Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    چوک پر بیٹھا گدا گر، مجھے دیکھتے ہی لنگڑاتے ہوئے میری جانب بڑھا۔ "اللہ کے نام پر دے دو، ٹانگ سے معذور ہوں۔ اللہ آپکو خوش رکھے”۔ گدا گر نے قدرے جذبات سے کہا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے۔ میں نے کہا ٹانگ کو کیا ہوا ہے۔ ماما پھلا بولا! "ہوا کچھ نہیں ، بس سیاست کررہا ہے”۔ سیاست کیا مطلب؟ میں نے حیرانی سے پوچھا ۔ "فراڈ کر رہا ہے۔ یہ معذور کوئی نہیں ہے، مانگنے کے لیے بس معذور بنا ہوا ہے” ۔ ماما پھلا اسے گھورتے ہوئے بولا۔ خیر میں نے اسے پچاس روپے کا نوٹ تھما دیا ۔ اگلے روز اسی معذور گدا گر کی ٹانگ کی بجائے بازو کی معذوری دیکھ کر مجھے اس کی سیاست سمجھ آنے لگی۔

    سیاست کا مطلب فراڈ ہی ہے، گدا گر کے بعد اس مطلب کو ہمارے سیاستدانوں نے بھی درست ثابت کر کے دیکھایا۔گجنی فلم جس کا ہیرو "شارٹ ٹرم میموری لاس” جیسے مرض میں مبتلا ہوتا ہے، اور اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ شاید وہ بھارتی فلم پاکستانی سیاستدانوں پر بنائی گئی تھی ۔

    کیونکہ ہر سیاستدان بھول جاتا ہے کہ کل اس نے کیا کہا تھا ؟ عوام سے کیے وعدے تو سیاستدانوں کو کبھی یاد نہیں رہتے۔ اپنی ہی باتوں سے مکر جاتے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان تو اپنی باتوں سے اس قدر پھرے کہ مخالفین نے ان کا نام ہی "یو-ٹرن” رکھ دیا۔ عمران خان اپوزیشن میں رہ کر کہا کرتے تھے کہ جب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں کہ حکمران چور ہے۔ جب اپنی حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو سارا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈالتے رہے۔

    حکمران جماعت یعنی ن لیگ کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ زرداری، جسے لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھیسٹنا تھا ، اب اسی کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹے جارہے ہیں۔ جب تحریک انصاف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو اسے عوام کی جیبوں پر ڈاکا کہا گیا۔ اور جب اپنی حکومت آئی تو گجنی فلم کے ہیرو کی طرح یہ بات بھول کر ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مشکل معاشی فیصلہ کہا۔

    مولانا فضل الرحمان بھی گجنی بننے سے ہرگز پیچھے نہیں رہے۔ حرام اسمبلی کے نعرے شاید "شارٹ ٹرم میموری لاس” کی وجہ سے بھول چکے ہیں، آج کل اسی لیے اسمبلی میں حکمران جماعت کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

  • کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    دنیائے کرکٹ میں ریکارڈ کے انبار لگانے والے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم آج 28 برس کے ہوگئے۔ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے میلبرن میں کپتانوں کے فوٹوسیشن کی تقریب اور پریس کانفرنس کے موقع پر آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے بابر اعظم کو سالگرہ کا کیک پیش کیا۔


    اس موقع پر بابر اعظم نے مختلف ٹیموں کے کپتانوں کے ہمراہ کیک کاٹا۔ آئی سی سی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی بابر اعظم کی سالگرہ اور کیک کاٹنے کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ بابر اعظم نے دیگر ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ انتہائی خوشگوار موڈ میں اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا۔

    پاکستان میں ٹوئٹر پر بھی بابر اعظم کی سالگرہ کے حوالے سے ٹرینڈز چل رہے ہیں، جہاں مداح قومی ٹیم کے اسٹار بیٹر کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دیگر پاکستانی کرکٹرز بھی بابراعظم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں۔ دوسری جانب کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ پوری امید ہے کہ مڈل آرڈر ورلڈ کپ میں پرفارم کرے گا۔۔نواز، افتخار اور شاداب مڈل آرڈر میں اچھا کھیل رہے ہیں۔

    قومی کر کٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ورلڈ کپ میں بہترین کاکردگی دکھانے کے لیے پر عزم ہیں ۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا میں موجود کپتان بابراعظم کا کہنا ہے کہ کوشش ہوتی ہے اچھی کرکٹ کھیلیں اور 100 فیصدکارکردگی دیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پوری امید ہے کہ مڈل آرڈر ورلڈ کپ میں پرفارم کرے گا۔گزشتہ دو میچزمیں مڈل آرڈر نے اچھی کارکردگی دکھائی۔مڈل آرڈر کو ہم بیک کررہے ہیں۔نواز، افتخار اور شاداب مڈل آرڈر میں اچھا کھیل رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ فینز پاک بھارت میچ کا انتظار کرتے ہیں، ہم گراونڈ میں محظوظ ہوتے ہیں۔فخر زمان کے آنے سے فرق پڑے گا۔نیوزی لینڈ سیریز جیتنے سے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اچھے فاسٹ باولر متعارف کرائے ہیں۔ہمارے پاس اچھے فاسٹ باولر ہیں۔شاہین شاہ آفریدی کے ٹیم میں آنے سے فاسٹ باولر اٹیک اور مضبوط ہوگا۔ واضح رہے کہ کپتان بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا کے شہر میلبورن پہنچ چکے ہیں۔

  • ضلع تلہ گنگ کا قیام۔۔۔!!!

    ضلع تلہ گنگ کا قیام۔۔۔!!!

    ضلع تلہ گنگ کا قیام۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    تلہ گنگ ضلع کا قیام جوکہ تلہ گنگ و لاوہ کی عوام کا دیرینہ اور دلی مطالبہ رہا ہے مختلف ادوار میں ضلع بنانے کے وعدے وعید کیے مگر بدقسمتی سے وفا نہ ہوسکے، بالآخر فرزندِ تلہ گنگ ایم پی اے حافظ عمار یاسر نے تلہ گنگ ضلع کا سہرا بھی اپنے سر سجا کر بازی جیت لی، جس پر محسنِ تلہ گنگ چوہدری پرویز الٰہی اور فرزندِ تلہ گنگ و بانی ضلع تلہ گنگ ایم پی حافظ عمار یاسر خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے تلہ گنگ ضلع کی باقاعدہ منظوری اور اعلان کے بعد اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ خوشی سے جھوم اٹھے، ہر طرف جشن کا سماں ہے، لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کررہے ہیں، دوسری جانب ایم پی اے حافظ عمار یاسر کے استقبال کےلیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، شہر بھر میں پوسٹر اور بینرز آویزاں کیے جارہے ہیں، اس موقع پر اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر فرزندِ تلہ گنگ و بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کا فقید المثال استقبال کریں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور ضلع تلہ گنگ کو ایک خودمختار ضلع بنانے اور دیگر انتظامی معاملات کےلیے مزید دلجوئی سے کام کرسکیں، کیونکہ تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دلوانے کے بعد اصل کام تو اب شروع ہوگا جس کے لیے ہم سب کو متحد ہوکر حافظ عمار یاسر کا زور بازو بننا ہوگا تاکہ ہم تلہ گنگ کو جلد از جلد ایک خود مختار ضلع بنانے میں کامیاب ہو سکیں، تلہ گنگ کو ضلع کو درجہ دلوانے کے بعد حافظ عمار یاسر کا نام یقیناً تلہ گنگ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا اور یاد رکھا جائے گا، وہ کام جو بڑے بڑے سردار مل کر نہ کرسکے وہ اکیلے حافظ عمار یاسر نے کر دکھایا جوکہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، حافظ عمار یاسر نے تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دلوا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ اپنی دھرتی سے مخلص ہوں اور آپ کی نیت صاف ہو تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی آپ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، میں اس پرمسرت موقع پر حقیقی فرزندِ تلہ گنگ و بانی ضلع تلہ گنگ ایم پی اے حافظ عمار یاسر اور محسنِ تلہ گنگ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نہ صرف شکریہ ادا کرتا ہوں بلکہ دھرتی کے ان مخلص سپوتوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے رب تعالیٰ غازیوں اور شہیدوں کی اس دھرتی کو امن و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔ آمین

  • جیمز ویب دوربین  نے دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب دوربین نے دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطا بق زمین سے 5000 ہزار نوری سال کے فاصلے موجود ستاروں کے اس جوڑے کو ’وولف-رایٹ 140‘(WR 140) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی ایک نئی تصویر ایک قابل ذکر کائناتی منظر کو ظاہر کرتی ہے: ستاروں کے جوڑے سے کم از کم 17 مرتکز دھول کے حلقے نکلتے ہیں۔ زمین سے صرف 5,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع یہ جوڑی اجتماعی طور پر وولف-رائٹ 140 کے نام سے مشہور ہے۔

    ماہرین کے مطابق جب بھی یہ دونوں ستارے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو ایک دائرہ بنتا ہے۔ ستارے جو گیس خارج کرتے ہیں وہ آپس میں ٹکراتی ہیں، دوسری گیس کو دباتی ہے اور اس عمل سے گرد پیدا ہوتی ہے اور یوں گرم گرد کے ہالے نما دائرے وجود میں آتے ہیں۔

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    ستاروں کا مدار ان کو ہر آٹھ سال میں ایک بار ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور درخت کے تنے میں پائے جانے والے چھلوں کی طرح بننے والے غبار کے یہ دائرے اس عمل کے وقوع پزیر ہونے کی تعداد کا تعین کرتے ہیں۔

    نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی NOIRLab کے ایک ماہرِ فلکیات ریان لاؤ کے مطابق جاری کی گئی تصویر میں جاری ستاروں کے گرد و غبار کے پیداواری عمل کا ایک صدی سے زائد کا عرصہ دیکھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تصویر یہ بھی بتاتی ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کتنی حساسیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل زمینی ٹیلی اسکوپس سے صرف گرد کے دو چھلے دیکھے جا سکتے تھے لیکن اب کم از کم 17 چھلے دیکھے جاسکتے ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

  • سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں –

    باغی ٹی وی : جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب افراد کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی افراد بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    جن میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام افراد کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیئے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟-

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہےکہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکاراور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پھر بھی، جبکہ والدین اور دوسرے بچوں کو دو ٹوک ایماندارانہ سچ بولنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے تاہم بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

  • ہم شرمندہ ہیں۔۔۔!!!

    ہم شرمندہ ہیں۔۔۔!!!

    ہم شرمندہ ہیں۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    گزشتہ دنوں ڈی ایس پی منیر احمد اعوان سے ان کے آفس میں گپ شپ ہوئی، منیر احمد اعوان کا تعلق چکوال کی تحصیل کلر کہار کے علاقے بوچھال کلاں (سرکلاں) سے ہے، جوکہ اس وقت کراچی بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دے رہے ہیں، کسی کام سے جانا ہوا تو کہنے لگے بیٹھو بیٹا بہت عرصے بعد اپنے علاقے کے کسی بندے سے ملاقات ہوئی ہے، گپ شپ شروع ہوئی تو علاقائی سیاست کے بارے جاننے لگے، موجودہ سیاسی صورتحال بارے بتایا تو بے ساختہ کہنے لگے بیٹا تلہ گنگ کو تو آپ کے وڈیروں نے گجراتیوں کی رکھیل بنا کے رکھ دیا ہے، یقین کریں ان کی یہ بات سن کر سر شرم سے جھک گیا، کہا سر بلکل آپ درست فرما رہے ایسا ہی ہے، سوائے اس کے بھلا اور کہہ بھی کیا سکتا تھا۔ اب ہم جو کہنا شروع کر دیں کہ ہم کوئی غلام ہیں تو ہاں واقعی ہم غلام ہیں، کیا ہمارے علاقے میں کوئی بھی ایسا سیاسی لیڈر موجود نہ تھا جو علاقے کی باگ ڈور سنبھال سکتا، یا خود ملی بھگت کرکے ہمارے اوپر گجراتیوں کو مسلط کیا گیا ہے اور ہمیں غلام بنانے کی کوشش کی گئی، ہمارے حلقے کے ایم این اے چوہدری سالک حسین صاحب وہ ہیں جوکہ ایم این اے منتخب ہونے کے بعد بمشکل دو یا تین مرتبہ ہی تشریف لائے ہوں گے وہ بھی کسی خاص ایونٹ یا اپنے کسی من پسند شخصیت کی شادی یا فوتگی پر تشریف لائے ہوں گے، حلقے کے 80 فیصد عوام اپنے ایم این اے کے نام سے ہی واقف نہیں ہیں، بہرحال کسی پہ کیا گلہ شاید ہم ہیں ہی اسی قابل اور یہ سب ہمارے اپنوں کا کرتا دھرتا ہے، آج سے کچھ عرصہ پہلے جب سینئر صحافی و تجزیہ کار ایاز امیر صاحب نے کہا تھا کہ تلہ گنگی کہا کرتے تھے کہ ہم اپنی پگ کسی اور کو نہیں دیں گے آج انہوں نے اپنی پگ گجراتیوں کے قدموں میں رکھ دی ہے، تو اس وقت ہمارے کچھ دوستوں نے بہت غصہ کیا تھا کہ ایاز امیر نے انتہائی لغو بات کی ہے حالانکہ انہوں نے حقیقت پر مبنی سچ بات بیان کی تھی، بدقسمتی سے ہمیں سچ سننے کی عادت ہی نہیں تبھی سچی بات کڑوی لگتی ہے، آج ہمارے حلقہ این اے 65 موجودہ حلقہ 59 کا کوئی والی وارث نہیں، پورا حلقہ مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے، ق لیگ ظاہری طور پر تقسیم کے نام پہ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے، ایم این اے چوہدری سالک حسین نے حلقے سے بلکل اظہارِ لاتعلقی کردیا ہے، جبکہ دوسرا دھڑا جن کی پی ٹی آئی کے اشتراک سے پنجاب میں حکومت ہے سے تعلق رکھنے والے وزیراعلٰی پنجاب کے قریبی ساتھی ایم پی اے حافظ عمار یاسر لاہور جاکر بیٹھ گئے ہیں موصوف کا دل بھی تلہ گنگ میں اب کم ہی لگتا ہے، انہوں نے عوام کو بیوقوف بنانے کےلیے تلہ گنگ اپنی رہائش گاہ میں ایک سیکرٹریٹ بنا رکھا ہے جہاں پر ان کے بٹھائے گئے نوسرباز جانشین عوام کو ذلیل و رسواء کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے، عوام اپنے مسائل کے حل کےلیے نام نہاد سیکرٹریٹ کے چکر لگا لگا کر خود ہی تنگ آکر گھر بیٹھ جاتے ہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں، عملہ نہیں، مشینری نہیں، لوگوں کے گھروں میں پانی، بجلی اور گیس نہیں، روڈز اور گلیاں نہیں مگر کوئی فریاد سننے والا نہیں ہے، مسائل کے ان انبار میں عوام کو ضلع کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے، اب گجراتی جب چاہیں گے ہمیں ضلع دیں گے ورنہ ان کی مرضی یونہی عوام کو ترساتے رہیں گے ہم کر ہی کیا سکتے ہیں، ہمارے وڈیروں میں اتنی تپڑ نہیں کہ اپنی عوام کے حقوق کےلیے آواز اٹھا سکیں اور اپنا حق لے سکیں ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرنے پہ لگا ہے عوام جائیں بھاڑ میں، بہرحال عوام تو پھر بھی روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرلیں گے، مگر ہمیں غیروں کے حوالے کرکے غلام بنانے کی جو ناکام کوشش کی گئی ہے، اس پر ہم ہمیشہ شرمندہ رہیں گے، اپنے آپ کو کوستے رہیں گے اور لوگوں کے طعنے سنتے رہیں گے، اب بھی وقت ہے اپنے حق کےلیے اٹھ کھڑے ہوں اور ان غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر علاقے سے اپنا حقیقی عوام دوست نمائندہ منتخب کرکے اپنی آنے والی نسلوں کو اس غلامی سے بچا لیجئے، تلخ الفاظ کےلیے معذرت خواہ ہوں، اللّٰہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان اور ان کے مداحوں کو ریس میں اکیلے دوڑنے کا شوق ہے وگرنہ جتنی تنقید عمران خان سے پہلے اور دیگر سیاستدانوں اور حکمرانوں پر ہوئی ہے عمران خان پر اس کا عشر عشیر بھی تنقید نہیں ہورہی، لیکن اہلیانِ عمران خان کو درد ذہ سب سے زیادہ ہے۔

    اہلیان عمران خان, میں تو یہی کہوں گا ورنہ ان کو دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کس گھٹیا لقب سے یاد کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے اور یہ کہ وہ قطعی پارلیمانی اور صحافتی اقدار کے خلاف ہے جبکہ ہماری تربیت ہمیں اس برے فعل سے ہمیشہ روکتی ہے۔

    جی تو اہلیان عمران خان کو نجانے کیوں یہ خبط سوار ہوگیا ہے دماغ پر کہ خان صاحب کا پسینہ عطر خاص ہے اور خان صاحب دنیا کے ہینڈسم ترین اور معصوم عن الخطاء انسان ہیں, او بھئی نکل آؤ اس سحر سامری سے اور غلو و انتہا پسندی سے بچو ورنہ جب بت پاش پاش ہوتے ہیں تو ان کے ٹوٹنے کی آواز اور تکلیف تادم مرگ پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    خان صاحب سب کچھ بہت اچھے سے جاننے کا دعوی کرتے ہیں مطلب دنیا کی جس چیز, جس جگہ اور جس شخص کا نام لے لو جھٹ خان صاحب فرماتے پائے جاتے ہیں کہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا لیکن افسوس صد افسوس کہ خان صاحب بنیادی اخلاقی اور تعمیرِ کردار کی بابت کچھ نہیں جانتے اور یہی ان کا مشن ہے کہ قوم کی نوجوان نسل بھی ان اصولوں سے بہرہ ور نہ ہوسکے۔

    کوئی خان صاحب سے جتنا بھی تمیز کے دائرے میں رہ کر سوال کرلے, اہلیان عمران خان کی دم پر نجانے کہاں سے نادیدہ پاؤں دھرا جاتا ہے کہ پھر گھنٹوں بلکہ دنوں تک سوشل میڈیا پر نحیف سی چیاؤں چیاؤں سننے کو ملتی رہتی ہے اور سوشل میڈیا والز پر آؤ تو لگتا ہے کہ گھر کا فلش اوور ہوگیا ہو اور چہار سو بول و براز پھیلا ہو۔

    چلیں حامد میر, سلیم صافی, غریدہ فاروقی اور ثناء بچہ کی حد تک اہلیان عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ یہ بغض عمران میں مبتلا ہیں اور لفافہ لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن مبشر لقمان صاحب پر پی ٹی آئی اپنی گھٹیا کیمپین کو کس طرح جسٹیفائی کرسکتی ہے؟

    2014 کا سارا دھرنا اور اس وقت خان صاحب کو ملی میڈیا ہائپ میں 90% تک مبشر لقمان صاحب کا ہاتھ تھا۔ بہت سے میرے جیسے لوگ تب عمران خان کی طرف راغب ہوئے تو اس میں مبشر لقمان اور اے آر وائے نیوز پر ان کے پروگرام کھرا سچ کا بہت اہم کردار تھا۔۔۔ مطلب خان صاحب کی تمام تر سیاسی جدو جہد کو اگر 2014 سے پہلےاور بعد میں تقسیم کریں تو پہلے کی کارکردگی اور شہرت کے مقابلے میں بعد کی کارکردگی اورشہرت ان کی سیاست میں بہت اہم ہے کیونکہ بعد کی شہرت اور عوامی شعور جس پر خان صاحب کا کلیم ہے کہ وہ انہوں نے دیا سراسر غلط بیانی ہے کیونکہ جتنا ایکسپوز مبشر لقمان صاحب نےن لیگ اورپیپلز پارٹی کو کیا خان صاحب کا کام تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے دیگر صحافیوں کی طرح خان صاحب اور ان کے ہمنوا تب مبشر لقمان صاحب کے بغیر اندھے بہرے اور گونگے تھے کہ جب مبشر لقمان صاحب رات کو سٹوری کرتےتو اگلےدن بشمول خان صاحب پوری پی ٹی آئی قیادت اور سوشل میڈیا وہی سٹوری بیان کرکے مخالفین کو دھول چٹا رہے ہوتے۔

    آج ایک ادھوری وفاقی حکومت گنوا کر خان صاحب دن بھر سڑکوں کی دھول چاٹ کر رات کو "ناراض دوستوں” سے "پیچ اپ” کی سکیمیں بناتے ہیں جبکہ ان کے اہلیان عمران خان سوشل میڈیا پر فی سبیل اللہ "سگِ بنی گالا” کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں اور خان صاحب کی طرح ان کے محسنین اور سابقہ دوستوں کو سوال اور اعتراض کرنے کی پاداش میں ذلیل و رسوا کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن قوم یاد رکھے کہ جو شخص مطلبی اور خودغرض ہوتا ہے وہ مطلب نکلنے پر یہی کچھ کرتا اور کرواتا ہے حو خان صاحب اور ان کی قوم یوتھ کرتی پھر رہی ہے۔

    خان صاحب آپ پیر کامل بننے کی کوشش میں حد لانگ رہے ہیں یہ مت کریں, ریڈ لائن صرف ایک ہی تھے, ہیں اور تاقیامت رہیں گے اور وہ ہیں آقا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کہ جن کی خاطر ماں باپ قربان کرنا اور اولاد سے سرف نظر کرنا فرض کیاگیا ہے بذبان اللہ۔

    خان صاحب اپنے اہلیان کو لگام دیں وگرنہ ڈھول کا پول کھل گیا تو آپ اپنا گریباں چاک کرنے اور عوام میں جاکر سچے ہونے کا دعوی کرنے سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

    اکڑ, غرور اور تکبر خواہ بری شہ پر ہو یا اچھی پر۔۔۔ اللہ کو یہ حرکت سخت ناپسند ہے۔ پوری قوم کو سیرت کےاسباق بعد میں رٹوائیےگا, پہلے اہلیان عمران خان کو اس پر عمل کی تلقین کریں۔

    سوشل میڈیا کو ایک گٹر بنانے میں جتنا کردار پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرز اور ایکٹیوسٹس نے ادا کیا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔۔۔ اور خود یہ اس گٹر کے اکلوتے مالک اور چوڑے بن کر سارا دن چوڑے والی آکڑ دکھا دکھا کر شرفاء کی پگ اچھالتے رہتے ہیں۔

  • ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    اکتوبر سنہ 732ء میں ایک بہت اہم واقعہ ہوا تھا ، شاید آپ میں سے کم ہی لوگ اس واقعے کو جانتے ہوں گے لیکن ایک بدترین شخص نے تاریخ کے اس واقعے کو اچھے طریقے سے یاد رکھا ہوا تھا ۔

    اور آپ کو پتہ ہے کہ اس شخص نے اس واقعے کے مرکزی کردار charles martel کا نام کہاں لکھا تھا ؟

    وہ تو میں آپ کو ابھی بتا دیتا ہوں لیکن یہ وہی چارلز مارٹل ہے جسے تاریخ ’’charles the hammer‘‘ یعنی ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ بھی کہتی ہے ، وہی چارلز مارٹل جو اپنے باپ pepin کی اپنی ایک نوکرانی کے ساتھ ناجائز اولاد تھا اور وہی چارلز مارٹل جس نے وقت کی سب سے بڑی ملٹری پاور یعنی مسلمانوں کو ناقابل شکست بیس سال گزارنے کے بعد فرانس کے جنگل میں ہرا دیا تھا اور اموی جنرل عبدالحمٰن الغوفیقی کو مار دیا تھا ۔

    وہی چارلز مارٹل جس کی وجہ سے فرانس اور جرمنی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ لیکن یہ لڑائی طاقت کی لڑائی نہیں تھی ، یہ لڑائی ایکچوئلی صبر کی لڑائی تھی اور اس لڑائی کا نام تھا battle of tours ۔

    چارلز مارٹل مسلم آرمی سے آدھی تعداد کے ساتھ جنگل میں تھا اور صبر سے انتظار کر رہا تھا کہ مسلمان جنگل میں آ کر لڑیں تاکہ مارٹل کو درختوں میں چھپنے کا فائدہ مل سکے اور مسلمان جنگل سے باہر انتظار کر رہے تھے کہ مارٹل باہر آ کر ہم سے لڑے تاکہ ہم اپنی تعداد اور طاقت سے اسے ہرائیں لیکن بالآخر سات دن بعد مسلمانوں کا صبر جواب دے گیا اور وہ جنگل میں داخل ہو گئے ۔ یورپ کے گھنے جنگلات جدھر آرمی کی تعداد کوئی معنے نہیں رکھتی تھی …

    اور مجھے جرمن مؤرخ hans delbruck کے الفاظ یاد ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں battle of tours سے زیادہ اہم اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیوں کہ اس دن اگر چارلز مارٹل ہار جاتا تو آج نہ کوئی holy roman empire ہوتی ، نہ پوپ رہتا اور نہ ہی عیسائیت کیوں کہ پھر اس وقت مسلمانوں کو پورے یورپ پر قبضہ کرنے سے روکنے والی کوئی آرمی اس دنیا نہیں تھی ۔

    انفیکٹ یہ وہ واحد لڑائی تھی جس کے بارے میں ایڈولف ہٹلر نے بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر مسلمان وہ لڑائی جیت جاتے تو آج یہ دنیا ایک مسلمان دنیا ہوتی کیوں کہ مسلمان ایک دین لے کر آ رہے تھے ، ایک ایسا دین جو جرمن مزاج کے ساتھ پرفیکٹلی فِٹ بٹھتا ہے اور جرمنز کے لیے عیسائیت سے زیادہ سوٹ ایبل ہے ۔

    لیکن میں نے ابھی آپ کو یہ نہیں بتایا کہ چارلز مارٹل کا نام کس نے یاد رکھا ہوا تھا ؟

    تین سال پہلے نیوزی لینڈ کے ایک شخص نے 74 صفحوں کا ایک مینی فیسٹو لکھا تھا the great replacement اور اس نے یہ مینی فیسٹو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سمیت 30 میڈیا ہاؤسز کو ای میل کیا تھا ، اور ای میل کے بعد اس شخص نے نیوزی لینڈ کرائیسٹ چرچ کی ایک مسجد میں داخل ہو کر 51 نمازیوں کو شہید کر دیا تھا …

    اور اس قتل عام کو کرنے والی بندوق کی نلی پر اس زندیق نے … چارلز مارٹل کا نام لکھا ہوا تھا ، وہی چارلز مارٹل جس نے مسلمانوں کو شاید سب سے گہری چوٹ پہنچائی تھی ۔

    لیکن میں آپ کو یہ سب کیوں بتا رہا ہوں ؟

    اس دنیا میں کوئی بڑا واقعہ randomly نہیں ہو رہا ، یا تو وہ ماضی کے کسی بڑے واقعے سے جڑا ہوتا ہے یا پھر مستقبل کے کسی بڑے واقعے کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔

    اور میں آپ کو urge کرتا ہوں کہ تاریخ کو بھولیں مت ، ماضی کے واقعات کو یاد رکھیں ، تاکہ مستقبل کے لیے خود کو اور اپنی نسلوں کو تیار رکھ سکیں ۔

  • پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    کالے بھونڈوں اور چھپکلیوں کو بھگانے کےلیے سپرے کر رہا تھا صبح صبح کھڑکی کے پاس ، کہ دفعتاً ٹڈا سا نظر آیا۔ سوچا صحن میں گھاس ہے تو آ گیا ہو گا مگر جب دھیان سے دیکھا تو یہ praying mantis تھا ۔ فوراً سپرے روکا۔ شکر ہے ابھی اس پہ سپرے نہیں ہوا تھا۔ ہتھیلی آگے کی تو یہ دفاعی پوزیشن میں آ گیا ۔ دوستانہ انداز میں ٹچ کیا اور ہتھیلی آگے کی تو باقی دنیا کی طرح اسے بھی ہماری شرافت پہ یقین آ گیا اور ہتھیلی پہ بیٹھ گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہوا میں موجود سپرے کے ذرات سے اسے نقصان نہ پہنچے۔

    اسے گلاب کے پودے پہ بٹھایا اور واپس آیا تو دیکھا برآمدے میں پر پھیلائے ،نہایت غصیلے انداز میں ایک اور مینٹس میرا منتظر تھا۔ اپنے ساتھی کو نہ پا کر سخت برہم تھا اور غالباً مجھ پہ شک کر رہا تھا۔ اسے چمکارا ۔ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو آہستہ آہستہ وہ بھی پاس آ گیا۔ اسے بھی وہیں اس کی بیگم پاس گلاب پہ چھوڑا کہ چل کاکا عیاشی کر۔ گلاب کے مخملیں بستر پہ ۔ مگر دونوں شاید آپس میں ناراض تھے۔ منہ بنائے دور دور رہے ذرا سے۔

    سکول کا ٹائم بھی قریب ہی تھا ۔ جانے لگا تو خیال آیا کہ ذرا جوڑے کے "حالات ” بھی دیکھتے جائیں ۔ اگرچہ پرائیویٹ معاملات میں دخل دینا نامناسب بات ہے مگر یہ ہم پاکستانیوں کا پرانا شیوہ۔ آپ نے غلام عباس کا افسانہ ” اوور کوٹ ” تو پڑھ رکھا ہو گا۔ اوور کوٹ والا نوجوان بھرے بازار ، اردگرد کےلوگوں ، اشیاء وغیرہ سے بےنیاز نظر آتا اور کسی پہ نگاہ ِ غلط انداز نہیں ڈالتا مگر اک موٹے پیندے اور لمبے بالوں والی لڑکی اور ساتھی لڑکے کی گفتگو سننا شروع کر دیتا ۔ اور پھر ان کے پیچھے یوں تیزی سے جاتا کہ ٹرک کا پتہ بھی نہیں چلتا اور مر جاتا۔ ویسے نصابی کتب میں یہ مکالمہ نہیں ہے۔ یوں بھی افسانوں کا ختنہ کرنے کے بعد ہی انہیں شامل نصاب کیا جاتا۔ احمد ندیم قاسمی کا فسانہ دیکھ لیں مولوی ابل والا۔

    بات دور نکل گئی۔ تو میں پھر قریب پہنچا ۔ دیکھا کہ ایک ہی موجود ۔ تلاش کیا مگر نہ ملا ۔ کمرے میں آ کے کپڑے تبدیل کرنے لگا تو حضرت بائیں کندھے پہ کراماً کاتبین کی طرح موجود۔ لو جی ۔۔۔۔ایہہ تے سچ مچ یاری دے چکراں اچ اے۔ واپس چھوڑا۔ دونوں نمونوں کو ایک پھول پہ بٹھایا بلکہ ان کی پپیاں جپھیاں بھی کروائیں زبردستی ۔ کچھ دیر بعد خدا حافظ کہنے گیا انہیں تو اب دونوں الگ الگ پھولوں پہ تھے۔ ارینج میرج ٹائپ جوڑے کی طرح۔ سخت مایوسی ہوئی۔

    پرئنگ مینٹس کا تعلق حشرات کے mantodea آرڈر سے ہے۔ اب تک اس کے 30 خاندان اور2400 انواع دریافت ہو چکیں ۔ خوراک کے معاملے میں گوشت خور ہیں کٹّر قسم کے ۔ نان ویجیٹیرین ۔ تمام حشرات میں ان کی نظر سب سے تیز ہوتی۔ ماہر شکاری اور نہایت ہمت والے۔ کبھی مقابل سے گھبراتے نہیں ۔ چھوٹے مینڈک ، چھوٹی چھپکلیاں، چھوٹے سانپ ، کیڑے مکوڑے وغیرہ کا شکار کرتے اور منٹوں میں کتر ڈالتے انہیں۔ اگلے بازوؤں پہ کانٹے نما سی چیز ہوتی سخت سی۔ شکار کو جکڑ لیتے۔ زندہ جاندار کھاتے ، مردہ نہیں ۔ حشرات میں یہ واحد ہیں جو اپنا سر انسان انسان کی طرح دائیں بائیں گھما سکتے۔ اوسط عمر ایک سال ہوتی۔

    پرندے اور چھپکلیاں ان کا شکار کرتیں ۔ اور بعض اقسام کی بھڑیں بھی ۔ مقابلہ خوب کرتے۔ یوٹیوب پہ سرچ کر سکتے ۔ تکونی سر اور دعا کی طرح اٹھے ہاتھ ہوتے ان کے ۔ یہ کسی چیز کو کاٹ بھی سکتے اور چبا بھی سکتے۔

    ایک اور خاص بات ، کہ اگر مادہ کسی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اپنے مجازی خدا کا سر کھا جاتی ہے۔ یہ عادت ویسے تمام ماداؤں میں مشترکہ ہے ۔۔۔سر کھانے کی ۔ نر ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

  • میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    یونیورسٹی آف ٹیکساس سے کاروبار میں ڈگری یافتہ طلباء کی تقریب میں میکڈونلڈ کے مالک رے کروک نے پوچھا تھا بتاو میرا بزنس کیا ہے.؟ اور سب طلباء ہنس پڑے. بھلا میکڈونلڈ کے بزنس کا کس کو پتہ نہیں ہوگا..؟

    مارکیٹ بھی ایک ایسی جگہ ہے جہاں جب آپ کسی سے پوچھتے ہیں تمہیں کاروبار کی سمجھ ہے تو اکثریت باقاعدہ ہنس کر کہتی ہے بھلا کاروبار کی سمجھ بھی کوئی مشکل کام ہے.؟ کیونکہ اکثریت کاروبار بس مارکیٹ میں اپنے نام کا بورڈ لگانا سمجھتی ہے. آپ کسی کو سفید کاغذ اور ایک قلم دے کر بولیں اپنی مرضی کا کچھ بھی لکھ دو تو اسی فیصد افراد اپنا نام لکھ لیتے ہیں. وہ نام جسے وہ اپنی پہچان سمجھتے ہیں. وہ نام جو دیا ہی کسی دوسرے نے ہوتا ہے.

    اکثریت کاروبار کو بھی ایسا ہی سمجھتی ہے. بس اپنا نام لکھ کر بورڈ مارکیٹ میں لگا دو. کاروبار ساکھ اور پہچان کا نام ضرور ہے. جیسے رے کروک کے سوال پر بزنس کی ڈگریاں لینے والے ہنس دئے. یہ بھی بھلا کوئی سوال ہے.؟ کیونکہ انہوں نے بزنس پڑھ تو لیا تھا عملی میدان میں ابھی سمجھا نہیں تھا. لیکن ساکھ کاروبار سمجھ آنے کے بعد بنتی ہے.

    رے کروک یعنی میکڈونلڈ کا بزنس بھی برگر بیچنا نہیں بلکہ رئیل سٹیٹ ہے. یہ زمین لیتا ہے. اسے فرنچائز کر کے کرایہ لیتا ہے. اپنے ہی کرائے دار کو پھر اپنی چیزیں بیچتا ہے. اور جب اس پراپرٹی کی قیمت بہت بڑھ جائے تو اسے بیچ کر کسی دوسری سستی جگہ پھر سلسلہ شروع کر دیتا ہے. آپ کیا سمجھتے ہیں میکڈونلڈ برگر بیچ کر ملٹی نیشنل کمپنی بنی ہے.؟