بھارت کی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار کو اہم قرار دے دیا۔
اپنے ایک بیان میں ثانیہ مرزا نے کہا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کئی کامیاب خواتین کے پیچھے مرد ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے مرد بھائی، شوہر، باپ یا دوست کی صورت میں موجود ہوتے ہیں ، وہ وقت سے آگے کا سوچتے ہیں ، جس کی وجہ سے عورتوں کو اپنے خواب پورے کرنے میں اعتماد ملتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ثانیہ مرزا نے شوہر شعیب ملک کے بغیر بیٹے اذہان ملک، والدین، بہن اور بہنوئی کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کی۔عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ثانیہ نے انسٹاگرام پر اپنی نئی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں۔
https://www.instagram.com/mirzasaniar/
شعیب ملک اور ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا کے درمیان گزشتہ دنوں علیحدگی کی خبریں گرم تھیں تاہم اس حوالے سے دونوں کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
Category: بلاگ
-

خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا
-

مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ
یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرےمینا کماری ناز
اداکارہ و شاعرہ
یوم وفات : 31 اگست 1972
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برصغیر کی نامور اداکارہ شاعرہ مینا کماری ناز جنہیں” ملکہ غم ” بھی کہا جاتا ہے ان کا اصل نام ماہ جبیں ہے ۔ وہ یکم اگست 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام علی بخش اور والدہ کا نام نیپرو بھاوتی ٹیگور تھا مسلمان ہونے کے بعد ان کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری نے 6 سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے ” لیدر فیس” فلم سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا ۔ وہ تین بہنیں تھیں ان کی دوسری بہنوں کا نام خورشید اور مدھو تھا۔ فلم ڈائریکٹر وجے بھٹ نے ان کو مینا کماری کا فلمی نام دیا تھا جبکہ مینا کماری نے شاعری میں اپنے لیے ناز تخلص اختیار کیا ۔ 1952 میں انہوں نے فلمساز کمال امروہوی سے دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی لیکن محبت کی یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی۔ چند برس بعد ہی ان کے درمیان علیحدگی ہو گئی جس کے بعد مینا کماری نے دوسری شادی نہیں کی ۔ کمال امروہوی کی بیوفائی کے بعد مرد حضرات پر ان کا اعتبار نہیں رہا۔ انہوں نے بقیہ تمام عمر تنہائی ، درد وغم سہتے ، اداکاری اور شاعری کرتے گزار دی۔ شاعری میں انہوں نے گلزار سے اصلاح لی تھی ۔ مینا کماری نے کل 94 فلموں میں کام کیا انہیں فلم ” بیجو باورا” سے بے پناہ شہرت اور پذیرائی ملی ۔ مینا کماری کو ہندوستان کی پہلی خاتون اداکارہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کے انتقال کے بعد ” چاند” کے عنوان سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔منتخب کلام
عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہےنمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہےتیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہےیہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہےکبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہےخود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے……………….
آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگاذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگاپیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگامل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگاخون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں تیری رہگزر سے، دیوانہ وار گزرے
کاندھے پہ اپنے رکھ کے، اپنا مزار گزرے
.
بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
شاید اسی طرف سے، اک دن بہار گزرے
.
دار و رسن سے دل تک، سب راستے ادھورے
جو ایک بار گزرے، وہ بار بار گزرےبہتی ہوئی یہ ندیا، گھلتے ہوئے کنارے
کوئی تو پار اترے، کوئی تو پار گزرے
.مسجد کے زیر سایہ، بیٹھے تو تھک تھکا کر
بولا ہر اک منارا، تجھ سے ہزار گزرے
.
قربان اس نظر پہ، مریم کی سادگی بھی
سائے سے جس نظر کے، سو کردگار گزرے
.
تو نے بھی ہم کو دیکھا، ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
تو دل ہی ہار گزرا، ہم جان ہار گزرے -

بلوچستان کی تازہ تصویر
بلوچستان کی تازہ تصویر
معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان کا شمار دنیا کے امیر ترین علاقوں میں ہوتا ہے رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے پاکستان کا امیر ترین صوبہ لیکن غربت اور پسماندگی میں بھی سب سے بڑا صوبہ اور سب سے آگے بلوچستان ہی ہے۔ اگست 2022 میں سیلابوں اور طوفانی بارشوں سے بلوچستان میں جو تباہی آئی اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ان میں سے اب بھی ہزاروں افراد گھروں سے محروم ہیں جن میں زیر نظر تصویر کے افراد پر مشتمل خاندان بھی شامل ہے ۔
ستم بالائے ستم یہ کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آٹے کا ہے جس کے حصول کیلئے روزانہ کئی افراد شدید مشکلات اور مشقت کے مرحلے سے گزر کر اپنی جان سے ہی گزر جاتے ہیں اور سب سے مہنگا آٹا بلوچستان میں ہے یعنی بلوچستان ہر طرح سے ” امیر و کبیر” صوبہ ہے جس کا اندازہ اس ایک تصویر سے ہی لگایا جا سکتا ہے ۔ بلوچستان صرف آج اس طرح نہیں ہے یہ صوبہ ہر دور میں ایسی ہی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔
آغا نیاز مگسی
قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی
سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام
سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟
سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے
سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار
-

نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق
ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں میں نزلہ زکام کی تشخیص ہو ان میں ایک ہفتے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نزلے سے متاثرہ ہونے کے بعد ایک ہفتے میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 6 گنا بڑھ جاتا ہے یہ تحقیق نزلہ زکام کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو دل کے دورے کی علامات سے متعلق آگاہی بھی دیتی ہے۔ماہرین کی ٹیم نے 16 لیبارٹریز سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا اور اس کا موازنہ اموات سے کیا۔2008 سے 2019 کے درمیان 26 ہزار 221 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اس گروہ میں 401 مریضوں کو ایک سال قبل یا نزلے کے دورانیے کے بعد دل کا دورہ پڑا تھا کچھ مریضوں کو ایک سے زیادہ دل کے دورے پر پڑے تھے یوں ٹوٹل 419 افراد کو دل کے دورے پڑے تھے۔ -

کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟
کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟
سکارٹ لینڈ کے پہلے مسلم سربراہ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف نے حلف اٹھا لیا اور اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کردئیے ہیں۔ سکارٹ نینشل پارٹی سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ حمزہ یوسف کو اپنی جماعت کے علاوہ سکاٹش گرینز پارٹی کے ارکان کی بھی حمایت حاصل ہوئی۔ وہ برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان ہیں۔ اس سے قبل سعیدہ وارثی بھی کنزویٹو پارٹی کی 2010 سے 2012 تک شریک چئیرمین رہ چکی ہیں۔
حمزہ یوسف کے والد مظفر یوسف کا تعلق پنجاب کے علاقے میاں چنوں (خانیوال) سے ہے انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسکاٹ لینڈ منتقل ہوگئے جہاں بطور اکاونٹنٹ کام کیا۔ حمزہ یوسف کی والدہ کینیا میں رہائش پذیر ایشائی خاتون شائستہ بھٹہ ہیں۔ 1985 میں پیدا ہونے والے حمزہ یوسف نے گلاسگو یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف دس سال قبل اپنے آبائی علاقے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ ان کے رشتے دار اور عزیز و اقارب خوشی منا رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی حمزہ یوسف پاکستان کے سربراہ بن سکتے ہیں؟
پاکستان میں حمزہ یوسف جیسی شخصیات کا وزیراعظم بننا تو بہت مشکل رکن قومی اسمبلی منتخب ہونا بھی قدرے مشکل ہوگا۔ پاکستانی قوم ویسے بہت جذباتی ہے پاکستانی نژاد شخصیات کی ترقی پر خوش ہوتے ہیں۔ امیدیں وابستہ کرتے ہیں دنیا بھر میں اپنے جھنڈے گاڑے مگر وہی پاکستان میں جمہوریت کے لئے آواز بلند نہیں کرتے۔ پاکستان میں بھوک اور افلاس کی ایک وجہ سیاسی عدم استحکام اور غیر سیاسی افراد کی سیاست میں مداخلت ہے۔ ریاست اور سیاست کے اس کھیل میں چونا صرف عوام کو لگتا ہے۔
بنیادی جمہوریت نہ ہونے اور سیاسی جماعتوں میں اشرافیہ کا کنٹرول اور موروثی قیادت کسی طور پر بھی مڈل کلاس قیادت کو منتخب نہیں ہونے دے گی۔ گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے ایک رکن نے بتایا کہ سینیٹ میں ووٹ کے لئے 10 کروڑ روپے کی آفر ہوئی۔ان حالات میں متوسط طبقہ تو کیا کاروباری طبقے سے منسلک لوگ بھی اس کھیل میں شامل نہیں ہوسکتے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹیاں اس طرح ٹکٹ تقسیم کرتی ہیں اللہ کی پناہ۔ گزشتہ حکمران جماعت تحریک انصاف پر الزام ہے کہ2018 کے انتخابات کے لئے دو دو کروڑ تک کے ٹکٹ بیچے گئے۔ جب پارٹی ٹکٹ کی قیمت یہ ہوگی تب انتخابات جیتنے کے لئے 50 کروڑ روپے لگائے جائیں گے۔ اور ایک حلقے میں اگر تین مضبوط امیدوار ہوں تو 1 ارب 50 کروڑ روپے اوسطا خرچ ہونگے۔ ان حالات میں جیتنے یا ہارنے والا اتنی بڑی انوسٹمنٹ کو پورا کرنے کے لئے ہر جائز اور ناجائز طریقہ اپنائے گا وہاں حمزہ یوسف تو کہی گم ہو جائے گا۔
یہاں بھی ہر شہر میں حمزہ یوسف موجود ہیں۔ وہ سیاسیات کی ڈگری بھی حاصل کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں میں بطور کارکن کام بھی کرتے ہیں۔ پاکستانی حمزہ یوسف نوجوانی میں پارٹی پرچم تھامے چلتے ہیں مگر جب انتخابات کی باری آتی ہے تو ان حمزہ یوسفوں کے اوپر پیسے والے مسلط ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی حمزہ یوسف کسی سیاسی جماعت کا چیف آرگنائزر بن بھی جائے تو وقت آنے پر اس حمزہ یوسف کو اتار کر وہاں اس پارٹی کے قائد کی بیٹی یا بیٹا بیٹھ جاتا ہے۔ ہم بھی کیا اپنے دکھ لے کے بیٹھ گئے بھائی حمزہ یوسف آپ کو بہت مبارکباد شکر ہے آپ پاکستان میں نہیں ہیں ورنہ آپ کھبی بھی پاکستان کے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ اسکاٹ لینڈ کی ترقی کے لئے آپ کے قدم مبارک ہوں۔ اور پاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ ایسی قیادت نصیب فرمائے اور پاکستان میں بھی عام آدمی کو وزیراعظم تک کے سفر میں آسانی فرمائے۔
-

رمضان ، عوام اور مہنگائی
رواں برس رمضان المبارک میں پہلی بار ایسا کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے جو قربانی والی عید پر دیکھنے کو ملتا، رمضان میں راشن کے حصول کے لئے کل ایک ہی روز میں 10 سے 12 لوگوں نے میرے دروازے پر دستک دی،افسوسناک بات یہ کہ دیکھنے میں وہ غریب نہیں تھے، چھوٹے بچے، عورتوں کے ساتھ مرد تھے،جنہیں ہم لوئر مڈل کلاس کہتے ہیں، یقینا وہ اس علاقے میں کام کرنیوالی ملازمائیں ہوں گی یا سابقہ ملازمائیں جن کی کالز آتی ہیں رمضان میں راشن پیکج کے لئے،
شہری علاقوں میں خوراک کی افراط زر کی شرح 42 فیصد ہو چکی ، چیزیں بہت مشکل ہو چکی صرف غریبوں کے لئے نہیں بلکہ جو اوپر کا طبقہ ہے وہاں بھی یہی صورتحال ہے، گھر، کاریں سب موجود ہے لیکن گھر کے اندر ملازموں کی تعداد کم کر دی گئی، ڈرائیور چلے گئے، گاڑیاں دھونے کے لئے قریبی علاقے کا لڑکا آ جاتا ہے، باروچی جو مستقل ملازم تھے انکو جزوقتی کر دیا گیا ہے،
مالی مشکلات کی وجہ سے رمضان المبارک ایک آزمائش بن جاتا ہے،خود ساختہ مہنگائی بھی رمضان میں ہو جاتی ہے، اشیاء کی قیمتیں دکاندار تو من مانی قیمتوں پر فروخت کرتے ہی ہیں تا ہم اس بار رمضان کے آغاز سے حکومت نے بھی کچھ ایسا ہی کام کیا، آٹے کی قیمت جو رمضان سے قبل دس کلو کے تھیلے کی 650 روپے سرکاری قیمت تھی وہ رمضان کے آغاز سے حکومت نے قیمت بڑھائی اور اب وہی دس کلو کا سرکاری آٹا 1150 روپے میں مل رہا ہے،گروسری سٹور سمیت کوئی ایسی جگہ نہیں جو رعایتی نرخوں پر چیزیں فروخت کرے،لاہور ، اسلام آباد اور پنڈی میں سستی ایرانی مصنوعات میسر ہیں،گروسری سٹور میں ایرانی سامان موجود ہوتا ہے جس میں تیل اور پنیر بہت مشہور ہے، سامان بلوچستان ایران سرحد کے راستے لایا جاتا ہے، ایرانی مصنوعات پہلے بلوچستان اور لیاری کراچی میں ملتی تھیں لیکن اب دیگر شہروں میں بھی مل رہی ہیں
ایک چیز جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ کم ڈشز بنا رہے ہیں۔ سحر اور افطار کی تیاری کم کی جا رہی ہے لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو افطاری کے بعد نماز کے لیے وقفہ کرتے ہیں اورپھرنمازکے بعد اسی طرح ہی ڈنر کرتے ہیں،اور پھر سحری کے لیے خصوصی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اسلام کی روح ہے؟ کیا روزے کا مطلب یہ ہے کہ روزے سے پہلے اور بعد میں دس مختلف پکوانوں کے ساتھ سحری و افطاری کی جائے؟ ہم کیوں پکوانوں اور ڈشز کی طرف جاتے ہیں ، کسی عام کھانے سے روزہ کیوں نہیں کھولتے، جیسے سادہ افطاری کریں اور اسکے بعد ون ڈش ڈنر ہو، اگر کسی کو بہت کچھ نصیب ہو تو کیا وہ اسلام کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رقم کو غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے استعمال نہ کرے؟
-
رمضان اور یوم پاکستان ،تحریر:محمد نعیم شہزاد
اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کی مبارک ساعتيں ایک بار پھر میسر ہیں۔ یوم پاکستان اور پہلا روزہ دونوں خوشیاں اکٹھی نصیب ہوئیں مگر فی زمانہ میری ارض پاک، ملک پاکستان کچھ مختلف حالات سے دوچار ہے۔ جہاں ایک طرف اقتصادی طور پر ملک قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبا ہے تو دوسری طرف اندرونی خلفشار اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے میرے وطن میں اچھے حکمرانوں کا فقدان رہا ہے مگر اس بار خرابی حالات کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ عوام بھی ملکی سلامتی اور اجتماعی مفاد کو بھول کر ایک سیاسی راہنما کی فکر میں محو ہیں۔
انسان فطری طور پر کمزور ہے اور خواہشات کا اسیر بن کر بہت سے غلط افعال کا مرتکب ہو جاتا ہے مگر کبھی کسی کی اس قدر مخالفت نہیں کرنی چاہیے کہ بات مخاصمت اور مجادلت تک بڑھ جائے۔ چار برس پہلے جب ایک منتخب وزیراعظم کی نااہلی عمل میں آئی اور ایک دوسری پارٹی کو برسر اقتدار آنے کا موقع ملا تو سب کچھ مبنی بر انصاف لگا اور ہر نااہلی عین قانونی اور آئینی معلوم ہوئی مگر جب اگلے چند برسوں کے بعد خود یہ منصب چھوڑنا پڑا تو سب غیر آئینی اور اداروں کی مداخلت نظر آنے لگا۔ وہ ادارے جن کے ساتھ یکجہتی دکھائی گئی انھیں مورد الزام ٹھہرا کر سب سیاہ و سفید کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ اپنے حق میں ہونے والی ہر بات کو حق اور اپنے خلاف ہونے والی بات کو باطل تسلیم کر لیا گیا۔ قرض تلے ڈوبی ہچکولے کھاتی معیشت کا مذاق اڑایا جانے لگا اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ نازیبا سلوک کو محض موجودہ حکومت کی نالائقی اور ناکامی قرار دیا گیا۔
بحثیت ذمہ دار شہری ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ ملکی حالات کی نزاکت کا ادراک کرے اور اپنی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد میں سوچے۔ الزامات کی سیاست کو پروان چڑھانے کی بجائے ہر سیاسی رہنما اور جماعت سے مطالبہ کرے کہ وہ قومی سلامتی اور ترقی کے لیے کام کرے۔ بے جا کسی رہنما یا جماعت کی حمایت نہ کی جائے اور ملک و قوم کو افراد اور جماعتوں سے بالاتر سمجھا جائے۔
بحثیت مسلمان ہمیں خوب جان لینا چاہیے کہ اس جہان رنگ و بو میں صرف ایک ہی ہستی اقتدار اعلیٰ کی مالک ہے اور وہ سب سے قوی و عزیز تر ہے۔ آج ہی قرآن مجید کا مطالعہ کرتے درج ذیل آیت قرآنی نظر سے گزری تو فوراً ملکی حالات کی طرف خیال گیا۔ سورہ اعراف میں جہاں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جادوگروں کی شکست اور رجوع الی اللہ کا بیان کیا اور فرعون کے اپنی طاقت کے نشے میں چور بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے اور خواتین کو زندہ چھوڑنے کا ذکر کیا اس سے متصل دنیا میں حکومت اور آخرت کے حسن انجام کا معاملہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ۔قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ (الاعراف ، ۱۲۸)
موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو ۔بیشک زمین کا مالک اللہ ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ حکمرانی اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے مگر حسن عاقبت تو صرف پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے۔ تو ہم کیوں اس دنیا کی حکومت کے لیے ہر جائز ناجائز کام کر گزرنے کو تیار ہیں ۔ ہم عمل کے مکلف ہیں مگر اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ۔ ہمیں ہر ایسے فعل و عمل سے ضرور بچنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ماہ مبارک میں ہمارے ملک پر خصوصی فضل و کرم فرمائے اور ارض پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔
-

معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی
یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھیسائل دہلوی
پیدائش:29مارچ 1864ء
دلی، ہندوستان
وفات:25 ستمبر 1945ء
دلی، ہندستانداغ کی بنائی ہوئی لفظ ومعنی کی روایت کو برتنے اور آگے بڑھانے والوں میں سائل کا نام بہت اہم ہے ۔ سائل داغ کے شاگرد بھی تھے اور پھر ان کے داماد بھی ہوئے۔ انھوں نے تقریبا تمام کلاسیکی اصناف میں شاعری کی اور اپنے وقت میں برپا ہونے والی شعری محفلوں اور مشاعروں میں بھی بہت مقبول تھے ۔
نواب سراج الدین خاں سائل کی پیدائش 29 مارچ 1864 کو دہلی میں ہوئی ۔ وہ مرزا شہاب الدین احمد خاں ثاقب کے بیٹے اور نواب ضیاالدین احمد خاں نیر درخشاں جاگیر دار لوہارو کے پوتے تھے ۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا لہذا چچا اور داد کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھے ۔ شاگرد غالب نواب غلام حسین خاں محو کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا ۔
داغ کے انتقال کے بعد سائل اور بیخود دہلوی داغ کی جانشینی کے دعوے دار تھے اس لیے ان دونوں کے حامیوں میں تکرار اور معرکے ہوتے رہے ۔ شاہد احمد دہلوی نے ان معرکوں کے بارے میں لکھا ہے ’’ دہلی میں بیخود والوں اور سائل والوں کے بڑے بڑے پالے ہوتے ۔ اکثر مشاعروں میں مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ۔ سائل صاحب ان جھگڑوں سے بہت گھبراتے تھے اور بالآخر انہوں نے دہلی مشاعروں میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیا ‘‘ ۔
25 ستمبر1945 کو دہلی میں سائل کا انتقال ہوا اور صندل خانہ بابر مہرولی میں سپرد خاک کیا گیا ۔غزل
۔۔۔۔۔
محبت میں جینا نئی بات ہے
نہ مرنا بھی مر کر کرامات ہے
میں رسوائے الفت وہ معروف حسن
بہم شہرتوں میں مساوات ہے
نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزم طرب
یہ خمیازۂ ترک عادات ہے
شب و روز فرقت ہمارا ہر ایک
اجل کا ہے دن موت کی رات ہے
اڑی ہے مے مفت سائلؔ مدام
کہ ساقی سے گہری ملاقات ہےغزل
۔۔۔۔۔
وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں
حریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں
جدا جدا نظر آتی ہے جلوۂ تاثیر
قرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں
خمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ
سرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں
سما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مرے
کرم کا اہل ستم سے امیدوار ہوں میں
عوض دوا کے دعا دے گیا طبیب مجھے
کہا جو میں نے غم ہجر سے دو چار ہوں میں
شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں
قرار داد گریباں ہوئی یہ دامن سے
کہ پرزے پرزے اگر ہو تو تار تار ہوں میں
مرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزار
ہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں
ظہیرؔ و ارشدؔ و غالبؔ کا ہوں جگر گوشہ
جناب داغؔ کا تلمیذ و یادگار ہوں میں
امیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ
گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میںغزل
۔۔۔۔۔
ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے
ذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والے
نظر آئیں گے نقش پا جہاں اس فتنہ گر والے
چلیں گے سر کے بل رستہ وہاں کے رہ گزر والے
ستم ایجادیوں کی شان میں بٹا نہ آ جائے
نہ کرنا بھول کر تم جور چرخ کینہ ور والے
جفا و جور گلچیں سے چمن ماتم کدہ سا ہے
پھڑکتے ہیں قفس کی طرح آزادی میں پر والے
الف سے تا بہ یا للہ افسانہ سنا دیجے
جناب موسئ عمراں وہی حیرت نگر والے
ہمیں معلوم ہے ہم مانتے ہیں ہم نے سیکھا ہے
دل آزردہ ہوا کرتے ہیں از حد چشم تر والے
کٹانے کو گلا آٹھوں پہر موجود رہتے ہیں
وہ دل والے جگر والے سہی ہم بھی ہیں سر والے
تماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت
کہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والےمنتخب اشعار
۔۔۔۔۔
معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی
بھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کاخط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے
یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والامحتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہا
کن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھاجھڑی ایسی لگا دی ہے مرے اشکوں کی بارش نے
دبا رکھا ہے بھادوں کو بھلا رکھا ہے ساون کوہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پرآہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو
نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیںیہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھیہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا
اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کےجناب شیخ مے خانہ میں بیٹھے ہیں برہنہ سر
اب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں رکھ دیشباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میںکھل گئی شمع تری ساری کرامات جمال
دیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیںتم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامی
نظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھیتمہیں پروا نہ ہو مجھ کو تو جنس دل کی پروا ہے
کہاں ڈھونڈوں کہاں پھینکی کہاں دیکھوں کہاں رکھ دی -

اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی
پاکستان بطور ریاست ہی نہیں جمہوریت، سیاستدان، عوام اور ملکی ادارے ایک بہت بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اگر کہلانے کا دعویدار ہے تو پھر دیکھنا ہوگا عدلیہ کا اسلام میں کیا مقام اور مرتبہ ہے اسلام کا بنیادی درس ہی برابری کا ہے اور اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ جن کی ہم امت ہیں کا آخری خطبہ ہم سب کے لئے کافی ہے۔ ہماری پارلیمنٹ جمہوری جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے خدا نہ کرے اس پر دوبارہ کوئی آنچ آئے۔ تاریخ گواہ ہے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے حق حکمرانی سے محروم ہو گئے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں آزاد عدلیہ ، بدقسمتی سے وطن عزیز میں کوئی ایسا دور حکومت نہیں جس میں حکمران آزاد عدلیہ کے نعرے تو بلند کرتے نظر آتے ہیں لیکن ذاتی مفادات گروہی جنگ میں خود میں پڑنے والی ضرب کو روکنے کے لئے عدلیہ کا وقار مجروح کرتے ہیں۔ طاقت کے کھیل میں ملکی وقار اور عزت کو سب سے مل کر دائو پر لگا دیا ہے۔
آج ایک طرف عدل و انصاف اور دوسری طرف من مانیوں کا راج ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستانی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی پر تنقید نہیں کر سکتا اگر وہ تنقید کرے تو قابل مواخذہ ہے اورعدلیہ کی تضحیک پر پارلیمانی رکنیت بھی معطل ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں نے فوجی آمروں کے خلاف عدالتوں کے دروازے پر دستک دی اور بحال بھی ہوئے۔ یقیناً نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ہے۔ سب کو مل کر ملک کے مستقبل اور اس بے بس عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاستدان کب سدھریں گے غلطی پر غلطی کرتے چلے آرہے ہیں عوام کی اکثریت ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور غیر جمہوری حرکات آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ وطن عزیز ایک انقلاب کی صورت میں معرض وجود میں آیا اور اس انقلاب کا جو مقصد تھا اس کا نفاذ تمام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔
-

پٹرولیم مصنوعات میں سبسڈی کا حکومتی منصوبہ ناقابل عمل
پاکستان کی وزارت پٹرولیم کو ایک مضحکہ خیز ذمہ داری دی گئی جس پر عمل نہیں ہو سکتا ہے پھر بھی وہ کام کر رہے ہیں، اس ذمہ داری کا مقصد ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہے جس میں امیروں سے پٹرول کے پیسے زیادہ وصول کئے جائیں گے اور چھوٹی گاڑیوں والوں کو سبسڈی دی جائے گی،جو مہنگائی کی وجہ سے متاثر ہیں،
حکومت کی اس تجویز پر کیا کیا جائے؟ کیونکہ اس طرح مسئلے کا حل نہیں ہو گا اور یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے،سب سے پہلے بڑی گاڑیوں میں وین اور ٹرک شامل ہیں، اگر ان کے لئے تیل کی قیمت میں اضافہ کیا جائے گا تو اسکا اثر تمام چیزوں پر پڑے گا اور افراط زر میں اضافہ دیکھنے میں ملے گا، حالانکہ مصنوعات کی قیمتیں تمام صارفین کے لئے ایک ہیں ،دوسرا، تعمیراتی سامان بھی وینوں اور ٹرکوں میں لے جایا جاتا ہے جیسے سیمنٹ، لکڑی، ریت، بجری،اسکی لاگت بھی خریدار پر ہی آئے گی،
تیسری چیز، وین اور بس، سامان کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال معاشرے کا غریب طبقہ ہی کرتا ہے جن کے پاس کار یا موٹر سائیکل نہیں ہوتی، تعلیمی اداروں کے طلبا کے لئے بھی بسوں کا استعمال ہوتا ہے،چوتھا، گھروں میں جہاں ایک چھوٹی اور بڑی کار ہوتی ہے، گھر پہنچنے کے بعد چھوٹی کار کو ٹینک بھرنے اور بڑی گاڑی میں لوڈ آف لوڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پانچواں ،حکومت کے اس فیصلے سے کریم اور ان ڈرائیو جیسی کار سروسز کے کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔ اور اس سے متاثر ہونے والے وہ لوگ ہوں گے جو عام طور پر گاڑی کے متحمل نہیں ہوتے ہیں
حکومت کے اس سبسڈی والے آئیڈیا کو دیکھا جائے تو اس پر عمل کرنا اور لاگو کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کیونکہ اس کے ناکام ہونے کی کئی وجوہات سامنے آ رہی ہیں،