Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے جو ٹیرنٹیولا نامی نیبیولا کی ستاروں کی نرسری میں موجود ہزاروں نو عمر ستارے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اس خلائی نرسری کو آفیشلی 30 ڈوراڈس کا نام دیاگیا ہے اور یہ 1 لاکھ 61 ہزار نوری سال کےفاصلے پر لارج میگا لینک کلاؤڈ کہکشاں میں موجود ہے یہ کہکشاں ہماری کہکشاں ملکی وے سےقریب موجود تمام کہکشاؤں میں ستارے بنانے والی سب سے بڑی اور روشن کہکشاں ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت


    امریکی خلائی ایجنسی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ایک لمحے کے لیے ٹیرنٹیولا نیبیولا میں موجود ہزاروں ستاروں کو دیکھئےجن کو پہلےکبھی نہیں دیکھا گیا۔ نیبولا طویل عرصے سے ستاروں کی تشکیل کا مطالعہ کرنے والے ماہرین فلکیات کے لئے پسندیدہ رہا ہے۔ نوجوان ستاروں کے علاوہ، ٹیلی اسکوپ نے نیبیولا کے ڈھانچے اور ترتیب کے ساتھ اس کے پس منظر میں موجود کہکشائیں بھی تفصیلاً دِکھائی ہیں علاوہ نیبولا کی گیس اور دھول کی تفصیلی ساخت اور ساخت کو بھی ظاہرکیا ہے-


    ناسا نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ ٹیرینٹیولا نیبیولا کا نام اس کی غبار آلود دھاریوں کی وجہ سے پڑا۔ یہ ہماری کہکشاں کے قریب سب سے بڑا اور روشن ستارہ ساز خطہ ہے۔ یہ اب تک دریافت ہونے والے گرم ترین اور بڑے ستاروں کا گھر ہے یہ مشہور ترین، سب سے بڑے ستاروں کا گھر ہے۔ ماہرین فلکیات نے ویب کے تین ہائی ریزولوشن انفراریڈ آلات کو ٹیرینٹیولا پر مرکوز کیا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    ناسا کےمطابق یہ نیبیولا ہمیں بتاتی ہے کہ خلائی تاریخ میں ستارہ بننے کا عمل جب عروج پر ہوگا تو کیسا دِکھتا ہوگا انفراریڈ طول موج پر ویب کے ہائی ریزولوشن سپیکٹرا کے بغیر، ستارے کی تشکیل کے عمل کا یہ واقعہ سامنے نہیں آ سکتا تھا۔


    ٹیرینٹیولا نیبیولا میں ماہرینِ فلکیات اس لیے بھی دلچسپی لیتے ہیں کہ اس میں اس ہی طرح کے کیمیائی مرکبات ہیں جو کائنات کے بڑے ستارہ ساز خطوں میں دیکھے گئے ہیں جس کو ’کائناتی صبح‘ کاکہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب کائنات چند ارب سال پُرانی تھی اور ستارے بننے کا عمل عروج پر تھا۔

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

  • ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دورِ جدید میں مصنوعی ذہانت یا آڑٹفیشل انٹلیجنس آئے روز بہتر سے بہتر ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بنیاد مشین لرننگ پر ہے۔ جس طرح ایک بچہ اپنے ماحول سے سیکھ کر خود میں بدلاؤ لاتا ہے بالکل ایسے ہی مصنوعی ذہانت کا پروگرام کمپیوٹر کی طاقت سے اس میں فیڈ کیے گئے ڈیٹا کی مدد سے سیکھتا ہے۔ آج دنیا میں ہر روز تقریباً 2.8 quintillion byte ڈیٹا جنریٹ ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا میں، آپ اور دُنیا بھر کے اربوں لوگ انٹرنیٹ کے استعمال سے، سوشل میڈیا پر پوسٹس، ویڈیوز، ای میلز، وٹس ایپ،آن لائن شاپنگ وغیرہ کے ذریعے جنریٹ کرتے ہیں۔

    ماضی میں انسانوں کے پاس اس قدر ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ مگر آج شاید فیس بک یا وٹس ایپ کو آپ سے زیادہ آپکا پتہ ہے۔ وہ چیزیں جو ماضی میں اپ ان پلیٹ فارمز پر لگا کر بھول چکے ہیں وہ بھی انکے پاس محفوظ ہے۔

    اس قدر ڈیٹا ہونے کے بعد یہ قدرِ آسان ہو گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانوں یا انسانی رویوں کے بارے میں سکھایا جائے۔ کچھ عرصہ قبل ایک روبوٹ محض یوٹیوب پر کھانا پکانے کی ہزاروں ویڈیوز دیکھ دیکھ کر ہی کوکنگ سیکھ گیا۔ مصنوعی ذہانت ایک بہت ہی طاقتور ٹیکنالوجی ہے مگر اسکا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ جس میں سب سے زیادہ بات آج کے دور میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے۔

    کسی کے چہرے پر کسی اور کا چہرا لگا کر یہ تاثر دلانا کہ یہ دراصل دوسرا شخص ہے کوئی نئی بات نہیں ۔ماضی میں بھی لوگ کس مہارت سے پاسپورٹس پر تصاویر تبدیل کر دیا کرتے۔ ایک تصویر پر دوسری تصویر لگا کر اسے یوں کاپی کرتے کہ اصل کا گماں ہوتا۔ مگر کمپوٹر اور اسکے جدید سوفٹویئرز کے آنے سے یہ سلسلہ آسان ہوتا گیا۔ شروع شروع میں لوگ ایڈوب فوٹو شاپ اور مائکروسافٹ پینٹ جیسے سافٹ وئیرز پر ایسا کرتے ۔ اس میں حقیقت سے قریب تر ہونے کا گمان، سافٹ ویئر استعمال کرنے والے آدمی کی مہارت پر منحصر ہوتا۔ مگر اب یہی سب زیادہ بہتر اور اصل نقل کی پہچان کے فرق کو مٹاتی مصنوعی ذہانت کی حامل ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کرتی ہے۔

    ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میں دراصل ایسے الگورتھمز استعمال ہوتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کے چہرے، اُنکے چہرے کے تاٹرات، اُنکی معمولی سے معمولی چہرے کی حرکت، بولنے ، چلنے کا انداز، وغیرہ وغیرہ جیسی تفصیلات کو پڑھتے ہیں اور اس سے انسانی چہروں میں موجود مشترکہ فیچرز کو نوٹ کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑا ڈیٹا سیٹ ہوتا یے جسکے لیے ایک نہیں بلکہ کمپیوٹرز کا پورا نیٹ ورک کام کرتا ہے جسے نیورل نیٹ ورک کہتے ہیں۔ جہاں مختلف کمپیوٹر ایک مسئلے کو مختلف حصوں میں توڑ کر آپس میں مل کر کام کرتے ہیں اور یہ کسی مسئلے کی پیچیدگی کے اعتبار سے اپنے مختص کام کو بدلتے رہتے ہیں تاکہ بہتر سے بہتر حل ڈھونڈا جا سکے۔ یہ بے حد طاقتور اور تیز طریقہ کار ہے۔ جس سے گھنٹوں کا کام سیکنڈز میں ہو سکتا ہے۔

    اس نیورل نیٹ ورک کی بدولت ڈیپ فیک حقیقت سے قریب تر نقلی ویڈیوز بنانے میں مہارت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ فرض کیجئے اپ نے اپنا چہرا ٹام کروز کی فلم مشن امپاسبل کے جہاز والے سین میں لگانا ہے۔ تو اب آپ کیا کریں گے کہ کسی ڈیہ فیک ایپ پروگرام میں ٹام کروز کی فلم کا وہ سین ڈالیں گے اور ساتھ ہی اپنی کوئی تصویر۔ اب یہ پروگرام کرے گا یہ کہ اس سین میں اور باقی انٹرنیٹ یا ڈیٹا سیٹ سے ٹام کروز کے چہرے کو پڑھے گا اور پھر آپکی تصویر کو ہرہر فریم میں یوں ڈھال کر لگائے گا کہ آپکے چہرے کے مصنوعی طور پر بنائے گئے تاثرات ٹام کروز کے چہرے کے تاثرات اور حرکات سے ہم میل کھانا شروع کر دیں۔ اسکے بعد یہ اسے مزید بہتر بنانے کے لئے بار بار چلا کر دیکھے گا کہ آیا کوئی خامی تو نہیں رہ گئی۔ یوں آپ یا کوئی بھی جب ڈیپ فیک سے بنائی ویڈیو دیکھے گا تو اُسکے لیے یہ جاننا مشکل ہو جائے گا کہ یہ اصلی ہے یا نقلی۔

    بالکل ایسے ہی اپ اسکا اُلٹ بھی کر سکتے ہیں یعنی آپ اپنی کسی ویڈیو میں ٹام کروز کو بولتا دکھا دیں۔

    ڈیپ فیک کے جہاں انٹرٹینمنٹ اور فلم انڈسٹری کو فائدے ہیں وہیں اسکا غلط استعمال بھی دردِ سر بن سکتا ہے۔ کئی سیاستدانوں، اہم شخصیات، شوبز کے لوگوں کی اس طرح کی نقلی ویڈیوز بنا کر دنیا میں غلط خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں جس سے جنگ کی سی صورتحال بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یوکرین اور روس کی حالیہ جنگ میں ڈیپ فیک کا بے حد استعمال نظر آ رہا کے جہاں ملکوں کے صدور می نقلی ویڈیوز بنا کر دونوں ملکوں کی عوام تک غلط معلومات پہنچا کر جنگ کے حوالے سے انکا رویہ اور حمایت بدلنے کی کوشش کی جار رہی ہے ۔ ڈیپ فیک کر استعمال سے کسی انسان کی زندگی بھی تباہ کی جا سکتی ہے۔۔خاص طور پر خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر معاشرے میں اُنکے مقام کو متنازع بنایا جا سکتا ہے۔ لہذا اس حوالے سےبین الاقوامی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جسکا فی الحال پوری دنیا میں خاطر خواہ فقدان ہے۔

  • خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "باجی مرچیں ہیں۔ گھر میں ختم ہو گئی ہیں”

    "چاچی پیاز مل سکتا ہے؟ کل ابا جی بازار سے لانا بھول گئے”

    پاکستان میں ایک زمانے میں گھروں میں یہ عام رواج ہوتا۔ کھانا بنانے کے دوران اگر کوئی سبزی یا روزمرہ کے پکانے کی شے ختم وہ جاتی تو پڑوسی یا محلے میں کسی سے مانگ لی جاتی۔ زمانہ بدل گیا۔۔لوگ اچھی عادتیں بھول کر کہیں اور نکل گئے۔ ایک ایسی دوڑ میں جسکی کوئی سمت نہیں۔

    یہ بات مجھے اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کی ایک رپورٹ ہڑھتے ہوئے یاد آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں انسانوں کے استعمال کے لیے ہیدا کی جانے والی خوراک کا ایک تہائی ہر سال ضائع ہو جاتا ہے۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 14 فیصد خوراک کھیتوں یا فارمز سے منڈیوں اور مارکیٹ تک آنے میں ضائع ہو جاتی ہے جسکی کل مالیت تقریباً 400 ارب ڈالر بنتی ہے۔

    جبکہ 17 فیصد خوراک مارکیٹوں سے گھر میں پڑی پڑی خراب ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 930 ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔جس میں سے 569 ملین خوراک گھروں میں استعمال نہ ہونے کے باعث کوڑے دانوں کا نصیب بنتی ہے ۔ دنیا کا ہر فرد اوسطاً سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔ مگر حیران مت ہوں یہ اوسط ہے۔ بہت سے لوگوں کو سمجھانے کے لیے کہ اوسط کا مطلب دراصل یہاں کل خوراک کے ضیاع اور دنیا کی کل آبادی کا تناسب ہے۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین، دنیا کا سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جہاں ہر سال تقریباً 92 ملین ٹن چوراک ضائع ہوتی ہے ۔ اسی طرح بھارت دوسرا بڑا خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جبکہ امریکہ اور پھر بڑے ہورپی ممالک جیسے فرانس اور جرمنی۔

    مگر یہ تصویر مکمل نہیں کیونکہ ظاہر ہے جس ملک کی آبادی زیادہ ہو گی وہاں کل خوراک کا ضیاع بھی زیادہ بنے گا۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس ملک کا شہری سالانہ کتنی نخوراک ضائع کرتا ہے۔

    تو اس پر پہلے نمبر پر براجمان ہیں نائجیریا جہاں ہر شہری سالانہ 189 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔۔جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر عراق اور سعودی عرب ہیں۔

    پاکستان میں ہر شہری سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔اور یوں پاکستان اس رینکنگ میں سترویں نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار 2020 کے ہیں۔

    یہاں یہ بتانا ضروری کے کہ پاکستان میں خوراک کی مناسب ترسیل ، سٹوریج اور بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زیادہ تر خوراک منڈیوں تک آتے ہی خراب ہو جاتی ہے ۔

    ایک ایسا ملک جہاں غذائی ضروریات کی پہلے سے ہی قلت ہے اور خوراک ایک مسئلہ بننے جا رہی ہو وہاں حکومت اور عوام دونوں کی بے حسی دیدنی ہے۔

    حکومت کیطرف سے اس حوالے سے مناسب پالیسیوں کا فقدان اور غیر سنجیدگی اورعوام کی جانب سے خوراک کے ضیاع کی عادت، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم نے نہ جاگنے کی قسم کھائی ہے۔

    خوراک کے ضیاع سے بچنے کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کئی طریقے اپنا رہے ہیں۔ کچھ حکومتی سطح پر اور کچھ عوامی سطح پر۔

    حکومتیں مارکیٹوں کو پابند کر رہی ہیں کہ زائد المعیاد اشیاء کو خراب ہونے سے قبل سستے داموں یا مفت بیچ دیا جائے ورنہ خوراک کے ضیاع پر انہیں کو جرمانہ عائد ہو گا۔جبکہ عوامی سطح پر کئی ممالک میں ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کے ضیاع کے مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سےبرطانیہ میں ایک ایپ بنائی گئی ہے OLIO جہاں اگر اپکے پڑوسی کے پاس اضافی خوراک ہے تو وہ ایپ پر بتا سکتا ہے اور آپ اسے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    ویسے انگریز کیسے کہتے ہوں گے؟

    "نی مارگریٹ تیرے کول بلیک پُڈِنگ ہے؟ ”

    میری مُک گئی سی۔”

  • زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ دونوں باپ بیٹا راستے میں ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ باپ کھڑکی کے ساتھ خالی سیٹ پر جاکر خاموشی سے بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا جب کہ تین چار سال کا بچہ اس کے ساتھ والی سیٹ بیٹھ گیا۔

    بچہ تھؤڑی دیر تو بیٹھا رہا پھر سیٹ سے نیچے اتر کر دوسری جانب کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر دیکھنے لگا لیکن اس کا باپ اس سے لاتعلق بیٹھا تھا۔ ڈبے میں بیٹھے ایک شخص نے بچے کو ایسا کرنے سے روکا تو بچہ اسے منہ چڑاہنے لگا اور بھاگ کر چلتی ٹرین کے ڈبے کے دروازے میں جا کھڑا ہو۔

    ڈبے میں موجود سب لوگ اس بچے کی شرارتوں سے تنگ ہونے لگے جو کبھی کسی مسافر کا جوتا اٹھا کر باہر پھینکنے کی ایکٹنگ کرتا تو کبھی کی عورت کی نقل اتارنے لگتا۔

    سب لوگوں کو اس کے باپ پر بہت غصہ آرہا تھا جو اس سارے ڈرامے سے لاتعلق کھڑکی کے باہر کے مناظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

    ایک خاتون کہنے لگیں “ عجیب بدتمیز بچہ ہے ۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت ہی نہیں کی”۔

    دوسرا مسافر بولا ل پتہ نہیں یہ لوگ بچے تو پیدا کر دیتے ہیں لیکن ان کی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔”

    الغرض ہر طرف سےقسم قسم کے تبصرے ہونے لگے لیکن اس کا باپ بہرا بن کر کھڑکی سے باہر کا منظر انجوائے کررہا تھا۔

    اس وقت تو بچے نے حد ہی کر دی جب اس نے شرارت سے منع کرنے پر ایک بزرگ کے منہ پر چانٹا جڑ دیا۔ اس بابے کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے صبر کا پیمانہ اس حرکت پر لبریز ہوگیا۔

    وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور جاکر بچے کے باپ کو کندھوں کو زور سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولا “ ایسی ناہنجار اولاد پیدا کر لیتے ہیں تو اس کا خیال بھی رکھتے ہیں؟”

    بچے کا باپ جو کہیں خیالوں میں گم تھا اس بے طرح کے جھنجھوڑنے پر اچانک خیالات سے واپس آیا اور پوچھا “ کیا ہوا بھائی؟ اتنا غصہ کس بات پر کر رہے ہو“

    اس کے اس سوال پر ڈبے میں بیٹھے سارے مسافر اس پر تف بھیجنے لگے۔نوجوان بھی اور زیادہ بپھر گیا اور غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے اسے بتایا کہ آپ کے نا خلف بیٹے نے اس بزرگ کے منہ پر چانٹا رسید کردیا ہے۔

    یہ سنتے ہی اس کے باپ نے بزرگ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہنے لگا” معاف کرنا بزرگو۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوسرے شہر میں اس بچے کی جواں سال ماں یعنی میری بیوی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کے نیچے کچلی گئی ہے۔ اس بچے کو اپنی ماں کی موت کا ابھی تک پتہ بھی نہیں۔ میں اسے لے کر اپنی بیوی کی تدفین کے لئے روانہ ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ماں کی موت کا اس معصوم کو کیسے بتاؤں گا”

    یہ جان کر سارے ڈے کے مسافروں کا اس بچے اور اس کے باپ کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا۔عورتیں آگے بڑھ کر اس کو پیار کرنے لگیں۔ دوسرے مسافر اسے جوس اور ٹافیاں دینے لگے۔ وہ بزرگ اٹھے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے گلے لگا لیا۔

    ہر کسی کی خواہش تھی کہ سفر میں جتنا اس کا ساتھ ہے وہ کسی طریقے سے اس بچے کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔

    زندگی کی ٹرین میں بھی ہر مسافر کی اپنی کہانی ہوتی ہے جسے وہ لے کر چل رہا ہوتا ہے۔دیکھنے والے اس کی ظاہری حالت اور روئیے پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں اور لیبل لگا لیتے ہیں لیکن کسی کی اصل کہانی جاننے کا شوق یا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

    زندگی کی دوڑ میں ہر بندہ ہر وقت کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی کس وقت کیسا کیوں کر رہا ہے یہ اسی کو پتہ ہے۔ اگر ہم کسی کے لئے آسانی پیدا نہیں کرسکتے تو کم ازکم اسے تنہا لڑنے دیں۔ اس پر بلاوجہ تبصروں سے گریز کریں۔ہو سکے تو ہم اس کے اس طرز عمل کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اللہ ہم سے راضی ہو۔

    (مرکزی خیال اسٹیفن کووے کی کتاب “پر اثر لوگوں کی سات عادات” سے ماخوذ)

  • اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک انتہائی اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے “بروقت تیاری”۔ ہم اپنے سر پر کھڑی موسمیاتی تبدیلی کی اتنی بڑی آفت سے آنکھیں بند کرکے حسب معمول کالا باغ ڈیم بنانے یا نہ بنانے کی بحث کرنے، کرپشن کے قصوں کے چسکے لینے اور اپنے اپنے سیاسی لیڈروں سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان کی فوج بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی تو شہر میں موجود عالم لوگ اس بحث میں مصروف تھے کہ سوئی کے چھید سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی سائنسدان تو پچھلے بیس پچیس سال سے وقتا فوقتا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہے تھے لیکن پاکستان میں اس سال اسے حاضر کی آنکھ سے دیکھا ہے جب سال کے پہلے نصف میں انتہا کی خشک سالی اور پھر جولائی سے شروع ہونے والی طوفانی بارشیں جونہ صرف پانی کی مقدار کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں بلکہ جن علاقوں میں ہوئی ہیں وہ عام طور پر مون سون کی بارش والے علاقے نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ مغربی بلوچستان اور سندھ۔ ان کا آغاز کراچی میں خلاف معمول تباہ کن بارشوں سے ہوا۔

    پنجاب جسے روایتی طور پرمون سون کا مرکز مانا جاتا ہے وہاں اس دفعہ معمول کی بارش ہوئی اور کوئی دریائی طغیانی یا سیلاب نہیں آیا۔ کوہ سلیمان اور وسیب کا سیلاب بھی خلاف معمول تھا۔شمالی علاقوں خصوصا سوات میں بھی سیلاب نے 2010 کے سپر فلڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سیلاب سے متاثر ہونے والی ہماری آبادی دنیا کے 150 ملکوں کی انفرادی آبادیوں سے زیادہ ہے اور سیلاب سے متاثرہ رقبہ بھی دنیا کے 150 ملکوں کے انفرادی رقبے سے زیادہ ہے۔ اس وقت جتنے پاکستان کے جتنے علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہ دنیا کے 100 ملکوں کے انفرادی علاقے سے بھی بڑا ہے۔

    تباہی بہت بڑی ہے اور ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔سب سے اہم بات تو اگلی آفت سے پہلے آفت کی تیاری ہے تاکہ ہم جانی و مالی نقصانات سے بچ سکیں۔اس تیاری کے لئے جو وسائل چاہئے ہوں گے وہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نقصانات سے انتہائی کم ہیں۔

    دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے ممالک جن میں چاچا سام پیش پیش ہے نے گرین کلائمیٹ فنڈ کو جو 10 بلئین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ دی ہے وہ رشوت کے پیسوں سے صدقہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے اور پچھلے اتنے سالوں میں کوئی منصوبہ بنا کر لانچ نہیں کر سکے۔ مجبوری میں امیر ملکوں کی طرف سے قائم کیا گیا یہ فنڈ بھی صدقہ خیرات یا قرض معاف کرنے کے لئے نہیں بلکہ قابل عمل زمینی منصوبوں کے لئے ہے۔

    پاکستان کو بھی اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سمجھتے ہوئے پر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔

    فوری ردعمل والے سیلاب کے پیشگی اطلاعاتی نظام بنانے ہوں گے۔

    سیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔

    آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کا سوچنا ہوگا۔

    سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔

    تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔

    سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں

    جتنے بڑے خطرے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اس کا حل آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے میں ہے۔اپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔دنیا کی بہت سی مخلوقات حتی کہ بڑے بڑے ڈائنوسار بھی ارتقا کے عمل میں ختم ہوگئے لیکن کمزور حضرت انسان اس دھرتی پر اس لئے دندناتا پھر رہا ہےکہ اللہ نے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے۔ “جو ڈھل گیا وہ چل گیا”

    اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئے اور جس کاجو سمجھ آتا تھا اس نے کر ڈالا ۔ ریسکیو، کھانا، راشن، خیمے ، کیش، کپڑے اور گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہوگئے۔

    مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں ایسے لوگ اور تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔اس کام کے لئے مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    کاش ہم جنگ سے پہلے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی عادت اپنا لیں۔

  • ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    میری بیٹی اب باتیں کرنا شروع ہوگئی ہے ۔ ابتدائی مراحل میں وہ کئی الفاظ ایسے مبہم انداز میں بولتی ہے کہ بالکل سمجھ ہی نہیں آتی ۔ میری اہلیہ بہر حال سمجھ جاتی ہیں اور مجھے بتا دیتی ہے ۔ کچھ الفاظ ایسے ہیں جو دیگر احباب کو سمجھ نہیں آتے لیکن مجھے آجاتے ہیں اور میں ان کو وضاحت کردیتا ہوں ۔

    چونکہ اہلیہ محترمہ کا سارا وقت بیٹی کے ساتھ گزرتا ہے تو وہ سب کچھ سمجھ لیتی ہیں ۔ میرا وقت گزارنے کا تناسب کم ہے تو مجھے اس کی کم باتیں سمجھ آتی ہیں ۔ اور جو ایسے ہیں کہ بالکل ہی تھوڑا وقت گزارتے ہیں ان کو بالکل تھوڑی باتیں سمجھ آتی ہیں ۔
    اس سادہ سی بات میں زندگی کا سادہ مگر اہم اصول چھپا ہے ۔

    انسان شعبہ ہائے زندگی کے جس شعبہ پر اپنی انرجی اور وقت زیادہ صرف کرتا ہے وہ اس میں مہارت تامہ حاصل کرلیتا ہے ۔

    انسان کسی ماہر کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے اس حقیقت کو جان لے کہ وہ ماہر زندگی کا ایک حصہ صرف کرکے یہ مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ کوئی بھی یہ مہارت حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ زندگی کا ایک خاطر خواہ حصہ اس حصول پر لگائے ۔

    اگر کوئی ایسا ہے کہ وقت لگانے کے باوجود کم سمجھ رہا ہے تو اس کا مطلب وہ وقت کا کم تناسب اس شعبہ میں لگارہا ہے ۔ اور جسے بالکل ہی کسی شعبہ کے متعلق سمجھ بوجھ نہیں تو اس کا مطلب یہ ایسا شخص ہے جس نے حصول کی ذرا برابر بھی زحمت نہیں کی ۔ یہ دنیا give اور take کے اصولوں پر کارفرما ہے یہاں جو کوئی جتنا حصہ ڈالتا ہے اسی کے بقدر وصول کرتا ہے ۔ ثمرات و فوائد آسمان سے کسی کی جھولی میں نازل نہیں ہوتے ۔ یہ میسر ضرور ہوتے ہیں لیکن انہیں کو جو اس کو پانے کی سعی و کوشش کرتا ہے ۔

    انسان اگر کائنات کے خدائی اصولوں کو سمجھ لے تو وہ زندگی کے بہت سارے معاملات میں پریشان و حیران ہونے سے بچ سکتا ہے ۔
    کیونکہ جب اصول سمجھ آجاتے ہیں پھر حیرت و پریشانی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انسان اقدام کی درست سمت کو جان لیتا ہے ۔

  • "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    لڑکپن کو اگر بچپن کے ہم قافیہ کے طور پر دیکھا جائے تو اس کا کچھ اصطلاحی مفہوم سمجھ آتا ہے وگرنہ پہلی بار سننے میں یہ لفظ پٹھانوں کی سویٹ ڈش لگتی ہے.

    لڑکپن انسانی زندگی کا وہ حصہ ہے جب انسان بارہ سے اٹھارہ سال کا ہوتا ہے. یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جب انسان خواب دیکھنا شروع کرتا ہے، جاگتی آنکھوں سے اور سوتی آنکھوں سے بھی. فرق صرف اتنا ہے کہ جاگتی آنکھوں کے خواب انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں اور سوتی آنکھوں کے خواب بے اختیار.

    خیر جاگتی آنکھوں میں بہت سے سہانے سپنے سجائے انسان اس عمر میں بہت سے خیالی پلاؤ پکاتا ہے مگر کبھی ان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا.

    اس دورانیہ کا درمیانی حصہ یعنی پندرہ سولہ سال وہ عمر ہے جب انسان نہ بڑا ہوتا ہے نہ بچہ رہتا ہے. بچوں کے ساتھ بچہ بننے میں شرم محسوس ہوتی ہے جبکہ بڑوں کی محافل میں ان کی کچھ مخصوص باتیں سن کر بھی شرم ہی محسوس ہوتی ہے.
    یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان غلطیاں کرنا بھی نہیں چاہتا اور غلطیوں کو نہ کرنے کا تجربہ بھی نہیں ہوتا. لہٰذاء ہر بار غلطیاں دہرانے میں ہی دل کا سرور اور ابا کی ڈانٹ حاصل ہوتی ہے.

    لڑکپن وہ عمر ہوتی ہے جب امی جی کوئی کام کر دیں تو غصہ آتا ہے کہ یہ کام میں خود کر سکتا ہوں اور اگر نہ کریں تو بھی غصہ آتا ہے کہ سارے کام مجھ پر چھوڑ دیے ہیں.

    اسی عمر میں انسان کی جسمانی ساخت بدلنے لگتی ہے. لڑکے اسی عمر میں عالم چنا سے مقابلہ کرنے کی ٹھانتے ہیں اور قد کھینچتے چلے جاتے ہیں جبکہ لڑکیاں آپس میں مقابلہ شروع کر دیتی ہیں کہ تو بڑی چڑیل ہے یا میں…!

    یہ حقیقت ہے کہ اس عمر میں ایک دوسرے کو چڑیل لگنے والی لڑکیاں اپنے ہم عمر و ہم جماعت لڑکوں کے لیے حوریں ہوتی ہیں، البتہ یہ بھی سچ ہے کہ یہ حوریں انہی لڑکوں کی بھاری ہوتی آواز سن کر ایسے ڈر جاتی ہیں جیسے کبوتری بلی کی آواز سن لے. بعض لڑکے وقت سے پہلے بڑے ہونے کے چکر میں خوامخواہ شیونگ کریم کا استعمال کر بیٹھتے ہیں جس کا نقصان بعد میں یہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ خود بڑے ہوتے ہیں ان کی داڑھیاں ان سے زیادہ بڑی ہو جاتی ہیں. یہی حال لڑکیوں کا ہوتا ہے جو ناسمجھی میں اپنی ناک اور ہونٹ کے درمیان والے غیرمحسوس بالوں (جن کو میری معلومات کے مطابق اپر لپ کہتے ہیں) کو مونچھ سمجھ کر کاٹ ڈالتی ہیں اور پھر ہر ہفتے باقاعدگی سے اس سزا کو بھگتا جاتا ہے.

    خیر اس چھوٹی سی عمر میں انسان بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرنے سے بھی نہیں کتراتا، مثلاً فی زمانہ کا ایک لڑکا اپنی شناسا سے کہنے لگا،

    "تم فکر مت کرو. تمہیں دہی پسند ہے. میں تمہارے لیے خود بھینسوں کا دودھ نکال کر دہی بنا دیا کروں گا.”

    حالانکہ یہ دعوہ کرنے والا لڑکا خود آئرن کی کمی کے باعث پانچ کلو والا آٹے کا تھیلا اٹھانے سے قاصر تھا.

    اس عمر میں عقائد کی ناپختگی انسان کو ہر قسم کی مجلس، دربار، عرس، قل خوانی اور سیاسی ریلیوں تک لے جانے کا سبب بنتی ہے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے یا ان کے جواب دینے پر مجبور کرتی ہے. یہی وجہ ہے کہ کسی بھی جلسے میں اس عمر کے لڑکوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جنھیں محض ایک بوتل یا بریانی کا ڈبہ کھینچ لاتا ہے.

    اس عمر کے لڑکے بہت جذباتی ہوتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے جذبات بہہ نکلتے ہیں. یہ وہی لڑکے ہوتے ہیں جو ساؤتھ انڈین فلمیں دیکھ کر سینا تانے پھڑتے ہیں اور "تارے زمیں پر” دیکھ کر انکا رونا بند نہیں ہوتا. لڑکیوں کا معاملہ کچھ اور ہے، یہ جو مرضی فلم دیکھیں ان پر رونا واجب ہے.

    لڑکپن بہادری کا دور ہوتا ہے. خود سے چھوٹے بچوں کو لال بیگ سے ڈرتا دیکھ یہ لڑکے ان کی ہنسی اڑاتے ہیں مگر یہی لڑکے رات کے وقت کتے کا بھونکنا سن لیں تو خون پسینہ خشک ہو جاتا ہے. خود ہم نے چودہ سال کی عمر میں بھینسوں کے ایک طبیلے میں قدم کھنے کی جسارت کر دی. بس پھر کیا تھا، چوکیدار کتے نے ہماری وہ دوڑیں لگوائیں کہ اگر آپ ہمیں بھاگتا دیکھ لیتے تو یوسین بولٹ کو بھول جاتے.
    خود اعتمادی کی بات کی جائے تو جو لوگ اس کچی عمر میں اس نسخۂ کیمیا کو پا لیتے ہیں، وہ پالیتے ہیں. ورنہ بعد میں چاہنے کے باوجود وہ نہیں بول پاتے جو وہ بولنا چاہتے ہیں. یہاں بولنے سے مراد من پسند جگہ پر شادی کرنے کا اظہار ہرگز نہیں ہے. یہ تو ہر پل پھیلتی کائنات کے اسرار و رموز، سیاست کے اتار چڑھاؤ، فلسفے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، نسل پرستی، ادب، کھانوں اور خواتین جیسے عظیم موضوعات پر اپنے رائے رکھنے اور اس کو بیان کرنے کا نام ہے.

    اس عمر میں انسان بولنا چاہتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہر بات میں بولنا لازم سمجھتا ہے. میرا چھوٹا بھائی بھی ہر فضول سے فضول تر اور اہم سے اہم ترین بات میں اپنی رائے فرض سمجھ کر پیش کرتا ہے. ایک بار پندرہ سالہ ایک لڑکا رش میں اپنی موٹر-سائیکل سمیت پھنس گیا. اب وہیں ایک دکاندار بار بار اس کو نشانہ بنا کر کہتا "اتنے رش میں ضروری آنا تھا، ضروری آنا تھا.” آخر لڑکے نے بھی کہہ دیا، "انکل! آپ کو پتہ ہے میرے دادا ابو ١٠١ سال کے ہو کر مرے تھے کیونکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے.” اس کے بعد ٹریفک کوئی آدھ گھنٹہ بلاک رہی اور اس دکاندار کے ہونٹ بھی.

    انسان کے بننے یا بگڑنے کا دارومدار اسی عرصہ پر ہوتا ہے کیونکہ انہی سالوں میں وہ میٹرک اور انٹر کے مشکل ترین مراحل سے گزرتے ہیں. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کامیابی کا معیار ان جماعتوں کا پاس کرنا تو نہیں… مگر چونکہ ہمارے معاشرے میں انٹر کے بعد کسی اعلیٰ یونیورسٹی میں داخلہ کامیابی کی سند ہے، اسی لیے دبلے پتلے لڑکے لڑکیاں اپنے کزنز سے آگے بڑھنے کے لیے جان مار دیتے ہیں اور جو جان نہیں مار پاتے، وہ پھر ایک دوسرے پر جان وار دیتے ہیں.

    خیر جو لوگ بگڑ جاتے ہیں، وہ انہی سالو‍ں کو یاد کر کے پچھتاتے ہیں اور جو لوگ بن جاتے ہیں، وہ ان سالوں کی غلطیاں یاد کر کے افسوس کرتے ہیں. مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور ہی ان کی زندگی کا سنہری اور بنیادی دور تھا جس میں ان کی ٹانگیں لمبی اور مضبوط ہوئیں.

    مختصر یہ کہ زمانۂ لڑکپن کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں. فائدہ یہ کہ اس دور کے بعد انسان خوبصورت اور جوان ہو جاتا ہے اور نقصان یہ کہ اس کے بعد انسان سمجھدار اور بڑا ہو جاتا ہے.

  • نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    آج سے 21 برس قبل 11 ستمبر 2001 بروز منگل خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کئے ان میں سے دو طیاروں کا ہدف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت تیسرے طیارے کا ہدف پینٹاگون اور چوتھے طیارے کا ہدف ممکنہ طور پر واشنگٹن میں واقع امریکی پارلیمان کی عمارت کیپیٹل ہل تھی ۔

    چار طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ تھے اور انہوں نے جہاز اڑانے کی تربیت بھی امریکہ میں ہی حاصل کی تھی ان لوگوں کا مقصد ایک ہی دن امریکہ کے اہم اور حساس مقامات پر حملہ کر کے دنیا کی توجہ امریکہ کے مظالم کی طرف مبذول کروانی تھی ۔

    امریکی وقت کے مطابق صبح 08.46 منٹ پر پہلا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا جس کی وجہ سے ٹاور کی 93 نمبر سے 99 نمبر تک منزلوں کو شدید نقصان پہنچا، میڈیا کے لئے یہ انتہائی اہم خبر تھی موقع پر فوراً میڈیا کوریج شروع ہو گئی اور لائیو کوریج کے دوران ہی پہلا طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے کے تقریباً 18 منٹ بعد 09.03 منٹ پر دوسرا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرایا جسے کروڑوں لوگوں نے لائیو اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔

    طیاروں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے اور تقریباً 2606 افراد کی ہلاکت ہوئی ان ہلاک شدگان میں امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو حادثے کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اور کچھ لوگ حادثے میں زخمی ہو کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہلاک ہوئے ۔

    تیسرے اغوا شدہ طیارے نے امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو مقامی وقت کے مطابق 09.37 پر نشانہ بنایا اس حملے میں عمارت میں موجود 125 لوگ ہلاک ہوئے، چوتھا طیارہ اپنی ممکنہ منزل پر طیارے میں موجود مسافروں یا عملے کی مزاحمت کی وجہ سے نہ پہنچ سکا اور مقامی وقت کے مطابق 10.03 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا ۔

    ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں، تمام طیاروں کے مسافروں عملے اور ہدف عمارتوں میں موجود لوگوں سمیت مجموعی طور پر 2977 افراد مارے گئے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا، حملہ کرنے والے ہائی جیکروں نے اپنے تین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ وہ اپنے ایک ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔

    امریکہ نے تحقیقات کے نتیجے میں ان حملوں کا الزام القاعدہ پر عائد کیا اور القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن پر خالد شیخ محمد کے ذریعے دہشت گرد حملے کی پلاننگ کرنے اور حملے کے لئے دہشت گردوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، اسامہ بن لادن کا اس وقت قیام افغانستان میں تھا چنانچہ امریکی حکومت نے اس وقت کی افغانستان کی حکومت کے سربراہ ملا عمر سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو غیر مشروط طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

    افغانستان کی حکومت نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کی حوالگی کے حوالے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اسامہ افغانستان میں ہمارے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہ کریں لیکن اگر انہوں نے بےگناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کا استعمال کیا ہے تو ہم ان کے اس طرزِ عمل کی بالکل حمایت نہیں کرتے آپ ہمیں اسامہ کے نائن الیون میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کریں ہم ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں گے ۔

    طاقت کے نشے میں چور جارج ڈبلیو بش نے ملا عمر کی اس آفر کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن ملا عمر اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ جارج بش نے اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا اس حملے کے نتیجے میں افغانستان سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا لیکن امریکہ اسامہ بن لادن کو ختم نہ کر سکا۔

    امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور انکار پر پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکہ کی حمایت کا اعلان کر دیا، افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔

    پاکستان کی افغانستان میں جنگ کے دوران مبہم پالیسیوں کی وجہ سے طالبان اور القاعدہ دونوں پاکستان سے بدظن ہو گئے اور ان کے مختلف گروپوں نے ردعمل کے طور پر پاکستان میں خودکش دھماکے شروع کر دیئے ان دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کو بےپناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر شدید بوجھ پڑا جبکہ ان مہاجرین میں موجود جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور سیاحت تقریباً ختم ہو گئی ۔

    ملاعمر بعد میں بیمار ہو کر فوت ہوئے،نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانا موبے رکھا گیا جہاں سے ان کے بارے میں مزید خبر نہیں ہے جبکہ اسامہ بن لادن 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران مارے گئے ابھی حال ہی میں اسامہ کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی بھی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبریں ہیں ۔

    امریکہ 20 سال افغانستان میں اپنا گولہ بارود ضائع کر کے اور معیشت کی تباہی کر کے واپس جا چکا ہے افغانستان میں دوبارہ طالبان کی حکومت آ گئی ہے القاعدہ بھی اپنے نئے سربراہ کے ساتھ پرانے نظریات پر کام کر رہی ہے، القاعدہ سے بڑی شدت پسند تنظیم داعش کا بھی ظہور اور قلع قمع ہو چکا ہے لیکن امریکہ کے اس گناہ بے لذت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی تباہی نکل گئی ہے اور اس وقت پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا کہ اب اس کے اتحادی اور مخالف دونوں اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔

  • یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟ — عبدالقدیر رامے

    یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟ — عبدالقدیر رامے

    ایک بات آج تک سمجھ نہیں آئی. پاکستان میں چائنیز کمپنیوں میں کام کیا، ان کے ورکرز جو بطورِ قیدی سزا کاٹ رہے تھے انہیں پاکستان بھیجا گیا کام کرنے کیلئے، جس Designation پر ہم تھے اسی پر وہ تھے، ان کے تنخواہ ہم سے چھ گنا زیادہ تھی، رہائش، کھانا بھی ہم سے بہت اچھا تھا اور کھانا انہیں کمپنی دیتی تھی جبکہ ہمیں کھانے کے پیسے دے کر بھی ان سے کہیں گھٹیا کھانا ملتا تھا، رہائش انہیں اے سی ملی تھی اور ہمیں خیمے ملے تھے جن میں ایک پیڈسٹل فین تھا. جب وہ گھوم کر دوسری طرف چکر لگانے جاتا تھا تو پیچھے والوں کو اتنی دیر میں مچھر کاٹ کھاتے تھے. یہ صرف اس ایک پراجیکٹ کی بات نہیں پورے پاکستان میں ہر جگہ پراجیکٹس کی زندگی ایسی ہی ہے اور ایسے ہی چند معدودے سکوں کے عوض انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے.

    دوسری جانب ہم بیرون ملک جاتے ہیں، اس سے پہلے جن ملکوں میں گئے وہاں تو لوکل بندے ورکر لیول پر ملے ہی نہیں، سعودیہ میں آخری سال 2020 میں دیکھے لیکن وہ بھی کام وام نہیں کرتے تھے بس دیہاڑی لیتے تھے بہرحال تنخواہ ان کی پھر بھی ہم سے زیادہ تھی.

    اب ہیں عراق میں…

    یہاں ہمارے ٹیکنیشنز کے ساتھ لوکل ہیلیپر ہیں. سویپرز بھی لوکل ہیں. یعنی unskilled لیبر ہیں. ان کی تنخواہ ہمارے ٹیکنیشنز سے بھی زیادہ ہے، ان کو رہائش ہم سے بہتر ملی ہے کہ وہ ایک کمرے میں چار آدمی رکھے گئے ہیں اور ہم چھ. انہیں الماریاں مہیا کی گئی ہیں ہمیں نہیں کی گئیں، ان کے کمرے ہم سے کھلے ہیں ہمارے کمرے تنگ ہیں.

    ان کا کھانا ہم سے کہیں زیادہ اچھا ہے اور ہمارا کھانا بالکل تھرڈ کلاس ہے، پھر لوکل گورنمنٹ ہالیڈیز کی بات کی جائے تو انہیں ان ہالیڈیز پر کام کرنے کا اوور ٹائم دیا. جاتا ہے اور ہماری ہالیڈیز مار لی جاتی ہے. عید اور جمعہ کے علاوہ کی چھٹیوں کے علاوہ کسی ہالیڈے کا کوئی اوور ٹائم نہیں دیا گیا.

    جبکہ بڑی عید کے بعد محرم میں دس اور اب صفر میں چھ ہالیڈیز ہیں لیکن ڈکار گئے.

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم پاکستانی عراق جیسے غریب ملک کے شہریوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اپنے ملک میں بھی راندہ درگاہ ہیں اور دوسرے ملک میں بھی راندہ درگاہ.

    اور سنیں دنیا کے چند بڑے ایئرپورٹس دیکھے، انہوں نے اپنے لوکل شہریوں کیلئے وی آئی پی کاؤنٹرز بنائے ہیں. اور ہم جیسے خارجی لائنوں میں لگے دیکھے چاہے کوئی امریکی شہری ہی کیوں نہیں تھا.

    لیکن پاکستان میں لوکلز کے ساتھ ایئرپورٹس پر گھٹیا سلوک اور لمبی لائینیں دیکھیں جبکہ دوسرے ملکوں کے شہریوں کے لیے وی آئی پی کاؤنٹرز اور بہترین رویہ دیکھا.

    یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟

  • امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    واشنگٹن: امریکا کے محکمہ ڈاک نے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی یادگاری کے طور پر نیا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا کے محکمہ ڈاک اور ناسا کی جانب سے جمعرات کے روز یہ یادگاری ٹکٹ دارالحکومت واشنگٹن میں قائم اسمتھ سونینز نیشنل پوسٹل میوزیم میں جاری کیا گیا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    ٹکٹ پر ٹیلی اسکوپ کی تصویر بنائی گئی ہےجبکہ نیچے کی جانب ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سفید حروف میں لکھا گیا ہے۔ یہ ایک ’فارایور‘ اسٹیمپ ہوگا جس کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل میں کبھی بھی ڈاک بھیجی جاسکے گی۔

    امریکا کی پوسٹل سروس کے بورڈ آف گورنرز کے وائس چیئر مین اینٹن ہیجر کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے لاکھوں کلو میٹر دور سورج کے گرد گھوم رہی ہے اب یہ اس نئے فار ایور اسٹیمپ کے اجراء کے بعد امریکا کے ڈاک کے نظام میں بھی سفر کیا کرے گی۔

    جیمز ویب بنیادی طور پر انفراریڈ روشنی کے ذریعے فلکی اجسام کو دیکھنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے 10 ارب ڈالرز کی مالیت سے بنائی گئی یہ ٹیلی اسکوپ خلاء سے کائنات کی حیران کن تصاویر زمین پر بھیج رہی ہے۔ اس کو خلاء میں بھیجنے کا مقصد کائنات کے ابتداء کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    سائنسدانوں کے مطابق ہماری اس کائنات کا آغاز تقریباََ ساڑھے تیرہ ارب سال قبل ایک بہت بڑے دھماکے (بگ بینگ) کے ذریعے ہوا تھا۔ کائنات کے آغاز میں (یعنی ابتدائی چند کروڑ سال میں ) جو کہکشائیں وجود میں آئیں، ان سے نکلنے والی روشنی خلا میں تیرہ ارب سال سے سفر کر ہی ہے۔

    اتنا زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے یہ روشنی بہت مدھم ہو چکی ہے اور عام دور بین کے لیے اس کی شناخت ممکن نہیں رہی۔جبکہ جیمز ویب کو خصوصی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ اس مدھم اور تھکی ہوئی روشنی کو محسوس کر سکتی ہے۔

    جس طرح ہبل ٹیلی اسکوپ کا نام مشہور ماہر فلکیات ایڈوِن ہبل کے نام پر رکھا گیا تھا جس نے سب سے پہلے کائنات کے پھیلائو کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اسی طرح جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کا نام بھی جیمز ای ویب نامی سائنسدان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نا م پر رکھا گیا گیا ۔

    جیمز ای ویب نے 1961 سے 1968 کے درمیان ناسا کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے چاند پر بھیجے جانے والے اپالومشن سمیت مرکری اور جیمنی جیسے کئی نئے مشن ترتیب دئیے تھے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت