Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے؟ — ضیغم قدیر

    تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے؟ — ضیغم قدیر

    ہفتہ پہلے رمیز راجہ نے بہت اچھی بات کہی تھی کہ انڈیا کی فین بیس بہت اچھی ہے وہ ایشیا کپ سے باہر نکل گئے مگر انہوں نے کوہلی کی سینچری کی خوشی منانا شروع کر دی اور یہاں بابر سینچری کر دے تو اگلا سوال ہوتا ہے کہ سٹرائیک ریٹ 130 کی بجائے 140 کیوں نا تھا؟

    پچھلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سکواڈ پر یہی تنقید جاری تھی جو آجکل جاری ہے۔ ایک تجزیہ نگار صاحب تو ٹی وی پر یہ بھی کہہ چکے تھے کہ محمد وسیم کو سلیکشن وغیرہ نہیں آتی ہے ایسی گھٹیا ٹیم میں نے کبھی نہیں دیکھی۔

    خیر وہ تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے سب کو علم ہے۔

    مگر پھر ٹیم نے کر دکھایا۔ ان دنوں حارث رؤف پہ کافی تنقید کی جاتی تھی۔ رن مشین اسکا دوسرا نام تھا، حارث کو کھلانا ایک حماقت سمجھا جا رہا تھا اور اب وہی تجزیہ نگار حارث رؤف کی تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔

    اسی طرح

    تب رضوان پر تنقید جاری تھی، اے آر وائی پہ آصف کے بارے میں تو ڈیزاسٹر مطلب تباہی کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے کہ یہ ٹیم کو تباہ کرے گا مگر یہ جملہ غلط طریقے سے قبول ہوا اور دوسری ٹیمز تباہ ہو گئیں۔

    ٹیم میں موجود افتخار اور خوشدل کو ہٹانے کی کمپین چلی کہ حیدر اور شان کو لاؤ، افتخار بوڑھا ہو گیا ہے حالانکہ افتخار اور شان دونوں ہم عمر ہی ہیں اسکے علاوہ افتخار کی پرفارمنس شان سے ہزار درجے بہترین رہی ہے مگر مسئلہ چونکہ یہ ہے کہ افتخار کی پکچرز سٹیٹس پہ لگانے سے کول نہیں لگتا اس لئے کوئی پیارا کھلاڑی لانا چاہیے۔

    اب جبکہ حیدر اور شان پچھلے آدھ درجن میچوں میں بیس رنز بھی نہیں کراس کر پا رہے ہیں تو بابر اعظم پہ تنقید شروع ہو گئی ہے کہ یہ اچھا کپتان نہیں ہے اس لئے ایسا ہوا ہے۔ حالانکہ بابر کی کپتانی میں پاکستان بڑے ٹورنامنٹس بلا خوف و تردد کھیل کر جیتنے کے قریب پہنچا ہے۔

    مگر نہیں بابر چونکہ شوخا نہیں ہے تو اسے ہٹانا چاہیے۔

    اسی طرح رضوان جس کی ایوریج کوہلی سے زیادہ ہے ٹیم میں میچ وننگ شراکت زیادہ ہے اس کیخلاف یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ مذہب کا استعمال کرکے مشہور ہو رہا ہے حالانکہ وہ اسکا ذاتی عقیدہ ہے۔ وہیں کوہلی جس کی ایوریج رضوان سے کم ہے مگر چونکہ سٹرائیک ریٹ اسکا زیادہ ہے تو تنقید ہو رہی ہے کہ میچ وننگ شراکت داری کا کیا کریں جب رضوان کا سٹرائیک ریٹ ہی کم ہے۔

    ہندوستانی جو کہ ایسی لن ترانیاں نہیں کرتے ان کے پاس ایک مضبوط مڈل آرڈر موجود ہے۔ مگر یہاں مڈل آرڈر میں کوئی سیٹ ہوتا ہے تو کمپین چلتی ہے کہ فلاں کا سٹرائیک ریٹ دو سو دس ہے اسے موقع دیں اور اس کھیل تماشے کے بعد مڈل آرڈر پھر حیدر اور شان جیسے کھلاڑیوں کے پاس رہ جاتا ہے۔

    خیر اب بھی دعا یہی ہے کہ ٹیم اچھا پرفارم کرے، اور امید بھی ہے کہ کرے گی مگر اتنی بری فین بیس دنیا میں کہیں نہیں ہے جتنی ہم پاکستانیوں کی ہے جو کہ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہو سکتے ہیں۔

  • "ارسلان بیٹا!! مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ارسلان بیٹا!! مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے” — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان جمہوریت کے دعویدار ہیں۔ اور جمہوریت پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے تو الیکشنز کا رونا رو رہے ہیں۔ کہ ہمیں یہ امپورٹڈ حکومت نا منظور ہے۔ ایکشنز کروائے جائیں اور جمہوری طریقے سے عوام جسے منتخب کرے ،اسے ہی حکومت ملنی چاہیے۔

    مگر جمہوریت ، جمہوریت کا راگ الاپنے والے عمران خان اور ان کے حامی آزادی اظہار اور پریس کی آزادی جیسی جمہوری اقدار کو ماننے کو تیار ہی نہیں۔ جو عمران خان کے حق میں بولے وہ صحافی کہلائے اور جس نے زرا سی بھی عمران خان پر تنقید کر دی تو صاحب! وہ لفافی ہوتا ہے۔

    آج کل عمران خان کے حامی ٹوئیٹر پر سیئنر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے خلاف غداری اور لفافی کے ٹرینڈز چلا رہے ہیں۔میں بھی مبشر لقمان کے تجزیوں اور تبصروں پر اختلاف رائے رکھتا ہوں۔ مگر اختلاف رائے کا مطلب گالم گلوچ نہیں ہوتا ہے۔ اگر آپ کو مبشر لقمان یا کسی اور صحافی کی بات اچھی نہیں لگ رہی تو نہ سنیں یا اختلاف کریں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اور جمہوریت سب کو اظہار رائے کی آزادی تو ضرور دیتی ہے۔ مگر کسی شہری کی رائے پر اختلاف کی بجائے گالم گلوچ کی ہرگز نہیں۔

    اس میں کوئی شک نہیں عمران خان یو ٹرن لیتے رہے ہیں۔ عمران خان کے دور میں ان کے وزرا نے دل کھول کر کرپشن بھی کی ہے۔ مبشر لقمان بھی یہی سب چیزیں بتا رہے ہیں۔ بلکہ ثبوت بھی دیکھا رہے ہیں۔فیصل واوڈا کی غیر ملکی شہریت ہو یا خسرو برادران کی کرپشن ، توشہ خانہ یا سابق وزیر اعلی عثمان بزدار گروپ کی کرپشن ، مبشر لقمان ان سب معاملات پر تجزیے اپنے یو ٹیوب چینل پر کر رہے ہیں۔ اور ثبوت بھی دے رہے۔

    اگر ثبوت جھوٹے ہیں تو بھیا! کہو کہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ اصل بات یہ ہے۔ اور ثبوت جھوٹے ثابت کرو۔ معاملہ عدالت لے کر جاؤ۔ مگر یہ تو جھوٹا پن اور کم ظرفی ہے،کہ اپنے سوشل میڈیا کو یہ کہہ کر ٹرینڈز پر لگا دیا جائے کہ "ارسلان بیٹا! غداری سے لنک کر دو”۔ ٹوئیٹر مبشر لقمان کے خلاف ٹوئیٹس سے بھرا پڑا ہے ۔

    مگر مبشر لقمان بولے جا رہا ہے۔ رکنے کا نام تک نہیں لے رہا۔”ارسلان بیٹا مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے”۔ کہنے کی بجائے مبشر لقمان کو ملک پاکستان نے جو اظہار رائے کی آزادی جیسا حق دیا ہے،اسے قبول کیجیے۔

  • کرپشن ،بدعنوانی، تحریر :ارم شہزادی

    کرپشن ،بدعنوانی، تحریر :ارم شہزادی

    ہمارے زہن میں کرپشن کے معنی صرف وہ لوٹ مار ہے جو سیاست دان، بیوروکریٹ ،ججز، اعلیٰ عہدیداران ،میڈیا ہاوسز بڑے پیمانے پر کرتے ہیں جبکہ کرپشن تو وہ ناسور ہے جو ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے اور بدقسمتی سے ہم اسے کرپشن مانتے بھی نہیں ہیں ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ کرپشن کی یہ قسم سب سے زیادہ بری ہے جو ہم اپنے بچوں کے زہنوں میں ڈال رہے ہیں اور یہی بچے بڑے ہوکر مہا کرپٹ بنیں گے۔ یعنی ہم اپنے لیے خود جہنم کا ایندھن تیار کررہے ہیں۔ کرپشن صرف کروڑوں یا اربوں کی نہیں ہوتی ہر وہ پیسہ بنانے کا زریعہ جو ہمارے قابلیت سے مطابقت نہیں رکھتا وہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ہے۔ کرپشن رشوت کی وہ شکل ہے جس میں رشوت کھانے والا اپنے لاکھوں میں کسی مجبور سے دس ہزار ہتھیا کر ڈال کر تمام پیسہ حرام کرنے والا ہے۔ہم سمجھتے ہیں انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والا کروڑوں کی کرپشن کرتا ہے تو صرف وہی کرپشن ہے جب کہ نچلے لیول پے بیٹھا رجسٹرار چند سو بھی کسی غریب سے لینے سے گریز نہیں کرتا ہے لیکن وہ اسے کرپشن نہیں مانتا جبکہ وہ اتنا ہی کرپٹ ہے جتنا کہ کروڑوں لینے والا بس پہنچ پہنچ کی بات ہے۔ دوکاندار مہنگائی کا شور کرتے ہوئے سامان کا نرخ زیادہ لیتا ہے جبکہ ناپ تول میں کمی کرتا ہے، سامان میں ملاوٹ کرتا ہے یہ بھی کرپشن ہے۔ اپنا کام ایمانداری سے نا کرنا لیکن تنخواہ پوری لینا یہ بھی کرپشن ہے۔ رشوت دے کر نوکری حاصل کرنا اور پھر اس نوکری سے جائز ناجائز زرائع استعمال کرکے پیسہ بنانا یا غریبوں کو لوٹنا یہ بھی کرپشن ہے۔

    کسی کے گھر دیہاڑی پے لگنا اور آدھا دن چائے اور سگریٹ پینے میں ضائع کر کے پیسے پورے لینا یہ بھی کرپشن ہے۔ بچوں کو سکھا کر جھوٹ بول کر والد سے پیسے نکلوانا دہری کرپشن ہے ایک مالی اور اخلاقی۔ مالی کرپشن کا تو حساب ہوگا ہی لیکن اس میں کچھ لوگوں کو رعایت بھی مل جائے گی کہ اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے اور سربراہ اتنے پیسے نہیں دیتا تھا لیکن جھوٹ سکھانے کا گناہ قبر تک ساتھ جائے گا۔ لاکھوں کمانے والے بھی اور کی تلاش میں اور ہزاروں کمانے والے بھی لیکن پوری پھر بھی نہیں پڑ رہی کیونکہ برکت ہی نہیں ہے اور ناجائز طریقے سے کیا گیا اکٹھا پیسہ نا تو سکون دے سکتا ہے اور ن ہی برکت۔ اس کرپشن اور ناجائز زرائع سے کمانے کی ایک وجہ اسائشات کو ضروریات بنالینا بھی ہے۔ دیکھا دیکھا ایک دوسرے سے اگے نکلنے کی دوڑ میں اخلاقیات کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کھانے کی چیز میں ملاوٹ، پینے کی چیزمیں ملاوٹ، پہننے کی چیز، میں ملاوٹ یہاں تک کہ دوائیوں میں ملاوٹ۔ ہر طریقے سے کمانے والے جب کہتے ہیں نا کہ مہنگائی بہت ہے ہورا نہیں ہوتا خرچہ ہاتھ تنگ ہے تو اس کا مطلب واقعی یہ نہیں کہ یہ سب ہے اس کا مطلب یہ کہ کمائی میں برکت نہیں ہے۔ اور جس کمائی میں برکت نا ہو وہ چاہے ہزاروں میں ہو، لاکھوں میں ہو، یا پھر کروڑوں میں انسان رہتا ہمیشہ روتا ہی ہے۔۔ معاشرے کی بدقسمتی دیکھیں کہ ہم پیسوں کی کرپشن پے بات کرتے ہیں لیکن اخلاق کی کرپشن پے بات نہیں کرتے ہم نفس کی کرپشن پے بات نہیں کرتے ہم محبت میں دھوکہ دینے والے کی جذباتی کرپشن کی بات نہیں کرتے، ہم رشتوں کے تقدس میں ہونے والی کرپشن کی بات نہیں کرتے ایسے ہی تو نہیں سارا معاشرہ زوال کا شکار۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے رزقمیں برکت ہو ہماری نسل پرسکون ہو تو انہیں صرف اسائشات پر نا لگائیں بلکہ انکی اخلاقی تربیت کریں انہیں تھوڑا کھلا دیں سستا پہنا دیں لیکن انکی تربیت اور صحبت خراب نا ہونے دیں کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ حرام رزق پے پلنے والا حلال کام کرے یا آخلاقی طور پر مضبوط ہو۔ بچوں کو وقت دیں صرف پیسہ نہیں۔ کرپشن کو ایک برائی کے طور پر اپنے بچوں کو پڑھائیں سکھائیں کیونکہ یہ آپ کا صدقہ جاریہ بھی ہیں اور گناہ جاریہ بھی۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • ایلون مسک نے پرفیوم متعارف کرادیا

    ایلون مسک نے پرفیوم متعارف کرادیا

    ٹیکساس: ارب پتی ایلون مسک نے اپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کمپنیوں کے علاوہ ایک نئے کاروباری منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک نے نئی پرفیوم متعارف کردی ہے پرفیوم ان کے اپنے نام سے لانچ کی گئی ہے،اس بات کی اطلاع ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر دی ہے۔


    ایلون مسک نے اس ضمن میں اپنے ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ میرے نام کا آخری حصہ خوشبو سے متعلق ہے مگر اس کے باوجود مجھے اس کاروبار میں آنے میں اتنا لمبا عرصہ لگ گیا۔ متعارف کرائے جانے والے پرفیوم کا نام برنٹ ہیئر رکھا گیا ہے۔


    ایلون مسک نے پرفیموم کی قیمت 100 ڈالر مقرر کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ اب تک 1000 کی تعداد میں پرفیوم فروخت بھی ہو چکے ہیں۔


    ایلون مسک نے صارفین سے اپیل کی کہ براہ کرم میرا پرفیوم خریدیں، تاکہ میں ٹوئٹر خرید سکوں-


    دنیا کے امیر ترین شخص نے ماہ ستمبر میں ایک ٹویٹ میں کہا تھا ‘ بورنگ کمپنی ایک پرفیوم متعارف کرائے گی۔ جو مردوں کو ہجوم میں کھڑے رہنے میں مدد دے گا۔ ‘ اب منگل کے روز اپنے ٹویٹ میں کہا میرے جیسا نام ہوتے ہوئے خوشبو کے اس کاروبار سے دور رہنما مشکل تھا۔

  • کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    اگر ہم وسعت نظری اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کرنے کا سہرا باندھیں تو بلا شک و شبہ اس کا سہرا پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاستدانوں اور پارٹی ورکرز کو جاتا ہے کیونکہ 1990 سے آج کی تاریخ تک یہ واحد پارٹی تھی جس کے نمائندوں نے پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری سٹیجز پر ببانگ دہل مخالفیں جس میں پی پی پی سر فہرست تھی اوراب پاکستان تحریکِ انصاف ہے کو خوب لتاڑا اور ان کے خلاف نازیبا اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا

    اب خرابی یہ شروع ہوگئی ہے کہ بات سیاست اور جمہوریت تک رہتی تو کام چل جاتا جیسے گذشتہ تین دھائیوں سے چل رہا تھا لیکن اب تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ ن سے ایک قدم آگے جاکر پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ سماج اورمعاشرے کو بھی بد تہذیبی اور بدتمیزی کی ذد پر رکھ لیا ہے۔اب صورتِحال یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کیا تھا وہ بھی تحریک انصاف کو دیکھ کر شرمانے اور گھبرانے لگی ہے۔

    عمران خان جو قوم کی تربیت اور شعور و بالیدگی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے خود ان کا عمل انکی بہت سی باتوں کے متضاد ہے، مخالفین کے نام بگاڑنا، تہمتیں اور بہتان تراشی اور ٹپوری لینگویج کا استعمال کرنا انکوذرا بھی معیوب نہیں لگتا لیکن تسبیح ہاتھ میں پکڑے 24 سو گھنٹے غیبتیں اور چغلیاں کرنے کے بعد قوم اور مخالفین کو نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ریاست اور سیرت کی باتیں سنا کر مرعوب کرنے کا فن صرف خان صاحب کے پاس ہی ہے۔

    مسلم لیگ ن نے جس بیہودہ کلچر کی داغ بیل ڈالی تھی تحریکِ انصاف نے اسکو خوب پروان چڑھایا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے سیاستدانوں سے لیکر عام کارکن اور سپورٹر تک ایک ہی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔چھوٹے بڑے کی تمیز اور زبان سے ادب و اداب ختم ہوجائیں تو پھر انسان اور حیوان میں بس نام اور ہیت کا ہی فرق رہ جاتا ہے لیکن خصائل اور فضائل برابر ہوجاتے ہیں۔

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    اس وقت ملک میں انارکی اور کلٹ ازم و فاشسٹ ازم کی واحد نمائندہ جماعت صرف اور صرف پاکستان تحریکِ انصاف ہے جس کے شر سے نا کوئی سیاستدان، نا کوئی سرکاری نمائندہ اور ادارہ اور نا ہی کوئی صحافی محفوظ ہے۔جو بھی عمران خان یا تحریکِ انصاف پر تنقید کردے، اعتراض کردے یا سوال کرلے تو سمجھو اس نے بھڑوں کے چھتے پر وٹا مار دیا ہے کیونکہ چند منٹوں کے نوٹس پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس سوشل میڈیا سائیٹ پر وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

    تازہ واردات ان کی یہ ہے کہ پاکستان کے مایہ ناز اور انتہائی کریڈیبل اور نامور اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کو نشانے پر لے آئے ہیں، وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب نے ہمیشہ حق اور کھرے سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔ ۔ ۔ جب تک خان صاحب صحیح ٹریک پر تھے تو مبشر لقمان صاحب سمیت ہر با شعور اور غیرجانبدار صحافی کے سر آنکھوں پر تھے لیکن جب خان صاحب نے بھی ایک مافیا کی بنیاد رکھ دی اور قوم کے بچوں کو سگ بنی گالہ بنا لیا اور سیاہ و سفید کے مالک بننے کی کوشش کی تو پھر باقی تو تتر بتر ہوگئے کہ کس کو عزت اور جان پیاری نہیں، البتہ مبشر لقمان صاحب نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا بیشک کوئی کچھ بھی کہتا اور سمجھتا پھرے حق اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔

    بس اسی جرم کی پاداش میں تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس باولے ہوکر ایسے اوٹ پٹانگ ٹرینڈز لا رہے جو کم از کم شعور سے مربوط نہیں۔آج تیسرا دن ہے جب پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس مبشر لقمان صاحب کے خلاف ہر حد کراس کر رہے کیونکہ مبشر لقمان صاحب نے خان صاحب اور انکے ہمنواؤں کے خلاف اپنے چینل کے توسط سے جو نا قابلِ تردید ثبوت دیے ہیں ان سے خان صاحب تو کیا پوری تحریکِ انصاف کو سانپ سونگھ گیا ہے۔۔۔

    اگر مبشر لقمان صاحب جھوٹے ہیں تو تحریکِ انصاف عدالت کا دروازہ کھڑکائے۔۔۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب سچے ہیں اور پی ٹی آئی و سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس جھوٹے ہیں اسی لیے پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس بھرپور اینٹی کیمپین چلا کر چور مچائے شور کی مثال قائم کر رہے ہیں لیکن انکو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے ، مبشر لقمان صاحب ایسے بیہودہ حربوں سے رکنے یا جھکنے والے نہیں۔پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس بس انتطار کریں اور اپنی خیر منائیں کیونکہ مبشر لقمان ان کے لیے اکیلے ہی کافی ہیں کہ جھنڈ میں تو کتے آتے ہیں جبکہ شیر ہمیشہ اکیلا ہی آتا ہے!!!

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    لسبیلہ ہیلی حادثہ، پاک فوج کیخلاف مہم میں یوٹیوبر سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی شامل

  • علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اس کائنات میں کھربوں کھربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہیں۔ چونکہ ستارے ہم سے بہت دور ہوتے ہیں یعنی نوری سالوں کے فاصلے پر اس لئے ہمیں یہ بے حد چھوٹے اور صرف رات کے وقت آسمان پر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی خلا میں ایک سال میں طے کرے۔ روشنی کی رفتار خلا میں تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ کس قدر تیز رفتار یے اسکا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے قریب 7.5 چکر لگا سکتی ہے۔ تو گویا ایک نوری سال ایک بہت بڑا فاصلہ ہوا جو روشنی ایک سال میں طے کرے۔ کتنا؟ تقریباً 95 کھرب کلومیٹر۔

    ہماری زمین کے سب سے قریب ستارہ سورج ہے جو زمین سے اوسطاً سال میں 15 کروڑ کلومیٹر دور ہوتا ہے اور سورج سے زمین تک روشنی کو پہنچنے میں تقریباً 8 منث لگتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق پوری زمین پر انسانی آنکھ سے دیکھے جا سکتے ستاروں کی کل تعداد محض 5 ہزار کے قریب ہے مگر ان میں سے بھی آپ صرف آدھے دیکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ زمین کے ایک حصے پر رہتے ہیں۔

    سورج کے بعد زمین سے سب سے قریبی ستارہ Proxima Centauri. ہے جو زمین سے تقریبآ 4.3 نوری سال دور ہے۔ اس ستارے کیساتھ دو اور ستارے Alpha Centuari AB ایک دوسرے کے گرد مزے سے گھوم رہے ہیں۔ اس تین ستاروں کے سسٹم کے بعد زمین سے تیسرا قریبی ستارہ Barnanrd’s Star ہے جو کہ تقریباً 6 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

    زمین سے دکھنے والا سب سے روشن ستارہ Sirius ہے۔ یہ سورج سے ماس میں تقریباً 25 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین سے سے 8.7 نوری سال دور ہے۔

    اب یہ سب جاننے کے بعد آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ شبنم کی منگنی ندیم سے کیا Proxima Centuri نے تڑوائی یا کسی کی خالہ زاد سلمی اُس سے اس لئے ناراض ہوئی کہ Barnard صاحب کو سلمی ایک آنکھ نہ بھائی۔

    یا پھر صبح صبح پھجے کے پائے اور دو گلاس لسی پینے کے بعد پیٹ کے درد کا الزام بے چارے کھربوں کلومیٹر دور Sirius پر لگانا کہاں کا انصاف ہے؟

    علمِ نجوم دراصل کوئی علم نہیں ۔۔سوائے سورج کے باقی کسی ستارے کا ہماری زندگی پر کوئی بلواسطہ یا بلاواسطہ اثر نہیں۔ اگر پھر بھی آپ بضد ہیں کہ یہ ساری کارستانی ستاروں کی ہے تو پاکستان کے کسی مشہور علمِ نجوم کے "ماہر” سے اچھے سے پیپر پر زائچہ بنوا کر مجھے یہاں پیرس ارسال کر دیجیے، اس پر پکوڑے رکھ کر کھانے کا بے حد مزا آئے گا۔

  • سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سائنسدان جہاں حضرت انسان کو ملٹی پلانیٹری بنانے پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ سنہ دو ہزار پچاس میں 2 ارب چالیس کروڑ روپے میں ایک کپل سیارہ مارس پر اپنی رہائش کا بندوبست کر پائے گا۔ دو ہزار ساٹھ تک تین لاکھ لوگ مارس پر رہائش پذیر ہو چکے ہونگے۔ مکانات کے بعد سبزیاں اگا کر یونیورسٹی اور ہسپتال بننا شروع ہوچکے ہونگے۔ اور ایمازون مارس پر زمین سے ڈاک و دیگر پراڈکٹس ڈیلیور کرنے کی خدمت راکٹس کے ذریعے سر انجام دے گا۔

    وہیں انسانوں کو بیماریوں سے بچانے اور بڑی سی بڑی بیماری کو چند لمحوں یا گھنٹوں میں ٹھیک کرنے پر بھی دنیا بھر کے سائنسدان کام کررہے ہیں۔ تقریباً سو بیماریوں کے علاج کو سٹیم سیل تھراپی سے جوڑا جا رہا ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے اس طریقہ علاج سے ہڈیوں کے کینسر bone marrow کا علاج سنہ 1957 میں اس طریقہ علاج کے موجد ای ڈونل تھامس E.Donnall Thomas نے کیا۔ جنہیں 1970 میں فلسفہ اور طب کی فیلڈ میں خدمات پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

    سٹیم سیل کیا ہے؟ پہلے یہ دیکھتے ہیں۔

    قدرتی یا مصنوعی (ivf) طریقے سے انسانی نطفے (سپرم) اور بیضے (ایگ) کے ملاپ سے جو زائیگوٹ وجود میں آتا ہے۔ وہ انسانی وجود کی ایک بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ زائیگوٹ بھی ایک سٹیم سیل ہے جو مزید سٹیم سیلز بنا دیتا ہے) زائیگوٹ کے سٹیم سیل کے کردار کو آپ ایسے سمجھ سکتے کہ جب زایئگوٹ تقسیم ہونے کے دوران الگ ہو جائے تو دونوں زائیگوٹ الگ مکمل جاندار بنا دیتے ہیں۔ جنہیں جڑواں کہا جاتا ہے۔ جو ہوبہو ایک دوسرے کی کاپی ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ساخت میں ایک سٹیم سیل ہوتا ہے جس میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 23 باپ کی طرف سے اور 23 ماں کی طرف سے۔ اس ذائیگوٹ کو مشکل سے ہی انسانی آنکھ سے دیکھ سکتی ہے۔

    یہ ذائیگوٹ بڑی تیزی سے ایک سے دو ، دو سے چار اور چار سے آٹھ سیلز میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے بغیر تقسیم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس تقسیم کے عمل کو مٹوسس mitosis کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم ہوتے ذائیگوٹ سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک سیل نکال کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جسے سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سٹیم سیل کی پہلی اور سب سے زیادہ اہم قسم ہے۔

    یہ والا سٹیم سیل ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ وہ گوشت یا پٹھے ہوں دل ہو ہڈیاں ہوں مسلز یعنی پٹھے ہوں بال ہوں خون ہو جسم کا کوئی بھی حصہ خراب ہوجانے یا کٹ جانے پر دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پانچ دن کے بعد یہ زائیگوٹ فلاپیئن ٹیوب سے ماں کے رحم میں سرکنا شروع کرتا ہے۔ اور بلاسٹو سسٹ Blastocyst کی شکل اختیار کرتا ہے۔ بلاسٹو سسٹ دو ہفتوں کے بعد ایمبریو میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس ایمبریو سے بھی سٹیم سیل نکالا جاتا ہے۔ جسے ایمبریونک سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سیل بھی بہت زیادہ سیل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ ذائیگوٹک سٹیم سیل کی طرح جسم کا ہر حصہ دوبارہ بنانے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ سٹیم سیل کی دوسری قسم ہے۔

    اس ایمبریو کے گرد پیاز کے چھلکے جیسی اسکن کی ایک باریک تہہ بننا شروع ہوتی ہے۔ اور یہ ایمبریو پلاسینٹا (خوراک و آکسیجن کی نالی) سے جڑ جاتا ہے۔ باریک تہہ کے اندر ایک لیس دار پانی جسے لائیکر یا Amniotic fluid کہتے ہیں بننا شروع ہوتا ہے۔ یہ پانی کوئی عام پانی نہیں ہوتا. اس میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں. جنہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔
    یہ سٹیم سیل کی تیسری قسم ہے۔

    اسکے بعد جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ تو بچے کے ساتھ ہی پلاسینٹا ماں کے رحم سے باہر آتا ہے۔ اس نالی میں بھی خون کی کچھ مقدار ہوتی ہے۔ جسے بلڈ کارڈ یا کارڈ بلڈ کہتے ہیں۔ اس کارڈ بلڈ میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں جنہیں پہچان کر اس خون سے نکال لیا جاتا ہے۔ یہ سٹیم سیل کی چوتھی قسم ہے۔

    اسکے علاوہ کسی بھی عمر کے انسانی جسم کے کسی بھی حصے، گوشت اور عموماً کولہے کی ہڈیوں میں سے اس فرد اپنے سٹیم سیلز بھی تلاش کرکے نکالے جاتے ہیں۔ سٹیم سیلز عام سیلز سے رنگ و ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ سٹیم سیلز کی اب تک کی دریافت شدہ پانچویں اور آخری قسم ہے۔

    ذائیگوٹک، ایمبریونک، ایمنیوٹک فلیوڈ سے نکالے گئے سٹیم سیل پر مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظات ہیں۔ کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اسلامی، عیسائی، یہودی اور بھی کئی مذہبی حلقے شروع سے پہلی دو اقسام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ کہ جس ذائیگوٹ یا ایمبریو سے یہ لیے جائیں گے اسے بھی کوئی خطرہ پہنچنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اور یہ قانون فطرت میں چھیڑ چھاڑ تصور ہوتی ہے۔ جو جائز نہیں۔ خیر یہ ایک اور لامتناہی بحث ہے۔ سائنسدان اب ماں کے پیٹ سے باہر مصنوعی طریقے سے بنائے گئے ذائیگوٹ جس میں نطفہ اور بیضہ انسانی ہی ہوتا ہے۔ پہلے دونوں سٹیم سیل نکال رہے ہیں۔ وہ اب حاملہ ماں کے رحم سے کوئی سیل نہیں نکالتے۔

    کارڈ بلڈ اور انسان کے اپنے سٹیم سیلز پر کسی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں انہی دونوں اقسام کا استعمال مسلمان حلقوں عام ہوا ہے۔ جو پاکستان میں بھی پانچ سال قبل شروع ہو چکا ہے۔

    سٹیم سیل اپنے اندر مزید سیلز بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور بیماری کی تشخیص نوعیت لیول کا تعین ہونے کے بعد ڈاکٹر دیکھتا ہے۔ کہ سٹیم سیل کی کونسی قسم اسکا بہتر علاج ہو سکتی ہے۔ پھر سٹیم سیل کو خون میں جدید مشینری کے ذریعے شامل کرکے متاثرہ جگہ پر انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ دل کے امراض، نابینا پن کا علاج، مرگی، آٹزم، جگر کے مردہ سیلز کو زندہ کرنا، ہڈیوں کا کینسر، کمر کے مسلز کا کچلا جانا جسکی وجہ سے نچلا دھڑ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ منیبہ مزاری اس نچلے دھڑ کے ناکارہ ہونے کی ایک مشہور مثال ہے۔

    اور بھی کئی بیماریوں اور معذوریوں کو سٹیم سیل سے ٹھیک کرنے کے دنیا بھر میں ہزاروں کامیاب تجربے ہوچکے ہیں۔ ہزاروں لوگ جزوی و مکمل بینائی حاصل کر چکے ہیں۔ اور کئی لوگ حادثوں کی وجہ سے ویل چیئر پر چلے جانے کے بعد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ بلکہ اب تو سٹیم سیل سے نئی ہڈیاں اور اسکن سیلز بنانے کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ بری طرح ٹوٹی ہوئی جڑنے کے ناقابل اور ناکارہ ہڈیوں کو جسم سے باہر بنائی گئی بلکل قدرتی ہڈی سے بدلہ جاسکے گا۔ آنکھ کے قارنیہ تو ہزاروں لوگوں کے ری پلیس کیے جا چکے ہیں۔ جس سے انکی بینائی لوٹ آئی ہے۔ جسم کے جلنے والے حصے کو اسی انسان کے سٹیم سیلز لیکر نئی جلد اگا کر جسم کے ساتھ جوڑی جا سکے گی۔ پلاسٹک سرجری کی جگہ حقیقی جلد لینے کے بلکل قریب ہے۔

    میرا موضوع آٹزم ہے تو اس مرض کے علاج میں اب تک کا سب سے موثر ترین علاج سٹیم سیل تھراپی ہی ہے۔ جسکے دنیا بھر میں نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ جسم کے وہ سیلز جو خراب ہوتے ہیں۔ جنکی وجہ سے آٹزم کا شکار بچوں میں مختلف مسائل پائے جاتے ہیں۔ ان سیلز کو سٹیم سیلز سے بدل دیا جاتا ہے۔ خراب سیلز کے ساتھ سٹیم سیلز جڑ کر نئے اور تندرست سیلز بغیر کسی بھی فالٹ کے بنانا شروع کرتے ہیں۔ اور نئے تندرست سیلز کی بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد پرانے خراب، ڈیمج سیلز پر غالب ہو کر بیماری کے اثر کو کم کرنا شروع کر دیتے ییں۔

    سٹیم سیلز تھراپی کراچی اور اسلام آباد میں کامیابی سے کی جارہی ہے۔ علاج زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ پیسے جتنے بھی لگیں جب بچہ ٹھیک ہونے لگے تو پیسے بھول جائیں گے۔ کچھ دھوکے باز ڈاکٹرز مختلف شہروں میں پی آر پی PRP کو ہی سٹیم سیل تھراپی بتا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سٹیم سیل تھراپی میں استعمال ہونے والی مشینیں بہت مہنگی ہیں جو ہر کوئی نہیں خرید سکتا۔ (پی آر پی کیا ہے یہ کسی اور دن سہی۔ یا ابھی خود سرچ کر لیں)

    آٹزم سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق اس وقت تین لاکھ پچاس ہزار 350٫000 بچے آٹزم کا شکار ہیں۔ ان بچوں کے لیے یہ ایک گیم چینجر طریقہ علاج ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی یونیورسٹیاں سٹیم سیل پر تحقیق کر رہی ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ طریقہ علاج ہر بیماری کے لیے استعمال ہوگا۔

    (مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس)

  • 90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان کی سیاسی تاریخ بہت سے حوادث کی گواہ ہے جس میں اگر ہم صرف 1990 کی دھائی ہی دیکھ لیں تو پاکستان میں دو سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آئیں ،ایک مرکز میں حکمران تھی تو دوسری ایک صوبہ میں ، اگر صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ اسلام آباد کی جانب جاتا تو گرفتار ہو جاتا اور اگر مرکز ی حکومت کا کوئی نمائندہ صوبائی حکومت کی حدود میں نظر بھی آ جاتا تو اسکو گرفتار کر لیا جاتا۔ یہ بات ہو رہی ہے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی اور انکی 1990 کی دھائی کی سیاست کی ۔۔۔

    اب یہ ایسا کیوں تھا کیا اقتدار کی لالچ تھی یا پاور شئیرنگ کا مسلہ، اس سوال کا جواب آج تک راہ تک رہا ہے کیونکہ سیاسی پارٹیاں تو آج کے دن تک پاکستان میں درجنوں موجود ہیں لیکن سیاست بلخصوص 1990 کی دھائی کی سیاست کی چھاپ آج تک جوں کی توں موجود ہے۔۔۔

    انتقام، انتقام اور بس انتقام۔۔۔ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا بس یہی مطلب سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے خواہ 1990 کی دھائی کی سیاست کو دیکھ لیں یا 2022 کی موجودہ سیاست کو، ہمیں بس سیاسی مقدمہ بازی ہی نظر آتی ہے، شاید اسی لیے محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے کہا تھا کہ

    "جمہوریت بہترین انتقام ہے”۔۔۔

    آج کی تاریخ میں اگر 1990کی دھائی کی سیاست کی مثال سمجھنی ہو تو اپریل 2022 سے آج کے دن تک وفاق اور صوبوں کی سطح پر مختلف واقعات پر نظر دوڑا لیں۔ تازہ مثال ملک کےوزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ایک صوبہ، پنجاب جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے آجکل انتظامی طور پر بہت متحرک نظر آرہا ہے لیکن یہاں سوال نہیں بلکہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا یہ بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کا ہی تسلسل تو نہیں؟

    کیا پاکستان کی عوام اسی طرح سیاسی پارٹیوں کا دنگل اور نورا کشتی دیکھتی رہے گی؟

    کب تک ھم 1990 کی دھائی کی سیاست کے چکر ویو میں پھنسے رہیں گے؟

    لگتا تھا کہ خان صاحب اپنے بلند بانگ دعووں کو تکمیل تک پہنچائیں گے اور پاکستان میں رائج 1990 کی دھائی کی سیاست و جمہوریت کا بدنما داغ دھوئیں گے لیکن ہوا اسکے متضاد مطلب خان صاحب بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کے رنگ میں رنگے گئے جس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ خان صاحب جن کو اپنا اور ملک و قوم کا دشمن سمجھتے اور کہتے تھے انہی کے نقشِ قدم پر چل کر انہیں استاد مان چکے ہیں؟

    خیر ہم تو عوام ہیں جو اونٹ پر نظریں گڑائے بیٹھے ہیں کہ یہ موا کس کروٹ بیٹھے گا؟

  • عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟ — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟ — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان اندھوں میں کانے راجا ضرور ہیں۔مگر دودھ کے دھلے ہرگز نہیں۔ حقیقی آزادی کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کا یہ درست وقت ہے بھی کہ نہیں؟۔ معیشت پہلے کہاں کھڑی ہے؟۔یہ سوچیے زرا۔کیا خان صاحب کو نہیں پتہ کہ اس وقت سیلاب متاثرین اور مہنگائی اس ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے ؟۔ یقیناَ جانتے ہونگے۔ ان کے علم میں یہ بھی ہوگا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں شدت پسندی پھر سے زور پکڑ رہی ہے۔مگر پوری تحریک انصاف ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتی لیول پر لانگ مارچ کی تیاریوں میں جُتی ہوئی ہے۔اور مسائل کے لیے اندھا حافظ جی بنی ہوئی ہے۔

    خان صاحب صوبہ آپکا مالی طور پر ڈیفالٹ کے کنارے کھڑا ہے۔ تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ۔ مان لیا کہ انقلاب کے لیے ایسی قربانی دینا پڑتی ہیں۔ اور یہ سچ بھی ہے۔ مگر کیا آپ کو شدت پسند عناصر کا دوبارہ منظم اور متحرک ہونا نظر نہیں آرہا؟ ۔ معیشت کی قربانی تو انقلاب کے نام پر قبول ہے۔ مگر انقلاب کے نام پر شدت پسندی میں شدت سے جانوں کی قربانی کیسے قبول کر لیں ۔آپ کو تو چاہیے تھا کہ اس وقت شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرتے۔ مگر آپ انقلاب کے چکر میں اسلام آباد بند کرنے کے چکروں میں ہیں۔

    "ان تازہ خُداؤں میں بڑا سب سے، وطن ہے”

    یہ قوم آپ سے توقع کیے بیٹھی ہے کہ آپ ہی مسیحا ہیں۔پلیز! اس قوم اور اس وطن کا سوچیے خان صاحب۔اس وطن کا کہ جو

    ہر مومن کا رکھوالا ہمارا وطن
    امت کا ہے سہارا پیارا وطن

    نہ تھا امت کا ہمدرد کوئی
    دے کے قوت رب نے ابھارا وطن

    دریا دیئے، بحروبر دئیے، دئیے حسین گلشن
    خدا نے نعمتوں سے ہے سنوارا وطن

    ان کے آنگن میں بھی سدا بہار رہے
    جان دے کے جنہوں نے نکھارا وطن

    ہو گا اسلام کا غلبہ جہاں میں عامر
    وسیلہ بن کے آئے گا تمھارا وطن

    احتجاج ہر پاکستانی اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ۔ تو پھر وفاقی حکومت کیوں اس احتجاج کو روکنے کے لیے حربے ،حلیے استعمال کر رہی ہے۔ن لیگی حکومت یہ احتجاج روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے تو کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی احتجاج کرے گی تو ہر قیمت پر روکیں گے۔

    خان صاحب!احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے۔ مگر پہلے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی عوام کو تو اسکا حق دیں، جس کے عوض آپ نے ووٹ لے رکھے ہیں۔

  • بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    پرانی بات ہے لاہور میں شدید برسات کے دوران ہمارے ایک کولیگ نے پکوڑے بنوائے اور بڑی چاو سے سب دوستو کو آفس میں دعوت دی. دعوت دینے والے سے میں نے کہا تم لوگ بسم اللہ کرو میں بعد میں تمہیں جوائن کرتا ہوں. لیکن اُس نے کہا نہیں فیصلہ ہوا ہے کہ جب سب جمع ہوں گے تب ہی دعوت سٹارٹ ہوگی.

    میں نے پوچھا پکوڑے بنائے کس نے ہیں.؟ اس نے جس کولیگ کا نام لیا اسکا نام سنتے ہی میں نے کہا پھر تم لوگ کھاو. میں نہیں آرہا. بہت اصرار ہوا لیکن میں نے کہا ” نہیں” دعوت تو ہمارے بغیر ہوگئی لیکن بعد از دعوت پتہ چلا یہ بھنگ والے پکوڑے تھے کیونکہ پھر کوئی روئے جا رہا تھا کوئی قہقہے لگا رہا تھا.

    سوشل میڈیا میں بھی ہم خبر سے پہلے خبر دینے والے کا نام دیکھتے ہیں. وہ نام ہی بتا دیتا ہے خبر میں سچائی کتنی اور پراپیگنڈا کتنا ہے. اس میں جو جتنا زیادہ غیر جانبداری کا دعویدار ہوتا ہے وہ اُتنا ہی زیادہ یکطرفہ پراپیگنڈا کرنے والا ہوتا ہے. سالوں سے اس فورم پر ایک دوسرے کو جاننے والے اس کے باوجود ایک دوسرے کے پکوڑے کھانا معاف نہیں کرتے.