Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و  رقص کی اسکالر تھیں

    کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں

    تاریخ ولادت: 25 دسمبر 1928ء
    دہلی
    تاریخ وفات:16 ستمبر 2020ء
    دہلی
    والدین:رام لال ملک
    ستیہ وتی ملک
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    مشی گن یونیورسٹی
    بنارس ہندو یونیورسٹی

    25 دسمبر 1928 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں۔ انھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی اور امریکہ کے مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ کپیلا جی، جو سنگیت ناٹک اکیڈمی کی فیلو رہ چکیں تھیں، ممتاز ڈانسر شمبھو مہاراج اور مشہور مورخ واسودیو شرن اگروال کی شاگردہ بھی تھیں۔

    وہ راجیہ سبھا کے لئے 2006 میں نامزد رکن مقرر کی گئی تھیں اور فائدہ کے عہدے کے تنازع کی وجہ سے انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ راجیہ سبھا کی رکن نامزد کی گئیں۔ واتسیاین نیشنل اندرا گاندھی آرٹ سینٹر کی بانی سکریٹری تھیں اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی لائف ٹائم ٹرسٹی بھی تھیں۔ انھوں نے ہندوستانی ناٹیاشاسترا اور ہندوستانی روایتی فن پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھیں۔ وہ ملک میں ہندوستانی فن کی سرکاری اسکالر کے طور پر سمجھی جاتی تھیں۔

    واتسیاین ہندی کی مشہور مصنفہ ستیہ وتی ملک کی بیٹی تھیں اور ان کے بھائی کیشیو ملک ایک مشہور انگریزی شاعر اور فن نقاد تھے۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ تعلیم میں سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی شادی سچدآنند ہیرآنند واتسیاین سے ہوئی تھی لیکن چند برسوں کے بعد ان سے طلاق ہوگئی اور اس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتی رہیں۔

  • اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے

    ازقلم غنی محمدد قصوری

    آج 25 دسمبر کا دن ہے اور پوری دنیا میں سرکاری چھٹی ہےیہ دن عیسائیوں کے ہاں خاص دن ہے کیونکہ آج ان کی عید ہے جسے وہ Happy Christmas Day بھی کہتے ہیں-

    اسلام جہاں مسلمانوں کو پوری آزادی سے زندگیاں گزارنے کا اختیار دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کو بھی اختیار ہے کہ پوری آزادی سے رہیں بشرطیکہ دین اسلام پر کھلا وار نا کریں جس کی مثال قرآن نے ایسے بیان کی ہے

    تمہارا دین تمھارے ساتھ اور میرا ( دین ) میرے ساتھ
    (سورۃ الکافرون آیت 6)

    دین اسلام میں جبر بھی نہیں ہے کیونکہ یہ دین کامل ہے اسلام میں جبر کی ممانعت قرآن میں ایسے کی گئی ہے –

    لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ
    قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ
    فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى لَاانْفِصَامَ لَہَا
    وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ﴿256﴾

    "دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے-”

    اس آیت سے ثابت ہوا دین اسلام کا نام لے کر کسی پر سختی بھی نہیں کی جا سکتی مگر حدیث رسول نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی بڑی سختی سے منع فرمایا ہے

    حدیث رقم ہے کہ عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. من تشبہ بقوم فہو منہم

    جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے-
    (سنن أبي داؤد)

    غور کیجئے کفار کے مشابہت اختیار کرنے ان کو مبارکباد دینے پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا مسلمان انہی میں سے ہے
    آخر یہ آج کا دن یعنی عیسائیوں کی عید ہے کیا ؟ اس بارے جانتے ہیں Happy Christmas Day کا معنی ہے میلاد عیسیٰ مبارک ہو-

    حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اس دن عیسائی ایک دوسرے کو ایسے مبارکباد دیتے ہیں جیسے ہم مسلمان اپنی عیدین پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس دن Merry Christmas کہہ کر مبارکباد دی جاتی ہے یعنی ولادت عیسی علیہ السلام مبارک ہو-

    عیسائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہمارے مسلمان بھی اس دن ان کو خوب مبارکباد دیتے ہیں جس کا جواز اکثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیں مبارکباد ہماری عیدین پر دیتے ہیں-

    ہماری عیدین پر ان کی طرف سے عید مبارک کہا جاتا ہے جس میں کوئی ایسے ٹکراؤ کے الفاظ موجود ہی نہیں جبکہ جب ہم ان کی عید کی مبارک باد ان کو دیتے ہیں تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور آج ان کا جنم دن ہے

    اس بابت قرآن نے سورہ مریم آیت 88 تا 92 میں بڑی سختی سے ایسے تردید کی ہے

    "یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے(ایسی بات کہنے والو) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے
    کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین پھٹ جائے، اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں، کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو-”

    معاذاللہ کتنے سخت الفاظ میں قرآن اس عقیدے کی ممانعت کر رہا ہے جبکہ ہم دنیاوی دکھلاوے کی خاطر آج ان عیسائیوں کو مبارکبار پیش کرکے اپنا عقیدہ خراب کر رہے ہیں

    خداراہ اقلیتوں کا احترام ضرور کیجئے مگر آج کے دن کی ان کو مبارکباد دے کر اپنا عقیدہ خراب نا کیجئے
    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    صوفیہ بیدار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام:. صوفیہ صنم
    قلمی نام اور تخلص: صوفیہ بیدار
    تاریخ پیدائش:25دسمبر 1964ء
    جائے پیدائش:سیالکوٹ
    نام والد:عبد اللہ ادیب
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات:
    خاموشیاں
    تاراج

    صوفیہ بیدار صاحبہ اردو اور پنجابی کی نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، کالم نگار،صحافی اور بیوروکریٹ ہیں۔ ان کی تحریروں میں ملکی و معاشی اور معاشرتی مسائل کو بہترین پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ملکی اور بیرون ملک ادبی تقاریب اور مشاعروں میں خصوصی طور پر بلائے جاتے ہیں۔ قارئین اخبارات میں چھپنے والے ان کے کالمز ہزاروں کی تعداد میں بڑے شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور متاثر ہوتے ہیں ، میں بھی قارئین کی اس فہرست میں شامل ہوں۔ صوفیہ بیدار کی اردو اور پنجابی شاعری بہت عمدہ اور خوب صورت ہوتی ہے ۔ وہ ایک افسر اعلی کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض پوری دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں وہ ڈائریکٹر آرٹس کونسل کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا
    جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا

    مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے
    کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا

    جلتے ہوئے کھلیان میں اگتی نہیں فصلیں
    خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا

    جب حد سے گزرتے ہیں تو غم غم نہیں رہتے
    اور ایسی زبوں حالی میں رویا نہیں جاتا

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    سلگی ہیں مری آنکھ میں اک عمر کی نیندیں
    آنگن میں لگے آگ تو سویا نہیں جاتا

    یوں چھو کے در دل کو پلٹ آتا ہے واپس
    اک وہم محبت کا کہ گویا نہیں جاتا

    اب صوفیہؔ اس طرح سے دل پہ نہیں بنتی
    اب اشکوں سے آنچل کو بھگویا نہیں جاتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے
    رکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے

    اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں میرے
    وہ اپنے ہاتھ سے مورت میری بناتا ہے

    وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے
    پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے

    ردائے چرخ میں ٹانکے ہیں ہجر نے تارے
    یہ سوت صدیوں کی خاموشیوں نے کاتا ہے

    وفا کا لکھتا ہے انجام عشق سے پہلے
    پھر اس کے بعد نگر پیار کا بساتا ہے

    تمھارے ہوتے ہوئے خاک ہو گئی کیسے
    تمھارے ساتھ مرا کس طرح کا ناتا ہے

    رکا ہوا ہے جو منظر وہ اس کا حصہ ہے
    بھلا لکیر سے باہر بھی کوئی آتا ہے

  • 24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد کراچی حیدرآباد میں ہندوستان سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ مختلف علاقوں کی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے ۔ان کا لباس ۔رہن سہن ۔رسم و رواج۔کھانے ۔زبان مقامی لوگوں سے مختلف تھی جس کا اظہار آج بھی ہوتا ہے

    بریانی بھی ان میں سے ایک ہے کہ یوں تو پورے پاکستان میں بنائی اور کھائی جاتی ہے لیکن کراچی حیدرآباد کے علاؤہ بریانی کے نام پر لوگ دھوکا ہی کھاتے ہیں۔

    بریانی پاکستان کی قومی ڈش نہیں لیکن یہ یقینی طور پر کراچی والوں کے لئے پسندیدہ ترین ہے، جو ہمیشہ مزیدار بریانی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بریانی کی ایک مکمل پلیٹ میں خوشبو دار چاول، گوشت کے پیسز شامل ہوتے ہیں۔ جو بہت ہی مزید اراور لذیذ ہوتے ہیں۔

    بریانی پورے ملک میں یہ شادیوں اور مختلف پروگراموں کے لئے پیش کی جاتی ہے لیکن کھانے پینے کے حوالے سے مشہور تمام شہروں میں کراچی حیدرآباد میں سب بہترین بریانی بنائی جاتی ہے۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ کراچی کے لوگ اس حیرت انگیز پکوان کو کھانا پکانا اچھی طرح جانتے ہیں۔بریانی بہترین غذائیت سے بھرپور کھانا ہے۔ یہ پیٹ میں نہیں جاتی بلکہ سیدھے سیدھے دل میں اتر جاتی ہے

    آپ نے خوشبودار، مزے دار اور ذائقہ دار بریانی، کراچی کی مشہور بریانی یا کراچی کی خاص بریانی جیسے بورڈز تو اکثر دکانوں پر دیکھے ہوں گے لیکن کراچی کی اصل بریانی ہر جگہ دستیاب نہیں کیوں کہ صرف نام رکھنے سے اصل بریانی نہیں بن جاتی۔

    پاکستان کے معاشی حب کراچی میں کئی طرح کی بریانی دستیاب ہے جن میں تہ دار بریانی، بیف بریانی، کراچی بریانی، وائٹ بریانی، زعفرانی بریانی، مصالحے دار بریانی، تکہ بریانی، سندھی بریانی اور مکس بریانی قابل ذکر ہیں۔

