Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پورے چاند کے دوران خود کشیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے. تحقیق

    پورے چاند کے دوران خود کشیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے. تحقیق

    پورے چاند کے دوران خود کشیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے. تحقیق

    ماضی میں عام تاثر تھا کہ پورا چاند انسانوں سمیت جانوروں پر اثرات مرتب کرتا ہے اور بسا اوقات ان میں پراسرار تبدیلیوں کا مؤجب بھی بنتا ہے لیکن اب حالیہ تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف کیا گیا ہے کہ پورا چاند انسانوں میں خودکشیوں کے رحجان میں اضافہ کرتا ہے۔

    انسانی صحت کے متعلق معروف و مؤقر جریدے ’ڈسکور مینٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق پورے چاند کے ہفتے کے دوران خودکشی سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور 55 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ رحجان بڑھتا ہوا نوٹ ہوا۔

    انڈیانا یونیورسٹی میں کالج آف میڈیسن کے ماہر نفسیات نے معلومات کی مانیٹرنگ اور تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پورے چاند کے دوران خود کشیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے، اس مقصد کے لیے ماہرین نے دن اور مہینوں کا ریکارڈ بھی مرتب کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خود کشیوں کا رجحان دوپہر 3 سے 4 بجے کے درمیان بڑھ جاتا ہے، گوکہ اس کا تعلق دن بھر کے ذہنی دباؤ سے ہوسکتا ہے۔

    طبی تحقیقی جریدے میں شائع شدہ رپورٹ کے تحت ڈاکٹر الیگزینڈر نکولیسکو اور ان کی ٹیم کی جانب سے انڈیانا میں ماریون کاؤنٹی کورونر آفس سے 2012 اور 2016 کے عرصے کے دوران ہونے والی خودکشیوں کا ڈیٹا حاصل کرکے اس کی جانچ کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    ڈاکٹر الیگزینڈر کے مطابق ہم اس مفروضے کا تجزیہ کرنا چاہتے تھے کہ پورے چاند کے قریب خودکشیوں میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں؟ تاکہ اس بات کا تعین کرسکیں کہ ان اوقات میں زیادہ خطرناک مریضوں کی زیادہ دیکھ بھال پر توجہ دیں۔تحقیق کے مطابق ڈاکٹر الیگزینڈر نیکولیسکو نے کہا کہ خودکشی کے لیے خون کے بائیو مارکر کی فہرست کی جانچ کی گئی. خودکشی کے بائیو مارکر پورے چاند کے دوران خود کشی کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔

  • کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ،تجزیہ، شہزاد قریشی
    ایک دوسرے سے خوفزدہ حکمرانوں اور اپوزیشن سے سوال ہے کہ پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس نہ تو حکمرانوں کے ذاتی ملازم ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کے۔ اسی طرح آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب سے گزارش ہے کہ وہ اس ریاست کے ملازم ہیں ۔قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ،شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا۔ چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا، اغوا کاروں، منشیات فروشوں سے عوام کو محفوظ کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ کر حکمرانوں کی غلامی زیب نہیں دیتی بااختیار پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے محکمے اپنے عہدوں کا خدارا خیال رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام کی خدمت کریں۔ آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم نظر کیوں نہیں آتے؟ یہی صورت راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح کی اس سے بدتر حالات پنجاب بھر کے ہیں۔ اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کی تمام تر توجہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ، غداری اور دہشت گردی کے مقدمات پر ہوگی تو عام شہریوں، تاجروں، کو تحفظ کون فراہم کرے گا؟ راولپنڈی اسلام آباد میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا ایسے پولیس افسران تعینات تھے جو قانون کی حکمرانی، کمزور لوگوں کے افسر تھے جن کے دفاتر عام آدمیوں کے لئے کھلے رہتے تھے آج عام آدمی کے لئے دروازے بند اور خاص آدمیوں کے لئے دروازے کھلے ہیں آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے پاس اس سوال کا جواب ہے کہ ان کے پاس جو وردی اور اختیارات ہیں وہ کسی خاص آدمی کی عطا کردہ ہے یا اس ریاست کی؟ خدا کی پناہ آج اسلام آباد کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی حکومت کو اور نہ ہی آئی جی پولیس کو اس کی پرواہ ہے۔ حکمرانوں کی خواہشوں پر عمل کرنا عوام کو ڈاکوئوں ، اغوا کاروں، لینڈ مافیا، قبضہ مافیا کے سپرد کرنا پولیس افسران کو زیب نہیں وردی اور عہدے دونوں کی توہین کے مترادف ہے ہر دور کے حکمرانوں کو افسر شاہی کی ضرورت ہوتی رہی ہے انہیں ایسے افسروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حکم کے تابع ہو اور کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہ کرے۔

