Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد ایک بہت دلچسپ واقعہ ہونا ہے ، یہ واقعہ ایک مرتبہ ٹھیک آج کے دن یعنی 13 نومبر 1833ء میں بھی ہوا تھا ، تب اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر امیرکہ کے ریڈ انڈین قبیلوں میں سے ایک لڑاکے قبیلے cheyenne نے آس پاس کے قبائل سے صلح کر لی تھی ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد ایک دوسرے ریڈ انڈین قبیلے lakota نے اپنے سالانہ کیلنڈر کا آغاز کر لیا تھا ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد کچھ عیسائی پادریوں نے تو اپنی ڈائری میں یہاں تک لکھ لیا تھا کہ اب بس ہم کسی بھی دن حضرت عیسیٰؑ کو دوبارہ آتے ہوئے دیکھیں گے ۔

    لیکن ایک بات کو تقریباً ہر شخص نے محسوس کیا تھا کہ شاید ، یہ قیامت کی پہلی رات ہے ۔

    اس رات انہوں نے آسمان سے ایک لاکھ ٹوٹتے ہوئے تاروں کی بارش ہوتے دیکھی تھی ۔

    یہ واقعہ اس لیے ہوا تھا کیونکہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے ایک بہت ہی خاص جگہ سے گزری تھی ، ایک دمدار ستارے کی ٹوٹ کر بکھرتی ہوئی دم کے راستے سے … اور وہاں سے گزرتے ہوئے جب ہماری زمین نے ان ٹوٹے ٹکڑوں کو تیزی کے ساتھ اپنی طرف کھینچا تو دیکھنے والوں کو یوں لگا کہ جیسے لاکھوں تارے ٹوٹ کر زمین پر گر رہے ہوں اور یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے شہابیوں کا طوفان کہلاتا ہے ۔

    میں آپ کو اٹھارہویں صدی کے اخبارات کی کچھ اوریجنل ڈرائینگز دکھا دیتا ہوں جس میں انہوں نے اس رات کا منظر اس طرح بنایا ہے جیسا انہوں نے خود دیکھا تھا ۔

    پانچ دن بعد یعنی 19 نومبر کو ہماری زمین نے ایک مرتبہ پھر اسی جگہ سے گزرنا ہے ۔

    اس بار تو شاید 1833ء کی طرح لاکھوں تارے ٹوٹتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے کیوں کہ اس مرتبہ وہ دمدار ستارہ ہماری زمین سے تھوڑا سا دور ہو کر گزرا ہے ۔

    لیکن چند سال بعد اس دمدار ستارے نے ایک بار پھر ہماری زمین کے قریب سے گزرنا ہے اور اگر اللہ نے زندگی دی تو تب … ایک اور رات ایسی آنی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر ، شہابیوں کاطوفان برپا ہو گا ۔

    شہابیوں کا ذکر قرآن پاک میں کئی مرتبہ ہے اور چالیس ہزار سالوں کی سیریز کے دسویں چیپٹر کے اندر میں آپ کو ان کے متعلق ان شاء اللہ کچھ حیران کن باتیں بتانے والا ہوں ، انفیکٹ … میں آپ کو دو ایسے شہروں کے داستان سناؤں گا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کروڑوں شہابیئے بھیجے تھے ۔

    اور اس وقت انہوں نے کیا محسوس کیا ہوگا ؟

    اس کی حرف بہ حرف ڈسکرپشن چائنہ کے ایک قدیم دستاویز

    ’’آسمان میں پیش آنے والے تمام واقعات‘‘

    میں لکھے ہوئے ایک similar واقعے کے ذریعے کروڑوں شہابیوں والی رات کا واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا ۔

    ان شاء اللہ وہ سب اپنے وقت پر ، لیکن پانچ دن بعد ، کوشش کیجیئے گا کہ شہر کی light pollution سے دور جا کر اس دمدار ستارے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو زمین پر گرنے کے breath-taking منظر کو ضرور دیکھیئے گا ۔

  • ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ نکلے

    ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ نکلے

    ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ ہوگئے.
    میلبرن میں ٹی20 ورلڈکپ فائنل کے بعد پاکستانی شائقین کرکٹ نے بھارتی جرنلسٹ وکرانت گپتا کو گھیر لیا۔ ٹی20 ورلڈکپ فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی شائقین کرکٹ نے اسٹیڈیم کے باہر بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا گھیر لیا اور کچھ دلچسپ سوالات کیے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحافی وکرانت گپتا شائقین کرکٹ کے سوالات کا جواب دے رہے ہیں جبکہ فائنل میں پاکستانی بالنگ لائن کی بھی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں۔


    انہوں نے کہا کہ ایونٹ میں پاکستانی بالرز نے ٹاپ پرفارمنس دی جس کی وجہ سے قومی ٹیم فائنل میں پہنچ سکی، وکرانت نے بتایا کہ سال 2003 کے ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کو آسٹریلیا سے شکست ہوئی اسکے بعد ٹیم میں تبدیلیاں ہوئیں اور پھر وہی ٹیم 8 سال بعد چیمپیئن بننے میں کامیاب ہوئی۔ بھارتی صحافی نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم ورلڈکپ میں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، جب یہ ٹیم تجربہ حاصل کرے گی تو چیمپیئن بنے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    واضح رہے ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 کا فائنل پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میلبرن میں کھیلا گیا تھا جس میں پاکستان ہار گیا تھا. جبکہ فائنل ہارنے کے باوجود پاکستان کو 8 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ملی. انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 میں شامل ٹیموں کے لئے نقد انعامات کا اعلان کیا تھا۔ آئی سی سی کے مطابق فائنل کی فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالر (35 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) ملے۔

  • واٹس ایپ  کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا

    واٹس ایپ کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا

    واٹس ایپ کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا۔

    واٹس ایپ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیٹنگ ایپس میں سے ایک رہی ہے۔ اسے روزانہ لاکھوں صارفین استعمال کرتے ہیں۔ واٹس ایپ اپنے صارفین کی آسانی کے لیے وقتاًفوقتاً نئے فیچرز سامنے لاتا رہتا ہے۔ واٹس ایپ کے ٹیب بار میں صارفین کو دو نئے آئیکن دکھائی دے رہے ہیں ۔ صارفین کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہے ہیں کہ یہ آئیکن کن فیچرز کے لیے ہیں اور ان کا کیا مقصد ہے۔

    حال ہی میں متعارف کروایا گیا کمیونٹیز فیچر اب پاکستان اور اس کے ارد گرد کے خطے میں بھی صارفین کو مہیا کر دیا گیا ہے۔ واٹس ایپ میں ٹیب بار کے اوپر بائیں کونے میں تین لوگوں کا آئیکن دکھایا گیا ۔ اسکو کلک کرتے ہی آپ کمیونٹیز میں شامل گروپس اور چیٹس کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہی فیچر ڈسک ٹاپ پر بھی دستیاب ہے۔ کمیونٹیز فیچرز کے تحت متعدد گروپس کو ایک ہی باکس میں شامل کیا جا سکتا ہے اور گروپ ایڈمن سمیت صارفین ایک ہی باکس میں جاکر معلومات حاصل کرنے سمیت معلومات کو منتقل بھی کر سکتے ہیں۔

    کمیونٹیز فیچرز کے تحت کوئی بھی ایڈمن ایک جیسے متعدد گروپ ایک ساتھ ایڈ کر سکتا ہے اور وہ ایک ہی چیٹ سے تمام گروپس میں میسج بھی بھیج سکتا ہے۔ واٹس ایپ میں ٹیب بار میں نظر آنے والا کیمرے کا آئیکن بھی صارفین کے لیے نیا ہے۔ اس آئیکن کا کام تو پرانا ہے لیکن اسے ٹیب بار میں اوپر دائیں کونے میں سرچ بٹن کے ساتھ نئی جگہ دی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    پہلے کی طرح ہی اس آئیکن پر کلک کر کے صارفین براہ راست کیمرے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے بعد جسے چاہیں بھیج سکیں گے۔ اس سے قبل یہ آئیکن ٹیب بار میں بائیں جانب چیٹس کے ساتھ موجود تھا جہاں اب کمیونٹیز کے آئیکن کو جگہ دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس فیچر کو 3 نومبر کو دنیا بھر میں پیش کیا گیا تھا تاہم واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ اسے تمام صارفین تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

  • ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھا گیا. نجم سیٹھی کا دعویٰ

    ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھا گیا. نجم سیٹھی کا دعویٰ

    ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ایک ٹی وی شو میں سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی اور فخرزمان کو انجریز تھیں، فزیو ان کا علاج نہیں کرسکتا، بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ نے لندن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جاوید مغل کو اسکواڈ کے ساتھ بھیجا،مگر ورلڈکپ میں سینئر کرکٹرز، مینجمنٹ اور فزیو کلف ڈیکن کی ان کے ساتھ نہیں بنی،ڈاکٹر جاوید کو ایک طرف کرکے انجریز کا معاملہ فزیو کے سپرد کردیا گیا۔

    ڈاکٹر نے رمیز راجہ سے شکایت کی کہ میں ڈریسنگ روم میں بھی نہیں آسکتا، یہ ٹینشن ساتھ چل رہی تھی، ڈاکٹر شاید شاہین شاہ آفریدی کو نہ کھلانے کا فیصلہ کرتے،یہ کوئی پیشہ ورانہ رویہ نہیں ہے، اسٹار بولر کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا،اب شاید ان کو فٹ ہونے میں 2 سے 3ماہ لگ جائیں۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ورلڈکپ سے قبل بھی پاکستان نے 3ایونٹس میں شرکت کی مگر مڈل آرڈر کے مسائل حل نہیں ہوئے،یہی شبہات رہتے کہ چلیں گے یا نہیں،تجربے کی کمی تھی،اس لیے صورتحال کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں تھا،اوپنرز فیل ہوئے تو لائن لگ گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کیخلاف سیمی فائنل میں بابر اعظم اور محمد رضوان نے اسکور کیا تو آسانی سے جیت گئے، فائنل میں اوپنرزنے پرفارم نہیں کیا تو مڈل آرڈر بھی ناکام ہوئی،کئی پلیئرز کو ساتھ لے کر گئے مگر کھلایا ہی نہیں۔ سابق بورڈ چیئرمین نے کہا کہ لگتا ہے کہ سفارش بھی چل رہی ہے،ٹیم سلیکشن میں مداخلت رہی،لوگوں کے فیورٹس تھے،ہدایات صرف پی سی بی کے اندر سے نہیں باہرسے بھی آرہی تھیں،مسائل کا حل تلاش نہ کیا گیا تو کارکردگی میں تسلسل نہیں آسکے گا۔

  • ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    جہاز اپنے سفر کے اختتام پر لینڈ ہوا. پونے تین سو سواریاں بے چینی سے سیٹ بیلٹ کھولنے کو بے تاب اس کے رکنے کا انتظار کر رہی ہیں. ابھی جہاز کھڑا نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں نے اپنا دستی سامان نکالنا شروع کر دیا ہے. ابھی دروازے نہیں کھلے لیکن لوگ کھڑے ہوگئے ہیں. سب کو جلدی ہے. سب کو اپنی اپنی جلدی ہے.

    دروازہ کھلا لوگ بے چینی سے نکلنا شروع ہوئے دروازے پر ایک دو ائیر ہوسٹس ٹافیوں کی ٹوکری ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں. لوگ اس میں سے ایک دو ٹافیاں اٹھا کر نکل رہے ہیں. لوگوں کی ہزار کہانیاں ہوں گی. جہاز کی ایک ہی کہانی ہے. اس نے اپنے چند افراد ایک بڑی مشین فضا کے پل پل بدلتے غیر متوقع موسم میں ان پونے تین سو افراد سے کرایہ لے کر منزل پر پہنچایا. آپ لاکھ کوشش کر لیں سہولیات دے دیں آپ نہ سب کو مطمئن کر سکتے ہیں نہ سو فیصد بہترین دے سکتے ہیں.

    البتہ آپ رخصت کرتے ان کو مسکرا کر الوداع کہہ سکتے ہیں. آپ بھلے ایک ٹافی ہی ہو کچھ میٹھی یادیں دے سکتے ہیں جو منہ میں ڈالے جانے کیلئے بے تاب اس فرد کو اپنی مٹھاس سے بتائے گی یار اتنا بھی برا سفر نہ تھا. سفر میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے. یہ دنیا لین دین پر کھڑی ہے. ہم ہر رشتے ہر تعلق اور زندگی کے ہر میدان میں کچھ دیتے اور کچھ لیتے ہیں. جب یہ لین دین یکطرفہ ہو جائے تو کھاتہ بند ہو جاتا ہے.

    ٹوکیو شہر خوش اخلاقی ایمانداری میں پہلے نمبر پر کیوں آگیا.؟ کیونکہ وہاں یہ باہمی لین دین اچھا ہے. وہاں ٹرین پر آپ سے کچھ گم ہو جائے تو ستر فیصد چانس ہیں وہ آپ کو واپس مل جائے گا. کیا ہمارے کسی شہر میں آپ یہ توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہمیں خود یہ توقع نہیں تو ہم اس قطار میں پھر شمار ہی کیسے ہو سکتے ہیں.

    سب کی ہزاروں کہانیاں ہوں گی ہزاروں وجوہات ہوں گی. لیکن اپنی ذات پر ہماری ایک ہی کہانی ہے. ہمارا اپنا لین دین کیسا ہے؟ کیا ہم صرف لینا جانتے ہیں یا معاشرے کو کچھ دینے کی بھی ہمت ہے.؟ بھلے ایک ٹافی کی سکت نہ ہو تو کیا ہم خوش اخلاقی کی مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتے.؟ کیوں ہم لینا تو حق سمجھ لیتے ہیں لیکن کچھ دیتے آنکھیں چراتے ہیں؟جبکہ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے. جیسے ٹوکیو شہر کے لوگ آج اوپر ہیں.

  • نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    کتنی عجیب بات ہے ہر خوش فرد کی کہانی ایک ہی ہوتی ہے. وہ بس خوش ہوتا ہے. لیکن ہر ناخوش مایوس فرد کی کہانی منفرد ہوتی ہے. اس کی وجوہات الگ ہوتی ہیں. امریکہ کے قدیم باشندے اپنے عقل مندوں دانشوروں کو شامان کہتے تھے. ان میں سے کسی شامان نے کچھ وجوہات اکھٹی کی تھیں . آپ اگر مایوس اور نا خوش ہیں تو اپنی وجہ اس میں تلاش کر لیں.

    شامان سے پوچھا گیا زہر کیا ہے.؟ شامان نے کہا ہر وہ چیز جو ہمارے پاس ہماری ضرورت سے زیادہ ہو چاہے پھر وہ طاقت ہو مال ہو جائیداد ہو خود نمائی کی چاہت و غرور ہو.

    پوچھا خوف کیا ہے.؟ کہا خطرہ یا عدم تحفظ کو قبول نہ کرنا. کیونکہ جب ہم اسے تسلیم کر لیتے ہیں تب یہ خوف نہیں ایڈونچر بن جاتا ہے.

    کہا حسد کیا ہے.؟ کہا دوسروں کی اچھائی تسلیم نہ کرنا. کیونکہ جب ہم دوسروں کی اچھائی مان لیتے ہیں تب وہ حسد نہیں انسپائریشن بن جاتی ہے.

    کہا غصہ کیا ہے.؟ کہا یہ تسلیم نہ کرنا کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تب یہی غصہ صبر و برداشت بن جاتا ہے.

    پوچھا نفرت کیا ہے.؟ کہا یہ قبول نہ کرنا کہ لوگ منفرد ہیں. وہ جیسے ہیں ایسے ہی ہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تو نفرت محبت بن جاتی ہے.

  • اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا

    اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا

    اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا ہے

    اسلام ٹین پن بائولنگ ایسوسی ایشن کے زیراہتمام کھیلی گئی اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن مردوں اور نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا ۔ مردوں کے ایونٹ میں جنید خان اور رانا افضال اختر بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اسی طرح خواتین کے ایونٹ میں روزینہ اور نادیہ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔ چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی طحہ مال راولپنڈی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک ریاض خان تھے جہنوں نے کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں کیش ایوارڈ، ٹرافیاں اور میڈلز تقسیم کئے۔ مردوں کی کیٹیگری میں اول آنے والے کھلاڑی دنیال الرحمن کو دس ہزار روپے بمعہ ونرٹرافی، دوئم آنے والے کھلاڑی جنید خان کو سات ہزار روپے بمعہ رنر اپ ٹرافی اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی رانا افضال اختر تین ہزار روپے کیش ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس موقع پر پاکستان ٹین پن بائولنگ فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمن کے علاوہ شائقین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کی رہائشگاہ پر 90 لاکھ روپے کے بلٹ پروف شیشے لگائے جائیں گے
    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ
    چین اور ایران امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرارہے ہیں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن
    لیزر سٹی باؤلنگ کلب جناح پارک راولپنڈی میں کھیلے گئے اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں مردوں کے ایونٹ میں دنیال الرحمن نے 421 سکور کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ جنید خان 368 سکور کے ساتھ اور رانا افضال اختر 359 سکور کے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اس سے ایک روز قبل کھیلے گئے خواتین کے فائنل مقابلوں میں نور نے 165 سکور کے ساتھ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا جبکہ روزینہ نے 124 سکور کے ساتھ دوسری اور نادیہ نے 66 سکور کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ایونٹ میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے سو سے زائد کھلاڑیوں نےحصہ لیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی طحہ مال راولپنڈی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک ریاض خان نے کہاکہ کھلاڑی قوم کا سرمایہ اور اثاثہ ہیں اور کھیل کے میدان میں ان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہی کھلاڑی امن کے سفیر ہوتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔ آخر پر پاکستان ٹین پن بائولنگ فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمن نے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔

  • سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    1957 میں سویت یونین نے سپٹنیک کے نام سے پہلا انسانی سٹلائیٹ خلا میں بھیجا۔ یہ سٹلائیٹ ایک تجرباتی سٹلائیٹ تھا جسکا مقصد سٹلائیٹ ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ اور زمین تک سٹلائیٹ کے ریڈیو کمیونکیشن کو چیک کرنا تھا۔ اس تجربے کی کامیابی کے بعد خلا میں سٹلائیٹ ٹیکنالوجی نے مزید پیش رفت کی۔ اس دوڑ میں امریکہ بھی شامل ہوا اور بعد میں دنیا کے دیگر ترقی یاقتہ ممالک بھی۔

    سٹلائیٹ ٹیکنالوجی آج کے جدید دور کی کمیونکیشن، خلا سے زمین کے جائزے، موسموں کے بدلاؤ، زمین کے جغرافیے میں تبدیلی، جی پی ایس جس سے آپ روز گوگل میپ کے ذریعے راستے معلوم کرتے ہیں اور دیگر کئی اہم شعبوں میں استعمال ہوتی ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق اس وقت خلا میں 5500 سے زائد سٹلائیٹ زمین کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جبکہ 2030 تک انکی تعداد 58 ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔ ان میں دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سٹلائیٹ بھی شامل ہیں اور سویلین مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بھی۔

    سیٹلائیٹ خلا میں مختلف طرح کے مدار میں زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کمیونیکیشن سٹلائیٹ جن سے ٹیلی وژن، انٹرنیٹ یا ریڈیو کمیونکیشن کی جاتی ہے جیوسٹیشنری مدار میں ہوتے ہیں۔ یعنی یہ زمین کے خطِ استوا کے اوپر خلا میں زمین کی محوری گردش کے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں۔ یوں یہ ہر وقت زمین پر ایک ہی علاقے میں مسلسل کوریج کر سکتے ہیں۔ اسکا فائدہ یہ ہے کہ زمین پر لگے ریسورز کو بار بار انہیں ٹریک نہیں کرنا پڑتا۔ یوں آپکے گھروں میں موجود ڈش اینٹینا ایک ہی رخ میں مختلف سٹلائیٹ کے سگنل پکڑ سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زمین کی سطح سے تقریبا 35 ہزار، 786 کلومیٹر اوپر تک ہوتے ہیں۔ ان سے اوپر کے مدار میں موجود سٹلائٹس کو ہائی ارتھ آربٹ سٹلائٹ کہا جاتا ہے۔ اس مدار میں کم ہی سٹلائٹ یا خلائی دوربینیں ہوتی ہیں۔

    اسی طرح کچھ سٹلائیٹ پولر مدار میں گھومتے ہیں یعنی زمین کے خطِ استوا کے اوپر گھومنے کی بجائے قطبین کے قریب سے شمال سے جنوب کیطرف زمین کا چکر لگاتے ہیں۔ اس طرح۔ سٹلائیٹ زمین کی محوری گردش کے باعث اسکے ہر حصے کو کور کر سکتے ہیں۔ گویا یہ ہر روز ایک خاص وقت پر زمین کے ایک خاص حصے کے اوپر ہونگے۔ مثال کے طور پر ایک سٹلائیٹ روزانہ 10 بج کر 15 منٹ پر لاہور کے اوپر سے گزرے گا یا شام کے 5 بجے ہر روز اسلام آباد کے اوپر سے(یہ محض مثال دے رہا ہوں). اس طرح کے سٹلائیٹ سے آپ زمین کی مختلف جگہوں کی تصاویر مختلف اوقات میں با آسانی لے سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زیادہ تر موسموں کی پیشن گوئی ، طوفان اور زمین ہر دیگر آفات کی مانیٹرنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انکا مدار زمین کی سطح کے اوپر 200 سے 1000 کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ پاکستانی خلائی ایجنسی سپارکو کا چائنہ میڈ سیٹلائٹ جسے 2018 میں بھیجا گیا وہ بھی ایسے ہی مدار میں گھوم رہا ہے۔

    ایسے ہی کچھ سٹلائیٹ لو ارتھ آربٹ میں گھومتے ہیں یعنی وہ سٹلائٹ جو زمین سے کافی قریب ہوتے ہیں۔ کتنے؟ کم سے کم زمین کی سطح سے 160 کلومیٹر اوپر اور زیادہ سے زیادہ 1 ہزار کلومیٹر ۔ ان میں ناسا کی ہبل ٹیلی سکوپ یا انٹرنیشنل سپیس سٹیشن بھی شامل ہیں۔ یہ جیو سٹیشنری سٹلائٹ نہیں ہوتے یعنی یہ زمین کی محوری گردش سے نہیں جڑے ہوتے اس لیے یہ آپکو ایک وقت میں ایک جگہ اور دوسرے وقت میں آسمان میں دوسری جگہ نظر آئیں گے۔

    فہرست تو طویل ہے مگر ایک اور طرح کے سٹلائیٹ جو جی پی ایس سٹلائیٹ ہوتے ہیں وہ میڈیم ارتھ آربٹ میں ہوتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 20 ہزار کلومیٹر سے اوپر ہوتے ہیں۔ اور یہ مختلف مداروں میں گھومتے ہیں تاکہ ہر وقت چار سے پانچ سٹلائیٹ کے سگنل ایک جگہ پر آ سکیں جس سے آپکے سمارٹ فون میں لگے جی پی ایس اینٹنا انکے سگنل کو پکڑ کر ان سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کے تحت زمین پر آپکی پوزیشن بتا سکیں اور یوں آپ گوگل میپ کے ذریعے راستے ڈھوند سکیں۔

    اُمید ہے اگلی بار آپ یہ نہیں کہیں گے کہ انسان تو آج تک خلا میں ہی نہیں گئے۔ اگر کہیں گے تو اُمید ہے کہ اپنے موبائل فون سے ہرگز نہیں کہیں گے کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی خلا میں موجود سٹلائیٹ ہی یہ مسیج ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا رابطہ بن رہا ہوگا۔ اور اُمید ہے کہ اگر آپکو یہ یقین نہیں کہ انسان یا انسانوں کے بنائے سٹلائیٹ کبھی خلا میں نہیں گئے تو آپ گوگل میپس کی بجائے لوگوں سے راستہ پوچھنے پر اکتفا کریں گے(ایسے میں احتیاط کیجیے گا لاہوریوں سے راستہ مت پوچھیں۔ وہ آپکو مینارِ پاکستان کی بجائے شاہ دی کھوئی بھیج دیں گے)۔

  • ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ 1923 کی بات ہے جب انسان ابھی خلاؤں میں سفر کے خواب دیکھ رہا تھا , ایسے میں جرمن سائنسدان ہیرمان اوبرتھ جنہیں جدید راکٹ ٹیکنالوجی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا یے ، نے ایک کتاب لکھی : "The Rocket into Planetary Space”.

    اس کتاب میں راکٹ ٹیکنالوجی کے خدو خال اور خلا میں اسکے استعمال سے تسخیرِ کائنات کے پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا۔ اسی کتاب میں انہوں نے ذکر کیا کہ کیسے ایک دوربین کو راکٹ کے زریعے خلا میں زمین کے گرد مدار میں چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے چھپنے کے 23 سال بعد یعنی 1946 میں امریکی ماہرِ فلکی طبعیات "لےمین سپٹزر ” نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں جدید خلائی دوربین اور اسکے فوائد کا ذکر کیا۔ انکا مقدمہ یہ تھا کہ خلائی دوربین زمین کی خوربینوں کے مشاہدات میں اضافہ کے لئے نہیں بلکہ ایسے نئے مشاہدات کے حصول کے لیے بنائی جائےجو ہمیں کائنات کو نئی پہلوؤں سے سمجھنے میں مدد دے۔

    کئی دہائیاں گزرنے اور کئی انسانوں کے سامنے یہ مقدمہ رکھنے کے بعد بالآخر وہ وقت آ گیا جب ناسا نے پہلی جدید خلائی دوربین ہبل کے نام سے 24 اپریل 1990 کو خلا میں بھیجی۔ انسانی تاریخ کی پہلی خلائی دوربین کا نام بیسوی صدی کے مشہور ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل کے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنہوں نے طویل کائناتی مشاہدات کے بات انسانوں کو خبر دی کہ وہ ایک ایسی کائنات کا حصہ ہیں جو مسلسل پھیل رہی ہے اوریہ کائنات محض ہماری کہکشاں ملکی وے نہیں بلکہ اربوں کہکشاؤں پر محیط ہے۔

    1977 سے تعمیر کی جانے والی یہ جدید خلائی دوربین جس پر آج کے افراطِ زر کے مطابق 16 ارب ڈالر خرچ ہوئے اور جسے اپنے ہدف یعنی 1983 میں لانچ کرنے کی بجائے سات سال تاخیر سے یعنی 1990 میں، جب خلا میں بھیجا گیا تو اس سے موصول ہونے والی پہلی تصاویر نے سائنسدانوں کے ارمانوں ہر پانی پھیر دیا۔

    ہبل کی تصاویر دھندلی تھیں!! اسکے 2.4 میٹر بڑے مِرر میں معمولی سا خلل تھا جو اس پر پڑنے والی روشنی کو ایک جگہ جمع نہیں کر پا رہا تھا جس سے تصاویر دھندلی ہو رہی تھیں۔ خوش قسمتی سے ہبل ٹیلکسکوپ زمین سے 547 کلومیٹر اوپر خلا میں تھی لہذا فیصلہ کیا گیا کہ اسکی مرمت کے لئے مشن بھیجا جائے۔ ہبل کی مرمت کے لئے پہلا مشن دسمبر 1993 میں بھیجا گیا۔ ڈیڑھ ہفتے سے زائد یہ مشن جاری رہا۔ اس مشن کے دوران خلا میں ناسا کی سپیس شٹل کے ذریعے خلاباز ہبل ٹیلکسکوپ کی مرمت کرتے رہے۔اسکےساتھ ساتھ زمین پر ناسا کے انجینئرز دن رات اس مرمت کا جائزہ لیتے رہے اور اس بات کو یقینی بناتے رہے کہ ہبل سے آنے والی تصاویر بہتر سے بہتر ہو جائیں۔ بالآخر یہ مشن کامیاب رہا۔ ہبل صحیح سے کام کرنے لگی۔

    اس مرمت کے 4 سال بعد یعنی 1997 میں ایک دوسرے مشن کے ذریعے ہبل کے مشاہدہ کرنے کے آلات میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اب تک ہبل کی مرمت اور اسکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کل پانچ مشنز بھیجے جا چکے ہیں جن میں آخری مشن 2009 میں بھیجا گیا۔

    ہبل ٹیلی سکوپ خلا میں انسان کی پہلی آنکھ تھی۔ اس ٹیلی سکوپ نے ہمیں بتایا کہ کائنات کتنی وسیع ہے۔ کائنات انسان کی سوچ سے بھی وسیع ہے۔

    ہبل نے ہمیں بتایا کہ یہاں ستاروں کو کھا جانے والے بلیک ہولز بھی ہیں اور ایسے ستارے بھی جو سورج سے ہزاروں گنا بڑے۔ یہاں ہر روز نئے ستارے بنتے بھی ہیں اور اپنے انجام کو بھی پہنچتے ہیں۔
    یہاں ہمارے نظامِ شمسی کے علاوہ اربوں نظامِ شمسی ہیں اور زمین کیطرح کے لاتعداد سیارے بھی۔ یہاں مشتری کے چاند بھی ہیں جن میں بانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور اسی سرد دنیائیں بھی جنکی برفیلی تہوں میں گرم پانیوں کے سمندر ٹھاٹھیں مارتے ہیں۔ یہاں ایسے سیارے بھی ہیں جہاں ہیروں کی بارش ہوتی ہے اور ایسے بھی جنکے آسمانوں سے آگ برستی ہے۔
    یہاں ایسی کہکشائیں بھی ہیں جو ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں اتنی دور کہ ہماری آنے والی نسلیں اّنہیں دیکھ بھی نہ پائیں گی۔ ممکن ہے اُن کہکشاؤں میں بھی کہیں انسان بستے ہوں جن سے ہم کبھی رابطہ نہ کر سکیں۔

    لوگ پوچھتے ہیں کہ ہبل پر اتنا پیسہ لگا کر انسانیت نے کیا حاصل کیا؟
    میں کہتا ہوں کہ ہبل ٹیلیسکوپ نے انسانوں کو کائنات کی وسعتوں میں اپنے مقام سے آگاہ کیا ہے۔کیا اس سے بڑی بات کوئی خدمت ہو سکتی ہے؟

    ہبل دراصل خلا میں ہماری ظاہری آنکھ نہیں باطن کی آنکھ ہے جس سے ہم ادراک پاتے ہیں کہ کائنات میں ہماری حیثیت ایک چھوٹے سے سیارے پر گھومتی مخلوق سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہم جو آئے روز ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہیں، نظریات کے نام پر نفرتوں کے بیچ بوتے ہیں، اپنی انا کے جھوٹے دائروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جہالت کے اندھیروں میں انسانیت کا قتل کرتے ہیں۔ ہم اس وسیع کائنات میں کس قدر اکیلے ہیں۔ ہبل کی تصاویر کو دیکھتے ہوئے اگر آپکی آنکھوں میں آنسوؤں نہیں آتے تو آپ اندر سے مر چکے ہیں۔ کائنات میں زندہ رہنے کا ایک ہی اصول ہے کہ اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھا جائے۔

    30 سال سے خلا میں کام کرتی یہ دوربین ہبل شاید 2040 تک ہمیں مزید فلکی نظارے دکھائے گی۔ جسکے بعد یہ اپنے مدار سے نکل کر تیزی سے زمین کی فضا میں داخل ہو گی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحرالکاہل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔ جس سے خلا میں انسانی تسخیر کے ایک عہد ساز باب کا اختتام ہو گا۔

    مگر جب تک ہبل خلا میں کام کر رہی ہے، تب تک: ” ہبل تو جیے سالہا سال!!!”

  • ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ٹوئیٹر فیس بک کے بعد امازون نے دس ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے…!

    جی ہاں…

    وجہ کیا ہے؟ جی ملازمین کو دینے کے لیے پیسے نہیں اور ملازمین جو کام کرتے ہیں انسانی ربورٹ ان سے کہیں بہتر انداز میں کر سکتے ہیں. نہ ربورٹس چھٹیاں مانگتے ہیں نہ بلاوجہ بیمار ہوتے ہیں. نہ تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں نہ ہڈحرامی کرتے ہیں. اس لئے کمپنی مالکان کے لیے انسانی ملازمین کی بجائے ربورٹس زیادہ مفید ہیں.

    اب لندن امریکہ کی سڑکوں پر ایمزون کے نکالے گئے ملازمین بھیک مانگتے نظر آئیں گے کہ جی ہمیں جو کچھ آتا تھا وہ اب ربورٹس نے سنبھال لیا اور ہم اب کیا کریں.

    یاد رہے کمپنی ملازمتوں سے ربورٹس انسانوں کو نہیں نکال رہے بلکہ انسان انسانوں کو نکال رہے ہیں. اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے ربورٹس بنانا سیکھ لیا اور ان ربورٹس کی وجہ سے وہ لوگ ناکارہ ہیں جنہیں نہ آئی ٹی کا علم، نہ آرٹیفشل انٹیلیجنس کا علم، نہ ربورٹس کا علم اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی کا. باس کے سامنے یس سر یس سر کرنے والے انسان اب کسی کام کے نہیں. ربورٹس سے یس سر یس سر کروانے والے آئی ٹی ایکسپرٹ کام کے ہیں.

    ربورٹس آپ کی زندگی میں گھس چکے ہیں. کہیں کمپیوٹر کی شکل میں، کہیں ڈرون کیمرہ مین کی شکل میں، کہیں پیکنگ مشین کی شکل میں، اور کہیں آرمرڈ فورس کی شکل میں. اب جہاں جہاں وہ پہنچ رہے ہیں انسانوں کو نکالے جا رہے ہیں.

    ایک انسان کی وہ قسم ہے جو ان ربورٹس کو گھر سے بیٹھ کر آپریٹ کر رہا ہے اور پانچوں انگلیاں گھی میں ڈال چکا ہے اور دوسرا انسان وہ ہے جو رو رہا ہے کہ ان منحوس ربورٹس کی وجہ سے میری جاب چلی گئی. وہ روبوٹس کی آمد پر تو رو رہا ہے لیکن ان ربورٹس کو آپریٹ کرنے کا طریقہ نہیں سیکھ رہا اور اس وجہ سے اس کی یہ حالت ہو چکی ہے.

    اب دل تو کرتا ہے سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے بحث و مباحثہ کرنے والے احباب کے متعلق کافی کچھ تحریر کروں لیکن بس اتنا کہوں گا کہ ساری دنیا ربورٹس کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ہم ہم اس ربورٹ (موبائل) کے ذریعے ایک دوسرے پر ہی طعن و تشنیع کر رہے ہیں کہ نہ ہی دنیا کا فائدہ نہ ہی آخرت کا. اور غیر مسلم قوتیں اسی ربورٹس کے ذریعے اپنی زندگی آسان سے آسان تر کیےجا رہے ہیں..