترقی اور قوم کی فلاح وبہبود کیلئے مقدور بھر اپنا کردار ادا کروں ۔اس لئے کہ یہ ملک ہمارا وطن ہی نہیں ہمارا گھر بھی ہے ۔ اس گھر کی اچھائی بھلائی کیلئے سوچنا اور کوشش کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے ۔ اس بات میں ہر گز دو آراء نہیں کہ ہمارا ملک سنگین اور گھمبیر قسم کے مسائل کا شکار ہے ، کہنے کی حدتک ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں لیکن ہم لسانی ، برادری اور جغرافیائی اعتبار سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں ۔ مزید بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایسی لیڈر شپ سے محروم ہیں جو ہمیں تقسیم کے ان دائروں سے نکال کرفکری اعتبار سے ایک پلیٹ فارم پر متحد کرسکے ۔ پاک بھارت میچ کے علاوہ ہم کسی بھی پوائنٹ پر اکٹھے نہیں ہوتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ ہم اپنی شانداراسلامی روایات اور کلچر کو بھول گئے ہیں ۔ تقسیم در تقسیم اور اختلافات نے ہمیں کمزور کردیا ہے ۔ میں چاہتاہوں کہ ہم سب بحیثیت پاکستانی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کی بقا اور قوم کے اتحاد کیلئے سوچیں ، اتحاد امت قائم کریں اور فرقہ واریت سے باہر آجائیں اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا بند کردیں ۔ پاکستان اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا یہ ملک ہمارے پاس اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ، اس نعمت کی ہم نے قدر نہ کی توہم سنگین قسم کے حالات اور خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ملک سنگین ترین حالات سے دوچار ہے ان حالات میں خاموش رہنا میرے لئے ممکن نہیں ۔ ملک کو خطرات سے نکالنے اور امن واستحکام کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے میں نے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مجھے شعبہ صحافت سے وابستہ مخلص دوست واحباب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ میں یہ بات فخر سے کہہ سکتاہوں کہ ہم بے لوث طریقے سے اس ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور الحمدللہ خود کو ان سیاستدانوں سے بہتر سمجھتے ہیں کہ جو لوگوں سے کہتے ہیں ہمیں ووٹ دوگے تو ہم تمہاری خدمت کریں گے ۔ گویا ان کی عوامی خدمت ووٹ کے ساتھ مشروط ہے ۔ جبکہ ہمارا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ہم کہتے ہیں کہ کوئی ووٹ دے یا نہ دے ہم بہر صورت عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے اسلئے کہ ہمارا اس بات پریقین ہے کہ مخلوق کی خدمت عبادت ہے ، جب کوئی انسان اللہ کے بندوں کی خدمت کرتا ہے تو اس کااجر اللہ دیتا ہے ۔سیاستدانوں نے اپنے مقاصد کی خاطر قوم کو تقسیم کردیا ہے جس کا نہ صرف ملک بلکہ قوم کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑرہاہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب اس تقسیم کو ختم کرنے اور اتحادواتفاق کی فضا قائم کرنے کا وقت آگیا ہے اس سلسلہ میں ہم عید کے بعد ایک جامع پروگرام کریں گے اور مربوط لائحہ عمل پیش کریں گے ۔ہمارے پاس ایسی ٹیم ہے جن کے پاس ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور سیاسی ومعاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے آئیڈیاز ہیں ۔ یہ کام مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں اس عظیم کام کو سرانجام دینے کیلئے ہمیں شعبہ صحافت سے وابستہ احباب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام نے اس موقع پر شعبہ صحافت سے وابستہ احباب کو بھی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافی اور کالم نگار معاشرے کے کان اور آنکھیں ہیں اس بنا پر یہ معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ ان کے قلم میں طاقت ہے ، انہیں چاہئے کہ جہاد بالقلم کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کریں ۔

  • جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
    خط کس لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے
    ..
    حسرت جے پوری

    یومِ پیدائش : 15 اپریل 1922

    اصل نام محمد اقبال حسین اور حسرت تخلص تھا۔ ۱۹۱۸ء میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن جے پور(بھارت) تھا۔ روزگار کے سلسلے میں بمبئی آگئے۔ بمبئی میں انھوں نے کئی سال تک بس کنڈکٹری کی۔ اس سے قبل اوپیراہاؤس کے فٹ پاتھ پر کھلونے فروخت کیے۔ اسکول میں معمولی ملازمت کی۔ اس دوران ان کی شاعری کا شغل جاری رہا۔ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کو ان کا کلام بہت پسند آیا۔ ان کی وساطت سے انھیں راج کپور کی فلم’’برسات‘‘ میں گانے لکھنے کا موقع مل گیا۔ اس طرح وہ فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔ وہ بالی ووڈ (بمبئی) کے ممتاز نغمہ نگار تھے۔ ۱۷؍ستمبر۱۹۹۹ء کو بمبئی میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:95
    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں
    وہ غیر کی بانہوں میں آرام سے سوتے ہیں

    ہم اشک جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے
    بے چین سی پلکوں میں موتی سے پروتے ہیں

    ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے میں
    سچائی کی راہوں میں کانٹے سبھی بوتے ہیں

    انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرتؔ
    ملنے کو تو ملتے ہیں نشتر سے چھبوتے ہیں
    ….۔۔۔۔۔

    یہ کون آ گئی دل ربا مہکی مہکی
    فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی
    وہ آنکھوں میں کاجل وہ بالوں میں گجرا
    ہتھیلی پہ اس کے حنا مہکی مہکی
    خدا جانے کس کس کی یہ جان لے گی
    وہ قاتل ادا وہ قضا مہکی مہکی
    سویرے سویرے مرے گھر پہ آئی
    اے حسرتؔ وہ باد صبا مہکی مہکی

    شعلہ ہی سہی آگ لگانے کے لیے آ
    پھر نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ
    یہ کس نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے
    آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ
    اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا
    تو زلف کی کملی میں چھپانے کے لیے آ
    دیوار ہے دنیا اسے راہوں سے ہٹا دے
    ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ
    مطلب تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے
    حسرتؔ کی قسم دل ہی دکھانے کے لئے آ

  • دو نمبر اصطلاح کی بانی سیمون دی  بووار

    دو نمبر اصطلاح کی بانی سیمون دی بووار

    مجھے نہیں معلوم کہ مغربی دنیا میں دو نمبر کی اصطلاح کس قسم کے افراد کیلئے استعمال کی جاتی ہے مگر ہمارے یہاں جنوبی ایشیا میں دو نمبر کی اصطلاح غلط قسم کے افراد اور غلط اشیاء اور مصنوعات وغیر کیلئے استعمال کی جاتی ہے جبکہ دو نمبر کو ایک طرح سے گالی بھی سمجھا اور مانا جاتا ہے ۔

    دنیا کے اکثر لوگ شاید اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ یہ دو نمبر کی اصطلاح کس شخصیت نے ایجاد کی اور کس پس منظر میں ؟ لہذا آئے آپ کو بتائیں یہ دراصل فرانس سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیبہ اور فلسفی سیمون دی بووار نے معاشرے میں مرد کی نسبت عورت کو ترجیح نہ دینے یا انہیں نظرانداز کرنے اور کمتر سمجھنے کی بنا پر ایک کتاب ” دی سیکنڈ سیکس” لکھ کر سخت غصے اور احتجاج کے طور پر اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔

    اس کتاب سیکنڈ سیکس(Secnd Sex) میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو دو نمبر سمجھ کر اسے زندگی کے ہر شعبے میں نظر انداز کیا جاتا ہے یعنی خواتین کو مرد کے مقابلے میں دو نمبر مخلوق یا سیکنڈ سیکس قرار دیا جاتا ہے ۔ سیمون دی بووار نے خواتین کو سیکنڈ سیکس یا دو نمبر اس لحاظ سے نہیں کہا تھا کہ یہ غلط یا منفی قسم کی جنس یا مخلوق ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عامر شہزاد کی موت کو جے آئی ٹی نے طبعی قرار دے دیا
    عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    بلکہ سیمون دی بووار کی جانب سے خواتین کو دو نمبر یا سیکنڈ سیکس کہنے کا مقصد انہیں معاشرے میں دوسرے درجے کی شہری قرار دینا ہے جس پر وہ شدید غم اور غصے کا اظہار کرتی ہیں لیکن ہمارے یہاں برصغیر میں دو نمبر کی اصطلاح کو غلط نظریہ کے تحت استعمال کیا جاتا رہا اور کیا جارہا ہے جو کہ سیمون دی بووار کے ” دو نمبر” کی اصطلاح کے یکسر برعکس ہے۔

