Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہیلتھ کئیر کمیشن سے ایک گزارش :محمد نورالہدیٰ

    ہیلتھ کئیر کمیشن سے ایک گزارش :محمد نورالہدیٰ

    دانتوں کا علاج ایک مہنگا ترین علاج ہے۔ دانت کا معمولی سا مسئلہ بھی کم خرچ میں حل ہو جائے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کم وسائل کا حامل فرد دانت کے علاج کا صرف سوچ ہی سکتا ہے۔ بالخصوص اس میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق دانتوں کا علاج کرنا بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بیشتر ہسپتالوں اور بالخصوص کلینکس پر اس امر کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ ایسے میں جو ہسپتال کم آمدن والے افراد کا خیال کرتے ہوئے دانتوں کے علاج کی سہولت دیتے ہیں، یقینا قابل قدر ہیں۔
    گذشتہ دنوں میری ننکانہ سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور علی رضا سے ملاقات ہوئی۔ دیگر امور کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بات ہوئی تو بتانے لگا کہ اس نے ایک ایسا ہسپتال ”دریافت“ کیا ہے جہاں اس جیسے غرباء کا دانتوں کا مفت یا انتہائی سستے داموں علاج ہوتا ہے۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ اسے بڑے عرصہ سے دانتوں کا مرض لاحق تھا۔ یہ مرض بڑھتا جا رہا تھا اور وہ چیک کروانے سے صرف اس لئے ڈرتا تھا کہ جانتا تھا دانتوں کا علاج بہت مہنگا ہے اور اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ اس پر خرچ کر سکے۔ پھر اس کے علاقے میں سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک میڈیکل ڈینٹل کیمپ لگایا گیا۔ معلوم ہوا دانتوں کا فری چیک اپ کریں گے۔ اس نے خوشی خوشی اس کیمپ سے استفادہ کیا جہاں سے کچھ مسافت پر قائم سرور فاؤنڈیشن ہسپتال ریفر کر دیا گیا، اس کا مفت علاج ہوا، اور آج وہ اس مرض سے شفا پا چکا ہے۔

    میں نے سرور فاؤنڈیشن کے صحت کے اس پراجیکٹس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان ہسپتالوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران دانتوں کے 12 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔ جبکہ 1400 کے قریب مریض ایسے ہیں جنہیں اس علاج پر خصوصی سبسڈی دی گئی۔ گذشتہ ایک سال میں مذکورہ طرز کے کم و بیش 37 میڈیکل کیمپس مختلف اضلاع میں لگائے گئے جن میں دانتوں کے ابتدائی علاج اور بعد ازاں سرور فاؤنڈیشن ہسپتال ریفر کرنے کے بعد مفت یا سبسڈائز بنیادوں پر علاج کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ مجموعی طور پر 26 ہزار کے قریب مریضوں نے ان میڈیکل کیمپس سے استفادہ کیا۔ استفادہ کرنے والے مریضوں کو سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے فلورائیڈ تھراپی اور مفت لیبارٹری ٹیسٹوں سمیت ادویات بھی بلامعاوضہ فراہم کی گئیں، جبکہ ٹیڑھے دانتوں کے حامل بچوں کو بریسز (Braces) لگا کر ان کا مکمل علاج کیا گیا۔
    قابل ذکر امر یہ ہے کہ جن علاقوں میں سرور فاؤنڈیشن نے ہسپتال قائم کئے ہیں، وہاں کوئی دندان ساز تو دور کی بات، دانتوں کا علاج ہی میسر نہیں۔ جہاں کوئی تھوڑی بہت سہولت ہے بھی، وہاں ماہر ڈاکٹر اور مطلوبہ آلات ناپید ہیں۔ اگر موجود بھی ہیں تو ہائی جینک اصولوں کا خیال رکھ کر استعمال نہیں کئے جاتے۔ دوسری جانب مریض کو اس حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی کہ کون سا انسٹرومنٹ کس حالت میں اسے لگایا جا رہا ہے۔ آپ نے مختلف بیماریوں سے آگاہی کے بہت سے میڈیکل کیمپ لگے دیکھے ہوں گے، لیکن دانتوں کے حوالے سے میڈیکل کیمپ ڈھونڈنے پر بھی مشکل سے ہی ملیں گے۔ یہ اعزاز کم ہی لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔ سرور فاؤنڈیشن نے میڈیکل کیمپس کے ذریعے لوگوں کو اورل ہیلتھ بارے آگاہ کیا کہ افراد جب تک اورل ہائی جین نہیں ہوں گے، کینسر اور ہارٹ اٹیک جیسی بیماریاں انہیں گھیرتی رہیں گی …… اسی طرح اپنے سکولوں میں بھی بچوں کو دانتوں کی احتیاط بارے آگاہی دی جا رہی ہے۔

    ہمارے ارد گرد کئی علی رضا موجود ہیں، جنہیں علاج کی ضرورت ہے مگر آگاہی کے فقدان اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس حق سے محروم ہیں۔ انہیں مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ طرز کے مفت میڈیکل کیمپوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد اور ہسپتالوں میں بالخصوص کم وسیلہ طبقے کا خیال رکھتے ہوئے علاج کی مناسب سہولت دینا از حد ضروری ہے …… یہ امر بھی ضروری ہے کہ ہیلتھ کئیر کمیشن ہسپتالوں اور کلینکس کے بے لگام نرخوں پر توجہ دے اور مفاد عامہ میں مناسب نرخ متعین کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالے۔ طبی مراکز اور متعلقہ ادارے ان بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہوں گے تو علی رضا جیسے، محدود آمدنی والے کئی افراد، جو ہوش ربا اخراجات کے ڈر سے علاج کروانے سے ڈرتے ہیں، وہ بھی بے فکر ہو کر، یہ حق استعمال کر کے صحت مند زندگی کی جانب لوٹ سکیں گے۔

  • عمران خان کی سیاسی آمریت

    عمران خان کی سیاسی آمریت

    عمران خان سیاستدان بن گئے، جمہوریت کا دعویدار لیکن سیاسی آمر سے کم نہیں، حکومت ملی تو پاکستان کی اپوزیشن سب سے بڑا مسئلہ تھی جو اب حکومت میں آ چکی

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ایک ہی روز میں 33 بل منظور کروانا،اور اپوزیشن کو مکمل نظر انداز کرنا یہ عمران خان کی سیاسی آمریت کی ہی نشانی ہے

    سب خواب چکنا چور تب ہوئے جب اسوقت کی اپوزیشن نے حکومت میں آتے ہی عمران خان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ای وی ایم سمیت اہم بل کی ترامیم واپس لے لیں

    عمران خان وزیراعظم بنے تو اقتدار میں آ کر انہوں نے اپوزیشن کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا، پاکستان کی معیشت کی تباہی انہیں نظر نہ آئی البتہ بڑے بڑے دعوے کر کے اقتدار میں آ کر ان پر زیرو فیصد عمل کیا اور یہی وجہ انکے اقتدار سے نکالے جانے کی بنی، کیونکہ عمران خان جو بولتے ہیں وہ کرتے نہیں، اور جو کرتے ہیں وہ بولتے ہیں، اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کے دعوے اور وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد اس پر عمل میں آسمان زمین کا فرق ہے،وہ عمران خان جو حکومت میں آنے سے پہلے بات کرتا تھا کرسی ملتے یکدم ہی اسکے عمل میں تبدیلی آ گئی، ریاست مدینہ کا نام لے کر من مانی کی گئی، کرپشن کے ریکارڈ بنائے گئے، دھوکہ دہی کی گئی اور بار بار نام ریاست مدینہ کا ہی لیا گیا

    عمران خان حکومت میں رہتے ہوئے اپنی پسند کی قانون سازی کرتے رہے اور کرواتے رہے، اپوزیشن پر الزامات، گرفتاریاں،جیلوں میں ڈالنا، پھر طیبہ کے ذریعے چیئرمین نیب کو بلیک میل کر کے اپوزیشن پر بے جا مقدمات بنوانا، فرح گوگی کے ذریعے کرپشن یہ کپتان کے محبوب مشغلے رہے، کپتان کی خواہش تھی کہ اپوزیشن کسی نہ کسی طرح جیلوں میں ہی رہے اور وہ اپنی مرضی کی قانون سازی کرتے رہیں اور انہوں نے کی بھی سہی ،پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اپوزیشن کی غیر موجودگی میں یا انکی مشاورت کے بغیر بل پاس کروائے گئے تو کبھی مرضی کے‌صدارتی آرڈیننس لائے گئے لیکن عمران خان شاید یہ بھول گئے تھے کہ سدا اقتدار انکا نہیں بلکہ حکومت نے جانا بھی ہے اور رخصتی کے بعد انکی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کو بلڈوز بھی کیا جا سکتا ہے

    17 نومبر 2021 وہ دن ہے جب عمران خان کی حکومت نے ایک دو نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 33 بل پاس کروائے، اپوزیشن احتجاج کرتی رہی لیکن عمران خان جو ہمیشہ اپنی ہی کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اپوزیشن کی خواہشات کے برعکس ایک ہی روز میں 33 بل پاس کروا کر ایک ریکارڈ بنایا ، اس قانون سازی کے لئے ایم کیو ایم نے حکومت کو بلیک میل بھی کیا تھا اور بعد میں پھر ایم کیو ایم عدم اعتماد کے وقت ساتھ بھی چھوڑ گئی تھی،33 بل جو پاس کئے گئے تھے ان میں سے ای وی ایم کا بل سے زیادہ اہم تھا اور تحریک انصاف اسکو بڑی کامیابی سمجھ رہی تھی،۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بھی ایوان میں موجود تھے ، انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت میں تقریر کی ۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی اصول و ضوابط 1973 سے متعلق سیکشن 10 اسپیکر قومی اسمبلی کو پڑھ کر سنادیا کہا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اگر کوئی قانون منظور کروانا ہو تو اس کیلئے 222 ووٹ کی ضرورت ہے ورنہ وہ قانون منظور نہیں ہوتا تا ہم اسوقت کے سپیکر نے انکی نہ سنی اور بل پاس کرتے گئے

    عمران خان کیخلاف عدم اعتماد آئی، کامیاب ہوئی اور عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے اسکے بعد شہباز شریف وزیراعظم بنے، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان حکومت کے اتحادی بنے، ایم کیو ایم بھی دوبارہ اتحادی حکومت کا حصہ بن گئی،ایسے میں عمران خان نے جو بل ای وی ایم کے حوالہ سے پاس کیا تھا موجودہ حکومت نے اس میں ترمیم کر لی اور اب الیکشن ای وی ایم پر نہیں ہوں گے کیونکہ الیکشن کمیشن کو بھی ای وی ایم پر تحفظات تھے،26 مئی کو رواں برس ہونے والے اجلاس میں ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم ہوئیں، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اسمبلی میں سب کو مبارکباد دی، تحریک انصاف تو اسمبلی میں موجود ہی نہیں کیونکہ انہوں نے استعفوں کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے اور تنخواہیں پھر بھی لے رہے ہیں، ای وی ایم کے بارے میں کہا جا رہا ہےکہ جن ممالک نے ای وی ایم کا استعمال کیا وہ بھی اسکو روک چکے ہیں، کیونکہ ای وی ایم سے شفاف ووٹنگ کسی صورت نہیں ہو سکتی، ای وی ایم سسٹم کو ہیک کیا جا سکتا ہے اور کچھ بھی نتائج آخر میں دیئے جا سکتے ہیں

    تحریر:ریحانہ

  • ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں، ازقلم:  غنی محمود قصوری

    ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں، ازقلم: غنی محمود قصوری

    ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں بعد میرے بچپن کے ایک دوست کی کال آئی مجھے اس کی کال آنے کی بہت بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ ایک انتہائی نفیس اور درد دل رکھنے والا شحض ہے سلام دعا کے بعد دریافتگی حال احوال کہنے لگا یار نئی نسل تو بلکل برباد ہو رہی ہےکوئی حالات ہی نہیں رہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے پتہ نہیں کیا ہو گا-

    میں نے پوچھا کیسے اور کیا ہوا ہے ؟-

    کہنے لگا ہر چوک چوراہے میں مانگنے والی عورتیں موجود ہیں جو لوگوں سے پیسے مانگتی ہیں اور ساتھ موقع ملنے پہ نوجوانوں کی ہوس کی تسکین بھی بنتی ہیں میں نےاسکی بات سنتے ہی کہاارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں ہماری ہی کمیوں کوتاہیوں کےباعث وہ عورتیں آج سڑک پہ ہیں

    وہ تعجب سے کہنے لگا یار ہمارا کیا قصور؟ میں نے کہا جناب ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی مرضی کا رخ ہی نظر آتا ہے
    میں اسے بتانے لگا کہ مجھے معلوم ہے ان عورتوں میں بہت سی جوان خوبرو دوشیزائیں بھی ہیں اور بوڑھی بھی کچھ تو انتہائی کھاتے پیتے گھرانے کی بھی لگتی ہیں مجھے یہ بھی معلوم ہیں کہ ان میں بیشتر مجبور عورتیں ہیں تو کچھ شارٹ کٹ مالی حصول کی خاطر بغیر محنت کئے بھیک مانگنے والیاں بھی-

    مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان میں سے چند ایک اپنے حسن و جمال کو ڈھال بنا کر جسم فروشی کرتی ہونگی مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے باقاعدہ گینگ ہونگے اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ سے اوپر تک ان کی پہنچ ہو گی سب باتیں درست ہیں مگر کیا ہم نے کبھی ان سے ان کے دکھ درد جانے؟ کیا ہم نے کبھی کوئی کوشش کی ان کی داستان سننے کی کہ بی بی،بہن،محترمہ آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟ گھر میں کوئی کمانے والا مرد نہیں یا پھر مالی حالات زیادہ برے ہوگئے کہ آپ کو اپنا گھر چھوڑ کر سڑک پہ آنا پڑا؟ مختلف سوالات ہیں جن کے جوابات بھی مختلف ہونگے-

    میں دوبارہ اس سے گویا ہوا کہ یار دیکھو جس طرح یہ کئی طرز کی ہیں اسی طرح ہم بھی کئی طرز کے ہیں کچھ ہم میں سے کھاتے پیتے گھرانوں سے ہیں تو گزر بسر واجبی والے ہیں کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ایسا تو نہیں کہ ان میں سے وہ عورتیں بھی ہو کہ جو رسم و رواج اور جہیز کی بھینٹ چڑھنے کے باعث بالوں میں چاندی لئے پھرتی سڑک پہ آ گئی ہو؟

    کیا ایسا نہیں کہ بڑی بہن کی شادی ذات،پات،رسم و رواج کے باعث نا ہو سکی اور اس نے اسی دکھ میں خودکشی کر لی اب بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننے کی خاطر یہ سڑک پہ ہے ؟

    ہو سکتا ہے ان کا باپ،بھائی کماتا تو ہو مگر شدید مہنگائی کے باعث ان کے گھر کا گزارہ نا ہوتا ہو اور اسی محلے کے لوگ ان کو ایک کماؤ گھرانے سے جان کر اپنے صدقے خیرات محلے سے باہر کسی اور کو دینے لگ گئے ہو حالانکہ اسلام نے سب سے پہلا حق اپنوں و محلہ داروں کا رکھا ہے-

    یہ بھی ہو سکتا ہے کسی دل پھینک عاشق نے سبز باغ دکھائے ہو اور وہ نکاح کی خاطر اس کیساتھ بھاگ کھڑی ہوئی ہو اور اس کی ہوس کی تسکین بن کر اب ٹشو پیپر کی طرح ناکارہ ہو گئی ہے اور گھر واپس اس لئے نہیں جا رہی کہ اب اس کے ورثاء اسے قتل کر دیں گے
    کہیں ایسا تو نہیں کسی سنگدل باپ نے اس کی ماں کو بیٹا پیدا نا کرنے پہ چھوڑ دیا ہو اور اب یہ اپنی بوڑھی بے سہارہ ماں کی سانسوں کو بحال رکھنے کی خاطر بھیک مانگ رہی ہو کیونکہ اکثر و بیشتر مردوں کو ہی محنت مشقت کے کاموں پہ رکھا جاتا ہے تاکہ اجرت کے باعث کام پورا ملے-

    خیر اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں تو ہم دونوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر یہ عورتیں آج سڑک پہ بھیک مانگنے کیساتھ خدانخواستہ کسی کی جنسی ہوس کا نشانہ پیسوں کے عیوض بن رہی ہیں تو واللہ ہم بھی مجرم ہیں-

    ہمیں چائیے اپنے صدقے خیرات دیتے وقت ان کمزور گھرانوں کو دیکھیں کیونکہ جس طرح مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینا ثواب ہے بلکل اسی طرح بھوکے کو کھانا کھلانا اس کی ضروریات زندگی پوری کرنا بھی ثواب ہے-

    ہم رشتہ طے کرتے وقت اگر جہیز کو بائیکاٹ کریں اور خوبصورتی کی بجائے خوب سیرتی ،مال کی بجائے اعمال کو ترجیح دیں تو اللہ گواہ کتنے ہی غریب گھرانوں کی سڑک پہ مانگتی عفت مآب عورتیں آج اپنے گھروں میں ہوتیں بسا اوقات ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ جی یہ تو صحت مند ہیں کما سکتی ہیں ان کو خیرات کیوں دیں؟ تو ارشاد باری تعالی بھی سن لیں-

    انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے ، تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا، سورة البقرة 272

    اس آیت کی رو سے ہم صدقہ دیں ساتھ ان کو دعوت دیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کریں کہ ان کی بحالی کے زیادہ سے زیادہ مراکز بنائے جائیں جہاں ان کو حق حلال کمانے کی ٹریننگ دے کر ہنر مند بنایا جائے تو ان شاءاللہ کبھی نا کبھی یہ سڑکوں کی بجائے ایک کماؤ فرد بن کر ملک و ملت کا بوجھ بانٹ لیں گیں-

  • شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش

    شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش

    شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش
    ایک منفرد تاریخی ناول نگار و صحافی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کے منفرد تاریخی ناول نگار ،ادیب،صحافی، جنگی وقائع نگار، افسانہ نویس اور مدیر عنایت اللہ التمش یکم نومبر 1920 میں پوٹھوہار کے نواحی گاوں گوجر خان میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کر سکے جس کے بعد وہ انڈین آرمی میں بطور کلرک بھرتی ہو گئے مگر دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے باعث انہیں جنگی محاذوں پر برما بھیج دیا گیا جہاں وہ جنگ لڑتے ہوئے جاپانی فوج کے ہتھے چڑھ گئے انہیں جنگی قیدی بنا لیا گیا جہاں انہیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1944 میں جاپانی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد وہ ڈیڑھ سال تک جنگلوں ، جزائر اور بیابانوں میں بھٹکتے ہوئے بڑی مشکل سے اپنے محاذ پر واپس پہنچے وہاں پہنچنے پر انہیں ملیشیا بھیجا گیا اسی دوران ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ وہ 9 سال بعد 1948 میں اپنی سرزمین پوٹھوہار پاکستان آ گیا یہاں آنے کے بعد وہ پاکستان ایئر فورس میں بھرتی ہو گئے لیکن کچھ عرصہ بعد سرکاری ملازمت چھوڑ کر صحافت میں آ گئے ۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ سے کیا کچھ عرصہ بعد انہوں نے لاہور سے اپنا ماہنامہ حکایت کا اجراء کیا۔ سیارہ ڈائجسٹ میں انہوں نے ” خاص نمبر” نکالنے کی طرح ڈال دی جس کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے رسائل و جرائد اور اخبارات میں خاص نمبرز نکالنے کا سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے 1965 اور 1971 میں پاک بھارت جنگوں کے دوران محاذ پر جا کر جنگی صورت حال کا جائزہ لے کر آنکھوں دیکھا احوال ” بی آر بی بہتی رہے گی” لاہور کی دہلیز پر” اور ” بدر سے باٹاپور تک” کتابیں لکھ کر لازوال شہرت حاصل کی اس کے علاوہ انہوں نے * داستان ایمان فروشوں کی” اور شمشیر بے نیام” جیسے شہرہ آفاق ناول تحریر کیے۔ عنایت اللہ التمش نے مختلف موضوعات پر 100 سے کے لگ بھگ کتابیں لکھ کر خود کو ادب اور صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ وہ ایک منفرد قسم کے لکھاری تھے جنہوں نے مختلف موضوعات پر مختلف اور فرضی ناموں سے لکھا۔ انہوں نے میم الف، احمد یار خان، وقاص، محبوب عالم ، صابر حسین راجپوت اور گمنام خاتون کے ناموں سے بھی کئی کتابیں اور کہانیاں لکھیں۔ اردو ادب اور صحافت کے یہ منفرد کردار 16 نومبر 1999 میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

    عنایت اللہ التمش کی تصانیف

    تاریخی ناول/داستانیں

    حجاز کی آندھی
    شمشیرِ بے نیام (دو حصے)
    اور نیل بہتا رہا (دو حصے)
    دمشق کے قید خانے میں
    اور ایک بت شکن پیدا ہوا (پانچ حصے)
    داستان ایمان فروشوں کی (پانچ حصے)
    ستارہ جو ٹوٹ گیا
    فردوس ابلیس (دو حصے)
    اندلس کی ناگن
    امیر تیمور (ترجمہ)
    مجرم یا جنگ آزادی کے ہیرو
    شکاریات ترميم
    لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
    سانپ، سادھو اور نوجے کی کہانی
    پگلی کا پنجہ
    ایک لڑکی دو منگیتر
    بیٹا پاکستان کا بیٹی ساہو کار کی
    بھیڑیا، بدروح اور بیوی
    جذبات کا سیلاب
    لاش، لڑکی اور گف کے گناہگار
    قبر کا بھید

    نفسیات

    زندہ رہو جوان رہو
    جوانی کا روگ

    معاشرتی ناول/کہانیاں/چادر چاردیواری
    پاکستان ایک پیاز دو روٹیاں
    چھوٹی بہن کا پگلا بھائی
    چاردیواری کے دریچوں سے
    طاہرہ
    مردتو میں ہوں / میرا تیسرا خاوند
    میں بزدل تو نہیں/وہ مر گیا تم زندہ رہو
    پتن پتن کے پاپی
    الجھے راستے
    ہیرے کا جگر
    منزل اور مسافر(دو حصے)
    استانی اور ٹیکسی ڈرائیور
    پانچویں لڑکی
    کیا میں کسی کی بیٹی نہیں؟
    ایک کہانی (دو حصے)
    اکھیاں میٹ کے سپنا تکیا
    چاردیواری کی دنیا
    رات کا راہی (دو حصے)
    واجدہ، وینا اور وطن (دو حصے)
    ڈوب ڈوب کر ابھری نائو
    جرم، جنگ اور جذبات
    میں گناہگار تو نہیں
    پرچم اڑتا رہا
    پیاسی روحیں
    پیاسے
    سزا اس گناہ کی
    ایک آنکھ اور پاکستان
    دھندلی راہیں (دو حصے)
    تاریک اجالے
    جوانی کے جنگل میں

    جرم و سزا/سراغرسانی کی کہانیاں

    جب بہن کی چوڑیاں ٹوٹیں
    کالا برقع جل رہا تھا
    حوالات میں طلاق
    لائن پر لاش
    دوسری بیوی
    داستان ایک داماد کی
    روح کے رشتے اور مقتول کی بدروح
    دام میں صیاد آ گیا
    جب مجھے اغواء کیا گیا
    پیارکا پل صراط
    چور دروازہ
    ایک رات کی شادی
    رات کا راز
    تعویذ، انگلیاں اور انگوٹھی
    بھائی اور بھیڑیا
    سنگیتا، شراب اور سگریٹ
    بیٹی کی قربانی
    واردات اس رات کی
    چڑیا پھنس گئی
    جب پیار نے کروٹ لی
    جائداد کا وارث
    رتن کمار کی روپا
    آشرم سے اس بازار تک
    دلیر یا بیوقوف
    سندری کا سودا
    جھمکوں کی جوڑی
    کار، شلوار اور دوپٹہ
    بال ایک چڑیل کے
    جنّات کے دربار میں
    قاضی کی کوٹھڑی اور کنواری بیٹی
    بن بیاہی ماں
    سہاگ کا خون
    زلیخا کا جن
    عشق ایک چڑیل کا
    رات، ریل اور برقعے
    پیار کا پاپی

    جنگی کہانیاں/وقائع نگاری/ناول

    بی آر بی بہتی رہے گی
    بدر سے باٹا پور تک
    دو پلوں کی کہانی
    خاکی وردی لال لہو (دو حصے)
    فتح گڑھ سے فرار
    لاہور کی دہلیز پر
    پاک فضائیہ کی داستانِ شجاعت
    لہو جو ہم بہا کر آئے
    ہماری شکست کی کہانی

    طنز و مزاح

    ایوبی، غزنوی اور محمد بن قاسم پاکستان میں
    پھوپھی گام

  • بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ

    بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ

    بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ
    تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلدیاتی اداروں کا ماضی کبھی بھی تابناک نہیں رہا۔ جمہوری یا غیر جمہوری حکومیتں، ان سب ادوار میں بلدیاتی اداروں کیساتھ ہمیشہ سوتیلے پن کا سلوک کیا گیا۔ ماضی اور حال میں تمام وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی پالیسیوں اور برے رویوں سے نہ صرف مقامی حکومتوں کی تشکیل کی حوصلہ شکنی کی بلکہ ان مقامی حکومتوں کو چلانے میں بہت سی رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ کبھی صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی جنگ تو کبھی صوبائی حکومتوں کی جانب سے مقامی حکومتوں کو مالی وسائل فراہم نہ کیا جانا۔ جبکہ پاکستان کا آئین مقامی حکومتوں کے بارے میں واضح ہدایات و رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 32 کیمطابق ”ریاست(پاکستان) متعلقہ علاقوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل مقامی حکومتی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ایسے اداروں میں کسانوں، مزدوروں اور خواتین کو خصوصی نمائندگی دی جائے گی”۔ اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 A کے تحت ”ہر صوبہ، بذریعہ قانون، ایک مقامی حکومت قائم کرے گا۔ حکومتی نظام اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو سونپنا۔ اور مقامی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا”۔جبکہ موجودہ حالت زار یہ ہے کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی عوام مقامی حکومتوں سے عرصہ دراز سے محروم ہیں۔ آئین پاکستان میں درج واضح ہدایات و رہنمائی کے باوجود پاکستان کی جمہوری پارٹیوں / صوبائی حکومتوں کی جانب سے عرصہ دراز سے صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی عوام کو بلدیاتی اداروں سے محروم رکھنا انتہائی ظلم ہے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو ختم کردیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ چھ ماہ کے بعد قانون سازی کر کے نئے انتخابات کروائے جائیں گے اور پھر ایک آرڈیننس کے تحت اس مدت میں مزید سوا سال کی توسیع کردی گئی۔ یاد رہے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سنہ2016 میں ہوئے تھے اور ان اداروں کی پانچ سال کی مدت دسمبر 2021 میں پوری ہوئی، مگر 2018 کے بعد پی ٹی آئی نے جہاں 10 کروڑ سے زائد آبادی کے صوبہ پنجاب کو عثمان بزدار جیسے نالائق شخص کے حوالے کئے رکھا۔ وہیں پر صوبہ کی عوام کو مقامی حکومتوں سے محروم رکھا، جسکی بظاہر سادہ سی وجہ صوبہ پنجاب کے تقریبا تمام ضلعوں کی مقامی حکومتوں کے سربراہوں کا مسلم لیگ ن سے تعلق تھا۔رواں ہفتہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پنجاب حکومت کے رویے کو غیر سنجیدہ قرار دے دیا۔ اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کا جائزہ لیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن کے اجلاس میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ بل یکم نومبر کو منظور کرلیا ہے۔الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے ڈرافٹ رولز موصول ہوئے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت سے دیگر دستاویزات اور نقشہ جات تاحال نہیں ملے، معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پہلے بھی الیکشن کمیشن پنجاب میں 2 بارحلقہ بندیوں کی تکمیل کرچکا ہے، ان حلقوں پر آنے والے اخراجات قومی خزانہ پر بوجھ ثابت ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت کا رویہ غیرسنجیدہ ہے، بار بار قانون میں ترامیم کے باعث پنجاب میں الیکشن کا انعقاد نہیں ہوسکا۔ اعلامیے کے مطابق اب الیکشن کمیشن کو پنجاب میں تیسری بار حلقہ بندیاں کرنی پڑیں گی، الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ الیکشن 120 دن کے اندر کرانے کا پابند ہے۔ اعلامیے کے مطابق وزیر لوکل گورنمنٹ، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کو طلب کیا جائے گا۔ دوسری طرف صوبہ سندھ (خصوصا کراچی ڈویژن) کی عوام بھی عرصہ دراز سے مقامی حکومتوں سے محروم ہے۔ حیرانی اس بات پر زیادہ ہے کہ پاکستانی آئین کی خالق جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی بلدیاتی اداروں کے قیام میں حیلے بہانے تلاش کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار کے لئے سیلاب کی تباہ کاریوں کا مسئلہ بیان کیا جاتا ہے تو کبھی انتخابات کے انعقاد کے لئے مطلوبہ سیکورٹی کی عدم دستیابی کا بہانہ منظر عام پر آتا ہے۔ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی صوبائی حکومتوں کے رویوں سے بظاہر ایسا ہی محسوس ہورہا ہے کہ ان صوبوں میں بلدیاتی انتخاب کا انعقاد اور مقامی حکومتوں کا قیام مستقبل قریب میں بھی ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا۔ ایک طرف صوبائی حکومتوں کی مقامی حکومتوں کے قیام میں سست روی تو دوسری طرف ان صوبوں کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے خواب خرگوش میں پڑے رہنا بھی انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ مسلم لیگ ن وفاقی حکومت سنھبالنے اور حمزہ شہباز کی صوبائی حکومت ملنے اور ملنے کے بعد کھو جانے کی وجہ سے یا تو ابھی تک صدمے سے دوچار ہے یا پھر بظاہر ستو پی کر سو رہی ہے۔ صوبہ پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف سمیت اپوزیشن کی کسی بھی قدآور شخصیت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے قیام کے لئے آواز نہ اُٹھانا ان جمہوری جماعتوں کی نام نہاد جمہوری سوچ و اقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اتنی شدو مد سے صوبائی حکومت کو بلدیاتی انتخاب منعقد کروانے کے لئے پریشر ڈالتی دیکھائی نہیں دیتی۔یاد رہے پاکستان کے سب سے بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں مقامی حکومتوں کا قیام نہ ہونا سنگین آئین شکنی کے مترادف ہے۔ عوام اور حکام کے درمیان حائل خلیج میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دنیا جہاں کی ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں کی ترقی کی ایک وجہ انکے ہاں مضبوط مقامی حکومتوں کا قیام ہے۔ جس میں عوام الناس کو اپنے مقامی مسائل حل کروانے کے لئے صوبائی یا وفاقی حکومتوں کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبائی حکومتوں کیساتھ معاملات اُٹھائے جانے سے بظاہر یہ امید پیدا ہورہی ہے کہ کہ ان صوبوں میں جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

  • مولانا غلام رسول مہر  صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات

    مولانا غلام رسول مہر صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات

    تشنہ لب بر ساحل دریا ز غیرت جاں دہم
    گربہ موج افتد گمان چین پیشانی مرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا غلام رسول مہر صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کے نامور ادیب، صحافی، مورخ اور مترجم مولانا غلام رسول مہر 15 اپریل 1895ء کو جالندھر کے ایک گائوں پھول پور میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی پھر چند برس حیدرآباد (دکن) میں ملازمت کے بعد لاہور واپس چلے آئے اور تمام عمر اسی شہر میں بسر کی۔ مولانا غلام رسول مہر نے صحافت کا آغاز روزنامہ ” زمیندار” سے کیا پھر انہوں نے عبدالمجید سالک کے ساتھ مل کر روزنامہ انقلاب نکالا۔ اس اخبار سے وہ اس کی بندش 1949ء تک وابستہ رہے۔” انقلاب” کے بند ہوجانے کے بعد مولانا غلام رسول مہر نے پوری زندگی تصنیف و تالیف میں بسر کی۔ انہوں نے مذہب‘ سیاست‘ تہذیب‘ تمدن‘ ادب اور سیرت نگاری پر 100 سے زیادہ کتب یادگار چھوڑیں۔

    16 نومبر 1971ء کو اردو کے یہ بلند پایہ ادیب‘ صاحب طرز انشا پرداز‘ عظیم صحافی‘ صاحب فکر ، مورخ اور صاحب نظر نقاد مولانا غلام رسول مہر لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ مسلم ٹاؤن قبرستان لاہور میں آسودہ خاک ہیں ۔

  • 16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر وقار یونس 16 نومبر 1971 میں بورے والا ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ان کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 15 نومبر 1989ء کو بھارت کے خلاف ہوا۔اس کے 6 ماہ کے اندر اندر وہ سب سے زیادہ خوف اور دہشت پھیلانے والے فاسٹ بائولر بن گئے۔

    وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی کرکٹ کی دنیا کی سب سے خوفناک جوڑی سمجھی جاتی تھی۔وقار یونس نے مجموعی طور پر87 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 8788 رنز کے عوض 373 وکٹیں حاصل کیں ،۔ انہوں نے 262 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 2117 رنز کے عوض 416 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہے۔

    حکومت پاکستان نے وقار یونس کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازا ہے۔

  • شعبدہ کاری — ریاض علی خٹک

    شعبدہ کاری — ریاض علی خٹک

    ترکی میں فوڈ سٹریٹ پر آئس کریم بیچنے والے فنکار سیلز مین ہوتے ہیں. آپ کی نظریں ان سے جیسے ہی چار ہوتی ہیں یہ آپ کو سودا بیچ دیتے ہیں. یہ مسکرائیں گے جواب میں آپ کو بھی مسکرانا پڑتا ہے. یہ پھر آپ کو بلائیں گے آپ کو جانا پڑ جاتا ہے. یہ آپ کو ایسے توجہ دیں گے جیسے باقی سب گاہک لیکن آپ ان کے دوست ہیں.

    اب دوستی مضبوط کرنے کیلئے ان کے ہاتھ میں ایک راڈ ہوتا ہے جس کے آگے فری سیمپل کا کپ لگا کر اور اپنے کرتب دکھا کر یہ آپ کو بار بار ہنسنے پر مجبور کریں گے. آپ سے یہ فری سیمپل کا کپ پکڑا نہ جائے گا. پھر وہ آپ کو چوائس دیں گے آپ اپنا فلیور بتائیں گے اور پوچھیں گے یہ کتنے کا ہے.؟ یہ آگے جھک کر بتائیں گے صرف آپ کیلئے 20 لیرا کا. آپ خوشی خوشی یہ آئس کریم لیں گے جو بعد میں آپ کو پتہ چلے گا 5 لیرا کی تھی.

    ترکی کے آئس کریم بیچنے والوں کا تو یہ کاروبار ہے. میں ان کی صلاحیت کا معترف ہوں. لیکن شیطان گناہ میں بھی اسی ترتیب سے ہمارے ساتھ یہی شعبدہ کاری کرتا ہے. وہ آپ کی پہلے نظر یا فوکس پکڑتا ہے گناہ سے آپ کا تعلق بناتا ہے. آپ کو یہ لگتا ہی نہیں گناہ آپ سے کرایا جارہا ہے بلکہ آپ گناہ کرنے کیلئے خود کو باقاعدہ راضی کرنے لگتے ہیں. آپ کبھی آگے کبھی پیچھے کی کشمکش میں ہوتے ہیں. اور پھر آپ قائل ہو جاتے ہیں. وہ آپ کو اپنا سودا بیچ دیتا ہے. وہ سودا جس کے خسارے کا آپ کو بعد میں پتہ چلتا ہے.

    اس لئے قرآن کہتا ہے اپنی نظریں نیچے رکھو. قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ یعنی آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں.

  • جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا!!! — ابوبکر قدوسی

    جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا!!! — ابوبکر قدوسی

    اللہ تعالیٰ ہمارے دوستوں کی "فرصت” میں برکت دے کہ بیشتر اوقات گرمئی مجلس قائم رکھتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ” اشو ” کھڑا رہتا ہے ، تکلیف مگر اس امر کی ہے کہ انتہائی ذمے دار اور باصلاحیت احبابِ علم جب ‘نان اشوز” کو "اشوز” بناتے ہیں ، تو دراصل یہ بھی قوم کی تربیت میں خرابی کی ایک صورت بن جاتی ہے ۔ اور نقصان اس کا یہ ہوتا ہے کہ قیمتی وقت اور صلاحیتیں ان امور میں ضائع ہوتی ہیں کہ جن سے ہزار گنا اہم معاملات ان صاحبانِ تحریر و تقریر کے منتظر رہتے رہتے تھک کر سو جاتے ہیں ۔

    اڑتے اڑتے آس کا پنچھی دور افق میں ڈوب گیا
    روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی

    احباب گرامی قدر ! یہ امر بذات خود افسوس ناک ہے کہ کل سے انتہائی قیمتی وقت اور صلاحیتیں راجہ ضیاء صاحب کی ایک ہال میں داخلے کی ویڈیو کی نذر ہو رہی ہیں ۔میں نے کل دو دو جملوں پر مشتمل اگرچہ مزاحیہ انداز میں پوسٹ کیں تو اس کا مقصود بھہ یہی تھا کہ دوستو ! یہ معاملہ محض اس قدر توجہ طلب ہے کہ آدھ جملے میں بات ختم کی جائے ، لیکن احباب جب تک طول شب ہجراں ماپ نہ لیں اور محبوب کی زلف دراز تر کا آخری سرا دریافت نہ کر لیں ، کب چین پاتے ہیں ۔ میں تو پھر کہتا ہوں کہ بھائی سب فرصت کی باتیں ہیں ۔

    میرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

    اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ کیا راجہ صاحب کا عمل درست ہے ؟ تو عرض ہے کہ داعی کا بلاشبہ ایک مقام ہوتا ہے اور ایک وقار ہوتا ہے ، میں خود کبھی اس انداز کو اختیار نہ کروں جو انہوں نے کیا ہے ۔

    لیکن !

    اگر کر لیا تو شریعت کے حلال و حرام کے کس ضابطے کی نفی ہو گئی تھی کہ ہمارے معزز دوست دن بھر اس پر طویل مضمون نگاری کرتے رہے ۔

    مجھے ہرگز آپ احباب کی نیت پر شبہ نہیں ، بلاشک آپ نے دعوت دین کے وقار کی خاطر یہ سب لکھا لیکن ایسا ہی ہے کہ ڈاکٹر کہے کہ
    "مریض کو پینا ڈول کی ایک گولی دے دیجیے”

    اب گھر کے اگر گیارہ افراد ہیں تو ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی پینا ڈول دینا فرض جان کر یہ ” خدمت ” سرانجام دے رہا ہے ۔ مریض نے خاک صحت مند ہونا ہے ۔

    میرے بھائی ! لباس ، سواری ، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا انسانی کا ذاتی اختیار ہے ، پابندی صرف حلال و حرام امور کی کی جائے گی ۔ حلال کے دائرے میں اچھے برے کی تحدید ہر بندے کا اپنا اختیار ہے ۔

    مجھے یاد ہے کہ حضرت حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری رحمہ اللہ تہہ بند پہنا کرتے تھے ، جب علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کا حادثہ ہوا لارنس روڈ کی انتظامیہ نے چاہا کہ کچھ عرصہ آپ وہاں خطبہء جمعہ ارشاد فرمائیں ، اور تہہ بند کی جگہ شلوار پہن لیں ۔۔۔۔ ان کو منانا ایک مشکل مرحلہ تھا اور خود ان کے لیے بھی بہت مشکل تھا ان کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ جینز پہن کر جمعہ پڑھا رہے ہیں ۔۔۔۔
    جبکہ اگر وہ تہہ بند پہن کر آتے تو شائد وہاں حاضرین کو کچھ عجیب لگتا ۔۔۔جبکہ فرق صرف حاضرین کی سوچ کا تھا ۔۔۔۔۔۔
    اب جس ماحول میں انہوں نے اپنی ہیوی بائیک سیدھی ہال کے اندر لا کھڑی کی وہاں یہ کچھ عجیب نہیں تھا بلکہ سب نے گرمجوشی سے استقبال کیا ، جبکہ اسی ہال میں اگر ہمارے کوئی بزرگ تہہ بند پہن کر چکے جاتے تو ہورے ہال میں چہ میگوئیاں شروع ہو جانی تھیں ۔۔۔۔ اسی طرح عجیب و غریب لگنا تھا جیسے آج آپ کو عجیب لگ رہا ہے ، اور عین ممکن تھا کہ کوئی جدید ترین داعی تب ادھر کہتا کہ یہ داعی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ تہہ بند پہن کر بیکن ہاؤس ، لمز ،ایل جی ایس ، اور نسٹ کے طلبہ کو خطاب کرنے چلا آئے ۔۔۔۔۔
    سو احباب :

    ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ نان اشوز کو اشوز نہ بنایا کیجیے ، حقیقی مسائل آپ کی راہ تکتے تکتے سو جاتے ہیں اور آپ کو ان غیر حقیقی مسائل سے فرصت نہیں ملتی ۔۔۔۔

    اور آخری بات۔۔۔۔یہ لوگ اس میدان میں کام کر رہے ہیں کہ جہاں کوئی آپ کی بات سنتا بھی نہیں ہے ، جس روز آپ اس میدان میں یوں جا نکلیں گے کہ آپ کو سنا جائے ، لوگ روایت سے جڑے اہل علم کی بات سنیں اور سمجھیں تو یقین کیجیے تب ہم ضرور ان ” ماڈرن داعیوں ” کی اسی طور ” اصلاح ” میں آپ کے قدم بقدم ہوں گے ۔۔۔

    لیکن بصد افسوس کہ آپ کی جماعتوں کے ایجنڈے اور سوچ و فکر کے دائرے میں وہ طبقات تو آتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔پھر ایسی تنقید تو وہی ہو گی کہ ” کھیلنا ہے نہ کھیلنے دینا ہے” ۔

    ذرا کوئی صاحب مجھے بتائیں کہ کبھی کسی مذہبی جماعت کی عاملہ کے اجلاس میں نوجوان طبقے میں پھیلتے الحاد بارے فکرمندی ایجنڈے کا حصہ بنی ؟

    نوجوانوں کے فکری انتشار پر کوئی لائحہ عمل طے کیا گیا ؟

    سیکولرزم کی یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی صورت زیر بحث آئی ؟

    اگر کسی جماعت اجلاس میں ایسا کچھ ایجنڈے پر آیا تو ہمیں بھی بتائیے گا ۔

    اور یہ بھی جان لیجیے کہ جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ دوسروں سے کام لے لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لمحہ فکریہ تو آپ کے لیے ہے کہ یہ کام آپ کیوں نہ کر پائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

  • میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    امین پونے والا اور شردھا والکر (ہندو) ممبئی میں ملے۔۔۔نزدیکیاں بڑھیں۔۔شردھا اپنے والدین کی ناراضی کی پرواہ کیے بنا امین کے ساتھ دہلی لیو ان ریلیشن میں آ گئیں۔۔شردھا کی جانب سے شادی کے دباؤ کے بعد لڑائیاں ہونے لگیں۔۔امین نے شردھا کو قتل کیا اور اسکے جسم کے 35 ٹکرے کر کے فریج میں محفوظ کرنے کے بعد مرحلہ وار دہلی کی مختلف علاقوں میں پھینک دیے۔۔۔امین کا تعلق مزید لڑکیوں سے بتایا بھی بتایا جا رہا ہے۔۔۔یہ سب معلومات امین کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔۔۔

    یہ کیس ایک بنیادی معاشرتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔۔امین کردار سے عاری انسان ہے جس میں اسکا مذہب ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔دوسری جانب شردھا کا کسی نوجوان لڑکی کی طرح صرف "محبت” کی خاطر سب کشتیاں جلا دینا اس میں بھی مذہب مدعا نہیں ہے۔۔۔۔

    امین کو پارسی مذہب سے تعلق رکھنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔۔لیکن درج ایف آئی آر میں بطور مسلمان نامزد کیا گیا ہے۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ کرمینل ذہنیت کے حامل افراد مذہب کے تناظر میں جرم نہیں کرتے ہیں۔۔۔امین اگر اچھا مسلمان ہوتا تو کیا کسی غیر مسلمان خاتون کی والدین کے خلاف جانے پر حوصلہ افزائی کرتا۔۔۔کیا بنا نکاح تعلقات قائم کرتا۔۔۔کیا نکاح سے پہلے مسلمان یا اہل کتاب عورت کی شرط کا خیال نہ رکھتا۔۔؟؟یقیناً نہیں امین کا کردار بتاتا ہے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔

    لیکن اس جرم کو "مسلمان” اور "دین” سے جوڑ دیا گیا ہے۔۔سوشل ,پرنٹ اور الیکٹرونک بھارتی میڈیا پر ہندو انتہا پسند لابی "میرا عبدل ایسا نہیں ہے” یعنی ہر عبدل(مسلمان) نوجوان ایک جیسا ہے اور "لو جہاد” یعنی محبت کے نام پر ہندو لڑکیوں کو ٹریپ کرنا جہاد ہے ٹرینڈ چلا رہی ہے۔۔۔بنیادی طور پر لفظ "عبداللہ” پر ہی اٹیک کیا گیا جسے کچھ لبادے میں رکھنے کو عبدل کر دیا گیا ہے۔۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے روزانہ ہزاروں کیسز درج ہوتے ہیں کیا سب کی بنیاد مذہب ہے۔۔۔دہلی ریپ کیس کے ملزمان مسلمان تھے کیا۔۔۔دلت لڑکیوں کو اٹھا کر زیادتی کے بعد درختوں پر لٹکانے والے اونچی ذات کے ہندوؤں کے جرائم کے بعد "رام” یا "ارجن” کو طنز کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا ہے۔۔۔؟

    دین, عبداللہ,جہاد اور مسلمان پر طنز و تضحیک بارڈر پار میرے لیے تکلیف کا باعث ہے کیونکہ کسی شخص کے انفرادی جرم کو اللہ اور دین سے جوڑا جا رہا ہے۔۔۔وہ بھارتی نمایاں مسلمان شخصیات جوکہ اپنے "دیش بھگت” ہونے ثبوت پاکستان سے الجھ کر دیتے ہیں۔۔کیا "دین بھگت” ہونے کا ثبوت بھی باطل سے الجھ کر دیں گے۔۔؟ اور کب دیں گے۔۔۔ہمیں تو ہر معاملے میں اپنی تعداد بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ ہیں۔۔۔باطل قوتوں کو کب بتائیں گے۔۔۔۔؟