Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    ڈاکٹرغلام علی_یاسر 13؍دسمبر 1976ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حبیب حیدر تھا۔ انہوں نے عمر کے ابتدائی سولہ سال گوجرانوالہ میں ہی گذارے اور وہ 1994ء میں اسلام آباد چلے گئے۔ علی یاسر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو ادب میں ایم فل اور پھر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    علی یاسر نے 1990ء میں شاعری کا آغاز کیا اور ابتدا میں اپنے دادا امیر علی ساتھی سے اصلاح لی۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی اردو کے حوالوں سے جاری رہیں اور یوں ان کا ادبی ذوق اور مہارت بڑھتی رہی۔ انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کیا۔ علی یاسر نے ادب کی سرپرستی کے لیے قائم حکومتی ادارے اکادمی ادبیات میں ملازمت اختیار کی اور یوں نہ صرف ملک بھر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گئے بلکہ شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا بھی اٹھایا۔

    وہ اکادمی ادبیات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور رہے۔شاعری میں اپنی پہچان رکھنے والے علی یاسر میڈیا سے بھی وابستہ رہے اور ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام میں شریک بھی ہوتے اور میزبانی بھی کرتے رہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور علامہ اقبال یونیورسٹی ایف ایم ریڈیو پر کئی پروگرامز کے میزبان رہے۔

    انہوں نے پی ٹی وی کے لیے بہت سی دستاویزی فلمیں، اسکرپٹس اور نغمے لکھے۔ بطور مترجم انہوں نے انگریزی اور پنجابی سے اردو میں تراجم کیے جن میں ”چین کی محبت کی نظمیں“ اور ”نوبل لیکچر“ وغیرہ شامل ہیں۔ علی یاسر علامہ اقبالؔ یونیورسٹی سے جُز وقتی استاد کے طور پر بھی وابستہ تھے۔

    علی یاسر تواتر سے مشاعروں میں شریک ہوتے تھے اور مشاعروں کی نظامت بھی کرتے تھے۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کے علاوہ دبئی، ابو ظہبی اور نئی دہلی میں مشاعروں میں بھی شریک ہو ئے۔ ”ارادہ“ کے نام سے علی یاسر کی غزلوں کا مجموعہ 2007ء میں منظر عام پر آیا جبکہ 2016ء میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ”غزل بتائے گی“ کے عنوان سے شائع ہوا۔

    علی یاسر نے 2008ء اور 2010ء میں اہلِ قلم ڈائری کو مرتب کیا۔ ”کلیاتِ منظور عارف“ اور ”اردو غزل میں تصورِ فنا و بقا“ کے عنوانات سے کتابیں زیرِ طبع ہیں۔ وہ اپنی نعتیں اور نیا مجموعہء غزل بھی مرتب کرنے میں منہمک تھے لیکن موت نے مہلت نہ دی۔

    ڈاکٹر علی یاسرؔ 17؍فروری 2020ء کو برین ہیمرج کے سبب اسلام آباد میں وفات پا گئے اور اپنے آبائی علاقے راہوالی ( گوجرانوالہ) میں مدفون ہوئے۔

    کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا
    مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا

    جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے
    جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا

    اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ
    غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا

    جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار
    یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا

    ہے زندگی بھی وہی جو ہو دوسروں کے لئے
    وہ محترم ہوا جو احترام کر کے گیا

    یہ سرزمیں ہے جلال و جمال و عظمت کی
    ہے خوش نصیب یہاں جو قیام کر کے گیا

    ہے کون شاعر خوش فکر کون ہے فن کار
    غزل بتائے گی اس میں نام کر کے گیا

    اثر ہوا نہ ہوا بزم پر علی یاسرؔ
    کلام کرنا تھا میں نے کلام کر کے گیا

    دور کرنے کو تری زلف کا خم اتریں گے
    آسمانوں کے ستارے کوئی دم اتریں گے

    حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست
    وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے

    ایک امید پہ تعمیر کیا ہے گھر کو
    اس کے آنگن میں کبھی تیرے قدم اتریں گے

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    اتنی آہیں نہ بھرو اشک نہ سارے بہہ جائیں
    طبع نازک پہ ابھی اور بھی غم اتریں گے

    جیسے ہم آنکھ ملا کر ترے دل میں آئے
    لوگ اس زینۂ دشوار سے کم اتریں گے

    شاد و شاداب اسی وقت رہوں گا یاسرؔ
    سر قرطاس جب اشعار کے یم اتریں گے

    ہے روشنی مرا عزم و یقیں چلا آیا
    ستارہ ہوں میں برائے زمیں چلا آیا

    میں سب سے قیمتی خلقت خدائے قدرت کی
    مرا جواز ہے یوں ہی نہیں چلا آیا

    ہے میری آہ مرے قہقہوں کی آہٹ میں
    عزائے زیست میں خندہ جبیں چلا آیا

    بساط دامن صد چاک تیری قسمت ہے
    ترے وصال کو ایسا نگیں چلا آیا

    عجب غضب ہے کہ دل ڈھونڈنے لگا خود کو
    ادھر جو آج وہی دل نشیں چلا آیا

    زمیں سے دادرسی کی امید ٹوٹ چکی
    سو نالہ جانب عرش بریں چلا آیا

    خیال تھا کہ مرے دوستوں کی محفل ہے
    سو دوستو یہ ہوا میں یہیں چلا آیا

    ہر ایک وقت ہے اس کا ہر ایک سر کومل
    غزل میں بن کے وہ اک بھیرویں چلا آیا

    یہ کہہ کے گور بھی مجھ پر کشادہ ہونے لگی
    خوش آمدید کہ میرا مکیں چلا آیا

    اب احتیاط سے مطلب نہیں علی یاسرؔ
    کہ سامنے وہ مرا نکتہ چیں چلا آیا

  • یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    پیدائش… 21 اگست 1919ء(امرتسر، ھندوستان)
    وفات….. 12دسمبر 1994ء(لاہور ،پاکستان)

    👈حالات زندگی

    ظہیر کاشمیری 21 اگست،1919ء کو امرتسر، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام پیرزادہ غلام دستگیر تھا۔ انہوں نے میٹرک ایم اے او ہائی اسکول امرتسر سے اور پھر ایم اے او کالج امرتسر سے بی اے کیا اور خالصہ کالج امرتسر میں ایم اے (انگریزی) میں داخلہ لیا مگر اسے مکمل نہ کر سکے۔

    👈صحافت

    ظہیر کاشمیری نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبہ سے کیا۔ رسالہ سویرا کے ایڈیٹر رہے۔ کالم نگار کی حیثیت سے روزنامہ احسان، نوائے وقت اور پکار میں کالم لکھتے رہے۔ بعد ازاں روزنامہ مساوات اور روزنامہ حالات سے بھی وابستہ رہے۔

    👈ترقی پسند تحریک سے وابستگی

    ظہیر کاشمیری زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔ ان کا شمار ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے آغاز ہی سے وابستہ ہو گئے اور اس تحریک کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنے ترقی پسندانہ خیالات میں اضافہ کرتے رہے۔ ظہیر کاشمیری مزدوروں کے عالمی حقوق کے لیے بہت سی ٹریڈ یونین تحریکوں سے بھی وابستہ رہے جس کے سبب قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

    👈فلمی دنیا سے وابستگی

    قیام پاکستان سے قبل ظہیر کاشمیری لاہور آ گئے اور فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ کہانیاں لکھیں اور کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔

    👈شاعری
    ظہیر نے انسانی آزادی اور عظمت کی جدوجہد کو تاریخی تسلسل میں دیکھا ہے۔ انسانی تاریخی کی ابتدا سے لے کر آج تک انسانی جدوجہد کے فکر و کلام کا خاص موضوع رہی ہے۔ عصری تغیرات اور تاریخی عمل سے نہ صرف یہ کہ ان کا فکر و فن ہمیشہ ہم آہنگ رہا ہے بلکہ انسانی عز و شرف کی ان عظیم تحریکات سے عملی سطح پر بھی وہ وابستہ رہے ہیں۔ ہم عصر تاریخ کا کوئی واقعہ یا آزادی یا انسانی حقوق کی خاطر کی جانے والی کوئی ایسی جہد و پیکار نہیں جس نے ان کے فکر و جذبہ کو تحریک نہ دی ہو اور جسے انہوں نے فن کے سانچے میں نہ ڈھالا ہو۔ ظہیر کاشمیری کا شمار اُردو کے ان چند قد آور شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اُردو شاعری خصوصاً غزل کو نیا رنگ دیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں آدمی نامہ، جہان آگہی، چراغ آخر شب اور حرف سپاس کے نام شامل ہیں۔

    👈تصانیف
    آدمی نامہ
    رقصِ جنوں
    اُوراقِ مصور
    جہانِ آگہی
    چراغ آخرِ شب
    حرفِ سپاس
    ادب کے مادی نظریے
    عظمت ِ آدم
    تغزل

    👈اعزازات

    ظہیر کاشمیری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

    👈وفات.

    ظہیر کاشمیری 12 دسمبر، 1994ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے.

    موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے
    فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے

    گل بوٹوں کے رنگ اور نقشے اب تو یوں ہی مٹ جائیں گے
    ہم کہ فروغ صبح چمن تھے پابند فتراک ہوئے

    مہر تغیر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا
    صدیوں کے افتادہ ذرے ہم دوش افلاک ہوئے

    دل کے غم نے درد جہاں سے مل کے بڑا بے چین کیا
    پہلے پلکیں پر نم تھیں اب عارض بھی نمناک ہوئے

    کتنے الھڑ سپنے تھے جو دور سحر میں ٹوٹ گئے
    کتنے ہنس مکھ چہرے فصل بہاراں میں غم ناک ہوئے

    برق زمانہ دور تھی لیکن مشعل خانہ دور نہ تھی
    ہم تو ظہیرؔ اپنے ہی گھر کی آگ میں جل کر خاک ہوئے

  • کیا خدا موجود نہیں؟ — ابو الوفا محمد حماد اثری

    کیا خدا موجود نہیں؟ — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خدا انسانوں پر ہونے والے ظلم کو کیوں نہیں روکتا، لہذا خدا موجود ہی نہیں۔ میں نہیں سمجھا کہ آخر اس شکوے کو نام کیا دیا جاوے۔

    یا تو مانو کہ وہ نہیں ہے، اگر نہیں ہے تو ظلم نا روکنے کا شکوہ کس سے کیا جا رہا ہے، اسی خداوند قدوس سے، جس کا وجود ہی نہیں۔ اور یا مانو کہ وہ ہے، مگر ظلم کو روکتا نہیں ہے، پھر تمہارا سوال بجا ہوجائے گا کہ کیوں نہیں روکتا۔ لیکن اس سوال سے پہلے کا سوال یہ ہوئے گا کہ آخر ظلم نام کس بلا کا ہے، جس کو خدا روکتا نہیں ہے۔

