Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کے ایل سہگل  کا  یوم پیدائش

    کے ایل سہگل کا یوم پیدائش

    کے ایل سہگل 11 اپریل 1904 کو جموں کے نواں شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام امر چند تھا اور وہ جموں و کشمیر کے راجہ کی خدمت میں کام کرتے تھے۔ ان کی والدہ کا نام کیسر بائی تھا۔ کندن پانچ بچوں میں سے ایک تھا۔

    ان دنوں موسیقی کی رسمی تعلیم آسانی سے حاصل نہیں ہوتی تھی۔ طبقاتی، برادری اور معاشیات کی رکاوٹوں نے بہت سے لوگوں کو اس طرح کے فوائد حاصل کرنے سے روک دیا۔ سہگل نے بھی ان رکاوٹوں کو محسوس کیا۔ کبھی بھی کم نہیں، نوجوان سہگل نے موسیقی سیکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ابتدا میں یہ مقامی رام لیلا میں گانا اور اداکاری کرتا تھا۔ انہوں نے صوفی بزرگ سلامت یوسف کے مزار پر بھی زیادہ وقت گزارا، وہاں انہوں نے دوسرے موسیقاروں اور عقیدت مندوں کے ساتھ مل کر گایا اور مشق کی۔ کہا جاتا ہے کہ جوانی میں وہ ایک مقامی طوائف کے گھر کے پاس چپکے سے جایا کرتا تھا تاکہ اسے گانا سن سکے۔ اس کے بعد وہ جو کچھ سنتا تھا اس کی نقل کرتا تھا۔

    ایک نوجوان کے طور پر اس کے کئی پیشے تھے۔ اسکول چھوڑنے کے بعد، اس نے کچھ عرصہ ریلوے ٹائم کیپر کے طور پر کام کیا۔ بعد میں اس نے ٹائپ رائٹر سیلز مین کے طور پر کام کیا۔ بعد میں اس پیشے نے انہیں ہندوستان میں وسیع پیمانے پر سفر کرنے کا موقع فراہم کیا۔

    ہر وقت جب وہ اپنی ملازمت میں سفر کرتے تھے، وہ شوقیہ بنیادوں پر گاتے تھے۔ وہ دوستوں کے ساتھ محفلوں میں گاتا تھا اور بہت سے لوگوں سے ملتا تھا۔ ایک موقع پر ان کی ملاقات مہر چند جین سے ہوئی۔ وہ سہگل کے ابتدائی دوست اور حامی بن جائیں گے۔ اپنے سفر میں ان کی ملاقات بی این سے بھی ہوئی۔ نیو تھیٹر کے بانی سرکار۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سرکار ہی تھے جنہوں نے سہگل کو کلکتہ جانے پر آمادہ کیا۔

    کلکتہ میں سہگل کی زندگی موسیقی سے بھری ہوئی تھی۔ اگرچہ اس نے مختصر طور پر ہوٹل مینیجر کے طور پر کام کیا، لیکن ان کی دلچسپی موسیقی کے منظر میں تھی۔ وہ محفلوں میں کثرت سے شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے ہریش چندر بالی کے لکھے اور ترتیب دیئے گئے گانوں کی کئی ڈسکس بھی ریکارڈ کیں۔ یہ انڈین گراموفون کمپنی کے ذریعے جاری کیے گئے۔ گلوکار کے طور پر ان کی شہرت بڑھ رہی تھی۔

    اس وقت فلموں کا کاروبار ہلچل کے عالم میں تھا۔ بات کرنے والی تصویر ابھی متعارف کرائی گئی تھی، اس لیے فلم کمپنیاں ایسے اداکاروں کے لیے آواز اٹھا رہی تھیں جو گانا جانتے تھے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہ دن تھے جب ’’پلے بیک‘‘ گانے کا رواج فیشن میں آیا تھا۔ اداکاروں اور اداکاراؤں نے اپنے گانے گائے، اور موسیقی کی صلاحیت کو کامیاب فلمی کیریئر کے لیے اہم شرط سمجھا جاتا تھا۔

    سیگل کی بے حد مقبول موسیقی کی ریکارڈنگ فلموں میں ان کے قدموں کی بنیاد ثابت ہوئی۔ کلکتہ میں ہی سہگل کا تعارف آر سی سے ہوا۔ بورال۔ بورال ہی تھے جنہوں نے سیگل کو نیو تھیٹرز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ انہیں ان کی فلموں میں کام کرنے کے لیے ماہانہ 200 روپے ملتے تھے۔ ان کی اداکاری کرنے والی پہلی فلم اردو فلم "محبت کے انس” (1932) تھی۔ اس کے بعد انہوں نے "سبح کے ستارے”، اور "زندہ لاش” میں کردار ادا کیے۔ یہ 1932 میں ریلیز ہوئیں۔ یہ کسی بھی طرح سے ہٹ فلمیں نہیں تھیں، لیکن انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ فلم انڈسٹری میں سیگل کے پاس وہ کچھ تھا جو ضروری تھا۔

    اس دوران سہگل ڈسکیں بناتے رہے۔ کلکتہ کی ہندوستان ریکارڈز کمپنی نے کئی ڈسکیں منظر عام پر لائیں جن میں سے جھولنا جھولا نے عوام کی توجہ حاصل کی۔

    انہوں نے گانا گانا جاری رکھا اور متعدد فلموں میں اداکاری کی۔ تاہم جس فلم نے انہیں مشہور کیا وہ "چندی داس” (1934) تھی۔ اس کے بعد انہیں مزید فلمیں کرنے کی بہت سی پیشکشیں ہوئیں، لیکن جس نے انہیں فلمی تاریخ میں جگہ دی وہ ’’دیوداس‘‘ (1935) تھی۔ "دیوداس” کی شاندار کامیابی کے بعد اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ سہگل فلم انڈسٹری میں ایک مضبوط ہستی تھے۔

    اس دور میں ان کی ذاتی زندگی میں بھی ترقی ہوئی۔ 1935 میں انہوں نے آشا رانی سے شادی کی۔ ایک ساتھ ان کے تین بچے تھے۔ مدن موہن نام کا ایک بیٹا تھا (اسی نام کے ڈائریکٹر سے کوئی تعلق نہیں) اور دو بیٹیاں نینا (پیدائش 1937) اور بینا (پیدائش 1941) تھیں۔

    کلکتہ میں ہی سہگل بنگالی زبان میں ماہر ہو گئے۔ اس سے انہیں کئی بنگالی فلموں میں گانے اور اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ یہاں تک کہ انہیں پہلے غیر بنگالی ہونے کا اعزاز حاصل تھا جسے رابندرانت ٹیگور نے اپنا کام ریکارڈ کرنے کی اجازت دی۔

    لیکن یہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ کا ایک عبوری دور تھا۔ ہندی فلم انڈسٹری کا مرکز کلکتہ سے بمبئی منتقل ہو رہا تھا۔ تو سہگل اس کے ساتھ چلا گیا۔ وہ دسمبر 1941 میں بمبئی چلے گئے اور وہاں رنجیت مووی ٹون کمپنی کے ساتھ کام کرنے لگے۔ وہاں انہوں نے ’بھکتا سورداس‘، ’تانسین‘، ’کروکشیتر‘، ’عمر خیام‘، ’تدبیر‘، ’شاہجہاں‘ اور ’پروانہ‘ جیسی فلمیں کیں۔

    لیکن بدقسمتی سے شراب نوشی سہگل کو اپنی گرفت میں لے رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے پہلے کے سالوں میں، وہ پہلے پیے بغیر گانے یا پرفارم کرنے سے قاصر تھے۔ اس سے ان کی صحت کے ساتھ ساتھ کام دونوں پر اثر پڑ رہا تھا۔ اسے جگر کا سیروسس ہو گیا۔ جب ان کی صحت خراب ہوئی تو، سہگل نے جالندھر میں ایک بزرگ کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن اس کے گھر والوں نے اعتراض کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ بمبئی کے بہترین ڈاکٹروں میں سے ایک کی مدد لیں۔ ایک سمجھوتہ ہوا جس کے تحت ڈاکٹر سہگل کے ساتھ جالندھر جائے گا۔ تاہم طبی علاج کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کا انتقال 18 جنوری 1947 کو جالندھر میں ہوا۔ سہگل کی عمر صرف 42 سال تھی۔

  • ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    میرے لیئے ضیاء الدین یوسفزئی کا تعارف ذرا مختلف ہے ان لوگوں سے جنہوں نے افسانوی، پراسرار، متنازع یا غیر فطری قصے سن رکھے ہیں کیونکہ جہانزیب کالج میں ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی مجھ سے سینئر تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تمام ہمدردیوں کے باوجود ایک غیر تحریری نسل پرستانہ قوم پرستی کے غالب جزبات پر میرے شدید تحفظات تھے. کیونکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ رہا ہے کہ بہترین جزباتی تقریر اور بہترین شاعری کا بہاؤ ہر رہنما میں مشترک رہا مگر ساتھ ہی مجالس و مکالمے میں دلیل کی جگہ زور اور "پرتشدد” الفاظ کی ادائیگی تقریر و شاعری کو محض طاقت کا اظہار بنا دیتی تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی نے طلبہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تو ایک فرق نے مجھے فورا متوجہ کیا کیونکہ میری نظر میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں فٹ نہیں تھے اس لیئے کہ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور عدم تشدد کے قائل تھے جبکہ یہ اے این پی کے آئین کے عین مطابق اور عمل کے برعکس تھا. دوسرا ضیاء الدین کی ادائیگی میں لکنت تھی ہکاہٹ تھی مگر جب شعر ادا کرتے تھے تو اس روانی سے کہ پن ڈراپ خاموشی ہوتی اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ غیر سیاسی اساتذہ کرام دروازوں ، برآمدوں میں کھڑے ہوکے مدلل مقرر اور برجستہ شاعری سنانے والے کو سنتے تھے اور میری عقیدت ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ ان کی شخصیت کی عجیب پراسراریت کی وجہ سے تھی جس کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ انتہائی انکساری اور تہذیب سے رہتے جس کو میں ان کی عظمت یا احساس کمتری میں کوئی ایک سمجھنے سے قاصر رہا.

    وہ اساتذہ میں غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی رکھتے تھے جو کسی طالب علم رہنما کے لیے میں نے نہیں دیکھی تھی
    وہ بہت ترقی پسند اور لبرل تھے جبکہ تھیوکریسی کے مخالف تھے مگر روحانیت پسند ضرور سے تھے۔ وہ مذہب پر بات نہیں کرتے تھے مذہب پر تنقید نہیں کرتے تھے مگر تنقید کے بارے میں ہمیشہ غیر جانبدار رہتے چونکہ بائیں بازو کی سیاست زندہ اور سر گرم تھی اور ریاست کی طرف سے مذہبی استعمال اور اس استعمال میں استحصال غالب تھا اس لیے بائیں بازو کے نظریات کے عامل افراد کا استعمار کے ساتھ مذہبی تنقید فیشن کے اندر تھا. ضیاء الدین یوسفزئی ایک روایت پسند مذہبی شخص اور ایک حق تنقید کے حامی دوہری شخصیت کی طرح نظر آتے اور وہ مذہبی انتہا پسندی اور لا دینی انتہا پسندی کے دور میں اعتدال پر تھے جو اس کی جیسی شخصیت سے امید نہیں کی جا رہی تھی اور وہ خود شاعر اور لطیف احساسات کے مالک تھے .

    انگریزی ادب اور پشتو ادب پر ایک قابل ذکر عبور رکھتے تھے علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے سامع تھے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور پھر وہ ہمارے محلے میں بھی آکر رہنے لگے تھے جہاں کسی عام محلے دار کی طرح اسی لہجے میں گفتگو کرتے وہ نوجوانوں اور عام محلے داروں میں بہت مقبول تھے لہذا میں نے ایک چھٹی والے دن ضیاء الدین کو دیکھا جن کے ہاتھ میں چھوٹی سی سیڑھی ایک بورڈ تھا میں دور سے دیکھ رہا تھا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ضیاء الدین ہی ہے میرے ساتھ جو لڑکے تھے وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جو جانتے تھے شانگلے والا نیا کرایے دار اچھا لڑکا سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے تھے لہذا ہم خوڑ پار کرکے ان کے پاس پہنچے وہ کچھ شرمائے کچھ خوش ہوئے میں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں ؟

    بورڈ دیکھاتے ہوئے کہنے لگے ساجد ایک کوشش سی ہے "خوشحال پبلک سکول لنڈیکس” میں نے پوچھا کیا آپ واقعی انگلش میڈیم سکول کھولنے میں سنجیدہ ہو جس کا کوئی اچھا سٹینڈرڈ بھی ہوگا ؟ انہوں نے اعتماد سے جواب دیا یقیناً
    میں نے کہا نام کا انتخاب قطعی غلط ہے بورڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں ؟ میں کہا اگر انگلش میڈیم سکول کھولنے کا اردہ ہے تو خوشحال خان ، رحمان بابا قسم کا نام رکھنے کی جگہ شیکسپیئر ، سینٹ، لارنس ، کوین یا جان ، مارٹن ٹائپ نام رکھیں اور میں واقعی سنجیدہ تھا . وہ کھل کر ہنسے اور گلے لگے جس کا مطلب تھا وہ قطعی طور پر متفق نہیں ہے. وہ بورڈ ہم نے ملکر نصب کیا یہ تشہیری مہم تھی سکول کی جس کو ایک لمبے عرصے تک وہاں سے گزرتے ہوئے ہمدردی سے دیکھتا .

    انعام ہمارا دوست تھا اور اس نے نشاط چوک میں ایک کتابوں کی دوکان کھول لی۔ جس میں روایتی کتابوں کے علاوہ ترقی پسند ادب پر کتابیں اور رسائل بھی موجود ہوتے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی لوگوں کے لیے ایک جائے اطمینان اور پاک ٹی ہاؤس جیسی اہمیت حاصل کر گیا ۔ ضیاء الدین یوسفزئی بھی گاہے بگاہے وہاں آتے جہاں میں ، عثمان اولس یار اور دیگر نظام سے مایوس موجود ہوتے جزباتیت تو تھی ان دنوں میں چودہ اگست کی کاروباری سطح پر منانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ میری یاد میں پنجاب بیکری والے اپنی بیکری سجا کر کچھ اظہار کرتے ورنہ سکولوں میں ہی چودہ اگست کے نغمے سن کر چھٹی اور نہ چھٹی کا سا ماحول ہوتا ایک چودہ اگست کو بغیر کسی پیشگی مشورے کے ہم نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی۔ ضیاء الدین آیا تو ان کے بازو پر باندھ دیا اور ہم خود غیر اہم تھے ہمارے احتجاج کی اہمیت ہمارے علاؤہ کسی نے محسوس نہیں کی اور ہم خود نہیں جانتے تھے ہمارا کیا مقصد ہے ہاں نظام پر عدم اعتماد ایک وجہ ضرور تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی کے خلاف پچھلے سالوں میں چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا الزام لگا پڑھا تو بے اختیار ہنس دیا، ضیاء الدین یوسفزئی کی نظریات سے زیادہ ان کی شرافت اور دوستی کا احترام سیاہ پٹی کو ان کے بازو پر لے آیا تھا جو دہائی سے اوپر گزرنے کے بعد ان کے لیے طعنہ بن گیا جبکہ انعام اور ہم کئی پشتوں سے پڑوسی تھے عثمان اولس یار رشتہ دار ، کلاس فیلو ، دوست اور ہم نظریہ اور باقی دو تین دوست بھی ایسے ہی تھے عبداللہ یوسف زئی ، واجد علی خان کا بھی گزر ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتے. ضیاء الدین یوسفزئی نے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا تھا اور روخان صاحب و فضل ربی راہی صاحب کی قربت مل گئی تھی جس کی مجھے توقع بھی تھی اور ان کے اندر اہلیت تو تھی ہی کہ اس محفل تک پہنچتے۔

    ضیاء الدین یوسفزئی ایک با اعتماد ماہر تعلیم کی صورت میں ابھرنا شروع ہوئے ساتھ ہی ادبی سرگرمیوں کے سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے جبکہ انکی خواہش تھی کہ تعلیم سائنسی بنیادوں پر آسان ،سستی اور پر کشش ہو دوئم کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مالی مدد کا مستقل کوئی سلسلہ بھی بنائے اسی میں ہی سرگرم رہے اور میں بھی عملی زندگی میں آ کر سوات چھوڑ چکا تھا مگر ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطہ تھا جسکی وجہ ایک پچھلا تعلق دوسرا میرے بہنوئی احمد شاہ کے ساتھ ان کی دوستی ، میرے والد صاحب کے ساتھ ان کا تعارف اور اچھے الفاظ میں ذکر سمیت متعدد ۔۔

    دو ہزار آٹھ یا نو میں ضیاء الدین یوسفزئی کا ایک میسج آیا کہ وہ بیرونی ملک کسی ادبی سلسلے میں جا رہا ہے اور کچھ
    میں نے اس کا میسج ویسے ہی فیس بک پر لگا دیا میرے ایک فیس بک دوست اور سوات کے ایک رہائشی نے تبصرہ لکھا کہ وہ بہت خوش ہوگا اگر ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کروں اور اگر میں ان کا نمبر فراہم کر سکوں میں نے یوسفزئی سے پوچھا انہوں نے ہنس کر کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر ضیاء الدین نے واپسی پر میرا بڑا شکریہ ادا کیا کہ میری وساطت سے جو میزبانی ملی اس نے کافی مدد کی اور بہت کچھ دیکھنے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا چونکہ ضیاء الدین کو میں ایک خوددار ، شکر گزار اور قناعت پسند شخص کے طور پر بھی جانتا تھا مجھے بہت اچھا لگا۔ مذید باہر سے دوست کی جانب سے ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کا موقع فراہم کرنے اور تنگی وقت ملاقات کے ذکر نے اور بھی خوشی فراہم کی جو دراصل میزبان کی مہمان کے لیے خراج تحسین تھا.

    مجھے فخر ہوا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے ان کو گرویدہ کر لیا تھا 2009 میں جب حالات بہت خراب ہونے لگے تو مجھے ضیاء الدین کی بڑی فکر ہوتی تھی اور رابطہ بھی بہت رکھتا تھا ان کا احتجاج اور رد عمل میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ تھا شعوری آگاہی کی ان کی تمام کاوشیں بہت ہی خطرناک ہو سکتیں تھیں جس سے وہ متفق نہیں تھا یا آنے والے واقعات کا سب لوگوں کی طرح ان کو بھی صحیح ادراک نہیں تھا جبکہ ایک وقت آیا جب مجھے لگا کہ شاید میں ان کو زندہ پھر کھبی نہیں دیکھ پاونگا اور سوات سے ابادی کے انخلاء سے کچھ پہلے وقت پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوات چھوڑ رہے ہیں مگر دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میں نے فون پر رابطہ کیا تو سفر میں تھے دل برداشتہ تھے دو ہزار نو میں ہی نشاط چوک میں سیدوشریف کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے وہ سٹرک کنارے چلتے ہوئے نظر آیا ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا گاڑی پارک کرکے میں ان کو گلے ملا اور کہا کہ مجھے یقین تھا ہم کھبی دوبارہ زندہ نہیں مل پائیں گے سوات کا تاریخی ہجرت کا دور ختم ہو چکا تھا۔
    وہ مگر پر عزم تھا اور سوات کے حالات کو خراب کرنے کو منظم کوشش اور مجرمانہ فعل برملا کہہ رہا تھا اور ان کے عزم میں اور پختگی تھی شاید ہی کچھ لوگ اس طرح اظہار کرتے ہونگے جیسے وہ کر رہا تھا انخلا سے پہلے اور اب بعد میں وہ سوات قومی جدوجہد اور قومی بیداری پر زور دے رہا تھا جبکہ بعد میں سوات قومی جرگے کا اہم رکن بھی بن گیا.

    دہشت گردی ، کرفیو کی طوالت اور ریاستی ردعمل کی مایوس اظہار کا بہت بڑا ناقد تھا
    2009 کے واقعات اور ناخوشگوار تجربات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اعتدال پسند اور استقامت پسند ضیاء الدین کے اندر یہ دونوں صفات کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ دہشت گردوں کے خلاف شدید مزاحمت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے دوسری طرف ریاستی اداروں اور ریاست کی لاپرواہی اور غیر ضروری تاخیر کو بھی حدف تنقید بنا رہے تھے ساتھ ہی ان کے امدادی کاموں میں بھی باقاعدگی اور تیزی آ رہی تھی ایک طوفان تھا جو ان کے اندر ابل رہا تھا
    2010 کے سیلاب میں انہوں نے رابطہ کیا اور مجھے ایک بڑی رقم عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا. میں چونکہ ہمیشہ مالی غیر ہمواری اور معاشی بے ترتیبی کا شکار رہا ہوں مالی امداد سے معزرت کی۔ جس پر انہوں نے متاثرین کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں مدد کی درخواست کی اور پھر انکے امداد دینے کا طریقہ بہت ہی عجیب تھا ۔ میڈیا اور شہرت سے پردہ کرکے گھر گھر جاکر امداد پہنچائی وہ گراؤنڈ پر موجود رہا 2011 میں موثر طور پر وہ سوات کا کیس پیش کر رہا تھا ۔ مذاکرے ، سیمینار اور پریس کالموں کے ذریعے سوات میں استحصال کے خلاف ایک موثر آواز بنے رہے مسلسل دھمکیوں اور سیکورٹی رسک کے باوجود وہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھے اور واقعی ان کی فکر بہت بڑھ گئی تھی۔

    اکتوبر 2012:میں کم سن ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت سب نے ملالہ کے احتجاج اور ڈائری کو وجہ قرار دیا مگر نجانے کیوں مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ ضیاء الدین کو چھپ کرانے کے لیے سافٹ ٹارگٹ چنا گیا. بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں نے یہ موقف دیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘ اس وقت سوات قومی جرگہ پوری طرح سرگرم تھا اور تمام سربراہ ٹارگٹ کیے جا رہے تھے۔ اور اس ٹارگیٹنگ پر کھل کر جرگے کا موقف آ رہا تھا

    اس دن میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں میٹنگ میں تھا چائے کے وقفے میں ٹی وی آن کیا تھا تو ملالہ یوسفزئی پر حملے کی خبریں چل رہی تھیں میں نے انتہائی پریشانی میں اپنے بہنوئی احمد شاہ کو فون کیا انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا میں ساتھ ہوں وہ ہسپتال میں ہے اور ضیاء الدین پہنچ رہا ہے بعد میں ملالہ یوسفزئی کو شفٹ کرنا پڑا خیبرپختونخواہ کے ماہر نیورو سرجنوں کی ٹیم کی مدد کے لیے ملٹری ہسپتال کے نیورو سرجن پہنچے مگر زندگی اور موت کی جنگ جاری رہی اور ملالہ یوسفزئی کے لیے جدید علاج فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا. پہلے سے سوات بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے شکار کے طور پر نمایاں تھا سکول کے بچیوں پر حملے نے مغربی سول سوسائٹی کو کھل کر طالبان کی مذمت اور ملالہ کو فوری طور پر صحت کے بہترین مواقع دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ ہوگیا۔

    اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کو دہشت گردی کا بزدلانہ فعل قرار دیا اور ملالہ کو بہترین طبعی امداد دینے کا وعدہ اور اپیل کی اور ایک آئر ایمبولینس میں ملالہ کو انگلستان منتقل کیا گیا اور دنیا بھر سے لاکھوں بچوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ضیاء الدین یوسفزئی پاکستان میں رہ گیا وہ ، اس کے جزبات اور حثیت ثانوی ہوگیے
    مالی طور پر وہ اتنا مستحکم نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کا سفر اور وہاں رہائش کا بندوست کر سکے ساتھ ہی دیگر قانونی لوازمات کی تیاری میں موت سے لڑنے والی ایک بچی کے بے بس باپ کا درد روح پرور تھا ملالہ کے ایک سے اوپر ایک آپریشن کیے جا رہے تھے متفرق خبریں مل رہی تھی زندگی کے مطالق شہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں مستقل معزوری کی نوید دی جا رہی تھی.

    اور پھر وہ دن آیا کہ ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ ایک مہذب ملک پہنچ گیا جہاں اظہار تحریر و تقریر کی آذادی کے ساتھ بہترین طبی سہولیات حاصل تھے ملالہ رو بہ صحت ہوتی گئی مگر وہ چہرے کے ایک سائڈ کے اعصابی نظام کی مفلوجی کا شکار بحرحال ہوگئی۔ سپیچ تھراپسٹ اور فزیوتھراپسٹ نے ملکر نیورولوجی کے شعبے کے ساتھ ملکر طبی کرشمہ انجام دیا. ملالہ بولنے کی لائق ہوئی تکلیف سے ہی سہی مگر اس کی آواز نے ضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس نے اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور دہشت گردی کی مخالفت اور سختی سے کرنے کا اعلان کیا۔
    آصف علی زرداری صاحب نے دورہ انگلستان کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی ملکیتی ایک مکان بھی رہنے کو دیا.

    ضیاء الدین نے حکومت پاکستان کو درخواست دی کہ یہ مکان ان کی ضرورت سے کہیں بڑا ہے اور ویسے ہی دہشت گردی زدہ ملک پر بوجھ ہے اس لیے ان کو انکی چھوٹی فیملی کے حساب سے مکان دیا جائے 2014 تک ملالہ کی آواز دنیا کے ساتھ ارب سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال ان کو امن کے لیے عالمی ایوارڈ اور اگلے سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے تعلیم کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا واحد موثر ہتھیار قرار دیا کروڑوں لوگوں نے براہ راست انکی تقریر سنی اقوام متحدہ نے اپنے ایک فنڈ جو دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم اور بہتر صحت کے لیے سرگرم تھا کا نام تبدیل کرکے ملالہ فنڈ رکھ دیا برطانیہ میں ہی ضیاء الدین یوسفزئی کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے میں ملازمت مل گئی مگر وہ ایک طویل عرصے مالی دشواری کا شکار رہے.

    ملالہ ملنے والی انعامی رقم ملالہ نے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ سوات اور شانگلہ میں کئی پبلک و پرائیویٹ سکولوں کو فنڈز کی فراہمی شروع کر دی بے شمار طلباء تعلیمی وظائف حاصل کرنے لگے تور پکئ ایک گھریلو ناخواندہ خاتون نے پڑھنا شروع کیا اور ان کی شاعری وطن سے محبت ، یاد اور امن کے پیغام پر مبنی میڈیا پر سامنے آنے لگی عملی طور پر ایک وطن پرست اور محب وطن ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ وطن بدر ہوگیا ہے
    پچھلے سال ان کے لنڈیکس والے گھر پر کام کرنی والی خاتون کے لیے انہوں نے میرے نام پر کچھ امدادی رقم بجھوائی جو بینک کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے نکالے گیے اور پھر مجھے ایف آئی اے سے انکوائری کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

    مجھے کہا گیا کہ میرا نام کا اضافہ پہلے سے موجود مالی امداد لینے والوں کی فہرست میں ہوگیا ہے اور کہ میرا ضیاء الدین کے ساتھ کیا رشتہ ہے میں نے بتایا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ امداد میرے توسط سے ایک پرانی جاننے والی بزرگ خاتون کو بھجوائی ہے جو میں نے اسی دن ادا کر دی تھی اور بینک سے کئی مہینے بعد وصول کی ۔ بڑی مشکل سے ثبوتوں اور گواہیوں کے بعد یقین دلایا ہم نے ضیاء الدین یوسفزئی کو تسلیم نہیں کیا ان معنوں میں ہرگز نہیں جس کا وہ حق رکھتا تھا ۔

    ہم نے باچا خان کو تسلیم نہیں کیا، ہم نے بھگت سنگھ کی آذادی کی تحریک کا مذہب جائزہ لیکر مسترد کیا۔ ہم زمینی حقائق کے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ نیا کچھ نہیں کیا ۔۔
    دنیا بھر کے آذاد و مہذب ممالک نے ان کے سامنے سر نگوں کیے ۔ ضیاء الدین یوسفزئی آج بھی طالبان حاکمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی کے دن گن رہا ہے وہ شاید واحد موثر آواز ہے جو بلند ہے
    بے انصافی ، دہشت گردی ، لاقانونیت اور ریاستی عدم تعاون کے خلاف ، ریاستی نظر اندازی اور سرد مہری کے خلاف، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مجھے یقین ہے ضیاء الدین یوسفزئی تاریخ میں صحیح سمت کھڑا ہے وہ مختلف قسم کی جدوجہد میں ہے جس میں باچا خان، بھگت سنگھ ، رابندرناتھ ٹیگور ، مولانا عبیداللہ سندھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی مشترکہ جھلک نظر آتی ہے ۔

  • ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    آج سے 3 سال قبل کرونائی وباء کے خوفناک موسم میں 70 سالہ اداکارہ ثمینہ احمد اور اتنی ہی عمر کے اداکار منظر صہبائی نے ایسی عمر میں نکاح کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس عمر میں زیادہ تر لوگ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے . سچ تو یہ ہے کہ اس عمر میں ساتھی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے اکثر لوگ دوبارہ شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے . ثمینہ احمد کی پہلی شادی مشہور پاکستانی فلم ڈائریکٹر فرید احمد کے ساتھ ہوئی تھی لیکن کچھ سال بعد ان کے پہلے شوہر نے انھیں چھوڑ کر اداکارہ شمیم آرا سے نکاح کر لیا تھا . ثمینہ احمد نے اپنے دونوں بچوں کو اکیلے پالا اور مثالی زندگی گزاری .

    منظر صہبائی اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ بہت سالوں تک جرمنی میں رہائش پذیر تھے . کچھ سال پہلے ان کی بیوی کی وفات ہو گئی . ثمینہ احمد اور منظر صہبائی دھوپ کی دیوار کے سیٹ پر پہلی بار ملے . یہ اس ڈرامے میں میاں بیوی کا کردار نبھا رہے تھے . دونوں کی اچھی دوستی ہو گئی اور یہ دوستی جلد ہی پیار میں بدل گئی . منظر صہبائی نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ثمینہ احمد کو شادی کی پیشکش کی جسے سن کر انھے اچھا تو لگا لیکن ان کے لئے یہ قدم اٹھانا آسان نہیں تھا . دونوں کے بچوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس طرح ان کا نکا ح ہو گیا . منظر صہبائی اور ثمینہ احمد کی ہنستی مسکراتی زندگی سے صاف ظاہر ہے کے اگر بہترین شریک حیات مل جائے تو انسان کسی بھی عمر میں ایک بار پھر سے جی اٹھتا ہے . جس طرح لوگوں نے ان کو بے انتہا پیار دیا اس سے بھی صاف ظاہر ہے کے پاکستانی معاشرہ میں ایسے رشتوں کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے .

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کا کہنا ہے کے کسی کے ساتھ کسی بھی عمر میں پیار ہونا فطری عمل ہے اور جب ایسا ہو تو اس شخص کو زندگی کا حصّہ بنا لینا چا ہیئے یہ سوچے بغیر کے لوگ کیا کہیں گے .

  • وارث لدھیانوی

    وارث لدھیانوی

    دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا
    دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے

    وارث لدھیانوی

    اصل نام: چوہدری محمد اسماعیل

    پیدائش:11 اپریل 1928ء
    لدھیانہ، پنجاب
    (برطانوی ہندوستان)
    وفات:05 ستمبر 1992ء
    لاہور، پاکستان
    قلمی نام:وارث لدھیانوی
    زبان:پنجابی
    نسل:پنجابی
    شہریت:پاکستانی
    اصناف:فلمی نغمہ نگاری
    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔
    دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا نغمہ
    دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (نغمہ)
    جھانجھریا پہنا دو، بندیا بھی چمکا دو (نغمہ)
    باریں برسیں کھٹن گیا سیں (نغمہ)

    وارث لدھیانوی (پیدائش: 11 اپریل، 1928ء – وفات: 5 ستمبر، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے شاعر اور فلمی نغمہ نگار ہیں جو اپنے گیتوں دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا ، باریں برسیں کھٹن گیا سیں اور دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    وارث لدھیانوی 11 اپریل، 1928ء کو لدھیانہ، پنجاب (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام چوہدری محمد اسماعیل تھا۔ ابتدا میں عاجز تخلص کرتے تھے پھر استاد دامن کے شاگرد ہوئے اور وارث تخلص کر لیا۔ ابتدا میں وہ محکمہ ریلوے میں کلرک تھے۔ بعد ازاں نوکری چھوڑ کر فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔
    وارث لدھیانوی نے لاتعداد پنجابی فلموں کے نغمات تحریر کیے جن میں کرتار سنگھ، مکھڑا، رنگیلا، دو رنگیلے، باوجی، شیر خان اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔
    مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    شہری بابو
    کرتار سنگھ
    رنگیلا
    دو رنگیلے
    باؤجی
    شیر خان
    شعلے
    مکھڑا
    انوکھا داج
    ہیر
    ہیر سیال
    پہلا وار
    ڈاکو راج
    ضدی
    مشہور نغمات

    اساں جان کے میت لئی اکھ وے (ہیر)
    دلا ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (مکھڑا)
    پہلی واری اج اوہناں اکھیاں نیں تکیا
    ایہو جیہا تکیا کہ ہائے مار سٹیا(ٹھاہ)
    آسینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے (ٹھاہ)
    نی چنبے دیے بند کلیئے (پہلا وار)
    دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا (کرتار سنگھ)
    باریں برسیں کھٹن گیا سیں (کرتار سنگھ)
    جھانجھریا پہنا دو، بندیا بھی چمکا دو (شیر خان)
    سانوں وی لے چل نال وے
    بائو سوہنی گڈی والیا (باؤجی)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    وارث لدھیانوی 05 ستمبر 1992ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔

  • حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    صدیوں پہ تھے محیط جو اوصاف انبیاء
    حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    شاہد نقوی

    11 اپریل 1916 یوم ولادت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو ادب میں سلام ، نوحہ ، مرثیہ اور منقبت کے حوالے سے ایک بہت بڑے شاعر سید کلیم آل عبا شاہد نقوی 11 اپریل 1916 میں اتر پردیش ہندستان کے شکار پور شہر میں سید فدا علی اور نور جہاں بیگم کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے کراچی پاکستان میں آباد ہو گئے۔ شاعری انہوں نے ہندوستان میں ہی شروع کر دی تھی وہ ابتدا میں غزل گو شاعر تھے اور وہاں ہونے والے مشاعروں میں اکثر غزل ہی پڑھا کرتے تھے مگر پاکستان آنے کے بعد انہوں نے غزلیہ شاعری کی بجائے نوحہ اور مرثیہ گوئی پر اپنی تمام تر توجہ اور دلچسپی مرکوز کر دی مجالس عزا اور پی ٹی وی وغیرہ میں وہ پیش پیش رہتے تھے ۔ پاکستان میں وہ مرثیہ گو شعراء کی فہرست میں صفحہ اول میں شمار ہوتے تھے ۔ شاہد نقوی صاحب کے ایک بھائی عابد حشری اور قریبی عزیز سجاد احمد رزمی بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ شاہد نقوی کی اولاد میں کل 13 بچے تھے ان کے بیٹے شکیل احند نقوی اور صاحبزادی سیدہ نرگس حیات ہیں اور ماشاء الله سیدہ نرگس صاحبہ اردو کی مشہور و معروف شاعرہ ہیں جو کہ نرگس رضا کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان کا خاندان کہکشاں انچولی کراچی میں آباد ہے۔ جوش ملیح آبادی ،فیض احمد فیض اور طالب جوہری صاحب شاہد نقوی کے ہمعصر شعرا اور ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے ۔ سید شاہد نقوی کو کلیم آل عبا کا خطاب علامہ طالب جوہری نے دیا تھا کراچی ، جام شورو اور لاہور کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں ان کی شاعری کا حوالہ دیا گیا ہے. جبکہ ایف سی کالج لاہور کی ایک طالبہ صبغہ فاروق نے شاہد نقوی کے فن اور شخصیت پر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر آغا سہیل کی نگرانی میں ایم اے اردو کیلیے تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے 10 جولائی 2011 میں شاہد نقوی صاحب کی کراچی میں وفات ہوئی۔

    کلیم آل عبا شاہد نقوی کی تصانیف

    1 صراط سلسبیل 2 نفس مطمئن 3 کرب جاوداں 4 رومال زہرا 5 ضمیر مصلوب 6 حصار حرم زیارت ناحیہ کا منظوم ترجمہ 7 حدیث کسا منظوم 8 والعصر

    چند منتخب قطعات

    صدیوں پہ تھے محیط جو اوصاف انبیاء
    حق نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    پتہ چلا کہ ہمیں ہیں حسین کے غم تک
    سمجھ رہے تھے کہ ہم تک حسین کا غم ہے

    ہیں گود میں حسن کو پیمبر لیے ہوئے
    یعنی جواب طعنہ ابتر لیے ہوئے

    اے معنی مولا میں الجھنے والو
    جو تم بن نہیں سکتے وہ مولا ہیں علی

  • پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    ایک طرف پوری قوم آئینی ڈرامہ کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کسمپرسی کی حالت گزار رہے ہیں. ایک اندازے کے مطابق تقریبا دس ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ جو پانی دستیاب ہے اس سے پھیلنے والی بیماریاں اموات کا باعث بن رہی ہیں۔ جیسے کہ ملیریا اور ہیضہ سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔

    اسی طرح خوراک کی کمی سے غذائی قلت پیدا ہو رہی ہے اور ریکارڈ کی جانے والی اموات کی تعداد تقریباً 1,739 ہوچکی ہیں اور زیادہ تر اموات ایسی ہیں غیر محفوط ماحول کے پیش نظر ہوئی ہیں. الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو سیلاب سے پہلے بھی کوئی خاص پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں تھی جبکہ جو پانی کا دستیاب نظام موجود تھا اسے بھی سیلاب نے بری طرح نقصان پہنچایا دیا۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے پاس بیماریوں سے متاثرہ پانی پینے اوراسے استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے.

    یونیسیف پاکستان نے 20 مارچ 2023 کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "پاکستان میں سیلاب کے 6 ماہ بعد، 9.6 ملین بچوں کو اب بھی زندگی بچانے والی امداد کی ضرورت ہے۔ ہمیں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے اور بیت الخلاء کی تعمیر سمیت متاثرین کو صفائی کی اہم خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے عطیہ دہندگان کا مسلسل تعاون درکار ہے کیونکہ اس سب کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ تاہم ڈونر ایجنسی کے مطابق اب تک امداد کی نصف سے بھی کم ضرورت پوری ہوئی ہے.

    جبکہ سب سے پہلے ان ضروری معاملات کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے اور اسکے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرنا، بھی لازمی تاکہ لوگوں پر پڑنے والے پیچیدہ منفی اقتصادی اثرات سے بھی بچا جا سکے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق صرف تنظیم نو کی لاگت 16.3 بلین ڈالر ہے جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں بحالی اور تعمیر نو کا فریم ورک (4RF) معاش اور زراعت کی بحالی سمیت نجی مکانات کی تعمیر نو اور سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی شامل ہے.

    واضح رہے کہ سیلاب سے متاثرہ اکثر آبادی خوراک، کپڑے سمیت بنیادی سہولیات اور سروں پر چھت سے محروم ہے جبکہ بنیادی ادویات کی بھی کمی ہے جیسے تیز بخار پر قابو پانے کے لیے اینٹی پائریٹک گولیاں وغیرہ شامل ہیں علاوہ ازیں بچوں میں غذائیت کی کمی کے ساتھ صحت کے مسائل جیسے سستی اور کمزوری وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔

  • اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

    اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

    اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں
    اپنی بدبختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں

    دوارکا داس شعلہ

    10؍اپریل 1983 یوم وفات

    نام #لالہدوارکاداس اور تخلص #شعلہؔ تھا۔
    13؍اگست 1910ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور کے ایک عوامی مدرسے میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد معروف طبیب تھے جن کا دواخانہ انارکلی بازار لاہور میں تھا۔ پڑھائی میں دل نہ لگنے کی وجہ سے ان کے والد نے انھیں اپنے دواخانہ میں شیشی دھونے اور ہاتھ بٹانے کے لیے رکھ لیا۔ اسی دوران انھیں شاعری کا شوق پیدا ہوا، مشورۂ سخن ابوالاثر حفیظؔ جالندهری صاحب سے کرتے رہے۔ 1947ء میں تقسیم ہند بعد اپنے کنبے کے ساتھ دہلی چلے آئے۔ عمر آخر تک دہلی ہی آپ کا مسکن رہا۔
    دوارکا داس شعلہؔ نے 10؍اپریل 1983ء کو دہلی میں وفات پائی۔
    #بحوالہ ریختہ ڈاٹ_کام

    منتخب غزلیں

    اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد
    وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد

    کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا
    وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد

    ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت
    گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد

    محشر میں بھی ہم تیری شکایت نہ کریں گے
    آ جائے گی اس دن بھی ہمیں شرط وفا یاد

    اللہ ترا شکر کہ امید کرم ہے
    اللہ ترا شکر کہ اس نے بھی کیا یاد

    کل تک ترے باعث میں اسے بھولا ہوا تھا
    کیوں آنے لگا پھر سے مجھے آج خدا یاد

    ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے
    نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے

    اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو
    دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے

    شب فراق ہے شمع امید لے آؤ
    کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    کہاں ہیں ساقی‌ و مطرب کہاں ہے پیر حرم
    کہاں ہیں سب یہ بلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    کہاں ہو میکدے والو ذرا ادھر آؤ
    ہمیں بھی آج پلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    نہیں کچھ اور جو ممکن تو یار شعلہؔ کی
    کوئی غزل ہی سناؤ کہ غم کی رات کٹے

    ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں
    اپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں

    تیری معصومی کے صدقے میری محرومی کی خیر
    اے کہ تجھ کو صورت آرام جاں سمجھا تھا میں

    دشمن دل دشمن دیں دشمن ہوش و حواس
    ہائے کس نا مہرباں کو مہرباں سمجھا تھا میں

    دوست کا در آ گیا تو خود بخود جھکنے لگی
    جس جبیں کو بے نیاز آستاں سمجھا تھا میں

    قافلے کا قافلہ ہی راہ میں گم کر دیا
    تجھ کو تو ظالم دلیل رہرواں سمجھا تھا میں

    میرے دل میں آ کے بیٹھے اور یہیں کے ہو گئے
    آپ کو تو یوسف بے کارواں سمجھا تھا میں

    اک دروغ مصلحت آمیز تھا تیرا سلوک
    یہ حقیقت تھی مگر یہ بھی کہاں سمجھا تھا میں

    زندگی انعام قدرت ہی سہی لیکن اسے
    کیا غلط سمجھا اگر یار گراں سمجھا تھا میں

    پھیر تھا قسمت کا وہ چکر تھا میرے پاؤں کا
    جس کو شعلہؔ گردش ہفت آسماں سمجھا تھا میں

  • میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    یہ لوگ کیوں میری آنکھوں کو دیکھتے ہیں بتا
    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    کرن وقار

    یوم وفات : 10 اپریل 2021ء

    اردو اور پنجابی کی معتوف شاعرہ اور کالم نگار کرن وقار 1987 میں اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ شاعری اور اخبارات کے لیے کالم لکھتی رہیں ۔ 10 اپریل 2021 کو34 سال کی عمر میں لاہور کے ایک ہسپتال میں کورونا کے سبب انتقال کر گئیں۔ ان کی دو سالہ اکلوتی بیٹی آئمہ یتیم ہو گئی۔ جبکہ کرن صاحبہ کی وفات سےقبل ایک ماہ کے دوران ان کی والدہ اور ان کے ایک بھائی بھی کورونا میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات بھر انتظار کرتی رہی
    میں ستارے شمار کرتی رہی

    یاد آتی رہی تری ہر پل
    اور مجھے بے قرار کرتی رہی

    میں وہ لڑکی ہوں جو محبت پر
    سارے جذبے نثار کرتی رہی

    اس نے دھوکے دیئے مجھے ہر بار
    اور میں اعتبار کرتی رہی

    دل کے بہلانے کو خزاں رت میں
    ذکرِ فصلِ بہار کرتی رہی

    جس کو آنا تھا وہ آچکا کرن
    خود کو میں یونہی خوار کرتی رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیڑ جو باثمر نہیں ہوتا
    وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا

    دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے
    بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا

    مجھ کو منزل کبھی نہیں ملتی
    تو اگر ہم سفر نہیں ہوتا

    ایک در سے جو لو لگاتا ہے
    وہ بھی دربدر نہیں ہوتا

    زخم سب کو بھلا دکھائیں کیوں
    ‘ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا

    میں کرن بس خدا سے ڈرتی ہوں
    مجھ کو لوگوں سے ڈر نہیں ہوتا

  • در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    یہ بات تقریباً سبھی لوگوں کے علم میں ہوگی کہ روٹی، کپڑا، مکان ہر باشندۀ ریاست کا بنیادی حق ہے اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ یہ حق مستحق کو بلا لحاظ رنگ و نسل، بلا تفریق مذہب و مسلک فراہم کرے۔
    مختلف حکومتیں اپنی اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے، اور عوام کو سہولت کے ساتھ ضروریات پورا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کونسی حکومت اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرچکی ہے اور کونسی نہیں، اور کونسی اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات کررہی ہے۔ عصر حاضر میں مہنگائی کے لہر سے بہت سے ممالک دوچار ہیں جن میں پاکستان کا نام بھی سر فہرست ہے، جہاں آئے روز مہنگائی اور گرانفروشی کی شرح اوپر جارہی ہے، مہنگائی کی حالیہ طوفانی لہر نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لوگ فاقوں پہ مجبور ہیں، غریب تو غریب متوسط طبقہ بھی ان حالات کو برداشت نہیں کرسکتا، اگر کوئی گرانفروشی کے خلاف آواز اٹھائے تو اس پر کوئی کان نہیں دھرتا۔ اشیائے خورد و نوش اور دیگر اشیائے ضرورت کے قیمتوں میں ظالمانہ اضافے کے وجہ سے ایک عام مزدور اسکا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، لیکن ہر کوئی مجبوری کے سبب حتی الوسع کوشش میں ہے کہ وہ اپنا اور اپنے پیاروں کے پیٹ پالنے کے لیے کوئی اقدام کرے۔ حکومت پاکستان نے عوام کے لیے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے حکم پر رمضان پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عوام کو مفت آٹا ملے گا، اور اس حکمنامے پر باقاعده عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ لیکن حکومت نے اس کے لیے کوئی پلان نہیں بنایا کہ یہ آٹا کس طریقہ کار سے تقسیم کیا جائے گا؟ اور کون کون اس پیکیج سے مستفید ہونگے؟
    اور اسی لیے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کے دیگر بہت سی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی بدنظمی اور افراتفری کا شکار ہے۔ جہاں بھی آٹا فراہم کرنے کی سہولت ہے وہاں ایک ہلچل مچا ہوا ہے، آٹے کے غیرمنصفانہ تقسیم پر عوام میں بھگدڑ شروع ہے، شہریوں نے آٹے کے ٹرکوں پر ایک ہنگامہ آرائی برپا کی ہے، ہر کوئی اپنا اور اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے مسابقہ میں ہے۔ مہنگائی کے آگ میں جھلسے شہری سارا دن آٹا حاصل کرنے کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، کیونکہ پیٹ کی ضرورت تو کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں اور نہ یہ صرف غریب باشندوں کی ضرورت ہے۔ ایک فرد کے پیچھے اہل و عیال بھوک سے نڈھال رہے ہوتے ہیں تو اس کے پاس یہ سب برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سارا دن جھگڑوں پہ جھگڑے ہوتے ہیں، کئی قیمتی زندگیاں بھی فنا ہوئے، جس روٹی کے لیے قیمتی جان کھونا پڑے وہ مفت نہیں بلکہ بہت مہنگی ہے۔

    بظاہر تو یہ پیکیج غریب اور کمزور شہریوں کے لیے ہے لیکن کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ اپنے مستحقوں کو پہنچ رہا ہے، کیونکہ غریب تو غریب ساتھ میں گزار حال طبقہ بھی اس پیکیج سے بھرپور مستفید ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ نظم و نسق نہ ہونے کے وجہ سے مضبوط اور طاقتور لوگ آسانی سے آٹے کے دو تین تھیلے حاصل کرکے خوشی سے واپس جاتے ہیں، لیکن کمزور افراد اور خواتین سارا دن دھکے پہ دھکے کھا کر مایوس گھر لوٹتے ہیں۔ آٹے کے لائنوں میں بدنظمی کی صورتحال یہ ہے کہ رمضان کے مبارک مہینے میں ہر روز جھگڑے ہوتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ نظم و نسق کے عدم موجودگی کے وجہ سے صورتحال انتہائی دل خراش ہے۔
    در اصل انسانی ضروریات میں آٹا انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ اگر روٹی ہو تو کوئی اس کو سالن، چٹنی، اچار حتی کہ سادہ پانی کے ساتھ بھی کھا سکتا ہے، لیکن اگر آٹا نہ ہو تو سالن وغیرہ اکیلے بھوک کا سامان مهیا نہیں کرسکتے۔

    بدقسمتی سے پاکستانی حکومت آٹے کے تقسیم کے اہم مسئلے کے حل میں ناکامی یا لاپروائی کا شکار ہوئی، اور بجائے اس کے کہ کوئی بہتر نظم و نسق کے ذریعے یہ آٹا مستحق افراد میں تقسیم کرتی تا کہ ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہتی اور ضرورت بھی پوری ہوجاتی۔ لیکن معاملہ برعکس ہوا اور حکومتی نظم نہ ہونے کے سبب آٹے کے گاڑیوں پر عوام کا سیلاب امڈ آیا، کیا مزدور و کیا ملازم! کیا فقیر و کیا آسودہ حال! کیا مرد و کیا عورت! سب کے سب دوڑ پڑے، اور آٹے کے تھیلی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں نظر آئے۔ پاکستان کا حکمران اور بیوروکریٹ طبقہ اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے حویلیوں میں آرام فرما ہے، لیکن ریاست کے غریب مائیں آٹے کے لائنوں میں کھلے آسماں کے تحت بارش کے قطروں میں بھیگ رہی ہیں، ریاست کا مزدور طبقہ اپنے حق دار ہونے یا نہ ہونے کےلیے لائنوں میں کھڑا انتظار کر رہا ہے، اور دن کے اختتام پر اسے نا امید لوٹنا پڑتا ہے۔ اور مجال ہے کہ کسی حکومتی اہلکار کی آنکھ کھلے اور اس طرف توجہ کرے، اور کوئی نظم و نسق وضع کرے! وزیر اعظم کی طرف سے اس کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت تو دی جاتی ہے لیکن نظم و ضبط کے لیے کوئی اقدام نہیں کی جاتی۔ آٹا سنٹر میں جو ذمہ داران بیٹھے ہیں انکی بھی اپنی من مانی ہے، جسے چاہے پہلے آٹا دے اور جسے چاہے اسے آخر میں کھڑا کردیتے ہیں۔ اگر آپ آٹا سنٹر کے ذمہ داران کے رشتہ داروں اور تعلق داروں سے ہے تو آپ خوش بخت ہے کیونکہ وہ آپ کو پہلے آٹا دیتے ہیں اگر چہ آپ تاخیر سے کیوں نہ آئے ہو۔ لیکن اگر سنٹر کے ذمہ داران سے آپ کا کوئی تعلق نہیں، آپ ایک عام شہری ہے تو پھر آپ کا خدا سہارا ہو کیونکہ پھر آپ کو کوئی بھی توجہ نہیں دے گا، لائن میں کھڑے تھکا دینے والے انتظار کے بعد جب آپ کی باری آئے گی تو آپ کو نا اہل یا آٹا ختم ہونے کا کہہ کر واپس کیا جاتا ہے۔ یہ فقط میرے جذبات نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، اور یہی حال ہر آٹا سنٹر پر آپ دیکھیں گے، یہ ریاست کا اس اہم منصوبے کے لیے نظم و ضبط نہ ہونے کا وجہ ہے۔ پاکستان میں مردم شماری، پولیو، یا دیگر منصوبوں کے لیے گھر گھر گھومنے والے اہلکار بمع سیکیورٹی تو موجود ہیں لیکن آٹے کے تقسیم کے اس اہم پیکیج کے لیے حکومت کے پاس قحط الرجال ہے، علاج وغیرہ کے بغیر بھی انسان کے زندہ رہنے کی امید ہے لیکن روٹی کے بغیر انسان بالاخر مر ہی جاتا ہے۔ لیکن افسوس اس اہم منصوبے کی نظم و ضبط میں حکومت ناکام اور لاپرواہ رہی۔ اگر اب بھی حکومت نے اس پیکیج کے لیے کوئی نظم وضع نہیں کی تو آٹے کے غیر منصفانہ تقسیم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا، اور اس سے وہ لوگ مستفید ہونگے جو پہلے ہی سے گزار حال اور آسودہ حال ہیں، اور مستحق اور حق دار لوگ محروم رہیں گے اور حکومت کے اس افراتفری کے شکار منصوبے کے وجہ سے ذلیل و خوار ہو کر مریں گے اور انکی لاشیں بزبان حال گویا ہوگی؂
    بظاہر روٹی تو ہم نے کھانی تھی
    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو

  • نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    گستاخی معاف/ محبوب علی مگسی

    بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے عوام کی اکثریت تو خوش نصیب ہے کہ وہ قبائلی سرداروں ، نوابوں،پیروں اور گدی نشینوں کی دسترس سے باہر ہیں لیکن اس کے باوجود ایک کثیر تعداد قبائلی سرداروں، نوابوں، پیروں اور گدی نشینوں کے شکنجے میں کسے ہوئے ہے وہ اپنے سرداروں اور مرشدوں سے دور ہوتے ہوئے بھی ان کی رینج میں ہیں ۔ ایسے افراد پر اس وقت ایک طرح کی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے جب بلدیاتی یا عام انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ ضلع نصیر آباد میں جو قبائلی سردار یا سید آباد ہیں وہ اس سوچ کے حامل نہیں یا پھر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کو زبردستی بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ان سے اپنی مرضی کے مطابق ووٹ حاصل کریں یا انہیں ووٹ دلانے کیلئے فروخت کریں مگر نصیر آباد سے باہر چند ایک ایسے بلوچ سردار اور کچھ گدی نشین ہیں جو کہ دور رہ کر بھی اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدوں کو اپنے حکم کے مطابق چلانے کی قوت اور طاقت رکھتے ہیں ۔

    ان کی ایک کال یا ایک پیغام پر ان کے قبیلے کے افراد اور مریدین اپنا ووٹ ان کے قدموں میں ڈال دیتے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں ایسے بہت کم افراد ہیں جو کہ اپنے سرداروں اور اپنے پیر و مرشد کے ناجائز احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے ضمیر اور اپنی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ سرداروں کے گن پوائنٹ اور گدی نشینوں کی بد دعا سے ڈرتے ہیں ۔