Baaghi TV

Category: بلاگ

  • برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    برصغیر کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر۔ 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔

    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔

    شیلیندر صاحب کے نغمے اورر اشعار

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند……

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند……

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند…….

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

  • سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک میں سیاسی استحکام سیاستدانوں میں عدم خود اعتمادی اور سیاسی بلوغت کے فقدان کے سبب ہے۔ موروثی سیاست کی دوڑ اور مقتدر حلقوں کے مرہون منت شخصیات اور لینڈ مافیا کے جہازوں میں جھولے لینے والے سیاستدان کسی طرح بھی وطن عزیز کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پنجاب میں بھرتیوں سے لیکر سیاسی امور حتیٰ کہ اسمبلیوں کی تحلیل پر پالیسی بیان ٹویٹ کرکے اپنے ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اور حیف ہے ان نام نہاد سیاستدانوں پر جو طفل سیاست کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر قومی معاملات میں ان سے مشاورت کے لئے گھنٹوں انتظار کی لائن میں لگے رہتے ہیں۔ کیا کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی وزیراعظم’ وزیراعلیٰ’ مشیر اعلیٰ کی اولادیں قومی اور سیاسی انتظامی اور پارلیمانی امور میں اپنے والدین کے عہدوں کے بل بوتے پر فیصلے صادر کررہے ہوں۔ ہرگز نہیں

    ہمارے ہاں سیاسی انحطاط کی اس سے بدتر مثال کہیں نہیں ملتی آج اس بدانتظامی کو مثال بنا کر کسی بھی اعلیٰ پولیس آفیسر یا بیوروکریٹ یا انتظامی افسران کا بیٹا بیٹی بھی انتظامی احکامات پر ٹویٹ در ٹویٹ کرنا شروع کردے تو کیا تعجب ہوگا؟ آج کے سیاستدانوں کو قائد اعظم’ خان لیاقت علی خان’ نواب زادہ نصراﷲ’ ایئرمارشل اصغر خان’ پروفیسر این ڈی خان’ معراج خالد’ معراج محمد خان’ ملک قاسم’ بے نظیر بھٹو’ ذوالفقار علی بھٹو’ رضا ربانی’ پرویز رشید’ مولانا عبدالستار خان نیازی’ مولانا مودودی’ مولانا مفتی محمود’ مولانا کوثر نیازی اور اسی طرح دیگر بہت سے نام ہیں جن کی سیاسی بصیرت اور ادراک کو مشعل راہ بنانا چاہئے اور اپنے سیاسی فیصلوں کے لئے گیٹ نمبر4 اور پانچ کی طرف یا آبپارہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے فوج نے سیاسی کردار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور انہوں نے سیاسی دروازے بند کردیئے ہیں سیاستدانوں کو بیساکھیوں کو چھوڑ کر اپنے کردار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔

  • میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔

    میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔

  • بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے

    تنویر سپرا

    13 دسمبر. 1993 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تنویر سپرا کا اصل نام محمد حیات تھا۔ وہ 1929ء میں جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ غربت اور تنگ دستی کے باعث تعلیم جاری نہ رکھہ سکے اور لڑکپن ہی میں مزدوری کے لیے کراچی چلے گئے ۔۔ وہاں بحری جہازوں میں رنگ و روغن کا کام کیا ، کچھہ عرصہ درزیوں کا کام کرتے رہے ۔ جہلم واپس آ کر دکانداری کی ، لاہور میں کچھہ عرصہ صحافت سے بھی وابستہ رہے ۔۔ محنت مزدوری کرتے ہوئے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے ۔ 1959 میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی جہلم میں کام کرتے رہے ۔۔ محنت مشقت کے ساتھہ غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ اور ذاتی مطالعے اور لگن کی بدولت ادیب عالم اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے ۔
    شاعری کا آغاز 1963،64 میں کیا ۔ اور 1969 میں فنون میں چھپنے کے بعد ادبی حلقوں میں متعارف ہوئے ۔ ان کا مجموعہ کلام ” لفظ کھردرے ” 1980 میں منظر عام پر آیا ۔ 1988 میں انھیں وزیراعظم بینظیر بھٹو کی طرف سے نیشنل بک کونسل آف پاکستان کا عوامی ادبی جمہوری انعام ملا ۔

    13دسمبر 1993ء کواسلام آباد میں وفات پائی اور جہلم میں مدفون ہیں۔

    تنویر سپرا کے کچھ شعر

    دیہات کے وجود کو قصبہ نکل گیا
    قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی

    اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
    دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

    تنویرؔ پڑھو اسم کوئی رد بلا کا
    گھیرے میں لیے بیٹھے ہیں کچھہ سائے مرا جسم

    اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھہ چلتا ہے
    وہ بونا کس قدر میرے قد و قامت سے جلتا ہے

    میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کو
    انہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے

    دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں
    رات کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوں

    آج بھی سپرا اسکی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے
    میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

    شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے
    روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے

    اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
    الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جونہی مرا مکان گرا ، اَبر چَھٹ گئے

    دھرتی پہ اُگ رہی ہیں فلک بوس چمنیاں
    جن سے فضائیں عطر تھیں وہ پیڑ کٹ گئے

    سپرا پڑوس میں نئی تعمیر کیا ہوئی
    میرے بدن کے رابطے سورج سے کٹ گئے

  • یوم پیدائش، میگھنا گلزار

    یوم پیدائش، میگھنا گلزار

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔ میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔

  • LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 میں سر فہرست تین مسائل ہیں جس کا تعلق دنیا کی کل آبادی کے اندھا دھند پھیلاؤ سے ہے۔

    1- آبادی
    2-خوراک
    3-ماحولیات

    اب آبادی کے مزید پھیلاؤ کے لیے مختلف طریقے, نظام, تحاریک اور معاشرتی ڈھانچے تشکیل دیئے گئے, تشکسل دیئے جارہے ہیں اور مزید تشکیل دیئے جائیں گے جس سے بغیر کسی زیادہ خون خرابے کے قدرتی طور پر نسل انسانی کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔

    بحث اور تفصیل کافی طویل ہے, مختصراً یہ کہ LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے اور پہلے سے بڑھی ہوئی آبادی میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور جب آبادی کم ہوگی اور مزید نہیں پھیلے گی تو فی کس خوراک کا تخمینہ گھٹے گا اور ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوسکے گی کہ کم آبادی میں انڈسٹریل کمپلیکسز کی پروڈکشن کا پیک لیول کم ہوگا۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ اول غیر فطری جنسی رشتوں سے عمل تولید کا قدرتی سائیکل ٹوٹ جائے گا جس سے ایک تو نئی پیدائش رک جائے گی اور دوم غیر فطری جنسی رشتوں سے جان لیوا وائرسز اور بیکٹریا کی منتقلی کی بدولت لاعلاج بیماریاں عام ہوجائیں گی جس سے پہلے سے موجود آبادی کا خطیر حصہ قبروں کی جانب رواں دواں ہوگا۔

    جب ایسا ہوگا تو یقینا بڑھی ہوئی یا بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے جو خوراک اور ماحولیات متاثر تھے یا ہورہے تھے وہ مزید متاثر ہونے سے بچ جائیں گے۔

    مزید یہ کہ جن معاشروں میں خاندان نامی انسٹیٹیوٹ کا وجود عنقا ہورہا ہے یا ہوچکا ہے وہاں تو خاموش تباہی کی شروعات ہوچکی لیکن اب نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 کے کرتا دھرتاؤں کا بنیادی ہدف تیسری دنیا ہے جہاں پوری دنیا کی آبادی کا 60 سے 70 فیصد آباد ہے اور جو دنیا کی خوراک اور ماحول پر زیادہ اثر انداز ہورہے ہیں۔

    اور ہاں عورت کی آزادی بھی اس ایجنڈے کا ایک بنیادی جزو ہے کہ جب ” عورت میرا جسم میری مرضی ” کا نعرہ بلند کرکے مرد کو ٹھینگا دکھا کر راستہ ناپے گی تو پھر بھی بچی کچھی صورتحال جس میں پیدائش کا امکان رہتا ہے وہ بھی ختم یا کم ہوجائے گی۔

    لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین آپ کو یہ باتیں کرنے پر جہالت, قدامت پسند اور سازشی تھیوریز کے پروردہ کہہ کر اپنا رانجھا راضی کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یاد رکھنا ہم جوابدہ اللہ کو ہیں تھڑے باز تھرڈ کلاس لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین مخلوق کو نہیں اور یہ سب بتانا اور آگاہ کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں آتا ہے لہذا اس فتنہ عظیم سے بچیں۔

  • چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    وہ لمحہ جب سب سے چھوٹا خلیہ سب سے بڑے خلئے سے جا ملتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ حیران کن لمحہ ہوتا ہے. ان دو خلئیوں کا امتزاج اتنا حسین ہوتا ہے کہ وہ آپ جیسی ایک خوبرو شخصیت کو وجود دیتا ہے۔ (جی آپ خوبرو ہیں) اربوں سپرمز میں سے ایک ایسا چیمپئن سپرم ہوتا ہے جو اس دوڑ میں جیتنے کا چانس رکھتا ہے۔ اسی طرح ملینز آو پوٹینشل ایگ سیل میں سے صرف ایک ایگ سیل ہی آپ کو وجود دے پاتا ہے۔

    سپرم کا سائز اتنا کم کیوں ہوتا ہے؟

    چونکہ سپرم نے صرف جینیٹک میٹیرل ایگ سیل تک لیجانا ہوتا ہے اس لئے ایک سپرم سیل میں اتنی زیادہ ایڈاپٹیشن آ چکی ہیں کہ اس کا سائز کم سے کم ہو گیا ہے۔ یوں سمجھ لیں جیسے ایک لمبے سفر کے لئے آپ صرف ضرورت کی اشیا ساتھ لیکر نکلتے ہیں بالکل ایسے ہی ایک سپرم بھی اپنے پاس سفر کا ضروری سامان رکھتا ہے ۔ یہ سامان درج ذیل ہے.

    ڈی این اے
    فیول
    70-100 مائٹوکانڈریا

    بس ان چند چیزوں کیساتھ یہ سب سے ننھا سیل سب سے بڑے سیل سے ملنے نکل جاتا ہے۔ اس دوران کامیاب مسافر سپرم وہی ہے جو سب سے زیادہ تیز اور انرجی رکھتا ہے۔ یہ انرجی انہیں تیرنے میں مدد دیتی ہے اور یوں یہ ایک ایگ سیل تک پہنچ جاتے ہیں۔

    یہاں اس کا سامنا خود اسے 174000 گنا وزنی سیل سے ہوتا ہے۔

    ایگ سیل اتنا بڑا کیوں ہوتا ہے؟

    ایک نارمل ایگ سیل کو ہم عام آنکھ سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایگ اپنے اندر خوراک کا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ تمام طرح کی تقسیم یہی ہونی ہے تو یہ سیل اپنے پاس خوراک کا ہر ممکن ذخیرہ رکھتا ہے۔ یہ تمام ذخیرہ سیل کی تقسیم کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے اسی لئے اس کا سائز اتنا بڑا ہے۔

    وہ مسافر سپرم جو کہ سفر کا ضروری سامان لیکر نکلا تھا یہاں آکر خوب خاطر مدارت کرواتا ہے۔ یہاں یہ سپرم اپنی امانت (ڈی این اے) ایگ کو سونپتا ہے. یوں سیل کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

    سب سے پہلے یہ خلئیہ ایک سے دو میں تقسیم ہوتا ہے۔ یہ دو پھر چار میں اور یونہی سلسلہ چلتے چلتے اربوں تک پہنچ جاتا ہے اور موت تک چلتا رہتا ہے۔

    ایک نارمل مرد اپنی صحتمند زندگی میں اربوں سپرم سیل پیدا کرتا ہے۔جبکہ اسی طرح ایک مادہ دس لاکھ تک potential ایگ سیل رکھتی ہے۔ بعد میں جوانی تک پہنچتے پہنچتے انکی تعداد دو سے تین لاکھ رہ جاتی ہے اور پھر ان سے محض 300 تک ایگ سیل اوویولیٹ ہو پاتے ہیں۔ یہ تعداد عمر کیساتھ ساتھ کم ہوتی ہے اور عموما چالیس سال بعد ان کا ریلیز ہونا ختم ہوجاتا ہے۔

    ان اربوں سپرم سیلز میں سے صرف ایک سیل ان ملینز میں سے ایک ایگ سیل سے جا ملتا ہے اور آپ کو وجود دیتا ہے۔ تو کیا آپ ان سیلز کو چیمپئن سیلز نہیں کہیں گے؟

    قدرت کا یہ نظام ایک حیرت کدے سے کم نہیں. سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے سیل کے حسین امتزاج کے نتیجے میں یہ سب وجود پاتا ہے اور فنا بھی ہوتا ہے اور یونہی حیات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ جو چیمپئن ہوتے ہیں وہ نیا وجود بنا لیتے ہیں باقی کے فنا ہوجاتے ہیں۔

  • نسلِ آدم کی خوب تراش خراش — ہمایوں تارڑ

    نسلِ آدم کی خوب تراش خراش — ہمایوں تارڑ

    صاف لگتا ہے ۔۔۔ نسلِ آدم کی خوب تراش خراش ہوتی رہی ہے۔

    ناٹے قد بت کے انسان، لمبے اور زور آور انسان ۔۔۔ اور پھر رنگا رنگ مزاج کے انسان: جنگجو، فتنہ جُو، صلح جُو، نرم خُو انسان. دانائی سے لبا لب بھرے ہوئے سمجھدار انسان، تخلیق کار انسان ۔۔۔

    شقاوتِ قلب والے بےلچک انسان ـــــ جن کے دل شیطانی قوت و طاقت کی مستقل آماجگاہ ہوتے ہیں۔ سورۃ الناس کی آخری آیت میں ‘مِن الجنۃِ وَالنّاس” کہہ کر ہمارے گردوپیش میں ایسے ہی افراد کی موجودگی کو highlight کیا گیا ہے۔ اِنہیں شیاطین کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ گویا خود اِن کو شیطان قرار دیا گیا ہے، اور اِن سے اللہ کی پناہ طلب کرنا سکھایا گیا ہے۔

    فطرت کا اپنا ایک بیوٹی پارلر ہے، ابتدا سے ہی سرگرمِ عمل ہے۔

    اللہ اس فطرت کا خالق ہے، اور تخلیق کار ہمیشہ نئے تجربے کرتا رہتا ہے۔اپنی تخلیق میں نئے نئے رنگ بھرتا رہتا ہے۔

    اللہ نے بھی بےشمار تجربے کیے ہیں۔ عقل کے سافٹ ویئر کو بھی لاکھوں رنگ رُوپ بخشے ہیں، یعنی ایک تو جبلّت ہے: بھوک، پیاس، جنسی لذّت، حسد، عزّت و جاہ کی طلب وغیرہ۔ ساتھ میں یہ تِھنکنگ مشین الگ سے وجود رکھتی ہے۔ یہ برین پاور ایک الگ فینامینن ہے۔ جیسے عقاب کی عقلمندی، بعض مچھلیوں کا عجیب و غریب ذہنی رویہ، بعض جانوروں میں حیرت انگیز دور اندیشی! اور پھر حضرتِ انسان کی عقلمندی اور اِس کے پینترے تو خیر اخیر شے ہے ۔۔۔

    اللہ کہتا ہے ‘تمہیں از سرِ نو بنا لینا، اٹھا کھڑا کرنا زیادہ مشکل کام ہے یا اِن ستاروں اور سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کے پیچیدہ نظام کو؟’

    یعنی ایک انسان کو حیاتِ نو بخشنا میرے لیے معمولی کام ہے!

    خیر، اب تو Terminator جیسی فلموں میں دکھائی جا رہی سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی بھی اشارے دے رہی ہے کہ کیسے چند کیمیکلز سے بنا انسان ازسرِ نو اُسی شکل و شباہت اور قد بُت میں متشکّل ہو کر جیتے جاگتے وجود کی صورت دوبارہ و سہہ بارہ سامنے آ سکتا ہے۔

    گویا انسان کے مقابلہ میں لاکھوں گنا بڑے، لاکھوں ٹن وزنی، پیچیدہ کیمیائی مرکٗبات اور اُن کے آپسی تعامل پر مبنی ایک ستارہ بنانا زیادہ مشکل ہے۔

    اس سے بھی زیادہ مشکل ایک سو ملّین ستاروں والی ایک چھوٹی کہکشاں ۔ پھر اس سے زیادہ مشکل کام ایک ٹرلین ستاروں والی بڑی کہکشاں۔ پھر اس سے بھی زیادہ مشکل کام ایسی لاکھوں، کروڑوں کہکشاؤں کو آپس میں مربوط کرنا، انہیں برقرار رکھنا۔ ردّی کی ٹوکریاں یعنی بلیک ہولز بنا کر رفتارِ سیارگان کو متاثر کرتے اضافی فلکی اجسام کو ٹھکانے لگا دینا ۔۔۔

    ایسا کیوں نہیں کہ اللہ نے اپنی اِن تخلیقات میں سےچند ایک کے نام بتا کر، خوب جتا کر، اس پیچیدہ و حسین انتظام کی تعریف و تحسین کا حکم دیا ہو ۔۔۔؟

    تھوڑا بہت ایسے کلمات مل جاتے ہیں جن میں اللہ کی کاریگری اور حسنِ انتظام کی تحسین کے اشارے موجود ہیں۔ تاہم، اللہ کی طرف سے موصول ہوئے خطوط / پیغامات میں تاکیدی زور کسی اور بات پر ہے۔

    اِس بات پر کہ تم سب کی نظریں میرے محمدؐ پر فوکس رہیں!

    اِس شخص کو کاپی کرو، اِس کی بات مانو، اِس کے باطنی اور ظاہری manners کو اپناؤ، اِس صاحبِ عزّت و تکریم کی کوئی ایک ادا، کوئی ایک انداز اپناؤ ۔۔۔ اپنے معاملات اِس کے کہے اور کیے کی روشنی میں درست کر لو۔ اِس کے حق میں ہر روز کئی مرتبہ سلیوٹ بجا لاؤ۔ اِس پر درود و سلام بھیجو۔

    مختصر وقفہِ حیات میں اِس محمّدی discipline code پر رہ کر وقت گذار جاؤ تو ایسی مہیب، حسین، پیچیدہ کہکشائیں، یہ خصوصی انتظام پھر تمہارا منتظر ہے۔ ذرا زیادہ اچھے بندے کے لیے جنت الفردوس والی بزنس اِیلیٹ کلاس میں luxury apartments تیارپڑے ہیں۔ کیا سے کیا سُوپر سونک برّاق اور اڑتے قالین بھی ۔۔۔۔ اُن کی تمنّا کرو، انہیں اچِیو کرنے کی سعی کرو ۔۔۔! جبکہ اِس دنیا میں جو کچھ ہاتھ لگے، اُسے دوسروں پر نثار کرتے چلو۔ امن و آشتی کا خیال رکھو۔ لالچ اور حسد سے پرہیز کرو۔ مادّیت پرستی کے خول میں جکڑے جانے سے بچو۔ معاف کر دو، انتقام نہ لو ۔۔۔ یہی میرے محمّدؐ کا طرزِ حیات تھا، یہی محمّدیؐ کوڈ آف ڈسپلن ہے۔

    اِس عارضی قیام گاہ میں خواہ تم ایک ریڑھی بان ہو، کوئی سرکاری ملازم، یا امیر کبیر تاجر پیشہ۔ یہاں جس حال میں بھی ہو، اپنے دائرہ کار میں میرے محمّد کے دئیے ہوئے ضابطہِ حیات کو تھامے رکھو:

    کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

    یومِ اقبالؒ پر لکھی ایک نامکمل تحریر جسے آج مکمل کر ڈالا ۔۔۔ جَسٹ سَم رینڈم تھاٹس۔

  • حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    ایک طویل عرصہ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر کے ایک تجربہ حاصل ہوا. جب سالانہ تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے تو کوئی ورکر ملازم اس شرح پر سوال نہیں کرتا جس شرح سے کمپنی تنخواہ میں اضافہ کر رہی ہوتی ہے. نہ کسی کو اس سال کمپنی کے نفع نقصان کو جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے. سارے اعتراض و خوشی ناراضگی اسی پر ہوتی ہے فلاں کا اضافہ مجھ سے زیادہ کیسے.؟ یا فلاں سے کم کیوں.؟

    ہمارا وہ کلچر ہے جہاں ہمیں ٹانگ کھینچنے کیلئے کسی پرائے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی. ہم خود ایک دوسرے کیلئے بہت ہیں. اس لئے ایک بڑی اکثریت دیہاڑی والی مزدور بن گئی ہے. صبح آو کام کرو شام کو جاتے تسلی لے لو آج کی دیہاڑی لگ گئی. بیماری اپنا گھر اور کل کے بڑھاپے میں جب دیہاڑی لگانا ممکن نہ ہوگا تب کیا ہو گا.؟ اس کیلئے جلد سے جلد بچے پیدا کرو ان کو بھی دیہاڑی پر لگاو تا کہ کل محفوظ ہو جائے.

    سوشل سیکورٹی پینشن کا حق کیا ہے.؟ کنزیومر رائٹس کیا ہیں.؟ ایک ٹرک ڈرائیور زندگی بھر سڑکوں پر رُلتا پھرتا ہے. اس کی زندگی رسہ ترپال کرتے یا پرانی گاڑی کے ٹائر بدلتے گزر جاتی ہے. تنخواہ اس کی چند ہزار ہوتی ہے. لیکن اس ذمہ داری کا صلہ اس کو کیا ملتا ہے؟ کیا ملک و قوم کل اس کی ذمہ داری اٹھائے گی.؟ کل سارے ٹرک والے ہڑتال کر دیں تو ملک و قوم کو پتہ چل جائے ان کمزور کندھوں پر کتنی ذمہ داری ہے.

    اشرافیہ نے طریقے سیکھ لئے ہیں. وہ زکوٰۃ صدقات تو شوق سے دیتے ہیں. لیکن مزدور کا حق دینا سب کو مشکل لگتا ہے. کل روز محشر ان کے سامنے اگر نیدر لینڈ ڈنمارک اسرائیل کی مثال رکھ دی گئی کہ بتاو ان کافروں نے بھلے صدقات و حیرات نہیں کی لیکن اپنے ہر حقدار کو اسکا پورا پورا حق دیا تب ان کو پتہ چلے گا نفس کی تسلی کے تماشے یہاں کر کے خود کو یہ تسلی دے سکتے ہیں لیکن یہ انصاف نہیں ہے.

    جب تک ہمیں اپنے حقوق کی سمجھ نہیں آئے گی ہم سب ایک دوسرے سے لڑیں گے. حقوق چھین لینے والے چین کی بانسری ہی بجائیں گے. ان سے تو کوئی سوال بھی نہیں کرتا کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے فرصت ہی نہیں.

  • عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

    انگلینڈ پڑھائی کے دوران دنیا بھر سے آئی لڑکیوں سے گھلنے ملنے (معروف معنوں میں ہی لیا جائے) کا اتفاق ہوا۔ ہاسٹل میں ساتھ رہتی تھیں۔ کچن میں چائے، کھانا بنانے، برتن دھونے کا کام اکٹھے کرتے کبھی احساس نہیں ہونے دیتیں تھیں کہ صنف نازک انداز دلربائی بھی جانتی ہے۔

    یونان سے آئی پینی میرے ہاسٹل کے ساتھ والے کمرے میں رہتی تھی۔ دن رات کا ساتھ تھا۔ بحثوں اور باتوں کے درمیان دوستی بھی ہو گئی۔ رات گئے تک پڑھائی کرتے جب ہم بور ہو۔جاتے تو کافی کے دو مگ بنا کر کچن ٹیبل پر بیٹھ جاتے اور دنیا جہان کے مسائل حل کرتے۔

    پینی کے ساتھ اس طرح رہتے میرے دل میں خیال پیدا ہو گیا کہ یورپی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنا آسان ہے۔ کوئی نخرہ نہیں، مردوں کی طرح گھر باہر کے کاموں میں ہاتھ ڈال دیتی ہیں۔ آپ سے بطور مرد کوئی فیور بھی نہیں مانگتیں۔ اپنے سارےکام خود کرتیں ہیں حتی کہ شاپنگ بھی جلدی نمٹا لیتی ہیں۔

    مگر یہ فسوں بس اس وقت تک قائم رہا جب تک پینی کو راج پسند نہیں آ گیا۔ راج ایک انڈین لڑکا تھا جو میتھ میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جینئس تو تھا ہی بلا کا وہمی اور پاکستانیوں سے الرجک بھی تھا۔

    درمیان کی تفصیل فضول ہے، مگر آپ۔میں سے جو دلچسپی رکھتے ہیں انکے لیے بتا رہا ہوں، کہ ایک پورا سیمیسٹر پینی راج کے لیے پسندیدگی کے جذبات رکھنے کے باوجود اسکی طرف سے پہل کرنے کا انتظار کرتی رہی۔ بالاخر راج نے پینی کو ڈیٹ پر جانے کے لیے پوچھ لیا۔

    اس روز پینی کی خوشی دیدنی تھی۔

    دونوں کا ریلیشن شپ شروع ہوا اور پینی ہر دوسرے روز راج کے ہاسٹل میں وقت گذارنے لگی اور راج کبھی کبھار پینی کے کمرے میں نظر آنے لگا۔

    میں نے حیرت سے نوٹ کیا کہ پینی راج کے ساتھ ٹیپیکل گرل فرینڈ بنی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ مارکسزم اور فیمنزم پر گھنٹوں بحث کرنے اور صبر سے دلائل کے علاوہ طعن و تشنیع سن کر کبھی کبھی مان کینے اور اکثر ڈٹ جانے والی پینی راج کے ساتھ دوسرے جملے پر ناراض ہو۔جاتی۔

    راج دیر سے کیوں آیا۔ راج نے ایسا کیوں کیا۔ راج نے ویسا کیوں کیا۔ بالاخر میں نے پینی کو ایک روز بازوؤں سے پکڑ کر سنجیدگی سے جھنجھوڑ ڈالا۔

    یہ سب کیا ہے؟، میں نے حیرت سے سوال کیا۔

    کیا سب؟، اس کی ذہین آنکھوں میں حیرت تھی۔

    یہ ۔ ۔ یہ راج کے ساتھ تمہاری شکایات، سلوک؟ کیوں کر رہی ہو ایسا؟ تم تو باقی لڑکیوں سے مختلف ہو ۔ ۔ ہو نا؟

    میری شکایات؟ وہ۔حیرت سے چلائی، تم نے اس الو کی حرکتیں دیکھی ہیں؟ ۔ ۔ ۔

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ؟؟ میں نے سوالیہ اسکو گھورا

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ہمممم ۔ ۔ ۔ مثلاً وہ اکثر میری بات توجہ سے نہیں سنتا ۔ ۔ ۔ لاپرواہ ہے، میری۔باتیں بھول۔جاتا ہے، ۔ ۔ ۔

    پینی! میں بھی اکثر تمہاری بات پر توجہ نہیں دیتا۔ لاپرواہ ہوں، اور تمہاری اکثر باتیں بھول۔جاتا ہوں۔

    تم۔ ۔ ۔ ؟؟ وہ حیرت سے چلائی ۔ ۔ ۔ تم میرے بوائے فرینڈ تو۔نہیں ہو۔نا ۔ ۔ ۔ اس نے قہقہہ لگایا۔

    مگر، ۔ ۔ میں کنفیوز ہو۔کر بولا، ۔ ۔ ۔ کیا بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ نہیں ہونا چاہیے؟

    ہونا چاہیے، مگر ۔ ۔ ۔ پینی ہنستے ہوئے یکدم رک کر سوچنے لگی ۔ ۔

    واقعی ۔ ۔ ۔میں تمہارے ساتھ زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ ہوں۔ ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ وہ الٹا مجھے سے سوال کرتے ہوئے معصومیت سے اپنی آنکھیں پٹپٹانے لگی۔

    اسکو بات سمجھتے دیکھ کر میں پرجوش ہوگیا، اپنی بات مزید سمجھانے لگا۔

    دیکھو! تمہارا ریلیشن شپ کمال کا ہو سکتا ہے اگر تم اسکے ساتھ ویسا سلوک رکھو جیسا مجھ سے رکھتی ہو۔ نخرے وخرے مت کرو۔ انسان سمجھو وغیرہ ۔ ۔ ۔ وہ اسکول گوئنگ بچی کی طرح سر ہلانے لگی ۔ ۔ ۔ تصور میں وہ خود کو راج کے ساتھ ‘دوستی’ کرتے دیکھ رہی تھی۔

    یکایک وہ جھرجھری لے کر اپنے خیالات سے بیدار ہوئی، اور قہقہہ لگا کر کہنے لگی ۔ ۔ ۔ نہ نہ ۔ ۔ ۔ مجھے نہیں کرنا راج سے دوستی ووستی ۔ ۔ ۔ وہ میرا بوائے فرینڈ ہے، ۔ ۔ ۔ اور ایسے ہی ٹھیک ہے۔

    کیا؟ میں ہر۔بات کو۔منطق میں تولنے والی پینی کو گھور رہا تھا۔ ۔ ۔ ایسا کیوں؟

    نہ نہ ، اس خیال سے ہی عجیب کریپی فیلنگ آتی ہے، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا، ۔ ۔ اب تم میرے بوائے فرینڈ کیسے ہو سکتے ہو ۔ ۔ ۔ اس نے بات کو الٹا دیا۔ ۔ ۔ ایسے ہی میرا بوائے فرینڈ ۔ ۔ تم۔کیسے ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے رات تین بجے میں کافی بنانے اٹھ سکتی ہوں، ۔ ۔ ۔ مگر وہ میرا بوائے فرینڈ ہے۔ ۔ اسکو رات دو بجے میرے لیے برگر لانے جانا ہی پڑیگا۔ ۔ ۔

    مجھے تب ہی سمجھ آ گئی،

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