  • ممتاز عالم دین اور محقق ڈاکٹر اسرار احمد کا یوم وفات

    ممتاز عالم دین اور محقق ڈاکٹر اسرار احمد کا یوم وفات

    ڈاکٹر اسرار 26 اپریل، 1932ء کو بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ لاہور منتقل ہو گئے اور گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1954ء میں انہوں نے کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد 1965ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند بھی حاصل کی۔ آپ نے 1971ء تک میڈیکل پریکٹس کی۔

    سیاسی زندگی

    دوران تعلیم آپ اسلامی جمیت طلبہ سے وابستہ رہے اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے ناظم اعلی مقرر ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم جماعت کی انتخابی سیاست اور فکری اختلافات کے باعث آپ نے اس سے علحیدگی اختیار کرلی اور اسلامی تحقیق کا سلسلہ شروع کر دیا اور 1975ء میں تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی جس کے وہ بانی قائد مقرر ہوئے۔ 1981ء میں آپ جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے بھی رکن رہے۔ حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسی سال ستارہ امتیاز سے نوازا۔ آپ مروجہ انتخابی سیاست کے مخالف تھے اور خلافت راشدہ کے طرز عمل پر یقین رکھتے تھے۔ آپ اسلامی ممالک میں مغربی خصوصاً امریکی فوجی مداخلت کے سخت ناقد تھے۔

    بحیثیت اسلامی اسکالر
    تنظیم اسلامی کی تشکیل کے بعد آپ نے اپنی تمام توانائیاں تحقیق و اشاعت اسلام کے لیے وقف کردی تھیں۔ آپ نے 100 سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے کئی کا دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ آپ نے ‍قرآن کریم کی تفسیر اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کئی جامع کتابیں تصنیف کیں۔ مشہور بھارتی مسلم اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ان کے قریبی تعلقات تھے اسی ضمن میں انہوں نے بھارت کے کئی دورے بھی کیے۔ عالمی سطح پر آپ نے مفسر قران کی حیثیت سے زبردست شہرت حاصل کی۔ بلا مبالغہ ان کے سیکڑوں آڈیو، ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جن کے دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اسلام کا صحیح تشخص ابھارنے میں وہ اہم ترین کردار ادا کیا جو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

    تصانیف

    ملفوظات ڈاکٹر اسرار احمد
    اصلاح معاشرہ کا قرانی تصور
    نبی اکرم سے ہماری تعلق کی بنیادیں
    توبہ کی عظمت اور تاثیر
    حقیقت و اقسام شرک
    قرآن کے ہم پر پانچ حقوق
    اور قرآن پاک کی تفسیر بیان القرآن
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عامر شہزاد کی موت کو جے آئی ٹی نے طبعی قرار دے دیا
    عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    وفات
    ڈاکٹر اسرار احمد کافی عرصے سے دل کے عارضے اور کمر کی تکلیف میں مبتلا تھے۔بالآخر مؤرخہ 14 اپریل، 2010ء کو 78 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کو گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
    ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے پسماندگان میں ان کی بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں

  • سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار (The Secnd Sex کی خالق)

    یومِ پیدائش : 9 جنوری 1908
    یوم وفات : 14 اپریل 1986

    سيمون دی بووار ( Simone de Beauvoir) عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی ادیبہ، ناول نگار، آپ بیتی نگار، مصنفہ، فلسفی اور سیاسی کارکن تھیں جن کی کئی کتابیں شائع ہوئیں ۔ وہ 9 جنوری 1908ء کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئیں اور 14 اپریل 1986ء کو پیرس میں ہی اُن کا انتقال ہوا اور وہیں سپرد خاک ہوئیں۔

    سيمون دی بووار کی شہرہ آفاق تصنیف : عورت یا سیکنڈ سیکس . جو اپنے انگریزی نام سیکنڈ سیکس سے مشہور ہے، 1949ء میں شائع ہونے والی مشہور فرانسیسی وجودی سیمون دی بووار کی نسائیت سے متعلق کتاب ہے، جس میں مصنفہ نے پوری تاریخ میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بحث کی ہے۔سیمون دی بووار نے 1946ء سے 1949ء کے درمیان میں تقریباً 14 ماہ میں تحقیق کی اور کتاب لکھی۔اس نے اسے دو جلدوں میں، حقائق اور خرافات اور رواں تجربہ میں شائع کیا ۔کچھ ابواب پہلے لیس ٹیمپس ماڈرنز میں شائع ہوئے۔سیمون دی بووار کی یہ مشہور کتاب، دی سیکنڈ سیکس The Second Sex اکثر نسائیت کے فلسفے کا ایک بڑا کام اور نسائیت کی دوسری لہر کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

    خلاصہ: سیمون دی بووار سوال اٹھاتی ہے کہ عورت کیا ہے؟ اس کا موقف ہے کہ انسان کو پہلے سے طے شدہ (یعنی انسان سے مراد مرد) سمجھا جاتا ہے، جب کہ عورت کو "دوسری” (یعنی انسان کی مونث) سمجھا جاتا ہے: "اس طرح انسانیت (سے مراد صرف) مرد ہے اور مرد، عورت کی خود سے نسبت ظاہر کرتا ہے۔” سیمون دی بووار نے مختلف مخلوقات (مچھلی، کیڑے مکوڑے، ممالیہ) نطفہ سے انڈا کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے انسان تک جاتی ہے۔ وہ نسل کے لحاظ سے عورتوں کی ذات کے تئیں مطابقت بیان کرتی ہے، مرد اور خواتین کی فزیالوجی کا موازنہ کرتی ہے، اس نتیجے پر کہ اقدار فعلیات پر مبنی نہیں ہوسکتے ہیں اور حیاتیات کے حقائق کو وجودیاتی، معاشی، معاشرتی اور فعلیاتی تناظر کی روشنی میں دیکھنا چاہئے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    تلاش و ترتیب : آغا نیاز مگسی

  • آئین بنانے والے ہی آئین شکن کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    آئین بنانے والے ہی آئین شکن کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    اعتزاز اور کھوسہ نے ثابت کیا کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے
    قوم کو انقلاب سے ڈرایا جانے لگا جو پہلے ہی تہذیبی اقدار بھول چکی
    جنرل ندیم کی بہترین حکمت عملی سے سر اٹھاتی دہشتگردی کچلی گئی

    چوہدری اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کی آئین و قانون کی حکمرانی کی الیکٹرانک میڈیا پر باتیں حقیقت میں بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا وہ نعرہ جو پیپلز پارٹی لگاتی ہے کہ کل بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے،دونوں کی سیاسی تربیت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے کی ہے،تاہم پی پی سمیت ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے خوبصورت پردے کی اوٹ میں کچھ رہنما آئین شکن ہوں گے،یہ کبھی نہ سوچا اور نہ کبھی ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا،ثابت ہوا جمہوریت کی آڑ میں جمہور کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے،پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جو تجربہ کرنے جا رہی ہیں وہ نقصان دہ ہو گا ،یہ جمہوریت ،پارلیمنٹ اور آئین کے لئے خوفناک تجربہ ثابت ہو گا اور 23 کروڑ عوام کے ساتھ ظلم ہو گایہ تجربہ قومی مشکلات کی شکل اختیار کر سکتا ہے،تعجب ہے کہ ایک طرف جشن آئین اور دوسری طرف آئین کو ہی دفن ، پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی محاذ آرائی،آئین کے ساتھ کھلواڑ سے، قومی معیشت اور جمہوریت کو استحکام نصیب ہو گا؟ میرے اندازے کے مطابق پی ڈی ایم کا شور شرابہ ضرور ہے ، اس سے آگے کچھ نہیں،آئین میں سب کچھ درج ہے کہ وزیراعظم کیسے بنتا ہے اور کیسے جاتا ہے،پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے،الیکشن کیسے ہوتے ہیں اور کب ہوتے ہیں عوام کے روز مرہ کے مسائل حل نہیں ہور ہے ، حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، کوئی عالمی قوت ملک کے حالات درست کرنے میں رکاوٹ نہیں ،

    حالات کو درست سیاستدانوں نے ہی کرنا ہے، درست راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا اسی میں سب کی بھلائی ہے، آج کے حالات کو دیکھ کر جمہوریت شرمندہ ہے، اہل سیاست کی گلیوں میں داخل دوغلے لوگوں نے سیاست جمہوریت اور آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، مہنگائی کے خوف سے ڈری ہوئی عوام کو ہمارے بعض سیاستدان کسی خونی انقلاب کا ذکر کر کے اور ڈرا رہے ہیں۔ یہ خونی انقلاب کون لائے گا ہر سمت پھیلی اخلاقی تباہی کو دیکھ کرکوئی انقلابی دور دور تک نظر نہیں آتا، تاہم اپنے علاقائی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل ندیم انجم کے بارے میں سوشل میڈیا پر لکھا تھا رائٹ مین فار رائٹ جاب، لاکھوں لوگوں نے جہاں پسند کیا وہاں میرے نام کے ساتھ غیر اخلاقی القابات بھی لگانے کی کوشش کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم اخلاقی طور ہر تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے لیکن یہاں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جنرل ندیم کی بہترین حکمت عملی سے جہاں وطن عزیز کی سرحدوں کو محفوظ بنایا گیا ہے وہاں دہشتگردی کی سر اٹھاتی لہر کو بھی کچل دیا گیا ہے۔

  • میکرون نے چین کا دورہ کیوں کیا؟

    میکرون نے چین کا دورہ کیوں کیا؟

    میکرون نے چین کا دورہ کرنے کی وجہ؟

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک معاہدے کی ثالثی میں چین کی سفارتی ثالثی ایک ایسا اہم قدم تھا جس نے چین کے قد و قامت کے معیار کو اوپر پروان چڑھائی یہ جبکہ ایک معاہدہ گیم چینجر ہے۔ اگرچہ فرانس یوکرین کا اتحادی ہے اور اس نے پہلے ہی 18 سیزر ہووٹزر یوکرین بھیجے ہیں لیکن وزیر دفاع لیکورنو نے کہا کہ یہ صرف یوکرین کے دفاع کے لیے ہے۔

    تاہم فرانس یوکرین میں جنگ بندی چاہتا ہے اور اس دورے کا بنیادی مقصد شی جن پنگ سے ماسکو پر یہ تاثر دینا تھا کہ وہ ایک طویل عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ میکرون اور بائیڈن دونوں نے کیو سے ماسکو کے انخلاء کے حصول میں بیجنگ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی فونک تبادلہ خیال پر اتفاق کیا تھا۔

    اب اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ چین اس تنازعے میں غیرجانبداری کا دعویٰ کرتا ہے تاہم اس نے 2022 میں کریملن کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے جبکہ زیادہ عرصہ پہلے کی بات نہیں ہے جب شی جن پنگ نے ماسکو کا سرکاری دورہ کیا.

    خیال رہے کہ بیجنگ نے پہلے ہی ایک کاغذ بھیج دیا تھا جس میں 12 نکات پیش کیے گئے تھے جبکہ اس میں ماسکو اور کیو کے درمیان جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نکات میں مغربی ممالک کی طرف سے روس کے خلاف پابندیوں کا خاتمہ سمیت شہریوں کے باہر نکلنے کے لیے راہداری کا قیام اور اناج کی برآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی بھی شامل تھی۔ اس میں "سرد جنگ کی ذہنیت” کو ختم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ جبکہ یوکرینی صدر نے چین کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا تھا.

    تاہم الجزیرہ کی 24 فروری 2023 کی خبر کے مطابق یوکرینی صدر کے ایک سینئر مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کہا تھا کہ یوکرین میں روس کی جنگ کو ختم کرنے کے کسی بھی منصوبے میں سوویت یونین کے انہدام کے وقت 1991 میں یوکرین کی سرحدوں سے ماسکو کی فوجوں کا واپس بلانا شامل ہونا چاہیے. لیکن یہ بھی واضح رہے کہ اگر چین مذاکرات کار کے طور پر کام کرتا ہے تو بھی راتوں رات کچھ نہیں ہونے والا ہے کیونکہ اس میں ابھی کافی وقت لگے گا اور بہت سارے معاملات کو دیکھنا ہوگا.

    یاد رہے کہ میکرون کے اس چین دورہ کے دوران ایک اضافی ڈش کے طور پر ان کے ساتھ تاجروں کا ایک دستہ بھی شامل تھا جو چین میں تجارتی معاہدے کرنے کی امید میں تھا۔

  • بیت النورآرفن سنٹر یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا مثالی ادارہ

    بیت النورآرفن سنٹر یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا مثالی ادارہ

    تحریر: ارشاد احمد ارشد
    پاکستان میں اس وقت متعدد ادارے یتیم بچوں کی ترتیب وکفالت کاکام کررہے ہیں لیکن یتیم بچیوں کی کفالت کرنے والے ادارے شائد نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے چوہدری محمد حسن ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھیوں نے ” بیت النور آرفن سنٹر “ کے نام سے یتیم بچیوں کی کفالت وتربیت کے لئے ایک ادارہ بنایا ہے جو لاہور میڈیکل ہاﺅسنگ سکیم مین کینال روڈ نزد ہربنس پورہ میں واقع ہے ۔ چوہدری محمد حسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں یتیم بچے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم نے صرف یتیم بچیوں کے لیے ہی یہ ادارہ کیوں بنایاہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ یتیم ہوجائے تو اس کےلئے خود کو سنبھالنا آسان ہوتا ہے بہ نسبت بچیوں کے ۔بچیاں پھولوں کی طرح نرم و نازک ہوتی ہیں، ان کے دل بھی نرم ونازک ہوتے ہیں ، بچیوں کےلئے مشکلات کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے، بچی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے تو وہ رشتے داروں اور معاشرے کے رحم وکرم پر ہوتی ہے ۔اسلئے بچیوں کو زیادہ محبت اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بچی کی تربیت صحیح طرح سے کی جائے تو ایک خاندان سنور جاتا ہے۔ اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچیوں کی تربیت بچوں کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے اس پس منظر میں ہم نے بچیوں کا ادارہ بنانے کو ترجیح دی ہے ۔ تاکہ ایسی بچیاں جن کے باپ داغ مفارقت دے گئے ہیں اسلامی ماحول میں اور باعزت طریقے سے ان کی پرورش وتربیت کی جائے ۔ دینی ودنیوی علوم سے انھیں بہرہ مند کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں کوئی ہنر بھی سکھایا جائے ۔

    اپنا گھر اور ماں باپ کا نعم البدل تو کوئی بھی نہیں تاہم ہماری کوشش ہے کہ ادارے میں بچیوں کو بالکل گھر کا ماحول دیا جائے، انھیں ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی جائے ، ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے ، ان کے غموں اور دکھوں کا مداوا کیا جائے ۔انھیں سیدہ فاطمہ ، سیدہ عائشہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھن کی سیرت وکردار سے روشناس کروایا جائے ۔” بیت النور آرفن سنٹر “ میں 25بچیاں زیر کفالت ہیں ۔ ان کی تعلیم وتربیت کےلئے دینی ودنیوی علوم پر مشتمل بہترین نصاب اور قابل ترین اساتذہ ہیں ، عصری علوم سیکھانے کےلئے بہترین سکولنگ کا انتظام ہے ۔ہر بچی پر انفرادی توجہ دی جاتی ہے ، اس کی فطری صلاحیت اور قابلیت کے مطابق علم سے بہرہ مند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ عصری علوم کے ساتھ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اورٹیکنیکل تعلیم سے روشناس کروانا بھی ادارے کے منشور میں شامل ہے ، صوم وصلوة کا پابند بنایا جاتا اور نفلی روزوں کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ بچیوں کو علوم شریعہ ، دروس ، قرآن وحدیث ، حفظ وناظرہ ، تجوید وقرآت کے ساتھ ساتھ جدید نصاب کے مطابق اردو ، انگلش ، عربی ،سائنس، ریاضی و دیگر سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں ۔الحمد للہ ہم نے ایسا نصاب ترتیب دیا ہے کہ جسے پڑھ کر یہ بچیاں دین کی عالمہ ومبلغہ بننے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ، انجئیر اور قانون دان بھی بن سکیں گی ۔ بچیوں کو مروجہ ہنر بھی سیکھائے جائیں گے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں ۔یہ بات معلوم ہے کہ صحتمند دماغ صحتمند جسم میں ہوتا ہے بچوں کےلئے تعلیم کے ساتھ تفریحی سرگرمیاں بھی بے حد ضروری ہوتی ہیں جس کےلئے مختلف تفریحی پروگرام کاشیڈول بھی ترتیب دیا جاتا ہے ، لاہور کے خوبصورت ترین تفریحی مقامات جیساکہ سکائی لینڈ، جوائے لینڈ اور دیگر مقامات وباغات کی انھیں سیر کروائی جاتی ہے ، پرائمری سے اعلیٰ تعلیم اور شادی کی ذمہ داری بیت النور آرفن سنٹر نے لے رکھی ہے ۔ ہمارے ادارے کا سٹاف 8افراد پر مشتمل ہے جس میں معلمات ، باورچی ، ایڈمن ، آیا ، صفائی کےلئے خاتون اور دیگر عملہ شامل ہے ۔ ادارے کے سالانہ اخراجات ایک کروڑ ہیں جن میں بلڈنگ کا کرایہ ، اساتذہ، دیگر عملہ کی تنخواہیں ، کچن کے اخراجات ، بجلی ، گیس کے بل اور بچیوں کے کپڑے جوتے وغیرہ شامل ہیں ۔ عمدہ تعلیم وتربیت کے ساتھ ہم بچیوں کو معیاری رہائش ، طبی سہولتیں، جسمانی نشو ونما کے مطابق اچھا کھانا ،کھانے کے ساتھ دودھ ، موسمی پھل ،پسند کے مطابق آئس کریم ، بسکٹ ، صاف ستھرا لباس ،صحت کی بحالی اور علاج معالجہ کےلئے ماہر نفسیات ، ان ڈور گیمز، ہر بچی کےلئے الگ الگ بیڈ ، اسٹڈی ٹیبل ، اسٹڈی چئیر ، الماری وغیرہ کی سہولیات دے رہے ہیں ۔ دن کا آغاز نماز فجر سے ہوتا ہے ، اس کے بعد صبح کے اذکار پڑھے جاتے ہیں ، اذکار کے بعد ایک گھنٹہ آرام کا وقفہ ہوتا ہے ، ساڑھے سات سے ساڑھے نوبجے تک قرآن مجید کی تلاوت ، تجوید اور گرائمر کا پیریڈ ہوتا ہے ۔ بعد ازاں ناشتہ اور سکول کی تیاری کا وقت دیا جاتا ہے پھر مختلف اسباق کے پیریڈ ہوتے ہیں ۔ ایک بجے سے دو بجے تک بریک ہوتی ہے جس میں نماز ظہر ادا کی جاتی ہے اور کھانا کھایا جاتا ہے ، دو بجے سے چار بجے تک سکول کی تعلیم دی جاتی ہے ، نماز عصر سے نماز مغرب تک چھٹی ہوتی ہے جس میں بچیاں کھیلتی ہیں ۔ ” بیت النور آرفن سنٹر “ کے اندر ہی کینٹین ہے جہاں سے بچیاں اپنی دلپسند اشیا لیتی اور کھاتی ہیں ۔ نماز مغر ب کے بعد ایک گھنٹہ تک قرآن کلاس ہوتی ہے ، پھر رات کا کھانا کھایا جاتا ہے ، اس کے بعد نماز عشا ادا کی جاتی ہے ، نماز عشا کے بعد پھر ایک گھنٹہ تفریح کےلئے وقت دیا جاتا ہے جس میں بچیاں کھیلتی ہیں ،اسلامی گیمز یا اسلامی کارٹون دیکھتی ہیں جبکہ ساڑھے دس بجے تعلیمی دن کااختتام ہوتا ہے اس کے بعد رات کے اذکار اور دعائیں پڑھ کر بچیاں سونے کےلئے لیٹ جاتی ہیں ۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عام طور پر یتیم بچوں یا بچیوں کے لیے بنائے گئے اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں کھانے پینے ، رہائش اور یونیفارم کا معقول انتظام نہیں ہوتا ۔جبکہ بیت النور آرفن سنٹر کے بارے میں میں اتنا ہی کہوں گا کہ ہماری کوئی ماں ، بہن بیٹی کسی وقت بھی اچانک ہمارے ادارے کا وزٹ کرے تو ان شاءاللہ یہاں دی جانے والی سہولتوں سے اس کا دل سو فیصد مطمن ہوگا ۔

    بیت النور آرفن سنٹر کرائے کی بلڈنگ میں ہے جبکہ کرائے کی مد میں ہمیں ہر ماہ بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے ۔ بیت النور آرفن سنٹر میں داخلے کی خواہشمند بچیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن جگہ کی قلت کی وجہ سے زیادہ بچیاں رکھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ ادارے کی اپنی بلڈنگ ہو اور وسیع بھی ہو تو ہمارے لئے زیادہ بچیاں رکھنا ممکن ہوجائے گا ۔
    کوئی بھی کام کیا جائے تو اصل چیز ہوتی ہے اس کے ثمرات وفوائد ۔ مجھے خوشی ہے کہ جس مقصد کی خاطر ہم نے بیت النورآرفن سنٹر قائم کیا اللہ نے کم وقت میں ہمیں اس کے نتائج اور فوائد وثمرات دکھانا شروع کردیے ہیں ۔ جو بچیاں ہمارے پاس زیر تعلیم ہیں ان کی مائیں ہم سے مطئمن اور خوش ہیں ۔اس سلسلہ میں بے شمار واقعات ہیں ایک ماں نے ہمیں بتایا کہ جب میری بچی ماہانہ چھٹی پر گھر آئی تو وہ کہنے لگی ” امی جان ! رات کو ہم نے جلدی سونا ہے “ میں نے کہا بیٹی اتنی جلدی بھی کیا ہے؟ ۔ بیٹی کہنی لگی ” امی جان ! رات کو جلدی نہ سوئے تو صبح نماز کے وقت میں اٹھ نہیں پاﺅں گی اور اس طرح سے میری نماز رہ جائے گی ۔“ ایک اور ماں نے ہمیں بتایا کہ جب میری بیٹی چھٹی پر گھر آئی تو وہ رات کو بار بار اٹھ کرگھڑی سے ٹائم دیکھ رہی تھی ۔اس دوران اچانک میری آنکھ بھی کھل گئی میں نے پوچھا بیٹی کیا بات ہے ، خیریت تو ہے ، کیا وجہ ہے نیند نہیں آرہی کیا ؟ ۔۔۔۔؟ بیٹی جو جواب دیا وہ نہایت ہی ایمان افروز تھا ۔ کہنے لگی” امی میں نماز کا وقت دیکھ رہی ہوں یہ نہ ہو کہ میں سوئی رہ جاﺅں اور میری نماز ضائع ہوجائے “ یہ ہیں الحمدللہ ہماری تربیت کے اثرات ۔اگر کوئی صاحب یتیم بچی کی کفالت کرکے جنت میں رسول مقبول ﷺ کی ہمسائیگی چاہتے ہیں تو بیت النور آرفن سنٹر کے درج ذیل نمبر 0322-2211911 پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