Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    گالم گلوچ‘ ہلڑ بازی‘ بلوہ بندوق کیا کم تھے کہ نازیبا اور فیک ویڈیو کے وار کرکے ملک کے نہ صرف معاشرتی و سماجی اقدار کو پامال کیا جارہاہے بلکہ سیاست اور سیاستدانوں کے زندہ جنازے نکالے جارہے ہیں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں سیاست کے لئے نفرت بھری جارہی ہے۔ یاد رکھیں کسی بھی معاشرے میں سیاسی آزادیوں کے فروغ اور سیاسی پارٹیوں کا استحکام ہی درپیش چیلنجز سے قوموں کو نکالنے میں مدد کرتے ہیں۔ مضبوط سیاسی اقدار مضبوط سیاسی افکار ہی کسی قوم کو مضبوط مستحکم معاشرہ اور مضبوط معیشت دیتے ہیں۔ مضبوط معیشت ہی ناقابل تسخیر دفاع کی ضامن ہے

    صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست کو کھیل تماشا ناچ گانا گالم گلوچ احتجاج کے نام پر سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگانے سکول کالج بند کرانے تو بنا ہی دیا گیا تھا لیکن سیاستدانوں کی ویڈیو جنگ نے تو ہر باشعور اور سنجیدہ حلقے کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں اعظم سواتی کی ازدواجی زندگی پر فیک ویڈیو کا ڈرامہ رچایا گیا اور اسی عمر کے بزرگ سیاستدان پرویز رشید کی ایک ویڈیو منظر عام پر لائی گئی جس نے سنجیدہ سیاسی حلقوں میں سکتہ طاری کردیا ہے۔ پرویز رشید سیاست میں رواداری اور سنجیدگی کا آئی کان ہے اور ان کی سیاسی جدوجہد کو تمام سیاسی پارٹیوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ایسی شخصیات کے لباس پر غلاظت کے چھینٹوں سے کون سے مذموم عزائم کو پورا کرنے کی مشق کی جارہی ہے اور ان حرکات کو قوم کو سماجی انحطاط معاشرتی بے راوہ روی اور سیاسی بانجھ پن کی صورت میں قوم کو مستقبل قریب میں ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مقتدر حلقوں سیاسی جماعتوں اور معاشرتی قوتوں کو یکجا ہو کر ایسی سازشوں کو روکنا ہوگا.

  • کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    آج کے سیاستدان جب جمہوریت، آزادی، قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے جھوٹ اور منافقت سے گھن آتی ہے۔ مخلوق خدا کو برباد کر کے یہ کس منہ سے عوام کا نام لیتے ہیں۔ ملکی صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ،قیادت کا فقدان ہے ۔جب تک اس گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کیا جاتا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو جب تک تبدیل نہیں کیا جاتا عوام کی زندگی کبھی سہل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ سیاست بڑھکوں، دھمکیوں اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی نمائندے ایسی بدزبانی اور غنڈہ گردی پر اتریں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

    موجودہ شور شرابے میں اقتصادی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے بنیادی اشیائے صرف کی ہولناک مہنگائی جاری ہے۔ ایک دوسرے کے بارے بیہودہ گفتگو پہلے سے پست ثقافت اور اخلاقیات مزید پست ہو رہی ہے ایک تعفن پھیل رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے ہر ذی شعور انسان کا دم گھٹ رہا ہے۔ جو کچھ اس ملک و قوم کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے۔ ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہ۔

    دوسری طرف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دیا گیا ان کی آپس کی لڑائیوں میں ملکی وقار اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ان کو اس قدر آندھا کر دیا ہے کہ ملک کے وقار اور سلامتی کو بھی بھول گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ ملکی کی تمام سیاسی جماعتیں اصول۔ نظریے اور ضمیر سے عاری ہو چکی ہیں۔ سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ان کی منافقت۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینا۔ بد سے بدترین ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی سیاست ہو رہی ہے بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی تماش بین بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں خدارا ملک سے انتشار کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اس ریاست پر رحم کیا جائے اور اس ریاست کے ذمہ داران کو گلی کوچوں ، چوراہوں، جلسے جلوسوں میں برا بھلا نہ کہا جائے۔

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کاش ہمارے سکولوں میں کوئی ڈھنگ سے سائنس سکھاتا تو آج ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اُٹھا کر یہ نہ کہتا پھرتا کہ دیکھیں جی: "سینس” کی تھیوری اور فیکٹ میں فرق ہوتا ہے۔ تھیوری جب "پاروو” ہو جاتی ہے تو "سینس” کا فیکٹ یا لا بن جاتی ہے ورنہ صرف تھیوری جسکی کوئی اہمیت نہیں۔

    نجانے کس نے یہ بات اس قوم کے ذہن میں ڈال دی یے جو نکلتے نہیں نکلتی۔

    لیجیئے پھر سے پڑھ لیجئے کہ سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے۔ سمجھ نہ آئے تو کسی بچے کو پڑھائیں، وہ سمجھ جائے گا پھر وہ آپکو بھی سمجھا دے گا۔

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔

    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔

    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔

    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔

    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔

    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    معیشت بہتر کرنے کیلئے بڑے بڑے مشورے اور منصوبے کسی فرد کو نہیں بدل سکتے. بلکہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور کچھ عادتیں ہوتی ہیں جو ہماری سوچ بن جائے تو ہماری معیشت بدل جاتی ہے. مثلاً آپ اپنی خریداری کی مثال لیں. ہر شخص کی بنیادی ضروریات اسے بازار بھی لے کر جائیں گی اور خرچ بھی کرائیں گی.

    آپ نے جوتے لینے ہیں. ایک جوڑا دو ہزار کا ہوگا تو ایک پانچ ہزار کا وہیں ہزار گیارہ سو کا بھی ہوگا. مختلف رنگ ہوں گے فیشن ہوں گے. آپ نے یہاں معیار ڈھونڈنا ہے. ایک جوتا سستا ہے خوبصورت ہے لیکن آپ اسے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ معیار ایسا ہے جو ایک بارش یا کچی زمین پر چلنا زیادہ برداشت نہیں کر سکتا. دوسرا جوڑا اتنا خوبصورت اور شوخ نہیں اور مہنگا بھی زیادہ ہے. آپ چیک کرتے ہیں تو اسکا معیار بہت اعلیٰ ہے. یہ سالوں چلنے والا جوتا ہے.

    اب کچھ لوگ وقتی خوشی اور دوسروں کو متاثر کرنے کیلئے وہ سستا خوبصورت جوڑا اٹھا لیں گے تو کچھ زیادہ طویل استعمال کیلئے وہ مہنگا جوتا اٹھا لیں گے. سستے جوتے والا کچھ مہینے بعد موچی کے پاس کھڑا ہوگا تو اگلے مہینے دوبارہ جوتا خریدنے کیلئے. معیار پر مہنگا لینے والا جبکہ کئی سال کیلئے بے فکر ہوگیا.

    ہماری یہ چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاریاں ہوتی ہیں جو ہم معیار دیکھ کر مارکیٹ سے زیادہ ریٹ پر اٹھا لیتے ہیں لیکن یہ آنے والے وقت میں ہماری بچت بن جاتی ہے. ہماری یہی بچت ہمیں نئی سرمایہ کاری کا موقع دیتی ہے اور ہماری معیار کی تلاش اور اس معیار کیلئے زیادہ ادائیگی کا حوصلہ جمع ہوکر ہمیں سرمایہ کار بناتا ہے.

    جو لوگ اپنی چھوٹی خریداری میں سرمایہ کاری نہیں سیکھ پاتے وہی لوگ بڑے بڑے منصوبے بناتے دل کی وقتی خوشی کا ساماں کرتے رہتے ہیں.

  • ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی دلچسپیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ویسے بھی عمر کے ہر مرحلے میں انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ نوجوانی انسانی عمر کا جوشیلا عرصہ ہے ۔ ذرا ذرا سی بات پر بڑھک جانا ، بھر جانا ، مار دینا ، مرجانا اس عمر کی خصوصیات کے طور پر اکثریت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

    نوجوان گرم خون میں اسلحے کی نمائش کرتے ہیں ، اسلحہ بڑے شوق سے خریدتے ہیں پھر اس اسلحے کے استعمال کا کیڑا بھی ستاتا رہتا ہے اور وہ ہوائی فائر کرکے من کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خاندان میں نوجوانوں کا گروہ متحرک ہوتا ہے اور ہر وقت لڑائی پر آمادہ رہتا ہے اس غرض سے انہوں نے سپیشل ڈنڈے ، سوٹے ، سنگل ، نیزے ، چھرے اور طرح طرح کے خونی و باردونی ہتھیار جمع کیے ہوتے ہیں ۔

    لڑائی و مخاصمے کی فطرت ان میں اتنی شدید ہوتی ہے کہ ملکی قوانین نہ صرف بے اثر ہوجاتے ہیں بلکہ بے بس بھی ہوجاتے ہیں ۔

    انسانیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فطرت کو دبانے کی بجائے فطرت کے اظہار کے جائز اسباب مہیا ہونے چاہئیں ۔ مثلا شہوانی جذبات ہیں تو زنا کا راستہ بند کرنے کے ساتھ شادی کو آسان بناو ۔

    دنیا سے الگ تھلگ ہونے کے جذبات ہیں تو راہبانہ زندگی پر انسداد کی مہر لگانے کے ساتھ زہد و تقوی کا راستہ دکھایا جائے ۔ اسی طرح مخاصمہ و لڑائی کے جذبات جوانی میں سکون سے نہ بیٹھنے دیں تو اس کا حل یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو سمت دکھاو ۔ ان کو بتاو کہ آپس میں جن بھائیوں پر تم اپنی بدمعاشی جھاڑ رہے ہو یہ اصل مقام نہیں ہے ۔

    بلکہ اصل مقام یہ ہے کہ ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اپنی جھگڑالو فطرت کی تسکین کرو ۔ اعلائے کلمہ اللہ کے راستوں کی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں اپنا بڑھک پن دکھاو ۔ دین کی سر بلندی کے لیے اس اسلحہ و ہتھیار کی نمائش کرو ۔

    یہی دین اسلام نے راستہ بتایا ہے ۔ اور دین اسلام کی یہی تو خاصیت ہے کہ فطرت والا دین ہونے کے باعث یہ فطرت کو دباتا نہیں بلکہ فطرت کے اظہار کی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

  • اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    سیلاب کے لگائے گئے زخم ابھی تک نہیں بھرے ۔ لیکن وطن عزیز کے درمند مرہم خوب لگا رہے ہیں ۔ کچھ احباب کی جانب سے یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ کافی گھروں کی تقسیم مکمل ہوچکی ہے لیکن کام ابھی بھی جاری ہے ۔ خاکسار کے چند سوال ہیں جو صرف درمندوں کو ہی چبھے گے اور فکر پیدا کریں گے ۔

    یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے یہی اثرات اگر اگلے سالوں میں سیلاب کی صورت رونما ہوتے ہیں تو کیا یہ گھر محفوظ رہیں گے ؟

    اگر نہیں تو یہ تخریب و تعمیر کا سلسلہ آخر کب تلک ہے ؟

    ماہرین کی جانب سے ریڈ زون میں تعمیر کیے گئے گھروں کی قانونی و شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟

    اگر ماہرین کسی علاقے کو خطرناک کہہ کر تعمیری کام سے روک رہے ہیں تو کیا وہاں پر تعمیر کرنا سمجھداری ہے ؟

    لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ مجھ سے بھی counter سوال پوچھے جاسکتے ہیں کہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟

    میں کہوں گا کہ حکومت وقت ڈیم بنائے اور تخریبی پانی کو تعمیری پانی میں بدلے ۔۔۔۔

    آپ مجھ پر ہنسے گے کہ حکومت ؟؟؟؟۔

    یقینا اس نکتے پر میں بھی لاجواب ہوجاوں گا کہ وطن عزیز کو آج تلک جو بھی حکومت میسر آئی وہ تو بانجھ ہی رہی اور ہے ۔۔۔۔ کتنے ہی ماہرین ہیں جو ایسی تجاویز دے رہے ہیں جن سے ان آفات کی تباہیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو ۔

    بیرون ممالک سے آئی ہوئی امداد کا کچھ پتہ نہیں ۔ حاکم وقت ان کو ظاہر کرکے معاملات واضح کیوں نہیں کرتا ۔؟

    کیا مخمصہ ہے ۔۔۔ کیا بے بسی ہے ۔۔۔ وطن عزیز کو خدا اپنی رحمت کے حصار میں لے ۔۔۔ کیونکہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا اللہ ہوتا ہے ۔

  • احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خان بغداد پہ حملہ آور ہوتا ہے اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اسے تاخت و تاراج اور تہس نہس کر دیتا ہے۔ہر طرف تباہی و بربادی دکھائی دیتی ہے۔

    شہر کو تباہ و برباد کرنے کے بعد وہ اپنا دربار منعقد کرتا ہے۔اس کا رعب و دبدبہ عروج پر ہے۔کیوں نہ ہو ؟ اسلئے کہ وہ فاتح ہے۔وقت کا حاکم ہے اور حاکم بھی وہ جو سفاکیت اور بربریت کی ایک زندہ تصویر ہے۔ایسے میں اس کے سامنے مسلمانوں کے خلیفہ "معتصم” کو لایا جاتا ہے جو سر تا پا زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔محکوم خلیفہ اپنے حاکم کے سامنے حسرت و یاس کی تصویر بن کر موجود ہے۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ہلاکو کے سامنے سادہ کھانا رکھا جاتا ہے اور معتصم کے سامنے ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے بھرے ہوۓ طشت رکھ دئیے جاتے ہیں۔ہلاکو زنجیروں میں جکڑے معزول خلیفہ کو کھانا شروع کرنے کیلئے کہتا ہے۔معتصم حیران ہو کر ہلاکو کی طرف دیکھتا ہے۔ہلاکو کڑک دار آواز میں اسے کہتا ہے:-

    ” کھاؤ، پیٹ بھر کر کھاؤ، جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ "بغداد کا خلیفہ اور مسلمانوں کا تاجدار بے بسی و بےچارگی کی تصویر بنا کھڑا ہے اور کہتا ہے ” میں یہ کیسے کھاؤں یہ کوئی کھانے کی چیز ہے” ہلاکو فورا” کہتا ہے کہ اگر یہ کھانے کی چیز نہیں ہے تو تو نے یہ سونا اور چاندی ہیرے اور جواہرات جمع کیوں کئے۔افسوس اس بات پر کہ وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے گھوڑے پالنے اور جہاد کی تیاری کا حکم دیتا ہے ان کا خلیفہ اس کی بات کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ہلاکو کے سوال ایک تازیانہ بن کر اس پہ برس رہے تھے لیکن معتصم بس ایک ہی جواب دے سکا اور وہ یہ کہ ” اللہ کی یہی مرضی تھی” ہلاکو اسے کہتا ہے کہ "اب تمہارے ساتھ جو گا یہ بھی اسی اللہ ہی کی مرضی ہو گی۔
    ہلاکو خان نے معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندنے کا حکم دیا اور چشم فلک نے دیکھا کہ ظلم و بربریت کے دلدادہ اس شخص نے بغداد کو مسلمانوں کیلئے قبرستان بنا دیا ۔ہلاکو نے کہا ” آج میں نے بغداد کو ‏صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور آج کے بعد دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکے گی اور ایسا ہی ہوا۔سقوط بغداد سے لیکر آج تک اس شہر کو وہ پہلے جیسی حیثیت دوبارا نہ مل سکی لیکن مسلمان قوم نے اس پر بھی کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ ان اندوہناک گھڑیوں میں بھی اس وقت کے مسلمان علماء اور وارثان محراب و منبر پورے کروفر اور جبہ و دستار کے ساتھ بغداد کی مسجدوں اور گلیوں میں اس بات پر مناظرے کر رہے تھے کہ "کوا حلال ہے یا حرام ہے”

    ہم اہنے برصغیر کی بات کریں تو ذرا تصور کریں کہ جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں کا ایک بادشاہ شاہجہاں اپنی دولت و ثروت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں دنیا کا عجوبہ تاج محل تعمیر کروا رہا تھا لیکن دوسری طرف اس کے مقابلے میں برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے ڈلیوری کی حالت میں وفات پا جانے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل اسکول کی بنیادیں رکھ رہا تھا اس دور میں ہمارے یہاں بادشاہوں کے درباروں میں گوئیے اور بھانڈ قبضہ کئے ہوۓ تھے۔ خوبصورت اور نازک اندام رقاصاؤں سے دل بہلاۓ جا رہے تھے اور مسخرے بادشاہ سلامت کی دلجوئی و تفنن طبع کیلئے ہمہ وقت موجود تھے تو اس وقت یورپ میں بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور درسگاہیں بنائی جارہی تھیں۔ادھر ہمارے ارباب بست و کشاد شراب و کباب و شراب سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ادھر یورپ میں بحری بیڑے تیار کئے جا رہے تھے۔

    ادھر رقص و سرود کی محفلیں برپا تھیں جہاں تان سین اور دوسرے گلوکار اپنی تانیں بکھیر رہے تھے تو ادھر یورپ میں علوم و فنون کے سوتے پھوٹ رہے تھے اور نت نئی ایجادات ہو رہی تھیں۔ادھر عیاشی و فحاشی کا دور دورہ تھا تو ادھر صلیب کے رکھوالے پوری دنیا کو زیر دام لانے کے لئے منصوبے بنا رہے تھے۔سلطنت برطانیہ میں سورج کا غروب نہ ہونا اس کی واضح مثال ہے۔مسلمان بادشاہوں کی عیاشیوں کے ضمن میں صرف ایک مثال محمد شاہ رنگیلا کی دینا چاہوں گا۔ محمد شاہ رنگیلا کے شب و روز کا معمول یہ تھا کہ صبح کے وقت وہ درشن کیلئے جھروکے میں جا کر بیٹھ جاتا ۔ کوئی سوالی آ جاتا تو اس کی داد و فریاد سن لیتا نہ آتا تو بٹیروں اور ہاتھیوں کی لڑائیوں سے دل بہلاتا رہتا ۔ سہ پہر کے وقت بازی گروں نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے لطف اندوز ہوتا جبکہ اس کی شامیں رقص و موسیقی کی محفلوں میں گزرتیں اور راتیں حسین و جمیل دوشیزاؤں اور حرم میں موجود لونڈیوں سے داد عیش دیتے ہوۓ بیت جاتیں۔بادشاہ کو ایک اور شوق بھی تھا۔ وہ اکثر زنانہ لباس پہننا پسند کرتے تھے اور ریشمی پشواز زیبِ تن فرما کر دربار میں تشریف لاتے تھے، اس وقت ان کے پاؤں میں موتیوں جڑے جوتے ہوا کرتے تھے۔”محمد شاہ رنگیلا کتنا رنگیلا” نامی کتاب اس کی ان داستانوں سے بھری پڑی ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس نے غصے میں آکر اپنی پسندیدہ گائیکہ کو اپنا پہنا ہوا جوتا دے مارا اور وہ جوتا اس سے واپس نہیں لیا۔یہ جوتا اپنی قیمت کے اعتبار سے اس عورت کی سات نسلوں کیلئے کافی تھا۔

    قارئین دوسری طرف یہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔اسے اس بات سے کچھ غرض نہیں ہوتی کہ بادشاہ کے پاس دولت تھی یا نہیں تھی۔اس کے دربار میں خوشامدی مراثی طبلہ نواز بھانڈ اور جی حضورئیے موجود تھے یا نہیں تھے بلکہ تاریخ صرف اور صرف اس کی حاصل کی گئی کامیابیاں دیکھتی ہے وہ اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں دیکھتی اور نہ ہی کوئی اور عذر قبول کرتی ہے۔ لیکن ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم وہی پریکٹس اب بھی جاری رکھے ہوۓ ہیں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اصل میں علم و ہنر سے دوری ہی ہمارے زوال کا اہم سبب ہے۔ آج ہم علم و ہنر سے محرومی ہی کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں ۔ کل جب قدرت نے عروج اور ترقی کا تاج ہمارے سروں پر رکھا تھا تو ہم اسے مضبوطی سے تھام نہ سکے ۔ ہم علم و ہنر کے فروغ سے روگردانی کے مرتکب ہوئے تھے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں رکھ سکے تھے، جس کے بل بوتے پر ہم اپنے لیے دوبارہ ترقی کی عمارت تعمیر کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ہم آخری مرتبہ گرے ہیں تو اب تک نہیں سنبھل سکے۔اقبال نے کیاخوب کہا تھا :-

    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریا سے زمیں پہ آسماں نے ہم کو دے مارا

    حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی قوم جب اخلاقی برائیوں میں گھر جاتی ہے اور حرام کاری، زنا کاری، اور برے کاموں کی حدوں کو پار کرلیتی ہے تو اللہ رب العالمین اس پہ اسی جیسے حکمران مقرر کر دیتا ہے اور  دوسری اقوام کو ان پر مسلط کردیتا ہے، اگر وہ ایک سلجھی ہوئی اور سمجھدار قوم ہے تو ڈوبنے کے بعد دوبارہ ابھرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اگر اس کے اندر اپنا محاسبہ کرنے خود کو سدھارنے اور حالات سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی تو پھر وہ تاریخ کے صفحات میں گم ہوجاتی ہے اور ایک قصہ پارینہ بن کے رہ جاتی ہے۔ہمیں اب اس بات پہ غور کرنا ہے کہ اگرہم بطور مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ خیر امت ہی رہیں تو انہیں اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ دین کا خوگر بنانا ہوگا، انہیں صحیح غلط کا فرق سمجھانا ہوگا،انہیں اچھے اور برے کی تمیز سکھانا ہوگی۔ انہیں حلال و حرام کی تمیز سکھانی ہو گی، انہیں اخلاق کی اعلی قدروں پہ فائز کرنا ہوگا، تبھی جا کے حقیقی کامیابی نصیب ہو پائے گی، ورنہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پہ گھیرا تنگ ہوتا جائے گا اور اخیر میں سر پٹک پٹک کے دعائیں مانگنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ہم یونہی دنیا میں ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔کبھی بے ایمانی کی بنیاد ہر۔کبھی بد عنوانی کی بنیاد پر اور کبھی اخلاقی بنیاد پر اور پھر سانحہ بغداد جیسا کوئی ہمارے تعاقب میں ہوگا۔

  • زندگی اونچ نیچ کا نام — ریاض علی خٹک

    زندگی اونچ نیچ کا نام — ریاض علی خٹک

    چار انجن کا دیو ہیکل جہاز جب پر پھیلائے رن وے پر کھڑا ہو تو بہت خوبصورت لگتا ہے. رن وے پر جب دوڑنے لگتا ہے تو اس کے حسن میں رعب و دبدبے کی گرج بھی شامل ہو جاتی ہے اور جب یہ زمین چھوڑ کر فضا کیلئے پرواز بھرتا ہے تو دیکھنے والوں کو وہ طمانیت ملتی ہے جو ان کو ایک تسلی دیتی ہے کہ یہ دیوہیکل آہنی پنجرہ اگر بلندی پرواز کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں.؟

    اسی جہاز کے کاک پیٹ میں بیٹھا پائلٹ لیکن یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا ہوتا. اُس کی نظریں اپنی مشین کی گھڑیوں پر ہوتی ہے کہاں اسے وہ رفتار ملے گی جب وہ v1 بول کر پرواز کیلئے انجن روٹیٹ کرے گا. جہاز جیسے ہی زمین چھوڑتا ہے پائلٹ کنٹرول ٹاور کو بتاتا ہے گئیر اپ. یعنی میں نے اپنے پہئے اٹھا لئے ہیں اب آگے ایک منزل ہے.

    لیکن یہ جہاز جب زمین پر اترتا ہے تب کنٹرول ٹاور اسے بتارہا ہوتا ہے تم کتنا نیچے آگئے ہو. پانچ سو فٹ چار سو فٹ یہاں تک کے سو فٹ کے بعد دس دس فٹ کے فرق سے بتا رہا ہوتا اور پھر ٹچ ڈاون ہو جاتا ہے. آپ کی زندگی کی فلائٹ بھی ایسی ہوتی ہے. عروج دیکھنے والوں کو بڑا مسحور کرتا ہے. آپ کو ضرورت ہی نہیں ہوتی باہر کون کیا کہہ رہا ہے کیا دیکھ رہا ہے.

    لیکن زندگی اونچ نیچ کا نام ہے. کسی ایک منزل سے عروج تو دوسری پر اترنا بھی ہوتا ہے. تب باہر کی آوازیں سننا لازم ٹھرتا ہے. ہم کس مقام پر کتنا نیچے آگئے ہیں یہ دوسرے ہمیں بتا سکتے ہیں. پھر جو لوگ بلندی و مقام کے تکبر میں آنکھیں اور کان بند کر دیتے ہیں وہ دھڑام سے نیچے گرتے ہیں. یہ اپنے پیروں پر کھڑے ہی نہیں ہوپاتے.

    زمین زادوں کو زمین سے رابطہ رکھنا ہی ہوتا ہے. جن کے یہ رابطے ٹوٹ جاتے ہیں وہ یا تو شکستہ ڈھانچہ اہل زمین کا تماشا بن جاتے ہیں یا فضائے بسیط میں گم ہو جاتے ہیں.

  • علم اور عمل میں فرق —  ریاض علی خٹک

    علم اور عمل میں فرق — ریاض علی خٹک

    علم اور عمل میں فرق ہوتا ہے. جیسے آپ کا سامنا کسی چیتے سے ہوجائے تو ایک ہی عمل آپ کا دماغ آپ کو بتائے گا. دوڑ لگا کر جان بچاو. لیکن علم بتاتا ہے یہ ریس آپ کبھی جیت نہیں سکتے. کیونکہ انسان زمین پر پورا پاوں رکھتا ہے اور چلنے کیلئے پورا پاوں اٹھاتا ہے. جبکہ چیتا پیر کی انگلیاں کے بل دوڑتا ہے. آپ چیتے سے تیز دوڑ نہیں سکتے تو بہتر ہے بلکل خاموش کھڑے ہو جائیں. چیتا آپ کو اپنے لئے خطرہ سمجھ کر ممکن ہےچھوڑ دے.

    دوسری طرف آپ کھانا پکانے کی سیکڑوں کتابیں پڑھ کر دنیا کے مشہور شیف نہیں بن سکتے. آپ انجینئرنگ کی کتاب پڑھ کر اینٹوں سے سیدھی دیوار کھڑی نہیں کر سکتے. آپ بزنس ایڈمنسٹریشن کی کتابیں پڑھ کر کوئی کاروبار کھڑا نہیں کر سکتے. آپ کو عملی میدان میں عمل کو سیکھنا ہوتا ہے. شیف بننے کیلئے آپ کو باورچی خانہ میں وقت دینا ہوگا تو کاروبار کرنے کیلئے مارکیٹ میں نکلنا ہوگا.

    علم بنیادی طور پر اس مشین یعنی ہمارے جسم کی پروگرامنگ ہے جس کی ملکیت ہمیں اس دنیا میں دی گئی ہے. یہ پروگرام ہمارے شعور کو وقت اور حالات کے حساب سے اپ گریڈ رکھتا ہے. جتنا آپ کا شعور اپ گریڈ ہوگا اتنا ہی بہتر اس مشین کو استعمال کر سکیں گے. ایک کامیاب زندگی کیلئے آپ کو دونوں محاذوں پر پیش قدمی کرنی ہوتی ہے. اپنے عمل کے میدان کا جتنا زیادہ علم آپ کے پاس ہوگا اتنا ہی آپ کامیاب ہوں گے. کیونکہ آپ کو چیتے کی رفتار مل جائے گی.

  • سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بگ بینگ کوئی دھماکہ نہیں تھا کہ کسی نے پریشرککر میں بارود ڈال کر اُڑا دیا ہو بلکہ آج ہم سائنس میں جسے بگ بینگ کہتے ہیں یہ دراصل آج سے 13.8 ارب سال پہلے کا وہ واقعہ ہے جب کائنات وجود میں آئی اور تیزی سے ایک نقطے سے پھیلنے لگی۔ وقت اور خلا جسے سائنس میں سپیس ٹائم کہا جاتا ہے یہ بھی تب ہی وجود میں آئے۔ چونکہ وقت کی ابتدا بگ بینگ سے ہوتی ہے لہذاٰ یہ سوال کچھ عجیب ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یعنی وقت سے پہلے کیا تھا؟ ہمارا ذہن یہ سوال سمجھ نہیں پاتا۔

    اس بارے میں کئی سائنسی مفروضے ہیں(یاد رکھیں سائنس میں مفروضے اور تھیوری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مفروضے ثابت نہیں ہوئے ہوتے جبکے تھیوری کئی تجربات و مشاہدات سے ثابت شدہ ہوتی ہے)۔مثال کے طور پر ایک مفروضہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے وقت ہماری کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں بنی ہونگی جنہیں ہم ملٹی ورس کہتے ہیں۔ اور ممکن ہے وہاں فزکس کے قوانین ہماری کائنات سے مختلف ہوں۔۔یا یہ کہ بگ بینگ کسی پچھلی کائنات میں بلیک ہول ہو جو ہماری کائنات کا بیچ ہو یا شاید ہم کسی بلیک ہول میں رہنتے ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ فی الحال سائنسی مفروضے ہیں انکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کائنات میں شاید کسی پچھلی کائنات کی کوئی نشانیاں موجود ہوں جنہیں ہم مستقبل میں ڈھونڈ سکیں مگر فی الوقت سائنس اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جو بات سائنس حتمی طور پر کہہ سکتی ہے وہ یہ کہ کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ہوئی اور آج بھی کائنات پھیل رہی ہے۔ پھیلنے کو یوں سمجھیں کہ کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یعنی انکے بیچ میں موجود خلا مزید پھیل رہا ہے۔ جیمز ویب ٹیکیسکوپ بگ بینگ کے 10 کروڑ سال بعد کی کائنات دیکھ سکتی یے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں ہبل ٹیلی سکوپ بگ بینگ کے 40 کروڑ سال بعد کی کہکشائیں دکھا سکتی تھی۔

    مستقبل میں شاید ہم جیمز ویب سے کوئی ایسا کائناتی مشاہدہ کر سکیں جس سے ہمیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ ڈارک میٹر/انرجی چونکہ نظر نہیں آتے اور نہ ہی یہ عام مادے سے کوئی تال میل رکھتے ہے اسی لیے انہیں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہم انکا محض گریوٹیشنل اثر جانتے ہیں جو کائنات کے پھیلاؤ اور کہکشاؤں کی غیر معمولی گردش کو بیان کرتا ہے۔

    مگر 1971 میں سٹیفن ہاکنگ نے یہ خیال پیش کیا کہ ممکن ہے بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات میں بہت سا مادہ بلیک ہولز میں تبدیل ہو گیا ہو اور کائنات میں کئی بلیک ہولز چھپے ہوئے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ نہیں سکے۔ یہ ایک متنازع خیال ہے کیونکہ آج کے مشاہدوں میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بلیک ہول دراصل سورج سے کئی گنا ماس میں بڑے ستاروں کے انجام پر بنتے ہیں۔

    اسی طرح جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے ہم کئی اور نئے مشاہدے کر سکیں گے۔ ممکن ہے ہم دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے کئی سیاروں کی فضاؤں سے آنے والی مدہم سی روشنی کو اسکے حساس آلات سے پڑھ سکیں اور اس روشنی میں اُن گیسوں کے آثار ڈھونڈ سکیں جو کوئی ذہین مخلوق ہی بنا سکتی ہو مثال کہ طور پر صنعتی گیسز جو قدرت میں نہیں پائی جاتیں اور صرف انسان بنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ جان پائیں کی کائنات میں ہم اکیلے نہیں۔ زندگی ہم سے اربوں سال دور کسی اور زمین نما سیاروں پر موجود ہو۔

    یاد رکھیں کائنات انہی کو جواب دیتی ہے جو سوال کرتے ہیں۔ وہ جو یہ سوچ کے بیٹھے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے، اندھیرے میں ہیں۔