    آپ کہتے ہیں کسی جان کو بے وجہ قت۔ل کرنا تو ظلم ہے۔ ہم کہتے ہیں بجا فرمایا، مگر کس کے لئے؟ مٹی کی ایک سرحد نامی لکیر پاس کرنے پر دوسرے ملک کا سولجر اسے گولی سے بھون دیتا ہے تو ظالم کون ہوا؟ ایک ملک والے جانے والے کو شہی۔د اور دوسرے ملک والے مارنے والے کو غازی بنا دیتے ہیں، اب جس کو ظلم کہنے پر تم متفق ہی نہیں، اسے خدا کیوں روکے؟

    بالفرض انڈیا اگر پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور خدا ان کی بندوقوں میں کیڑے ڈال دیتا ہے، ان کے گھوڑے خراب کر دیتا ہے، اور تمہاری بندوقیں بمنزلہ ٹینک بنا دیتا ہے تو انڈیا والوں کے نزدیک تو خود خدا ظلم کی طرف کھڑا ہوگا اور تمہارے نزدیک وہ حق کے ساتھ کھڑا ہوگا، بعینہ یہی قصہ مخالف سمت میں ہوجاتا ہے، تمہاری بندوقوں میں کیڑے اور مخالفین کی بندوقوں میں گولے بھر دے تو پھر تم خدا کو کیا کہو گے؟ گویا جو چیز تمہارے ہاں ظلم ہے، تمہارے ہمسائے کے ہاں حق کی فتح ہے۔

    تم کہتے ہو کسی کے پیسے ہتھیا لینا ظلم ہے، لہذا خدا کو روکنا چاہئے، تو گویا خدا کو سود کے پیسوں کو آگ لگا دینی چاہئے، پھر تم سود پر لڑو گے کہ کون سے سود والے پیسوں کو آگ لگائے، غامدی صاحب کی تعریف سود کے مطابق یا روایتی مولوی کی تعریف کے مطابق؟

    ہمیں لگتا ہے کہ ٹیکس انسانیت پر ظلم ہے اور تم کہتے ہو کہ ملک کی معیشت چلانے کے لئے ٹیکس کا لینا فرض و واجب اور ٹیکس دینے والا تمہارا ہیرو ہے۔ اب بتاو وہ ٹیکس لینے والے کو روکے یا ٹیکس نا دینے والے کو روکے؟ کون سے والے ظلم کو روکے؟

    جانور کو ذبح کرنا ایک جیتی جان کو مار دینا ظلم ہے یا نہیں ہے؟
    انسانوں پر دواوں کے تجربات کرنا ظلم ہے یا نہیں ہے؟

    اللہ کی زمین ہر لکیریں کھینچ کر اسے اپنی ملکیت قرار دینا اور پھر اس پر اپنا حق یوں جتانا کہ وہاں قدم رکھ دینے والا غدار کہلایا جائے، جاسوس کہا جائے اور پھر اسے جان سے جانا پڑے ظلم ہے یا نہیں ہے؟

    سوال تو پھر سوال ہے، پیدا ہوگا تو جواب لے کر لوٹے گا کہ وہ کس ظلم کو روکے؟ کون سی چیز ہے جس کو ظلم کہنے پر تم انسانوں کا اتفاق ہوچکا ہے۔ اور اسے کس چیز کو روکنا ہوگا؟

    جان لو کہ پوری مخلوق اس کا کنبہ ہے، اور اس نے اپنی اس مخلوق کو بہ طور امتحان دنیا میں بھیجا ہے۔ اب یہاں جو جس پر ظلم کرتا ہے، خدا کی رضا سے نہیں کرتا، بلکہ اس کے روکنے کے باوجود کرتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ ہر ظلم کا بدلہ دیا جائے گا، کل اس کی عدالت میں کھلے گا کہ کیا چیز ظلم تھی اور کیا چیز جہ۔اد تھی، فساد کیا تھا مظلومیت کیا تھی، جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا۔ تب جب دلائل وافر ہوں گے تو ان تمام چیزوں کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ یہی اس کا اصول ہے اور یہی اس کے اصولوں کے قرین قیاس ہے۔

  • بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے ٹھہراؤ اور جمود کا فرق نہیں معلوم تھا, بہت طویل عرصہ لگا ان میں فرق کو سمجھتے سمجھتے لیکن اب جبکہ اس بابت جان چکا ہوں تو متنوع المزاجی اور غیر مستقل مزاجی کے فتوے پاتا ہوں لیکن میں ذاتی حیثیت میں خوش اور مطمئن ہوں کیونکہ جمود کا شکار رہ کر ایک لمبا عرصہ میں نے بیگاریں بھگتیں اور اپنا وقت اور قابلیت کھوٹی کی لیکن ٹس سے مس نہ ہوا کہ چلو خیر ہے لیکن وہ میری غلطی بلکہ فاش غلطی تھی اب میں جمود کو خیرباد کہہ چکا ہوں اور نت نئے تجربے کرتا رہتا ہوں کہ سیکھنے کو بھی ملے اور آدم شناشی کے فن میں طاق ہوسکوں۔

    لوگ آپ کو بیوقوف سمجھیں اور آپ کا استعمال کرنا چاہیں یہ قطعی انہونی اور بری بات نہیں لیکن آپ واقعی بیوقوف بن جائیں اور لوگوں سے اسی بیوقوفی میں استعمال ہوجائیں یہ ایک خطرناک بات ہے, بس اس بات کو اصول بنالیں کہ ” میں, مجھے اور میرا” کو آپ نے فوقیت دینی ہے ناکہ مدمقابل اس انسان نے جو آپ کی بیگار چاہتا ہے۔

    اپنی کور ویلیوز کو ڈی ویلیو مت کرنے دیں کسی کو, اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ منافع بخش بنائیں خواہ اس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے یا تعلق داؤ پر لگتا ہے تو لگنے دیں لیکن مفت میں کسی کو مشورہ بھی مت دیں کیونکہ جس چیز جس کام جس انسان کی قیمت طے نہ ہو, مفت میسر ہو اس کے ساتھ من و سلوی کے ساتھ بنی اسرائیل والا سلوک ہی ہوتا ہے لہذا کوئی بھی جذبہ خدمت اور عظمت رفتہ کا چورن منجن دیکر آپ کو کسی نئے نشے کا شکار کرنا چاہے تو آپ صاف صاف اپنا معاملہ اپنی قیمت منہ سے بتادیں کیونکہ "نشے سے انکار زندگی سے پیار” ایک اچھا اصول ہے۔

    75 سالوں سے پاکستان میں یہی چل رہا ہے, بہت سی خرابیاں اور برائیاں اب سوشل نارمز بن چکیں ہیں جس میں حق تلفی, خوشامد, منافقت اور مذہب, ریاست و سیاست کے نام پر بیگار لینا عام سی چیزیں ہیں۔

    دنیا کا تو پتہ نہیں لیکن پاکستان میں کاز بلڈرز کی بہتات ہوچکی ہے کیونکہ یہاں کسی بھی کاز کا نام استعمال کرنا اور راتوں رات پیسہ و شہرت بٹورنا نہایت آسان عمل ہے جبکہ جو کاز شروع ہوتا ہے بلخصوص جن کے لیے شروع ہوتا ہے ان کو اس کا رائی برابر بھی خالص فائدہ نہیں پہنچتا اور شومئی قسمت اس میں دائیں بائیں اور وسط کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں مطلب اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

    آپ بطور عوام ایک ٹول اور ایسٹ بن چکے ہیں, ایک بوفے سجا ہوا ہے آپ کا سر راہ, جس شاطر اور لالچی دماغ کو دور کی کچھ سوجھ جائے وہ ایک لش پش سا نام اور نعرہ لیکر آپ کے بیچ کودی مارتا ہے اور آپ کےسجے بوفے سے من پسند عوام کو اٹھا لیتا ہے, آپ آوے آوے اور جیوے جیوے کے نعرے بلند کرکے اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اسکی جڑیں پھیلاتے اور مضبوط کرتے ہیں اور جب وہ تناور ہوجاتا ہے تو سب سے پہلےآپ کو اپنے سائے اور پھل سے محروم کرتا ہے جبکہ جو بجز سرمایہ داری کرتے ہیں وہ اس کے سائے اور پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    خیر بات لمبی ہوگئی کہ جمود کا شکار مت ہوں, ٹھہراؤ اختیار کریں کہ ایک پل ٹھہرنا اور مشاہدہ کرنا اور سیکھنا غیر منافع بخش نہیں البتہ مستقل ایک کھونٹے سے بغیر کسی معاوضے کے بندھنا نرا دنیاوی و دینوی نقصان ہے۔

    اپنے وقت, ہنر, قابلیت اور معاشرتی شناخت کا معاوضہ طے کریں اور وصولیں پھر کسی کے لیے "خدمات” کا تعین کریں۔

  • ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی سے گریجویٹ کرنے کے بعدپوری ربع صدی آنی وسائل کے غیر ملکی اور ملکی مشاورتی اداروں میں کام کرتے گزری ہے۔ دنیا بھر میں مشاورتی اداروں ( سول انجنئیرنگ کنسلٹنٹس) کے بارے میں کافی باتیں مشہور ہیں تاہم ایک بات جس پر شروع دن سے دل کڑھتا تھا وہ ہے ”کاغذ “ کا بے دریغ استعمال۔

    مشاورتی اداروں کو اپنی رپورٹس اور ڈارئنگوں کی پرنٹنگ کے لئے بے انتہا کاغذ چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیزائن فائنل کرنے تک ایک ایک ڈیزائن شیٹ کم ازکم دس سے بارہ دفعہ مختلف انداز میں ڈار فٹ پرنٹ ہو کر چیک ہو چکی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ایک دفعہ کا پرنٹ کیا ہوا سینکڑوں ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹوں کا پوار سیٹ ڈیزائن کی ایک معمولی سی تبدیلی سے دوبارہ پرنٹ کرنا پڑتا ہے۔ کلائنٹ کے کمنٹس آجاتے ہیں، دوران تعمیر سائٹ کے مسائل آجاتے ہیں۔ الغرض ہر تبدیلی کا مطلب ہے نئی پرنٹنگ۔

    یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا اگر آپ کو کاغذ کے ایک صفحے کے پیچھے ہونے والی قدرتی تباہی کا اگر پتہ نہ ہوتا۔ کاغذ کا ایک رِم بنانے کے کئے پتہ نہیں کتنے درختوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور پھر درخت سے کاغذ بننے کے عمل میں بے انتہا پانی بھی پراسسنگ اور کولنگ میں ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود پیپر انڈسٹری تو عالمی معیار سے کم ازکم دس گنا زیادہ پانی ضائع کرتی ہے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پچھلی ربع صدی میں اکیلے میں نے جتنے کاغذ پرنٹنگ میں استعمال کردئے ہیں ، اس سے تو کئی جنگل اس دھرتی کے سینے سے کٹ گئے ہوں گے اور پانی کی کئی ندیاں بہہ گئی ہوں گی۔ اس عمل کی تباہی کو کچھ کم کرنے کے لئے ہم ہمیشہ ضائع شدہ پرنٹ والے کاغذ سنبھال کر رکھ لیتے اور رف / ڈرا فٹ پرنٹنگ ان کی دوسری صاف سائیڈ پر کر لیتے۔ اس طرح کم ازکم اس تباہی کا اثر آدھا تو کم ہو جاتا۔

    تاہم اب ایک کمپنی “ڈی پرنٹر “ میدان میں لائی ہے جو کہ عام استعمال ہونے والے لیزر پرنٹر کے اُلٹ کام کرتا ہے۔ اس کے اندر اگر آپ ایک پرنٹ شدہ صفحہ ڈالیں تو یہ اسے سلیٹ کی طرح صاف کرکے دوسری طرف نکال دیتا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ ایک صفحے کو آپ دس بار تک ڈی پرنٹ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی ماحول دوست ایجاد سمجھی جارہی ہے جو کہ اس سیارے سے درختوں کی کٹائی کا عمل سست کرنے، پانی کی بچت اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

  • کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟  — ابو بکر قدوسی

    کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟ — ابو بکر قدوسی

    یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوئی لوگوں کو کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت ہی نہیں دیا ، ایسا ہرگز نہیں ہے ۔

    اسلام نے بس اتنا کیا ہے کہ انتخاب حاکم کی حد تک مختلف آپشنز کو کھلا رکھا ، لیکن اس حاکم کو بھی طریق حکومت میں ہرگز مادر پدر آزاد نہیں چھوڑا ۔

    اور حاکم کا اگر عوامی انتخاب کیا جائے گا تو اس میں بھی لوگوں کو پابند کیا اور نظائر سے واضح کیا کہ معیار کیا ہونا چاہیے ۔

    اور کوئی حاکم انتخاب کے بغیر بھی سریر آرائے سلطنت ہو جاتا ہے تو اسے پابند رکھا کہ وہ ان امور کا خیال رکھے گا ۔یہی وجہ تھی کہ اموی اور عباسی دور حکومت میں ہرگز خلیفہ یا بادشاہ کی زبان سے نکلے الفاظ کو قانون نہیں سمجھا جاتا تھا جیسا کہ بعد میں عثمانی دور میں اور ہمارے ہاں برصغیر کی بادشاہت میں نظر آتا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ان ابتدائی ادوار میں خلیفہ کے کسی اقدام کو اگر کسی نے چیلنج کیا ، یا اس کے دربار میں روکا اور ٹوکا تو بنیاد قران و سنت کے احکام کو ہی بنایا ۔

    اسی طرح اگر جمہوریت میں حکمران کا انتخاب ہوتا ہے تو بھی عوام اور حکام اس انتخاب میں مکمل آزاد نہیں ہیں ۔ بطور مثال ایک ضابطہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک معزز بزرگ نے کسی علاقے کی امارت طلب کی تو آپ نے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ ہم طلب پر عہدے نہیں دیتے ۔۔۔۔یوں یہ اصول طے پا گیا کہ طلبگار کو عہدہ دینا خلاف ضابطہ ہے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ نظام امارت و حکومت کا مکمل طریقہ اسلام کے ہاں موجود ہے ۔

    اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا ۔

    اسلام نے جزیات تک پر بحث کی ہے اور یہ تک طے کر دیا ہے کہ حاکم کا لباس کیسا ہو گا ، اسے عوام کے سامنے کیسے جانا ہے ، ملکی خزانے کے ساتھ اس کا رشتہ کیا ہو گا ، اور اس کی ذمے داری کہاں سے کہاں تک ہو گی ، عوام کے حقوق اس پر کیا ہوں گے اور مملکت پر کیا ۔

  • لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہر 5 میں سے ایک فرد سماعت کے مسائل کا شکار ہے۔

    دنیا میں اس وقت 49 کروڑ سننے کے مسائل کا شکار ہیں۔ یہ تعداد 2050 تک 1.5 ارب ہونے کا خدشہ ہے۔

    یہ تعداد بڑھتی کیوں جا رہی ہے۔

    جب پھول کی ایک ننھی کلی چٹخ کھلتی ہے۔ یا کسی شاعر کی محبوبہ بغیر آواز پیدا کیے مسکراتی ہے تو 5 ڈیسی بل کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ کلی کا چٹخنا اور کسی لڑکی کی بغیر آواز کی مسکراہٹ بھی سنی ج سکتی ہے۔ یہ آواز دنیا میں 0.5 فیصد لوگ سن سکتے ہیں۔

    نارملی ہم 15 سے 20 ڈیسی بل کی ہلکی سے ہلکی آواز سن سکتے ہیں۔ ہماری نارمل گفتگو 50 سے 60 ڈیسی بل تک کی ہوتی ہے۔ 70 ڈیسی بل تک کی اونچی آواز سننا کان کے لیے محفوظ ہے۔ 70 ڈیسی بل کی آواز موبائل فون سے ہینڈز فری لگا کر 7 نمبر والیوم پر سنی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد موبائل وارننگ دیتا ہے کہ آگے جائیں گے تو آپکی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    90 ڈیسی بل پر آواز کے ساتھ تھرتھراہٹ شامل ہوجاتی ہے۔ 90 سے اوپر کی آواز جو فرد سن سکے اسے ڈیف کہتے ہیں۔ 100 ڈیسی بل کی آواز یعنی موبائل کا ہینڈز فری میں فل والیوم کرکے 30 منٹ تک سننے پر ہم اپنے کان کے اتنا نقصان پہنچا لیتے کہ جیسے آپکی ایک انگلی کا ایک پورا کاٹ دیا جائے۔

    راک سٹار میوزک میں آوازیں 120 ڈیسی بل تک جا رہی ہوتی ہیں۔ مگر اس آواز میں ساؤنڈ اور تھرتھراہٹ مکس ہوتی ہے۔ ووفر لگے ہوتے ہیں۔ ماہر ڈی جے آوازوں کی فریکوئنسی ہر لمحے بڑھا گھٹا رہا ہوتا ہے۔ کہ کان کا پردہ نہ پھٹ جائے۔ صرف 20 منٹ تک 120 ڈیسی بل کی آواز کان میں ڈالی جائے تو کان کا پردہ ہی نہیں دماغ کو آواز کے سگنل دینے والی نسیں بھی پھٹ جائیں۔

    اب ہو کیا رہا ہے؟ مساجد امام بارگاہوں کے اندر لگے ریگولر اسپیکرز اور دیگر مذہبی رسومات جیسے مجلس محفل جلسے میں یا شادی پر مہندی وغیرہ کی رسم پر ہم جو ساؤنڈ سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ آپکو پتا ہے اسکی فریکوئنسی کتنی ہوتی ہے؟ کم سے کم 100 ڈیسی بل سے اوپر جو آواز مسلسل ہمارے کان ڈیمج کر رہی ہوتی۔

    میں اس رمضان میں تراویح پڑھ رہا تھا۔ اسپیکر کی آواز 100 سے110 ڈیسی بل کی تھی۔ دوسری تروایح میں مجھے نماز توڑ کر سپیکر بند کرنا پڑا نہیں تو میرے کان کا پردہ پھٹ جاتا۔ لوگ اتنی اونچی آواز سے اوزار ہوتے ہیں مگر مذہبی آداب کی وجہ سے چپ بیٹھے رہتے۔ اور اوپر سے کئی مولوی صاحبان گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز کی فریکوئنسی کو مزید بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    میں نے اپنے امام صاحب کو گائیڈ کیا کہ آواز کم رکھیں کیوں سارے نمازیوں کو بہرہ کرنا ہے۔

    مسجدوں کی چھتوں پر لگے یونٹ بھی بہت خطرناک ہیں۔ انکی جگہ آواز کی تھرو کی رینج بڑھانے والے سپیکرز انسٹال کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ اسپیکروں کی فریکوئنسی 120 سے 140 تک ہوتی ہے۔ مسجد کے قریب گھروں میں لوگوں کی سماعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ابھی آپ میں سے کئی مجھ پر فتویٰ لگانے آجائیں گے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے۔ اذان اور قرآن روح کو سکون تب دے سکتے ہیں جب انکی آواز متوازن ہو اور 70 سے 80 ڈیسی بل تک ہی ہو۔

    محفل نعت، میلاد النبی کی محافل، مجالس عزا، جلسے، مہندی کے فنکشن میں خدارا اسپیکروں کی آواز کم رکھیں۔ ہینڈز فری کا والیوم کبھی بھی 7 سے اوپر نہ کریں۔ مساجد کی چھتوں پر لگے یونٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کریں۔ نماز اور جمعہ کی تقریر کے لیے مساجد میں استعمال ہونے والے ریگولر اسپیکرز کی آواز اگر کانوں کو سکون دینے کی بجائے بیزار کرتی ہے۔ تو قاری صاحب کو سمجھائیں کہ بلند آواز زیادہ اثر نہیں کرتی۔ اپنا مطالعہ وسیع کریں بات دلیل و منطق سے کریں دل بدل دے گی۔

    ہمارے کانوں کے ساتھ جو ظلم مذہبی اجتماعات میں ہوتا نجی محفلوں میں ہوتا۔
    مغرب میں یہ سب وہاں لوگوں کے ساتھ بار اور میوزیکل نائٹس میں ہوتا ہے۔

    وقتی تھرل Thrill کانوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ یہاں بھی وہاں بھی۔

    ہمیں مساجد اور بڑے اجتماعات میں ڈیسی بل میٹرز لگانے کی ضرورت ہے کہ جس سے معلوم ہو سکے آواز محفوظ کی حد سے بڑھ تو نہیں رہی۔

    ہینڈز فری کا استعمال خدا را کم سے کم کریں۔ اپنی سماعت کو بچائیں۔ کوئی بھی آلہ سماعت قدرتی سننے کی صلاحیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

  • اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اُردن کے تاریخی شہر جرش کی تاریخ بہت قدیم ہے. عیسی علیہ السلام سے چار صدی پہلے سکندرِ اعظم کے دور میں یہ شہر آباد ہوا. لیکن اسے عروج رومن دور میں ملا. آج یہ رومن دور کے آثارِ قدیمہ سے بھرا ایک مشہور سیاحت کا مقام ہے. اسکا تھیٹر ہو یا قدیم معبد آج بھی اپنی شان و شوکت سے دیکھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں.

    دیکھنے والے جب رومن دور کے کھڑے وہ لمبے ستون دیکھتے ہیں جسے تراشے پتھروں سے کھڑا کیا گیا ہے یا تھیٹر کی سنگلاخ سیڑھیوں پر بیٹھ کر میدان میں دیکھتے ہیں تو ان نامعلوم معماروں کے فن کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس قدیم دور میں وہ تعمیر کھڑی کی جسے صدیوں کی مسافت بھی مکمل ڈھیر نہ کر سکی.

    ہم انسانوں کی یہ عادت ہے ہم متاثر دیکھ کر ہوتے ہیں. آپ کوئی گاڑی خریدنے جائیں تب بھی پہلے اس کی باڈی رنگ اور ڈیزائن دیکھیں گے. یہاں اگر آپ متاثر ہوئے تب انجن اور فیچرز سمجھنے کی کوشش شروع کریں گے. ہم دوسرے انسانوں کو بھی پہلے شکل لباس اور نشست و برخاست پر تولتے ہیں. اگر متاثر ہوئے تب ہی اس کے شعور اس کی شخصیت پر جاتے ہیں.

    رومنز کو یہ صدیوں پہلے پتہ تھا. اس لئے آج بھی بھلے ہم ان تاریخی مقامات کے معماروں کو نہیں جانتے لیکن ان کی پہچان زندہ ہے. جب کوئی اس انسانی وصف کے خلاف چلتا ہے تب اسے بہت مایوسی ہوتی ہے. لوگ تھیٹر کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ غریب نیچے میدان میں تماشا بن جاتے ہیں.

    لوگ آپ کا پہناوا سلیقہ اور تہذیب دیکھ رہے ہوتے ہیں. آپ کے اندر کا خاموش معمار اگر چاہتا ہے کہ لوگ اس سے متاثر ہوں تو اسے اس پر وقت محنت اور سرمایہ خرچ کرنا ہوگا. ہاں البتہ اگر کسی کو متاثر کرنے کی خواہش ہی نہیں تب آپ آزاد ہیں. دیو جانس قلبی کی طرح سکندرِ اعظم بھی آپ کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھے کیا چاہتے ہو. آپ اسے بول سکتے ہیں سامنے سے ہٹو دھوپ آنے دو. مجھے کچھ دھوپ چاہئے.

  • ہوائی جہاز کے سفر کے دوران میرے زریں خیالات — شہنیلہ بیلگم والا

    ہوائی جہاز کے سفر کے دوران میرے زریں خیالات — شہنیلہ بیلگم والا

    چیک ان کاؤنٹر پہ جاتے وقت؛

    اللہ کرے لگیج کا وزن زیادہ نہ ہو. اللہ کرے چیک ان کاؤنٹر پہ کوئی انسان کا بچہ بیٹھا ہو. تین چار کلو زیادہ بھی ہو تو جانے دے.

    چیک ان کے بعد؛

    دیکھ لوں پاسپورٹ اور بورڈنگ پاسز بیگ میں رکھ تو لیے ہیں. یہ نہیں کہ بوکھلاہٹ میں وہیں چھوڑ آئی ہوں. اف لگیج ایکسس نہ ہو جائے اس چکر میں ہینڈ بیگ اتنا زیادہ بھر لیا ہے کہ کندھے شل ہو رہے ہیں.

    کس قدر ظلم ہیں ائیر پورٹ والے. فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس والوں کو کتنا زیادہ سامان لے جانے دیتے ہیں. لیکن سامان ہم اکانومی والوں کے پاس زیادہ ہوتا ہے. یہ تو چھوٹے چھوٹے دو بیگز لے کر چل پڑتے ہیں. کیا ان کو تحفے تحائف دینے نہیں پڑتے؟

    یہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس والوں کو اتنا ایٹیٹیوڈ کس بات کا ہوتا ہے. پہنچنا تو سب نے ایک ہی جگہ ہے اور ایک ہی وقت پہ. اونہہ خوامخواہ کے ششکے.

    اپنی اکانومی کلاس کی تنگ میلی سی سیٹوں پہ پہنچنے سے پہلے فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے rows سے گزرتے ہوئے؛

    ہائے کیا آرام دہ سیٹس ہیں. ریکلائنر ہیں ساری. آرام سے پاؤں پسار کے سو سکتے ہیں. کیسے نرم ملائم گداز سے کمبل ہیں. ابھی تو بیٹھے بھی نہیں ہیں اور فوراً فریش جوسز اور خشک میوہ جات لے کر آگے پیچھے پھر رہی ہے ائیر ہوسٹس. ہمیں تو پانی بھی دینے میں موت پڑتی ہے. ہمارے ساتھ تو سوتیلے والوں سلوک کیا جاتا ہے.

    اف کس قدر فقیر ائیر لائن ہے. کھانا بھی خریدنا پڑے گا. میں تو کوئی نہیں لے رہی پندرہ درہم کا سوکھا سینڈوچ اور دس درہم کی پیپسی.

    گھر پہ بھابھی نے سب کچھ میری پسند کا بنا رکھا ہوگا. گھر جا کر کھا لوں گی. بٹیا کو گھورتے ہوئے؛

    ہزار بار کہا کہ گھر سے کھا کر نکلو. اب کراچی پہنچ کر کھانا.

    یہ ائیر ہوسٹس کیا بتا رہی؟

    اوہ ایمرجنسی میں ایگزٹ کے طریقے. پورے جہاز میں اس پہ کوئی توجہ نہیں دے رہا. اس سے زیادہ غور سے تو لوگ بس میں منجن اور جوئے مار دوا بیچنے والوں کی بات سن لیتے ہیں.

    ائیر پورٹ پہ پہنچنے کے بعد؛

    ائیر ہوسٹس نے کیا بتایا تھا، کس بیلٹ پہ سامان آئے گا. میں کبھی اس بیچاری کی نہیں سنتی.

    پاس سے گزرنے والے قلی سے؛

    بھیا دبئی والی فلائیٹ کا لیگیج کس بیلٹ پہ ہے؟

    لیگیج بیلٹ پہ؛

    اف لوگ کتنا سامان لے کر آئے ہیں. اس فیملی کے اب تک سات پیس آچکے ہیں. ان کا بس چلتا تو پورے گھر کو پہیے لگا کر ساتھ ہی لے آتے.

    میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے. ہمیشہ میرا سامان آخر میں کیوں آتا ہے. میرے دو سوٹ کیس نہیں آئیں گے. لوگوں کے سات سات پیسز لگاتار آ جائیں گے.

    سامان ملنے کے بعد؛

    اف ٹرالی کتنی تھکی ہوئی ہے. پہییے زنگ آلود ہیں. مجھے ہی ہمیشہ گھٹیا ٹرالی ملتی ہے. میری زندگی میں یہ باریک باریک دکھ کتنے ہیں نا

    اللہ کرے کسٹم آفیسر مجھے گرین چینل سے گزرنے دے. ایسا کچھ ہے تو نہیں میرے پاس لیکن میں نے جلدی جلدی میں پیکنگ اچھی نہیں کی ہے. سب کے سامنے بیگز کھلیں تو لوگ سوچیں گے کہ سلیقے سے پیکنگ بھی نہیں کی. ( جیسے ائیر پورٹ کی افراتفری میں کسی کو کسی کا ہوش ہوتا ہے)

    الحمدللہ مجھے گرین چینل سے گزرنے دیا. مجھے ہمیشہ گرین چینل سے گزرنے دیتے ہیں. کون کہتا ہے کہ پاکستانی کسٹم والے برے ہیں. مجھے تو آج تک نہیں روکا الحمدللہ.

    ( پانچ سیکنڈز کے بعد ہی میں اپنے باریک باریک دکھ والے شکوے سے مکر چکی تھی)

    ائیر پورٹ پہ گھر والوں کو دیکھتے ہوئے؛

    میرے سب سے چھوٹے گڈے کو نہیں لائے.
    لائے ہیں. سو گیا ہے. یہ لیجیے.

  • یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    پیدائش:12 دسمبر 1928ء
    وفات:10 جون 2008ء
    نورنبرگ
    وجۂ وفات:نمونیا، گردے فیل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    مادر علمی:گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب
    پیشہ:سیاست داں، سفارت کار، صحافی، مترجم، ناول نگار، منظر نویس، سائنس فکشن مصنف
    مادری زبان:کرغیز زبان
    پیشہ ورانہ زبان:فرانسیسی

    چنگیز اعتماتوف (پیدائش: 12 دسمبر، 1928ء – وفات: 10 جون، 2008ء) سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول ”جمیلہ“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار پرودا کے لیے بطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں 1963ء سے حاصل ہوئی۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں دشوار راستہ 1958ء، روبرو 1957ء، جمیلہ 1958ء، پہلا استاد 1967ء، سفید دخانی کشتی 1970ء شامل ہیں۔
    سیاست و سفارت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ناول و افسانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دشوار راستہ
    ۔ 1956ء
    ۔ (2)1957ء
    ۔ روبرو
    ۔ (3)1958ء
    ۔ جمیلہ
    ۔ (4)1962ء
    ۔ پہلا استاد
    ۔ (5)1963ء
    ۔ پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں
    ۔ (6)1970ء
    ۔ سفید دخانی کشتی
    ۔ (7)1977ء
    ۔ سمندرکے کنارے دوڑتا ہوا چتکبری کتا
    ۔ (8)1986ء
    ۔ تختۂ دارا
    ۔ (9)1986ء
    ۔ جب پہاڑ گرتے ہیں
    انگریزی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Short Novels
    ۔ 1964ء
    ۔ (2)Farewell Gul’sary
    ۔ 1970ء
    ۔ (3)White Steamship
    ۔ 1972ء
    ۔ (4)The White Ship
    ۔ 1972ء
    ۔ (5)Tales of the Mountains
    ۔ and the Steppes
    ۔ 1973ء
    ۔ (6)Ascent of Mount Fuji
    ۔ 1975ء
    ۔ (7)Cranes Fly Early
    ۔ 1983ء
    ۔ (8)The Day Lasts More Than
    ۔ a Hundred Years
    ۔ 1988ء
    ۔ (9)The Place of the Skull
    ۔ 1989ء
    ۔ (10)Time to Speak
    ۔ 1989ء
    ۔ (11)The time to speak out
    ۔ 1988ء
    ۔ (12)Mother Earth and
    ۔ Other Stories
    ۔ 1990ء
    ۔ (13)Jamila
    ۔ 2008ء
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)اعزاز اکتوبر انقلاب (1988)
    ۔ (2)آرڈر آف لینن (1971)
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1966ء – رکن اعلیٰ سوویت برائے سوویت یونین
    ۔ (2)1967ء – رکن اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین
    ۔ (3)مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف
    سوویت سفیر برائے لکسمبرگ
    ۔ (4)1990ء -سفیر کرغیزستان برائے یورپی یونین
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون ،2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلسلہ عالمی ادبیات
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی