Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    انگلینڈ،باغی ٹی وی (ویب نیوز) چاند سے لائے گئے چند نمونوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ قمری سطح پر شیشوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھیلے ہوئے ہیں جس میں اربوں ٹن پانی موجود ہے۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ بالا دریافت خلائی ایجنسیوں، جن کے چاند پر تعمیراتی منصوبے ہیں، کے لیے اب تک کی سب سے اہم پیش رفت میں سے ایک ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف پانی بلکہ ہائیڈروجن اور آکسیجن کا بھی انتہائی قابل رسائی ذریعہ چاند پر موجود ہے جسے مستقبل کے قمری مشن کے خلاباز اخذ اور استعمال کرسکتے ہیں۔
    برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں سیاروں کی سائنس اور تحقیقات کے پروفیسر مہیش آنند کا کہنا ہے کہ یہ سب سے دلچسپ دریافتوں میں سے ایک ہے۔ اس تلاش کے ساتھ، چاند پر پائیدار طریقے سے تحقیقات کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
    واضح رہے کہ چاند پر آخری مرتبہ انسانی قدم رکھنے کے تاریخی واقعے کو نصف صدی سے بھی زائد عرصہ گزرچکا ہے اور اب ناسا اور دیگر خلائی ادارے اگلے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔
    ناسا کے ’آرٹیمس مشن‘ کا مقصد چاند پر اب پہلی خاتون اور پہلے سیاہ فام شخص کو بھیجنا ہے جبکہ یورپی خلائی ایجنسی نے چاند پر ایک گاؤں کی بنیاد رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
    آنند اور چینی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دسمبر 2020 میں چین کے chang’e 5 مشن کے ذریعے قمری سطح سے زمین پر لائے گئے باریک شیشوں کا تجزیہ کیا جس سے پتہ چلا کہ یہ شیشے اس وقت وجود میں آئے جب شہابی پتھر چاند سے ٹکرائے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں گرم اور پگھلے ہوئے مادے ہوا میں بکھر کر سطح پر گرے اور پھر ٹھنڈے ہوکرچاند کی مٹی کا حصہ بن گئے۔

  • ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی (کلاسیکل رقاصہ)
    یوم پیدائش: 27 مارچ

    پاکستان کی نامور کلاسیکل رقاصہ ناہید صدیقی 27 مارچ 1949ء کو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اداکارہ طلعت صدیقی اور بشیر صدیقی کی بڑی بیٹی اور معروف اداکارہ عارفہ صدیقی کی بڑی بہن ہیں۔ ناہید 3 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ راولپنڈی سے کراچی منتقل ہو گئیں۔ ان کے والدین نے ان کو کراچی کے ہیپی ہوم اسکول میں داخل کرایا۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں، ناہید صدیقی اپنے والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں اور یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں داخلہ لیا۔ یہ کالج اس سے قبل ہوم اکنامکس کالج کے نام سے مشہور تھا۔
    مہاراج غلام حسین کتھک اور پنڈت برجو مہاراج سے کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کرنے کے بعد پی آئی اے آرٹس اکیڈمی سے وابستہ ہوگئیں۔ اسی دوران ان کی شادی ضیا محی الدین سے ہوئی۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن سے رقص کا پروگرام” پائل” شروع کیا جسے عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔

    ناہید صدیقی نے رقص کی تعلیم مہاراج غلام حسین اور پنڈت برجو مہاراج سے حاصل کی۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کا مقبول پروگرام ’’پائل‘‘ ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز تھا، جب ٹیلی ویژن پر رقص پہ پابندی تھی تو ’’پائل‘‘ پروگرام کو بند کرنا پڑا تھا۔ اس پابندی کے دور میں ناہید صدیقی ملک سے باہر چلی گئیں اور ایک طویل عرصہ برطانیہ میں گزارا۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں اور رقص و موسیقی کی تعلیم دے رہی ہیں۔
    14 اگست 1994ء کو انہیں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ عطاء کیا گیا۔
    انہوں نے ناہید صدیقی فاؤنڈیشن کے نام سے اپنی ایک تنظیم بنائی ہے، یہ تنظیم رقص، یوگا اور موسیقی کے لئے کام کرتی ہے۔

  • سیاسی دشمنی کا نشانہ بن رہی عوام، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی دشمنی کا نشانہ بن رہی عوام، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ایک ایسے وقت میں جب عوام کا ایک بڑا حصہ ناقابل تصور مہنگائی کا سامنا کررہاہے ۔ ملک کی سڑکوں پرمفت آٹا لینے کے لئے بزرگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ وطن عزیز کے شہریوں کو پولیس اٹھا کر جیلوں میں بند کر رہی ہے ۔ شہریوں کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ، ہیں تو وہ پاکستانی شہری ، ان کا قصور یہ ہے کہ یہ ان سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں جن کے ووٹوں سے اقتدار اور اختیارات سیاستدانوں کو ملتے ہیں۔ دنیا کی شاید واحد قوم ہے جن کی ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے والے سیاستدان ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان دلخراش حالات میں وزیر داخلہ نے پنجابی فلموں والا ڈائیلاگ بول کر ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کردیا۔ کیا سیاسی گلیاروں میں پُتر شاہیا دا اور جگا ڈاکو فلموں والے ڈائیلاگ بولے جائیں گے؟ وزیر داخلہ کے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) ذاتی دشمن بن گئے ہیں۔ کچھ اسی قسم کا رویہ عمران خان کا رہا ماضی میں وہ بھی پنجابی فلموں کے ڈائیلاگ کا سہارا لیتے رہے۔ آج کے سیاستدانوں پر حیرت ہے کہ سیاست کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا۔ وطن عزیز میں جمہوریت مستحکم نہیں جمہوریت پر سوالیہ نشان بھی ہے اور زوال بھی ہے ۔ آئین اورقانون کی حکمرانی کا زوال ۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنا ، اعلیٰ عدلیہ پر روز مرہ کے حملے ۔ سول انتظامیہ اورپولیس کا غلط استعمال جمہوری ڈھانچے کے منہدم ہونے کے واضع اشارے ہیں۔

    ذرا سوچئے اس وقت عالمی سطح پر وطن عزیز کا جو نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔ دنیا میں پاکستان بطور ریاست کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کیا عالمی دنیا کے لیڈران آج کے پاکستان میں جاری جمہوریت پریقین کرلیں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ کیا شہباز شریف ، عمران خان اورپی ڈی ایم میں شامل جماعتیں عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ کررہی ہیں؟ جن حالات میں اس وقت وطن عزیز گزر رہا ہے اور عوام ،سیاسی گلیاروں میں لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ملکی سرحدیں پاک فوج نے مضبوط کردی ہیں ۔ ہمارے جوان وطن عزیز کو مستحکم کرنے کے لیے شہادتیں دے رہے ہیں تاہم ایک جمہوری حکومت کے لئے ایک ہوشیار ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو ملک کے مسائل حل کرسکے۔

  • افغانستان نے پاکستان کو دوسرے ٹی 20 میں بھی شکست دے دی

    افغانستان نے پاکستان کو دوسرے ٹی 20 میں بھی شکست دے دی

    <strongافغانستان نے پاکستان کو دوسرے ٹی 20 میں بھی شکست دے دی

    تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں افغانستان نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ جبکہ شارجہ میں کھیلے گئے میچ میں کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    اس سے قبل تین ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے افغانستان کو جیت کے لیے 131 رنز کا ہدف دے دیا ہے جبکہ شارجہ میں کھیلے جا رہے میچ میں کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا اور پہلے ہی اوور میں بغیر کسی رن پر صائم ایوب اور عبداللہ شفیق آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد محمد حارث 15، طیب طاہر 13 اور اعظم خان ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

    اس کے بعد عماد وسیم اور کپتان شاداب نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلیں تاہم شاداب 32 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔ گرین شرٹس نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 130 بنائے، عماد وسیم 64 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ افغانستان کے فضل حق فاروقی نے 2 جبکہ نوین الحق، راشد خان اور کریم جنت نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ افغانستان کو سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔

    جبکہ اس سے قبل ین ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا۔ جبکہ شارجہ میں کھیلے جا رہے میچ میں کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ افغانستان کو سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔

    دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں جنوبی افریقا نے 259 سکور کا پہاڑ جیسا ہدف ہنستے کھیلتے ہوئے 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ جبکہ جنوبی افریقا نے پہلے ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ کیا، بے جان پر آتے ہی ویسٹ انڈیز نے پروٹیز باؤلرز کا بھرکس نکال دیا اور پاوور پلے میں ایک وکٹ کے نقصان پر 102 سکور بنا ڈالے۔

    کائل میئرز اور جانس چارلس نے وکٹ کے چاروں طرف بلند و بالا چارٹس کھیلے اور حریف باؤلرز بے بس ہو گئے، پہلی وکٹ 2 سکور پر گرنے کے بعد کائل میئرز اور چارلس کے درمیان 137 رنز کی پارٹنر شپ بنی جس کا اختتام باؤلر جانسن نے کیا۔ اس دوران جانسن چارلس نے 39 گیندوں پر تیز ترین سنچری بنائی، اور 46 گیندوں پر 118 سکور بنا کر آؤٹ ہوئے، دیگر کھلاڑیوں میں رومن پاول 28 ، شیفرڈ 41 سکور بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ مارکو جانسن نے تین جبکہ پارنیل نے دو کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔

    ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقا نے ویسٹ انڈیز کو لاجواب کر دیا اور محض 10 اوورز میں 152 رنز بنا ڈالے۔ اس دوران وکٹ کیپر بیٹر ڈی کوک 44 گیندوں پر 100 سکور بنا کر پویلین لوٹ گئے، انہوں نے اپنی باری میں نو چوکے اور آٹھ چھکے لگائے۔ دیگر کھلاڑیوں میں ریزا ہینڈرکس نے 28 گیندوں پر 68 سکور بنائے، ریلی روسو نے 4 گیندوں پر 16، ڈیوڈ ملر 10 گیندوں پر 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کپتان مارکرم 21 گیندوں پر 38 سکور بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، کلاس نے بھی 16 رنز کی ناٹ آؤٹ باری کھیلی، جنوبی افریقا نے ہدف 19 ویں اوورز میں حاصل کر لیا، کالی آندھی کی طرف سے جیسن ہولڈر ، اوڈین سمتھ، ریفر، رومن پاوول نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

  • ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جس ملک میں الیکشن کمیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو۔ پارلیمنٹ بے سود، الیکشن کمیشن مشکوک، سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ قرار دینے میں ایڑھی چوٹی کا زولگاتے ہوں وہاں جمہوریت کیسی؟ پانامہ لیکس میں سینکڑوں شخصیات ملوث تھیں ۔ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص فرد واحد کو تاحیات نااہل کر دیا گیااور سزا سنا دی گئی۔ اب ملک کے ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان کو غدار اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا پانامہ لیکس میں دوسرے افراد پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ سیاستدان کب سمجھیں گے ؟-

    اس وقت مسئلہ جمہوری نظام کے مستقبل کا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جو جمہوریت کا دفاع کرے ۔شہبازشریف جو اس وقت ملک کے وزیراعظم بھی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں نے نوازشریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دفن کر کے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو عوام میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو نوازشریف کے بیانیے کو مل رہی تھی۔ لاہور، پنجاب جو کسی زمانے میں بھٹو کا تھا پھر نوازشریف پنجاب میں سیاسی طاقت بن گئے اور اب عمران خان لاہور میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔

    روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم سے الگ سیاست کر رہی ہے ۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ،ملک اس وقت انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہے مہنگائی کا بے لگام گھوڑا عوام کی لاشوں کو بے دردی سے سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے ۔ایک طرف آٹے کی لائنوں میں لگے بے بس مرد و زن کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف سیاستدان انتقامی سیاست کی حدود کو کراس کر رہے ہیں۔

    یہ وطن کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے ۔عوام کے بنیادی اور ریاست کے مسائل کو حل کرنے میں عمران خان سمیت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی اپنا کردار ادا کرے ۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاشی قاتلوں کے جال میں گھر چکا ہے اور ہمارے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد کے بارے میں بھی سوچیں۔

  • دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    سراج الدین ظفر

    پیدائش:25 مارچ 1912
    وفات:06 مئی 1972ء

    نام سراج الدین اور تخلص ظفر تھا۔ 25 مارچ 1912ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ 1928ء میں میٹرک اور 1930ء میں ایف سی کالج لاہور سے ایف اے کیا۔ پھر کالج کی تعلیم چھوڑ کرہوابازی کی تعلیم شروع کی اور دہلی فلائنگ کلب سے ہوابازی کا اے کلاس لائسنس حاصل کیا۔ والد کے ناگہانی انتقال کے وجہ سے یہ سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ 1933ء میں ایف سی کالج سے بی اے کیا۔ 1935ء میں ایل ایل بی کیا۔ ابتدا میں انھوں نے وکالت شروع کی، لیکن جلد ہی اس پیشہ سے ان کی طبیعت اکتا گئی۔ دوسری جنگ عظیم میں افسر کی حیثیت سے ہوائی فوج میں بھرتی ہوگئے اور دس برس تک متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ 1950ء میں اس ملازمت کو خیرباد کہا اور تجارت کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شاعری کرتے تھے۔ ان کے دوشعری مجموعے ’’زمزمۂ حیات‘‘ 1946ء اور ’’غزال وغزل‘‘ 1968ء میں شائع ہوئے۔ ’’غزال وغزل‘‘ پر 1969ء میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ افسانوں کا مجموعہ ’’آئینے‘‘ 1943ء میں فیروز سنز نے شائع کیا۔ شروع میں انھوں نے سیماب اکبرآبادی سے اصلاح لی۔ 06 مئی1972ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:32

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل رات
    ابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    ہجومِ گل میں رہے ہم ہزار دست دراز
    صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے

    وہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں
    ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں

    مخمور بوئے زلف نہ آئیں گے ہوش میں
    چھڑکے ابھی نسیمِ بہاراں گلاب اور

    ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا
    پھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا

    اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں
    اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں

    میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو
    اس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کرو

    اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں
    بنامِ گل بدناں رُخ سوئے پیالہ کریں

    شوق راتوں کو ہے در پے کہ تپاں ہو جاؤں
    رقصِ وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں

    ہم میں کل کے نہ سہی حافظؔ و خیامؔ ظفرؔ
    آج کے حافظؔ و خیامؔ ابھی باقی ہیں

    دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے
    رات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئے

    ہم آہوانِ شب کا بھرم کھولتے رہے
    میزانِ دلبری پہ انہیں تولتے رہے

    یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے
    مجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دے

    اس طرح شوقِ غزالاں میں غزل خواں ہو ظفرؔ
    شہرتِ مشکِ غزل شہرِ ختن تک پہنچے

  • جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    آرتی کماری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ ولادت:25 مارچ 1977ء
    جائے ولادت:گیا، بہار
    والد کا نام:الکھ نرنجن پرساد سنہا
    والدہ کا نام:ریتا سنہا
    شوہر کا نام:مادھویندر پرساد
    موجودہ/مستقل پتا:ششی بھون، آزاد کالونی، روڈ 3
    ماڑی پور، مظفر پور بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آرتی کماری کی شاعری سے انتخاب

    عشق میں وصل کم تھا جدائی بہت
    کروٹوں میں سسکتی رہی زندگی

    تُو نہیں ہے زیست میں تو تیرگی ہے ہر طرف
    ہجر کی تنہائی میں دل کو جلایا جائے گا

    زخم اتنے دیجئے جتنے کہ سہہ پاؤں گی میں
    درد گزرا حد سے تو ہمت میری بڑھ جائے گی

    آہٹ سی کیا ہوئی کہ مرا دل سہم گیا
    اب دل کی دھڑکنوں کو جگانے لگے ہیں آپ

    اوروں کے عیب دیکھیے اِک شرط ہے مگر
    اک روز اپنے گھر کے بھی حالات دیکھیے

    دل کی دھڑکن ذرا تیز ہونے لگی
    پاؤں جب بھی بڑھے تیرے گھر کی طرف

    میری دنیا میرا مسکن میری جنت تُو ہے
    مجھ کو سینے سے لگا پاس بلا لے مجھ کو

    دور تک ریت ہے نہ دریا ہے
    پیاس کو پیاس سے پیا کیجے

    جن کے لیے تھی دل کی وہ محفل سجی ہوئی
    آئے نہیں وہ رسم نبھانے تمام رات

    میں تو بکھرنے والی تھی راہِ حیات میں
    تُو بن کے حوصلہ ملا تو مَیں سنور گئی

    غم سے جب ملنا ملانا ہو گیا
    کم خوشی کا آنا جانا ہو گیا

    تیرے ہمراہ یوں چلنا نہیں آتا مجھ کو
    وقت کے ساتھ بدلنا نہیں آتا مجھ کو

    ہر طرف ہے شور جاری خوف طاری ہے
    من ویوتھت ہے سانس بھاری خوف طاری ہے

    يدُھ میں کتنے ہی نر سنہا ر کا کارن بنا تھا
    دروپدی کا وہ کٹل پریہاس ہم سب جانتے ہیں

    منگل راہو کیتو شنیچر جب بھی آنکھ دکھاتے ہیں
    جپ تپ سنیم دان سے اکثر اُن کو مناتی میری ماں

    نہ گھبرائیں گے بادھا سے نہ ہا ریں گے نراشا سے
    چلیں گے مشکلوں کو پار کر اگلی صدی میں ہم

    پریم کی بھاونا رکھو من میں
    پشپ کھلتے ہیں جیسے اپون میں
    تُم بھی رم جاؤ اس طرح مجھ میں
    جیسے مِیرا رمی ہے موہن میں

    خامشی بڑھنے لگی ہے آرتی
    حال آنکھوں سے سنانا چاہئے

    یہ دیکھیے کہ پیاس ہےہونٹوں پہ کس قدر
    آنکھوں کے درمیان سمندر نہ دیکھیے

    میرا سایہ بچھڑ گیا مجھ سے
    دھوپ سر سے اُتر گئی ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تری یاد میں جو گزارا گیا ہے
    وہی وقت اچھا ہمارا گیا ہے
    بھلا اور کیا اپنا پن وہ دکھائے
    ترا نام لے کر پکارا گیا ہے
    تمہیں میری حالت پتہ کیا چلے گی
    مرا جو گیا کب تمہارا گیا ہے
    تمہیں عشق کا آئنہ مان کر کے
    مقدر کو اپنے سنوارا گیا ہے
    عجب ہے محبت کا میدان یارو
    نہ جیتا گیا ہے نہ ہارا گیا ہے
    لکھا ریت پر نام میں نے تمہارا
    ندی میں بھی چہرہ نہارا گیا ہے
    ہے میری بھی عادت تمہارے ہی جیسی
    ہر اک رنگ مجھ پہ تمہارا گیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مشکلیں لاکھ ہوں لیکن مری خواہش ہوگی
    آپ کا ساتھ نبھانے کی تو کوشش ہوگی
    تہمتیں کتنی لگاؤ گے محبت پہ مری
    اس سے تو شہر میں نفرت کی نمائش ہوگی
    ان اندھیروں سے کوئی خوف نہیں ہے مجھ کو
    میں سمجھتی ہوں یہاں نور کی بارش ہوگی
    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی
    اب تو مظلوم بھی خنجر کا سہارا لے گا
    نہ کوئی ونتی کرے گا نہ گزارش ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تمہیں دنیا کی نظروں سے بچا کر ساتھ رکھنا ہے
    مری چاہت کا خط ہو تم چھپا کر ساتھ رکھنا ہے
    مرے آنگن میں ٹھہرے ہیں تمہاری یاد کے سائے
    تمہارے آنے تک دل سے لگا کر ساتھ رکھنا ہے
    کہانی کی طرح تم کو سنا سکتی نہیں سب کو
    تمہیں گیتوں کے جیسے گنگنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سجانا ہے کبھی ہاتھوں میں مہندی کی طرح تجھ کو
    کبھی آنکھوں میں کاجل سا سما کر ساتھ رکھنا ہے
    میں تتلی کی طرح ہوں پھول کے جیسا ہے تو ہمدم
    میں دل ہوں سو تجھے دھڑکن بنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سفر مشکل بہت ہے اور منزل دور ہے اپنی
    ہمیں مشکل کو ہی ہمت بنا کر ساتھ رکھنا ہے

  • شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    نہ اضطراب نہ غوغائے گریہ و ماتم
    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    انجم عثمان

    اصل نام : انجم
    والد کا نام:احمد علی
    والدہ کا نام:رئیسہ خاتون
    شوہر کا نام:مرزا عثمان علی بیگ
    اولاد:دو بیٹے، دوبیٹیاں
    آبائی وطن:پاکستان
    جائے ولادت:کراچی، پاکستان
    تاریخ پیدائش : 25 مارچ : 1968
    تعلیم:ایم ایس سی (کیمسٹری)
    پیشہ:خاتونِ خانہ
    زبان:اردو
    اصناف:غزل، نظم، حمد، نعت، منقبت
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)العطش(شعری مجموعہ)
    ۔ (2)ناشنیدہ (شعری مجموعہ)
    آغازِ شاعری:1965
    ایوارڈ : بیشمار
    پتا:کلفٹن ، کراچی، پاکستان

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    زر غبار کو آئینہ بار کر نہ سکے
    نقوش عکس کو تصویر یار کر نہ سکے
    ہے وحشتوں کا تلاطم پسِ نوائے سکوت
    میان موجۂ گل ذکر یار کر نہ سکے
    نہ اضطراب، نہ غوغائے گریہ و ماتم
    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے
    ٹپک نہ چشمِ ہم آہنگ سے اے قطرۂ خوں
    کہ چارہ گر بھی تجھے شرمسار کر نہ سکے
    ستارہ گیر تھا رخشِ ہنر مگر پھر بھی
    طلسم حسن سخن بے کنار کر نہ سکے
    ہزار زاویۂ حرف آشکار کیے
    قبائے سرو غزل زرنگار کر نہ سکے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    جب کسی شعر میں پوشیدہ بھنور کُھلتے ہیں
    تب کہیں جا کے طلسمات کے در کُھلتے ہیں

    نشانِ راہ تھے افلاک راستے میں فقط
    غبارِ جاں تو نجانے کہاں کہاں پہنچا

    آئینۂ عالم کی خبر دیکھ رہے ہیں
    ناپید سے پیدا کا سفر دیکھ رہے ہیں

    یہ دیر و حرم ،گرجا و صومعہ کیوں !
    خرابہ ،خرابات از کار رفتہ

    شیشۂ خوش نظر سے پی بادۂ عشق ،ہاں مگر
    میکدۂ نشاط میں تذکرۂ سبو نہ کر

  • ہلاکو خان ،چنگیز خان کے راستے کا انتخاب غلط۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    ہلاکو خان ،چنگیز خان کے راستے کا انتخاب غلط۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    اس وقت ملک کی بائیس کروڑ عوام آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے رحم و کرم پر ہے اسے ہی جمہوریت کے ثمرات کہتے ہیں۔ سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم جماعتوں نے عدلیہ کے کچھ ججوں کیخلاف طبل بھی بجا دیا ہے۔ عام آدمی حکومت کی جارحانہ حکمت عملی سے بے حد پریشان ہے۔ قوم مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہے حیرانگی کی بات ہے جمہوریت، قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ آئین کو سیاسی گلیاروں میں گھر کی لونڈی سمجھ لیا ہے۔ سب جانتے ہوئے کہ آئین شکن کی آئین میں کیا سزا ہے ؟زیادہ عرصہ نہیں گزرا سابق چیف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف مرحوم کو انہی سیاستدانوں نے آئین شکنی پر آرٹیکل 6 لگا کر مقدمہ چلایا پھر انہیں اسی مقدمہ میں سزائے موت سنائی گئی۔ آج وہی سیاستدان آئین شکنی پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ انہی سیاسی جماعتوں میں وہ سیاستدان موجود ہیں جنہوں نے جمہوریت کی خاطر آمریت کے دور میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بدترین تشدد کا بھی سامنا کیا سیاسی جماعتوں میں ایسے سیاستدانوں کی تعداد بہت کم رہ چکی ہے جو آئین اور قانون جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے سیاستدان دعویدار تو جمہوریت کے ہیں مگر غیر جمہوری اعمال میں مصروف ہیں

    حیرانگی عمران خان پر بھی ہے وہ ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی تاحیات نااہلی پر بھنگڑے ڈال رہے تھے اور آج اپنے اوپر بنائے سینکڑوں مقدمہ کا رونا رو رہے ہیں ایک دوسرے خلاف جنگ میں مصروف سیاستدانوں نے اس ملک اور عوام کو آج یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ لائنوں میں لگے آٹا لینے کی خاطر وہ مر رہے ہیں کیا یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں عوام ووٹ بھی لائن میں لگ کر دے اور آٹا بھی لائنوں میں لگ کر لے؟ اگر سیاسی جماعتوں نے ماضی سے سبق نہ سیکھا تو تو بڑا نقصان ہونے کا خطرہ موجود ہے سیاسی جماعتیں تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرتی سیاسی جماعتیں ملکوں اور قوموں کو ان کی مشکلات سے نکالتی ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے راستے دکھاتی ہیں۔ لوگ مہنگائی کی وجہ سے بلبلا اٹھی ہیں اس وقت ایک راستہ مذاکرات کا راستہ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ اس ملک اور عوام کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہلاکو خان اور چنگیز خان کے راستے کا انتخاب ہرگز ہرگز غلط ہے۔

  • مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی

    مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی

    مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی
    حیدرعلی صدّیقی

    امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی جامع اور ہمہ جہت شخصیت سے کون واقف نہیں! جو بیک وقت بلند پایہ مفکر، عظیم دانشور، زبردست صحافی، محقق مصنف، بالغ النظر مفسر، عبقری سیاست دان، آفتاب علم و دانش، مجتہد بالغ نظر، کوہِ عزم و ثبات، سالارِ حریت، خطیب معجز بیان، ادیب سحر طراز، صاحب اسلوب انشاء پرداز، شاعرِ سخن رس کے عملی تصویر تھے۔ متضاد حیثیتوں پر مبنی زندگی کے مالک مولانا آزاد نے جس میدان میں بھی قدم رکھا تو کامیابیوں اور کامرانیوں کو اپنا مقدر پایا۔ آزاد جی بظاہر ایک جسم و جان تھے لیکن شورش کاشمیریؒ کے بقول ابوالکلام آزاد کئی دماغوں کا ایک انساں تھے۔ نثر نگاری اور انشاء پردازی تو جیسے آپکا خاصہ تھا، جس کے متعلق بڑے بڑے ادیب انگشت بدنداں تھے اور یہ اقرار کرکے رہ نہ سکے کہ مولانا آزاد نثر میں شاعری کرتے ہیں۔ آپ کی نثر کے متعلق بلند پایہ غزل گو شاعر جناب حسرت موہانی نے کہا تھا: ؎

    جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
    نظم حسرت میں بھی مزا نہ رہا

    اللہ کریم کے طرف سے ہر انسان کو مختلف تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا جاتا ہے، لیکن انسان حالات، معاشرتی رجحان یا ستم ہائے روزگار کے وجہ سے خود کو ایک کام کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں اور باقی دیگر تخلیقی صلاحیتوں کا ان سے خاطر خواہ اظہار نہیں ہوتا۔ مولانا ابوالکلام آزاد بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھی، جو بظاہر تو ایک حق گو صحافی، مفسر اور نثر نگار تھے۔ لیکن اس کے ساتھ وہ ایک سحر طراز قسم کے شاعر اور سخن ور بھی تھے۔ شعر و شاعری کا شوق انھیں بچپن سے تھا، اور کیوں نہ ہوتا کہ آپ کے والد گرامی مولانا خیرالدینؒ ایک پیر و مرشد ہونے کے ساتھ ایک بلند پایہ عربی شاعر اور مصنف بھی تھے۔ مولانا آزاد کے بڑے بھائی غلام یاسین ابونصر آہ جنکا جوانی میں انتقال ہوگیا تھا، وہ بھی ایک بے مثل شاعر تھے، اور داغ دہلوی سے شعرگوئی کی اصلاح لے چکے تھے۔ مولانا آزاد کی بہنیں بھی تعلیم یافتہ اور اعلی شعری اور ادبی ذوق کی حامل تھیں۔ مولانا آزاد کی ذوق سخن آرائی میں اس ماحول کا دخل تو تھا ہی، لیکن عملی طور آزادؔ کے شعر گوئی کے متحرک مولوی عبدالواحد خان سہسرامی تھے۔ مولانا آزاد ان سے بے تکلفی اور آزادی کے ساتھ شعر گوئی اور ادب کے موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔ مولانا آزاد کی طبیعت بچپن میں زوروں پر تھی لیکن کم عمری میں خود اعتمادی کے فقدان کے وجہ سے وہ اپنے اشعار کسی کو سنا نہ سکے، حتی کہ اپنے شعری ذوق کے متحرک مولوی عبدالواحد خاں کو بھی نہیں سنائے، اور اسی طرح آزاد جی کے سینکڑوں اشعار کا مجموعہ محفوظ نہ رہا۔ مولانا آزاد کی پہلی غزل کی سرگزشت سن 1898ء کی بات ہے، کہ ان دنوں بمبئی سے حکیم عبدالحمید فرخؔ نے ایک گلدستہ ”ارمغان فرخ“ نکالا تھا، اس میں دی گئی طرحوں پر شعرا غزلیں بناتے اور پھر ماہوار مشاعرہ ہوتا تھا۔ اس گلدستے کی ایک طرح ”پوچھی زمیں کی تو کہی آسمان کی“ پر مولوی عبدالواحد خاں نے غزل بنائی اور اس کے چند اشعار مولانا آزاد کو سنائے۔ پھر کیا تھا کہ یہ اشعار مولانا آزاد کے ذوق سخن سرائی کے لیے متحرک بنے۔ مولانا آزاد کی افتاد زوروں پر تھی، چنانچہ آپ نے اس طرح پر تیس اشعار نکالے، جن میں سے سترہ اشعار منتخب کرکے غزل بنائی۔ لیکن طبیعت مطمئن نہیں تھی اور کسی کو سنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، بار بار اصلاح اور کوشش کے بعد آزاد جی نے مولانا عبدالواحد خاں کو مطلع سنائی تو وہ چیخ اٹھے اور خوب تحسین و تعریف کی۔ مولانا آزاد نے اور اشعار سنائے اور وہ ہر ایک شعر پر خوب داد و تحسین سے نوازتے۔ اس کے بعد مولانا آزاد نے اگلے دن ہونے والے مشاعرے میں اس غزل کو سنانے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی ان کی عمر بمشکل دس بارہ برس تھی، خود اعتمادی کا فقدان تھا، مجمع عام میں سنانے کا حوصلہ نہ تھا، اور پھر کچھ خاندانی روایات اور والد محترم کے خوف سے اس مشاعرے میں شرکت مناسب نہیں سمجھا۔ مولانا آزاد نے اس غزل کو مولوی عبدالواحد خاں کو دی کہ وہ مشاعرے میں سنائے، جب انھوں نے یہ غزل مشاعرے میں سنائی تو مجمع عام بھی داد و تحسین سے نوازے نہ رہ سکا۔ مذکورہ غزل کے چند ابیات قارئین کے پیش خدمت ہیں: ؎

    نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
    نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
    گنبد ہے گردباد تو ہے شامیانہ گرد
    شرمندہ میری قبر نہیں سائبان کی
    ہوں نرم دل کہ دوست کے مانند رو دیا
    دشمن نے بھی جو اپنی مصیبت بیان کی
    آزادؔ بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
    پوچھی زمین کی، تو کہی آسمان کی

    جب مولانا عبدالواحد خاں کے ذریعے مولانا آزاد کو مجمع عام کی طرف سے داد و تحسین کا پتہ چلا تو آزاد جی خوشی سے شادماں اور مخمور ہوگئے۔ ایک ماہ بعد یہ غزل ”ارمغان فرخ“ میں بھی شائع ہوئی، اور اسی طرح یہ آزاد جی کی پہلی باقاعدہ غزل ہونے کے ساتھ پہلی مطبوعہ غزل بھی قرار پائی۔ زندگی میں پہلی بار اپنا کلام اور نام کسی رسالے میں چھپا ہوا دیکھ کر مولانا آزاد کو جو خوشی محسوس ہوئی اس کے متعلق وہ خود چھتیس (36) برس بعد مولانا غلام رسول مہر کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں کہ وہ خوشی میں آج بھی اسی طرح محسوس کر رہا ہوں۔

    مولانا آزاد علمی اور تحقیقی، قلم آرائی اور سخن وری ہر ایک میدان میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے، جس طرح وہ نثر نگاری میں ممتاز تھے اسی طرح وہ شعر گوئی اور سخن سرائی میں بھی ممتاز تھے۔ آپکی یہ رباعی تو قارئین سے بارہا داد وصول کرچکی ہے ؎

    تھا جوش و خروش اتفاقی ساقی
    اب زندہ دلی کہاں ہے باقی ساقی
    مے خانے نے رنگ روپ بدلا ایسا
    میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی

    عام طور شعراء حمد یا نعت بہت کم ہی کہتے ہیں، زیادہ تر انکی شاعری محبت، وصال، فراق، احساسات، ارمانوں اور تمناؤں سے عنوان ہوتی ہے، اور اسی طرح وہ حمد یا نعت کو اپنے شاعری کے لیے بطور تمہید کہتے ہیں، خصوصا جب اپنا شعری مجموعہ شائع کرتے ہیں۔ لیکن مولانا آزادؒ اس حوالے سے بھی ممتاز حیثیت کے حامل ہیں، جو شعراء دنیا جہاں کے باتیں اپنی شاعری میں سمو دیتے ہیں، لیکن نعت گوئی کے لیے ان کے پاس الفاظ نہ ہو تو ایسے شاعروں پر آزاد جی طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ؎

    شمہ ثنائے شاہ رسلﷺ کا نہ لکھ سکے
    بیکار شاعروں کی سخن گستری ہوئی

    مولانا آزاد اپنی نعتیہ شاعری کو اپنے لیے ذخیرۂ آخرت، وجہ شہرت اور قیامت میں آرزوئے شفاعت مانتے ہیں۔ آزاد جیؒ کے نزدیک جب وہ کائنات کی عظیم ہستی اور افصح العرب کا ثنا خواں ہے تو اس کی سخن وری اور قلم آرائی میں فصاحت و بلاغت کیونکر نہ ہو؟ فرماتے ہیں: ؎

    میں افصح العرب کا ثنا خواں ہوں دوستو
    کیونکر نہ ہو سخن میں فصاحت بھری ہوئی

    یوں تو مولانا آزاد ؒ نے نثر نگاری سے پہلے شعر گوئی شروع کی تھی، اور اس دور میں مشاعروں کے علاوہ اس دور کے ”مخزن“ جیسے مؤقر رسائل میں آپ کا کلام شائع ہوتا تھا۔ لیکن بعد میں آپ نے شاعری کو یکسر چھوڑ کر خود کو نثر نگاری کے دائرے میں داخل کردیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک سخن وری میں مولانا آزاد کے شعوری عمل کا دخل تھا۔ مولانا آزادؒ نے انتہائی کم سنی میں 1898 کے قریب شاعری کا آغاز کیا تھا، جبکہ ابھی انکی عمر کے بچے کھیل کھود سے فارغ نہیں ہوئے تھے۔ سن 1902 کا دور آپ کی شاعری کا دورِ عروج ہے۔ اس کے بعد مولانا آزادؒ تراجم، مضمون نویسی اور علمی و ادبی تالیفات کو شعر گوئی پر ترجیح دیتے تھے، یعنی اب مولانا کا رجحان شعر نگاری کے بجائے نثر نگاری کے جانب ہوگیا۔ اور بالآخر انھوں نے 1904 میں شعر گوئی ترک کردی، اور اس کا محرک یہ تھا کہ مولانا آزاد شاعری سے بڑے علمی و مذہبی کاموں کے لیے وقت نکال سکے۔ اور ایک طرح انکی ترک شعرگوئی اچھی ثابت ہوئی، کیونکہ اگر آپ شعرگوئی میں منہمک رہتے تو آج ہم ان کی اس نثر سے محروم ہوجاتے جس نثر سے فصاحت و بلاغت کے چشمے نکلتے ہیں، جس میں علم و تحقیق، ادب و دانش کا دریا جاری ہے۔

    مولانا آزادؒ کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے کلام میں تخیل آفرینی، صفائی زبان، معاملہ بندی، زور بیان، قادر الکلامی، فصاحت و بلاغت، خلوص، صداقت، علمیت اور روانی جیسے خصوصیات پائے جاتے ہیں۔ محبان آزاد کے نام ایک رباعی پیش خدمت ہے: ؎

    آفتِ جاں ہے قصّۂ جوانی میرا
    ظاہر ہے حالِ نوحہ خوانی میرا
    اک جان بچاؤں میں کس طرح آزادؔ
    دل کا دشمن ہے یارِ جانی میرا

    مولانا آزادؒ کی شعر گوئی صرف اردو زبان تک محدود نہیں، آپ نے فارسی زبان میں بھی خوب سخن آرائی کی ہے۔ ایک رباعی قارئین کے ذوق کے لیے پیش خدمت ہے: ؎

    ساقی تو نگاہ کن بریں ابر و بہار
    یک ساغرے دیدہ و بیں لطف خمار
    وقتیست کہ ماہ روئے با ناز و ادا
    یک زیر نظر باشد و یک زیر کنار

    مولانا آزادؒ کی نثرنگاری انتہائی مشکل ہے، جو بہت سعی طلب ہے، جس میں علم و دانش، شعور و ادراک کے علاوہ الفاظ کا ایک خزانہ موجود ہے، تاہم انھوں نے شعر گوئی میں سہل اندازی اور سلاست سے کام لیا ہے اور بہت ہی آسان لفظوں میں اپنے مطلب کو بیان کیا ہے جس سے روانی ابھر کر ظاہر ہورہی ہے جس کے بدولت انکے کلام میں رنگینی اور دلکشی پیدا ہوتی ہے اور قاری پر وجد طاری ہوجاتا ہے۔ مولانا آزادؒ کے شاعری سے اس وجہ سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ یہ صرف پندرہ برس سے کم عمر ایک بچے کا کلام ہے، کیونکہ مولانا آزاد کا کلام کسی بھی طور اردو کے متوسط درجے کے شعراء کے کلام سے کم نہیں ہے۔ جس سخن ور کے کلام کو دیکھ کر غزل خواہوں کے امام حسرت موہانی بھی اپنے نظم کو ” بے مزہ“ کہنے لگے تو اس بچے کے کلام کو ناپختہ کہنا سراسر ناانصافی اور دیوالیہ پن ہے۔ مولانا آزاد کے شاعری اس دور کی مقبول عام شاعری تھی اور ”مخزن“ جیسے معیاری ادبی پرچے میں تواتر کے ساتھ ان کے کلام کا شائع ہونا ان کی عظمت کا بین ثبوت ہے۔ اور پھر امیرمینائی، شوق اور شوخی جیسے بڑے اور بلندپایہ شعراء بھی آپ کی شاعری کو قابل اعتناء نہیں سمجھتے تھے، اور ان کے کلام کی اصلاح کرتے تھے اور مولانا آزاد نے ان سے خود بھی اصلاح لی تھی اور بارہا امتحان لینے کے باوجود یہ تینوں مولانا آزاد کی سخن وری سے استعجاب میں تھے۔ اگر چہ ان دنوں داؔغ کی شہرت کا ڈنکا بج رہا تھا لیکن مولانا آزاد کے نزدیک استادی کے لیے معیار شہرت اور ہردلعزیزی نہیں تھا، اس معیار پر داؔغ تو پورے نہ اترے لیکن یہ فضیلت کی دستار اور جبۂ معلمی شوؔق کے قامت زیبا پر موزوں ہوا۔
    مولانا آزاد کی سخن وری علم و ادب کے شہ پاروں سے بھری ہوئی ہے جو علم و ادب کے شائقین، اور تشنگان سخن آرائی کے لیے دعوت عام دے رہی ہے۔ جن لوگوں کو سخن وری کا شوق ہے تو ان کو مولانا آزاد کی علم و ادب سے بھر پور سخن سرائی کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے، اور کیونکر چاہیے کہ آزاد جی خود صلائے عام دے رہے ہیں: ؎

    اے گلشن سخن کے ہوا خواہ شائقو
    آؤ آؤ بہارِ بے خزان کے مزے لوٹو