    حکمرانوں کے پاس ان افسران کی پوسٹنگ کے اختیارات ہیں۔ کاش پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے ماتحت اہلکاروں اور اپنے محکمہ کے بہتر مستقبل اس محکمہ پولیس کی عزت میں اضافے کا سبب بنتے آنے والے افسران اور ماتحت ان کو یاد کرتے۔ آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

  • صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    لمحوں میں انہیں وقت کی سازش نے گرایا
    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صادقہ نواب سحر

    8 اپریل 1959 یوم پیدائش
    ۔……………………….

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس، ناول نگار ، ڈرامہ رائٹر اور ماہر تعلیم صادقہ نواب سحر 8 اپریل 1959 میں گنٹور(آندھرا پردیش) میں پیدا ہوئیں ۔انھوں نے اردو میں ایم اے اورپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بلکہ ہندی اور انگریزی میں بھی ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں ۔اردو ادب کی دنیا میں وہ ایک ناول نگار؛افسانہ نگار ؛شاعرہ؛ڈراما نگار؛تنقید نگار؛مترجم اور بچوں کی ادیبہ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ صادقہ نواب سحر کا اصل نام صادقہ آرا ہے ان کے والد کا نام خواجہ میاں شیخ اور شوہر کا نام محمد اسلم نواب ہے۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچرار کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے کے بعد کے ایم سی کالج کھپولی مہاراشٹر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے رٹائر ہوئیں۔ ان کے اردو شعری مجموعے ، ست رنگی، باوجود، چھوٹی سی یہ دھرتی، دریا کوئی سویا سا اردو افسانوی مجموعے، خلش بے نام سی، انگاروں کے پھول، بیچ ندی کا مچھیرا ، اردو ڈراموں کا مجموعہ ” مکھوٹو کے درمیان” ہندی افسانوی مجموعے ” منت” شیشے کا دروازہ ” شائع ہو چکے ہیں۔

    غزل

    تمہاری یاد میں ڈوبے کہاں کہاں سے گئے
    ہم اپنے آپ سے بچھڑے کہ سب جہاں سے گئے

    نئی زمین کی خواہش میں ہم تو نکلے تھے
    زمین کیسی یہاں ہم تو آسماں سے گئے

    زمانے بھر کو سمیٹا تھا اپنے دامن میں
    پلٹ کے دیکھا تو خود اپنے ہی مکاں سے گئے

    یہ کھوٹے سکے ہیں الفاظ اس صدی کی سنو
    یہ ان کا دور نہیں یہ تو اس جہاں سے گئے

    سحر فضول کی خواہش ہے زندگی جینا
    مرے تو لوگ نہ جانیں گے کس جہاں سے گئے

  • آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    پیدائش:08 اپریل 1966ء
    امرتسر
    شہریت:بھارت

    آنند مورتی گرو ماں ہندستان کی ایک روحانی رہنما جو توحید الہٰ کی داعیہ ہیں۔ ہندو، مسلم، بدھ، مسیحی، یہودی اور صوفیا سب کے یہاں گرو ماں کی باتیں احترام سے سنی جاتی ہیں۔ گرو ماں کی بیشتر تقریروں کا محور جنس، مذہب، سیاست اور قومیت ہوتا ہے۔
    گرو ماں کو جلال الدین رومی سے خصوصی مناسبت ہے اور ان کے فارسی اشعار کو ہندی زبان میں ترجمہ کرکے انہیں گایا کرتی ہیں۔
    تعلیمات
    ۔۔۔۔۔۔
    گرو ماں کی تعلیمات میں توحید الہٰ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ نیز وہ مراقبہ، یوگا، محاسبہ نفس اور اخلاص کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ تصوف، زین، تانتر اور یوگا میں مذکورہ مراقبہ نفس کے طریقوں کو بیان کرتی ہیں۔ گرو ماں شعور ذات کی اہمیت کی داعی ہیں نیز ان کا قول ہے کہ سالکین کو نفسانی خواہشوں اور مذہبی قیود سے آزاد رہنا چاہیے۔ انھیں کی وجہ سے سالکین کو روحانی تجربات سے محرومی ہوتی ہے۔
    آشرم
    ۔۔۔۔۔
    گرو ماں کا مرکزی آشرم سونی پت ضلع کے گنور شہر میں واقع ہے۔

  • جگر مراد آبادی

    جگر مراد آبادی

    جگر مرادآبادی

    6 اپریل 1890

    بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف. جگر آزاد طبیعت کے مالک اور حُسن پرست تھے۔ ان کا شمار اردو کے مقبول ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ جگر کو اپنے عہد وہ شہرت اور مقبولیت ملی جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوئی۔ اس میں ان کی رنگا رنگ شخصیت کے ساتھ ان کے رنگِ تغزّل اور ترنم کا بڑا دخل ہے۔ کئی شعرا نے جگر کا طرزِ شاعری اپنانے اور ان کے ترنّم کی نقل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس مقام و مرتبے کو نہ پہنچ سکے جو جگر کا خاصّہ تھا۔

    ًمختصر تعارف

    جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر تھا ۶ اپریل ۱۸۹۰ ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور مقامی مکتب میں ہوئی، جہاں اردو اور فارسی کے علاوہ عربی بھی سیکھی۔ رسمی تعلیم میں دھیان نہ تھا، سو اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ شاعری ورثے میں ملی تھی، کیوں کہ ان کے والد اور چچا شاعر تھے۔ جگر نے اصغر گونڈوی کی صحبت اختیار کی اور بعد میں شعروسخن کی دنیا میں نام و مقام بنایا جگر رندِ بلانوش تھے۔ ان کی زندگی اور شخصیت کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جنھیں بیان کرنا مناسب نہیں۔ تاہم جگر بہت مخلص، صاف گو اور ہمدرد انسان تھے۔ آخر عمر میں ترکِ مے نوشی کا انھیں خاص فائدہ نہ ہوا اور صحّت بگڑتی چلی گئی، مالی حالات دگرگوں ہوگئے اور جگر موت کے قریب ہوتے چلے گئے جگر مراد آبادی پاک و ہند کے مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔ انھیں دعوت دے کر بلایا جاتا اور منتظمین ان کی ناز برداری کرتے۔ جگر سامعین سے بے پناہ داد وصول کرتے۔ بھارتی حکومت نے انھیں ’’پدما بھوشن‘‘ خطاب دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ ان کے آخری مجموعہ کلام ’’آتِش گل‘‘ پر ان کو ’’ساہتیہ اکیڈمی‘‘ سے پانچ ہزار روپیہ انعام اور دو سو روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا تھا۔ ’آتش گل‘ کے علاوہ ’’داغ جگر‘‘ اور ’’شعلۂ طور‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ۹؍ستمبر ۱۹۶۰ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    جگر مرادآبادی کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
    فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
    میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
    کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
    کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
    یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محال
    انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
    ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیے
    گلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
    ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
    سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
    مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے.

  • یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    شہلا شہناز

    اصل نام : شہناز
    قلمی نام : شہلا شہناز
    تاریخ پیدائش:07 اپریل 1976ء
    جائےپیدائش: فیصل آباد
    رہائش : گوجرانوالہ
    تعلیم: ماسٹرز
    پیشہ : لیکچرار شپ
    ادب سے تعلق: بہت گہرا
    مشاغل : کتاب پڑھنا اور کری ایشنز
    پسندیدہ شاعر، ادیب: اقبال، پروین شاکر، مجید امجد
    پسندیدہ کتب:خوشبو۔ اور بھی بہت ہیں
    ادبی خدمات: کچھ پیپرز اور میگزینز میں
    کبھی کبھار لکھ لیتی ہوں آرٹیکلز
    پیغام :ادب سیکھیں اور سکھائیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں
    میں ترے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں
    پھول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں
    میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں
    تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو
    میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں
    جس جگہ مسندِ ہر سود پہ تم بیٹھے ہو
    میں وہاں کرسی نقصان بھی لا سکتی ہوں
    اے خلش مجھ کو تڑپنے کا کوئی شوق نہیں
    ورنہ جب چاہوں نمکدان بھی لا سکتی ہوں
    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    میں رنگ کو نہیں خوشبو کو پھول جانتی ہوں
    کہا تھا زخم سے تتلی نے مسکراتے ہوئے

