Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کے سیاسی ماحول میں ایک خطرناک رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے۔ سیاسی اختلافات، ذاتی مفادات اور سستی شہرت کی دوڑ نے کچھ عناصر جن میں یوٹیوبرز، غیر ذمہ دار سوشل میڈیا اور دوسرے ویلاگرز نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف من گھڑت افواہیں پھیلانا اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف اخلاقی انحطاط کا مظہر ہے۔ بلکہ قومی سلامتی پر براراست حملہ بھی ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے ادارے خصوصا عسکری قوت اس ملک کی دفاعی دیوار ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جنکے افسران اور جوان ہر لمحہ اپنی جان کو داو پر لگا کر ملک کی سرحدوں کے محافظ بنے کھڑے ہیں۔ ان میں سے کئی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں ایسے میں ان کے خلاف جھوٹے الزامات اور بے بنیاد پروپیگنڈہ نہ صرف شہداء کے خون کی توہین ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

    بلاشبہ اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر اس آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے کرنا انکی ساکھ مجروح کرنا اور عوامی اعتماد کو متنززل کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی ذمہ دار ریاست میں ایسی منفی سرگرمیوں کے خلاف سخت قوانین موجود ہوتے ہیں اور ان قوانین کا نفاذ قومی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاو کو روکنے کے لیے واضح اور سخت حکمت عملی وضع کی جائے ساتھ ہی عوام کو معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ رویے کی اہمیت سے آگاہ کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت مدنظر رکھنا چاہیے کہ ریاست ہمیشہ مقدم رہتی ہے سیاست بعد میں۔ اگر سیاسی فائدے یا ذاتی شہرت کے لیے اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا تو اسکے اثرات قوم کی اجتماعی وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

    وطن عزیز اس وقت جن چیلنجز سے دوچار ہے وہ ہم سے زیادہ ذمہ داری، اتحاد اور سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ افواہوں کی سیاست کے خلاف اجتماعی شعور اور ریاستی سطح پر مضبوط کاروائی ہی ملک کو اس خطرناک رجحان سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

  • جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست کے بدلتے ہوئے تناظر میں جماعت اسلامی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزستہ دنوں لاھور میں ہونے والا جماعت اسلامی پنجاب کا تاریخی اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی ایک بار پھر اپنی تنظیمی طاقت بحال کرنے اور عوامی سیاست میں نئی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لاہور کا اجتماع صرف ایک تنظیمی تقریب نہیں تھا بلکہ یہ جماعت کی سیاسی سمت کے تعین میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی حالیہ مقبولیت اس اسکے سیاسی مستقبل کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے جس موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف شہری طبقات میں اسکی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ یہ تاثر بھی قوی ہوا کہ جماعت اسلامی ابھی صرف نظریاتی ووٹرز تک محدود نہیں بلکہ شہری مسائل کے حل کے لیے ایک سنجیدہ متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ، پانی، نکاسی، تجاوزات اور شہری سہولیات جیسے مسائل پر جماعت کی مسلسل مہم نے اسے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں عملی سیاست کا نیا چہرہ فراہم کیا۔ یہ وہ کریڈٹ ہے جو اب پنجاب سمیت دیگر صوبوں تک منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنجاب تاریخی طور پر مذہبی اور نظریاتی سیاست کے لیے زرخیز رہا ہے مگر گزشتہ دہائیوں میں جماعت اسلامی جہاں مطلوبہ انتخابی نفوس پیدا نہ کر سکی تاہم لاھور میں حالیہ اجتماع نے یہ تاثر بدلا ہے۔ اس اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت سے یہ واضح ہوا کہ جماعت اب پنجاب میں ایک نئے بیانیے اور نئی تنظیمی حکمت عملی کیساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ جماعت کی نئی حکمت عملی تین اہم نکات ہر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ تنظیمی ڈھانچے کی بھرپور بحالی۔ بلدیاتی سطح پر فعال موجودگی۔ عوامی مسائل کے حل کو نظریاتی سیاست کیساتھ جوڑنا۔ اگر جماعت اپنے بیانیے کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی تو پنجاب میں اسے پہلے سے بہتر عوامی پزیرائی مل سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا نوجوان منظر نامہ، مواقعے اور چیلنجز دونوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف عوام کی نظریاتی سیاست سے مایوسی جماعت کے لیے جگہ پیدا کر رہی ہے، تو دوسری طرف روایتی بڑی جماعتوں کا دباؤ اس کے لیے سخت امتحان بھی ہے۔ سیاسی منظر نامے میں جماعت اسلامی کا مستقبل چند باتوں پر منحصر ہو گا۔ کیا جماعت اسلامی کراچی ماڈل کو پنجاب میں دہرا سکے گی؟ کیا قیادت نوجوان ووٹرز تک رسائی برھا سکے گی؟ کیا جماعت اپنی عوامی سیاست کو جدید میڈیا اور تنظیمی اسٹرجیٹی کے مطابق ڈھال سکے گی؟ اگر یہ تینوں سوالات کے جوابات مثبت ہوئے تو جماعت اسلامی نہ صرف پنجاب میں بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی سیاسی حیثیت بہتر بنا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے افق پر نئی توانائی کیساتھ ابھر رہی ہے۔ لاھور کا اجتماع اس سفر کا نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ کراچی کی کامیابی جماعت کے لیے اعتماد کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر جماعت اپنی پالیسیوں میں یکسوئی برقرار رکھتی ہے تو وہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سیاست بدلتے موسموں کی کہانی کی طرح ہے۔ کبھی کوئی جماعت مرکز نگاہ بنتی ہے، تو کبھی کوئی تحریک دھڑکنوں میں اتر آتی ہے۔ تاہم پاکستان کی سیاست میں خلا موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس خلا کو کیسے اور کس حد تک پر کرتی ہے۔ جماعت اس جگہ کو عملی سیاسی قوت میں بدل سکے گی یا نہیں۔ پنجاب کا سیاسی نقشہ فیصلہ کن رہا ہے یہاں کے ووٹر کا رحجان ملک کی مجموعی سیاست کی سمت تعین کرتا ہے۔ لاھور کے حالیہ اجتماع نے یہی پیغام دیا کہ جماعت اسلامی پنجاب میں ایک نیا آغاز چاہتی ہے اور شاید کر بھی چکی ہے۔

  • رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    ادب کے وسیع آسمان پر کچھ شخصیات ستاروں کی طرح نہیں، ماہتاب کی طرح طلوع ہوتی ہیں؛ ان کی روشنی میں چاندنی بھی ہوتی ہے، لطافت بھی، اور ایک ایسی شائستگی بھی جو نگاہ کو ٹھہرنے پر مجبور کر دے۔رقیہ غزل انہی ماہتاب چہروں میں سے ایک ہیں،ایک مکمل جمالیاتی تجربہ،ایک دلنشیں احساس،اور ایک ایسی خالص روشنی جو لفظوں کے کینوس پر اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔

    رقیہ غزل کی خوبصورتی صرف ظاہری رنگ و نگار کا نام نہیں،یہ ایک تہذیبی جمال ہے، جس میں پاکستانی اقدار کی مہک اور نسائی وقار کی چمک ہم آہنگ ہو کر دل پر اترتی ہے۔ان کی موٹی، خواب رنگ آنکھیں ایسے لگتی ہیں جیسے ہر پل کسی نئے استعارے کو جنم دینے والی ہوں۔ان کی موجودگی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ محفل کا موسم بدل گیا ہو،ہوا میں نرمی گھل گئی ہو،لفظوں میں تازگی اتر آئی ہو،اور فضا میں ایک مسحورکن سا سکوت بکھر گیا ہو۔

    جب وہ پاکستان کے روایتی لباس میں ملبوس، سر پر نفاست سے رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھے محفل میں قدم رکھتی ہیں، تو دیکھنے والے کے دل میں پہلی ہی نظر میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے، اقدار ابھی سانس لے رہی ہیں۔
    دوپٹے کی نرم لہریں ان کے وجود پر یوں مہکتا ہوا سایہ ڈالتی ہیں جیسے شخصیت کے گرد روشنی کا ہالہ ہو،پاکیزگی، ذہانت اور لطافت کا امتزاج،رقیہ غزل جب بولتی ہیں تو لگتا ہے الفاظ زبان سے نہیں، نیلے آسمان سے اترتے ہیں۔ان کے لہجے میں نرم روشنی بھی ہے اور ہمت بھی،وہ سچ کہتی ہیں، وہ دلیل دیتی ہیں، مگر دل کی زمین کو زخمی نہیں کرتیں۔

    نوائے وقت میں ان کے کالم پڑھنے والا جانتا ہے کہ یہ صرف تحریر نہیں،سوچ کے دریچوں میں پڑتی ہوئی وہ دھوپ ہے جس سے بصیرت کا جگنو روشن ہوتا ہے۔ادبی محفل ہو اور رقیہ غزل موجود نہ ہوں تو محفل ایک رنگ کم محسوس ہوتی ہے۔وہ آتی ہیں تو محفل کا لہجہ بدل جاتا ہے،مشاعرہ گویا ایک نعتیہ سکون میں ڈھل جاتا ہے،اور سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں جیسے کوئی نادر نسخۂ کمال کھلنے ہی والا ہو۔ان کی شخصیت، ان کے لب و لہجے، ان کے اندازِ نشست و برخاست میں ایک ایسا جمال ہے جو ایک پوری محفل کو معنوی بنادیتا ہے۔

    اگر ایک جملے میں ان کا تعارف ممکن ہو تو یوں کہا جائے رقیہ غزل وہ خوبصورت تحریر ہے جسے خدا نے انسان کی صورت میں لکھا۔رقیہ غزل ادب کی وہ شخصیت ہیں جن کے ہونٹوں سے نکلا ہوا ہر شعر، ہر کالم، ہر جملہ ایک نئے سفر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ صرف لکھتی نہیں وہ زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر دوسروں کے دلوں میں رکھ دیتی ہیں۔
    ادب کے ایسے چراغ کم جلتے ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو صدیوں تک روشنی دیتے رہتے ہیں

  • دل کی مسافتیں اور خواہش کی شکست،تحریر:نور فاطمہ

    دل کی مسافتیں اور خواہش کی شکست،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کی راہوں میں انسان اکثر ایسی جیتیں سمیٹتا چلا جاتا ہے جن پر دنیا رشک کرتی ہے۔ کبھی یہ جیت شہرت کی صورت ہوتی ہے، کبھی مرتبے کی، کبھی دولت اور اختیار کی۔ مگر انسان کی فطرت کا سب سے نازک گوشہ ایک ایسی حقیقت سے ہمیشہ بے بس رہتا ہے جسے چند الفاظ میں یوں سمیٹا گیا ہے،”آپ چاہے ساری دنیا سے جیت جائیں، مگر من پسند شخص کو خود سے خوش کرنے میں آپ ہمیشہ ہار جاتے ہیں۔”

    یہ جملہ محض ایک خیال نہیں بلکہ انسانی جذبات کے تہہ در تہہ سچ کی آہٹ ہے۔دنیا کی فتح میں عقل، تدبیر اور محنت ساتھ دیتی ہے،مگر دلوں کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انسان اپنی سب تدبیریں ہار جاتا ہے۔یہاں اصول بدل جاتے ہیں، دل کے پیمانے دنیا کے پیمانوں سے مختلف ہو جاتے ہیں،اور وہ انسان جو زمانے کو قائل کر لیتا ہے،اکثر ایک دل کو راضی کرنے میں ناکام رہتا ہے۔انسان دل کا اسیر کیوں ہے؟. دل کی خوشی کسی اختیار کی مرہونِ منت نہیں ہوتی،محبت کے چراغ زبردستی نہیں جلائے جاتے۔جسے دل میں جگہ نہ ہو، اسے ہزار کوششوں سے بھی راضی نہیں کیا جا سکتا۔ جذبات یکطرفہ ہوں تو سارا پیمانہ بگڑ جاتا ہے.محبت کا ظرف وسیع ہے،مگر قبولیت کا ظرف اکثر نہایت تنگ۔آپ چاہیں تو اپنی ہستی فنا کر دیں،مگر جس دل پر دروازہ ہی بند ہو،وہ اس قربانی کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔

    انسان کامل نہیں، محبتیں بھی آزمائشیں رکھتی ہیں،کبھی آپ کی کمی رہ جاتی ہے،کبھی اس کی توقعات حد سے بڑھ جاتی ہیں۔یوں تعلق ایک ایسے مقام پر آ کھڑا ہوتا ہے،جہاں ہر کوشش رائیگاں محسوس ہوتی ہے۔دل کی دنیا میں ہار بھی اکثر جیت کا روپ رکھتی ہے۔وہ جیت جو انسان کو اپنے بارے میں کچھ اور سکھا دیتی ہے،صبر، اخلاص اور خاموش محبت کا ہنر۔جس شخص کو راضی کرنے میں آپ ناکام رہے وہ شاید آپ کی تقدیر میں "خوشی” کے لیے نہیں بلکہ”سمجھ” کے لیے لکھا گیا تھا۔اصل جیت اس میں نہیں کہ کوئی شخص آپ کی محبت قبول کر لے،اصل جیت اس میں ہے کہ آپ کا دل محبت کے سچے اظہار سے غافل نہ ہوا ہو۔دنیا کی کامیابیاں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں،مگر وہ محبتیں جو پوری نہ ہو سکیں اکثر دل کے سب سے روشن گوشوں میں جگہ بنا لیتی ہیں۔

    زندگی کا سفر ہمیں بتاتا ہے کہ دل کی فتح ہمیشہ انسان کے بس میں نہیں ہوتی۔کچھ دل ہماری تڑپ کے باوجود بھی ہماری پہنچ سے دور رہتے ہیں لیکن یاد رہے،دنیا کی جیتیں انسان کی شہرت بڑھاتی ہیں،مگر دل کی ہاریں اس کی روح کو گہرا کر جاتی ہیں۔کچھ لوگ نصیب میں لمحہ بن کر آتے ہیں،اور کچھ اثر بن کر ہمیشہ کے لیے دل میں ٹھہر جاتے ہیں۔

  • عوامی مسائل پر مسلسل خاموشی کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوامی مسائل پر مسلسل خاموشی کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کی سیاست ایک عجیب دائرے میں قید دکھائی دیتی ہے۔ ایسا دائرہ جو گھومتا ضرور ہے مگر آگے نہیں بڑھتا۔ حکمران آتے جاتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، پارٹیوں کے جھنڈے رنگ بدلتے ہیں مگر عوام کے مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ ایک عام شہری کا سوال بڑا سادہ ہے جب جمہوریت ہے تو پھر جمہور کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟ اصل بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کا ڈھانچہ تو موجود ہے مگر اس کی روح کمزور پڑ گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حالات جدید جمہوری تقاضوں کے بجائے شخصیتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ منشور کمزور، پالیسی بعید اور تنظیم غیر فعال۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت بنتی ہے تو اس کی ترجیحات وہی رہتی ہیں جو کل تھیں، چہرے بدلتے ہیں مگر طرز حکومت وہی رہتا ہے۔ اس کے ساتھ بیوروکریسی کا پرانا نو آبادیاتی ڈھانچہ عوامی خدمت کی جگہ اختیار اور فائل ورک کو ترجیح دیتا ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے نظام عوام کے راستے میں کھڑا نظر آتا ہے۔ انصاف کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں طاقتور بچ نکلتے ہیں کمزور چکر لگاتے لگاتے تھک جاتے ہیں۔ بنیادی مسلہ یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کی معاشی پالیسی اشرفیہ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ٹیکس ہو، سبسڈی ہو، کاروباری ماحول ہو یا زمین کا نظام قوانین کمزور طبقات کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہیں۔ جب عوام کی جیب پر مسلسل بوجھ پڑتا ہے تو جمہوریت ان کے لیے صرف ایک لفظ بن کر رہ جاتی ہے۔ حقیقت نہیں پاکستان کا تعلیمی نظام بھی سیاسی شعور پیدا کرنے میں ناکام رہا عوام کو نہ حقوق کا علم ہے نہ حکمرانوں سے تقاضے کا سلیقہ۔ سیاست مفادات اور بیانیوں کے جنگ بن کر رہ گئی ہے اور میڈیا نے اس جنگ میں تیزی ہی پیدا کی ہے۔ اصل مسائل پانی، صحت، تعلیم، روزگار، انصاف، ٹی وی اسکرین کی زینت کب بنتے ہیں؟ بہت کم۔ آخر میں سوال وہی کھڑا ہے کہ اگر جمہوریت ہے تو پھر عوامی مسائل پر یہ مسلسل خاموشی کیوں؟ جواب تلخ ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ وطن عزیز میں ابھی تک جمہور نہیں بلکہ طاقتور سیاسی جماعتوں کی حکمرانی ہے۔ جسے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں سیاسی جماعتوں میں چند کردار ہیں۔ جب تک انصاف اور معیشت کمزور طبقات کے لیے بے معنی رہتی ہے، جمہوریت بھی کمزور رہے گی اور عوام کے مسائل بھی۔ پاکستان کے مسائل اس لیے بھی برقرار ہیں کہ یہاں نظریں ہمیشہ تخت پر رہتی ہیں، نظام پر نہیں۔ دن بدلتے ہیں حکمران بدلتے ہیں مگر عوام کے لیے صرف وعدے بدلتے ہیں۔

  • انیلا ناز کے اعزاز میں اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار محفل،رپورٹ :ناز پروین

    انیلا ناز کے اعزاز میں اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار محفل،رپورٹ :ناز پروین

    پچیس(25) نومبر کی شام پشاور کلب کا خواب انگیز اور پُرسکون ماحول، جاڑے کی گلابی خنک ہوا اور خوشگوار فضا… انہی دلکش لمحوں میں اپووا کے پی چیپٹر کے زیرِ اہتمام اے آئی جی پولیس پشاور محترمہ انیلا ناز صاحبہ کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد ممبران نے شرکت کی۔

    ہم محترمہ انیلا ناز کے دِل سے مشکور و ممنون ہیں کہ انہوں نے مصروفیات کے باوجود ہماری اس محفل میں شرکت فرما کر نہ صرف ہماری حوصلہ افزائی کی بلکہ محفل کا وقار بھی بڑھایا۔اس موقع پر جائنٹ سیکرٹری لبنیٰ نوید نے جون سے اب تک اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محض پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں چیپٹر نے ادبی، سماجی، ثقافتی اور مذہبی نوعیت کے متعدد پروگرامات کامیابی سے منعقد کیے۔محترمہ انیلا ناز اے آئی جی پولیس نے اپووا کے پی چیپٹر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اس متحرک گروپ کا حصہ بننے پر فخر ہے۔

    نشست کے دوران باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر میں قائد ڈے، کرسمس ڈے اور اے پی ایس کے شہداء (16 دسمبر) کی مناسبت سے خصوصی تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ ساتھ ہی آسیہ بی بی (ممبر اپووا کے پی چیپٹر) کے افسانوی مجموعے کی رونمائی پر بھی گفتگو ہوئی۔

    ممبران نے محترمہ انیلا ناز کی زندگی، جدوجہد اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کو بڑی دلچسپی سے سنا اور انہیں کے پی کی خواتین کے لیے باعثِ فخر، حوصلہ افزا اور روشن مثال قرار دیا۔ جاڑے کی سرد شام میں گرم گرم چائے اور لوازمات نے محفل کی رونق کو مزید دوبالا کر دیا۔اختتام پر اپووا کے پی چیپٹر کی جانب سے محترمہ انیلا ناز کو پھولوں کا گلدستہ اور سووینیئر پیش کیا گیا، جبکہ محترمہ انیلا ناز کی طرف سے اپووا کی ممبران کو پولیس سووینیئر عطا کیا گیا جو اس باوقار نشست کی ایک خوبصورت یاد بن گیا۔تقریب میں فائزہ شہزاد (صدر)، ناز پروین (جنرل سیکرٹری)، لبنیٰ نوید (جائنٹ سیکرٹری)، روبینہ معین (نائب صدر)، امامہ نوید، فاطمہ افضال جبکہ فرزانہ منور نے اپنی بیٹیوں کے ہمراہ شرکت کی۔

  • سلیب گردی اور مفت بجلی کی جنت

    سلیب گردی اور مفت بجلی کی جنت

    سلیب گردی اور مفت بجلی کی جنت
    اعداد و شمار کے آئینے میں عام آدمی کا معاشی قتل
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    راولپنڈی کے ایک متوسط گھر میں اکتوبر 2025 کا بجلی کا بل آیا تو ماں باپ کے ہاتھ کانپ گئے۔ صرف 107 یونٹ استعمال ہوئے تھے، مگر بل تھا 6,788 روپے۔ حساب لگائیں تو فی یونٹ لاگت نکلتی ہے 63 روپے 35 پیسے۔ گھر میں صرف دو پنکھے، چار بلب، ایک فریج اور کبھی کبھار واٹر پمپ چلا تھا۔ لائٹس رات دس بجے تک بند، بچوں کو موبائل چارج کرنے کی سخت پابندی، پھر بھی بل چھ ہزار سے اوپر۔ وجہ؟ چھ ماہ پہلے جون میں شدید گرمی کے دو دن ایئرکنڈیشنر چل گیا تھا، 187 یونٹ ہو گئے تھے، بس وہی "جرم” کافی تھا کہ اب چاہے صارف مر جائے، اگلے چھ ماہ اسے 300 یونٹ والے مہنگے سلیب میں ہی رکھا جائے گا۔ یعنی جو شخص بجلی بچاتا ہے، اسے سزا ملتی ہے۔

    دوسری طرف پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں حکومت نے خود تسلیم کیا کہ بجلی کے محکموں کے ملازمین کو ہر ماہ لاکھوں یونٹ مفت بجلی دی جا رہی ہے۔ سینیٹ کو پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی 13 کمپنیاں (واپڈا، این ٹی ڈی سی، تمام ڈسکوز اور جنیکو) اپنے ملازمین کو ماہانہ 3 لاکھ 18 ہزار 445 یونٹ مفت بجلی فراہم کر رہی ہیں۔ صرف آئیسکو ایک کمپنی ماہانہ 2 لاکھ 56 ہزار 500 یونٹ مفت کھلا رہی ہے۔ گریڈ ایک سے چار تک کے ملازم کو 300، گریڈ پانچ سے سولہ تک کو 600، گریڈ انیس کو ایک ہزار، گریڈ بیس اور اکیس کو گیارہ سو، جبکہ گریڈ بائیس کے اعلیٰ افسر کو تیرہ سو یونٹ ماہانہ مفت ملتے ہیں۔ یعنی ایک گریڈ بائیس افسر اگر پورے 1300 یونٹ استعمال کر لے تب بھی اسے ایک پیسہ ادا نہیں کرنا پڑتا، جبکہ وہی 107 یونٹ عام شہری سے 6,800 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔

    اب ذرا موازنہ کیجیے۔ ایک طرف مزدور طبقہ ہے جس کی ماہانہ تنخواہ 25 سے 40 ہزار روپے ہے، وہ 100-150 یونٹ استعمال کرے تو اسے 6 سے 12 ہزار روپے بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف واپڈا کا گریڈ بائیس افسر جس کی تنخواہ ساڑھے چار سے پانچ لاکھ روپے ماہوار ہے، وہ 1200 سے 1800 یونٹ تک آرام سے جلا سکتا ہے اور قوم اس کی بجلی کا بل ادا کرتی ہے۔ تنخواہ بھی، پنشن بھی، میڈیکل بھی، پلاٹ بھی اور اوپر سے تیرہ سو یونٹ مفت بجلی بھی۔ سوال صرف یہ نہیں کہ یہ انصاف ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آخر یہ کب تک چلے گا؟

    وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری ہر دوسرے دن دعویٰ کرتے ہیں کہ "ہم نے بجلی سستی کر دی”۔ جناب! سستی کس کے لیے کی؟ واپڈا ملازمین کے لیے تو آپ نے جنت بنا دی، عام آدمی کے لیے جہنم۔ سلیب سسٹم کوئی تکنیکی ضرورت نہیں، یہ عام صارفین کو لوٹنے کا آلہ ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، کوارٹرلی ایڈجسٹمنٹ، نیلم جہلم سرچارج، بجلی ڈیوٹی، جی ایس ٹی ودیگر ٹیکسز اور سرچارجز، یہ سب چھپے ہوئے ٹیکس ہیں جو بل کو دوگنا سے زیادہ کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ 2025 کے صرف گیارہ مہینوں میں نیٹ میٹرنگ کے تحت 1.87 ملین کلو واٹ نئے سولر سسٹم لگ چکے ہیں۔ سولر پینل کی درآمدات 4.8 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ یعنی متوسط اور نچلا طبقہ واپڈا کو پیغام دے رہا ہے کہ "تمہاری لوٹ مار سے تنگ آ کر ہم گرڈ چھوڑ رہے ہیں”۔

    جب تک واپڈا ملازمین کو مفت بجلی کی سہولت واپس نہیں لی جاتی، جب تک سلیب سسٹم ختم کر کے ایک ہی فی یونٹ ریٹ نہیں کیا جاتا، جب تک چھپے ہوئے ٹیکسز ختم نہیں ہوتے، تب تک ہر گھر میں یہی نعرہ بلند ہو گا کہ”بچوں کا پیٹ کاٹو، سولر لگاؤ، واپڈا کا تار کاٹ دو”۔

    خوارج بندوق سے قتل کرتے ہیں، آپ بل کے کاغذ سے معاشی قتل کر رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خوارج کو دہشت گرد کہتے ہیں، آپ کو "محترم وزیر” کہا جاتا ہے۔

    عوام اب خاموش نہیں رہے گی۔ 2026-27 تک اگر یہی پالیسیاں رہیں تو آدھا پاکستان گرڈ سے غائب ہو جائے گا۔ یہ کوئی دھمکی نہیں، یہ اعداد و شمار کا منطقی نتیجہ ہے۔

    جنابِ وزیرِ توانائی! فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔
    یا تو اس دوہرے نظام کی ناانصافی ختم کیجیے، ورنہ قوم اپنی بقا کے لیے خود اپنا راستہ تراش لے گی۔
    عوام کا ضبط اپنی آخری حدوں کو چھو چکا ہے۔

    اب بس …. کھیل ختم ہونے والا ہے۔

  • لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ

    لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ

    لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اتوار کے روز ایک متنازع بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگرچہ آج سندھ بھارت کا حصہ نہیں ہے، مگر یہ خطہ تہذیبی اور ثقافتی طور پر بھارت سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور ’’ایک دن دوبارہ بھارت میں واپس آ سکتا ہے‘‘۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد صوبہ سندھ 1947 کی تقسیم کے وقت پاکستان کا حصہ بنا، جس کے بعد بڑی تعداد میں سندھی ہندو بھارت ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق سندھ کا خطہ جغرافیائی طور پر گجرات اور راجستھان کے نزدیک ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی طور پر بھی بھارت سے وابستہ ہے۔ راجناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں سابق بھارتی نائب وزیرِاعظم ایل کے ایڈوانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نسل کے سندھی ہندو آج تک سندھ کی علیحدگی کو دل سے قبول نہیں کر سکے، کیونکہ اُن کے نزدیک دریائے سندھ اُن کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ اس بیان نے بھارت کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    یہ دعویٰ بظاہر ایک جذباتی نعرہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ پاکستان کا ایک مضبوط اور ناقابلِ تقسیم صوبہ ہے، جس کی سیاست، معیشت اور شناخت بھارت کے کسی بھی خواب کو رد کرتی ہے۔ بھارت کے لیے اصل خطرہ سندھ یا مغربی سرحد نہیں بلکہ مشرقی محاذ ہے، جہاں تزویراتی تبدیلیاں تیزی سے بھارت کے لیے ایک نئے امتحان کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کے انتہائی شمال مغرب میں، بھارت کی سرحد سے صرف 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع لالمونیرہٹ کا پرانا ہوائی اڈہ اس وقت جنوبی ایشیا کی سب سے خطرناک تزویراتی تبدیلی کا مرکز بن چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے وقت برطانوی رائل ایئر فورس کا یہ اڈّہ برسوں سے ویران پڑا تھا، مگر 2025 میں اس کی بحالی اور توسیع نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے جو براہِ راست بھارت کے Siliguri Corridor یعنی Chicken Neck کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ وہی 22 کلومیٹر چوڑا تنگ کوریڈور ہے جو بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں (آسام، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تریپورا اور میگھالیہ) کو باقی ہندوستان سے ملاتا ہے۔ اگر یہ کوریڈور کاٹا گیا تو شمال مشرق حقیقتاً الگ تھلگ ہو جائے گا۔

    مارچ 2025 میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے لالمونیرہٹ کو مکمل فوجی ایئربیس میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ اکتوبر 2025 میں آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے خود سائٹ کا دورہ کیا اور توسیعی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ نومبر 2025 تک یہاں جدید ایئر ڈیفنس ریڈار، ہینگرز اور رن وے کی توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ محض بنگلہ دیش ایئر فورس کی جدیدبنانے کا حصہ نہیں ہے بلکہ چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر بھارت کو مشرقی سمت سے گھیرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا اہم جز بھی دکھائی دیتا ہے۔ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد صرف دس ماہ کے اندر بنگلہ دیش کی خارجہ و دفاعی پالیسی نے 180 ڈگری کا مکمل رخ بدل لیا۔ جہاں ایک طرف محمد یونس کی عبوری حکومت نے بیجنگ کے ساتھ 2.1 بلین ڈالر کے نئے معاہدے کیے، وہاں دوسری طرف پاکستان سے دفاعی تعلقات بحال ہوئے جو 1971 کے بعد پہلی بار اس سطح پر پہنچے ہیں۔

    نومبر 2025 میں بنگلہ دیش آرمی کا وفد راولپنڈی پہنچا اور دونوں ممالک کے درمیان پہلی Army-to-Army Staff Talks منعقد ہوئیں۔ اسی مہینے Dubai Air Show میں پاکستان نے ایک "دوست ملک” کے ساتھ JF-17 تھنڈر بلاک 3 کے 16 سے 24 طیاروں کی فروخت کا ایم او یو کیا، جس کے بارے میں معتبر ذرائع کی تصدیق ہے کہ خریدار بنگلہ دیش ہی ہے۔ یہ طیارے AESA ریڈار اور PL-15 لانگ رینج میزائلوں سے لیس ہوں گے اور بنگلہ دیش کے پائلٹس تربیت کے لیے پاکستان آئیں گے۔ یہ 1971 کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ بنگلہ دیشی فوجی اہلکار پاکستانی سرزمین پر تربیت حاصل کریں گے۔

    چین اس پورے کھیل کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔ وہ بنگلہ دیش کو پہلے ہی 72 فیصد دفاعی ساز و سامان فراہم کرتا ہے۔ لالمونیرہٹ کی بحالی میں چینی کمپنی Power China کی 1 بلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری شامل ہے۔ بیجنگ کی حکمت عملی واضح ہے کہ خلیج بنگال سے لے کر ہمالیہ تک ایک مسلسل دباؤ کی فضاء قائم کرنا تاکہ بھارت کو تین محاذوں پر بیک وقت الجھایا جائے ، مغرب میں پاکستان، شمال میں چین اور مشرق میں بنگلہ دیش۔ Siliguri Corridor کی کمزوری کوئی نئی بات نہیں ہےمگر اب پہلی بار اسے تینوں سمتوں سے بیک وقت خطرہ لاحق ہوا ہے۔ لالمونیرہٹ سے Chicken Neck کا فاصلہ فضائی راستے سے چند منٹوں کا ہے۔ اگر کبھی کشیدگی بڑھی تو یہ ایئربیس بھارت کے شمال مشرق پر براہِ راست حملوں، نگرانی یا لاجسٹک سپورٹ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ بھارت نے جواب میں سلی گوری اور آس پاس کے علاقوں میں اضافی فوج، رافیل طیاروں کی تعیناتی اور نئی سڑکوں و ریل لائنوں کی تعمیر تیز کر دی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ 22 کلومیٹر چوڑے اس کوریڈور کو مکمل طور پر محفوظ بنانا نہایت مشکل ہے۔

    شمال مشرقی ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں کبھی ختم نہیں ہوئیں۔ منی پور میں جاری نسلی تنازع، ناگالینڈ اور آسام میں زیر زمین گروہوں کی سرگرمیاں اور معاشی پسماندگی نے ایک ایسی فضا پیدا کر رکھی ہے جہاں بیرونی قوتیں آسانی سے مداخلت کر سکتی ہیں۔ اگر Chicken Neck پر دباؤ بڑھا اور سپلائی لائن متاثر ہوئی تو ان ریاستوں میں بے چینی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ براہ راست علیحدگی شاید ممکن نہ ہو، مگر ایک طویل الگ تھلگ حالت اندرونی استحکام کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ صورتحال تیزی سے ایک نئے تین ملکی (چین،پاکستان اور بنگلہ دیش)اسٹریٹجک اتحاد کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ لالمونیرہٹ کا پرانا رن وے آج محض کنکریٹ اور اسٹیل کا ڈھانچہ نہیں رہا بلکہ آنے والے برسوں کی جنوبی ایشیائی سیاست کا نیا رخ متعین کر رہا ہے۔ Chicken Neck اب محض نقشے پر ایک تنگ کویڈور نہیں رہا بلکہ بھارت کی سات مشرقی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ کن امتحان بن چکا ہے۔

    یہی وہ پس منظر ہے جس میں راجناتھ سنگھ کا سندھ کے بارے میں بیان سامنے آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کی بے چینی اور گیدڑ بھبکیاں سندھ کے بارے میں نہیں بلکہ مشرقی محاذ پر بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں ہیں۔ جب لالمونیرہٹ ایئربیس تیزی سے ایک فعال فوجی مرکز بن رہا ہے، جب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون نئی سطح پر پہنچ رہا ہے اور جب JF-17 تھنڈر بلاک 3 کی ڈیل بھارت کے مشرقی دروازے پر ایک نئی حقیقت رقم کر رہی ہے، تو ایسے میں سندھ کے بارے میں بیانات محض عوام کو بہلانے اور اصل خطرات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ راجناتھ سنگھ کی بے چینی اور ان کی گیدڑ بھبکیاں دراصل اسی حقیقت کا اعتراف ہیں کہ بھارت کے لیے اصل امتحان سندھ نہیں بلکہ اس کا مشرقی محاذ ہے، جہاں چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ حکمت عملی نے اس کے لیے ایک ایسا جال بچھا دیا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔لہٰذا راجناتھ کے بیانات کو اگر کسی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ دراصل اسی خوف اور بے چینی کا اظہار ہیں جو لالمونیرہٹ ایئربیس، پاک-بنگلہ دفاعی تعاون اور JF-17 ڈیل نے نئی دہلی کے ایوانِ اقتدار میں پیدا کر رکھی ہے۔

  • ہر عبادت میں سکون ہے، مگر کیسے؟تحریر: واجد علی تونسوی

    ہر عبادت میں سکون ہے، مگر کیسے؟تحریر: واجد علی تونسوی

    میں نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہے اور یقیناً آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوگا کہ ہر شخص سکون کو اپنی اپنی مختلف عبادت سے جوڑ کر بیان کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ نماز میں دل کو عجیب سا سکون ملتا ہے، کوئی روزے کو روح کی تازگی اور سکون کا ذریعہ قرار دیتا ہے، کوئی قرآن کی تلاوت میں دل کی روشنی اور اطمینان محسوس کرتا ہے اور کئی لوگ صدقہ و خیرات کے بعد دل کے اندر خوشی اور ہلکا پن پاتے ہیں۔ ان تمام تجربات میں فرق ہونے کے باوجود حقیقت ایک ہی ہے کہ سکون عبادت میں ہے، مگر یہ سکون ہر عبادت میں اسی وقت حاصل ہوتا ہے، جب عبادت سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو اور دل کی پوری توجہ کے ساتھ کی جائے، ورنہ عبادت صرف ظاہری عمل بن کر رہ جاتی ہے اور دل سکون کی کیفیت محسوس نہیں کرتا۔

    نماز کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ بہت سے لوگ روزانہ نماز پڑھتے ہیں، مگر دل کہیں اور ہوتا ہے؛ کاروبار، مسائل یا ذہنی الجھنوں میں۔ ایسی نماز سکون نہیں دے سکتی، لیکن جو لوگ نماز سنت کے مطابق پڑھتے ہیں؛ وضو کی سنجیدگی، قیام کی ادب، رکوع اور سجدے میں عاجزی اور دل کی مکمل حاضری کے ساتھ، تو ان کے دل میں واقعی سکون اترتا ہے۔ ہر سجدہ روح کو تازگی دیتا ہے، ہر رکوع عاجزی سکھاتا ہے اور دعا دل میں امید پیدا کرتی ہے۔

    اسی طرح روزہ بھی تب روحانی سکون بن سکتا ہے جب صرف جسمانی بھوک اور پیاس نہیں، بلکہ زبان، نظریں، اخلاق اور دل کی نیت بھی اللہ کی رضا کے لیے صاف ہو۔ سنت کے مطابق روزہ رکھنے والا انسان دنیاوی مصیبتوں کے باوجود اندر سے مطمئن اور ہلکا محسوس کرتا ہے۔

    قرآن کی تلاوت بھی اسی اصول کی پیروی مانگتی ہے۔ صرف الفاظ کا بلند آواز سے پڑھنا ایک عام سا عمل ہے، لیکن اگر سنت کے مطابق دل کی توجہ اور سمجھ کے ساتھ تلاوت کی جائے تو ہر آیت دل کی گہرائیوں میں روشنی ڈالتی ہے، فکر کو سکون دیتی ہے اور دل کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔

    صدقہ و خیرات میں بھی سکون اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ عمل اخلاص اور دل کی حاضری کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ دکھاوے، شہرت یا نام کمانے کے لیے دی گئی رقم دل کو سکون نہیں دے سکتی، لیکن جب کوئی غریب یا محتاج اللہ کے لیے مدد پاتا ہے، تو دینے والے کے دل پر بوجھ ہلکا ہوتا ہے، دل مطمئن اور خوشی سے بھر جاتا ہے۔ یہی وہ راز ہے کہ عبادت میں سکون ہے، مگر دل، نیت اور سنت کے ساتھ۔

    آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم واقعی سکون چاہتے ہیں تو عبادت کو صرف رسم یا معمول نہ بنائیں، بلکہ دل سے، سنت کے مطابق اور مکمل توجہ کے ساتھ ادا کریں۔ نماز ہو، روزہ، قرآن کی تلاوت ہو یا صدقہ، ہر عبادت سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ دل، نیت اور سنت کو ساتھ رکھا جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھ کر انسان اپنی زندگی میں حقیقی سکون حاصل کر سکتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جو آج کے تیز رفتار اور پریشان حال معاشرے میں ہر مسلمان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔

  • طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شکاگو میں اُردو محبت کی وہ شام جسے تاریخ یاد رکھے گی سات سمندر پار امریکہ کی ریاست شکاگو میں پروفیسر مسرور قریشی کی شاندار میزبانی اور طاہرہ ردا کے شعری سفر کا روشن سنگِ میل : شکاگو، جسے دنیا کاروبار و صنعت کا مرکز سمجھتی ہے، 24 نومبر کی اس شام جب ادب کے رنگ اپنے اندر سمیٹے کھڑا تھا تو یہ شہر کسی علم و شعر کے دربار سے کم محسوس نہیں ہوتا تھا۔ عالمی دبستان ادب شکاگو اور شکاگو شناسی فورم کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تقریبِ رونمائی کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے لفظوں کی بارات سجی ہو، اور اس بارات کی دلہن طاہرہ ردا اپنی پہلی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” کے ہاتھوں آج باقاعدہ ادب کی دنیا میں اتری ہوں۔یہ صرف کتاب کی رونمائی نہیں تھی، بلکہ محبت، تخلیق، تہذیب اور اُردو کے دیرینہ وقار کی تجدید تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تقریب کی روحِ رواں تھے پروفیسر مسرور قریشی—وہ شخصیت جنہوں نے اس شام کو ایک عام ادبی تقریب سے اٹھا کر ایک تاریخی لمحے میں بدل دیا۔

    پروفیسر مسرور قریشی — شکاگو میں اردو تہذیب کے سچے سفیر
    تقریب کے دروازوں سے داخل ہونے والا ہر شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ اس شام کا اصل حسن صرف طاہرہ ردا کی کتاب نہیں تھی، بلکہ وہ محبت بھری فضا تھی جو پروفیسر مسرور قریشی نے اپنی شخصیت سے پیدا کی۔ان کی استقبالیہ مسکراہٹ، حاضرین کے لیے احترام، اور طاہرہ ردا کے لیے ان کا شفقت بھرا انداز—سب نے مل کر اس محفل کو ایسی گرمائش دی کہ لوگ کہتے نہ تھکتے:“یہی محبت ہمیں الیناۓ سے یہاں تک کھینچ لائی ہے۔”پروفیسر صاحب نے نہ صرف نظامت کی بلکہ آغاز ہی میں ایک مربوط، سیر حاصل، ادبی مضمون کے ذریعے طاہرہ ردا کے شعری سفر کو اس طرح پیش کیا کہ حاضرین ایک لمحے کے لیے بھی اپنی نشستوں سے ہلے نہیں۔ان کے انداز میں تحقیق بھی تھی، محبت بھی، اور ایک استاد کا وقار بھی۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہاگر طاہرہ ردا اس تقریب کا عنوان تھیں، تو پروفیسر مسرور قریشی اس کے مرکزی معمار۔

    طاہرہ ردا — شکاگو کی ادبی دنیا کا روشن ستارہ
    اس تقریب کی اصل وجہ، اصل مرکز، اصل جذبہ—بلاشبہ طاہرہ ردا کی ذات تھی۔
    شکاگو کی یہ معروف شاعرہ، اینکر، اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ برسوں سے تخلیق کے سنگ سفر کرتی آئی ہیں، مگر کتاب کی شکل میں اپنے شعور اور احساسات کو پیش کرنا ان کا خواب تھا، جو آج حقیقت بن کر سامنے آیا۔
    جب انہی کے ہاتھوں کتاب کا عنوان پڑھ کر سنایا گیا “تیرے نام کے سارے شعر”تو حاضرین نے اس عنوان میں وہ محبت، وہ نرمی اور وہ احساس محسوس کیا جو طاہرہ ردا کی شخصیت کا اصل جوہر ہے۔پاکستان سے لے کر امریکہ کے مختلف ریاستوں تک پھیلے ہوئے قارئین کی محبت اس دن واضح نظر آئی۔ درجنوں گلدستے، تحائف، محبت بھری تحسین، اور چاہنے والوں کی بھرپور شرکت—سب اس بات کا اعلان تھے کہ طاہرہ ردا نے شکاگو کی ادبی فضا میں اپنی انفرادیت ثابت کر دی ہے۔

    عباس تابش — سفیرِ عشق کا وقار، اور کتاب کی تقدیس
    شام کا سب سے جگمگاتا لمحہ وہ تھا جب عالمی شہرت یافتہ شاعر عباس تابش نے اس کتاب کی رونمائی کی۔
    ان کی آمد ہی تقریب کو وقار بخشنے کے لیے کافی تھی، مگر جب انہوں نے کہا:“یہ کتاب صرف طاہرہ ردا کی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی ہے جو اُردو سے محبت کرتے ہیں۔”و ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ہوں نے نہ صرف کتاب کی طباعت کے مراحل بیان کیے بلکہ عشق آباد پبلیکیشن کی جانب سے اسے شائع کرنا اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ان کا یہ کہنا کہ ردا کے اشعار میں محبت کی وہ سچائی ہے جسے لفظ کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے”۔ود شاعرہ کے لیے کسی ایوارڈ سے کم نہ تھا۔ — شعراء وادباء کی شرکت محبت کی وہ لڑی جس نے فاصلے مٹا دیے اس تقریب کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے مختلف ریاستوں سے شعراء و ادباء طویل مسافت طے کر کے یہاں پہنچے۔اوہایو، میری لینڈ، آئیوا، اوہانیو، انڈیانا—ہر طرف سے محبت کے سفیر اس محفل کی رونق بنے،ڈاکٹر سعید پاشا ،مونا شہاب ،ڈاکٹر افضال الرحمن افسر ،ڈاکٹر توفیق انصاری احمد ،عابد رشید ،امین حیدر ،حمیرہ عقیل ،ریاض نیازی اور کئی دیگر معتبر نام ،ہر ایک نے طاہرہ ردا کی شاعری پر اپنے احساسات نہایت مدلل انداز میں پیش کیے، اور ان سب میں ایک بات مشترک تھی “طاہرہ ردا کا شعری سفر ابھی شروع ہوا ہے—مگر روشنی اس میں ابھی سے نظر آ رہی ہے۔”

    تقریب کا دل نشین ترین لمحہ وہ تھا جب پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو ان کے اشعار کے ساتھ ایک خوبصورت پورٹریٹ پیش کیا۔یہ صرف ایک تحفہ نہیں تھا بلکہ محبت، احترام اور تخلیقی رفاقت کا اظہار تھا۔پورے ہال نے کھڑے ہو کر تالیوں سے اس منظر کو سراہا۔محمد مجید اللہ خان نے عالمی مرکزی ادبیاتِ اردو کی جانب سےعباس تابش اورطاہرہ رداکو نشانِ سپاس پیش کیا۔یہ وہ لمحہ تھا جب محبت، محنت اور فن—تینوں اقدار ایک ساتھ مسکرا رہی تھیں۔محفل میں شعری اظہار کے ساتھ ساتھ حاضرین نے ایک ایک جملے کو دل سے محسوس کیا۔نون جاوید نے شعری ہدیہ پیش کیا، اور طاہرہ ردا نے اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں بھرپور، جذباتی اور محبت بھری گفتگو کی۔ان کے پڑھتے ہی ہال محبت سے بھر گیا۔جیسے ہی کتاب کے ٹائٹل کے ساتھ کیک کاٹا گیا، ماحول جشن میں بدل گیا۔پھولوں کے ڈھیر، تحائف کی بارش، اور تصویروں کی بے شمار یادیں—یہ سب اس شام کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا گئے۔مظہر عالم، اشرف خان، منظر عالم، محمد مجید اللہ خان، محمد حسین، شاہد خان اور دیگر ساتھیوں نے اس تقریب کو اس قدر منظم کیا کہ حاضرین تعریف کیے بغیر رہ نہ سکے۔مہمان خصوصی فرحت خان کی موجودگی نے بھی تقریب کو صحافتی وقار بخشا۔ظہرانے کا اہتمام، چائے اور لوازمات، اور ادبی ماحول—یہ سب مل کر شکاگو میں اردو کی محبت کا وہ حسین نقش بنا گئے جو برسوں یاد رکھا جائے گا۔

    شکاگو کی تہذیبی یادگار — ایک ادبی عہد کی بنیاد
    شرکاء نے متفقہ طور پر کہا:“شکاگو لینڈ میں اس سے بڑی، منظم، محبت بھری اور ادبی اعتبار سے گہری تقریب پہلے کم ہی دیکھی گئی ہے۔”یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، یہ اس بات کا اعلان تھی کہ اگر محبت ہو، اگر ادب کا جذبہ ہو، اگر لوگ خلوص سے مل بیٹھیں—تو دیارِ غیر میں بھی اردو اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
    لفظوں کا سفر جاری ہے،طاہرہ ردا کی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” نہ صرف ان کے تخلیقی سفر کا آغاز ہے، بلکہ شکاگو کے ادبی منظرنامے میں ایک نیا باب بھی ہے۔پروفیسر مسرور قریشی کی محبت، دانشوری اور تنظیمی صلاحیت نے اس تقریب کو اس معیار تک پہنچایا جس کی مثال کم ملتی ہے۔
    یہ وہ شام تھی جو گزر تو گئی،
    مگر اپنے پیچھے محبت، تہذیب اور شعر کی خوشبو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی،