Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم وفات، نصر غزالی، اردو کے ممتاز شاعر

    یوم وفات، نصر غزالی، اردو کے ممتاز شاعر

    رخ کماں تھا ادھر تیر کا نشاں ادھر
    ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پورا نام: ابونصر غزالی
    ولدیت: مولانا عبدالجبار
    آبائی وطن: میرغیاث چک،
    ضلع نالندہ، بہار
    جائے ولادت: میر غیاث چک
    ضلع نالندہ، بہار
    تاریخ ولادت: 04 اکتوبر 1938ء
    تاریخ وفات: 08 دسمبر 2011ء
    تعلیم: ایم اے
    پیشہ: درس و تدریس
    استاد، ریڈر شعبۂ اردو
    مولانا آزاد کالج، کلکتہ
    آغازِ شاعری: 1958ء
    تلمیذ: کسی سے اصلاح نہیں لی
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لہو کا درد-1982ء
    ۔ (نظموں اور غزلوں کا مجموعہ)
    ۔ (2)بنگالی شعراء-1982ء
    ۔ (تعارف و ترجمہ)
    ۔ (3)کوہِ فاراں سے آتی صدا
    ۔ (نظموں کا مجموعہ)
    ۔ (4)دور اک پیڑ
    ۔ (غزلوں کا مجموعہ)
    ۔ (5)میزانِ قدر
    ۔ ـ(تنقیدی مضامین کا مجموعہ)
    پتا: 37، امداد علی لین، فاراں ہاؤس
    کلکتہ-700016

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رخ بہار پہ عکس خزاں بھی کتنی دیر
    مخالفت پہ تلا آسماں بھی کتنی دیر
    کسی کا نام کسی کا نشاں بھی کتنی دیر
    ہو جسم خاک تو پھر استخواں بھی کتنی دیر
    شکست و ریخت کی اس منزل پریشاں میں
    یقیں کی عمر بھی کتنی گماں بھی کتنی دیر
    بندھا ہے عہد جو تیغ و گلو کے بیچ تو پھر
    لرزتی کانپتی ننھی سی جاں بھی کتنی دیر
    نکل چلو ہے ابھی سہل راستہ یارو
    کہ مہرباں ہے تو یہ مہرباں بھی کتنی دیر
    برائے شب بھی کشادہ ہے میرا دروازہ
    کہ صبح آئی تو یہ میہماں بھی کتنی دیر
    سخن وری نہ سہی معجزہ سہی لیکن
    یہ طرز فکر یہ حسن بیاں بھی کتنی دیر

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    برف‌ زار جاں کی تہہ میں کھولتے پانی کا ہے
    جو بھی قصہ ہے لہو کی شعلہ سامانی کا ہے
    آسماں سے روشنی اتری بھی دھندلا بھی چکی
    نام روشن ہے تو بس ظلمت کی تابانی کا ہے
    ریگزار لب کہ ہر سو اگ رہی ہے تشنگی
    آنکھ میں منظر اچھلتے کودتے پانی کا ہے
    بے سبب ہرگز نہیں دست کرم کم کم ادھر
    اس کو اندازہ ہماری تنگ دامانی کا ہے
    شہر ہو یا ہو بیاباں گھر ہو یا کوئی کھنڈر
    سلسلہ چاروں طرف غول بیابانی کا ہے
    موڑ پر پہنچے تو دیکھو گے کہ ہر منزل ہے سہل
    بس یہی اک راستہ ہے جو پریشانی کا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا
    صدائیں سہمی کچھ ایسی سخن کا یارا نہ تھا
    تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے
    چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا
    رخ کماں تھا ادھر تیر کا نشانہ ادھر
    ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا
    رفو طلب نظر آتا ہے دیکھیے جس کو
    لباس جاں تو کبھی اتنا پارہ پارہ نہ تھا
    خدا کرے کہ رہے مہرباں سدا تم پر
    عزیزو وقت کہ اک لمحہ بھی ہمارا نہ تھا
    اڑانیں بھرتے پرندوں کے پر کتر ڈالیں
    نظر کے سامنے ایسا کبھی نظارہ نہ تھا
    ہے دور حد نظر سے تو کیا قیامت ہے
    ہمارے پاس تھا جب تک وہ اتنا پیارا نہ تھا

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھ بھر آنسو تو دامن بھر لہو
    زندگی ہے بیسوا کا پیار کیا

    غزل کے شعروں میں رکھتا ہے وہ چھری کی دھار
    کہ تیکھے لہجے میں سچائیاں سناتا ہے

    تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے
    چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا

    پھول ، خوشبو ، ہوا ، روشنی ، جلترنگ اور تو
    خاک ، پتھر ، سیاہی ، سمندر ، بھنور اور میں

    باہر باہر دیکھ چکا تو اب کچھ اپنے اندر دیکھ
    نظارے کا لطف یہی ہے الگ الگ ہر منظر دیکھ

  • یوم وفات،امراؤ طارق،اردو کے نامور ناول نگار

    یوم وفات،امراؤ طارق،اردو کے نامور ناول نگار

    نام:سید امراؤ علی
    قلمی نام:امراؤ طارق
    پیدائش:24 مارچ 1932ء
    فتح پور چوراسی،
    اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
    وفات:08 دسمبر 2011ء
    کراچی،پاکستان
    پیشہ:افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد
    زبان:اردو

    شہریت:پاکستانی
    اصناف:ناول، افسانہ تنقید

    امراؤ طارق (پیدائش: 24 مارچ 1932ء – وفات:8 دسمبر 2011ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار اور نقاد تھے۔ انہیں ان کے افسانوں کے مجموعے بدن کا طواف پر آدم جی ادبی انعام ملا۔

    سوانحی خاکہ
    ۔۔۔۔۔۔
    امراؤ طارق 24 مارچ، 1932ء میں فتح پور چوراسی، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے مگر انہوں نے اپنا بچپن شاہ پور میں گزارا جہاں ان کے والد ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا اصل نام سید امراؤ علی تھا۔ انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے پہ امراؤ طارق حیدرآباد دکن منتقل ہو گئے جو اس وقت ایک آزاد ریاست تھی۔ اسی زمانے میں مولوی عبدالحق، جو بعد میں بابائے اردو کہلائے، بھی حیدرآباد دکن میں موجود تھے۔ 1948ء میں ہندوستانی فوج کے حیدرآباد پہ حملے اور ریاست حیدرآباد کے بھارت میں ضم ہونے کے بعد امراؤ طارق حیدرآباد چھوڑ کر ڈھاکہ چلے گئے جو اس وقت مشرقی پاکستان کا دار الحکومت تھا۔ 1952ء میں امراؤ طارق ڈھاکہ سے کراچی منتقل ہو گئے جہاں ان کے وسیع خاندان کے اور لوگ بھی ہندوستان سے ہجرت کر کے پہنچے تھے۔ اردو کے تین بڑے اکابرین مولوی عبدالحق، نیاز فتح پوری اور فرمان فتح پوری بھی کراچی میں موجود تھے۔ کراچی پہنچنے پہ امراؤ طارق نے مولوی عبد الحق اور فرمان فتحپوری کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔ امراؤ طارق نے شعبہ پولیس میں ملازمت کی اور 1992ء میں ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد امراؤ طارق نے کچھ عرصے وکالت بھی کی۔ امراؤ طارق بابائے اردو مولوی عبد الحق کے قائم کردہ ادارے انجمن ترقی اردو میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پہ کام کرتے رہے۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    گو کہ امراؤ طارق نے بچپن میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا مگر ان کی پہلی کہانی برگ گل نامی رسالے میں 1954ء میں شائع ہوئی
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)بدن کا طواف(افسانوں کا مجموعہ)
    ۔۔۔۔ 1979ء
    ۔۔۔۔ اس کتاب نے آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا
    (2)خشکی پہ جزیرے ( افسانوں کا مجموعہ)
    (3)تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
    افسانوں کا مجموعہ
    (4)معتوب، ناول
    (5)دھنک کے باقی ماندہ رنگ
    عصر حاضر کے ادیبوں کے خاکے
    (6)تاروں پہ لکھے نام
    عصر حاضر کے ادیبوں کے خاکے
    (7)فرمان فتح پوری، حیات و خدمات
    تین جلدوں پہ مشتمل
    امراؤ طارق کے فن پر تحقیق
    ۔۔۔۔۔۔
    سندھ یونیورسٹی میں ایم فل کی ایک طالبہ نے امراؤ طارق پہ تحقیق کی اور اپنا مقالہ امراؤ طارق، فن و شخصیت کے عنوان سے 1997ء میں شائع کیا۔ یہ کتاب امراؤ طارق کے ادبی سفر پہ سب سے مستند دستاویز ہے. بہاءالدین زکریا یو نیورسٹی ملتان کے ایم۔ اے اردو کے طالب علم آصف بلوچ نے 1998 میں امراؤ طارق پر تحقیقی مقالہ لکھا۔ جس کا عنوان”امراؤ طارق شخصیت اور فن“ ہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    امراؤ طارق 8 دسمبر 2011ء کو خون کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر کراچی میں انتقال کر گئے۔ پس ماندگان میں انہوں نے بیوی اور پانچ بچے چھوڑے ہیں۔

  • مصر کے معروف شاعر ،ادیب اور سیاستدان محمد حسین ہیکل  کا یوم وفات

    مصر کے معروف شاعر ،ادیب اور سیاستدان محمد حسین ہیکل کا یوم وفات

    محمد حسين ہيکل مصر کے ایک شاعر، ادیب اور سیاست داں تھے۔

    مصنف، صحافی، وزیر، سیاست داں محمد حسین ہیکل کی پیدائش20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر۔ میں پیدا ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909 میں گریجویشن مکمل کی 1912ءمیں فرانس میں سوربون یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا، صحافت میں بھی رہے احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیر تعلیم رہے جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے اس کے بعد 1940 سے 1942 تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945 میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔

    ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادی الاول 1376ھ بمطابق 8 دسمبر 1956ء میں ہوئی جب ان کی عمر68 سال تھی۔

    تالیفات

    ۔ (1)روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914ء
    ۔ (2)سير حياۃ شخصيات مصريۃ وغربيۃ
    ۔ – 1929ء
    ۔ (3)حياۃ محمد – 1933ء
    ۔ (4)فی منزل الوحی – 1939ء
    ۔ (5)مذکرات فی السياسۃ المصريہ
    ۔ – 1951 / 1953ء
    ۔ (6)الصديق ابو بکر
    ۔ (7)الفاروق عمر – 1944 / 1945ء
    ۔ (8)عثمان بن عفان – 1968ء
    ۔ (9)ولدی۔
    ۔ (10)يوميات باريس
    ۔ (11)الامبراطوريہ الإسلاميہ
    ۔ والأماکن المقدسہ – 1964ء
    ۔ (12)قصص سعوديہ قصيرہ – 1967ء
    ۔ (13)فی اوقات الفراغ
    ۔ (14)الشرق الجديد
    ۔ (15)روايۃ زينب

  • اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش

    اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش

    اردو زبان کے مایہ ناز شاعر، اردو غزل کو نیا پیرہن عطا کرنے والے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا.

    اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی 8 ، دسمبر، 1925ء کو بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے، 1945ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعرامیں لاکھڑاکیا۔ناصر کاظمی غزل کو زندگی بنا کر اسی کی دھن میں دن رات مست رہے۔

    ناصر نے غزل کی تجدید کی اور اپنی جیتی جاگتی شاعری سے غزل کا وقار بحال کیا جن میں میڈیم نور جہاں کی آواز میں گائی ہوئی غزل ’’دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا ‘‘ناصر کاظمی نے پیروی میر کرتے ہوئے ذاتی غموں کو شعروں میں سمویا لیکن ان کا اظہار غم پورے عہد کا عکاس بن گیا۔ ناصر کے اظہار میں شدت اور کرختگی نہیں بلکہ احساس کی ایک دھیمی جھلک ہے جو روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے اور جب ان کے اشعار سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں تو ایک خوشگوار احساس دلوں میں ہلکورے لیتا ہے۔

    ناصر کاظمی 2 مارچ، 1972ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے۔ دائم آباد رہے گی۔

    ناصر کاظمی کا یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطورِ خراج عقیدت.

    اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
    محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
    تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
    وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
    تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تیری مجبوریاں درست مگر
    تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
    جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
    جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
    تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
    خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
    بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
    تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
    آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل تو میرا اداس ہے ناصر
    شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
    آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
    مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
    یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
    پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
    ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دائم آباد رہے گی دنیا
    ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا.

  • شاعرو ادیب علی جواد زیدی کا یوم وفات

    شاعرو ادیب علی جواد زیدی کا یوم وفات

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال
    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    علی جواد زیدی کرہان اعظم گڑھ میں 10 مارچ 1916 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی کچھ بڑے ہوئے تو ریاست محمود آباد کے کالون اسکول میں داخلہ لیا۔ 1935 میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ 1937 میں انٹر اور 1939 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔

    یہ زمانہ وہ تھا جب آزادی کی جد وجہد تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی اور کمیونسٹ پارٹی نوجوانوں کے لئے خاص کشش رکھتی تھی۔ علی جواد زیدی بھی کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ ممبر بن گئے اور آزادی کی جد وجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس جد وجہد میں شریک ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور چھ مہینے کی سزا ہوئی۔

    ملک کی تقسیم اور آزادی کے بعد وہ سرکاری ملازمت میں آگئے اور مرکزی حکومت میں ذمے دار عہدوں پر فائز رہے۔ جب اندر کمار گجرال کی سربراہی میں اردو زبان کی ترقی کے لئے حکومت نے ایک کمیشن بنایا تو گجرال نے علی جواد زیدی کو کمیشن کے انتظامی امور کی ذمے داری سونپی۔

    علی جواد زیدی نے شاعری اور نثر دونوں صورتوں میں اہم ترین کارنامے انجام دئے۔ ان کی شاعری اور خاص کر نظمیں حب الوطنی اور قوم پرستانہ جذبات کی حامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ’تیشۂ آواز‘ اور ’رگ سنگ‘ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ علی جواد زیدی نے کئی اہم تنقیدی کتابیں بھی لکھیں۔ جنمیں ’ دو ادبی اسکول‘ ’قصیدہ نگاران اترپردیش‘ ’تاریخ اردو ادب کی تدوین‘ ’اردو میں قومی شاعری کے سو سال‘ اور دوسری کئی کتابیں شامل ہیں۔

    علی جواد زیدی کو ان کی ادبی اور سماجی خدمات کے لئے 1988 میں پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ 7 دسمبر 2004 کو انتقال ہوا۔

    اشعار

    جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا
    وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے

    یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی
    اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے

    لذت درد ملی عشرت احساس ملی
    کون کہتا ہے ہم اس بزم سے ناکام آئے

    ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا
    ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں

    ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے
    جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم

    اب درد میں وہ کیفیت درد نہیں ہے
    آیا ہوں جو اس بزم گل افشاں سے گزر کے

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال
    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    دل میں جو درد ہے وہ نگاہوں سے ہے عیاں
    یہ بات اور ہے نہ کہیں کچھ زباں سے ہم

    نظارۂ جمال کی فرصت کہاں ملی
    پہلی نظر نظر کی حدوں سے گزر گئی

    ایک تمہاری یاد نے لاکھ دیے جلائے ہیں
    آمد شب کے قبل بھی ختم سحر کے بعد بھی

    مونس شب رفیق تنہائی
    درد دل بھی کسی سے کم تو نہیں

    جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں
    وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کے

    دل کا لہو نگاہ سے ٹپکا ہے بارہا
    ہم راہ غم میں ایسی بھی منزل سے آئے ہیں

    غضب ہوا کہ ان آنکھوں میں اشک بھر آئے
    نگاہ یاس سے کچھ اور کام لینا تھا

    شوق منزل ہم سفر ہے جذبۂ دل راہبر
    مجھ پہ خود بھی کھل نہیں پاتا کدھر جاتا ہوں میں

    دیار سجدہ میں تقلید کا رواج بھی ہے
    جہاں جھکی ہے جبیں ان کا نقش پا تو نہیں

    مدتوں سے خلش جو تھی جیسے وہ کم سی ہو چلی
    آج مرے سوال کا مل ہی گیا جواب کیا

    دکھا دی میں نے وہ منزل جو ان دونوں کے آگے ہے
    پریشاں ہیں کہ آخر اب کہیں کیا کفر و دیں مجھ سے

    ہار کے بھی نہیں مٹی دل سے خلش حیات کی
    کتنے نظام مٹ گئے جشن ظفر کے بعد بھی

    پی تو لوں آنکھوں میں امڈے ہوئے آنسو لیکن
    دل پہ قابو بھی تو ہو ضبط کا یارا بھی تو ہو

    ہیں وجود شے میں پنہاں ازل و ابد کے رشتے
    یہاں کچھ نہیں دو روزہ کوئی شے نہیں ہے فانی

    جب کبھی دیکھا ہے اے زیدیؔ نگاہ غور سے
    ہر حقیقت میں ملے ہیں چند افسانے مجھے

    آنکھوں میں لیے جلوۂ نیرنگ تماشا
    آئی ہے خزاں جشن بہاراں سے گزر کے

    اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں
    ہم کہاں پھنس گئے یاران سبک گام کے ساتھ

  • دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    جلیں جب گھر تو یا رب تجھ سے اتنی التجا ہے
    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    رفیعہ شبنم عابدی

    پیدائش:07دسمبر 1943ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف :. آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رفیعہ شبنم عابدی صاحبہ کا شمار بیسویں اور اکیسویں صدی کی بہترین اردو خواتین شاعرات میں ہوتا ہے وہ شاعرہ بنت شاعر ہیں۔ ان کا تعلق اہل سادات و علمی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ ڈاکٹر شبنم عابدی صاحبہ 7 دسمبر 1943 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو کے ایک صاحب دیوان شاعر سید ساجد علی شاکر اور اعلی تعلیلم یافتہ خاتون سیدہ زینب کی صاحبزادی ہیں۔ سیدہ رفیعہ شبنم نے 1960 سے اپنا تخلیقی سفر افسانہ نگاری سے شروع کیا اس کے بعد شاعری شروع کی اس وقت وہ رفعیہ شبنم منچری کے نام سے لکھتی تھیں ۔ منچری وہ اپنے واکد صاحب کے پیدائشی قصبہ منچر کی نسبت سے کہلاتی تھیں مگر سید حسن عابدی سے شادی کے بعد رفیعہ شبنم عابدی کا قلمی نام اختیار کیا۔ رفیعہ شبنم نے تمام تر تعلیم ممبئی میں حاصل کی اور وہیں شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئیں ۔ وہ لیچرر سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے پر پہنچیں وہ کالج اور یونیورسٹی میں اردو اور فارسی پڑھاتی تھیں. ممبئی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی صدر کے عہدے پر فائز ہو کر 38 سال علمی خدمات سے 31 دسمبر 2003 میں سبکدوش ہوئیں۔ ان کی اولاد میں 2 بیٹیاں اور 3 بیٹے شامل ہیں اور سبھی بچے شادی شدہ ہیں۔ بڑی بیٹی سیدہ شاداب ممبئی میں مقیم ہیں دوسری بیٹی سیدہ سیماب دوبئی میں مقیم ہیں۔ دو بیٹے سید دانش رضا اور سید شارق رضا امریکہ میں مقیم ہیں اور سید کاشف رضا کینیڈا میں مقیم ہیں۔ رفیعہ شبنم عابدی نے شاعری کے علاوہ تنقید، تحقیق اور تراجم کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تعلیم بمبئی میں حاصل کی اوربمبئی یونیورسٹی میں ’کرشن چندر چیر‘سے وابستہ پروفیسر اور شعبہ اردو اور فارسی کی صدر رہیں۔ رفعیہ کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے۔

    شعری مجموعے : ’موسم بھیگی آنکھوں کا‘۔’اگلی رت کے آنے تک‘ ۔’آنگن آنگن پروائی‘۔’نئی گھٹائیں اتر رہی ہیں‘۔
    فکشن: افسانوی مجموعہ ’سپنے جاگے‘ اور دو ناول ’میں پاگل میرا منوا پاگل‘ ا ور ’دل ٹوٹے نا‘۔
    تنقید: ’نظر نظر کے چراغ‘۔ ’نظر و نقطۂ نظر‘۔
    تراجم: ’شاخ ِ بنات‘ حافظ کی غزلوں کا ترجمہ اور ’دھنک‘ مراٹھی نظموں کا ترجمہ۔
    اس کے علاوہ ان کے بہت سے تحقیقی مقالے مختلف رسائل میں شائع ہوئے ہیں
    ان کے فن و شخصیت پر کتابی سلسلہ ’تریاق‘بمبئی نے ایک خصوصی شمارہ ”رفیعہ شبنم عابدی نمبر‘‘، جون،2017 میں شائع کیا ہے۔ رفیعہ شبنم عابدی کی خوب صورت شاعری سے انتخاب قارئین کی نذر

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھا
    گھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھا
    بجا کہ تجھ سا رفوگر نہ مل سکا لیکن
    یہ تار تار وجود ایک دن تو سینا تھا
    اسے یہ ضد تھی کہ ہر سانس اس کی خاطر ہو
    مگر مجھے تو زمانے کے ساتھ جینا تھا
    یہ ہم ہی تھے جو بچا لائے اپنی جاں دے کر
    ہوا کی زد پہ تری یاد کا سفینہ تھا
    ندی خجل تھی کہ بھیگی ہوئی تھی پانی میں
    مگر پہاڑ کے ماتھے پہ کیوں پسینا تھا
    تم ان سلگتے ہوئے آنسوؤں کا غم نہ کرو
    ہمیں تو روز ہی یہ زہر ہنس کے پینا تھا
    تمام عمر کسی کا نہ بن سکا شبنمؔ
    وہ جس کو بات بنانے کا بھی قرینا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بسنتی رت ہے سب پھولوں کو تو محفوظ رکھنا
    میرے اللہ کھلی سرسوں کو تو محفوظ رکھنا
    سروں کو کاٹنے کی فصل پھر سے آ گئی ہے
    ان افشاں سے بھری مانگوں کو تو محفوظ رکھنا
    جلیں جب گھر تو یا رب تجھ سے اتنی التجا ہے
    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا
    فضاؤں میں ہزاروں باز منڈلانے لگے ہیں
    ہر آنگن کی سبھی چڑیوں کو تو محفوظ رکھنا
    ابھی خیمے بھی ہیں کوزے بھی ہیں پانی نہیں ہے
    قسم عباس کی بچوں کو تو محفوظ رکھنا
    بزرگوں کی دعائیں آج کتنی لازمی ہیں
    جوانوں کے لئے بوڑھوں کو تو محفوظ رکھنا
    سوا نیزے پہ سورج آ رہا ہے آ نہ جائے
    ہواؤں کے خنک جھونکوں کو تو محفوظ رکھنا
    سلگتی رت میں شبنمؔ یہ ترا ہی فرض ٹھہرا
    چمن میں اب کے سب کلیوں کو تو محفوظ رکھنا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھا
    میز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھا
    تو نے اک شام جو آنے کا کیا تھا وعدہ
    میں نے دن رات چراغوں کو جلائے رکھا
    کس سلیقے سے خیالوں کو زباں دے دے کر
    مجھ کو اس شخص نے باتوں میں لگائے رکھا
    میں وہ سیتا کہ جو لچھمن کے حصاروں میں رہی
    ہم وہ جوگی کہ الکھ پھر بھی جگائے رکھا
    شاید آ جائے کسی روز وہ سجدہ کرنے
    اسی امید پہ آنچل کو بچھائے رکھا
    چوڑیاں رکھ نہ سکیں میری نمازوں کا بھرم
    پھر بھی ہاتھوں کو دعاؤں میں اٹھائے رکھا
    جانے کیوں آ گئی پھر یاد اسی موسم کی
    جس نے شبنمؔ کو ہواؤں سے بچائے رکھا

  • غریب اور بے وکیل — ریاض علی خٹک

    غریب اور بے وکیل — ریاض علی خٹک

    روس میں ایک بزرگ غریب عورت نے ایک دکان سے ایک چھوٹی کیتلی چرا لی. وہ پکڑی گئی. مشہور روسی وکیل نکی فوروچ نے اسکا کیس لڑنے کا فیصلہ کیا. جیوری نکی فوروچ کو جانتی تھی. اس لئے اس نے غربت کی مجبوری کا استدلال نکی فوروچ سے چھین لیا.

    جیوری نے کہا ہم جانتے ہیں یہ بہت غریب اور مجبور ہے. لیکن مسئلہ قانون اور روس کا ہے. چوری بھلے بہت سستی کیتلی کی ہوئی لیکن اگر اس پر سزا نہ دی گئی تو یہ وہ دروازہ کھول دے گی جو عظیم روس کی تباہی کا پیش خیمہ بن جائے گا. نکی فوروچ پھر کھڑا ہوا اور جج سے کہا.

    روس پر پچھلے ہزار سال میں بڑے بڑے امتحان آئے نپولین آیا جرمن آئے روس لیکن کھڑا رہا. روس نے ہر چیلنج کا سامنا کیا اسے شکست دی اور آج پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت کے ساتھ کھڑا ہے. البتہ آج ایک غریب بڑھیا عورت نے ایک چھوٹی کیتلی چرائی ہے اور روس تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوگیا ہے. جج صاحب اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کیتلی روس کو تباہ کر سکتی ہے تو اس بڑھیا کو سزا سنا دیں. بڑھیا رہا کر دی گئی.

    ہمارے ملک نے بھی بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے. 75 سال ہم نے اس دنیا میں کسی نہ کسی طرح نکال لئے. لیکن آج عجیب صورتحال ہے. غریب کیلئے کوئی نکی فوروچ وکیل دستیاب نہیں ہے. جب کے امیر اور اشرافیہ کیلئے انصاف بھی ہے وکیل بھی ہے اور جج بھی دستیاب ہے. ہمارا تو غریب بھی دوسرے غریب کی وکالت نہیں کرتا. بلکہ اشرافیہ کے کسی ایک فرد کی محبت میں دوسرے غریب کو کھڑے کھڑے سزا سنا دیتا ہے.

    یہاں کسی غریب کیلئے انصاف اب نہیں رہا کوئی وکیل نہیں رہا. اس لئے لگتا ہے ہمارا ملک واقعی خطرے میں ہے. اکثریت غریب اور بے وکیل ہے.

  • سمندروں سے نیچے، آسمانوں سے اوپر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سمندروں سے نیچے، آسمانوں سے اوپر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہالینڈ یا نیدرلینڈ رقبے کے اعتبار سے دنیا کا 131واں ملک ہے۔ اسکا کل رقبہ 42 ہزار مربع کلومیٹر کے آس پاس ہے۔ ہالینڈ کا زیادہ تر حصہ سطح سمندر سے اوسطاً 1.5 میٹر نیچے ہیں۔ یہاں کا سب سے نچلا حصہ سطح سمندر سے نیچے تقریباً 6 میٹر ہے۔

    2020 کے اعداد و شمار کے مطابق ہالینڈ کی آبادی تقریبآ پونے دو کروڑ ہے۔یہ یورپ کے بڑے ممالک میں سب سے گنجان آباد ملک ہے جہاں فی مربع کلومیٹر تقریباً 500 افراد رہتے ہیں۔
    ہالینڈ کا حالیہ جی ڈی پی ہے 950 ارب امریکی ڈالر۔ خوراک کی برآمدات کے حوالے سے یہ دنیا کے پہلے چھ ممالک میں آتا ہے۔ دنیا کی خوراک اور گھریلو اشیاء کی بڑی کمپنی یونی لیور ایک ڈچ اور برطانوی کمپنی کے اشتراک سے 1929 میں قائم ہوئی۔ اسکے علاوہ بھی خوراک اور ذراعت کے دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ہالینڈ کی ہیں۔

    ہالینڈ کا قابلِ کاشت رقبہ تقریباً 18 ہزار مربع کلومیٹر ہے جو اس ملک کے کل رقبے کا تقریباً آدھا ہے ۔ اس میں سے بہت سا حصہ انہوں نے سمندر کا راستہ تبدیل کر کے، نہریں بنا کر حاصل کیا ہے۔ محدود قدرتی وسائل کے باوجود یہ ملک ترقی کی دوڑ میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں آتا ہے۔ یہاں کی آبادی کا بڑا حصہ متوسط طبقہ ہے۔ اور اوسطاً ایک آدمی یہاں سال میں 36 ہزار یورو کماتا ہے۔(آج کا ایک یورو 213 پاکستانی روپوں کے برابر ہے). 2020 میں ہالینڈ کی برآمدات کا حجم 670 ارب ڈالر تھا جبکہ درآمدات تقریباً 600 ارب ڈالر رہی۔ یوں کل فرق تقریباً 70 ارب ڈالر کا ہوا۔ ہالینڈ کی زراعت کے شعبے سے برآمدات 150 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

    اب بات کرتے ہیں وطنِ عزیز یعنی پاکستان کی۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک۔ جسکی کل آبادی اس وقت 22 کروڑ سے اوپر ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ 81 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یوں یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 33 واں بڑا ملک ہے۔ اسکے ایک صوبے خیبر پختونخواہ کا رقبہ کم و بیش ہالینڈ کے رقبے کے برابر ہے جبکہ وہاں کی آبادی ہالینڈ سے دوگنی یعنی 3.5 کروڑ۔
    پاکستان کی سب سے بڑی برآمدت زراعت شعبے سے ہیں جن میں گندم، چاول، گنا، کپاس اور کپاس سے وابستہ ٹیکسٹائل کی مصنوعات ہیں۔
    پاکستان کا جی ڈی پی تقریباً 350 ارب ڈالر ہے۔ یہ۔ہالینڈ کے جی ڈی پی سے 2.7 گنا کم ہے۔ 2021 میں پاکستانی برآمدات 34 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات تقریباً 56 ارب ڈالر۔ یوں پاکستان میں پیسہ آ نہیں بلکہ جا رہا ہے۔

    پاکستان کا ہالینڈ سے موازنہ محض اس لئے کیا ہے تاکہ آپ سوچیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کسی ملک کو دنیا میں کتنا اوپر لے کر جا سکتی ہے۔ آج ہالینڈ میں شاید ہی کوئی زرعی فارم ہو جہاں خودکار مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی سے کاشت نہ ہوتی ہو۔ فی ایکٹر پیدوارکے اعتبار سے ہالینڈ دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں آتا ہے۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہماری فی ایکڑ گندم کی پیدوار پڑوسی ملک بھارت سے بھی کم ہے۔
    آج کی دنیا کسی بھی ملک کے شہری کو اس ملک کی معیشت اور دنیا میں مقام کیوجہ سے عزت دیتی ہے۔ آپ بھلے ہوا میں مکے ماریں, مٹھیاں بھینچیں اور سازشی تھیوریوں کے انبار لگا کر خوش ہوں کہ دنیا آپکو پیچھے رکھنے کی کوششوں میں ہے اس لیے آپ ترقی نہیں کر رہے۔ مگر یہ سوچیں کہ دنیا آپکی کونسی صلاحیتوں سے خوف زدہ ہے؟ یہی کہ آپ سونگھ کر بتا سکتے ہیں کہ خربوزہ میٹھا ہے یا پھیکا؟ اس خود فریبی سے نکلیں گے تو کچھ سدھ بدھ آئے گی۔

    کیا ہم ان خوش فہمیوں سے یہ حقیقت تبدیل کر سکتے ہیں کہ ہم روز بروز تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ سوچ میں بھی اور معیشت میں بھی۔آج کی دنیا میں معیشتوں کا دارومدار سائنسی ترقی پر ہے۔مگر ہم سائنس کی دوڑ میں پیچھے جا رہے ہیں اور انسانوں پر، اُنکے دماغوں پر، اُنکی سوچ پر پیسہ لگانے کی بجائے قتل و غارت کے نئے طریقوں، جنگوں، اسلحوں، نفرتوں اور بارودوں پر پیسہ لگا کر خود کو آہستہ آہستہ مہذب دنیا سے دور کرتے جا رہے ہیں۔ یہ باتیں آپکو وہ نہیں بتائیں گے جو وطنیت کے نام پر آپکو لوٹتے ہیں۔ یہ باتیں آپکو کوئی نہیں بتائے گا کیونکہ آپکے جاہل رہنے سے بہت سوں کا فائدہ ہے۔ حال میں رہ کر اسکا تجزیہ کرنا ایک مشکل عمل ہے۔ آپکو ایک قدم پیچھے جا کر حالات کو دیکھنا ہو گا کہ کہانی شروع کہاں سے ہوتی ہے اور جا کس طرف رہی ہے۔

    سائنس محض انسان کو روزمرہ کی زندگی میں سہولیات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے ہر اُس عمل، ہر اُس خیال کو پرکھنے کا جسے پہلے کبھی نہ پرکھا گیا ہو۔ یہ ایک سوچ ہے اُن وجوہات کو ڈھونڈنے کی جن سے عقل و شعور کی کسوٹی پر مسائل کے حل ممکن ہوں۔ یہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم کتنی آسانی سے خود فریبی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے ہم خود پسندی کے فریب سے نکل کر حقیقت کا ادراک پا سکتے ہیں۔ سائنس کو جب تک سائنس نہیں رہنے دینگے، ترقی کرنا تو کجا، ترقی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔

    ہالینڈ سمندروں سے بھلے نیچے ہے مگر سوچ کے آسمانوں میں اوپر سے اوپر اور ہم سمندروں سے اوپر ہیں مگر سوچ کے آسمانوں میں پر کٹے۔

    نوٹ: اعداو شمار میں فرق یا معمولی غلطیاں ممکن ہیں مگر پوسٹ کا مقصد آپکو اعداو شمار رٹوانا نہیں بلکہ سائنسی سوچ کی اہمیت بتانا ہے۔

  • خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار — ریاض علی خٹک

    خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار — ریاض علی خٹک

    اولمپکس میں تماشائیوں سے بھرے سٹیڈیم میں دوڑ کے چیمپئن یوسین بولٹ کے ساتھ مقابلے میں اس وقت دنیا کے بہترین سائنسدان میوزیشن اداکار استاد جج ڈاکٹر انجینئر کو دوڑا دیں. پورا سٹیڈیم یوسین بولٹ کیلئے تالیاں بجائے گا. باقی سب لوگ تو مذاق ہی بن جائیں گے. لیکن یوسین بولٹ کو باکسنگ رنگ میں مائیک ٹائسن کے سامنے کھڑا کر دیں یوسین بولٹ کی آنے والی نسل بھی باکسنگ رنگ سے نفرت شروع کر دے گی.

    ان سب کا اپنا اپنا الگ میدان ہے. یہ اپنے اپنے میدان کے چیمپین ہیں. یہی چیمپین دوسرے میدان میں دوسروں کیلئے مذاق بن جائے گا. اور اسے خود سے نفرت ہو جائے گی. ہاورڈ گارڈنر کی مشہور اور ایک تفصیلی تھیوری ہے کہ ہر فرد کی مہارت و ذہانت کا میدان الگ ہے. لتا منگیشکر کی آواز میں اسی سال کی عمر میں ترنم تھا جبکہ آپ بھلے نوجوان ہوں لیکن اگر گانا شروع تو سب ہاتھ جوڑ کر منہ بند کرنے کی فرمائش کر دیں گے.

    گارڈنز کہتا تھا ذہانت کوئی دانشورانہ صلاحیت نہیں بلکہ مختلف لوگوں کی ذہانت کا میدان الگ ہوگا. کوئی موسیقی کی صلاحیت لے کر آیا ہوگا کوئی دوسروں کے احساس سمجھنے میں ماہر ہوگا کوئی حساب کتاب و منطق میں یکتا ہوگا کوئی زبان کا ماہر ہوگا. کسی کی آنکھ اور ہاتھ کا وہ تال میل ہوگا جو اسے آرٹسٹ بنا دے گا.

    یہ خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایسے دانشوروں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں جو مچھلی کو کھیتی باڑی سکھانا چاہتے ہیں تو گائے کو تیرنا پرندے کے پر اتارتے ہیں تو ہاتھی کو آڑنے پر راضی کرنا چاہتے ہیں. دنیا کے سٹیڈیم کو یہ دانشور کچھ دیر کے قہقہے تو ضرور دے دیتے ہیں لیکن ان کے تراشے کردار پھر نفرت کرنا سیکھ جاتے ہیں.

  • دوسری شادی میں حائل مسائل اور ان کا حل — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    دوسری شادی میں حائل مسائل اور ان کا حل — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    کل "بچے کی غلطی” سے "گاٹ میرییڈ” کا اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا کہ جس سے دوسری شادی کے بارے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی۔ ہمارے ہاں مذہبی طبقہ دوسری شادی کے لیے موٹیویٹ ضرور کرتا ہے لیکن اس کے مسائل اور ان کے حل پر گفتگو بہت کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی طبقے میں ایک بڑے پیمانے پر دوسری شادی کی محض خواہش ہے، عمل نہیں ہے۔ عمل اسی وقت ممکن ہو سکے گا جبکہ اس کے مسائل کو متعین کر کے ان کے حل پر بحث ہو گی ورنہ تو لوگوں کو معلوم ہے کہ دین کا حکم کیا ہے، سنت کیا ہے، لیکن دین اس کے حکم یا سنت پر عمل کرنے سے علماء بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، یہ وہ گیپ ہے کہ جسے فِل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو لطیفے سنا کر یا جگتیں مار کر خوش ہو جاتے ہیں اور اپنی فرسڑیشن نکال لیتے ہیں۔ آپ لوگ بھی دوسری شادی کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے کمنٹس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں کہ اس کے مسائل دینی سے زیادہ سماجی ہیں۔

    ایک صحت مند مرد کے لیے ایک بیوی ناکافی ہے، یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ ایک بیوی کافی ہو سکتی ہے، یہ بات بھی درست ہے، لیکن وہ خود نہیں ہوتی یا ہونا چاہتی، اپنی حرکتوں اور رویوں کے سبب، کیونکہ اس نے اپنے خاوند کو ناں کرنی ہی ہوتی ہے، کبھی اسے دبانے اور نیچے رکھنے کے لیے، اور کبھی کسی بات کا غصہ اتارنے اور بدلہ لینے کے لیے، اور کبھی اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں ایسا کر رہی ہے، اور کبھی فطرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ناں کرتی ہے جیسا کہ حالت حیض میں ہے، یا حمل ٹھہرا ہوا ہے، یا ساس نند کے کہے سنے کا غم منا رہی ہے، کبھی جوائنٹ فیملی سسٹم ہے، کبھی بچے چھوٹے ہیں تو ان کے جاگ جانے کا اندیشہ ہے، کبھی بچے بڑے ہیں تو ان کے ٹپکنے کا خطرہ ہے، لہذا موقع ہی نہیں مل رہا، اور موقع مل جائے تو بیوی کا موڈ نہیں بن رہا، لہذا پاکستانی بیوی تو مرد کو سال میں دو تین مرتبہ ہی بمشکل ملتی ہو گی، باقی تو وہ زیادہ تر کپڑوں سمیٹ ہی ضرورت پوری کرنے پر گزارا کر لیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں اس کا گزارا ہو جاتا ہے، مرد کا نہیں ہوتا۔ تو یہ مردوں کا چسکا نہیں ہے جیسا کہ بیویوں کا خیال ہوتا ہے بلکہ یہ ان کی ضرورت ہے۔

    پہلا مسئلہ جو عام طور لوگ بیان کرتے ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، وہ بیوی اور اس کے خاندان کی طرف سے سوشل پریشر ہے جبکہ بیوی کا خاندانی اسٹیٹس اچھا ہو۔ آپ کی پہلی بیوی مذہبی خاندان سے بھی ہو گی تو بھی آپ پر بہت زیادہ سوشل پریشر ہو گا کہ آپ دوسری شادی نہ کریں۔ اور یہ سوشل پریشر محض پریشر نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات آپ کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے دوسری شادی کر لی تو آپ کی زندگی اجیرن ہو جائے گی لہذا آپ ڈر جاتے ہیں کہ ایک مشکل یعنی سیکسچوئل فرسٹریشن سے نکل کر دوسری بڑی مشکل گھر کی تباہی کو گلے لگانا کون سی عقلمندی ہے؟

    میں تو اس مسئلے کا حل یہی بیان کرتا ہوں کہ مستقل طور نہیں البتہ کچھ عرصے کے لیے جیسا کہ دو چار سال کے لیے دوسری شادی کو چھپا لیں کہ ایک دو بچے پیدا ہو جائیں تو ظاہر کر دیں کہ اس کے بعد عورت میں قبولیت کسی قدر آ ہی جاتی ہے۔ لیکن اب اس حل سے ایک دوسرا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جب آپ شادی کو کچھ عرصہ چھپائیں گے تو لازما دوسری بیوی کے حقوق میں کوتاہی کریں گے تو آخرت خراب ہو گی۔ ایسے میں اگر آپ ایسی بیوی چاہتے ہیں جو اپنے کم حق پر راضی ہو جائے اور آپ کو اپنا حق معاف کر دے تو وہ ملے گی نہیں۔ خیر مل تو جائے گی لیکن آپ کے سوشل اسٹیٹس کی نہیں ملے گی اور شادی ناکام ہو جائے گی۔ میں نے ایسی دوسری شادیاں دیکھی ہیں کہ جن میں مردوں نے اپنے سوشل اسٹیٹس سے کافی نیچے کمپرومائز کر کے شادی کر لی لیکن ذہنی سطح ایک نہ ہونے کی وجہ سے شادی چل نہ سکی۔ اس مسئلے کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلقہ یا خلع یافتہ خاتون دیکھیں، شاید وہاں آپ کو زیادہ کمپرومائز نہ کرنا پڑے اور اپنے سوشل اسٹیٹس کی مل جائے۔

    تیسرا اہم مسئلہ جو میرے نزدیک سب سے اہم ہے، گھر ہے۔ دوسری شادی کرنے سے پہلے آپ کے پاس دو گھر ہونے چاہییں، یہ ضروری ہے۔ دینی نہیں، سماجی ضرورت کی بات کر رہا ہوں۔ آپ معاشی طور مضبوط ہیں تو دوسری شادی کی صورت میں آپ کی پہلی بیوی کہیں نہیں جائے گی لیکن اگر آپ معاشی طور کمزور ہیں تو پہلی بیوی آپ کے پاس نہیں ٹکے گی لہذا دوسری شادی کا فائدہ نہیں ہو گا کہ رہے گی تو آپ کے پاس ایک ہی۔ اور یہاں اس تنخواہ میں ایک گھر بنانے میں زندگی لگ جاتی ہے چہ جائیکہ کہ انسان دو گھر بنا پائے۔ آپ کو پہلا بلکہ دوسرا رشتہ بھی اسی صورت بہتر ملے گا جبکہ آپ کے پاس اپنا گھر ہو گا۔

    اور فی الحال کی صورت حال یہ ہے کہ مڈل کلاس میں میاں بیوی دونوں کماتے ہیں، ایک گھر کا کرایہ دیتا ہے جیسا کہ بیوی ہے اور دوسرا گھر کا خرچ اٹھاتا ہے جیسا کہ شوہر ہے۔ اب جبکہ آپ کرائے کے مکان میں ہوں یا مکان کا کرایہ بھی آپ کا لائف پارٹنر دے رہا ہو اور اس طرح آپ زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہوں تو کس طرح دوسری شادی افورڈ کر سکتے ہیں؟ اس کا حل بعض لوگوں نے یہ نکالا کہ دوسری شادی بھی ایسی ہی خاتون سے کر لی جو ملازمت پیشہ تھی اور وہاں بھی یہی ماڈل چلا لیا کہ کچھ خرچ عورت نے اٹھایا اور کچھ مرد نے۔ لیکن اس سے ایک مسئلہ تو حل ہوا البتہ دوسرا بڑھ گیا۔ اور وہ یہ کہ بیوی جب گھر کا خرچ اٹھاتی ہے تو دباتی بھی ہے تو بیوی کا یہ دباؤ اب دو گنا ہو گیا۔ تو اگر آپ اتنا ذہنی دباؤ لے سکتے ہیں تو کر لیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ شادیاں دو نہیں، تین یا چار کریں۔ دو تو مرد کو فٹ بال بنائیں گی الا یہ کہ کسی میں خوف خدا غالب ہو۔

    اصل میں دوسری شادی نہ تو غریب طبقہ کر سکتا ہے کیونکہ ان کے مسائل تو کھانے پینے سے ہی نہیں نکلے۔ مڈل کلاس کے مسائل وہی ہیں جو اوپر بیان کیے ہیں کہ گھر نہیں ہے، یا ملازمت اور بزنس اسٹیبل نہیں ہے اور میاں بیوی مل کر گھر کا خرچ پورا کر رہے ہیں۔ البتہ ایلیٹ کلاس کے لوگ کر سکتے ہیں کہ جن کے ڈی ایچ اے، گلبرگ، بحریہ ٹاون اور ماڈل ٹاون وغیرہ میں دو دو کنال کی کوٹھیاں ہیں لیکن دین اور ایمان عموما ان کا مسئلہ ہے ہی نہیں لہذا انہیں ضرورت ہی نہیں۔ مطلب، وہ دوسری شادی کے بغیر دسیوں عورتوں سے اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں لہذا انہیں دوسری شادی بے وقوفی معلوم ہوتی ہے۔ پہلی بھی انہوں نے دنیا کو دکھانے کے لیے کر رکھی ہوتی ہے۔ ان میں اگر کوئی دیندار ہے تو اسے آسائش اور تن آسانی کی زندگی نے بزدل بنا رکھا ہے کہ جسے وہ حکمت اور فراست سمجھے بیٹھا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مسائل ہیں لیکن تحریر لمبی ہو جائے گی۔

    میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دوسری شادی مسئلے کا حل نہیں ہے، اوور آل بات کر رہا ہوں، مسئلے کا حل تیسری اور چوتھی شادی ہے۔ جس نے تیسری اور چوتھی کرنی ہے، وہ ہمت کرے۔ دوسری والا پریشان ہی رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب