Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیاہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ یہ سوال بیسویں اور اکسیویں صدی کا سب سے اہم سوال ہے۔۔جب سے انسانوں کو یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ اس وسیع و عریض کائنات کی اربوں کہکشاؤں میں ایک چھوٹی سی کہکشاں ملکی وے کے ایک معمولی سے ستارے سورج کے گرد گھومتا ننھا سیارہ ہے، تب سے یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

    انیسویں صدی میں ریڈیو کی ایجاد کے بعد اس حوالے سے بات ہونے لگی کہ اگر کائنات میں کوئی جدید ایلین تہذیب کسی سیارے پر بستی ہے تو یقیناً اُن سے ریڈیو ویویز یا ریڈیائی لہروں کے ذریعے رابطہ ممکن ہے۔ (اب یہ بات پڑھ کر آپ اپنے گھروں کے ریڈیو مت نکال لیجئے گا۔ کہ چلو ایلینز سے رابطہ کرتے ہیں۔ سائنس اس طرح کام نہیں کرتی).
    مگر ریڈیائی لہروں کے ذریعے ہی رابطہ کیوں؟

    یہ سوال دلچسپ ہے۔ جس طرح سے ہم جانتے ہیں کہ آج جدید ٹیکنالوجی کے باعث ہم ریڈیائی لہروں جو دراصل برقناطیس لہریں ہی ہوتی ہیں(جیسے کہ روشنی) کی مدد سے کمیونیکیشن کرتے ہیں۔ تو اگر کوئی ایلین تہذیب ہمیں ڈھونڈنا چاہے(ویسے ہم اّنکے لئے ایلینز ہونگے 🙂 ). تو وہ ہمیں ہمارے ریڈیائی لہروں کے استعمال سے جو صرف ٹیکنالوجی کے استعمال والی تہذیبیں ہی کر سکتی ہیں، کے ذریعے ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ لہذا اگر ہمیں بھی کائنات میں کسی سیارے سے ایسی ریڈیائی لہریں موصول ہوں جو ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوں تو ہم جان جائیں گے کہ وہاں کوئی جدید مخلوق بستی ہے۔

    کائنات میں دوسری تہذیبوں سے رابطے کے حوالے سے پچھلی دو صدیوں میں کافی سنجیدہ کوششیں کی گئی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اور بڑی کوشش SETI پراجیکٹ ہے۔ SETI. مخفف ہے (Search for Extraterrestrial Intelligence) یعنی کسی ذہین خلائی مخلوق کی تلاش.

    اس پراجیکٹ کے خدو خال گو کہ 1960 اور 70 کی دہائی میں واضح ہونا شروع ہوئے تاہم SETI ادارے کا باقاعدہ آغاز 1984 میں ہوا اور ریڈیائی لہروں کی مدد سے کائنات میں کسی ممکنہ ایلین تہذیب سے رابطے کے حوالے سے باقاعدہ کام 1985 میں۔

    شروع شروع میں اس پراجیکٹ میں فلکیاتی مشاہدات کے لیے زمین پر موجود ریڈیو اینٹیناز ہی استعمال ہوتے رہے مگر بعد میں عوام، حکومتوں اور ٹیکنالوجی سے منسوب اہم شخصیات کی دلچسپی کے باعث اس پراجیکٹ کی فنڈنگ بہتر ہوئی اور آج SETI پراجیکٹ میں 42 جدید ریڈیو اینٹناز پر مشتمل Allen Telescope Array موجود ہے۔ یہ ٹیلیسکوپ امریکا میں سان فرانسسکو سے 300 میل دور کیسکادے کے پہاڑوں میں نصب ہے۔ اور یہ ہفتے میں ہر روز خلا میں کسی ممکنہ ایلین مخلوق سے رابطے کی کوششوں میں پیغام ریڈیائی لہروں کی صورت بھیجتی رہتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کسی ممکنہ جواب کے انتظار میں خلاؤں کو سنتی بھی رہتی ہے۔

    کائنات اتنی وسیع ہے اور ہم سے سب سے قریبی ستارا جسکے گرد سیارے گھوم رہے ہیں وہ بھی کئی نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔ ہماری کہکشاں ملکی وے کی چوڑائی ایک لاکھ سے دو لاکھ نوری سالوں کے بیچ ہے۔ جسکا مطلب یہ ہوا کہ SETI کے کائنات میں بھیجے گئے ریڈیو سگنل اب تک ہماری کہکشاں کے محض چھوٹے سے حصے سے آگے نہیں گئے۔

    یہاں یہ بحث لمبی ہو جائے گی کہ ہم سے ممکنہ طور پر قریبی سیارہ کتنی دور ہو گا جہاں کوئی ایلین تہذیب موجود ہو۔ یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے ۔

    مگر سوال یہ ہے کہ ہم ایلینز سے رابطہ کس زبان میں یا کس فریکونسی میں کر سکتے ہیں؟ ہم انسان زمین پر جب کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو اکثر و بیشتر وہاں ہم اُنکی زبان نہیں بول سکتے اور وہ ہماری۔ تو رابطے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ کیا آپ چینونٹی سے رابطہ کر سکتے ہیں؟ ممکن ہے کسی جدید تہذیب کے لیے ہم ایک چیونٹی جتنی اہمیت رکھتے ہوں۔

    تو ہم کسی جدید تہذیب کو اپنی موجودگی کا کیسے پتہ دیں گے؟ اسکا جواب ہے 1420 میگا ہرٹز کی فریکونسی سےوہ سائنسی کیڑے جنہیں ایگزٹ نمبر جاننا ہے، تو یہ فریکونسی ہے 1420.405751768میگاہرٹز) ۔ اس فریکونسی کو ہائڈروجن لائن کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ایک نیوٹرل ہائڈروجن ایٹم سے تب نکلتی ہے جب اسکے الیکٹران کی سپن (کلاسیکل فزکس میں سپن کا مطلب کسی ایٹمی ذرے کا اپنے محور کے گرد گھومنا، کوانٹم فزکس میں البتہ اسکا مطلب کچھ پیچیدہ ہے) اسکے پروٹان کی سپن سے مخالف سمت میں گھومے۔

    عمومی طور پر یہ دونوں ایک ہی سمت میں گھومتے ہیں۔ مگر جب الیکٹران کی سپن مخالف سمت میں ہو جائے تو ہائڈروجن ایٹم سے خاص طرح کی ریڈیو فریکوئینسی کی لہر نکلتی ہے۔ کائنات میں موجود کوئی بھی جدید تہذیب اگر متواتر اس فریکوئنسی پر سگنل موصول کرے گی تو جان جائے گی کہ ہم اتنے ذہین ضرور ہیں کہ ایٹم کے بارے میں اور اس خاص فریکونسی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس فریکوینسی کے استعمال کی ایک اور وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ کائنات میں ہائیڈروجن عام پائی جاتی ہے اور اس یہ ریڈیو فریکونسی دوسری ریڈیو فریکونسییز سے زیادہ موثر طور پر کائنات میں سفر کر سکتی ہے۔

    پھر چاہے ایلین ترکش زبان بولیں یا کچھ اور، اس طریقے سے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ مویا ناسا جو آئے روز دنیا کی "ذہین ترین قوم” کو بے وقوف بنانے کے لئے نئے نئے سپیس کرافٹ، خلائی دوربینیں اور روبوٹ چھوڑتا رہتا ہے۔ یہ ان سے خلا میں رابطہ کیسے رکھتا ہے؟ کیونکہ عقلِ "سلیم” یا منیر تو یہ کہتی ہےکہ خلا میں ٹیلی نار، یوفون یا زونگ کے کھمبے تو ہیں نہیں کہ پیکیج کرایا اور گھنٹوں لمبی باتیں، "شونوں مونوں” والے میسیجز یا جگتوں والے لطیفے بھیج کر ٹائم پاس کرنا شروع کر دیا۔
    تو اسکا جواب ہے ڈیپ سپیس نیٹ ورک!!

    ڈیپ سپیس نیٹ ورک دراصل زمین پر بڑے بڑے ڈش کی طرح کے ریڈیو اینٹناز کا ایک جال ہے۔ جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ اینٹیناز آسٹریلیا، کینبرا، کیلیفورنیا ، سپین وغیرہ میں دن رات آسمانوں میں ناسا اور دوسری ایجنسیوں کے بھیجے گئے مشنز سے سلام دعا کرتے رہتے ہیں۔ ان انٹیناز کو زمین پر کم و بیش ایک ہی فاصلے پر رکھا گیا ہے کہ زمین کی گردش کے باعث ایسا نہ ہو کہ کوئی وقفہ آئے جب خلا سے بھیجا جانے والا سگنل پکڑنے کے لیے کوئی بھی اینٹینا موجود نہ ہو اور سگنل ضائع ہو جائے۔

    خلا میں موجود سپیس کرافٹس زمین پر ریڈیو سگنل کے ذریعے تصاویر اور اپنی موجودہ جگہ کا پتہ دیتے ہیں ۔ ان سگنلز کو دنیا بھر میں یہ ڈیپ سپیس اینٹنا موصول کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ یہ نیٹ ورک زمین سے سپیس کرافٹ کو ہدایات بھیجتا ہے کہ اب کیا کرنا ہے، کونسی تصاویر لینی ہیں، کس سمت مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    اس نیٹ ورک میں موجود اینٹناز کمزور سے کمزور سگنل کو بھی ہماری پولیس کیطرح فورآ سے دھر لیتے ہیں۔۔اسکا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ 1977 میں ناسا کے دو سپیس کرافٹ Voyager 1 اور Voyager 2 جو 45 سال بعد اربوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں ، یہ ڈیپ سپیس نیٹ ورک ان سے آنے والے سگنلز بھی پکڑ لیتے ہیں اور اب تک مسلسل ان سے رابطے میں ہے۔ Voyager سپیس کرافٹس سے آنے والے سگنل بے حد کمزور ہیں۔ کتنے کمزور؟ آپکی معمولی سی ڈیجیٹل گھڑی کو چلانے والے برقی سگنل سے بھی 20 ارب گنا کمزور!!

    یہ اینٹیناز ان مختلف سپیس کرافٹ کے سگنلز کو موصول کر کے اسے ناسا کی کیلیفورنیا میں سپیس فلائٹ آپریشن فیسلیٹی کو بھیجتے ہیں جہاں ان سگنلز کو پراسس کر کے ان میں موجود تصاویر یا دیگر اہم معلومات کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے سائنسدانوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ سائنسدان ان تصاویر اور ڈیٹا کی مدد سے منطقی نتائج نکالتے ہیں، تحقیقی مقالہ جات لکھتے ہیں اور کائنات کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔

    مریخ پر موجود ناسا کی روورز جیسے کہ Curiosity یا حال ہی میں بھیجی جانی والی Preservernce بھی اس طرح سے زمین پر رابطے میں رہتی ہے مگر یہ ایک اور موثر طریقے سے بھی زمین پر ڈیٹا اور تصاویر بھیجتی ہے۔ اور وہ ہے بذریعہ Mars Reconnaissance Orbiter، یہ مریخ کے گرد گھومتا ایک سٹیلائٹ ہے جو ان روورز سے ڈیٹا اکٹھا کر کے زمین پر ڈیپ سپیس نیٹورک تک اسے بھیجتا ہے۔ اس طرح زیادہ آسانی سے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔

  • دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بیسویں صدی کے وسط میں راکٹ ٹیکنالوجی میں جدت سے ہم خلا میں پہنچے۔ 1969 میں پہلا انسان چاند پر گیا اور آج انسان کے بنائے سپیس کرافٹ اور روبوٹ دیگر سیاروں تک اور نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں۔

    مگر کائنات بے حد وسیع ہے۔ دِکھنے والی کائنات کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے اور یہ بگ بینگ کے وقت سے اب تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    آج سائنس کی مدد سے ہم خلاؤں میں سفر کر سکتے ہیں اور دوسری دنیاؤں پر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کائنات میں سورج جیسے کئی اور ستارے ہیں جنکے گرد کئی سیارے گھوم رہے ہیں۔ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ نظامِ شمسی سے باہر کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ستاروں سے اتنے فاصلے پر ہیں جہاں پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ اور ان میں سے کئی سیارے شاید زندگی کے لئے اس زمین سے بھی بہتر ہوں۔
    مگر یہ سیارے زمین سے بہت دور ہیں۔ کئی تو لاکھوں نوری سالوں کی مسافت پر۔ مگر ہمارا سب سے قریبی ستارہ جسے ہم پڑوسی کہہ سکتے ہیں اسی کہکشاں ملکی وے میں جس میں ہم رہتے ہیں، میں ہم سے قریب 4.24 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یعنی اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں جو کہ ناممکن ہے تو ہمیں اس تلک پہنچنے میں 4.24 سال لگیں گے۔اس سرارے کا نام ہے Proxima Centauri.

    اس ستارے کے گرد کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے یا مستقبل میں جہاں رہنا ممکن ہو۔ مگر ہم اس تک پہنچیں گے کیسے؟

    آج تک انسان کے بنائے جدید سپیس کرافٹس میں سب سے زیادہ رفتار حاصل کرنے والا سپیس کرافٹ ناسا کا سولر پارکر پراب یے جو 2018 میں ہمارے سورج کا مشاہدہ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یہ سپیس کرافٹ تقریبآ 5 لاکھ 35 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے قریب سے گزرا۔ مگر یہ رفتار روشنی کی رفتار جو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے نہایت کم ہے۔۔یعنی روشنی کی رفتار کا محض 0.05 فیصد!!

    اب تک کا سب سے دور بھیجا جانے والا سپیس کرافٹ ناسا کا وائجر-1 ہے جو آج سے 44 سال پہلے یعنی 1977 میں نظامِ شسمی کے مشاہدے کے لئے بھیجا گیا اور یہ مشتری، اور زحل کے پاس سے گزرتا نظامِ شمسی سے باہر کی جانب نکالا مگر ہے یہ اب بھی نظامِ شمسی کی حدود میں ہے کیونکہ نظامِ شمسی پلوٹو سے بھی آگے بے حد وسیع ہے جہاں سورج کی گریوٹی اور اسکی تابکاری کا اثر موجود ہے۔

    44 سال مسلسل سفر کرنے کے باوجود یہ زمین سے تقریباً 23 ارب کلومیٹر دور ہے۔ کہنے کو یہ فاصلہ بے حد زیادہ ہے مگر یہ فاصلہ ایک نوری سال نہیں بلکہ 20 گھنٹے اور 30 نوری منٹ دور ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار سے اس تک پہنچنے میں صرف 20 گھنٹے اور 30 منٹ لگیں گے۔
    وائجر 1 اس وقت تقریباً 61 ہزار 2 سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور اسے ایک نوری سال کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 18 ہزار سال لگیں گے۔ گو یہ سپیس کرافٹ ہم سے نزدیکی ستارے Proxima Centauri کی جانب نہیں بڑھ رہا بلکہ اس سے مخالف سمت میں یے مگر اگر فرض کریں کہ یہ اس طرف سفر کر رہا ہوتا تو اسے وہاں تک پہنچنے میں اس رفتار سے تقریباً 76 ہزار سال لگتے۔ جبکہ انسانوں کی عمر آج اوسطاً 72 سال ہے۔ سو یہ بات تو طے ہے کہ انسانی عمر میں ہم ان ستاروں یا دوسری دنیاؤں تک نہیں پہنچ سکتے مگر کیا ان تک پہنچنے کا کوئی اور طریقہ یا راستہ ہے؟

    یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے. فی الحال اتنا جان لیجئے کہ ایک ایسا ممکنہ طریقہ ہے جس سے شاید ہم محض 20 سال میں اپنے قریبی ستارے اور اسکے گرد گھومتے سیاروں تک پہنچ سکیں۔ مگر یہ طریقہ ٹیکنالوجی میں جدت اور کئی سالوں کی محنت اور پیسے سے ہی شاید ممکن ہو۔ اس پر گفتگو پھر کبھی۔

  • البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم کا شکار افراد کو البینو یا پنجابی میں بگے کہا جاتا ہے۔ تصویر میں چیچنیا کے ایک گاؤں قشلوئے کی ایک بارہ سالہ البینو لڑکی آمنہ ہے۔ جسکی ایک آنکھ نیلی اور دوسری گہری براؤن ہے۔ دنیا بھر میں اس بچی کے حسن کے چرچے ہیں ۔

    کیا آپ جانتے ہیں البینزم انسانوں کے علاوہ دیگر کئی مخلوقات میں بھی پایا جاتا ہے؟

    جن میں ہمارے آس پاس البینو یعنی بلکل سفید چوہے، کینگرو، مگر مچھ، ہاتھی، کوے، طوطے، گائے، بھینس، زیبرے، گدھے، گوریلے، ریچھ، بلی بندر، گلہری پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک البینو سفید زرافہ بھی ہے۔

    البینزم سے متاثر بچے و معمر افراد دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں یہ غیر معمولی سفید، بھورے رنگ و بالوں کے ساتھ ہونگے۔ ان کی آنکھوں کا رنگ بھی نیلا، سبز، بھورا اور سرخ ہو سکتا ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ آنکھوں کا رنگ بدلتا بھی رہتا ہے۔ ایک آنکھ کا دوسری آنکھ سے رنگ مختلف ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں اس کی ریشو 17 ہزار سے 20 ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں ایک بچہ البینو کی ہے۔ یعنی ایک لاکھ میں سے 5 اور ایک کروڑ میں سے 500. پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں تقریباً 11 ہزار کے آس پاس البینو ہو سکتے ہیں۔

    یہ ڈس آرڈر مرد و خواتین دونوں میں پایا جاتا ہے۔ (سوائے اوکولر کے وہ آگے پڑھیں گے)

    یہ والدین سے وراثت میں ملنے والا ایک پیدائشی ڈس آرڈر ہے جس کا جدید سائنسی ترقی کے باوجود آج تک دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہماری جلد، بالوں اور آنکھوں کا رنگ بنانے میں جس کا کردار ایک خاص سیاہ مادہ جسے میلانن Melanin pigment کہا جاتا ہے کرتا ہے۔ میلانن کی کمی یا مکمل غائب ہونا البینو بچے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔

    ہمارے جسم کی رنگت کیسی ہوگی اسکا مکمل انحصار ہمارے جسم کے سیلز میں موجود میلانن کی مقدار پر ہے۔ اسکی جتنی مقدار زیادہ ہوگی ہمارا رنگ اتنا ہی کالا ہوگا جتنی کم ہوگی اتنا ہی سفید ہوگا۔ یوں سمجھیے یہ ایک طرح کی سیاہی ہے جو ہمارے جینز کے کوڈز میں ہوتی ہے اور جب پروٹین بننے کے بعد سکن سیلز بنتے تو اسکی مقدار ہماری رنگت کا تعین کرتی ہے۔

    میلانن کا ایک اور کام ہماری آپٹک نروز کے بننے میں بھی ہے۔ اسکی مقدار میں کمی جہاں رنگت میں فرق ڈالتی وہیں بصارت میں بھی کمی کا سبب بنتی سکتی

    اکثر اوقات البینو بچوں کا رنگ نارمل رنگ سے معمولی سا مختلف ہوتا اور کبھی بلکل ہی سفید۔ مگر انکی جلد انتہائی حساس اور پتلی ہوتی ہے جو عام سورج کیروشنی بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ انہیں بہت دھوپ سے جلد چھائیاں پڑ جاتی ہیں اور تیز دھوپ و روشنی میں اسکن جل بھی جاتی ہے۔ یہ دھوپ میں نکلتے ہوئے کوئی سن بلاک یا حفاظتی کریم وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ اوپر بھی بتایا گیا کہ اسکا کوئی علاج نہیں ہے بس اپنی حفاظت ہی کرنی ہے شدید گرمی سے خصوصاً اور شدید سردی سے بھی عموماً۔ کیونکہ کوئی بھی شدید موسم ان لوگوں کی اسکن پتلی ہونے کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتی۔

    بینائی کا زیادہ مسئلہ ہوتا ہے تو اسے زرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

    البینزم کی کوئی بھی قسم ہو حس بصارت میں سو فیصد خرابی ہوگی۔ یہ اس ڈس آرڈر کی بنیادی علامت ہے جو فرد کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔

    تیزی سے غیر ارادی طور پر آنکھیں آگے پیچھے حرکت کرتی ہیں جسے (nystagmus) کہا جاتا ہے۔

    آنکھوں کی غیر ارادی حرکت کو روکنے اور فوکس کرکے دیکھنے کی کوشش میں فرد اپنے سر کو ہلانے لگتا ہے کہ آنکھوں کی حرکت رک جائے۔

    دونوں آنکھوں کا مرکز و فوکس ایک پوائنٹ پر کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے جسے (strabismus) کہا جاتا ہے۔ دونوں آنکھیں ایک جگہ پر فوکس نہیں کریں گی تو دیکھنے میں یقیناً دشواری ہو گی۔

    شدید قسم کی قریبی نظر میں یعنی nearsightedness یا دور کی نظر میں کمی farsightedness ہوگی۔

    تیز یا ہلکی لائٹ بھی آنکھوں میں پڑے گی تو تکلیف ہوگی جسے (photophobia) کہا جاتا۔

    آنکھ کا پارٹ ریٹینا ٹھیک طرح سے بن ہی نہیں پاتا تو آنکھ کی دیکھنے کی قدرتی صلاحیت ہی کم ہوتی۔

    اگر ریٹینا کسی حد تک ٹھیک ہے تو جو سگلنز ریٹینا سے آپٹک نروز کے راستے ہمارے برین میں جاتے وہ نروز ڈیمیج ہونگی تو امیج ٹھیک نہیں بنے گا۔

    (misrouting of the optic nerve)

    سطح زمین پر چلتے ہوئے کسی گہری جگہ کا اندازہ ٹھیک سے نہیں ہو پاتا۔

    شدید ترین صورتحال میں لیگل بلائنڈنیس یعنی بصارت 20/200 سے کم ہوگی۔ یا البینو میں مکمل نابینا پن بھی ہو سکتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    ماں کے پیٹ میں جب بچہ اللہ کے حکم سے خون سے گوشت کا لوتھڑا بن رہا ہوتا ہے تو بہت سارے جینز ملکر انسٹرکٹشنز دیتے ہیں کہ جب گوشت سے پہلے پروٹین بنے گی تو میلانن کی پروڈکشن و مقدار مخصوص سیلز میں کیا ہوگی۔ میلانن جن سیلز میں بنتی ہے انہیں میلانو سائٹس melanocytes کہا جاتا ہے۔ یہ سیلز خصوصاً ہماری اسکن، بالوں اور آنکھوں میں پائے جاتے ہیں اور ان تینوں کے رنگ کا تعین کرتے ہیں۔

    پیغامات یا انسٹرکٹشنز دینے والے کسی ایک جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر mutation ہوتا ہے تو میلانن کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔ کونسے جین میں بدلاؤ ہوا ہے اسی بنا پر البینزم کی قسم کا تعین ہوتا ہے کہ میلانن کی مقدار کم ہوئی ہے یا سرے ہی میلانن بنا ہی نہیں۔

    البینزم کی اقسام کونسی ہیں؟

    1. او کو لو کو ٹینئیس البینو
    Oculocutaneous albinism (OCA

    یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے۔ اس میں متاثرہ بچہ اپنی امی اور ابو دونوں فریقوں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے۔
    (autosomal recessive inheritance) سات جینز میں سے جنہیں OCA1 سے OCA7 تک لیبل کیا جاتا ہے کسی ایک جین میں میوٹیشن ہونے پر یہ قسم سامنے آتی ہے۔ اس میں میلانن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اسکن بال اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں۔

    2۔ اوکولر البینو Ocular albinism

    اس قسم میں عموماََ بینائی متاثر ہوتی ہے سکن اور بالوں کا رنگ نارمل ہی ہوتا ہے۔ اس کی سب کامن قسم ٹائپ 1 ہے جس میں X کروموسوم کی جین میوٹیشن ہوتی ہے۔ X لنکڈ اوکولر البینو میں بچہ اپنی ماں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے اور البینو پیدا ہوتا ہے۔ جسے
    (X-linked recessive inheritance) کہا جاتا ہے۔ یہ قسم صرف مردوں میں ہی پائی جاتی ہے کوئی لڑکی اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ اور پہلی قسم OCA سے بہت زیادہ کم ہے۔

    3۔ تیسری قسم جو سنڈرومز سے تعلق رکھتی ہے Albinism related to rare hereditary syndromes

    مثال کے طور پر Hermansky-Pudlak سنڈروم OCA کی ایک قسم میں پایا جاتا ہے جس میں جلدی خون بہنے لگنا، پھپھڑوں اور مثانے کے امراض شامل ہیں۔ اس کے بعد Chediak-Higashi سنڈروم سے OCA کی ہی ایک قسم میں قوت مدافعت بہت کم ہوجاتی۔ بہت جلد انفیکشن ہوجاتے جو جلدی ٹھیک نہیں ہوتے۔ اسکے ساتھ نیورولوجیکل مسائل بھی سامنے آنے لگتے جو شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ سنڈروم سے متعلقہ اقسام پہلی قسم OCA میں ہی آئیں گی۔

    ان افراد کو مسائل کہاں پیش آتے ہیں؟

    دیکھنے اور اسکن کی حساسیت تو بیان ہوچکی اس کے علاوہ انہیں بے شمار سماجی، معاشی و جذباتی غیر منصفانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بینائی میں کمی کی وجہ سے لکھنے پڑھنے کچھ سیکھنے دوران ملازمت یا ڈرائیونگ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    جلد پتلی ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرہ سن برن کا ہوتا ہے۔ جو بہت زیادہ ہونے لگیں تو خدا نخواستہ اسکن کے کینسر کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

    سماج میں رہتے ہوئے البینو افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا۔ انہیں کم پڑھے لکھے افراد کی طرف سے ضرورت سے زیادہ فوکس کرکے دیکھا جاتا جیسے یہ کوئی اور مخلوق ہوں اور اکثر منفی کمنٹس پاس کیے جاتے ہیں۔ انکے برے نام رکھے جاتے برے ناموں سے پکارا جاتا۔ دکھ دینے والے سوال کیے جاتے بیچارہ معذور کہہ کر ان افراد کا دل دکھایا جاتا ہے۔ کسی بھی سماج میں کیونکہ یہ افراد واضح طور پر مختلف ہوتے ہیں تو ان سے آوٹ سائیڈرز کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جو ان افراد میں تنہائی مایوسی اور ذہنی دباؤ و بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل یہ افراد مرد و خواتین آپس میں اور نارمل لوگوں سے بھی شادی کر سکتے ہیں۔ انکے بچے بھی ان جیسے ہونگے یہ ضروری نہیں ہے مگر بچے پیدا کرنے سے قبل کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیا جائے کوئی احتیاطی تدابیر ہوں تو وہ اپنائی جائیں۔

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل پی ایچ ڈی تک دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ عام سکولوں میں ایڈجسٹ نہ ہو بچہ تو قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں داخل کروا دیں۔

    ایورج عمر کیا ہے؟

    کسی بھی معاشرے کے افراد کی جو ایورج ایج یوگی وہی البینو کی بھی ہوگی۔ کیونکہ میلانن کا کم یا زیادہ ہونا مجموعی زندگی اور صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

    آئی کیو لیول کتنا ہوگا؟

    ذہانت میں یہ افراد نارمل افراد کی طرح ہی ہونگے۔ میلانن کی کمی بیشی ذہانت کو بلکل متاثر نہیں کرتی۔

  • علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن  — اشرف حماد

    علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن — اشرف حماد

    علامہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبالؒ کے آبا و اجداد جنوبی کشمیر ضلع کولگام کے سوپٹ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ان کے والد شیخ نور محمد کشمیری تھے۔ علامہ خود کہتے تھے کہ وہ کشمیری ہیں۔ وہ کشمیری زبان میں بات بھی کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ کے کشمیری خادم نے بھی ایک مقامی روز نامہ میں شائع انٹرویو میں کیا تھا۔ آغا اشرف علی اور محمد یوسف ٹینگ نے بھی ان خیالات کی تصدیق کی ہے۔

    علامہ اقبال کے استاد سید میر حسن کے متعلق بھی کہا جاتا ہے وہ کشمیری نژاد تھے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے پردادا شیخ جمال الدین کے چار صاحبزادے شیخ عبدالرحمان، شیخ محمد رمضان، شیخ محمد رفیق اور شیخ محمد عبداللہ کشمیر کے ابتر معاشی صورتحال سے مجبور ہو کر اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے اور سیالکوٹ، پنجاب میں آباد ہو گئے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے والد شیخ نور محمد، شیخ محمد رفیق کے بیٹے تھے۔

    ڈاکٹر شیخ محمد اقبال جب سیالکوٹ سے لاہور پہنچے تو یہاں پر اُنہوں نے کشمیریوں کی قائم کردہ تنظیم ’انجمن کشمیری مسلمانان‘ میں شمولیت اختیار کی اور اس نوعیت تک اس کے سرگرم ممبر بنے کہ اُنہیں تنظیم کے ذمہ داروں نے اس کشمیری انجمن کا سیکرٹری جنرل بنا دیا۔ محمد اقبال کشمیر، پنجاب اور ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالتِ زار پر رنجیدہ ہوتے اور اسے بہتر بنانے کے لئے کوششیں کرتے رہے۔ جوانی ہی میں آپ کا یہ مطالبہ تھا کہ مہاجر کشمیریوں کو ریاست کے حکمران اپنے گھروں کو واپس آنے دیں۔ اُنہیں کشمیر میں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیاجائے۔ اُن کی کشمیر سے والہانہ محبت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایک موقع پر اُنہوں نے فرمایا:

    سامنے ایسے، گلستاں کے کبھی گھر نکلے
    حبیب خلوت سے ، سرِطور نہ باہر نکلے

    ہے جو ہر لحظہ تجلی گر مولائے خلیل
    عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے

    اس بات میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حکیم الامت محمد اقبالؒ کو کشمیر سے روحانی، جذباتی اور بے پناہ قلبی محبت تھی جس کا اظہار اُنہوں نے اپنے کلام، مضامین، خطوط اور عمل سے کئی موقعوں پر کیا ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کو اپنے بزرگوں کے کشمیر کنکشن پر بہت ناز تھا۔ اُن کی رگوں میں دوڑنے والا لہو کشمیر کے شفق فام چناروں کی طرح سرخ تھا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

    تنم گلے زِ خیابانِ جنت کشمیر
    دلم از حریم حجاز و نواز شیراز است
    (یعنی میرا جسم کشمیر کے چمن کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارضِ مکہ و مدینہ اور میری صدا شیراز سے ہے‘)۔

    کشمیر سے آبائی تعلق رکھنے کے باوجود اُنہیں اس امر کا بھی گہرا احساس تھا کہ وہ اِس وادیٔ جنت نظیر کا مشاہدہ بچشم خود نہیں کرسکے۔ اسی احساسِ نے انہیں یہ اشعار کہنے پر مجبور کیا:

    کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے
    اِس باغ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے

    ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد
    جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے

    موتی عدن سے، لعل ہوا یمن سے دور
    یا نافہ غزال ہوا ختن سے دور

    ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
    بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دُور

    حضرت علامہؒ 1921ء میں کشمیر تشریف لائے۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ ان کی میزبانی کے خواہش مند تھے لیکن اُنہوں نے مہاراجہ کی میزبانی سے معذرت ظاہر کی۔ انہوں نے وادی جنت نظیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی سیاحت کی۔ وہ وادئ کشمیر کے قدرتی حسن سے محظوظ ہوئے۔ انہوں نے اس دوران اپنی آنکھوں سے کشمیریوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کا بھر پور جائزہ لیا۔

    یہاں پر یہ بات اہم ہے جموں و کشمیر میں سیاسی سعی وجہد کا آغاز 1931ء میں شروع ہو چکا تھی۔ اُنہوں نے اپنی شاعری میں کشمیریوں کی بے بسی دور کرنے کا پیغام دیا۔ اُن کے دل کے آتش دان میں استقلال کی چنگاریوں کو اپنے گرم جذبات سے مزید حرارت بخشی۔ علامہ اقبال نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام نصیحت نامہ کی صورت میں اپنی مشہور کتاب "جاوید نامہ” تصنیف کی ہے ۔ اصل میں یہ پوری کتاب کشمیریوں میں جاگرتی کا پیغام دیتی ہے۔ سر محمد اقبال نے اس طویل مثنوی میں کشمیر پر ایک پورا باب لکھا ہے۔ اس شعری مجموعہ میں محمد اقبال عالمِ تخیلات میں کشمیر کے عظیم اولیاء، صوفیاء اور بزرگ شاعروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اپنی اس تخیلاتی ملاقات کے دوران محمد اقبال کشمیر میں بانیِ اسلام میر سید علی ہمدانیؒ سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔ وہ اُن کے حضور اپنی یہ شکایت رکھتے ہیں: ’آپ کے ماننے والے آج سخت آزمائش میں مبتلا ہیں۔ آپ نظرِ کرم فرمائیں، ہماری شکایت پر توجہ دیں ، ہمیں فرمائے کہ آپ کی مدد کب پہنچے گی’۔

    جاوید نامہ میں وہ فارسی زبان کے ایک عظیم صوفی شاعر غنیؒ کاشمیری سے بھی عالم تخیل میں باتیں کرتے ہیں۔ یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ محمد اقبال کے قلب و قلم میں کشمیر رچا بسا تھا۔ 1939ء میں علامہ اقبال سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اس عالمِ بقا کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے بھی وہ کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخشتے رہے۔ انہوں نے انہی دنوں یہ دعا کی تھی:
    توڑ اس دست ز جفا کیش کو یارب جس نےروحِ آزادیِ کشمیرکو پامال کیا

    علامہ کو دُکھ تھا کہ انگریزوں نے مہاراجہ گلاب سنگھ سے 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کا سودا کرکے پوری ریاست اس کے حوالے کی۔ علامہ اقبال نے1931ء میں کشمیریوں کی سیاسی مساعی کو منزل آشنا کرنے کے لئے ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ بھی بنائی۔ بعدازاں انہیں اس کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ لیکن کئی مصروفیات کی وجہ سے وہ ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ کے منصب صدارت سے مستعفی ہو گئے۔ لیکن ایک فعال کارکن کی حیثیت سے کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔

    غرض علامہ کا کشمیر کنکشن تاریخی، دینی، روحانی اور ثقافتی نوعیت کا تھا۔ یہ تعلق بہت مضبوط اور مستحکم تھا۔ دانائے راز عمر بھر اس کنکشن کی آبیاری اور حق ادائی کرتے رہے۔

  • یوم ولادت، علی سردار جعفری،معروف ترقی پسند شاعر

    یوم ولادت، علی سردار جعفری،معروف ترقی پسند شاعر

    یوم ولادت، علی سردار جعفری

    شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے
    سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

    پیدائش: 29 نومبر 1913ء
    وفات:01 اگست2000ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علی سردار جعفری کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مختصر سفرنامہ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود ان کی زبانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علی سردار جعفری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر پر بہار کے ایک مولوی صاحب نے اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم دی۔ وہ رات کو قصص الانبیاء سناتے تھے۔ ایک ہڑتال میں حصہ لینے کی وجہ سے مسلم یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑا۔
    پیدائش:بلرام پور (ضلع گونڈہ، اودھ) 29نومبر 1913ء
    نام:
    ۔۔۔۔۔
    علی سردار، نام کا سجع والد کے ایک دوست نے کہا؛بجائے احمد مرسل ہوئے علی سردار
    میرا نام اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ آج تک اس نام کا دوسرا آدمی نہیں ملا۔ ہاں سردار علی نام کسی قدر عام ہے۔ حافظ شیرازی کے ایک قصیدے میں علی سردار اس طرح استعمال ہوا ہے کہ میرے نام کا سجع بن جاتا ہے۔ میرے والد کےکتب خانے میں جو نسخہ تھا اس میں یہ قصیدہ شامل تھا۔ اس زمانے میں مولانا قاضی سجادحسین صاحب نے نئی دہلی سے جو نسخہ ترجمہ کے ساتھ شائع کیا ہے اس میں یہ قصیدہ شامل ہے۔ میرے نام کا شعر یوں ہے
    علی امام و علی ایمن و علی ایمان
    علی امین و علی سرور و علی سردار
    معلوم نہیں یہ شعر میرے والد کی نظر میں تھا یا نہیں لیکن ہم قافیہ نام میرے ایک چچا زاد بھائی کا تھا جو عمر میں مجھ سے چند سال بڑے تھے، علی جرار، میرے والد اور چچا کے نام بھی اسی طرح غیر معمولی تھے۔ سید جعفر طیار جعفری، سید حیدرکرار جعفری، سید احمد مختار جعفری، معلوم نہیں میرے بڑے بھائی ظفر عباس کا نام ان قافیوں سے الگ کیوں تھا۔ میں نے اپنے بچپن کی ایک رباعی میں ان ناموں کو یکجا کر لیا ہے
    نور نظر احمد مختار ہوں میں
    لخت جگر حیدر کرار ہوں میں
    ہیں فتح و ظفر قوت بازو سردار
    یعنی میر جعفر طیار ہوں میں
    میرے والد اور چچا کے ناموں کے متعلق ایک لطیفہ مشہور ہے۔ کسی نے میرے دادا سے پوچھا؛
    ’مہدی حسن!تم نے اپنے بیٹوں کے نام جعفر طیار، حیدر کرار اور احمد مختار رکھے ہیں۔ اب چوتھا بیٹا ہوگا تو کیا نام رکھو گے؟‘
    میرے دادا نے برجستہ کہا؛پاک پروردگار!‘
    والد کے ایک دوست فرخ بھیا نے میری پیدائش پر ایک شعر کہا تھا ؛
    دیا حق نے جعفر کو ثانی پسر
    مبارک، خوش اقبال، پیدا ہوا
    تعلیم:
    ۔۔۔۔۔
    سب سے پہلے گھر پر بہار کے ایک مولوی صاحب نے اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم دی۔ وہ رات کو قصص الانبیاء سناتے تھے۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے سلطان المدارس لکھنؤ بھیج دیا گیا، وہاں جی نہیں لگا۔ ایک مولوی صاحب کے گھر قیام تھا۔ وہاں بھی جی نہیں لگا اور میں فرار ہو کر بلرام پور واپس چلا گیا۔ بلرام پور کے انگریزی اسکول لائل کالجیٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ کھلی فضا تھی، اچھے استاد تھے، ہم عمر لڑکوں سے دوستیاں تھیں۔ صبح ناشتہ کر کے گھر سے اسکول جانا اور شام کو چار بجے پھر واپس آکر ناشتہ کرنا، اور میل ڈیڑھ میل دور ایک پریڈ گراؤنڈ میں پیدل جا کر دو گھنٹے کرکٹ، ہاکی کھیلنا روز کا معمول تھا۔
    اسی زمانے میں انیسؔ کے زیر اثر شاعر شروع کی۔ 1933ء میں بیس سال کی عمر میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کر کے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں داخلہ لیا۔ (ابتدائی تعلیم کے چند سال ضائع ہوگئے تھے)
    یہ ایک طوفانی زمانہ تھا جب تحریک آزادی اپنے شباپ پر تھی۔ اس عہد کے علی گڑھ نے اردو زبان کو اختر حسین رائے پوری، سبط حسن، منٹو، مجاز، جاں نثار اختر، جذبی، خواجہ احمد عباس، جلیل قدوائی، اختر انصاری، شکیل بدایونی، عصمت چغتائی اور 1940ء کے آس پاس اخترالایمان کا تحفہ دیا۔ وہاں خواجہ منظور حسین، ڈاکٹر عبدالعلیم، ڈاکٹر رشید جہاں، ڈاکٹر محمد اشرف وغیرہ سے تعارف ہوا اور جن کی صحبت اور فیض نے ذوق ادب اور آزادی کے جذبے کو جلا عطا کی۔ جدیدعہد کے اردو ادب میں تقریباً 75 فیصد علی گڑھ اور ترقی پسند تحریک کی عطا ہے۔
    دوستی کا ہاتھ
    ۔۔۔۔۔
    ایک ہڑتال میں حصہ لینے کی وجہ سے مسلم یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑا اور دہلی جا کر اینگلو عربک کالج میں داخلہ لیا۔ یہ وہ تاریخی کالج تھا جو دہلی کالج کے نام سے ایک بڑا تعلیمی کردار ادا کرچکا تھا۔و ہاں داخلہ دلوانے میں جلیل قدوائی اور اختر انصاری نے مدد کی۔ اس واقعہ کے پچاس سال بعد 1986ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ڈی لٹ (D.Litt.) کی اعزازی ڈگری سے عزت افزائی کی۔ یہ میرے لیے اس اعتبار سے بہت بڑا اعزاز تھا کہ مجھ سے پہلے اعزازی ڈگری شعراء کی فہرست میں علامہ اقبال، مسز سروجنی نائیڈو اور حضرت جگر مرادآبادی کو عطا کی گئی تھی۔
    جواہر لال نہرو سے اسی زمانے میں ملاقات ہوئی اور ملاقات کا یہ شرف آخر دن تک قائم رہا۔ ان کے انتقال سے دو ماہ قبل تین مورتی ہاؤس میں اندرا گاندھی نے ایک چھوٹا سا مشاعرہ پنڈت جی کی تفریح طبع کے لیے کیا تھا، جس میں فراقؔ، سکندر علی وجدؔ اور مخدوم محی الدین بھی شامل تھے۔ میں نے اپنی نظم “میرا سفر” فرمائش پر سنائی تھی۔
    دہلی سے بی۔ اے کرنے کے بعد میں لکھنؤ آ گیا۔ پہلے مجازؔ کے ساتھ قانون کی تعلیم کے لیے ایل۔ ایل۔ بی میں داخلہ لیا۔ ایک سال بعد اس کو چھوڑ کر انگریزی ادب کی تعلیم کے لیے ایم۔ اے میں داخلہ لیا۔ لیکن آخری سال کے امتحان سے پہلے جنگ کی مخالفت اور انقلابی شاعری کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل اور بنارس سنٹرل جیل میں تقریباً آٹھ ماہ قید رہا اور پھر بلرام پور اپنے وطن میں نظر بند کر دیا گیا۔ یہ نظر بندی دسمبر 1941ء میں ختم ہوئی۔
    لکھنؤ میں سجاد ظہیر، ڈاکٹر احمد وغیرہ کی صحبت رہی۔ وہیں پہلی بار ڈاکٹر ملک راج آنند سے ملاقات ہوئی۔ 1938ء میں کلکتہ میں ترقی پسند مصنفین کی دوسری کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شانتی نکیتن جا کر ٹیگور سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ وہیں بلراج ساہنی سے ملاقات ہوئی جو ہندی پڑھاتے تھے۔
    1941ء میں لکھنؤ ریڈیو نے ایک مشاعرہ منعقد کیا جو سارے ہندوستان میں بڑے ذوق و شوق سے سنا گیا۔ اس کا نام تھا “نووارد شعراء کا مشاعرہ”جوشؔ نے صدارت کی لیکن کلام نہیں سنایا۔ فیضؔ، مجازؔ، جذبیؔ اور جاں نثار اختر نے میرے ساتھ اس مشاعرے میں شرکت کی۔ ن۔ م۔ راشد کسی وجہ سے نہیں آ سکے۔ یہ نئی ترقی پسند اردو شاعری کے سات سیارے تھے جن کی تاب ناک گردش کا نغمہ آج بھی گونج رہا ہے۔ اخترالایمان نے اس کے بعد شاعری شروع کی۔ لیکن ساحرؔ اور مجروحؔ بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ سکندر علی وجدؔ ہمارے احباب میں تھے لیکن حیدرآباد کی سول سروس کی وجہ سے اس طرح کے مشاعروں میں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ ان کی دو نظمیں اجنتا اور ایلورا اردو شاعری کے شاہ کاروں میں شمار کی جاتی ہیں۔ جوشؔ، جگرؔ، فانیؔ، اصغرؔ، یگانہؔ، حسرتؔ موہانی کی شاعری کے ڈنکے بج رہے تھے۔فراقؔ کا شمار ابھی بڑے شاعروں میں نہیں ہوا تھا۔ وہ عمر میں جوشؔ اور جگرؔ کے ہم عصر تھے لیکن شاعری میں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر عروج حاصل کیا۔ ان کی زیادہ شہرت 1947ء کے بعد ہوئی۔ ویسے ان کا شمار بہت اچھے شعراء میں پہلے سے تھا۔
    1943ء میں بمبئی آنا ہوا۔ سجاد ظہیر کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے ہفتہ وار اخبار’قومی جنگ‘میں صحافتی فرائض انجام دیتا رہا۔ اس محفل میں بعد کو سبط حسن، مجازؔ، کیفیؔ، محمد مہدیؔ وغیرہ شامل ہوئے۔ آہستہ آہستہ بمبئی اردو ادب کا مرکز بن گیا۔ 1949ء کے بعد بمبئی میں جوشؔ، ساغر نظامی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، میراجی، اخترالایمان، سجاد ظہیر، ساحرؔ، کیفیؔ، مجروحؔ، حمید اختر اور بہت سارے سربرآوردہ ادیب جمع ہوگئے۔ اس زمانے کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے ادبی اجلاس نے پوری اردو دنیا میں ایک دھوم مچا رکھی تھی۔ باہر سے آنے والے ادیب ان اجلاسوں میں بڑی مسرت سے شریک ہوتے تھے۔ پطرس بخاری سے میری ملاقات پہلی بار بمبئی میں ہوئی۔ ان کے بھائی ذوالفقار بخاری ریڈیو کے ڈائریکٹر تھے اور ان سے بہت اچھے مراسم تھے۔ میری طویل تمثیلی نظم ’نئی دنیا کو سلام‘ اسی دور کی تخلیق ہے۔ ذوالفقار بخاری اس نظم کو ریڈیو پر ڈرامے کے انداز سے پیش کرنا چاہتے تھے لیکن ملک کی تقسیم کے ساتھ وہ یہاں سے چلے گئے۔
    اس عہد کی عظیم فلمی شخصیتیں ہمارے حلقۂ احباب میں شامل تھیں مثلاً کے ایل سہگل، پرتھوی راج کپور، کے این سگھ وغیرہ۔ بعد کو راج کپور، نرگس اور دوسرے فلمی ستارے اس دائرے میں آ گئے۔ کیا ان کی خوبصورت داستانیں لکھنے کا موقع آئے گا۔ یہ سب کے سب ترقی پسند ادب کے دلدادہ تھے۔
    اودے شنکر کا گروپ جب الموڑہ میں ختم ہو گیا تو اس کے فنکار بمبئی آ گئے اور انڈین پیوپلس تھیٹر میں شریک ہوگئے۔ اودے شنکر نے بمبئی آ کر رقص کے ذریعے سے رامائن کا ایک پروگرام مزدوروں کے لیے پردے پر پرچھائیاں کی شکل میں پیش کیا۔ ان کے بھائی روی شنکر نے ’سارے جہاں سے اچھا‘کی دھن بنائی، جو اب اس ترانے کی دھن ہے۔
    اس خوبصورت دور پر پھر کبھی تفصیل سے لکھا جائے گا۔
    1949ء میں جو ہندوستانی سیاست کا ہیجانی دور تھا اور کمیونسٹ پارٹی کی انتہا پسندی اپنے شباب پر تھی، حکومت ہند کی طرف سے پارٹی پر پابندی عاید کر دی گئی۔ پورے ملک میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ میں بمبئی میں دوبار گرفتار کیا گیا۔ پہلی بار پندرہ دن کے لیے۔ دوسری بار ڈیڑھ سال کے لیے۔ یہ زمانہ بمبئی کے آرتھر روڈ جیل اور ناسک کی سنٹرل جیل میں گزرا۔ 1950ء میں یکایک رہا کر دیا گیا۔ وہ عید کی شام تھی۔ دوسرے دن صبح ہی صبح بمبئی آ کر گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ عیدکا دن تھا۔
    ادبی تخلیقات:
    ۔۔۔۔۔
    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)پرواز (مجموعہ)
    ۔ ـ1943ء
    ۔ ـ(2)نئی دنیا کو سلام
    ۔ ـ(طویل تمثیلی نظم) 1948ء
    ۔ ـ(3)خون کی لکیر
    ۔ ـ(مجموعہ “پرواز” کے انتخاب کے ساتھ)
    ۔ ـ1949ء
    ۔ ـ(4)امن کا ستارہ
    ۔ ـ(دو طویل نظمیں)
    ۔ ـ1950ء
    ۔ ـ(5)ایشیاء جاگ اٹھا
    ۔ ـ(طویل نظم)
    ۔ ـ1951ء
    ۔ ـ(6)پتھر کی دیوار (مجموعہ)
    ۔ ـ1953ء
    ۔ ـ(7)ایک خواب اور (مجموعہ)
    ۔ ـ1964ء
    ۔ ـ(8)پیراہن شرر (مجموعہ)
    ۔ ـ1965ء
    ۔ ـ(9)لہو پکارتا ہے-(مجموعہ)
    ۔ ـ1968ء
    نثر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)منزل (افسانے)
    ۔ ـ1938ء
    ۔ ـ(2)یہ خون کس کا ہے
    ۔ ـ(ڈرامہ) 1943ء
    ۔ ـ(3)پیکار (ڈرامہ)
    ۔ ـ1944ء
    ۔ ـ(4)ترقی پسند ادب
    ۔ ـ1953ء
    ۔ ـ(5)لکھنؤ کی پانچ راتیں
    ۔ ـ1965ء
    ۔ ـ(6)اقبال شناسی
    ۔ ـ1969ء
    ۔ ـ(7)پیغمبران سخن
    ۔ ـ(کبیرؔ، میرؔ، غالبؔ)
    ۔ ـ(8)ترقی پسند ادب کی نصف صدی
    ۔ ـ(نظام اردو خطبات
    ۔ ـدہلی یونی ورسٹی 1984ء)
    فنی تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)بولو اے سنت کبیر
    ۔ ـڈاکومنٹری فلم کا مسودہ)
    ۔ ـڈائریکٹر خواجہ احمد عباس
    ۔ ـ(2)ہندوستان ہمارا
    ۔ ـ(ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ
    ۔ ـتہذیب پر ڈاکومنٹری فلم کا مسودہ)
    ۔ ـڈائریکٹر خواجہ احمد عباس
    ۔ ـ(3)لٹریری اسٹارم
    ۔ ـ(The Literary Storm)
    ۔ ـانگریزی میں ڈاکومنٹر ی فلم
    ۔ ـموضوع تحریک آزادی میں
    ۔ ـادب کا حصہ مسودہ اور ڈائریکشن
    ۔ ـ1857ء سے 1947ء
    ۔ ـآسامی۔ بنگالی، اڑیہ، ہندی، اردو
    ۔ ـاور انگریزی ادب کا کارنامہ
    ۔ ـ(تین حصوں میں:
    ۔ ـ1857ء سے 1905ء تک
    ۔ ـ1905ء سے 1920ء تک
    ۔ ـ1920ء سے 1947ء تک)
    ۔ ـ(4)ٹیلی ویژن سیریل کہکشاں:
    ۔ ـجدید اردو شعراء کی زندگی اور شاعری:
    ۔ ـحسرتؔ، موہانیؔ، جگرؔ مرادآبادی
    ۔ ـجوشؔ ملیح آبادی، فراقؔ گورکھپوری
    ۔ ـاسرارالحق مجازؔ اور مخدوم محی الدین
    ۔ ـ(ڈائریکٹر جلال آغا)
    ۔ ـتحریر و تہذیب سردار جعفری)
    ۔ ـ(5)روشنی اور آواز:
    ۔ ـلال قلعہ، شاہجہاں سے
    ۔ ـہندوستان کی آزادی تک۔
    ۔ ـ(6)روشنی اور آواز:
    ۔ ـشالیمار باغ سری نگر، جہانگیر
    ۔ ـاور نورجہاں سے آج کے عہد تک
    ۔ ـاس باغ میں لیلیٰ مجنوں کی
    ۔ ـکہانی پھولوں اور پودوں کی
    ۔ ـزبانی کہی گئی ہے۔
    ۔ ـباغ میں بہتی ہوئی نہر
    ۔ ـوقت کا استعارہ ہے۔
    ۔ ـپانی پر تیرتے ہوئے پھول
    ۔ ـلیلیٰ کا استعارہ ہیں
    ۔ ـاور نہر پر دونوں طرف سے
    ۔ ـجھکی ہوئی بید مجنوں
    ۔ ـکی شاخیں پھولوں کو
    ۔ ـچھو نہیں سکتیں
    ۔ ـمجنوں کا استعارہ ہیں۔
    ۔ ـنہر کے دونوں طرف
    ۔ ـکیاریوں میں لیموں اور
    ۔ ـسنترے کے دودو پودے
    ۔ ـجنت میں لیلیٰ مجنوں کی
    ۔ ـیکجائی کی علامت ہیں۔
    ۔ ـناقہ لیلیٰ کی علامت اب
    ۔ ـباقی نہیں رہ گئی ہے۔
    ۔ ـیہ علامت سبز گھاس کے
    ۔ ـقطعات پر ٹیبلوں کی شکل
    ۔ ـمیں تھی جن پر
    ۔ ـگلاب کی بیلیں
    ۔ ـچڑھی ہوئی تھیں۔
    ۔ ـکشمیری کہانی بھونرا
    ۔ ـاور نرگس تحریک آزادی کی
    ۔ ـکہانی سناتی ہے جس میں
    ۔ ـبھونرا مجاہد کی علامت ہے
    ۔ ـاور نرگس (محبوبہ)
    ۔ ـآزادی کی علامت۔
    ۔ ـجاڑوں کی برف پگھل
    ۔ ـجانے کے بعد جب زنبور
    ۔ ـبہار گنگناتا ہوا
    ۔ ـنرگس سے ہم آغوش
    ۔ ـہوجاتا ہے تو آزادی
    ۔ ـکی بہار آجاتی ہے۔
    ۔ ـتین رنگ کے کشمیری
    ۔ ـکنول کے پھول برہما
    ۔ ـوشنو اور شیو کی علامت
    ۔ ـکے طور پر استعمال کیے گئے ہیں
    ۔ ـسرخ کنول صبح ازل کا طلوع
    ۔ ـآفتاب ہے۔
    ۔ ـنیلا کنول کائنات کی
    ۔ ـدوپہر ہے اور سفید کنول
    ۔ ـموت کی علامت ہے
    ۔ ـجو تجدید حیات کی
    ۔ ـآئینہ دار ہے۔
    روشنی اور آواز:
    ۔ ـتین مورتی نواس
    ۔ ـجواہر لال نہرو کی
    ۔ ـآزادی کے بعد کی کہانی ہے۔
    سابرمتی آشرم:مہاتما گاندھی کی کہانی ہے جو ڈانڈی مارچ اور نمک ستیہ گرہ پر پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے کیوں کہ اس کے بعد گاندھی جی احمد آباد سے منتقل ہوگئے۔
    اکابرین عالم جن سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ملاقات کا شرف حاصل ہوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1-ٹیگور، 2- مہاتما گاندھی، 3- جواہر لال نہرو، 4- مولانا ابوالکلام آزاد، 5- ستیہ جیت رے، 6- پابلو نرودا، 7- ناظم حکمت، 8- اہالیہ اہرن،؟؟ 9- شالوخوف، 10- پاستر ناک، 11- فرانسیسی شاعر لوئی آراگون، 12- جیولیوکیوری (سائنس)، 13- خروشچیوف، 14- پال روبسن۔
    میرا سفر
    ۔۔۔۔۔۔
    سیروسیاحت
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان، تاجسکتان، ازبکستان، آذربائجان، روس، سائی بیریا، عراق، یمن، مصر، یونان، بلغاریہ، برلن، (مشرقی)برلن (مغربی) فرانس، چیکوسلواکیہ، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، انگلستان، امریکہ اور کنیڈا۔
    اعزاز و اکرام
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ
    ۔ ـ (شعری مجموعہ ایک خواب اور)
    ۔ ـ(2)پدم شری
    ۔ ـ (صدر مملکت، ڈاکٹر رادھا کرشنن)
    ۔ ـ شاعری کے لیے 1967ء
    ۔ ـ(3)جواہر لال نہرو فیلوشپ
    ۔ ـ 1968-1969ء
    ۔ ـ(4)سجاد ظہیر ایوارڈ
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ نہرو کلچرل ایسوسی ایشن
    ۔ ـ لکھنؤ 1974ء
    ۔ ـ(5)اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ
    ۔ ـ (اقبال شناسی کے لیے)
    ۔ ـ 1977ء
    ۔ ـ(6)اقبال امیڈل
    ۔ ـ (تمغہ امتیاز)حکومت پاکستان
    ۔ ـ 1978ء
    ۔ ـ(7)اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ
    ۔ ـ (شعری مجموعہ لہو پکارتا ہے)
    ۔ ـ 1979ء
    ۔ ـ(8)مخدوم ایوارڈ
    ۔ ـ آندھرا پردیش اردو اکیڈمی
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1980ء
    ۔ ـ(9)میر تقی میرؔ ایوارڈ
    ۔ ـ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1982ء
    ۔ ـ(10)کمارن آشن ایوارڈ
    ۔ ـ (ملیائی زبان کی طرف سے)
    ۔ ـ تریونڈرم (طویل نغمہ
    ۔ ـ ایشیا جاگ اٹھا کے لیے)
    ۔ ـ 1982ء
    ۔ ـ(11)خصوصی تمغہ ماسکو
    ۔ ـ (ستر سالہ جشن پیدائش پر)
    ۔ ـ 1984ء
    ۔ ـ(12)اقبال سمان
    ۔ ـ مدھیہ پردیش حکومت
    ۔ ـ بھوپال کی طرف سے
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1986ء
    ۔ ـ(13)ڈی لٹ
    ۔ ـ (اعزازی دکتور ادب)
    ۔ ـ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
    ۔ ـ 1986ء
    ۔ ـ(14)بین الاقوامی اردو انعام
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ اکیڈمی آف اردو لٹریچر
    ۔ ـ ٹورنٹو، کنیڈا 1988ء
    ۔ ـ(15)گنگا دھر مہر ایوارڈ
    ۔ ـ سمبل پور یونی ورسٹی
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1992ء
    ۔ ـ(16)میر ایوارڈ
    ۔ ـ میرؔ اکیڈمی لکھنؤ
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1993ء
    ۔ ـ(17)مولانا آزاد ایوارڈ
    ۔ ـ اترپردیش اردو اکیڈمی
    ۔ ـ لکھنؤ 1994ء
    ۔ ـ(18)خصوصی Emiritus
    ۔ ـ فیلوشپ ڈپارٹمنٹ آف کلچر
    ۔ ـ حکومت ہند، نئی دہلی
    ۔ ـ(19)ظ۔ انصاری ایوارڈ
    ۔ ـ مہاراشٹر ریاست اردو اکیڈمی
    ۔ ـ 1995ء
    ۔ ـ(20)گیان پیٹھ ایوارڈ
    ۔ ـ 1997ء
    اعزاز و اکرام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)ممبر سینیٹ
    ۔ ـ ( Member of
    ۔ ـ the Senate)
    ۔ ـ بمبئی یونی ورسٹی ( 2 بار)
    ۔ ـ(2)پروڈیوسر ایمرٹیس
    ۔ ـ ریڈیو اور ٹیلی ویژن
    ۔ ـ 1980ء سے 1985ء تک
    ۔ ـ(3)صدر کل ہند انجمن ترقی پسند
    ۔ ـ مصنفین (اردو)
    ۔ ـ 1977ء سے
    ۔ ـ ستمبر 1990ء تک
    ۔ ـ(4)جنرل سکریٹری
    ۔ ـ کل ہند صد سالہ
    ۔ ـ جشن اقبال کمیٹی 1970ء
    ۔ ـ(5)وزیٹنگ پروفیسر
    ۔ ـ جموں یونی ورسٹی
    ۔ ـ اکتوبر سے
    ۔ ـ دسمبر 1983ء تک
    ۔ ـ(6)صدر کمیٹی
    ۔ ـ برائے جائزہ سفارشات
    ۔ ـ گجرال کمیشن (اردو)
    ۔ ـ مارچ سے
    ۔ ـ ستمبر 1990ء تک
    ۔ ـ(7)نائب صدر
    ۔ ـ مہاراشٹر اردو اکیڈمی،بمبئی
    ۔ ـ جنوری 1994ء تک
    ۔ ـ(8)صدر،فلم رائٹرس
    ۔ ـ ایسوسی ایشن، بمبئی
    ۔ ـ 1992ء سے 1993ء
    ۔ ـ(9)کورٹ ممبر
    ۔ ـ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
    ۔ ـ(10)ٹرسٹی، نیشنل بک ٹرسٹ
    ۔ ـ (ہند)، نئی دہلی
    سجع
    ۔۔۔۔۔
    (تضمین بر شعر حافظ شیرازی)
    مجھے ہے بلبل شیراز سے جو نسبت خاص
    عطا ہوا ہے نہ ہوگا کسی کو بھی یہ وقار
    ہر ایک لفظ ہے پروردگار موسم گل
    ہر ایک حرف ہے گہوارہ نسیم بہار
    صریر خانہ معجز رقم نوائے سروش
    سرود خامشی گلبانگ گلشن اسرار
    ہے شعر حافظؔ شیریں بھی سخن ترانہ جاں
    ہے جس میں اسم علی مثل گوہر شہوار
    “علی امام و علی ایمن و علی ایماں
    علی امین و علی سرور و علی سردار”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (بہ شکریہ ؛سردار کی نادر تحریریں،مرتبہ ،ڈاکٹر محمد فیروز،ساقی بک ڈپو ،دہلی،2008)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے
    اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے
    مقتولوں کا قحط پڑ نہ جائے
    قاتل کی کہیں کمی نہیں ہے
    ویرانوں سے آ رہی ہے آواز
    تخلیق جنوں رکی نہیں ہے
    ہے اور ہی کاروبار مستی
    جی لینا تو زندگی نہیں ہے
    ساقی سے جو جام لے نہ بڑھ کر
    وہ تشنگی تشنگی نہیں ہے
    عاشق کشی و فریب کاری
    یہ شیوۂ دلبری نہیں ہے
    بھوکوں کی نگاہ میں ہے بجلی
    یہ برق ابھی گری نہیں ہے
    دل میں جو جلائی تھی کسی نے
    وہ شمع طرب بجھی نہیں ہے
    اک دھوپ سی ہے جو زیر مژگاں
    وہ آنکھ ابھی اٹھی نہیں ہے
    ہیں کام بہت ابھی کہ دنیا
    شائستۂ آدمی نہیں ہے
    ہر رنگ کے آ چکے ہیں فرعون
    لیکن یہ جبیں جھکی نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
    راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا
    باعث رشک ہے تنہا رویٔ رہ رو شوق
    ہم سفر کوئی نہیں دورئ منزل کے سوا
    ہم نے دنیا کی ہر اک شے سے اٹھایا دل کو
    لیکن ایک شوخ کے ہنگامۂ محفل کے سوا
    تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہوں شاہد
    بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا
    جانے کس رنگ سے آئی ہے گلستاں میں بہار
    کوئی نغمہ ہی نہیں شور سلاسل کے سوا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔
    کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
    راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا

    انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو
    بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں

    سو ملیں زندگی سے سوغاتیں
    ہم کو آوارگی ہی راس آئی

    دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیا
    اٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھے

    پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
    نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے

    یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو
    تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے

    شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں بھی بہت
    مزا تو جب ہے کہ یاروں کے رو بہ رو کہیے

    اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میری
    کہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نے

    بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے
    وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا

    مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت
    دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے

    یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدست
    وہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثواب

    تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہ
    میں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہے

    اسی دنیا میں دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
    شیخ جی تم بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

    پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرن
    سرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں

    شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے
    سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

    کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میں
    لب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہو

    پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہے
    پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھا

    یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہے
    نغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہے

    دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریب
    تصورات کہن کے قدیم بت خانے

    پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہے
    وہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہے

  • یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    پیدائش:14 نومبر 1942ء
    گوہاٹی، آسام
    برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:29 نومبر 2011ء
    گوہاٹی، آسام، بھارت
    قلمی نام:مامونی رائسم گوسوامی
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ، ادیبہ، شاعرہ
    قومیت:بھارتی
    دور:1956ء-2011ء
    اصناف:آسامی ادب
    موضوع:Plight of the
    ۔ dispossessed in
    ۔ بھارت
    ۔ and abroad
    نمایاں کام:The Moth Eaten
    ۔ Howdah of a Tusker
    ۔ The Man from Chinnamasta
    ۔ Pages Stained With Blood
    شریک حیات:مادھون رائسم ائینگار (متوفی)

    مامونی رایسم گوسوامی ایک آسامی مصنفہ، شاعرہ، پروفیسر اور لکھاری تھیں۔ انھیں 1983ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز، 2001ء میں گیان پیٹھ انعام اور پرنسپل پرنس کلاوس لاوریٹ انعام، 2008ء سے نوازا جا چکا ہے۔ وہ عصر حاضر کی مشہور ادیبہ ہیں جن کی کئی کتابیں آسامی سے انگریزی میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
    اپنی ادبی دنیا کے علاوہ وہ سماجی تبدیلی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں سماجی آزادی اور سماجی تبدیلی کی بات کی ہے اور آزاد آسام اور حکومت ہند کے مابین ثالثی بن کر صلح و امن کی خوب کوششیں کیں۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے ایک گروپ بنام پپلز کنسلٹیٹو گروپ بنا۔ وہ خود کو امن کی متلاشی مانتی تھیں۔ ان کی تحریروں کو کئی اسٹیج اور ناٹک میں دکھایا گیا ہے۔ ایک فلم اداجیہ ان کی ناول پر بنی ہے۔ اور اسے بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کی زندگی پر ایک فلم بنی جس کا نام ورڈس فروم دی مسٹ ہے اور جسے جہنو بروا کے ڈیریکٹ کیا ہے۔
    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اندرا گوسوامی کی ولادت گوہاٹی میں ہوئی۔ ان کے والد اومرکنٹ گوسوامی اور والدہ امبیکا دیوی ہیں۔ انتدائی تعلیم گوہاٹی میں حاصل کرنے کے بعد کوٹن کالج کوہاٹی سے آسامی ادب میں گریجویشن کیا اور وہیں سے اسی موضوع میں ماسٹر بھی کیا۔
    کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔
    1962ء میں ان کی پہلی کتاب ”چناکی موروم“ منظر عام پر آئی جو کہانیوں کا مجموعہ تھی اور اس وقت وہ طالبہ ہی تھی۔ آسام میں انہیں مامونی بائدیو کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب کے ناشر کیرتی ناتھ نے انہیں اپنے رسالہ میں لکھنے کے لیے دعوت دی اور اس وقت وہ محض 8 برس کی تھیں۔
    ذہنی دباؤ
    ۔۔۔۔۔۔
    بچپن ہی سے انہیں ذہنی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری، دی ان فنشڈ آٹوبایوگرافی، میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے شیلونگ میں کئی بار اپنے گھر سے کودنے کی کوشش کی۔ متعدد خود کشی کے اقدام نے ان کی جوانی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا۔ شادی کے محض 18 ماہ بعد ان کے کرناٹک نزاد شوہر کا کشمیر میں ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہو گیا جس کے بعد انھوں نے نیند کی گولیاں لینی شروع کر دیں۔ اس کے بعد انہیں آسام لایا گیا اور انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور سینک اسکول، گوالپارا میں معلمہ ہو گئیں۔ یہاں نے انہوں پھر لکھنا شروع کیا لیکن اس بار ان کی تحریروں میں زندگی کے حادثات کی جھلک صاف دکھائی دیتی تھی بالخصوص شوہر کی وفات اور مدھیہ پردیش اور کشمیر میں زندگی گزارنے کا تجربہ ان پر کافی اثر کر چکا تھا۔
    ورانداون کی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوالپارا میں تدریس کے بعد ان کے استاد نے انہیں ورنداون جانے کا مشورہ دیا تاکہ کچھ ذہنی سکون مل سکے۔ انہوں نے اپنی بیوگی کا تذکرہ اپنی ناول دی بلیو نیکیڈ بارجا، 1976ء میں کیا اور ورنداون کی دکھ بھری زندگی کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔ ایک درندناک پہلو ورنداون کا یہ بھی ہے کہ جوان بیوہ عورتوں کو آشرم والے خوب ترجیح دیتے ہیں جبکہ بوڑھی عورتیں محروم رہ جاتی ہیں۔ ورانداون میں انہوں نے راماین کا مطالعہ شروع کیا تلسی داس کے راماین کا کثیر حصہ پڑھ ڈالا۔ تلسی داس کی راماین انہوں نے محض 11 روپیہ میں خریدی تھی۔
    دہلی یونیورسٹی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قدہلی یونیورسٹی کے شعبہ بھارتی زبان وادب میں آسامی زبان کی پروفیسر ہو گئیں اور اس طرح اب ان کا مسکن دہلی ہو گیا۔ یہیں رہ کر اہوں نے اپنی شاہکار کتابیں لکھیں جن میں کئی افسانے جیسے ہری دوئے، ننگوتھ شوہور، بوروفور رانی شامل ہیں۔
    انہوں نے اپنی کتاب پیجیز سٹینڈ وتھ بلڈ میں سکھوں پر ہونے مظالم کو موضوع بنایا جب سابق وزیر اعظم بھارت اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ مخالف فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ گوسوامی اس وقت دہلی شکتی نگر، اترپردیش علاقہ میں قیام پزیر تھیں اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے فسادات کا مشاہدہ کیا تھا۔
    کامیابی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1982ء میں انہیں ساہتیہ اکادمی اعزاز کے نوازا گیا۔ 2000ء میں گیان پیٹھ انعام سے سرفراز ہوئیں۔ گوسوامی کے ناول کے دو خاص موضوعات عورت اور آسامی سماج ہے مگر انہوں آسامی سماج میں ایک مرد کردار اختراع کیا جو اندرناتھ کا ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب دتال ہنتیر اونی ہودہ میں لکھا ہے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1972ء ۔ چیناور سروت
    ۔ (2)1976ء نیل کنٹھی براہ
    ۔ (3)1980ء اہیرون
    ۔ (4)1980ء میمور دھورا
    ۔ (5)1980ء بدھو ساگور دھوکھور گیشا
    ۔ (6)1988ء دتال ہتیر اونی کھوا ہودا
    ۔ (7)1989ء اودے بھانور چرترو
    ۔ (8)ننگوتھ سوہور
    خود نوشت سوانح
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)این ان فنشڈ آٹوبایوگرافی
    ۔ (آسامی زبان:আধা লেখা দস্তাবেজ)
    ۔ (2)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:দস্তাবেজ নতুন পৃষ্ঠা)
    ۔ (3)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:অপ্সৰা গৃহ)
    افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بیسٹ
    ۔ (2)دوارکا اینڈ ہز سن
    ۔ (3)دی جرنی
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پین اینڈ فلیش
    ۔ (2)پاکستان
    ۔ (3)اوڈے تو ا ہور
    غیر افسانوی ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)راماین فروم گنگا ٹو برہم پتر، دہلی 1996ء
    ۔ (2)آن لائن
    ۔ (3)دی جنرل
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1982ء- ساہتیہ اکیڈمی
    ۔ (2)1989ء- بھارت نرمان اعزاز
    ۔ (3)2000ء- گیان پیٹھ انعام
    ۔ (4)2002ء- پدم شری اعزاز
    ۔ (انہوں نے قبول کرنے سے منع کر دیا)
    ۔ (5)2007ء- اروناچل پردیش کی
    ۔ راجیو گاندھی یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (6)2008ء- اندرا گاندھی
    ۔ نیشنل اوپن یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (7)2008ء- ایشور چندر ودیاساگر
    ۔ گولڈ پلیٹ من جانب ایشیاٹک سوسائٹی
    ۔ (8)2009ء- آسام رتن
    ۔ ریاست آسام کا اعلیٰ ترین اعزاز۔

  • یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

    پیدائش:18 اگست 1920ء
    کولکاتا،برطانوی ہند
    وفات:29 نومبر 2011ء
    کراچی،پاکستان
    شہریت: پاکستان
    پیشہ:غنائی شاعر،نغمہ نگار

    فیاض ہاشمی ہند و پاک کے معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار اور مقالمہ نویس تھے۔
    حالات زندگی و فن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 18 اگست 1920ء کو کلکتہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کلکتہ گرامر اسکول سے حاصل کی اور باقاعدہ ہومیو پیتھ ڈاکٹر بنے لیکن پریکٹس نہیں کی کیونکہ رجحان شاعری کی طرف تھا۔ وہ آٹھ زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ 1935ء میں فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے تھے۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی بہت شعر کہنے شروع کردیے تھے جس کی بنیاد پر کلکتہ میں ہونے والے مشاعروں میں انھیں کمسن شاعر کی حیثیت سے بطورِ خاص بلوایا جاتا تھا۔ انھوں نے فلمی گیتوں میں اُردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا انداز اپنایا جس کی وجہ سے ان کے گیتوں کو لازوال شہرت عطا ہوئی۔ فیاض ہاشمی کی شاعری کے علاوہ موسیقی میں بھی شُد بُد رکھتے تھے۔ ان کی اس منفرد اور قابلِ قدر خصوصیت کی بنا پر H.M.V نامی گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے۔ اس کمپنی میں فیاض ہاشمی کی ملاقات ایک بہت بڑے موسیقار کمل داس گپتا سے ہوئی۔ ان دونوں کی جوڑی خوب نبھی اور بڑے لازوال گیت تخلیق ہوئے۔ فیاض ہاشمی کا نام ہندستان بھر میں ایک کم عمر گیت نگار کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ کمل داس گپتا اور فیاض ہاشمی کی جوڑی نے جگ موہن، طلعت محمود، جونتھیکا رائے، پنکج ملک اور ہیمنت کمار جیسے بڑے گلوکاروں کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا اور بے پناہ شہرت کا حامل بنایا۔ ان گلوکاروں کے مشہورگیتوں میں تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی، چودہویں منزل پہ ظالم آ گیا، اِک نیا انمول جیون مل گیا، یاد دلواتے ہیں وہ یوں میرا افسانہ مجھے، ہونٹوں سے گل فشاں ہیں وہ کے علاوہ طلعت محمود کی آواز میں بے شمار گیت اور غزلیں ہیں۔

    اسی طرح پنکج ملک یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، ہیمنت کمار کا بھلا تھا کتنا اپنا بچپن، جگ موہن کا یہ چاند نہیں تیری آرتی ہے، جوتھیکا رائے ان ہی کی وجہ سے بھجن کی شہزادی قرار پائیں۔ جوتھیکا رائے کا چپکے چپکے یوں ہنسنا کافی مشہور ہوا۔ 1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ ان کی مطالبے پر گراموفون کمپنی نے ان کا ٹرانسفر لاہور کر دیا اور انہیں H.M.V لاہور کا ڈائریکٹر بنادیا۔ یہاں انہوں بے شمار فنکاروں کو اکٹھا کیا جن میں منور سلطانہ، فریدہ خانم، زینت بیگم، سائیں اختر حسین اور سائیں مرنا کے علاوہ اور بھی بہت سے فنکار تھے۔ 1956ء میں رائلٹی کی ادائیگی پر اختلاف کی بنا پر وہ کمپنی سے علاحدہ ہو گئے اور کراچی آ گئے لیکن 1960ء میں ایس ایم یوسف انہیں دوبارہ لاہور لے آئے اور وہ ان کے ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ وہ پاکستان آئے تو انھوں نے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ استاد حسیب خاں ببن کار، استاد فتح علی خان، استاد بڑے غلام علی خان، استاد مبارک علی خان، ماسٹر غیاث حسین اور استاد محمد شریف خان پونچھ والے کو بھی گراموفون کمپنی میں ملازمت دلوائی۔ شاعر حزیں قادری اور مشیر کاظمی بھی انہی کے توسط سے کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ ریاض شاہد کو بڑا مکالمہ نگار بنانے میں فیاض ہاشمی کی معاونت شامل ہے۔
    ازدواجی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی نے تین شادیاں کیں، پہلی بیگم سے سات بچے ہیں، دوسری شادی اداکارہ کلاوتی سے کی جو مسلمان تھیں، ان سے ایک بیٹا تھا، تیسری بیگم سے چار بچے ہیں جو اپنی والدہ کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    1944ء – راگ رنگ (شاعری)
    بطور نغمہ نگار مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سہیلی
    آشیانہ
    اولاد
    دل کے ٹکڑے
    سہاگن
    لاکھوں میں ایک
    زمانہ کیا کہے گا
    عید مبارک
    سویرا
    ہزار داستان
    ایسا بھی ہوتا ہے
    مشہور فلمی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو نہیں ہے توکچھ بھی نہیں ہے (گلوکار: ایس بی جون، فلم: سویرا)
    آج جانے کی ضد نہ کرو (گلوکار: حبیب ولی محمد، فلم: بادل اور بجلی)
    تصویر تیری دل مِرا بہلا نہ سکے گی (گلوکار: طلعت محمود)
    چلو اچھا ہوا تم بھول گئے (گلوکار: نورجہاں، فلم: لاکھوں میں ایک)
    گاڑی کو چلانا بابو (گلوکار: زبیدہ خانم، فلم: انوکھی)
    قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: داستان)
    یہ کاغذی پھول جیسے چہرے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: دیور بھابی)
    نشان کوئی بھی نہ چھوڑا (گلوکار: مہدی حسن، فلم: نائلہ)
    لٹ الجھی سلجھا رے بالم (گلوکار: نورجہاں، فلم: سوال)
    ساتھی مجھے مل گیا (گلوکار: ناہید اختر، فلم: جاسوس)
    ہمیں کوئی غم نہیں تھا غمِ عاشقی سے پہلے (گلوکار: مہدی حسن / مالا، فلم: شب بخیر)
    رات سلونی آئی (گلوکار: ناہید نیازی، فلم: زمانہ کیا کہے گا)
    مشہور ملی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں دی ہمیں آزادی کے دنیا ہوئی حیران، اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
    سورج کرے سلام، چندا کرے سلام
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 29 نومبر، 2011ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔

    غزلیں
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)
    مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی
    اک بوند بھی نہ کل کے لیے تو بچا کے پی
    کیوں کر رہا ہے کالی گھٹاؤں کے انتظار
    ان کی سیاہ زلف پہ نظریں جما کے پی
    چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
    چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
    فیاضؔ تو نیا ہے نہ پی بات مان لے
    کڑوی بہت شراب ہے پانی ملا کے پی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری
    تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری
    نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ
    دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری
    عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
    ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
    یہ منزل یہ حسیں منزل جوانی نام ہے جس کا
    یہاں سے اور آگے بڑھنا یہ عمر رواں میری

  • ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    نیازمگسی:
    ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    پیدائش:28 نومبر 1757ء
    لندن
    وفات:12 اگست 1827ء
    چیرنگ کراس، لندن
    رہائش:فیلپہام (ستمبر 1800 – ستمبر 1803)
    بیٹرسی (جولا‎ئی 1782 – اگست 1782)
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت برطانیہ عظمی (01 جنوری 1801)
    نسل:انگریز
    تلمیذ خاص:ڈبلیو بی یٹس
    جبران خلیل جبران
    آلین جنسبرگ
    پیشہ:مصور، شاعر، الٰہیات داں
    جمع کار، الیس ٹریٹر، فلسفی، طابع
    زبان:انگریزی
    شعبۂ عمل:شاعری
    مؤثر:میری وولسٹن کرافٹ
    دانتے، بین جونسن
    بہمن، جان ملٹن
    تحریک:رومانیت

    ولیم بلیک (28 نومبر 1857 – 12 اگست 1827) ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر تھے۔

  • فریڈ رک اینگلس:جرمنی کا انقلابی مفکر:جس کے نظریے کوعروج ملا

    فریڈ رک اینگلس:جرمنی کا انقلابی مفکر:جس کے نظریے کوعروج ملا

    پیدائش:28 نومبر 1820ء وفات:05 اگست 1895ء
    لندن
    وجۂ وفات:سرطان
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:جرمنی
    مادر علمی:جامعہ ہومبولت
    پیشہ:ماہر معاشیات، فلسفی، مصنف
    انقلابی، ماہرِ عمرانیات
    حامیِ حقوق نسواں، صحافی
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:فلسفہ
    مؤثر:ہیراکلیطس، کارل مارکس

    جرمنی کا انقلابی مفکر جس نے کارل مارکس کے ساتھ مل کر سائنسی سوشلزم کی بنیاد رکھی۔ دولت مند کارخانہ دار کا بیٹا تھا۔ 1842ء میں مانچسٹر میں باپ کے کارخانے میں کام سیکھنے گیا اور مزدوروں کی تحریک سے روشناس ہوا۔ 1844ء میں پیرس کے عارضی قیام کے دوران میں کارل مارکس سے پہلی ملاقات ہوئی۔ 1845ء میں 1850ء تک جرمنی، فرانس اور بیلجیم میں انقلابی تحریکیں چلائیں اور مارکس کے ساتھ مل کر کئی کتابیں لکھیں جن میں کمیونسٹ مینی فسٹو (1848ء) خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ 1848ء میں واپس انگلستان چلا گیا اور ساری عمر وہیں رہا۔ اینگلس نے مارکس کی وفات کے بعد اس کی مشہور تصنیف (سرمایہ) کی دوسری اور تیسری جلدیں اس کی یاداشتوں کی مدد سے مرتب کیں۔ متعدد تاریخی اور فلسفیانہ کتابوں کا مصنف ہے۔