Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سعودی عرب کا پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ

    سعودی عرب کا پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ

    سعودی عرب نے پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ دے دیا۔ سیاسی اشرافیہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اس کی بنیادی وجہ ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ اصلاحات سے چند منتخب افراد کے مفادات کو پورا کرنے سے گریز کیا جاتا ہے. اسکے ساتھ ہی جن لوگوں کی مقبولیت کا گراف بلند ہے ان کے احتساب کی حقیقت بھی سامنے ہے، ایسے میں سعودی عرب کی جانب سے سے پاکستان کو بلاسود قرضے فراہم کرنے سے انکار کرنا حیران کن نہیں ہونا چاہئے،

    سعودی وزیر خزانہ نے جنوری میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کہا، "ہم بغیر کسی تار کے براہ راست گرانٹ اور ڈپازٹس دیتے تھے اور ہم اسے تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ کہا جا سکے کہ ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستانی سیاست دانوں کو لگتا ہے کہ اس تبدیلی نے پاکستان کو نکال دیا ہے، تو انہیں اب بہتر معلوم ہونا چاہیے

    ایسے میں پاکستان کی حکمت عملی ایسی ہے کہ جیسے وہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ دنیا انکی مقروض ہے، ایک سوچ یہ بھی تھی کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، دنیا پاکستان کو گرنے نہیں دے گی، جو کہ غلط تھی

    سعودی عرب ان دنوں ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف جا رہا ہے، پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت تھی، سعودی ریڈار پر ہم ایک درجہ کم ہو گئے ہیں ، ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی گیم چینجر ہے، سعودی عرب ایران میں سرمایہ کاری بھی شروع کرے گا،علاوہ ازیں ترکی کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کا آغاز 2020 میں ہوا تھا ۔ ترکی سمجھ گیا تھا کہ اسے سعودی عرب کے ساتھ ایک بہتراور مضبوط تعلقات بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے تجارت بڑھانے، سعودی عرب سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے اور ان سے براہ راست سرمایہ کاری حاصل کرنے پر توجہ دی

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب خود کئی مواقع اور مقامات پر واشنگٹن سے مدد مانگ رہا ہے، اس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا بھی شامل ہے جو امریکہ کے کچھ احسانات سے مشروط ہے

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛ پاکستان کیلئے مفید

    ورلڈ بینک 2020 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نظام شمسی سے توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ ملک کے صرف 0.071 فیصد رقبے کو شمسی توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے سے پاکستان کی بجلی کی موجودہ طلب پوری ہو جائے گی۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہئے اسکی بجائے جو وہ کر رہا ہے،

    بدقسمتی سے، بدعنوانی، ذاتی مفادات کا تحفظ، مقدس گائے سمیت پورے بورڈ میں قانون کے نفاذ میں ناکامی نے پاکستان کو سرمایہ کاروں کے لیے ناخوشگوار بنا دیا ہے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بین الاقوامی میدان میں کوئی دوست نہیں البتہ اتحادی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دوست اور دشمن دونوں بدل جاتے ہیں۔

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

  • گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    پیدائش:28 اگست 1749ء
    فرینکفرٹ
    وفات:22 مارچ 1832ء
    وایمار
    وجۂ وفات:دورۂ قلب
    طرز وفات:طبعی موت
    رکن:سائنس کی پروشیائی اکیڈمی
    فری میسن، الومناتی
    سائنس کی روسی اکادمی
    مادر علمی:لائپزش یونیورسٹی
    (1765-1768)
    تخصص تعلیم:اُصول قانون
    تعلیمی اسناد:سند یافتہ جامعہ
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:تشریح، موسمیات
    کارہائے نمایاں:دیوان الشرقی للمولف الغربی
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    آرڈر آف سینٹ آنا
    فرسٹ کلاس (1808)

    گوئٹے (آلمانی زبان میں Johann Wolfgang von Goethe ) آلمان یعنی جرمنی کا مشہور شاعر اور فلسفی تھا۔ وہ 28 اگست 1749ء کو پیدا ہوا اور 22 مارچ 1832ء کو انتقال کیا۔ شاعری، ڈراما، ادب، فلسفہ، الٰہیات، الغرض بے شمار اصناف میں لکھتا رہا۔ گوئٹے اگرچہ جرمن ادیب تھا لیکن وہ عالمی ادب کے گنے چنے قافلہ سالاروں میں شمار ہوتا ہے- وہ بیک وقت شاعر، ناول نویس، ڈراما نگار اور فلسفی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ متنوع اور ہمہ گیر طبعیت کا مالک تھا اور اس کی دلچسپیاں بھی لامحدود تھیں۔ ادب کے علاوہ اس نے قانون، طب، علم کیمیا اور علم برق کی تعلیم بھی حاصل کی- وہ سیاست دان، تھیٹر ڈائریکڑ، نقاد اور سائنس دان بھی تھا- ان تمام صفات نے مل جل کر اسے عالمی ادب کی دیوقامت شخصیات کی صف میں لاکھڑا کیا- بین الاقوامی شہرت و مقبولیت میں وہ ہومر، شیکسپیئر اور دانتے کا ہم پلہ نظر آتا ہے۔
    خاندان
    ۔۔۔۔۔۔
    اس کا باپ جوہان کیسپر گوئٹے(کاسپارگوٹے) (1710ء۔1782)ایک وکیل تھا لیکن گوئٹے کی پیدائش کے وقت وہ اپنے چار منزلہ مکان میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی اپنی لائبریری بہت بڑی تھی اور مصوری کے بہت سے نمونے بھی اس کے پاس تھے۔ مزاجاً سخت، مغرور اور سنکی کتابوں کا رسیا گوئٹے کی ماں کیتھرین ایلزبیتھ (کاتارین الیسابیتھ) (1731۔ 1808) فرینکفرٹ (فرانکفورٹ) کے میئر کی بیٹی تھی۔ خوش مزاج، ہنس مکھ، نیک سیرت، شاعری اور تھیٹر کی رسیا۔ اس نے ایک چھوٹا سا تھیٹر بھی اپنے گھر میں بنا رکھا تھا۔ اپنے بچپن کا ذکر گوئٹے نے بہت محبت سے کیا ہے۔ ماں کی خوش مزاج شخصیت نے گوئٹے کی شخصیت کو وہ دلآویزی عطا کی کہ وہ جہاں جاتا پسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم اپنے باپ سے حاصل کی اور بعد میں مختلف اتالیق سے مختلف علوم کی تعلیم حاصل کی۔ گوئٹے لاطینی، یونانی اورانگریزی پڑھ سکتا تھا۔ عبرانی سے بھی شدبد تھی۔ فرانسیسی اور اطالوی روانی سے بول سکتا تھا۔ وائلن بجانا۔ اسکیچ بنانا، مصوری کرنا، گھوڑ سواری، رقص اور تیرا کی اس نے اسی زمانے میں سیکھے۔ 1765میں وہ قانون کی تعلیم کے لیے لیئپ زگ گیا 1768ء میں وہ بیمار پڑ گیا اور فراینکفرٹ(فرانکفورٹ) واپس آگیا۔ چھ بچوں میں سے صرف گوئٹے اور اس کی بہن بچے تھے اس لیے ان کی تعلیم و تربیت پر والدین نے پوری توجہ دی۔ 1771ء میں اسٹراس بورگ میں اس نے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ وہیں اس کی ملاقات ہر ڈر سے ہوئی۔ ہر ڈر گوئٹے سے پانچ سال بڑا تھا۔ یہیں اس کی ملاقات ان نوجوانوں سے بھی ہوئی جو درباروں کی تصنع پسندی، مبلغوں کے کھوکھلے لفظوں اور تاجروں کے استحصال کے خلاف تھے اور اس بات پر افسردہ اور شاکی تھے کہ نوجوانوں کو جرمن معاشرہ میں وہ مقام نہیں مل رہا ہے جس کے وہ اپنی اہلیت وصلاحیت کے لحاظ سے مستحق ہیں۔ احساس محرومی ان پر چھایا ہوا تھا۔ وہ آزادی فکر و اظہار کے حامی اور سارے معاشرے میں ذہنی بیداری پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔ نوجوانوں کی اس تحریک کا نام شٹورم اونڈ ڈرانگ Sturm Und Drang تھا۔ اس تحریک سے متاثر ہو کر گوئٹے نے غنائیہ نظمیں لکھیں۔ اسی زمانے میں گوئٹے رومو اور اسپنوزا سے بھی متاثر ہوا۔ اسی دور میں اسے جانوروں اور پودوں کے مطالعے کا شوق بھی پیدا ہوا، جو ساری عمر جاری رہا اور اس نے علم حیاتیات اور نباتات کی بھی اہم خدمت انجام دی۔1772ء میں اس نے وکالت شروع کی۔ اس وقت گوئٹے کی عمر صرف 23سال تھی ۔

  • تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    گلوکارہ الکا یاگنک

    یوم پیدائش : 20 مارچ 1966
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف گلوکارہ الکا یاگنک 23 مارچ 1966 میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی ماں شوبھا یاگنک ایک کلاسیکل گلوکارہ تھی اسی وجہ سے الکا کو بچپن میں ہی گھر میں موسیقی کا ماحول ملا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے 6 سال کی عمر میں ہی آل انڈیا ریڈیو کے آکاشوانی اسٹیشن سے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے فنی سفر کا آغاز کر دیا ۔ ان کی ماں نے ان کی بھرپور فنی تربیت کی یہی وجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب گلوکارہ بن گئیں ۔ الکا نے پہلا فلمی گیت 14 سال کی عمر میں 1980 میں فلم پائل کی جھنکار کیلئے گایا جبکہ 1988 میں فلم تیزاب کیلئے انہوں نے ” ایک دو تین ” گانا گایا جس سے ان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی جس کیلئے ان کو فیمیل پلے بیک سنگر نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا ۔ الکا یاگنک اب تک 7 فلم فیئر ایوارڈز اور دو نیشنل فلم فیئر ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ۔ انہوں نے اب تک ہو چکی ہیں ۔ الکا یاگنک کو 2019 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سشیشما کپور ہے۔ شادی کے بعد 8 سال بعد میاں بیوی کے درمیان کچھ عرصے کیلئے علیحدگی ہو گئی لیکن بعدازں دونوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق الکا یاگنک 2022 دنیا میں یوٹیوب پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا نے الکا یاگنک کوشہد کی آواز کی گلوکارہ Honey Vioce Singer جبکہ ہندوستان ٹائمز نے انہیں جادوئی آواز کی گلوکارہ Magical Vioced Singer کے خطاب سے نوازا ہے۔ الکا یاگنک مہدی حسن کی بہت بڑی مداح ہیں ان کا کہنا ہے کہ مہدی حسن بیت بڑے گلوکار تھے میں ان کی غزلیں سن کر بڑی ہوئی ہوں۔

    الکا یاگنک کی آواز میں گائے گئے چند گیتوں کے بول

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    یہ دعا ہے میری رب سے تجھے دوستوں میں سب سے میری دوستی پسندآئے

    تم سے بڑھ کر دنیا میں نہ دیکھا کوئی

  • چینوا آچہ بہ ،نائیجیریائی ناول نگار کا یوم وفات

    چینوا آچہ بہ ،نائیجیریائی ناول نگار کا یوم وفات

    پیدائش:16 نومبر 1930ء
    وفات:21 مارچ 2013ء
    بوسٹن
    وجۂ وفات:مرض
    رہائش؛کوگی ریاست
    شہریت:نائجیریا
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    مادر علمی:جامعہ لندن
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی
    ملازمت:براؤن یونیورسٹی
    کارہائے نمایاں:عوام کا نمائندہ
    اعزازات؛
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مین بکر انٹرنیشنل پرائز (2007)
    پیس پرائز آف دی جرمن بک ٹریڈ (2002)
    سینٹ لوئیس ادبی انعام (1999)
    بین الاقوامی نونینو انعام (1994)
    لوٹس انعام برائے ادب (1975)
    نائیجیرین نیشنل آرڈر آف میرٹ ایوارڈ
    فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز

    چینوا آچہ بہ یا چنوا اچیبے (انگریزی: Chinua Achebe) ایک نائیجیریائی ناول نگار، شاعر، پروفیسر اور ناقد تھے۔اچیبے کا 1958ء میں لکھا گیا پہلا ناول ’تھنگز فال اپارٹ‘ بے حد مشہور ہوا تھا۔ اس ناول میں افریقا میں نوآبادیت کے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اب تک اس ناول کی ان گنت جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ وہ 1990ء کے بعد سے امریکا میں مقیم تھے۔ اچیبے نائجیریا سے امریکا منتقل ہوگئے تھے جہاں وہ پڑھاتے تھے۔ 1990ء میں کار کے ایک حادثے میں ان کے بدن کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا تھا۔ اچیبے نے 20 سے زائد کتابیں لکھی ہیں جن میں سے کچھ کتابوں میں نائیجیریا میں قیادت اور سیاست دانوں کی ناکامیوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ 21 مارچ 2013ء میں 82 برس کی عمر میں مختصر بیماری کے بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

  • اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی
    نجی ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا پر عدلیہ ، پاک فوج کے سابق جرنیلوں اور موجودہ جرنیلوں کے بارے میں جو زہر اگلا جا رہا ہے اسے کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملکی بقا ،ملکی وقار اور ان اداروں کا وقار پوری دنیا میں مجروح ہو رہا ہے۔ پی ڈی ایم سمیت پی ٹی آئی ملکی سلامتی کے پیش نظر ہوش کے ناخن لے، دنیا کے کسی بھی ملک میں فوج اور اعلیٰ عدلیہ بڑے اہم کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ سلیکٹڈ کے الزام سے لے کر امپورٹڈ کے الزام تک کا ملبہ ان نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے اداروں پر ڈالا۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے ججوں کو عالمی دنیا میں بدنام کیا جا رہا ہے۔ خدا نہ کرے محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کے خلاف ایک بھیانک سازش ہو رہی ہے اور اس سازش کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عوام اور اداروں کا ٹکرائو اداروں کو متنازعہ بنائو اور وطن عزیز کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ زندہ تو رہیں مگر بھارت سمیت دیگر پاکستان مخالف قوتوں کو آنکھیں نہ دکھا سکیں۔

    یہ ملک نہ تو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی جاگیر ہے اور نہ پی ٹی آئی سمیت دیگر اپوزیشن کا ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے یہ چند خاندانوں، چند لینڈ مافیا، چند شوگر مافیا ، چند آٹا ملز مالکان کا نہیں۔ کسی زمانے میں قوم بڑی منظم ہوا کرتی تھی آج اس قوم کو غیر منظم کرنے کا کردار کس نے کیا؟ ملک کے تازہ ترین حالات کا عوام جائزہ لے اپنے مسائل کا اور ملکی معیشت کا جائزہ لے اور پھر عوام اپنے ان نام نہاد رہبروں کا جائزہ لے ۔سب اس وقت مشکوک نظر آتے ہیں ملکی دانشور قومی فریضہ ادا کریں قوم کے بنیادی مسائل اور اس ملک کے وقار اور عزت میں اضافے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ناقابل برداشت مہنگائی، دہشت ناک بدامنی، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت سے ڈریں جب عوام انہیں اپنا رہبر ماننے سے ہی انکار کر دیں گے ایک بے ہنگم شور اور ہنگامہ ملک بھر میں برپا ہے کیا ملک کی سیاسی جماعتوں میں جمہوری مزاج سیاستدانوں کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ جن کی قومی ادارے عزت کرتے تھے اور وہ ان اداروں کی بقا کی جنگ لڑتے تھے۔ یاد رکھئے اداروں کو بقا حاصل ہے اور شخصیات کو فنا حاصل ہے۔

  • سیاست، ریاست اور عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاست، ریاست اور عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قرضوں اور معاشی بدحالی میں گرے وطن عزیز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ فکر انگیزہے ، حکمرانوں سمیت اپوزیشن اورپنجاب کی نگران حکومت نے تو حد کراس کرلی ہے ۔ عالمی دنیا وطن عزیز میں جاری ہوس اقتدار اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ وطن عزیز کی سڑکیں اشرافیہ کی آپس کی جنگ میں لہولہان ہیں۔ ریاستی ملازمین اور یاست کی عوام ایک دوسرے پرحملہ آور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام حالات کا ذمہ دار کون ہے۔؟ ہمارے سیاستدانوں فیصلہ ساز اداروں کو علم ہے کہ عام آدمی موجودہ ماحول اورمعاشی بحران میں کیسے زندگی بسر کررہا ہے۔ اسے دو وقت کی روٹی ملتی بھی ہے یا نہیں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کہاں ہے اور کس صوبے اور کس شہر میں ہے ؟ عوام ان حالات میں زندہ رہیں گے اور اگر رہیں گے تو کب تک ؟ ۔ حیرت ہے اس ملک کے کل کے مڈل کلاس کے سیاستدان آج اربوں پتی کیسے بن گئے ؟ غضب خدا کا کھربوں پتی کیسے اور کس طرح ہو گیا ؟ انہی شخصیات کی بدولت آج ریاست اور عام آدمی کنگال ہو چکا ہے۔ اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ معاشرے کا بڑا حصہ رینگتا سسکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور دوسراایک ایسا جو اربوں کھربوں پتی ہے وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی روزانہ کی بنیاد پر نظر آتا ہے

    کسی زمانے میں سیاست نظریاتی لوگوں میں ہوا کرتی تھی ۔ نظریات کے فروغ کے لئے سیاست کرتے تھے اب سیاست میں تشدد اور انتقام کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ایک دوسرے کو دہشت گرد اور غدار کہا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں وہی پرانی ہیں مگر اب ان میں ایسے لوگ آگئے ہیں جو بے باک نہیں منہ پھٹ اور سیاسی بدتمیز ہیں۔ سیاسی بدتمیزی کا مظاہرہ پی ٹی آئی ، مسلم لیگ(ن) اوردیگر سیاسی جماعتوں میں روزانہ نظر آتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے مایوس سیاستدان اس سیاست کو خراب کردیں بلکہ خراب کردیا ہے۔ دشمنوں سے گرا ملک آج کے سیاستدانوں سے شدید پریشان ہے۔گزشتہ روز سینٹ میں رضا ربانی کے سوال پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں جواب دیا جو موضوع بحث رہا۔ سیاسی جماعتوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وطن عزیز ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلامی نظریاتی ملک کے اس اثاثے کی حفاظت پاک فوج اور جملہ ریاستی عسکری ادارے اس کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ہماری پاک فوج اور جملہ ریاستی عسکری ادارے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنا چکے ہیں ۔ بلاشبہ وطن عزیز کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کرنے والے نظریاتی سیاستدانوں کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا

  • سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ہے

    سیف الدین سیف

    پیدائش:20مارچ 1922ء
    امرتسر، ہندستان
    وفات:12 جولائی1993ء
    لاہور، پاکستان

    سیف الدین نام اور سیف تخلص تھا۔ 20 مارچ 1922ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔بعض سیاسی ومذہبی مسائل پر ارباب کالج سے الجھ پڑنے کی وجہ سے امتحان سے روک دیا گیا۔ مجبوراً سیف نے تعلیم سے منہ موڑلیا اور تلاش معاش میں سرگرداں ہو گئے ۔ ۱۹۴۶ء میں فلمی لائن اختیار کی۔ فلمی نغمہ نگاری او رمکالمے لکھنا ان کا ذریعہ معاش بن گیا۔ انھوں نے مستقل طور پر لاہور میں اقامت اختیار کرلی۔ سیف کو کم سنی ہی سی شعروسخن سے دل چسپی تھی۔ انھوں نے غزل ، رباعی ، طویل ومختصر نظمیں اور گیت سبھی کچھ لکھا ہے۔ مگر غزل سے فطری لگاؤ تھا۔ 12جولائی 1993ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔’’خم کا کل‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوگیاہے ۔ ’’کف گل فروش‘‘ ان کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:129

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا قیامت ہے ہجر کے دن بھی
    زندگی میں شمار ہوتے ہیں

    دل ویراں کو دیکھتے کیا ہو
    یہ وہی آرزو کی بستی ہے

    سیفؔ انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

    تمہارے بعد خدا جانے کیا ہوا دل کو
    کسی سے ربط بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوا

    آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد
    آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

    تم کو بیگانے بھی اپناتے ہیں میں جانتا ہوں
    میرے اپنے بھی پرائے ہیں تمہیں کیا معلوم

    کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے
    کل کی امید پہ ہر آج بسر ہوتا ہے

    مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے
    مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

    بولے وہ کچھ ایسی بے رخی سے
    دل ہی میں رہا سوال اپنا

    زندگی کس طرح کٹے گی سیفؔ
    رات کٹتی نظر نہیں آتی

    شور دن کو نہیں سونے دیتا
    شب کو سناٹا جگا دیتا ہے

    غم گسارو بہت اداس ہوں میں
    آج بہلا سکو تو آ جاؤ

    جس دن سے بھلا دیا ہے تو نے
    آتا ہی نہیں خیال اپنا

    شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آ سکیں
    وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے

    کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں
    کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا

    حسن جلوہ دکھا گیا اپنا
    عشق بیٹھا رہا اداس کہیں

    کبھی جگر پہ کبھی دل پہ چوٹ پڑتی ہے
    تری نظر کے نشانے بدلتے رہتے ہیں

    پاس آئے تو اور ہو گئے دور
    یہ کتنے عجیب فاصلے ہیں

    کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت
    میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے

    چلو میکدے میں بسیرا ہی کر لو
    نہ آنا پڑے گا نہ جانا پڑے گا

    تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو
    لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں

    ہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہے
    ہمارے پاس بھی سامان ایک رات کا ہے

    میرا ہونا بھی کوئی ہونا ہے
    میری ہستی بھی کوئی ہستی ہے

    جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
    ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا

    اپنی وسعت میں کھو چکا ہوں میں
    راہ دکھلا سکو تو آ جاؤ

    دل ناداں تری حالت کیا ہے
    تو نہ اپنوں میں نہ بیگانوں میں

    ایسے لمحے بھی گزارے ہیں تری فرقت میں
    جب تری یاد بھی اس دل پہ گراں گزری ہے

    آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظام عالم
    آپ گزرے ہیں تو اک موج رواں گزری ہے

    یہ آلام ہستی یہ دور زمانہ
    تو کیا اب تمہیں بھول جانا پڑے گا

    سیفؔ پی کر بھی تشنگی نہ گئی
    اب کے برسات اور ہی کچھ تھی

    تھکی تھکی سی فضائیں بجھے بجھے تارے
    بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

    کیوں اجڑ جاتی ہے دل کی محفل
    یہ دیا کون بجھا دیتا ہے

    دل نے پایا قرار پہلو میں
    گردش کائنات ختم ہوئی

    دشمن گئے تو کشمکش دوستی گئی
    دشمن گئے کہ دوست ہمارے چلے گئے

    کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں
    اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا

    رات گزرے نہ درد دل ٹھہرے
    کچھ تو بڑھ جائے کچھ تو گھٹ جائے

    قریب نزع بھی کیوں چین لے سکے کوئی
    نقاب رخ سے اٹھا لو تمہیں کسی سے کیا

    اس مسافر کی نقاہت کا ٹھکانہ کیا ہے
    سنگ منزل جسے دیوار نظر آنے لگے

    پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں
    مدعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں

  • یوم وفات مضطر خیر آبادی

    یوم وفات مضطر خیر آبادی

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مضطر خیر آبادی کا اصل نام سید محمد افتخار حسین جبکہ مضطر تخلص تھا – ’اعتبار الملک‘ ، ’اقتدار جنگ بہادر‘ خطاب ملے، 1865ء میں خیرآباد(یوپی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی کے نواسے اور شمس العلماء عبدالحق خیرآبادی کے بھانجے تھے۔

    محمد حسین ، بسمل(بڑے بھائی) اور امیر مینائی سے تلمذ حاصل تھا۔ مضطر ریاست ٹونک کے درباری شاعر تھے۔ ان کا دیوان چھپا نہیں۔ جاں نثاراختران کے فرزند رشید تھے20 مارچ1927ء کوگوالیارمیں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:241

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں
    اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

    مصیبت اور لمبی زندگانی
    بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت
    کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

    علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
    تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

    بوسے اپنے عارض گلفام کے
    لا مجھے دے دے ترے کس کام کے

    برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں
    بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

    لڑائی ہے تو اچھا رات بھر یوں ہی بسر کر لو
    ہم اپنا منہ ادھر کر لیں تم اپنا منہ ادھر کر لو

    اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے
    کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

    وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں
    آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

    اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا
    اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

    اگر تقدیر سیدھی ہے تو خود ہو جاؤ گے سیدھے
    خفا بیٹھے رہو تم کو منانے کون آتا ہے

    ہمارے ایک دل کو ان کی دو زلفوں نے گھیرا ہے
    یہ کہتی ہے کہ میرا ہے وہ کہتی ہے کہ میرا ہے

    مرے دل نے جھٹکے اٹھائے ہیں کتنے یہ تم اپنی زلفوں کے بالوں سے پوچھو
    کلیجے کی چوٹوں کو میں کیا بتاؤں یہ چھاتی پہ لہرانے والوں سے پوچھو

    ان کا اک پتلا سا خنجر ان کا اک نازک سا ہاتھ
    وہ تو یہ کہیے مری گردن خوشی میں کٹ گئی

    آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر
    چوری نہ کرو خدا کے گھر میں

    ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا
    بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

    یاد کرنا ہی ہم کو یاد رہا
    بھول جانا بھی تم نہیں بھولے

    مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں
    گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں

    ان کو آتی تھی نیند اور مجھ کو
    اپنا قصہ تمام کرنا تھا

    دم خواب راحت بلایا انہوں نے تو درد نہاں کی کہانی کہوں گا
    مرا حال لکھنے کے قابل نہیں ہے اگر مل گئے تو زبانی کہوں گا

    اے عشق کہیں لے چل یہ دیر و حرم چھوٹیں
    ان دونوں مکانوں میں جھگڑا نظر آتا ہے

    آئنہ دیکھ کر غرور فضول
    بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے

    جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے
    تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

    محبت میں کسی نے سر پٹکنے کا سبب پوچھا
    تو کہہ دوں گا کہ اپنی مشکلیں آسان کرتا ہوں

    وقت آرام کا نہیں ملتا
    کام بھی کام کا نہیں ملتا

    صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں
    دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

    ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں
    ایک وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

    وہ شاید ہم سے اب ترک تعلق کرنے والے ہیں
    ہمارے دل پہ کچھ افسردگی سی چھائی جاتی ہے

    زلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہے
    اس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا

    اے بتو رنج کے ساتھی ہو نہ آرام کے تم
    کام ہی جب نہیں آتے ہو تو کس کام کے تم

    بازو پہ رکھ کے سر جو وہ کل رات سو گیا
    آرام یہ ملا کہ مرا ہات سو گیا

    عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے
    تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

    اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا
    وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے

    جگانے چٹکیاں لینے ستانے کون آتا ہے
    یہ چھپ کر خواب میں اللہ جانے کون آتا ہے

    حال دل اغیار سے کہنا پڑا
    گل کا قصہ خار سے کہنا پڑا

    میرے اشکوں کی روانی کو روانی تو کہو
    خیر تم خون نہ سمجھو اسے پانی تو کہو

    اپنی محفل میں رقیبوں کو بلایا اس نے
    ان میں بھی خاص انہیں جن کی ضرورت دیکھی

    عمر سب ذوق تماشا میں گزاری لیکن
    آج تک یہ نہ کھلا کس کے طلب گار ہیں ہم

    حال اس نے ہمارا پوچھا ہے
    پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا

    میں مسیحا اسے سمجھتا ہوں
    جو مرے درد کی دوا نہ کرے

    تصور میں ترا در اپنے سر تک کھینچ لیتا ہوں
    ستم گر میں نہیں چلتا تری دیوار چلتی ہے

    انھوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے
    ہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے

    تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول
    میں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے

    اٹھے اٹھ کر چلے چل کر تھمے تھم کر کہا ہوگا
    میں کیوں جاؤں بہت ہیں ان کی حالت دیکھنے والے

    آؤ تو میرے آئنۂ دل کے سامنے
    ایسا حسیں دکھاؤں کہ ایسا نہ ہو کہیں

    ہم سے اچھا نہیں ملنے کا اگر تم چاہو
    تم سے اچھے ابھی ملتے ہیں اگر ہم چاہیں

    ان بتوں کی ہی محبت سے خدا ملتا ہے
    کافروں کو جو نہ چاہے وہ مسلمان نہیں

    جفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغ
    مکمل وفا کی سند ہو گئی

    حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے
    دل کے اندر قیام ہے تیرا

    دل کو میں اپنے پاس کیوں رکھوں
    تو ہی لے جا اگر یہ تیرا ہے

    بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا
    اسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو

    پردے والے بھی کہیں آتے ہیں گھر سے باہر
    اب جو آ بیٹھے ہو تم دل میں تو بیٹھے رہنا

    اک صدمۂ محبت اک صدمۂ جدائی
    گنتی کے دو ہیں لیکن لاکھوں کی جان پر ہیں

    تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی
    یہ کیا لے لیا میرے پہلو سے تو نے

    اے حنا رنگ محبت تو ہے مجھ میں بھی نہاں
    تیرے دھوکے میں کوئی پیس نہ ڈالے مجھ کو

    زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا
    کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے

    میرا رنگ روپ بگڑ گیا مرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
    جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

    فنا کے بعد اس دنیا میں کچھ باقی نہیں رہتا
    فقط اک نام اچھا یا برا مشہور رہتا ہے

    جب میں نے کہا دل مرا پامال کیا کیوں
    کس ناز سے بولے کہ محبت کی سزا تھی

    دل کیا کرے جو راز محبت کا کھل گیا
    میں کیا کروں کہ عشق ہی اک نامور سے ہے

    عشق کا کانٹا ہمارے دل میں یہ کہہ کر چبھا
    اب نکلواؤ تو تم ان سے نکلوانا مجھے

    آپ سے مجھ کو محبت جو نہیں ہے نہ سہی
    اور بقول آپ کے ہونے کو اگر ہے بھی تو کیا

    ساقی نے لگی دل کی اس طرح بجھا دی تھی
    اک بوند چھڑک دی تھی اک بوند چکھا دی تھی

    خط پھاڑ کے پھینکا ہے تو لکھا بھی مٹا دو
    کاغذ پہ اترتا ہے بہت تاؤ تمہارا

    احباب و اقارب کے برتاؤ کوئی دیکھے
    اول تو مجھے گاڑھا اوپر سے دباتے ہیں

    کچھ تمہیں تو ایک دنیا میں نہیں
    اور بھی ہیں سیکڑوں اس نام کے

    تیری رحمت کا نام سن سن کر
    مبتلا ہو گیا گناہوں میں

    اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے
    کہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرے

    باقی کی محبت میں دل صاف ہوا اتنا
    جب سر کو جھکاتا ہوں شیشہ نظر آتا ہے

    کوئی لے لے تو دل دینے کو میں تیار بیٹھا ہوں
    کوئی مانگے تو اپنی جان تک قربان کرتا ہوں

    ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ
    قیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے

    سنو گے حال جو میرا تو داد کیا دو گے
    یہی کہو گے کہ جھوٹا ہے تو زمانے کا

    جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل
    میں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو

    چوکی نظر جو زاہد خانہ خراب کی
    توبہ اڑا کے لے گئی بوتل شراب کی

    کوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہے
    یوں تو پردے میں سبھی پردہ نشیں اچھے ہیں

    جیے جاتے ہیں پستی میں ترے سارے جہاں والے
    کبھی نیچے بھی نظریں ڈال اونچے آسماں والے

    دل کام کا نہیں تو نہ لو جان نذر ہے
    اتنی ذرا سی بات پہ جھگڑا نہ چاہئے

    میری ارمان بھری آنکھ کی تاثیر ہے یہ
    جس کو میں پیار سے دیکھوں گا وہی تو ہوگا

    نہیں منظور جب ملنا تو وعدے کی ضرورت کیا
    یہ تم کو جھوٹی موٹی عادت اقرار کیسی ہے

    دم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لو
    تم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں

    اس کا بھی ایک وقت ہے آنے دو موت کو
    مضطرؔ خدا کی یاد ابھی کیوں کرے کوئی

    پہلے ہم میں تھے اور اب ہم سے جدا رہتے ہیں
    آپ کاہے کو غریبوں سے خفا رہتے ہیں

    محبت قدرداں ہوتی تو پھر کاہے کا رونا تھا
    ہمیں بھی تم سمجھتے تم کو جیسا ہم سمجھتے ہیں

    وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو
    مری جاں مزا تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے

    حسینوں پر نہیں مرتا میں اس حسرت میں مرتا ہوں
    کہ ایسے ایسے لوگوں کے لیے ظالم قضا کیوں ہے

    اپنے دل کو تری آنکھوں پہ فدا کرتا ہوں
    آج بیمار پہ بیمار کی قربانی ہے

    طریق یاد ہے پہلے سے دل لگانے کا
    اسی کا میں بھی ہوں مجنوں تھا جس گھرانے کا

    خواہش دید پہ انکار سے آتے ہیں مزے
    ایسے موقعے پہ تو پردہ بھی مزا دیتا ہے

    خوب اس دل پہ تری آنکھ نے ڈورے ڈالے
    خوب کاجل نے تری آنکھ میں ڈورا کھینچا

    تو نہ آئے گا تو ہو جائیں گی خوشیاں سب خاک
    عید کا چاند بھی خالی کا مہینہ ہوگا

    میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
    میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

    تیری الجھی ہوئی باتوں سے مرا دل الجھا
    تیرے بکھرے ہوئے بالوں نے پریشان کیا

    کہہ دو ساقی سے کہ پیاسا نہ نکالے مجھ کو
    عمر بھر روئیں گے مٹی کے پیالے مجھ کو

    دیکھ کر کعبے کو خالی میں یہ کہہ کر آ گیا
    ایسے گھر کو کیا کروں گا جس کے اندر تو نہیں

    تمنا اک طرح کی جان ہے جو مرتے دم نکلے
    جدائی اک طرح کی موت ہے جو جیتے جی آئے

    چاہت کی تمنا سے کوئی آنچ نہ آئی
    یہ آگ مرے دل میں بڑے ڈھب سے لگی ہے

    کوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کو
    اس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں

    کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا
    اس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھا

    وہاں جا کر کیے ہیں میں نے سجدے اپنی ہستی کو
    جہاں بندہ پہنچ کر خود خدا معلوم ہوتا ہے

    نہیں ہوں میں تو تری بندگی کے کیا معنی
    نہیں ہے تو تو خدا کون ہے زمانے کا

    کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے
    خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے

    لطف قربت ہے مے پرستی میں
    میں خدا دیکھتا ہوں مستی میں

    دم دے دیا ہے کس رخ روشن کی یاد میں
    مرنے کے بعد بھی مرے چہرے پہ نور تھا

    ایمان ساتھ جائے گا کیوں کر خدا کے گھر
    کعبے کا راستہ تو کلیسا سے مل گیا

    بت خانے میں کیا یاد الٰہی نہیں ممکن
    ناقوس سے کیا کار اذاں ہو نہیں سکتا

    کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد
    گناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے

    ہستئ غیر کا سجدہ ہے محبت میں گناہ
    آپ ہی اپنی پرستش کے سزا وار ہیں ہم

    کسی نے نہ دیکھا ترے حسن کو
    مری صورت حال دیکھی گئی

    قبر پر کیا ہوا جو میلا ہے
    مرنے والا نرا اکیلا ہے

    عیسیٰ سے دوائے مرض عشق نہ ہوگی
    ہاں ان کو کوئی ڈھونڈ کے لے آئے کہیں سے

    اٹھتے جوبن پہ کھل پڑے گیسو
    آ کے جوگی بسے پہاڑوں میں

    عیسیٰ کبھی نہ جاتے لیکن تمہارے غم میں
    وہ بھی تو مر رہے ہیں جو آسمان پر ہیں

    یہی صورت وہاں تھی بے ضرورت بت کدہ چھوڑا
    خدا کے گھر میں رکھا کیا ہے ناحق اتنی دور آئے

    گئے ہم دیر سے کعبے مگر یہ کہہ کے پھر آئے
    کہ تیری شکل کچھ اچھی وہیں معلوم ہوتی ہے

    اے خدا دنیا پہ اب قبضہ بتوں کا چاہیے
    ایک گھر تیرے لیے ان سب نے خالی کر دیا

    مرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتا
    خدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں

    اک ہم کہ ہم کو صبح سے ہے شام کی خوشی
    اک تم کہ تم کو شام کا دھڑکا سحر سے ہے

    کیا اثر خاک تھا مجنوں کے پھٹے کپڑوں میں
    ایک ٹکڑا بھی تو لیلیٰ کا گریباں نہ ہوا

    نہ رو اتنا پرائے واسطے اے دیدۂ گریاں
    کسی کا کچھ نہیں جاتا تری بینائی جاتی ہے

    ہمارے میکدے میں خیر سے ہر چیز رہتی ہے
    مگر اک تیس دن کے واسطے روزے نہیں رہتے

    یہ تو ممکن نہیں محبت میں
    آپ جو کچھ کہیں وہ ہم نہ کریں

    نظر کے سامنے کعبہ بھی ہے کلیسا بھی
    یہی تو وقت ہے تقدیر آزمانے کا

    یہ پیدا ہوتے ہی رونا صریحاً بدشگونی ہے
    مصیبت میں رہیں گے اور مصیبت لے کے اٹھیں گے

    ٹھہرنا دل میں کچھ بہتر نہ جانا
    بھرے گھر کو انہوں نے گھر نہ جانا

    اب کون پھرے کوئے بت دشمن دیں سے
    اللہ کے گھر کیوں نہ چلے جائیں یہیں سے

    جب ان کی پتیاں بکھریں تو سمجھے مصلحت اس کی
    یہ گل پہلے سمجھتے تھے ہوا بے کار چلتی ہے

    دل ان کو مفت دینے میں دشمن کو رشک کیوں
    ہم اپنا مال دیتے ہیں اس میں کسی کا کیا

    جتنے بت ہیں میں سب پہ مرتا ہوں
    میرا ایمان ایک ہو تو کہوں

    اسی کو پی کے ہوتی ہے شفا بیمار الفت کو
    دوا قاتل ترے تلوار کے پانی کو کہتے ہیں

    بتوں میں نور ذات کبریا معلوم ہوتا ہے
    مجھے کچھ دن سے ہر پتھر خدا معلوم ہوتا ہے

    خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
    کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

    عاشقوں کی روح کو تعلیم وحدت کے لیے
    جس جگہ اللہ رہتا ہے وہاں رہنا پڑا

    محبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دے
    خدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری

    نہ اس کے دامن سے میں ہی الجھا نہ میرے دامن سے یہ ہی اٹکی
    ہوا سے میرا بگاڑ کیا ہے جو شمع تربت بجھا رہی ہے

    یہ تو سمجھا میں خدا کو کہ خدا ہے لیکن
    یہ نہ سمجھا کہ سمجھ میں مری کیوں کر آیا

    زاہد تو بخشے جائیں گنہ گار منہ تکیں
    اے رحمت خدا تجھے ایسا نہ چاہئے

    کچھ نہ پوچھو کہ کیوں گیا کعبے
    ان بتوں کو سلام کرنا تھا

    ساقی مرا کھنچا تھا تو میں نے منا لیا
    یہ کس طرح منے جو دھری ہے کھنچی ہوئی

    کعبے میں ہم نے جا کے کچھ اور حال دیکھا
    جب بت کدہ میں پہنچے صورت ہی دوسری تھی

    تم کیوں شب جدائی پردے میں چھپ گئے ہو
    قسمت کے اور تارے سب آسمان پر ہیں

    آہ رسا خدا کے لیے دیکھ بھال کے
    ان کا بھی گھر ملا ہوا دشمن کے گھر سے ہے

    وہ پہلی سب وفائیں کیا ہوئیں اب یہ جفا کیسی
    وہ پہلی سب ادائیں کیا ہوئیں اب یہ ادا کیوں ہے

    حال زاہد جو مئے ناب کا پوچھے تو کہوں
    ہے یہ وہ چیز جو کافر کو مسلمان کرے

    کسی کے تیر کو چھاتی سے ہم لگائے رہے
    تمام عمر کلیجے کے پار ہی رکھا

    صورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہے
    دیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے

    پڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطرؔ
    کوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا

    خال و عارض کا تصور ہے ہمارے دل میں
    ایک ہندو بھی ہے کعبے میں مسلمان کے ساتھ

    وہ کریں گے وصل کا وعدہ وفا
    رنگ گہرے ہیں ہماری شام کے

    اس سے پہلے میں کبھی آباد گھر بستی میں تھا
    آج مضطرؔ ایک اجڑا جھونپڑا جنگل میں ہوں

    ساقی تری نظر تو قیامت سی ڈھا گئی
    ٹھوکر لگی تو شیشۂ توبہ بھی چور تھا

    خدا بھی جب نہ ہو معلوم تب جانو مٹی ہستی
    فنا کا کیا مزا جب تک خدا معلوم ہوتا ہے

    دھوکے سے بلا کر جو ملا تھا تو وہ مجھ سے
    جب ملتے ہیں کہتے ہیں دغاباز کہیں کا

    میری ہستی سے تو اچھی ہیں ہوائیں یا رب
    کہ جو آزاد پھرا کرتی ہیں میدانوں میں

    قیامت میں بڑی گرمی پڑے گی حضرت زاہد
    یہیں سے بادۂ گل رنگ میں دامن کو تر کر لو

    خدمت گشت بگولوں کو تو دی صحرا میں
    میں بھی برباد ہوں مجھ کو بھی کوئی کام بتا

    نگاہوں میں پھرتی ہے آٹھوں پہر
    قیامت بھی ظالم کا قد ہو گئی

    جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد
    ندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں

    پھونکے دیتا ہے کسی کا سوز پنہانی مجھے
    اب تو میری آنکھ بھی دیتی نہیں پانی مجھے

    وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی
    نہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو

    بت کدہ میں تو تجھے دیکھ لیا کرتا تھا
    خاص کعبے میں تو صورت بھی دکھائی نہ گئی

    محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو
    وہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے

    مرا رونا ہنسی ٹھٹھا نہیں ہے
    ذرا روکے رہو اپنی ہنسی تم

    جو پوچھا دل ہمارا کیوں لیا تو ناز سے بولے
    کہ تھوڑی بے قراری اس دل مضطرؔ سے لینا ہے

    میرے غبار کی یہ تعلی تو دیکھیے
    اتنا بڑھا کہ عرش معلی سے مل گیا

    یہ نقشہ ہے کہ منہ تکنے لگا ہے مدعا میرا
    یہ حالت ہے کہ صورت دیکھتا ہے مدعی میری

    رنج غربت میں دیکھ کر مجھ کو
    دل صحرا بھی باغ باغ ہوا

    تمہاری جلوہ گاہ ناز میں اندھیر ہی کب تھا
    یہ موسیٰ دوڑ کر کس کو دکھانے شمع طور آئے

    وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند
    نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے

    جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا
    دھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے

    وہ کہتے ہیں کہ کیوں جی جس کو تم چاہو وہ کیوں اچھا
    وہ اچھا کیوں ہے اور ہم جس کو چاہیں وہ برا کیوں ہے

    یہاں سے جب گئی تھی تب اثر پر خار کھائے تھی
    وہاں سے پھول برساتی ہوئی پلٹی دعا میری

    میں تری راہ طلب میں بہ تمنائے وصال
    محو ایسا ہوں کہ مٹنے کا بھی کچھ دھیان نہیں

    نمک پاش زخم جگر اب تو آ جا
    مرا دل بہت بے مزہ ہو رہا ہے

    پڑ گئے زلفوں کے پھندے اور بھی
    اب تو یہ الجھن ہے چندے اور بھی

    زلف کا حال تک کبھی نہ سنا
    کیوں پریشاں مرا دماغ ہوا

    قیس نے پردۂ محمل کو جو دیکھا تو کہا
    یہ بھی اللہ کرے میرا گریباں ہو جائے

    مسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔ
    کہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

    تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں
    ہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں

    خضر بھی آپ پر عاشق ہوئے ہیں
    قضا آئی حیات جاوداں کی

    روح دیتی رہی ترغیب تعلی برسوں
    ہم مگر تیری گلی چھوڑ کے اوپر نہ گئے

    قاصد نے خبر آمد دلبر کی اڑا دی
    آیا بھی تو کم بخت نے بے پر کی اڑا دی

    جلوۂ رخسار ساقی ساغر و مینا میں ہے
    چاند اوپر ہے مگر ڈوبا ہوا دریا میں ہے

    ساقی وہ خاص طور کی تعلیم دے مجھے
    اس میکدے میں جاؤں تو پیر مغاں رہوں

    اڑا کر خاک ہم کعبے جو پہنچے
    حقیقت کھل گئی کوئے بتاں کی

    میرا دل مضطرؔ بت کافر سے لگا ہے
    اور آنکھ مری سوئے خدا دیکھ رہی ہے

  • کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    بس ایک بار وہ آیا اور اس پے یہ عالم
    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    الطاف گوہر

    یوم پیدائش: 17 مارچ 1923
    ۔………………………………………..
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے ممتاز ادیب، شاعر، مصنف، صحافی، دانشور اور بیوروکریٹ الطاف گوہر 17 مارچ 1923 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام راجہ الطاف حسین اور پنجابی کے جنجوعہ قبیلے سے تعلق تھا۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی مگر اردو اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور تھا۔ ابتدا میں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے لیکن بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سرکاری آفیسر بن گئے۔ وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے انگریزی اخبار ڈان کے مدیر رہے جبکہ حکومت پاکستان کے سیکریٹری اطلاعات جیسے اہم منصب پر بھی فائز رہے۔ وہ جنرل ایوب خان کے بہت قریب رہے یہی وجہ ہے کہ بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے نفاذ کو ان کا ذہنی اختراع کہا جاتا ہے۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ انہوں نے صحافت بھی کی اور شاعری بھی کی مولانا مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن کا انہوں نے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے سوانح نگاری بھی کی۔ 14 نومبر 2000 کو الطاف گوہر کی 77 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات ہوئی۔ ان کے نمایاں قلمی کام درج ذیل ہیں ۔

    گوہر گزشت (آپ بیتی)

    لکھتے رہے جنوں کی حکایت

    ایوب خان:فوجی راج کے پہلے دس سال

    تفہیم القرآن کا انگریزی میں ترجمہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ صحرا کبھی تو ٹوٹے گا یہ خبط کبھی تو پھوٹے گا
    یہ سناٹا یہ خاموشی مجبور فغاں ہو جائے گی

    ہم تو یونہی کبھی کبھی کہتے ہیں چھیڑ سے غزل
    پیشہ وروں پے کیا بنی اہل زباں کو کیا ہوا

    بس ایک بار وہ آیا اوراس پے یہ عالم
    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    پھر رہے ہیں سر بازار تماشا بن کر
    بد گمانی تری ظالم ابھی باقی ہے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دھوپ کے سائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    شام دلہن کی طرح
    اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی بیٹھی ہے
    گوشۂ چشم سے کاجل کی سیاہی ابھی آنسو بن کر
    بہتے غازے میں نہیں جذب ہوئی
    ابھی کھوئی نہیں بالوں کی دل افروز پریشانی میں
    مسکراتی ہوئی سیندور کی مانگ
    گھلتے رنگوں میں ابھی کاہش جاں باقی ہے
    گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
    کب مٹیں کیسے مٹیں
    شب کی تاریکیاں ہر سمت بکھر جائیں تو آرام ملے
    یہ چمکتے ہوئے ذرے نہ رہیں
    ذوق تماشا نہ رہے
    کوئی تمنا نہ رہے
    اک کرن چھوڑ کے جاتی ہی نہیں
    چشم گیں کرتی ہوئی کھیل رہی ہے اب تک
    زرد رو گھاس کے سینے پہ تھرکتی ہوئی بڑھ جاتی ہے
    سنگریزوں کی نگاہوں میں چمکتی ہوئی لوٹ آتی ہے
    کوئی سمجھائے اسے جاؤ چلی جاؤ یہاں اب کیا ہے
    دھوپ کے کانپتے سایوں کو ذرا بڑھنے دو
    شب کی تاریکیاں چھا جانے دو
    میں نے سو بار کہا ایک نہ مانی اس نے
    مسکراتی ہوئی شاخوں پہ لرزتی ہی رہی
    یوں بھی تڑپانے میں اک لطف تو ہے سوز تو ہے
    رنگ گھلتے ہیں گھلیں گے آخر
    گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
    کب مٹیں کیسے مٹیں
    اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی
    شام دلہن کی طرح بیٹھی رہی بیٹھی رہی

  • یوم ولادت، یاسمین حمید

    یوم ولادت، یاسمین حمید

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    یاسمین حمید

    تاریخ پیدائش:18 مارچ 1951ء
    جائے پیدائش:لاہور
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے
    ۔ 2018
    ۔ (2)دوسری زندگی-2007
    ۔ (3)فنا بھی ایک سراب-2001
    ۔ (4)پس آئینہ-1998
    ۔ (5)آدھا دن اور آدھی رات
    ۔ 1996
    ۔ (6)حصار بے در و دیوار-1991
    ایوارڈز:ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ
    مستقل پتا:ڈی۔2؍124، فیزI
    ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی لاہور

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاسمین حمید تعلیم، ادب اور آرٹ کے شعبوں سے پچیس برس سے زیادہ عرصے سے منسلک ہیں۔ 2007 سے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائینسز (لَمز) میں اردو ادب پڑھاتی آئی ہیں۔ لَمز میں وہ زبان و ادب کے گُرمانی سیَنٹر کی سربراہ بھی ہیں۔ یاسمین حمید اردو میں شاعری کی پانچ کتابیں تصنیف کر چکی ہیں: ’پسِ آئینہ‘ (۱1988)، ’حصارِ بے در و دیوار‘ (1991)، ’آدھا دن اور آدھی رات‘ (1996)، ’فنا بھی ایک سراب‘ (2001) اور ’بے ثمر پیروں کی خواہش (2012)۔ پہلی چار کتابیں 2007 میں سات سوَ صفحوں پر مشتمل مجموعے کے طور پر ’دوسری زندگی‘ کے عنوان سے شائع ہوئیں۔ اُن کی کتاب ’پاکستانی اردو وَرس‘ 2010 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی اور 2012 میں اسے یوُ بی ایَل اور جنگ نے ادبی تحسین کے اعزاز سے نوازا۔ 2013 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے اُن کی تالیف کی ہوئی کتاب ’ڈے بریَک: رائیٹنگز آن فیض‘ شائع کی۔ اُن کی تالیف کی ہوئی ایک اور کتاب ’نیا اردو افسانہ‘ سنگِ میل نے 2014 میں شائع کی۔ 2008 میں حکومتِ پاکستان نے انھیں ادبی خدمات کے لیے تمغۂ امتیاز سے نوازا۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے
    اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

    ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں
    سو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں

    پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی
    ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی

    جس سمت کی ہوا ہے اسی سمت چل پڑیں
    جب کچھ نہ ہو سکا تو یہی فیصلہ کیا

    ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے
    آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے

    اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے
    مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو

    سمندر ہو تو اس میں ڈوب جانا بھی روا ہے
    مگر دریاؤں کو تو پار کرنا چاہیئے تھا

    اگر اتنی مقدم تھی ضرورت روشنی کی
    تو پھر سائے سے اپنے پیار کرنا چاہیئے تھا

    اپنی نگاہ پر بھی کروں اعتبار کیا
    کس مان پر کہوں وہ مرا انتخاب تھا

    مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی
    چراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی

    جو ڈبوئے گی نہ پہنچائے گی ساحل پہ ہمیں
    اب وہی موج سمندر سے ابھرنے کو ہے

    اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی
    اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے

    میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں
    جو میری بات کا حاصل رہا ہے

    اس کے شکستہ وار کا بھی رکھ لیا بھرم
    یہ قرض ہم نے زخم کی صورت ادا کیا

    مری ہر بات پس منظر سے کیوں منسوب ہوتی ہے
    مجھے آواز سی آتی ہے کیوں اجڑے دیاروں سے

    کیوں ڈھونڈنے نکلے ہیں نئے غم کا خزینہ
    جب دل بھی وہی درد کی دولت بھی وہی ہے

    رستے سے مری جنگ بھی جاری ہے ابھی تک
    اور پاؤں تلے زخم کی وحشت بھی وہی ہے

    کسی کے نرم لہجے کا قرینہ
    مری آواز میں شامل رہا ہے

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی