Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نامور فلمی شاعر سیّد خورشید علی کا یوم پیدائش

    نامور فلمی شاعر سیّد خورشید علی کا یوم پیدائش

    اصل نام:سید خورشید علی
    قلمی نام:تنویر نقوی
    تاریخ ولادت:06 فروری 1919ء
    تاریخ وفات:01نومبر 1972ء

    اردو کے نامور فلمی شاعر تنویر نقوی کا اصل نام سیّد خورشید علی تھا اور وہ 6 فروری 1919ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا اور ان کے بڑے بھائی بھی نوا نقوی کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ تنویر نقوی نے 15 سال کی عمر میں شاعری شروع کی اور 21 سال کی عمر میں1940 ء میں ان کا پہلا مجموعہ سنہرے سپنے کے نام سے شائع ہوا اس سے قبل 1938ء میں وہ ہدایت کار نذیر کی فلم شاعر سے فلمی نغمہ نگاری کا آغاز کرچکے تھے۔
    قیام پاکستان کے بعد 1950ء میں تنویر نقوی پاکستان چلےگئے جہاں انھوں نے اپنے بے مثل گیتوں سے دھوم مچا دی تنویر نقوی کے مقبول نغمات کی فہرست بے حد طویل ہے جن میں زندگی ہے یا کسی کا انتظار (فلم سلمیٰ)‘ جان بہاراں‘ رشک چمن (فلم عذرا)‘ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائوں (فلم انارکلی)‘ رم جھم رم جھم پڑے پھوار (فلم کوئل)‘ زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نا (فلم ہم سفر)‘ رقص میں ہے سارا جہاں (فلم ایاز) اے دل تری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں ہے (فلم تاج محل) اور 1965ء کی جنگ میں نشرہونے والا نغمہ رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو سرفہرست ہیں۔

    تنویر نقوی نے کئی فلموں کے لیے کئی فلموں کے لیے کئی خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں جن میں فلم نور اسلام کی نعت شاہ مدینہ‘ یثرب کے والی اور فلم ایاز کی نعت بلغ العلیٰ بکمالہٖ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
    تنویرؔ نقوی کا انتقال یکم نومبر 1972ء کو لاہور میں ہوا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہمارے واسطے ہر آرزو کانٹوں کی مالا ہے
    ہمیں تو زندگی دے کر خدا نے مار ڈالا ہے

    ادھر قسمت ہے جو ہر دم نیا غم ہم کو دیتی ہے
    ادھر ہم ہیں کہ ہر غم کو ہمیشہ دل میں پالا ہے

    ابھی تک اک کھٹک سی ہے ابھی تک اک چبھن سی ہے
    اگرچہ ہم نے اپنے دل سے ہر کانٹا نکالا ہے

    غلط ہی لوگ کہتے ہیں بھلائی کر بھلا ہوگا
    ہمیں تو دکھ دیا اس نے جسے دکھ سے نکالا ہے

    تماشا دیکھنے آئے ہیں ہم اپنی تباہی کا
    بتا اے زندگی اب اور کیا کیا ہونے والا ہے

  • پاکستان  کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ  کا یوم وفات

    پاکستان کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ کا یوم وفات

    6 فروری 2018
    ۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ممتاز صحافی، مصنف اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ 10 فروری 1940 کو لیاری کراچی میں میر جنگیان خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے پر دادا ایران سے نقل مکانی کر کے کراچی میں آباد ہوئے تھے ۔ صدیق بلوچ نے ابتدائی تعلیم کراچی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول سے حاصل کی جبکہ میٹرک سندھ مدرستہ الاسلام سے کیا ، سندھ آرٹس اینڈ کامرس کالج سے ماسٹر اور کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی ۔ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی سیاسی سرگرمیوں میں فعال رہے تھے ، کامرس کالج میں طلبہ یونین کے صدر اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے فعال رہنما رہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے کراچی کے ایک نجی کالج میں کچھ عرصہ مدرس کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیے جہاں فیض احمد فیض پرنسپل تعینات تھے لیکن جلد ہی فیض احمد فیض اور صدیق بلوچ کالج کی ملازمت چھوڑ کر صحافت کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ صدیق بلوچ جوکہ اپنے قریبی حلقوں میں لالہ صدیق بلوچ کے نام سے پکارے جاتے تھے ،نے پاکستان کے سب بڑے انگریزی اخبار "ڈان” سے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا ۔ انہوں نے ڈان میں سب ایڈیٹر ،اسٹاف رپورٹر ،کرائم رپورٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے اپنی صحافتی خدمات انجام دیں ۔ صدیق بلوچ صاحب ایک سیاسی کارکن بھی تھے اس لیے انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی (نعپ) سے بھی وابستگی رکھی اور ملکی سیاست میں بہت فعال کردار ادا کرتے رہے اور ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما میر غوث بخش بزنجو،سردار عطاء اللہ خان مینگل اور نواب خیر بخش خان مری کے بہت قریب رہے۔ میر غوث بخش بزنجو جب بلوچستان کے پہلے سول گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صدیق بلوچ کو اپنا پی آر او مقرر کیا لیکن جب” نعپ” کی منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا تو سردار عطاء الله خان مینگل اور میر غوث بخش بزنجو سے قریبی تعلقات کی بنا پر صدیق بلوچ کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے پھر سے اپنی سیاسی اور صحافتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ کراچی میں انہوں نے اپنے والد صاحب کے نام سے منسوب "جنگیان ہوٹل”بھی کھول رکھا تھا اور وہ سیاسی کارکنوں کے لیے "لنگر خانہ” کا کام دے رہا تھا جس میں سیاسی کارکنان کو بلا امتیاز مفت کھانا فراہم کیا جاتا تھا دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے دور کے سیاسی اور صحافتی قلندر لالہ صدیق بلوچ جنگیان ہوٹل میں آنے والے سیاسی کارکننوں کو کھانا پیش کرنے کے لیے خود "ویٹر” کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔

    صدیق بلوچ نے انگریزی اخبار ڈان سے طویل وابستگی کے بعد علیحدگی اختیار کر کے کراچی سے ” سندھ ایکسپریس ” کے نام سے انگریزی اخبار جاری کیا لیکن مالی مشکلات کے باعث 2 سال بعد انہیں یہ اخبار بند کرنا پڑا۔ 1992 میں صدیق بلوچ نے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے "بلوچستان ایکسپریس ” کے نام سے ایک انگریزی اخبار جاری کیا اور 2002 میں کوئٹہ سے ہی اردو اخبار ” روزنامہ آزادی ” کا بھی اجرا کیا۔ لالہ صدیق بلوچ کے یہ دونوں اخبار بلوچستان میں صحافیوں کے لیے درسگاہ کی حیثیت رکھتے تھے جہاں صدیق بلوچ ایک استاد کی حیثیت سے صحافیوں کی خصوصی تربیت کرتے تھے۔ صدیق بلوچ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے دو بار صدر اور کراچی پریس کلب کے نائب صدر بھی رہ چکے تھے ۔ وہ اپنے دونوں اخبارات میں نہایت پابندی کے ساتھ صوبائی اور ملکی صورتحال پر کالم لکھتے تھے جن کی تحریروں کو عوام اور مقتدر حلقوں میں خصوصی توجہ کے ساتھ پڑھا جاتا تھا۔ وہ بلوچستان کا سیاسی مقدمہ بھی بڑی مضبوطی سے لڑتے تھے اس لیے انہیں ” بلوچستان کے حقوق کے سفیر” کے خطاب سے بھی پکارا جاتا تھا۔ ملک کے ایک نامور صحافی کی حیثیت سے ان کے مقتدر حلقوں خواہ حکومتی اکابرین صدر،وزیراعظم، گورنر ، وزیر اعلیٰ ،وفاقی اور صوبائی وزرا اور اعلیٰ سطح کے سول افسران کے ساتھ تعلقات تھے مگر انہوں نے کبھی بھی ان سے کوئی ناجائز فائدہ اور مراعات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ بلوچی زبان و ادب اور ثقافت کے ایک سب سے بڑے نجی ادارے "بلوچی اکیڈمی کوئٹہ ” کے چیئرمن بھی رہے۔ انہوں نے بلوچستان کے معاشی اور اقتصادی مسائل کے حوالے سے دو جلدوں پر مشتمل انگریزی میں ایک کتاب” پولیٹیکل اکانامی آف بلوچستان ” شائع کی ۔ صدیق بلوچ 4 زبانوں اردو،بلوچی،انگریزی اور سندھی پر عبور رکھتے تھے ۔ پاکستان کے یہ مایہ ناز صحافی 6 فروری 2018 میں علالت کے باعث دوران علاج کراچی میں انتقال کر گئے لیکن اپنی اعلیٰ صحافتی خدمات کے باعث وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ صدیق صاحب کے پسماندگان میں 5 فرزند محمد عارف، محمد آصف، محمد طارق ، محمد ظفر اور محمد صادق بلوچ شامل ہیں جنہوں نے اپنے عظیم باپ کے صحافتی ورثے کو سنبھال رکھا ہے۔ وہ کوئٹہ سے شائع ہونے والے دونوں اخبار ،بلوچستان ایکسپریس اور "آزادی” کو چلا رہے ہیں تاہم آجکل کے ناسازگار حالات کے باعث انہیں شدید مالی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اخبارات کو سرکاری اشتہارات کی مد میں نظرانداز کرنا ہے ۔ لالہ صدیق بلوچ صاحب کے صحافی شاگرد سندھ اور بلوچستان میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں میرے ہوم ڈسٹرکٹ نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی ڈیرہ مراد جمالی پریس کلب کے سابق صدر ولی محمد زہری سابق صدر نصیر احمد مستوئی اور کوئٹہ پریس کلب کے شیخ عبدالرزاق بھی شامل ہیں ۔

  • معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم  بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش

    معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش

    6 فروری 1985

    معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام اور تخلص . . بلقیس
    قبیلہ ۔ عمرانی بلوچ

    والد صاحب کا نام: غلام جان عمرانی بلوچ
    والدہ محترمہ کا نام: بی بی صفوری
    آبائی وطن : بلوچستان
    جائے ولادت: کراچی
    تاریخِ ولادت:06 فروری 1985ء
    تعلیم:ایم اے اردو
    پی ایچ ڈی اردو
    پیشہ: لیکچرار اردو
    گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، کراچی
    تلمذ: پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی
    سابق صدرنشیں شعبۂ اردو جامعہ کراچی
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلام میر میں بحورواوزان کا
    فنی اور موضوعی جائزہ
    (مقالہ پی ایچ ڈی
    تحقیقی مضمون بعنوان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)میرکی شاعرانہ عظمت اور
    ۔ بحر مضارع اخرب مکفوف
    ۔ محذوف مقصور تحقیقی جائزہ
    ۔ شائع شدہ شش ماہی مجلہ اردو
    ۔ جلد 95,شمارہ دوم
    ۔ 2019،انجمن ترقی اردو پاکستان
    ۔ کراچی۔
    ۔ (2)مرزا غالب کی فارسی کلیات
    ۔ جلداول تا سوم کا
    ۔ عروضی مطالعہ ۔زیر طبع
    (3) قدیم بلوچی داستانوں میں
    ۔ عورت کا کردار
    ۔ شائع شدہ زاویے(تانثی ادب)
    ۔ کتابی سلسلہ نمبر 3
    ۔ شعبہ اردو بریلی کالج،2018,دہلی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخبار فروش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کراچی کی کسی مشہور شاہراہ پر
    کوئی اخبار ہاتھوں میں لیے بچہ
    ہزاروں گاڑیوں کے درمیاں سگنل جہاں کچھ دیر کو ہی بند ہوتا ہے
    صدا وہ یہ لگاتا ہے
    ارے بابو!…..سنو گے آج کی تازہ خبر؟؟؟
    وزیرِ اعلیٰ نے تعلیم کردی مفت صوبے میں
    ارے بابو! سنو تو آج کی تازہ خبر!
    کہ آٹے دال کی اب قیمتوں میں اور اضافہ ہوگیا ہے
    آج کی تازہ خبر!
    اک باپ نے غربت کے ہاتھوں اپنے بچوں کو کھلا کر زہر خود بھی خودکشی کرلی!!
    یہی بچہ صدا دیتا ہوا اور آگے بڑھتا ہے
    اچانک…..
    اچانک دور سے اک چمچماتی کار گاڑی بند سگنل توڑ کر تیزی سے بچے کو کچل کر آگے بڑھتی ہے….
    لہو میں تر سڑک کے دو کناروں پر پڑے ہیں آج کے اخبار
    یہی ہے آج کی تازہ خبر۔۔۔۔۔

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ Goodbye2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وبا کے سال کی یہ آخری شب ہے
    چلو اس کو وداع کرلیں
    دعا کرلیں کہ آنے والا سورج اک نئی امید لے آئے
    گزرتے سال کے ان تین سو پینسٹھ دنوں کے دکھ
    کبھی نہ لوٹ کے آئیں
    بلائیں اور وبائیں آفتیں اس کی
    سبھی کو ڈھلتاسورج ساتھ لے ڈوبے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حیات بلوچ کی شہادت پر:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باپ کا لختِ جگر لیٹا زمیں پہ خوں میں تر
    موت کا منظر کبھی ایسا نہ دیکھا پیشتر
    باپ ماتھے پر دے بوسہ، بولے واری جائے ماں
    اٹھ ارے جانِ پدر سینا مرا چھلنی نہ کر
    ماں کرے فریاد ہاتھوں کو اٹھائے چیخ کر
    چپ ہے کیوں میری حیات، اس کو اٹھا جھنجھوڑ کر
    اور پکارے رب کو ”الباعث مرے المنتقم“
    تُو جگا بیٹے کو میرے، ظلم پر انصاف کر
    بے گنہ مارا گیا ہے، اس کی باقی تھی حیات
    تُو گراتا کیوں نہیں ہے آسماں اس قہر پر؟
    کھینچ اس قاتل کی رسی اور نہیں کرنا دراز
    دیکھ بڑھتا جارہا ہے آئے دن ظالم کا شر
    کیا یہ میداں کربلا ہے؟ یا ہے تربت کی زمیں؟
    ہے یہاں بلقیس بھی نوحہ کناں اس ظلم پر

  • 4 فروری :افغان انقلابی خاتون  مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل

    4 فروری :افغان انقلابی خاتون مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل

    4 فروری 1987

    افغان انقلابی خاتون مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنگ و جدل اور کشت و خون کے مستقل سلسلے کی حامل سرزمین افغانستان میں ایک نامور انقلابی عورت مینا کشور کمال 27 فروری 1956 میں کابل میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے دوران تعلیلم کابل یونیورسٹی میں افغانستان کی خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے بہتر روشن مستقبل کی غرض سے ” جمعیت زنان افغانستان ” Revolutionary Association of Women s of Afghanistan(RAWA) کا قیام عمل میں لایا جس کو بہت بڑی پذیرائی ملی جبکہ اپنی تنظیم کی طرف سے انہوں نے افغان خواتین کے حقوق کے لیے شعور اجاگر کرنے کی غرض سے ایک رسالہ ( پیام زن) Women s Message جاری کیا جس میں وہ خود بھی کالم لکھتی اور خصوصی پیغامات وغیرہ بھی جاری کیا کرتی تھیں۔

    تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی تنظیم RAWA کے پلیٹ فارم سے افغانستان کی مظلوم ، محکوم اور مجبور و بےگھر اور مہاجر خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے منظم جدوجہد شروع کر دی ۔ اس دوران ان کی افغانستان کے ایک روشن خیال مرد رہنما فیض احمد سے شادی ہوئی جس کے بعد دونوں میاں بیوی نے مل کر منظم جدوجہد شروع کر دی جس کی وجہ سے افغانستان کی ایک خطرناک خفیہ ایجنسی ” خاد” نے مینا کے شوہر فیض احمد کو 1986 میں قتل کر دیا جبکہ اس کے اگلے سال 1987 میں ” خاد” کے سربراہ انجنیئر گلبدین حکمت یار کے حکم کے تحت خاد کے ایجنٹس نے 4 فروری 1987 میں مینا کشور کمال کو ، کوئٹہ بلوچستان پاکستان میں قتل کر دیا جس کی موت سے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے جاری ایک موثر تحریک کا خاتمہ اور ایک توانا آواز کو خاموش کر دیا گیا۔

  • امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ہو گئی سابق صدر ٹرمپ نے دوبارہ صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کردیا ہے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر بائیڈن امریکہ کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ امریکی قیادت کو موجودہ حکومت سے خطرہ ہے ۔ بائیڈن حکومت پر چین کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کی بھی عالمی سطح پر بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاع کے مطابق ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کمر کس لی ہے ۔ بھارت میں نہرو خاندان کے چشم و چراغ راہل گاندھی نے 75ضلعوں 14 ریاستوں کا سفر 136 دنوں میں ذرائع ابلاغ کے مطابق 3570 کلومیٹر پیدل سفر کیا ہے ۔ اس کا مقصد نفرت چھوڑو بھارت جوڑو تھا ۔ مودی دور حکومت میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پرظلم کی حدیں کراس کی گئیں ۔ راہل گاندھی اپنے اس سفر میں تمام مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلے کہ وہ اور ان کی جماعت محبت کا پیغام لے کر چلے ہیں۔ا یک دوسرے سے نفرت چھوڑو بھارت جوڑو ۔ مودی نے بھارت کو جتنا نقصان دینا تھا دے لیا۔

    ملک میں بھی سیاسی ماحول فکر انگیز ہے ۔ پی ڈی ایم اگر الیکشن سے راہ فرار اختیار کرتی ہے تو وہ آئین سے غداری کے مترادف ہوگا۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بالخصوص وزیراعطم شہباز کی جماعت آئین توڑنے پر سابق صدر پرویز مشرف پر مقدمہ درج کروا چکی ہے جبکہ ایک مرحوم جج اس مقدمے پر ان کو سزائے موت کا حکم بھی دیا تھا۔

    عمران خان نے بھی جیل بھرو تحریک کا اعلان کردیا ہے اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کو للکارا ہے کہ وہ روز بروز کی ایف آئی آروں سے تنگ ہیں بہتر ہے تحریک انصاف خود ہی جیلوں میں جائے ۔ اس طرح سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بائیڈن ۔ راہل گاندھی نے مودی سرکار۔ اور عمران خان نے پی ڈی ایم کو للکارا ہے ۔ا سلام آباد پولیس نے 73 سالہ شخص شیخ رشید کو جس طرح زور دار دھکے دئیے وہ قابل مذمت ہی قابل نفرت ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ شیخ رشید راولپنڈی کے اب ایک بزرگ سیاستدان ہیں اور بیمار ہیں اس طرح کے رویے کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

  • عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    3 فروی 1975
    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مصر سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ام کلثوم 31دسمبر 1898میں مصر کے ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام ابراہیم اور والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا۔ ان کے والد ابراہیم قرآن کے حافظ اور مسجد کے امام تھے اپنی بیٹی کلثوم کو بھی انہوں نے قرآن حفظ کرایا۔ بعد میں ان کے والد نے ہی ان کو گلوکاری کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے گلوکار ابوالعلا سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔

    انہوں نے سب سے زیادہ مصر کے عرب شاعر احمد راہی کے گیت گائے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی شعراء کے کلام بھی گائے۔ ام کلثوم کی آواز میں بلا کی مٹھاس اور سوز و سرو شامل تھا وہ اپنی آواز کا جادو جگا کر سامعین پر سحر طاری کر دیتی تھیں یہی وجہ ہے کہ انہیں مصر کی بلبل،کوکب المشرق یعنی مشرق کا ستارہ اور عرب موسیقی کی ملکہ کے خطاب سے نوازا گیا۔ مصر کے شاہ فاروق اور جمال ناصر بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے ۔

    شاہ فاروق نے ان کو مصر کے سب سے بڑے ایوارڈ "ذیشان الکمال” سے نوازا۔ جبکہ علامہ اقبال کا ترجمہ شدہ کلام عربی میں گانے پر حکومت پاکستان کی جانب سے ان کو ستارہ الہلال کا ایوارڈ عطا کیا گیا ۔ مصری حکومت نے ام کلثوم کی آواز میں قرآن کی تلاوت بھی ریکارڈ کروایا ۔ ام کلثوم 1923 میں اپنے آبائی گاؤں سے قاہرہ منتقل ہو گئیں ۔ 1954میں ام کلثوم کی ڈاکٹر حسن الخضری سے شادی ہوئی ۔ ام کلثوم پر گاتے وقت وجد طاری ہو جاتا تھا۔ اس لیے وہ وہ اپنے ہاتھ میں رومال رکھتی تھی وہ گانے کے دوران وجد میں آ کر اس رومال کو پھاڑ کر لیرا لیرا کر دیتی تھیں ۔

    ام کلثوم کا شمار عرب دنیا کی موسیقی کے 4 بڑے گلوکاروں میں ہوتا ہے جن میں عبدالحلیم حافظ، ام کلثوم ، محمد عبدالوہاب اور فرید الطرش شامل ہیں ۔ دنیائے عرب کی ملکہ موسیقی اور ستارہ مشرق ام کلثوم کا 3 فروری 1975 میں انتقال ہوا ان کے جنازہ نماز میں 40 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی جوکہ ایک عالمی ریکارڈ اور ان کی انتہا درجے کی مقبولیت کا ثبوت بھی ہے۔

  • حیا ہراریت   اسرائیلی   اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت

    اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    3 فروری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ اسرائیلی اداکارہ ، مصنفہ اور اسکرپٹ رائٹر حیا ہراریت 20 ستمبر 1931 میں ہائفہ فلسطین میں پیدا ہوئی۔ ہائفہ اس وقت اسرائیل کا حصہ ہے ۔ 1955 میں انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا انہوں نے بیحد متاثر کن اداکاری کے جوہر دکھائے اور اورفلمی کہانیاں لکھیں اور فلم اسکرپٹ لکھ کر بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی اور عالمی فلمی میلہ میں خصوصی ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے دو شادیاں کیں پہلی شادی اسرائیلی انجنیئر Nachman Zervanitzer سے کی چند برس بعد ان سے علیحدگی اختیار کی جبکہ دوسری شادی برطانوی فلم ڈائریکٹر Jack Clayton سے کی ۔ 3 فروری 2021 برطانیہ میں 90 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔

  • گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر

    گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر

    گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر
    تحریک انصاف کے اراکین کی گرفتاریاں جاری ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومت ختم ہونے کے بعد نگران حکومتیں قائم ہوئیں تو نگران حکومت نے آتے ہی فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کیا اور انہیں لاہور سے گرفتار کر لیا ، فواد چودھری کو لاہور سے گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں عدالت نے انکی اس شرط پرضمانت دی کہ وہ اب مزید کوئی اداروں کے خلاف بیان نہیں دیں گے،

    تحریک انصاف کی جب سے وفاقی حکومت ختم ہوئی، انہوں نے اداروں کو نشانے پر رکھ لیا، عمران خان سے لے کر تحریک انصاف کے ایک کارکن تک ، سب نے ریڈ لائن کراس کر لی ہیں، جس کا جو بھی جی چاہتا ہے بول دیتا ہے خواہ وہ اداروں کے خلاف ہو، کچھ بھی ہو ، سوشل میڈیا پر بھی طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے، ایسے میں اگر ادارے حرکت میں آتے ہیں کسی پر مقدمہ درج ہوتا ہے یا قانون اپنا راستہ بناتا ہے تو اسے انتقامی کاروائی قرار دے دیا جاتا ہے ، اعظم سواتی، شہباز گل پہلے گرفتار ہو چکے، ضمانت پر رہا ہیں ، اب تحریک انصاف کے رہنماؤں شاندانہ گلزار، شبیر گجر پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، شیخ رشید جو تحریک انصاف کے اتحادی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ہیں پر تین مقدمے درج ہو چکے ہیں عمران خان کے خلاف اندراج مقدمہ کی دوبارہ درخؤاست دی جا چکی ہے، پرویز الہیٰ کے خلاف بھی اندراج مقدمہ کی درخؤاست دی جا چکی ہے ، عمران خان زمان پارک میں ہیں اور وہ بنی گالہ جانے کا سوچ رہے ہیں تا ہم ہر روز رات کو شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آج رات عمران خان کو گرفتار کئے جانے کا امکان ہے اور پھر کارکنان کو بلا لیا جاتا ہے تا کہ کسی طریقے سے عمران خان کی گرفتاری نہ ہو

    نگران حکومت کے قیام کے بعد تحریک انصاف ایک بار پھر دفاعی پوزیشن میں جا چکی ہے، شہباز گل، اعظم سواتی، فواد چودھری سمیت کئی رہنما ضمانتوں پر ہیں، اور اب حالات یہی بتا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مزید مقدمے ہوں گے اور گرفتاریاں بھی ہوں گی،

    ہ پشاور کا سانحہ دہشت گردوں کی مزاحمت کا تقاضا کر رہا ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف پشاور پہنچ گئے،

    ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو 

    نیشنل ایکشن پلین پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے،

  • آئین پاکستان کہاں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئین پاکستان کہاں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    وارثان پاکستان وارثان سیاست و جمہوریت اور وارثان عام آدمی کے دعویداروں سے سوال ہے کہ آئین پاکستان کہاں ہے؟ قانون اور پارلیمنٹ ہائوس کی بالادستی کہاں ہے؟ سٹیٹ کے اداروں کو اپنے تابع سمجھنے والے سیاستدانوں سے سوال ہے کیا یہ ملک کسی فرد واحد کی جاگیر ہے؟ یا 22 کروڑ عوام کا ہے اگر22 کروڑ عوام کا ہے تو یہ عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کیوں ہیں؟ ان کے پڑھے لکھے بچے اور بچیاں بے روزگار کیوں ہیں؟ آٹا حاصل کرنے لائنوں میں لگ کر یہ کیوں مررہے ہیں؟ ان کو پینے کے لئے صاف پانی میسر کیوں نہیں؟ بیماروں کے لئے جدید سہولتوں والے ہسپتال کیوں نہیں ہیں؟ اے وارثان جمہوریت 75سال بیت گئے نہ تم سیاست کے اصول مرتب کرسکے نہ جمہور کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرسکے نہ جمہوریت کو مستحکم کرسکے نہ معیشت کو مستحکم کرسکے اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکے۔ تاہم لینڈ مافیا‘ چینی مافیا‘ آٹا مافیا‘ جاگیرداری نظام‘ سرمایہ داری نظام کی پشت پناہی کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔

    موروثی سیاست پر بحث کرنے والے سیاستدان امریکہ سے لیکر بھارت‘ بنگلہ دیش کی سیاست کا مطالعہ کریں اور غور کریں۔ یہ وقت موروثی سیاست پر بحث کا نہیں ریاست کو مستحکم کرنے‘ جمہوریت کو مستحکم کرنے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے کا ہے۔ اس وقت ملک میں آئینی بحران پیدا کیا جارہا ہے یا کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جارسکتا پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے آبائو اجداد آئین پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا آج ان کی اولادیں آئین سے کیوں راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہیں اگر پیپلز پارٹی بھٹو کے مشن کا نعرہ بلند کرتی ہے تو پھر موجودہ حالات جس میں انتخابات سے فرار بھٹو کے مشن سے فرار کے مترادف ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے والد مرحوم کا بھی بڑا کردار رہا پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کیا پی ڈی ایم اور کیا اپوزیشن تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے یہ محض فریب کاری اور شعبدہ بازی ہے۔ فوج نہ تو جذبہ جہاد سے عاری ہوسکتی ہے اور نہ مذہب اس کے دل و دماغ سے کھرچا جاسکتا ہے۔ پاکستان‘ عوام‘ اسلام اور عشق رسول پاک فوج کا قیمی اثاثہ ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں‘ وی لاگرز‘ سوشل میڈیا والے اس ملک اور پاک فوج پر رحم کریں۔

  • جیمز جوائس؛آئرش نامہ نگار،افسانہ نگار اورشاعر

    جیمز جوائس؛آئرش نامہ نگار،افسانہ نگار اورشاعر

    پیدائش:02 فروری 1882ء
    وفات:13 جنوری 1941ء
    زیورخ
    وجۂ وفات:ورمِ صفاق
    شہریت: آئرلینڈ
    تعداد اولاد:2
    مادر علمی:جامعہ کالج ڈبلن
    (1898-1902)
    تلمیذ خاص:سیموئل بکٹ
    زبان:انگریزی
    پیشہ ورانہ زبان:اطالوی، لاطینی زبان، فرانسیسی، انگریزی
    کارہائے نمایاں:ڈبلینرز، یولیسیس

    جیمز جوائس انگریز ناول نگار، ڈبلن ’’آئرلینڈ‘‘ میں پیدا ہوا۔ بچپن عسرت میں بسر ہوا۔ پیرس میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے گیا مگر تعلیم مکمل نہ کرسکا اورلسانیات پڑھانے لگا۔ 1907ء میں اپنی نظموں کا مجموعہ اور 1914ء میں کہانیوں کا مجموعہ شائع کیا۔ اس کے نام Portarit of the artist میں اس کی آپ بیتی کے آثار ملتے ہیں۔ اس کا شاہکار ناول Ulysses ہے جو 1922ء میں پیرس سے شائع ہوا۔