Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے  دی گئی

    آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے دی گئی

    آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے دی گئی
    وزیراعظم شہبازشریف نے آسکرکے لیے نامزد کی جانے والی فلم ’جوائے لینڈ‘ کیخلاف شکایات کی تحقیقات اورپاکستان میں نمائش پرپابندی سے متعلق مطالبے کا جائزہ لینے کیلئےاعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد سمیت دیگرحلقوں سے کیے جانے والے مطالبے کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ فلم واقعی اخلاقی ومعاشرتی اقدار سے متصادم ہے یا نہیں۔

    جوائے لینڈ کو مئی 2022 میں دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانزمیں ’کانز:کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو بالخصوص ہم جنس پرستوں یا پھر مخنث افراد پرمبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس فلم کی ریلیز 18 نومبرکے لیے شیڈول تھی تاہم اس سے قبل ہی جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے موضوع کی بنیاد پر فلم پرپابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کی رہائشگاہ پر 90 لاکھ روپے کے بلٹ پروف شیشے لگائے جائیں گے
    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ
    چین اور ایران امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرارہے ہیں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن


    دوسری جانب سینسربورڈ کی جانب سے فلم کو سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا تاہم 11نومبرکو وفاقی وزارت اطلاعات نے اسے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیاکہ فلممیں ’قابل اعتراض مواد‘ موجود ہے۔ اب وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے اپنے آفیشل ٹوئٹرہینڈل پربتایا ہے کہ جوائےلینڈ کی نمائش پرپابندی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو متعلقہ شکایات کے علاوہ پاکستان میں نمائش کے میرٹس کا بھی جائزہ لے گی۔


    وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق فلم کیخلاف شکایات موصول ہونے کے بعد وزیر قانون کی نگرانی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ، چیئرمین پی ٹی اے اور پیمرا، وزراء برائے کمیونیکیشن، سرمایہ کاری، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اوروزیر اعظم کے مشیربرائے امور گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔
    https://twitter.com/sethimirajee/status/1591689511091965952
    ممکنہ طور پرکمیٹی اپنی سفارشات آج 15 نومبرکوپیش کرے گی۔ لیکن فلم کی ریلیز کی اجازت ملنے کے بعد جوائے لینڈ کے ڈائریکٹرصائم صادق وزارت اطلاعات کے اس اقدام کوغیرقانونی قراردے رہے ہیں۔ اس اقدام پرشوبزسمیت کئی معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پرتنقید کرتے ہوئے حکومت سے فلم پرپابندی عائد نہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اداکارہ میراسیٹھی نے مریم اورنگزیب کیلئے لکھا کہ ، ’فلم پرپابندی کا کوئی جوازنہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ خود کوجمہوریت پسند قراردیں اورآرٹ پرپابندی عائد کردیں‘۔ علاوہ ازیں ہمایوں سعید نے کہا کہ جوائے لینڈ نےکانزمیں ایوارڈ جیت کرہمارا سر فخرسے بلند کیا، یہ ہمارے اپنے لوگوں کی کہانی ہے ، امید ہے کہ فلم دیکھنے کو ملے گی۔


    اداکارہ نادیہ جمیل نے بھی سوال اٹھایا کہ، ’اس پابندی کے پس پردہ کون سے چہرے ہیں اور وہ کس بات سےخوفزدہ ہیں، کب تک منافقین پاکستان کا گلا گھونٹتے رہیں گے جوخود مغربی دنیا کے تمام فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن دوسروں پرزمانۂ جاہلیت کےنظریات مسلط کرتے ہیں‘۔


    خود وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے بھی ٹویٹ میں مریم اورنگزیب سے اس پابندی پرنظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہو تو فلم کی ٹیم سے ملاقات کرلیں۔


    یاد رہے کہ ہدایت کار صائم صادق کی اس فلم کی کاسٹ میں سرمد کھوسٹ، ثروت گیلانی، علینا خان، سہیل سمیر، سلمان پیر، ثانیہ سعید، کنول کھوسٹ، زویا احسن، ثنا جعفری اور قاسم عباس سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

  • ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی )پاکستان کی سلامتی کے اداروں کے بارے میں چہ مگوئیوں سے بلند و بانگ پیشگوئیوں سے خدارا اجتناب برتنا اشد ضروری ہے۔ کسی بھی جماعت سیاستدانوں ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبرز کو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں اعلیٰ فوجی قیادت کے بارے میں قیاس آرائیوں اور پیشگوئیوں پر سے پرہیز کرنا چاہئے اور پیمرا کو ملک کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرز صحافت پر یکسر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس سٹاف کمیٹی کا تقرر پاکستان کے وسیع تر مفاد اور دوررس پالیسیوں کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے جس پر قیاس آرائیوں اور ذاتی پسند نا پسند سیاسی وابستگیوں اور تجزیاتی پوائنٹ سکورنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔

    میرا پٹواری میرا اے سی میرا ڈی سی میرا ایس ایچ او کا راگ الاپنے والے نام نہاد رہنمائوں ۔نام نہاد صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسی حساس تقرریوں پر بیان بازیوں اور زبان درازیوں کے ذریعے ملکی سلامتی کو تماشہ بنائیں۔مقتدر اور فیصلہ ساز اداروں کو چاہیے کہ ایسی اوچھی حرکات اور خلاف ورزی کے مرتکب ٹی وی چینل اور شخصیات کو قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ آئندہ کسی کو ملکی سلامتی اور قومی ساکھ کے ساتھ کھیلنے کی کسی کو جرآت نہ ہو۔

    مزید برآں وال سٹریٹ جرنل میں آشکار کیے گئے خدشات پر اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز ہونا چاہئے تا کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے وقار کو مجروح کرنے کی جرآت کسی کو نہ ہو۔

  • ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا

    ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا


    ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا.

    پاکستان اور آئر لینڈ ویمن کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریزکے دوسرے میچ میں پاکستان نے آئرلینڈ کو شکست دے دی۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ آئرلینڈ کی ویمن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز بنائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    بارش کے باعث میچ کو 17 اوورز تک محدود کردیا گیا تھا۔ پاکستان ویمنز ٹیم نے چاروکٹوں کے نقصان پر ہدف 16 ویں اوور میں حاصل کرلیا۔ ندا ڈار کو بہترین کارکردگی پر پلئیر آف دا میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ سیریز کے پہلے میچ میں آئرلینڈ نے پاکستان کو شکست دی تھی۔ تین میچز کی سیریز اب ایک ایک سے برابر ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں دستیاب نہیں ہوسکیں گے، انہیں کھلانے کا رسک لینے کے بجائے آرام کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حارث رؤف کو ٹیسٹ ڈیبیو کروانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ نسیم شاہ کے ساتھ محمد عباس پاکستان کی پیس بیٹری کا حصہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق فائنل میں انجری کا دوبارہ شکار ہونے والے شاہین شاہ آفریدی کا وطن واپسی پر مکمل میڈیکل اسکین ہوگا۔جن کی رپورٹس کی روشنی میں بائیں ہاتھ کے پیسر کا ری ہیب پلان ترتیب دیا جاسکے گا۔

    ٹیم مینجمنٹ نے شاہین کو بڑی انجری سے بچانے اور فاسٹ بولر کے مستقبل کے پیش نظر انگلینڈ کے خلاف یکم دسمبر سے شیڈول تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں انہیں اسکواڈ کا حصہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

  • آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی.

    موسم کے بارے میں لگ بھگ 10 روز قبل پیش گوئی کرنے کے لیے کراچی سمیت ملک بھر میں 300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیے جائیں گے جب کہ اے ڈبلیو ایس کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے رقم مہیا کی جائے گی۔ آٹومیٹک ویدر اسٹیشن کے ذریعے درجہ حرارت، ہوا کی رفتار و سمت، نمی کا تناسب، بادلوں کی بلندی، حد نگاہ سمیت دیگر موسمی صورتحال کا مشاہدہ ممکن ہوگا۔ جناح ٹرمینل سمیت شہر کے 5 مقامات پر آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز پہلے سے فعال ہیں۔

    ہائیڈرومیٹ اینڈ کلائمٹ سروسز پراجیکٹ کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے حکومت پاکستان کے ذریعے محکمہ موسمیات کو سافٹ لون دیا جائے گا، جس کے تحت پورے پاکستان میں 300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیے جائیں گے۔ چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کے مطابق شہرقائد سمیت سندھ بھر میں 55 آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز کی تنصیب ہو گی، صوبے میں اس وقت ویدر اسٹیشنز کی تعداد 17 ہے جبکہ بیشتر اضلاع میں موسمی پیش گوئی کے آلات نصب نہیں ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    اس منصوبے کے تحت ہر تحصیل میں ایک ویدر اسٹیشن لگایا جائے گا، منصوبے کے لیے محکمہ زراعت اور آبپاشی کی زمینیں حاصل کی جائیں گی جبکہ ملک کے باقی صوبوں میں بھی اے ڈبلیو ایس کی تنصیب سرکاری اراضی پر عمل میں لائی جائیگی۔ محکمہ موسمیات نے اس سے قبل اپنے ریڈار بجٹ کے ذریعے 5 آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز نصب کیے، جن پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ ورلڈ بینک سے رقم موصول ہونے کے بعد پیپرا رولز کے تحت اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ٹینڈر طلب کیا جائے گا، اس منصوبے اور اس سے منسلک ورلڈ بینک کے تعاون سے مکمل ہونے والے دیگر منصوبوں کی تکمیل میں ڈھائی سے 3 سال کا عرصہ لگے گا۔

  • بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    گزارش ہے کہ آج کی جدید دنیا نے شخصی و انفرادی آزادی کے نام پر خلاف فطرت و شرع معاملات جیسا کہ ہم جنس پرستی و دیگر کو نا صرف اپنے ہاں قانونی حیثیت دی ہے بلکہ ڈیجیٹل میڈیا و اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں باقاعدہ تمام قسم کی موویز و سیزنز میں اس ایجنڈے کی (جسے LGBTQ+ کہا جاتا ہے) ترویج سے مشروط کیا ہے کہ کچھ نا کچھ اس مسئلہ کو لازمی ہائی لائٹ کیا جائے۔ باقاعدہ طور پر بننے والا مواد اس سے ہٹ کر ہے۔ پہلے پہل مغربی سینما جو ہالی ووڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اس نے اس گند کو پھیلانے کا کام کیا بعد ازاں بھارتی سینما بالی ووڈ اور اب یہ جرات پاکستانی فلم انڈسٹری کو بھی ہوگئی ہے۔ سرمد کھوسٹ پاکستانی سینما میں متنازعہ موویز بنانے کے حوالے سے معروف ہیں جنکی اکثر موویز سینسر بورڈ میں آکر پھنس جاتی تھیں اور اکثر نکل بھی جاتی تھیں۔ لیکن حیران کن طور جوائے لینڈ نامی مووی جو دو لڑکوں کی محبت و شادی پر مبنی سٹوری ہے یہ نا صرف بن گئی بلکہ باہر کے سینما سے متعدد ایوارڈز لینے کے بعد بغیر کسی تردد کے سینسر بورڈز سے اپروول کے بعد 18 نومبر کو پاکستانی سینماؤں میں ریلیز کیلئے تیار ہے۔

    اللہ کی بغاوت اور غیض و غضب کا شکار قوم لوط کا عمل غلیظ (جسکے مرتکب فاعل و مفعول کی سزا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حدیث کے مطابق قتل ہے) کی ترویج پر مبنی یہ مووی کی ریلیز لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بنے ملک جسکے آئین کے دیباچہ میں قرارداد مقاصد کے مطابق اس ملک میں قرآن و سنت و آئین سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا وہاں پہلے ٹرانس جینڈر بل کے نام پر آئین و قانون میں نقب اور اب سرعام اسکی ترویج کی جرات یقینا سینسر بورڈ و حکومت اور اسکے بعد مذہبی جماعتوں کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ اس فتنے کے سدباب کیلئے #BanJoyland مہم پلان کی تو الحمد اللہ پوسٹرز و ویلاگز کے ساتھ ٹویٹر پر ٹرینڈ بھی پینل ہوگیا ،کچھ نا کچھ سوشل میڈیا پر آگاہی و ٹویٹر سپیس بھی ہوگئی، یقینا یہ ناکافی ہے اسکی روک تھام کیلئے سوشل میڈیا سے بڑھ کر عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے اور سڑکوں پر نوجوانوں کے ہمراہ احتجاج کے ذریعے اس بد فعلی کو روکنے کی پوری کوشش اسکے بین ہونے تک کی جائے گی ان شا اللہ۔

    اب اس مہم پر کافی احباب کا اعتراض آیا ہے کہ آپ تو بذات خود اسکی پروموشن کا باعث بن رہے ہیں تو گزارش یہ کہ ہمارے نا کرنے سے مووی ریلیز ہو کر رہے گی اور اسکے بعد اسکی ویوورشپ یقیناً لاکھوں میں ہوگی۔ اگر اس سے قبل ہی اسکی روک تھام کر لی جاتی ہے تو یقیناً یہ فائدہ مند ہوگا۔ اس مہم سے زیادہ سے زیادہ چند سیکنڈ کے پرومو تک پہنچ ہوگی لیکن اصل گند مووی کی ریلیز سے بچا جا سکتا ہے۔ خلاف قانون و آئین و اسلام مووی کی روک تھام کی مہم کوئی پہلی مہم نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اس طرز کی مہمات کامیاب ہوئی ہیں جن میں اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر بھارتی و دیگر فلمز کی نمائش پر پابندی لگی۔
    باقی ہر برے کام کے بارے میں یہ سوچا جانے لگے پھر تو اچھائی کی ترویج اور برائی روک تھام ناممکن ہو جائے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ برائی کو ہوتا دیکھیں تو استطاعت کے مطابق ہاتھ یا زبان سے روکیں اور اگر ممکن نہیں تو پھر کم از کم دل میں برا جانیں۔ امید ہے کچھ نا کچھ کلئر کر پایا ہوں گا۔ شکریہ

    الحمد اللہ یہ تحریر لکھنے کے دوران ہی یہ خوشخبری ملی کہ یہ فلم بین ہو چکی ہے۔ یقیناً یہ معمولی کاوش اللہ کی مدد یہ سے یہ کامیابی ملی۔ تمام احباب کا خصوصی شکریہ۔ جزاک اللہ خیر

  • پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    حملے کے بعد کیوں عمران خان کسی بھی انکوائری کمیٹی کو اپنے الزامات کے ثبوت نہیں دینا چاہتے؟

    عمران خان کیوں میڈیکو لیگل رپورٹ بنوانے سے کترا رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو گولیوں کے ٹکڑے لگے ہیں تو پہلے 4 گولیوں کا جھوٹ کیوں بولا گیا؟

    عمران خان جن پر الزام لگا رہے ہیں انہیں استعفے کا کہہ رہے ہیں۔ اپنے دور حکومت میں خود پر لگنے والے الزامات پر کیوں استعفیٰ نہیں دیتے تھے؟

    اپنے دور حکومت میں سڑکیں بلاک کرنے والوں کے خلاف تقریریں کرتے تھے تو اب لوگوں کو کیوں اسی بات کی ترغیب دے رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو 24 ستمبر سے ہی پتہ تھا کہ ان پر حملہ ہونا ہے تو کیوں انہوں نے اپنی اور سپورٹرز کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں؟

    عمران خان نے DW کو انٹرویو میں اقرار کیا کہ ان کے پاس circumstantial evidence ہے۔ کیا صرف ایسے ثبوت سے وہ الزام پر الزام دھر رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کی مرضی کی بنی انکوائری کمیٹی نے بھی الزامات کو غلط قرار دے دیا تو کیا عمران خان جلاؤ گھیراؤ کی سیاست ترک کریں گے؟

    عمران خان کیوں فوج سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ نیوٹرل ہونے کی بجائے وہ انہیں دوبارہ حکومت کی کرسی پر بٹھائے؟

    کیا پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ نافذ ہے؟ اگر نہیں تو عمران خان سے معمولی اختلاف کرنے والے کو پارٹی سے کیوں نکال دیا جاتا ہے؟

    کیا عمران خان کو اپنی پارٹی میں صرف "یس مین” چاہئیں؟ اگر نہیں تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی کارکن کی رکنیت کیوں منسوخ کی جا رہی ہوتی ہے؟

    کیا پی ٹی آئی میں کسی کو اتنا بھی حق نہیں کہ عمران خان کی بات سے اختلاف کرے یا مختلف نقطہ نظر پیش کرے؟

    کیا پی ٹی آئی اختلاف رائے رکھنے والے ممبران کی ممبرشپ منسوخ کر کے جمہوری اقتدار کے برعکس عمل پیرا ہے؟

  • مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر یورپ کے آرٹ میں کئی جدید فنی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سب سے دلچسپ سرئیلیزم تھی۔ آپ اگر پیرس جائیں تو وہاں ایک پورا میوزیم محض جدید آرٹ کی تحریکوں کی پینٹنگز کے لیے مختص ہے۔ اسے میوزیم آف ماڈرن آرٹس کہتے ہیں اور یہ ایفل ٹاور اور دریائے سین کے کنارے پر ہے۔ اسکے علاوہ جدید آرٹ کے حوالے سے ایک اور میوزیم "اورسے میوزیم” ہے جہاں یورپ میں چودہویں سے سترویں صدی تک نشاطِ ثانیہ کی تحریک کے دوران جنم لینے والے جدید آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔

    ان دونوں میوزیمز میں آپکو انیسویں کے سرئیلیزم کے نامور فنکاروں جیسے کہ سلوادور دالی, پابلو پِکاسو، اندرے بریطون وغیرہ کے فن پارے ملیں گے۔ سرئیلیزم دراصل انسانی تخیل اور انسان کے لاشعور میں بسے خیالات کو کینوس پر اُتارنے کا نام ہے۔ خواب میں ہم جو عجیب و غریب قسم کی تشبیہات دیکھتے ہیں اسے کیسے لاشعور سے شعور میں لایا جائے اور دکھایا جائے۔

    مثال کے طور پر دالی کی مشہور پینٹنگ "Persistence of Memory” یا "یاداشت کی استقامت” میں گھڑیوں کو پگھلتا دکھایا گیا جس سے لوگوں نے سمجھا کہ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی نمائندگی ہے جس میں وقت کا بہاؤ تبدیل ہوتا ہے مگر دالی صاحب نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ پینٹنگ سورج میں پگھلتے پنیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ مگر اس میں وقت کا بہاؤ دراصل گھڑیوں کے پگھلنے کی صورت انسانی لاشعور سے شعور میں آیا۔

    بالکل ایسے ہیں ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کو ایک عظیم فنکار ملا جسکا نام تھا صادقین۔ صادقین کا کام بے حد خوبصورت ہے۔ لاہور میوزیم جائیں یا تربیلہ ڈیم یا سٹیٹ بینک کراچی وہاں آپکو صادقین کا کام چھتوں پر، پینٹینگز میں, لکڑی کے کام میں دکھے گا۔صادقین ایک بڑی حد تک پاکستان میں سرئیلزم تحریک کے پیشوا تھے مگر اُنکا کام اس میڈیم کے ذریعے آفاقی تصورات کو جس میں فلکیات، انسانی جستجو اور کائناتی رموز، اور لاشعور کے خیالات کو ایک شکل دینا تھی۔ انکے اس کام پر مبنی ایک کتاب ہے : Sadquine: The” Holy Sinner ” جسکا ٹائٹل جرمنی کے نوبل انعام یافتہ مصنف تھامس مان کے اسی نام کے ناول سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اّنکے سرئیلیزم آرٹ جس میں کچھ کام اُنہوں نے غالب اور اقبال کی شعروں سے متاثر ہو کر کیا، موجود ہے۔

    زیرِ نظر تصویر میں صادقین کے اس کام کی دو جھلکیاں ایک علم کی جستجو کے حوالے سے اور دوسری افلاک اور انسان کے موضوع پر۔

    صادقین نے برصغیر کے آرٹ میں میں حروفیہ تحریک کا آغاز کیا جس میں عربی خطاطی کو ایک نئے روپ سے پیش کیا گیا۔ برِ صغیر میں اگر آرٹ میں اصل سوچ رکھنے والوں کا نام لیا جائے تو صادقین بلاشبہ سرِ فہرست ہونگے۔

    صادقین (1923 تا 1987)

  • شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر 23 سے 26 سال کی عمر ہے۔ اس میں انسان کو شادی ضرور کر لینی چاہیے۔ فیملی سٹارٹ کرنے سے لیکر پارٹنر سے ذہنی ہم آہنگی تک، ہر کام کے لئے یہ لائف پیریڈ بہت اہم ہے۔ اور ہو سکے تو انسان کو اپنے پارٹنر کے بارے میں 20 سال کی عمر تک کلئیر ہونا چاہیے یا کم از کم اس کے جیسے انسانوں کی خصوصیات کا علم ہونا چاہیے کہ اس کو کیسا پارٹنر چاہیے۔ تاکہ وہ ایک ذہنی کوفت سے آزاد رہ کر باقی سرگرمیوں پہ زیادہ سے زیادہ انرجی صرف کرسکے۔

    ماڈرنزم ایک طرف، فیمنزم ایک طرف، انسان کا جو بائیولوجیکل وجود ہے وہ ایک پارٹنر مانگتا ہے اور بہت شدت سے مانگتا ہے۔ انسان جتنا مرضی اس بات کی مخالفت کرتا نظر آئے کہ انسان کو شادی نہیں کرنی چاہیے فلاں کام کرنا چاہیے لیکن جب اس کو پیار ہو جاتا ہے یا اس کا جسم بغاوت کرتا ہے تو شادی ایک مجبوری امر بن جاتی ہے۔ سو یہ ایک ایسا جسمانی رد عمل ہے جس سے فرار نا ممکن ہے۔

    رہی بات بائیولوجی کی، تو بائیولوجیکلی ایک انسانی عورت 30 کے بعد اگر ماں بننے کی طرف جاتی ہے تو یہ آنے والے بچوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سو ارتقاء نے ہمارے جسموں کو اس سختی سے ڈیزائن کیا ہے کہ ہماری مادائیں 30 کے بعد "شادی” کی طرف جائیں تو یہ نا صرف انکے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی نقصاندہ ہے۔

    ماڈرنزم ہماری زندگیوں کو کافی بدل چکی ہے اس میں خصوصاً لڑکیوں کو 20-30 سال کی عمر کے دوران اتنی ڈیٹنگ آپشن مل جاتی ہیں کہ وہ ایک مستقل پارٹنر رکھنا فضول سمجھنے لگ جاتی ہیں مگر جونہی انکی عمر ایک خاص لمٹ کراس کرتی ہے تو کوئی ان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ یہی حساب لڑکوں کا ہے کہ کیرئر کی دوڑ میں وہ اس اہم کام کو بھلا بیٹھتے ہیں اور ظاہر ہے ہر لڑکا ویل سیٹل نہیں ہو پاتا تو وہ بھی تنہا رہ جاتا ہے۔

    بظاہر 35 سال تک تو انسان کو لگتا ہے کہ وہ بہت سے لوگ رکھتا ہے مگر جب سب کی فیملیز شروع ہو جاتی ہیں تو وہ تنہائی محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے اور آخر میں وہ مکمل طور پہ ایموشنل تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ایموشنل تنہائی بہت خطرناک چیز ہوتی ہے۔ آپ اکثر ان لوگوں کو دیکھیں جو شادی کئے بغیر رہ رہے ہیں پھر انکی زندگی اور روٹین دیکھیں تو آپ کو ایک جھرجھری ضرور آئے گی۔

    ہمارے معاشرے میں اس چیز کو ڈسکس کرنا ٹابو سمجھا جاتا ہے مگر یہ باتیں حقیقت کے قریب ہیں ۔ آپ معاشی طور پہ جتنا مرضی آزاد ہو جائیں آپ کو ایک ایموشنل بانڈ کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ 30 تک یہ بانڈ شوہر یا بیوی دے سکتی ہے اور پھر بچے آپ کی اس نفسیاتی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔

    امیجن کریں کہ آپ 70 سال کی عمر میں بستر مرگ پہ ہوں اور آپ سے جدا ہونے کے غم میں تیس چالیس پوتے پوتیاں نم آنکھیں لئے کھڑے ہوں یہ آپ کی زندگی کی ایک بڑی کامیابی ہے بجائے اس کے کہ آپ کی وفات کا ماسوائے آپکے بہن بھائیوں کے کسی کو بھی خاص غم نا ہو بلکہ ان کو بھی اندر سے آپکی ذمہ داری ختم ہونے کی خوشی ہوگی۔

  • کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام  — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق یعنی کلاس فیلوز کی بہت ساری اقسام ہو سکتی ہیں۔ جن کی مستند تعداد بتانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے۔ کیونکہ انکی اقسام اتنی ہی جلدی بدلتی ہیں جتنی جلدی پنجاب میں وزیراعلی۔۔ مگر کلاس فیلوز کی چند اقسام پیش خدمت ہیں ۔

    نمبر ایک:
    پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو کبھی وقت پر نہیں آتے مگر عموماً وقت سے پہلے چلے ضرور جاتے ہیں۔ اسی قسم کے کچھ باشندے تو چھٹی کے ٹائم سے دس منٹ پہلے ہی کہہ رہے ہوتے ہیں ۔ میم "ٹیم”(ٹائم) ہوگیا ہے۔

    نمبر دو:
    کلاس روم میں ایک اور مخلوق پائی جاتی ہے جو ہفتے کے چھ دن بیمار رہتی ہے اور ساتویں دن یعنی اتوار کو بیماری کو چھٹی دیتی ہے۔ ان پر بیماریاں بھی بڑی ترتیب سے آتی ہیں۔ سوموار کو انکا گلا خراب ہوتا ہے ۔ اگلے دن نزلہ اور پھر بخار اور اگلے دن یعنی اتوار کو بیماری کی چھٹی ۔ بیماری کا یہ سائیکل ہر دو ماہ بعد ضرور آتا ہے ۔ اگر کبھی یہ سائیکل پنکچر ہوجائے تو پھر انکے دور کے رشتہ داروں میں سے کوئی خدا کو پیارا ہو جاتا ہے۔

    نمبر تین:
    اگلی قسم کا نام ہے ” فٹا فٹ” ۔ کلاس رومز میں پائی جانے والی یہ مخلوق ہر وقت فٹا فٹ کے چکروں میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ اگر ٹیچر کلاس میں 5 منٹ تک نہ آئے تو یہ مخلوق فٹا فٹ سٹاف روم کو دوڑے گی۔ پھر پوری کلاس انکو خوب صلواتیں بھی سناتی ہے ۔جن کا اس مخلوق پر اتنا ہی اثر پڑتا ہے ۔جتنا ہم سب پر قاسم علی شاہ کا۔

    نمبر چار:
    اس قسم کا نام Attention Beggars ہے۔
    یہ ہر وقت اٹنشن کے چکر میں بھکاریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہے ہوتے ہیں ۔ اٹنشن کے چکر میں یہ تمام تر چھچھورے پن کر مظاہرہ کرنے کے باوجود تھوڑی سی بھی توجہ نہ ملنے کے بعد بھی زرا شرمندہ نہیں ہوتے،
    بلکہ بھکاریوں کی طرح اگلے بندے کے پاس چلے جاتے ہیں۔

    نمبر پانچ:
    ایک وہ مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو کبھی چھٹی ہی نہیں کرتی ۔ نہ جانے یہ مخلوق اتوار کو گھر کیسے بیٹھتی ہوگی۔ انکو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے خاندان میں نہ تو کوئی شادی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بابا مرتا ہے ۔ بیماری تو ان کے گھر ایسے ہی آتی ہوگی جیسے ہندؤں کو کلمہ

    نمبر چھ:
    ایک مخلوق ہر وقت اپنے ہی اشتہار چلاتی رہتی ہے ۔ یعنی

    میں نے یہ کر دیا
    میں نے وہ نے وہ کر دیا

    وقت آنے پر جب پتہ چلتا ہے تو اس مخلوق نے صرف وہ ہی کیا ہوتا ہے ۔ جو میں آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔ اس مخلوق کو آپ "بول نیوز” بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ ہر کام سب سے پہلے ، سب سے اچھا یہی مخلوق کرتی ہے، صرف باتوں میں ۔

    شکائتو! ٹولے کا تو نہ ہی پوچھیے۔ اس مخلوق کی پہچان انتہائی آسان کام ہے ۔ ٹیچرز کی خوش آمدیں تو ان پر بس ہیں۔ یہی لوگ "آئی ایس آئی” کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں ۔ کلاس کی خفیہ باتیں، ٹیچرز اور ایڈمن آفس تک پہنچانا انکا اولین فرض ہوتا ہے۔ اگر کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام لکھنے بیٹھا جائے تو کئی اک دن درکار ہونگے ۔ سو انھی چند اقسام پر گزارا کرتے ہیں ۔

  • سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    عمران خان پر قاتلانہ حملے نے دنیا بھر کے میڈیا کو اپنا رُخ پاکستان کی طرف موڑنے پر مجبورکردیا۔ ملکی سیاست میں انتشار مزید گہرا ہو رہا ہے۔پاکستان مخالف قوتیں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں جشن کا سماں ہے۔ تاہم سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مستقبل اور اقتدار میں رہنے کی جنگ میں مصروف ہیں اس وقت ملک کہاں کھڑاہے.

    عوام کس حال میں ہیں اس سے بے خبر سیاستدان ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جس کا عوام سے کوئی واسطہ نہیں پنجاب میں گورنر راج لگے یا عمران خان کو گرفتار کرنے پر پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا اگر عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے توخیبر پختونخوا میں حالات خراب تر ہو سکتے ہیں پاک افغان سرحد اور پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت انتشار مزید پھیلانے میں اپنا کردارادا کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔

    ملکی سلامتی اور بقا کے لئے سیاسی جماعتیں ضد ،انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کریں حکومت اور عمران خان اس ملک اور عوام کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف ، پیپلزپارٹی میں موجود سنجیدہ سیاستدان ، مسلم لیگ (ن) کے سنجیدہ سیاستدانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں جومذاکرات کرے اورملک کو مزید انتشار کی سیاست سے بچانے میں کردارادا کرے۔ ملک کے وقاراور سلامتی کی خاطر یہی ایک راستہ ہے سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور ہٹلر کا راستہ ہے۔

    قوم تقسیم ہو رہی ہے ۔ چوراہوں جلسے ،جلوسوں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے خدا کی پناہ۔ اس ملک کی خاطر ضد، ہٹ دھرمی کو دفن کریں ۔ دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

    اس وطن عزیز کی خاطر اور اس عام آدمی کی خاطر جس کو دنیائے سیاست میںکیا تبدیلی ہو رہی ہے ۔ بے خبر ہو کر اپنی مشکلات سے لڑرہا ہے۔عام آدمی سبزی ، دالیں ،گوشت، بجلی ،گیس ،آٹے کی خرید سے جنگ لڑ کر ہار رہا ہے اور ہار چکا ہے عام آدمی کا سیاستدانوں پر اعتماد اٹھ رہا ہے عام آدمی بیزار ہے اس کا اعتماد بحال کرنے میں سیاستدان کردار ادا کریں اگر اس کا اعتماد بحال نہ ہوا تو ذرا سوچئے کیا ہو گا؟