Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    آج ایک دوست نے چوبیس سالہ انجینئر لڑکے کی تصویر دکھائی جس نے کراچی کے مال کے اندر اونچائی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ۔ اس قدر خوبرو اور گبھرو جوان کہ دیکھ زبان گنگ رہ گئی۔ اس کی موت کو بیروزگاری سے جوڑا گیا۔ اسی مال میں میری دوست کے بڑے بھائی چیف سیکیورٹی آفیسر ہیں ۔ ایف آئی آر میں ذہنی دباو اور بیروزگاری بتایا گیا یوں معاملہ دب گیا۔

    چونکہ واقعہ مال کے اندر ہوا تھا تو دوسرے روز وہی چیف سیکیورٹی آفیسر اس لڑکے کی ماں سے ملے اور رہن سہن سے اندازہ ہوا کہ مالی معاملات تو ہر گز خراب نہ تھے ۔ بار بار پوچھنے پر ماں نے بتایا کہ اس واقعے سے پہلے اس کی والد سے تکرار ہوئی تھی اور تکرار کی وجہ رشتہ تھا۔ والدین بھتیجی کو بہو بنانا چاہ رہے تھے جبکہ لڑکے نے بتایا کہ وہ فلاں جگہ رشتہ کرنا چاہتا ہے آپ پرپوزل لے کر جائیں ۔ والدین نے انکار کردیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ اگلے ہفتے منگنی کی رسم ہوگی۔ اس سے پہلے بھی لڑکا تین چار بار ذکر کر چکا تھا لیکن وہی انکار۔۔۔
    اس روز مال سے اس کی منگنی کی تیاری کے سلسلے میں شاپنگ ہو رہی تھی ، وہ ذہنی اذیت برداشت نہ کر سکا اور سب سے اوپر والی منزل سے چھلانگ لگا دی۔

    یہ بظاہر ایک عام قصہ ہے ، ہم عموما اولاد پر نافرمان اور جذباتی ہونے کا لیبل لگا دیتے ہیں لیکن کبھی دوسرے رخ کو دیکھنا گوارا نہیں کرتے ۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں اکثر اپنے والدین کے فیصلوں پر سر جھکا لیتے ہیں ساری عمر کمپرومائز بھی کر لیتے ہیں لیکن والدین جبرا کیسے یہ رشتے جوڑ سکتے ہیں ؟

    بچوں سے پسند نا پسند پوچھ لی جائے اور اگر وہ بتا دیں تو اس میں انا اور ہٹ دھرمی کا کیا سوال ؟؟ ہم میں سے اکثر کو دوسروں کی لائے ہوئے کپڑے ،جوتے اور دیگر استعمال کی چیزیں پسند نہیں آتیں تو دوسرے کا منتخب کردہ ہمسفر کیسے پسند آ سکتا ہے ؟؟

    میں نے تو حقیقی زندگی میں ایسے جوڑے دیکھے ہیں جن کی پسند کو رد کرکے اپنی پسند مسلط کئی گئی اور ایک چھت تلے رہ کر بھی ان کے دل نہ جڑ پائے ۔ ہم یہی سوچتے ہیں کہ زندگی ہی تو گزارنی ہے گزر جائے گی لیکن یہی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔۔۔۔۔۔ زندگی گزارنی نہیں ،جینی ہوتی ہے ۔۔۔ !!!

  • آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ملیے "آئیو”سے. یہ مشتری کا تیسرا بڑا چاند ہے۔ نظامِ شمسی کا ایسا چاند جس پر سب سے زیادہ آتش فشائی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ آئیو پر کئی آتش فشائی مرکز ہیں جن سے لاوا اور گیسیں اسکی فضا میں کئی سو میل اوپر کو اُٹھتی ہیں۔آئیو کی قسمت کہ یہ مشتری اور مشتری کے دیگر بڑے چاندوں کے بیچ یوں گھرا ہےجیسے مشتری اور اسکے بڑے چاند اس بیچارے کو درمیان میں رکھ کر گریویٹی کے بل پر رسہ کشی کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئیو کے اندرونی تہوں میں موجود لاوا اور گیسس ہمیشہ حرکت میں ، گرم یا مائع حالت میں رہتے ہیں اور اس چاند کی آتش فشائی فطرت کا سبب بنتے ہیں۔ ان آتش فشاؤں کیوجہ سے آئیو کی اندرونی تہوں سے مواد اسکی باہری سطح پر آتا ہے، جمتا ہے، اور پھر دوبارہ اندرونی تہوں میں چلا جاتا ہے۔ یوں آئیو کی سطح ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ گویا کسی نے اسے ری سائیکلنگ پلانٹ میں ڈال دیا ہو۔

    آئیو زمین کے چاند سے کچھ بڑا ہے۔ یہ مشتری کے ساتھ "ٹائیڈلی لاکڈ” ہے. نجانے اس لفظ کا فیروز اللغات میں کیا اُردو ترجمہ ہو گا۔ اُردو زبان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بے حد کم ہے۔ خیر آئیو کا ٹائیڈلی لاکڈ ہونے کا مطلب سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ یہ چاند مشتری کیطرف ہمیشہ محبوب کیطرح مستقل منہ کیے رہتا ہے۔ یعنی اس چاند کا اپنے محور پر گردش کا دورانیہ اور مشتری کے گرد گردش کا دورانیہ تقریباً ایک جتنا ہے یعنی 1.8 دن۔ یوں اگر آپ مشتری پر ہوں تو وہاں سے "آئیو” کی ایک ہی سائڈ آپکو ہمشہ نظر آئے گی ویسے ہی جیسے زمین پر ہمیں چاند کی صرف ایک سائیڈ نظر آتی ہے۔ (کوئی اُردو سائنس بورڈ جس میںں بابا اشفاق اور مفتی ممتاز صاحب جیسے ادیب ماضی میں شامل رہے تھے سے کہے کہ اُردو میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بڑھائیں ٹائیڈل لاک کا اُردو ترجمہ "جوار بھاٹوی تالہ” یا "مدوجزری تالہ” کسی کو سمجھ نہیں آنا)

    خیر آئیو پر کبھی کبھی اتنے اونچے آتش فشاں پھٹتے ہیں کہ زمین سے کسی بڑی اور طاقتور ٹیلی سکوپ سے کئی کروڑ میل دور بیٹھے بھی کوئی انہیں دیکھ سکتا ہے۔ آئیو کی دریافت کا سہرا اطالوی ماہرِ فلکیات گیلیلیو کے سر جاتا ہے جس نے 1610 میں دوربین کے ذریعے جب مشتری کو دیکھا تو اسکے ساتھ آئیو اور کئی اور چاند اسے نظر آئے۔ ویسے یہ انسانی تاریخ میں ایسا واقعہ ہے جب انسانوں کو احساس ہوا کہ دیگر اجرامِ فلکی کے گرد بھی کئی اور اجسام گھومتے ہیں اور اس سے انسانوں کا زمین کو کائنات کو مرکز سمجھنے، تمام سیاروں، ستاروں اور سورج کا زمین کے گرد گھومنے یا انسانوں کو خود کو کائنات کی توپ چیز سمجھنے کے بچگانہ تصور سے نجات ملی۔

    ناسا کے چار مشنز آئیو کے پاس سے گزر چکے ہیں۔۔ان میں سے سب سے پہلا ستر کی دہائی میں وائجر 1 تھا جبکہ آخری مشن "نیو ہورائزن” تھا جو پلوٹو کی طرف جاتے ہوئے اسکے پاس سے گزرا اور اسکی تصاویر لیں۔آئیو پر اس قدر آتش فشاؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے زمینی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  • "سیل اور بچت” — شہنیلہ بیلگم والا

    "سیل اور بچت” — شہنیلہ بیلگم والا

    ارسلان کو ایس ایم ایس آیا کہ مشہور جینز کے برانڈ پر سیل ہے. دبئی کے رہائشی جانتے ہیں کہ نومبر کے اواخر سے جو سیلز شروع ہوتی ہے وہ سال کے اختتام تک جاری رہتی ہیں. یہ آفرز اتنی دل کھینچ ہوتی ہیں کہ اس سے دامن کیا آنچل بلکہ جیب بچانا بھی انتہائی مشکل ہے.

    امریکن ایگل پہ buy one get one free کی آفر تھی. وہ بھی پورے اسٹور پہ. یہ نہیں کہ ایک کونے می نہ بکنے والا سامان رکھ دیا گیا ہو. وہ الگ چھپا کر رکھا ہے جو مال اچھا ہے کی تفسیر نہیں تھی.

    دوسرے دن ارسلان آفس سے واپسی پہ سیدھا مردف سٹی سینٹر گیا. اپنی پسندیدہ دو جینز ایک کی قیمت میں خریدیں اور گھر واپس آگیا.

    ثمرین کو بھی ایسے بہت سے میسیجز مسلسل آرہے تھے. چونکہ جاب کرتی تھی اس لیے صبح تو جا نہیں سکتی تھی. اس لیے ثمرین نے پروگرام بنایا کہ ہفتے کی صبح دس بجے ہی نکل جائے گی. صبح صبح رش بھی نہیں ہوگا اور پارکنگ بھی آسانی سے مل جائے گی. ویسے ثمرین کی پارکنگ کی صلاحیتیں کچھ اچھی نہیں تھیں. بقول ثمرین کے شوہر اس کو ایک گاڑی پارک کرنے کے لیے دو گاڑیوں کی جگہ چاہیے ہوتی ہے. اور بقول ثمرین کہ میں حلوہ پارکنگ یعنی جہاں دور دور تک کوئی گاڑی نہ ہو، بہترین پارکنگ کر سکتی ہوں.

    چیزیں بٹورنے کی خوشی میں ثمرین صبح وقت پہ ہی گھر سے نکل گئی. حلوہ پارکنگ تو نہیں ملی لیکن ایسا اسپاٹ مل گیا جہاں تین بار ریورس کر کے گاڑی پارک کر ہی لی. گاڑی سے اتر کر سیدھی مول اینٹرینس کی طرف لپکی لیکن پھر یاد آیا کہ موبائل تو گاڑی میں ہی بھول آئی ہوں. گاڑی سے موبائل نکال کر جلدی سے پارکنگ اسپاٹ کی تصویر لے لی ورنہ پھر واپسی پر گاڑی ڈھونڈنے کی خواری ہوتی. یہ مول والے بھی ایک جیسے پارکنگ اسپاٹ پتا نہیں کیوں بنا دیتے ہیں.

    اس کا ارادہ سیدھا امریکن ایگل جا کر جینز اٹھانے کا تھا لیکن برا ہوا bath and body works کا. کیا کِلر آفر تھی. Buy three get four free. ثمرین نے سارے سال کے hand soaps, shower gels, scented candles, fragrances خرید لیے. بل تین سو درہم آیا لیکن سات سو کے آئیٹمز تین سو مل جانا ایک بہترین بچت ہے.

    اس شاپنگ کے بعد ثمرین سیدھا جینز اسٹور جانا ہی چاہتی تھی کہ H&M پہ نظر پڑی. Flat 40% off on entire store.
    ہائے وہ بیگ جس کو پچھلی بار دیکھ کر آہ پھر کر گئی تھی وہ اب اٹھتر درہم کا تھا. اس بیگ کو چھوڑنا کفران نعمت ہوتا. ساتھ ساتھ اسے بچوں کے لیے جیکٹس بھی مل گئے. اس شاپنگ کے بعد اس نے خود کو ڈانٹا کہ اب پیسے ختم ہو رہے ہیں سیدھا امریکن ایگل کا رخ کرنا چاہیے.

    وہ امریکن ایگل کی طرف بڑھی ہی تھی کہ Home box میں برتنوں کا سیٹ انہتر درہم کا تھا. یا اللہ کلر کس قدر پیارا ہے. اور ساتھ میں برنیوں کا سیٹ صرف پچیس درہم میں. بچوں کے بسکٹ اور دوسری چیزیں ان برنیوں میں کتنی پیاری لگیں گی. صرف دو ہی سیٹ بچے ہیں. اس سے پہلے کہ کوئی اچک لے ثمرین نے جلدی سے دونوں چیزیں اپنی ٹرالی میں رکھ لیں. پیمنٹ کاؤنٹر کے پاس ہی کافی کے مگز اور چمچ اور کانٹوں کے پیکٹس بھی پڑے تھے. وہ بھی ساتھ رکھ لیے.

    دکان سے باہر نکل کر خود کو کوسا کہ اب صرف دو سو درہم خرچ کرنے کی گنجائش ہے. شرافت سے امریکن ایگل چلی جاؤں. جلدی جلدی اسی طرف چلنے لگی تو Carrefour میں تمام میک اپ پراڈکٹس پہ پچاس فیصد آف تھا. اس کے قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا.

    سارے پیسے ختم ہو چکے تھے. امریکن ایگل میں جانے کی گنجائش بالکل نہیں تھی. اتنی شاپنگ کے بعد وہ تھک بھی گئی تھی. گھر جا کر پکانے کی ہمت بالکل نہیں تھی. اس نے کے ایف سی سے ایک فل فیملی میل خریدا اور سرشار سی گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگی کہ ڈھائی ہزار کا سامان ہزار درہم میں لائی ہے. امریکن ایگل سے جینز اگلے ہفتے خرید لوں گی.

    ارسلان انتہائی مضبوط قوت ارادی کا مالک تھا. مول میں سے صرف وہی خریدا جس کی ضرورت تھی. لیکن برا ہو ایپل اسٹور کا. اتنی شاندار آفر تھی. کیسے مس کرتا. اس نے مول میں پیسے بالکل خرچ نہیں کئے. بس نیا فون لے لیا. پرانا فون بیگم کو کام آجائے گا. یہ کوئی فضول خرچی تو نہیں.

  • میراثیت کی لت — عثمان ای ایم

    میراثیت کی لت — عثمان ای ایم

    جنگل میں ایک بندر چیخا "اُووہ اُووہ ہا اُووہ۔۔۔۔ ”
    دیگر سب بندر بھی شروع "اُووہ اُووہ ہا اُووہ۔۔۔۔ ”
    بہت شور مچا، لیکن دو چار منٹ میں سب خاموش ہو گئے۔

    پھر کسی گدھے نے پکارا۔۔۔ "ڈھچوں ڈھچوں ۔۔۔ پاوا۔۔۔۔ لاوا۔۔۔۔”
    دیگر لاکھوں گدھے بھی شروع ” ڈھچوں ڈھچوں پاوا۔۔۔۔۔ لاوا۔۔۔۔ پاوا۔۔۔ لاوا۔۔۔۔”
    اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ ہونے کو آ گئے ہیں، یہ سب گدھے ابھی تک ڈھچوں ڈھچوں کر رہے ہیں۔

    عمومی جانور اپنی حیوانی جبلت سے مجبور ہوتے ہیں، ان کو شعور نہیں ہوتا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کو چھوڑ کر کچھ مفید اور تعمیری کام کر لیں۔ اس کے باوجود وہ بھی کچھ دیر چوں چوں کر کے، غرا کر ، بھونک بھونک کر آخر چپ ہو جاتے ہیں۔

    لیکن ان حیوانوں کا کیا کیا جائے جن کے ہاتھوں میں کی بورڈز آ گئے ہیں اور ان کی ڈھچوں ڈھچوں بند نہیں ہو رہی۔ پھر کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ فلاں فلاں میراثی، بھانڈ اور چوڑے چمار یا فلاں فاحشہ کو فلاں ندا یاسر نامی میڈیا طوائف نے اپنے پروگرام میں کیوں بلا لیا۔ تو یہی "پاوا لاوا” بیضہ نامطلوب اچانک ہاں ہاں کرتے ہوئے "اخلاقیات بریگیڈ” کے پیادے بن جاتے ہیں۔

    اللہ کی مار ہو گھٹیا اندھے بہرے حکمرانوں پر، فحش میڈیا پر، اور ان انتہائی گھٹیا اور بداخلاق پنجابی تھیٹر والوں پر، جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو بھانڈ اور میراثی بنانے اور ذومعنی اور فحش باتیں سکھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    ان کو میراثیت کی ایسی لت لگی ہے کہ ان کا حال اس میراثی سے بھی بدتر ہو گیا ہے جو اپنے باپ کی فوتگی پر بھی پولی پولی ڈھولکی بجا کر اپنی لت پوری کرنے کے چکر میں تھا۔

  • ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    دنیا میں ہر جنس پر ظلم ہوتا ہے ۔ مگر سوائے بچےکے ہر عمر ، ہر طبقہ اور ہر جنس اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے ۔ مگر بچہ یہ سب نہیں کر سکتا ۔ وہ بہت کمزور ہے ۔اتنا کمزور کہ وہ اپنے حق کے لیے بول بھی نہیں سکتا۔ خواجہ سراؤں پر ظلم ہوا تو انھوں نے احتجاج کیے، خواتین نے اپنی تنظیمیں بنائی ۔ یہاں تک کہ رکشے والوں کی یونینز ہیں۔ مگر کوئی تنظیم نہیں ہے تو بچوں کی نہیں ہے ۔

    نفسیات دانوں کا شکر ہو جنھوں نے ہمیں علم نفسیات کے ذریعے بتایا کہ بھئی بچے بھی کوئی الگ شے ہیں۔ تم سے مختلف اور کمزور ہیں، جسمانی طور پر بھی اور عقلی طور پر بھی۔ انکا عقل درجہ بہ درجہ وقت کے ساتھ ترقی کی منازل طے پاتا ہے۔اگر کسی بچے کو میوزک کی آواز آرہی ہے ۔مگر آپ دور بیٹھے اسکو والیم اونچا کرنے کا کہتے ہیں تو وہ والیم تو بڑھا دے گا مگر یہ ضرور سوچتا رہے گا کہ جب اسے سننے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی تو آپکو کیوں ہو رہی ہے۔ اگر بچہ مٹی سے کھیلتے ہوئے ہم سے پوچھ لے کہ مٹی کا رنگ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ ہم یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ نے ایسا بنایا ہے یا کچھ اور کہہ کر بس جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اکثر لوگ تو بچوں کو سوال پر ہی ڈانٹ دیتے ہیں ۔ جواب تو دور کی بات ۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی بچہ کم بولتا ہے تو اس مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نکما ہے۔علم نفسیات میں ایسے بچوں کو انٹروورٹ کہا جاتا ہے ۔ ایسے بچے کچھ بڑا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کو شرمیلا اور کمزور سمجھا جاتا ہے ۔گو کہ انٹروورٹ ہونا کوئی بری بات نہیں، یہ صرف ایک پرسنلٹی ٹریڈ ہے ۔ 90 فی صد سائنسدان، شاعر ، ادیب یا موجد انٹروورٹ ہی ہوتے ہیں ۔

    آپکا خاندان یا معاشرہ تو انٹروورٹ ہونے پر آپ کے بچے کی کبھی تعریف نہیں کرے گا۔مگر یہی انٹروورٹ بچہ زندگی میں کبھی ایسا کام ضرور کرے گا جس سے آپکا سر فخر سے بلند ہو جائے گا ۔ سو ایسے بچوں کی حوصلہ شکنی کبھی نہ کریں ۔آپ شدید حیران ہونگے یہ سن کر کہ دنیا کا ہر دوسرا امیر ترین آدمی انٹروورٹ ہے۔ٹیسلا کے ارب پتی مالک نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا، "میں بنیادی طور پر ایک انٹروورٹڈ انجینئر کی طرح ہوں، اس لیے اسٹیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    ہم بچوں کا ہر موڈ برداشت نہیں کرتے ۔ چاہتے ہیں کہ بچے ہر وقت خوش رہیں۔ ان کے بھی اپنے جذبات ہوتے ہیں ، انھیں بھی خوشی اور غمی کا احساس ہوتا ہے۔ مگر ہم اس بات کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں ۔ صرف اسی بات کو نہیں، بلکہ بچوں کو بچہ سمجھنے میں بھی ابھی ہمیں صدیاں درکار ہیں ۔

    جیسے بچوں کو پیدائش کے بعد سیکھنے کے لیے سکول بھیجا جاتا ہے ۔کاش بچہ پیدا کرنے سے پہلے والدین کےلیے بھی بچے کو سمجھنے اور تربیت کی خاطر کسی ڈگری کی شرط ہوتی ۔

  • آیت نور — فرقان قریشی

    آیت نور — فرقان قریشی

    ابھی ہم لوگ ٹوئیٹر پر آیت نور کے حوالے سے ’’نور‘‘ کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے کہ نور کیا ہے ، اور میں نے سوچا کہ اپنی کچھ ٹوئیٹس یہاں فیسبک پیج پر آپ کے ساتھ بھی شیئر کروں ۔

    قرآن پاک کی آیات کو سمجھنے کے لیے ، سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیئے کہ قرآن پاک کس کا کلام ہے ۔

    انسان تو صرف تین ڈائی مینشنز کے اندر قید ایک مخلوق ہے جب کہ قرآن پاک کلام ہے تمام ڈائی مینشنز سے اوپر ایک ذات کا … اس بات کا مطلب کیا ہے ؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ … قرآن کی آیات ایک ایسا کلام ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں اپنی ذہانت کو ملٹی پل لیولز اور ملٹی پل ڈائی مینشنز میں استعمال کرنا ہو گا ۔

    آپؐ نے چونکہ نماز کو بھی نور کہا تھا اس لیے ابن عباسؓ اور انس بن مالکؓ نور کو ہدایت اور رہنمائی بھی بتاتے ہیں اور یہ نور کو سمجھنے کا پہلا لیول اور پہلی ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن جب طائف والوں نے آپؐ کو تکلیف دی تو اس وقت آپؐ کی مانگی ہوئی دعا کو غور سے پڑھیں ، اس دعا میں ہے کہ

    ’’میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں جو اندھیروں کو روشن کر دے‘‘

    اور یہ نور کو سمجھنے کا دوسرا لیول اور دوسری ڈائی مینشن ہے کہ مایوسی اور تکلیف سے نکالنے والی ، سکون دینے والے کوئی چیز ۔

    لیکن کیا نور صرف کوئی میٹافوریکل یا تمثیلی چیز ہے ؟

    شاید نہیں کیوں کہ آپؐ نے اس کی تخلیق کے متعلق بھی بتایا تھا اور نور کا ذکر باقی مخلوقات کے ساتھ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مٹی ، پہاڑ ، درخت اور مکروہات کے بعد نور تخلیق ہوا تھا اور اسی نور سے پھر فرشتوں کو بنایا گیا تھا اور یہ نور کو کوئی سمجھنے کا تیسرا لیول اور تیسری ڈائی مینشن ہے ۔

    نور ایک فزیکل چیز لگتی ہے کیوں کہ آپؐ نے بتایا تھا کہ عدل کرنے والے ، اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف نور سے بنے منبروں پر بیٹھے ہوں گے ۔

    بلکہ یہ بھی کہ نور سے بنے ان منبروں میں سے کچھ منبر تو ایسے بھی ہوں گے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے اور یہ نور کو سمجھنے کا چوتھا لیول اور چوتھی ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن کیا یہ وہی دائیں ہے جو ہماری زبان میں رائیٹ سائیڈ ہوتا ہے ؟

    بالکل نہیں کیوں کہ وہاں سمتیں معنے نہیں رکھتیں آپؐ نے اسی حدیث میں یہ بھی بتایا تھا کہ اللہ کے دونوں طرف دائیں ہے ۔

    اس کا کیا مطلب ہے ؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ڈائی مینشن اور اس لیول پر آ کر ہماری cardinal directions کوئی معنے نہیں رکھتیں ۔

    نور کسی طرح کا cover یا پردہ بھی لگتا ہے کیوں کہ جب عبداللہ بن شقیقؓ نے آپؐ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟

    تو آپ نے فرمایا کہ میں نے بس نور دیکھا ہے اور اس پر آپ نے چار باتوں کا خطبہ دیا کہ اللہ کے چہرے کا پردہ نور ہے اور اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو سب کچھ جل جائے ۔

    اور یہ نور کو سمجھنے کا پانچواں لیول اور پانچویں ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن کیا اس نور کی کچھ پراپرٹیز ہیں ؟

    ہاں اس نور کی کچھ پراپرٹیز ہماری سمجھ میں آتی ہیں مثلاً ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اس مقام پر دن اور رات نہیں ہوتے ۔

    اور عرش پر روشنی اس نور کی وجہ سے ہی ہوتی ہے ، ایک طرح کی ٹھنڈی روشنی اور یہ نور کوسمجھنے کا چھٹا لیول اور چھٹی ڈائی مینشن ہے ۔

    اگر آپ قرآن کا علم رکھنے والے کسی شخص سے پوچھیں کہ قرآن کی سب سے mysterious آیت کونسی ہے تو زیادہ چانسز یہی ہیں کہ وہ آیت نور کا ہی نام لے گا ۔

    کیونکہ اس آیت کا آغاز ہی آپ سے ڈیمانڈ کرنا شروع کر دیتا ہے کہ آپ کا دماغ ذہانت کے ملٹی پل لیولز اور ملٹی پل ڈائی مینشنز میں سوچنا شروع کر دے ۔

  • اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن سے سوشل میڈیا، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ وغیرہ پر لاہور کے ایک مونچھوں والے صاحب بے حد مقبول ہوئےپڑے ہیں اور کافی ٹرینڈ میں ہیں۔ ان صاحب کا نام ہے اختر لاوا۔

    پیشے کے اعتبار سے یہ ایک کاروباری شخصیت ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ٹک ٹاکر بھی ہیں۔ انکی ایک ویڈیو کچھ دن پہلے ٹک ٹاک سے ہوتی ہوئی جب ٹوئیٹر پر پہنچی تو یہ ایک ٹرینڈ بن گئے۔ بقول اختر لاوا صاحب انکے نام کے ساتھ لفظ لاوا کے پیچھے ایک کہانی ہے۔

    فرماتے ہیں کہ ان کا شجرۂ نسب محمد بن قاسم سے جا ملتا ہے اور انگریزوں کے دور میں جب انگریزوں نے اِنکے گاؤں پر حملہ کیا تو اختر لاوا صاحب کے لکڑ دادا انگریزوں سے بے جگری سے لڑے اور انکو مار بھگایا۔ تب سے لوگوں نے انکے خاندان کے ساتھ یہ لاوا کا لاحقہ منسوب کر دیا کہ یہ لوگ بے حد جوشیلے ہیں۔خیر لاوا صاحب جس وجہ سے مشہور ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اچانک سے کسی کنگ فو فائٹر کی طرح بجلی کی سی تیزی سے ایک قدم آگے آ کر نہایت پھرتی اور اپنے لکڑ دادا کی طرح جوش سے محمد علی کلی باکسر کے سٹائل میں مُکا ہوا میں لہراتے ہیں اور یہ تاریخی اور جلی حروف میں لکھا جانے والا جملہ ارشاد فرماتے ہیں: "لہور دا پاوا۔۔۔۔۔۔۔اختر لاوا”۔ پاوا غالباً اندرون لاہور میں بدمعاش کو کہتے ہیں۔ اب چونکہ اِنکا تعارف ہو چکا تو میں نے سوچا اسی بہانے آپکو اصل لاوا جو زمین سے نکلتا ہے اسکے بارے کچھ جانکاری دیتا جاؤں۔

    لاوا دراصل زمین کے اندر موجود پگھلی چٹانوں سے بنتا ہے۔ جب یہ زمین کے اندر ہوتی ہیں تو انہیں جیالوجی میں میگما کہتے ہیں۔ میگما کا درجہ حرارت 700 سے 1300 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ میگما زمین کی اوپری سطح یعنی کرسٹ میں 6 سے 10 کلومیٹر نیچے بڑے بڑے ذخائر کی صورت پایا جاتا ہے۔ انہیں میگما چیمبرز کہا جاتا ہے۔ میگما چیمبرز خصوصاً آتش فشاں پہاڑوں کے نیچے ہوتے ہیں۔

    میگما میں گیس کے بلبلے بھی ہوتے ہیں جو گرم ہونے کی وجہ سے پھٹتے رہتے ہیں مگر یہ زمین کی پتھریلی سطح کے نیچے دب کر اوپر کو نہیں آتے تاہم کبھی کبھار جب پریشر بے حد بڑھ جائے تو یہ بلبلے میگما کو اپنے ساتھ زمین کی نرم جگہوں سے اوپر لے آتے ہیں اور یوں زور سے میگما زمین سے باہر آتش فشاؤں کے پھٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ میگما جب باہر آتا ہے تو اسے لاوا کہتے ہیں۔ لاوا کا درجہ حرارت ںھی کم و بیش اتنا ہوتا ہے جو میگما کا ہوتا ہے۔

    زمین یا آتش فشاں سے نکلتا لاوا کئی سو میٹر بلندی تک جا سکتا ہے۔ لاوے کا رنگ اسکے درجہ حرارت پر منحصر ہوتا یے۔ 1000 ڈگریی سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر لاوے کا رنگ بھڑکتا نارنجی جبکہ 650 ڈگری سینٹی گریڈ سے 500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارات کے لاوے کا رنگ بادامی مائل سرخ ہوتا ہے۔

    لاوا زمین سے نکل کر مختلف رفتار سے اسکی سطح پر بہتا یے۔ یہ اس پر منحصر کے کہ لاوے میں سیلیکا کی مقدار کتنی ہے۔ سیلیکا دراصل گلاس ہوتا ہے۔سیلیکا کی کم مقدار کا لاوا پتلا اور زیادہ علاقے میں پھیلتا ہے جبکہ زیادہ مقدار میں سیلیکا لاوے کو گاڑھا کر دیتی ہے اور یہ سست روی سے بہتا ہے۔لاوا جب زمین کے اوپر آ کر ٹھنڈا ہو کر جمتا ہے تو کالے پتھروں اور چٹانوں می صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اب آپ بتائیں اختر لاوا میں کتنا سیلیکا ہے؟

  • یوم پیدائش، رقیہ سخاوت حسین

    یوم پیدائش، رقیہ سخاوت حسین

    بیگم رقیہ سخاوت حسین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیدائش:09 دسمبر 1880ء
    پیرابوندھ گاؤں
    مِیٹھاپُکُر اُپ ضلع، رنگ پور
    بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند
    (موجودہ بنگلہ دیش)
    وفات:09 دسمبر 1932ء
    کولکاتا، بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند
    (موجودہ بھارت)
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ ، مسلم نسوانیت پسند
    زبان:بنگلہ
    قومیت:بھارت
    نسل:بنگالی
    دور:برطانوی حکمرانی
    ادبی تحریک:حقوق نسواں
    نمایاں کام:سلطاناز ڈریم، پدما راگ
    والد ظہیر الدین ابو علی حیدر صابر
    والدہ :. راحت النساء چودھری
    2 بھائی : محمد ابراہیم صابر، ابو زیغم خلیل اللہ صابر
    بڑی بہن : قمر النساء

    شریک حیات:خان بہادر سخاوت حسین

    بیگم رقیہ سخاوت بنگالی مسلمان خواتین کی تعلیم کے لیے ان تھک کوشش کرنے والی پہلی خاتون تھی۔

    مختصر حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بیگم رقیہ کو پانچ سال کی عمر سے سخت پردے میں رکھا گیا۔ ان کی اسکولی تعلیم عملاً بعید از امکان تھی۔ رقیہ کے والد ان کے انگریزی یا بنگالی سیکھنے کے سخت خلاف تھے۔ اس وجہ سے بیگم رقیہ اور ان کی بہن کریم النساء اپنے ایک بھائی کو لے کر رات کے اندھیرے میں ان دو زبانوں کو پڑھتی تھیں ۔ بیگم رقیہ کی شادی 18 سال کی عمر میں کرائی گئی ۔ جلد شادی کی وجہ حصول تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ شادی کے بعد انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے متعدد اسکول قائم کیے ان کی اس کوشش میں ان کے شوہر کا بھرپور تعاون شامل تھا۔ کلکتہ میں آج بھی ان کا قائم کردہ ” سخاوت میموریل گرلز ہائی اسکول قائم ہے اور وہ ایک مثالی تعلیمی ادارہ ہے۔

  • یوم پیدائش،محمد تقی بہار ،ایرانی شاعر

    یوم پیدائش،محمد تقی بہار ،ایرانی شاعر

    پیدائش:09 دسمبر 1886ء
    مشہد
    وفات:21 اپریل 1951ء
    تہران
    وجۂ وفات:سل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:ایران
    عارضہ:سل
    زبان:فارسی

    محمد تقی بہار ایرانی شاعر تھے۔ بہار شاعر ہونے کے علاوہ محقق، ادیب، معلم، مدیر اخبار اور سیاسی شخص تھے۔ مشہد میں پیدا ہوئے۔ والد کی وفات کے بعد ادیب نیشاپوری سے اصلاح لی۔ آصف الدولہ غلام رضا خاں کے توسط سے مظفر الدین شاہ نے ملک الشعراء کا خطاب عطا کیا۔ اور سالانہ وظیفہ بھی متعین ہوا۔ 1906ء میں ایران میں مشروطیت کا آغاز ہوا۔ تو انقلابیوں کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ اور آزادی پر مقالات اور نظمیں لکھیں۔ نوبہار اور دانشکدہ جاری کیے۔ پانچ بار مجلس شوری ملی کے نمائندے منتخب ہوئے۔ رضا شاہ پہلوی کے عہد میں سیاست سے کنارہ کش ہوکر تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے۔ دارالمعلمین عالی اور تہران یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے۔ کچھ عرصہ وزارت تعلیمات کا قلمدان بھی سنبھا لا۔ بہت سی علمی و ادبی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف تھے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔
    مرزا محمد تقی نام، بہار تخلص، ملک الشعرا محمد کاظم صبوری کے صاحبزادے تھے۔ مشہد میں 9 0دسمبر 1886ء کو پیدا ہوئے اور عربی و فارسی کی تعلیم مشہد ہی میں حاصل کی۔ سترہ سال کے تھے کہ یتیم ہو گئے۔ تحصیل علم کے بعد غلام رضا خاں آصف الدولہ گورنر خراساں کے پاس پہنچے جنہوں نے مظفر الدین شاہ قاجار سے ملک الشعرا کا خطاب دلایا اور سالانہ وظیفہ مقرر کرا دیا۔
    سنہ 1906ء میں انقلاب ایران کے موقع پر ایک پرخلوص اور پرجوش انقلابی رکن رہے اور اپنی انقلابی نظموں سے مقبولیت حاصل کی۔ 1911ء میں "نوبہار” نامی روزنامہ جاری کیا۔ انقلابی ادب کی وجہ سے دوبار جلاوطنی ملی۔ حکومت نے اخبار بند کر دیا۔ حکومت کے دباؤ کیوجہ سے اکثر انقلابی اراکین تہران سے نکل گئے۔ بہار ان میں شریک تھے۔ جب واپس ہوئے تو دوبارہ اخبار جاری کیا۔ مجلس شعرا ملی کے رکن رہے اور پھر تصنیف و تالیف کو مشغلہ بنا لیا۔ اخباروں کے لیے کئی تحقیقی مقالات لکھے۔ ایک ناول "نیرنگ سیاہ پاکیزان سفید” کے نام سے لکھا۔
    تاریخ سیستان، مجمل التوائخ و القصص اور سبک شناسی ان کی اہم تالیفات میں شمار ہوتی ہیں۔ عبارت میں سلاست، جوش اور روانی ہے۔ قصیدہ کی طرز کے استاد تسلیم کیے جاتے ہیں اور ادبی تاریخ پر حاوی ہیں۔ مرض سل میں مبتلا ہو کر تہران میں 22 اپریل 1951ء کو انتقال کیا۔ مقبرہ ظہیر الدولہ، شمران میں دفن کیے گئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    منظومۂ چہار خطابہ، 1926ء
    اندرزہای آذرباد ماراسپندان
    (ترجمۂ منظوم از پہلوی)، 1933ء
    یادگار زریران
    (ترجمۂ منظوم از پہلوی)، 1933ء
    زندگانی مانی، 1934ء
    گلشن صبا، فتح علی خان صبا (تصحیح)، 1934ء
    احوال فردوسی، 1934ء
    تاریخ سیستان (تصحیح)، 1935ء
    رسالۂ نفس ارسطو
    ترجمۂ باباافضل کاشانی (تصحیح)، 1937ء
    مجمل‌التواریخ والقصص
    (تصحیح)، 1939ء
    منتخب جوامع‌الحکایات
    سدیدالدین عوفی (تصحیح)، 1945ء
    سبک شناسی، (تین جلد)
    ۔۔۔ 1942ء-1947ء
    تاریخ مختصر احزاب سیاسی
    (دو جلد)، 1942-1983ء
    دستور زبان فارسی پنج استاد
    (بہ ہمراہی قریب، فروزانفر
    رشید یاسمی، ہمایی)، 1950ء
    شعر در ایران، 1954ء
    تاریخ تطّور در شعر فارسی، 1955ء
    دیوان اشعار، تہران، 1956ء
    تاریخ بلعمی، ابوعلی محمدبن محمد بلعمی
    (تصحیح) (بہ کوشش محمد پروین گنابادی)، 1962ء
    فردوسی نامہ بہار
    (بہ کوشش محمد گلبن)، 1966ء
    رسالہ در احوال محمدبن جریر طبری
    بہار و ادب فارسی

  • تاریخ کے جھروکوں سے،رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی

    تاریخ کے جھروکوں سے،رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی

    تاریخ کے جھروکوں سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی
    9 دسمبر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوبل ادب کے انعام یافتہ بنگالی شاعر رابندرناتھ ٹیگور کی شادی 9 دسمبر 1883 عیسوی میں مرینالینی دیوی کے ساتھ ہوئی تھی.
    شادی کے وقت رابندر ناتھ ٹیگور کی عمر 22 سال تھی اور ان کی بیگم مرینالینی کی عمر صرف 9 یا 11 سال تھی.

    مرینالینی کے والد ٹیگور فارم ھاوس میں ملازم تھے.
    شادی سے پہلے مرینالینی دیوی کا نام بھباتارینی تھا شادی کے بعد ٹیگور فمیلی میں شامل ہونے کے بعد مرینالینی رکھا گیا اور مرینالینی کو جورا سانکو میں واقع مکان پر لایا گیا اور برہمو سماج کے رسم ورواج کے مطابق ان کی شادی رابندر ناتھ ٹیگور کے ساتھ کردی گئی.