    اس بار سمندر نے بلایا نہیں مجھ کو
    اس بار کسی دشت کی دعوت ہے مرے پاس

    کانچ کی چڑیا کس طرح اڑتی
    کشش چشمِ کوہسار میں تھی

    تم مرے ان دنوں کے ساتھی ہو
    جب میں بت جھڑ کے اعتبار میں تھی

    حرف کو پھول بنانے کا ہنر ہے مرے پاس
    تجھ کو لکھنے کے لیے رنگ دگر ہے مرے پاس

    ادھر گھمائیے اپنی ڈری ڈری آنکھیں
    حضور دشت کی جانب ذرہ ہرن کرئیے

    گلاب کی طرح مہکا چکے ہیں آپ مجھے
    جنابِ خار ذرا ٹھیک سے چبھن کرئیے

    وہ مجھ سے مجھ کو مانگتا رہتا ہے رات دن
    پر اس کی التماس میں طاقت تو ہے نہیں

  • چیٹ جی پی ٹی کےخلاف قانونی کارروائی اعلان

    چیٹ جی پی ٹی کےخلاف قانونی کارروائی اعلان

    سڈنی(ویب نیوز)آسٹریلیا کے میئر نے چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے غلط معلومات شیئر کرنے پر قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیاہے
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آسٹریلیا میں ہیپ برن شائر کونسل کے میئر برائن ہڈ نے اس حوالے سے کہا کہ اوپن اے آئی کے ٹول نے جھوٹا دعویٰ کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے نیشنل بینک کے لیے کام کرتے ہوئے رشوت وصول پر قید ہوئے تھے۔
    برائن ہڈ کا کہنا تھا کہ ان پر کبھی کسی جرم کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔ وکلا کے ذریعے اوپن اے آئی کو نوٹس بھیج دیا ہے اور یہ ہتک عزت کی کارروائی کا پہلا باضابطہ کوشش ہے۔آسٹریلوی میئر کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کا جواب دینے کے لیے 28 دن کا وقت ہے جس کے بعد برائن ہڈ قانون کے تحت کمپنی کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔
    یہ پہلی دفعہ ہو گا کہ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے تخلیق کردہ مواد پر ہتک عزت کا مقدمہ چلایا جائے گا۔

  • مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسرائیل کی پولیس نے بیت المقدس رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی کیا۔ عالمی دنیا اور مسلمان ممالک نے حسب معمول صدیوں سے مذمت کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ۔حیرت ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت صدیوں سے اقوام متحدہ سمیت عالم اسلام مذمت کرتا چلا آرہا ہے۔ مگر ظلم ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی سالوں سے فلسطینی شہریوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جو اسرائیلی فوجی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں عوام کی اکثریت نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے ان مظاہروں کا مقصد قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی نتین یاہو کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی عوام انصاف کے اصول کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

    ہزاروں اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں شہبازحکومت بھی عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جبکہ اپوزیشن شہباز حکومت کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے شہباز حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتی اصلاحات کر رہے ہیں نتین یاہو اور پاکستان کی موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہئے جو قومیں اپنے ممالک میں حقیقی جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا دنیا میں اسرائیل کا اس وقت تک خیر مقدم نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنائے گا جب تک اسرائیل غیر یہودیوں کے لئے بھی وہ معیار مقرر نہیں کرے گا جو یہودیوں کے لئے مقرر ہے۔

    پاکستان میں بلاشبہ ماضی میں آمریت کو تحفظ دیا گیا مگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سابق صدر (مرحوم) پرویز مشرف کو تحفظ دینے کا انکار کردیا پھر ججز کے ساتھ جو کچھ ہوا عالمی دنیا گواہ ہے ججز کے حق وکلا شہریوں اور سیاسی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں جس کی قیادت سیاسی جماعتوں نے کی تھی آج نوبت یہاں پہنچ چکی ہے کہ ایک مخلوط حکومت عدالتی احکامات ماننے سے انکاری ہے ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں پر تنقید سے شروع ہونے والا سلسلہ عدالتوں تک جا پہنچا جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،

  • معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    روز اک چھاؤں سی آ رکتی ہے دروازے پر
    کون ہے کب سے بلاتا ہے جو باہر مجھ کو
    رفعت ناہید

    معروف شاعرہ رفعت ناہید مختصر علالت کے بعد ملتان میں انتقال کر گئیں۔

    ان کے بیٹے سعد ظفر کا کہنا ہے کہ آج سحری کے وقت ان کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا، لیکن ہم انھیں بچا نہ سکے۔ رفعت ناہید معروف شاعر سعید ظفر اور نامور افسانہ نگار ،ماہر تعلیم اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کی رکن پروفیسر فرحت ظفر کی بہن تھیں

    سن ری چمیلی !!!
    میری سہیلی
    بڑی سیانی اور ہشیار
    تو نے میرا رنگ چرایا
    خوشبو میری ساری لے لی
    آ کے بیچ بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھے گفتگو میں مگن ہجر ،رات ، تنہائی

    سلام میں نے کیا ، خاندان چھوڑ دیا

    رفعت ناہید

  • شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی روس کے لیے ایک قابل ذکر جیت ہے لیکن یہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جبکہ ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی پالیسی نے سفارتی اڈے کو وسعت دینے کی طرف مائل کیا ہے جو اب تک امریکہ تک محدود تھا، جہاں تک سپر پاورز کی بات ہے وہ روس اور چین دونوں کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سرشار کوشش ہے۔ تاہم شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ بیجنگ کے قریب آنے کا واضح اقدام ہے۔

    صدر بائیڈن نے 2022 میں اپنے دورہ ریاض کے دوران ولی عہد کو ماسکو اور ریاض کے قریب جانے سے بچنے کے لیے اپنی رائے سے آگاہ کیا تھا تاہم یقینی طور پر واشنگٹن مندرجہ بالا پیش رفت پر خوش نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اہم سوال یہ ہوگا کہ کاموں میں اسپینر پھینکنے کے لیے امریکہ کتنا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ لیکن دوسری طرف واشنگٹن اسے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ سکتا ہے:

    جبکہ عرب ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ دوستانہ بنیادوں پر استوار کرنا اور دمشق کے ساتھ مضبوط قدم جمانا۔ شام میں امریکی افواج کے دستے کے پس منظر اور شام اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے پیش نظر، اسد کی حکومت کے ساتھ رابطے کا راستہ کھولنے کے لیے یہ یقینی طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت ایک حقیقت ہے.

    تاہم ریاض کو یہ سوال ضرور حل کرنا چاہیے کہ شام میں سفارت خانہ کھولنا امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں لیکن ریاض اس مقام سے دمشق کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کیسے آگے بڑھے گا؟ اسے احتیاط سے آگے بڑھنا ہو گا واشنگٹن کے لیے اسے لیٹا جانا مشکل ہو سکتا ہے جسے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو جگہ دینے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ امریکہ کے دوست عرب ممالک پر پابندیاں نہیں لگا سکتا تاہم جنگ زدہ شام پر واشنگٹن کے ایسا ہی کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے.

    علاوہ ازیں آگے بڑھنے کے طریقہ سے متعلق ریاض کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھے گا کہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے بڑھتے ہیں اور یمن میں جنگ بندی جاری ہے یا نہیں؟ لہذا اگر دونوں پیش رفت مثبت رہیں تو واشنگٹن پر ریاض کا انحصار کم ہو جائے گا لیکن جہاں تک بات امریکی سلامتی کی ضمانتوں کا تعلق ہے تو وہ جیسا کہ عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلی آرہی ہے وہ مشرقِ وسطیٰ ایک بلبلا کڑھائی ہے جو ان علاقوں میں نئے کھلاڑی قائم کرے گا جنہیں اب تک امریکی اثر و رسوخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