    کراچی میں بریانی کے مشہور علاقے:

    کراچی کا علاقہ صدر بریانی کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے پورے شہر میں اس جیسی بریانی کہیں نہیں ملتی۔

    صدر کی مشہور بیف بریانی:صدرکی سب سے مشہور بریانی ، بیف بریانی ہے جس کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ اب مختلف جگہوں پر چکن یا مٹن بریانی بننے لگی ہے لیکن بیف بریانی ہی اصل بریانی ہوتی ہے۔ مصالحے دار گرم چاولوں کے ساتھ نرم اور چکنے گائے کے گوشت کی مزیدار بوٹیاں، جسے دیکھتے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے۔

    صدر کی تہ دار بریانی:صدر کی چکن، مٹن اور بیف کی تہ دار بریانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں پہلے چاولوں کی ایک تہ لگائی جاتی ہے پھر اس پر ذائقے اور لذت سے بھر پور تیار کردہ مصالحے کی ایک اور تہ لگا دی جاتی ہے۔ اسی طرح باری باری چاولوں اور مصالحے کی تہیں لگا کراسے دم دے دیا جاتا ہے۔

    صدر کی مکس بریانی: یہ بھی تہ دار بریانی کی طرح ہوتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس میں زردہ رنگ ملایا جاتا ہے اور چاولوں کے ساتھ مصالحے کی تہیں لگانے کے بعد انہیں مکس کر دیا جاتا ہے۔

    صدر کی وائٹ اور زعفرانی بریانی: صدر میں ایک اور منفرد اور مزیدار بریانی بھی دستیاب ہے جس میں رنگ کے بجائے زعفران کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کہلاتی ہے وائٹ زعفرانی بریانی جس کا مزہ بھی سب سے الگ ہوتا ہے۔

    برنس روڈ کی کراچی بریانی: برنس روڈ، کراچی کی مشہور اور قدیم فوڈ اسٹریٹ پر ویسے تو بریانی کی بہت سی دکانیں ہیں لیکن سب سے مشہور یہاں کی کراچی بریانی ہے۔

    چٹ پٹی بریانی: یہ وہ بریانی ہے جو کراچی کی ہر دوسری گلی میں دستیاب ہے خاص طور پر گلشن اقبال میں اکثر دکانوں پر ملتی ہے لیکن اس کا ذائقہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ خاص طورپر گلشن کےعلاقے موتی محل کی ایک دکان پردستیاب چٹ پٹی بریانی کا اپنا ہی مزہ ہے۔

  • ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھتی شرح سود،امریکی ڈالر کی مضبوطی، ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان سمیت دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑھتی ہوئی شرح سود اور امریکی ڈالر کی مضبوطی ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں ایک بحران جنم لے رہا ہے۔ دی اکانومسٹ نے 53 ممالک کی نشاندہی کی ہے جو یا تو اپنے قرضے ادا کر چکے ہیں یا قرض کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد ممالک زیادہ قرض دار بن چکے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے جن 53 ممالک قرضوں کی وجہ سے پریشانی کی نشاندہی کی ہے وہ دنیا کی اٹھارہ فیصد آباد ی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے قرض دینے والے کم آمدنی والے ممالک کے لئے قرض میں ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کو لازمی طور پر ادا کرنا چاہئے۔ درمیانی آمدن والے ممالک جیسے لبنان، سری لنکا اور سورنیام پہلے ہی نادہند ہ ہیں۔ جبکہ مصر، گھانا، پاکستان، تیونس سمیت دیگر کو قرض کی شدید پریشانی کا سامنا ہے ارجنٹائن اور ایکواڈور نے پہلے ہی 2020 میں اپنے غیر ملکی قرضوں کی تنظیم نو کر لی ہے عالمی معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف ورلڈ بنک اور عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو وہ ریلیف دیں جس کی انہیں ضرورت ہے

    ورلڈبنک یا علاقائی ترقیاتی بنکوں کے لئے کریڈٹ کی سہولت فراہم کریں جس سے پریشان قرض دہندگان رضاکارانہ طور پر استعمال کریں۔ یہ سہولت تمام دوطرفہ اور تجارتی قرضوں اور مساوی شرائط پر لاگو ہو اور قرضوں پر دوبارہ گفت و شنید کے دوران اس عمل کا انتظام کرنے والے کثیر الطرفہ بنک کی طرف سے سخت نگرانی کی جائے عالمی معاشی ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس میں شامل ممالک کو تکمیلی کریڈٹ کی پیشکش کر کے قرضوں کی تنظیم نو کے معاہدوں میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کو ہر معاملے کی بنیاد پر ریلیف کے بارے میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس کی تکمیل کثیر الجہتی ترقیاتی بنکوں کی طرف سے مزید عالمی امداد سے کی جانی چاہئے۔ صرف ان ممالک کے لئے جن کو قرضوں میں ریلیف کی ضرورت ہے بلکہ ان کے لئے بھی جو نہیں کرتے اور یقینا تمام ترقی پذیر ممالک کو طویل مدتی قرضوں کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لئے ساختی اور مالیاتی اصلاحات کو نافذ کرنا چاہئے۔

  • نوبل انعام یافتہ بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر ہیرالڈ پینٹر کا یوم وفات

    نوبل انعام یافتہ بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر ہیرالڈ پینٹر کا یوم وفات

    نوبل انعام یافتہ مصنف اور بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر۔(پیدائش:10 اکتوبر 1930ءلندن،وفات:24 دسمبر 2008ء لندن) ڈراما نگاری میں اپنے مخصوص اسٹائل ’پنٹریسک‘ سے پہچانے جاتے ہیں۔ پنٹر کے کرداروں کی ڈائیلاگ کی ادائیگی کے دوران لمبی خاموشی کو ’پینٹرسک اسٹائل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہیرالڈ پینٹر نے تیس سے زائد ڈرامے لکھے جن میں ’دی کیئر ٹیکر، ’ہوم کمنگ‘ اور ’بیٹریئل‘ بہت مشہور ہوئے۔ ہیرالڈ پینٹر ایک سیاسی سوچ کے حامل شخصیت تھے اور زندگی آخری برسوں میں وہ اپنی سیاسی تحریروں کے وجہ سے پہچانے جانے لگے۔لندن کے علاقے ہیکنی میں پیدا ہونے والے ہیرالڈ پینٹر بائیں بازو کی سوچ رکھتے تھے اور امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے بڑا نقادوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ انہوں نے زندگی صرف ایک بار دائیں بازو کی جماعت کنزویٹو پارٹی کی رہنما مارگریٹ تھیچر کے حق میں ووٹ ڈالا اور وہ ان کی ان کی زندگی کا سب سے ’شرمناک عمل‘ تھا۔

    عراق جنگ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہیرالڈ پینٹر نے سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکا اور برطانیہ کی جارحیت کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ انہوں نے 2005ء میں اپنی نوبل پرائز تقریب میں اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ صدر بش اور ٹونی بلیئر پر عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔ ہیرالڈ پینٹر نے کہا تھا کہ بیشتر سیاست دان ’طاقت اور طاقت پر اپنے کنٹرول کی بقا میں دلچسپی رکھتے ہیں، سچائی میں نہیں۔‘پِنٹر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سیاست دان سمجھتے ہیں کہ یہ ’ضروری ہے کہ لوگ لاعلم رہیں، سچائی سے بے خبر رہیں، یہاں تک کہ اپنی زندگی کی سچائی سے بھی۔ ہیرالڈ پنٹر مزید کہا کہ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے امریکا کا دعویٰ تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار تھے، جو سچ نہیں تھا۔

    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہیرالڈ پینٹر نہ صرف تیس سے زائد ڈرامے لکھے بلکہ بے شمار ڈارموں میں خود بھی اداکاری کی۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے۔

    ہیرالڈ پینٹر نے دو(2) شادیاں کیں۔ ان کے پہلی اہلیہ سے ان کا ایک بیٹا ہے۔ یہ بات بہت کم لوگوں معلوم ہو گی کہ انھیں کرکٹ سے بہت دلچسپی تھی ۔وہ اپنی ذاتی زندگی میں اپنی بذلہ سنجی کے لیے اپنے قریبی احباب کے حلقے میں پسند کیے جاتے تھے۔ انھوں نے شاعری، مضمون نگاری بھی کی مگر ان کا اصل میدان ڈرامہ نگاری تھا اور یہی ان کی شناخت ہے۔ ہیرالڈ پینٹر کا انتقال 78 سال کی عمر میں 24 دسمبر 2008 کو لندن میں ہوا۔
    انھوں نے بتیس (32) ڈرامے لکھے۔
    ۔ (1)The Room
    ۔ (1957)
    ۔ (2)Old Times
    ۔ (1970)
    ۔ (3)The Birthday Party
    ۔ (1957)
    ۔ (4)Monologue
    ۔ (1972)
    ۔ (5)The Dumb Waiter
    ۔ (1957)
    ۔ (6)No Man’s Land
    ۔ (1974)
    ۔ (7)A Slight Ache
    ۔ (1958)
    ۔ (8)Betrayal
    ۔ (1978)
    ۔ (9)The Hothouse
    ۔ (1958)
    ۔ (10)Family Voices
    ۔ (1980)
    ۔ (11)The Caretaker
    ۔ (1959)
    ۔ (12)Other Places
    ۔ (1982)
    ۔ (13)A Night Out
    ۔ (1959)
    ۔ (14)A Kind of Alaska
    ۔ (1982)
    ۔ (15)Night School
    ۔ (1960)
    ۔ (16)Victoria Station
    ۔ (1982)
    ۔ (17)The Dwarfs
    ۔ (1960)
    ۔ (18)One For The Road
    ۔ (1984)
    ۔ (19)The Collection
    ۔ (1961)
    ۔ (20)Mountain Language
    ۔ (1988)
    ۔ (21)The Lover
    ۔ (1962)
    ۔ (22)The New World Order
    ۔ (1991)
    ۔ (23)Tea Party
    ۔ (1964)
    ۔ (24)Party Time
    ۔ (1991)
    ۔ (25)The Homecoming
    ۔ (1964)
    ۔ (26)Moonlight
    ۔ (1993)
    ۔ (27)The Basement
    ۔ (1966)
    ۔ (28)Ashes to Ashes
    ۔ (1996)
    ۔ (29)Landscape
    ۔ (1967)
    ۔ (30)Celebration
    ۔ (1999)
    ۔ (31)Silence
    ۔ (1968)
    ۔ (32)Remembrance of
    ۔ Things past
    ۔ (2000

  • پروفیسر اسٹینلے والپرٹ:کی ادبی زندگی

    پروفیسر اسٹینلے والپرٹ:کی ادبی زندگی

    پروفیسر اسٹینلے والپرٹ

    23 دسمبر یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنوبی ایشیا کی مستند تاریخ کے حوالے سے اتھارٹی تصور کیے جانے والی شخصیت امریکی ماہر تعلیم، محقق اور مصنف اور اسکالر پروفیسر اسٹینلے والپرٹ 23 دسمبر 1927 کو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ انہیں جنوبی ایشیا کی تاریخ سے گہری دلچسپی تھی چنانچہ برطانوی حکومت نے انہیں ہندوستان آ کر تحقیق کرنے کی پیشکش کی جس پر وہ ہندوستان آ گئے ۔

    اسٹینلے نے ہندوستان کی تاریخ کے علاوہ جنوبی ایشیا کی اہم ترین سیاسی شخصیات مہاتما گاندھی ، قائد اعظم محمد علی جناح ، جواہر لال نہرو اور ذوالفقار علی بھٹو کی سوانح حیات پر مبنی کتابیں تحریر کیں ۔ پاکستان میں قائد اعظم کے بارے میں ان کی تصنیف ” جناح آف پاکستان ” بہت مشہور ہوئی جبکہ ہندوستان پر برطانوی تسلط کے آخری دور کے اہم واقعات پر مبنی ان کی کتاب "شیم فل فلائیٹ ” کو بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ پروفیسر اسٹینلے والپرٹ کی 7 مارچ 2019 میں وفات ہوئی۔

  • خان صاحب کا ورلڈ ریکارڈ — ابن فاضل

    خان صاحب کا ورلڈ ریکارڈ — ابن فاضل

    آئن سٹائن نے جب نظریہ نسبیت theory of relativity پیش کیا تو اس کی بہت دھوم تھی. دور دور سے یونیورسٹیوں کے اساتذہ انہیں اپنے ہاں بلاتے اور نظریہ بیان کرنے کی دعوت دیتے، اس پر سوال جواب کرتے.

    ایک روز وہ حسب معمول کسی دور دراز سفر پر تھے. راستے میں ان کا ڈرائیور کہتا، سر یہ جو آپ لیکچر دیتے ہیں میں نے اتنی بار سن لیا ہے کہ مجھے سارے کا سارا لفظ بہ لفظ ازبر ہوگیا ہے. اگر آپ چاہیں تو آج لیکچر میں دے سکتا ہوں. آئن سٹائن نے کہا کہ سناؤ تو ذرا..

    ڈرائیور نے واقعی حرف بہ حرف درست سنادیا. بیسویں صدی کے اوائل میں ابھی ٹیلی ویژن وغیرہ تو تھا نہیں صرف اخبار میں ایک آدھ بار تصویر چھپی ہوگی. لہذا بہت کم لوگوں نے انہیں دیکھ رکھا تھا.

    سو یونیورسٹی پہنچنے سے پہلے آئن سٹائن صاحب ڈرائیور بن گئے اور ڈرائیور صاحب آئن سٹائن. لوگوں نے ڈرائیور کی بہت آو بھگت کی اس نے بھی بہت مزے سے لیکچر دیا. جب سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو تو وہ ایک سوال پر پھنس گیا مگر گھبرایا نہیں.. کہتا یہ تو بہت آسان سوال ہے اس کا جواب تو میرا ڈرائیور بھی دے سکتا ہے… اور پھر ڈرائیور نے جواب دے بھی دیا.

    یونیورسٹی کے زمانے میں کسی استاد سے سنا یہ واقعہ آج خان صاحب کی تقریر سنتے ہوئے یاد آیا.. میرا خیال ہے اگر ایک ہی تقریر بار بار کرنے پر کوئی گینئس بک کا ورلڈ ریکارڈ ہوتا تو خان صاحب وہ آئن سٹائن سے چھین چکے ہوتے. ایک ہی تقریر بار بار سننے کا ریکارڈ البتہ ان کے پیروکاروں سے شاید ہی کوئی چھین سکے.

  • نظامِ شمسی کے باہر چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کے باہر چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    چاند کی تعریف وہ نہیں جو آپکا محبوب ہے بلکہ سائنس میں اسکی تعریف یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سیارچہ ہو جو کسی سیارے کے گرد گھومے۔ مثال کے طور پر زمین کا چاند جسے نجانے کتنے دیوداسوں(اسلم, شکیل، غفور وغیرہ) نے پارو ("فرسٹ” کزن رقیہ خالہ کی بیٹیوں) سے تشبیہ دی ہو گی۔
    یا وہ چاند جسے دیکھنے کے لئےہر سال محلے والی رخسانہ آنٹی کیطرح کمیٹیاں ڈالی جاتی ہیں۔

    مگر کیا چاند محض زمین کا ہے؟ یا کسی سیارے کے گرد بھی اُنکے چاند موجود ہیں؟ 1609 میں جب گلیلیو نے دوربین کی مدد سے آسمانوں کو دیکھا تو اُسے مشتری کے گرد گھومتے اجسام نظر آئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب انسانوں کو معلوم ہوا کہ نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کے گرد بھی چاند گھومتے ہیں۔

    نظامِ شمسی میں عطارد اور زہرہ کے علاوہ باقی تمام سیاروں کے چاند ہیں حتیٰ کہ پلوٹو کے بھی جسے اب سیارہ نہیں مانا جاتا۔
    زمین, مریخ ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون اور دیگر بونے سیاروں جیسے پلوٹو ،ایریس وغیرہ کے کل ملا کر 214 چاند بنتے ہیں۔
    نظامِ شمسی میں سب سے زیادہ چاند جس سیارے کے ہیں وہ زحل ہے جسکے 82 چاند ہیں جبکہ سب سے کم جس سیارے کے چاند ہیں وہ زمین ہے جسکا محض ایک ہی چاند ہے۔

    مگر کیا نظامِ شمسی سے باہر کے دریافت کردہ سیاروں یا Exoplanets کے بھی چاند ہیں؟ یہ جدید فلکیات کا ایک اہم سوال ہے۔ ہم سے کئی نوری سال دور موجود کسی چھوٹے سے سیارے گرد اُسکا چاند ڈھونڈنا ایک مشکل کام ہے۔ زمین پر پہلی کا چاند اتنی مشکل سے دکھتا ہے کہ مرغوں کی لڑائی سے بھی دلچسپ لڑائی ہوتی ہے اور یہاں تو بات کسی دورافتادہ سیارے کے گرد گھومتے چاند کی ہو رہی ہے۔ تو کیا طریقہ ہے جس سے ان سیاروں کے گرد چاند ڈھونڈا جائے؟

    اسکا ایک طریقہ موجود ہے اور وہ ہے سیاروں سے آتی مدہم سی روشنی میں معمولی سے بدلاؤ کو جانچنا۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین اور چاند ایک دوسرے کو اپنی طرف مسلسل کھینچتے ہیں۔ اس "رسہ کشی” سے چاند اور زمین اپنے اپنے مدار میں ہلکا سا ڈولتے ہیں جسے Wobbling کہتے ہیں۔ اس معمولی حرکت سے سیاروں سے آتی اس مدہم سی روشنی کو جانچ کر ہم بتا سکتے ہیں کہ سیارے کے مدار میں گھومنے کے دوران معمولی سا بدلاؤ آ رہا ہے۔ اگر ہم یہ بدلاؤ معلوم کر لیں تو ہم جان سکیں گے کہ سیارے کے گرد کوئی چاند گردش کر رہا ہے۔ ا

    کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس طریقے سے ہم کائنات میں بھٹکے سیاروں یعنی وہ سیارے جو کسی ستارے کے گرد نہیں بلکہ خلا میں آزادانہ گھوم رہے ہیں کے گرد چاند بھی زیادہ آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔

    تو سوال یہ کہ کیا اس طریقے سے ہم نے اب تک نظامِ شمسی سے باہر کے کسی سیارے کا چاند ڈھونڈا ؟

    اب تک کی معلومات کے مطابق دو ایسے اجسام ملے ہیں جو ممکنا طور پر نظامِ شمسی سے باہر کے کسی سیارے کے چاند ہو سکتے ہیں۔ ہمارے زمین سے 8 ہزار نوری سال دور مشتری جیسا ایک سیارہ Kepler 1625b جو اپنے ستارے کے گرد گھوم رہا یے۔ اس سیارے کے گرد نیپچون کے ماس کا ممکنہ چاند موجود ہیں۔ اسکو نام دیا گیا ہے Kepler 1625b-i.

    جبکہ دوسرا ممکنا چاند زمین سے تقریباً 5ہزار 6 سو نوری ساک کے فاصلے پر ایک اور مشتری جسیے سیارے Kepler-1708 کے گرد گھوم رہا ہے۔یہ بھی کم و بیش نیپچون جتنا ہے۔ اسے سائنسدانوں نے نام دیا ہے Kepler-1708 b-i۔ مگر ان دونوں متوقع چاندوں کے بارے میں فی الحال متفقہ رائے موجود نہیں کیونکہ مشاہدات کا ڈیٹا اتنا نہیں کہ اس پر حتمی رائے دی جا سکے۔ تاہم مستقبل میں اُمید کی جا سکتی کے کہ جیمز ویب اور دیگر ٹیلیسکوپس کی مدد سے ہم نظامِ شمسی سے باہر کے چاندوں کو دریافت کر سکیں۔

    ہو سکتا کے کسی دوسرے سیارے پر موجود کوئی اسلم آج بھی اپنی دردانہ کو نیپچون جتنا بڑا چاند کہتا ہو اور وہ ڈائٹنگ کرنے کی بجائے خوشی سے اور پھولتی ہو۔

  • آبی سالنامہ  2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آبی سالنامہ 2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہم پاکستان کی آبی تاریخ کے شاید سب سے ظُلمی سال کو الوداع کہنے جا رہے ہیں جس کے پہلے چھ ماہ پانی کی کمی سے لوگ اور جانور مرتے رہے تو اگلے چھ ماہ بارشی سیلابی پانی کی زیادتی سے۔

    اس سال کی شروعات ہی تاریخ کی بدترین خشک سالی سے ہوئی۔تربیلا ڈیم 22 فروری کوئی ڈیڈ لیول پر آگیا تھا۔ محکمئہ موسمیات کے مطابق اس سال مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ملک بھر یں معمول سے 62 فی صد سے لے کر 74 فی صد تک کم بارشیں ہوئیں اور یہ مہینے گزشتہ چھ دہائیوں کے اب تک کے سب سے زیادہ گرم مہینے تھے۔گرمی کی شدت کا اندازہ لگائیں کہ مئی میں ژوب کے پاس ضلع شیرانی کے ہزاروں ایکڑ پر پھیکے زیتون اور چلغوزوں کے باغات میں آگ بڑھک اٹھی جس پر کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد ہی قابو پایا جاسکا۔ 10 کلومیٹر لمبائی کا علاقہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ہزاروں درخت جل گئے اور اس زیادہ جنگلی حیات مر گئی۔

    مار چ اپریل میں ہی سندھ اور پنجاب جے کاشتکار پانی کی کمی کی وجہ سے سڑکوں پر آگئے تھے جب نہروں میں ضرورت کا صرف ایک چوتھائی پانی چل رہا تھا اور خریف کی فصل خصوصاً گندم پانی کی کمی کی وجہ سے تباہی سے دوچار تھی۔

    دوسری طرف مئی میں چولستان اور ڈیرہ بگٹی میں لمبی خشک سالی سے پانی کے ٹوبے ،کنڈ اور تالاب خشک ہو چکے تھے اور جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ پیاس سے مر رہے تھے اور ان علاقوں کی انسانی آبادی خطرے کو بھانپتے ہوئے ہجرت پر مجبور تھی۔ پیر کوہ میں تو کئی انسانی اموات بھی ہوئیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے اجاگر ہونے سے ریسکیو 1122 اورکئی فلاحی تنظمیں متحرک ہوئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ان علاقوں میں ٹینکرو سے پانی پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ پاکستان کا 17 فی صد سے زیادہ زمینی رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں صحرائے تھل، چولستان، تھر، نوشکی اور خاران کے علاقے شامل ہیں جہاں انسان اور جانور خشک سالی سے متاثر ہوئے۔

    جہاں ایک طرف خشک سالی اور گرمی کی شدت زور پر تھی وہیں محکمئہ موسمیات نے اپریل کے آخر میں اس سال ایک ظالم مون سون آنے کی پیش گوئی کر دی تھی جسے زیادہ سنجیدگی سے نہ کیا گیا۔مئی کے آخر (22مئی) میں چولستان میں تیز بارش اور ژالہ باری ہوئی اور روہیلوں نے اس کا استقبال جشن منا کر کیا۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں اس سال معمول سے زیادہ بارشیں اور 2010 سے بھی بڑا سیلاب آنے کی خبر سنا دی لیکن خشک سالی کے ماحول میں اس اعلان کو توجہ نہ دی گئی۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل مئی تک مون سون سے نپٹنے کے اپنے اپنے منصوبے بنا کر حکومت کو جمع کروا دیتے ہیں لیکن ملک میں اُس وقت جاری سیاسی سرکس کی وجہ سے معمول کا یہ کام بھی صحیح طریقے سے نہ کیا گیا۔

    جون کے آخر میں ملک سے سب بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی۔ ہر طرف جل تھل ہو گئی اور پورے شہر کی آبادی کئی دنوں اپنے گھروں میں قید ہوگئی کیونکہ سڑکوں پر بارش کا پانی کھڑا تھا۔ انہی دنوں میں کراچی میں امان خان کاکاخیل ستون نیکی والے ابھر کر سامنے آئے جو کراچی میں بارشی پانی سے زمینی پانی کو ری چارج کرنے کے انتہائی سادہ اور کسی حد تک بالکل بنیادی مگر بے حد مفید طریقے سے خشک کنوؤں کو تر کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے تھے۔

    جب ملک کراچی کے ڈوبنے کو دیکھ رہا تھا تو جون کے آخر اور جولائی کے شروع میں میانوالی میں کوہِ نمک اور ڈی جی خان میں کوہِ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں سے پہاڑی نالوں میں آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی۔ کرک، لکی مروت اور ڈی آئی خان کے پہاڑوں کے دامن کے علاقے بھی طوفانی ریلوں کی زد میں آگئے لیکن سرکار ابھی تک بھی سوئی ہوئی تھی اور راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

    اس سال جولائی کے شروع ہوتے ہی شمالی بلوچستان میں مون سون شروع ہوگئی جس یں ژوب، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ ، لورا لائی، با رکھان، ہرنائی، پشین اور کوئٹہ تک میں بارشیں شروع ہو گئیں۔یہ عیدالاضحیٰ کے دن تھے۔ 6 جولائی سے شروع ہونے والی یہ بارشیں اگست تک جاری رہیں جو کہ بلوچستان کے کیے ایک غیر معمولی صورت حال تھی کیونکہ بلوچستان کے صرف مشرقی اضلاع ہی مون سون کی آخری حد ہیں جس کے بعد ان کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ تاہم اس دفعہ جنوبی بلوچستان میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی جس میں آواران اور تربت جیسے علاقے بھی شامل تھے۔کئی ڈیم اور بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کے پُل ٹوٹ گئے۔ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔

    جولائی کے تیسرے ہفتے تک سندھ بھی طوفانی مون سون کی زد یں آچکا تھا اور ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔بلوچستان اور سندھ میں ہونے والی اس سال کی مون سون اس لئے مختلف تھی کہ بارش کا ایک دورانیہ ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجاتا اور زمین جو پہلے ہی گیلی پڑی ہوتی اس میں پانی سینچنے کی بجائے فوراً سیلابی صورت حال اختیار کر لیتا۔ دوسرے ایک دو اسپیل کی بجائے بارش کے چھ سے سات اسپیل ہوئے اور چند دنوں میں ہی پانچ چھ سالوں کے حجم برابر مینہہ برس گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق معمول سے چھ گنا زیادہ بارشیں ہوئیں۔یہ پہلی دفعہ ہورہا تھا کہ سندھ میں دریائے کابل اور تربیلا سے چلے ہوئے سیلابی ریلے ابھی نہیں پہنچے تھے لیکن صوبے کا بڑا حصہ بارشی پانی سے زیرِآب آچکا تھا۔

    اسی دوران کوہِ سلیمان کے سیلابی ریلے تونسہ اور ڈی جی خان یں تاریخی تباہی لے کر آئے اور کئی بستیوں کو آنِ واحد میں اُجاڑ کر رکھ دیا۔جولائی کے آخر تک کراچی کے لئے پانی ذخیرہ کرنے والا حب ڈیم بھر چکا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر مون سون کی سر زمین پنجاب میں معمولی بارشیں ہورہی تھیں۔

    اگست کے آخر (26 اگست) میں مون سون نے وادئی سوات میں تباہی مچادی اور دریائے سوات اپنے کناروں سے چھلک پڑا۔ دریا کنارے بنائے گئے بیشتر سیاحتی ہوٹل تنکوں کی طرح پانی یں بہنے لگے۔ کے پی میں کوہستان کی وادئی دبیر میں پانچ بھائیوں کی سیلابی ریلے میں پھنسنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چار بھائی سیلابی ریلے کے ساتھ مدد پہنچنے سے پہلے ہی بہہ گئے۔

    سندھ اور بلوچستان کے ملحقہ علاقوں پر 100 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر سیلابی پانی نے عارضی جھیل بنا دی جس کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری بھی غمگین ہو گئے اور انہوں نے اس سیلاب کو “a monsoon in steroids” کہا۔ حکومت بھی جاگی اور سیلابی علاقوں میں فلاحی تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ صرف الخدمت کی طرف سے قائم کی گئی عارضی خیمہ بستیوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی۔

    ان تباہ کن بارشوں کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا گیا اور عالمی سطح پر پاکستان سے ہمدردی کے جذبات دکھائے گئے کیونکہ پاکستان کا عالمی ماحول کو خراب کرنے والی گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر تھا لیکن یہ اس موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا تھا۔ سیلابوں سے پاکستانی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا، تین کروڑ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئ، 2 ہزار سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور 8 لاکھ سے زیادہ جانور ہلاک ہوئے۔

    نومبر کے پہلے ہفتے میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونیوالی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (COP27) میں مصر نے پاکستان کو اس کی مشترکہ صدارت پیش کی ۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ G77 کی سربراہ کے طور پر شرکت کی۔پاکستانی وفد نے عمدہ طریقے سے اپنا کیس لڑا اور دریائے سندھ کی بحالی کے منصوبے کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے میں کامیاب ہوگیا۔

    تاہم اکتوبر سے دوبارہ خشک سالی والے حالات بننا شروع ہو گئے ہیں ۔ سال کے آخری تین مہینوں میں معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں۔ شہری علاقوں خصوصاًلاہور کی فضاسموگ سے زہر آلود ہو چکی ہے۔

    سال ختم ہونے کو ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقوں سے سیلابی پانی پچھلے چار مہینوں سے نہیں نکال سکی۔ کھجور، چاول اور کیلے کی فصل تو سیلاب نے پہلے ہی تباہ کردی ، اب کھڑے پانی میں گندم کی فصل بھی کاشت نہیں ہو سکتی۔ چشمہ رائٹ بنک کینال، کچھی کینال اور پٹ فیڈر کینال میں بھی سیلابی تباہی کے بعد بحالی کا کام ابھی تک نہ ہو سکنے کی وجہ سے نہری پانی نہیں چل رہا۔ کسانوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور یہ حالات ایک آنے والے دنوں میں خوراک کی قلت کا سنگین مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ آنے والا سال پاکستان کے آبی وسائل کی بہتری کا سال ہو۔