Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امن کا پرچاراور جنگ کے سائے،امریکہ کیاچاہتاہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کا پرچاراور جنگ کے سائے،امریکہ کیاچاہتاہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بورڈ آف پیس کانفرنس تک محدود،فلسطینیوں کا قتل عام جاری
    امریکہ ،ایران کشیدگی نے خطے کاامن دائو پر لگادیا،دنیا خاموش کیوں؟
    دنیا کو نعروں سے زیادہ بصیرت کی ضرورت،اعتماد سازی بھی ناگزیر
    تجزیہ،شہزادقریشی
    ایک طرف امن کاپرچاردوسری طرف جنگ کے سائے،دنیا ایک عجیب دو راہے پر کھڑی ہے،امریکہ میں امن کے نام پر کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں،پالیسی ساز مستقبل کے نقشے بنا رہے ہیں،تھنک ٹینکس عالمی استحکام کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے افق پر بارود کی بو تیز ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ امن کی محفلیں واقعی جنگ کو روکنے کے لئے ہیں یا آنے والے کسی بڑے تصادم کی تمہید؟امریکہ میں ہونے والی حالیہ ’’بورڈ آف پیس‘‘نوعیت کی کانفرنسیں دراصل عالمی طاقتوں کی صف بندی کا حصہ ہیں،یہاں فیصلے کم اور سمت کا تعین زیادہ ہوتا ہے،بیانات میں امن کی بات کی جاتی ہے مگر پس منظر میں طاقت کا توازن،دفاعی حکمتِ عملی اور اتحادیوں کی ترجیحات زیرِ غور آتی ہیں، امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ دو ستونوں پر کھڑی رہی ہے، سفارت کاری اور دباؤ، مسکراتے چہروں کے پیچھے سخت فیصلوں کی تیاری بھی جاری رہتی ہے،دوسری جانب ایران ہے،جو گزشتہ چار دہائیوں سے امریکی پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا ہوا ہے،ایرانی انقلاب کے بعد سے اعتماد کی خلیج کبھی پوری نہ ہو سکی،ایٹمی پروگرام، خطے میں اثر و رسوخ، اسرائیل کے ساتھ تناؤ اور خلیجی سیاست،یہ سب وہ عوامل ہیں جو واشنگٹن اور تہران کو آمنے سامنے رکھتے ہیں، 2015 کا جوہری معاہدہ امید کی ایک کرن تھا، مگر پابندیوں کی واپسی نے فضاء پھر مکدر کر دی،کیا امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟نظریاتی طور پر ہاں، عملی طور پر یہ فیصلہ آسان نہیں،ایران پر براہِ راست حملہ پورے خطے کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے،خلیج کی تیل گزرگاہیں، عالمی منڈیاں اور پہلے سے کمزور عالمی معیشت شدید متاثر ہوں گی،مزید یہ کہ ایران روایتی اور غیر روایتی دونوں انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،یہی وجہ ہے کہ مکمل جنگ کے امکانات کم اور محدود کارروائیوں، سائبر حملوں یا پراکسی کشمکش کے امکانات زیادہ سمجھے جاتے ہیں،اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی،چین اور روس جیسے ممالک طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،ایسے ماحول میں امریکہ کسی بھی بڑے عسکری قدم سے پہلے عالمی ردعمل اور اتحادیوں کی حمایت کا حساب ضرور لگائے گا،ایران بھی سفارتی تنہائی کے باوجود مکمل طور پر تنہا نہیں،

    یہ تمام صورتحال ہمیں ایک نئے دور کی یاد دلاتی ہے،سرد جنگ کا نہیں بلکہ ’’سرد کشیدگی‘‘ کا دور، جہاں مکمل جنگ سے گریز کیا جاتا ہے مگر دباؤ، پابندیاں اور محدود تصادم جاری رہتے ہیں،امن کی کانفرنسیں ہوتی رہیں گی،بیانات جاری ہوتے رہیں گے،مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں تصادم کے دہانے سے پیچھے ہٹنے کا حوصلہ رکھتی ہیں؟دنیا کو اس وقت نعروں سے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے،اگر امن کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں طاقت کے استعمال سے زیادہ اعتماد سازی پر زور دینا ہوگا،ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں اکثر کانفرنس ہالوں کی خاموشیوں میں جنم لیتی ہیں اور میدانوں کی گرج میں پروان چڑھتی ہیں۔

  • قومی سلامتی، عالمی وقار اور ہماری اجتماعی ذمہ داری۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    قومی سلامتی، عالمی وقار اور ہماری اجتماعی ذمہ داری۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک نئے جغرافیائی و معاشی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ طاقت کا محور تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی سیاست میں بیانیے، سفارت کاری، معیشت اور دفاع—چاروں عناصر مل کر کسی بھی ریاست کا مقام متعین کرتے ہیں۔ ایسے نازک دور میں پاکستان کا عالمی منظرنامے پر کھڑا ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔
    پاکستان آج امریکہ سے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ تک ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی، سفارتی سرگرمیوں اور دفاعی پیشہ ورانہ صلاحیت نے ملک کا تشخص مضبوط کیا ہے۔ خاص طور پر عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اداروں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جس اعتماد کے ساتھ پیش کیا، اس نے ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مستحکم کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم اس مقام کی قدر بھی کر رہے ہیں؟

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلاف اکثر ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے میں بدل جاتا ہے۔ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر بے بنیاد الزام تراشی، افواہ سازی اور عالمی سطح پر اپنے ہی اداروں کو متنازع بنانے کی روش قومی مفاد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی سنجیدہ ریاست اپنے دفاعی و سلامتی کے ڈھانچے کو داخلی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھاتی۔

    ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سرحدوں پر کھڑا سپاہی کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوتا—وہ ریاست پاکستان کا محافظ ہوتا ہے۔ محدود وسائل اور نسبتاً کم تنخواہوں کے باوجود، وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس قربانی کو محض تنخواہ کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ قومیں اپنے محافظوں کو مالی معاوضے سے زیادہ اخلاقی اعتماد دیتی ہیں—اور یہی اعتماد ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔
    بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں معاشی دباؤ، علاقائی کشیدگی، اطلاعاتی جنگ اور پراپیگنڈا شامل ہیں۔ ایسے میں داخلی انتشار بیرونی قوتوں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم خود اپنے بیانیے کو کمزور کریں گے تو دنیا ہمیں سنجیدگی سے کیوں لے گی؟

    یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں بدلیں گے یا اسے تعمیری مکالمے میں ڈھالیں گے۔ سیاسی قیادت، دانشور طبقہ اور میڈیا—سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر احتیاط اور توازن کا مظاہرہ کریں۔ ریاستی اداروں پر تنقید ہو سکتی ہے، مگر وہ شواہد اور ذمہ داری کے ساتھ ہو—نہ کہ سوشل میڈیا کی افواہوں یا بیرونی بیانیوں کے زیر اثر۔
    دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ خطے میں نئے اتحاد بن رہے ہیں، عالمی معیشت نئے مراکز کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور اطلاعاتی جنگیں روایتی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو اندرونی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

    قوموں کی تاریخ میں ایسے موڑ آتے ہیں جب انہیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ داخلی تقسیم کا شکار رہیں گی یا مشترکہ مفاد پر متحد ہوں گی۔ پاکستان اس وقت اسی موڑ پر کھڑا ہے۔ ہمیں اپنی زبانوں کو شعلہ بنانے کے بجائے چراغ بنانا ہوگا۔ اختلاف کو نفرت میں بدلنے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔

    اگر ہم واقعی پاکستان کو عالمی سطح پر باوقار دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے قومی بیانیے میں سنجیدگی، ذمہ داری اور توازن پیدا کرنا ہوگا۔ کیونکہ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں—بلکہ اپنے شہریوں کے شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔

  • بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات نے ملکی سیاست میں ایک نئی کروٹ پیدا کی ہے۔ عوامی رائے کے نتیجے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نمایاں اکثریت کے ساتھ سامنے آئی اور اس کے قائد طارق الرحمان ایک بار پھر قومی قیادت کے مرکز بن گئے۔ یہ انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی دور کا آغاز قرار دیے جا رہے ہیں جس میں عوام نے واضح طور پر اپنی ترجیحات کا اظہار کیا۔

    یہ انتخابی مرحلہ ایک ایسے وقت میں آیا جب بنگلہ دیش داخلی سیاسی کشیدگی، معاشی چیلنجز اور آئینی اصلاحات کی بحث سے گزر رہا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور مہم چلائی، جلسے جلوس منعقد ہوئے اور نوجوان ووٹرز نے خاص طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عوام کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر کے یہ ثابت کیا کہ جمہوری عمل پر ان کا اعتماد برقرار ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنی انتخابی مہم میں معاشی بحالی، مہنگائی پر قابو، شفاف طرز حکمرانی اور متوازن خارجہ پالیسی کو مرکزی نکات کے طور پر پیش کیا، جسے عوامی سطح پر پذیرائی ملی۔

    انتخابی نتائج کے بعد سیاسی منظرنامہ واضح ہوا کہ عوام ایک مضبوط اور فعال حکومت چاہتے ہیں جو داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی ملک کی مؤثر نمائندگی کرے۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی انتخابی عمل میں نمایاں کردار ادا کیا، جس سے سیاسی مسابقت اور جمہوری تنوع کی جھلک نظر آئی۔ان نتائج پر پاکستان کی قیادت کی جانب سے فوری اور مثبت ردعمل سامنے آیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور طارق الرحمان کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ یہ سفارتی پیغام اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت چاہتا ہے۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، تاہم موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے لیے معاشی تعاون، تجارتی روابط، تعلیمی تبادلے اور علاقائی ہم آہنگی کے نئے مواقع موجود ہیں۔ اگر نئی قیادت داخلی استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرتی ہے تو جنوبی ایشیا میں تعاون کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔یہ انتخابات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام جمہوری عمل کے ذریعے اپنی سمت متعین کرنا جانتے ہیں۔ پاکستان کی بروقت مبارکباد اور خیرسگالی کا پیغام مستقبل میں بہتر ورکنگ تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اب یہ دونوں ممالک کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو باہمی اعتماد، عملی تعاون اور خطے کے استحکام کے لیے کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔

  • دہشت گردی کی غلط تشخیص ۔۔۔ایک قومی نقصان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دہشت گردی کی غلط تشخیص ۔۔۔ایک قومی نقصان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اسلام آباد میں ہونے والا بم دھماکہ ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو غم، صدمے اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض چند جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی، ریاستی بیانیے اور اجتماعی شعور کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ دہشت گردی کا یہ ناسور آج کا پیدا کردہ نہیں بلکہ پاکستان پر مسلط کردہ دہشت گردی کی ایک طویل، منظم اور مسلسل جنگ کا تسلسل ہے جو برسوں سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ ایک بدیہی اصول ہے کہ کسی بھی سنگین مسئلے کا حل جذبات، مفروضات یا عجلت میں لگائے گئے الزامات میں نہیں بلکہ اس کی درست اور دیانت دارانہ تشخیص میں مضمر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی دہشت گردی جیسے حساس مسئلے کو سطحی تجزیے یا سیاسی مصلحتوں کی نذر کیا گیا اس کا خمیازہ پوری قوم نے بھگتا ہے ۔

    اس پس منظر میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف ایک واضح، غیر مبہم اور حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا یہ مؤقف محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات اور اسٹریٹجک وژن کا آئینہ دار ہے۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم اور اس کے اصل محرکات کی نشان دہی دونوں ایک سنجیدہ ریاستی سوچ کی عکاس ہیں۔انھوں نے واضح طور پر دہشت گردی کی تشخیص کرتے ہوئے کہا کہ فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ آج یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی محض داخلی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ اس کے تانے بانے بیرونی سرپرستی بالخصوص بھارت سے جا ملتے ہیں۔ مختلف شواہد، اعترافات اور بین الاقوامی رپورٹس اس امر کی تصدیق کر چکی ہیں کہ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گرد گروہوں کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والا حالیہ دھماکہ بھی اسی منظم فتنہ کا تسلسل ہے جس کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ قوم کو فکری، مسلکی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے۔ ایسے نازک موقع پر ریاستی عہدیداروں سے غیر معمولی احتیاط، تدبر اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔اسی تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے دیا گیا بیان نہایت افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قطعی طور پر قومی مفاد کے منافی ہے ۔ کسی مخصوص مسلک، خصوصاً سلفی مکتبِ فکر کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف زمینی حقائق سے انحراف ہے بلکہ یہ پاکستانی قوم کو مذہبی ، سماجی ، فکری اور معاشرتی طور پر تقسیم کرنے اور ہم آہنگی پر ایک کاری ضرب بھی ہے۔ یہ طرزِ فکر دراصل دہشت گردوں کے ایجنڈے کو تقویت دینے ، جلتی پر تیل چھڑکنے اور گھر پھونک تماشا دیکھ کے مترادف ہے۔

    یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں سلفی مکتبِ فکر کبھی بھی دہشت گردی کا سبب نہیں رہا بلکہ سلفی مکتب یا اہلحدیث مکتب فکر کے علما ، زعما اور قائدین وکارکنان کا پاکستان کے قیام ، ملک عزیز میں امن وامان کے استحکام اور تزئین گلستان میں نمایاں کردار رہا ہے۔اہلحدیث مکتب فکر کے علما وزعما اور قائدین جیسا کہ علامہ احسان الہی ظہیر شہید ، علامہ حبیب الرحمن یزدانی ، ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر، مولانا ابراہیم سلفی جیسے درجنوں علما دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں جبکہ افغانستان میں شیخ جمیل الرحمن سمیت درجنوں جید علماء کا خون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دہشت گردی نے مسلک نہیں دیکھا، بلکہ ہر اس آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے جو اتحاد واتفاق کی آواز تھی اور جو شدت پسندی کے خلاف کھڑی تھی۔

    دہشت گردی کا الزام سلفی مکتب فکر پر عائد کرنا بذات خود ایک بدترین فکری اور مذہبی دہشت گردی کی ایک شکل ہے، جو قوم کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جسے دشمن برسوں سے آزما رہا ہے اور بدقسمتی سے خواجہ آصف جیسے لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس میں دانستہ یا نادانستہ سہولت کار بن جاتے ہیں۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ وزارتِ دفاع جیسے حساس منصب پر فائز شخص جب ملک کو درپیش کسی بھی مسئلے پر جب کوئی بات کرے تو اس کے الفاظ محض ذاتی رائے نہیں ہوتے بلکہ ریاستی مؤقف سمجھے جاتے ہیں، جن کی دھمک پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے ۔دنیا ایسے بیانات کی روشنی میں پالیسیاں بناتی ہے ۔وزارت دفاع جیسے اہم منصب پر بیٹھ کر قومی سلامتی کے منافی ، فرقہ وارانہ اور غیر محتاط گفتگو کرنے والے خواجہ آصف نہ صرف داخلی انتشار کو ہوا دے رہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو بدنام کرنے اور ریاست کے بیانیے کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ افسوس کہ خواجہ آصف کا طرزِ عمل بارہا سنجیدگی، ذمہ داری اور ریاستی وقار کے تقاضوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔وہ اس سے پہلے بھی بارہا دفعہ افواج پاکستان کے خلاف نامناسب گفتگو کر چکے ہیں ۔ یہاں یہ حقیقت بھی پوری قوت سے یاد رہنی چاہئے کہ افواجِ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں کی شہادتیں، لاتعداد زخمی اور اربوں روپے کے وسائل اس جنگ کی نذر ہوئے ہیں ۔ یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے امن، سلامتی اور مستقبل کے لیے ہیں ۔

    ایسے حالات میں افواجِ پاکستان پر الزام تراشی، یا ان کے بیانیے کو کمزور کرنے کی کوشش، دراصل ان قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ سوال پوری سنجیدگی سے اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا وزارتِ دفاع جیسی حساس ذمہ داری ایسے افراد کے سپرد رہنی چاہیے جو نازک قومی معاملات میں تدبر اور احتیاط کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوں؟ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ یہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔ یہاں میں اس بات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث مسلم لیگ (ن ) کی اتحادی جماعت ہے ۔خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد بم دھماکہ کا الزام سلفی مکتب فکر پر عائد کرکے پاکستان کے تین کروڑ اہلحدیثوں کی توہین کی ہے ۔ مزید یہ کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کو خواجہ آصف کے شرر انگیز بیان کی جس طرح سے مذمت کرنی چاہئے تھی ۔۔۔۔نہیں کی ہے ۔ ہمارے قائدین کی انہی سستیوں کی وجہ سے دوسروں کو شرر انگیزی کا موقع ملتا ہے جو کہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتی بلکہ درست تشخیص، ذمہ دارانہ بیانیے اور قومی یکجہتی سے لڑی جاتی ہے۔ اسلام آباد کا یہ سانحہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم نے الزام تراشی، مسلکی تقسیم اور غیر سنجیدہ سیاست کا راستہ نہ چھوڑا تو دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اصل دشمن کو پہچانیں، افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنیں اور پاکستان کو فکری و عملی طور پر محفوظ بنانے کی جدوجہد میں یکسو ہو جائیں۔

  • اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا  رویہ،تحریر: صدف ابرار

    اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا رویہ،تحریر: صدف ابرار

    ہر دور کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے، مگر آج کی نسل کو دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ جین زی کو عموماً بااعتماد، بولڈ اور بے باک کہا جاتا ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں ان کا رویہ دیکھیں تو میری بات شاید اپکو تلخ لگے لیکن یہ اعتماد کم اور بدتمیزی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

    کبھی اعتماد کا مطلب یہ تھا کہ انسان باوقار ہو، نرم لہجے میں بات کرے اور اپنے کردار سے پہچانا جائے۔ استاد اور سینئرز کا احترام تربیت کا لازمی حصہ تھا۔ اختلافِ رائے بھی ہوتا تھا تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اونچی آواز، تلخ لہجہ اور دوسروں کو نیچا دکھانا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے، اور اسے ہی “کنفیڈنس” کا نام دے دیا گیا ہے۔

    دفاتر، تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا،ہر جگہ ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر کسی کو بس آگے نکلنا ہے۔ کس کی گاڑی بہتر ہے، کس کا موبائل نیا ہے، کس کا لباس زیادہ مہنگا ہے اور کس کا طرزِ زندگی زیادہ جدید ہے۔یہی کامیابی کے پیمانے بن چکے ہیں۔ زندگی جیسے ایک مقابلہ بن گئی ہے، جہاں اصل انسان نہیں بلکہ نمائش جیتتی ہے۔
    اس نسل کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سادگی یا متوسط پس منظر کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، جیسے غریب گھرانے سے ہونا کوئی عیب ہو۔ اسی احساسِ برتری اور مقابلہ بازی میں لوگ جائز اور ناجائز کی تمیز بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ کسی بھی طرح اس دوڑ میں شامل رہیں، چاہے اس کے لیے اصول ہی کیوں نہ قربان کرنے پڑیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ اصل اعتماد شور نہیں کرتا۔ مہذب لوگ چیختے نہیں، وہ اپنے رویے سے پہچانے جاتے ہیں۔ عزت دینا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔ دکھاوا وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتا ہے، مگر مستقل عزت صرف اخلاق اور تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔
    جدید ہونا یقیناً اچھی بات ہے، مگر اگر جدیدیت تہذیب، احترام اور اقدار کے بغیر ہو تو وہ محض ایک کھوکھلا خول بن جاتی ہے۔ شاید ہمیں دوبارہ یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔

  • 14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
    ”اور بے حیائیوں کے قریب نہ جاؤ’ جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں۔“
    ( القرآن الکریم؛ سورة الانعام آیت151)

    14 فروری کو جہاں ایک مخصوص طبقہ سرخ پھولوں کا تبادلہ کرے گا۔تو وہیں پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس کو یومِ حیا کے طور پر منائے گا، اس دن یومِ حیا منانے کا مقصد محبت کا نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی کے خلاف حجاب، شرم و حیا اور اور اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ جس کے لئیے مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

    اگر ہم تاریخ کے زاویہ سے دیکھیں تو ”ویلنٹائن ڈے“ اصلاً رومیوں کا تہوار ہے ۔ جس کی ابتدا تقریباً 17 سو سال قبل ہوئی تھی۔ اس کا مسلم تہذیب و ثقافت سے ہرگز کوئی واسطہ نہیں۔ جبکہ مسیحی مذہب میں بھی مذہبی نکتہء نگاہ سے اس دن کی مذمت کی گئی ہے۔ اور چرچ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے کو جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ 2016ء میں مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں بیانات جاری کئیے۔ بلکہ بنکاک میں ایک پادری نے اس دن کے رد کے طور پہ اپنے ہم خیال افراد کے ہمراہ ویلنٹائن ڈے کا سامان فروخت کرنے والی دکان کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

    پاکستان میں جب ویلنٹائن ڈے کی روایت عروج پر تھی۔ تو جماعتِ اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبہ نے اسے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یومِ حیا کے طور پر منانا شروع کیا۔ تاکہ اس فحاشی کے خلاف مہذب انداز میں احتجاج کر کے اسے رد کیا جا سکے۔ یومِ حیا منانے کی روایت زیادہ پرانی نہیں۔ مگر اپنی فکر و نظریہ کے سبب انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جس کا سہرا بلاشبہ اسلامی جمیعت طلبہ کے سر جاتا ہے۔
    پاکستان میں 2012ء سے ویلنٹائن ڈے کے روز ہی یومِ حیا منایا جاتا ہے۔ اپنی مذہبی و اخلاقی اقدار کے مطابق بے حیائی کی مذمت میں اب تمام اہلِ علم و فکر شامل ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ یومِ حیا منانے والوں کی بڑی کامیابی میں عدلیہ کا کردار بھی اہم ہے۔ گزشتہ سالوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری سطح پہ ویلنٹائن ڈے منانے اور میڈیا پہ اس کی تشہیر سے روک دیا تھا۔ اور اسلام آباد انتظامیہ کو بھی حکم جاری کیا تھا ۔ کہ وہ عوامی مقامات پہ یہ بیہودگی نہ منانے دے۔ عدلیہ نے وزارت اطلاعات اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کے حکام سے کہا تھا۔ کہ میڈیا کو ایسے پروگرام کی کوریج سے روکا جائے ۔ اور جو کرے اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    اس وقت بھی ضرورت ہے۔ کہ حکومتی و قانونی سطح پہ اس دن کی مذمت کی جائے۔ اور ٹک ٹاک و دیگر ایپس پہ فحاشی و وقت کے ضیاع کے اسباب کو کنٹرول کیا جائے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب اور مکتبِ فکر محبت کے نام پہ فحاشی و بے حیائی کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ حیا عورت کا اصل زیور و پہچان ہے۔ پردہ اور شرم و حیا ہی عورت کے تقدس کی علامت ہیں۔

    فرمانِ آقا دو جہاں رحمت اللعالمین ﷺ ہے:
    ”بہترین اولاد باپردہ بیٹیاں ہیں۔“
    (بحار انوار جلد 104)
    اللہ رب العزت سے دعا ہے۔ کہ وہ ہر بیٹی کے پردے سلامت رکھے ۔ اور اس کی حفاظت فرمائے۔
    آمین

  • بنگلہ دیش کی نئی اسٹریٹجک صبح، بی این پی کی فتح اور ابھرتا ہوا جیوپولیٹیکل منظرنامہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید،

    بنگلہ دیش کی نئی اسٹریٹجک صبح، بی این پی کی فتح اور ابھرتا ہوا جیوپولیٹیکل منظرنامہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید،

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    بنگلہ دیش میں بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی، استحکام کا وعدہ بنگلہ دیشی انتخابات میں کامیاب بی این پی کی اہم ترجیحات

    13 فروری 2026 کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی فیصلہ کن انتخابی فتح نے جنوبی ایشیائی سیاست میں ایک تاریخی موڑ پیدا کیا،تقریباً 20 برس بعد اقتدار میں واپسی کرتے ہوئے، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کی، جس کے نتیجے میں 2024 میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد جاری طویل سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد ملک میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی۔نئی حکومت کی ترجیحات میں معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور وسیع البنیاد سماجی بہبود شامل ہیں، جو ماضی کی پالیسیوں سے ممکنہ انحراف کی نشاندہی کرتی ہیں۔یہ تاریخی انتخاب ، جسے دہائیوں میں سب سے زیادہ مسابقتی قرار دیا جا رہا ہے ،میں ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا، جو ایک باشعور اور متحرک عوام کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے ملک کی حکمرانی اور عالمی حیثیت کا نیا باب رقم کرنا چاہتے ہیں۔

    1. نیا سیاسی نظم اور داخلی ترجیحات
    بی این پی کی کامیابی گہرے سیاسی تغیر کا نتیجہ ہے، جو جنریشن زیڈ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد سامنے آیا جس نے ایک طویل عرصے سے قائم حکومت کا خاتمہ کیا، عبوری حکومت کی راہ ہموار کی اور جمہوری مقابلے کے لیے نئی فضا پیدا کی۔بی این پی کا منشور “بنگلہ دیش فرسٹ” حکمتِ عملی پر مبنی معاشی بحالی، گورننس اصلاحات اور سماجی شمولیت پر زور دیتا ہے۔پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک آئینی ریفرنڈم کے ذریعے ساختی تبدیلیوں کی منظوری بھی دی گئی، جن میں عدالتی آزادی سے لے کر ممکنہ دو ایوانی مقننہ کی اصلاحات شامل ہیں۔یہ اصلاحات ادارہ جاتی جدیدیت، احتساب اور سیاسی مرکزیت کے خاتمے کی خواہش کی عکاس ہیں۔

    تاہم سیاسی منظرنامہ اب بھی پیچیدہ ہے۔ جو جماعتیں پہلے حاشیے پر تھیں جیسے بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی ، انہوں نے دوبارہ انتخابی موجودگی حاصل کی ہے، اور وسیع تر اتحادی سیاست کی حرکیات پارلیمان میں پالیسی سمت کا تعین کریں گی۔

    2. علاقائی جیوپولیٹکس میں بنگلہ دیش کی اسٹریٹجک اہمیت
    بنگلہ دیش خلیجِ بنگال اور جنوبی ایشیا کے قلب میں ایک کلیدی جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ اس کی بڑی آبادی، تیز رفتار معاشی ترقی اور اہم بحری راستوں سے قربت اسے علاقائی طاقت کے توازن اور اقتصادی روابط کے لیے نہایت اہم بناتی ہے۔

    بھارت کے مفادات
    بھارت کے ساتھ ہمسایہ تعلقات تاریخی طور پر ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہے ہیں، جس کی وجہ گہرا معاشی انحصار، سرحد پار سیکیورٹی تعاون اور رابطہ منصوبے ہیں جو بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو مرکزی منڈیوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے جوڑتے ہیں۔
    بنگلہ دیش کا بطور ٹرانزٹ راہداری کردار بھارت کی “ایکٹ ایسٹ” حکمتِ عملی اور شمال مشرق میں سیکیورٹی خطرات کے تدارک کے لیے نہایت اہم ہے۔
    عبوری دور میں تعلقات میں تناؤ نے غیر یقینی صورتحال پیدا کی، تاہم بی این پی کی فتح کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے فوری سفارتی مبارکباد نے نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔
    مستقبل میں پاک بھارت نہیں بلکہ بھارت۔بنگلہ دیش تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ڈھاکہ کس حد تک خودمختار مفادات اور مشترکہ اقتصادی، تجارتی، سیکیورٹی اور آبی وسائل کے معاملات میں توازن قائم کرتا ہے۔

    چین کا بڑھتا ہوا کردار
    چین اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی، انفراسٹرکچر اور سفارتی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیجنگ نے بندرگاہوں کی جدید کاری، اسٹریٹجک فضائی اڈوں اور انفراسٹرکچر قرضوں سمیت بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جس سے وہ ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔
    چین کی عدم مداخلت پر مبنی سفارتی پالیسی اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ڈھاکہ کے لیے پرکشش ہے، جو تیز صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کی توسیع کا خواہاں ہے۔
    بنگلہ دیش کی ساحلی جغرافیائی حیثیت اسے چین کے “میری ٹائم سلک روڈ” وژن اور وسیع تر انڈو پیسیفک حکمتِ عملی میں اہم مقام دیتی ہے۔

    پاکستان کا کردار
    حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں برف پگھلتی نظر آئی ہے۔ دہائیوں بعد براہِ راست تجارت اور پروازوں کی بحالی ایک علامتی مگر اہم پیش رفت ہے، جو بدلتے ہوئے سفارتی انداز کی عکاسی کرتی ہے۔
    دونوں ممالک دفاعی اور تجارتی تعاون پر مکالمہ کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد تاریخی تلخیوں سے بالاتر ہو کر نئے مواقع تلاش کرنا چاہتا ہے۔

    3. امریکہ: مواقع اور اثر و رسوخ
    امریکہ بنگلہ دیش کو اپنی انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کا اہم جزو سمجھتا ہے، جس کا مقصد ایک “آزاد، کھلا اور محفوظ” خطہ تشکیل دینا ہے جہاں جمہوری حکمرانی اور معاشی انضمام فروغ پائیں۔
    بنگلہ دیش کا جغرافیائی محلِ وقوع چین اور امریکہ کے حامی بلاک کے درمیان طاقت کے توازن میں اہمیت رکھتا ہے۔
    بی این پی کی فتح پر واشنگٹن کی سفارتی مبارکباد اور معاشی تعاون کے اشارے جمہوری استحکام اور معاشی شفافیت میں مشترکہ دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔
    ساتھ ہی امریکہ بنگلہ دیش کو سرمایہ کاری کے ذرائع متنوع بنانے کی ترغیب دیتا ہے، تاکہ چینی سرمائے پر انحصار کم ہو اور علاقائی شراکت داری متوازن رہے۔

    4. مستقبل کے امکانات اور اسٹریٹجک حرکیات
    متوازن خارجہ پالیسی
    بی این پی کی قیادت میں، جو قومی مفاد اور باہمی احترام پر زور دیتی ہے، ڈھاکہ ممکنہ طور پر ایک متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے گا جو کسی ایک بڑی طاقت کے ساتھ سخت وابستگی سے گریز کرے گی۔
    یہ سہ فریقی سفارت کاری اقتصادی فوائد کے حصول، خودمختاری کے تحفظ اور بھارت، چین، امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش ہوگی۔

    علاقائی سلامتی اور معاشی انضمام
    بنگلہ دیش کی پیش رفت جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی ڈھانچے پر اثر انداز ہوگی۔ بھارت کے ساتھ معاشی انضمام، چین کے ساتھ انفراسٹرکچر تعاون اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری ڈھاکہ کو علاقائی استحکام اور اقتصادی راہداریوں کا کلیدی کردار دے سکتی ہے۔
    بیمسٹیک اور خلیجِ بنگال انیشی ایٹو جیسے کثیرالجہتی فورمز میں اس کا کردار تاریخی رقابتوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    خطرات اور چیلنجز
    داخلی سیاسی تقسیم، نظریاتی گروہوں کا انضمام اور فرقہ وارانہ حساسیت پالیسی ہم آہنگی اور عالمی تاثر کو متاثر کر سکتی ہے۔
    مزید برآں، بھارت اور چین جیسے دو بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ، جو اکثر اسٹریٹجک مسابقت میں مصروف رہتے ہیں ، انتہائی محتاط اور مہارت طلب سفارت کاری کا تقاضا کرے گا۔

    خلاصہ
    2026 کے عام انتخابات بنگلہ دیش میں محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی جیوپولیٹکس کی نئی تعریف ہیں۔
    بی این پی کی قیادت میں معاشی اصلاحات، متوازن سفارت کاری اور عملی شراکت داری کی پالیسی کے ذریعے بنگلہ دیش ایک کثیر القطبی علاقائی منظرنامے میں اپنی اسٹریٹجک خودمختاری منوانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔بھارت، چین، پاکستان اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات جو باہمی مفادات اور جیوپولیٹیکل حقیقتوں پر مبنی ہوں گے ، نہ صرف بنگلہ دیش کے مستقبل بلکہ پورے انڈو پیسیفک کے سیکیورٹی اور معاشی ڈھانچے پر اثر انداز ہوں گے۔بنگلہ دیش کا ایک کلیدی جیوپولیٹیکل کھلاڑی کے طور پر ابھار خطے میں طاقت کے بدلتے توازن کی عکاسی کرتا ہے ، ایک ایسی پیش رفت جس کی بازگشت ڈھاکہ سے دہلی اور بیجنگ سے واشنگٹن تک سنائی دے گی۔

  • بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -2،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -2،تحریر:ملک سلمان

    کون ہے ؟کون ہے؟ پوچھنے والوں کو میں نہیں بتا سکتا کہ تم خود اس حمام میں ننگے اور گندے ہو۔ بہت سارے جعلی ایمانداروں اور نیکوکاروں کو نہیں بتا سکتا کہ تمہاری آڈیو اور ویڈیو خود دیکھی ہیں کہ جس میں تم خاتون کی منتیں کر رہے ہو کہ پہلے آپ پھر میں آن لائن سیلف پریکٹس کرتے ہیں۔ عقل کے اندھو ابھی بھی وقت ہے کسی باہر کی عورت کے قدم چومنے سے بہتر ہے اپنی بیوی کے قدم دبا کر دیکھ لو دنیا جنت بن جائے گی۔

    میرا مقصد صرف اصلاح اور خبردار کرنا ہے کہ جو گند تم لوگوں نے پھیلایا ہے تھیلے سے باہر آگیا تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوگے۔ میں اس چیز پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ کسی کی پرائیویسی خراب نہیں کرنی چاہئے لیکن بطور خیر خوا تمہیں سمجھانے کی آخری کوشش ہے کہ کتے کی رال ٹپکانے سے بہتر ہے تھوڑے میں گزارا لو۔ واحیات افسران جس طرح کی تھڑی ہوئی حرکتیں کرچکے ہیں صرف وہ ہی پبلک ہو جائیں تو بہت سارے خودکشی کرلیں یا احساس ندامت سے پاگل ہوجائیں۔ویسے ایسی امید بھی کم لوگوں سے ہیں کیونکہ جس قدر گھٹیا ذہنیت کا ثبوت دے چکے ہیں لگتا نہیں کہ ان میں رتی برابر بھی شرم باقی ہوگی۔ چلیں شرم غیرت نہ سہی بے حیاؤ اپنا سوشل سٹیٹس ہی بچا لو۔

    جو سنئیر افسران پارلیمنٹیرین، صحافیوں، ساتھی افسران اور دیگر بااثر شخصیات کیلئے بھی اکثر پہنچ سے دور ہوئے ہوتے ہیں وہ آوارہ لونڈوں لپاڑوں کی طرح لانگ ڈرائیو کے نام پر "شوگر بے بیز” کی خاطر روڈ انسپکیٹری کرتے ہوئے سڑکوں کی خاک چھان رہے ہوتے ہیں۔ڈوپ ٹیسٹ کروا لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا جنسی خواہشات کی وحشت میں سوکالڈ کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے ڈرگز کے عادی ہوچکے ہیں۔ڈرگز کی کثرت کی وجہ سے منہ پر لعنتیں اور پھٹکارے سرجری کروانے سے بھی ختم نہیں ہو رہیں۔ چند افسران انباکس میں اخلاقیات کا لیکچر دے رہے تھے، یہ وہی ہیں جن کی ویڈیوز دیکھ چکا ہوں کہ خاتون کو کہتے ہوئے کہ یہ ساشے تمہارا یہ ساشے میرا اب دیکھنا یہ رات کبھی نہیں بھول پاؤگی۔

    اس ٹاپک کومذید اگلی قسط میں سہی
    اخلاقی کرپشن کا دوسرا پہلو بھی دکھا دوں جس پر لکھنے کیلئے انہی افسران کی بیگمات نے سپیشل ریکوئسٹ کی کہ ان بے غیرت افسران کی اس عادت کی وجہ سے انکی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہیں۔گزشتہ سال ایک سنئیر آفیسر کی وائف کی کال آئی کہ سلمان صاحب آپ کبھی۔۔۔اس نامرد کو بھی بندوں کی گیدرنگ میں انوائٹ کرلیا کریں کہ شائد انسان بن جائے۔ میں نے کہا کہ پانچ سات دفعہ بلایا ہے لیکن شائد وہ مصروف ہوتے ہیں۔ مذکورہ خاتون نے پرسرار قہقہے کے ساتھ کہا کہ اس (ک ن ج ر) نے ایک ہی کام میں مصروف ہونا ہوتا ہے۔آپ کی محفل اوپن ہوتی ہے جبکہ اس کو بند کمرے میں مردوں کے ساتھ بیٹھنا پسند ہے۔اس بات کا مطلب مجھے کچھ مہینے بعد سمجھ آیا جب مجھے ایک اور آفیسر کی وائف نے کال کی۔۔۔۔یہ آپکی طرف ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں میری طرف تو آج تک نہیں آیا۔ کہنے لگیں کہ مجھے تو آپ کا انویٹیشن دکھا کر نکلا تھا کہ ڈنر پر جارہا ہوں۔ خاتون آفیسر نے اسرار کیا کہ آپ لوکیشن شئیر کریں میں آپکو پک کرتی ہوں آپنے ایک جگہ چھاپے مارنے میرے ساتھ جانا ہے۔۔۔یہ وہیں ملے گا۔

    میں نے بہت کہا کہ یہ میرا نہیں آپ کا ذاتی گھریلو معاملہ ہے۔ خیر انکے اسرار پر میں ان کے ساتھ چل نکلا فیز 8 میں گھر کے سامنے جا کر انہوں نے نان سٹاپ ہارن بجانا شروع کردیا۔ چوکیدار باہر نکلا تو اسے کہا کہ۔۔۔۔۔کو کہو کہ عزت سے خود باہر آجائے ورنہ میں نے اندر آکر سب کو گولی مار دینی ہے۔ مذکورہ آفیسر ہاتھ جوڑتا ہوا باہر آیا کہ پلیز گھر جاؤ میں تمہارے پیچھے آیا۔خاتون نے اس آفیسر کو دیکھتے ہی کہا کہ تیری۔۔۔دا کھسم تے اے۔ تم اس شریف بندے کا نام لیکر یہاں مردوں کی گود میں بیٹھ کر منہ کالا کرنے پہنچے ہوئے ہو۔ پہلے واقع میں مینشن کیے گئے آفیسر کی گاڑی بھی وہیں کھڑی دیکھی تو تب سمجھ آئی کہ کس بند کمرے کا ذکر ہو رہا تھا۔

    چند ماہ قبل میں اور سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ لاہور جمخانہ کلب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ زوردار تھپڑ اور خاتون کی گالیوں کی آواز آئی۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو اہم محکمے کے ڈی جی تھپر سے لال منہ کو چھپائے بھاگ رہا تھا کہ جبکہ خاتون گالیاں دے رہی تھی کہ اگر مردوں کے ساتھ ہی منہ کالا کرنا تو اس سے شادی کیوں کی۔

    بیوروکریسی کا یہ ”گے گروپ“ ہر طرح کی سوشل گیدرنگ سے دور اپنی دنیا میں مگن کام ڈالتا رہتا ہے۔ لیکن ان کے اس قوم لوط والے شوق سے انکی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہے اس لیے وہ کھلم کھلا ان کے دوستوں کو اس بات کے شکوے کرتی ہیں کہ وہ صرف شو پیس اور سٹیٹس سمبل بن کر ری گئیں ہیں اور ان کے خاوند شادی سے پہلے والے شوق سے باہر نہیں نکل رہے۔

    پارٹی اور "گے گروپ” دونوں کی خاصیت ہے کہ سوشل گیدرنگ اور دوستوں کی محفل سے الگ تھلگ رہتے ہیں کیونکہ ان کو ذہنی ڈر ہوتا ہے کہ اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور صوفے کی بجائے کسی کی گود میں نہ بیٹھ جائیں۔
    ”گے گروپ“ والے دفتر میں چڑچڑے پن کا شکار اور فرعونیت کا روپ دھارے رہتے ہیں۔ ”گے گروپ“والے افسران بامشکل تیس سے چالیس ہوں گے لیکن یہ سارے اس مخصوص گروپ کی وجہ سے "کی پوسٹ” انجوائے کررہے ہیں۔
    جاری ہے۔۔۔

    ملک سلمان

  • بیوروکریسی کے جنسی درندے،تحریر: ملک سلمان

    بیوروکریسی کے جنسی درندے،تحریر: ملک سلمان

    قسط نمبر -1
    اگر بیوروکریٹ کے نیفے میں پسٹل چلنا شروع ہوگئے تو آدھے سے زائد ”رِمل شاہ“ بن جائیں گے۔
    یہ وہ ٹاپک ہے جسے میں بہت عرصے سے لکھ نہیں پارہا تھا جبکہ بہت سارے دوستوں کو چاہ کر بھی ڈائریکٹ سمجھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
    ایک گالی۔۔۔ ۔۔۔سب نے سنی ہوگی اس کا مطب پہلی دفعہ سمجھ آیا۔
    پولیس سروس کے ایک طاقتور اور سنئیر افسر جس کی ابھی دو سال سے زائد سروس باقی ہے وہ سپلائیر ہے۔اس کی ایک سوشل ورکر خاتون کے ساتھ طریقہ واردات کی پوری چیٹ دیکھی کہ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ہمارا کوڈ ورڈ ہوگا کہ میں تمہیں بیٹی کہوں گا تم مجھے ڈیڈی۔
    مجھ سے ملو گی تب بھی پیکٹ اگر کسی کے پاس بھیجوں گا تب بھی پیکٹ میری گارنٹی،اگلا تمیں کچھ انعام دے دے تو وہ بھی تمھارا۔میرے دفتر آکر پچاس ہزار ایڈوانس لے کر کسی پارلر سے خود کو اپڈیٹ کروا لو۔جہاں بھیجوں آنکھ اور کان بند کرکے جانا ہے۔
    میں نے پہلے بھی کالم لکھا تھا کہ بہت سارے بیوروکریٹ اچھی پوسٹنگ کیلئے سپلائی کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔
    پارٹی،پلائی اور سپلائی یہی انکی کامیابی کا راز ہے۔ پینٹ کوٹ اور ٹائی کے اندر چپھی انکی غلاظت کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔
    پاؤں چاٹ گروپ کی بات کی جائے تو پولیس افسران سر فہرست اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس والے دوسرے جبکہ پی ایم ایس والے تیسرے نمبر پر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس کام میں کوئی سپیشلائیزیشن کی ہوئی ہے یا پھر سب نے لڑکی پھنسانے کے ٹوٹکوں والا ایک ہی میگزین لے رکھا ہے کہ ہر دوسرے افسر کی چیٹ کا آغاز پاؤں چاٹنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔
    ایک ڈی آئی جی کی ویڈیو دیکھی تو وہ سابق چئیرمین نیب کو پیچھے چھوڑ چکے تھے جناب نے عرق گلاب سے ڈانسر کے پاؤں دھوئے اور کئی منٹ تک چاٹتا رہا۔
    یہ جنسی درندے ہر سوشل خاتون پر ٹرائی کرتے ہیں۔ میڈیا گرلز کی بات کی جائے تو یہاں سرکاری افسران کی دال نہیں گلتی ہرلڑکی کی بلاک لسٹ میں پچاس سے زائد بیوروکریٹ ملیں گے۔ بیوروکریسی کے افسران کا آسان ٹارگٹ سماجی تنظیموں سے وابستہ خواتین،جونئیر اور ماتحت خواتین افسران ہوتی ہیں۔
    جنسی درندگی کا آسان طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو سی ایس ایس اور سرکاری نوکری کا خواب دکھا کر یہ سستے مینٹور اپنی ہوس پوری کرتے ہیں۔
    سرکاری جنسی درندوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ سرکاری ہائرنگ فائرنگ کا ریکارڈ دیکھ لیں باس کی بات ماننے سے انکار کرنے والی خوتین کو مہینوں اور دنوں میں نکال دیا جاتا ہے جبکہ باس کی خواہش کی تکمیل کرنے والوں کیلئے ترقی کے تمام در کھل جاتے ہیں۔
    جنسی درندے بنے افسران سنیپ چیٹ کو سیکس چیٹ کیلئے محفوظ تصور کرتے ہیں۔کچھ نے انٹرنیشنل واٹس ایپٹ نمبر رکھے ہوئے تو کچھ ایسے نڈر ہیں کہ اپنے پرسنل نمبر سے once کرکے گندی اور ننگی تصاویر اور آڈیو چیٹ کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے موبائل سے انکی سنیپ چیٹ اور once والی ساری چیٹ ریکارڈ ہورہی ہوتی ہے۔
    درجنوں افسران ان حسیناؤں سے بلیک میل ہوکر خفیہ نکاح نبھا رہے ہیں۔ان پاؤں چاٹنے والوں کی زندگی آوارہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔بلیک میل ہونے والے افسران کی زندگی شرمندگی بن چکی ہے، ایک کال پر یہ گھر میٹنگ اور دفتر چھوڑ کر دم ہلاتے پہنچ جاتے ہیں۔

    پی ایم ایس کے ایک لڑکے نے واقع سنایا کہ ایک سنئیر آفیسر نے اسے بہت تنگ کیا ہوا تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس بیٹھا تھا کہ وہی افسر ٹیلیفون کال پر اسکی عزت افزائی کررہا تھا،کال ختم ہوئی تو گرل فرینڈ نے پوچھا کہ کون تھا تو میں نے بے خیالی میں بتادیا کہ فلاں سیکرٹری ہے۔ اس نے فوری موبائل نکالا اور مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کال ملا دی اور دوسری طرف سے کال اٹھاتے ہی بولی اوئے بات سن۔نیکسٹ۔۔۔۔۔اسکو تنگ کرنے کی شکایت نہ ملے۔دوسری طرف سے سے سیکرٹری نے پوچھا ک تمہارا کیا لگتا ہے تو اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ جس طرح تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے۔ افسر کہ کہنا تھا کہ اس کا کام تو ہوگیا لیکن یہ فقرہ آج تک تکلیف دیتا ہے کہ”جیسے تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے“۔
    یہ باتیں کوئی ٹاپ سیکرٹ نہیں ہر افسر کو پتا ہے کہ دوسرا افسر کہاں اور کس کے ساتھ منہ کالا کرتاہے
    ان بے شرم افسران کو سمجھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان سے اس لیے ہمدردی ہے کہ ان افسران کی اکثریت انتہائی غریب گھروں کے بچے ہیں،خاص طور پر فخر سے اولڈ راوین کہلوانے والے 40ویں کامن سے 46ویں کامن والوں میں سے درجنوں کو میں تب سے جانتا ہوں جب یہ جی سی کی ہاسٹل فیس ادا نہیں کرسکتے تھے اور گاؤں کے دوستوں کی مدد سے کریسنٹ ہاسٹل سول لائنز میں ایک بستر پر دو،دو سوتے تھے، اور دعائیں دیں ہاسٹل مسجد کو جو عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک انکے کیلئے آرام گاہ ہوتی تھی۔ سنئیرز کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں کوئی گاؤں کے چوہدری سے پیسے لیکر شہر آیا تو کسی کی فیس بیرون ملک بیٹھے رشتے دار ادا کرتے تھے۔ یتیم الشانی سے عظیم الشانی کا سفر مبارک ہو، ریکارڈ توڑ کرپشن کے بعد یہ امیر تو ہوگئے لیکن انکی ذہنی پسماندگی اور غربت آج بھی وہیں کی وہیں ہے۔
    ان کو ڈائریکٹ نہیں سمجھا سکتا تھا کہ بیچارے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔
    میں انکو بچانا چاہتا ہوں اس لیے ان بے غیرتوں کو سمجھا رہا ہوں کہ لعنتیوں سمجھ جاؤ اس سے پہلے کہ تم اشتہار بن جاؤ۔
    50 سے 60 کے درمیان والے سینیئر افسران جنھیں عام پبلک حتی کہ سیاستدان بھی سر سر کرتے ہیں وہیں پر انکی "شوگر بی بیز” نے ان کا نام "ٹھرکی بابا” "دادا ابو” اور "بے غیرت بڈھا” رکھا ہوا ہوتا ہے۔
    میری تحقیق کے مطابق نوجوان بیوروکریٹ میں سے 50 فیصد جبکہ سینیئر افسران میں سے 65 فیصد ٹھرک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتے سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔
    یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مالی کرپشن کے بغیر اخلاقی کرپشن افورڈ نہیں ہو سکتی۔
    جاری ہے۔۔۔
    ملک سلمان

  • "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    انسانی شخصیت کے باطن میں کچھ جذبات ایسے ہیں جو بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی سمت، اثر اور انجام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ انا اور عزتِ نفس بھی انہی میں سے ہیں۔ عام گفتگو میں ان دونوں کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات انا کو عزتِ نفس کا نام دے کر اس کی توجیہ پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ انا اور عزتِ نفس نہ صرف جدا مفاہیم رکھتے ہیں بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں۔

    عزتِ نفس انسان کی وہ مثبت داخلی قوت ہے جو اسے اپنی قدر پہچاننے، اپنے وجود کا احترام کرنے اور خود کو بے جا ذلت سے محفوظ رکھنے کا شعور دیتی ہے۔ عزتِ نفس کا تعلق خود آگاہی، خود احتسابی اور خود اعتمادی سے ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان نہ خود کو کمتر سمجھتا ہے اور نہ ہی دوسروں سے برتر۔ وہ اپنی حدود کو جانتا ہے، اپنی خامیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اپنی خوبیوں پر شکر گزار رہتا ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خاموش وقار عطا کرتی ہے، چیخنے چلانے، ثابت کرنے یا دوسروں کو نیچا دکھانے کی حاجت نہیں پڑتی۔

    اس کے برعکس انا ایک منفی، دفاعی اور جارحانہ جذبہ ہے جو عدمِ تحفظ سے جنم لیتا ہے۔ انا دراصل خود کو بچانے کا نہیں بلکہ خود کو ثابت کرنے کا اضطراب ہے۔ انا کا شکار انسان ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں اس کی برتری، حیثیت یا اختیار پر حرف نہ آ جائے۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ اختلاف کو توہین سمجھتا ہے، سوال کو گستاخی اور تنقید کو دشمنی قرار دیتا ہے۔ انا کا مقصد خود کو محفوظ رکھنا نہیں بلکہ دوسروں کو زیر کرنا ہوتا ہے۔
    عزتِ نفس انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے پُرسکون انداز میں کھڑا ہو، جبکہ انا اسے یہ سکھاتی ہے کہ وہ ہر حال میں جیتے، چاہے اس کے لیے کسی کی تذلیل ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ عزتِ نفس خاموش ہوتی ہے، انا شور مچاتی ہے۔ عزتِ نفس دلیل پر یقین رکھتی ہے، انا طاقت پر۔ عزتِ نفس برداشت سکھاتی ہے، انا انتقام پر منتج ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ عزتِ نفس رکھنے والا انسان معذرت کر لینے میں عار محسوس نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ معافی اس کی قدر کم نہیں کرتی۔ جبکہ انا پرست شخص معذرت کو شکست سمجھتا ہے، اس کے نزدیک جھکنا مٹ جانے کے مترادف ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خود سے مضبوط تعلق دیتی ہے، انا اسے مسلسل دوسروں سے مقابلے میں الجھائے رکھتی ہے۔

    فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو عزتِ نفس وجودی توازن کی علامت ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات کے مرکز میں رکھتی ہے، جہاں وہ اپنی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے اور اپنی حدود بھی پہچانتا ہے۔ انا اس توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ انا انسان کو اپنے مرکز سے ہٹا کر دوسروں کی نگاہوں، آراء اور ردِعمل کا غلام بنا دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے جھکنے میں اپنی بقا تلاش کرنے لگتا ہے۔

    سماجی سطح پر انا فساد کو جنم دیتی ہے، جبکہ عزتِ نفس ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ انا رشتوں کو توڑتی ہے، کیونکہ اس میں جیت صرف ایک کی ہوتی ہے۔ عزتِ نفس رشتوں کو نبھاتی ہے، کیونکہ اس میں احترام باہمی ہوتا ہے۔ انا اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتی ہے، عزتِ نفس اختلاف کے باوجود وقار برقرار رکھتی ہے۔
    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عزتِ نفس انسان کو بلند کرتی ہے اور انا اسے تنہا کر دیتی ہے۔ تاریخ، ادب اور عمرانی تجربہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ انا پرست افراد بظاہر طاقتور دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے اور بے چین ہوتے ہیں۔ جبکہ عزتِ نفس رکھنے والے افراد خاموشی سے اپنا مقام بنا لیتے ہیں، بغیر کسی کو کچلے، بغیر کسی کو ذلیل کیے۔

    اصل امتحان یہ نہیں کہ انسان خود کو کب بچاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو بچاتے ہوئے دوسروں کو کتنا محفوظ رکھتا ہے۔ عزتِ نفس یہی توازن سکھاتی ہے، جبکہ انا اس توازن کو پامال کر دیتی ہے۔ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عزتِ نفس خودی کی حفاظت ہے اور انا خودی کی بیماری۔ عزتِ نفس انسان کو انسان بناتی ہے، انا اسے اپنی ہی ذات کا قیدی۔ جو شخص عزتِ نفس کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کو جینے دیتا ہے، اور جو انا کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کے وقار پر زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی دونوں کے درمیان اصل اور فیصلہ کن فرق ہے۔