Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامور افسانہ نگار خدیجہ مستور 11 دسمبر 1927 کو بلسر، بریلی میں پیدا ہوئیں۔ 26 جولائی 1982 کو لندن میں وفات پائی۔ گلبرگ لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کی گئیں۔

    ان کےافسانوں کے 5 مجموعےکھیل، بوچھاڑ، چند روز اور، تھکے ہارے، اور ٹھنڈا میٹھا پانی اور 2 ناول آنگن اور زمین شائع ہوئے۔ آنگن پر 1962 کا آدم جی ادبی انعام ملا۔ افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر اکادمی ادبیات پاکستان نے سال کی بہترین کتاب کا ہجرہ ایوارڈ دیا-

    خدیجہ مستور ممتاز صحافی اور افسانہ نگار ظہیر بابر کی اہلیہ اور ہاجرہ مسرور، اختر جمال، خالد احمد اور توصیف احمد خاں کی بہن تھیں۔خدیجہ اور ہاجرہ، احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بہنیں تو خط کتابت سے ہی بن چکی تھیں-

    قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان لاہور پہنچا تو احمد ندیم قاسمی پورے خاندان کے سرپرست بن گئے. خدیجہ کی شادی انہوں نے ہی اپنے بھانجے ظہیر بابر سے کرائی.

  • شاعر اور نثر نگار  نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    شاعر اور نثر نگار نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    نریش کمار شاد کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں وہ اچھے شاعر بھی تھے ، نثر نگار بھی انہوں نےترجمے بھی کئے اور کئی رسالوں کی ادارت بھی کی ۔ نریش جتنے پرگو شاعر تھے اتنے ہی بڑے بلا نوش بھی ، ان کیلئے شاعری اور شراب دونوں زندگی کی بدصورتیوں کو انگیز کرنے کا ایک ذریعہ تھیں ۔ نریش کی شراب یاد رکھی گئی اور ان کی شاعری بھلا دی گئی ۔ حالانکہ نریش کی غزلیں، نظمیں اور کئی نئی مغربی اصناف میں ان کے تخلیقی تجربے ان کی شاعرانہ اہمیت کو روشن کرتے ہیں ۔

    شاد کی پیدائش ۱۱ دسمبر ۱۹۲۷ کو ہوشیار پور پنجاب میں ہوئی ۔ ان کے والد درد نکودری بھی شاعر تھے اور حضرت جوش ملسیانی کے خاص شاگردوں میں سے تھے ۔ گھر کے شعری ماحول نے شاد کو بھی شاعری کی طرف مائل کردیا اور وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی شعر کہنے لگے ۔ شاد کی تعلیم لاہور میں ہوئی انہوں نے گورمینٹ ہائی اسکول چونیاں ضلع لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحام پاس کیا ۔ اس کے بعد بہ سلسلۂ ملازمت راولپنڈی اور جالندھر میں مقیم رہے لیکن جلد ہی سرکاری ملازمت ترک کرکے لاہور آگئے اور وہاں ماہنامہ’ شالیمار ‘ کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے ۔

    تقسیم کے بعد شاد کچھ مدت کانپور میں رہے اور یہاں حفیظ ہوشیارپوری کے ساتھ مل کر ’چندن‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالا ۔ اس رسالے کے بند ہو جانے کے بعد دلی اگئے اور بلدیو متر بجلی کے ماہنامہ ’ راہی ‘ سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک رسالہ ’ نقوش ‘ کے نام سے بھی نکالا ۔ آخر ہاؤسنگ اینڈ رینٹ آفس میں ملازمت اختیار کی ۔

    شعری مجموعے : بتکدہ ، فریاد ، دستک ، للکار ، آہٹیں ، قاشیں ، آیات جنوں ، پھوار ، سنگم ، میرا منتخب کلام ، میراکلام نو بہ نو ، وجدان ،
    نثری کتابیں: سرخ حاشیے ، راکھ تلے ، سرقہ اور توارد ، ڈارلنگ ، جان پہچان ، مطالعے ، غالب اور اس کی شاعری ، پانچ مقبول شاعر اور ان کی شاعری ، پانچ مقبول طنز ومزاح نگار ۔ ادب اطفال : شام نگر میں سنیما آیا، چینی بلبل اور سمندری شہزادی ۔

    ۲۰ مئی ۱۹۶۹ کو شاد جمنا کے کنارے پر مرے ہوئے پائے گئے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
    تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

    خدا سے کیا محبت کر سکے گا
    جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

    اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
    ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

    زندگی سے تو خیر شکوہ تھا
    مدتوں موت نے بھی ترسایا

    گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب
    تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

    زندگی نام ہے جدائی کا
    آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

    محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
    نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں

    محفل ان کی ساقی ان کا
    آنکھیں اپنی باقی ان کا

    خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے
    مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

    عقل سے صرف ذہن روشن تھا
    عشق نے دل میں روشنی کی ہے

    کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا
    ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا

    یہ سوچ کر بھی ہنس نہ سکے ہم شکستہ دل
    یاران غم گسار کا دل ٹوٹ جائے گا

    طوفان غم کی تند ہواؤں کے باوجود
    اک شمع آرزو ہے جو اب تک بجھی نہیں

    تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا
    میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے

  • روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن 11 دسمبر 1918ء کو کیسلووودسک میں پیدا ہوئے الیکزینڈر سلزینسٹائن (1918ء تا 2008ء )روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1970ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔

    انہیں ان کی خدمات پر متعدد اعزازتسے نوازا گیا جن میں میخائیل لومونوسف گولڈ میڈل (1998)، نوبل انعام برائے ادب (1970)، آرڈر آف ریڈ اسٹار (1944)، ٹیمپلٹن انعام، آرڈر آف اسٹار آف رومانیہ، آرڈر آف سینٹ اینڈریو سے نوازا گیا-

    2008 میں عارضہ قلب کی وجہ سے ماسکو میں وفات پا گئے تھے-

  • دیکھ کرجس کوٹھہرجائیں مسافرکے قدم ایسا منظرتوکوئی راہ میں آیا ہی نہیں: شبانہ زیدی شبین کی خوبصورت باتیں

    دیکھ کرجس کوٹھہرجائیں مسافرکے قدم ایسا منظرتوکوئی راہ میں آیا ہی نہیں: شبانہ زیدی شبین کی خوبصورت باتیں

    دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم
    ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورا نام: شبانہ زیدی شبین
    قلمی نام: شبین
    والد کا نام: سید ظفر زیدی
    والدہ کا نام: سیدہ مہرالنساء
    شوہر کا نام سید ذاکر حسین زیدی
    بچوں کے نام:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کنول
    ۔ (2)ثمر
    ۔ (3) مظفر
    ۔ (4)اظفر
    ۔ (5)حسنین رضا
    ۔ (6)احسن رضا
    آبائی وطن : اوکاڑہ، پاکستان ۔
    جائے ولادت: لیہ
    تاریخِ ولادت: 10 دسمبر 1988
    تعلیم: ایم اے۔ ایم ایڈ
    پیشہ: درس و تدریس
    آغازِ تحریر:۔ 2005
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سلگتے کنول۔2008
    ۔ (2)اک شہر بسا پانی پر۔2013
    ۔ (3)میں خیال ہوں کسی اور کا
    ۔ (انتخاب )
    ۔ (4)موج سبد گل2016
    ۔ (رثائی شاعری )
    ۔ (5)نظم کہانی۔2018
    ۔ ( بچوں کے لیے )
    ان کے علاوہ دو ناول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔1۔ سراب۔۔ 1988
    ۔2سوشلزم اور عشق بلاخیز ۔ منتظر اشاعت
    پذیرائی: پروین شاکر ایوارڈ
    شریف اکیڈمی
    ایوارڈ:دختر لیہ ٹائٹل ایوارڈ
    روش انٹرنیشنل ایوارڈ
    اور بےشمار ایوارڈ و اسناد
    پتا:۔ صدر گوگیرہ۔اوکاڑہ پنجاب۔پاکستان

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کسی کے رونے سے موسم ہرا نہیں ہوتا
    دو آنسوؤں سے زمیں کا بھلا نہیں ہوتا
    ہماری دوستی اس چاند سے ہو ئی جب سے
    کسی اندھیرے اب سے سامنا نہیں ہوتا
    ہوائے تازہ کا ہوتا بھی تو گزر کیسے
    دریچہ ذہن کا جب تک کھلا نہیں ہوتا
    ہوں جس کے اپنے ہی چہرے پہ داغ اور دھبے
    وہ دوسروں کے لیے آئینہ نہیں ہوتا
    اکیلی شام مہکتی ہے میرے آنگن میں
    اب انتظار کسی دوست کا نہیں ہوتا
    ہمیں تو جینا ہے خود اپنے ہی اصولوں پر
    آمیر شہر کسی کا خدا نہیں ہوتا
    خدا ڈبوئے تو پھر کیسے پار اترو گے
    خدا سے بڑھ کے کوئی ناخدا نہیں ہوتا
    تمھاری یاد بھی اب تھک چکی ہے آ آ کر
    شبین ہم سے بھی اب جاگنا نہیں ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    اب کے موسم میں کوئی خواب سجایا ہی نہیں
    زرد پتوں کو ہواؤں نے گرایا ہی نہیں
    دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم
    ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں
    کیوں ترے واسطے اس دل میں جگہ ہے ورنہ
    کوئی چہرہ مری آنکھوں میں سمایا ہی نہیں
    اس نے بھی مانگ لیا آج محبت کا ثبوت
    ایک لمحے کے لیے جس کو بھلایا ہی نہیں
    مجھ کو تنہائی نے گھیرا ہے کئی بار مگر
    اس کی یادوں نے مگر ساتھ نبھایا ہی نہیں
    جس کی خوشبو سے مہکتے مرے گھر کے در و بام
    وقت نے رنگ کوئی ایسا دکھایا ہی نہیں
    روشنی اپنے مقدر کہاں ہوگی شبینؔ
    جب دیا ہم نے اندھیروں میں جلایا ہی نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رتوں کا لمس شجر میں رہے تو اچھا ہے
    مٹھاس بن کے ثمر میں رہے تو اچھا ہے
    کہاں سے دل کے علاقے میں آ گئی دنیا
    یہ سر کا درد ہے سر میں رہے تو اچھا ہے
    مرا قیام ہے گھر میں مسافروں جیسا
    یہ گھر بھی راہ گزر میں رہے تو اچھا ہے
    میں سن رہی ہوں قیامت کی آہٹوں کو شبینؔ
    حیات پھر بھی سفر میں رہے تو اچھا ہے

  • نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    جب سے اتری ہوں آسمان سے میں
    تب سے الجھی ہوں اس جہان سے میں

    عارفہ صبح خان

    تاریخ پیدائش:10 دسمبر 1970

    تحریر و تعارف: آغا نیاز مگسی

    پاکستان کی نامور ادیبہ_شاعرہ، اور صحافی ڈاکٹر عارفہ صبح خان 10 دسمبر 1970 میں لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد ادریس خان اور یوسفزئی پٹھان قبیلے سے تعلق ہے تحریک پاکستان میں انہوں نے بڑا فعال کردار ادا کیا جس کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح کے بہت قریب رہے۔ ۔ عارفہ کے دادا سعید جان جج اور پر دادا ایس ایس پی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ عارفہ صبح خان نے ابتدائی تعلیم فاطمہ جناح گرلز ہائی اسکول لاہور سے اور اعلی تعلیم یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے ادبیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    عارفہ نے چوتھی جماعت سے نثر نگاری اور شاعری شروع کی لیکن انہوں نے شاعری میں کسی استاد کی شاگردی اختیار نہیں کی اور نہ ہی کسی اصلاح لی لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ شاعری میں استاد ضروری ہے۔ وہ پاکستان میں اردو کی پہلی مزاحیہ خاتون ادیبہ اور صحافی ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں ۔ وہ علمی لحاظ سے ڈاکٹر فراق تحسینی اور ڈاکٹر سلیم اختر کو اپنا استاد مانتی ہیں۔ عارفہ نے روزنامہ جنگ سمیت متعدد اخبارات اور رسائل وغیرہ میں کام کیا ہے۔ وہ کرنل محمد خان، شفیق الرحمن ، احمد ندیم قاسمی اورعطاالحق قاسمی کا بڑے احترام کے ساتھ ذکر کرتی ہیں۔ عارفہ کی شادی بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ظفر آفتاب کے ساتھ 1995 میں شادی ہوئی اور 1998 میں انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ وہ بیٹی کے پیداطہونے پر بہت خوش ہیںچلیکن انہیں اس بات کا بہت دکھطہے کہ انہیں بیٹے کی اولاد نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کو بھائی بھی والدین سے پیدا نہیں ہوا اور مزید یہ کہ عارفہ کی والدہ کا بھی کوئی بھائی پیدا نہیں ہوا یعنی ان کی تین نسلوں میں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا۔

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)عکس زن
    ۔ (2)تجاہلِ عارفانہ
    ۔ (3)شٹ اپ
    ۔ (4)مابدولت
    ۔ (5)اماں حوا سے اماں کونسلر تک
    ۔ (6)کُرکُرے کردار
    ۔ (7)اب صبح ہو نے کو ہے
    ۔ (8)اردو تنقید کا اصلی چہرہ
    ۔ (9)صبح ہوگئی جاناں
    ۔ (10)عشقِ بلاخیز
    ۔ (11)ادبی ستارے
    ۔ (12)کافر ادا
    ۔ (13)تنقیدیں گرہیں
    ۔ (14)سیاست دانوں کے سائیڈ ایفیکٹس
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پاکستان کی
    ۔ پہلی مزاح نگار خاتون ہونے کا اعزاز
    ۔ (2)پاکستان کی پہلی کرائم رپورٹر ہونے کا اعزاز
    ۔ (3)پاکستان کی پہلی پولیٹیکل لیڈی رپورٹر
    ۔ (4)صحافت کی شیرنی کا لقب
    ۔ (صحافت کے امام مجید نظامی نے دیا)
    ۔ (5)خواتین کی پطرس بخاری کا خطاب
    ۔ (کرنل محمد خان مرحوم نے دیا)
    ۔ (6)خان زادی، خان بی بی
    ۔ اردو ادب کی قلوپطرہ، اعزازات کی ملکہ
    ۔ ادب کا ستارہ (خطابات)
    ۔ (7)10 گولڈ مڈلز اور پچاس ایوارڈز
    ۔ ادبی، صحافتی اور علمی خدمات پر
    ۔ (8)صدر آل پاکستان ویمن جرنلسٹ فورم
    ۔ پریس کلب، لاہور
    ۔ پانچ سال مسلسل صدر رہنے کا اعزاز
    ۔ (9)صحافت اور ادب میں سب سے زیادہ
    ۔ گولڈمڈلز اور ایوارڈز لینے کا ریکارڈ
    ۔ (10)بہترین صحافی ایوارڈ
    ۔ سات بار مسلسل
    ۔ (11)ڈرامے سیریلز لکھے
    ۔ سونے کی چڑیا
    ۔ نئے راستے
    ۔ لیڈی رپورٹر کیوں
    ۔ (12)چار سیاسی پروگراموں کی اینکرنگ
    ۔ ہاٹ ایشوز
    ۔ پولیٹیکلز ٹمپریچر
    ۔ ون ٹو ون
    ۔ ویمن ایشوز
    موبائل:00923008005450

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کی راہ جب نکالی تھی
    زندگی کس قدر مثالی تھی
    تو نے مجھ کو بھری تھی جب چٹکی
    میرے گالوں پہ کتنی لالی تھی
    گھیر رکھا تھا تیری یادوں نے
    سامنے چائے کی پیالی تھی
    جان دے کر دیارِ فرقت میں
    پیار کی آبرو بچالی تھی
    سارے ارماں سمیٹ کر دل میں
    ہم نے اک بزم سی سجالی تھی
    غمِ دنیا میں خود کو ڈھالا تھا
    عمر بھی اپنی لاابالی تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تیری یادیں سنبھال لیتی ہوں
    دل کا آنگن اُجال لیتی ہوں
    شعر کہہ کر غبار اندر کا
    میں ہمیشہ نکال لیتی ہوں
    اک تری جستجو میں گرتے ہوئے
    خود کو اکثر سنبھال لیتی ہوں
    کام آتی ہوں بے نواؤں کے
    اور دعائے وصال لیتی ہوں
    ہجر کی دوپہر میں سر پہ صبحؔ
    اس کی یادوں کی شال لیتی ہوں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    چلو اتنا ہی کردو
    ۔۔۔۔۔
    ابھی راتوں کی تاریکی
    ابھی موسم کا سناٹا
    ابھی یہ رینگتے سائے
    درو بامِ تمنا پر
    کہ جیسے کل مسلط تھے
    اسی صورت مسلط ہیں
    ابھی تو کچھ نہیں بدلا
    عجب اک بے کلی سی ہے
    عجب اک ہو کا عالم ہے
    میں کیسے دل کو سمجھاؤں، میں کیسے دل کو بہلاؤں
    اگر تم نے
    نہ آنے کی قسم توڑی نہیں اب تک
    چلو اتنا ہی کردو
    کہ اس میں کیا برائی ہے
    مجھے تم فون پر دل کے
    بہلنے اور سنبھلنے کی
    کی کوئی صورت بتادینا
    تمھارا شکریہ ہوگا

  • ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    عمیرہ احمد ایک نامور پاکستانی ادیبہ اور اسکرین لکھاری جو اپنی کتاب” پیر کامل” کی بدولت مشہور ہوئیں اور پھر اپنے متعدد ناولوں پر مبنی ٹی وی ڈراموں سے شہرۂ آفاق پر پہنچیں۔

    ان کے ناولوں پر بننے والے ڈراموں میں میری ذات ذرہ بے نشاں، دوراہا،پیر کامل، مٹھی بھر مٹی، شہرذات، میرا نصیب اور زندگی گلزار ہے شامل ہیں۔ عمیرہ احمد مرے کالج، سیالکوٹ سے انگریزی میں ماسٹرز کر کے آرمی پبلک کالج کے کیمبرج ونگ سے منسلک ہیں۔ اپنے تحریری سفر کا آغاز انھوں نے خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں آگئیں۔

    ان کا پہلا ڈراما ‘‘وجود لاریب‘‘ انڈس ویژن سے 2005 میں آیا جس کے لیے انہوں نے بیسٹ رائٹر کا ایوارڈ لیا۔ اس کے بعد ‘‘دام‘‘، ‘‘قید تنہائی‘‘ اور متعدد ڈرامے وہ لکھ چکی ہیں اور ان کے کئی ناول کی ڈرامائی تشکیل ہو چکی۔ ‘‘نور کا مسکن‘‘ کے نام سے ایک ریڈیو ڈراما بھی لکھا۔
    ناول اور کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پیر کامل
    ۔ (2)زندگی گلزار ہے
    ۔ (3)میری ذات ذرہ بے نشان
    ۔ (4)ایمان امید اور محبت
    ۔ (5)حسنہ اور حسن آرا
    ۔ (6)حرف سے لفظ تک
    ۔ (7)میرے 50 پسندیدہ سین
    ۔ (8)من و سلوا
    ۔ (9)حاصل
    ۔ (10)لا حاصل
    ۔ (11)واپسی
    ۔ (12)شیریں
    ۔ (13)میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے
    ۔ (14)سحر ایک استعارہ ہے
    ۔ (15)دربار دل
    ۔ (16)امبر بیل
    ۔ (17)عکس
    ۔ (18)آب حیات
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)وجود لاریب (2004)
    ۔ (2)دام محبت (2009)
    ۔ (3)ٹی وی ون گلوبل (2009)
    ۔ (4)میری ذات ذرہ بے نشاں (2009)
    ۔ (5)تھوڑا سا آسماں (2009)
    ۔ (6)عمیرہ احمد (2010)
    ۔ (7)اڑان (2010)
    ۔ (8)مات (2011)
    ۔ (9)شہر ذات (2012)
    ۔ (10)کنکر (2013)
    ۔ (11)بے حد (2013)
    ۔ (12)زندگی گلزار ہے (2013)
    ۔ (13)محبت صبح کا ستارہ ہے (2014)
    ۔ (14)ڈائجسٹ رائٹر (2014)

  • اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    لوئجی پیرآندیلو اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈراما نگار، افسانہ نگار اور ناول نگار اور 1934ء کے ادب کے نوبل انعام یافتہ مصنف ہیں۔

    حالات زندگی و ابتدائی تعلیم

    لوئجی پیرآندیلو 28 جون 1867ء کو سسلی، اٹلی میں گندھک کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1880ء میں پیآندیلو کے والدین سسلی کے صد مقام پالیرمو میں سکونت پزیر ہو گئے جہاں انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔

    اعلیٰ تعلیم

    1887ء میں روم یونیورسٹی اٹلی، 1888ء میں بون یونیورسٹی جرمنی میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    ادبی خدمات

    لوئجی پیرآندیلو بہت بڑا ڈراما نگار تھا۔ ڈراموں کی شہرت کی وجہ سے اس کے افسانے طویل عرصہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے حالانکہ پیرآندیلو بتنا بڑا ڈراما نگار تھا، اتنا بڑا افسانہ نگار بھی تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں 500 پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھیں جو تیرہ مجموعوں کی صورت میں شائع ہوچکی ہیں۔ لوئجی پیرآندیلو آفاقی تاثیر رکھنے والا مصنف ہے۔ اس کی کہانوں میں انسانی رشتوں کی ان سچائیوں کا معنی خیز اظہار ہے جن سے معاشرہ تعمیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ پیرآندیلو کا لازوال ڈراما ”چھ کردارخالق کی تلاش میں“ دنیائے ادب کے عظیم ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پیرآندیلو نے 50 سے زائد ڈرامے لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے شمار افسانے، ناول اور شاعری کے مجموعہ تخلیق کے۔

    اعزازات

    لوئجی پیرآندیلو کی ادبی خدمات کے صلے میں 1934ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔

    وفات

    دنیائے ادب کے عظیم ڈراما نگار اور افسانہ نگار لوئجی پیرآندیلو 10 دسمبر 1936ء کو روم، اٹلی میں انتقال کر گئے۔

  • بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    دوستو جس دن میں صبح جلدی آفس آتا ہوں ایک منظر بڑی پابندی سے دیکھتا ہوں. یہ کوئی سفید ریش بڑے میاں ہیں جو غالباً کسی فیکٹری میں چوکیدار ہیں. آوارہ کتوں کی ان سے محبت دیدنی ہوتی ہے. اس راستے پر سینکڑوں لوگ گزر رہے ہوتے ہیں نہ وہ ان آوارہ کتوں کو نوٹس کرتے ہیں نہ کتے ان کو درخور اعتنا سمجھتے ہیں.

    لیکن جیسے ہی یہ بزرگ چوکیدار ایک شاپر لئے فٹ پاتھ پر نمودار ہوتے ہیں آس پاس دور دور سے آوارہ کتے ان کی طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے غریب بچوں کا باپ شام کوئی شاپر لے کر گھر میں داخل ہوتا ہے. بچے ہنسنا رونا جھگڑنا کھیلنا چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں. یہ چوکیدار پھر ان کے سامنے کھانا ڈالتا ہے.

    مجھے یہ منظر اچھا لگتا ہے. مجھے کتوں سے سچی بات ہے بہت ڈر لگتا ہے. میں جب اس چوکیدار کو دیکھتا ہوں جس سے یہ آوارہ کتے لاڈ و نیاز کرتے ہیں تو ایک عجیب سا رشک اس پر آتا ہے. میں سوچتا ہوں ان سرد راتوں میں یہ آوارہ کتے اس صبح اور اس مہربان شخصیت کا کتنا انتظار کرتے ہوں گے.

    قدرت کو بھی یہ پسند آتا ہے. کیونکہ ایسے سلسلے پھر جاری رہتے ہیں. بے لوث انتظار جس میں ایک خاموش تشکر کے سوا کچھ نہ ہو کوئی بدلہ کوئی حساب نہ ہو ایسے حساب پھر قدرت اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے. کیا آپ نے بھی ایسا کوئی خاموش بے لوث سلسلہ قدرت کے ساتھ جوڑ رکھا ہے.؟ کیا آپ کا بھی کہیں خاموش انتظار ہو رہا ہوتا ہے.؟

  • بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    انیلہ کے کئی رشتے آئے لیکن والدین کو خالد ہی پسند آیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ خالد پاکستان سے باہر کسی عرب ملک میں کام کرتا تھا اور ہر ماہ ایک اچھی رقم پاکستان اپنی فیملی کو بھیجتا تھا۔اس رشتے کو ہاں کرنے سے پہلے انیلہ سے کسی نے رائے طلب ہی نہیں کی۔

    شادی کے بعد سب خوش تھے سوائے انیلہ کے۔ اس کا شوہر خالد شادی کے دوہفتے بعد ہی واپس چلا گیا تھا اور اس کی واپسی ایک سال کے بھی بعد ہوئی تھی۔ اب بھی چند دنوں کے بعد اسے واپس جانا تھا۔ انیلہ اسے فون پر تو اکثر کہتی ہی تھی لیکن اب کی بار اس کے آنے پر اس کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھاکہ یا مجھے بھی ساتھ لے جاؤ یا پھر تم بھی پاکستان آجاؤ۔

    خالد کی ماں، باپ، بھائی، بہن وغیرہ میں سے سب کو خالد کے پیسے سے غرض تھی، کسی کو بھی اس کے پاکستان سے باہر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن انیلہ کو جسمانی طور پر بھی خالد کی ضرورت تھی۔ شادی سے پہلے تو جیسے تیسے زندگی گزر رہی ہوتی ہے لیکن شادی کے بعد مجرد زندگی گزارنا بہت ہی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

    یہ بات اس کے والدین نے بھی نہیں سوچی تھی کہ شادی پیسے سے نہیں انسان سے ہوتی ہے۔ اگر صرف کھانا پینا پہننا وغیرہ ہی چاہیے تو یہ ضروریات تو والدین کے گھر میں بھی پوری ہو رہی تھیں۔ شادی کے جو مقاصد ہوتے ہیں ان میں سب سے پہلے جسمانی (جنسی) ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا اور نسل ِانسانی کی بقا ہے۔

    اس شادی کے بعد اس کو پیسہ تو مل رہا تھا لیکن جسمانی ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ شادی کے بعد جب میاں بیوی کے درمیان یہ جسمانی تعلق ہو جائے تو پھر خود کو لمبے عرصے تک اس سے دور رکھنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک دوسرے سے لمبی جدائی ہو تو دونوں کا خود کو گناہ سے محفوظ رکھ پانا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔

    یہی بات انیلہ اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کا موقف یہی تھا کہ پیسے کم ہو جائیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ پاکستان میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہی کر لو لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ آخری بات اس نے یہ کہ جتنے پیسے ہر ماہ پاکستان بھیجتے ہو، وہ آدھے کر دو اور آدھے اپنے پاس بچاتے رہو اور اگلے سال جب واپس آؤ تو ان پیسوں سے یہاں کام کا آغاز کر لینا۔

    انیلہ کی یہ بات جب خالد کے گھروالوں کو معلوم ہوئی تو گویا گھر میں بھونچال آگیا۔ ان سب کو یہی تھا کہ خالد واپس آگیا تو ان سب کی عیاشیاں ختم ہو جائیں گی۔ خالد جب پاکستان سے گیا تو انیلہ کے ساتھ سب گھروالوں کا رویہ بہت زیادہ برا ہو گیا۔ اس نے اس سب کے بارے خالد سے فون پر بات کی۔ خالد اور اس کے گھروالوں نے یہ شرط رکھ دی کہ اگر انیلہ کے گھر والے خالد کو یہاں کوئی بزنس سیٹ کر کے دے دیں تو وہ واپس پاکستان آجائے گا۔ یہ مطالبہ ماننا انیلہ کے گھر والوں کے بس سے باہر تھا۔

    اگلے دو سال بھی انیلہ نے اسی طرح گزارے۔ شادی کے ان تین سالوں میں ایک بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔ تیسرے سال جب خالد واپس جانے لگا اور انیلہ کی بات نہیں مانی تو وہ ناراض ہو کر میکے آگئی۔ خالد یا اس کے گھروالوں نے منانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ چھ ماہ کے بعد انیلہ نے خلع لے لی کہ جو ایک خواہ مخواہ کی آس ہے وہ بھی ٹوٹ ہی جائے کہ کہیں اور بھی رشتہ جڑنے کا کوئی چانس ہو سکے۔

    لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ اسے شاید معلوم نہیں تھا کہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ بچوں والی عورت سے کوئی بھی شادی نہیں کرتا چاہے مرد خود بھی بچوں والا کیوں نہ ہو۔ جس اذیت سے بچنے کے لیے اس نے خلع لی تھی وہ اذیت اس کا شاید زندگی بھر کا مقدر تھی۔ ہر مرد چاہے وہ کنوارا ہو، شادی شدہ یا رنڈوہ۔۔۔ وہ انیلہ سے حرام تعلق تو قائم کرنے کے لیے تیار تھا لیکن کوئی بھی اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انیلہ بس یہی سوچتی ہے کہ

    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

    والدین سے یہی کہوں گا کہ بیٹیوں کی شادی کرتے وقت یہ لازمی یاد رکھیں کہ خوشیاں صرف پیسوں سے نہیں، میاں بیوی کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ملتی ہیں۔ صرف پیسہ ہی سب کچھ ہے تو وہ سب کچھ آپ کے پاس بھی مل رہا ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ اس رشتے کو اہمیت دیں جس میں میاں بیوی ساتھ رہیں اور الگ گھر بسائیں۔ پیسہ ضرورت تو ہے لیکن اتنا نہیں کہ اس کی وجہ سے میاں بیوی کا رشتہ سال میں دو چار ہفتوں کا رشتہ ہی رہ جائے۔

  • نظامِ شمسی کا کچرا!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کا کچرا!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    نظامِ شمسی آج سے 4.6 ارب سال پہلے اپنے انجام کو پہنچے ایک ستارے کے نیبولہ سے تشکیل پایا۔ یہ نیبولہ دراصل گیسوں اور خلائی گرد کا مجموعہ تھا جو وقت کیساتھ ساتھ گریویٹی کے زیرِ اثر جمع ہوتا گیا۔ ان میں سے ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی گیسیوں سے سورج اور نظامِ شمسی کے بڑے سیارے جیسے کہ مشتری، زحل، وغیرہ بنے جبکہ خلائی گرد سے زمین اور دیگر چٹانی سیارے جیسے کہ مریخ، زیرہ، عطارد وغیرہ۔

    مگر کچھ خلائی گرد اور گیسیں کوئی باقاعدہ سیارہ نہ بن سکے۔ یہ سیارچوں، خلائی چٹانوں، شہابیوں کی صورت پورے نظامِ شمسی میں اب بھی موجود ہیں۔ یہ نظامِ شمسی میں کم و بیش ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں کئی آج بھی زمین پر شہابِ ثاقب کی صورت گرتے ہیں اور ماضی میں بھی زمین اور دیگر سیاروں پر گرتے رہے ہیں۔

    ان سیارچوں، شہابیوں اور خلائی چٹانوں کی سب سے زیادہ تعداد مریخ اور مشتری کے درمیان کے علاقے میں ہے۔ اس علاقے کو فلکیات کی دنیا میں "مین ایسٹرآیڈ بیلٹ” کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں موجود بونے سیارے، سیارچے، شہابیے، چٹانیں مختلف سائز اور ساخت کی ہیں۔ انکا قطر چند سینٹی میٹرز سے لیکر کئی سو کلومیٹر تک ہے۔ اس علاقے کی چوڑائی زمین اور سورج کے مابین فاصلے سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ مگر ان تمام کا کل ماس محض زمین کے چاند جتنا ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ ماضی میں کسی اور سیارے کی باقیات نہیں بلکہ نظامِ شمسی میں رہ جانے والا کچرا ہے۔

    ان سیارچوں اور شہابیوں میں نظامِ شمسی اور زمین کی تاریخ چُھپی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ فلکیات اور سائنسدان شہابیوں اور سیارچوں میں بے حد دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ شہابیے جو زمین پر گرتے ہیں اُنکا خصوصی تجزیہ کیا جاتا ہے کہ ان میں ہمارے وجود کی، ہمارے آغاز کی کہانی موجود ہو سکتی ہے۔

    2007 میں ناسا نے اسی علاقے کے سب سے بڑے سیارچے ویسٹا پر ایک مشن بھیجا جو اربوں کلومیٹر کی مسافت طے کر کے 2011 میں اسکے مدار میں پہنچا۔ جسکے بعد 2015 میں یہ اسی علاقے میں سب سے بڑے سیارچے یا بونے سیارے سیریس تک پہنچا۔ اس مشن سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان سیارچوں اور بونے سیاروں کی تہہوں میں پانی ہو سکتا ہے۔ سیریس پر نامیاتی اجزا بھی ملے جو زمین پر زندگی کے وجود کی بنیاد ہیں۔ اس مشن سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان سیارچوں پر نظامِ شمسی کی تاریخ کے کئی راز چھپے ہیں۔ سیریس اب تک جیولاجیکلی ایکٹو ہے اور اسکی تہوں میں پانی مائع حالت میں ہو سکتا ہے۔ سیریس پر ایمنیویا ملنے سے یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شاید نظامِ شمسی کے باہری علاقے میں وجود میں آیا اور بعد اندرونی ایسٹرآیڈ بیلٹ میں شامل ہوا مگر اس پر مزید تحقیق جاری ہے۔