Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    رائیٹر : عمر یوسف
    ایم فل سکالر ؛پنجاب یونیورسٹی لاہور،

    ہیلتھ لیوی کیا ہے ؟
    بنیادی طور پر ہیکتھ لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو مجوزہ طور پر صحت کے لیے لگایا جاتا ہے ۔ تاکہ ناگہانی آفات اور بیماریوں کے وقت اس پیسہ کو عوام کی فلاح و بہبود پر لگایا جاسکے ۔
    چنانچہ ایسی اشیاء جو صحت کو نقصان پنچاتی ہیں ان پر ٹیکس لگا کر دو طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
    ان نقصان دہ اشیاء کے مہنگا ہونے کے باعث ان کی خرید و فروخت میں واضح کمی لائی جاسکتی ہے اور اس ٹیکس کی بدولت صحت کے شعبہ کو مستحکم و مستقل بنایا جاسکتا ہے ۔

    ہیلتھ لیوی کیوں ضروری ہے ؟
    معاشرہ ہمیشہ اچھے اور برے افراد کا مجموعہ رہا ہے ۔ یہاں خیر اور شر کا امتزاج ہی زندگی کی عکاسی کرتا ہے ۔ چانچہ شریر لوگوں کو جب حرص و ہوس اور لالچ ستاتی ہے تو وہ دولت کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز راہ اپنانے پر تیار ہوجاتے ہیں ۔یہی معاملہ اشیاء خورد و نوش کے حوالے سے ہے ، اشیاء مضرہ اور صحت کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کے حوالے سے ہے ۔ حرص و ہوس اور لالچ کے مارے جب اپنی اصلیت پر آتے ہیں تو وہ ایسی اشیاء فروخت کرتے ہیں جس میں واضح احتمال ہوتا ہے کہ یہ صحت کو برباد کردیں گے جیسے کہ شوگری ڈرنکس ، جنک فوڈز ، اور تمباکو نوشی پر مبنی پراڈکٹس وغیرہ ۔ حریص و لالچی کو اور مال و دولت کے پجاری کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس سے لوگوں کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ دھرا دھر ان کو بیچ کر دولت و دھن اکٹھی کرتا ہے تاکہ اپنی لالچ کی تسکین کی جاسکے ۔چنانچہ ایسے میں وقت کے حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ ان مہلک اشیاء کی روک تھام اور انسداد کے لیے کوشش کرے اور ان کے سدباب کا انتظام کرے ۔اور یہ انسداد اور سد باب ہیلتھ لیوی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے ۔

    تمباکو نوشی کی پاکستان میں صورتحال:
    رپورٹس کے مطابق پاکستان میں صرف نوجوانوں کی تعداد ایسی ہے جو کثرت سے سگریٹ نوشی کرتی ہے ۔ نوجوان تو نوجوان پختہ و بوڑھے عمر کے افراد کی بھی بہت بہتات ہے ۔ صرف ایک دن میں اتنے بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی تشویشانک ہے اور یہ کام حساس ہونے کے باعث سخت حالات سے دوچار ہونے کا عندیہ دیتا ہے ۔

    نشہ آور ادویات کی کثرت اور اسباب
    موجودہ حالات سخت تشویشناکی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہر نوجوان نشہ کی لت کا شکار ہے ۔ اور مختلف طرح کے نشے آزماتے ہیں ۔جن کے مراحل بتدریج بڑھتے جاتے ہیں ۔ اگر ہم ان مراحل کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کا سبب انتہائی معمولی نوعیت کا ہوتا ہے۔ نوجوان شوق شوق میں پہلے سادہ اور عام سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور پھر یہ عام سگریٹ ان کو مزید بڑھے نشے کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ نشہ کی روک تھام کے لیے جہاں دیگر اقدامات کیے جاتے ہیں وہیں پر ہیلتھ لیوی کا اطلاق کرکے بھی اس ناسور سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے ۔ اسی میں اس موذی عادت اور مہلک نشے سے چھٹکارے کی راہ ہے ۔

    پاکستان اور نشہ آور ادویات کا بڑھتا ہوا رجحان۔
    پاکستان میں جہاں تعلیمی اداروں کے طلباء اس مہلک عادت کا شکار ہیں وہیں پر پسماندہ علاقوں کے نوجوان بھی ان ادویات کا استعمال کرکے اپنی محرومیوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنانچہ برکی ہڈیارہ کے علاقے نڑور میں صرف ایک سال میں چالیس نوجوان اس مرض کی وجہ سے راہ عدم کے مسافر بنیں اور چالیس گھروں کے کفیل سینکڑوں لوگوں کو لاوارث چھوڑ گئے ۔
    دوسری طرف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء نشہ کی لت میں مبتلاء ہوکر بجائے ڈگری حاصل کرنے کے کسی ری ہیب سنٹر میں داخل ہوتے ہیں اور پھر اس لت کا شکار ہونے کی کشمکش میں میں زندگی تباہ کردیتے ہیں ۔ جب اتنے سنگین نتائج نکل رہے ہوں تو حاکم وقت کا فرض ہے کہ وہ اس کے سدباب کا چارا کرے اور اس کے لیے بنیادی طور پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ثمر آور اقدام ثابت ہوگا ۔

    حفظان صحت کے قوانین
    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ایسے تمام اقدامات بھی اٹھائے جس سے شہریوں کی جان مال کا تحفظ ہو۔ چنانچہ صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں سے نجات دینے کے لیے جہاں صحت کے مراکز بنانا ضروری ہے وہیں پر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تمام چیزیں جو انسان کو نقصان پہنچانے کا موجب بنتی ہیں ان سے بھی چھٹکارا دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہیلتھ لیوی کو اپلائے کرکے اشیاء مضرہ کے فروغ سے پہلے ہی اس کا سد باب کردیا جائے ۔

    سن ٹیکس
    گذشتہ دنوں حکومت وقت نے سگریٹ نوشی پر سن ٹیکس کا آغاز کیا جو کہ اپنی جگہ پر احسن اقدام ہے اس کے ساتھ ہی ہیلتھ لیوی کا دائرہ ذرا وسیع ہے جس میں تمام اشیاء مضرہ کے اوپر ٹیکس لگا کر دو طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ جہاں پر اشیاء مضرہ کا دائرہ چھوٹا ہوگا وہیں پر ٹیکس کی کولیکشن سے دیگر فلاحی پراجیکٹ پر بھی کام ممکن ہوگا ۔

    تعلیمات اسلام
    قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت نے اس بات کو واضح کردیا ہے ۔
    ترجمہ : اے ایمان والوں اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو ۔
    یعنی ایسی وہ تمام چیزیں جس سے انسان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کی طرف جانا ممنوع ہے ۔ اور اس کا ارتکاب کرنا خلاف شرع اور خلاف اسلام ہے ۔چنانچہ مملکت اسلامیہ ہونے کے تعلق سے پاکستان کے حکام کا فریضہ ہے کہ وہ عوام کو شعور و آگہی دے اور ہلاکت خیز چیزوں سے روکنے کے لیے ہیلتھ لیوی جیسے اقدامات کرے تاکہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے ۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کی ترغیب کے لیے ہونے والا کام
    کرومیٹک کے پلیٹ فارم سے اس بات کو اٹھایا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے پاکستان کو دو طرفہ فوائد حاصل ہوں اور ایک طرف اشیاء مہلکہ و مضرہ سے نجات ملے تو دوسری طرف فلاحی و مفید پراجیکٹ کا حصول اور ان کو چلانا ممکن ہوسکے ۔

    نتائج بحث :
    ہیلتھ لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو اشیاء مضرہ پر لگایا جاتا ہے ۔
    دیگر ممالک میں بھی اس کا اجراء ہوچکا ہے ۔
    پاکستان میں سگریٹ نوشی اور شوگری اشیآء کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کا نفاذ ضروری ہے۔
    ہیلتھ لیوی سے اشیاء مضرہ کی روک تھام ممکن ہے ۔
    ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والے پیسوں کو فلاحی کاموں پر لگایا جاسکتا ہے ۔

    سفارشات و تجاویز :
    ہیلتھ لیوی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے ۔
    ہیلتھ لیوی کا نفاذ کرنا مملکت پاکستان کے مفاد میں ہے ۔
    ہیلتھ لیوی ترجیحی بنیادوں پر ہو نافذالعمل  ہونا چاہیے ۔
    ہیلتھ لیوی وفاقی ، صوبائی و مقامی حکومتوں کے تعاون سے نافذ کیا جائے ۔
    ہیلتھ لیوی پر قانون سازی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے ۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں عمر یوسف نےدوسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • . تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    عام طور پر، حکومتیں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس لگانے پر غور کر سکتی ہیں تاکہ تمباکو کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ تمباکو پر ٹیکس تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، کیونکہ وہ تمباکو کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمت کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) تجویز کرتا ہے کہ حکومتیں تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر اپنائے۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اقوام متحدہ کی ایک خصوصی ایجنسی ہے جو بین الاقوامی صحت عامہ پر مرکوز ہے۔ یہ صحت کو فروغ دینے، بیماریوں سے بچاؤ، اور تمام لوگوں، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کے لیے ضروری صحت کی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔

    اپنے مشن کے حصے کے طور پر، ڈبلیو ایچ او حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو صحت عامہ کے متعدد مسائل پر سفارشات پیش کرتا ہے۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ کلیدی حکمت عملیوں میں سے ایک تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کا نفاذ ہے۔ ڈبلیو ایچ او حکومتوں کو تمباکو کے استعمال اور اس سے منسلک صحت کے خطرات کو کم کرنے کے طریقے کے طور پر تمباکو کنٹرول کے اقدامات کا ایک جامع پیکج اپنانے کا مشورہ دیتا ہے، بشمول زیادہ ٹیکس۔

    تمباکو کا استعمال قابل روک موت اور بیماری کی ایک بڑی وجہ ہے، اور یہ کینسر، قلبی بیماری، اور سانس کی بیماریوں سمیت متعدد غیر متعدی بیماریوں کے لیے خطرے کا ایک اہم عنصر ہے۔ تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لاگو کرنے سے تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور افراد، کمیونٹیز اور صحت کے نظام پر ان بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، جس میں ان مصنوعات پر زیادہ شرح لاگو ہوتی ہے جو زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، جیسے سگریٹ۔

    ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    پاکستان میں ہیلتھ لیوی ٹیکس کا آغاز تمباکو کے استعمال اور صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔ ہیلتھ لیوی ٹیکس کے علاوہ، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جو دیگر اقدامات نافذ کیے گئے ہیں ان میں تمباکو کی پیکیجنگ پر گرافک وارننگ لیبل، اشتہارات پر پابندی، اور نابالغوں کو تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ پر پابندیاں شامل ہیں۔

    2. یہ ٹیکس کیوں ضروری ہے؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس ضروری ہے کیونکہ تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تمباکو کا استعمال دنیا بھر میں قابل روک موت اور بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور یہ پھیپھڑوں کے کینسر، دل کی بیماری اور فالج سمیت متعدد سنگین صحت کے مسائل کا ذمہ دار ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کی مصنوعات کو زیادہ مہنگا اور کم قابل رسائی بنا کر تمباکو کے استعمال کو کم کرنا ہے۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، ٹیکس لوگوں کو سگریٹ نوشی چھوڑنے یا تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
    تمباکو کی کھپت کو کم کرنے کے علاوہ، ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا بھی ہے۔ ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کا استعمال ایسے پروگراموں اور خدمات کی مدد کے لیے کیا جا سکتا ہے جو صحت کو فروغ دیتے ہیں اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کو روکتے ہیں، جیسے کہ تعلیمی مہم، تمباکو نوشی کے خاتمے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق۔
    مجموعی طور پر، ہیلتھ لیوی ٹیکس صحت عامہ کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال سے صحت کے منفی اثرات کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

    3. ٹیکس کیسے خرچ کیا جائے گا؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس سے حاصل ہونے والے فنڈز عام طور پر صحت عامہ کے اقدامات اور پروگراموں کی حمایت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان اقدامات میں تمباکو کے استعمال کے خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے تعلیمی مہمات، تمباکو نوشی چھوڑنے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق شامل ہو سکتی ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کی مخصوص مختص اور استعمال حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کی ترجیحات اور ضروریات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ کچھ معاملات میں، فنڈز صحت عامہ کے وسیع تر اقدامات کی حمایت کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بہتر بنانا یا صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ہیلتھ لیوی ٹیکس پاکستان میں صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈنگ کے بہت سے ذرائع میں سے صرف ایک ہے۔ فنڈنگ کے دیگر ذرائع میں حکومتی بجٹ، بین الاقوامی تنظیموں سے گرانٹ، اور نجی افراد اور تنظیموں کے عطیات شامل ہو سکتے ہیں۔

    4. ٹیکس کیسے جمع کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عام طور پر تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر وصول کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات پر اس وقت ہوتا ہے جب وہ ملک میں پیدا یا لائی جاتی ہیں، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹر کرنے اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت ہے جو وہ تیار کرتے ہیں یا درآمد کرتے ہیں۔ ایف بی آر ٹیکس قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے اور کسی ممکنہ ٹیکس چوری کی نشاندہی کرنے کے لیے آڈٹ اور معائنہ کر سکتا ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کے علاوہ، پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر دیگر ٹیکس بھی لگ سکتے ہیں، جیسے کہ فیڈرل ایکسائز ٹیکس اور سیلز ٹیکس۔ یہ ٹیکس عام طور پر تمباکو کی مصنوعات کی فروخت کے مقام پر جمع کیے جاتے ہیں، نہ کہ تیاری یا درآمد کے مقام پر۔

    5. تمباکو کی مصنوعات کی کون سی مختلف اقسام ہیں جن پر ٹیکس عائد کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات کی ایک حد پر ہوتا ہے، بشمول سگریٹ، تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، چبانے والے تمباکو، اور نسوار۔ ٹیکس کا حساب عام طور پر مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
    سگریٹ پر عام طور پر تمباکو کی دیگر مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تمباکو کی دیگر مصنوعات، جیسے تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، تمباکو چبانے، اور نسوار، پر کم شرح پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو کی مصنوعات کی مخصوص قسمیں جو ہیلتھ لیوی ٹیکس کے تابع ہیں اور ٹیکس کی شرحیں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں، کیونکہ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے ٹیکس قوانین کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

    6. ٹیکس کتنا ہوگا؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ ٹیکس کو عام طور پر پروڈکٹ کی قیمت کے فیصد کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح مصنوعات کی مخصوص خصوصیات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
    مثال کے طور پر، سگریٹ پر عام طور پر تمباکو کی دیگر مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تمباکو کی دیگر مصنوعات، جیسے تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، تمباکو چبانے، اور نسوار، پر کم شرح پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی مخصوص شرحیں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں، کیونکہ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے ٹیکس قوانین کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس بہت سے ٹیکسوں میں سے صرف ایک ہے جو پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر لاگو ہو سکتے ہیں۔ دیگر ٹیکس، جیسے فیڈرل ایکسائز ٹیکس اور سیلز ٹیکس، تمباکو کی مصنوعات پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں، اور ان ٹیکسوں کا حساب مختلف معیارات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

    7. ٹیکس کب نافذ ہو گا؟

    یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کب نافذ ہوگا، کیونکہ مجھے موجودہ یا مستقبل کی ٹیکس پالیسیوں کے بارے میں معلومات تک رسائی نہیں ہے۔ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس بہت سے ٹیکسوں میں سے صرف ایک ہے جو پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر لاگو ہو سکتا ہے، اور ٹیکس سے متعلق مخصوص شرحیں اور پالیسیاں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں۔
    عام طور پر، ٹیکس کی پالیسیوں اور شرحوں کا تعین حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کرتے ہیں، جیسے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، جو کہ پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے کا اہم ادارہ ہے۔ ایف بی آر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرحیں طے کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس بہت سے اقدامات میں سے صرف ایک ہے جو ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں، اور بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے وقت کے ساتھ ایڈجسٹ یا نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

    8. ٹیکس کے ممکنہ فوائد کیا ہیں؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے جو ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں، اور اس میں صحت عامہ اور معاشرے کو بہت سے فوائد فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے کچھ ممکنہ فوائد میں شامل ہیں:
    تمباکو کی کھپت کو کم کرنا: تمباکو کی مصنوعات کو زیادہ مہنگا کرنے سے، ٹیکس لوگوں کو تمباکو کی مصنوعات کے استعمال سے حوصلہ شکنی کر سکتا ہے اور انہیں سگریٹ نوشی چھوڑنے یا ان کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ اس سے تمباکو کے استعمال کے صحت پر منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جیسے پھیپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماری، اور فالج۔

    صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا: ہیلتھ لیوی ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کا استعمال ایسے پروگراموں اور خدمات کی مدد کے لیے کیا جا سکتا ہے جو صحت کو فروغ دیتے ہیں اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کو روکتے ہیں، جیسے کہ تعلیمی مہم، تمباکو نوشی کے خاتمے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق۔

    صحت عامہ کو بہتر بنانا: تمباکو کے استعمال کو کم کرکے اور صحت عامہ کے اقدامات کی حمایت کرکے، ہیلتھ لیوی ٹیکس آبادی کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔

    صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنا: تمباکو کے استعمال کو کم کرکے اور صحت عامہ کو بہتر بنا کر، ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے منسلک صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    سماجی انصاف کو فروغ دینا: ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کے استعمال کے صحت کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، جو غیر متناسب طور پر کم آمدنی والی اور پسماندہ کمیونٹیز کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے سماجی انصاف کو فروغ دینے اور معاشرے میں صحت کی عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    9. کیا ٹیکس سے وابستہ کوئی خطرات ہیں؟

    کسی بھی پالیسی یا اقدام کی طرح، پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج ہو سکتے ہیں۔ ٹیکس کے کچھ ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج میں شامل ہیں:

    کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، جو قیمتوں میں اضافے کے لیے زیادہ حساس ہو سکتے ہیں اور انہیں تمباکو کی مصنوعات کو برداشت کرنے میں مشکل وقت ہو سکتا ہے۔ یہ ان افراد کے لیے مزید معاشی نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔

    ٹیکس چوری کا امکان: ہیلتھ لیوی ٹیکس ٹیکس چوری کے لیے مراعات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز یا درآمد کنندگان ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکس کی تاثیر کو کم کر سکتا ہے اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔

    روزگار پر اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اثر تمباکو کی صنعت میں روزگار پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ یہ تمباکو کی مصنوعات کی مانگ کو کم کر سکتا ہے۔ یہ صنعت میں کارکنوں کے لئے ملازمت کے نقصان یا دیگر منفی اقتصادی نتائج کی قیادت کر سکتا ہے.

    کسانوں پر منفی اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس کا تمباکو اگانے والے کسانوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس سے تمباکو کی مانگ کم ہو سکتی ہے اور تمباکو کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔ اس سے ان کسانوں کو معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔

    تجارت پر منفی اثرات کا امکان: ہیلتھ لیوی ٹیکس تجارت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ یہ عالمی منڈی میں گھریلو تمباکو کی مصنوعات کی مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ برآمدات میں کمی اور ملک کے لیے منفی اقتصادی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر، یہ ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ خطرات اور غیر ارادی نتائج پر احتیاط سے غور کیا جائے، اور ٹیکس کو اس طریقے سے ڈیزائن اور لاگو کیا جائے جس سے منفی اثرات کو کم کیا جاسکے اور صحت عامہ اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔

    10. ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کیسے کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عام طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام اور نافذ کیا جاتا ہے، جو کہ ملک میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کے لیے، ایف بی آر بہت سے ٹولز اور تکنیکوں کا استعمال کر سکتا ہے، بشمول:

    رجسٹریشن اور لائسنسنگ: تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹر کرنے اور تمباکو کی مصنوعات تیار کرنے یا درآمد کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایف بی آر کو تمباکو کی مصنوعات کی پیداوار اور درآمد کو ٹریک کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی اجازت دیتا ہے کہ ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کیا جا رہا ہے۔

    آڈٹ اور معائنہ: ایف بی آر تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے آڈٹ اور معائنہ کر سکتا ہے تاکہ ہیلتھ لیوی ٹیکس کی تعمیل کی تصدیق کی جا سکے اور کسی ممکنہ ٹیکس چوری کی نشاندہی کی جا سکے۔

    جرمانے اور جرمانے: اگر تمباکو کی مصنوعات کا کوئی مینوفیکچرر یا درآمد کنندہ ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے یا بصورت دیگر ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ جرمانے اور جرمانے کے تابع ہو سکتے ہیں۔ یہ جرمانے اور جرمانے عدم تعمیل کو روکنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    عوامی تعلیم اور رسائی: FBR تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ہیلتھ لیوی ٹیکس کے بارے میں آگاہ کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کی حوصلہ افزائی کے لیے عوامی تعلیم اور آؤٹ ریچ کا بھی استعمال کر سکتا ہے۔
    مجموعی طور پر، ایف بی آر پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی نگرانی اور اسے نافذ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے کہ ٹیکس ادا کیا جائے اور ٹیکس قوانین پر عمل کیا جائے۔

    خلاصہ
    یہ کہ پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، جس میں ان مصنوعات پر زیادہ شرح لاگو ہوتی ہے جو زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، جیسے سگریٹ۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کا انتظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کرتا ہے، جو ٹیکس کی شرحیں طے کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کے لیے کئی ٹولز اور تکنیکوں کا استعمال کر سکتا ہے، جیسے کہ رجسٹریشن اور لائسنسنگ، آڈٹ اور انسپیکشن، جرمانے اور جرمانے، اور پبلک ایجوکیشن اور آؤٹ ریچ۔
    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس صحت عامہ اور معاشرے کو بہت سے فوائد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسے تمباکو کے استعمال کو کم کرنا، صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا، اور صحت عامہ کو بہتر بنانا۔ تاہم، ٹیکس کے ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر، ٹیکس چوری کا امکان، روزگار پر اثر، کسانوں پر منفی اثر، اور تجارت پر ممکنہ منفی اثرات۔ یہ ضروری ہے کہ ان ممکنہ خطرات اور غیر ارادی نتائج پر احتیاط سے غور کیا جائے، اور ٹیکس کو اس طریقے سے ڈیزائن اور لاگو کیا جائے جس سے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جائے اور صحت عامہ اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔

    اکثر پوچھے گئے سوالات:

    یہاں پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات ہیں:

    1-تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کیا ہے؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور پاکستان میں صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔

    2-پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا انتظام کون کرتا ہے؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو ملک میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔

    3-پاکستان میں تمباکو کی کس قسم کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عائد ہے؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات کی ایک رینج پر ہوتا ہے، بشمول سگریٹ، تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، چبانے والا تمباکو، اور نسوار۔ ٹیکس کا حساب عام طور پر مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔

    4-پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ فوائد کیا ہیں؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے کچھ ممکنہ فوائد میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنا، صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا، صحت عامہ کو بہتر بنانا، صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنا، اور سماجی انصاف کو فروغ دینا شامل ہیں

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں راجہ ارشد نے اول پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے،معروف شاعرہ شبینہ ادیب  کا یوم پیدائش

    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے،معروف شاعرہ شبینہ ادیب کا یوم پیدائش

    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

    معروف شاعرہ شبینہ ادیب 27 دسمبر 1974ء کو کانپور، اترپردیش میں عزیز احمد اور ریبو بیگم کے ہاں پیدا ہوئیں ان کی شادی جوہر کان پوری سے ہوئی ان کے ہاں ایک بیٹی طوبیٰ جوہر پیدا ہوئی ان کی تصنیف میں تم میرے پاس رہو“ (شعری مجموعہ) شامل ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں، دلوں میں اُلفت نئی نئی ہے
    ابھی تکلف ہے گفتگو میں، ابھی محبت نئی نئی ہے

    ابھی نہ آئے گی نیند تمکو، ابھی نہ ہمکو سکوں ملے گا
    ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ، ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے

    بہار کا آج پہلا دن ہے، چلوچمن میں ٹہل کے آئیں
    فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوںمیں رنگت نئی نئی ہے

    جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

    ذرا سا قدرت نے کیا نوازا، کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں
    ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں، ابھی تو شہرت نئی نئی ہے

    بموں کی برسات ہو رہی ہے،پُرانے جانباز سو رہے ہیں
    غلام دُنیا کو کر رہاہے، وہ جسکی طاقت نئی نئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہارا چہرہ چراغوں میں کون رکھتا ہے
    مری طرح تمہیں آنکھوں میں کون رکھتا ہے

    خدا کی ذات پہ ہم کو یقین ہے ورنہ
    دئیے جلاکے ہواؤں میں کون رکھتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برصغیر کے معروف شاعر نواب مصطفے خان شیفتہ کا یوم ولادت

    برصغیر کے معروف شاعر نواب مصطفے خان شیفتہ کا یوم ولادت

    بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام ہوگا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب مصطفے خان شیفتہ

    مصطفٰی خان شیفتہ ( پیدائش:27 دسمبر 1809ء دہلی، وفات:11 جولا‎ئی 1869ء) جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔ انھوں نے الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کروایا تھا۔ دہلی میں ایک بہت بڑی لائبریری ان کی ملکیت تھی جسے 1857ء میں باغیوں کے لوٹا اور آگ لگا دی تھی۔ انگریزوں نے بغاوت کی شبہ میں سات سال قید سنائی لیکن ہندوستان کے نام ور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش سے ان کا ”جرم“ معاف ہوگیا اور پنشن مقرر ہوئی۔

    نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد میں نواب اسحاق خان بیٹے اور نواب محمد اسماعیل خان پوتے تھے۔ جو 1883ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے بار ایٹ لا کیا اور وطن واپس آ گئے۔ نواب محمد اسماعیل خان تحریک خلافت میں بھی شریک رہے اور یوپی خلافت کانفرنس کے چیف آرگنائزر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    گلشنِ بے خار
    تقریظ: غالب پر تعریفی تنقید

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
    دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

    اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
    یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا

    جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ
    کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے

    ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
    بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

    شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
    اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

    بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر
    یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے

    ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
    جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

    فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ
    بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے

    آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہؔ
    طاعت میں کچھ مزہ ہے نہ لذت گناہ میں

    کس لیے لطف کی باتیں ہیں پھر
    کیا کوئی اور ستم یاد آیا

    دل بد خو کی کسی طرح رعونت کم ہو
    چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو

    اڑتی سی شیفتہؔ کی خبر کچھ سنی ہے آج
    لیکن خدا کرے یہ خبر معتبر نہ ہو

    شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں
    جب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں

    اے تاب برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
    کچھ رہ گئے ہیں خار و خس آشیاں ہنوز

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم
    سخت بیتاب ہیں مزار میں ہم
    تا دل کینہ ور میں پائیں جگہ
    خاک ہو کر ملے غبار میں ہم
    وہ تو سو بار اختیار میں آئے
    پر نہیں اپنے اختیار میں ہم
    کب ہوئے خار راہ غیر بھلا
    کیوں کھٹکتے ہیں چشم یار میں ہم
    کوئے دشمن میں ہو گئے پامال
    آمد و رفت بار بار میں ہم
    نعش پر تو خدا کے واسطے آ
    مر گئے تیرے انتظار میں ہم
    گر نہیں شیفتہؔ خیال فراق
    کیوں تڑپتے ہیں وصل یار میں ہم

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل لیا جس نے بے وفائی کی
    رسم ہے کیا یہ دل ربائی کی
    تذکرہ صلح غیر کا نہ کرو
    بات اچھی نہیں لڑائی کی
    تم کو اندیشۂ گرفتاری
    یاں توقع نہیں رہائی کی
    وصل میں کس طرح ہوں شادی مرگ
    مجھ کو طاقت نہیں جدائی کی
    دل نہ دینے کا ہم کو دعویٰ ہے
    کس کو ہے لاف دل ربائی کی
    ایک دن تیرے گھر میں آنا ہے
    بخت و طالع نے گر رسائی کی
    دل لگایا تو ناصحوں کو کیا
    بات جو اپنے جی میں آئی کی
    شیفتہؔ وہ کہ جس نے ساری عمر
    دین داری و پارسائی کی
    آخر کار مے پرست ہوا
    شان ہے اس کی کبریائی کی

  • معروف شاعرہ صائمہ الماس مسرو کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ صائمہ الماس مسرو کا یوم پیدائش

    صائمہ منزلوں کی خواہش بھی
    راہ کا خم ہے اور کیا مانگوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ. نثرنگار،افسانہ افسانہ نگار اور کالم نویس صائمہ الماس 27دسمبر 1977ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ان کا قلمی نام صائمہ الماس مسرو ہے ان کی تصنیفات میں دکھ بولتے ہیں، اکھیوں اوہلے، کون کہاوے دو، لوگ کیا کہیں گے، محبت بھیک میں دے دو شامل ہیں-

    غزل
    ۔۔۔۔۔

    ترے رخ کی تلاوت ہو
    تو دل کی پوری حاجت ہو
    یہی میری حقیقت ہے
    کہ تم میری حقیقت ہو
    محبت بھی عبادت ہے
    بشرطیکہ عبادت ہو
    ہماری آنکھ ہے مجرم
    کہ تم بھی خوبصورت ہو
    غزل الماس کی ہو تم
    مری زندہ کرامت ہو

    غزل
    ۔۔۔۔
    آنکھ پُرنم ہے اور کیا مانگوں
    یہ عطا کم ہے ؟ اور کیا مانگوں
    زندگی ، زندگی بنانے کو
    آپ کا غم ہے اور کیا مانگوں
    نیند سے مالا ہوں جس میں
    رتجگا ضم ہے اور کیا مانگوں
    شورشِ جسم و جان سے پہلے
    ہٗو کا عالم ہے اور کیا مانگوں
    صائمہ منزلوں کی خواہش بھی
    راہ کا خم ہے اور کیا مانگوں

    اشعار
    ۔۔۔۔
    لبوں کو پیاس نے گھیرا ہوا ہے
    اسی احساس نے گھیرا ہوا ہے

    ملا ہے حکمِ ہجرت جب سے ان کو
    مجھے بن باس نے گھیرا ہوا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    تجھ سے جب رابطہ نہیں ہوتا
    چین جی کو ذرا نہیں ہوتا

    جان جاؤگے چوٹ لگنے پر
    درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

    نظم
    ۔۔۔۔
    گزارش
    ۔۔۔۔۔۔
    میں لکھنے بیٹھتی ہوں تو
    بہت بیزار کرتا ہے
    تمھارا اس طرح کاغذ کے سینے پر ابھر آنا
    مرے لفظوں کے آنگن پر ترے بادل کا سایہ ہے
    میں لفظ ہجر لکھوں تو یہ دنیا وصل پڑھتی ہے
    جو لفظِ خواب لکھوں تو مجھے لگتا ہے کاغذ پر
    تمھاری آنکھ رکھی ہے
    پسِ معنی کسی عنواں میں تیرا تذکرہ آئے
    تو سر تا پا

  • برصغیر کے عظیم شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا یوم ولادت

    برصغیر کے عظیم شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا یوم ولادت

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    مرزا غالب

    تاریخ ولادت:27 دسمبر 1797ء
    تاریخ وفات:15 فروری 1869ء

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا۔

    غالب اور عہدِ غالب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر مولا بخش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غالب کے متن سے معاملہ کرنے والے کئی نقادوں کو اس امر کی شکایت ہے کہ غالب کے اشعار یہ نہیں بتاتے کہ وہ کس عہد میں لکھے گئے ہیں۔یہ سوال کرنے سے پہلے ہمیں ذرا غالب نے جس صنف سے معاملہ کیاہے اس کی فطرت کو بھی دیکھ لینا چاہئے۔کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ غزل کے اشعار میں روح عصر اس طرح سے واضح طور پر نظر نہیں آسکتی جس طرح ہمیں کسی نظم ،افسانے،ناول،مکتوب وغیرہ میں یا خاکہ یا مرثیہ اور مثنوی میں نظر آتی ہے۔غزل کے دو مصرعوں میں پہلی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ ان اشعار میں اگر زمانے کو پیش کرنا ضروری بھی ہو جائے تو وہ زمانہ مثلاً ماضی یا مستقبل یا حال نقلی حال بناکر پیش کیاجاتاہے تاکہ پڑھنے والا ہر زمانے میں اسے اپنے زمانے کا مسئلہ سمجھے۔اس کے باوجود غزل کی شاعری کی داخلی ساخت میں اترنے کے بعد شاعر کا عہد اور اس عہد کے سوالات اور مسائل کا نظارہ کیاجاسکتاہے۔

    غالب کی شاعری میں ان امور سے متعلق انکشاف کے لیے حددرجہ ذہین قاری کی ضرورت ہے ادب کا رشتہ شاعر یا ادیب کے عہد سے جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ادب تخلیق کرنے والے ادیب اپنے عہد سے آنکھیں بچا کر ادب کی تخلیق نہیں کر سکتے، لیکن یہ بھی اتنا ہی بڑا سچ ہے کہ آج جو با معنی ہے وہ ادب کل بھی اتنا ہی با معنی ہوگا اس کی گارنٹی کون دے سکتاہے؟اسی لیے مکمل طور پر ادیب اگر اپنے عہد کی ترجمانی کرنے لگ جائیں تو یہ ضرور ہے کہ ادب اور صحافت میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

    اس لیے بڑے شعرا اور ادیب یہ جانتے ہیں کہ ایک عہد کا محاورہ دوسرے عہد سے میل نہیں کھاتا۔اس لیے وہ اپنے فن پاروں کو دوسرے عہد میں بھی اتنے ہی بامعنی بنانے کے جتن سے واقف ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ غالب اپنے عہد میں جتنے بامعنی تھے یا نہ تھے آج اس سے کہیں زیادہ بامعنی ہیں یا نہیں ہیں؟ اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بات وہی ہے کہ اگر اپنے عہد کی تصویر کے ساتھ ساتھ ادیب اپنا ایک منفرد عہد بھی خلق کرتاہے تو وہ ہر زمانے میں اپنی معنویت بر قرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔غالب اردو میں کچھ اسی طرح کے جتن کے ذریعے ہر عہد میں مقبول اور مشہور شاعر کے روپ میں زندہ ہیں۔غالب کو یہ احساس تھا کہ وہ صرف اپنے عہد کے شاعر نہیں ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ اپنے عہد کے شاعر کے طور پر خود کو پیش کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔اسی لیے تو انہوں نے برملا طور پر یہ کہا تھا:

    ہوں گرمیٔ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
    میں عندلیبِ گلشن نا آفریدہ ہوں
    میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریب
    لیکن عبث کہ شبنم خورشید دیدہ ہوں

    اگر پہلے شعر پر غور کریں تو اعلان کیا ہے کہ یہ ایک ایسے انسان کی شاعری ہے جس کا زمانہ ابھی پیدا نہیں ہوا ہے یعنی یہ مستقبل کی شاعری ہے۔ دوسرے شعر میں ایک ایسے انسان کی تصویر پیش کی ہے جو اہل نظر ہے اور آگاہ ہے۔لیکن اس کا کیا کیجیے کہ یہ دنیا جادو کی پوٹلی ہے جسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔تس پر ستم یہ کہ اس پر غور کرنے کی عمر ایسی ملی ہے جیسے سورج کسی شبنم کے قطرے کو دیکھنا چاہے۔ظاہر ہے کہ سورج نکلتے ہی شبنم کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ کیا اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ شاعر جس عہد میں جی رہا ہے اُسے پوری طرح سے سمجھنا اس کے لیے کتنا مشکل ہے۔ ادب اور عہد کے رشتے پر غور کرنے والوں نے ان امور سے صرف نظر کیاہے۔

    بڑے ادیب جانتے ہیں کہ ایک ہی عہد میں کئی عہد ہوتے ہیں اور تاریخ کے اندر بھی کئی تاریخیں ہوتی ہیں جسے فوق التاریخ کا نام دیاگیاہے۔غالب کی نگاہ اس حقیقت پر ہے۔وہ ماضی،حال اور مستقبل پر یکساں طور پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ان کے نزدیک ان میں سے کوئی اہم یا غیر اہم نہیں ہے۔ہاں! وہ ان تینوں زمانوں کے نقائص کا احساس رکھتے ہیں اور ان تینوں زمانوں سے نباہ کرنے کا منفرد زاویۂ نظر بھی رکھتے ہیں۔

    غالب اپنے ماضی کے ورثے کے قائل تھے لیکن جو اچھی قدریں تھیں انھیں وہ اپناتے نظر آتے ہیں اوربری قدروں کو رد بھی کرتے ہیں جیسے اپنے سے پہلے کے شعرا کو جس قدر وہ عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ جگ ظاہر ہے:

    ریختے کہ تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    اتنا ہی نہیں وہ مشرقی تہذیب کے زوال کی طرف بھی نگاہ رکھتے ہیں اور زوال کے اس منظر کو دیکھ کرکڑھتے نظر آتے ہیں لیکن آخر کار وہ زمانے کی رو کو اور تبدیلی کی فطرت کو تسلیم بھی کر لیتے ہیں۔ایسے میں وہ کہتے ہیں:

    وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں
    اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خواب سحر گئی
    دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
    آگ اس گھر کو لگی ایسی، کہ جو تھا جل گیا

    ان اشعار کے معنی اخذ کرتے وقت قاری کا دھیان غالب کے عہد کے اجتماعی دکھ اور مغلیہ تہذیب کے زوال کی طرف بھی جاتاہے۔ بہرصورت غالب بھی اس جاگیردارانہ بلکہ آمرانہ نظام کا ایک حصہ تھے۔انہیں انگریزوں سے باضابطہ پنشن ملا کرتاتھا جو بعد کے ادوارمیں بند ہو جانے کے بعد غالب نے تقریباً دو دہائیوں تک پنشن کا مقدمہ لڑا اور باضابطہ ہار بھی گئے۔ایک ایسا شخص جس نے عیش و عشرت کی راتیں اور حسیں قہقہوں کے دن گزارے ہوں، وہ یہ کیونکر نہ کہے کہ ‘وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں’ اور اپنے دل کو کیونکر اس طرح نہ سمجھا لے کہ چلیے زمانے کا یہی دستور ہے۔ ع

    ہد غالب میں طرز حکومت کے بدلنے اور ایک نئی قوم انگریز کی آمد نے ہر کس و ناکس کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا۔پرانی تہذیبی قدریں Cultural Values شطرنج کے مہروں کی طرح باری باری پٹتی چلی جا رہی تھیں۔انگریزوں کے لائے ہوئے صنعتی انقلاب کی وجہ سے نیا اخلاقی نظام مرتب ہو رہاتھا۔ایسے میں مشرقی تہذیب کے دلدادہ اشخاص اور کیاکہہ سکتے تھے اس کے سوا کہ ‘آگ اس گھر کو لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا۔’ یعنی ایک طرف تو وہ میر سے منسوب اپنے ماضی کی قدروں کے دلدادہ معلوم ہوتے ہیں تودوسری طرف وہ سر سید کی کتاب ‘آئین اکبری’ کی تقریظ لکھتے ہوئے ماضی کے اس ورثے کے تحفظ کے رویے کو یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ مردہ پروری کوئی مبارک کام نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے ‘آثار الصنادید’ کے ذریعے اپنے ماضی کے ورثہ کو محفوظ کرنے کے سرسید کے جذبے کو سراہا بھی تھا، کیونکہ اس کتاب کے ذریعے مستقبل کے منصوبے تیار کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔

    دہلی کالج کے قیام کے بعد مغربی سائنس کے اصولوں کے عام ہونے کے اثرات غالب پر کیوں کر مرتب ہوئے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ظاہر ہوا کہ فن کار اپنے عہد کی تعمیر ماضی کے ورثے کے عیب و نقائص پر نگاہ رکھتے ہوئے ان میں سے کچھ کو رد تو کچھ کو قبول کرتے ہوئے کرتاہے۔اس طرح وہ اپنے عہد کی مخلوق کے ساتھ ساتھ خالق بھی بن جاتاہے۔

    اگر غالب کی سوانح کا ترتیب وار ذکر کیاجائے تو اس کے ذریعے عہد غالب کی سیاسی،ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی صورتحال ہمارے سامنے آجائے گی۔ ان کے خطوط میں ان کی زندگی اور اپنے عہد کے حالات زیادہ مذکور ہوئے ہیں لیکن یہاں ان کے حوالے نہیں دیے جارہے ہیں۔

    مرزا کا آنا جانا دہلی میں اس وقت شروع ہوا جب شاہ عالم ثانی کی آنکھیں غلام قادر روہیلہ نے پھوڑ دی تھیں۔ شاہ عالم سندھیاکے چنگل میں تھے ۔انگریز لارڈ ویلزلی نے بادشاہ کو اس چنگل سے چھڑانے کی پیش کش کی۔1803میں انگریزی فوج قلعے میں داخل ہوئی۔جنرل آکٹر لونی دہلی میں انگریز ریذیڈنٹ مقرر ہوا۔بادشاہ پنشن دار ہو گیا۔1806میں اکبر شاہ ثانی تخت نشیں ہوئے اور اکتیس سال حکومت کی،وہ بھی انگریزوں کے پنشن دار تھے۔ہاکنس ریزیڈنٹ مقرر ہوا مگر چوں کہ وہ گھمنڈی تھا اس لیے ایک معاملہ فہم ریذیڈنٹ ولیم فریزر مقرر کیاگیا۔یہ وہی ریذیڈنٹ ہے جو نو اب شمس الدین خاں کے خلاف غالب کے پنشن کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی تھی۔

    اس کے مارے جانے کے بعد مٹکاف ریزیڈنٹ مقرر ہوا۔یہ اور ان جیسے دیگر انگریزوں کی آئیڈیولوجی یہ تھی کہ خدا نے ہندوستانیوں کی حالت سدھارنے کے لیے انہیں ہندوستان بھیجا ہے، یعنی ہم لوگ نجات دہندہ ہیں۔راجہ رام موہن رائے اور بعد میں سر سید نے بھی انگریزی راج کو اپنے لیے باعث ترقی سمجھا۔انگریزی تعلیم کی وکالت کے پیچھے میں یہی تصور پوشیدہ تھا۔اس وقت کے انگریز حاکم کو فارسی زبان و ادب سے خاص شوق ہوتا تھا اور اس لحاظ سے غالب کی ان دنوں ایسے افسروں کے نزدیک بڑی قدر تھی۔پھر غالب قدامت پرستی کے بجائے جدت پسندی میں یقین رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے بنیادی اصولوں کا خیر مقدم کیا۔

    غالب کے خسر مرزا الٰہی بخش کا انگریزوں میں اثر و رسوخ جگ ظاہر تھا جس کے توسط سے غالب کی راہ و رسم بھی اونچے طبقے سے پیدا ہوئی۔سبھی جانتے ہیں کہ غالب نے آگرہ میں گیارہ سال کی عمر سے ہی شعر کہنا شروع کر دیاتھا او بیدل کی پیروی میں حد درجہ مشکل گو ثابت ہوئے تھے، لیکن جب وہاں پہنچے تو مولوی فضل حق خیر آبادی کے مشورے کے مطابق طرز بیدل کو چھوڑ کر سلیس اور صاف شعر کہنے لگے۔ لیکن یہ صرف ایک قصہ ہے۔سچ تو یہ ہے کہ غالب نے نہ طرز بیدل کو چھوڑا نہ روش عام سے ہٹ کر شعر کہنے کا طریقہ چھوڑا۔ بلکہ وہ حسب ضرورت غزل میں زبان کو بطور رجسٹر استعمال کرنے لگے۔ یعنی جہاں فارسی آمیز،طویل اضافتوں والی اردو کی ضرورت تھی ،وہاں انہوں نے اخیر عمر تک وہی انداز برقرار رکھا اور جہاں تخیل پر جذبے نے قابو پالیا وہاں اردو کا وہ رجسٹر سامنے آگیا جسے میرؔ نے اپنے مصرعے سے واضح کیا تھا۔ غالب میر کے اسی فقرے ‘‘پر مجھے گفتگو عوام سے ہے’’ والی زبان میں شعر کہنے کی روش اختیار کرنی شروع کر دی۔

    اس عہد کی ایک اہم اور انقلابی تحریک وہابی تحریک تھی جس کا مقصد انگریزوں کو ہندوستان کی مقدس دھرتی سے نکال باہر کرنا تھا۔غالب کا اس تحریک سے براہ راست کوئی رشتہ تو نہ تھا لیکن اس تحریک سے وابستہ بہت سے اشخاص سے ان کی راہ و رسم تھی۔ اس تحریک کا اثر غالب کی شاعری میں بھی تلاش کیا جا سکتاہے۔1857کی تباہی اور اس کے بعد کی صورتحال کے اشارے بھی غالب کی شاعری میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔لیکن غالب تو بقول خورشید الاسلام :

    ‘‘گویا بچپن میں غالب،مغلوں،مرہٹوں اور انگریزوں کی مربیانہ توجہ سے بالواسطہ فیضیاب رہے۔غالباً ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی ہوگی کہ مغل بادشا ہ ہے اور نہیں بھی ہے۔مرہٹہ مغلوں کا نائب ہے اور حاکم بھی ہے۔انگریز مسلمان نہیں،ہندو نہیں،لیکن دہلی پر حکومت کرتاہے اور میرے خاندان کے بزرگ ہر طاقت کے ساتھ ہیں۔اور سچ پوچھو تو کسی کے ساتھ بھی نہیں۔ممکن ہے انہوں نے کسی فقیر کو استاد نظیر کا یہ بند گاتے سنا ہو،اور اس سے اپنے زمانہ کی سیاست کا بھید پا گئے ہوں:

    کپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے
    لمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے
    باندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے
    سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے
    جتنے ہیں، روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں

    خورشید الاسلام نے غالب کے زمانے یا عہد کو کلی طور پر پیش کیاہے۔نظیر کی شاعری نے بھی کیونکر غالب کو ان کے اپنے عہد کے سمجھنے میں اہم رول ادا کیاتھا یا کیا ہوگا،اس بابت خورشید الاسلام کی توضیح قابل داد ہے۔
    پروفیسر محمد حسن نے اپنے مضمون ‘دو غالب’ میں ظاہر ہے ایک غالب تو اسی کو قرار دیا ہے جس کا نام اسد اللہ خاں تھا اور جس کے باپ کا نام عبد اللہ بیگ اور چچا نصر اللہ بیگ فوجی سردار تھے۔اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے غالب بھی بین السطو ر میں جھانکتے ہیں۔محمد حسن لکھتے ہیں کہ:

    ”یہ دوسرا غالبؔ کہیں روح عصر تو نہیں؟بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہر لمحہ سہ جہتی ہوتاہے ایک شخصی واردات کا درجہ رکھتاہے دوسرا سماجی یا اجتماعی شعور کی جہت تیسرا عصری زندگی کے سیل رواں کا حصہ ہوتاہے۔غالبؔ نے جب آنکھ کھولی تو انقلاب فرانس دنیا کو تہہ و بالا کر چکا تھا۔نپولین کی گھن گرج ٹیپو سلطان تک پہنچ چکی تھی جو اپنے شہنشاہ کی جگہCITIZENکہنے لگا تھا۔سائنس اور فکرنئی منزلیں پا رہے تھے، ورڈورزتھ اور شیلے کی آوازیں نغمے بکھیر چکی تھیں (محمد حسن،نصرت پبلشرز،لکھنؤ 1977،ص:15)

    یہ تو تصویر تھی اس وقت کی دلی اور وہاں کی ادبی کہکشاؤں کی ۔ اب زمانے کی ہوا کیونکر چلی اور کیا کیا بدل گیا، یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ مرزا غالب اپنے عہد کے دوسرے افراد کی طرح اپنے طبقے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔یعنی وہ طبقاتی افتراق میں یقین رکھتے ہیں لیکن انہیں ایسا کرتے ہوئے بھی یہ احساس ہے کہ یہ سب کچھ آگے چل کر بہت جلد ختم ہو جائے گا۔غالب کی زندگی ہی کیا ہندوستان کی تاریخ میں1857کی جنگ آزادی جسے انگریزوں نے غدر سے عبارت کیا،ایک ایسے طوفان سے عبارت کی جا سکتی ہے جس نے ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی میں تبدیلیوں کی ایک لہر پیدا کر دی۔محمد حسن نے اپنے دوسرے مضمون’’غالب اور جدید ذہن‘‘میں لکھا ہے کہ:

    ‘‘غدر1857کوغالب نے رستخیز بیجا کہا اور وہ اس رستخیز کے قلزم خون سے گزرے۔ اس دور کی پوری خونخواری، درندگی اور تباہی کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور ہر لمحہ دل خون کیا۔ مگر ان واقعات کی تصویریں ان کی شاعری میں بہت بھونڈی ہیں البتہ ان کے مکاتیب نہایت خوبصورت اور پر تاثیر ہیں۔اس آشوب سے جو کچھ کرب انہیں ملا وہ غزل میں کسی اور عنوان میں ڈھل گیا۔ان کی شاعری ان کے دور ہی کی نہیں آنے والے ادوار کی زبان بن گئی۔’’ (محمد حسن، نصرت پبلشرز، لکھنؤ 1977، ص 84)

    پروفیسر محمد حسن نے دبی زبان سے ہی سہی، یہاں غالب کے متن کا اپنے عہد سے رشتے کے منقطع ہونے کا شکوہ کیاہے۔یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے۔غالب کے یہاں عصر کی روح کی پیش کش بہت واضح طور پر ہے، بلکہ وہ متن کی زیریں ساخت میں موجود ہے،جسے کرید کر قاری بر آمد کر سکتاہے۔پروفیسر عتیق اللہ نے لکھا ہے:

    ”غالب کوئی مشن لے کر نہیں چلے تھے ان کی وسیع المشربی صوفیا کی تعلیمات کے توسط ہی سے نہیں بلکہ عام شعری رویے کے تحت ان کے ضمیر کی آواز تھی۔مردہ پروری کو نامبارک قرار دینے،درس نظامی کے روایتی ضوابط کو نشان زد کرنے،نئے ذریعہ ابلاغ و ترسیل نیز آرام و آسائش مہیا کرنے والی سہولتوں اور تکنیکی وسائل کی اجرا کاری میں انہیں یقینا ترغیبات کاایک جہان موجزن نظر آیاتھا۔

    لیکن اس نئے منظر نامے سے وہ کوئی ایسا تصور نہیں قائم کر سکےجو نئی نسل میں نیا طرز احساس پیدا کرنے کا سامان مہیا کرتا۔ ‘انکار ’ کے رویے پر کاربند ہونے کے باجود غالب کا باغیانہ شعور پوری طرح نہ تو پروان چڑھ سکا اور نہ ان کے قویٰ میں اتنی جولانی تھی کہ اپنے خیالات کو تحریک میں بدلنے کے لیے کوئی عملی راہ اختیار کرتے۔“

    (بیانات،عتیق اللہ،کتابی دنیا،2011،ص:43,46,47)
    اس عبارت کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ خواجہ منظور حسین نے غالب کے دیوان سے ایسے بہت سے اشعار پیش کیے ہیں جن میں غالب اپنے عہد کی آئیڈیولوجی کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں لیکن آفتاب احمد خاں نے ان کے اس خیال سے اتفاق نہیں کیاہے۔بات یہ نہیں ہے کہ کسی شاعر کے یہاں اپنے عہد کی خبر نظم ہو جائے۔غالب کو معلوم تھا کہ خبر اور شاعری میں فرق ہے۔غزل کے شعر سے اس طرح کی امید بھی بہت زیادہ صائب نہیں ہے۔جب عہد ہی بجائے خود ایک تہہ دار متن ہو تو اس کی پیش کش کے طریقے بھی حد درجہ رمزیہ ہو سکتے ہیں۔ہمارے نقاد اس حقیقت پر نگاہ نہیں رکھتے۔

    غالب نے اپنے دیوان میں ایسے بے شمار اشعار کہے ہیں جو ان کے عہد اور ان کی ذاتی زندگی کو آفاقی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے شہزادہ سلیم کا قصیدہ اس امید پر لکھا کہ شاید شہزادہ سلیم ہی ہندوستان کا بادشاہ بنیں گے۔ظفر زندگی بھر غالب سے خفا رہے اور جب ظفر سے ان کی وابستگی بعد کے زمانوں میں ہوئی توانہوں نے ایک قصیدہ میں ذوق کی غزل سرائی پر کچھ تیکھے تبصرے کر دیے اور ظفر کو یہ سب کچھ اچھا نہیں لگا اور غالب نے مندرجہ ذیل شعر میں جس کی معذرت چاہی:

    استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
    یہ تاب ، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
    سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
    کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

    ان اشعار کے سیاق و سباق سے واقف قاری یہ اندازہ کر سکتاہے کہ شعرا اپنے عہد کے حکمرانوں کی وجہ سے کہاں کہاں اپنی انا سے سمجھوتہ کرتے تھے۔غالب نے اس معذرت میں بھی اپنی شان برقرار رکھی ہے۔شاہ سے معذرت کرتے ہوئے بھی انہوں نے دوسرے شعر میں یہ کہہ کر کہ وہ بہادر سپاہیوں کی اولاد میں سے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ اس کی عزت صرف شاعری کی وجہ سے ہو،اپنے اندر کی ٹوٹتی ہوئی انا کو مجتمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ غالب کے مندرجہ ذیل اشعار ان کی ذاتی زندگی اور اس عہد کے انسانوں کی نفسیات کو پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

    غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
    پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہ تاب میں
    غالب وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعا
    وہ دن گئے کہ کہتے تھے’’نوکر نہیں ہوں میں‘‘
    غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
    روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟
    لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی
    ہوس سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو
    زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
    ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
    ہوا ہے شہہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
    وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
    نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے
    تجھ سے جو اتنی ارادت ہے وہ کس بات سے ہے
    اور میں وہ ہوں کہ گرجی میں کبھی غور کروں
    غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے

    مذکورہ بالا اشعار صرف آپ بیتی نہیں ہیں بلکہ کسی عہد میں ایک حساس انسان یا فرد اپنے زمانے کی اتھارٹی (Authority) سے کہاں کہاں سمجھوتے کرتاہے،اپنی انا کو برقرار رکھتاہے،اس کی کہانی ان اشعار میں در آئی ہے۔کسی بھی عہد میں فرد کی نا قدری کا خاص طور سے اس فرد کا جو حساس اور فن کار ہو،اس کا دل کیونکر خون کے آنسو روتاہے،اس درد کو غالب کے اس شعر میں محسوس کیاجاسکتاہے جس میں انہوں نے ’غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں‘جیسا خیال قلم بند کیاہے۔کیا کسی انسان کے نہیں ہونے سے اس دنیا کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگتی؟اگر ایسا ہے تو کیوں؟کیا یہ مستحسن ہے،کیا جیتے جاگتے انسان کے اتنے ہی معنی ہیں کہ جب وہ نہ رہے تو اس کی کمی کا احساس تک نہ ہو؟ یہ اور ان جیسے بہت سے دکھوں کا ذکر غالب کی شاعری میں نجی واردات کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ مثلاً اس ذیل میں یہ شعر بھی روح عصر کو بڑی صفائی سے ہمارے سامنے رکھتے ہیں:

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے، پہ بدنام بہت ہے
    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    جو لوگ غالب کی سوانح سے واقف ہیں انہیں پہلا شعر سمجھتے دیر نہیں لگے گی۔اپنی ہی سوانح کے ذریعے غالب نے ایک آفاقی صداقت بھی بیان کر دی ہے۔شاعر ہونا الگ بات ہے اور اچھا انسان ہونا الگ بات۔غالب اپنے عہد کا ایک ایسا فرد ہے جو جاگیردارانہ سماج کی لاش پر بیٹھا رو رہاہے۔صنعتی انقلاب کی تیز دھمک نے ملکیوں کو کیونکر طرح طرح کے قرضوں کی طرف دھکیل دیاتھا، یہ سب کچھ اس عہد کی تاریخ کے حوالے ہو چکاتھا۔یہاں غالب نام کے کسی ایسے فرد کا بھی ذکر ہے جو شراب کے لیے بھی قرض لیتا تھا۔ انسان چاہے جس سطح پہ بھی جی رہاہو اچھے دنوں کے آنے کی امید اس کی سرشت میں شامل ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
    کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
    صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
    جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
    سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
    آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
    مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
    بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
    آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
    موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
    شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
    دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا
    لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
    نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
    خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع
    پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
    وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
    جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
    قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
    آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
    تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
    اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چل
    سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
    معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظار
    چشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج
    حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرار
    سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
    ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
    نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
    کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمام
    پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
    تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی
    دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
    دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔ
    مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
    خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
    دل آشفتگاں خال کنج دہن کے
    سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
    ترے سرو قامت سے اک قد آدم
    قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
    تماشا کہ اے محو آئینہ داری
    تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
    سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
    کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
    بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
    تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
    کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں
    کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں
    خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں
    مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں

  • ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال،صحافی، مصنف یشپال ضلع کانگرا میں 03 دسمبر 1903ء میں پیدا ہوئے، یشپال ہندی کے مارکسی ناول نگار مانے جاتے ہیں۔ ادب کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے وہ ایک انقلابی تنظیم سے وابستہ تھے۔ ان کے ابتدائی ناولوں میں انقلابی رحجان کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ یشپال کے ناول تین رحجانات کے حامل ہیں۔ ”دادا کامریڈ“ رومانی انداز کا ناول ہے۔ اس کے کردار جذباتی اور تخیل پسند ہیں۔ اسے ہندی کا ایسا پہلا ناول قرار دیا گیا ہے جس میں سیاست اور رومانیت کا امتزاج ہے۔ دوسرا رحجان سماجی حقیقت نگاری کا ہے۔

    ”دیش دروہی“، ”دبیا“ اور ”پارٹی کامریڈ“ سماجی حقیقت نگاری کے ناول ہیں۔ ان میں ایسے سماج کی تمنا کی گئی ہے جس میں لوگ طبقوں میں بٹے ہوئے نہ ہوں۔ اس طرح کے ناولوں میں متوسط طبقے کی تصویر ملتی ہے۔ تیسرا رحجان فطرت پسندی کا ہے۔ ”منش کے روپ“ میں یشپال فطر پسندی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ ”پرتشٹھا کا بوجھ“ اور ”دھرم رکھشا“ یشپال کی ایسی کہانیاں ہیں جن میں فطرت پسندی کی طرف جھکاؤ ملتا ہے۔ لیکن یشپال کے جس ناول کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ "جھوٹا سچ” ہے۔ اس ناول میں کا پس منظر تقسیم کے بعد کے فسادات ہیں۔

    تقسیم نے دونوں ملکوں کے مختلف فرقوں اور مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان میں جو زہر گھولا اس کی موثر انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ یشپال اپنی تخلیقات میں سماجی برائیوں، اندھے عقائد اور سماجی ناانصافی کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 1976ء میں ”میری تیری اس کی بات“ پر ان کو ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا اور یہ پدم بھوشن وصول کنندہ بھی تھے۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یشپال 1903ء میں کانگڑا چوٹیوں میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کی اماں بہت غریب تھیں اور اپنے دو بچوں کی اکیلے پرورش کرنے کی ذمہ دار ان ہی کے کندھوں پر تھی۔ انھوں نے اس دور میں نشو و نما پائی جب برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے دعووں کی گونج میں اضافہ ہوچکا تھا اور ان کی اماں آریہ سماج کی کٹر حمایتی تھیں۔ انہوں نے غربت کے سبب ابتدائی تعلیم آریہ سماج کے گروکُل (روایتی مدرسہ) سے حاصل کی، جہاں مفت کھانے، کپڑوں اور ٹیوشن کی سہولت تھی۔

  • دُھند کی نعمت سے فائدہ اٹھائیں!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دُھند کی نعمت سے فائدہ اٹھائیں!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہمارے ہاشم عاشورہِ محرم میں سیکیورٹی کے نام پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہوجاتی ہے لوگوں کو رابطے میں دشواری ہوتی ہے اور آن لائن کاروبار ٹھپ ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل کمپنیوں کا کاروبار بھی کچھ دنوں کے لئے بند ہوجاتا ہے۔

    اسی طرح کسی بھی احتجاج کے دوران کنٹینر لگا کر راستے بند کردئے جاتے ہیں۔ بزرگ ، مریض، حاملہ عورتوں اور بچوں کو سکول، ہسپتال اور روزمرہ زندگی کے معاملات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ عام کاروبار بھی کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے۔

    تازہ ترین یہ ہے کہ آج کل کے دنوں میں دُھند کے دوران موٹر وے بند کردیا جاتا ہے جس سے لوگوں کا سفر اور کاروبار ڈسٹری ہوتا ہے اور مہینے بھر کے لئے معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوتا ہے۔

    پتہ نہیں ہم ہر کام کا حل چلتی پھرتی زندگی کو جام کرنے اور اپنا نقصان کرنے میں ہی کیوں سوچتے ہیں۔ کیا ان مسائل کو مواقع میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟

    کہتے ہیں کام کرنے والے کام کرنے کی کوئی ایک وجہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں جب کہ نکمے اور سست لوگ سو وجوہات کے ہوتے ہوئے بھی کام نہ کرنے کا ایک بہانہ تراش لیتے ہیں ۔

    دُھند زدہ اس ایک مہینے کے بعد اب ہمارے ہاں پانی کی کمی کی وجہ سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے پر واویلا ہوگا حالانکہ اس مضمون کے ساتھ شراکت کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دُھند کو پانی میں تبدیل کرنا تیکنیکی طور پر کتنا آسان اور قابلِ عمل ہے۔

    اس سے ملتے جلتے بے شمار طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں جس میں کپڑے کا نیٹ، پلاسٹک کی شیٹیں یا کوئی بھی اس جیسا اور میٹیرئیل استعمال کرکے دُھند کو پانی بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم کیوں نہ دُھند کی نعمت سے فائدہ اُٹھائیں۔

    یہ ایک اچھوتا بزنس آئیڈیا بھی بن سکتا ہے جس میں کوئی بھی زرعی مشینری سے متعلقہ سیٹ اَپ دُھند سے پانی بنانے والے متحرک (موبائل) یونٹ بنا کر کسانوں کو روزانہ کی بنیاد پر کرائے پر بھی دے سکتا ہے۔

    دُھند سے پانی بنانے والے یہ یونٹ اِس طرح بھی ڈیزائن کئے جاسکتے ہیں کہ مون سون کے موسم میں یہ افقی ہوکر بارش کا پانی بھی جمع کر سکیں ۔ یوں یہ مون سون اور دُھند، دونوں موسموں میں کارآمد ہو جائیں گے۔ ضرورت کے حساب سے ان کا سائز چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے اور ہر وہ جگہ جہاں ترپال یا پلاسٹک شیٹ کا استعمال ہو تا ہے وہاں اس طرح کے یونٹ کے لئے بھی وہی کپڑا استعمال ہو سکتا ہے۔

    اسی اُصول پر بھَٹّوں اور کارخانوں کی چمنیاں بھی ، جو عام طور پر ڈھند میں بند ہوتے ہیں ، دُھند کو واپس اندر کھینچ کر پانی میں تبدیل کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں یا پھر ایسی کئی موبائل چمنیاں بھی بنائی جا سکتی ہیں جو کھیتوں کی کنارے دُھند اپنے اندر کھینچ کر دوسری طرف نالے یا تالاب میں پانی نکال رہی ہوں۔

  • ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم 2023 میں داخل ہونے والے ہیں۔ایک طرف بھارت اور افغانستان کی طرف سے وطن عزیز میں دوبارہ دہشت گرد ی خودکش حملوں کا سلسلہ جاری ہے فوجی افسران ،فوجی جوان، پولیس اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی انتشار اپنے عروج پر ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی سیاست ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بے یقینی کے ایسے خوفناک وقت میں ہم کیسے پُر امید ہو سکتے ہیں کہ ان حالات میں ہماری معیشت ، ملک میں امن ، دہشت گردی کا خاتمہ ۔ آنے والے سال میں ملک ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرے گا؟ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے ۔سیاسی جماعتیں ریاست ااور اس میں بسنے والے عوام کے لئے متحد ہو جائیں۔ سیاسی انتشار میں کوئی معاشرہ اور ریاست ، اور معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ قومی سلامتی کے لئے نئی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی ۔ ترقی کے لئے پُرامن ماحول میں بہت ہی ضروری ہے۔

    21 ویں صدی میں مل کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے پالیسیاں بنائی جائیں ۔ وطن عزیز کے وسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مگر کیا کیاجائے ہمارے سیاستدانوں کو اقتداراور صرف اقتدار چاہیئے۔ انہیں ریاست اور عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں ۔آج سیاسی گلیاروں میں اخلاقی اقدار کے معیار گر گئے۔ آج سیاست میں عوام کی موجودگی نہیں ۔ عوام کے بنیادی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ۔ ہر طرف اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور ڈاکو سمیت غیر اخلاقی الزامات لگائے جارہے ہیں ۔سیاستدان سیاسی گلیاروں میں ایک دوسرے کی مائوں ، بہنوں ،بیٹیوں اوربیویوں کی سوشل میڈیا پر توہین کرتے نظر آرہے ہیں ان حالات میں سیاست اور ریاست کی حالت کیا ہوگی ؟ ۔

    زمینی حقائق سے کوسوں دورسیاست میں شوروغل مچا ہوا ہے۔ محسوس ہوتا ہے سیاست عوام اور ریاستی مسائل سے بے بہرہ ہو کر تماشوں تک محدود ہو گئی ہے ۔ موجودہ شور شرابے میں وطن عزیز کی معیشت مستحکم کیسے ہو سکتی ہے ؟۔اقتدار حاصل کرنے والے اوراقتدار کوطول دینے والے ہوش کے ناخن لیں ہمارے اطراف میں دہشت گردی کی آگ دوبارہ لگا دی گئی ہے ۔پاک فوج ،قومی سلامتی کے ادارے ، پولیس اس نئی آگ کو ملک و قوم کو محفوظ رکھنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ سیاستدان بھی ملک وقوم کی خاطر انتشار کی سیاست کو دفن کرکے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں۔

  • جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    مچھیرے جال پھینک کر مچھلیاں پکڑتے ہیں. لیکن انسٹاگرام فیس بُک پر فخریہ اپنی پکڑی کسی مچھلی کے ساتھ تصاویر شئیر نہیں کرتے. کیونکہ اس میں کمال مقام اور جال کا بھی شریک ہوتا ہے. لیکن ایک کانٹا لٹکائے شکاری صرف ایک مچھلی پکڑتا ہے اور جیت کا ایسا احساس اسے ملتا ہے کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہے دیکھو میں نے مچھلی پکڑی. یہ میرا کمال ہے.

    یہ واقعی ایک کمال ہے. ایک مچھلی ساری جھیل دریا اور سمندر میں بکھری فطرت کی خوراک چھوڑ کر اگر اس کانٹے پر لپکے اور شکاری اسے شکار بنالے تو کمال ہی کہلائے گا. ایسے ہی ٹیکنالوجی کے اس دور میں کلک بیٹس ہنی ٹریپ اور آڈیو ویڈیوز کو سچ مان لینے والی مچھلیاں بھی کمال مثال ہوتی ہیں.

    ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کچے کے ڈاکو بھی وائس چینجر سوفٹویر سے لڑکی کی آواز میں کوئی مرغا ایسا پھنسا لیتے ہیں جو سب کچھ چھوڑ کر جنگل میں چلا جاتا ہے. تو یہ اس ڈاکو شکاری کا کمال ہی ہے. البتہ اس مرغے کی یہ جہالت ہوگی. ایسے ہی سیاسی مقاصد کیلئے آڈیوز ویڈیوز کا استعمال کرنے والے ہوں یا انٹرنیٹ پر لوگوں کے کلکس سمیٹنے والے چینلز کی سرخیاں ہوں ان کو سچ سمجھنے والی آڈینس یہی بے وقوف مچھلیاں ہی ہوتی ہیں.

    جب تک دریا کی مچھلیوں کو عقل نہیں آئے گی شکاریوں کا شکار جاری رہے گا. ہمارے ہاں یہ شکار جس زور و شور سے جاری ہے یہ صرف یہاں جہالت کا حساب بتا رہا ہے.