Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلی کے گلے میں گھنٹی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بلی کے گلے میں گھنٹی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان جیسے زرعی ملک میں کسان ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں ہیں جنکے بل پر پوری معیشت کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ مگر اعداد و شمار دیکھیں تو یوں لگتا ہے یہ ملک چلا کسان رہے ہیں مگر اُنکا ہے نہیں۔

    2010 کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق زراعت کے شعبے سے وابستہ 80 فیصد لوگ قابلِ کاشت زمینوں کے محض 28 فیصد کی ملکیت رکھتے ہیں۔ جبکہ کروڑوں کی آبادی کے اس ملک میں تقریباً 1 لاکھ لوگ 50 ایکڑ یا اس سے زائد زرعی زمین کے مالک ہیں۔ جو کل زرعی زمین کے مالکان کی تعداد کا 1.44 فیصد بنتا ہے مگر یہ لوگ قابلِ کاشت رقبے کے 29 فیصد کے مالک ہیں۔ اسی اعداد و شمار کے مطابق ںڑے زمینداروں کی تعداد تقریباً 19 ہزار ہے جن میں سے ہر ایک 150 ایکڑ یا اس سے زائد کا مالک ہے۔ یہ تقریبآ 9 کروڑ ایکڑ زمین بنتی ہے جو صرف 0.3 فیصد زمینداروں کے پاس ہے۔مگر یہ زمینی رقبہ67 فیصد غریب کسانوں کی کل ملا کر زمین سے بھی زیادہ ہے۔

    یہ اعداد و شمار ہوشربا اور نیندیں اُڑا دینے والے ہیں۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مملکتِ خداد دراصل وڈیروں اور جاگیرداروں کا ملک ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد لوگوں وگوں کا روزگار زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے اور معیشت کا 23 فیصد سے زائد اسی شعبے سے منسلک ہے جس میں 60 فیصد سے زیادہ برآمدات کا حصہ بھی شامل ہیں۔

    ورلڈ بینک کے 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا زیرِ کاشت رقبہ ملک کے کل رقبے کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ اس میں وہ تمام زمین شامل ہے جو کاشت کے قابل ہے چایے عارضی طور پر یا مستقل طور پر۔ ان اعداد و شمار سے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ زمینوں اور وسائل کی تقسیم میں غریب کسان ہمیشہ مارا جاتا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پوری دنیا اس وقت خوارک کی قلت کے خطرے سے دوچار ہے جسکے لیے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کئی اہم پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں جنکا مرکز کسانوں کو زرعی ضروریات کے حوالے سے سہولیات مہیا کرنا اور اُنہیں جدید زرعی طریقوں کی تربیت دے کر پیداوار کو بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    اسکے علاوہ اربن فارمنگ کی طرف بھی شہرہوں کی توجہ دلائی جا رہی ہے جس میں وہ اپنے گھروں میں اور مصنوعی فارمز میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک پیدا کر سکیں۔

    پاکستان میں دن بدن زرعی زمین ماحولیاتی تبدیلیوں اور زراعت میں غیر موثر اور پرانے طریقوں سے کاشت کے باعث کم ہو رہی ہے۔ اسکے علاوہ گندم اور دیگر اجناس کی سٹوریج ، منڈیوں تک بہتر رسائی نہ ہونے اور کسانوں کے استحصال کے باعث خوراک مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہو وہاں گندم، چاول اور دیگر اجناس کا غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔

    ان سب میں بنیادی وجہ کسان دوست پالیسیوں کا فقدان ہے ۔ ملک کی آبادی بڑھنے، شہری آبادیوں میں اضافے کے باعث غریب کسانوں کی زمینیں ختم ہو رہی ہیں۔ اسکے علاوہ وسائل کے بدترین ضیاع اور آبی وسائل کی دیکھ بھال میں مجرمانہ غفلت اس صورتحال کو مزید ابتر کر رہا ہے۔

    موجودہ معاشی اور معاشرتی سائنس یہ کہتی ہے کہ کسان دوست پالیسیاں اپنا کر نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کو اپنے حق میں کیا جا سکتا ہے بلکہ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ اسکے علاوہ سیلاب کے بعد کسانوں کے ساتھ مل کر اُنکے فہم و فراست جو صدیوں سے اُنہوں نے ان علاقوں میں رہ کر حاصل کیا، کی مدد سے آئندہ آنے والی آفتوں سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالے گا کون؟

  • خشک آلوؤں کا چورا (potato flakes) — ابن فاضل

    خشک آلوؤں کا چورا (potato flakes) — ابن فاضل

    پاکستان میں اوسطاً پچاس لاکھ ٹن آلو پیدا ہوتا ہے جبکہ ہمارا استعمال تیس لاکھ ٹن سالانہ کے قریب ہے. پچھلے سال ہم نے تقریباً چھ لاکھ ٹن آلو برآمد کیے. اس حساب سے اگلے سال کے بیج کو چھوڑ کر کوئی سات سے دس لاکھ ٹن آلو ہمارے پاس سالانہ وافر ہوتا ہے. جس کا بیشتر حصہ یقیناً ضائع ہوتا ہوگا. آلو کے موسم میں آلو کی اس بہتات کہ وجہ سے موسم میں اس کے منڈی میں نرخ دس روپے فی کلو تک چلے جاتے ہیں.

    دوسری طرف آپ جان کر حیران ہوں گے کہ سال دوہزار انیس میں دنیا بھر میں چھ ارب ڈالر کا آلوؤں کا چورا بکا. آلوؤں کا چورا یعنی (potato flakes ) ہر اس کام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس کیلئے تازہ آلوؤں کی پیسٹ استعمال ہوتی ہے. اس سے آلو کے کباب اور چپس تو بنائے ہی جاتے ہیں ساتھ ہی ہر قسم کے شوربہ کو گاڑھا کرنے کے لیے، دودھ اور مشروبات کو گاڑھا کرنے کے لیے، آئس کریم اور چاکلیٹ وغیرہ کی شکل اور ذائقہ بہتر کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.

    مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت میں سینکڑوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں سالانہ لاکھوں ٹن خشک آلوؤں کا چورا بنا کر دنیا بھر کے ممالک کو برآمد کررہی ہیں. ستم بالائے ستم یہ کہ بھارت سے درآمدات پر پابندی سے پہلے پاکستانی تاجران بھی سینکڑوں ٹن سالانہ خشک آلوؤں کا چورا سالانہ بھارت سے منگواتے رہے. ( دستاویزات تصاویر میں). جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کے ننانوے فیصد لوگ آلوؤں کی اس بیش قدر مصنوعہ کے نام سے بھی واقف نہیں. جبکہ لاکھوں ٹن آلو سالانہ ضائع ہورہے ہیں.

    آلو میں اوسطاً پچہتر فیصد نمی ہوتی ہے. یوں اگر آلوؤں کو خشک کیا جائے تو چار کلوگرام آلو سے ایک کلو آلو کے فلیکس بنائے جاسکتے ہیں. پچھلے سال سیزن میں انکی تھوک کی قیمت دس روپے کلو گرام تھی. اس سال اگر بیس بھی رہے تو گویا اسی روپے کے خام مال سے ایک کلو چورا تیار ہوجائے گا. اگر اتنا فی کلوگرام بنانے کا خرچ بھی آئے (جو کہ ہر صورت اس سے کم آئے گا). تو بھی قریب اسی فیصد منافع پر برآمد کیا جاسکتا ہے. کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت ایک اعشاریہ تین ڈالر سے ایک اعشاریہ پانچ ڈالر تک ہوتی ہے. گویا کم ازکم تین سو روپے فی کلوگرام.

    یوں تو اس کے درمیانے سائز کے پلانٹ پانچ سے آٹھ ٹن روزانہ استعداد کے ہوتے ہیں. جن کی لاگت دس کروڑ سے بیس کروڑ تک ہوتی ہے. اور اوسطاً پچیس فیصد ریٹ آو ریٹرن پر چلتے ہیں. مگر میرے خیال میں اسے بہت آرام سے گھریلو صنعت کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے.

    آلو سے چورا بنانا انتہائی آسان عمل ہے. انہیں چھیل کاٹ کر ابال لیں. اچھی طرح ابلے آلوؤں کو پیس کر پیسٹ بنالیں. اس پیسٹ کو فیکٹریوں میں تو سٹین لیس سٹیل کے گھومتے ہوئے رولز پر کہ جن کے اندر سے بھاپ گذاری جارہی ہوتی ہے، چپکا کر خشک کیا جاتا ہے. انہیں potato drum dryers کہتے ہیں. یہ چھوٹے پیمانے پر بھی بنائے جاسکتے ہیں. لیکن اس پیسٹ کو ڈی ہائیڈریٹر کی ٹرے پر باریک تہہ کی صورت میں لگا کر خشک کرنے سے بھی چورا حاصل کیا جاسکتا ہے. پہلے اس سے باریک پاپڑ نما چیز بنے گی جسے تھوڑا سا پیسنے پر چورا بن جائے گا. گھر میں خواتین فارغ وقت میں دس بیس کلو چورا روزانہ بنا سکتی ہیں. جس سے انکو ہزار سے دوہزار کی فالتو آمدنی ہونے کی توقع ہے.

    اسی طرح کچھ کسان مل کرکم سرمایہ سے چار پانچ سو کلو روزانہ کے یونٹ لگا سکتے ہیں. آلو برآمدگان خشک آلو کے چورے کے بھی آرڈر پکڑیں. اور ان چھوٹی فیکٹریوں سے معیاری مال لیکر باہر بھجوائیں. جو تاجران باہر سے منگوا کر پاکستانی ہوٹلوں اور فوڈ کمپنیوں کو سپلائی کررہے تھے وہ بھی مقامی لوگوں سے مال خریدیں. یقین کریں دو چار سال میں اربوں روپے کی نئی صنعت کھڑی ہوجائے گی جس سے ہزاروں لوگوں کو باعزت روزگار ملے گا.. انشاءاللہ.

  • مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال وزر کمانے کی توفیق جیسے سب کو برابر نہیں ملتی ایسے ہی مال خرچ کرنے کی توفیق بھی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ ہر کسی کو مال و زر کی محبت سے بچائے رکھے کیونکہ جو مال و زر کی محبت میں مبتلا ہو جائے اس کا دھیان ہر وقت مال کمانے میں لگا رہتا ہے اور مال خرچ کرتے ہوئے اسے موت پڑتی ہے۔

    آپ جو بھی کما رہے ہوں، اس کو ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم کریں، ایک حصہ آج کے لیے اور دوسرا حصہ کل کے لیے۔ جو حصہ آج کے لیے ہے اس کے مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اپنے اوپر خرچ کریں اور دوسرا حصہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں ۔ اسی طرح جو حصہ کل کے لیے ہے اس کے بھی مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اس دنیا میں اپنے کل کے لیے بچائیں اور دوسرا حصہ آخرت میں اپنے کل کے لیے غریبوں مسکینوں پر خرچ کریں۔

    اگر آپ کی آمدن کم ہے تو جو حصہ غریبوں مسکینوں پر خرچ کرنا ہے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں تو اس کے ثواب کے بھی مستحق ٹھہریں گے اور جو حصہ اس دنیا میں اپنے لیے بچا رہے وہ بھی اسی لیے ہے کہ جب ضرورت ہو اس میں سے خرچ کر لیاجائے۔

    اکثر لوگ ان میں سے کوئی نہ کوئی بے اعتدالیاں کرتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ سب کچھ ہی اپنے اہل و عیال پر خرچ کر دیتے ہیں لیکن خود پر کچھ خرچ نہیں کرتے۔ یہ درست رویہ نہیں ہے، جو کما رہے ہیں اس میں سے خود پر بھی خرچ کرنا سیکھیں۔ ایسے ہی کچھ لوگ کل کے لیے ہی بچا کر رکھنا چاہتے ہیں اور حد درجہ کنجوسی کرتے ہیں۔ ایک چوتھائی سے زیادہ اگر آپ بچا رہے ہیں تو کنجوسی کے زمرے میں ہی آئے گا کیونکہ آپ کی آمدن کے لحاظ سے آپ کا آج بہتر ہونا ضروری ہے، پہلے آج ہے اور بعد میں کل۔

    ایسے ہی ضرورت کے تحت صدقہ والا حصہ بھی اہل و عیال پر خرچ کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ضرورت ہے یا فضول خرچی۔ ضرورت ہو تو یہ خرچ بھی باعث ثواب ہو گا اور فضول خرچی ہوئی تو وبال کا باعث۔

    صدقے والے حصہ میں یہ یاد رکھیں کہ سب سے زیادہ حق آپ کے غریب رشتہ داروں کا ہے، اس کے بعد محلے والوں کا اور اس کے بعد کسی اور کا۔

    اللہ ہمیں اپنے دیے ہوئے مال میں سے صحیح طریقے سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا. یہ اربوں کھربوں پتی دنیا کے دولت مند ترین انسان کسی ایسے غریب کو مکمل نظر آتے ہوں گے جو ان جیسا بننے کے خواب دیکھ رہا ہو لیکن وہ دولت مند ہندسوں کے ایک ایسے جال میں ہوتا ہے جو ایک کہ بعد ایک کروڑ ارب سے اپنی تکمیل چاہتا ہے. نہ کوئی مشہور شہرت یافتہ اداکار کھلاڑی اپنی شہرت کو مکمل سمجھتا ہے. وہ بھی اور مشہور ہونا چاہتا ہے.

    انسان فطری طور پر ریس پسند کرتا ہے. اس لئے آپ دیکھیں تو کونسی دوڑ نہیں جو انسان کھیلتے ہیں؟ . خود بھی ریس لگاتے ہیں اور کار، موٹر-سائیکل، گھوڑے کتے جو چیز ان کو دوڑ کے قابل لگتی ہے اسے بھی دوڑا دیتے ہیں. جیتنے کی جبلت ہماری فطرت کا حصہ ہے. یہی جبلت ہماری بے چینی محرومی حسد بغض ناکامی مایوسی جیسے ان گنت جذبات کی بنیاد بنتی ہے.

    لیکن اسی جبلت میں سکون کا ایک راز بھی چھپا ہے. مثال کے طور پر آپ ریس میں کھڑے ہیں. لیکن آپ آس پاس دوسرے کھلاڑیوں سے ریس کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کریں کے میں نے صرف منزل ٹارگٹ تک پہنچنا ہے. مجھے کسی پوزیشن کی خواہش ہی نہیں تو آپ کا دماغ دوسروں کے ساتھ آگے پیچھے کا حساب چھوڑ کر منزل پر فوکس کر لے گا.

    زندگی چلنے اور چلتے جانے کا نام ہے. دوڑ پھر بھی آپ رہے ہوں گے لیکن آس پاس کون آگے کون پیچھے کا حساب نہیں رہے گا. آپ پھر منزل ہی نہیں اس سفر سے بھی لطف لیں گے. زندگی اس سفر کا نام ہے موت جس کی منزل ہے. اس دنیا کی منزلیں تو اس سفر میں پھیلے بہت سے چیک پوائنٹس ہیں جن سے ہو کر آپ نے گزرنا ہے.

    اصل جیت وہی ہوتی ہے جو ہم خود سے جیت جائیں.

  • اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    یہ تقریباً سولہ سال پہلے کا واقعہ ہے جب زرعی یونیورسٹی میں بی ایس سی میں پڑھتا تھا۔ مہینے میں ایک بار فیصل آباد سےاپنے گاؤں فتح پور لیہ جانا ہوتا تھا۔فیصل آباد سے فتح پور تب ایک ہی اے سی ٹائم جاتا تھا خواجہ ٹریولز سے ڈیڑھ بجے۔ اگر کبھی یہ مس ہو جاتا تھا تو بہت خوار ہو کر جانا پڑتا تھا۔ تب عید کا یا محرم کا موقع تھا۔ ایسے مواقع پر ہوسٹلز بند ہو جاتے تھے اس لیے لازمی جانا ہوتا تھا سب کو۔

    میں نے فون پر ہی سیٹ بک کروا لی تھی۔ کلاس لے کر آیا تو جلدی جلدی کھانا کھایا اور بیگ اٹھا کر زیرو پوائنٹ تک پہنچتے پہنچتے ایک بج چکا تھا۔ عام طور پر زیرو پوائنٹ سے یا تو رکشہ مل جاتا تھا یا پھر موٹرسائیکل پر مین گیٹ یا جی پی گیٹ تک لفٹ مل جاتی تھی اور وہاں سے رکشہ لے لیتے تھے۔ لیکن اس دن نہ کوئی رکشہ خالی ملا نہ ہی کوئی لفٹ۔ سوا ایک ہوا تو اب مجھے پریشانی ہونے لگی۔ مزید ایک دو منٹ گزرے تو اب مجھے لگا کہ اگر فوراً سے رکشہ نہ ملا تو نہیں پہنچ پاؤں گا۔

    یہ گاڑی مس ہو جاتی تو پھر کوئی اور نان اے سی بھی نہیں ملنی تھی کیوں کہ سب فل ہو نی تھیں۔ اس لیے صدقِ دل سے دعا کی کہ یا اللہ کوئی سبب بنا دے اور مجھے گاڑی تک پہنچا دے۔ اس قدر خشوع وخضوع سے شاید ہی میں نے کبھی دعا کی ہو۔ ابھی دعا کی ہی تھی کہ ایک گاڑی آئی ، میں نے لفٹ مانگی۔ وہ رک گئی۔میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی میں دو لوگ سوار تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ مجھ سے انھوں نے کچھ نہیں پوچھا کہ کہاں تک جانا۔ میں نے یہی سوچا کہ اگر تو نڑوالا روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا، اگر کسی اور طرف مڑے تو اتر جاؤں گا۔ مین گیٹ سے وہ نڑوالا کی طرف ہی مڑ گئے۔ آگے میں نے یہی سوچا کہ کوتوالی روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا ورنہ کہوں گا کہ اتار دیں۔ وہ عید گاہ روڈ سے ہوتے ہوئے کوتوالی روڈ پر آئے۔ اب مجھے یہی تھا کہ چناب چوک کے پاس اتر جاؤں گا۔ چناب چوک سے پہلے ایک چھوٹا سا روڈ خواجہ ٹریولز کی طرف جاتا ہے وہاں سے تو مڑے اور خواجہ ٹریولز کے سامنے رکے۔

    میری گاڑی بس تیار کھڑی تھی۔ میں جلدی سے کار سے نکلا اور گاڑی کی طرف بھاگا۔ کنڈیکٹر مجھے دیکھتے ہی بولا کہ فلاں سیٹ آپ نے بک کروائی تھی، میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے مجھے گاڑی میں چڑھنے کو کہا اور میرے بس میں داخل ہوتے ہی ڈرائیور نے بس چلا دی۔

    تب مجھے خیال آیا کہ یار کاروالوں کا تو شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ میں نے باہر دیکھا مگر وہ کار جا چکی تھی۔ بڑا افسوس ہوا کہ شکریہ ادا نہیں کر سکا۔مجھے نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ اس ساتھ والے کو اڈے پر چھوڑنے آئے تھے یا پھر کسی کو لینے آئے تھے۔ نہ انھوں نے مجھ سے کوئی بات کی نہ میں نے ان کی باتوں میں کوئی مداخلت کی۔ بس اللہ نے میری دعا کے نتیجے میں ایسا سبب بنایا کہ مجھے پورے وقت پر اڈے پر پہنچا دیا۔

    کیا آپ کےساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ صدقِ دل سے کوئی دعا مانگی ہو اور وہ یوں پوری ہوئی ہو۔ اب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کیسے اس نے میری دعا قبول کی تھی۔

    اس وقت میری پریشانی وہی تھی، چھوٹی تھی یا بڑی مگر یوں اس کا سبب بنے گا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ یقیناً اللہ مسبب الاسباب ہے۔ اگر کوئی بھی پریشانی، دکھ ہے تو اللہ سے سچے دل سے مانگیں۔ وہ ایسے پوری کرے گا کہ جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا۔

  • رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    کوئی انسانی تعمیر پرفیکٹ نہیں ہوتی. خوابوں کا نیا گھر بھی جب آباد ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کچھ یہاں کچھ وہاں غلطی کمی بیشی رے گئی ہے. مکین بس عادی ہو جاتے ہیں. ہمارے ایک آفس میں ایک دروازہ کچھ نیچے تھا. اوپر بلڈنگ کا کراس بیم تھا. ہم آفس والے عادی تھے کہ یہاں سر جھکانا ہے. نئے آنے والے کو کوئی نہ کوئی آواز دے دیتا کہ سر بچا کر. پھر بھی کسی نہ کسی کا سر لگ ہی جاتا.

    مسئلہ یہ تھا کہ اس دروازے کیلئے اب ساری عمارت کا سٹرکچر بدلا نہیں جا سکتا تھا. آفس کا کام اچھا چل رہا تھا تو کسی نے اس انجینئرنگ کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی. لیکن کچھ لوگ کام چھوڑ کر مستری بن جاتے ہیں. ہمیں بھی کوئی نہ کوئی مشورہ دے رہا ہوتا جیسے کچھ بیم تراش لو یا فرش چند انچ نیچے کردو اور ہم سمجھاتے اس سے چھت کمزور ہوگی یا سٹرکچر وغیرہ.

    شادی کا رشتہ بھی انسانی تعمیر ہے. یہ نیا خاندان ایک نیا گھر اور بہت سے نئے رشتوں کی بنیاد ہوتا ہے. یہ تعمیر بھی کبھی پرفیکٹ نہیں ہوتی. ہر رشتے میں کچھ کمی بیشی ہوتی ہے. وقت کے ساتھ اس رشتے کی عادت ہو جاتی ہے اور گزارا چل رہا ہوتا ہے. لیکن اس رشتے میں کوئی ایک مستری بن جائے یا دوسروں کے مشوروں پر اپنے بسے بسائے گھر کا نقشہ اپنی خواہش و پسند پر کرنے لگے تو بنیادیں اور چھت ہلنا شروع ہو جاتی ہیں.

    رشتے عادت پر سمجھ آتے ہیں. اپنی یا دوسروں کی عادات پر ضرور کوشش کریں. عادت وقت کے ساتھ بنتی یا ختم ہوتی ہیں. البتہ اپنے رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں، چاہے وہ آپ کے نفس کا مستری ہو یا رشتہ دار دوست مہمان مستری ہوں. گھر آباد رہے گا.

  • پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    کیا آپ نے کبھی ایسے جانور دیکھے جنکی ٹانگوں کی بجائے پہیے لگے ہوں؟ غالباً نہیں اور شاید دیکھ بھی نہ پائیں کیونکہ ایسے جانور فطرت میں نہیں پائے جاتے۔ اسکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ سوچیں
    خیر!!

    لاکھوں برس سے زمین پر موجود انسان فطرت میں پہیہ نہ دیکھ کر اسے ایجاد نہ کر سکا۔ آج ہم جو کہتے کہ پیہہ انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے تو یہ اس لئے کہ انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول میں پیہہ نہ دیکھ کر اپنی تخیلاتی صلاحیتوں سے ایک مصنوعی شے بنائی جس نے انسانوں کی زندگی بدل دی۔

    پہیہ آج سے تقریبا 4 سے 5 ہزار سال پہلے ایجاد ہوا۔جس سے آمد و رفت میں بہتری آئی۔ تہذیبوں میں روابط بڑھے۔ فاصلے کم ہوئے۔ خیالات کا تبادلہ بہتر ہوا اور اس تبادلے سے علم بڑھا۔ انسان نے ترقی کی۔

    آج ہم اکسیویں صدی میں موجود ہیں۔ پیہے
    سے ہم نے زمین پر فاصلے کم کیے اور اب راکٹ سے خلاؤں میں فاصلے کم کر رہے ہیں۔خلاؤں میں جدید دوربینوں کے ذریعے تسخیر کائنات میں مصروف ہیں۔اسی تسسل میں پچھلے سال تاریخ ِ انساں کی جدید ترین ٹیلسکوپ جیمز ویب بھیجی گئی۔اور آج یہ ہمیں کائنات کے ایسے ایسے کونے دکھا رہی ہے جو پہلے ہم کبھی نہ دیکھ پائے۔

    اسی ماہ کے اوائل میں جیمز ویب نے ہمیں ایک تصویر بھیجی۔پہیہ نما کہکشاں کی۔ جسے کارٹ ویل گیلکسی کا نام دیا جاتا ہے۔اب ایسا نہیں کہ ہمیں اس کہکشاں کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا۔
    یہ کام جیمز ویب کی سوکن ہبل پہلے کر چکی تھی اور اس سے پہلے ماہرین فلکیات کے ہر دل عزیز جناب Fritz Zwicky اسے 1941 میں دریافت کر چکے تھے ۔ مگر اس تفصیل اور صفائی سے ہم نے اس کہکشاں کو پہلی بار جیمز ویب دوربین سے ہی دیکھا۔

    کہکشاں کیا تھی؟
    کائنات کے کھیل کا ایک مظہر۔۔
    غالب کا ایک شعر تھا:
    بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا یے شب و روز تماشہ میرے آگے

    تو یہ کہکشاں بھی ہزار ہا سالوں سے کائنات میں میلہ لگائے بیٹھی تھی۔
    دراصل یہ پہیے کی شکل کی کہکشاں ہم سے 50 لاکھ نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
    اسکی شکل ایسی کیوں یے؟ اس بارے میں مانا جاتا ہے کہ ماضی میں دراصل ایک سپائرل کہکشاں جیسے کہ ہماری ملکی وے جیسی تھی مگر پھر اس سے ایک چھوٹی کہکشاں ٹکرائی اور یوں کائنات کے اس کونے میں پیہہ نما کہشاں تشکیل پائی۔

    اس کہکشاں کا ایک روشن مرکزہ ہےاور اسکے گرد دو ہالے ہیں۔ کہکشاں کے روشن مرکزے میں بہت بڑا بلیک ہول ہے جسکے گِرد گرم خلائی گرد ہے۔

    مرکزی روشن ہالے میں پرانےاور نئے ستارے موجود ہیں جبکہ باہر کا رنگین ہالہ جو لاکھوں نوری سالوں پر محیط ہے، میں کئی ستارے ختم ہو کر سپرنووا بن رہے ہیں اور کئی نئے ستارے پرانے ستاروں کی گرد اور گیس سے پھر سے بن رہے ہیں۔

    دراصل جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ دو کہکشاؤں کا ٹکراؤ کے بعد کا منظر ہے جو ماضی میں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور اب ایک بنتی جا رہی ہیں۔

    بالکل ایسے ہی آج سے 4 ارب سال بعد ہماری ملکی وے اور ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومڈا بھی ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
    نئے ستارے، نئے سورج جنم لیں گے اور ممکن ہے ان نئے سورجوں کے گرد زمین جیسی دنیائیں بنیں جن پر ہم جیسی کوئی مخلوق وجود میں آئے۔

    اور شاید وہ یہ کبھی نہ جان سکیں کہ ان سے پہلے بھی کوئی تھا جو پیہے کی ایجاد سے پیہہ نما کہکشاں کی حقیقت تک پہنچا۔

    کائنات میں ہماری حقیقت بس اتنی ہے!!

  • راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    استعفوں سے متعلق آئین ۔ قانون کے دائرے میں رہ کر جو گفتگو آج راجہ پرویزاشرف اسپیکر قومی اسمبلی نے کی وہ ثابت کرتی ہے کہ استعفوں کو لے کر وہ کوئی غیر آئینی غیر قانونی اقدام کرنے کو ہرگز تیار نہیں آئین اور قانون میں جو لکھا ہے اُس پر من وعن عمل ہو گا۔ آئین اور ضابطوں کے حوالے سے جمہوریت کے پاسبان کے طور پر راجہ پرویز اشرف کا موقف ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔

    آئین اور قانون کی بات کرکے انہوں نے جعل سازی اور دوغلے پن کوجہاں بے نقاب کیا ہے وہاں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پی ڈیم ایم کے سپیکر نہیں وہ پارلیمنٹ ہائوس کے اسپیکر ہیں یا وہ جیالے نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپنے آپ کو آئین کے تابع رکھ کر جو گفتگو کی کاش سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی آئین کے مطابق گفتگو کرتے ۔ یوں تو پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر گئے لیکن بہت عرصے بعد وطن عزیز میں اور سیاسی گلیاروں میں آئین ۔ قانون ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے والے راجہ پرویز اشرف کی ایک عمدہ سیاسی گفتگو جو آئین اور ضابطوں کے حوالے سے انہوں نے کی لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    راجہ پرویز اشرف کی سیاسی تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کی ثابت ہوا انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کا ثبوت انہوں نے استعفوں سے متعلق گفتگوکرکے دیا ۔ ان کا یہ طرزعمل جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے آئین اور ضابطوں کی بات کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے تربیت یافتہ کارکن اوراپنے قائدین کے فلسفے کو جلا بخشی۔بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی قوم کو اُمید دلائی کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے اورجمہوریت سے ہی ملک کا وقارجمہوری دنیا میں ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں چند نام نہاد راہنمائوں کو اپنی اپنی سیاسی تربیت اور جمہوری روایات سے آشنائی اور آگاہی حاصل پر توجہ دینی چاہیئے اور جمہوری رویوں اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہیئے ۔ میرا استعفی ۔ میرے بندوں کا استعفیٰ،میں نہ مانوں ۔ میں نہیں تو کون والے رویے اور دھمکیاں کسی بھی سیاسی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں ۔ اس سے جمہوریت اور ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔

  •  ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

     ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں
    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں. ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے.

    یہ سب جانتے ہوئے بھی ہر دوسرا بندہ تمباکو کا استعمال کر رہا ہے ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے حتیٰ کہ اشیائے ضروریہ پر ٹیکسزمیں اضافہ جبکہ تمباکو نوشی پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے
    پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ تمباکو پر ٹیکس میں کم از کم 30 فیصد تک اضافہ کرے، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کیلئے آسان ہدف ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سالانہ تقریبا 166،000 افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جو روزانہ چار سو اسی افراد بنتے ہیں جن کو پورا کرنے کیلئے تمباکو انڈسٹری نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتے ہے۔ پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ آئندہ مالی سال میں تمباکو پر ٹیکس کم از کم 30 فیصد اضافہ کرے۔ ٹیکسز میں اضافے سے حکومت کو اضافی ریونیو حاصل ہو گا جو صحت کے بجٹ کو بڑھانے کے کام آ سکتا ہے۔

    حکومت اشیائے ضروریہ پر ٹیکسز میں بے تحاشا اضافہ کرتی ہے تاہم تمباکو جیسی غیر ضروری چیزوں پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے، پاکستان میں سالانہ تین ارب روپے سگریٹ کے دھویں میں اڑا دیئے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کیلئے ٦٦۵ ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تاہم دیرپا فوائد کو حاصل کرنے لیے زائدہ متاثر گروپوں جیسا کہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد پر ٹیکسوں کے بڑھے ہوئے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو پاکستان کی 64٪ آبادی پر مشتمل ہے اور کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کے لئے آسان ہدف ہے۔

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

  • ہیلتھ لیوی، تحریر، ارم شہزادی

    "ہیلتھ لیوی”
    بچے ہمارا مستقبل ہوتے ہیں۔ سادہ دور میں بچوں کی تربیت والدین مل کر کیا کرتے تھے، ماں کی گود پہلی درسگاہ تھی،
    ماں کی زمہ داری اولاد کو اچھے برے کی تمیز سکھانا بینادی اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانا تھا، بیٹوں کو باپ مساجد میں لے جاتے پانچ وقت کا نمازی بناتے قران پاک کی تعلیم دیتے تھے، سیکھے علوم کو اپنی زندگی میں شامل کرتے اور زندگی اس کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے جس میں کافی حد تک کامیاب رہتے۔ پھر وقت بدلا ضروریات بدلیں اور اور باپ کو کمانے کے لیے شہر سے دوردرزا کما کر لانا پڑتا جسکی وجہ سے وہ اتنا وقت نہیں دے پاتا بچوں کو، اور یوں ساری زمہ داری ماں پر آگئی، گوکہ ماں نے بھرپور توجہ دی لیکن وہ باپ کی زمہ داری اس لحاظ سے پوری نا کرپائی کہ بچے گھر سے باہر کس طرح کی صحبت اختیار کرتے ہیں یا صحبت میں رہتے ہیں۔ یوں کچھ بچے تو احساس زمہ داری کے ساتھ رہے لیکن کچھ بچوں کے رویوں میں تبدیلی آئی اور وہ گھر کے ماحول کو گھٹن زدہ سمجھنے لگ گئے کچھ باغی ہوئے تو کچھ بری صحبت میں پڑ گئے پھر دنیوی تعلیم کی جدت نے بجائے انکے رویوں کو نرم کرنے کے بلکہ سخت کردیے

    آزادی ملی گھر سے باہر دور نکلنے کی اور "آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل” والی بات ہوگئی لیکن معاملات پھر بھی کسی حد تک قابو میں رہے، معاشرے کے بدلتی روایات اور تغیر نے انسانوں کو ایک مشین کی مانند بنا دیا، وہ انسان جو انسانیت کے جذبے سے بھرپور تھا اس میں تلخی مادیت اور دنیا پرستی آگئی، وقت کچھ اور بدلا تو باپ کے ساتھ ماں بھی گھر سے باہر کام کرنے لگی اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے پہلے عورت پر پابندیاں تھیں یا باہر نکلتی نہیں تھی بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ تعلیم کے نام پر فیشن کے نام پر آزادی کے نام پر سٹیٹس اپگریڈ رکھنے کے نام پر جب کمانے نکلی تو بچے اس دور میں نا ماں کی ترجیحات میں شامل رہے اور نا باپ کی ترجیحات میں۔ باپ پیسے کمانے کے چکر میں یوں پڑا کہ بھول ہی گیا بچے کو پیسے کے علاوہ توجہ محبت اور ساتھ چاہیئے وقت چاہیئے جبکہ ماں بھی کچھ ایسا ہی مصروف ہوئی اور بچے متاثر ہونے لگے۔ بچے ملازمین کے ہاتھوں پلنے لگے، جو اچھی بری باتوں کو والدین نے بتانا تھا وہ معاشرے سے پتہ لگنے لگیں، اور جب تربیت کی زمہ داری والدین چھوڑ دیں معاشرہ لے لے تو بچے ہر اس بری عادت میں بھی پڑنا شروع کردیتے ہیں جہاں والدین نہیں چاہتے ہرگز نہیں چاہتے۔ترقی کے نام پر جس طرح معاشرے میں نئی نئی دریافتوں نے در کھولے وہیں انسان زہنی طور پر پرسکون نا رہا اور اس سکون کو تلاش کرنے کے لیے وہ در، بدر پھرا اور کچھ ایسی عادات میں پڑ گیا جس سے حال اور مستقبل دونوں تباہ ہوئے، ایک وقت تھا جب زہنی سکون کے لیےلوگ نماز پڑھتے تھے اور اب ادویات کھاتے ہیں سگرہٹ پیتے ہیں نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جس سے صحت تباہ ہوتی ہے معاشرے میں ناانصافی پھیلتی ہیں ان اعادات کی وجہ سے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر جہاں لاکھوں خرچ ہوتے ہیں وہیں معاشرے میں عزت بھی جاتی رہتی ہے۔۔ ان اشیاء میں سگریٹ، پان، چرس، آئس، اور کچھ میٹھے مشروبات ہیں،ان چیزوں کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہے کہ یہ تیرہ چودہ سال کے بچوں کی بھی پہنچ میں ہیں یہ چیزیں سکول، کالجز میں عام مل رہی ہیں پھر فیشن کے نام پر لڑکے تو ایک طرف لڑکیاں بھی اس، میں عادی ہوگئیں، ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کیے جائیں گے تب تک نا صرف ان سے چھٹکارہ مشکل ہے بلکہ مستقبل میں یہ زیادہ گھمبیر صورتحال اختیار کرجائیں گے۔ان چیزوں مکمل طور پر اگر بین نہیں بھی کیا جاسکتا تو کم از، ان پر ٹیکس اتنا ضرور ہو کہ یہ بچوں کی پہنچ سے دور رہیں۔ اس ضمن میں 2021 مئی میں ایک سمری وزارت خزانہ کو بھیجی گئی جس میں سگریٹ، اور میٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نام سے ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی کیونکہ ہیلتھ لیوی سے دو فائدے ہونگے ایک تو یہ بچوں کی پہنچ سے دور ہونگے دوسرا یہ ریونیو اربوں میں دے سکتی ہے جو کہ یقیناً فائدہ مند ہوگا۔ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے کابینہ سے اور وزارت خزانہ نے اس پر اعتراض بھی نہیں کیا کسی قسم کا۔ لیکن نفاز تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ یہاں بھی ایک مافیا بیٹھا ہے جسے بچوں اور انکے مستقبل سے زیادہ اپنا پیسہ اور کاروبار سے مطلب ہے۔ ہیلتھ لیوی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے سالانہ تقریبا 38ارب کا نقصان ہورہا ہے۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود تقریباً دو سال سے تاخیر ہورہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سیگریٹ کی فروخت کا شئر 90فیصد ہے، جس کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کے لیے کابینہ سے بل منظور کروایا گیا لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ایف بی ار نے اربوں روپے کے اس ریونیو کے بارے میں کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد چونکہ صحت صوبائی معاملہ ہے اس لیے وفاقی کابینہ کا منظور شدہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ وزارت صحت یہ کہتی ہے کہ ہیلتھ لیوی ایک جنرل ٹیکس ہے اسکا صوبائی محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلے اسکا نام بھی کافی سخت یعنی "گناہ ٹیکس” تھا لیکن بعد میں بحث ومباحثہ کے بعد اسکا نام بدل کر ہیلتھ لیوی رکھ دیا۔ہیلتھ لیوی کے نفاز میں تمباکو، صنعت اور سیگریٹ تیار کرنیوالی کمپنیوں کی جانب سے دباؤ اور اثر رسوخ کی وجہ سے ہیلتھ لیوی بل پر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو رہی ہے اور وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے باوجود تاخیر کا شکار ہے۔ وزارت صحت کی تجویز کے مطابق ہیلتھ لیوی بل میں سیگریٹ کی 20سٹک کے حامل فی پیکٹ پر دس روپے اور میٹھے مشروبات کی 250ملی لیٹر بوتل پر ایک روپے ہیلتھ لیوی ہونا چاہیئے۔ اس سے سالانہ تقریباً 38ارب روپے سے زیادہ ریونیو حاصل ہوگاجسے دوسرے صحت کے معاملات پر خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ دوسال کے التواء سے تقریباً اربوں کا نقصان ہوچکا ہے۔ پاکستان میں صحت پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً 600ارب روپے سے زائد ہےہیلتھ لیوی کے نفاز سے صحت کے شعبے کو سہولیات فراہم کرن کتنا آسان ہوجائے گا۔صرف پاکستان میں یہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ کئی اور ممالک میں ہیلتھ لیوی کے طرز کے ٹیکسز عائد ہیں۔ جن ممالک میں ہیں یہ ٹیکس ان میں تھائی لینڈ، برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای، میکسیکو، فرانس، فلپائن شامل ہیں۔ ان ممالک میں ان ٹیکسز یا لیوی کے وجہ سیگریٹ نوشی میں کمی ہوئی ہے، ماہرین صحت اور عام عوام کا بھی یہی خیال ور مطالبہ ہے کہ اس تاخءر کا نوٹس لیا جائے اور اور نفاذ کی راہ ہموار کی جائے تاکہ یہ ناسور ہمارے بچوں سے دور رہے۔
    تحریر و تحقیق
    ارم شہزادی
    @irumrae

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے