Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معروف شاعر منور بدایونی

    معروف شاعر منور بدایونی

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے "منور” بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منوغزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔

  • بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    فاطمہ زکریا (تاریخ ولادت:17 فروری 1936ء،تاریخ وفات:06 اپریل 2021ء) ممبئی ٹائمز کی ایڈیٹر تھیں اور بعد میں ٹائمز آف انڈیا کی سنڈے ایڈیٹر ہوئیں۔ انھوں نے تاج ہوٹلز کے تاج میگزین کی ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

    مرحومہ فاطمہ زکریا ممبئی ٹائمز کی سابقہ ​​ایڈیٹر ، اور ٹائمز آف انڈیا کےسنڈے ایڈیشن ایڈیٹرکی بھی ایڈیٹر رہی تھیں۔ٹائمزآف انڈیا سے علحیدگی کے بعد فاطمہ زکریا تاج ہوٹل کے تاج میگزین کی ایڈیٹر بھی رہیں۔ ان کا دفتر ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں واقع تھا۔ڈاکٹر رفیق زکریا کے2004 میں انتقال کےچند سال فاطمہ زکریا تاریخی شہر اورنگ آباد مہاراشٹر منتقل ہوگئی تھیں جہاں ان کے مرحوم شوہر نے مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ قائم کیاتھا۔ یہ ان کا اسمبلی حلقہ تھا جہاں سے وہ کافی بار منتخب ہوئے اور ریاستی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فاطمہ زکریانے اورنگ آباد کے ان تعلیمی اداروں کو اس حد تک تبدیل کیا کہ ان کا موازنہ ایشیا کے بہترین مراکز تعلیم سے کیا جاسکے۔

    زکریا نے اورنگ آباد میں مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ کے کیمپس میں پہلا ریٹ فائیو اسٹار ہوٹل دی تاج ریذیڈنسی کے قیام کے لئے تاج گروپ آف ہوٹلوں میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کافی ٹیبل میگزین تاج کی ایڈیٹر بن گئیں۔ اس کے بعد ، انہوں نے ایک برٹش یونیورسٹی کے ساتھ اتحاد میں ایک ہوٹل مینجمنٹ کورس متعارف کرایا۔ اس کورس کو ہندوستان میں بہترین اور قابل احترام تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ اورنگ آباد کے بورڈ میں بھی رہیں۔وہ خود یالے یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھیں ،ایک میمن مسلم۔فیملی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زکریا کی پرورش کرافورڈ مارکیٹ جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں ہوئی تھی،لیکن انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوئیں۔

    سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ، شملہ کے خطوط پر ہائر لرننگ سنٹر قائم کرنے کے عمل میں ر ہیں۔ یہ جون 2010 سے کارآمد ہوا اور حقیقی علماء اور ماہرین تعلیم کو تحقیقی سرگرمیاں انجام دینے میں مدد فراہم کررہاہے، زکریا کو سیکولرسٹ سمجھا جاتا ہے ، تاہم وہ مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خصوصی خیال رکھتی تھیں۔انہیں ہندوستان حکومت نے 2006 میں پدما شری دیا تھا۔ مرحومہ فاطمہ زکریا مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ اور سوسائٹی کی بالترتیب چیئرپرسن اور صدر بھی تھیں،جبکہ مہاراشٹر کالج ممبئی کی صدر اور آل انڈیا خلافت کمیٹی اور بی ایڈ کالج کی بھی صدر نشین تھیں۔

  • گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    لنڈی کوتل کی گیارہ سالہ بچی نسرینہ (فرضی نام) اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے پاک افغان طورخم سرحد پر زمانے کی سختیاں جھیلتے ہوئے محنت مزدری کررہی ہے جوپل صراط سے کم نہیں ایک بم دھماکے میں والد کی وفات کے بعد خاندان کی کفالت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے زندگی بیت رہی ہے جس روزمزدری نہ ملے اس دن پورا خاندان فاقہ کرنے پر مجبورہوتا ہے۔

    پاک افغان بارڈر طورخم پر بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں محنت مزدوری کرتے ہوئے نظر اتے ہیں جس میں ہر ایک کی کہانی اپنی جگہ پر ایک منفرد اور انوکھی حیثیت رکھتی ہے جبکہ 11سالہ بچی نسرین (فرضی نام)کی کہانی کچھ الگ تھلگ ہے کیونکہ وہ محنت مزدری بھی کرتی ہے اور گھر کاکام کاج بھی ان کے ذمہ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ 2015 میں کابل میں ایک دھاکہ میں ان کا والد جاں بحق ہوگیا اس وقت ان کی عمر پانچ سال تھی تاہم میری ماں نے گھر چلانے کے لیے آستین چڑھالی اوروہ دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرکے پیٹ پالتی تھی میں بھی ان کے ساتھ جاتی تھی مگرآہستہآہستہ ماں کی صحت خراب ہورہی تھی اور ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کو دمہ کی بیماری قرار دیدیا اور یوں 2021میں میری ماں کی صحت جواب دے گئی اور میں نے طورخم سرحد پر سامان لیجانے اور لانے کی محنت مزدوری کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ ہمارے پاس دوسرا آپشن نہیں تھا۔

    وہ کہتی ہے کہ طورخم سرحد پار کرنا ان کے لیے جان جوکھوں کے کام سے کم نہیں ہے کیونکہ کبھی کبھی ہم سرحد پر تعینات اہلکار کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بھی بنتے ہیں جو بہت ازیت ناک ہوتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ دو لمحے ان کے لیے انتہائی دکھ درد بھری ہوتے ہیں ایک یہ کہ جس دن دیہاڑی نہ ملے اور دوسرا یہ کہ جب کمیشن کار انہیں وقت پر ان کو ان کی دیہاڑی کے پیسے نہ دے تو ایسی حالت میں گھر کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے جس سے ہمارے گھر میں فاقہ ہوتا ہے۔

    نسرین مزید کہتی ہے کہ محنت مشقت سے واپسی پر گھر کاکام بھی وہی کرتی ہے کیونکہ ان کی ماں بستر پر پڑی دمہ میں مبتلا مریضہ ہے کھانا بنانا، روٹی پکانا،برتن اور کپڑے دھونا،جھاڑو دینا ماں کو وقت پر دوائی دینا یہ سب ان کے ذمہ ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ جس دن ان کا والد دھماکہ کی زد میں آیا اس سے ایک ماہ پہلے ان کی ایک بہن پیدا ہوئی تھی جب کہ بہن سے ایک سال چھوٹاایک بھائی بھی ہے جن کی عمریں اب علی الترتیب 8اور 9سال کی بنتی ہیں تاہم وہ دونوں جسمانی طورپر معذور ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں اور نہ میری طرح کا کام کاج کا۔ وہ کہتی ہے کہ نو سال میں، میں نے بھی محنت مشقت شروع کی تھی اگر میری بہن جسمانی طورپر آج ٹھیک ہو تی تو وہ بھی میرے ساتھ کام پر جاتی اور میرا ہاتھ بٹاتا۔

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ بہت سی بچے گاڑیوں کے نچے اکر کچل گئے متعدد ذخمی ہوگئے ہیں دوسری طرف تشدد کے واقعات بھی اپ کے سامنے ہیں تو ایسے حالات میں اپ کو ڈر نہیں لگتی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ڈر کم، ڈر وہ بہت زیادہ ہے کہ جس دن میں گھر کچھ لے نہ جاوں ماں کے لیے دوائی کا بندوبست نہ کرو اس لیے میں نہیں ڈرتی۔وہ کہتی ہے کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے تاہم وہ ایک خواب ہوکر رہ گیا ہے آخر میں انہوں نے بہت آہ کے ساتھ کہا کہ کھیل کود کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔

    اس کے علاوہ رحیم گل (فرضی نام)کی ایک دس سالہ بیٹی بھی طورخم میں محنت مزدوری کرتی ہے جب ان کے والد سے پوچھا گیا کہ یہ بچی کے سکول جانے کا وقت ہے اپ کیوں اپنی بیٹی محنت مشقت کے لیے بھیجتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوں اگر میری یہ بیٹی کام پر نہ گئی تو ہمیں کھانے کو کچھ نہ ملے گااس کمر توڑ مہنگائی میں گھر کے اور بھی بہت سی ضروریات اور لوازمات ہیں جن کو پورا کرنا اسان کام نہیں ہے جب ان کی بیٹی قدسیہ (فرضی نام) سے پوچھا گیا کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے آپ کوڈر نہیں لگتا کیونکہ اپ جتنی عمر کی لڑکیاں سکول جاتی ہیں اور کھیلتی ہیں تو انہوں جواب دیا کہ میری سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ شام کو میں اپنے معذور والد کے ہاتھ میں دن بھر کی کمائی کا پیسہ تھما دوں ۔


    پاک افغان طورخم سرحد پر تعینات اہلکاروں کے تشدد اور پکڑنے سے بچنے کے لیے بچے اور بچیاں بڑی گاڑیوں کے نیچے چھپتے ہیں جن کے ہاتھوں میں سامان بھی ہو تا ہے۔ مگر وہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ٹائر وں کی زد میں آ کر کچل بھی جاتے ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے لیکر اب تک 6 بچے اس طرح کے حادثات میں جاں بحق جبکہ 10سے زائد ذخمی ہوئے ہیں۔ طورخم سرحد پر چائلڈ لیبر کم کرنے کے لیے کئی این جی اوز نے کام شروع کیا تھا مگر سب اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر چلے گئے چائلڈ لیبر میں مصروف بچوں اور بچیوں کے لیے سکول قائم کیاگیا تھا انہیں عصر حاضر کی تعلیم دلوانے کا وعدہ کیا گیاتھا مگر وہ ایفائے عہد نہ کر سکا اور نہ بچوں اور بچیوں کی حصول تعلیم کی تشنگی پوری ہو سکی۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    پاکستان میں وفاقی اور خیبر پختون خوا کے صوبائی سطح پر کم و بیش تقریباً 2 0قوانین چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے بنائے گئے ہیں اس کے علاوہ چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے پاکستان بین الاقوامی سطح پر مختلف فورمز کا پارٹنر بھی ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں چائلڈ لیبر کا حجم بڑھ رہا ہے کیونکہ ان قوانین پر اس طرح عمل درامد نہیں کیاجا تا جس جذبہ سے وہ وضع کیے گئے تھے۔ ہیومن رائیٹس کمیشن رپورٹ کے مطابق خیبر پختون خوا میں چائلڈ لیبرنگ میں مصروف بچوں اور بچیوں کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ پروٹیکشن اف چائلڈ رائیٹس کے ایک این جی او کے ڈائریکٹر عمران ٹکر نے بتایا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ قومی سطح پر چائلڈ لیبر کا ایک جامع سروے کرے کیونکہ بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے حقیقی ڈیٹا حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ان کی تعلیم کے لیے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کرنا چاہئے تاکہ ہر بچہ سکول جا سکے کیونکہ صرف تعلیم ہی کے زریعے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔ووکیشنل تعلیمی اداروں خواہ رسمی ہو یا غیر رسمی کو قائم کیاجائے اور غربت کے خاتمہ کے لیے ایک پائیدار پروگرام کا اغاذکیاجائے اور ان بچوں کو اس پروگرام کا ہدف بنایاجائے جو چائلڈ لیبر کرتے ہیں یا سٹریٹ میں ہیں۔قوانین پر سختی سے عمل درامد کیاجانا چاہئے انسپیکشن نظام کو مظبوط کرناچاہئے اور بڑی سطح پر اگاہی پروگرامات کا انعقاد کیاجائے کہ بچوں اور بچیوں کو کام کی بجائے سکولوں کو بھیجا جائے۔

  • نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں
    اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے
    جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ہے
    یہ جملہ آپ نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ تو ضرور سنا ہوگا
    کوئی ایک تجربہ جب آپ نے کسی کے ساتھ نیکی کی ہو یا کسی کی مدد کی ہو اور اس کے بدلے اس انسان نے بعد میں آپ کی نیکی یا مدد کو پس پشت ڈال کی آپ سے برا برتاؤ کیا ہو یا آپکی اچھائی کے بدلے دوسروں سے آپکی غیبت کی ہو یا کسی وجہ سے آپ کا دشمن بن گیا ہو… تو ایسے مقام پر آپ یا دوسرے لوگ ضرور کہتے ہونگے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی.,
    ہم ایسا کیوں کہتے ہیں یا دوسرے لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟؟کیونکہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جزا اور سزا کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے کسی انسان کے ہاتھ نہیں, اور ہم دنیا کے مادی اور فانی چیزوں میں تو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ خیر و بھلائی کے کاموں میں بھی دوسروں سے جیتنا چاہییے .جب ہم نیکی اللہ کی رضا کی نیت سے کرتے ہیں تو اس کے بدلے کا یقین بھی اللہ پر رکھنا چاہیے ناکہ ہر نیکی کے پیچھے کوئی نہ کوئی دُنیاوی مفاد کار فرما ہو,
    جب آپ اللہ کی رضا کے لئے کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو وہ اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوجاتی ہے. ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے اگر آپ نے software اپنے دماغ میں ڈالا ہوا ہے کہ (نیکی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں…) تو آپ واقعی میں کوئی نیکی نہیں کرو گے , آپ کسی کی مدد نہیں کریں گے اور نیکیوں کے مواقع ضائع کر دیں گے جو ایمان کی کمزوری بھی ہے دوسروں کے دکھ درد کا احساس نہیں ہوگا بےحسی آپ کے اندر اپنا ٹھکانہ بنا لے گی. آپ کے اعمال پر آپ کے belief system کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے اپنا belief system بدلیں

    صحابہ کرام اپنے وقت میں ایک دوسرے سے زیادہ نیکیاں کمانے میں مقابلہ کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا یقین تھا کہ ان کی نیکیاں اللہ ریکارڈ کر رہا ہے. ہمیں بھی چاہیے ہم کبھی بھی نیکی کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں, اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہے تو اس کی ضرور مدد کریں جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو. اور دیکھا جائے تو بے شمار نعمتیں اللہ نے ہماری بھلائی کے لئے عطا کی ہیں اور اس کا بدلہ وہ ہم سے کچھ نہیں چاہتا.. خدا کے بندوں سے نیکی کرنا اللہ کو بہت پسند ہے اور جو لوگ اللہ کے بندوں سے محبت کرتے ہیں وہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں.
    روایت ہے کہ
    تم زمین والوں پر رحم کرو, آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا.
    بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اسے اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے.
    اس لئے ضرورت مندوں سے محبت اور ہمدردی کریں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کریں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو.
    @Rehna_7

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • میں ہوں ناں

    میں ہوں ناں

    میں ہوں ناں
    تحریر : سیدسخاوت الوری
    میں نے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان کو بنتے اور بگڑتے دیکھا ہے۔۔۔۔ پہلی بار جوش تھا، جذبہ تھا، خوشی تھی کہ ہم ایک ایسے اسلامی وطن کے مالک ہیں، جہاں اللہ تبارک تعالی کا نازل کردہ آفاقی نظام نافذ ہوگا۔ حضور پاک صل اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر سنت کے مطابق عمل ہوگا۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہو گی ا ور کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔ اسی اسلامی نشاط ثانیہ کی سوچ میں مسلمانان ہند نے جان و مال، عزت و آبرو جہتی کہ اپنے بزرگوں کی قبروں تک کو غیر مسلموں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دیار پاک کی راہ لی ۔ دوسری بار اسلامی تعلیمات سے منحرف سیاستدانوں کی خود غرضی سے مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قت لعام، اقتدار کے بھوکوں کا دشمنان ملک وملت کی گود میں بیٹھ کر وطن عزیز کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر دو لخت کر دینا تھا، جس پر آج بھی شرمندگی ہے۔ اور آج قومی سیاسی رہنمائوں کی مفادات سے بھر پور قیادت ،،ایڈ یٹ ہے، لیکن اپنا ہے، کی سیاست، اشرافیہ کی مبینہ کرپشن کی کہانیاں، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر قومی خزانے کی لوٹ مار پر مبنی مضامین و پروگرامز میں کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات سن اور پڑھ کر میں اپنی عمر کے 87 اور وطن عزیز کی75 سالہ قومی زندگی کے چوراہے پر کھڑا سوچ رہا ہوں کہ یا الہی صراط مستقیم کونسا ہے۔ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو عقل کام نہیں کرتی، بولنے کی جرات رندانہ پیدا کرتا ہوں تو بولنے سے ڈر لگتا ہے اور پھر نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے۔ اس دوران پاکستانی سیاست کی یہ تاریخ رہی ہے کہ حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اقتدار اور اختلاف کے نشے میں ایسی ایسی بیوقوفیاں کیں کہ الامان الحفیظ۔ سیاسی اختلافات بڑھے تو غیر سیاسی قوت کو دعوت دی تو فوج اقتدار پر براجمان ہوئی، ایوب خان کے جانشین یحیی خان اور اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کی انا پسندی نے سقوط ڈھاکہ کی منظر کشی کر کے پاکستان کا نقشہ تبدیل اور تقریبا نوے ہزار قیدیوں کے حوالے سے اسلامی تاریخ میں انتہائی شرمناک باب کا اضافہ کر دیا۔ اس شرمناک حرکت کا ذمہ دار کون ہے ، تاریخ آج بھی خاموش ہے۔ جس کی وجہ سے ان تاریخی سیاسی کرداروں کے خونی اور سیاسی وارث آج بھی پاکستانی سیاست یا قیادت پر قابض ، بلکہ اپنے بزرگوں کی متعین کردہ راہ کے مسافر ہیں ۔ آج پھرانا کا مسئلہ ہے، افواہیں زدعام ہیں ، سیاست دان اور انکے کارکنان موجودہ سیاسی چپقلش کو انا یافنا سے تعبیر کرتے ہوئے ریموٹ کنٹرولڈ ہو گئے ہیں۔ قوت برداشت اور صبر کا مادہ جو سیاست کی بنیاد ہے ختم ہو چکا ہے۔ اِدھر ہم اُدھر تم کا منظر نامہ پیش منظر ہے۔ قومی ادارے نا قابل اعتبار گردانے یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑ وا تھو تھو کئے جارہے ہیں ۔ غیر یقینی کیفیت کی باعث معیشت کی زبوں حالی کی باعث عوام کی اکثریت ناصرف نان شبینہ سے محروم بلکہ ذہنی مریض بھی ہو گئی ہے، جس کی باعث دگرگوں ملکی وقومی حالات میں کسی بھی وقت معمولی سی تپش بھی اسے آتش فشاں بنا کر بین الاقوامی مسئلہ پیدا کرسکتی ہے ۔ بین الاقوامی مسلمہ اصول ہے کہ جب تمام راستے مسدود ہو جائیں اور جان بچانے یا بندگلی سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں آخری پیغام ( ایس اوالیس، زندگی بچانے کی اپیل )کیا جاتا ہے۔ تا کہ قرب و جوار میں موجود کسی طور کسی مدد کی صورت پیدا ہو سکے اور جس قدر ہو سکے جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے بچیں۔ یہی فعل طبی زبان میں آپریشن کہا جاتا ہے، جو بحالت مجبوری مریض کی جان بچانے کیلئے کیا جاتا ہے۔ مذکورہ اصول کی روشنی میں،میں(بارہ سالہ معصوم کا رکن تحریک قیام پاکستان و چشم دید گواہ ہجرت ) تمام محب وطن سیاسی قائدین سے دست بدست عرض گزار ہوں کہ وہ سوکنوں کی اس لڑائی سے کنارہ کش ہو کر گھر تباہ کرنے کی ناپاک سازش کو ناکام بنانے میں اپنا قومی اور اخلاقی فرض ادا کریں، نیز محب وطن مقتدر حلقوں اور صاحبان عقل و دانش سے بھی استدعاہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر قوم و ملک کے وسیع تر مفاد میں بابائے قوم کی طرح ایک اصولی مئوقف اتحاد تنظیم اور یقین محکم اختیار کر کے بچگانہ ذہنیت کے حامل مفاد پرست اور سیاسی نابالغوں کو یکسر مستر دکر کے اپنی قومی اور اسلامی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے قائد اعظم کے فرمان عالیشان ، پاکستان تا قیامت قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے، کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا فرمائیں، راہ میں حائل دشواریوں کو دور کرنے میں پیش آنے والی ہر رکاوٹ کو پوری قوت اور عوامی طاقت سے دور کیا جائے ۔ یادر کھیئے ، پاکستان ہے تو ہم ہیں، ورنہ آج آسٹریلیا نے پاکستانی کرپٹ مافیا کے داخلے پر پابندی لگائی ہے، خاکم بدہن کل ہم سب کتوں کی طرح مارے مارے پھر رہے ہونگے اور کوئی ہمیں پہچاننے یا قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ بہر حال یہ میری ذاتی مخلصانہ رائے ہے، جس میں حب الوطنی کے علاوہ نا کوئی چورن ہے اور نا ہی کسی کی مخالفت یا موافقت، کیونکہ ان ہی سیاستدانوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہور کو ووٹ ڈالنے کے علاوہ تمام حقوق سے محروم کر کے، جمہوریت بہترین انتقام ہے، کا نعرہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں اگر مقتدرہ حلقے انا کو دفن کر کے عہد یقینی فرمائیں کہ میری تحریری تجاویز پر من وعن عملدرآمد ہوگا تو پوری ذمہ داری سے تحریری وعدہ کرتا ہوں کہ ملک اور قوم کی بقا ، سلامتی ، تمام قومی مسائل کے حل اور تعمیر وترقی کیلئے د ئیے گئے اہداف کی بروقت عدم تکمیل پر ہر مجوزہ سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں۔ صرف تین ماہ کے عرصے میں آثار نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ ان شا اللہ ۔۔۔۔۔ یادر ہے، تاریخ کے دانت نہیں ہوتے لیکن یہ کاٹتی بہت زور سے ہے۔

  • بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو یعنی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے نے کسی ایمرجنسی اور مارشل لاء کا ذکر کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلاول زرداری ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مطابق وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزارت عظمی کے اُمیدواروں کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ دنیا جمہوریت کی ہے، دنیا نے اپنے معاملات حل کرنے کے سویلین حکومتیں بنا رکھی ہیں۔ا ن ممالک میں مارشل لاء کا کوئی تصور نہیں دنیا کے کسی بھی ملک کے باشندے سے سوال کریں مارشل لاء حکومت کیا ہوتی ہے تووہ آپ کا منہ دیکھتا ہے ان کے نزدیک مارشل لاء نام کی کوئی حکومت نہیں ہوتی لیکن بدقسمتی سے ہماری آج کی سیاسی جماعتوں میں ایسے کھوٹے سکے موجود ہیں جو مارشل لاء کی پیدوار بھی ہیں اور ہر سیاسی جماعت میں انہی لوگوں کا قبضہ بھی ہے ان کو خوشامدی بھی کہا جاتا ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے انہوں نے ملک معاملات سیاستدانوں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ تاہم سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیا ہے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے 22 کروڑ عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔

    بھٹو کا نام آج بھی اگر زندہ ہے تو اس کی ایک وجہ بھٹو بے سہارا اور پسے ہوئے عوام کا نام لیتا تھا عوام کو سیاسی شعور دیا تاہم بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کی پیپلزپارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ آج جس طرح حیر ت انگیز طورپر عوام کی اکثریت بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے اُس کی بنیادی وجہ وہ عوام ، قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت اور آئین کی بات کررہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا دیکھ لیں یا ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران کا طوطی بولتا ہے ۔ عمران خان کی عملی سیاست اس کو بین الاقوامی سیاستدان بنا گئی بلاشبہ وزارت عظمی کے دوران ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں تھی تاہم عمران خان کو سیاستدان بنانے میں پی ڈی ایم کی سیاست کا بھی اہم کردار ہے ۔ شاید عمران خان کی مقبولیت کو دیکھ کر بلاول بھٹو نے ایمرجسنی اورکسی مارشل لاء کا ذکر کیا ہے تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت پی ڈی ایم اورعمران کا مقابلہ ایک طرف ریاستی طاقت اور دوسری طرف سیاسی مقابلہ کہا جا سکتا ہے ۔ ایک طر ف سٹریٹ پاور اور دوسری طرف سٹیٹ پاور کا مقابلہ ہورہا ہے ۔ تاہم سب نے ملک کر اپنی نالائقی ثابت کر دی ہے پاک فوج اورعدلیہ دونوں اداروں پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ حالانکہ یہ سیاسی معاملات تھے اس کے لئے پارلیمنٹ اور سینٹ موجود تھی۔

  • کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    عالمی اتحاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    نیتن یاہوکی وزارت عظمیٰ پر واپسی کے فوراً بعد انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں خالی کرائی گئی بستیوں کی تعمیر نو اور دوبارہ آباد کاری کا کوئی ارادہ نہیں،نتین یاہو کے اس اقدام کی امریکہ نے مذمت کی تھی، اورواشنگٹن میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا،منسوخ شدہ قانون نے 2005 میں اسرائیلی آباد کاروں کے انخلاء کے بعد اسرائیلی شہریوں کو جنین اور نابلس آنے جانے کی اجازت دی تھی، یہ وہ علاقے ہیں جو سب سے زیادہ تشدد کا شکار ہیں یہ فیصلہ آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان مسلح تصادم کا باعث بنے گا۔ مارچ 2023 کے اوائل میں ہی موجودہ اسرائیلی حکومت نے شرم الشیخ میں سیکیورٹی سربراہی اجلاس کے دوران اس عزم کو جاری رکھنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی جس کی وجہ سے واشنگٹن ناراض ہے،محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل کا کہنا ہے کہ کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کی اس خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے

    بدلتے ہوئے عالمی اتحاد کے پس منظر میں، لازم و ملزوم جڑواں شہروں کے درمیان تعلق کوئی معنی نہیں رکھتا،اسرائیل تعلقات کی بہتری کے لئے کوشش نہیں کر رہا یہ بیانیہ فرسودہ ہو چکا کیونکہ اسرائیل نے ہی حال ہی میں کئی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کئے، اسرائیل کے مراکش، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ قطر نے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے امریکا کو شرائط پیش کی ہیں۔ اگرچہ دونوں میں غیر رسمی تعلقات ہیں اس کے علاوہ اسرائیل کے اردن اور مصر کے ساتھ امن معاہدے ہیں۔ دوحہ وہ نشست ہے جسے اسرائیلی ہیروں کے تاجر تجارت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت ہوئی،حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اب سعودی عرب شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے، چینی یوآن چین، سعودی عرب اور روس کے لیے کرنسی کے تبادلے کے ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آرہا ہے

    پاور گیم کے اصول ،اسرائیل اور امریکا کے تعلقات یقیناً اسرائیل کے لیے موزوں ہیں لیکن امریکا کا کیا ہوگا؟ پس منظر میں نئے اتحادوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ ابھرتی ہوئی صورتحال میں، کیا امریکہ مسلم ریاستوں بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کی امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے کی نیک نیتی کو داؤ پر لگا رہا ہے؟امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات بہت پیچھے ہیں۔ اب امریکہ کو تیزی سے بدلتے ہوئے نئے عالمی نظام میں اپنے مفاد کا خیال رکھنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے،

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    میں نے حساب کرنے کی عادت چھوڑ دی
    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    ریحام خان ( صحافی اور مصنفہ)

    پیدائش:3 اپریل 1973ء
    اجدابیا (لیبیا)
    قومیت:برطانوی
    پاکستانی
    مذہب:اسلام
    شریک حیات:اعجاز رحمان
    (1993-2005)
    عمران خان (2015)- طلاق

    مرزا بلال (2022)

    اولاد:ساحر
    ردا
    عنایہ
    تعداد اولاد:3
    تعلیم:صحافت میں ماسٹرز
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    دور فعالیت:2007ء تا حال

    ریحام خان کی زندگی کا گوشوارہ عباس تابش کے درج بالا شعر کے مترادف ہے وہ اب تک 3 شادیاں کر چکی ہیں۔ اور یہ تینوں شادیاں ان کی محبت کا نتیجہ ہیں لیکن پچھلی دو شادیوں کا انجام اچھا نہ ہوا دعا ہے کہ ان کی تیسری شادی کامیاب رہے۔ ریحام خان (Reham Khan) ایک برطانوی پاکستانی صحافی ہیں ۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بیوی رہ چکی ہیں تاہم اب دونوں کے درمیان میں طلاق ہو چکی ہے جس کی تصدیق 30 اکتوبر 2015ء کو ہوئی جب عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس بابت ٹوئٹ کیا تھا۔ اس علیحدگی کے بعد پہلے عمران خان نے بشری مانیکا سے تیسری شادی کی اور پھر ان کے 5 سال بعد ریحام خان بھی مرزا بلال سے 23 دسمبر 2022 میں امریکہ میں تیسری شادی کی

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ریحام کی پیدائش ایک پاکستانی ڈاکٹر نیر رمضان کے گھر ہوئی۔ ان کا تعلق سواتی قبیلے کی ذیلی شاخ لغمانی قبیلے سے ہے اور یہ نسلا پشتون ہیں۔ یہ چار زبانیں روانی سے بول سکتی ہیں جن میں شامل ہے انگریزی، اردو، پشتو اور ان کی آبائی زبان ہندکو۔ ان کے خاندان کا تعلق بفہ کے علاقے سے ہے جو مانسہرہ ، خیبر پختونخوا سے پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ ان کے والدین 1960 کے اواخر میں لیبیا چلے گئے تھے جہاں 1973 میں اجداییا میں ریحام کی ولادت ہوئی۔ ان کا ایک بھائی اور بہن ہے۔
    ریحام عبدالحکیم خان کی بھانجی ہیں جو خیبر پختونخوا صوبے کے گورنر رہے ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کےچیف جسٹس بھی۔ ریحام نے جناح کالج برائے خواتین، پشاور سے بی اے کیا ہے۔

    پہلی شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ان کا پہلا نکاح 23 جولائی 1992ء کو ایبٹ آباد میں اعجاز ولد فضل الرحمان کے ساتھ ہوا۔ ان کے پہلے شوہر اعجاز رحمان ماہر نفسیات ہیں، صحافت کے شعبہ میں آنے کی وجہ سے دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی شادی کے بعد طلاق ہوئی۔ اس شادی سے ریحام کے تین بچے ہیں ساحررحمان ، ردا رحمان اور عنایہ رحمان۔ ان کے تینوں بچے برطانیہ میں مقیم ہیں جبکہ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کے بچے بھی برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔

    کیریئر
    ۔۔۔۔۔۔۔

    طلاق کے بعد ریحام نے براڈکاسٹ جرنلسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلا ہوسٹنگ شو 2006 میں لیگل ٹی وی پر کیا۔ 2007 میں سن شائن ریڈیو ہیرفورڈ اور ورسیسٹر کے لیے کام کیا۔ 2008 میں ریحام نے بی بی سی میں براڈکاسٹ جرنسلٹ کے طور پر شمولیت اختیار کر لی۔
    2013 میں پاکستان آمد ہوئی اور پاکستانی ٹی وی چینل نیوزون میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد آج ٹی وی میں چلی گئیں۔ 2014 میں کچھ مدت کے لیے پی ٹی وی گئیں مگر مختصر مدت بعد اسے چھوڑ کر ڈان نیوز پر حالات حاضرہ کا پروگرام ان فوکس شروع کر دیا۔
    2015 میں کچھ دیر شادی کے بعد ٹی وی پروگرام نہیں کیا مگر پھر ڈان سے ہی مئی میں ایک نیا پروگرام ”ریحام خان شو“ شروع کیا جس میں پاکستانی ہیروز کی ستائش کی گئی۔ دسمبر 2015 میں نیو ٹی وی سے تبدیلی (تبدیلی سابقہ شوہر عمران خان کا سیاسی نعرہ ہے ) کے نام سے ایک نیا ٹی وی پروگرام شروع کیا۔ جون 2016 میں نیو ٹی وی کو خیرباد کہا۔
    فلم
    ۔۔۔۔۔
    ریحام نے جاناں نام کی رومانوی مزاحیہ فلم بھی بنائی، جوسوات کے علاقے میں فلمائی گئی اور ستمبر 2016 میں ریلیز ہوئی۔
    عمران خان سے شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔
    06 جنوری 2015 کے دن عمران خان نے ریحام خان سے اپنی شادی کی تصدیق کر دی جس کے بارے میں اکتوبر 2014 سے چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں (بعد ازان ریحام خان نے دعوی بھی کیا کہ ان کی عمران خان سے شادی نواز شریف کے خلاف دھرنے میں ہی ہو گئی تھی)۔ شادی کی تقریب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں منعقد ہوئی جبکہ ولیمے کی تقریب میں غریب بچوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ شادی کی تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی۔
    چند ماہ بعد ہی اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں اور بالآخر 30 اکتوبر 2015 میں عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے طلاق کی تصدیق کی۔

    مرزا بلال سے شادی

    ریحام خان نے 23 دسمبر 2022 میں خود سے 13 سال چھوٹے کراچی سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ نوجوان مرزا بلال سے امریکہ میں شادی کی۔

    ریحام خان کی کتاب

    ریحام خان نے 2018 میں ” Reham Khan” کے عنوان سے انگریزی میں کتاب لکھ کر شائع کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 10رمضان المبارک ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

    10رمضان المبارک ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

    سیدہ خدیجۃ الکبریٰ 10رمضان المبارک

    رمضان المبارک کے اہم واقعات میں سے ایک واقعہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے وصال کا ہے۔

    ابتدائیہ: والد کا نام خویلد، والدہ کا نام فاطمہ بنت زاہدہ اور لقب طاہرہ، پہلا نکاح ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی جس سے دو لڑکے ہند اور حارث پیدا ہوئے اور دوسرا نکاح ابو ہالہ کی وفات کے بعد عتیق بن عابد مخزومی سے لیکن وہ بھی وفات پا گئے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سمجھدار، امیر، ہر خوبی کی مالک اور اچھے فیصلے کرنے والی تھیں، اسلئے اُن کا سب سے”اچھا“ فیصلہ حضور ﷺ سے نکاح کرنا تھا۔

    نکاح کی وجوہات: حضرت خدیجہ حضور ﷺ کی امانت و دیانت سے بے حد متاثر، غلام میسرہ کے ساتھ دُگنے معاوضے پر شام کے علاقے میں اپنا تجارتی سامان بیچنے کی پیشکش، غلام میسرہ سفر میں حضور ﷺ کے کردار سے متاثر کیونکہ حضور ﷺ پر بادلوں کا سایہ کرنا، شام میں راہب پادری نسطورا کا علامات نبوت سے حضور ﷺ کو پہچاننا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے غلام میسرہ سے سفر کے حالات پر بہت کچھ سُنا، حضور ﷺ کے ساتھ فرشتوں کو بھی دیکھا، ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل نے یہ بتائی کہ تم سے آخری نبی کا نکاح ہو گا۔

    نکاح: حضرت خدیجہ نے حضور ﷺ کو اپنی سہیلی نفیسہ بنت منیہ کے ذریعے نکاح کا پیغام دیا جو حضور ﷺ نے قبول کیا۔ نکاح کا خطبات چچا ابو طالب، ورقہ بن نوفل اور حضرت خدیجہ کے چچا عمرو بن اسد نے پڑھے اورایک اونٹ ذبح کر کے مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا۔ حضرت خدیجہ امیر مگر امانت دار اور حضور ﷺ ظاہری طور پر غریب مگر امانت دار اور اللہ کریم کا فیصلہ ہمیشہ امانت داروں کے متعلق اچھا ہوتا ہے۔

    ریکارڈ: نکاح 25 سال کی عمر میں اور پہلی وحی 40 سال کی عمر میں، 25 سے 40 سال کے درمیان حضور ﷺ کی اولاد بھی پیدا ہوئی، البتہ کیسے بچوں کوپالا سنبھالا، بیٹیاں حضرت زینب، ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنھم کے نکاح کیسے کئے، کون کون شامل ہوا، کچھ ریکارڈ نہیں ملتا سوائے یہ کہ آپ ﷺ غارِ حرا جاتے اور پیاری ”بیوی“ حضورﷺ کو ستو (کھانا) باندھ دیتی یا کھانا دینے جاتی۔

    تصدیق: حضرت جبرائیل علیہ اسلام سے پہلی ملاقات، دل مضطرب کے ساتھ گھر تشریف لاکر فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو، پیاری بیوی کوسارا واقعہ وحی کا بتایا تو پیاری بیوی جو پہلے کچھ نشانیاں دیکھ چُکی تھیں اور نکاح کے 15 سالوں کے دوران حضور ﷺ کوجو کرتے دیکھا تو اُس کی تصدیق اسطرح کی ”آپ ﷺ کو اللہ کریم کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے، محتاجوں کے لئے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہ حق میں مصائب برداشت کرتے ہیں۔

    ساتھی: پیاری سمجھدار بیوی نے مزید یہ کیا کہ حضور ﷺ کو چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو نصرانی تھے، عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے۔ حضور ﷺ کا واقعہ سُننے کے بعد کہنے لگے: یہ وہی فرشتہ ہے جسے اللہ کریم نے حضرت موسی علیہ السلام پر اُتارا تھا، اے کاش میں اُس وقت زندہ ہوتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔

    سکون: حضور ﷺ، حضرت خدیجہ اور حضرت علی نماز ادا کرتے اور ایک دفعہ کسی نے دیکھا تو چچا عباس پاس تھے، اُن سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میرا بھتیجا ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کریم وحدہ لا شریک ہے۔ نبوت کے تین سال بعد اللہ کریم نے فرمایا ”اپنے رشتے داروں اور قرابت داروں کو ڈر سناؤ“ جس پر حضور ﷺ نے فاران کی چوٹیوں پر رشتے داروں کو لا الہ الا اللہ کی دعوت دی۔

    سوشل بائیکاٹ: اس کے بعد حضرت خدیجہ کے گھر اور گھرانے پر قیامت ٹوٹ پڑی، حضور ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے، گھر میں گندگی پھینکی جاتی، آپ ﷺ کو جھوٹا (نعوذ باللہ) کہا جاتا حتی کہ 43 سال کی عمر کے بعد کے 7 سال میں سے آخر والے تین سال تو بنو ہاشم کا سوشل بائیکاٹ کر کے شِعبِ ابی طالب میں قید کر دیا گیا مگر کیا خوبصورت صبر ہے کہ حضرت خدیجہ اور کسی بچے کی دنیاوی حاجت یا بھوک پیاس رہنے پر چیخنے کا ایک واقعہ نہیں ملتا۔

    ہمت: سوشل بائیکاٹ کے دوران حضرت حکیم بن حزام اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کے لئے گیہوں لائے، راستے میں ابوجہل سے بحث، ابوالبختری بن ہاشم کا وہاں آنا، ابو جہل کو سمجھانا مگر اس کا نہ ماننا تو ابوالبختری نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے ابو جہل کا سر زخمی کر دیا۔ ابو البختری اور حضرت حکیم بن حزام دونوں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بھتیجے تھے۔

    سلام: ایک دفعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا حضور ﷺ کے لئے کھانا لے کر آ رہی تھیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ! جب آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو اللہ کریم کا اور میرا سلام پیش کریں اور جنت میں خول دار موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیجئے جس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۔ (صحیح بخاری 3820)

    افضل جنتی؛ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا، آپ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اور حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ مریم بنت عمران جنت میں فضیلت والی عورتیں ہیں۔ (مسند احمد 2730)

    نبی کریم ﷺ نے پیر کے روز صبح کے وقت نماز پڑھی، سیدہ خدیجہ نے پیر کے دن اس کے آخری حصے میں نماز پڑھی اور سیدنا علی نے منگل کو نماز پڑھی ( المعجم الکبیر للطبرانی: 945)

    سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر اتنی غیرت نہ کی جتنی جناب خدیجہ پر کی، حالانکہ میں نے انہیں نہیں دیکھا تھا لیکن حضور ﷺ سیدہ خدیجہ کا بہت ذکر فرماتے تھے، (صحیح بخاری 3818)

    سیدہ خدیجہ کے ساتھ آپ ﷺ نے 25 سال گزارے، اس ساری مدت میں آپ ﷺ نے کبھی دوسری شادی نہیں کی، سیدہ خدیجہ نے بھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جو آپ ﷺ کو نا پسند ہو۔( صحیح مسلم 2436)

    وفات: ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا نبوت کے 10ویں سال جب چچا ابو طالب کو وفات پائے ابھی 3 یا 5 دن ہوئے تھے، 65 سال کی عمر میں 10 رمضان المبارک کو وفات پائی۔ غُسل دیا گیا اور نماز جنازہ کا ابھی حُکم نازل نہیں ہوا تھا، آپ کو مکہ مکرمہ میں واقع حَجُون (جنّتُ المعلیٰ) کے مقام پر دفن کیا گیا۔

  • آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کے موجودہ اور مستقبل کے ظل سبحانیاں آٹے کی لائنوں میں لگی یہ قوم کی دست بستہ درخواست کرتی ہے کہ جو ناکردہ گناہ اس قوم نہ کر لئے ان پر اس قوم کو معاف کردیں۔ٹوپی ڈرامے ختم کرکے تباہ حال اور مجبور قوم کا مزید امتحان نہ لیں۔ ان سے روز گارتم نے چھینا ،رو مرہ کی ضروریات زندگی سے کوسوں دور کردیا ۔ بجلی گیس تم نے چھین لی۔ لے دے کے ان کے پاس جان تھی اب وہ لے رہے ہو۔ شاہی دستر خوانوں کو لپیٹ کر خوشنما نعرے دینے کی بجائے ان کے مسائل کا حل پیش کریں۔ ملک کے وقاراس کی عزت ملکی اداروں کی عزت کو بھی اب اُچھال رہے ہو ۔ قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر چڑھ دوڑے ہو ۔ پاکستان اور اس کی عوام سے آپ سب کس دشمنی کا بدلہ چکا رہے ہو۔

    پاکستان آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس کو مزید کس مقام پر لے جا کر چھوڑنا چاہتے ہو؟ آئین اور جمہوریت کے ساتھ مذاق کرنے کی بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ باری کے چکر میں ملک کو تباہی میں نہ جھونکا جائے۔ جمہوری اداروں کو بچانے ملک کی بقا اور سالمیت کی فکر کرنے، عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ خون سے رنگین ہے ملک کی ترقی ،بقا اور استحکام و سالمیت کے لئے اس خاندان نے جتنی قربانیاں دی ہیں تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی افسوس آج کی پیپلزپارٹی کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی باتیں سینہ تان کر جا رہی ہیں چند ایک کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی آئین شکن کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے ۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا خاکی وجود ہی نہیں جمہوریت کے لیے طویل سیاسی جدوجہد سے عبارت ایک سیاسی عہد کو بھی دفن کیا جا رہا ہے۔پیپلزپارٹی کی آج کی سیاست لمحہ فکریہ ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ موجودہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے سامنے آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے۔ عدلیہ کی اصل مدد میڈیا اور عوام ہیں۔ سیاسی جماعتیں پہلے فوج پر حملہ آور ہوئیں سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کا مطلب کیا تھا؟ دونوں طرف سے فوج پر حملہ ، اور اب عدلیہ پر حملہ ہو رہاہے یاد رکھیے اس ملک کی بقا و سلامتی کے لئے آئین اور انصاف کے مسئلے پر عوام ، میڈیا اور فوج عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس سلسلے میں کسی بھی سیاسی قوت کی پروا نہیں کی جائے گی۔