Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید 1940 میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

    میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔

    پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران 1984میں انتقال کر گئے۔

    کشور ناہید کے چھ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو ۱۹۶۹ء میں ان کی کتاب ’’لب گویا‘‘ پر آدم جی ایوارڈ بھی ملا۔ انہوں نے فرانس کی مشہور ناول نگار سمعون ڈی بوار کی کتاب ’’سیکنڈ سیکس‘‘ کا اردو ترجمہ ۱۹۸۳ء میں ’’عورت‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ کشور ناہید کی متعدد نظموں کا انگلش اور ہسپانوی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

    کشور ناہید کو آدم جی ایوارڈ کے علاوہ یونیسکو پر اثر منڈیلا ایوارڈ، ستارئہ امتیاز اور کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
    .
    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے
    اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے

    دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی
    خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے

    پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا
    پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے

    آنکھ آئنوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک
    ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے

    کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہ
    کیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے

    عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھا
    فاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے

    ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہا
    کوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے

    اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیں
    جو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے

    اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبت
    وہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے

    وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کے
    جو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے

    غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھے
    کون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے

    اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظر
    دل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے

    میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پر
    ایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے

  • ڈینئل پرل امریکی صحافی

    ڈینئل پرل امریکی صحافی

    پیدائش:10 اکتوبر 1963ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    ریاستہائے متحدہ امریکا
    وفات:01 فروری 2002ء
    ۔ (عمر 38 سال)
    ۔ کراچی، سندھ، پاکستان
    وجہ وفات:سر قلم
    طرز وفات:قتل
    دریافت نعش:16 مئی 2002ء
    رہائش:واشنگٹن ڈی سی
    ریاستہائے متحدہ
    قومیت:ریاستہائے متحدہ
    اسرائیل
    دیگر نام:ڈینی
    نسل:یہودی
    آبائی علاقہ:اینسینو، لاس اینجلس
    کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ
    مذہب:یہودیت
    رکن:فی بیٹا کاپا سوسائٹی
    زوجہ:میرئین پرل
    ۔ (1999-2002ء
    ۔ اس کے سانحۂ انتقال تک)
    اولاد:ایڈم ڈانئیل پرل
    ولادت:28 مئی 2002ء
    والدین:جوڈیا پرل (والد)
    روتھ پرل (ماں)
    رشتے دار:میشیل اینڈ تمارا (بہنیں)
    تعلیم:مواصلات میں بی اے
    مادر علمی:اسٹینفورڈ یونیورسٹی
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    ملازمت:وال اسٹریٹ جرنل
    وجہ شہرت:وال اسٹریٹ صحافت

    ڈینئل پرل ایک امریکی صحافی تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈانئیل پرل کا اغوا اس وقت کیا گیا تھا جب وہ 2002ء میں ایک کہانی کی تحقیق کے لیے کراچی میں تھے۔ اغوا کے بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش کراچی کے باہری علاقے میں ملی تھی۔ اس وقت پولیس نے قتل کی تحقیقات کے بعد اس میں انتہا پسند مذہبی عناصر کے شامل ہونے کا شک ظاہر کیا تھا جسے بعد میں سچ پایا گیا تھا۔

  • مل کر سوچیں ، غلطیاں کہاں ہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مل کر سوچیں ، غلطیاں کہاں ہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پشاور میں دہشت گردی کا قہر کوئی پہلا واقعہ نہیں تا ہم حکمرانوں سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو شاید محسوس نہیں ہوا۔ دہشت گردی کی آگ کس طرح ملک کو تباہ کرتی جا رہی ہے۔ مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے؟ کہاں غلطیاں ہیں؟ کون سی کلی انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے ؟ اور ایسا کون سا گناہ ہے کہ سختیاں اور پریشانیاں، امتحان، آزمائشیں ختم ہونے کو نہیں آتیں۔ ابھی کسی پہلے سانحہ کا گرد و غبار بھی نہیں جھڑتا پھر ایک اور۔ گویا ایک تسلسل ہے جو پے در پے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہمارے تعاقب میں ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے یا تو انتہائی بے حس ہو چکے ہیں یا پھر مایوس و نامراد یا پھر تیسری وجہ یہ عم بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا رب بھی ہے اور خالق بھی ہے اسے سب خبر ہے اور وہ ضرور ہماری داد رسی کرے گا کیونکہ ہم اس کے چہیتے ہیں ؟ یہ کون لوگ ہیں ؟ کہاں سے آتے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں اور ہم نے وہ کون سا جرم کیا ہے کہ ظالم درندے بے گناہ شہریوں کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ میری دانست میں حکومت وقت، مقتدر ایجنسیاں، منبر و محراب، کیونکہ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے ارباب اختیار، سیاسی و مذہبی جماعتیں دکھ اور غم کا اظہار کرنے کے بعد دھواں دھار بیانات، لوگوں کی اشک شوئی کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان ہوتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ساری قوت اقتدار کو بچانے اور طول دینے جبکہ اپوزیشن اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں لگی ہیں۔ پشاور کے واقعہ نے پورے ملک کی عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے دہشت گردوں نے سیدھا اور واضح پیغام دیا ہے کہ ہم نے ریاست کے دوسرے بڑے قانون نافذ کرنیوالے ستون جو لوگوں کی حفاظت پر مامور ہے یعنی پولیس اس پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔

    سیاستدان ہوش کے ناخن لیں ایسے دل ہلا دینے والے واقعات پر سیاست اور ایک دوسرے پر الزامات سے گریز کریں وطن عزیز اور بسنے والے عوام مہنگائی، غربت بنیادی ضروریات زندگی سے پہلے ہی محروم ہیں عوام الناس کا کوئی والی وارث نہیں ہے ان کے منہ سے ہر بڑے پیٹ والے نے نوالہ چھینا ہے اس لئے رونا صرف سیاسی ابتری کا نہیں بلکہ معاشرے کے ہر بڑے طاقتور نے مظلوم کا خون نچوڑا ہے پشاور کے دل ہلا دینے والا سانحہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اخوت، رواداری، بھائی چارے کی عظیم روایات کو زندہ کریں جنگ اسی صورت جیتی جا سکتی ہے کہ افواج کو اس کے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ افواج پاکستان، قومی سلامتی کے اداروں، پولیس نے بہت قربانیاں دی اور عوام نے بھی۔ ہمارے شہیدا اور غازی اس بات کے حقدار ہیں کہ انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے۔

  • سینئر صحافی تیار ہے

    سینئر صحافی تیار ہے

    سینئر صحافی تیار ہے

    تحریر : احسان اللہ ایاز نامہ نگار باغی ٹی وی ننکانہ صاحب
    یہ تقریباََ 2 سال قبل یعنی 2021 کی بات ہے کہ میں عام روٹین میں فیس بک دیکھ رہا تھا تو اسی دوران ایک تحریر پڑھنے کو ملی اس تحریر کو جس نے بھی تحریر کیا دل کو لگی ،اس تحریر میں پاکستان میں صحافت کے معیار کے بارے میں بڑے خوبصورت اور مدلل اندازمیں بات کی گئی تھی ،اس تحریر کے رائٹر کا نام کہیں بھی نہیں لکھاتھا نیچے صرف اتنا لکھا تھا "کاپی شدہ ” وہی تحریر بغیر کسی تبدیلی کے نذرقارئین ہے
    پاکستان میں صحافی بننے کیلئے صرف کیمرہ والا موبائل فون ہونا چاہئے۔ لیکن اگر آپ سعودی شہری ہیں، صحافی بننا چاہتے ہیں تو آپ کو انتہائی سخت مراحل سے گزرنا ہوگا،سب سے پہلے آپ کی صحافت میں تعلیمی ڈگری درکار اور چیک ہوگی ، اس کے بعد آپ کی فصاحت، بلاغت، کتابت، اِملاء، کے ساتھ ساتھ وطن سے محبت کا معیار تک چیک کیا جاتا ہے کہ آیا یہ شخص وطن دشمن ایجنسیوں کا ایجنٹ تو نہیں ہےپھر سعودی وزارتِ اطلاعات و نشریات آپ کا تمام ڈیَٹا، ہاتھ پاوں کے فنگر پرنٹ لےکرکمپیوٹرائزڈ کارڈ جاری کرتا ہےاتنے طویل صبر آزما مراحل کے بعد سعودی حکومت آپ کو اپنے متعلقہ اخبار / چَینل کے ساتھ کام کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دیتی ہے۔اگر آپ امریکی شہری ہیں اور صحافی بننا چاہتے ہیں تو امریکی حکومت کو جرنلزم میں ماسٹر ڈگری یا اس کے مساوی ڈگری پیش کرنا ہوگی، پھر اس کے بعد مختلف قسم کے تحریری امتحانات کے بعد آپ کو گورنمنٹ آف امریکہ کارڈ جاری کرتی ہے۔جس میں سٹیٹ سے وفاداری کا حلف نامہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اگر آپ سکینڈے نیون کنٹریز (ناروے، سویڈن، ڈنمارک) کے شہری ہیں اور صحافی بننا چاہتے تو آپ کو سب سے پہلے صحافت میں 70% مارکس کے ساتھ شعبہ صحافت کی ماسٹر ڈگری وزارت اطلاعات کو دکھانی ہوگی، وزارت اطلاعات جانچ پڑتال کے بعد آپ کو کسی بھی اخبار چینل کا رپورٹر بننے سے پہلے 180 دن کے تربیتی کورس پہ بھیجتی ہے جس کا خرچہ کورس کرنے والا خود اٹھاتا ہےاور ہمارے پیارے ملک پاکستان میں آپ کے پاس صحافتی ڈگری نہ بھی ہو، حتی کہ آپ اَن پڑھ ہیں، پھر بھی صحافی بننا چاہتے ہیں، تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے
    آپ کے پاس ایک اچھا سا موبائل فون کیمرہ والا ہونا چاہئے, اور کِسی بھی برسوں سے بند پمفلٹ ٹائپ دَو وَرقی اخبار کی نمائندگی جس کے لیے آپ کو دو فوٹو اور چند ہزار روپے ایڈیٹر کو بطور نذرانہ دینا ہونگے، اگلے روز آپ کا کارڈ بن کر آجائے گاجلد مشہور ہونے کے لئے قریبی دوستوں سے مبارکباد کی پینافلیکس بنوا کے چوک چوراہوں میں لگوا دیں
    تولوجناب ” سینئر صحافی” تیار ہے.

  • کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی
    سیاسی انتشار کیساتھ معاشی زوال ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں پر سوالیہ نشان ہے ۔ اس معاشی زوال کا ذمہ دار کسی فرد واحد، سیاسی جماعت یا فیصلہ ساز اداروں کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے ذمہ دار سب ہیں۔ موجودہ بے ہودہ شور شرابے کی کیفیت میں معاشی زوال مزید تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ اس معاشی زوال کی ایک وجہ سیاسی انتشار اور محاذ آرائی ہے۔ ریاست کے حالات اور کردار کا دارومدار معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ آج ملک معاشی زوال کی جس نہج پر کھڑا ہے غریب عوام کے معاشی قتل ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بالادست طبقے کی لڑائی نے ملک و قوم کو بلی چڑھا دیا ہے۔ سالوں سے پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ان سیاستدانوں نے ملکی وسائل پر توجہ ہی نہیں دی اورنہ ہی فیصلہ ساز اداروں نے ان کی توجہ کا مرکز آئی ایم ایف ، چین، عرب ممالک عالمی مالیاتی ادارے رہے جن سے قرض در قرض لے کر ملک چلاتے رہے۔

    موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو موجودہ معاشی بحران کا ذمہ دار قرار دے کر قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے یہ پرانا وطیرہ ہے ڈان لیکس میں جس طرح پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اور ان کو سینٹ سے باہر کر دیا گیا قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین اور جمہوریت کی آواز بلند کرنے والے کو نوازشریف کے وفادار ساتھی کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ یہ پارلیمنٹ ماضی کے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے اے ٹی ایم لینڈ مافیا کی پشت پناہی، چینی مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ جس پارلیمنٹ ہائوس میں بے نظیر بھٹو، نوابزادہ نصر اللہ، قاضی حسین احمد، مولانا عبدالستار خان نیازی، ولی خان اور ان جیسے دیگر سیاستدان اپوزیشن کا کردار ادا کرتے آج اس پارلیمنٹ ہائوس میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہیں پارلیمنٹ ہائوس اور آج کی جدید جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے؟

    سینئر سے سینئر ترین کہلوانے والے صحافی کرکٹ جو نوجوانوں کا کھیل ہے چیئرمین کے عہدوں پر فائز ہو چکے ہیں پڑھے لکھے نوجوان خاکروبوں کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نام نہاد ماہرین، فیصلہ ساز اداروں، سیاستدانوں کی لایعنی اور گری ہوئی گفتگو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ موجودہ نظام کے رکھوالوں کے پاس معاشرے کو درپیش سنگین مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ ملک کے وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف اور آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دیگر پی ڈی ایم والوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی باقی رہ گیا ہے تو اسے بھی وزیر اہر مشیر بنا دیں تاکہ قوم کے لئے خزانے میں کچھ بھی نہ بچے۔

  • گندم کی فصل اور یوریا کی بلیک مارکیٹنگ

    گندم کی فصل اور یوریا کی بلیک مارکیٹنگ

    تحریر ۔ملک ظفر اقبال ۔
    کسانوں کو اس وقت کھاد کی ضرورت ہے اور کھادوں میں سے یوریا کھاد اس وقت گندم کی فصل کو اشد ضروری ہے مگر کسان جو اس ملک کی معاشی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے وہ بے بس اور خوار ہوتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ کسانوں کو فصل کی کٹائی پر جو وہ سارا سال محنت کرتا ہے وہ معاوضہ نہیں ملتا جس کا وہ حق دار ہے ۔
    اس وقت ضلع اوکاڑہ میں یوریا کھاد کی بلیک مارکیٹنگ جاری ہے اور سرکاری سطح پر اس کی کوئی روک تھام نہیں ۔سب اچھا کی رپورٹ احکام بالا کو دی جاتی ہے کسانوں کو یوریا کھاد کی عدم دستیابی کی وجہ تشویش لاحق ہے کیونکہ ان کے بچوں کی روزی روٹی کا زیادہ تر انحصار گندم کی فصل پر ہوتا ہے اور اگر اس وقت فصل کو کھاد نہ دی گئی تو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
    ضلع اوکاڑہ کی انتظامیہ کو چاہئیے کہ فی الفور اس کا ہنگامی بنیادوں پر متبادل راستہ نکالیں ورنہ گندم کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ظاہر ہورہا ہے ۔
    محکمہ زراعت کی ملی بھگت سے اوکاڑہ میں کھاد مجموعی طور پر بلیک میں فروخت ہورہی ہے اور کوئی کاروائی عملی طور پر نظر نہیں آ رہی ۔جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہوکہ کسانوں کو کھاد کی عدم دستیابی کی وجہ سے سرکاری سطح پر کھاد کو کسانوں تک پہنچانے میں کوئی عملی قدم اٹھانے کی کوشش کی گئی ہو۔
    عوامی حلقوں خصوصاً ملگدا چوک اور گردونواح کے ہزاروں کسان پریشان ہیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس مسلئہ پر توجہ دینے کی ضرورت بلکہ زرعی ایمرجنسی نافذ کردینی چاہیے تاکہ ٹاؤٹ مافیا سے چھٹکارا حاصل ہو سکے ۔
    گندم کی فصل کو یوریا کھاد پہلے پانی کے ساتھ دینا انتہائی ضروری ہے ۔
    یوریا کھاد سرکاری 2250 کی بجائے 3500/4000 میں فروخت ہورہی ہے اور محکمہ زراعت اس مافیا کی سربراہی کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔عوامی حلقوں نے ڈی سی او اوکاڑہ اور کمشنر ساہیوال سے نوٹس لینے کی درخواست کی ہے

  • سیاستدان، عوام، تاجر،خود حکمران بھی سراپا احتجاج کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاستدان، عوام، تاجر،خود حکمران بھی سراپا احتجاج کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں میں سیاستدان کم مخبروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے البتہ بے نقاب بھی ہورہے ہیں۔ سیاستدانوں کی لڑائیاں اب سیاسی نہیں ذاتی دشمنی پر اتر آئی ہیں۔ پارلیمنٹ کی بالادستی‘ آئین اور قانون کی حکمرانی کے نعرے باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے تنازعات میں ایک دوسرے کو ننگا کررہی ہیں۔ ان حرکات سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔ عالمی دنیا اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہے ہمارے سیاستدان ریاست اور عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال کر اقتدار کی جنگ میں مصروف عمل ہیں دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ سیاسی تماشائیوں میں عوام کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ ملکی اداروں کو متنازعہ بنا دیا گیا یا متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن سے لیکر تمام اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم اس ملک کی کونسی خدمت کررہے ہیں۔

    سیاستدان سراپا احتجاج‘ عوام سراپا احتجاج‘ تاجر سراپا احتجاج‘پی ڈی ایم میں شامل خود سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج‘ صحافی سراپا احتجاج۔ آخر انہیں کس نے اتنا مجبور کردیا ہے کہ سب سراپا احتجاج ہیں؟تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ملک میں نہ آئین ہے نہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہے نہ کوئی انسانی حقوق ہیں۔ ان حالات میں پنجاب اور کے پی کے کے الیکشن بھی مشکوک ہوگئے ہیں۔ آئین تو انتخابات کا راستہ دکھاتا ہے اگر موجودہ حکومت نے پنجاب اور کے پی کے میں بروقت انتخابات نہ کروائے تو معاملہ عدالتوں میں چلا جائے گا۔ اگر وفاق انتخابات نہیں کرواتا تو پھر یہ آئین سے روگردانی ہوگی۔ امید تو یہی ہے کہ وفاق ایسا نہیں کرے گا اگر ایسا کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔

    ملک اور عوام کے مفاد میں مقتدر حلقوں اور قومی سلامتی کمیٹی کو مل کر سیاسی خلفشار کو کم کرنے کی راہ نکالنی چاہئے اور تمام سیاسی جماعتوں کا ڈآئیلاگ اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی گرداب سے ملک کو نکالنے کے لئے وطن عزیز کے تمام اعلیٰ پائے کے معیشت دانوں کے ساتھ بامقصد کانفرنس کرکے تجاویز لی جائیں اور قابل عمل راہ اختیار کی جائے۔ تمام سیاسی مصلحتوں اور پسند ناپسند سے بالاہو کر حکومت اور مقتدر حلقوں کو خلوص کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ معاشی بحران پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت عالمی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ خود ڈیفالٹ ہونے کے قریب تر ہے تاہم ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے امریکی سیکرٹری خزانہ جانیٹ پالین نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ قرض کی حد از جلد بڑھا دے تاکہ تاکہ ڈیفالٹ کے خطرے کو ٹالا جاسکے۔

  • سائونی گھوش:ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ

    سائونی گھوش:ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ

    سائونی گھوش (پیدائش: 27 جنوری 1993) ایک ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ اور گلوکارہ ہے۔
    ان کی اداکاری کا آغاز ٹیلی فلم سوچے دانا سے ہوا، اور بڑے پردے پر ان کی پہلی نمائش فلم نوٹوبور نوٹ آؤٹ میں مختصر کردار کے ساتھ ہوئی اس کے بعد اس نے راج چکرورتی کی شوٹرو میں کچھ تجربہ کار اداکاروں کے ساتھ اسکرین شیئر کی، اور بعد میں ایک لاپرواہ صحافی کا کردار ادا کیا۔ راج چکرورتی کے روزمرہ کے صابن پرولوئے آسچے میں۔
    انہوں نے فلموں کاناماچی، انترال، ایکلا چلو، بٹنون، مائر بیا، راجکاہنی میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

    Saayoni Ghosh (Born 27 January 1993) is an Indian Bengali film and television actress and singer.
    Her acting debut was with a telefilm Ichhe Dana, and her first appearance on the big screen was with a short role in the film Notobor Notout After this she shared the screen with some veteran actors in Raj Chakraborty’s Shotru, and later played a carefree journalist role in Raj Chakraborty’s daily soap Proloy Asche.
    She has played lead roles in the films Kanamachi, Antaraal, Ekla Cholo, Bitnoon, Mayer Biye, Rajkahini.

  • کویتا کرشنامورتی:16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ

    کویتا کرشنامورتی:16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ

    کویتا کرشنامورتی

    16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کویتا کرشنامورتی ایک بھارتی فلمی پلے بیک گلوکارہ ہیں جنہوں نے ہندی، تیلگو، مراٹھی، انگریزی، اردو، تامل، ملیالم، کنڑ، گجراتی، نیپالی، بنگالی، آسامی، کونکنی اور اوڈیا وغیرہ میں گانے گائے ہیں۔
    کلاسیکی موسیقی میں تربیت یافتہ، کویتا کرشنامورتی نے 30 سال کے کیریئر میں 16 زبانوں میں 25,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے ہیں۔
    لکشمی کانت – پیاری لال، نوشاد، ایس ایچ بہاری، کیفی اعظمی، انجان، او پی نیئر، خیام، ہیمنت کمار، رویندر جین، بپی لہڑی، سمیر، آنند بخشی، جاوید اختر، انو ملک، آر۔ڈی برمن، ہمیش ریشمیا، ہمسلیکھا، زوبین گرگ اور اے۔آر رحمان
    وہ چار فلم فیئر بہترین خاتون پلے بیک سنگر ایوارڈز کی وصول کنندہ بھی ہیں، جن میں 1994-1996 کی مدت میں مسلسل تین ایوارڈز، اور پدم شری جو انہیں 2005 میں ملا تھا۔
    1999 میں، اس نے وائلنسٹ ایل۔
    سبرامنیم اور بنگلورو میں مقیم ہیں۔ کویتا کی پیدائش شاردا نئی دہلی، ہندوستان میں ایک تامل آئیر خاندان میں ہوئی تھی۔
    کرشنامورتی، وزارت تعلیم کے ملازم۔
    اس نے موسیقی کی تربیت اپنی خالہ پروتیما بھٹاچاریہ کے اصرار پر شروع کی جنہوں نے اسے سورما باسو کے پاس داخل کرایا، جو اسے رابندر سنگیت سکھاتے تھے۔
    اس نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں اپنی باقاعدہ تربیت کا آغاز ایک کلاسیکی گلوکار بلرام پوری کے تحت کیا۔
    آٹھ سال کی چھوٹی عمر میں، کویتا نے موسیقی کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
    اس نے 1960 کی دہائی کے وسط میں نئی ​​دہلی میں انٹر منسٹری کلاسیکل مقابلے میں حصہ لیتے ہوئے بہت سے تمغے جیتے تھے۔

    25/01/2023

    Kavita Krishnamurthy is an Indian film playback singer who has sung songs in Hindi, Telugu, Marathi, English, Urdu, Tamil, Malayalam, Kannada, Gujarati, Nepali, Bengali,Assamese, Konkani and Odiya Etc.
    Trained in classical music, Kavita Krishnamurthy has recorded more than 25,000 songs in 16 languages in a career span of 30 years.
    Working with almost all the music composers including Laxmikant–Pyarelal, Naushad, S H Bihari, Kaifi Azmi, Anjan, O P Nayyar, Khayyam, Hemant Kumar, Ravinder Jain, Bappi Lahiri, Sameer, Anand Bakshi, Javid Akthar, Anu Malik, R.D.Burman, Himesh Reshammiya, Hamsalekha, Zubeen Garg and A.R.Rahman.
    She is also the recipient of four Filmfare Best Female Playback Singer Awards, including three consecutive awards in the period 1994–1996, and the Padmashri which she received in 2005.
    In 1999, she married violinist L.
    Subramaniam and residing in Bengaluru. Kavita was born Sharada in a Tamil Iyer family in New Delhi, India to T.S. Krishnamurthy, an employee of the Education Ministry.
    She began her music training at the insistence of her aunt, Protimma Bhattacharya who enrolled her with Suruma Basu, who taught her Rabindra Sangeet.
    She began her formal training in Hindustani classical music under Balram Puri, a classical singer.
    At the young age of eight, Kavita won a gold medal at a music competition.
    She won many medals participating in the Inter-Ministry Classical Competition in New Delhi in the mid 1960s.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • بندر کے ہاتھ میں ماچس ،تحریر از :عمر یوسف

    بندر کے ہاتھ میں ماچس ،تحریر از :عمر یوسف

    خیال ایک کوند کی مانند دماغ میں آتا ہے۔ پھر انسان کا اختیار ہوتا ہے کہ اس خیال کو کیچ کرے اور اس پر سوچ و بچار شروع کردے ۔ بہت سارے خیال آرہے ہوں اور کسی کو بھی پکڑنا دشوار ہو تو اسے ذہنی انتشار کا نام دیا جاتا ہے ۔سوشل میڈیا کی متنوع زندگی نے انسان کو اتنے خیال دینا شروع کردیے ہیں کہ انسان کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے کہ وہ کس پر سوچ و بچار کرے ۔ گویا ذہنی انتشار شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے ۔ موجودہ مسائل میں اس کو بھی شمار کیا جاسکتا ہے ۔ سوشل میڈیا کا استعمال جس شدت سے فروغ پا رہا ہے انہیں نفسیاتی مسائل کے باعث ممکنہ طور پر مستقبل میں ماہر نفسیات کافی زیادہ ہوجائیں گے یا یوں کہہ لیں کہ ماہرین نفسیات کی مانگ بہت بڑھ جائے گی ۔کیونکہ اس کیفیت کو کنٹرول کرنے کے لیے اعلی ذہنی شعور درکار ہے ۔ اگر شعور نہ ہو تو یہ صورت حال سنبھالنا خاصا مشکل کام ہے ۔پاکستان کے تناظر میں بات کی جائے تو یہاں شرح خوندگی کافی حد تک کم ہے ۔گویا شعور کی سطح بھی کم ہے ۔

    اس لیے ایسے معاشرے میں ڈیجیٹل گیجٹ اور سوشل میڈیا کے متوازن استعمال کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ نیا دور ترقیوں کے ساتھ مسائل بھی لے کر آیا ہے اور بڑے شدید قسم کے مسائل ہیں جو انسانیت کو درپیش ہیں۔ ایسی صورت حال میں باشعور افراد خود اپنی عادات و اطوار کو طے کریں اور ماتحت لوگ جیسے گھریلو سطح پر اولاد و دیگر خاندانی افراد اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ طلباء کی اس عادت کو کنٹرول کریں اس کے علاوہ کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ نفسیاتی مسائل کے علاوہ گردن ، آنکھوں کی بینائی اور کانوں کی سماعت کے مسائل کی ذمہ داری بھی ان گیجٹ پر ڈالی جاسکتی ہے ۔ ظاہر ہے زیادہ ذمہ داری تو اسے جانوروں کی طرح استعمال کرنے والے پر ہی آئے گی ۔ گویا بندر کے ہاتھ ماچس آئی تو اس نے جنگل جلا دیا اور اسی کے بھائیوں کے ہاتھ موبائل آیا تو انہوں نے خود کا بیڑا غرق کرلیا ۔