Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    دور سے اگر آپ زرافہ کو دیکھیں گے تو آپ کو یہ جانور عجیب ہی لگے گا. چھ فٹ لمبی اگلی ٹانگوں کے پیچھے دونوں ٹانگیں چھوٹی ہیں. اوپر سے گردن مینار پاکستان بنی ہوتی ہے. لیکن اتنی لمبی گردن نہیں کہ زمین کو چھو لے. اس لئے جب زرافہ پانی پیتا ہے تو بے ہنگم انداز میں دونوں ٹانگیں باہر کی طرف پھیلا کر گردن پہلے نیچے لاتا ہے.

    آپ سوچیں گے یہ صبح صبح لالہ کو زرافہ کیوں یاد آگیا.؟ تو وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ بھی زرافہ کی طرح ہی ہوتے ہیں. یہ دوسروں کو جب دیکھتے ہیں تو خود پہاڑ پر بیٹھ جاتے ہوں. کیونکہ دوسروں کو ان کے مسائل کے حل پھر ایسے بتا رہے ہوں گے جیسے پہاڑ پر بیٹھا شخص نیچے والے کو ہدایات دے رہا ہو.

    لیکن یہی شخص اپنے مسائل کو پھر ایسا دیکھتا ہے جیسے وہ مسائل نہ ہوں بلکہ کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ ہو جسے پار کرنا ہے. یہ آپ کو اور خود کو یہ یقین دلائیں گے کہ انکا قد چھوٹا نہیں بلکہ ان کے چیلنج ہی اتنے عظیم ہیں جو یہ ان کو حل نہیں کر پائے.

    آپ کو یقین نہیں تو کسی بھی محفل میں اپنے کچھ مسائل بیان کر کے دیکھیں. سب آپ کو ایسے حل بتائیں گے کہ جیسے ایک چھٹکی بھر مسئلہ ہی تو ہے. ایسے عظیم لوگوں سے بھرا یہ ملک یہ معاشرہ پھر اتنے مسائل کا شکار کیوں ہے.؟ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم سب زرافے ہیں. ہمیں دور کی چیزیں تو نظر آتی ہیں لیکن اپنے قدموں کی گھاس نہیں چر سکتے. ہم سارا دن اپنے ملک ہی کیا دنیا بھر کے بڑے بڑے مسائل کا حل بتاتے ہیں لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل حل نہیں کرسکتے.

    زرافہ کی گردن اگر نیچے نہیں آسکتی تو اسے قدرت نے ایسا بنایا ہے. لیکن ہمارے چراغ تلے جو اندھیرا ہے یہ ہم نے خود تخلیق کیا ہوا ہوتا ہے. دکھاوے کے پہاڑوں سے نیچے اتر کر اگر اپنی زندگی اپنے مسائل کیلئے ہم وقت نکالیں. ان پر بات کریں انکا سامنا کریں یہ پھر پہاڑ جیسے نہیں لگتے.

  • تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    پہلی ٹوٹی

    یہ ٹونٹی لاہور میں میری سوسائٹی کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اس کا شائد پیٹ کھل گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی ناب پوری طرح بند نہیں ہوتی لہذا اس سے پانی کی باریک دھار ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ اس ٹونٹی کا بڑا دل کرتا ہے کہ کوئی مسیحا آکر اس کے لوز موشن بند کرے۔

    پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ ایک حاجی صاحب بڑے خشوع وخضوع سے اس ٹونٹی پر وضو کررہے تھے کہ ان کا موبائل بجنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے کھلی ٹونٹی کے نیچے پیر رکھتے ہوئے ہی جیب سے موبائل نکال کر سکون سے بات کی تاکہ دوسرا عضو دھونے تک پہلا عضو خشک نہ ہو۔

    مجھ سے ٹونٹی کی بے بسی اور پانی کی بے قدرے برداشت نہ ہوئی اور حاجی صاحب سے نرم لہجے میں شکایت کی تو وہ برا منا گئے۔ کہنے لگے کیا ہم مسجد کا چندہ دوسروں سے کم دیتے ہیں۔ان لوگوں کو کیوں نہیں کچھ کہتے جو استنجا خانے میں جاکر پہلے دوتین لوٹے پانی بہاتے ہیں اور پھر اپنا کام شروع کرتے ہیں۔

    اگر ہماری یہی اجتماعی سوچ رہی تو صرف چار پانچ سال بعداس مسجد میں دوسری اور تیسری قسم کی ٹونٹیاں لگی ہوں گی جن کی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

    دوسری ٹونٹی

    اس ٹونٹی سے میری ملاقات پچھلے ماہ پشاور رنگ روڈ کی ایک مسجد میں ہوئی۔ اس کی ناب اس مکینیکل طریقے سے فٹ کی گئی تھی کہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اوپر کرنا پڑتا تھا تاکہ پانی کی قلیل فراہمی شروع ہو سکےاور دوسرے ہاتھ سے وضو کی کوشش کی جاتی۔ یہ پانی بچانے کا ایک نہایت اچھا طریقہ تھا۔ مجھ جیسے پانی ضائع کرنے والے میدانی علاقے والے کو یہ ٹونٹی ایک نری مصیبت ہی لگی کیونکہ میرے وضو کی تکمیل شک میں پڑ گئی۔ یہ شرارتی ٹونٹی مجھے پورے وضو میں چھیڑتی رہی۔لیکن اس ٹیکنیک سے یہاں پر ہر کوئی بڑے کم وقت اور کم پانی سے اپنا وضو مکمل کرکے نماز ادا کر رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ وقت پہلے شائد یہاں “پہلی قسم “ کی ٹونٹیاں لگی ہوئی ہوں گی۔

    اس مسجد کے باتھ روم بھی اس کفایت شعاری سے بنائے گئے تھے کہ آپ کوئی ایسی بڑی کاروائی نہیں ڈال سکتے تھے جس کی وجہ سے بعد میں دو دوتین لوٹے بہانے پڑیں۔ ہمیں تو یہاں چھوٹی موٹی کاروائی کی بھی ہمت نہ ہوئی کیونکہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے پبلک میں رسوا ہونے کا امکان تھا۔ باتھ روموں کے اس ڈیزائن کی وجہ سے اور کچھ ہو نہ ہو پانی کی بہت بچت ہورہی تھی۔

    واٹر مینیجمنٹ کے یہ زبردستی طریقے پشاور کے علاقے میں پانی کی فراہمی کی صورت حال میں تناو کو صاف ظاہر کر رہے تھے۔

    تیسری ٹونٹی

    یہ ٹونٹی کوئٹہ میں میرے محلے ارباب کرم خان روڈ کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اسے میں ایک دھائی سے بند ہی دیکھ رہا ہوں۔ اسے شائد عبرت کے لئے لگایا گیا ہے ورنہ ہم نے پچھلے دس سال میں اس سے پانی بہتا کبھی نہیں دیکھا۔ وضو کے لئے ایک چھوٹے سے ٹینک کا نل گیڑھ کر پلاسٹک کے چھوٹے سے لوٹے میں پانی لانا پڑتا ہے جس سے اکثر دو لوگ بھی وضو کر لیتے ہیں۔ اکثریت گھر سے وضو کرکے آنے والوں کی ہوتی ہے۔ اردگرد کی دکانوں والے تو ایک وضو سے دوتین نمازیں ادا کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔

    اس ٹونٹی سے بہتے پانی کو دیکھنا میرا ایک خواب ہے۔ یہ غم زدہ ٹونٹی بھی شائد اپنے بننے کا اصل مقصد بھول چکی ہے یا شائد پانی کے وچھوڑے کے غم سے پیرا لائز ہو چکی ہے۔ پرانے نمازی بتاتے ہیں کہ کبھی یہ بھی “پہلی قسم “ کی ٹونٹی تھی جس سے بے دریغ پانی بہتا تھا جب کوئٹہ کازیر زمین پانی ہزار فٹ سے نیچے نہیں گیا تھا اور پانی کے ٹینکر کا ریٹ ہزاروں روپے نہیں ہوا تھا۔ اب تو یہ ٹونٹی بھی بانجھ ہوگئی۔اس مسجد کے باتھ روم کو تالا لگا ہوا ہے۔

    جنتی ٹونٹی

    جنتی ٹونٹی ہم سب کے ذہن میں لگی ہے اس کی ناب ہماری سوچ کے دھارے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ٹونٹی ہم سارا دن اپنے گھر، دفتر، اسکول ، پبلک پلیس یا کاروبار کی جگہ پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے استعمال میں آنے والی ہر ٹونٹی کا پانی استعمال کرتے ہوئے اسے اپنی پانی بچانے والی سوچ کی ناب سے کنٹرول کریں گے تو کئی ٹونٹیوں کو بانجھ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو تازہ پانی کا تحفہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں۔

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    یا پھر
    ” سائنس کی تھیوری فیکٹ نہیں ہوتی۔ ”

    بچپن میں ٹی وی پر ڈاکٹر نائیک سائنس کو غلط طریقے سے پیش کرتے اور ہم سائنس کا محدود علم رکھتے ہوئے واہ واہ کرتے ۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے پتہ چلنا شروع ہوا کہ سائنس میں تھیوری کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور جب ہم کسی شے کو سائنسی تھیوری کہتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سائنس میں یہ سب سے اونچے درجے پر ہے۔ ایسی غلط فہمیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں کہ اصل سائنس سکھانے والے پیچھے ہوتے ہیں، انہیں مجمع لگانا نہیں آتا اور وہ جنکو سائنس کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی وہ مجمع لگا کر اپنے مطلب کی سائنسی تشریحات کے کبوتر نکال نکال کر عوام کو مزید جاہل رکھتے ہیں۔ تو کیا سائنس میں تھیوری لا سے کمتر یا فیکٹ سے نیچے ہے؟ آئیں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں۔

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔
    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔
    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔
    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔
    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔
    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔
    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • یو ٹیوب چینل کی مونیٹائزیشن جائز ہے یا نہیں؟ —  پروفیسر ایچ ایم زبیر

    یو ٹیوب چینل کی مونیٹائزیشن جائز ہے یا نہیں؟ — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    مفتی تقی عثمانی صاحب نے یو ٹیوب کی مونیٹائزیشن کے ناجائز ہونے کے حوالے سے ایک فتوی دیا ہے جو سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ اس موضوع پر کافی عرصہ پہلے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جو بنیادی طور برادر مغیرہ لقمان کے ساتھ ایک ٹاک شو ہے۔ میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ مونیٹائزیشن سے بچنا چاہیے اگرچہ میں اب عام طور جدید مسائل میں حلال اور حرام کے الفاظ احتیاط کے پیش نظر استعمال نہیں کرتا ہوں کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ بس اتنا کہہ دیتا ہوں کہ یہ مناسب نہیں لگتا، یا یہ درست نہیں ہے، یا یہ جائز نہیں معلوم ہو رہا، یا بہتر ہے کہ یہ نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔ ویڈیو کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے۔

    دوسرا اس مسئلے کو دیکھنے کا پہلو صرف حلال حرام کا نہیں ہے۔ آپ دیکھیں کہ انڈین موٹیویشنل اسپیکر سندیپ کا یو ٹیوب چینل 26 ملین سبسکرائبرز کے ساتھ مونیٹائز نہیں ہے حالانکہ حلال حرام اس کا مسئلہ بھی نہیں ہے کہ وہ تو ہندو ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ میری بات کے درمیان ایڈ چل جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایڈ زیادہ اہم ہو گیا اور میری بات پیچھے رہ گئی۔ میں اپنی بات کی قدر کم نہیں کرنا چاہتا۔ یہی حال بہت سے اور بھی غیر مسلم مشاہیر کا ہے کہ انہوں نے چینل اسی بنیاد پر مونیٹائز نہیں کروایا ہوا۔

    اگرچہ اب یو ٹیوب نے کانٹینٹ کریئیٹرز سے معاہدہ بدل دیا ہے اور نئے معاہدے کے مطابق وہ آپ کے چینل پر ایڈ چلا سکتا ہے لیکن وہ چلاتا نہیں ہے۔اچھے چینل یعنی جس پر سبسکرائبر زیادہ ہو، تو اس پر وہ ہزار میں سے ایک کو ایڈ دکھاتا ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہاں البتہ جس کا چینل نیا ہے تو اس پر زیادہ ایڈز نظر آ سکتے ہیں بھلے وہ مونیٹائز نہ بھی ہو۔ یہ یو ٹیوب کی نئی پالیسی کے مطابق ہے۔ لیکن جیسے جیسے آپ کا سبسکرائبر بڑھے گا تو ایڈ کم ہو جائے گا۔ اگر یو ٹیوب آپ کے چینل پر پچاس فی صد بھی ایڈ چلانا شروع کر دے جبکہ وہ مونیٹائز نہ ہو تو پھر میرا مشورہ ہے کہ آپ اس کو مونیٹائز کروا لیں اور اس کا پیسہ اسی چینل کی مارکیٹنگ اور گروتھ میں لگا دیں۔ یہ درست معلوم ہوتا ہے۔

    فی الحال تو صورت یہ ہے کہ تلاوت قرآن کے چینلز پر واہیات اشتہارات چل رہے ہوتے ہیں۔ تلاوت سنتے سنتے اچانک کوئی بے ہودہ قسم کا اشتہار چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی درست نہیں ہے کہ یو ٹیوب آپ کو وہی اشتہار دکھاتا ہے، جو آپ دیکھتے ہیں۔ کچھ اشتہار تو ایسے ہیں جو ہم سب نے دیکھے ہوں گے اور ہر ویڈیو پر دیکھے ہوں گے جیسا کہ ان ڈرائیو، فوڈ پانڈا، گرلز گرامر وغیرہ وغیرہ کیونکہ اشتہار دکھانے والے نے بھی آئیڈیئنس سیٹ کی ہوتی ہے کہ کسے دکھانا ہے۔ اور عام طور اشتہارات میں میوزک اور عورت ہے۔ پھر آپ اس کو جائز بھی سمجھتے ہوں لیکن کسی درس قرآن یا درس حدیث کے دوران اس کا آ جانا کیسے مناسب ہو سکتا ہے جبکہ انسان یہ بھی پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے درس کے دوران کوئی شاگرد یا سامنے بیٹھا ہوا بھی اس کی بات کاٹ دے۔ یہ اشتہارات آپ کی بات کی قدر کم کر دیتے ہیں اور دینی بات کی قدر کم کروانا مناسب امر نہیں ہے۔

    اور جو لوگ مونیٹائزیشن کے جواز کے بھی قائل ہیں، وہ بھی اسے فرض نہ بنا لیں۔ دیکھیں، آج کل کے زمانے میں روپیہ پیسہ کون چھوڑتا ہے، کسے برا لگتا ہے کہ گھر بیٹھے اس کے پاس پیسے آئیں۔ پس اگر کسی نے چینل مونیٹائز نہیں کروایا تو اسے تحسین کی نظر سے دیکھیں کہ کم از کم قیامت کے دن یہ تو کہہ سکتا ہے کہ یا اللہ، آپ کی خاطر یہ روپیہ پیسہ چھوڑ دیا تھا اگرچہ فتوی بھی تھا لیکن مجھے سمجھ ہی یہی آیا تھا کہ یہ پیسہ درست نہیں ہے۔ تو کیا اللہ عزوجل اسے اس تقوی پر آخرت میں کچھ اجر نہ دیں گے جبکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

    پھر جو ہم حدیثیں پڑھتے ہیں کہ حلال بھی واضح ہے، حرام بھی واضح ہے، اور اس کے مابین مشتبہ امور ہیں، جس نے ان سے اپنے آپ کو ان مشتبہ امور سے بچا لیا تو اس نے اپنا دین اور عزت دونوں بچا لیے۔ تو اب یہ کم از کم مشتبہ امور میں تو ہے اور علماء کو مشتبہات سے بھی بچنا چاہیے کہ ان کے مقام اور مرتبے کا تقاضا یہی ہے۔ واللہ اعلم

  • سندھ کےعظیم شاعرشیخ مبارک علی ایاز کا یوم وفات

    سندھ کےعظیم شاعرشیخ مبارک علی ایاز کا یوم وفات

    شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز (پیدئش: 23 مارچ، 1923ء – وفات: 28 دسمبر، 1997ء) سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

    آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 23 مارچ، 1923ء میں شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ آپ نے "شاہ جو رسالو” کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔

    23 مارچ، 1994ء کو آپ کو ملک سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہلال امتیاز 16 اکتوبر، 1994ء کو فیض احمد فیض ایوارڈ ملا۔ شیخ ایاز کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے 28 دسمبر، 1997ء کو کراچی میں ہوا۔

    کتابیات
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)نیل کنٹھ اور نیم کے پتے۔ (اردو)
    ۔ (2)الوداعی گیت – الوداعی گيت
    ۔ (3)جو بیجل نے اکھیا (پنجابی)
    نثر
    ۔۔۔۔
    ۔ (1)سفید وحشی (سندھی کہانیاں)
    ۔ (2)جی کاک ککوریا کاپری (سندھی میں خط)
    ۔ (3)جگ مڑوئی سپنو (سوانح عمری)
    ۔ (4)ساھیوال جی ڈائری

  • روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    سرگیئی الیکساندرووچ یسینن روسی (پیدائش: 3 اکتوبر 1895ء – وفات: 27 دسمبر 1925ء) روس کے غنائی شاعر تھے۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یسینن 3 اکتوبر 1895ء کو روسی سلطنت کے صوبے ریازان کے گاؤں کنستن تینووہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کلیسائی استادوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ سرگیئی یسینن سولہ سترہ سال کی عمرمیں پہلی نظمیں لکھیں اور سینٹ پیٹرزبرگ گئے جہاں ان کی ملاقات الکساندر بلوک، گرودیتسکی، کلیوئیف اور دوسرے شاعروں ادیبوں سے ہوئی۔ ڈیڑھ سال انھوں نےسینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اپنے گاؤں واپس آگئے۔

    انھوں نے اپنی خود نوشت میں 1925ء میں لکھا کہ ”انقلاب کے برسوں میں پوری طرح سےانقلاب اکتوبر کی طرف تھا لیکن ہر چیز کو میں نے اپنی طرح سے کسانی رجحانات کے ساتھ قبول کیا۔“

    باکو کے 26 کمیساروں کے بارے میں (جنہیں رجعت پرست انقلاب دشمنوں نے مصالحت کا دھوکا دے کر قتل کر دیا تھا) ان کی نظم یسینن کی بے مثال طبائی کی بہترین مثالوں میں ہے۔ یہ نظم انھوں نے ماورائے قفقاز میں اپنے قیام کے دوران میں لکھی۔

    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    ماں کے نام خط
    روس سوویت والا
    الوداع
    خزاں
    میں اپنے گاؤں کا آخری شاعر ہوں
    پوگاچیف
    ایک خاتون کے نام خط
    کالاشخص
    کچلوف کا کتا

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    روس کے غنائی شاعر سرگیئی یسینن 30 سال کی عمر میں 28 دسمبر 1925ء کو لینن گراد (موجودہ سینٹ پیٹرزبرگ)، سویت یونین میں انتقال کر گئے۔

  • پروفیسر سحر انصاری:اردوزبان کے معروف شاعراور ادیب بھی

    پروفیسر سحر انصاری:اردوزبان کے معروف شاعراور ادیب بھی

    عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل
    کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

    پروفیسر سحر انصاری

    27 دسمبر 1941 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو زبان کے معروف شاعر، ادیب ، نقاد ، ماہرِتعلیم اورمیرے استادِ محترم پروفیسر سحر انصاری 27 دسمبر 1941 کو اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے 1973 میں بلوچستان یونیورسٹی سے بطوراستاد پیشہ وارانہ سرگرمی کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں جامعہ کراچی کے شعبہ تدریس سے وابستگی اختیار کی ۔ پہلی کتاب نمود 1976 میں شایع ہوئی جسے بے حساب پزیرائی حاصل ہوئی۔ خدا سے بات کرتے ہیں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2015 میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
    ..
    جانے کیوں رنگ بغاوت نہیں چھپنے پاتا
    ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں
    ..
    صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں
    حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں
    ہجوم اپنی جگہ تاریک جنگل کے درختوں کا
    پرندے پھر بھی شاخ آشیانہ یاد رکھتے ہیں
    ہمیں اندازہ رہتا ہے ہمیشہ دوست دشمن کا
    نشانی یاد رکھتے ہیں نشانہ یاد رکھتے ہیں
    ہم انسانوں سے تو یہ سنگ و خشت بام و در اچھے
    مسافر کب ہوا گھر سے روانہ یاد رکھتے ہیں
    دعائے موسم گل ان کو راس آ ہی نہیں سکتی
    جو شاخ گل کے بدلے تازیانہ یاد رکھتے ہیں
    ہماری سمت اک موج طرب آئی تو یاد آیا
    کہ کچھ موسم ہمیں بھی غائبانہ یاد رکھتے ہیں
    غرور ان کو اگر رہتا ہے اپنی کامیابی کا
    سحرؔ ہم بھی شکست فاتحانہ یاد رکھتے ہیں

  • افسانہ نویس  و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    قیصر نذیر خاورؔ یکم اگست 1953ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ رہائش انارکلی میں تھی. 1976ء میں پنجاب یونیورسٹی سے جیالوجی اور 1983ء میں پبلک ایڈمنسٹریٹریشن میں ڈگریاں حاصل کیں. اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن میں ملازم ہوئے اور بطور ڈائریکٹر جنرل (ایجوکیشن) ، او پی ایف ریٹائر ہوئے ۔
    ترقی پسند لٹریچر کی اشاعت کیلئے دوستوں نے مل کر جو ادارہ مکتبہ فکر و دانش قائم کیا تھا، اس کے شرکاء نے اگرچہ الگ الگ کئی ادارے قائم کرلئے لیکن مکتبہ فکرودانش کا نام قیصر نذیر خاور نے زندہ رکھا. اپنی تمام کتابیں اسی ادارے کے نام سے شائع کیں.

    قیصر نذیر خاور کی تخلیقات و تراجم :

    انگولا سے زائر تک ، 1976
    یک سِنگھے ‘ ( بارہ افسانے )، جاپان کے مشہور ادیب ہاروکی موراکامی کے منتخب افسانوں کے اردو تراجم 2012
    حکایات ِ عالم‘ ( 101 حکایات کا انتخاب اور اردو ترجمہ، 2018ء،
    ۔جولیٹ اور دیگر کہانیاں، (نوبل انعام یافتہ ادیبہ ایلس منرو کے دس منتخب افسانوں کا ترجمہ، 2018ء،

    ۔عالمی ادب سے ایک انتخاب ، ( دنیا بھر سے 25 منتخب ادیبوں کے تعارف کے ساتھ ان کے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ 2018ء،

    ۔عالمی ادب اور افسانچہ، (196 افسانچے)، 2018ء،

    ۔”دوسری نسل کا المیہ”، برناڈ شیلنک (Bernhard Schlink) کے جرمن ناول Der Vorlese اور پر مبنی فلم The readerکے اسکرپٹ کا ترجمہ 2019ء

    ۔”وارفکشن: سرحد کے آس پاس کہیں اور دیگر افسانے”، (منتخب افسانوں کےاردو تراجم اور طبع زاد تحریریں) ، 2019ء،
    ۔”اپنی محفل سے مت نکال ہمیں”، کازُوا اِشیگورو کے ناول Never Let Me Go کا اردو ترجمہ اور مضامین، 2020ء،

    "جھوٹ کی سرزمین اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب 28 افسانوں کا اردو ترجمہ) ، 2020ء

    "انجان نگر میں کھلی کھڑکی اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ) ، 2020ء

    "مچھلیوں کی خودکشی اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ)، 2020ء

    "کیوں ھوئے خوار و زبوں”، جے ایشر (Jay Asher) کے ناول THIRTEEN REASONS WHY کا اردو ترجمہ، 2020ء،
    کلب نا آفریدہ ( کامریڈ کلب علی شیخ کے مضامین )، 2021ء

    "انُوکل اور دیگر کہانیاں”، مصنف: ستیہ جِت رے، قیصر نذیر خاور، 2021ء
    "دی فادر ، دی سَن اینڈ دی ہولی گھوسٹ”، (طبع زاد ناولٹ) 2022ء

    "ادھ کھلے دریچے”، (طبع زاد ناولٹ)، 2022ء
    "فائٹ کلب ” ، فینش ادب: افسانے، شاعری، بچوں کی کہانیاں ، (Finland Literature) ، قیصر نذیر خاور، غلام حسین غازی 2022ء

  • ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    اقوام متحدہ کا 1948 کاآرٹیکل 25 انسانی حقوق سے متعلق ہے جس میں صحت اور فلاح و بہبود بشمول کھانا ، لباس ، رہائش اور طبی دیکھ بھال اور ضروری معاشرتی خدمات ہرشہری اوراس کے خاندان کابنیادی حق تسلیم کیا گیاہے،پاکستان کے آئین میں عوام کا بنیادی حق صرف تسلیم کیا گیاہے،لیکن آئین میں ایک ایساسقم بھی موجود ہے جو تشویش کاباعث ہے کہ آج تک آئین میں صحت کوبنیادی حق کا درجہ نہیں دیا گیا ، آئین کے مطابق صحت صرف ایک اصولی حق ہے۔ یہ سقم عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں مسائل سے دو چار کرتا ہے اورافسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومتیں WHOکی سفارشات کے مطابق صحت کا بجٹ مختص نہیں کرتیں اور جوبجٹ مختص ہوتا ہے اسے بھی ایمانداری سے استعمال نہیں کیاجاتاجوکہ کرپشن کی نظرہوجاتا ہے ۔

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور نت نئی بیماریوں کی دریافت سے ایک پریشان کن صورتحال پیداہوچکی ہے ،غربت اوربے روزگاری کی شرح بڑھ چکی ہے ،عوام ذہنی و معاشی پریشانیوں میں مبتلاہے،وہیں علاج معالجہ کی مناسب سہولیات کا فقدان ہے، سرکاری ہسپتالوںکی حالت ایسی ہے کہ جہاں مریضوں اوران کے لواحقین کوہروقت اذیت کاسامناکرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں کینسر،چھاتی اور دل کی مختلف بیماریاں عام لوگوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہیں،ان بیماریوں میں مبتلا ہونے کی کئی وجوہات ہیں ،اس بات میں کوئی شک نہیں کہ steroidکا استعمال خطرناک حد تک ہورہا ہے، جوکینسر میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ اس کے علاوہ گٹکے، پان، چھالیہ اور مین پوری کی وجہ سے گلے کا کینسر بھی بڑھ رہا ہے۔ جب کہ ان سب سے خطرناک صورتحال تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہوچکی ہے ، پاکستان میں ہر سال تقریبا ایک لاکھ سے زائد افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کرمرجاتے ہیں۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بڑی تعداد میں لوگ مرتے ہیں۔ان بیماریوں میں منہ، حلق، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق ملک بھر کی تقریباََ 32 فیصد بالغ مردسگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ سگریٹ نوش بالغ خواتین آبادی کا کل آٹھ فیصد ہیں۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہاتو2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا ہونے والے 25فیصد افراد اور پھیپھڑوں کے کینسرزدہ 75فیصد افراد کی ہلاکت کا براہ راست تعلق سگریٹ نوشی سے ہوتاہے دوسری طرف تمباکو نوشی کا بینائی پر اثر ہونا ایک معلوم حقیقت ہے تاہم ایسوسی ایشن آف آپٹومیٹرسٹس کا کہنا ہے کہ ہر پانچ تمباکو نوش افراد میں سے صرف ایک فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق تمباکو کی کم قیمتوں کی وجہ سے 10.7 فیصد پاکستانی نوجوان جن میں 6.6 فیصد لڑکیاں اور 13.3 فیصد لڑکے شامل ہیں، تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ تقریباََ 1200 سے زائدپاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔بچوں کو سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا ،بچے توصرف شوقیہ سگریٹ پیتے ہیں ،اس کی ذمہ دار ہماری حکومتیں ہیں ، 80 ارب روپے سالانہ تقریبا سگریٹ پر پھونک دیئے جاتے ہیں 2019 ،کی ایک ریسرچ کے مطابق ملک کوان بیماریوں اور اموات کی وجہ سے 615ارب کا نقصان ہو رہا ہے۔

    ایک ایسی لیگل انڈسٹری جو ہمیں سالانہ اتنا نقصان دے رہی اسے کیوں سہولتیں دی جا رہی ہیں، ٹیکس کی مدمیں اس تمباکو انڈسٹری سے سالانہ150 ارب اکٹھا ہوتا ہے جبکہ نقصان زیادہ ہو جاتا ہے۔ پوری دنیا سگریٹ پر ٹیکس لگاتی ہے ،عمران خان کی حکومت میں اس کی کابینہ نے ہیلتھ لیوی بل منظورکیا لیکن ایف بی آر کی کالی بھیڑوں نے یہ کہہ کر سگریٹ پر ہیلتھ لیوی کا اطلاق نہ ہونے دیا کہ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق صحت کاشعبہ صوبائی حکومتوں کے دائرہ میں آتاہے اس لئے وفاق تمباکوکے استعمال پر صحت ٹیکس یا ہیلتھ لیوی نافذہی نہیں کرسکتا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرسابق حکومت کامنظورشدہ بل کے مطابق سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذکردی جائے تو اس مد میں حکومت 40سے 50 ارب سالانہ ٹیکس لے قومی خزانے میں جمع کرسکتی ہے۔لیکن اس وقت ٹوبیکومافیاحکومت پراثرانداز ہے اوراتناطاقتورہے کہ وہ اپنی پالیسیاں بناکرحکومت سے نافذ کرارہے ہیں،یہاں تک کہاگیا کہ ایک وفاقی وزیرصاحبہ کاخاوندایک انٹرنیشنل ٹوبیکوکمپنی کاکنٹری ہیڈ ہے جس کی وجہ سے پالیسی میکرزگونگے ،بہرے اور اندھے بنے بیٹھے ہیں ،ہم سب پاکستانیوں کو یک زبان اورایک آوازہوکر ان پالیسی میکرزکوبتانا ہوگا اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو لاگو کراکے اپنے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔زندہ قومیں ہمیشہ اپنے مستقبل کیلئے پہلے سے ہی منصوبہ بندی کرلیتی ہیں ،ایک خبرکے مطابق نیوزی لینڈ میں ایک نئے قانون کی منظوری دی گئی ہے جس کا مقصد آنے والی نسل کے لیے سگریٹ خریدنا قانونی طور ناممکن بنانا ہے، منظور کیے گئے قانون کے تحت 14 سال یا اس سے کم عمر افراد کے لیے زندگی بھر کے لیے سگریٹ خریدنا ناممکن بنایا جائے گا،نیوزی لینڈ کی ایسوسی ایٹ وزیر صحت عائشہ ورال نے بتایا کہ قانون کی منظوری سے ہزاروں افراد زیادہ لمبی اور صحت مند زندگی گزار سکیں گے جبکہ تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں جیسے کینسر، ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت دیگر پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالرز بچ سکیں گے۔اس قانون کے مطابق یکم جنوری 2009 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو کبھی بھی تمباکو فروخت نہیں کیا جاسکے گا،یعنی 50 سال بعد بھی کوئی فرد نیوزی لینڈ میں سگریٹ خریدنے کی کوشش کرے گا تو اسے اپنے شناختی کارڈ سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم از کم 63 سال کا ہے،نئے قانون میں کہا گیا ہے کہ سگریٹ میں نکوٹین کی مقدار میں ڈرامائی حد تک کمی کی جائے گی جبکہ ان کی فروخت عام دکانوں کی بجائے مخصوص ٹوبیکو اسٹورز میں ہوگی۔عائشہ ورال نے پارلیمان میں خطاب کے دوران کہا کہ ایسی پراڈکٹ کو فروخت کی اجازت دینے کی کوئی اچھی وجہ نظر نہیں آتی جس کو استعمال کرنے والے 50 فیصد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد ہم مستقبل میں اس لت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

    دنیا اپنے بچوں کو لمبی اورصحت مندزندگی دینے کیلئے کتناسنجیدگی کامظاہرہ کررہی ہے، لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے کیونکہ ٹوبیکو انڈسٹری نے پوری طاقت لگا کر حکومت میں بیٹھے کرپٹ لوگوں کے ساتھ ملکر ساز باز کی اور تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس لاگو نہیں ہونے دیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آج ہمارا یہ عالم کہ ہے کہ ہم دنیا سے پیسے مانگ رہے ہیںلیکن ہمارے خود غرض حکمران اور پالیسی میکر سیگریٹ پرٹیکس کیوں نہیں لگاتے،حالانکہ پیسہ موجود ہے ٹیکس لگائیں، پیسہ کنزیومر نے دینا ہے، ہیلتھ لیوی کا بنیادی مقصد ٹوبیکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے ،جبکہ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے روزانہ 500 کے قریب اموات ہوتی ہیں۔

    شکاگو میں یونیورسٹی آف الینوائے، انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ ریسرچ اینڈ پالیسی کے پروفیسر فرینک جے چلوپکا کا کہنا ہے کہ تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافے کو بڑے پیمانے پر تمباکو کے استعمال اور اس کے نتائج کو کم کرنے کے لیے ایک انتہائی موثر حکمت عملی سمجھا جاتا ہے، 100 سے زیادہ تجربات سے یہ ثابت ہواہے کہ، بشمول کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد واضح طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ تمباکوپر بھاری ٹیکس، تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ہے جبکہ ساتھ ہی ساتھ حکومت کو آمدنی کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بھی فراہم کرتا۔ تمباکو کے ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ جو تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتا ہے موجودہ تمباکو استعمال کرنے والوں کو استعمال کرنے سے روکنے اور ممکنہ نئے صارفین کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کی ترغیب دیتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں اور غریبوں پر پڑتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے تمباکو پر ٹیکس لگانے کو سگریٹ نوشی کی روک تھام کیلئے بہترین طریقوں میں شامل کیا ہے

    نتیجہ کے طور تمباکو پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ تمباکو کنٹرول کی ایک انتہائی موثر حکمت عملی ہے اور صحت عامہ میں نمایاں بہتری کا باعث بنتی ہے۔ صحت پر مثبت اثرات اس وقت بھی زیادہ ہوتے ہیں جب تمباکو ٹیکس میں اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنیوں میں سے کچھ کو تمباکو کنٹرول، صحت کے فروغ اور/یا صحت سے متعلق دیگر سرگرمیوں اور پروگراموں میں مدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر، مخالفانہ دلائل کہ زیادہ ٹیکس سے نقصان دہ معاشی اثرات مرتب ہوں گے، یہ سب غلط دعوے ہیں یا پھرحد سے زیادہ انہیں بڑھاچڑھا کربیان کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں سگریٹ اتناسستاہے کہ ایک ڈبی کی قیمت ایک ڈالرسے بھی کم ہے ،سگریٹ کی قیمت کم ہونے کی وجہ ہیلتھ لیوی لاگونہ ہوناہے اب وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف کوچاہئے کہ تمباکونوشی کے معاملے کوسنجیدہ لیکرسگریٹ پر بھاری ایکسائزٹیکسز کے ساتھ ہیلتھ لیوی کے نافذکرنے کااعلان کریں ،پاکستان کے کل کومحفوظ بنانے کی خاطراپنے کسی وزیر مشیر کے ذاتی مفاد کو نہ دیکھیں فی الفورسگریٹ پرہیلتھ لیوی لگاکرٹیکس وصولی پرعملدآم دکرائیں،ہیلتھ لیوی اور دیگرٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کے استعمال میں خودبخود کمی واقع ہو گی اورسگریٹ نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والی ہماری نوجوان نسل بھی ہلاکت سے بچ جائے گی۔ حکومت کے اس اقدام سے سالانہ اضافی ریونیو کے علاوہ بیماریوں پرخرچ ہونے والے اربوں روپے کی بچت بھی ہوگی ۔سیلاب نے جس طرح پاکستان میں تباہی مچائی اس سے پاکستان کی معیشت تباہ ہوگئی،اور اس وقت پاکستان کوخطرناک معاشی بحران کاسامنا ہے، ہیلتھ لیوی نافذ ہونے سے حکومت کو معاشی بحران پرقابوپانے میں کافی حدتک معاون ثابت ہو گی ،پاکستان کے معاشی حالات کودیکھتے ہوئے تمباکو پرہیلتھ لیوی کانفاذازحدضروری ہوچکا ہے ۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    جس ملک میں سگریٹ سستا اور روٹی مہنگی ہو۔ اس ملک میں آپ تمباکو نوشی کے خلاف جتنی مہمیں چلا لیں۔ کچھ فائدہ نہیں۔ کیونکہ جہاں ایک روٹی 12 روپے کی جبکہ ایک سگریٹ 02 روپے میں بھی مل جاتا ہو، وہاں اس لت سے کون رکے گا۔۔ تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں اگر کامیاب ہونا ہے تو ایک ہی ہتھیار ہے، "ہیلتھ لیوی”۔ ہیلتھ لیوی بڑھا کر نا صرف تمباکو نوشی میں کمی کی جاسکتی ہے۔ بلکہ سالانہ 40 ارب سے زائد کا ریونیو بھی بچایا جا سکے گا۔ 2018 میں تمباکو نوشی کے متعلق ایک تحقیق سامنے آئی جس کے مطابق تمباکو میں 7 ہزار سے زائد کیمیکلز ہوتے ہیں۔جن میں سے 70 کے قریب کینسر کا سبب بنتے ہیں۔تمباکو نوشی سے جہاں دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں، وہیں سر کے بال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بالوں کی جڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔ جس سے گنج پن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کم مقدار میں سگریٹ نوشی، صحت کے لیے نقصان دے نہیں ہے۔مگر روازنہ صرف ایک سگریٹ پینا بھی جان لیوا امراض کے جنم لینے کے لیے کافی ہے۔ لندن کالج یونیورسٹی نے ایک تحقیق کی۔ جس کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ بھی جان لیوا امراض مرتب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ایک سگریٹ کچھ عرصہ تک امراض قلب اور فالج جیسے امراض کا خدشہ بڑھا دیتا ہے۔

    نوجوان نشہ شروع کیوں کرتے ہیں؟:

    ؎ پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
    پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
    تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
    میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
    سمجھنا مت اس کو میری عادت
    یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
    یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
    میں تیری یادیں جلا رہا ہو

    آج کل کی نوجوان نسل محبت میں ناکامی پر سگریٹ نوشی کو اولین فریضہ تصور کیے بیٹھی ہے۔ ادھر محبوب نے بے رخی دیکھائی اور ادھر مجنوں نے ریلوے کے انجن کی طرح فضا میں دھواں بکھیرنا شروع کردیا۔ جبکہ بعض نوجوان گھریلو ناچاکی اور سماجی دباؤ کے سبب بھی سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔
    ؎ سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    ہم سگریٹ کو نہیں پی رہے ہوتے دراصل سگریٹ ہمیں پی رہا ہوتا ہے۔ وقتی غم اگرچہ کم کر بھی دیتا ہو۔مگر اس سے جو امراض لاحق ہوتے ہیں۔۔ان کا کیا؟

    تمباکو نوشی اور اسلام:
    اسلام بلاشبہ دین کامل ہے۔ اور دنیا کے تمام شعبوں میں بہترین رہنما بھی۔ عبادات و معاملات سے لے کر کھانے پینے تک، ہر پہلو زندگی پر کامل اصول و ضوابط بتانے والا یہ دین ہمیں تمباکو نوشی سے پرہیز کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛
    "(نبی مکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم) ان (اہلِ ایمان) کے لیے پاکیزہ صاف ستھری چیزیں حلال بتاتے ہيں اورخبائث کو حرام کرتے ہيں”۔
    الأعراف: 157

    تمباکو نوشی مال کے ساتھ ساتھ جان کی بھی دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے فرمایا ہے؛
    "وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ”
    (اپنے آپ کوقتل نہ کرو)۔
    النساء: 29
    جبک نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛

    "ہر نشہ آور چیز ‘خمر’ (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا”۔

    تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے طریقے:
    1. تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مراقبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق تمباکو نوشی کے عادی افراد کو اس سے چھٹکارا پانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
    2. ورزش بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنا میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ کیونکہ ورزش سے جسم میں نیکوٹین کی طلب میں کمی ہوجاتی ہے۔
    3. بفیلو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے زیادہ استعمال سے بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مدد ملتی ہے۔
    4. فارغ اوقات میں نئے نئے مشاغل بھی اس بری لت سے نکلنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
    5. آکو پینکچر تھراپی
    6. یونیورسٹی آف میامی کے سکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق کان میں چند سیکنڈز کجھلی کرنے سے بھی سگریٹ نوشی کی خواہش دم توڑ سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف واحد ہتھیار "ہیلتھ لیوی”:
    دنیا میں کئی ممالک تمباکو نوشی جیسی بری لت پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مگر آج بھی پاکستان بدقسمتی سے اس لت میں مبتلا ہے۔ یہاں 20 فی صد آبادی تمباکو نوشی کی لت کا شکار ہے۔ کیونکہ یہاں سگریٹ روٹی سے زیادہ سستا ہے۔ یہاں لوکل کمپنی کا ایک سگریٹ 2سے 3 روپے میں جبکہ کسی برائنڈ کا ایک سگریٹ 8 سے 10 روپے میں بآسانی مل جاتا ہے۔ جبکہ ایک روٹی کی قیمت آج کل 12 سے 15 روپے ہے۔

    تمباکو نوشی کے باعث امراض کے سبب صحت کی لاگت تقریباً 615 ارب روپے ہے۔ اور یہ لاگت پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فی صد بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک بلین تمباکو کا استعمال کرنے والے افراد میں سے تقریبا 6 ملین افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ شہری اس بری لت کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر حکومت ہیلتھ لیوی میں اضافے کر کے اس لت پر قابو پا سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے معاشی اور جانی نقصان کو کم کرنے کا واحد حل "ہیلتھ لیوی” میں اضافہ ہے۔ ہیلتھ لیوی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پبلک مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہونی چاہیے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی اور سزائیں ہونی چاہئیں۔ پبلک مقامات ، ٹرانسپورٹ، پارکس اور سکول و کالجز میں تمباکو نوشی پہ عائد پابندی پر عملدرآمد تو آج تک نہ ہوسکا۔ اگر ہو بھی جائے اس سے نجات کے لیے قانون سازی اور یہ معمولی سزائیں ناکافی ہیں۔اس کے لیے ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں اعجاز الحق عثمانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان