Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آئینہ ان کو دکھایا

    آئینہ ان کو دکھایا

    آئینہ ان کو دکھایا
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    کئی دنوں سے پاکستان کے سینئر صحافیوں اور خاص طور پر سینئرصحافی اور اینکرپرسن مبشر لقمان کے خلاف پی ٹی آئی کے گماشتوں نے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے ،جس طرح کی وہ زبان استعمال کررہے ہیں وہ ان کی اور ان کے لیڈر اوران کے حسب نسب کی گواہی دی رہی ہے کہ ان لوگوں کاتعلق کس قبیل سے ہے ،سب سے زیادہ یہ لوگ اس بات پر زور دیکر ٹویٹرپرٹرینڈز لانچ کررہے ہیں اور بے ہودہ زبان استعمال کررہے ہیں کہ "مبشرلقمان نے ایک اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویودیا اورمبشرلقمان یہودی ایجنٹ ہے "اس کا جواب تو مبشر لقمان خود اپنے یوٹیوب ویلاگ میں دے چکے ہیں ۔آئیے تاریخ کے اوراق پلٹ کردیکھتے ہیں کہ یہودی ایجنٹ کون ہے ۔؟
    سب سے پہلے حکیم محمدسعیدکاذکر کرلیتے ہیں اگرکسی اورکانام لیتے تو آپ اے سیاسی عداوت کانام بھی دے سکتے ہیں،مگر سابق گورنر سندھ، ہمدرد یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید شہید کی عمران خان سے کونسی سیاسی دشمنی تھی.؟حکیم محمد سعیدشہیدنے اپنی شہادت سے دو سال قبل 1996 میں اپنی کتاب "جاپان کی کہانی "شائع کی اور اس کتاب میں سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے عمران خان کی یہودیت نوازی کا پردہ مکمل طور پر چاک کردیا تھا۔ حکیم محمد سعید اس یہودی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 13، 14 ، 15 پر لکھتے ہیں۔ بیرونی قوتوں نے ایک سابق کرکٹر عمران خان کا انتخاب کیا ہے، یہودی میڈیا نے عمران خان کی پبلسٹی شروع کردی ہے، سی این این اور بی بی سی عمران خان کی تعریف میں زمین و آسماں کے قلابے ملا رہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کو کروڑوں روپے دیئے جا چکے ہیں تاکہ عمران خان کو خاص انسان بنائے، برطانیہ جس نے فلسطین کو اسرائیلی ہاتھ میں دے کریہودی ریاست بنانے میں مکمل تعاون کیا وہ ایک طرف عمران خان کو آگے بڑھا رہے ہیں اور دوسری طرف آغا خان کو ہوائیں دے رہا ہے۔حکیم محمد سعید شہید آگے سوال اٹھاتے ہیں، میرے نوجوانو!کیا پاکستان کی اگلی حکومت یہودی الاصل ہوگی ؟؟یہ وہ دور تھا؛ جب عمران خان سیاست کا ” س ی ا س ت ” یاد کررہا تھا،
    مگر اس حکیم الوقت نے اس مرض کو بروقت بھانپ لیا تھا جو پاکستانی قوم کی رگوں میں سرایت کر رہا تھا اور شائد یہی وہ حق و سچ کی جرات کا نتیجہ تھا کہ حکیم محمد سعید کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ حکیم محمد سعیدشہید کے علاوہ پروفیسر اسرار احمد نے تیس سال پہلے کہا تھا اور نام لے کر کہا تھا جس کی ویڈیوز موجود ہیں کہ عمران خان کو یہودی لابی لے کر آئے گی اور وہ پاکستان کو تباہ کرنے آئے گا۔
    یہ مولانا فضل الرحمن کا بیان نہیں ہے بلکہ کراچی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ تکبیر کے 1997 کی رپورٹ ہے جوآج سے 25سال قبل شائع ہوئی پڑھ لیں،ہفت روزہ تکبیر نے لکھا ہے کہ عمران خان جیسے تھرڈ کلاس شخص کے ساتھ سر جیمر گولڈ اسمتھ جیسے کٹر یہودی ارب پتی شخص کے اکلوتی لاڈلی بیٹی کی شادی محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ یہودیوں کے اس نظریے اور فلسفے کا تسلسل ہے کہ کسی بھی شخص کو خوبصورت دوشیزائوں کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے،عمران خان کے پاس لندن کے 4 مہنگے ترین نائٹ کلبوں کی تاحیات ممبر شپ تھی جہاں پر عام شخص جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، انہی کلبوں میں سیتا وائٹ جیسی یہودی امیرزادیوں کے ساتھ عمران خان تعلقات بناتا تھا
    عمران خان کو جس عالمی یہودی کلب کی تعاون حاصل ہے اس کے کل دس ارب پتی ممبران ہیں جبکہ گولڈ اسمتھ اس کلب کا مضبوط رکن ہے، یہ کلب اتنا موثر ہے کہ اس نے یورپین بلاک بننے کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی جس کے لئے انہوں نے دو ارب برطانوی پانڈز بھی جمع کیا تھا،عمران خان ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پاکستانی جذباتی قوم کے سامنے ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے تھے اسی وجہ سے اس بدنام زمانہ یہودی کلب کے نظریں عمران خان پرٹھہرگئیں، جب عمران خان نے 1996 میں اپنی جماعت بنا کر الیکشن میں اترے تو ان کواکمپین چلانے کے لئے خصوصی ہیلی کاپٹر دیا گیا جس کا سارا خرچہ اسی کلب نے ادا کیا۔
    اب ذرا 15جولائی 2017ء کا روزنامہ خبریں دیکھ لیجئے روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق لکشمی میتل کے داماد امیت بھاٹیا، پیٹر وِردی،نربھے لال وانی، ذلفی بخاری اور یہودی عطیہ دہندہ جیمی ریوبن کا پاکستان تحریک انصاف کو فنڈنگ کرنے کا انکشاف ہوا ہے لیکن ذرائع کے مطابق اِسکا ریکارڈ پاکستان میں موجود نہیں،عمران خان نے 150,000 پائونڈ موصولی کی باقاعدہ تصدیق تو کی تھی مگر اِن انڈین اور اسرائیلی ذرائع کے نام راز میں ہی رکھے ،خفیہ رکھی گئی اِس عشائیہ تقریب میں انڈین اور اسرائیلی سفارتخانے کے سفارتکاروں نے شرکت کی تھی ،مگرجانچ پڑتال اور بے نقاب ہونے سے بچنے کیلئے بیانات کو الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے،تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا کی نمایاں شخصیات اور یہودی کاروباری شخصیات ،جنہوں نے عمران خان کو پارٹی کیلئے عطیہ دیا،انڈین اور اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ سے مضبوط تعلقات رکھتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے اندر بھی انڈین ذرائع، یو کے اور یو ایس اے سے لئے گئے عطیات کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
    لندن کے اولڈ پارک لائن میں واقع نوبو ریسٹورنٹ کے پی ٹی آئی، یوکے کے لیڈر ذلفی بخاری کے زیراہتمام اپریل کو فنڈریزنگ کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جبکہ عمران خان کی جانب سے اپریل کو سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ پر اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا گیا کہ یہ فنڈز نمل کالج کیلئے تھے۔لیکن ذرائع جنہوں نے خفیہ عشائیہ میں شرکت کی تھی ،نے تصدیق کی ہے کہ فنڈریزنگ پی ٹی آئی کیلئے تھی اور تین انڈین نے تقریب سے خطاب بھی کہاتھا کہ پاکستان میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے جس کا ذکر عمران خان کرتے ہیں۔بعدازاں عمران خان نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ میں ذلفی بخاری اور انکے دوستوں کانمل کالج کیلئے 150,000پائونڈ کے تعاون پر شکرگزارہوں لیکن یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ دوست کون تھے جنہوں نے یہ پیسہ دیا۔پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق 150,000 پائونڈ صرف امیت بھاٹیا، جیمی ریوبن، پیٹر وردی اور لال وانی سے موصول ہوئے جبکہ100,000 پائونڈ اسکے علاوہ ہیں جو ا س رات جمع کئے گئے جس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔جس رقم کو ذلفی بخاری نے سنٹرل لندن میں عمران خان کیلئے پراپرٹی کے بزنس میں انوسٹ کردیا۔انہیں ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ 2014کے دھرنے میں ذلفی بخاری نے350,000 پائونڈ عطیہ کئے تھے جب عمران خان نے فنڈز کے لئے اپیل کی تھی۔یہی انڈین شخصیات اور ریوبن فیملی تھی جن کا گولڈ سمت سے تعلق ہے نے دھرنے کیلئے رقم کا بندوبست کیا۔ایک عطیہ دہندہ کا کہنا ہے کہ عشائیہ تقریب میں شرکت کرنے والوں میں تین انڈین سفارتکار شامل تھے جب کہ دو سنیئر سفارتکار اسرائیلی سفارتخانہ یو کے سے تھے ،جو سفارتکاروں کی کار میں ہی پہنچے تھے۔ پی ٹی آئی کو رقم مہیا کرنے والوں کی سیاسی معاملات میں دلچسپی ہے اور یہ اپنے رابطوں اور تعلقات کو آئندہ اپنے کاروبار میں اثرانداز ہونے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں
    امیت بھاٹیا اور لکشمی میتل کو انڈین پرائم منسٹر کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔انہیں افراد نے نریندر مودی کے استقبالیے کا اہتمام کیا تھا جب مودی نے یوکے میں چند عرصہ قبل دورہ کیا۔انہیں آر ایس ایس اور بی جے پی کا اہم سپانسر بتایا جاتا ہے ،جب کہ انہیں مودی کی ریلیوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ذلفی بخاری اور ذاک گولڈ سمیتھ کے یہی قریبی دوست ذاک گولڈ سمیتھ کے ہمراہ دو ہفتے قبل اسرائیل کا مودی کی موجودگی میں دورہ بھی کر چکے ہیں جہاں انہوں نے کاروباری معاہدوں میں دستخط بھی کئے۔ اِن افراد کو اِس دورے میں یہودی کاروباری ٹائی کون جیمی ریوبن کا ساتھ رہا ،جس کے بھائی نوبو کے عشائیے میں بھی موجود تھے۔ اور وہاں ذلفی بخاری کے ذریعے عمران خان کو عطیہ بھی دیا تھا۔
    اندرونی ذرائع کے مطابق لکشمی میٹل کے داماد امیت بھاٹیا اور ذلفی بخاری نے تحریک انصاف کے ممبران یا لیڈرز کو عشائیہ تقریب میں شریک نہ ہونے دیا اور بڑی احتیاط برتتے ہوئے محدود چنی ہوئی مخصوص شخصیات کو ہی مدعو کیا،تقریب میں آڈیو ویڈیو کی ریکارڈنگ ممنوع تھی،یوکے میں انیل مسرت بھی پی ٹی آئی اور انکے سیاستدانوں کو سپانسرز کرنے کے حوالے سے بہت مقبول ہیں ، جبکہ انیل مسرت انڈین کاروباری شخصیات، بالی وڈ کی نمایاں ہستیاں سمیت بی جے پی لیڈرز کے اعزاز میں تقاریب کو سپانسرز کرتے ہیں۔ان تقاریب کے انتظام و اہتمام میں انہیں اپنے بھائی نائیب مسرت کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انیل مسرت کے سگی بہن نے برطانوی نژاد انڈین کاروباری شخصیت سے شادی رچا رکھی ہے جو بی جے پی کے لیڈر ارون جیٹلی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
    عمران خان کو فنڈزیورپ اور امریکہ کی یہودی اور بھارتی لابی مہیا کرتی ہے- اسکے لندن کی گولڈ سمتھ جرمن یہودی خاندان سے روابط ہیں یہی وجہ ہے کہ اس نے لندن کے میئر کے انتخابات میں پاکستانی نزاد صادق خان کے مقابلے میں اپنے سابق سالے کنزرویٹیو پارٹی کے امید وار زیک گولڈ سمتھ جو کہ ایک کنزرویٹو ہے اور پرو اسرائیل ہے کی انتخابی مہم چلائی تھی ۔
    10 جون ، 2016 لندن کے نو منتخب میئر صادق خان نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں اپنے حریف زیک گولڈ سمتھ کی حمایت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ انھوں نے اس حقیقت کے باوجود کہ زیک گولڈ سمتھ نے انتخابات کے دوران میرے خلاف نسل پرستی اوراسلامو فوبیا سمیت ہر حربہ اختیار کیا اور ووٹروں سے جا جا کر کہا کہ صادق خان مسلمان اور پاکستانی ہے اس لئے اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا میرے مقابلے میں زیک گولڈ سمتھ کی حمایت کیوں کی؟۔جس کا آج تک خان صاحب نے جواب نہیں دیا ۔
    سابق وزیراعظم عمران خان کے دورحکومت میں اکتوبر2018 ء تاریخ میں پہلی بار ایک اسرائیلی طیارے نے اسلام آباد میں لینڈ کیا جس کی خبرایک اسرائیلی اخبار ‘ہارٹیز’ کے مدیر ایوی شراف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دی ،اس ٹویٹ کے بعدیہ پتہ چلا کہ ایک طیارہ پاکستان آیا اور دس گھنٹے کے بعد ریڈار پر دوبارہ نمودار ہوا۔پروازوں کی آمدورفت یا لائیو ایئر ٹریفک پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار پر اس پرواز کے اسلام آباد آمد اور دس گھنٹے بعد پرواز کے ثبوت موجود ہیں۔ اسرائیلی صحافی کے بقول اس طیارے کے پائلٹ نے دوران پرواز ایک چالاکی دکھائی۔ان کے مطابق یہ طیارہ تل ابیب سے اڑ کر پانچ منٹ کے لیے اردن کے دارالحکومت عمان کے کوئین عالیہ ہوائی اڈے پر اترا اور اترنے کے بعد اسی رن وے سے واپس پرواز کے لیے تیار ہوا۔اس طرح یہ پرواز جو تل ابیب سے اسلام آباد کے روٹ پر جانے کے بجائے اس ‘چھوٹی سی چالاکی’ کی مدد سے تل ابیب سے عمان کی پرواز بنی اور پانچ منٹ کے اترنے اور واپس پرواز کرنے سے یہ پرواز عمان سے اسلام آباد کی فلائٹ بن گئی۔اس آمد اور روانگی پر کئی قیاس آرائیاں ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے سوالات بھی کئے کیونکہ ایک ‘اسرائیلی طیارے’ کی پاکستان آمد نے یقینا بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ادھر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے ذریعے کہلوایاگیاکہ کسی اسرائیلی طیارے کی پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر آمد کی افواہ میں قطعی کوئی صداقت نہیں ہے۔
    پی ٹی آئی نے امریکہ میں لابنگ کرنے کیلئے فرم ہائرکی ہوئی ہے ،جوبائیڈن ایک فنڈریزنگ تقریب سے خطاب کررہا تھا۔ سوال جواب کے سیشن میں اسی امریکی فرم کے نمائندے کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر سوال اٹھایا گیا، جس کو پی ٹی آئی نے لابنگ کے لئے ہائر کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ فرم پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کیخلاف زبردست مہم جوئی میں شریک کار رہی ہے-یہ ہیں وہ حقائق جو پاکستان کی عوام سے اوجھل ہیں،اب پاکستان کی سمجھ دارغیورعوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے یہودیوں کاایجنٹ کون ہے۔۔۔؟

  • عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار اور پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ بیٹر یونس خان کو پی سی بی ہال آف فیم شامل کرلیا گیا ہے۔ عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بنے ہیں۔ فضل محمود، عبدالقادر، حنیف محمد، ظہیرعباس، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور وقاریونس بھی پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوچکے ہیں۔ قادر خواجہ کے مطابق؛ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا کا کہنا ہے کہ ہال آف فیم کا مقصد اپنے رول ماڈلز کی کامیابیوں کو سراہنا ہے۔ رمیز راجا نے کہا کہ عبدالحفیظ کاردار نے پاکستان کو کرکٹ کا خواب دکھایا تھا اور یونس خان نے ہمیشہ سخت محنت کو اپنا شعار بنایا، یونس خان نے تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کے لیے لاجواب کامیابیاں سمیٹیں۔
    مزیہ یہ بھی پڑھیں؛ ملک کے 11 حلقوں میں ضمنی انتخاب کا دنگل آج سجے گا:کانٹے دارمقابلوں کی توقع
    رانا ثناءاللہ کو عابد شیر علی کی انتخابی مہم چلانے پر آج ہی طلب کرلیا گیا
    برطانوی وزیراعظم لزٹرس کو مشکلات کا سامنا، وزیر خزانہ کا سخت معاشی فیصلوں کا عندیہ
    اس حوالے سے عبدالحفیظ کاردار کے صاحبزادے شاہد کاردار نے کہا کہ ان کے والد نے اپنی شاندار قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی الگ شناخت بنائی، کاردار فیملی کو عبدالحفیظ کاردارکی پی سی بی ہال آف فیم میں شمولیت پر فخر ہے۔ یونس خان نے کہا کہ انہیں پی سی بی کی جانب سے ہال آف فیم میں شمولیت پر فخر ہے، عظیم کھلاڑیوں کی اس فہرست میں آنا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ سابق کپتان نے کہا کہ کامیابی کبھی بھی کسی ایک فرد کی بدولت نہیں ملتی، اس اعزاز پر اہل خانہ، ساتھی کھلاڑیوں، کپتانوں اور اسپورٹ اسٹاف کا مشکور ہوں۔

  • برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین شیخ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں انتقال کرگئے ۔

    برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین شیخ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں انتقال کرگئے ۔

    مکہ مکرمہ:برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین اور محقق علامہ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔برصغیر پاک و ہند کے علمی حلقوں میں شیخ محمد عزیر شمس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک بلند پایہ مصنف اور محقق تھے۔ اردو اور عربی زبان میں اب تک آپ کی متعدد تحقیقات اور مقالات و مضامین منظر عام پر آچکے ہیں۔شیخ عزیز شمس کی پیدایش دسمبر 1956ء میں مغربی بنگال (بندوستان) کے ضلع "مرشد آباد” کے علاقے "صالح ڈانگہ میں ہوئی جہاں آپ کے والد اور اپنے عہد کے جلیل القدر عالم مولانا شمس الحق سلفی مرحوم ایک دینی ادارے میں یہ سلسلہ تدریس مقیم تھے۔ آپ نے حصول علم کا آغاز مدرسہ فیض عام مئو سے کیا اور بعد ازاں ہندوستان کے نامور اداروں: دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار، جامعہ رحمانیہ بنارس، جامعہ سلفیہ بنارس میں طلب علم میں مشغول رہے اور 1976ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ چلے گئے اور چار سال تک عربی زبان و ادب میں تخصص کا کورس کیا۔ 1985ء میں جامعہ ام القری مکہ مکرمہ سے ایم فل کیا اور حالی کی تنقید اور شاعری پر عربی اثرات“کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ بعد ازیں اسی جامعہ سے پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا تہیہ کیا اور مطالعہ“ کے موضوع پر اپنا تھیسس مکمل کیا۔شیخ عزیر شمس ان تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد واپس ہندوستان چلے گئے، لیکن کچھ عرصہ بعد الله تعالی نے دوبارہ ارض حرمین میں قیام کا راستہ پیدا کر دیا، اور فروری 1999ء میں مکہ مکرمہ واپس آگئے جہاں آپ نے کئی علمی اداروں سے منسلک ہو کر کام کیا جن میں جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ، مجمع الملک فہد مدینہ منورہ اور اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ شامل ہیں۔ آپ 1999ء ہی سے مستقل طور پر مکہ مکرمہ کے مشہور علمی و تحقیقی ادارے "دار عالم الفوائد سے بھی وابستہ رہے جس میں آپ نے امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم اور علامہ معلمی کی بہت سی کتابوں کی تحقیق و تدوین کے فرائض سر انجام دیے ۔شیخ محمد عزیر شمس نے تحریر و نگارش کا آغاز اردو مضمون نگاری سے کیا اور اپنا پہلا مضمون "مولانا شمس الحق عظیم آبادی کے عنوان سے علامہ عظیم آبادی کی سیرت و خدمات سے متعلق لکھا۔ شیخ عزیز شمس نے امام ابن تیمیہ سمیت کئی محدثین پر کام کیا اور کثیر تعداد میں کتب تصنیف کیں ، بلاشبہ اس ’شمس’ کی وفات سے علم و تحقیق کا ایک ’آفتاب’ غروب ہوگیا.شیخ محمد عزیر شمس کی نماز جنازہ حرم مکی میں فجر کی نماز کے بعد سوموار کے دن ادا کی جائے گی، اور تدفین معلیٰ قبرستان میں ہوگی۔

  • غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملک کی مخدوش معیشت کو سنبھالا دے کر ترقی کرتی ہوئی معیشت میں بدلنے کا بیڑہ اسحاق ڈار کے ذمے لگانا نہ صرف میاں محمد نواز شریف بلکہ ذمہ داران ریاست کا بہترین فیصلہ ہے۔ سینیٹر اسحا ق ڈار وزیر خزانہ نے بگڑی معاشی صورت کو درست سمت گامزن کرنے کی حامی بھر کے ملک اورعوام پر احسان کیا ہے جس کو سنجیدہ کاروباری اور عوامی حلقے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کا رحجان اور سٹاک ایکسچینج میں بلندی کی روش کسی معجزے سے کم نہیں پاکستان کو سری لنکا کی معیشت سے تشبیہہ دینے والے نابلد و ن اکام سیاسی اور معاشی پنڈتوں کو منہ کی کھانی پڑی اسحاق ڈار نے وطن عزیز کو معاشی گرداب سے نکالنے کی اٰمید کو زندہ کردیا۔

    ان کے سامنے آئی ایم ایف سمیت تمام بین الاقوامی مالیاتی فورمز کے ساتھ پاکستان کا کیس لڑنا ہے جبکہ ملکی سطح پر مائکرو اکنامکس کو نئے سرے سے منظم کرنے سے لے کر میگا اکنامکس، سمال انڈسٹری سے لے کر بڑی صنعتوں کی ترقی پٹرولیم کی قیمتوں میںکمی جیسے چیلنجز ہیں۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ لوگ جو ملک کی ماضی قریب کی ابھرتی معیشت سے کھلواڑ کھیل گئے ان کو ہوش کے ناخن لے کر معاشی ترقی کے لئے ساز گارسیاسی وسماجی ماحول فراہم کرنے میں مدد دینی چاہئیے اور وسیع تر قومی مفاد میں معاشی استحکام کی مخلصانہ کوششوں کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہیئے ایک ساز گار سیاسی وسماجی ماحول ہی معاشی ترقی کو پنپنے دے گا۔

    دفاعی اور کاروباری ترقی کے شعبوں ملک ایک بار پھر اقوام عالم میں دوبارہ ابھرتی ہوئی معاشی قوت کا مقام حاصل کرے گا۔ معاشی ترقی کا سنبھالا بلاشبہ دفاع پاکستان کا ضامن ہوگا ۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران جوغیر سنجیدہ وغیر دانشمندانہ تجربات کئے گئے اٰن کو دہرانے سے گریز کیا جائے ۔ادھر حکمران جماعت کے وزراء اور مشیران کو بھی چاہیے کہ وہ نہ صرف بے بنیاد پروپیگنڈوں کا منہ توڑ جواب دیں بلکہ ا پنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں عوام رابطہ مہم کے ذریعے عوامی مسائل کو حل کریں اور اپنے آپ کو اسلام آباد کےایوانوں کی زینت ہی نہ بنائے رکھیں ۔ غرور اور تکبر کی حدوں کو کراس کرنے سے گریز کریں۔

  • غیرملکی مداح کی شاداب کو شادی کی پیشکش جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید

    غیرملکی مداح کی شاداب کو شادی کی پیشکش جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید

    نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی مداح نے پاکستانی کرکٹر شاداب خان کو شادی کی پیشکش کردی ہے۔ جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید صارفین کی تنقید

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی مداحوں کو ان سے ملتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک مداح نے شاداب خان کو شادی کی پیش کش بھی کردی ہے.
    https://twitter.com/mianjunaid631/status/1581197870791004160
    شاداب خان نے کیوی مداح کو شادی کی پیشکش کا تو کوئی جواب نہیں دیا تاہم اپنا ٹراؤزر ضرور گفٹ کردیا ہے۔ شاداب کی مداح لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ شرمیلے ہیں مگر میں نہیں اسی لیے شادی کی پیشکش کی ہے۔ شاداب اچھے کھلاڑی ہیں اور میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں۔ نیوزی لینڈ کی مداح خاتون کا انٹرویو میں بتانا ہے کہ شاداب خان اُنہیں بے حد پسند ہے کیوں کہ وہ ایک بہت اچھا پلیئر ہے اور شاداب خان نے مجھے اپنا ٹراؤزر دیا ہے.

    شاداب خان کی گوری مداح کا مزید کہنا تھا کہ میں نے شاداب خان کو بتایا ہے کہ میں اُن سے پیار کرتی ہوں اور اُن سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ گوری مداح کا شاداب خان کے لیے ویڈیو میں کہنا ہے کہ وہ بہت شرمیلے ہیں مگر میں شرمیلی نہیں ہوں۔ وائرل ویڈیو میں شاداب خان کو خاتون مداح کو اپنا ٹراؤزر دیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جبکہ شاداب خان کی شرٹ اُن کے ہاتھ میں ہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد
    حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم. اسحاق ڈار
    اعظم سواتی کیخلاف سائبر کرائم کا مقدمہ،جج نے بابر اعوان کو بیٹھنے کا حکم دے دیا
    دوسری جانب اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شاداب خان کو انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے پاکستانی لڑکیوں کے لیے آٹوگراف بھی نہیں اور گوریوں کو شاداب خان اپنا ٹراؤزر دے رہا ہے۔ صارفین کی جانب سے شاداب خان کے اس رویے کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا جا رہا ہے کہ شاداب خان کو غیر ملکی مداحوں کے ساتھ ایسا رویہ زیب نہیں دیتا۔

  • پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    یوں تو پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا سرخیل بننے کی چاہت ہر سیاستدان کو ہی رہتی ہے لیکن ملک کی حالیہ سیاسی نورا کشتی پر نظر دورائیں تو فلحال ایک ہی سیاستدان ایک ہی مقبول چہرہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جبکہ مدمقابل جس مشن کے تحت حکومت کے آخری سال اقتدار میں آئے تھے وہ اس مشن کی تکمیل میں ایک ساتھ مصروف ہیں ۔ ۔۔

    اس ساری صورتحال میں دونوں جانب سے ملک و ریاست کے ذمہ دار ادارے چکی کے دو پاٹوں میں سیاستدانوں کی سیاسی ضرورت کے تحت پس رہے ہیں۔۔۔

    ادارے آیئنی حدود میں رہ کر کام کریں یا ملک کے سیاستدانوں کو آیئنی حدودکا تعین کریں، دونوں صورتوں میں ادارے سیاستدانوں اور انکے چاہنے والوں کے درشت لہجے اور شاکی رویے کا شکار ہوتے ہیں۔۔۔

    عدالتوں سے جس سیاستدان کے حق میں فیصلے آجائیں وہ حق کی فتح کا جھنڈا تھامےاور دو انگلیاں دکھاتا ہوا باہر آتا ہے اور مخالفیں کو بری طرح تنقید کا نشانہ بناتا ہے جبکہ جس سیاستدان کے خلاف فیصلے آجائیں وہ عدالتوں اور اداروں کو نشانے پر رکھ لیتا ہے اور اسکی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

    عام آدمی کو جب سیاستدانوں کی یہ چالاکیاں سمجھ میں نہیں آتی تو وہ بھی نظام کو کوس کر اپنے سیاسی لیڈر کی جے جے کار کرتے ہوئے انقلاب اور حقیقی آزادی کے نعرے بلند کرتا ٹرک کی بتی کے پیچھے چل پڑتا ہے۔

    اس ہفتے میں دو خبریں آئیں جن کے بعد ملکی سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے ہوئے نظر آیا، ایک طرف باوجود گرفتاری کی تیاری اور شدید خواہش کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اسلام آباد آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے اور دوسری جانب اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورکے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہوگئے ہیں۔۔۔

    دونوں طرف حق کی جزوی اور مکمل فتح کے شادیانے بج رہے ہیں اور نعرے لگ رہے ہیں، لیکن عوام کا سنجیدہ حلقہ ہونق بنے سراپا سوال ہے کہ اگر سبھی سیاستدان اور سیاسی جماعتیں حق کی علمبردار اور سچی ہیں تو پھر پاکستان کی عوام ہی باطل اور جھوٹی ہے؟؟؟؟

  • ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری

    ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری

    ملکی سیاست کا درجہ حرارت ایک بار پھر بلند سطح پر، گزشتہ چند دن سے ملکی سیاست کی صورتِحال بدلی تو تحریکِ انصاف کے قائدین اور رہنماؤں کی بھی ٹون جو کہ دس اپریل 2022 سے ہی بدلی ہوئی تھی، اس میں شدت آگئی۔۔۔

    اعظم سواتی جو کہ ٹوئٹر پر اداروں اور مختلف ریاستی شخصیات کو اپنی شست پر لیے بیٹھے تھے خود قانون کی شست پر آگئے۔۔۔ تفصیلات کے مطابق اعظم سواتی کےخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ سیکشن 20 کے تحت درج کیا گیا ہے ،جس میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 131/500/ 501، 505 اور 109 کی شقیں بھی شامل ہیں، اور ایف آئی آر کے مطابق اعظم سواتی کے خلاف مقدمے کا مدعی ایف آئی اے کا ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان ہے، ان کے خلاف مقدمے کا اندراج انکوائری کی تکمیل پر عمل میں لایا گیا ہے۔۔۔

    اعظم سواتی کوایف آئی اے سائبر کرائمز کی جانب سے رات گئے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ان کے متنازعہ ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا ہے، اعظم سواتی پر اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کواشتعال دلانےجیسےالزامات ہیں۔۔۔

    ایسے ہی بیانات دینے پر پہلے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل ٹھیک ٹھاک قانونی کاروائی بھگت چکے ہیں اور اسی کیس میں کورٹ کی تاریخیں بھگت رہے ہیں۔۔۔

    اسلام آباد کی عدالت میں پیشی کے موقع عمران خان سے اعظم سواتی کی گرفتاری سے متعلق بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”ملک کو بنانا ری پبلک بنادیا ہے، شرم آنی چاہیے۔”

    ادھر ایک جلسے میں عمران خان صاحب ذومعنی لب و لہجے میں اداروں کی تضحیک اور ان پر تنقید کرتے ہیں اور دوسرے جلسے میں کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ادارے بھی میرے ہیں اور پاکستان بھی میرا۔۔۔۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟

    اور مردان جلسہ میں خان صاحب کا پارہ بھی بلند نظر آیا، خان صاحب نے جلسے میں کہا کہ

    ” جو بھی ان چوروں کو این آر او دے رہا ہے وہ اس ملک کا غدار ہے، اگر مجھ پر مقدمات بنانے اور جیلوں میں ڈالا تو میں زیادہ زور سے مقابلہ کروں گا۔۔۔ میں کرپٹ ہوتا تو آج دم دبا کرنواز شریف کی طرح ملک سے بھاگ ہوا ہوتا۔۔۔۔سوات اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی گڑبڑ کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔۔۔اعظم سواتی کو بھی برہنہ کرکے تشدد کیا گیا، تمام اداروں سے کہتا ہوں کہ غلط فہمی میں نہ رہیں کہ تشدد کرکے عزت کروالیں گے۔۔۔”

    خان صاحب کبھی جیل بھرو تحریک کی بات کرتے ہیں تو کبھی جیلوں میں ڈالنے والوں کو دھمکا رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں ہم آئین اور ریاست کا احترام کرتے ہیں اور کبھی آئین اور ریاست کے زمہ داران کو غدار کہہ رہے ہیں۔۔۔ عمران خان کے بیانات اور بیانیے میں اتنا تضاد اور کنفیوژن کیوں ہے؟

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی نااہلی کیلئے درخواست دائر کردی گئی ہے، تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے درخواست دائر کی ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی 62(1) ایف کی تحت نااہلی کی استدعا کی گئی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے، وہ اپنے سرکاری دوروں کے دوران اشتہاری اور سزا یافتہ ملزمان سے ملاقاتیں کر تےرہے ہیں، مزیدکہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو احتساب عدالت نے دس سال قید اور 80 لاکھ جرمانہ کی سز ا سنا رکھی ہے جبکہ بیرون ملک دوروں میں شہباز شریف بطور وزیراعظم حسین نواز ، سلمان شہباز اور اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں کرتے رہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کی، لہذا انہیں نااہل کیا جائے۔

    یہ سب ملک اور قوم کو کہاں لیکر جائے گا اور کب یہ سیاسی مقدمہ بازی، غداری کے فتوے لگانا اور الزامی سیاست اختتام پذیر ہوگی؟؟؟

  • انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کئی کروڑ سال پہلے جب انسان تھے ہی نہیں اور زمین پر جراسک ایرا یعنی ڈائنوسارز کا دور تھا تو میکسکو کے قریب ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی بڑا شہابیہ ٹکرایا۔ اس شہابیے کے گرنے سے کئی برس زمین پر تک گرد و غبار، راکھ کے بادل چھائے رہے۔ زمین ایک طویل سرد دور میں چلی گئی۔ زمین پر جانوروں کے لیے خوراک کی قلت ہو گئی اور ایسے جانور جو زیادہ خوراک استعمال کرتے جیسے کہ ڈائناسورز ، اُنکے لیے زندگی مشکل ہو گئی۔ اگلے کچھ عرصے میں نہ صرف ڈایناسورز بلکہ زمین پر موجود انواع کے تین چوتھائی معدوم ہو گئی۔

    اس تباہی کو جاننے اور خلا کی تسخیر اور وسائل کی دستیابی کے بعد انسان کا اگلا قدم یقیناً زمین کو کسی ممکنہ سیارچے کے ٹکراؤ سے بچانا تھا؟ مگر کیسے؟ ہم کس طرح ایک سیارچے کو زمین کی طرف آنے سے روک سکتے ہیں؟

    اس کے لئے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سیارچے ہوتے کیا ہیں؟ اور یہ کس طرح کے مدار میں چکر کاٹتے ہیں اور انکا مدار کسیے تبدیل ہوتا ہے؟

    سیارچے دراصل ماضی کے کسی سیارے کی باقیات ، کوئی ایسا سیارہ جو بننے میں ناکام ہو گیا ہو یا نظامِ شمسی کے وجود میں آنے کے بعد کئی چھوٹی بڑی خلائی چٹانیں جو گریویٹی کے باعث ایک جگہ اکٹھی ہو گئی ہوں وغیرہ وغیرہ سے بنتا ہے۔نظامِ شمسی میں کئی سیارچے موجود ہیں۔مگر یہ زیادہ تر مشتری اور مریخ کے درمیان ایک علاقے میں ہیں جسے ایسٹرآیڈ بلٹ کہا جاتا ہے۔
    ان میں سے کئی سیارچے یا چھوٹے شہابیے ہر روز زمین کیطرف آتے ہیں۔ مگر تیزی سے آتے ہوئے جب یہ زمین کی اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں تو رگڑ کھانے سے چھوٹے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور یوں زمین کسی تباہی سے محفوظ رہتی ہے۔

    مگر کبھی کبھی یہ شہابیے بے حد بڑے ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی سیارچہ جو زمین کیطرف آئے اور بہت بڑا ہو تو زمین کی فضا میں رگڑ کھا کر بھی اسکا بڑا حصہ زمین پر تباہی مچا سکتا ہے اور ایسا ہی کروڑوں سال پہلے ڈائناسورز کے دور میں ہوا۔

    لہذا اب ناسا کے سائنسدانوں نے ایسے ہی کسی ممکنا سیارچے کو زمین پر تباہی سے بچانے کے لیے پچھلے سال نومبر میں ڈارٹ نامی خلائی مشن بھیجا جسکا مقصد مشتری اور مریخ کے بیچ ایک سیارچے دیدموس کے گرد گھومتے اسکے چھوٹے سے چاند کا محور تبدیل کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہو جو کسی سیارچے کو یہ پر گرنے کی بجائے اس سے دور کر دے۔

    اس سلسلے میں 26 ستمبر کو اس سیارچے کیطرف بھیجے گیا سپیس کرافٹ 6.6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سیارچے دیدیموس کے چاند ڈیمورفوس سے ٹکرایا۔

    اس سپیس کرافٹ کے ٹکراؤ کے بعد خلا اور زمین پر موجود ٹیلی سکوپس کی مدد سے دیکھا گیا کہ سیارچے کے گرد گھومتے چاند کے مدار میں کس رفتار سے کمی واقع ہوئی ہے۔پہلے یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور
    55 منٹ میں ایک چکر مکمل کرتا تھا۔

    ٹکراؤ سے پہلے ناسا کا خیال تھا کہ سیارچے کے مدار کی رفتار میں 73 سیکنڈ کا فرق ائے گا مگر بعد کے مشاہدات سے معلوم ہوا کہ اسکی رفتار میں 32 منٹ کی کمی آئی ہے جو یقیناً ممکنہ نتائج سے بڑھ کر ہے۔ گویا اب یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور 23 منٹ میں ایک چکر لگاتا ہے۔اس پیمائش میں 2 منٹ کی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

    اس مشن سے یہ ثابت ہوا کہ مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجی سے سیارچوں سے سپیس کرافٹ ٹکرا کر انکے مدار کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جو ممکنا طور پر آنے والے وقتوں میں کسی بڑے سیارچے سے ٹکرا کر اسکا مدار اس حد تک تبدیل کر دے کہ وہ زمین سے ٹکرانے کی بجائے اسکے پاس سے گزر جائے اور زمین محفوظ رہے۔

    یقیناً یہ مشن انسانیت کی اور سائنس کی جیت ہے قدرتی آفات سے لڑنے کی۔اور اس مشن پر کام کرنے والے سائنسدن اور انجنیئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

    نوٹ: مشن سے پہلے یا مشن کے بعد دیدیموس اور ڈیمورفوس دونوں کا دور دور تک زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں تھا یا ہے۔ یہ مشن محض ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔

  • ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی — نعمان سلطان

    ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی — نعمان سلطان

    کالج کے دنوں کی بات ہے ایک دن کالج میں کوئی پروگرام تھا ہم ازلی سست تو تھے ہی سونے پر سہاگہ ہم کوئی اہم شخصیت بھی نہ تھے اس وجہ سے پروگرام کے منتظمین نے ہمارا انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا اور ہمارے بغیر ہی پروگرام شروع کر دیا ۔

    جب ہم کالج پہنچے تو کوئی لڑکا نعت شریف پڑھ رہا تھا اور اس کی آواز ہمیں دور سے سنائی دے رہی تھی اس لڑکے کی آواز اس قدر خوبصورت تھی کہ سیدھی دل میں اتر رہی تھی، بےساختہ دل کیا کہ اس کی صورت بھی دیکھی جائے ۔

    چنانچہ دل کی آواز پر لبیک کہا اور فوراً پروگرام میں پہنچ گئے، نعت پڑھنے والے لڑکے کا رنگ انتہائی سفید تھا جس کی وجہ سے نورانیت کا تاثر پیدا ہو رہا تھا اور مزید تعارف دوستوں نے کرا دیا کہ یہ لڑکا پیرزادہ اور مستقبل کا گدی نشین بھی ہے جس کی وجہ سے عقیدت بھی محسوس ہونے لگ گئی ۔

    تھوڑا عرصہ گزرا تو معلوم ہوا کہ صاحب موصوف چرس کو فقیری نشہ کہتے ہیں اس وجہ سے اکثر اپنے روحانی مدارج کی ترقی کے لئے چرس پیتے ہیں اور روحانی مدارج کا تو معلوم نہیں لیکن کالج کی تعلیم مکمل کرنے تک ہر قسم کے نشے سے ضرور آشنا ہو گئے تھے ۔

    نشے کے استعمال کی وجہ سے وہ دیگر خبائث میں بھی مبتلا ہو گئے اور اگر پیری فقیری کی وراثت ان کا انتظار نہ کر رہی ہوتی تو موصوف یقیناً تعلیم سے فراغت کے بعد ایک سکہ بند بدمعاش ہوتے ۔

    ہر شخص میں شخصی برائیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں اس لئے اس کے طرزِ عمل یا طرزِ زندگی پر ہمارا اعتراض نہیں بنتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر شیطان جنت میں آدم و ہوا علیہ السلام کو بہکانے سے باز نہیں آیا تو کیا یہ موصوف سجادہ نشینی کے بعد سابقہ زندگی سے تائب ہو کر مومن بن گئے ہوں گے اور لوگوں کی عزتیں ان سے محفوظ رہے گی۔

    جو پیر اپنے بیٹے کو گمراہ ہونے سے نہیں بچا سکا وہ کیسے لوگوں کی بگڑی بنا سکتا ہے، ان جعلی پیروں کے پاس ایک ہی ہنر ہے لوگوں کی آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر ان کو نسل در نسل غلام بنا کر اپنی آنے والی نسلوں کی روزی روٹی کا بندوبست کرنا ۔

    جو لوگ حالات کی تنگدستی سے گھبرا کر رزق کی کشادگی کے لئے ان کے پاس جاتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے جنہوں نے خود چندے کے گلے رکھے ہوئے ہیں اور اپنی جھوٹی شان و شوکت کے لئے ہمارے نذرانوں کے محتاج ہیں وہ کیسے ہمارا رزق کشادہ کر سکتے ہیں ۔

    جو عورتیں ان کو فرشتوں کی طرح معصوم سمجھ عملیات کروانے کے لئے ان کو تنہائی میں ملتی ہیں آخر میں سب کچھ گنوا کر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرشتے نہیں بلکہ دنیاوی ابلیس ہیں ۔

    دنیا میں کامیابی کا ایک ہی راز ہے جتنا بڑا خواب اتنی زیادہ محنت، ہاں ایک بات ضرور ہے کہ اپنی سو فیصد پرفارمنس دے کر پھر نتیجہ قدرت یا قسمت پر (اپنے عقیدے کے مطابق) چھوڑ دو۔

    ان پیروں کی حقیقت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کرونا کہ دنوں میں کسی مائی کے لعل نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کرونا کے مریضوں کو میرے پاس لاؤ میں ان کا علاج کروں گا یا میں بغیر کسی قسم کے حفاظتی انتظامات کے کرونا کے مریضوں کے ساتھ وقت گزار کر اپنی روحانی طاقت یا مقام ثابت کروں گا کیونکہ ان دنوں لوگوں کے ذہنوں میں یہ راسخ تھا کہ کرونا لاعلاج ہے۔

    ہمارے ساتھ ایک مستقبل کا گدی نشین پڑھتا تھا اس کی حرکتیں دیکھ کر ہماری آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتر گئی اور ہمیں سمجھ آ گئی کہ یہ رانگ نمبر ہیں تو براہ کرم آپ بھی اپنی آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتار دیں اور سمجھ لیں کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ۔

  • بدنصیب — عمریوسف

    بدنصیب — عمریوسف

    آج صبح اٹھتے ہی اسے فکروں نے آ گھیرا ۔ سوچوں کا وہی سلسلہ جو رات سوتے وقت ٹوٹا تھا صبح اٹھتے ہی دوبارہ بحال ہوگیا ۔ فکر معاش کے خیالات کا طوفان اس کے دماغ میں پھر چلنا شروع ہوگیا ۔ بہتر مستقبل کی توقعات اسے پھر ستانے لگیں ۔ دوستوں کی محفل میں بھی اس نے گفتگو کا موضوع بہتر نوکری ہی بنائے رکھا ۔ پھر اسے ضروری کام کے سلسلے میں کہیں جانا تھا کام کے دوران بھی وہ یہی سوچتا رہا کہ روٹی کیسے کماوں اور آنے والے وقت کو کیسے بہتر بناوں ؟

    واپسی پر وہ پررونق بازاروں سے گزر رہا تھا لیکن روٹی کی فکر نے اس رونق سے بے خبر کیے رکھا ۔

    چلتے چلتے اسے پارک نظر آئی جہاں اس کا پسندیدہ گوشہ تھا جہاں تنہائی تھی ، سکون تھا ، خاموشی تھی جہاں وہ گھنٹوں بیٹھا اپنے ساتھ وقت گزارتا تھا ۔ لیکن روٹی کے فکر نے اس پارک سے بھی بے خبر کیے رکھا ۔

    اس کے بچپن کا دوست اسے ملا جس کے ساتھ وہ لوگوں کے گھروں میں پٹاخے پھینک کر چھپ جاتا اور گھر والوں کی ہربراہٹ کو انجوائے کرتا ، لیکن وہ روٹی کی فکر میں اپنے دوست کو بھی نظر انداز کرگیا ۔

    سورج غروب ہوا اور شام کے سائے بڑھ گئے ، اندھیرا چھانے لگا اور وہ گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے جانے لگا ۔ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی اس کے انتظار میں تھی اس نے جلدی سے روٹی تیار کی اور اس کے سامنے لا کر رکھ دی وہ روٹی کمانے کی فکر میں اتنا گھر چکا تھا کہ اس نے روٹی کو یہ کہتے ہوئے سائیڈ پر کردیا کہ میرا کھانے کو دل نہیں کررہا ۔۔۔۔

    چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ انسان کتنا بدنصیب ہوتا ہے جو چند لمحوں کے جینے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا جو روٹی کی فکر میں روٹی ہی چھوڑ دیتا ہے ۔