Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    کوئی چار سال پرانی بات ہے۔ مجھے ایک لڑکی اچھی لگی اور بائیک سے گاڑی پر شفٹ ہونے کا خیال بھی آیا۔ کہ "وہ” بائیک پر بیٹھی اچھی نہیں لگے گی۔ اور اس پر مٹی بھی پڑے گی۔ میں ان دنوں بڑے لمبے لمبے وٹس ایپ سٹیٹس لکھا کرتا تھا۔ میرے قریبی دوست جانتے ہیں۔ جیسے اب فیس بک پر لکھتا ہوں ایسے ہی وٹس ایپ پر لکھتا تھا۔ بڑی آڈئینس کے سامنے اپنے وچار رکھنے کی ہمت نہ تھی۔ اور لکھنے میں تب یہ روانی بھی تو نہ تھی۔ انہی دنوں میں یہ کتاب دی سیکرٹ پڑھی۔ اور آنٹی بائرن کی اسکے بعد آنے والی تینوں کتب میجک، پاور، ہیرو بھی پڑھیں۔

    ان سب کتب کا مدعا یہ تھا کہ ہم جو بھی سوچتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اپنی سوچوں کی فریکوئنسی سے ہم کائنات کو پیغام دیتے ہیں۔ اور جو ہم سوچتے ہیں وہ بس ہوجاتا ہے۔ اس بات میں نے سچ مان لیا۔ اور نہ صرف خود کچھ گولز سیٹ کیے بلکہ اپنے دوستوں کو بھی ترغیب دی کہ ہم خود ہی اپنی ایک لمٹ طے کر لیتے ہیں۔ اور اس سے باہر نہیں سوچتے۔ صرف سوچنا ہی تو کافی نہیں ہوتا۔

    اسکے بعد سامنے آنے والے مواقع و امکانات کو اویل بھی کرنا ہوتا ہے۔ مجھے تنخواہ کے حساب سے دو یوٹیوب چینلز نے آزاد کرایا جنکو میں سکرپٹ لکھ کر دیتا تھا۔ اور آمدن کا 30 فیصد مجھے ملتا تھا۔ پھر سپیشل بچوں کے والدین کو دی جانی والی کنسلٹنسی ایک اور آمدن کا حصہ بنی۔ اوپن یونیورسٹی کی ٹیوٹرشپ اور آن لائن لیکچرز سالانہ آمدن میں 2 سے 3 لاکھ اضافے کی وجہ بنے۔ اور کچھ نہ کچھ ایسا ہی ساتھ چلتا رہا۔

    میری یہ سوچ تھی کہ سرکاری جاب کو چلاؤں یا چھوڑ دوں میری آمدن ایک ہزار ڈالر سے کم نہ ہو بس۔ یورپ جانے کا خیال آیا پھر سوچا وہاں گاڑیوں میں پٹرول بھرنے یا کسی سٹور پر کام کرنے یا ٹرک چلانے سے تو رہا۔ جس فیلڈ کو زندگی کے قیمتی ترین 10 سال دے چکا اب وہی جینا مرنا ہے۔ اور اس 1 ہزار ڈالر والے گول کو میں نے 2021 کے آخر میں ہی حاصل کر لیا تھا۔ ہمیں بس اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا ہوتا اور کچھ قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ چند سال راتوں کو کسی مقصد کی لگن میں جاگنا ہوتا ہے۔ اور اس سب کی قیمت ضرور ملتی ہے۔ ٹائم لگتا ہے مگر محنت کا پھل ملتا ضرور ہے۔ میری جاب بھی کوئی عام ملازمت تو ہے نہیں بلکہ میرا عشق ہے۔ جو بڑھتا ہی چلا گیا۔ کچھ بھی کروں وزیر اعظم پاکستان ہی کیوں نہ بن جاؤں ان سپیشل بچوں کے ساتھ براہ راست کام کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔

    پہلی لائن میں مذکورہ لڑکی کی شادی جلد ہی ہوگئی تھی۔ آس پاس ٹھنڈی اے سی والی ہوائیں بس چند دن ہی چل سکیں تھیں۔ اور میں تو اسے پرپوز بھی نہ کر سکا تھا۔ جس گاڑی میں اسے بٹھانے کا سوچا تھا وہ اب کافی دیر بعد ملی ہے۔ ابھی کل ہی اسکا میسج آیا۔ گاڑی کی مبارک باد دی اور بتا رہی تھی کہ اسکی شادی شاید چل نہ سکے۔ وہ رشتہ بچانے کی ناکام کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اسکا خاوند اولاد نہ ہونے کی وجہ فیملی پریشر میں ہے اور دوسری شادی کا سوچ رہا ہے۔ جہاں وہ شادی کرنا چاہتا انکی ڈیمانڈ ہے کہ پہلی کو طلاق دو پھر رشتہ دیں گے۔ اب اس سب میں جو ہونے جا رہا میرا تو کوئی قصور نہیں ۔ میں تو اسے پرپوز تک نہیں کر سکا تھا۔

    آنٹی بائرن کو ای میل کر دی ہے کہ بتائیں اب کیا کروں۔ گاڑی جو سوچی تھی چار سال بعد مل گئی۔ آپکا شکریہ کہ یہ خوشحالی کی طرف جانے کی سوچ اور راستہ آپ نے ہی دکھایا تھا۔ سالوں پہلے چھوڑی گئی فریکوئنسی یہاں کام خراب کر رہی ہے۔ ان لہروں کو واپس لانے کا کوئی طریقہ بتائیں کہ میری تو اب شادی ہو چکی ہے.

  • مولانا محمد علی جوہر کا یوم پیدائش

    مولانا محمد علی جوہر کا یوم پیدائش

    رام پور کے معزز وممتاز خاندان میں مولانا محمد علی ۱۰؍ دسمبر 1878کو پیدا ہوئے، دو برس کی عمر میں ہی ان کے والد عبد العلی خاں کا انتقال ہوگیا، والدہ کی عمر بیوگی کے وقت ۲۷؍ برس تھی، انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد ۸؍سا ل علی گڑھ میں گزارکر بی اے کی ڈگری حاصل کی، میر محفوظ علی کے مطابق وہ کلاس میں لیکچر سنتے، فیلڈ میں کرکٹ کھیلتے اور یونین میں تقریر کرتے تھے، ان کے بڑے بھائی شوکت علی نے روپے کا انتظام کرکے انہیں آکسفورڈ یونیورسیٹی میں داخلہ دلوادیا، جہاں سے انہوں نے تاریخ جدید میں بی اے آنرز کی سند حاصل کی، ان کی ذھنی وفکری تربیت میں ان کی والدہ بی اماں کا بڑا رول تھا، مولانا محمد علی کے دل میں ملت اسلامیہ کا بڑا درد تھا، ان کی خدمات کئی لحاظ سے قابل قدر ہیں، ملک کی آزادی کی جد وجہد، تحریک خلافت، اشاعت تعلیم، فروغ اردو، عوامی بیداری بذریعہ صحافت، اور اپنی مخلصانہ کوشش وکاوش میں وہ بہت کامیاب رہے۔

    برطانوی حکومت نے جب کلکتہ کے بجائے دہلی کو ہندوستان کی راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا تو محمد علی نے ’’کامریڈ‘‘ کا دفتر بھی 14؍ستمبر 1912کو دہلی میں منتقل کرلیا، اور 12؍ اکتوبر کو یہیں سے ’’کامریڈ‘‘ کا پہلا شمارہ شائع کیا، انہوں نے مسلمانوں کی آسانی کے لئے ’’نقیب ہمدرد‘‘ نامی اردو پرچہ کا اجرا کیا، جو بعد میں روزنامہ ہمدرد کے نام سے مشہور ہوا، باشندگان ہند کو آزادی وطن کے لئے بیدار اور تیار کرنے کی غرض سے مولانا نے صحافت کو موثر ذریعہ بتایا، اس کے ساتھ ساتھ وہ تحریک خلافت کے لئے مسلسل اسفار کرتے رہے۔
    ۹؍ جنوری 1920کو مولانا ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے دہلی پہنچے تو چاندنی چوک پر ان کا شاندار استقبال ہوا، خواجہ حسن نظامی نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’۔۔۔ دہلی کی سر زمین پر کتنے ہی عظمت وجلال والے تاجدار اور شاہزادے اور حکام بلند مقام آئے اور چلے گئے لیکن سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد سے آج تک اس خلوص وعقیدت کے ساتھ شاید ہی کسی شخص کا خیر مقدم کیا گیا ہو-

    تحریک خلافت نے ملک میں آزادی کی تڑپ پیدا کردی ہر فرد کے دل میں علی برادران کے لئے محبت جاگزیں ہوگئی، اس تحریک نے انگریزی اسکولوں، کالجوں اور سرکار کی نگرانی میں چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کو چھوڑ دینا فرض قرار دے دیا، چنانچہ تعلیمی محاذ پر ترک موالات کے لئے مولانا محمد علی نے علی گڑھ کے ایم اے او کالج سے پہل کی۔

    بالآخر 29اکتوبر کو جمعہ کے دن ایم اے او کالج کی مسجد میں بعد نماز جمعہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘‘ کی رسم افتتاح شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن کے ہاتھوں ادا ہوئی۔ حکیم اجمل خاں اولیں امیر جامعہ، مولانا محمد علی پہلے شیخ الجامعہ، حاجی موسی خاں سکریٹری، اور تصدق احمد شیروانی جوائنٹ سکریٹری مقرر ہوئے۔

    مولانا محمد علی نے 22نومبر 1920کو فاؤنڈیشن کمیٹی کے جلسے میں یہ تجویز منظور کرالی کہ جب تک نیا نصاب تعلیم تیار ہوکر نہیں آجاتا مجوزہ نصاب ہی کو اصلاح وترمیم کے ساتھ جاری رکھا جائے اور اس میں دینیات کے مضمون کا اضافہ کردیا جائے۔

    اس موقع پر ایک نصاب کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مولانا محمد علی ، ڈاکٹر سر محمد اقبال، مولوی عبد الحق، مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا آزاد سبحانی، مولوی صدر الدین، ڈاکٹر انصاری، محی الدین، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولوی عنایت اللہ، پرنسپل ایس کے رودرا، پرنسپل گڈوانی، پروفیسر سہوانی، سی ایف اینہ ریوز، جواہر لال نہرو، راجندر پرشاد اور سید سلیمان شامل تھے۔
    اس عمومی نصاب پر غور وخوض کے بعد مولانا محمد علی جوہر کی خصوصی نگاہ دینیات کی طرف متوجہ ہوئی چونکہ محمد علی مسٹر سے مولانا ہوچکے تھے اور جدید وقدیم پر ان کی نگاہ ماہرانہ تھی، انہوں نے پھر دینیات کے نصاب کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل کی، جس میں مولانا آزاد سبحانی، مولانا سلامت اللہ، مولانا صدر الدین، مولانا عبد القیوم، مولانا داؤد غزنوی، مولانا عبد الماجد بدایونی، مولانا عبد القادر، مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر خود بھی شامل رہے۔

    ایام اسیری میں جھنڈوارہ میں قیام کے دوران وہ قرآن کریم کی تلاوت اورباقاعدہ تفسیر کے مطالعہ کی سعادت حاصل کرچکے تھے، اس لئے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، دینیات اور تاریخ کو فوقیت دینا چاہتے تھے اور اس ذہن کے ساتھ نصاب تیار کئے جانے پر ان کی توجہ تھی، مولانا محمد علی جوہر کا نظریہ تعلیم تجربات کی روشنی میں ان کے سامنے واضح ہو کر آ چکا تھا، وہ اس بات کو محسوس کرتے تھے کہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کا منفی اثر ہندوستان کے باشندوں پر پڑے گا اور ملت اسلامیہ کو اس معاملہ میں کچھ زیادہ ہی حساس رہنا چاہئے، چنانچہ مصروفیت کے باوجود وہ نصاب تعلیم پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اس کی جزئیات پر ان کی نگاہ بار بار جارہی ہے، اس لحاظ سے ان کی نگاہ میں ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘‘ کا تصور بہت ارفع اور اعلی تھا-

    یہی وجہ ہے کہ اسلامیات اور دینیات کے بلند پایہ عالم دین شیخ الہندحضرت مولانا محمود حسن کے ذریعہ جامعہ کا افتتاح عمل میں آیا اور نصاب کمیٹی میں عصری علوم کے ماہرین کے ساتھ نامور اور بالغ نظر علماء کی بڑی تعداد کو انہوں نے اس کمیٹی میں شامل رکھا، اس سے ان کے تعلیمی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر یوسف حسین اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:۔

    ’’مولانا محمد علی جوہر جب بولتے تھے تو فصاحت وبلاغت کا دریا بہادیتے، گھنٹہ دو گھنٹہ چارگھنٹے متواتر تقریر کا سلسلہ جاری رہتا، مولانا محمد علی کا بولتے بولتے گلا پڑ جاتا اور کبھی کبھی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے۔‘‘

    ان کی تاریخی تقریر کا یہ حصہ جو انہوں نے گول میز کانفرنس لندن میں کی تھی ملاحظہ فرمائیں’’میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا بشرطیکہ وہ آزاد ملک ہو پس اگر ہندوستان میں تم ہمیں آزادی نہ دوگے تو یہاں میرے لئے ایک قبر تو تمہیں دینی پڑے گی-

    ۴؍ جنوری 1931کو ساڑھے نو بجےصبح لندن کے ہائڈ پارک ہوٹل میں جہاں ان کا قیام تھاجامعہ ملیہ اسلامیہ کا اولین شیخ الجامعہ ، ہندوستان کے صف اول کا رہنما اپنے وطن سے دور دیار غیر میں ابدی نیند سوگیا، مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی خواہش کا احترام کیا گیا، جنہوں نے مولانا کے جسد خاکی کو بیت المقدس میں دفن کرنے کی تمنا ظاہر کی تھی اور اس طرح مولانا کے جسد خاکی کو پیغمبروں کے مدفن اور قبلۂ اول میں دفن کیا گیا، مولانا کی قبر پر انہیں کا ایک شعر آج بھی لکھا ہوا ہے۔

    جیتے جی تو کچھ نہ دکھلائی بہار
    مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کُھلے

    اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے فرمایا ’’محمد علی کی زندگی کابیان در اصل ایک قوم اور ایک ملت کے حال اور مستقبل کی تفسیر کرنا ہے کہ محمد علی اسلامی ملت اور ہندی قوم کے قائد تھے اور نمائندہ بھی۔

    برطانوی ادیب ایم جی ویلز کا محمد علی کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ ’’محمد علی نے برک کی زبان، میکالے کا قلم، اور نپولین کا دل پایا ہے، مولانا مناظر احسن گیلانی نے ان پر باضابطہ مرثیہ لکھا ہے۔

    بقول مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندویؒ ’’انہوں نے حق کہنے میں نہ اپنے شیخ طریقت مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی پرواکی نہ اپنے سب سے محترم ومحبوب شریک کار اور جنگ آزادی کے رفیق کار گاندھی جی کی، نہ اس وقت کی سب سے بڑی سلطنت (برطانیہ) کے وزیر اعظم کی، نہ سب سے زیادہ قابل احترام سرزمین کے فرمانروا اور بانئی سلطنت سلطان عبد العزیز ابن سعود کی، انہوں نے ہر جگہ حق بات کہی اور صاف وبے لاگ کہی۔

    مولانا محمد علی جوہر کی غیرت دینی اور حمیت اسلامی مسلمانان ہند کے لئے مشعل راہ ہے، انہوں نے وطن عزیز کے لئے جو قربانی دی وہ ناقابل فراموش اور ملت کی شیرازہ بندی، ان کی تعلیمی ترقی اور جدید وقدیم مواد پر مشتمل نصاب کی تیاری سے ان کے تعلیمی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے جدید اعلی تعلیم کے حصول کے بعد بھی اپنی مذہبی شناخت کو اہتمام کے ساتھ نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس کے داعی اورمبلغ ہوگئےہمیں ان کےاچھےکارناموں کو یادبھی رکھنا ہےاوران اچھائیوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کرناچاہیے مولانا محمد علی کی زبان سے نکلے بعض اشعار ان کے موقف کی پوری ترجمانی کرتے ہیں۔

    توحید تو یہ ہے کہ خداحشر میں کہہ دے
    یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لئے ہے

    کیا ڈر ہے جوہو ساری خدائی بھی مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے

    اشعار

    نہ نماز آتی ہے مجھ کو نہ وضو آتا ہے
    سجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہے

    توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
    یہ بندہ زمانے سے خفا میرے لیے ہے

    قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    وہی دن ہے ہماری عید کا دن
    جو تری یاد میں گزرتا ہے

    ساری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ سودائی ہے
    اب مرا ہوش میں آنا تری رسوائی ہے

    وقار خون شہیدان کربلا کی قسم
    یزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے

    ہر سینہ آہ ہے ترے پیکاں کا منتظر
    ہو انتخاب اے نگہ یار دیکھ کر

    شکوہ صیاد کا بے جا ہے قفس میں بلبل
    یاں تجھے آپ ترا طرز فغاں لایا ہے

    تجھ سے کیا صبح تلک ساتھ نبھے گا اے عمر
    شب فرقت کی جو گھڑیوں کا گزرنا ہے یہی

  • کائنات میں ہمارے پڑوسی!!!  — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کائنات میں ہمارے پڑوسی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کے کئی پڑوسی ہیں۔ زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ہے چاند۔ چاند میاں کے کیا کہنے۔ یہ اتنا خوبصورت ہے کہ شاعروں نے اسے محبوب کے حُسن کا استعارہ بنا رکھا ہے اور میٹرک کے نئے عاشق سے لیکر بزرگی میں پہنچے بابے سب اپنی معشوقاؤں کو چاند سے تمثیل دیتے ہیں۔ چاند زمین سے اوسطاً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے۔ یہ فاصلہ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے جسکی وجہ چاند کا زمین کے گرد مدار مکمل گول نہیں بلکہ بیضوی شکل کا ہے۔

    زمین کا سب سے قریبی پڑوسی سیارہ نظامِ شمسی کا دوسرا سیارہ زہرہ ہے۔ زہرہ کو زمین کی جڑواں بہن بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ اور بات کے گردشِ ایام اور شومئی قسمت کہ زہرہ کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس گیسیں اس قدر زیادہ ہیں کہ یہ نظامِ شمسی کا گرم ترین سیارہ ہے۔

    زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ستارہ سورج یے۔ سورج زمین سے اوسطاً 15 کروڑ کلومیٹر ہے۔ مگر سورج تو ہمارے نظامِ شمسی میں ہے۔
    سو سورج کے بعد جو ستارہ زمین کے سب سے قریب ہے وہ ہے پروکسیما سینٹوری۔ یہ ہم سے تقریباً 4.25 نوری سال دور ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔(946 کھرب کلومیٹر)۔

    الفا سینٹوری دراصل تین ستاروں کے ایک سسٹم کا ایک ستارہ ہے ۔ اس ستاروں کے سسٹم کو ایلفا سینٹوری کہتے ہیں جس میں پروکسیما سینٹوری کے علاوہ دو اور ستارے موجود ہیں جو اس سے بڑے ہیں اور یہ ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہیں یعنی یہ بائنری سٹارز ہیں۔ ان دو اور ستاروں کے نام ہیں "ایلفا سینٹوری اے” اور "ایلفا سینٹوری بی” اور یہ ہم سے 4.43 نوری سال دور ہیں۔

    پروکسیما سینٹوری جو ہمارا قریبی پڑوسی ستارہ ہے یہ سورج کے مقابلے میں قدرے چھوٹا اور ٹھنڈا ستارہ ہے۔ اسکا ماس سورج سے تقریباً 12 گنا کم ہے اور اسکا سائز سورج سے 33 گنا کم ہے۔ اس پڑوسی ستارے کے گرد بھی ہمارے سورج کی طرح سیارے گھومتے ہیں۔ اب تک اسکے گرد تین سیارے دریافت ہوئے ہیں جن میں سے دو کی دریافت مصدقہ ہے تاہم تیسرا سیارے کی دریافت نئی تحقیق کے مطابق مشکوک ہے۔

    جو دو مصدقہ سیارے اسکے گرد گھوم رہے ہیں اُنکے نام ہیں "پروکسیما بی” اور "پروکسیما ڈی”۔ جبکہ تیسرا سیارہ "پروکسیما سی” کی دریافت پر اسی سال یعنی 2022 میں ایک نئی تحقیق میں سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

    ان میں سے "پروکسیما بی” ستارے سے اتنا دور ہے کہ اگر اس پر پانی موجود ہے تو مائع حالت میں ہو سکتا ہے۔ جبکہ پروکسیما ڈی پر شاید پانی مائع حالت میں نوجود نہ ہو کہ یہ اس ستارے سے زیادہ قریب ہے۔

    ممکن ہے ان میں سے کسی سیارے پر زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو مگر یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں شاید صدیاں لگ جائیں۔

    بقول اقبالِ لاہوری:

    باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
    کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

  • ہمارا نظام افرنگ سے فرق — ابو الوفا محمد حماد اثری

    ہمارا نظام افرنگ سے فرق — ابو الوفا محمد حماد اثری

    ہاسپٹل کے ماحول میں رہنا ایک ہولناک تجربہ رہا ہے۔ کوئی ایکسیڈنٹ کا مارا آرہا ہے، کسی بزرگ کو تکلیف نے ادھ موا کر چھوڑا ہے اور کئی کم نصیب تکلیف سے بے ہوش ہیں سرہانے کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والا کوئی نہیں اور کسی کے مر جانے پر رونے والا بھی کوئی نہیں۔

    ہمت ہے ڈاکٹر لوگوں کی، وہاں کی فضا میں دن رات کاٹ لیتے ہیں، ہمیں تو جب بھی جانا ہوا وحشت لے کر لوٹے۔

    جن دنوں ہم چچا کو لے ہاسپٹل میں تھے تو ساتھ والے بیڈ پر ایک بزرگ بے ہوش پڑے تھے۔ ان کے بیٹے دن رات ان کی کئیر میں لگے رہتے، مجال ہے جو ایک لمحے کے لئے بھی جدا ہوتے ہوں، لیکن بزرگ ان سے جدا ہوگئے۔

    اور ایک بزرگ کے بیٹے نے باہر سے ہی پیسے بھیج دئیے تھے کہ ابے کو ٹھیک کروا لو، میرے پاس واپس آنے کا ٹائم نہیں۔ مادیت کی ہوس نے بھی ہم پر عجیب عذاب مسلط کئے ہیں، کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو پالتا ہے، پوستا ہے، جوان کرتا ہے، اور پھر مادیت کے ہرکارے اس بچے کو پڑھانے آجاتے ہیں کہ تیرا والد تیری ترقی میں رکاوٹ بن کے کھڑا ہے۔ زندگی کے سرد و گرم سے بے نیاز ہو کر بیٹے کو پالنے والا، اپنے بیٹے کے گرمجوشی والے استقبال سے محروم محض کر دیا جاتا ہے۔

    یہ خداوندان نظام افرنگ، جب کہیں طاقت میں آجائیں تو بوڑھوں کو اولڈ ہاوسز میں منتقل کر دیتے ہیں، کیوں کہ ان کے اپنے ہی بیٹوں کے لئے باپ کی نسبت نوکری بہر حال اہم ہوچکی ہے اور دل ان کا اس پر مطمئن ہے کہ اولڈ ہاوس میں باپ محفوظ رہتا ہے۔

    کبھی سوچتا ہوں کہ خدا ایسی شدید تنہائی ہمیں نا دکھائے تو اچھا، جہاں انسان رشتوں کے احساس سے محروم ہو کر کسی مشینی زندگی کا آلہ بن کر رہ جائے۔ جہاں باپ بیٹے پر حاکم ہونے کی بجائے، کسی اولڈ ہاوس میں بیٹھ کر اس کی راہ تک رہا ہو، جہاں حاکمیت کے احساسات اچانک غلامی میں بدل جاتے ہیں، جہاں کاندھوں پہ کھیلنے والا لاڈلہ والد کا بوجھ کاندھوں سے اتار پھینکتا ہے۔ خدا نا دکھائے، مگر معاشرہ اسی گھٹن کا شکار ہونے جا رہا ہے۔

    پھر کملی والا یاد آجاتا ہے، میں قربان آقا کی ذات پر، کہ باپ اپنی پوری حاکمیت کے ساتھ گھر کے سربراہ کے طور پر بیٹھا ہے۔ بیٹے کو والد کا فیصلہ غلط بھی لگتا ہے تو اپنی رائے دینے کے لئے کئی کئی دن لفظ ڈھونڈنے میں لگا دے، مبادا میرا والد ناراض نا ہوجائے۔ اور یہی ایک فرق ہمارا نظام افرنگ سے ہے، کہ یہاں بیٹا باپ سے بات کرتے ہوئے ڈرتا ہے اور وہاں باپ ہزاروں باتیں اس لئے بھی نہیں کر پاتا کہ بیٹا کہیں ناراض نا ہوجائے۔

  • حضور  ﷺ  آپ سا کوئی نہیں — ابو بکر قدوسی

    حضور ﷺ آپ سا کوئی نہیں — ابو بکر قدوسی

    اس کو بہت دن سے تلاش تھی ، تلاش کہ ماہ کنعان کے بعد چاند کدھر کو نکلا ۔ تلاش ، کہ اس دور ابراہیم کس گھر میں اترے ، تلاش کہ اب کے سراج منیر کس بستی کے افق پر طلوع ہوتا ہے ……..سو تلاش میں وہ بارہا ہمارے حضور کے ہاں بھی چلا آتا …

    ہر دن اس کے اندر روشنیوں کا شہر آباد ہو رہا تھا ….. لیکن کچھ بے کلی کہ پرکھوں کے اور نسلوں کے عقاید آسانی سے بدلنا کہاں ممکن ہوتا ہے ؟

    سو تلاش مزید تلاش میں بدل رہی تھی ……

    ایک روز مجلس جمی تھی کہ دور دراز سے ایک آدمی ہمارے حضور کی مجلس میں آیا – اس نے آن کے اپنا بتایا اور قبیلے کے حالات سنائے ..اور عرض کی کہ :

    ” حضور ، ہمارے علاقے میں قحط سالی ہے ، میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اسلام قبول کر لو اللہ بہت رزق دے گا …مجھے ڈر ہے کہ پیٹ کی آگ ان کو مرتد نہ کر دے کہ ایمان ابھی کمزور ہے اور دل کچے ….سو حضور اگر کچھ عنایت ہو جاے تو بستی کا ایمان سلامت رہ جائے گا ”
    آپ صلی اللہ علیه وسلم نے پاس موجود سیدنا علی کی طرف نگاہ کی کہ نگاہوں میں سوال تھا کہ بیت المال میں کچھ ہے اور سیدنا علی کی خاموشی نے سب کچھ واضح کر دیا کہ گو دامن دل تو ایمان سے معمور ہے لیکن جیب خالی ہے ……

    ماحول میں خاموشی نے اس کی تلاش کو موقع دے دیا ..جی یہ زید بن سعنہ تھے ..کہ جن کو تلاش لیے لیے پھرتی تھی …جھٹ سے پیشکش کی کہ :

    "جناب فلاں باغ کی کھجوریں میرے نام کیجئے کہ پکنے پر میری ہوں گی اور قیمت مجھ سے ابھی لیجئے اور اپنی ضرورت پوری کیجئے ”

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا اور بس یہ تبدیلی کی کہ :

    ” کسی باغ کی مخصوص نھیں ہوں گی لیکن کھجوریں ، جہاں سے ممکن ہوا ، آپ کو مل جائیں گی ”

    سودا ہو گیا …لیکن یہ کھجوروں کا سودا نہیں تھا بلکہ کھجوروں سے بڑھ کے سودا ہوا تھا …..

    سونے کے اسی دینار زید نے نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم کے ہاتھ رکھے ، معاہدہ کیا اور آپ نے سونے کے دینار ان صاحب کو دیئے کہ جلدی اپنی قوم کے پاس جائیں اور ان کی مدد کریں ……

    دن گزرتے گئے کہ دنوں نے تو گذرنا ہی ہوتا ہے …

    ایک روز صاحب وحی اپنے دونوں دوستوں کے ساتھ بقیع کے قبرستان کسی جنازے میں گئے ..تدفین ہو چکی کہ کسی نے آپ کے کندھے کو چھوا ..لیکن یہ محض چھونا نہ تھا ، قیامت ہو گئی کہ چھونا شدید جھٹکے میں بدل گیا …زید نے آپ کی کندھے کی چادر کو کھینچا اور اس قردر زور سے کھینچا کہ گردن کو رگڑتے ہوے اس کے ہاتھ میں ا گئی …مگر صاحب وحی اس افتاد پر گھبرائے نہ الجھے …حیرت ضرور رہی ہو گی کہ آخر مجلس میں موصوف کا آنا جانا تھا لیکن ابھی کچھ اور بھی باقی تھا –

    زید نے نے بہت تلخ رو ہو کے کہا :

    "اد ما علیک من حق و من دین یا محمد ! فواللہ ما علمتکم یا بنی عبد المطلب ، اعلی مطلا فی ادا الحقوق و سداد الدیون ”

    یہ لفظ نہ تھے گویا سیسہ تھا کہ پگھلا ہوا ہو اور کانوں میں اترا جا رہا ہو ….سچی بات ہے اگر کوئی مجھ سے ایسا کہے تو اگر میں بدزبانی نہ بھی کروں شائد کوئی شے ضرور اس کو دے ماروں ……لیکن آمنہ کے معصوم پر جانے کیا کیا مصیبتیں ٹوٹی تھیں کہ دل ٹہر چکا تھا ، ابھی کل کی ہی تو بات تھی کہ مکے میں لوگ ان کو مجنون تک کہہ چھوڑتے تھے ، تب کیسے نہ دل کٹ کٹ جاتا ہو گا ..آج ہم معمولی سی مصیبت کو لے کر کے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ، کبھی آنسو کبھی شکوہ ، کبھی زمانے کی شکایت …جی زید نے کہا :

    ” محمد میرا قرضہ واپس کر ، اللہ کی قسم تم جو عبد المطلب کی اولاد ہو نا ، جان بوجھ کے حقوق اور قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہو ”
    جن کندھے سیے چادر اتری ، وہ تو مسکراتے رہ گئے لیکن ساتھی غضب ناک ہو گیے ….سیدنا عمر طیش میں گئے ، بہت کچھ کہہ ڈالا ، قریب تھا کہ ہاتھ اٹھا لیتے کہ صاحب وحی نے روک دیا :

    "عمر دھیرج دھیرج …ایسی بات تو نہ کہو …. تمہیں تو مجھ سے کہنا چاہیے تھا کہ میں اس کا قرض ادا کرتا اور اس کو کہا ہوتا کہ عمدہ طور پر تقاضا کرتا ”

    پھر سیدنا عمر کو ہی حکم دیا کہ ان صاحب کو لے جا کے ان کا قرض ادا کیجئے اور ہاں یہ بھی حکم تھا کہ بیس صاع بڑھا کے دیجئے گا کہ :
    "یہ اس "زیادتی ” کا بدل ہے جو دھکمی کی صورت آپ نے کی ہے ”

    جی ہاں سیدنا عمر کی تلخ نوائی کا "قرض ” بھی ساتھ ہی ساتھ چکا دیا …کبھی آپ نے اس سنت پر عمل کیا ہے کہ کوئی آپ سے تلخ تر ہو کے بات کرے اور آپ اپنے الفاظ کا بھی جرمانہ ساتھ ہی ساتھ ادا کرتے جائیں …..؟

    سیدنا عمر ان صاحب کو ساتھ لے کے بیت المال کو چلے اور حسب حکم قرض سے پچاس کلو کھجور مزید ادا کر دیں ….

    پلٹ کے مگر زید نے جب کہا :

    "عمر آپ مجھے جانتے ہیں ؟”

    تو اجنبیت بھری نظروں نے آپ نے نفی میں سر ہلا دیا …

    "عمر میں زید بن سعنہ ہوں ”

    اب حیران ہونے کی باری سیدنا عمر کی تھی .

    ".ارے وہی زید کہ مشہور یہودی عالم …”

    "ہاں ہاں ، وہی ہوں نا میں ”

    "اچھے عالم ہو …صاحب علم ہو اور صاحب وحی سے یوں بدزبانی ”

    "اسی لیے تو کی نا کہ عالم ہوں ”

    سیدنا عمر کی حیرت دو چند .

    "بھلا یہ کیا بات کہ عالم ہوں اس لیے بدزبانی کی ”

    "سنیے جناب عمر ////// مدتوں سے تلاش میں تھا ، کھوج تھی کہ دل کو بے چین کیے دے رہی تھی ….آرزو کہ اس بار بھی چاند اسحاق کی بالیں پہ چمکے …. لیکن مقدر آل اسمٰعیل کے روشن تر تھے …خیر دل کو سمجھایا اور ہر طرح سے دیکھا ، پرکھا ، اور جانچا …یہی خبر ہوئی کہ یہی ہیں ہاں یہی آخری نبی ہیں …ایک آخری آزمائش کو مگر دل چاہا کہ ان کا حلم دیکھا جائے کہ آخری نبی کی نشانی ان کا صبر ، حلم بھی ہو گا …..آخری دو نشانیاں ہاں سیدنا عمر آخری دو نشانیوں کی تلاش تھی …کہ ان کا تحمل ان کے غصے پر غالب ہو گا اور یہ کہ جیسے ان کے ساتھ بدزبانی کی جائے گی تحمل کا سیلاب امڈتا چلا جایے گا …جی میرے دوست آج یہ بھی دیکھ لیا ….چلیے عمر آئیے حضور کی جانب چلتے ہیں کہ ہمارے حضور سا کوئی نہیں ”

    "اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمد رسول اللہ "

  • تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ  بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات

    تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات

    تحریک پاکستان کی مشہور خاتون رہنما، سفارت کار اور معروف ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ 22جولائی 1915ء کوکلکتہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد حسان سہروری برطانوی وزیر ہند کے مشیر تھے۔1932ء میں ان کی شادی جناب اکرام اللہ سے ہوئی جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔

    بیگم شائستہ اکرام اللہ شادی سے پہلے ہی شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانہ لکھا کرتی تھیں اور ان کے افسانے اس زمانے کے اہم ادبی جرائد ہمایوں، ادبی دنیا، تہذیب نسواں اور عالمگیر وغیرہ میں شائع ہوتے تھے۔ 1940ء میں انہوں نے لندن یونیورسٹی سے ناول نگاری کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی، وہ اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھیں۔

    تحریک پاکستان کے دنوں میں انہوں نے جدوجہد آزادی میں بھی فعال حصہ لیا اور بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کی رکن رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور اسمبلی کی رکن بھی رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مراکش میں سفارتی خدمات انجام دیں۔

    ان کی تصانیف میں افسانوں کا مجموعہ کوشش ناتمام، دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے، فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ، لیٹرز ٹو نینا، بیہائینڈ دی ویل اور اے کریٹیکل سروے آف دی ڈیولپمنٹ آف دی اردو ناول اینڈ شارٹ اسٹوری شامل ہیں۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن اور بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ رحمن سبحان کی خوش دامن تھیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا۔

    A CRITICAL SURVEY OF THE DEVELOPMENT OF URDU NOVEL AND SHORT STORIES
    شائستہ کی دیگر تصنیفات حسب ذیل ہیں ؎
    LETTERS TO NEENA, published in 1951.
    BEHIND THE VEIL, published in 1953.
    FROM PURDAH TO PARLIAMENT,published in 1963.
    HUSEYN SHAHEED SUHARWARDY:A BIOGRAPHY:published in 1991.
    ENGLISH TRANSLATION OF MIR’ATUL UROOS
    KAHAVAT AUR MUHAVAREY
    انھوں نے FROM PURDAH TO PARLIAMENTکا اردو ترجمہ کیا تاکہ عام لوگ اسے پڑھ سکیں۔اس کے علاوہ سفرنامہ اور دلی کی بیگمات کی کہاوتیں اور محاورے اردو میں ہیں۔بیگم شائستہ اکرام شادی سے پہلے شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانے لکھا کرتی تھیں۔ان کے افسانے اس وقت کے موقر جریدوں جیسے ہمایوں، ادبی دنیا، عصمت، تہذیب ، عالمگیروغیرہ میں مستقل شائع ہوتے تھے۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’کوشش ناتمام ‘کےعنوان سے منظر عام پرآیا شائستہ سہروردی اکرام اللہ کی منتخب تحریریں ماہنامہ عصمت ، ۱۹۳۴ء ؁ سے ۱۹۸۸ء؁ تک ‘ان کے مضامین کا مجموعہ زیور طبع سے آراستہ ہوا۔

    شائستہ کا تعلق ایک متمول اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ان کے دادا بحر العلوم مولانا عبید اللہ عبیدی سہروردی مدناپور کے باشندے تھے ۔انھوں نے مدرسۃ العالیہ سے تعلیم حاصل کی ۔۱۸۸۵ء؁ میں ڈھاکہ میں آپ کا انتقال ہوا۔آپ اینگلو اسلامک اسٹڈیز کے حامی تھے۔آپ نے ہی بنگال میں تعلیم نسواں کے لئےموافق فضا تیار کی۔آپ کے دو بیٹے حسّان سہروردی ، عبد اللہ المامون سہروردی اور ایک بیٹی خجستہ اختر بانو تھیں۔

    پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی (۱۲؍ ستمبر ۱۹۵۶ء؁ تا ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء؁) بیگم خجستہ اختر بانو کے صاحبزادے تھے۔بیگم خجستہ اختر پہلی ہندوستانی خاتون تھیں جنھوں نے سینیر کیمبرج پاس کیا تھا۔ وہ اردو رسائل میں لکھا کرتی تھیں۔

    شائستہ کا نانہال نوابین کا گھرانہ تھا اور ان کی والدہ ایک روایتی خاتون تھیں۔شائستہ سہروردی محمد اکرام اللہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔محمد اکرام اللہ ہندوستان کے ایک معزز خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ان کے والد خان بہادر حافظ محمد ولایت اللہ کا تعلق بھوپال کے شاہی خاندان سے تھا۔ان کی پیدائش ۱۹۰۳ء؁ میں بھوپال میں ہوئی۔

    اکرام اللہ ۱۹۳۴ء؁ میں انڈین سول سروسیزمیں آ گئے۔ ۱۹۴۵ء؁ کے آس پاس انھوں نے اقوام متحدہ لندن اور سان فرانسسکو میں preparatory commissionمیں اہم خدمات انجام دیں۔پاکستان کے قیام کے بعد آپ بھوپال سے کراچی منتقل ہو گئے۔محمد علی جناح نے خارجہ سیکریٹری کا عہدہ آپ کے سپرد کیا۔آپ نے اقوام متحدہ میں کئی مرتبہ پاکستان کی قیادت کی۔ آپ کینیڈا اور یو کے میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہے اور پرتگال اور فرانس کے سفیر بھی بنائے گئے۔

    Common wealth Economic Committeeقائم کرنے میں اکرام اللہ پیش پیش رہے۔وہ کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل بھی منتخب ہوئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے ۱۹۶۳ء؁ میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔آپ کے چھوٹے بھائی محمد ہدایت اللہ 1968 سے 1970 ء تک ہندوستان کے چیف جسٹس اور ۱۹۷۹ء؁ سے ۱۹۸۴ء؁ تک نائب صدر جمہوریہ ہند رہے۔کچھ وقت تک آپ نے کار گذار صدر جمہوریہ کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیں۔

    ۸۶؍برس کی عمر میں ۱۹۹۲ء؁ میں ہدایت اللہ کا انتقال ہو گیا۔شائستہ اکرام اللہ کا ایک بیٹا انعام اکرام اللہ(۱۹۳۴ء؁ سے ۲۰۰۴ء؁) اور تین بیٹیاں ناز اشرف(۱۹۳۸ء؁)، سلمیٰ سبحان(۱۹۳۷ء؁ سے ۲۰۰۳ء؁) اور ثروت (۱۹۴۷ء؁)ہیں۔ناز اشرف مشہور آرٹسٹ ہیں جب کہ سلمیٰ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ رحمٰن سبحان کی ہمسر بنیں۔ثروت اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

    10 دسمبر 2000ء کو بیگم شائستہ اکرام اللہ متحدہ عرب امارات میں وفات پاگئیں۔وہ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • گھڑی چوری‘ قبل از وقت الیکشن کا راگ عام آدمی کے مسائل نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    گھڑی چوری‘ قبل از وقت الیکشن کا راگ عام آدمی کے مسائل نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    گھڑی چوری‘ ڈیلی میل سے بریت اور قبل از وقت الیکشن کا راگ عام آدمی کے مسائل نہیں۔ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ امن و امان کا فقدان‘ صحت اور تعلیم کی سہولیات کا ناپید ہونا گڈ گورننس عوام کے مسائل ہیں جن پر نہ ہی گزشتہ حکومت نے توجہ دی اور نہ ہی موجودہ سیٹ اپ ان بنیادی مسائل کی طرف توجہ دے رہا ہے۔ میڈیا اپنی آزادی میں مختلف الخیال سیاسی پارٹیوں کے اشاروں پر ڈھول بجا رہا ہے اور عوام کے اصل مسائل کو سیاسی شور شرابے میں دبائے جارہا ہے اور عوام کی آواز و چیخ و پکار سے بے خبر ہے۔ میڈیا نے اپنی حقیقی آزادی سیاسی قربان گاہوں کی بھینٹ چڑھا رکھی ہے اور سیاسی جماعتوں نے اقربا پروری‘ بدعنوانی‘ سفارش اور اقتدار کی ہوس کی جنگ میں عوام کو مسائل کی چکی میں پیسنے میں بے رحمی بے حسی کی حدود کو پھلانگ دیا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے قومی سیاست کا دھارا عوامی مسائل اور ریاستی مسائل کی طرف سے کسی دوسری طرف موڑ دیا گیا ہے۔ نان ایشو پر باتیں ہورہی ہیں۔ اجتماعی سوچ کا بھی کوئی تصور ہوتا ہے۔ عوامی مفادات اور ریاستی مفادات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاسی کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے عام آدمی بجلی کا بل دینے سے قاصر ہے۔ ملک کے معاشی حالات ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ مل بیٹھ کر معیشت کی بہتری کے لئے تجاویز دیں لیکن افسوس صد افسوس ریاست کی بجائے سیاست کو مقام دیا جارہا ہے۔ عجب بے معنی شور نے مشکلات ممیں گھرے عوام کے کان مائوف کردیئے ہیں۔ ایک دوسرے کی آڈیو‘ ویڈیو کا کھیل جاری ہے مسخرے پن کی حدود کو کراس کیا جارہا ہے قومی فریضہ کیا ہے قومی سلامتی کیا ہے ملکی بقا کیا ہ ے اس سے بے خبر ہو کر معاشرے میں ایسا گند پھیلایا جارہا ہے خدا کی پناہ۔ آج کے دور کو دیکھ کر اسے پرانتشار دور کا نام دیا جاسکتا ہے۔ موجودہ پرانتشار دور میں عوام کی ضروریات اور ان کے سلگتے مسائل سے کسی کو کوئی واسطہ نہیں ہے۔

  • یوم وفات، ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی

    یوم وفات، ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی

    پیدائش:05 ستمبر 973ء
    کاث
    وفات:09 دسمبر 1048ء
    غزنی
    رہائش:خوارزم
    رے
    غزنی
    گرگان
    شہریت:سلطنت غزنویہ
    زبان:
    ۔۔۔۔۔
    فارسی، قدیم یونانی
    توراتی عبرانی
    سریانی زبان
    سنسکرت، عربی
    شعبۂ عمل:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    طبیعیات، ریاضی، فلکیات
    علوم فطریہ، تاریخ کی سائنس
    لسانيات، ہندویات، زمینیات
    جغرافیہ، فلسفہ، نقشہ نگاری
    انسانیات، نجوم، کیمیا
    طب، نفسیات، الٰہیات
    علم الادویہ، تاریخ مذاہب
    کارہائے نمایاں:آثار الباقیہ
    عن القرون الخالیہ

    ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی (پیدائش: 05 ستمبر 973ء، وفات: 9 0دسمبر 1048ء) ایک بہت بڑے محقق اور سائنس داں تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ البیرونی بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب ”آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ“ مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹے اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کاث شہر دریائے جیحون (دریائے آمو) کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ اس کے اردگرد کئی مضافاتی بستیاں تھیں جن میں ایک بستی کا نام بیرون تھا۔ اس مضافاتی بستی میں ایک یتیم بچہ پرورش پا رہا تھا جس کا نام محمد بن احمد تھا جو دنیا میں البیرونی کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ بچہ شروع ہی سے قدرتی مناظر کا دلدادہ تھا۔ وہ دن بھر باغات میں پھرتا، خوب صورت پہاڑوں پر چڑھ جاتا، صحرا میں دوڑتا بھاگتا اور شام کے وقت گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھ میں ریحان کی کونپلوں اور ٹہنیوں کا ایک گلدستہ ہوتا جسے وہ ایک پیالے میں سجا دیتا اور جب ہوا چلتی تو اس گلدستے کی خوشبو اس کے غریب خانی کو معطر کردیتی۔ اس کی ماں اس کو اسی لیے ابو ریحان کہہ کر پکارتی تھی۔ البیرونی کا باپ ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا تھا لیکن اس کی ناگہانی موت کی وجہ سے البیرونی کی ماں اپنے لیے اور اپنے بیٹے کے لیے جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے روزی کمانے پر مجبور ہوگئی۔ اس کام میں البرونی اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتا تھا۔
    ایک روز البرونی کی نباتات کے ایک یونانی عالم سے ملاقات ہو گئی۔ البرونی نے اسے ایک باغ میں پھول توڑنے اور جنگل کے درختوں کے نیچے پودوں کو کاٹتے دیکھا تو اس یونانی علم کے پاس پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہنے لگا: جناب آپ ان پھولوں کو کیوں توڑ رہے ہیں اور پودوں کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟ کیا آپ میری طرح ان کو کاٹے بغیر اور انھیں زندگی سے محروم کیے بغیر ان کی تصویریں نہیں بنا سکتے ہیں؟ یہ سن کر یونانی عالم ہنس پڑا اور کہنے لگا: بیٹے میں ان پھولوں اور پودوں کو علم کی خاطر جمع کر رہا ہوں، ان پودوں اور پھولوں سے ہم بیماریوں کے علاج کے لیے دوائیں تیار کر رہے ہیں۔ یہ سن کر البیرونی خوشی سے چلایا: تو آپ نباتات کے عالم ہیں؟ یونانی عالم نے پیار سے کہا: ہاں میرے بیٹے، میرا خیال ہے تمھیں پھولوں اور پودوں سے بہت محبت ہے۔ البیرونی نے کہا میں تو تمام قدرتی مناظر سے محبت کرتا ہوں۔ ستاروں، درختوں، پودوں، پھولوں، پہاڑوں، ٹیلوں اور وادیوں سب ہی مجھے پیار ہے۔ وہ یونانی عالم نے البیرونی کو روزانہ تعلیم دیتا رہااور نباتات کا علم سکھاتا رہا۔ اس وقت البیرونی کی عمر گیارہ سال تھی۔ تین سال گزر گئے اور ابو ریحان چودہ برس کا ہوگیا۔ اس عرصے میں اس نے یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت حاصل کرلی اور یونانی علم سے پودوں کی دنیا کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا۔ طبعی علوم کے بارے میں اس کا شوق اور بڑھ گیا۔ یونانی عالم اپنے وطن یونان لوٹنے سے پہلے البیرونی کو فلکیات و ریاضی کے عالم ابو نصر منصور علی کی خدمت میں جو خوارزمی خاندان کا شہزادہ تھا لے گیا۔ ابو نصر نے البیرونی کے لیے الگ گھر تعمیر کرایا اور وظیفہ بھی مقرر کیا۔ ابو نصر ہر روز فلکیات اور ریاضی کے علوم سکھاتا رہا۔ ابو نصر نے البیرونی کو مشہور ریاضی داں اور ماہر عبد الصمد کی شاگردی میں دے دیا۔

    کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں ”کتاب الہند“ ہے جس میں البیرونی نے ہندو‎ؤں کے مذہبی عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب سے ہندو‎ؤں کی تاریخ سے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں، ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں جو اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے۔ البیرونی کی ایک مشہور کتاب ”قانون مسعودی“ ہے جو اس نے محمود کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس داں اور ریاضی داں سمجھا جاتا ہے۔ البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور ”کتاب الہند“ تالیف کی۔ علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام ”البیرونی کریٹر“ رکھا گیا ہے۔
    تصنیفات و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    البیرونی نے تاریخ، ریاضی اور فلکیات پر کوئی سو سے زائد تصانیف چھوڑی ہیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں :
    کتاب الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کتاب البیرونی نے جرجان کے حکمران شمس المعالی قابوس بن دشمکیر کے نام پر تحریر کی۔ اس کا خاص موضوع علم نجوم اور ریاضی تھا لیکن اس میں بہت سی دیگر دلچسپ علمی، تاریخی اور مذہبی و فلسفیانہ باتیں بھی لکھی ہیں اور جگہ جگہ تنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ اس طرح کتاب اس دور کے اہم تاریخی، مذہبی اور علمی مسائل کی ایک تنقیدی تاریخ بن گئی ہے۔
    کتاب الہند
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہندویات پر عربی زبان میں پہلی شہرہ آفاق کتاب جس کا پورا نام تحقیق ما للھند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل او مرذولۃ ہے۔ یہ کتاب قدیم ہندوستان کی تاریخ، رسوم و رواج اور مذہبی روایات کے ذیل میں صدیوں سے مورخین کا ماخذ رہی ہے اور آج بھی اسے وہی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب الہند کا مواد حاصل کرنے کے لیے البیرونی نے سال ہا سال تک پنجاب میں مشہور ہندو مراکز کی سیاحت کی، سنسکرت جیسی مشکل زبان سیکھ کر قدیم سنسکرت ادب کا براہ راست خود مطالعہ کیا۔ پھر ہر قسم کی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی معلومات کو، جو اہل ہند کے بارے میں اسے حاصل ہوئیں اس کتاب میں قلم بند کر دیا۔ اس کتاب میں ہندو عقائد، رسم و رواج کا غیر جانبدرانہ اور تعصب سے پاک انداز میں انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس کے ذریعے عربی داں طبقہ تک ہندو مت کے عقائد و دیگر معلومات اپنے اصل مآخذ کے حوالے سے پہنچیں۔
    کتاب مقالید علم الہیئہ وما یحدث فی بسیط الکرہ۔
    قانون مسعودی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ البیرونی کی سب سے ضخیم تصنیف ہے جس کا نام اس نے سلطان محمود عزنوی کے نام پر رکھا ہے۔ پورا نام ہے۔ یہ 1030ء میں شائع ہوئی اور ان تمام کتابوں پر سبقت لے گئی جو ریاضی، نجوم، فلکیات اور سائنسی علوم کے موضوعات پر اس وقت میں لکھی جا چکی تھیں۔ اس کتاب کا علمی مقام بطلیموس کی کتاب المجسطی سے کسی طرح کم نہیں۔
    ۔ (1)کتاب استخراج
    ۔ الاوتار فی الدائرہ۔
    ۔ (2)کتاب استیعاب الوجوہ
    ۔ الممکنہ فی صفہ الاسطرلاب۔
    ۔ (3)کتاب العمل
    ۔ بالاسطرلاب۔
    ۔ (4)کتاب التطبیق
    ۔ الی حرکہ الشمس۔
    ۔ (5)کتاب کیفیہ رسوم
    ۔ الہند فی تعلم الحساب۔
    ۔ (6)کتاب فی تحقیق
    ۔ منازل القمر۔
    ۔ (7)کتاب جلاء الاذہان
    ۔ فی زیج البتانی۔
    ۔ (8)کتاب الصیدلہ
    ۔ فی الطب۔
    ۔ (9)کتاب رؤیہ الاہلہ
    (10)کتاب جدول
    ۔ التقویم
    ۔ (11)کتاب مفتاح
    ۔ علم الہیئہ۔
    ۔ (12)کتاب تہذیف
    ۔ فصول الفرغانی۔
    ۔ (13)کتاب ایضاح
    ۔ الادلہ علی کیفیہ
    ۔ سمت القبلہ۔
    ۔ (14)کتاب تصور امر
    ۔ لفجر والشفق فی
    ۔ جہہ الشرق والغرب
    ۔ من الافق۔
    ۔ (15)کتاب التفہیم
    ۔ لاوائل صناعہ التنجیم
    ۔ (16)کتاب المسائل
    ۔ الہندسیہ۔
    ۔ (17)مقالہ فی تصحیح الطول
    ۔ والعرض لمساکن المعمورہ
    ۔ من الارض۔

    البیرونی کی دریافتیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی دریافتوں کی فہرست خاصی طویل ہے، انہوں نے نوعیتی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا، زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا، نظری اور عملی طور پر مائع پر دباؤ اور ان کے توازن پر ریسرچ کی، انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکر برقرار رکھتا ہے، انہوں نے محیطِ ارض نکالنے کا نظریہ وضع کیا اور متنبہ کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔

  • لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    کبھی کوئی چائے والا اور کبھی پتی والا ۔۔۔اور کبھی کوئی پیپسی اور آج لاہور دا پاوا ۔۔۔۔۔۔۔

    افسوس اس قوم کے رہنماؤں نے اس قوم کو کھیل تماشے اور بےکار امور کے نشے میں یوں مبتلاء کیا کہ ان کو اپنی منزل بھول گئی ۔۔۔

    خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
    آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی

    ہر طرف ایک مجہول اور نامعقول شخص کے منہ سے نکلے فضول الفاظ کی تکرار ہے ، اور اچھے خاصے سنجیدہ دوست بھی اس بربادی وقت اور فکر کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں ۔۔۔۔

    کہنے کو ہم رہنما اسلامی ملک ہیں ، خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہم سے سب پوچھ کے منزل سفر طے کریں کہ ہم دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہیں اور سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ پوری قوم کی زبان اور حواس پر ایک مجہول جملہ جاری وساری ہے ۔۔۔۔ایسا جملہ کہ جس کا معانی تلاش کیا جائے تو شائد لفظ ” نامعقولیت ” سے ہی ادا ہو پائے ۔۔۔۔

    تکلیف اس امر کی ہے کہ لہو و لعب کی رسیا اس جہالت کو ہر دوسرے ہفتے ایسی کسی جہالت کی تلاش ہوتی ہے۔ ۔۔اور جب ایسی کوئی جہالت مل جاتی ہے تو سوشل میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سب اس جہالت کو ماتھے کا جھومر بنائے ناچ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔

    ایسا شخص کہ جس کی گفتگو کے سبب اسے کسی پڑھی لکھی مجلس میں جگہ نہ ملے اس کے انٹرویو چل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
    کیا ترقی چاہنے والی اقوام کے یہی طور طریقے ہوتے ہیں ؟ ۔حقیقت یہ ہے کہ ہم قوم نہیں نرا ہجوم ہیں ، بےہنگم اور تالیاں پیٹنے والا غیر سنجیدہ ہجوم ۔۔۔۔۔

    اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے کہ جب ملک بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ، کہ آج دیوالیہ ہوا کہ آج ، اور قوم کے بڑے چھوٹے سب ہاہا ہوہو کر رہے ہیں ۔۔یعنی جس وقت پوری قوم کو فکرمندی سے آنے والے دنوں کا سوچنا چاہیے اس وقت یہاں غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے ۔۔۔۔

  • جدید اصطلاحات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    جدید اصطلاحات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    عثمان بھائی نے جدید اصطلاحات کی بات چھیڑ دی ہے۔ ماں سے موم ماسی سے آنٹی اور آنٹی سے آنٹ کا سفر طے ہو چکا ہے۔ لوگ آگے کو بڑھ رہے ہیں اور ایک ہم فقیر ہیں مزید پچھلی اخلاقیات پر آگئے۔

    یادش بخیر ہمارے گھر والوں بے ہمیں ماسی کو آنٹی کہنا ہی سکھایا تھا، سو ہم ماسی کی مٹھاس سے محروم محض ہی تو تھے، لیکن جب ہم مشرف بہ مشرق ہوئے تو آنٹی کو ماسی کہنے لگے۔ میرے بیٹے کو گھر والوں بے بتھیری اردو سکھانے کی بات کی، ہم نے مگر ٹھٹھ پنجابی سکھائی۔

    اس کا ایسا مطلب نہیں کہ ہم کوئی ماضی گزیدہ ہوگئے ہیں یا ماضی کے ناسٹلجیا میں مبتلا ہوگئے ہیں، یہ ایک اور طرح کا شعور ہے، جو مالک سے دعا ہے تمہیں بھی نصیب ہو۔

    مسئلہ تہذیب مغرب کا ہے، جو اس کی حقیقت سے واقف ہونے لگے، اسے اس کے ہر مظہر سے چڑ ہونے لگتی ہے۔ ہم بھی ابتداء میں اسی روسیاہ کی زلف گرہ گیر کے اسیروں میں رہے۔ وہ وقت ہم پہ بھی گزرا جب ہم کسی کو بتاتے ہوئے شرماتے تھے کہ ہم مدرسہ کے طالب علم ہیں۔ ہم اس فیز سے بھی گزرے کہ مولوی یا ملا سے نفرت کر بیٹھے۔

    ہر روایت مخالف کام کو سراہنے کا بھوت سوار رہا، مجھے یاد ہے ہمارے استاذ محترم نے جب ہم سے کہا تھا کہ بیٹا! پڑھ کر کیا بننا چاہتے ہیں؟ تو جواب یہ دیا تھا کہ کم از کم روایتی مولوی نہیں، لیکن اب سوچتا ہوں کہ کاش روایتی مولوی ہی بننے کا جواب دیا ہوتا۔ کیوں کہ روایت کی مخالفت کسی دلیل کی بنا پر نہیں فیشن کی بنا پر کی جا رہی تھی۔ ہمیں بھی جدید ادیبوں کے سڑے گلے فقرے اپنی جاتی پر کسنے میں وہی سکون ملتا جو آج کل نئے جوانوں کو ملتا ہے۔

    ہم بھی اپنا مزاح ملا سے شروع کرتے اور اسی پر ختم کرتے رہے ہیں۔ ہم نے جب پہلی دفعہ اخلاق کا نعرہ لگایا تھا تو شاید لبرل ازم کے تحت ہی لگایا تھا، ہمیں بھی احادیث ج۔ہاد کھٹکتی رہی ہیں۔ ہم بھی ان میں سے رہے ہیں، جو اخلاقیات کو عقیدے سے بھی اوپر کا کوئی شعار قرار دیا کرتے تھے۔ ہم نے بھی وہ دن دیکھے جب دینی غیرت سے مجبور سخت فتوی لگانے والے عالم دین کو دین سے دوری کا سبب بتانا شعور کی معراج سمجھا کرتے تھے۔

    لیکن پھر خدا نے شعور عطا کیا، تہذیب جدید کے فہم سے کچھ حصہ ملا تو پھر زبان حال سے پکار اٹھے

    ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

    ہاں، ہمارا تعلق اس جاتی سے ہے، جن کو عام طور پر اپنی مجلس میں بیٹھنے نہیں دیا جاتا، لیکن اس پر مطمئن ہیں۔

    ہاں ہم وہ ہیں جو پرانی اخلاقیات مانگتے ہیں۔ ہم اس گروہ عاشقاں سے ہیں، جو کو حکم خدا کے بعد کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں رہتی، ہم سے خدا کہتا ہے فلاں سے نفرت کرو تو ٹھوک بجا کے نفرت کرنے لگتے ہیں، ہمیں خدا کسی سے محبت کا کہے تو عمل گو نا کر سکیں مگر اس کی حقانیت ذہن و دل میں واضح رہتی ہے۔ ہم وہ ہیں، جنہیں تہذیب مغرب سے، اس کے مظاہر سے، اس کے ما بعد الطبیعات سے، اس کے فلسفوں سے اتنی ہی چڑ ہے۔ جتنے وہ برے اور انسانیت کے لئے ز،ہر قاتل ہیں۔